- Thread Author
- #21
”کلاشن کوف کی تین میگزین ہیں بھری ہوئی ہیں اور تیس بور کی بھی شاید تیس گولیاں موجود ہوں گی۔“
”کافی ہیں ۔ڈریگنووکے بھی قریباََنوے راﺅنڈ موجود ہیں ،تیئس گولیاں بیرٹ ایم 107کی ہیں ۔ گلاک کی بھی ساٹھ سے زیادہ گولیاں موجود ہیں ۔“
”ان کی تعداد بھی تو دیکھو ۔“سردار نے پریشانی بھرے لہجے میں کہا تھا ۔
”وہ گہرائی میں بھی تو ہیں ۔تم یوں کرو کہ ڈریگنوو ساتھ لے جاﺅ اور عقبی جانب مورچہ لگا ﺅ ۔ میں یہیں سے سنبھالتا ہوں ۔آئی کام پر چینل پانچ پر بات ہو گی ۔اور یاد رہے ایک گولی ضائع نہ جائے ۔“
”یس باس !“زندہ دل پٹھان مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔وہ ان آدمیوں میں سے تھا جن کے دل مرنے کا بس اتنا ہی خوف ہوتا ہے جتنا کسی کو کانٹا چبھنے کا ۔میں نے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر لگی ایلی ویشن میں مناسب تبدیلی کی اور گہرائی میں دیکھنے لگا ۔جلد ہی درختوں کے ایک جھنڈ سے نکل کر دو آدمی دبے قدموں اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔وہ چونکہ سامنے کی طرف بڑھتے آرہے تھے اس لیے مجھے حرکتی ہدف کے لیے لی جانے والی لیڈ لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔ٹریگر دباتے ہی ۔”ٹھک۔“ کی آواز کے ساتھ دائیں جانب والا آدمی اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔بیرٹ کی طاقتور گولی نے اسے کسی طاقتور آدمی کے دھکے کی طرح پیچھے اچھال دیا تھا ۔اس کا ساتھی ایک لمحے کے لیے حیران رہ گیا تھا ۔بغیر گولی کا دھماکا ہوئے اس کا ساتھی گرا تھا ۔اور اس کی یہ حیرانی میرے لیے غنیمت ثابت ہوئی تھی ۔سرعت سے رائفل کاک کرتے ہوئے میں نے اس کی کھوپڑی پر بھی گولی داغ دی تھی ۔ اپنے ساتھی کے پیچھے گرنے کی وجہ سے وہ اس کی جانب رخ کر کے کھڑا تھا ۔میری جانب اس کی پشت تھی۔ کھوپڑی کے عقبی حصے میں لگنے والی گولی سے وہ اوندھے منہ اپنے ساتھی پر گر گیا تھا ۔
”شیر خان اور رضا کو گولی لگ ہے کمانڈر!“میرے سامنے آن پڑے آئی کام سے کسی نے روشن خان کو پکار کر کہا تھا ۔
”بتا یا تھا احتیاط سے چلو ۔“ جواباََروشن خان غصے سے چلایا ۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ ای بلاک کو تو اطلاع کر دیں تاکہ میجر اورنگ زیب خٹک تک ہمارے محاصرے میں پھنسنے کی خبر تو پہنچ جائے ۔یامرنے سے پہلے کم از کم انھیں دوسرے سنائپر کے مرنے کی اطلاع ہی پہنچا دیں ۔میں نے فوراََ مطلوبہ چینل لگا کر ای بلاک کو کال کرنا شروع کر دیا ۔
”ایس ایس فار ای بلاک اوور !“
فوراََ جواب آیا۔”ای بلاک سینڈ یور میسج اوور!“
”الفا کو بتا دو کہ ذخیرہ پر موجود دوسرا سنائپر بھی جہنم واصل کر دیا ہے ،لیکن اس کے ساتھ ہم خود دہشت گردوں کے نرغے میں آ گئے ہیں ۔وچہ نرائے کو پچاس ساٹھ آدمیوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اوور۔“
”اگلے دومنٹ میں پیغام پہنچ جائے گا اوور۔“
”شکریہ ۔اووراینڈ آل۔“کہہ کر میں نے ایک بار چینل پانچ لگا کر سردار کی خبر لی ۔کہ اس کی جانب سے مجھے ڈریگنوو کی گولی چلنے کی آواز آئی تھی ۔
”ایک دشمن کم ہو گیا ہے ۔“سردار کی اطمینان بھری آواز آئی تھی ۔
”ایک نہیں تین خان صاحب !“
”جانتا ہوں ۔“اس نے مجھے چڑانے والے انداز میں کہا اور میں نے فوراََ روشن خان والا چینل لگا دیا ۔اس کے ساتھ ہی میں ٹیلی سکوپ سائیٹ میں سامنے پھیلے درختوں کا جائزہ لینے لگا ۔ایک اور بات بھی ہمارے فائدے میں جاتی تھی کہ وچہ نرائے ٹاپ کے چاروں طرف تقریباََ ڈیڑھ سو میٹر کے علاقے میں درخت موجود نہیں تھے ۔یوں کم از کم وہ چھپ کر ہم تک نہیں پہنچ سکتے تھے ۔
نیچے ایک درخت کے تنے کے ساتھ مجھے سفید لباس کی جھلک نظر آئی میں نے اپنی شست اسی پر مرکوز کر دی ۔وہ اپنا سر باہر نکال کر جھانکتا اور پھر سر چھپا لیتا ۔میرے دیکھنے کے بعد بھی اس نے دو دفعہ اسی طرف سر باہر نکال کر دیکھا ۔ تیسری بار بھی اس نے سر باہر تو نکال لیا تھا لیکن بیرٹ کی ظالم گولی نے اسے سر واپس لے جانے کا موقع نہیں دیا تھا ۔اسی وقت دو تین کلاشن کوفیں مسلسل گرجنے لگیں ۔لیکن ابھی تک میں کلاشن کوف کی رینج سے دور تھا ۔
روشن خان سیٹ پر اپنے آدمیوں کو فائر نہ کرنے کا حکم دے رہا تھا ۔
”روشن خان !....کیا حال ہے ۔“میں نے اسے غصہ دلانے کے لیے پکارا ۔
”کون ؟“فوراََ اس کا جواب موصول ہوا تھا ۔
”روشن خان !....میں تمھیں لکھ کر دیتا ہوں کہ میں تیری دونوں آنکھوں کے درمیان میں گولی ماروں گا ۔بس کوشش یہ کرنا کہ زنانیوں کی طرح سب سے پیچھے نہ چھپے رہنا ۔“
”تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ خود کو ہمارے حوالے کر دو ۔ورنہ اس وقت تمھیں پچاس آدمیوں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے ۔“
”ان میں مرنے والے چار شامل ہیں یا وہ کم کر کے بتا رہے ہو ۔“میں نے اسے سلگانے کی کامیاب کوشش کی ۔
”تم ........“وہ گالیاں بکنے لگا ۔
اس کی لغویات ختم ہوتے ہی میں نے کہا ۔”روشن خان !....تمھارے پاس تھوڑا وقت موجود ہے ،بہتر ہو گا کہ اپنی وصیت لکھ لے ۔کم از کم اپنی ہونے والی بیوہ ہی کو وصٰت کرتا جا کہ وہ تمھارے بعد کس سے شادی کرے۔“
”تم دیکھنا میں تیرے ساتھ کرتا کیا ہوں تم ....“اس نے ایک بار پھر بکواس شروع کر دی تھی۔اور یہی میں چاہتا تھا کہ اسے اتنا غصہ دلا دوں کہ وہ کچھ بہتر سوچنے کے قابل نہ رہے ۔
”درختوں کی آڑ لے کر تیزی سے اوپر چڑھو ۔دو آدمی کتنوں کو روکیں گے ۔“اس نے فوراََ اپنے آدمیوں کو حکم دیا ۔
کمانڈر کا حکم ملتے ہی ان کی حرکت میں تیزی آ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی مجھے اور سردار کوبھی گولی چلانے کے زیادہ مواقع ملنے لگے تھے ۔میں نے مزید پانچ بار ٹریگر دبایا ۔اور میری ایک گولی بھی ضائع نہیں گئی تھی ۔سردار کی جانب سے بھی مجھے چھے سات فائر سنائی دے چکے تھے ۔اس جانب پیش قدمی میں کمی آتے دیکھ کر میں نے بیرٹ اٹھائی اور جھکے جھکے انداز میں اس جگہ سے پندرہ بیس گز مغرب کی جانب لیٹ گیا ۔وہاں سے مجھے پتھر کے پیچھے چھپا سردار بھی نظر آ رہا تھا ۔اچانک ایک ساتھ کئی کلاشن کوفیں گرجنے لگیں شاید وہ تیز فائر کر کے ہمیں مرعوب کرنا چاہ رہے تھے ۔
