خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,135
Reaction score
354,268
Location
pakistan
Gender
Male
ایک ایسے نشانہ باز کے ہنگامہ خیز شب و روز۔جس کی مہارت اس کے لیے وبال جان بن گئی تھی ۔




اس دو شاخے پر بیٹھے مجھے بارہ گھنٹے ہونے کو تھے ۔میں بس اپنے ہاتھ پاوں کو محدود حرکت دے کر اعضاءکو سُن ہونے سے بچا سکتا تھا ۔اس سے زیادہ حرکت کرنے کی عیاشی میری قسمت میں نہیں تھی ۔لیکن یہ سب میرے لیے اتنا زیادہ بھی مشکل نہیں تھا کہ مجھے اپنے فرض سے باز رکھ سکتا ۔دوران ٹریننگ میں چھتیس ،چھتیس گھنٹے اس سے بھی محدود جگہ پر بیٹھ کر گزار چکا تھا ۔بلکہ ایک مرتبہ تومجھے اڑتالیس گھنٹے گزارنے پڑ گئے تھے ۔
لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ٹریننگ اور حقیقت میں زمین ،آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ٹریننگ ہوتی ہی غلطیاں سدھارنے کے لیے ہے جب کہ حقیقت میں غلطی کرنے کا مطلب اپنی جان گنوانا ہوتا ہے۔ خاص کر ایک سنائپر کے لیے غلطی کا تصور ہی محال ہے ۔ہمارے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ ”سنائپر کے پاس فائر کرنے کے لیے صرف ایک گولی ہوتی ہے ۔اگر وہ گولی ہدف کو نہ چھو سکے تودردناک موت سنائپر کا مقدر بن جایا کرتی ہے ۔“ میرے پسندیدہ استاد، آنرری کیپٹن راؤ تصور کا قول اس بارے اور بھی متشدد تھا ۔ان کے مطابق سنائپر کے پاس فائر کرنے کے لیے دو گولیاں ہوتی ہیں ،پہلی گولی ہدف کے لیے اور اگر وہ خطا ہوجائے تو دوسری گولی اپنے لیے ، کیونکہ دشمن کے ہاتھ آنے کا مطلب زندہ درگور ہونا ہوتاہے۔
البتہ گولی کے نشانے پرلگنے کی صورت میں ایسی افراتفری اور انتشار پھیلتا ہے کہ سنائپر کی طرف لوگوں کا دھیان بٹ جاتاہے ۔یوں بھی سنائپر کا ہدف اہم شخصیات ہی کو نشانہ بنانا ہوتا ہے ۔لیکن عملی زندگی میں آنے کے بعد میں یہ کہنے میں حق بہ جانب ہوں کہ اس کے بر عکس ہونا بھی ممکن ہے ۔ کیونکہ ایک بار ہمارا ایک ساتھی ناکام فائر کرنے کے بعد بھی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔اور اس کی وجہ اس کا آہنی ارادہ ، بہترین کیمو فلاج اور نشانہ بازی میں اعلا درجے کی مہارت تھی۔گو اصل ہدف خوش قسمتی سے بچ گیا تھا ،مگراس کے آٹھ نو محافظ ہمارے سنائپر نے چن چن کر مار ڈالے تھے ۔مجبوراََ دشمن کو سنائپر پکڑنے سے زیادہ اپنی جان بچانے کی فکر ہوئی اور وہ مزید کمک کی تلاش میں میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ان کی واپسی تک ہمارا ساتھی وہاں سے غائب ہو چکا تھا ۔
درحقیقت ایک سنائپر کو نشانہ بازی میں مہارت کے ساتھ ذہنی طور پر بھی چاق چوبند اور ہوشیار ہونا چاہیے ،تاکہ حالات کے مطابق بہتر فیصلہ کر سکے ۔اس کے ساتھ اسے چھپنے کی جگہ کا چناو کرتے وقت وہاں سے فرار ہونے کے رستوں کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہیے ،کہ کسی بھی ناگہانی صورت حال میں وہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچا سکے ۔
اس وقت میرے ہاتھ میں آسٹریا کی بنی ایس ایس جی رائفل تھی ۔جسے سٹائیر سنائپر رائفل کہتے ہیں ۔گو آج اس سے کئی گنا زیادہ بہترین اور معیاری رائفلیں دستیاب ہیں ،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی افادیت اچھی رائفلوں کی موجودی میں کم ہوجائے ۔اس سے آٹھ سو گز تک کسی آدمی کو آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اس کی میگزین میں پانچ گولیوں کی گنجایش ہوتی ہے لیکن ہر بار فائر کرنے کے بعد رائفل دوبارہ کاک کرنا پڑتی ہے۔اس وقت میں نے جس جگہ کا انتخاب کیا تھا وہاں سے ہدف کا فاصلہ سات سو گز بنتا تھا ۔
سبز درخت کی مناسبت سے میں نے اپنے لباس کے اوپر سبز رنگ کا گِلی سوٹ پہنا ہوا تھا۔گِلی سوٹ ،سنائپر کاوہ مخصوص لباس ہوتا ہے جو اسے علاقے کی مناسبت سے چھپنے میں مدد دیتا ہے ۔ صحرائی علاقے میں ریتلے رنگ کاگِلی سوٹ جو خشک جھاڑیوں سے میل کھائے ،بنجر اور خشک علاقے میں مٹیالے رنگ کا گِلی سوٹ مکمل برفیلے علاقے میں سفید رنگ کا گِلی سوٹ اور سرسبز علاقے میں گہرے سبز رنگ کا گِلی سوٹ سنائپر کو چھپنے میں مدد دیتا ہے۔یوں بھی سنائپنگ میں چھپنے کی اہمیت اتنی ہی اہم ہے جتنی ہدف کو نشانہ بنانے کی ،کیونکہ خود کو چھپا کر ہی ایک سنائپر ہدف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ۔روانہ ہونے سے پہلے ہی سنائپر نے منصوبہ بندی کی ہوتی ہے کہ وہ کس قسم کا گِلی سوٹ ساتھ لے کر جائے گا ۔ بعض اوقات اسے منصوبے کے مطابق چھپنے کی جگہ نظر نہیں آتی ،ایسی حالت میں وہ وقتی طور پر گھاس پھوس درختوں کے پتوں یا اپنے جسم کو کیچڑ میں لت پت کر کے علاقے کی مناسبت سے اپنا کیمو فلاج کر لیتا ہے۔
میں نے پشت پر بندھی پانی کی بوتل کے پلاسٹک پائپ کو منہ میں لے کر تھوڑا سا پانی پیا ۔ موسم کافی خوش گوار تھا ۔ورنہ تو گرمی سنائپر کے لیے کا اذیت کا باعث بنتی ہے ۔اسی طرح پانی ختم ہونے کی صورت میں پیاس کی زیادتی بھی ایک مستقل عذاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔
ٹیلی سکوپ سائیٹ میں جھانک کرمیں دائیں بائیں کے علاقے کو دیکھنے لگا۔اطراف میں چھدرے چھدرے درخت پھیلے ہوئے تھے ۔میرے ہدف نے دائیں جانب سے نمودار ہونا تھا ، مگر میں اس سمت کی دور تک نگرانی نہیں کر سکتا تھا کہ میں نے اپنی مچان بنانے کے لیے موڑ کے قریب جگہ کو پسند کیا تھا ۔وہاں سے موڑ تک کا فاصلہ قریباََ دو کلو میٹر بنتا تھا ۔
میں نے آنکھیں بند کرکے ایک لحظے کے لیے دو شاخے کے ساتھ سر ٹکا دیا۔ہلکی سی غنودگی کا احساس ہوا اور میں سر جھٹک کر نیند کو بھگانے لگا ۔ذرا سی نیند بھی مجھے تکمیلِ مقصد سے غافل کر سکتی تھی ۔ ٹریننگ کی ابتدا ہی میں ہمیں جوڑیوں کی صورت میں ہر کام کرنا سکھایا گیا تھا،کیونکہ سنائپرزکا جوڑیوں کی صورت کام کرنانہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ اس مشن میں میرا ساتھی حوالدارصادق تھا ، مگر بد قسمتی سے سرحد پار کرتے ہوئے اس کے پاوں میں موچ آ گئی تھی اورمجھے مجبوراََ اسے یہاں سے چند میل پیچھے سرحد کی جانب ایک محفوظ مقام پر چھوڑ ناپڑ گیا تھا۔وہ مجھ سے سینئر تھا، بلکہ میرا استاد بھی تھا۔اور اس مشن کی تکمیل کی اصل ذمہ داری اسی کے کندھوں پر تھی۔پاوں میں موچ آنے کے بعد وہ واپسی کے حق میں تھا مگر میں اکیلا جانے پربہ ضد ہوا کہ میرا پہلا مشن تھا اور پہلی بار ہی منہ اٹھا کے واپس ہو جانے میں مجھے سبکی محسوس ہو رہی تھی ۔
امید تھی میری واپسی تک اس نے چلنے کے قابل ہوجانا تھا۔میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔ گھڑی کی سوئیاں ساڑھے چھے کا ہندسہ عبور کر رہی تھیں ۔میں صبح پانچ بجے سے پہلے درخت پر سوار ہوا تھا ۔اس وقت سورج غروب ہونے کی مکمل تیاری کر چکا تھا۔یقینا میرے ہدف کی آمد اگلی صبح تک کے لیے ملتوی ہو گئی تھی ،کہ اس علاقے میں رات کی حرکت نہ ہونے کے برابر تھی ۔میں نے آخری بار دائیں بائیں دیکھا اور ہاتھ پھیلا کر انگڑائی لینے لگا ۔مزید چند منٹ میں نے اپنے مختلف اعضاءکو حرکت دے کر سستی کوبھگایا اور پھر سمال پیک سے بھنے ہوئے چنے نکال کر کھانے لگا ۔ چنے کھا کر میں نے پانی پینے کے لیے واٹر پائپ کو منہ لگایا تو دو گھونٹ سے زیادہ پانی نہ مل سکا ۔ میں آتے وقت ایک چشمہ تاڑ آیا تھا، مگر وہاں تک جانے کے لیے مجھے اندھیرا ہونے کا انتظار کرنا تھا ۔دشمن کا علاقہ تھا میری نقل و حرکت کسی کی نگاہ میں آنے کا مطلب ،مشن سے ہاتھ دھو بیٹھنا تھا ۔
اندھیرا ہوتے ہی میں درخت سے نیچے اتر آیا ۔سمال پیک سے امریکن نائیٹ ویژن سائیٹ نکال کراس کے ساتھ لگے تسموں کی مدد سے سائیٹ آنکھوں پر باندھ لی ۔سائیٹ آن کر تے ہی اس کا اندرونی پیٹرن روشن ہوا اور مجھے ہر طرف ہلکا سبز دکھائی دینے لگا ۔اندھیری رات میں وہ سائیٹ مجھے بارہ ، تیرہ تاریخ کے چاند کے بہ قدرارد گرد کا علاقہ روشن دکھا رہی تھی ۔رائفل کندھے سے لٹکا کر میں نے پسٹل ہاتھ میں پکڑ لیا کیونکہ سنائپر رائفل سے تیزی سے فائر کرنا ممکن نہیں ہوتا،ہر سناپر اپنے ساتھ سنائپر رائفل کے علاوہ کوئی اچھی ساخت کا پسٹل ضرور رکھتا ہے تاکہ بہ وقت ضرورت اسے کام میں لا سکے ۔ پسٹل کی نال پر سائیلنسر فٹ تھا ۔تیس راونڈ کی لمبی میگزین لگا کر گلاک نائنٹین کسی بھی طرح کلاشن کوف سے کم مفید نہیں تھا۔ایک سنائپر کو سنائپر رائفل کے ساتھ پستول کے استعمال میں بھی مہارت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور بلاشبہ میں پستول کے استعمال میں خصوصی مہارت رکھتا تھا۔
چشمے کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے میں نے فطری تقاضا پورا کیا۔اور پھر چشمے کی طرف بڑھ گیا ۔وہ پہاڑی علاقہ تھا ۔جولائی کے مہینے میں بھی موسم اچھا خاصا سرد تھا ۔دن کی روشنی میں دور نظر آنے والی اونچی چوٹیوں پر برف کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔گو دن کو سورج کی تمازت ماحول کو کافی حد تک گرما دیتی تھی مگر یہ حدت بھی خوشگوار اثر لیے ہوئے ہوتی تھی ۔چشمہ مچان سے قریباََ ڈیڑھ کلو میٹر دور تھا۔ اس قریباََ ڈیڑھ کلو میٹر میں پچیس تیس گز کی کمی بیشی ہو سکتی تھی اس سے زیادہ نہیں ،کیونکہ ایک سنائپر کے لیے فاصلوں کا اندازہ لگانا بیکار کا مشغلہ نہیں ٹریننگ کا حصہ ہوتا ہے ،جو بعد کو عملی زندگی میں کام آتا ہے ۔
اطراف کا جائزہ لیتے ہوئے میں نارمل رفتار سے چشمے کی طرف بڑھتا گیا ۔جنگلی جانوروں سے مڈ بھیڑ ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔گو اس علاقے میں کبھی کبھار ریچھ اور شیرنظر آ جاتے ہیں مگر ایسا واقعہ خال ہی پیش آتا ہے ۔ البتہ وہاںلومڑ کثیر تعداد میں موجودہیں۔ دشمن کے گشتی دستے بھی چونکہ پہلے سے موجود رستوں پر گشت کرتے رہتے تھے اس لیے ان کی طرف سے بھی میں بے فکر تھا ۔لیکن کسی بھی قسم کی انہونی ،اچانک سر پر پڑنے والی افتاد کا گمان ،اس کے ساتھ رات کا اندھیرا ،انجان علاقہ ،دشمن کی سر زمین اور تکمیل مقصد سے پہلے کسی حادثے کا خطرہ اور اس جیسے کئی ایک احساسات بہ ہر حال میرے دل میں ضرور جاگزیں تھے۔
ہلکی ہلکی ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی ۔یہ ہوا سردی بڑھانے کا سبب بنتی ہے ۔کیونکہ یہ برفیلی چوٹیوں سے گھوم پھر کر یہاں تک پہنچتی ہے ۔چشمے کے قریب پہنچ کر میں بیٹھ گیا اور ہاتھوں کا اوک بنا کر پانی پینے لگا۔نہایت ٹھنڈا اور شیریں پانی تھا ۔خوب سیر ہونے کے بعد میں نے سمال پیک سے پلاسٹک کی بوتل نکالی اور بھرنے لگا۔بوتل بھر کر میں نے سمال پیک میں رکھی اور واپس چل پڑا ۔لیکن واپس چلنے سے پہلے میں نے قطبی ستارے کو دیکھ کر سمت کا تعین ضروری سمجھا تھا ۔گو میرے پاس کمپاس بھی موجود تھا لیکن آسمان صاف ہونے کی وجہ سے اس کی ضرورت مجھے محسوس نہیں ہوئی تھی ۔
ایک سنائپر کے ضروری سامان میں کمپاس ،دوربین،نائیٹ ویژن سائیٹ ،نقشہ ، چاقو،رسی، ونڈ میٹر،ٹارچ ،لائیٹر یا ماچس اوروائر کٹّروغیرہ کی موجودی نہایت ضروری ہے ۔
٭٭٭
واپس جاتے ہوئے میرے ذہن میں اپنے سینئر کی ہدایات اجاگر ہوئیں ۔جو اس نے مشن پر روانہ ہونے سے پہلے ہمیں دی تھیں ۔
”اٹھائیس یا انتیس جولائی کواس علاقے میں بریگیڈئر پرکاش کی آمد متوقع ہے ۔“اس نے دیوار پر ٹنگے بڑے سے نقشے پر سبز رنگ کے لیزر پوائنٹر کی روشنی سے ایک مخصوص جگہ کی نشان دہی کی ۔
”اور یہ وہی بد بخت ہے جس کے حکم سے اس سرحد ی پٹی پرآئے روز گولہ باری جاری رہتی ہے ۔“اس نے مخصوص رستے کی نشان دہی کے ساتھ نقشے کے ساتھ لٹکی ایک بڑی سی تصویر پرلیزر پوائنٹر کی روشنی ڈالی ، وہ تصویر بریگیڈیر پر کاش کی تھی ۔ہمارے سینئر کی گفتگو جاری رہی ۔
”سرحد کے سکون کو تہ وبالاکر دیاہے خبیث نے ۔گو اس بے مقصد گولہ باری سے سرحدی علاقے کے مظلوم شہری ہی بے سکون رہتے ہیں بلکہ، کئی ایک کے زخمی اور جاں بہ حق ہونے کی خبریں بھی تواتر سے ملتی رہتی ہیں۔اس لیے ایسے شر پسند جو امن معاہدے کو خاطر میں لائے بغیر اپنی کارروائیاں جاری رکھیں ،زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔یہ ایسا خبیث شخص ہے کہ اس کی اپنی سپاہ اس سے سخت نالاں ہیں۔اسے یہاں تعینات ہوئے چار ماہ ہونے کوہیں اور ان چار ماہ میں شاید ہی کوئی دن ایساگزرا ہو جب اس کے حکم سے دشمن کی توپیں خاموش ہوئی ہوں ۔اب ہمیں باوثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ یہ اگلے مورچوں کے معاینے کے لیے ان دو تاریخوں میں آنے والا ہے ،یقینا اس بد بخت نے کوئی نئی شرارت سوچنی ہو گی۔ ہم اس کی شرارتوں سے خوف زدہ نہیں ،لیکن شرارت کرنے والے کا سدّ باب اگر ممکن ہو تو سستی نہیں کرنی چاہیے ۔اور صادق!....آپ سینئر ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار سرحد پار جا کر کامیابی سے ہم کنار ہو چکے ہیں۔ جبکہ ذیشان حیدرپہلی مرتبہ کسی مشن پر جا رہا ہے ۔اسے اچھی طرح سمجھاناتاکہ آیندہ یہ بھی آپ کی طرح ایک اچھے سنائپر کے طور پر سامنے آ سکے ....یوں بھی یہ آپ کا ہونہار شاگرد ہے ۔ اور ذیشان!....آپ خوش قسمت ہیںکہ پہلا مشن اپنے استاد کی زیرِ نگرانی پورا کرو گے۔“
اب وہ سینئر ،تجربہ کار سنائپر اور میرا استادجس کے سر پر تکمیل ِ مشن کا بوجھ تھا یہاں سے قریباََ پانچ کلو میٹر دور بے بسی کی حالت میں پڑا تھا ۔اور مشن کی ساری ذمہ داری ایک نو آموز سنائپر یعنی مجھ پر آن پڑی تھی ۔گو زخمی ہونے کے بعد استادصادق نے مشن کو ادھورا چھوڑ کر واپس جانے کا مشورہ دیا تھا، مگر میرے اصرار پر اسے ضروری ہدایات اور نیک خواہشات کے ساتھ مجھے رخصت کرنا پڑا تھا ۔وہ دو گھنٹے تک مجھے سمجھاتا رہا تھا اور حقیقی بات ہے مجھے اپنی ساری ٹریننگ سے استاد صادق کی آخری ہدایات زیادہ موّثر لگی تھیں ۔کیونکہ یہ ہدایات عملی زندگی کی عین ابتداتھیں۔
درخت کے قریب پہنچ کر میں آگے نکلتا چلا گیا، جس جگہ ہدف کو نشانہ بنانا تھا وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں قدرتی طور پر ایک دو پتھر ابھرے ہوئے تھے اس طرح کہ اس رستے سے گزرنے والی گاڑیوں کے لیے ایک قدرتی سپیڈ بریکر سا بن گیا تھا ۔اس جگہ سے پچاس ساٹھ گز مخالف سمت میں ایک جگہ میں نے IED (Empervis Explosive Divice)دو پتھروں کے درمیان ،زمین میں اس طرح دبائی ہوئی تھی کہ درخت پر بیٹھ کر اسے نشانہ بنا سکوں ۔اور اس کا مقصد ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد برگیڈیر پرکاش کے محافظوں کو وقتی طور پر خوف زدہ کرنا اور ان کی توجہ کوکسی اور جانب پھیرنا تھا ۔اور حقیقت میں ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد اس IEDکو ہِٹ کرنا ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور تھا ۔اور ایک سنائپر کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ اسے ہمیشہ اپنے نشانے پر اعتماد ہوتا ہے ۔
آج اٹھائیس جولائی کا دن گزر گیا تھا اور کل بریگیڈیر پرکاش کی آمد یقینی تھی ۔میں نے دیکھ بھال اور خوب سوچ سمجھ کردشمن کی آمد کی سمت سے بائیں جانب ایک درخت پر عارضی مچان بنائی تھی ۔ بائیں سمت جگہ چننے میں ایک تو یہ فائدہ تھا کہ بریگیڈئر پرکاش نے ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہونا تھااس لیے لامحالہ اس نے بائیں سائیڈ پر ہونا تھا۔دوسرا مجھے فرار کے لیے بھی یہی سمت مطلوب تھی ۔ اس جانب درخت بھی کچھ زیادہ تھے ۔ IEDکے ٹھیک لگا ہونے کا اطمینان کر کے میں واپس درخت کے پاس آیا اور مچان میں لیٹ کر سو گیا ۔خود کو رسے سے باندھنا مجھے نہیں بھولا تھا ،ورنہ دوسری صورت میں نیچے گر کر میں زخمی یا ہلاک ہو سکتا تھا۔
سارے دن کی تھکن اور بے آرامی کے باوجود میں رات کو اچھی طرح نہیں سو سکا تھا باربار آنکھ کھل جاتی ،ایک بار تو سیٹی کی آواز سن کر میں بے ساختہ چونک کر اٹھ بیٹھا ۔اور دوبارہ سیٹی بجنے پر میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی کیونکہ غنودگی بھاگتے ہی میں نے آواز کو پہچان لیا تھا ۔یہ اس علاقے میں موجود ایک بڑے سائز کے چوہے کی آواز تھی جو جسامت میں بلی سے بھی بڑا ہوتا ہے ۔اس کا مقامی نام ترشون ہے ۔اپنے بل کے دہانے پر کھڑا ہو کر جب یہ زور دار آواز نکالتا ہے تو بالکل یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سیٹی بجائی جا رہی ہو ۔
صبح تڑکے اٹھ کر میں ضروریاتِ فطرت سے ہم کلام ہوا اور پھر درخت پر چڑھ کر اونگھنے لگا ، دشمن کی آمد بعد از دوپہر متوقع تھی کیونکہ اس رینک کے آفیسر کا صبح تڑکے جاگنا ایک مذاق ہی معلوم ہوتا ہے ۔ جاگنے کے بعد بہ ذریعہ ہیلی کاپٹر بریگیڈ ہیڈکواٹر میں پہنچنا اور پھر وہاں سے اگلے مورچوں کے معاینے کے لیے بائی روڈ آنے میں اتنی دیر تو بہ ہر حال ہو ہی جانی تھی ۔مگر اس کے باوجود بالکل ہی بے پروا ہو جانا مناسب نہیں تھا ۔دھوپ کے تیز ہوتے ہی میں سنبھل کر بیٹھ گیا وقفے وقفے سے میں دوربین کے ذریعے ارد گرد کے علاقے کا جائزہ بھی لے لیتا تھا ۔جونھی سورج نے نصف سفر طے کیا ،مطلوبہ سمت سے ایک جیپ نمودار ہوئی میں نے دوربین آنکھوں سے لگا لی ،جیب کا نظارہ بالکل قریب ہو گیا تھا ۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے دونوں جوانوں کی شکل برگیڈیر پرکاش سے بالکل میل نہیں کھاتی تھی ۔تھوڑا مزید نزدیک آنے پر ان کے رینک بھی نظر آنے لگے ۔ڈرائیور کے ساتھ درمیانی رینک کاایک آدمی بیٹھا تھا جبکہ عقبی جانب تین آدمی کلاشن کوفوں سے لیس کھڑے ہوئے تھے ۔جیپ سست رفتار ی سے چل رہی تھی ،یقینا یہ بریگیڈیر پرکاش کے آنے سے پہلے رستے کی دیکھ بھال کر رہے تھے ۔میرے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تھے ۔وہ اسی سست رفتاری سے اس کچے رستے پر سے گزرتے چلے گئے ۔ مجھے یقین تھا کہ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں ۔اپنے کیمو فلاج کا بغور جائزہ لے کر میں بریگیڈیر پرکاش کے استقبال کے لیے تیار ہو گیا ۔گھٹنوں پر رکھی رائفل میں نے ہاتھوں میں تھام لی تھی ۔ٹیلی سکوپ سائیٹ کے سامنے اور عقبی طرف کے گلاس کور اتار کر میں نے موڑ کی سمت شست باندھ لی ۔سائیٹ کے اند ر تین گہری سیاہ لکیریں نظر آ رہی تھیں ،دو لکیریں دائیں بائیں سے درمیان کی طرف آ رہی تھیں اور ایک قدرے موٹی لکیرتھی جو نیچے سے اوپر کی جانب اٹھ کر جا رہی تھی ۔موخّر الذکر لکیر نیچے سے موٹی تھی اوراس کا اوپری سرا بالکل باریک تھا ۔تینوں لکیریں درمیان سے ذرا پہلے ختم ہو جاتی تھیں ۔اگر نیچے والی لکیر کو اوپر کی طرف مکمل اٹھا دیا جاتا تو سائیٹ کے اندر بڑا سا جمع کا نشان بن جاتا۔اسی عمودی لکیر کا اوپری سرا میرا شستی نقطہ تھا ۔
٭٭٭
دشمن کی گشتی جیپ کو گزرے گھنٹا گزرا ہوگا کہ ایک دم موڑ سے تین گاڑیاں نمودار ہوئیں ، دو کھلی چھت کی جیپیں اور درمیان میں چھت والی ٹویوٹا جیپ تھی ۔درمیانی رفتار سے چلتے ہوئے تینوں گاڑیوں نے کلو میٹر بھر کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک مجھے ٹویوٹا جیپ کے شیشوں کا کالا رنگ نظر آیا۔میرا دل بیٹھنے لگا ۔ہدف کو میں نے سائیڈ سے نشانہ بنانا تھا اور کالے شیشوں کی وجہ سے ہدف کا نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ اس ایک حل تو یہی تھا کہ میں سامنے سے جیپ کو نشانہ بناتا،مگرایسی صورت میں ہدف کا فاصلہ مجھ سے بڑھ جاتاجس کے باعث درست نشانہ لگانا ممکن نہیں تھا ۔اس رائفل سے آٹھ سو میٹر تک ہی درست نشانہ لگایا جا سکتا تھا ۔اگر آٹھ سو میٹر سے فاصلہ بڑھ جاتا پھر نشانے کی درستی یقینی نہیں تھی ۔میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس منحوس کی جیپ کالے شیشوں والی ہو گی ۔یوں بھی آرمی میں جیپوں کے کالے شیشے اس سے پہلے میری نظر میں نہیں گزرے تھے ۔ایک دم مجھے اپنا مشن ناکام ہوتا دکھائی دیا ۔ میرے پاس سوچنے کے لیے دو تین منٹ سے زیادہ وقت نہیں تھا ۔بریگیڈیر پرکاش نے واپسی کے لیے دوسرا رستا اختیار کرنا تھا جو یہاں سے پندرہ بیس کلومیٹر دور تھا ۔بریگیڈیر پرکاش سے پہلے وہاں تک پہنچنا میرے لیے ناممکن تھا۔اگر میں بہت زیادہ تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتا اور کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچ بھی جاتا تب بھی خود کو چھپا کر دشمن کے خلاف کوئی پروگرام سوچ کر اس پر عمل پیرا نہیں ہوسکتا تھا ۔
استاد صادق نے آخری نصیحت میں کہا تھا کہ ۔”ایک تربیت یافتہ سپاہی کامشن میں ناکام ہونے کے بعد زندہ واپس لوٹنا بھی آدھی کامیابی ہوتی ہے ۔“مگر میں اپنے پہلے مشن میں آدھی کامیابی پر اکتفا نہیں کر سکتا تھا ۔گاڑیوں کا فاصلہ ہر گزرتے سیکنڈ کم ہوتا جا رہا تھا ۔رائفل کی بیرل پر سائیلنسر فٹ تھا اور فائر ہوتے وقت صرف ہلکی سی ”ٹھک “ کی آواز اٹھنا تھی جو فائرکی جگہ سے زیادہ سے زیادہ چند گز دور ہی سنی جا سکتی تھی ۔
اور پھر فیصلہ کن لمحا آن پہنچا ۔اگلی جیپ میرے سامنے سے گزری۔بریگیڈیر کا ٹویوٹا اس سے بیس پچیس گز پیچھے تھا میں سیکنڈ بھر میں ایک نتیجے پر پہنچا اور شست لیتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔” ٹھک“ کی آواز کے ساتھ بلٹ نے مزل کو چھوڑااور اسی لمحے سب سے آگے والی جیب کا پچھلا ٹایرزور دار دھماکے سے پھٹ گیا تھا ۔جیپ ہلکے سے لہرا کر رک گئی ۔جیپ میں کھڑے باوردی ہتھیار بردار جوان چھلانگ لگا کر نیچے اترے اور چاروں طرف سرسری نظر دوڑا کر ٹایر کی طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔تینوں گاڑیاں رک گئی تھیں ۔سب سے آخری جیب میں موجود ہتھیار بردار جوانوں نے بھی جیپ سے اتر کر اطراف میں پوزیشن اختیار کر لی تھی ۔
اس دوران میں نے کاکنگ ہینڈل کو کھینچ کر رائفل اس احتیاط سے دوبارہ کاک کر لی تھی کہ خالی کیس نیچے زمین پر نہ گرنے پائے ۔پتھریلی زمین پر تانبے کا کیس اچھی خاصی آواز پیدا کر کے دشمن کو متوجہ ہونے کا باعث بن سکتا تھا ۔
اگلی جیپ کے ڈرائیور نے جیپ کی عقبی طرف بندھا فالتو ٹایر کھولنا شروع کر دیا تھا ۔
اسی وقت میری دعائیں رنگ لائیں اورمیری ترکیب کو کامیابی کی جھلک نظر آئی۔بریگیڈیر پرکاش نے اپنی جانب کا شیشہ نیچے کر کے سر باہر نکالا،شاید وہ اگلی جیپ والوں کو کوئی ہدایت دینے والا تھا یا خالی ایک نظر ہی باہردیکھنا چاہتا تھا ۔مجھے اس کے ارادے سے کوئی غرض نہیں تھی ۔شیشے کے نیچے ہوتے ہی میری انگلی نے ایک جھٹکے سے ٹریگر کی آزادنہ حرکت کو پورا کرتے ہوئے مکمل ٹریگر دبا دیا ۔سر میں لگنے والی گولی چیخنے کا موقع نہیں دیا کرتی ۔طاقتور بلٹ نے اس کا آدھا سر اڑا دیا تھا ۔
ڈرائیور بلند آواز میں چیخا اور جیپ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔باقی سب بھی اس طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
میں نے ان سے نظر ہٹا کرایک بار پھر رائفل کاک کی اور IEDکی جگہ پر شست باندھ کر تیسری گولی فائر کر دی ۔کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا اسی وقت تمام ہتھیار برداروں نے اچانک فائر کھول دیا تھا ۔کلاشن کوفوں کے فائر کی تڑتڑاہٹ سے ماحول گونج اٹھا تھا ۔چونکہ کسی کوابھی تک میرے چھپنے کی جگہ کے بارے معلوم نہیں ہوا تھا اس لیے وہ چاروں طرف گولیاں برسا رہے تھے ۔
جیپ کی عقبی نشست کھول کر دو آفیسر باہر آئے اور تمام کو اندھا دھند فائر کرنے سے منع کرنے لگے ۔یقینا بریگیڈیر پرکاش کے بعد وہی دونوں سینئر تھے ۔
ہمارے استاد صوبیدار راو تصور(جو آنرری کیپٹن ریٹائرڈ ہوئے،ابھی تک حیات ہیں اللہ پاک ان کی عمر میں برکت فرمائے) کہا کرتے تھے کہ کسی بھی فوجی دستے کو اگر سراسیمہ اور حواس باختہ کرنا ہوتو ان کے کمانڈر کو ختم کر دو ۔کمانڈر کی غیر موجودی میں وہ دستہ بھیڑوں کا ریوڑ بن جائے گا ۔“
اپنے استاد کا سنہری قول اس وقت میرے دماغ میں گونجا اور میں نے ٹویوٹا جیپ سے برآمد ہونے والے دونوں آفیسرز میں سے ایک کا نشانہ لے کر فائر داغ دیا ۔وہ اچھل کر نیچے گرا۔دوسرا ایک لمحے کے لیے شاک کی کیفیت میں آ گیا تھا ۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میری رائفل نے میگزین میں موجود آخری گولی اُگلی اور دوسرا بھی اس کے قریب گر کربن پانی کی مچھلی کی طرح پھڑکنے لگا ۔
میں نے سرعت سے میگزین تندیل کی اس وقت وہاں آٹھ بندے زندہ نظر آ رہے تھے ۔ان میں سے ایک کی کلاشن کوف کا رخ انھی درختوں کی طرف تھا جہاں میں چھپا ہوا تھا ۔میں نے دفاعی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے اسی سے جان چھڑانے کا سوچا اور اگلے لمحے وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا ۔اصولاََ مجھے بریگیڈیر پرکاش کے مرتے ہی وہاں سے فرار ہو جانا چاہیے تھا،مگر دشمن کی کم تعداد اور اپنی گولیوں کو مسلسل نشانے پر لگتا دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھ گیا تھا ۔بہ قول استاد محترم سنائپر کی مثال اندھیرے کے تیر جیسی ہوتی ہے ،کہ جانے کس وقت کہاں سے نکل کر گردن سے پا ر ہو جائے ۔نظر نہ آنے والے دشمن کا خوف ،دکھائی دینے والے دشمن سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے ۔
اگلی ٹھک نے ایک اور کی زندگی چھین لی تھی ۔
کوئی چیخا ....”بھاگو ،ہم دشمن کے گھیرے میں ہیں ۔ایک آدمی نے آخری جیپ سٹارٹ کر کے ریورس گیئر لگایا ،مگر چند گز سے زیادہ پیچھے ہٹنا اسے نصیب نہیں ہو سکا تھا ۔میری چلائی ہوئی گولی نے اسے اسٹیرنگ پر لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا ۔باقی آدمی گاڑیوں کا خیال دل سے نکال کر سر پٹ دوڑ پڑے ۔ میری رائفل کی رینج سے نکلنے سے پہلے دومزیدروحیں اپنے فانی جسم سے روٹھ کر محو پرواز ہو چکی تھیں ۔
وہ سر پٹ موڑ کی طرف بھاگتے جا رہے تھے ۔مسلسل اپنے ساتھیوں کو لاشوں میں تبدیل ہوتا دیکھ کر ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفقود ہو چکی تھیں۔جبکہ میرا حوصلہ آسمان کو چھو رہا تھا ۔ان کے ”آوٹ آف رینج“ ہوتے ہی میں سرعت سے نیچے اترااور درختوں کی آڑ لے کر واپس چل پڑا ۔ عام لباس کے اوپر پہناگِلی سوٹ گو چلنے میں رکاوٹ پیدا کر رہا تھا مگر چھپاوکے لیے بہت ضروری تھا۔[ گلی سکاٹ لینڈمیں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح ہے جو ایک زمانے میں اُن خاص داروغوں کے لیے استعمال ہوتی تھی ۔ جو اپنے بادشاہ کی زمینوں میں نا جائز طور پر شکار کھیلنے والوں سے حفاظت کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلی گھاس میں مکمل طور پر چھپ کر بلا حرکت پڑے رہتے اور ہرن کا انتظار کرتے۔ مناسب وقت آنے پر کود پڑتے اور اُسے ہاتھوں سے دبوچ لیتے پھر بادشاہ کے حضور پیش ہو کر ہرن کا تحفہ دیتے اور انعام و کرام سے نوازے جاتے ۔ چھپاﺅ تلبیس کے اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے آج کل کے دور میں سنائپر اپنے آپ کو دشمن سے بچانے کے لیے اپنے اردگرد کے ماحول کے مطابق خود کوڈھال لیتے ہیں۔آج کے جدید دور میں گِلی سوٹ نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ مختلف ممالک اعلا درجے کے گِلی سوٹ تیار کر رہے ہیں جوہر علاقے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کے سنائپر یہی گِلی سوٹ استعمال کر رہے ہیں]میں گِلی سوٹ اتارے بغیر چلتا گیا ۔وہاں سے میں جتنا جلد غائب ہو جاتا اتنا بہتر تھا ۔جلد ہی دشمن نے اس علاقے کو گھیرے میں لے لینا تھا ،پکڑے جانے کی صورت میں انھوں نے میرے ساتھ جو کرنا تھا اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی عقل بینا کی ضرورت نہیں تھی ۔
میں نے چشمے والا رستا ہی اختیا کیا تھا ۔چشمے کے قریب رک کر میں نے سیر ہو کر پانی پیا اور واٹر بوتل بھر کر آگے بڑھ گیا۔چشمے سے فرلانگ بھر آگے جا کر اترائی شروع ہو جاتی تھی ۔اترائی شروع ہوتے ہی میری رفتار خود بہ خود بڑھ گئی ۔چونکہ میں باقاعدہ کسی رستے پر نہیں جا رہا تھا اس لیے سمت کی درستی کے لیے میں گاہے گاہے کمپاس پر بھی نظر ڈال لیتا تھا۔