”سردار !....مشرق کی جانب کو بھی سنبھالو۔“آئی کام کے بغیر بتانا مجھے آسان لگا تھا ۔
سردار ۔”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر جھکے جھکے انداز میں وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔دو منٹ بعد میرے کانوں میں اس کی آواز پڑی ۔وہ وچہ نرائے کی بلند ترین جگہ سے مجھے آواز دے رہا تھا ۔
”راجے !....یہاں آجاﺅ ۔“
”یار !....وہاں ہم بالکل کھلے میں ہو جائیں گے ۔“
”تم آﺅ تو سہی ۔“وہ مصر ہوا ۔اور میں رائفل اٹھا کر جھکے جھکے انداز میں چلتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا ۔اوپر جاتے ہی میں خوشی سے اچھل پڑا تھا۔ لگتا تھا کسی نے لائیٹ مشین گن کامورچہ بنانے کے لیے کھدائی کی ہے ۔کیونکہ وہاں انگریزی کے حرف وی کی صورت میں زمین کھدائی ہوئی تھی ۔
”بے وقوفوں کے سینگ تو نہیں ہوتے نا ۔“میں نے اس گڑھے میں اترتے ہوئے خود کو کوسا۔
”پھر بھی کہتے ہو پٹھانوں ذہن نہیں ہوتے ۔“سردار نے فخر سے چھاتی چوڑی کی ۔
اس جگہ سے ہم چاروں طرف دیکھ بھال کر سکتے تھے ۔”میرا خیال ہے ڈریگنوو میرے حوالے کرو اور تم کلاشن کوف سے فائر کرو۔“
”کیا بیرٹ کا ایمونیشن ختم ہو چکا ہے ؟“یہ پوچھتے ہوئے اس نے ڈریگنوو میری جان بڑھا دی تھی ۔
”نہیں ....لیکن ا ب وہ نزدیک پہنچ گئے ہیں اور اب آٹومیٹک ہتھیار زیادہ مفید رہے گا ۔“میں نے بیرٹ ایم 107کو گڑھے کی دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔
میرا رخ شمال کی جانب تھا اور سردار کا جنوب کی طرف ۔ہم دونوں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظر رکھے ہوئے تھے ۔اس طرح کہ ہم دونوں کی گردنیں مسلسل گردش میں تھیں ۔روشن پارٹی سے لڑائی شروع ہوئے گھنٹے سے زیادہ وقت بیت گیا تھا ۔میں نے گھڑی دیکھی اڑھائی بج چکے تھے ۔انھیں ہماری پوزیشن بھی نظر آ گئی تھی ۔اب پیش قدمی کرتے ہوئے وہ بہت احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے ۔ سردار نے ایک گولی فائر کی اور اس کے ساتھ ہی اعلان کیا ۔”گولی ضائع ہو گئی ۔“
درختوں کے جھنڈ سے نکل کر ایک آدمی نے دوڑ کر اگلے جھنڈ کے قریب آنا چاہا ۔ٹریگر دباتے ہی میں نے کہا ۔”گولی ضائع نہیں ہوئی ۔“
سردار نے پوچھا ۔”طعنہ دے رہے ہو ۔“
میں ہنسا ۔”ہتھیار بردار پٹھان کو طعنہ دینا بے وقوفی ہی کہلائے گا ۔“
”اچھا یہ لو ۔“اس نے مسلسل تین گولیان فائر کرتے ہوئے کہا ۔”تینوں ہی ضائع چلی گئیں ۔“
”خان صاحب !....ایک ایک کر کے ضائع کرو ۔تین تین گولیان ضائع کرنے کا وقت ابھی تک دور پڑا ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں آئی کام کا چینل تبدیل کرنے لگا کہ کافی دیر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی ۔جلد ہی روشن خان کی منحوس آواز میرے کانوں میں پڑ گئی ۔
”جونھی ہے درختوں کے آخری لائن تک تمام آدمی پہنچتے ہیں مجھے اطلاع دو ۔“
”ہم مشرقی جانب سے درختوں کی آخری حد تک پہنچ گئے ہیں ۔“ایک بھاری آواز نے اپنی کامیابی کی اطلاع دی ۔
”ہم مغرب کی جانب سے بھی بس پہنچنے ہی والے ہیں ۔“ایک دوسری آواز ابھری ۔
روشن خان نے پوچھا ۔”برمن خان !....تمھاری آدمی کتنی دور ہیں ؟“
برمن خان نے جواب دیا ۔”ہم درختوں کی لائن سے سو گز دور ہوں گے ۔ہمارے کافی آدمی ضائع ہو چکے ہیں ۔“یقینا وہ شمال کی جانب موجود تھا ۔اور اسی جانب کافی آدمی میری گولیوں کا شکار ہوئے تھے ۔گویا وہ خود جنوب کی جانب موجود تھا ۔
”تم اس جانب کو سنبھالو۔“میں نے سردار کے حوالے شمال کی سمت کی اور خود جنوبی طرف ہو گیا ۔اس جانب پتھر زیادہ تھے اس وجہ سے انھیں درختوں کے ساتھ پتھروں کی آڑ بھی دستیاب تھی ۔مشرقی جانب سے ایک دم چھے ساتھ کلاشن کوفیں گرجیں ،گولیوں کی بوچھاڑ اس مورچے کے دائیں بائیں ٹکرانے لگی ۔ہم اپنی جگہ پر دبک گئے تھے ۔سردار نے اپنی کلاشن کوف کی بیرل اس جانب موڑ کر چار پانچ گولیاں فائر کر دیں ۔ہم بالکل بھی فائر نہ کرتے تو وہ دلیر ہو کر ہم پر چڑھ دوڑتے ۔ہمیں سب سے زیادہ سہولت بلندی کی وجہ سے تھی۔ہموار زمین پر ہم انھیں اتنی دیر نہیں روک سکتے تھے۔اب بھی ہماری پوری کوشش یہی تھی کہ وہ اپنے نقصان کی وجہ سے پیچھے ہٹ جائیں ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ رات کے وقت ان کی یلغار کو روکنا ناممکن ہو جاتا ۔وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر آسانی سے نزدیک پہنچ سکتے تھے ۔ بلکہ تیس پینتیس گز دور سے ہینڈ گرنیڈ پھینک کر بھی وہ آسانی سے ہمیں شہادت کے مرتبے پر فائز کر سکتے تھے ۔
فائر کے تھمتے ہی میں نے ایک دم سامنے دیکھا ۔دو آدمی دوڑ کر ایک پتھر کی آڑ سے نکل کر دوسرے پتھر کی جانب بڑھ رہے تھے ۔ان میں صرف ایک ہی کامیاب ہو پایا تھا ۔دوسرے کو ڈریگنوو کی گولی نے اتنی مہلت نہیں دی تھی ۔اپنے ساتھ کو پشت کے بل گرتے دیکھ کر وہ فوراََ اپنی جگہ پر دبک گیا تھا۔نیچے لیٹتے ہی اس نے اپنے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ ہمارے مورچے کی طرف کر کے ٹریگر دبا دیا ۔اور جب تک میگزین خالی نہیں ہو گئی اس نے ٹریگر دبائے رکھا تھا ۔ایک چیختی ہوئی غصیلی آواز نے اسے فائر کرنے سے منع کیا تھا ۔وہ آواز روشن خان کی تھی ۔وہ کافی نیچے سے آواز دے رہا تھا ۔
میں نے آئی کام کا بٹن دا کر کہا ۔”روشن خان !....کیوں عورتوں کی طرح چلا رہے ہو ۔“
”میں تمھیں کتے کی موت ماروں گا ۔میں ....“وہ غصے میں چلاتے ہوئے واہی تباہی بکنے لگا۔
”خان صاحب !.... سن لیا ۔بس پٹھانوں میں اتنی برداشت ہوتی ہے ۔“میں نے سردار کو روشن خان کی بکواس کی طرف متوجہ کیا ۔