اونچے ،نیچے اور ٹیڑھے میڑھے رستوں سے گزرکر میں نے تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور ایک خشک نالے کے قریب پہنچ گیا ۔نالے کے درمیان بارشی پانی کے گزرنے کی وجہ سے ریت ابھر آئی تھی اورساتھ میں چھوٹے بڑے پتھر بکھرے پڑے تھے ۔جھاڑیاں وغیرہ نالے کے کنارے پر موجود تھیں درمیانی علاقہ صاف تھا ۔نالے کی چوڑائی پچاس ساٹھ گز کے بہ قدر تھی ۔اور بد قسمتی سے وہاں سے سات آٹھ سو گز کے فاصلے پر موجود ٹیکری پر انڈین آرمی کے ایک سیکٹر کا بیس موجود تھا جہاں سے نالے کا یہ درمیانی حصہ آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا ۔جھاڑیوں کے اندر لیٹ کر میں نے دوربین آنکھوں سے لگا لی ۔
بیس پر غیر معمولی چہل پہل دیکھتے ہی مجھے یقین ہو گیا، کہ ان تک بریگیڈیر پرکاش کے ہلاک ہونے کی خبر پہنچ چکی ہے ۔دس آدمیوں کا ایک دستہ مجھے بیس سے نیچے اتر کر نالے کی سمت آتا دکھائی دیا وہ یقینا جائے وقوعہ کی جانب روانہ تھے ۔تمام کے تمام ہتھیاروں سے لیس تھے ۔وہ نالے میں اتر کر میری جانب بڑھنے لگے ۔ان کے پیچھے ایک اور دستہ تھا جو نالے میں آنے کے بجائے سیدھے رستے پر چلتے ہوئے وقوعہ کی جانب بڑھتا گیا ۔یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں تیز رفتاری سے چلتے ہوئے اس جگہ پہنچ گیا تھا ورنہ یقیناان سے رستے میں مڈبھیڑ ہوتی اور ایسی صورت میں میرا مارا یا پکڑاجانا یقینی تھا ۔میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہیں چھپا رہوں ۔دوربین سمال پیک میں ڈال کر میں جلدی سے جھاڑی کے مزید اندر کھسک گیا ۔جھاڑی کے تنے کے قریب پہنچ کر میں بالکل ساکت لیٹ گیا ۔یوں کہ اپنے سانس کی آواز خود مجھے بھی سنائی نہیں دے رہی تھی ۔مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا جلد ہی ان کی باتوں کی آواز مجھے سنائی دینے لگی ۔وہ پنجابی اور ہندی دونوں زبانوں میں بات کر رہے تھے ۔ پنجابی بولنے والے شایدسکھ تھے ۔ان کے قریب آنے تک جھاڑی کے تنے اور شاخوں پر پھرتے ہوئے چیونٹوں نے میرے بدن پر مٹر گشت شروع کر دی تھی ۔ایسی حالت میں عام بندہ چیونٹوں کو بدن سے دور جھٹکنے سے باز نہیں رہ سکتا ، کیونکہ یہ بہت بے دردی سے کاٹتے ہیں ۔میرے کان کی عقبی جانب اور ناک کی جڑ میں بھی دو نے بڑے مزے سے دانت گاڑ رکھے تھے ،مگر میں نے پلک تک نہیں جھپکی تھی ۔ایسی حالت میں تو سنائپر ایک بچھو کو بھی خود سے دور نہیں جھٹکتا۔
٭٭٭
”کم از کم آٹھ دس بندے ہوں گے۔“میری سماعتوں سے گزرنے والوں کا پہلا ،مکمل اور واضح فقرہ یہی ٹکرایا تھا ۔
”زیادہ بھی ہو سکتے ہیں ۔“ایک دوسری آواز نے اس کی تردید کی تھی ۔وہ جوڑیوں کی صورت میں روانہ تھے ۔اپنے ہتھیار انھوں نے تیاری حالت میں پکڑے ہوئے تھے ۔ایک آدمی نالے کی دائیں اور دوسرا بائیں سمت کی نگرانی کر رہا تھا ۔
”یار ! اچھا ہوا ، بریگیڈیر پرکاش سے تو جان چھوٹی ،خجل خوار کر رکھا تھا بے غیرت نے ۔“ یہ دوسری جوڑی کے آدمی آواز تھی ۔
اس کے ساتھی نے جواب دیا ۔”اس کی تو خیر ہے بلکہ ،میجر سورن کی موت بھی قابل برداشت ہے مگر،کرنل جگجیت سنگھ بہت اچھا انسان تھا ۔“
”گھات لگانے والے تو بس بریگیڈئر پرکاش ہی کے لیے آئے ہوں گے مگر........“اس کی آواز معدوم ہوتی گئی اور تیسری جوڑی کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرانے لگی ۔
”اگر ان کی تعداد واقعی آٹھ دس ہے تو ہم دس بندے انھیں کیسے روکیں گے؟“
اس کے ساتھی نے جواب دیا ۔”دوسری پارٹی سیدھے رستے پر جا رہی ہے اور باقی سیکٹرز سے بھی پارٹیاں روانہ ہیں ، سارے علاقے کا گھیراوکرکے تلاشی لی جائے گی۔کمانڈوز پلاٹون بھی بلائی جا رہی ہے ۔“
چوتھی جوڑی کا ایک آدمی انھی جھاڑیوں میں جہاں میں چھپا ہوا تھا۔رکتا ہوا بولا۔”میرا خیال ہے یہ جگہ مناسب ہے۔“
اس کے ساتھ نے جواب دیا ۔”اچھا جلدی کرو ،میں آگے جارہا ہوں۔تم فارغ ہو کر آ جانا۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر وہ جھاڑی کی آڑ میں آ کر اپنی پینٹ کھولنے لگا ۔
آخری جوڑی کے ایک آدمی نے مسکرا کرکہا ۔”سریش!....تیری پینٹ ابھی سے ڈھیلی ہو گئی ہے ۔“ اس کے دوسرے ساتھی کا قہقہہ اس کے ساتھ شامل تھا ۔
سریش جواباََ بولا۔”یار !صبح سے پیٹ خراب ہے ۔اب آپ لوگ مذاق ہی اڑاو گے۔“
وہ آگے گزرتے چلے گئے ،جبکہ سریش پینٹ کھول کر اطمینان سے بیٹھ گیا ۔اس کا رخ میری جانب تھا ،مگر اس کی نگاہیں اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ تھیں ۔میں اس وقت جھاڑی کا حصہ بنا ہوا تھا ۔ میرے بدن کا کوئی جزو بھی گِلی سوٹ سے باہر نہیں تھا ۔سر پر رکھی ہوئی ٹوپی نے پورے چہرے کو ڈھانپ رکھا تھا ۔مخصوص سیاہ رنگ کی کریم میں نے پورے چہرے پر تھوپی ہوئی تھی ۔سنائپر رائفل پر بھی میں نے سبز رنگ کے کپڑے کی کترنیں اس انداز سے باندھی ہوئی تھیں کہ سوائے رائفل کے دہانے کے کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی ۔
اچانک فضا میں وائرلیس سیٹ کی آواز گونجی ، یقینا سریش کا واکی ٹاکی بول رہا تھا ۔
”نمبر فائیو !....سینڈ یور لوکیشن اوور۔“
”سفید نالا،جنگل موڑ۔اوور۔“ دوسری آواز نے اپنی جگہ بتائی ۔
یقینا اس نالے کا کوڈ نام ، سفید نالا تھا۔میری موجودہ پوزیشن سے وہ نالاجنوب کی جانب مڑ رہا تھا ۔نالے کی مغربی طرف ان کا سیکٹر بیس تھا ۔ بیس کے نیچے بھی چھدرے چھدرے درخت موجود تھے ، مگر مشرقی طرف کافی گھنّے درخت پھیلے تھے جو نالے کے ساتھ دور تک چلے گئے تھے ۔جنوب کی طرف مڑنے کے بعد نالے کی چوڑائی دگنے سے بھی زیادہ ہو گئی تھی ۔اور درخت بہ تدریج جوانب کی ٹیکریوں تک پھیل گئے تھے ۔ان میں چیڑ و دیار کے بلند بالا درختوں کے ساتھ ساتھ جھاڑی نما درخت بھی موجود تھے ۔ تُنگ کے سدا بہار درخت بھی بہ کثرت بکھرے ہوئے تھے ۔اور انھی درختوں کے جنگل میں ،میں اپنے استاد صادق کو چھوڑ گیا تھا ۔سنائپرز کے نقطہ نظرسے اب یہ علاقہ محفوظ نہیں رہاتھا، مگراپنے ساتھی کو ساتھ لینا نہایت ضروری تھا ۔اگر حوالدارصادق وہاں چھپا نہ ہوتا تو یقینا میں نے نالے نالے میں آگے بڑھ جانا تھا اور دشمن کے اس علاقے کو گھیرنے سے پہلے میں کہیں دور نکل گیا ہوتا۔
”اپنے ساتھیوں کو چوکنا ہونے کی ہدایت دے دو ۔اور تمام کو بتا دو کہ یہاں صرف ایک بندے کی موجودی کے آثار ملے ہیں ۔وہ بہت اچھا نشانے باز اورمنجھا ہوا سنائپر ہے۔اس ایک ہی نے ہمارے آٹھ آدمیوں کو شہید کر دیا ہے ،اس لیے احتیاط سے کام لیں ۔اوور“(مسلمانوں کی دیکھا دیکھی دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اپنے جنگ میں ہلاک ہونے والے سپاہیوں کو شہید کہنے لگے ہیں )
”راجر ....“نمبر فائیو نے گویا بات سمجھ جانے کا اقرار کیا ۔
”کسی بھی چھوٹی سی چھوٹی بات کی فوراََ اطلاع دینا ۔کیپ لسننگ آوٹ۔“احکام دینے والے نے اسے آوٹ کہتے ہی دوسری پارٹی کو پکارنا شروع کر دیا ۔”نمبر سکس!....سینڈ ،یوور لوکیش اوور۔“
جواب ملا۔”نالا روڈ جنکش اوور۔“
”کاپیڈ میسج،سیم ٹو یو ۔“پوری بات دہرانے کی ضرورت اس نے اس لیے بھی محسوس نہیں کی تھی کہ ،نمبر فائیو سے ہونے والی گفتگو نمبر سکس بھی سن رہا تھا ۔
”راجر ۔“نمبر سکس کی طرح سے سمجھ جانے کی اطلاع ملنے پروہ اسے بھی لسننگ پر رکھ کر تیسری پارٹی سے بات کرنے لگا ۔اس مرتبہ اس نے نمبر سیون پکارا تھا ،مگر نمبر سیون کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی یقینا وہ ہم سے دور تھا۔ کنٹرول کی مختلف پارٹیوں کوپکارنے کی آواز فضا میں گونجتی رہی ۔
گفتگو جاری رہی وہ واکی ٹاکی سیٹ کی طرف متوجہ رہا اور پھر مٹھی میں ریت بھر کر اپنی صفائی کرنے لگا ۔پینٹ باندھتے وقت اس کی نظر غیر ارادی طور پر اسی جھاڑی کی طرف اٹھی رہی جہاں میں چھپا بیٹھا تھا ۔اور اس کی بدبختی کہ میں نے اسے چونکتے دیکھا ۔مسلسل اس جانب گھورنے پر اسے میری ہیئت نے چونکا دیا تھا ۔یوں بھی میں افراتفری میں چھپا تھا اس لیے جھاڑیاں وغیرہ اپنے اوپر نہیں ڈال سکا تھا ۔بیلٹ باندھے بغیر وہ زمین پر پڑے اپنے ہتھیارکی طرف متوجہ ہوا ۔اس کے ہتھیار سنبھالنے تک میں یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے ۔
”ٹھک “ کی آواز کے ساتھ اس کے سر میں روشن دان کھل گیا تھا ۔وہ نیچے گر کر تڑپنے لگا ۔میں جلدی سے جھاڑی سے باہر نکلا اور اس کی لاش کو گھسیٹ کر جھاڑی میں پھینک دیا ۔اس کا واکی ٹاکی سیٹ مجھے کارآمد لگا ۔واکی ٹاکی سیٹ مع اضافی بیٹری اٹھا کر میں نے پاس رکھ لیا اور پھر جھاڑیوں کی اوٹ میں رہتے ہوئے میں نے اس کے جانے والے ساتھیوں کی طرف نگاہ دوڑائی ،وہ فرلانگ بھر آگے نکل گئے تھے ۔دوربین نکال کر میں نے بیس کی طرف نگاہ دوڑائی ایک آدمی مجھے ٹہلتا ہوا نظر آیا ۔اس جگہ سے نالا عبور کرنے میں دیکھے جانے کا سخت خطرہ تھا ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر بیس کی طرف روانہ ہو گیا ۔واکی ٹاکی سیٹ کی آواز کم کر کے سیٹ میں نے آن رہنے دیا تھا ۔
جلد ہی سیٹ سے سریش کو پکار اجانے لگا ۔
”نمبر فائیو ،فار نِک نیم سریش اوور!....نمبر فائیو ،فار نِک نیم سریش اوور!........“وہ بار بار سریش کو پکار رہا تھا ۔پھر جیسے ہی اس نے وقفہ کیا، سیٹ سے ایک دوسری آواز بلند ہوئی ۔(ویسے زیادہ تر قارئین تو جانتے ہوں گے ،مگر جن کا کبھی وائرلیس سیٹ سے واسطہ نہیں پڑا ان کی اطلاع کے لیے بتلاتا جاوں کہ وائرلیس سیٹ پر جب ایک طرف سے بات ہو رہی ہو تو سننے والا بات نہیں کر سکتا ،یہاں تک کہ بولنے والے کو اوور کہہ کر اگلے کو موقع دینا ہوتا ہے ۔اس ضمن میں یہ بھی یاد رہے کہ کنٹرول اس کو کہتے ہیں جو کسی جگہ موجود تمام پارٹیوں کو کنٹرول کر رہا ہو اور وائرلیس پر پیغام بھیج رہا ہو )
”کنٹرول فار نمبر فائیو اوور !“
”یس نمبر فائیو فار کنٹرول اوور۔“وہ کنٹرول کو جواب دینے لگا ۔
”نمبر فائیو ،نک نیم سریش کہاں گیاہے اورجواب کیوں نہیں دے رہا ؟“
”وہ رفع حاجت کے لیے رکا تھا پندرہ بیس منٹ ہونے کو ہیں ،پتا نہیں کیوں جواب نہیں دے رہا ،میں نے اس کی تلاش میں آدمی بھیج دیا ہے اوور۔“
”اکیلا آدمی نہیں بھیجنا ،تمام کو واپس لے کے جاوہری اپ اینڈ جلدی سے اوکے رپورٹ بھیجو اوور!“کنٹرول سے بولنے والے کا لہجہ کافی سخت اور تنبیہی تھا ۔
”راجر !“نمبر فائیو جلدی سے بولا۔مگر کنٹرول کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تھا ۔
ان کی گفتگو سن کر میرے قدموں میں خود بہ خود تیزی آ گئی تھی ۔تھوڑی دیر بعد میں بیس کے نیچے سے ہو کر نالا عبور کر رہا تھا ،اس جگہ میں بیس سے بھی نظر نہیں آرہا تھا اور نالے میں موجود دشمن کی نظر سے بھی اوجھل تھا ۔
نالا عبور کر کے میں جونھی جھاڑیوں میں گھسا ،واکی ٹاکی ایک مرتبہ پھر بول پڑا ۔
”نمبر فائیو فا ر فار کنٹرول اوور !“اس کی آواز سخت گھبرائی ہوئی اور متوحش تھی ۔
”یس اوور۔“کنٹرول کی بھاری آواز ابھری ۔
”سریش قتل ہو گیا ہے اوور۔“نمبر فائیو گھبراہٹ آمیز لہجے میں بولاتھا۔
”ہری اپ، پوزیشن لے لو ،وہ یہیں کہیں چھپا ہے ،میں باقی پارٹیاں بھیج رہا ہوں ۔ جوانوں کو کہو ،آڑ میں رہیں اوور ۔“
”راجر ۔“نمبر فائیو نے کہا ۔
”کنٹرول فا رلالی سیکٹر بیس اوور !“کنٹرول یقینا اسی بیس کو رابطہ کر رہا تھا جہاں سے میں گزر کر آیا تھا۔
”بیس فار کنٹرول سینڈ یوور میسج اوور!“
”کیا اپنے آدمی تمھاری نظر میں ہیں اوور“
”یس ،مجھے نظر آ رہے ہیں اوور۔“
”کیا ان کے علاوہ کوئی حرکت نظر آ رہی ہے اوور؟“
”نو ،اب تک تو نظر نہیں آئی جیسے ہی نظر آئی میں آپ کو بتا دوں گا ۔اوور“
”اوور اینڈ آل۔“
کہہ کر کنٹرول تمام پارٹیوں کو سفید نالے کی طرف اکٹھا ہونے کی ہدایات جاری کر نے لگا۔
میں نے ان کی گفتگو کے اختتام پر واکی ٹاکی کو بند کردیا کیونکہ مسلسل چلنے پر بیٹری نے ختم ہو جانا تھا گو ایک اضافی بیٹری میرے پاس موجود تھی مگر پھر بھی عقل مندی کا تقاضا یہی تھا کہ میں واکی ٹاکی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیتا ۔ان کی گفتگو نے میرے قدموں میں بجلی بھر دی تھی میں جتنا جلدی وہاں سے غائب ہو جاتا، بہتر تھا ۔اگر ایک بار وہ جنگل کو گھیرے میں لے لیتے تو یقینا میں نے چوہے دان میں پھنس کر رہ جانا تھا ۔ بلکہ میرے ساتھ استاد صادق نے بھی مارا جانا تھا ۔ کلو میٹر بھر سفر طے کرنے کے بعد میں تھوڑا سا رکا ،سمال پیک سے نقشہ نکال کر میں نے اپنی سمت درست کی اور پھر چل پڑا۔
جلد ہی مجھے امدادی نشان نظر آ گیا۔یہ چیڑ کا ایک بلند درخت تھا جس کے تنے پر میں نے جاتے وقت مخصوص نشان لگایا تھا۔وہ درخت نظر آتے ہی میرے لیے رستے کی شناخت آسان ہو گئی تھی ۔ اس درخت سے دو سو قدم جنوب کی جانب ایک چھتری نما درخت جو ذرا سا مشرق کی جانب جھکا ہوا تھا ، نشانِ راہ تھا ۔چھتری نما درخت کے بعد چیڑ کا ایک ٹوٹا ہوا درخت اسی سیدھ میں موجود تھا ۔آسمانی بجلی گرنے کی وجہ وہ درخت نصف تنے سے کٹ گیا تھا ۔ایک نشان مل جانے کے بعد باقی نشان ملتے چلے گئے ۔ٹوٹے ہوئے تنے والے درخت سے آگے مجھے پندرہ بیس منٹ لگے اور اس کے بعد میں ٹھیک اس مقام تک پہنچ گیا تھا جہاں میں نے استاد صادق کو چھوڑا تھا ۔
جاری ہے







 

”استاد صادق!“میں نے ہر احتیاط بالائے طاق رکھ کر اسے آواز دی ۔میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔ورنہ اصولاََ تو مجھے وہاں بے دھڑک آنے سے گریز کرنا چاہیے تھا کیونکہ اگر استاد صادق خدانخواستہ کسی وجہ سے پکڑا گیا ہوتا تو یقینادشمن وہاں میری گھات میں بیٹھا ہوتا ۔
”میں یہاں ہوں ۔“مجھے استاد صادق کی آواز تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوئی تھی۔میں نے آواز کی سمت کا تعین کرتے ہوئے اس طرف نگاہ دوڑائی ۔
وہاں تین درخت آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ایک پھیلے ہوئے گھنّے درخت کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔اگر وہ مجھے آواز نہ دیتا تو میں اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ۔