اس نے فوراََ کہا ۔”سارے پٹھان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔یہ کتے کا ........“اس آگے اس نے بھی ناقابل اشاعت الفاظ منہ سے نکالنے شروع کر دیے ۔میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”خان صاحب !....یقینا سارے پٹھان ایک جیسے نہیں ہوتے ۔“میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔
”تم سے بات کرنا ہی فضول ہے ۔“سردار ناراضی بھرے لہجے میں کہہ کر مسلسل فائر کرنے لگا۔
”کوئی نشانہ بھی سادھا ہوا ہے یا خالی ٹخ ٹخ سن کر خوش کو رہے ہو ۔“اسے ساتھ آٹھ گولیاں ضائع کرتے دیکھ کر میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”دوآدمی درختوں کی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش میں تھے۔ایک کو زخمی کر دیا ہے دوسرا اسی جگہ دبک گیا ہے ۔“
درختوں کی حد کے پاس آ کر تمام پارٹیاں رک گئی تھیں ۔اس سے آگے بڑھنے کی کوشش میں تین بندے ہر حد سے گزر کر اپنے مالک کے حضور پہنچ گئے ۔اس کے بعد وہ وہیں سے اکا دکا فائر کرنے لگے ۔کھی کبھی وہ ایک دم تیز فائر کھول دیتے اور اس سے فائدہ اٹھا کر کوئی نہ کوئی چند قدم آ گے آجاتا۔اسی طرح کے طوفانی فائر میں ایک پتھر اڑتا ہوا سردار کے سر سے ٹکرایا اوراس کا خون بہنے لگا ۔میںنے فوراََ اپنا مفلر اس کے زخم پر کس کر لپیٹ دیا تھا ۔
وقت آگے سرکتا جا رہا تھا۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پرہندسے پانچ بجنے کا اعلان کرتے نظر آئے۔ میں نے کہا ۔
”پانچ بج چکے ہیں اور ساڑھے چھے سورج غروب ہوتا ہے ،یقینااس کے بعد ہم ان کے ہاتھ میں ہوں گے ۔“
سردار عزم سے بولا۔”وہ مجھے زندہ تو نہیں پکڑ سکتے ۔“
میں نے افسردگی سے کہا ۔”تو کیا ،بعد میں بھی تو انھوں نے ہمیں ہلاک ہی کرنا ہے ۔“
”ہاں لیکن زندہ ان کے ہاتھ لگنے کا مطلب مرنے سے پہلے درد ناک اذیتیں جھیلنا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے تائیدی انداز میں کہا۔
”یار راجا !....میں مرنے سے پہلے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں ۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یہی نا کہ تم مرنا نہیں چاہتے ؟“
”نہیں ....میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے لی زونا چنارے سے زیادہ پیاری لگتی تھی ۔“اس نے اپنی زندگی کا گویا اہم راز منکشف کیا ۔
میں نے پھیکے لہجے میں کہا ۔”اب یہ بات بتانے کا کیا فائدہ ،نہ تو میں چنارے بہن کو شکایت لگا کرتمھاری پٹائی کرا سکتا ہوں اور نہ لی زونا کو یہ خوش خبری سنا سکتا ہوں ۔“
”میں بہت پچھتا رہا ہوں ۔“میرے مزاح پر توجہ دیے بغیر اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا۔اسی وقت کلاشن کوف مخصوص آواز میں گرجنے لگی تھی ۔لیکن اس کی تڑتڑاہٹ بھی سردار کی بات میرے کانوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکی تھی ۔
میں نے جھڑکنے کے انداز میں پوچھا۔”کیا محبت کر کے پچھتا رہے ہو ؟“
”راجے !....وہ مسلمان ہونے پر تیار ہو گئی تھی ۔اسے میری دوسری بیوی بننے پر بھی اعتراض نہیں تھا ۔لیکن میں نے سختی سے منع کر دیا اور وہ اصرار کیے بغیر چپ ہو گئی تھی ۔اس کے تیئں میں اس سے محبت نہیں کرتا تھا اور سچ کہوں تو مجھے بھی اس وقت یہی لگتا تھا ۔“
”تم بعد میں بھی تو اس سے رابطہ کر سکتے تھے ۔“
”میں نے گھر آتے ہی اس کا فون نمبر جلا دیا تھا کیونکہ میں اسے بھلانا چاہتا تھا ۔“یہ کہتے ہی اس نے دو تین برسٹ فائر کیے ۔تیسرے برسٹ کے خاتمے پر ۔”ٹرنچ“ کی آواز نے میگزین کے خالی ہونے کا اعلان کیا اور وہ دوسری میگزین چڑھانے لگا ۔اس نے شاید اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے آدھی کے قریب میگزین یونھی پھونک دی تھی ۔
”ہونہہ!....مطلب تم نے اس سے رابطے کا رستا ہی بند کر دیا ۔“
”تقریباََ ایسا ہی سمجھو۔“
میں مستفسر ہوا ۔”تقریباََکا کیا مطلب ؟“
”اس نے جو پتا بتایا تھا وہ مجھے یاد ہے ۔امریکہ سے واپسی کے دو ماہ بعد میں اس کے پاس جانے کے لیے سخت بے تاب ہو گیا تھا لیکن افسوس کہ غربت نے اس کی اجاز ت ہی نہ دی ۔“
”یعنی تمھارے پاس جاپان جانے کا کرایہ ہی موجود نہیں تھا ۔“
”ہا ں۔“سردار نے اعتراف کرنے میں ذرا بھر بھی جھجک محسوس نہیں کی تھی ۔
”تو مجھ سے مانگ لیتے ۔“
”کیا کہتا کہ مجھے اپنی محبوبہ کے پاس جانا ہے جاپان کا کرایہ دے دو ۔“اس نے غمزدہ ہنسی سے کہا ۔
”دوست سے مدد مانگتے وقت اپنا مسئلہ نہیں بتایا جاتا ۔“اس حالت میں بھی میں اسے مطعون کیے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”اب اس وقت تو میرے پچھتاوں میں اضافہ نہ کرو ۔“
”سردار !....تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں دو عورتوں کی محبت حاصل رہی ۔مجھے دیکھو تین عورتوں کی مکاریاں بھگت چکا ہوں ۔“
”یہ تیسری کون سی ہے ؟“وہ گولیوں کی بوچھاڑ سے چنے کے لیے نیچے دبکا۔
”رومانہ ....تمھیں اگر وہ کشمیری چرواہن یاد ہو تو ۔“میں نے بھی اپنا سر نیچے کرتے ہوئے جواب دیا ۔
کچھ کہنے سے پہلے اس نے کلاشن کوف کی بیرل دشمن کی جانب کر کے ایک لمبا برسٹ فائر کیا اور اس کے ساتھ ہی بیرل کو نیم دائرے میں گھما دیا تھا ۔میں نے بھی ڈریگنوو کی نال باہر کر کے چھے سات مرتبہ مسلسل ٹریگر دبا دیا ۔ہم نہیں چاہتے تھے کہ تیز فائرنگ کی آڑ میں وہ ہمارے قریب پہنچ جائیں ۔لیکن اس طرح ہم انھیں زیادہ دیر نہیں روک سکتے تھے ۔طلوع آفتاب میں گھنٹا ایک رہ گیا تھا ۔اسی طرح ہمارے پاس ایمونشن بھی زیادہ نہیں تھا ۔خاص کر ایسی حالت میں کلاشن کوف جیسے آٹومیٹک ہتھیار کی ضرورت پڑتی ہے ۔
اچانک میرے کانوں میں ایک مخصوص گن کے فائر کی آواز آئی ۔
”سردار !....ان کے پاس ایل ایم جی کہاں سے آ گئی ۔“میرے دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گئی تھی ۔