”چلیں سر !....ہمیں فی الفور یہاں سے دور جانا ہو گا ۔“ان درختوں کے نیچے جا کر میں نے نظریں اٹھائیں مگر اس بار بھی مجھے گھنّی شاخوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا تھا ۔پھر شاخوں میں حرکت ہوئی اور استاد صادق کا چہرہ نظر آیا۔
”مشن کا کیا ہوا ؟“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔
”سر! الحمداللہ کامیاب لوٹا ہوں ،مگر اب تفصیلات بتانے کا وقت نہیں ہے ہمیں چلنا چاہیے ۔“
”ذیشان!مجھے لگتا ہے میرے پاو¿ں کی ہڈی کریک ہو گئی ہے ،پاو¿ں سوج گیا ہے ۔اس پاو¿ں کے ساتھ چلنا ایک خواب ہی ہو گا ۔“اس کی آواز میں گہرے تاسّف کی جھلک تھی ۔
”مگر سر !....تھوڑی دیر بعد یہ جنگل دشمن کے گھیرے میں ہوگا۔“
اس نے کہا ۔”میری مانو تو نکل جاو¿،کم از کم ایک کا زندہ لوٹنا دونوں کی شہادت سے بہت بہتر ہوگا۔“
”اگر میراسہارا لے کر چلنے کی کوشش کرو تو شاید ہم آہستہ آہستہ ........“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”یقینا وقت ضائع کر رہے ہو۔اب تک آپ کافی دور نکل گئے ہوتے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں اطمینان سے بولا۔”ویسے مجھے امید ہے کہ ان درختوں پر دو آدمیوں کے چھپنے کی گنجایش ہے۔“
”بے وقوف مت بنو ذیشان!“اس نے مجھے ڈانٹا۔
”اگر یہ بے وقوفی ہے تو میں بے وقوف بھلا ۔“میں رائفل کندھے سے لٹکا کردرمیان والے درخت پر چڑھنے لگا ۔
”جانتے بھی ہو ،ایک سنائپر تیار کرنے میں کتنی محنت اور پیسا خرچ ہوتا ہے اور اتنی محنت کے اور خرچ کے بعد بھی کسی شخص کا اچھا سنائپربننا یقینی نہیں ہوتا ۔“
میں نے اطمینان سے جواب دیا ۔”یہ بات مجھے یہاں بھیجنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھی ۔“
وہ زچ ہو کر بولا ۔”وہ مشن تھا ۔“
”اور یہ عبادت ہے ۔“میں ایک مضبوط شاخ منتخب کرکے چھپنے کے لیے مچان بنانے لگا۔
”ذیشان !آپ اچھا نہیں کر رہے ۔“
”استاد جی !....ایک بات کہوں۔“
”کہو۔“
”آپ اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہیں ؟“
”ہونہہ !....“وہ گہرا سانس لے کر خاموش ہو گیا ۔
”اچھاتفصیل نہیں سنو گے ۔“
”سنا دو یار !“وہ بے بسی سے بولا۔
اور میں اسے تفصیل سے اپنی کارروائی کے بارے بتانے لگا ۔اس دوران میرے ہاتھ کام سے غافل نہیں ہوئے تھے ۔ میری بات ختم ہوتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ تعریفی کلمے ادا ہوئے ۔
”شاباش ،آپ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس سے زیادہ کی توقع ایک منجھے ہوئے سنائپر سے بھی نہیں کی جاسکتی ۔ “
”لیکن اب کیا کریں گے ؟“میں مستفسر ہوا ۔
”میںاپنی رائے کا اظہار کر چکاہوں ۔“
”اسے رائے کا اظہار نہیں لٹھ مارنا کہتے ہیں ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”تو سمجھ لو اب ہم لٹھ مارنے ”جو گے“ ہی رہ گئے ہیں۔“
”اچھا یہ دیکھو ۔“میں نے واکی ٹاکی نکال کر اسے دکھایا ۔
”یہ آخری مقتول سے چھینا ہے نا ؟“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”جی۔“
”ویسے اسے مار کر آپ نے دشمن کے لیے سہولت پیدا کر دی ہے۔“اس نے تاسف بھرے انداز میںکہا۔
”استاد جی !....میں مجبور تھا ،ورنہ اتنی سمجھ تو مجھے بھی ہے کہ ایسا کر کے میں نے دشمن کی تلاش کوایک متعین رخ مہیّا کر دیا ہے ۔“
”اب ان کی ساری توانائیاں اس جنگل کو گھیرنے میں صرف ہوں گی ۔“
”ہاں ،میں نے ان کی گفتگووائرلیس پر سنی ہے ۔وہ جنگل کو گھیرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔“
”اچھا اب اسے آن کرو،تاکہ چل سکے کے کہ ہم کب تک ان کے ہتھے چڑھنے والے ہیں۔“
”یہ بد شگونی کی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں ۔“کہتے ہوئے میں نے واکی ٹاکی آن کر دیا ، مگر دشمن کے کسی آدمی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔
چند لمحے تک خالی ”شائیں شائیں “سننے کے بعد استاد صادق بولا ۔
”غالباََ انھیں واکی ٹاکی کے غائب ہونے کا پتا چل گیا ہے اور انھوں نے فریکونسی تبدیل کر دی ہے۔“مگر اسی وقت واکی ٹاکی سے ابھرتی کنٹرول کی آواز نے استاد کامرا ن کے اندیشے کو جھٹلا دیا تھا ۔
وہ کال سائن نمبر فائیو اور نمبر سکس سے ان کی لوکیشن کے بارے پوچھ رہا تھا ۔پتا چلا کہ وہ دونوں گروپ جنگل کی مغربی طرف سفید نالے میں پوزیشن لے چکے تھے ۔
جنوبی سمت قریباََ آٹھ دس کلومیٹر دو رایک اور گروپ پہنچ گیا تھا جو اگلے مورچوں سے ایک ایک دو دو آدمی اکٹھے کر کے جمع کیا گیا تھا ۔اس گروپ کے ساتھ کنٹرول کا رابطہ کسی بڑے وائرلیس سیٹ پر تھا ،کیونکہ وہ لوگ واکی ٹاکی کی رینج سے دور تھے ۔ان کی بابت شمالی اور مغربی اطراف میں موجود پارٹیوں کو کنٹرول نے آگاہ کیا تھا ۔کنٹرول بار بار انھیں احتیاط سے حرکت کرنے کی تلقین کر رہا تھا کیونکہ وہ ایک سنائپر کے خلاف گھیرا تنگ کر رہے تھے ۔ایک ایسا سنائپر جو ان کے نو بندوں کو ہلاک کر چکا تھا ۔
”بس اب بند کر دو ۔“استاد صادق نے مجھے واکی ٹاکی بند کرنے کا اشارہ کیا ۔”تھوڑی دیر بعد صورت حال معلوم کریں گے ،مسلسل آن حالت میں رہنے پر بیٹری جلد ختم ہو جائے گی ۔“
”اس کی ایک اضافی بیٹری بھی ساتھ لایا ہوں ۔“میں نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ،مگر واکی ٹاکی آف کرنا میں نہیں بھولا تھا ۔
”ہونہہ !“کہہ کر اس نے کسی بھی قسم کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا تھا ۔
سورج کافی دیر ہوئی پہاڑوں میں غائب ہو چکاتھا ۔اب اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا ۔
”شاید وہ رات کو جنگل میں گھسنے کی کوشش نہ کریں۔“میں نے اندازہ لگایا۔
”حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔اگر ان گھیراو مکمل ہوچکا ہے تو وہ صبح تک کارروائی کو موخّر کر سکتے ہیں ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری رات انتظار کرنے میں ان کا نقصان ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”وہ کیسے ؟“
”ظاہر ہے ہماراجنگل میں چھپا ہونا ایک اندازہ ہی تو ہے اور اندازوںکا غلط ہوناحیران کن نہیں ہوتا۔“
”آپ کے پاس پانی موجود ہے یا ختم ہو گیا ہے ؟“میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا ۔
”تھوڑا سا ہو گا ،چاہیے کیا ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”میری واٹر بوتل بھری ہوئی ہے ۔“
”پانی کے استعمال میں احتیاط برتنی پڑے گی ،نا معلوم کب تک چھپنا پڑے ۔“
”چشمے کی جگہ مجھے معلوم ہے ،مگر فاصلہ زیادہ ہے ۔“میں نے انکشاف کیا ۔
”چشمے تو یہاں بھی موجود ہو سکتے ہیں ۔البتہ انھیں ڈھونڈنا مشکل ہو گا ۔“
”اگر نقشے میں موجود ہوئے پھر تو ان کی تلاش آسان ہو گی ۔“
”یہ عارضی اور چھوٹے چشمے ہیں ،یہ نقشے پر ظاہر نہیں کیے جاتے ۔“
”کچھ کھانے کا موڈ ہے ۔“
”ہونہہ!....“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کچھ، تو یوں کہہ رہے ہو جیسے دسیوں کھانے یہاں موجود ہیں ۔“
میں کھسیا کر بولا۔”سر !....کچھ نہ کچھ تو موجود ہے نا ۔“
”اچھا فی الحال گفتگو سے پر ہیز کرو ۔نائیٹ ویژن سائیٹ سے چاروں جانب کے علاقے کو یہیں بیٹھے بیٹھے دیکھ لو ۔کیا پتا دشمن پیش قدمی کر رہا ہو۔“
”نائیٹ ویژن سائیٹ کی کیا ضرورت ہے ،میرے پاس وائرلیس سیٹ جو موجود ہے۔“ میں نے واکی ٹاکی آن کر لیا ۔
چند لمحوں کی شاں شاں کے بعد ایک آواز ابھری ۔
”کنٹرول فار آل اسٹیشن!....اوکے رپورٹ دیں گے،نمبر فائیو ....“
نمبر فائیو نے الفا بٹ کی زبان میں جواب دیا ۔”آسکر کلو(اوکے )!“
”نمبرسکس ....“کنٹرول نے اگلا کال سائن پکارا۔
”نمبر سکس،آسکر کلو ۔“نمبر سکس نے جواب دیا ۔
وہ فرداََ فرداََ تمام پارٹیوں کو پکارتا گیا اور متعلقہ پارٹی لیڈر جواب دیتا گیا ۔سب اچھا کی رپورٹ لے کر اس تمام نے پارٹیوں کو اگلے حکم کے انتظارکا مژدہ سنایا۔یقینا اس نے پارٹیوں کو آگے بڑھنے یا اپنی جگہ پر رات گزرنے کا انتظار کرنے کی بابت حکم سنانا تھا۔میں بھی واکی ٹاکی بند کیے بغیر محو انتظار رہا ۔دس پندرہ منٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر تمام پارٹیوں کو اپنی جگہ پر ٹھہرے رہ کر صبح سویرے تک پیش قدمی کی کارروائی موخّر کرنے کا حکم سنا دیا گیا ۔
میں نے واکی ٹاکی بند کرتے ہوئے کہا ۔”مطلب وہ ڈر گئے ہیں ۔“
”نہیں یار !....ایک سنائپر کو رات کے وقت اس جنگل میں ڈھونڈنا ،یقینا بھوسے کے ڈھیر میںسے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے ۔انھوں نے جنگل کو تقریباََ گھیرے میں لے لیاہے ،کل دن کی روشنی میں اطمینان سے اپنا شکار ڈھونڈ لیں گے ۔“
”اگر آپ ٹھیک ہوتے تو کیا ہم یہیں بیٹھے ان کا انتظار کرتے رہتے۔“
”تو کہاں جاتے ؟“
”اس جنگل سے نکل بھاگتے ،وہ جتنی بھی کوشش کر لیں چپے چپے پر اپنے آدمی تعینات نہیں کر سکتے ۔ان کے گھیرے میں کئی شگاف ہوں گے ۔“
”ذیشان !....آتے وقت دشمن کی بے خبری میں ان رستوں سے گزرنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔ ہم نے نقشے کو بھی بس سرسری انداز میں دیکھا تھا ۔آج دن کومیں بڑی باریکی سے علاقے کا نقشہ کھنگال چکا ہوں ۔ اس جنگل کے مشرقی طرف جو پہاڑی سلسلہ ہے ،جنگل کی جانب سے سارا سلسلہ سیدھی کھڑی چٹانوں پر مشتمل ہے جنھیں نقشے کی زبان میں اسکارپمنٹ کہتے ہیں ۔اور ایسی چڑھائیاں کوئی کوہ پیما ہی سر کر سکتا ہے ۔مغربی جانب ان کے کسی سیکٹر کا بیس ہے ،غالباََآپ جسے لالی سیکٹر بتلا رہے تھے ،اور اسی پہاڑی سلسلے پر ان کی دو اور پوسٹیں بھی موجود ہیں،سادہ الفاظ میں کہوں تو اس جانب سے اس وقت بھاگ نکلنا جب کہ پوسٹوں کے سنتری چوکنا ہوں نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے ۔ شمال کی جانب تنگ درے کی روڈ اور سفید نالا ہے ،یہ دونوں رستے کھلی کتاب کی مانند ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ رستا دشمن کے علاقے کی طرف جاتا ہے۔کوئی بے وقوف ہی اس سمت نکلنے کی کوشش کرے گا ۔اب رہ گئی جنوب کی سمت ،تو اس جانب چپے چپے کی نگرانی کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔“
”سر!.... آپ مجھے خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔“
”نہیں ،بس صورت حال کا صحیح تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔“
”اچھا چھوڑیں سر!....پیٹ پوجا کرتے ہیں ۔“میں نے سمال پیک سے بھنے ہوئے چنے کے بِسکٹ نکال کر کھانا شروع کر دیے۔یہ غذائیت سے بھرپوربِسکٹ تھے ۔چند بِسکٹ ہی آدمی کو چوبیس گھنٹے کی توانائی مہیا کر دیتے تھے ۔یہی بِسکٹ استاد صادق کے پاس بھی موجود تھے ۔میری ترغیب پراس نے بھی بِسکٹ چبانے شروع کر دیے ۔
اس نے بِسکٹ کھا کرکہا ۔”پانی مجھے بھی پلانا ۔“
”یہ لیں پہلے آپ پی لیں ۔“میں نے اپنی جگہ سے سرک کر واٹر پائپ اس کی جانب بڑھا دیا۔
”بہت میٹھا پانی ہے اس چشمے کا ۔“سیر ہو کر پانی پینے کے بعد اس نے واٹر پائپ میری جانب بڑھا دیا ۔
”واقعی سر !....بہت عمدہ پانی ہے ۔“
”اچھا اب آرام کر لو،کیونکہ صبح ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سو سکیں گے ۔“
”ٹھیک ہے ،مگر پہلے آپ کا پاو¿ں دیکھ لوں۔“میں استاد صادق کی طرف بڑھ گیا ۔واقعی اس کا پاو¿ں کافی سوجاہوا تھا ۔سوجن پنڈلی تک پھیل گئی تھی ۔اس کا علاج کسی ہسپتال ہی میں ممکن تھا ۔
میںنے اپنی جگہ واپس آ کر آنکھیں بند کر لیں ۔میرے اعصاب جتنے بھی مضبوط ہوتے میرا پہلا مشن تھا ۔اور ایسے حالات سے پہلی بار میرا واسطہ پڑ رہا تھا ۔گزشتا رات کی طرح، مجھے اس رات بھی بس واجبی سی نیند آئی ۔بار بار آنکھ کھل جاتی ۔چند بار میں نے واکی ٹاکی آن کر کے دشمن کو بھی سننے کی کوشش کی۔ بس ایک مرتبہ انھیں سب اچھا دیتے ہوئے سنا اس کے علاوہ خاموشی چھائی رہی ۔
٭٭٭
صبح صادق کے وقت مجھے استاد صادق کی آواز سنائی دی ۔
”ذیشان !....سو رہے ہو۔“
”کوشش تو رات بھر رہی ہے ،مگر کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ۔“
”اچھا اپنی ضروریات سے فارغ ہو جاو¿ ،کیونکہ دن بھر موقع نہیں ملے گا ۔“
”ٹھیک ہے سر!....مگر آپ ....“
”یقینامیرے لیے نیچے اترنا ممکن نہیں ہو گا ۔“
”تو....؟“
”تو یہ کہ میرے پاس اس مقصد کے لیے شاپر موجود ہے ۔بس آپ کو تھوڑی زحمت کرنا پڑے گی ۔“
”بڑی خوشی سے ۔“کہہ کر میں نیچے اتر گیا ۔نیچے اترنے سے پہلے میں نے اپنا سمال پیک اور رائفل وہیں مچان پر چھوڑ دی تھی۔تھوڑی دور جا کر میں نے فطری تقاضا پورا کیا اور فضلہ جات کو بڑی احتیاط سے زمین میں دبا دیا کیونکہ اس سے دشمن کو ہماری موجودی کایقین ہوجاتا اور یہ یقین ان کی کوششوں کو تقویت دینے کے ساتھ انھیں مزید چوکنا اور محتاط کر دیتا ۔واپس جا کر میں نے استاد صادق کے شاپر میںبند فضلہ جات کو بھی ٹھکانے لگایا اور پھر درخت پر چڑھ کرخود کو مچان میں چھپانے لگا۔
”چھپنے سے پہلے مجھے تھوڑا پانی دے دینا ۔بعد میں یقینا ہمیں حرکت کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ “
”جی سر !....“کہہ کر میں نے سمال پیک سے واٹر بوتل نکالی اوراستاد صادق سے واٹر بوتل لے کر آدھا پانی اس میں منتقل کر دیا ۔
خود کو کیمو فلاج کرکے میں نے واکی ٹاکی آن کر لیا ۔پارٹیوں کو پیش قدمی کرنے کا حکم دیاجا رہا تھا ۔”آگے بڑھیں....لیکن احتیاط سے ،فائر کرنے سے پہلے یہ بات مد نظر رہے کہ چاروں طرف آپ کے اپنے ساتھی موجود ہیں ۔کوشش یہی کرنا کہ دشمن زندہ ہاتھ لگے ۔“
میں ان کی باتیں سننے لگا۔مگر استاد صادق نے زیادہ دیر مجھے واکی ٹاکی آن نہ رکھنے دیا ۔
”ذیشان !....بس وائرلیس سیٹ آف کر دو ،اس کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے ۔“
”جی سر !“کہہ کر میں نے واکی ٹاکی آف کر دیا ۔ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد دشمن کے چند سپاہی ہمارے قریب سے گزرتے چلے گئے۔ وہ آہستہ قدموں سے دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے وہاں سے گزرے تھے ۔گاہے گاہے وہ درختوں کے اوپر بھی نظر ڈال لیتے تھے ۔مجھے ان کے انداز میں خوف کی جھلک نظر آئی ،بلاشبہ وہ اندھی گولی کا شکار ہونے سے خوف زدہ تھے ۔شام تک وہ وہیں گھوتے رہے۔ مختلف اطراف سے فائرنگ کی آواز بھی سنائی دیتی رہی ۔رات کو بھی پارٹیوں نے جنگل میں ڈیرا ڈالا،مگر ہماری مچان کے قریب کوئی پارٹی نہیں ٹھہری تھی ۔اندھیرا گہرا ہوتے ہی میں نے پہلے تو شبِ دید عینک لگا کر چاروں جانب کسی دشمن کے نہ ہونے کا یقین کیا ۔اور پھر واکی ٹاکی کی آواز کم کر کے آن کر لیا ۔
ان کی باتوں سے پتا چلا کہ ہر پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ایک گروپ کا کام جنگل میں گھس کر تلاشی لینا اور دوسرے گروپ کا کام جنگل کا گھیراو¿ کرنا تھا ۔اس لیے گھیرا ڈالنے والی پارٹیاں کل سے اپنی اپنی جگہ موجود تھیں اور تلاشی کے لیے مختلف پارٹیاں تین اطراف سے جنگل میں داخل ہو چکی تھیں، بلکہ اندھیرا چھا جانے کے بعد بھی جنگل ہی میں تھیں ۔البتہ اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے پارٹیوں کو اپنی اپنی جگہ پڑاو ڈالنے کا حکم دے دیا گیا تھا ۔
”میرے پاس پانی ختم ہو گیا ہے ۔“میں نے گفتگو کی ابتدا ہی مایوسی بھری خبر سے کی ۔
استاد صادق نے مسکرا کر کہا ۔”یہی خبر میرے پاس بھی ہے ۔“
”مطلب ،اپنی آزمائش شروع ہو گئی ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”سنائپر کی ساری زندگی ہی آزمائشوں میں گھری ہوتی ہے ۔“
”ویسے پانی کے بغیر انسان کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے ؟“
”کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے ۔اس کا انحصار تو انسان کی جسمانی حالت، ارادے ،اللہ پاک کی ذات پر اعتماد اور واپس لوٹنے کی امید پر ہوتا ہے ۔ویسے سنایہی ہے کہ پانی کے بغیر لوگ مہینا بھر بھی زندہ رہے ہیں۔“یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر مسکراتا ہوا بولا۔”بہ ہرحال یہاں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔درختوں کے سبز پتے پانی اور خوراک دونوں کی کمی کوپورا کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں ۔“
میں دبی آواز میں ہنستے ہوئے کہا ۔”ویسے سر !....آپ پہلے بھی مختلف مشن پر سرحد پار آ چکے ہیں ،کیا کبھی ایسی صورت حال سے واسطہ پڑا؟“
وہ گہری سوچ میں ڈوبتا ہوا بولا۔”میںپہلے مشن میں کامیابی کے قریب پہنچ گیا تھا ،مگرمجھے اپنے استاد نے دھوکا دے دیا ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”استا دنے دھوکا دے دیا ؟“
”ہاں ذیشان !....استاد ہاشم میرے ساتھ سینئر تھا ۔ہم دونوں ایک ہی جھاڑی میں چھپے ہدف کی آمد کے منتظر تھے ۔ہدف کے نظر آتے ہی استاد کے حکم پر میں نے گولی چلائی جو ہدف کے ماتھے پر لگی تھی ۔ دشمن کی تعداد کافی زیادہ تھی ۔اور ہماری بدقسمتی کہ دشمن کو ہماری جگہ کے بارے اندازہ ہو گیا تھا ۔ استاد ہاشم نے مجھے وہاں سے فرار ہونے کا کہااور میری سنائپر رائفل مجھ سے یہ کہہ کرلے لی،کہ اس کی رائفل فائر کے قابل نہیں رہی تھی ۔اپنی رائفل اس نے مجھے پکڑا دی تھی۔
”استاد جی !....آپ بھی چلیں نا ۔“میرے لہجے میں ناتجربہ کاری بول رہی تھی ۔ورنہ وہاں سے دونوں آدمیوں کا ایک ساتھ بھاگنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔پر یہ بات استاد ہاشم کو اچھی طرح معلوم تھی ۔اس نے کہا ۔
”آپ سیدھے وہاں پہنچیںجہاں ہم نے گزشتا شب گزاری تھی ۔وہاں سے پہلے رکنے کی کوشش نہ کرنا ۔اور میری فکر بھی نہ کرنا میں مرنے والا نہیں ۔مجھے ایک دوسرا رستا معلوم ہے ۔“
مجھے متذبذب دیکھ کر اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”وعدہ کرتا ہوں زندہ رہوں گا ۔اور یہ بھی اپنے پاس رکھو میں آ کر لے لوں گا ۔کم از کم یہ وزن توآپ ساتھ لے جائیں،تاکہ مجھے بھاگنے میں آسانی رہے ۔“اس نے اپنا پستول مع فالتو میگزین کے اور اپنی واٹر بوتل بھی میرے حوالے کر دی ۔
” استاد جی !....“میں نے تکرار کرنا چاہی مگراس نے قطع کلامی کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک لپٹا ہوا کاغذ نکال کرمیری جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔” اگر مجھے تھوڑی دیر ہو جائے تو اس رستے پر چل پڑنا یہ بالکل آسان اور محفوظ رستا ہے ۔اب بھاگوورنہ میں صحیح طور پر دشمن کو نہیں روک پاو¿ں گا۔“اس کی تنبیہ سے پہلے دشمن کی جانب سے فائر کے دو تین برسٹ آئے اور میں پیچھے کوکھسک گیا ۔ اسی وقت ہلکی سی ”ٹھک “ میری سماعتوں سے ٹکرائی اور مجھے پتا چل گیا کہ دشمن اپنے ایک آدمی سے محروم ہو گیا ہے۔
گھنی جھاڑیوں کا سلسلہ اتنا طویل نہیں تھا ،مگران جھاڑیوں کی آڑ لے کرفرار ہوا جا سکتا تھا ۔ جھاڑیوں کے اختتام پر ڈھلان تھی وہاں پہنچ کر بندہ یوں بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔لیکن یہ سب اس وقت ممکن تھا جب دشمن کو ہماری جگہ کے بارے میں پتا نہ ہو تا۔اب تو دشمن اس جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ اور یقینا ہمارا تعاقب کر کے وہ آسانی سے ہمیں رستے ہی میں دھر لیتے۔البتہ اگر ایک آدمی ان کے ساتھ فائر کا تبادلہ کرتا رہتا تو دوسرا آسانی کے ساتھ فرار ہو سکتا تھا ۔یہی سوچ کر استاد ہاشم نے مجھے بھگا دیا تھا ۔
رستے میں یہ سوچ میرے دماغ میں سرگرداں رہی کہ استاد ہاشم وہاں سے کیسے بھاگے گا، کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا تھا اور اس نے بڑے اعتماد سے کہا تھا کہ اسے ایک دوسرا رستا معلوم ہے ۔ اور مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ زندہ رہے گا ۔
جھاڑیوں کا علاقہ میں نے جھک کر دوڑتے ہوئے طے کیا تھا مگر ڈھلان سے اترتے ہی میں سیدھا کھڑا ہو کر بھاگ پڑا۔اس نشیب میں میں اندھا دھند ہونے والے فائر سے محفوظ تھا ۔گزشتا رات کی پناہ گاہ تک میں بغیر رکے بھاگتا چلا گیا ۔وہ جگہ کارروائی کے علاقے سے قریباََ تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھی ۔تمام رستے میرے کانوں میں مسلسل فائرنگ کی آواز گونجتی رہی تھی اس کا مطلب یہی تھا کہ استاد ہاشم مقابلے پر ڈٹا ہوا ہے ،مگرجب میں اپنی پناہ گاہ سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر پہنچا تو ایک دم فائرنگ کا سلسلہ موقوف ہو گیا ۔میں جھاڑیوں میں چھپی چھوٹی سے کھوہ میں گھس کر استاد ہاشم کا انتظار کرنے لگا ۔ نامعلوم کیوں میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔میری پریشان سوچوں میں مختلف خیالات سرگرداں تھے ۔”استاد ہاشم وہاں سے کیسے فرار ہو گا،دشمن کو کیسے چکما دے گا، کہیں دشمن اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس ٹھکانے تک تو نہیں پہنچ جائے گا ؟اور کیا مجھے وہیں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنا چاہیے یا چھپنے کے لیے جگہ تبدیل کر لینی چاہیے ۔“
اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ کہیں ایسانہ ہو استاد ہاشم کو فرار کا جو رستا معلوم ہے وہ کسی اور سمت کو جاتا ہو ۔اور اسی لیے تو استاد نے مجھے رستے کا نقشہ دیا تھا ۔میں نے جیب سے استاد کا دیا ہوا کاغذ نکال کر کھولااور میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔اس کاغذ میں سنائپر رائفل کی فائرنگ پن لپٹی ہوئی تھی ۔استاد ہاشم نے سچ کہا تھا کہ اس کی رائفل فائر کے قابل نہیں ہے ۔یہ علاحدہ بات کہ وہ خرابی اس کے اپنے ہاتھوں کی پیدا کی ہوئی تھی ۔رائفل کی فائرنگ پن کاغذ میں بند کر کے اس نے مجھے واضح اشارہ دیا تھا کہ مجھے اس کی غلط بیانی کے بارے معلوم ہو جائے اورمیں یقین کر لوں کہ وہ اپنے ملک پر قربان ہو گیا ہے ۔ لیکن اس طرح کہ اپنے زیرِ کمان کی جان کو بچا گیا تھا۔اس وقت مجھ پر خود بہ خود اس کی آخری گفتگو کی گتھیاں کھلتی چلی گئیں ۔
اس نے اپنی رائفل یہ کہہ میرے حوالے کی تھی کہ رائفل خراب ہے لیکن اس کے ساتھ اس خرابی کا علاج بھی میرے حوالے کر دیا تھا۔اور یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ ہر سنائپرریٹائرہوتے وقت اپنی رائفل اپنے جانشین کے حوالے کرتا ہے۔اس نے بھی یہی کیا مگر مجھے شک بھی نہیں ہونے دیا ۔پھر اس نے کہا تھا کہ”مجھے دوسرا رستا معلوم ہے ۔“اور وہ دوسرا رستا ایک ایسی سمت کو جاتا تھا جہاں سے لوٹنا ممکن نہیں ۔اور پھر اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مرے گا نہیں ۔اور یقینا شہید مرا نہیں کرتے۔ہاں ذیشان وہ آج بھی زندہ ہے ۔مجھے اپنے ارد گرد محسوس ہوتا ہے ۔اس کی شہادت کے بعد دشمن کو خود بہ خود یقین آ گیا تھا کہ وہ بدلا لے چکے ہیں ،مگر یہاں بھی استاد چال چل گیا تھا ۔اس نے میرے ہاتھ سے دشمن کا خاتمہ کرایا تھا اور میں محفوظ تھا ۔یہاں بھی دشمن کو شکست ہوئی تھی ۔مجھے شدت سے رونا آیا اور میں اس دھوکے باز کو یاد کر کے رو پڑا ۔وہ مجھ سے اچھا نشانے باز تھا ۔اس کا تجربہ بہت زیادہ تھا ۔جانے کیوں اس نے ایک بہترین نشانے باز کو ایک نئے اور نا تجربہ کار سنائپر کے لیے قربان کر دیا تھا ۔ یقینا میں اسے اکیلا چھوڑ کر کبھی نہ جاتااگر وہ مجھے دھوکے میں نہ رکھتا۔اس نے کوئی جھوٹ نہیں بولا مگر مجھے دھوکا ضرور دیا تھا ۔آج تک اس دھوکے باز کو نہیں بھلا سکا ہوں یار!“استاد صادق کی آواز میں شامل دکھ میری آنکھیں بھی بھگو گیا تھا ۔ میں بس خاموش بیٹھااس کے محترم استاد کے متعلق سوچتا رہا ۔
کچھ باتیں ایسی تھیں کہ استاد صادق نے مجھے نہیں بتائی تھیں مگر مجھے خود بہ خود ان کا اندازہ ہو گیا تھا ۔استاد ہاشم نے اپنی واٹر بوتل اور پستول یہ کہہ کر استاد صادق کے حوالے کیے تھے ۔کہ یہ وزنی ہیں۔ مگر اصل وجہ اور تھی ۔وہ اپنے حصے کا پانی اپنے شاگرد کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح پستول اور اس کے اضافی راو¿نڈ بھی رستے میںاستاد صادق کے کام آ سکتے تھے ۔رات کو سوتے ہوئے بھی میری سوچ میں استاد ہاشم اپنے ان دیکھے خد و خال کے ساتھ سرگرداں رہا ۔
٭٭٭
صبح صادق کو اٹھ کر ہم نے اپنی فطری ضروریات کو پورا کیا ۔آج میں ان درختوں سے زیادہ دور نہیں گیا تھا ۔ملگجا اجالا ہونے سے پہلے ہم کیمو فلاج ہو کر بیٹھ گئے تھے ۔پوری رات ہم نے پانی پیے بغیر گزاری تھی صبح دم اچھی خاصی پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔پہلی روشنی کے ساتھ دشمن کی چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔میں نے دوپہر کے وقت خوب احتیاط سے اطراف کا جائزہ لے کر واکی ٹاکی سیٹ آن کیا مگر اس کی بیٹر ی ڈاو¿ن ہو گئی تھی ۔میں نے اضافی بیٹری لگا کر واکی ٹاکی آن کیااور دشمن کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگا ۔واکی ٹاکی کی آواز کومدہم کر کے میں نے کان سے لگا لیا تھا۔
چند لمحوں بعد ان کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔زیادہ تر پارٹیاں کھڑی چٹانوں کے سلسلے کے نیچے موجود گھنی جھاڑیوں میں مجھے تلاش کر رہے تھے ۔(میں نے مجھے اس لیے استعمال کیا کہ ان کی نظر میں یہ کارروائی کرنے والا میں اکیلا تھا۔اور اگر بہ نظر انصاف دیکھا جاتا تو ان کا مجرم میں ہی تھا)
تھوڑی دیر ان کی باتیں سننے کے بعد میں نے واکی ٹاکی آف کر دیا ۔
استاد صادق نے پوچھا۔”کیا کہہ رہے ہیں ؟“
”میری تلاش جاری ہے ۔“
استاد صادق نے اپنی رائے دی ۔”شاید ہفتہ بھر جاری رہے ۔“
میں ہنسا۔”مطلب ،ہفتہ بھر سبز پتوں پر گزارا کرنا پڑے گا۔“
”اگر کوشش کرو تو پانی لا سکتے ہو ۔“
”کیسے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”چشمے کی جگہ آپ کو معلوم ہے ،اور ایک سنائپر کس طرح چھپ کر حرکت کرتا ہے یہ جاننے کی ضرورت شایدآپ کو نہ ہو۔“
”مگر آپ کو اکیلا چھوڑ کر میں کیسے جا سکتا ہوں ؟“
”اگر آپ زخمی ہوتے تو یقینا میں چلا جاتا مگر اب یہ خطرہ آپ ہی کومول لینا پڑے گا ۔“
میں خفّت بھرے لہجے میں بولا ۔”سر !آپ بات کو کوئی اوررخ دے رہے ہیں ۔میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔“
”نہیں ذیشان!....پانی لانے میں واقعی بہت زیادہ خطرہ ہے مگر اس کے بغیر چارہ بھی تو کوئی نہیں ۔“
”مجھے کس وقت نکلنا چاہیے ؟“میں استاد صادق کے دل میں کوئی غلط فہمی پلتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
”دشمن رات کے وقت زیادہ چوکنا ہوتا ہے ۔اور گھیرا ڈالنے والی پارٹیوں کے پاس لازماََ تھرمل نائیٹ سائیٹ ہو گی اور یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس میں حرارت خارج کرنے والی اشیا ءبہت جلد نظر آ جاتی ہیںاور ہر جاندار شیے حرارت خارج کرتی ہے ۔“ (قارئین کی معلومات کے لیے لکھتا چلوں کہ نائیٹ ویژن سائیٹ کی اب تک تین اقسام آچکی ہیں ۔پہلی قسم انفرا ریڈ کے اصول پر کام کرتی تھی۔اس کا دکھاو¿ بہت محدود تھا ۔آج کل اس کا استعمال متروک ہو چکا ہے ۔دوسری قسم اس سے بہتر ہے اور روشنی کے اصول پر کام کرتی ہے ۔ یعنی چاندستاروں کی روشنی کو بڑھا کر دکھاتی ہے ۔اور تیسری جو سب سے بہتر ہے ”تھرمل امیجنگ “وہ حرارت کے اصول پر کام کرتی ہے ۔)
”یعنی مجھے ابھی روانہ ہو جانا چاہیے ۔“میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر سے کپڑا ہٹا کر وقت دیکھا ۔دن کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔
”بالکل !....گھیرا ڈالنے والی پارٹیاں دن کو اتنی چوکنی نہیں ہوں گی ۔اورمجھے امیدہے شمال کی جانب سے آپ باآسانی سے نکل سکتے ہیں ۔ان کا زیادہ دھیان مشرقی اور جنوبی سمت میں ہو گا ۔“
”لیکن تلاشی لینے والی پارٹیاں تو چوکنا ہوں گی نا ؟“میں نے ایک اہم نقطے کی جانب اس کی توجہ مبذول کرائی ۔
”تو پھر ؟“وہ مستفسر ہوا ۔
”پھر ایسا ہے کہ صبح صادق کے وقت نکلنا بہتر رہے گا ، اس وقت پہرے دار عموماََ سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔“
”گڈ ۔“اس نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔
”یعنی آپ مجھ سے متفق ہیں ۔“
”سو فی صد۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”تو ابھی جانے کے حق میں کیوں دلائل دے رہے تھے۔“
”بس آپ کو جانچنا تھا ۔“
”شکر ہے کہ میں آپ کے معیار پر پورا اتر ا۔“
”استاد کا کام ہر پل شاگردکو جانچتے رہنا ہوتا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”ویسے دورانِ ٹریننگ بھی آپ نے ہمیں کافی خوار کیا تھا ۔“