سردار نے منہ بنایا۔”اس علاقے میں راکٹ لانچر ،12.7ایم ایم اور مارٹر تک دستیاب ہیں ، تم ایل ایم جی کا رونا رو رہے ہو ۔“
اسی وقت کئی کلاشن کوفیں ایک دم گرجنے لگیں ۔مجھے محسوس ہوا گولیوں کا رخ کسی اور جانب ہے ۔ہم دونوں ایک دم سر اٹھا کر دیکھنے لگے ۔
”راجے !....غلطی ہو گئی مجھے لی زونا والا راز نہیں کھولنا چاہیے تھا ۔“سردار کی آواز میں مجھے زندگی کی رونق نظر آ رہی تھی ۔
”کیا ہو گیا ؟“میں نے بے صبری سے پوچھتے ہوئے پیچھے مڑ کر اس کے قریب ہوا ۔اس کے کچھ کہنے سے پہلے مجھے شمال کی جانب وچہ نرائے کے دامن میں پانچ چھے ڈبل کیبن ٹویوٹا نظر آئیں ۔ چاق و چوبندفوجی دستہ ہماری مدد کو پہنچ گیا تھا ۔وہ کیو آر ایف (Quick Reaction Force) تھی۔
”اب یہ بھاگیں گے سردار !....“میں جلدی سے اپنی جگہ پر ہو گیا ۔وہ کیوآر ایف کے جوانوں سے فائر کا تبادلہ کر رہے تھے ۔گو انھیں بلندی کا فائدہ حاصل تھا لیکن اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی موجود تھا کہ ان کے عقب میں بھی پاک آرمی کے جوان موجود تھے ۔اور کوئی بھی آدمی ایک طرف سے آڑ حاصل کر سکتا دونوں جگہ آڑ کا دستیاب ہونا کافی مشکل ہوتا ہے ۔
سردار مسلسل فائر کر رہا تھا ۔چھے ساتھ گولیاں فائر کرتے ہی وہ مجھے مخاطب ہوا ۔
”راجا صاحب !....اگر ڈریگنوو مل جاتی تو کیا ہی بات تھی ۔“
”یہ لو ۔“ڈریگنوو اس کے حوالے کرتے ہوئے میں نے دوبارہ بیرٹ اٹھا لی کیونکہ اب وہ دوبارہ پیچھے بھاگ رہے تھے اور بیرٹ کی دس گیارہ گولیاں اب تک موجود تھیں ۔تھیلے سے گولیوں کا پیکٹ نکال کر میں نے بیرٹ کی میگزین بھری اور دوبارہ پوزیشن سنبھال لی ۔ہماری طرف سے فائر نہ ہوتا دیکھ کر دو آدمی بھاگتے ہوئے نیچے کی طرف جا رہے تھے ۔ایک کو دنیاوی فکروں سے آزاد کر کے میں نے دوبارہ رائفل کاک کی اس دوران دوسرا ایک پتھر کے پیچھے لیٹ گیا تھا ۔
میں نے آئی کام پر چینل نو لگا یا کہ ہمارا رابطہ ہمیشہ اسی چینل پر ہوتا تھا ۔گو اس کے بعد گفتگو کے لیے ہم چینل تبدیل کر لیا کرتے تھے ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور!“مجھے امید تو نہیں تھی کہ اورنگ زیب صاحب وہاں آیا ہو گا لیکن اتنا یقین تھا کہ جو بھی وہاں آیا ہو گا اسے اورنگ زیب صاحب نے لازماََ چینل اور میرا کوڈ نام بتا دیا ہو گا ۔
”ون الفا فا رایس ایس،سینڈ یور میسج اوور۔“میجر اورنگ زیب کی اطمینان بھری آواز سن کر مجھے خوشگوار حیرانی ہوئی تھی ۔
”شکریہ سر !....فی الحال میں بھگوڑوں سے نبٹ لوں اوور اینڈ آل۔“میں نے چونکہ اس تک اپنی خیریت پہنچانی تھی اس لیے لمبی بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے میں نے سردار کو کہا ۔
”سردار اپنے آئی کام پر چینل نو لگا دو میں ذرا روشن خان اسٹیشن پر کوئی کام کی بات سن لوں ۔“
اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”راجر (سمجھ گیا )باس !“
میں نے فوراََ چینل تبدیل کر کے آئی کام نیچے رکھا اور رائفل سنبھال لی ۔ایک آدمی درخت کی آڑ میں بیٹھے ہوئے شمال کی جانب فائر کر رہا تھا کیونکہ اسی جانب سے کیو آر ایف کے جوان پیش قدمی کر رہے تھے ۔فائر کرتے ہوئے اس کا دایاں کندھا درخت کی آڑ سے باہر تھا ۔میں نے فوراََ اس کے کندھے پر شست سادھی ،اگلے ہی لمحے کلاشن کوف اس کے ہاتھ گری اور وہ اپنے کندھے کو تھامتے ہوئے دہرا ہو گیا تھا ۔اس حالت میں اس کا سر آڑ سے باہر آیا اور میں نے دوسری گولی فائر کرتے ہوئے اسے دنیاوی تکالیف سے چھٹکار ادے دیا تھا ۔
”اندھوں کی طرح مت بھاگو ....آڑ لے کر فائر کا جواب دیتے ہوئے نیچے اترو ۔“روشن خان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی کام سے برآمد ہوئی ۔میرے پاس اسے چھیڑنے کا وقت موجود نہیں تھا کیونکہ میں چاہتا تھااس کے زیادہ سے زیادہ آدمی ہلاک کر سکوں ۔میری ہدف کی تلاش میں بھٹکتی نظروں کو پتھر کی آڑ میں لیٹے ایک شخص کا پاﺅں نظر آیا ۔وہ ظالم دو پتھروں کے درمیان میں لیٹا تھا ۔نسبتاََ بڑا پتھر گہرائی کے جانب تھا ۔میری طرف موجود پتھر کی آڑ میں لیٹنے کی وجہ سے وہ چھپ گیا تھا ۔میں نے فوراََ اس کے پاﺅں پر شست باندھی ۔ٹریگر دباتے ہی میں نے اسے تڑپ کر سیدھا ہوتے دیکھا یقینا اس کا آدھا پاﺅں قربان ہو چکا تھا ۔تین سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کی گولی جتنی تباہی مچاتی ہے اس کا اندازہ ایک تربیت یافتہ سنائپر ہی کر سکتا ہے ۔
میرے رائفل کو دوبارہ کاک کرنے سے پہلے وہ اسی پتھر کے پیچھے دبک گیا تھا ۔لیکن اب وہ وہاں سے حرکت نہیں کر سکتا تھا ۔میں بھی انتظار میں تھا کہ وہ کہیں کھسکے اور میں اسے اس کے مرنے والے ساتھیوں کے پاس پہنچاﺅ ں۔
”ناصر خان !....کمانڈر روشن خان کو پاﺅں میں گولی لگ گئی ہے ۔“آئی کام سے ابھرنے والی آواز نے مجھے خوشی سے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
”اس کے پاﺅں پر پگڑی لپیٹ کر اسے نیچے پہنچاﺅ ۔“ناصر خان نے فوراََ حکم پاس کیا ۔یقینا روشن خان کے بعد وہی کمانڈر تھا ۔
”روشن خان !....میں نے کہا تھا نا کہ میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا ۔“میں نے فوراََ آئی کام اٹھا کر روشن خان کو پکارا ۔
”تم جیسے کتے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔“روشن خان کی آواز میں شامل تکلیف اور غصہ مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ وہ کتنی اذیت سے گزر رہا تھا ۔
”روشن خان !....تم اپنے بدن کے جس حصے کو حرکت دو گے وہ عضو تمھارے بدن کا حصہ نہیں رہے گا ،اگر شک ہے تو اپنا ایک ہاتھ پتھر کی آڑ سے نکال کر دکھاﺅ ۔“یہ بات کرتے ہوئے بھی میں نے اپنی شست اسی پتھر پر برقرار رکھی ہوئی تھی ۔اسی وقت ایک آدمی جھکے جھکے انداز میں اس پتھر کے قریب پہنچا یقینا وہ روشن خان کی مدد کے لیے آیا تھا۔اس کی بدقسمتی کہ میری ساری توجہ ہی اس پتھر پر مرکوز تھی ۔وہ بہ مشکل بڑے پتھر کی آڑ سے نکل کر روشن خان تک پہنچ سکا تھا کہ میں نے ٹریگر پریس کر دیا ۔اور تین سو گز کے فاصلے پر بیرٹ ایم 107کی گولی کا ضائع جانے کا مطلب یہی ہوتا کہ میں فائر ابجد سے بھی واقف نہیں ہوں ۔وہ روشن خان کے اوپر ہی گرا تھا ۔