”ہماری وہی سختی آج آپ کوان حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیے ہوئے ہے ۔“
میں نے کہا۔”صحیح کہا سر !“مگر استاد صادق نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔منصوبہ طے ہو گیا تھا ۔بس عمل کرنا باقی تھا ۔
پیاس کی وجہ سے کچھ کھانے کو بھی جی نہیں چاہ رہا تھا ۔شام کے وقت میں نے ایک بار پھر دشمن کی باتیں سنیں ،انھیں اکٹھا ہونے کا حکم دیا جا رہا تھا ۔
میںرات کو کوشش کے باوجود بہت تھوڑی نیند لے سکا تھا ۔پیاس کی زیادتی اور پھر آنے والے جاں گسل لمحات کے خیال نے مجھے بے چین رکھا تھا ۔سواتین بجے کے قریب مجھے استا دصادق نے آواز دی۔
”ذیشان۔“
”میں تیار ہوں سر !“میں چابک دستی سے بولا۔اور درخت سے نیچے اتر گیا ۔اس سے پہلے میں اطراف کا جائزہ لینا نہیں بھولا تھا ۔گو ہم نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا، کیونکہ پانی کی غیر موجودی میں خشک بِسکٹ کھانا پیاس کو بڑھانے کا موجب ہی بنتا۔ اوردرختوں کے پتے اس لیے نہیں چبائے تھے کہ ابھی تک ہماری پیاس برداشت سے باہر نہیں ہوئی تھی ۔ پھر بھی تھوڑی بہت حاجت محسوس ہو رہی تھی۔“
فریش ہونے کے بعد میں جانے کے لیے تیار تھا ۔استاد صادق نے میری جانب میرا سمال پیک بڑھاتے ہوئے کہا۔
”میں نے اپنی واٹر بوتل بھی تمھارے پیک میں ڈال دی ہے تاکہ زیادہ پانی لا سکو ۔“
”ٹھیک ہے سر ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”طلوع آفتاب سے پہلے پہلے گھیرے سے نکل جانا،ورنہ پھنسنے کا خطرہ بڑھ جائے گا ۔“ استاد صادق نے مجھے آخری نصیحت کی ۔
اور میں نے ”فی امان اللہ سر !“کہہ کر اپنی رائفل کندھے سے لٹکالی ۔گلاک نائنٹین پسٹل میں نے ہاتھ میں تھام لیا تھا ۔کیونکہ سنائپر رائفل کو اسالٹ رائفل کے طور پر استعمال کرنا بے وقوفی ہے ۔ حرکت کرتے ہوئے اچھی ساخت کا پستول سنائپر رائفل سے کئی گنا زیادہ کارکردگی دکھا سکتا ہے ۔
آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر میں نے قطبی ستارے کو ڈھونڈااور پھر بازو لمبا کر کے قطبی ستارے سے ڈگری لینے لگا ۔میں نے قطبی ستارے سے بارہ ڈگری دائیں سفر کرنا تھا ۔ایک سنائپر کے لیے کمپاس کے ساتھ ستاروں کے استعمال سے واقفیت بھی نہایت ضروری ہے ۔(کچھ قارئین کے لیے کمپاس کا استعمال اور ڈگریوں وغیرہ کا کھٹ راگ یقینا ایک نئی چیز ہو گا ۔اگر ڈگریوں کی بابت بتانے کے لیے عام فہم انداز میں بات کی جائے تو ایک دائرے کو تین سو ساٹھ ڈگریوں میں تقسیم کیا جاتاہے ۔اگر ایک آدمی قطبی ستارے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوجائے تو اس کا رخ صفر یا تین سو ساٹھ ڈگری کی طرف ہوگا۔مشرق نوّے ڈگری ،جنوب ایک سو اسی ڈگری اور مغرب کی سمت دو سو ستّر ڈگری پر واقع ہے ۔ہر سمت کے درمیان نوے ڈگری کا فرق ہے ۔ کمپاس پر یہ تمام ڈگریاں درج ہوتی ہیں اور کسی بھی ڈگری پر سفر کرنے کے لیے بس کمپاس کی سوئی کو مطلوبہ ڈگری کی طرف کر کے چل پڑنا ہوتا ہے ۔جبکہ ستاروں کی مدد سے سفر کرنے کے لیے ستاروں کے طلوع و غروب ہونے کا علم اور آسمان پر مطلوبہ ستارے کی جگہ کا پتا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ۔تمام ستاروں میں فقط قطبی ستارا ایسا ہے جو اپنی جگہ نہیں بدلتا اور ہر وقت قطب شمالی کے اوپر چمکتا رہتا ہے ۔باقی ستارے مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتے ہیں البتہ ہر ستارے کا رستا الگ الگ ہوتا ہے ، کوئی جنوب مشرق سے طلوع ہوتا ہے تو کوئی شمال مشرق سے اور کوئی عین مشرق کی سمت سے )
میں نے چونکہ شمال کی جانب سفر کرنا تھا اس لیے مجھے اتنی تگ و دو نہیں کرنی پڑی تھی ۔بس قطبی ستارے کو دیکھا ہاتھ کی مدد سے بارہ ڈگری کے فاصلے کا اندازہ کیا اور چل پڑا ۔قطبی ستارے کے علاوہ کسی دوسرے ستارے کو سمت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ دیر نہیں چنا جا سکتا کیونکہ ستاروں کا اپنا سفر جاری رہتا ہے اس لیے ہر آدھے گھنٹے بعد پہلے والے ستارے کو چھوڑ کر دوسرا چننا پڑتا ہے ۔
میں گاہے گاہے شبِ دید عینک میں بھی جھانک کر دائیںبائیں کے علاقے کو دیکھ لیتا تھا ۔ چلتے وقت حتی الوسع میری کوشش یہی تھی کہ میرے پاو¿ں کی آواز پیدا نہ ہو ۔گو اس طرح میری رفتار کافی سست ہو گئی تھی ،مگر کبھی نہ پہنچنے سے، دیر سے پہنچنا بہت بہتر تھا۔
رستے میں مجھے دشمن کی کوئی پارٹی نظر نہ آئی ۔یقینا زیادہ تر پارٹیاں مشرقی سمت میں کھڑی چٹانوں کے سلسلے کے نزدیک، گھنے جنگل میں موجود تھیں۔درختوں کا سلسلہ ختم ہونے کے قریب ہوا تو میری رفتار مزید سست ہو گئی اور میں قریباََ رینگ رینگ کر آگے بڑھنے لگا ۔اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے روشنی اپنے رخ سے آہستہ آہستہ نقاب سرکا رہی تھی ۔جھاڑیوں کی آخری لائن کے قریب میں لیٹ گیا ۔ میرے سامنے وہی خشک نالا تھا جسے دشمن سفید نالے کے نام سے پکارتا تھا ۔اسی نالے کی دوسری جانب میں نے دشمن کے سریش نامی آدمی کو ہلاک کیا تھا ۔ملگجے اندھیرے میں مجھے دور سے دو ہیولے اپنی طرف بڑھتے نظر آئے ۔ان کے انداز سے ظاہر تھا کہ وہ دونوں سنتری ہیں ۔میں وہیں دبک کر لیٹا رہا یہاں تک کہ وہ میرے قریب سے گزرتے چلے گئے ۔دونوں دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے تھے ۔موضوعِ سخن گھریلو مسائل اور تنخواہ کی کمی تھی ۔ان کے چند قدم آ گے جاتے ہی میں کرالنگ کرتا ہوا خشک نالے سے گزرنے لگا ۔گو یہ رسک تھا ،مجھے مکمل طور پر ان کی روٹین سے واقف ہوئے بغیر ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، مگر وقت کی کمی نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔یوں بھی ان دونوں سنتریوں کا بے پرواہانہ انداز اس بات کا مظہر تھا کہ انھیں میرے اس سمت آنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ان کے پیچھے مڑنے سے پہلے میں نے نالا عبور کر لیا تھا ۔ایک جھاڑی کی آڑ لے کر میں نے نالے میں نگاہ دوڑائی ۔پہلے نظر آنے والے پہرے دار تو ابھی تک نہیں پلٹے تھے البتہ وہ جس سمت سے آئے تھے اس طرف سے دو اور پہرے دار ٹہلتے ہوئے آگے آرہے تھے ۔میں نے اس جھاڑی کی آڑ میں پیچھے کھسکنا شروع کر دیا ۔اچانک میری سماعتوں سے کسی کے قدموں کی آواز ٹکرائی ۔ وہیں دبک کر میں نے آواز کی طرف نگاہ دوڑائی ۔وہ میرے چھپنے کی جگہ سے دو جھاڑیاں پہلے بیٹھ گیا ۔یقینا وہاں ٹوایلٹ کی سہولت موجود نہیں تھی اس لیے صبح دم جس کا جدھر منہ ہوتا وہ چل پڑتا تھا ۔
اس کے فارغ ہونے تک میں وہیں دبکا رہا ۔اس کے واپس پلٹتے ہی میں رینگتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔روشنی کی جارحیت بڑھتی جا رہی تھی ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لیتا وہاں سے دو ر ہوتا گیا ۔طلوع ِ آفتاب تک میں اس نالے سے چار پانچ سو میٹر دور آ گیا تھا ۔گو اس علاقے میں خطرہ کم تھا مگر میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ایک مرحلہ تو ،بہ خیر و عافیت گزر گیا تھا ۔اب پانی بھر کر واپسی کا مرحلہ باقی تھا ۔ واپسی کے لیے مجھے لازماََ رات کا انتظار کرنا پڑتا ۔مجھے استاد صادق کا خیال آیا میں نے سوچا ۔
”استاد صادق کو آج کا دن بھی پیاسا گزارنا پڑے گا ۔“
اب میں جھکے جھکے انداز میں چل رہا تھا ۔نالے سے چشمے کا فاصلہ قریباََ تین کلو میٹر تھا ۔میں آدھے کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکا تھا اور اب گویا اڑھائی کلومیٹر کا فاصلہ باقی تھا۔لیکن یہ تمام رستا مسلسل چڑھائی پر مشتمل تھا ۔اس لیے قدرتی طور پر میری رفتار سست رہی ۔میں مزید سو میٹر آگے گیا ہوں گا کہ اچانک میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔میں چونک کر پلٹا اور ایک ابھری ہوئی چٹان کی آڑمیں پیچھے کی جانب نظریں دوڑانے لگا ۔
”شاید میں دیکھ لیا گیاہوں ۔“میرے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوچ ابھری مگر پھر میں نے نفی میں سر ہلا کر اس سوچ کو دور جھٹکا۔اگر میں نظر آ گیا ہوتا تو گولیوں کا رخ میری جانب ہونا چاہیے تھا۔میں نے دوربین آنکھوں سے لگا کر منظر کو مزید قریب کیا ۔اور یہ دیکھ کر میرا خون خشک ہونے لگا کہ گھیرے میں موجود تمام آدمی اپنے اپنے ہتھیار سونتے جنگل کے اندر کی طرف بھاگے جا رہے تھے ۔ اچانک مجھے واکی ٹاکی کا خیال آیا اور میں نے جلدی سے آن کر لیا ۔کوئی شخص چیخ چیخ کر اپنے ہلاک ہونے والے دو آدمیوں کی رپورٹ دے رہا تھا ۔جنھیں کسی سنائپر کی گولی نے لقماے اجل بنایا تھا ۔
انھیں محتاط رہنے کا مشورہ دے کر کنٹرول تمام پارٹیوں کو اسی سمت اکٹھا ہونے کا حکم دے رہا تھا۔
”استاد صادق !میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دوں گا ۔“میں نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنی رائفل کندھے سے اتار کر ہاتھ میں تھامی اور ٹیلی سکوپ سائیٹ کے کور اتار کر شست لینے لگا ۔دشمن کی نالے کے اطراف میں موجود سپاہ میری رینج میں تھی ۔ایک بندے کے سر کا نشانہ لے کر میں نے بغیر کسی جھجک کے ٹریگر پریس کر دیا ۔ ”ٹرنچ“ کی آواز نے مجھے بوکھلا دیا تھا ۔میں نے جلدی سے رائفل کاک کی لیکن میگزین خالی تھی اور اس کے ساتھ ہی مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ میری رائفل نہیں ہے ۔
میں نے جلدی سے سمال پیک پیٹھ سے اتارا اور اس میں موجود فالتو راو¿نڈ نکالنے کے اپنا ہاتھ داخل کیا ۔مگر میرا ہاتھ نامراد باہر آیا ۔استاد صادق نے سٹائیرسنائپر رائفل کی تمام گولیاں نکال لی تھیں ۔ اور ان کی جگہ اپنا پسٹل اس نے میرے جھولے میں رکھ چھوڑا تھا ۔اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجھے پانی لینے بھیجا تھا ۔ورنہ کوئی سنائپر پانی کے لیے اتنا بڑا خطرہ مول لیا نہیں کرتا ۔وہاں سبزے کی بہتات تھی ہم آسانی سے وہ سبزہ کھا کر پانی اور کھانے کی ضرورت سے بے فکر ہو سکتے تھے ۔لیکن وہ جانتا تھا کہ ہم زیادہ دیر اس درخت پر چھپے نہیں رہ سکتے تھے ۔اور پھر اپنے زخمی پاوں کے ساتھ اس کا سفر کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن تھا ۔یہی سوچ کر اس نے مجھے تحفظ دینے کا سوچا اور اس پر عمل کر گزرا ۔
اچانک فائرنگ کی آواز میں شدت آگئی دشمن کو ہدف مل گیا تھا ۔درخت کی ٹہنیاں صرف نظری آڑ مہیا کر سکتی ہیں ۔گولی روکنے کی اہلیت نہیں رکھتیں ۔وائرلیس سیٹ پر کوئی چیختے ہوئے اپنی کامیابی کی رپورٹ پیش کر رہا تھا۔اور میرے دماغ میں استاد صادق کی گفتگو گونج رہی تھی ۔
” یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر سنائپرریٹائرہوتے وقت اپنی رائفل اپنے جانشین کے حوالے کیا کرتا ہے۔“
اس نے صبح میرے درخت سے اترتے ہی میری رائفل کی جگہ اپنی رائفل رکھ دی تھی اور میرے سمال پیک سے سٹائیر سنائپر کے تمام راونڈ بھی نکال لیے تھے تاکہ میں جوش میں آکر دشمن پر فائر کرنا نہ شروع کر دوں ۔البتہ اپنے استاد ہاشم کی طرح اپنا پستول ،اپنے جانشین کے حوالے کرنا اسے نہیں بھولا تھا۔
”دھوکے باز استاد کا دھوکے باز شاگرد ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایااور میری آنکھیں بھیگتی چلی گئیں ۔
جاری ہے
 

میں کافی دیر وہیں لیٹا دشمن کی چہل پہل دیکھتا رہا ۔استاد صادق کی شہادت کے بعد وہ کچھ بے فکر سے ہو گئے تھے ۔ان کی باتیں سن کر پتا چلا تھا کہ استاد صادق کو شہید کرنے والے ان کی کمانڈو پلاٹون کے جوان تھے ،لیکن اس سے پہلے ان کے پانچ آدمیوں کو استاد صادق نشانہ بنانے میں کامیاب رہا تھا ۔ جس میں سے چار آدمی ہلاک ہو چکے تھے جبکہ گولی پانچویں آدمی کے سر سے رگڑ کھاتی ہوئی نکل گئی تھی ۔ مزید کچھ دیر وہیں پڑا رہنے کے بعد میں دوبارہ چل پڑا ۔اگر استاد صادق نے میرے پاس سنائپر رائفل کی گولیاں رہنے دی ہوتیں تو شاید میں کئی کو نشانہ بنا چکا ہوتا ،مگر اب پسٹل سے تو سنائپنگ نہیں کی جا سکتی تھی۔گو اُس طرح میرے زندہ بچ جانے کے امکانات صفر فیصد بھی نہ رہتے ،مگر جذباتی کیفیت میں مبتلا ہونے کے بعد فائدے نقصان کا ہوش کس کو رہتا ہے ۔
چشمے تک میں بغیر کسی سے مڈبھیڑ ہوئے پہنچ گیا تھا ۔خوب سیر ہو کر پانی پینے کے بعد میں نے دونوں واٹر بوتلیں بھر کر سمال پیک میں رکھ لیں اور پھر وہاں سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر موجود جھاڑیوں کے ایک جھنڈ کی طرف بڑھ گیا۔میرا ارادہ وہیں رات گزارنے کا تھا ۔کیونکہ آج کے دن ہماری تلاش میں سرگرداں ٹروپس نے واپس اپنی اپنی جگہ پر پہنچنا تھا۔ان کی نقل و حرکت کے دوران میرا ایک جگہ رکے رہنا بہتر تھا ،کیونکہ کسی بھی پارٹی سے اتفاقی مڈبھیڑ ایک نیا محاذ کھول دیتی ۔
جھاڑیاں کافی گھنّی تھیں وہاں سے چشمے کی جگہ صاف نظر آ رہی تھی ۔دن ڈھلنے کو تھا جب چشمے پر چند آدمی پانی بھرتے دکھائی دیے۔وہ آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے ۔ایک سخت ابتلا کے بعد انھیں ذہنی سکون حاصل ہوا تھا ۔اور انھوں نے ایک خطرناک دشمن سے خلاصی پائی تھی ۔ایسا سفاک دشمن جس نے ان کے درجن بھر ساتھی ہلاک کر دیے تھے ۔میں بس خالی نظروں سے انھیں چہلیں کرتے دیکھتا رہا ۔ چشمے کے پانی سے ہاتھ منہ دھونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اپنے رستے ہو لیے تھے ۔سیر ہو کر پانی پینے کے بعد میری بھوک بھی ابھر آئی تھی ۔میں پیک سے بِسکٹ نکال کر کھانے لگا ۔استادصادق نے اپنی خوراک بھی میرے پیک میں ڈال دی تھی ۔اپنے مقدر کا رزق میرے حوالے کرتے ہوئے اسے ذرا بھر بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی تھی ۔اس نے مرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر اپنی آخری گفتگو میں اس نے کوئی ایسی بات یا حرکت نہیں کی تھی کہ مجھے اس کے ارادے کی بابت معلوم ہوتا۔یقینایہ فیصلہ اس نے بہت پہلے کر لیا تھا ۔ اس وقت جب میں نے اس کی بات ماننے کے بجائے اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اپنے استاد ہاشم کی کہانی سنانے کا مقصد مجھے ،اپنی موت کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا تھا ۔دوران ِ ٹریننگ اس نے اپنے کئی تجربات ہمارے گوش گزار کیے تھے مگر اپنی زندگی کا سب سے اہم واقعہ اس نے ایسے حالات میں سنایا تھا جب وہ خوداپنے استاد کی راہ پر چلنے کا ارادہ کر چکا تھا ۔