رائفل کاک کر کے میں نے آئی کام اٹھا لیا۔”روشن خان !....اب تو یقین آ گیا ہو گا ۔“
جواباََ اس کی کوئی آواز نہیں آئی تھی ۔اسی وقت اس نے لاش کو دور جھٹک دیا ۔
”ویسے تم معافی مانگ کر اپنی جان بچا سکتے ہو ۔“میں نے اسے غصہ دلایا ۔
”تمھارا نام کیا ہے جوان؟“روشن خان کی آواز میں شامل بے بسی نے مجھے سکون پہنچایا تھا ۔
”تم مجھے ایس ایس کہہ سکتے ہو ۔“ میں آئی کام سیٹ پر اسی نام سے گفتگو کرتا تھا اور یقینا یہ اسے بھی معلوم تھا ۔
”ایس ایس !....میںمعذرت خواہ ہوں مجھے معاف کر دو ۔“روشن خان کی تھکی ہاری آواز سن کر مجھے جھٹکا لگا تھا لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔میں نے خود ہی تو معافی کی شرط پیش کی تھی ۔مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تھا ۔اسی وقت میں نے روشن خان کو پتھر کے عقب سے اٹھتے ہوئے دیکھا وہ کلاشن کوف کو ڈنڈے کی طرح زمین پر ٹیکتے ہوئے اٹھا اور ایک بار اس نے میری جانب نگاہیں اٹھائیں چند لمحے اسی طرف دیکھتا رہا اورپھر مڑ کر جانے لگا۔ وہ میرے نشانے پر تھا ۔کوشش کے باوجود میں ٹریگر نہیں دبا سکا تھا ۔وہ دو قدم ہی چلا ہوگا کہ بڑے پتھر کے پیچھے سے ایک آدمی نکل کر سہارا دینے کے لیے اس کے قریب ہوا ۔روشن خان کے بچ کر نکل جانے کا غصہ میں نے نئے ظاہر ہونے والے ہدف کی کھوپڑی میں روشن دان کھول کر نکالا تھا ۔
”معافی صرف تمھیں دی ہے روشن خان !“میں نے آئی کام کا بٹن دبا کر غصے بھرے لہجے میں کہا ۔
”جانتا ہوں ۔“روشن خان کی جھلائی ہوئی آواز برآمد ہوئی اور وہ لنگڑاتا ہوا نیچے جانے لگا دس پندرہ گز نیچے ہی درختوں کا جھنڈ تھا ۔کیو آر ایف کے جوان شمال کی جانب سے کافی اوپر آ چکے تھے ۔ چاروں جانب سے دہشت گرد غائب ہو چکے تھے اس کے باوجود ہم مورچے میں دبکے رہے ۔
سورج زرد ہوکرپہاڑوں کے پیچھے غائب ہو رہا تھا ۔اس حالت میں دہشت گردو ںکا تعاقب کرنے سے بھی کیو آر ایف کے جوانوں کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں تھا ۔جلد ہی کیو آر ایف کے جوان ہمارے مورچے کے قریب پہنچ چکے تھے ۔سب سے آگے میجر اورنگ زیب خٹک کو دیکھ کر مجھے اس کی دلیری پر یقین آ گیا تھا ۔
خطرہ ٹل گیا تھا ۔میں مورچے سے باہر آ کر میجر اورنگ زیب کی طرف بڑھ گیا ۔
”کیسے ہو جوان ؟“مجھے چھاتی کے ساتھ بھینچتے ہوئے اس نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔
”ہماری حالت آپ کو رستے میں ملنے والی لاشوں سے معلوم ہو چکی ہو گی ۔“
”مجھے تم دونوں پر فخر ہے ۔“اس نے میری پیٹھ تھپتھپاکر تحسین آمیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ سردار کی جانب بڑھ گیا ۔
٭٭٭
کیو آر ایف کے تین جوان زخمی ہوئے تھے ۔دشمن اپنی پچیس لاشیں چھوڑ کر بھاگا تھا ۔اس میں انیس آدمی ہمارا شکار بنے تھے ۔
”اب کیا ارادہ ہے ؟“صبح کے نو بجے پر تکلف ناشتے کے بعد چاے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میجر اورنگ زیب خٹک نے پوچھا ۔ہم اس وقت ڈی بلاک پر موجود تھے
سردار کندھے اچکاتے ہوئے بولا ۔”آپ کو پتا ہو گا سر !“
”میرا مطلب تھا کہ اگر قبیل خان پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے چھٹی وغیرہ کاٹنے کا ارادہ ہے تو بتا دو ۔یہاں تم دونوں کا تعلق براہ راست مجھ سے ہے ۔“
میں نے جواب دیا ۔”نہیں سر !....پہلے ہم قبیل خان پر ہاتھ ڈال لیں ۔اگر مشکل ہدف ہوا تو پھر دیکھیں گے۔“
”ہدف تو وہ کافی مشکل ہے ۔اور تم دونوں تو آتے ساتھ ہی اس سے ٹکرا گئے ہو ۔ویسے اس کے خاص آدمی کو چھوڑ کر تم نے اچھا نہیں کیا ۔“آخری فقرہ میجر اورنگ زیب نے ہنستے ہوئے ادا کیا تھا ۔
”آپ نے وہ گفتگو سن لی تھی ۔“میں نے خفیف انداز میں سر جھکا لیا تھا ۔
”تم آئی کام پر بات کر رہے تھے بھائی ،موبائل فون پر نہیں ۔“
”سر !....بس غلطی یہ ہو گئی کہ میں جلد بازی میں زبان دے بیٹھا تھا ۔“میں نے ندامت کا اظہار ضروری سمجھا ۔
”ویسے مجھے خوشی ہوئی کہ تم نے زبان کا پاس رکھا ۔“
سردار نے فوراََ لقمہ دیا ۔”ورنہ زبان کا پاس صرف پٹھان رکھتے ہیں ۔“اس کی بات پر میجر اورنگ زیب نے قہقہہ لگایا ۔
میں نے پوچھا ۔”ہم قبیل خان مشن پر کب روانہ ہوں گے سر !“
وہ فیصلے کا بوجھ ہمارے کندھوں پر منتقل کرتے ہوئے بولا ۔”جب تمھاری مرضی ہو چلے جاﺅ ۔“
”بیرٹ ایم 107کے ایمونیشن کے بارے پہلے بتا دیا تھا ،اب ڈریگنوو کا ایمونیشن بھی چاہیے ہو گا ۔“
وہ پوچھنے لگا ۔”ویسے دو سنائپر رائفلیں ساتھ پھرانے کی کیا ضرورت ہے ؟“
سر!.... بیرٹ ایم 107کو ہم ہر وقت ساتھ نہیں پھرا سکتے جب بھی کہیں خصوصی ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے تب ہمیں اس کی ضرورت پڑتی ہے اور ڈریگنوو چونکہ ہلکی پھلکی رائفل ہے اس لیے عام طور پر ہم اسی سے کام چلا لیتے ہیں ۔“
میجر اورنگ زیب نے پوچھا ۔”تمھارے پاس ڈریگنوو کا کتنا ایمونیشن موجود ہے ؟“
”بیس پچیس گولیاں باقی بچی ہوں گی ۔“
”تو ایسا ہے تم بیرٹ ایم 107کو یہیں ڈی بلاک پر چھوڑ جاﺅ ۔اگلے قافلے میں بیرٹ کی گولیاں آ جائیں گی جب موقع ملے تم وادی شوال سے یہاں آکر اپنی رائفل لے جانا ۔یہاں سے چند گھنٹوں ہی کے فاصلے پر قبیل خان کا علاقہ موجود ہے ۔“
”ہونہہ!....صحیح ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تصدیق چاہی ۔”ویسے قبیل خان کے گاﺅں کا نام علام خیل بتایا تھا نا آپ نے ؟“
”بالکل، لیکن ضروری نہیں کہ وہ تمھیں وہیں ملے ۔اس کے کئی ٹھکانے ہیں ۔افغانستان میں بھی اس کے ٹھکانے موجود ہیں ۔مجاہدین کے ساتھ اس نے معاہدہ کیا ہوا ہے ۔ وہ آپس میں نہیں لڑتے ۔ مجاہدین امریکن آرمی اور افغان فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں جبکہ قبیل خان جیسے بے غیرت پاکستان آرمی کے خلاف مختلف ایجنسیوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔“
میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔”تو ٹھیک ہے سر !....ہم کل یہاں سے نکلیں گے ۔“
”وادی شوال کے مغری جانب موجود پہاڑوں کے بعد افغانستان کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اور یاد رہے ان پہاڑوں پر افغانستان کی موبائل فون سروس جیسے AWCC (افغانستان وائرلیس کیمونی کیشن)ADIAاور روشن وغیرہ کام کرتی ہیں ۔کیونکہ شوال وادی کے پہاڑوں کو عبور کرتے ہی افغانستان کے شہر غزنی ،خوست،لمن وغیرہ آتے ہیں ........“وہ ہمیں اس علاقے کے بارے تفصیل سے بتانے لگا ۔اور ہم ضروری باتیں ذہن نشین کرتے گئے ۔
٭٭٭
ہم اس وقت تقریباََشمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پرموجود تھے ۔وادی شوال کا علاقہ شمالی وزیرستان میں آتا ہے ۔اگر ڈیرہ اسماعیل خان سے وزیرستان کی حدود میں داخل ہوں تو کوڑ قلعہ کے بعد جو پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا ہے وہ افغانستان کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔رستے میں جہاں کہیں آبادیاں ہیں یا تو وہ پہاڑی ڈھلانوں پر بنی ہوئی ہیں یا پہاڑیوں میں گھری ہوئی وادیاں ہیں ۔شوال وادی بھی شمالاََ جنوباََ پھیلی ہوئی کافی وسیع وادی ہے ۔جس میں چھوٹی بڑی کافی آبادیاں موجود ہیں ۔جیسے گربز،ڈابر میانی ،دیر زوال،سرے خاورے ،درے نشتر وغیرہ اسی میں ایک بڑی آبادی علام خیل کی بھی تھی جس کا مشر یا سردار قبیل خان تھا ۔لیکن وہ وہاں کم ہی ملتا تھا ۔وزیرستان کے ہر سردار کے پاس اپنی ذاتی فوج ہوتی ہے جسے لشکر کہتے ہیں ۔جس کے پاس جتنا بڑا لشکر ہو وہ اتنا بڑا سردار ہوتا ہے ۔اور دشمن ممالک کی جو ایجنسیاں اس علاقے میں مصروف عمل ہیں وہ بھی عمومی طور پر بڑے سرداروں ہی کو اپنا آلہ کار بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ قبیل خان پربیک وقت انڈین ،اسرائیلی اور امریکی ایجنسیاں خاصی مہربان تھیں ۔اس کی کارروائیوں کا دائرہ کار شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان کے پرامن شہروں تک پھیلا ہوا تھا ۔ اور یہ تو اصول ہے کہ جتنا بڑا مجرم ہو وہ اتنا زیادہ ہی اپنی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے ۔شروع میں وہ پاک فوج کے خلاف درپردہ کام کرتا رہا ،لیکن چند ماہ سے وہ کھلم کھلا سامنے آ گیا تھا ۔ اس کا تعلق وزیر قوم سے تھا ۔اس لیے وزیر قوم کے کافی سرداروں نے اس کے ساتھ الحاق کیا ہوا تھا ۔مگر اس کے لشکر کا حصہ صرف وزیر قوم کے جوان نہیں تھے ۔غربت ،جہالت اور معاشرے میں پھیلی ناانصافی کے ڈسے ہوئے کئی جوان اور ادھیڑ عمر کے افراد جو پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اس کے لشکر کا حصہ تھے ۔یوں بھی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی بڑی قومیں ،جن میں وزیر ،محسود اور داوڑ شامل ہیں سارے دہشت گرد نہیں ہیں ۔ان اقوام کے بہت سے لوگ تو پاک فوج ،ایف سی اور رینجرمیں شامل ہو کر ملک و قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں ۔اس کے علاوہ بھی اکثریت ایسوں کی ہے جو امن پسند اور محب وطن ہیں اور پاک فوج کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو غلط سمجھتے ہیں ۔اس لیے یہ سوچ کہ وزیرستان کے تمام لوگ ہی پاک فوج اور پاکستان خلاف ہیں ،نہایت غلط اور عدل و انصاف کے منافی سوچ ہے ۔دیکھا جائے تو دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔آج دجالی میڈیا نے دہشت گردی کو فقط اسلام کے ساتھ نتھی کیا ہوا ہے ۔ حالانکہ یہ بات شواہد اور دلائل کے بالکل خلاف ہے ۔البتہ ایسے شواہد کو نہ تو میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے اور نہ ایسے دلائل کو کوئی لبرل اور مغربی سوچ رکھنے والا پسند کرتا ہے ۔میں (راوی)بہ ذات خود دہشت گردوں سے کئی بار روبہ رومقابلہ کر چکا ہوں ،ان سے مل چکا ہوںور ان کے خیالات بڑی باریک بینی سے جان چکا ہوں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو اسلام کی محبت میں ایسا کر رہا ہو۔بیرون ملک بیٹھے ہوئے تھنک ٹینک اپنے زر خرید لوگوں کو استعمال ہی اس انداز میں کر رہے ہیں کہ خواہ وہ کسی بھی مذہب ،مسلک سے تعلق رکھتے ہوں خودکو مسلمان ہی ظاہر کریں گے ۔آج کل جہاد اور مجاہد کا تو تصور ہی ختم کر دیا گیا ہے ،حالانکہ آج بھی مجاہدین کا ایک بڑا گروہ ایسا موجود ہے جو انڈیا اور افغانستان میں کفر سے برسرِ پیکار ہے ۔لیکن دشمن زرخرید لوگوں کے ہاتھوں ملک دشمن اور اسلام دشمن کارروائیاں کروا کر مجاہدین بن کر اس کی ذمہ داری قبول کر لیں گے، جسے ہمارا دجالی میڈیاچیخ چیخ کر کچے ذہنوں اور کم علم لوگوں کے دماغ میں ٹھونستا رہے گا ۔ورنہ مساجد میں دھماکے کرانا ،امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا ،درباروں میں دھماکے کرانا یہ کسی بھی مسلک یا فرقے کی رو سے جائز نہیں ۔اور حیرانی ہوتی ہے کہ ایسا کرنے والے خود کو مسلمان کہہ کر اقرار کرتے ہیں اور ہم مان لیتے ہیں ۔اگر مسلمانوں ہی نے یہ سب کرنا ہوتا تو کیا سینما گھر ،کلب،کنجر خانے اور اس طرح کی دوسری جگہیں کم تھیں بم پھینکنے کے لیے ۔گو اسلام ایسی جگہوں پر بھی دھماکے کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلام فیصلے کا اختیار صرف حکومت وقت کو دیتا ہے۔ ایک اسلامی مملکت کا سربراہ ہی بے راہ روی اور فحاشی کے اڈوں کو قانون کی رو سے بند کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔انفرادی طور پر افراد کے پاس صرف تبلیغ کا حق ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو وعظ و نصیحت کے ذریعے غلط کام سے منع کرے ۔ طاقت کا اطلاق صرف خونی رشتوں تک ہی محدود ہوتا ہے ۔وہ بھی اس وقت تک جب تک کہ وہ بچپن یا لڑکپن کی عمر میں ہوں ۔ اس کے بعد زبردستی کااختیار تو وہاں بھی چھن جاتا ہے ۔یعنی ایک مسلمان باپ اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ بیٹے کے اسلام قبول کرنے پر اسے قتل کر دے ۔وہ بس اس سے قطع تعلق کا حق ہی رکھتا ہے ۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے سادے عوام اسلام ہی کا شعور نہیں رکھتے بیرونی طاقتوں کے ہتھکنڈے کیا سمجھیں گے ۔یہاں تو ایک ایسا شخص جس کی شکل ہی مسلمانوں کی طرح نہیں ہوتی ہے ، جو نماز پڑھنا ہی نہیں جانتا ،دوسرے کلمے کو پڑھتے ہوئے دس غلطیاں کرتا ہے وہ پیر بن کر لوگوں کو بچے بھی عطا کرتا ہے ان کی بگڑی بھی بناتا ہے اور انھیں جنت کے ٹکٹ بھی فراہم کرتا ہے ۔اس کے نام پر کٹ مرنے والے سیکڑوں ہزاروں میدان میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ہم ایسے جاہل ہیں کہ ایک آدمی کا کوئی عمل اسلام کے مطابق نہیں پھر بھی ہمارا رہبر اور قائد ہے ۔خیر کہاں تک رویا پیٹا جائے ہدایت دینا تو اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے ۔
٭٭٭
ہم صبح سویرے ہی ڈی بلاک سے رخصت ہو گئے تھے ۔بیرٹ ایم 107ہم نے وہیں پر چھوڑ دی تھی ۔سردار کو کلاشن کے لیے ضرورت کے مطابق گولیاں وہیں سے مل گئی تھیں ۔پستول کی گولیاں پہلے ہی سے ہمارے پاس ضرورت کے مطابق موجود تھیں ۔
ڈی بلاک کے جنوب کی سمت سے ایک نالہ گزر رہا تھا جس کے بہاﺅ کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب تھا ۔سفر کے لیے ہم نے اسی نالے کارستا اختیار کیا ۔ہمیں کہیں پہنچنے کی جلدی تو تھی نہیں اس لیے ہم درمیانی رفتار سے چلتے رہے ۔ڈی بلاک سے نالے کی تہہ تک چڑھائی کافی دشوار گزار تھی اس کے بعد مغرب کی سمت میں غیر محسوس ڈھلان تھی ۔نالے کی تہہ میں ہلکی مقدار میں پانی بہہ رہا تھا ۔نہایت صاف و شفاف اور ٹھنڈا میٹھا پانی تھا ۔ہم نے اپنے پاس موجود پانی کی بوتلوں میں تازہ پانی بھر لیا کیونکہ کچھ معلوم نہیں تھا کہ کس جگہ پر جا کر پانی ہمارا ساتھ چھوڑ جائے ۔کلومیٹر ڈیڑھ چلنے کے بعد ایک رستا دائیں جانب نکلتا ہوا نظر آیا ۔دائیں جانب ہی ایک چھوٹی پہاڑی موجود تھی جس پر دو تین گھر بنے نظر آئے ۔یہ رستا بھی دائیں جانب موجود پہاڑی کے دائیں ہاتھ آگے بڑھ کر دوبارہ اسی نالے سے آ ن ملتا تھا جس میں ہم سفر کر رہے تھے ۔ہم آبادی کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ۔
”راجا صاحب!.... رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ بھی نظر میں رکھنی ہے کہ آگے کسی آبادی میں رہائشی ہوٹل موجود نہیں ہے ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔”خان صاحب !....سورج طلوع ہوئے گھنٹا نہیں گزرا کہ تمھیں رات گزارنے کی فکر پڑ گئی؟“
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنی لانس نائیکی کا رعب جھاڑا۔”لازمی بات ہے سینئر ہونے کے ناتے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ انتظام و انصرام کا خیال رکھوں ۔“
”اتنا خیال اگر تم نے لی زونا کارکھا ہوتا تو آج دو بیویوں کے خاوند ہوتے ۔“
وہ برا سا منہ بناتے ہوئے بولا ۔”مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے جو تمھیں اپنا راز دار بنا لیا۔“
”ویسے خان صاحب !....ایک بات میں نہایت سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں ،اس بار چھٹی جاتے ہوئے مجھ سے اے ٹی ایم کارڈ لیتے جانا ۔میں تمھیں پانچ ہزار ڈالر دے سکتا ہوں اور پانچ ہزار ڈالر کا مطلب ہے پانچ لاکھ روپے۔جاتے ہی جاپان جانے کے لیے ویزے کی درخواست دے دینا ۔ سیاحتی ویزہ یقینا چند دنوں میں مل جائے گا ۔پاسپورٹ تمھارا یوں بھی بنا ہوا ہے ۔بعد کے پچھتاوں سے بہتر ہے ابھی کچھ کر لو ۔“
اس نے افسردہ لہجے میں کہا ۔”پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا پتا لی زونا مجھے بھول بھی چکی ہو ۔اتنی خوب صورت لڑکی کو کئی محبوب مل جائیں گے ۔اور دوسری بات یہ کہ ....“وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر اپنی بات مکمل کرتا ہوا بولا ۔”شاید چند دنوں تک میں باپ بھی بن جاﺅں ۔“
”باپ بننے کی پیشگی مبارک ہو باقی رہی بات لی زونا کی ،اگر اسے تم سے محبت تھی تو پھر تمھارے علاوہ اسے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہو گی ۔ابھی اتنا وقت نہیں گزرا کے وہ تم سے مایوس ہو چکی ہو۔ محبت کرنے والے اتنی جلدی ہمت نہیں ہارتے ۔وہ اپنا فون نمبر اور پتا تمھارے حوالے کر چکی ہے یقینا سال ڈیڑھ تو تمھاری فون کال یا خط کا انتظار کرے گی ۔اور بالفرض وہ کسی اور کو اپنا بھی چکی ہے تب بھی تمھار اکیا بگڑے گا ،کم از کم تمھارے پچھتاوں کا تو خاتمہ ہو جائے گا ۔باقی پیسے تو یوں بھی میرے خرچ ہو رہے ہیں ۔“
اس نے فوراََ میرے آخری فقرے پر اعتراض جڑا ۔ ”ابھی سے پیسوں کے طعنے دینا شروع کر دیے ۔“
”طعنے نہیں دے رہا ،ترغیب دے رہا ہوں ۔میں نہیں چاہتا کل کلاں کو تم مزید پچھتاوں کا شکار ہو جاﺅ کہ اب تو رقم کی غیر موجودی کا بہانہ بھی نہیں رہا ۔“
”تم نے مجھے کشمیری چرواہن کی مکمل بات نہیں سنائی تھی ۔“
”دکھوں کو کریدنے سے کرب ہی حاصل ہوتے ہیں دوست!“
”جان چھڑانے کی کوشش نہ کرو راجا صاحب !....میں نے یہ سوال اس وقت کیا تھا جب موت ہم سے چند قدم کے فاصلے پر موجود تھی اور اس وقت اگر تم جواب ہیں دے پائے تو اب تو جواب دینا بنتا ہے نا ؟“
اس کے اصرار کو دیکھتے ہوئے میں نے رومانہ کی کہانی اس کے سامنے دہرا دی تھی ۔
”اس میں رومانہ نے کس جگہ پر تمھیں دھوکا دیا ہے ذرا یہ وضاحت بھی کر دو ۔“میری بار مکمل ہوتے ہی اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”کسی کی بیوی ہو کر مجھ سے محبت کا دعوا کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔کیا یہ اس شریف آدمی سے سراسر دھوکا نہیں ہے جو اس کا شوہر ہے ۔“
”بات تمھاری ہو رہی ہے حضرت۔کسی شریف آدمی کو نہ گھسیٹو درمیان میں ۔“
”یار !....میرے اس کی جانب مائل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ میری نظر میں وہ کنواری تھی ۔اگر وہ کسی اور کے ساتھ بندھی ہوئی تھی تو اس کو محبت کا کھیل کھیلنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔کیوں اس نے میرا جذباتی استحصال کیا ۔ایک شادی شدہ لڑکی کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی دوسرے مرد سے محبت جتلائے ؟“
”تو کیاایک شادی شدہ مرد کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ کسی دوسری لڑکی سے محبت جتلائے ،خاص کر اس موقع پر جب وہ باپ بھی بننے والا ہو ؟“وہ فوراََ بات کو اپنی ذات کی جانب موڑ گیا تھا ۔
”ہاں ....اگر اس نے دوسری لڑکی کواپنی پہلی شادی کی اطلاع دے دی ہے تو وہ اسے بغیر کسی جھجک کے اپنا سکتا ہے ۔مرد کو دوسری شادی کی اجازت شریعت دیتی ہے ،پھر اس میں شبے کی گنجائش کہاں رہی ۔“
”ہو سکتا ہے چنارے بیگم اسے قبول نہ کرے ؟“سردار نے اندیشہ ظاہر کیا ۔”اب تو یوں بھی ہمارے پیار کی نشانی بیٹے یا بیٹی کی صورت اس دنیا میں آنے والی ہے ۔“
”اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔مجھے تو بس اتنا معلوم ہے کہ تم لی زونا کو بہت زیادہ چاہتے ہو ،اتنا کہ موت کو قریب پا کر بھی تمھیں لی زونا کو نہ پانے کا دکھ نہ بھول سکا ۔اور دوسری شادی میں رکاوٹ پہلی بیوی کی وجہ سے پڑتی ہے اولاد کی وجہ سے نہیں ۔“
”اچھا تم کب چوتھا دھوکا کھانے کا ارادہ رکھتے ہو ۔“اس نے شرارتی انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”بہتر تو یہی ہو گا کہ کیپٹن جینیفر کے پاس امریکا چلے جاﺅ۔اور اجرتی قاتل کے طور پر امریکہ میں اپنی دھاک بٹھا دو ۔یوں بھی انھوں نے تم سے امریکی ہی مروانے ہوں گے تو مارتے جاﺅ ۔میرا تو خیال ہے امریکیوں کو مارنے پر تمھیں اجر ہی ملے گا ۔“
”یہ فتوے اپنے پاس رکھو حضرت ،کسی بھی بے گناہ انسان کو قتل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔“
وہ مسکرایا ۔”یونھی گپ کر رہا تھا یار!....تم تو محسوس ہی کر گئے ۔“
”اچھا اس فضول گفتگو کو چھوڑو اور آگے کا لائحہ عمل طے کرو ۔“میں نے اس بے مقصد بحث سے جان چھڑائی ۔
اس نے منہ بنا کر کہا ۔”قبیل خان کو ڈھونڈ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہے اور لائحہ عمل کیا ہونا ہے۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔”قبیل خان تو گویا تمھارے لیے محو انتظار ہے نا ۔“
”میرا خیال ہے تو یہی ہے کہ سیدھا علام خیل کا رخ کرتے ہیں ۔وہاں اگر وہ نہ بھی ہوا تو اس کے کسی کمانڈر کے سامنے جا کر قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کریں گے ،اس طرح اس کے قریب جانے کا موقع مل جائے گا ۔“
”محترم جناب سردار صاحب !....کیا وہ ہماری شناخت نہیں پوچھیں گے ؟“
”تو پوچھ لیں ۔“وہ بے پرواہی سے بولا ۔”ہمارے پاس شناختی کارڈ موجود ہیں دکھا دیں گے ۔“
”اور جب وہ اپنے کسی آدمی کو ہمارے گھر کا پتا بتا کر ہمارے بارے معلومات لینے کی کوشش کریں گے تو یہ جان کر انھیں ازحد خوشی ہو گی کہ سردار صاحب کا تعلق پاک آرمی سے ہے ۔اور اسی خوشی میں وہ خان صاحب کو عزت و احترام کے ساتھ لکڑی کے تابوت میں لٹا کر مرادن بھیج دیں گے جس پر خوب صورت لکھائی میں درج ہو گا ۔
ع عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔“
وہ فوراََ اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوا بولا ۔”اوہ ....اس طرف تو میرا دماغ ہی نہیں گیا تھا ۔“
”دماغ ہوتا تو جاتا نا ....پٹھانوں کے پاس صرف دل ہوتا ہے اور تمھارے پاس تو وہ بھی نہیں ہے ۔کیونکہ وہ مس لی زونا اپنے ساتھ جاپان لے کے گئی ہوئی ہے ۔“
”ویسے لی زونا کا اسلامی نام کیا رکھناچاہیے ؟“اس کی ذہنی رو پھر لی زونا کی جانب مڑ گئی تھی۔
”ہزاروں لاکھوں نام ہیں کوئی بھی اچھا سا نام رکھ لینا مثلاََ ،اللہ وسائی ،جنت بی بی ،فتح بی بی ، بیگماں ،بخت سوائی ، کرماں بھلی وغیرہ وغیرہ ۔“
مجھے کڑے تیوروں سے دیکھتے ہوئے اس نے دانت پیسے ۔”لی زونا ہی ٹھیک ہے ۔“
”تو تمھاری پہلی بیوی کا نام کون سا اتنا اعلا ہے ۔بھلاچنارے بھی کوئی نام ہوتا ہے ۔اور اب بیٹاہو تواس کا نام کیکر خان رکھ لینااور بیٹی ہو توٹاہلی بیگم ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”ہم قبیل خان کو ڈھونڈنے کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے ۔“
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے تائیدی انداز میں سرہلایا۔”بالکل ۔“
”اگر سبیل خان ،میر امطلب ہے الفا ٹو سے رابطہ کرلیں ۔“
”نہیں ،میجر صاحب نے بتایا تو تھا کہ وہ صرف رابطے کا ذریعہ ہیں ،اس کے علاوہ اس سے کوئی امید رکھنا بھی نہیں چاہیے ۔“
سردار نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔”تو پھر تمھی کچھ پھوٹو۔“
”میرا خیال ہے کہ علام خیل جاتے ہیں وہاں کسی غیر متعلق شخص سے قبیل خان کے متعلق معلومات لینے کی کوشش کر یں گے ۔اور اس کے سامنے ہم خود کو قبیل خان کے لشکر میں شامل ہونے کا خواہش مند بتائیں گے ۔لیکن قبیل خان کے کسی کمانڈر یا خود اس کو ملنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔اگر قبیل خان کے کسی آدمی سے ٹاکرا ہو گیا تو خود کو مجاہدین کا آدمی بتائیں گے اور کہہ دیں گے کہ پہلی بار افغان بارڈر عبور کرنے جا رہے ہیں ۔“
”ہونہہ!....لگتا ہے میری صحبت کا تم پر اثر پڑتا جا رہا ہے اور اب تم بھی کچھ بہتر سوچنے لگ گئے ہو ۔“
”تمھاری سوچ تو ........“الفاظ میرے گلے میں گھٹ گئے تھے ۔اس جگہ نالہ شمال کی جانب مڑ رہا تھا ۔موڑ کاٹ کر میری نظریں جونھی سیدھی ہوئیں مجھے سامنے ایک پتھر کے ساتھ پانچ آدمی بیٹھے نظر آئے ۔تین کے پاس کلاشن کوف موجود تھی البتہ دو آدمی خالی ہاتھ تھے ۔
جاری ہے