وہ رات میں نے انھی جھاڑیوں میں استاد صادق کی یادوں سے لڑتے گزاری ۔صبح صادق کے قریب میں اپنی کمین گاہ سے نکلا اور چشمے کی طرف بڑھ گیا ۔کیا پتا رستے میںپانی ملنا بھی تھا یا نہیں۔میں نے واٹر بوتل میںرات کے وقت ہونے والی کمی پوری کی اور اپنے رستے ہو لیا ۔چلتے وقت میں نے واکی ٹاکی سیٹ بھی آن کر لیا ،مگر پہلے والی فریکونسی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔فریکونسی بدل کر بھی میں نے سن گن لینے کی کوشش کی مگر کوئی ایسی بات سننے میں ناکام رہا جو مجھے احتیاط پر مجبور کر سکتی ۔ ایک دو جگہ پر روزمرہ کی عام گفتگو سنائی دی ۔دو تین پوسٹوں سے لالی سیکٹر بیس کو صبح کے” سب اچھا“ کی رپورٹ دی جا رہی تھی ۔ واپسی کے لیے میں نے پہلے والا رستا استعمال نہیں کرنا تھا ۔لالی سیکٹر کی بیس کے نیچے پہنچ کر میں جنوب کی سمت میں سیدھا نکلتا چلا گیا ،نالا عبور کر کے جنگل میں گھسنے کی کوشش میں نے نہیں کی تھی۔سورج کے طلوع ہونے تک میںلالی سیکٹر بیس سے قریباََ دوکلومیٹر آگے نکل گیا تھا ۔روشنی ہونے کے ساتھ میری رفتار آہستہ ہو گئی تھی ۔ میں پوری طرح کیموفلاج تھا ۔گِلی سوٹ نے مجھے جھاڑیوں کا حصہ بنایا ہوا تھا ۔ آگے جا کر نالا تنگ ہو گیا میرے داہنی جانب پہاڑی سلسلہ تھا۔ جب کہ بائیں طرف جنگل تھا اور درختوں کے اختتام پر سیدھی کھڑی چٹانوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا ۔داہنی جانب درختوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی ۔میں نالا عبور کر کے جنگل میں گھس گیا۔آگے جا کرنالا غربی جانب مڑرہا تھا ۔اس نالے میں بس اکّادکّا درخت تھے ۔اور وہی میری واپسی کا رستا بھی تھا ۔دوربین نکال کر میں نے بغیردائیں بائیں کا بغور جائزہ لیا ۔مگر کسی قسم کی حرکت نظر نہ آئی ۔نقشہ کھول کر میں نے ایک بار پھر دشمن کے مورچوں کی جگہ کوبغور دیکھا۔ اسی نالے میں آگے جا کر دشمن کی ایک پوسٹ تھی جس کا نام سدرتی پوسٹ تھا۔وہاںپر ان کے پندرہ سے بیس آدمی موجود رہتے تھے ۔مذکورہ پوسٹ سے دائیں اور بائیںجانب تین چار کلومیٹر کے وقفے پر دو اور پوسٹیں تھیں وہاں بھی ان کی نفری دس کا ہندسہ عبور کر جاتی تھی ۔مجھے سدرتی پوسٹ سے دائیں جانب کا رستا اختیار کرنا تھا ۔اور گجر پوسٹ کے قریب سے پھر غربی سمت مڑ کر دشمن کی آخری پوسٹ لیفٹ ترکیاں کی ذمہ داری کے علاقے سے گزر کر میرے سامنے پاکستان کی پہلی پوسٹ رنگ کنٹور آ جانی تھی ۔ہم نے آتے وقت دوسرا رستا اختیار کیا تھا ۔ اس وقت ہمیں بارڈر پار کرانے کے لیے ایک رہبر بھی آیا تھا جو ہمارے بارڈر پار کرتے ہی واپس چلا گیا تھا۔اب واپسی کے سفر میں میں اکیلا تھا اور اپنا رستا مجھے خود ڈھونڈنا تھا ۔
نقشہ واپس سمال پیک میں رکھ کر میں اللہ پاک کا بابرکت نام لے کر غربی نالے میں گھس گیا ۔ گو وہاں چھدرے چھدرے درخت تھے مگر رستے میں بڑے بڑے پتھر بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جو چھپنے میں مدد دے سکتے تھے ۔میں رکے بغیر چلتا رہا ۔البتہ سدرتی پوسٹ کے علاقے کو میں رات کے اندھیرے ہی میں عبور کر سکتا تھا ۔پوسٹ سے کلومیٹر بھر پہلے ایک مناسب مقام پر رک کر میںرات کا انتظار کرنے لگا ۔آنے والی رات کو چونکہ مجھے بقیہ تمام رستا طے کرنا تھا اس لیے کھا پی کرمیں آرام کی غرض سے لیٹ گیا ۔وہ جگہ ایسی تھی کہ میرے دیکھے جانے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔
سر شام ہی میں اپنی کمین گاہ سے باہرنکلا۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب پوسٹ پر موجود سنتری اتنے چوکنا نہیں ہوتے ،کیونکہ ایک تو یہ وقت شام کے کھانے کا ہوتا ہے اور دوسرا ڈیوٹی وغیرہ کی بدلی اور رات کے انتظامی امور میں بھی لوگ مصروف ہوتے ہیں ۔اور پھر سب سے بڑھ کر مجھے بیس کلومیٹر کے قریب فاصلہ طے کرنا تھا ۔اس لیے سر شام ہی سفر شروع کرتا تو پہاڑی علاقے کا یہ فاصلہ طے ہو سکتا تھا۔
میں بڑے پتھروں اور رستے میں آنے والے اکا دکا درختوں کی آڑ لے کر چلتا رہا ۔
سدرتی پوسٹ کے علاقے کو عبور کرتے ہی میری رفتارتھوڑی تیز ہو گئی تھی ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد میں گجر پوسٹ کے قریب پہنچ گیا ۔وہاںسے نالا سیدھا آگے نکلتا چلاگیا جبکہ میں غربی سمت کو مڑ گیا۔آگے چڑھائی تھی میری رفتار کافی سست ہو گئی ۔آکسیجن کی کمی کے باعث اس علاقے میں تیز رفتاری سے حرکت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔خاص کر اس وقت جب بندہ چڑھائی چڑھ رہا ہو ۔
رات دو بجے کے قریب میں دشمن کی آخری پوسٹ لیفٹ ترکیاںکی حدود میں پہنچ گیا تھا ۔وہ علاقہ خطرناک تھا کیونکہ ایسی پوسٹ پر جو دشمن کے بالکل سامنے ہو اس پر ڈیوٹی والے سپاہی بہت چوکس ہوتے ہیں ۔اور ہندو تو اس معاملے میں یوں بھی بہت ڈرپوک ہیں اور ڈر کی وجہ سے ان کاڈیوٹی پر موجود جوان سست نہیں ہو پاتا ،جبکہ پاک آرمی کے جوان دلیری کی وجہ سے عموماََ بے پروا ہوتے ہیں ۔
میں ڈھلان عبور کر کے نسبتاََ اونچائی پر پہنچا ۔نقشے کے مطابق لیفٹ ترکیاں پوسٹ وہاں سے دو سو گز آگے تھی ۔سمال پیک سے نائیٹ ویژن سائیٹ نکال کر میں نے آنکھوں سے لگائی مگر اتنے فاصلے سے میں صرف پوسٹ کے خدو خال ہی دیکھ سکا کوئی اور نقل وحرکت مجھے دکھائی نہ دی ۔میں آگے بڑھ گیا ۔اس مرتبہ میںبہ قدر سو گز پوسٹ سے پہلے رکا اور ایک پتھر کی آڑلے کر پوسٹ کا جائزہ لینے لگا۔پاکستان کی طرف سے وہ پوسٹ ڈھلان کی آڑ میں بنائی گئی تھی ۔اوررہائشی علاقے کو پاکستان کی طرف سے دیکھا جانا ممکن نہیں تھا البتہ سنتریوں کی دید بانی کے لیے جو دو مورچے بنائے گئے تھے وہ بہ خوبی دیکھے جا سکتے تھے ۔نائیٹ سائیٹ سے میں نے ارد گرد کے علاقے کا جائزہ لیا۔پوسٹ کے علاقے کو عبور کرنے کے بعد ایک نالا شروع ہو رہا تھا مگر اس نالے میں سفر کرنا اس لیے بھی مخدوش تھا کہ ایسے رستوں پر دشمن نے بارودی سرنگیں لگا ئی ہوتی ہیں ۔گو ضروری نہیں ہوتا کہ ہر آدمی کا قدم بارودی سرنگ پر پڑے ۔لیکن ایسی جگہوں پر خطرہ مول لینا بھی بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے ۔ہمیشہ کی معذوری کون گوارا کر سکتا ہے ۔بلکہ بعض اوقات تو بارودی سرنگ انسان کی جان بھی لے لیتی ہے ۔ایک بار میری آنکھوں کے سامنے ہماراایک ساتھی شہید ہوا تھا ۔وہ بے چارہ غلطی سے اپنی فوج کے لگائے ہوئے بارودی قطعے میں گھس گیا تھا ۔اور اس کی بد قسمتی کہ جیسے ہی اس کے پاو¿ں کے نیچے بارودی سرنگ پھٹی وہ اچھل کر پیچھے گرا اور اگلی بارودی سرنگ عین اس جگہ پھٹی جہاں اس کا سر زور سے زمین سے ٹکرایا تھا۔ بعد میں ہم نے بڑی مشکل سے اسے وہاں سے نکالا تھا ۔
ساری صورت حال کا جائزہ لے کر جو لائحہ عمل مجھے سوجھا وہ یہی تھا کہ میں اس پوسٹ کو بائی پاس نہیں کر سکتا تھا ۔پوسٹ کے دائیں بائیں جو چڑھائیاں تھیں انھیں کوہ پیمائی کے سامان کے بغیر عبور کرنا ناممکن تھا ۔کوئی اور رستا اختیار کرنے کے لیے مجھے دوبارہ پیچھے جانا پڑتا اور دشمن کے علاقے میں یوں آزادانہ حرکت مجھے پھنسا سکتی تھی ۔آخر ایک فیصلے پر پہنچ کر میں خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا ۔
منصوبہ بناتے ہی میں ایک بار پھر دشمن کے مورچوں کو تاڑنے لگا ۔اڑھائی بجنے میں چند منٹ ہی رہتے تھے مجھے امید تھی کہ سنتریوں کی بدلی آنے والی ہو گی ۔(اڑھائی میری گھڑی بجا رہی تھی ۔ انڈیا کا ٹائم چونکہ ہم سے نصف گھنٹا آگے ہے اس لیے ان کی گھڑیوں میں لازماََ تین بجنے والے تھے)کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ ڈیوٹی پر موجود سپاہیوں کی ہر دو گھنٹے بعد بدلی ہوتی ہے ۔اور چونکہ ایسی حساس پوسٹوں پربیک وقت دو سنتری جاگ رہے ہوتے ہیں اس لیے ڈیوٹی کے اوقات کار اس طرح بانٹے جاتے ہیں کہ ایک کی ڈیوٹی اگر پانچ سے سات بجے تک ہو تو دوسری چھے سے آٹھ بجے مقرر کی جاتی ہے تاکہ یہ نہ ہو دونوںسنتری اکٹھے جاگیں اور دونوں نیند کی زیادتی کی وجہ سے سست ہو ں۔جبکہ ایک گھنٹے کے فرق کے ساتھ اٹھنے کی وجہ سے جب نیا سنتری جاگتا ہے تو دوسرے مورچے والا ایک گھنٹا ڈیوٹی دے کر چوکنا ہو گیا ہوتا ہے ۔
جلد ہی مجھے اپنااندازہ درست ہوتا دکھائی دیا اور رہائشی جگہ سے ایک آدمی سست قدموں سے دائیں والے مورچے کی طرف بڑھتا نظر آیا ۔یقینا اسے رہائشی علاقے میں موجود سنتری نے جگایا تھا۔دوسرے سنتری کی واپسی تک ایک اور سنتری کمرے سے برآمد ہو ا اور وہیں ٹہلنے لگا ۔گویا بیک وقت تین آدمی جاگ رہے تھے ۔جب واپس آنے والا سنتری رہائشی کمرے میں غائب ہوا تو میں آگے کھسکنے لگا۔ میرے دل میں صرف کتوں کا خوف سمایا ہوا تھا کیونکہ اگر پوسٹ پر کتے موجود ہوتے تو دشمن نے چوکنا ہو جانا تھا۔گو جس وقت سے میں آیا تھا کتوں کے بھونکنے کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی اس کے باوجود میرے دل میں خدشہ موجود تھا ۔
میں آہستگی سے آگے بڑھتا رہا ۔نائیٹ ویژن سائیٹ میری آنکھوں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔سنتری سست روی سے ٹہل رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ سر گھما کر اطراف کا جائزہ لے لیتا تھا۔ایک دو بار اس نے ٹارچ جلا کر بھی اپنے چوکنے پن کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی ۔لیکن ٹارچ کی روشنی اس نے نالے والی سمت میں پھینکی تھی اس کے باوجود میں زمین سے چمٹ کر لیٹ گیا تھا ۔لیکن چونکہ وہ عقبی سنتری تھا اور زیادہ ذمہ داری سامنے والے سنتریوں کی ہوتی ہے اس لیے اس میں وہ چوکنا پن مفقود تھا جو کہ سامنے والے سنتریوں کا خاصا ہوتا ہے ۔میں کرالنگ کرنے کے بجائے بیٹھے بیٹھے اس کی جانب بڑھ رہا تھا کیونکہ وہ پتھریلا علاقہ تھااس لیے کرالنگ کرنے کی صورت میں ایک تو نیچے بکھرے پتھر گھٹنوں اور ٹانگوں میں بری طرح چبھنے تھے دوسرا پتھروں پر رینگنے کی وجہ سے شور بھی پیدا ہوسکتا تھا جو سنتری کو چوکنا کر دیتا ۔
اب سنتری سے میرا فاصلہ دس گز کے بہ قدر رہ گیا تھا ۔میں نے پسٹل پہلے سے تیار کر کے بیلٹ میں اڑسا ہوا تھا ۔پسٹل ہاتھ میں لے کر میں نے سنتری کے مڑنے کا انتظار کرنے لگا ۔
جیسے ہی وہ مڑا میں کھڑا ہوکر دبے قدم اس کے پیچھے چلنے لگا ۔اورجب میں بالکل اس کے قریب پہنچ گیا تب اسے آنے والی مصیبت کا احساس ہوا ۔اس نے پیچھے مڑنے کی کوشش کی مگر میں نے ایک دم اس کے ساتھ لپٹتے ہوئے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔اس نے تڑپ کر مجھے خود سے جھٹکنا چاہا مگر اس وقت تک میں پسٹل اس کی کنپٹی سے لگا کر ٹریگر دبا چکا تھا ۔ہلکی سے ٹھک ہوئی اور اس کی کھوپڑی میں روشن دان کھل گیا تھا ۔اس کا پھڑکتا بدن ساکت ہونے لگا میں نے اسے آہستہ سے زمین پر لٹا دیا ۔
پہلا مرحلہ بہ خوبی مکمل ہو گیا تھا ۔میں ٹائم دیکھا تین بج کر بیس منٹ تھے ۔گویا اگلے سنتری نے دس منٹ بعد ڈیوٹی پر اٹھنا تھا ۔
میں نے جلدی سے گلی سوٹ اتارکر سائیڈ پر پھینکا اور سنتری کے بدن سے چادر اتار کر لپیٹ لی ۔اس کے پاس پڑی ٹارچ بھی میں نے اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی تھی ۔ساڑھے تین ہوتے ہی میں دھڑکتے دل کے ساتھ بائیں والے مورچے کی طرف بڑھ گیا ۔نائیٹ ویژن سائیٹ میں نے دوبارہ سمال پیک میں ڈال لی تھی ۔چادر میں نے اس طرح لپیٹی تھی کہ میرا چہرہ بھی چھپ گیا تھا ۔
”تو آگیا ہے دلجیت!“جونھی میں مورچے کے دروازے پر پہنچا،اندر موجود سنتری بے صبری سے مستفسر ہوا۔دو گھنٹے اس سردی میں جاگ کر یقینا وہ گرم رضائی میں جانے کے لیے بے چین تھا ۔
میں نے ٹارچ جلا کر اس کے چہرے پر روشنی پھینکی ۔
اس نے چہرہ سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔”یار!اسے تو آف کرو۔“
اور یہ آخری الفاظ تھے جو اس کے ہونٹوں سے ادا ہوئے تھے ۔گلاک پسٹل کی مزل سے نکلنے والے چند گرام سیسے نے اس کی کھوپڑی میں کھڑکی بنا دی تھی ۔وہ لہرا کر نیچے گرا۔مورچا اتنا بڑا نہیں تھا نیچے گرتے ہوئے دیوار کے ساتھ کھڑی دو رائفلیں بھی نیچے گر گئی تھیں ۔ان رائفلوں کے گرنے سے اچھا خاصا شور ہوا تھا ۔
”تھوڑا زور سے پھینکو شاید توڑنے میں کامیاب ہو جاو¿۔“ساتھ والے مورچے سے مزاحیہ انداز میں پکارا گیا ۔دونوں مورچوں کے درمیان بیس گز کے قریب فاصلہ تھا۔ اس کے باوجود اسے رائفلز کے نیچے گرنے کا شورسنائی دے گیا تھا۔
میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر باہر نکلا اورسرعت سے دوسرے مورچے کی طرف بڑھا۔
اس نے با آواز بلند پوچھا۔”خیریت تو ہے نا ؟“یقینا اسے میرے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی ۔
اس مرتبہ بھی میں خاموش رہا تھا ۔
”اوئے !جواب تو دو نا ؟“اس نے جھنجلاتے ہوئے باہر جھانکا اس وقت تک میں بالکل قریب پہنچ گیا تھا ۔
”میرے پاس تو بس ایک ہی جواب ہے ۔“کہتے ہوئے میں نے ٹارچ روشن کر کے اس کی کھوپڑی میں گولی جھونک دی ۔
اس نے تھوڑا جھک کر باہر جھانکا تھا ۔گولی لگتے ہی منہ کے بل گر گیا ۔اس طرح کہ اس کا بالائی دھڑ مورچے سے باہر اور ٹانگیں مورچے کے دروازے میں تھیں ۔
میں اس کے جسم پر پاو¿ں رکھ کر اندر داخل ہوا ۔ٹارچ روشن کر کے میں نے جائزہ لیا ۔دو جی ٹو رائفلیں ایک کلاشن کوف اور ماو¿نٹ پر لگی وکرس گن نظر آرہی تھی ۔ مورچے کے سامنے والے ہول میں مجھے تھرمل امیجنگنائیٹ ویژن سائیٹ دکھائی دی ۔اسے آن کر کے میں باہر نکل آیا ۔وہاں سے ہماری اپنی پوسٹ قریباََ چار سو میٹر کے فاصلے پر تھی ۔لیکن یہ ہوائی فاصلہ تھا ۔ورنہ لیفٹ ترکیاں سے ہماری پوسٹ رنگ کنٹور پر جانے کے لیے ایک ڈھلان عبور کرنی پڑتی جس کے باعث یہ فاصلہ ہزار میٹر کے قریب بن جاتا ۔رنگ کنٹور پر مجھے پاک فوج کا دلیر جوان ٹہلتا ہوا نظر آ رہا تھا ۔تھرمل امیجنگسائیٹ میں یہ خصوصیت ہے کہ یہ دوربین کی طرح کافی دور تک دکھاو¿ مہیا کرتی ہے ۔اس کا اندرونی نظارا بلیک اینڈ وائیٹ ہوتا ہے جس میںہر جاندار کالے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔
وہاں مزید رکے رہنا وقت کا ضیاع تھا ۔تھرمل امیجنگسائیٹ گلے میں لٹکا کر میں لیفٹ ترکیاں کی سامنے والی ڈھلان اترنے لگا ۔اترائی کافی سخت تھی ۔چونکہ رستا بنا ہوا نہیں تھا اس لیے اندھیرے میں گرنے کا بھی اندیشہ تھا ۔میں نے بے دھڑک ٹارچ جلا دی ۔مجھے معلوم تھا کہ پاک فوج کے جوان نے فوراََ اس طرف متوجہ ہو جانا ہے ۔او ر وہی ہوا ۔ٹارچ جلائے مجھے چند سیکنڈ ہی ہوئے تھے کہ رنگ کنٹور کی جانب سے ٹارچ کا اشارہ آنے لگا ۔گویا وہ آنے والے کو متنبہ کر رہا تھا ۔
جواباََ میں نے بھی ٹارچ کا رخ اس کی جانب کر کے دو تین دفعہ اشارہ دیا تاکہ اسے پتا چل جائے کہ میں بے خبری میں نہیں آ رہا ۔نیچے اترتے ہی سو میٹر کے قریب ہموار میدان سا تھا جہاں بارودی سرنگی قطعے بچھا کر کانٹا دار تار سے اس کی حد بندی ظاہر کی گئی تھی ۔(جینوا کنونشن کے مطابق کسی بھی ملک کی سپاہ جب سرنگی قطعہ لگاتی ہے تو اسے قانوناََ اس قطعے کو کانٹا دار تار سے ظاہر کرنا پڑتا ہے ۔لیکن ہندو بنیا نیچ ذہنت کا مالک ہے ۔اسے ایسے اصول و ضابطے کی کیا پروا،بھارتی آرمی پہاڑی علاقے میں حد بندی کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر بارودی سرنگیں بچھا کر رکھتی ہے ،جس کی زد میں عموماََ سول لوگ یا جانور وغیرہ آ جاتے ہیں )
وہ بارودی قطعہ عبور کرنے کے لیے مجھے چند سو گز کا چکر کاٹنا پڑا ۔بارودی قطعے کی بائیں طرف کی حد بندی کے ساتھ قدری طور پر بڑے بڑے پتھر پڑے تھے کہ جہاں بارودی سرنگ لگانا ممکن ہی نہیں تھا ۔میں انھی پتھروں پر چل کر آگے بڑھتا گیا ۔بارودی قطعے کے سامنے گچھا دار تار جسے” کنسرٹیناوائر “ کہتے ہیں ۔لگی ہوئی تھی ۔سمال پیک سے وائر کٹر نکال کر میں نے تار کو کاٹ کر رستا بنایا اور آگے بڑھ گیا۔ٹارچ بجھانے کی کوشش میں نے نہیں کی تھی ۔رنگ کنٹور پر اس وقت دو ٹارچوں کی روشنی نظر آ رہی تھی ۔یقینا سنتری نے گارڈ کمانڈر کوبھی اطلاع کر دی تھی ۔اپنی طرف کی رکاوٹو ں کو عبور کرنے کے بعد میں رنگ کنٹور سے پچاس میٹر کے فاصلے پر تھا جب مجھے زور دار انداز میں ”رک “پکارا گیا ۔
میں سنتری کے حکم کے بہ موجب رک گیا ۔
”ہاتھ اوپر “اس نے اگلا حکم دیا اور مجھے تعمیل کرتے بنی ۔
”تالی بجاو¿۔“اس نے یقینا میرے ہاتھوں کے خالی ہونے کا یقین کرنا تھا ۔
”بادل ....“میرے تالی بجاتے ہی اس نے کہا۔اور یہ اس دن کا پاس ورڈ تھا۔
میں خاموش رہا کیونکہ مجھے پاس ورڈ معلوم نہیں تھا ۔
”تھری ....“اس مرتبہ اس نے فگر پوچھا تھا ۔اگر مجھے اس رات کا فگر پتا ہوتا تو میں مطلوبہ فگر دہرا دیتا،مگر میں اس سے بھی انجان تھا ۔(سرحدی علاقے میں اپنی سپاہ کی پہچان کے لیے رات نام مقرر کیا جاتا ہے جو دو اسماءپر مشتل ہوتا ہے ۔مثلا،بادل اور لوٹا۔پہرے پر موجود سنتری آنے والے کے سامنے رات نام کا پہلا اسم بولتا ہے اور آنے والے کو اس کے جواب میں دوسرا نام بتانا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ ہر رات کے لیے ایک فگر بھی مقرر کیا جاتا ہے ۔مثلاََ اگر سات فگر مقرر کیا ہے تو سنتری سات سے کم کوئی بھی عدد بول کر آنے والے کو عدد مکمل کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔اب اگر سنتری تین کہتا ہے تو آنے والا چار کہہ کر عدد کو مکمل کرنا پڑتاہے )
”کون؟“اس دفعہ اس نے براہ راست میرا تعار ف مانگاتھا۔
”ذیشان۔“میں اطمینان سے بولا۔
”پہچانا نہیں ۔“
”قریب تو آنے دو یار !تعارف بھی کرا دیتا ہوں ۔“میں کھڑے کھڑے تھک گیا تھا۔
”اسی حالت میں آگے بڑھو ۔“اسے میرا اطمینان دیکھ کر کہنا پڑ گیا تھا ۔
اور میں ہاتھ سر سے بلند کیے آگے بڑھ گیا ۔خود سے دو میٹر دوراس نے مجھے دوبارہ روکا اور اس کے ساتھ کھڑا دوسرا آدمی خود بہ خود آگے بڑھ کر ماہرانہ انداز میں میری تلاشی لینے لگا ۔میرے کندھے پرلٹکی سنائپر رائفل اتار کر اس نے سائیڈ پر رکھی ،میرا سمال پیک ،تھرمل امیجنگسائیٹ اور میری جیبوں میں موجود تمام سامان اپنے قبضے میں کر لیا۔
”ہاتھ نیچے کر سکتا ہوں ۔“تلاشی لینے والے کے دور ہوتے ہی میں نے پوچھا ۔
”کر لو ۔“مجھے نشانے پر رکھنے والا نرم لہجے میں بولا ۔
”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے ہاتھ نیچے کر لیے ۔
”آو¿ اندر بیٹھ کر بات کرے ہیں ....“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ لفٹ ترکیاں پوسٹ کی طرف سے ٹارچوں کی روشنی پھینکے جانے لگی ۔اس کے ساتھ ہی فائرنگ کی آوازسے ماحول گونج اٹھا ۔
میں نے کہا۔”سنتری کو آڑ میں کر لو ۔“مگر میرا یہ کہنا بے فائدہ تھا کیونکہ فاےر کی آواز سنتے ہی سنتری مورچے میں ہو گیا تھا ۔میرے اندازے کے مطابق مجھے کلاشن کوف کی زد پر لینے والا گارڈ کمانڈ ر تھا۔ وہ مجھے ساتھ لے کر کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔وہ پوسٹ کمانڈ کا کمرہ تھا کیونکہ اندر داخل ہوتے ہی گارڈ کمانڈ ر نے سیلوٹ کیا تھا ۔اندر پیٹرومیکس لیمپ روشن تھا ۔
پوسٹ کمانڈر نے گہری نظروں سے میرا جائزہ لے کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”استاداکرم !چائے پانی کا بندوبست کرو ۔“وہ مجھے ساتھ لانے والے کو مخاطب ہو ۔اور وہ ”جی سر !“کہہ کر باہر نکل گیا ۔
”جی ؟“اس نے مختصراََ کہتے ہوئے مجھ سے تعارف چاہا۔
اور میں اسے تفصیل سے اپنے بارے بتانے لگا ۔میری بات ختم ہونے تک چاے اور حلوہ آگیا تھا ۔میں بے تکلف حلوے کو جڑ گیا جبکہ پوسٹ کمانڈر لائن ٹیلی فون پر اپنے بٹالین ہیڈکواٹر میں میرے بارے تفصیل بتانے لگا ۔گھنٹے ڈیڑھ کے اندر میری شناخت کی تصدیق ہو گئی تھی ۔پوسٹ کمانڈر نے مجھے تپاک سے گلے سے لگا کر میری پیٹھ تھپکی اور پھر اپنے ہی کمرے میں میرا بستر لگوا کر مجھے آرام کرنے کا کہہ کر خود باہر نکل گیا ۔لیفٹ ترکیاں کی طرف سے وقفے سے وقفے سے فائر کی آوازیں آ رہی تھیں یقینا انھیں اپنے تین آدمیوں کی ہلاکت ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔میں بے فکر ہو کر بستر میں گھس گیا کہ اب میں اپنوں میں تھا ۔
٭٭٭
دو دن بعد میں اپنے ہیڈکواٹر میں پہنچ گیا تھا ۔وہاں جا کر ایک مرتبہ پھر استاد صادق کا غم تازہ ہو گیا ۔مشن پوا ر کرنے کی خوشی سے استاد صادق کے بچھڑنے کا نقصان زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔مگر میرے سینئرز مطمئن تھے ۔کیونکہ شہادت کی موت ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔
ایک دن ہیڈکواٹر میں گزار کر میں نے چھٹی لی اورگھر کو سدھارا ۔میرا تعلق تلہ گنگ کے ایک مضافاتی گاو¿ں سے ہے ۔فوج میں بھرتی ہونے کے ساتھ میں نے شادی کر لی تھی لیکن ہنوز اولاد کی نعمت سے محروم تھا ۔ ماہین میری دور پار کی رشتا دار تھی ۔یہ الگ بات کہ شادی سے پہلے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں تھا لیکن شادی کے بعد ہمارے درمیان ایسی محبت پیدا ہو گئی تھی گویاہم دونوں پیدا ہی ایک دوسرے کے لیے ہوئے ہوں۔امی جان ،میرے بچپن ہی میں وفات پا گئیں تھیں ۔ان کے انتقال کے بعد ابو جان نے دوسری شادی نہیں کی تھی ۔گاو¿ں میں تھوڑی بہت زمین تھی بس وہی کاشت کر کے وہ میرا اور اپنا پیٹ پالتے رہے ۔ایف ایس سی کرنے کے بعد ابو جان کا ارادہ تھا کہ میں مزید تعلیم حاصل کروں مگر میںنے والد صاحب پر مزید بوجھ بننا گوارا نہ کیا او ر پاک آرمی میں بھرتی ہو گیا ۔دورانِ ٹریننگ ہی میری نشانہ بازی کی صلاحیت کھل کر سامنے آ گئی تھی ۔یونٹ میں جانے کے بعد نشانہ بازی کے مقابلوں میری اس صلاحیت میں مزید نکھا ر آیا اور پھر اسی صلاحیت کو دیکھ کرمجھے سنائپر کورس کے لیے کوئٹہ جانا پڑا ۔ وہ کورس میں نے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور اس کورس میںاچھی پوزیشن لینے کی وجہ سے مزید ٹریننگ کے لیے مجھے سپیشل سروس گروپ یعنی کمانڈوزکے پاس بھیج دیا گیا ۔وہاں بھی میرے نشانہ بازی کی صلاحیت نے دوسروں کو متاثر کیے رکھا ۔اور پھر اس کورس میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے بعد مجھے خصوصی سنائپر ٹیم کی زیر نگرانی تربیت دی جانے لگی ۔اس مرتبہ ہمارے استاد وہ تھے جنھوں نے ٹریننگ سے زیادہ عملی میدان میں وقت گزارا تھا۔وہ اسباق پڑھانے سے زیادہ، ہمیں واقعات سناتے ۔ایسے واقعات جو، ان کے ساتھ بیت چکے تھے ۔اور ہر واقعہ کوئی نہ کوئی سبق لیے ہوئے ہوتا تھا ۔ اس کورس میں بھی میری کارکردگی پچھلے کورسوں کی طرح شاندار رہی اور مجھے اپنے اساتذہ کے ساتھ ہی پیشہ ور سنائپر بننے کا موقع مل گیا ۔اور پھر ایک دن مجھے اپنے پہلے مشن کے لے سرحد پار جانا پڑ گیا جس کی کہانی میں گزشتہ صفحات میں بیان کر چکا ہوں ۔
میں ظہر وقت گھر پہنچا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی ماہین کھل اٹھی اوراس کے چہرے پر قوس ِ قزح کے رنگ جھلملانے لگے ۔ابو جان نے بھی مجھے چھاتی سے لگا کر خوب بھینچا تھا ۔ابو جان کے کمرے سے باہر جانے کے بعد میں ماہین کو مخاطب ہوا ۔
”بڑی خوش نظر آ رہی ہو ؟“
وہ ہنسی ۔”غمگین تو آپ بھی نہیں لگ رہے۔“
”میں تو اس لیے خوش ہوں کہ چھٹی ملی ہے ،چند دن آرام کروں گا اور تم ؟“
وہ ناز سے بولی ۔”جھوٹا ۔“
”جھوٹی ہو گی تم خود ۔“اسے اپنے قریب کرتے ہوئے میںنے والہانہ لہجے میں کہا۔واقعی سچ کہتے ہیں کہ کائنات کی رونق اور رنگینی عورت کے دم قدم سے ہے۔
اگلے دن ناشتا کر کے میں گھر سے نکلا ۔میرے دوستوں کی تعداد محدود سی تھی۔ان میں سے بھی بس ایک دو ہی خط چھٹی ڈال دیا کرتے تھے ورنہ تو بس چھٹی آتے ہی ملاقات ہو پاتی ۔اس وقت موبائل فون اتنا عام نہیں ہوا تھا ۔خال خال لوگ ہی موبائل رکھنا پسند کرتے تھے ۔گو موبائل فون میری پہنچ سے باہر نہیں تھا ۔لیکن ابھی تک مجھے یہ ایک فضول خرچی ہی لگ رہی تھی ۔
اپنا سب سے قریبی دوست اویس ،مجھے اس کے گھر کے باہر ہی مل گیا تھا ۔
”ارے شانی !....کیا بات ہے یار،میرا خیال ہے خط ملتے ہی تم بھاگے چلے آئے۔“
”خط؟ “میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”میرا خط نہیں ملا ۔“
”خط تم نے پوسٹ کب کیا تھا ؟....اور خیر تو ہے نا ؟“
”پرسوں ۔“
”واہ !پرسوں تم نے خط بھیجا اور کل مجھے مل گیا ،کیا ذہانت ہے ۔“
وہ سر کھجاتے ہوئے خفت سے بولا۔”میں نے سوچا شاید تم میری وجہ سے چھٹی آئے ہو ۔“
”ضرور آتا،مگر اب تو میں روٹین کی چھٹی آیا ہوں ۔“
”کوئی بات نہیں۔میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم چھٹی آ گئے ہو۔“
”اب وجہ بھی پھوٹو ؟“
وہ خوشی سے جھومتے ہوئے بولا ۔”ہفتے کو میری شادی ہے ۔“
”شادی ....کیوں وہ صوابی والی کا کیا بنا ؟“
وہ خوشی سے چہکا ۔”اسی سے تو ہے نا ۔“
میں نے خوشگوار حیرت سے پوچھا ۔”بھلا وہ کیسے ؟“
”وہ ایسے کہ ابو جان مان گئے اوررشتا لے کر صوابی پہنچے ۔ارم کے والدتو پہلے سے راضی تھے اور اب تمھاری کی دعا سے ہفتے کے دن تمھارا بھائی اپنی ارم کو لانے والا ہے ۔“
”مبارک ہو یار !“میں نے خلوص دل سے کہا ۔
”خیر مبارک ،خیر مبارک ۔“خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔اور ایساکیوں نہ ہوتا کہ وہ اپنی محبت پانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔محترما ارم نصیب خان سے اس کی ملاقات راولپنڈی میںہوئی تھی ۔اویس کا والدتلہ گنگ سے تازہ سبزی راولپنڈی سبزی منڈی لے جایا کرتاتھا ۔اس کام میں اویس اس کا ہاتھ بٹاتا۔کبھی کبھارسبزی منڈی سے واپسی پر وہ والد سے اجازت لے کر راولپنڈی شہر میں گھومنے نکل جاتا۔۔ایک بارراولپنڈی راجا بازار میں بہنوں کے لیے شاپنگ کرتے ہوئے اس کی نظر ارم صاحبا پر پڑ گئی جو اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئی ہوئی تھی ۔ارم کا والد نصیب خان پاک آرمی میں حوالدار تھا اور اس نے اپنی فیملی راولپنڈی ہی میں رکھی ہوئی تھی ۔ارم کو دیکھتے ہی ا ویس پہلی نظر میں اس پر فداہو گیا۔اور پھر اپنی شاپنگ بھول کر ماں بیٹی کے تعاقب میں ہو لیا۔عورت ذات اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے ۔ارم خوب صورت تھی بازار میں گھورنے والوں کی کمی بھی نہیں تھی کہ یہ مرد کی اوباش فطرت کا خاصہ ہے ۔مگر کسی کا یوں مسلسل گھورنا اور پیچھا کرنا اس کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکا ۔پہلے پہل تو وہ گھبرائی ،مگر اویس کی آنکھوں میں جو جذبہ ہویدا تھا اسے پہچانتے ہی وہ شانت ہو گئی ۔اویس بھی اچھا خاصا خوش شکل ہے ۔جلد ہی ارم بھی اس میں دل چسپی لینے لگی اور جب اس کی ماں خریداری کی طرف متوجہ ہوتی تو وہ اپنی دل کش مسکراہٹ اویس پر نچھاور کرنے لگتی ۔حوصلہ پاکر اویس نے تعاقب کا سلسلہ جاری رکھا جب وہ ماں بیٹی واپس ہوئیں تو وہ بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔جس سوزکی میں وہ بیٹھیں وہ اس کے پیچھے لٹک گیا ۔آخری سٹاپ کا کرایہ دے کر وہ اس جگہ اتر گیا جہاں وہ ماں بیٹی اتریں ۔اور جب وہ ایک کوارٹر میں داخل ہوئیں تو ایک عجیب پاگل پن کے ساتھ اس نے دروازے پر دستک دے دی۔ نصیب خان باہر نکلا تو اویس نے چند منٹ بات کرنے کی اجازت مانگی اور پھر اپنا مکمل تعارف کرا کربتا دیا کہ اس نے آج اس کی بیٹی کو بازار میں دیکھا اور اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے اور اب اگر نصیب خان اجازت دے تو وہ اپنے والد کو اس کے پاس بھیج دے ۔نصیب خان اس کی بات سن کر ششدر رہ گیا تھا ۔کسی پٹھان کے سامنے اس بات کا اعتراف کہ وہ اس کی بیٹی اور بیوی کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا ہے بڑے حوصلے ،جرا¿ت اور دلیری کی بات تھی ۔مگر عشق عجیب چیز ہے اس کے اس کے دامن میں بزدلی جگہ نہیں پا سکتی ۔نصیب خان چند لمحے تو کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا اور پھر فقط اتنا کہہ سکا ۔”جوان پتا بھی ہے کیا کہہ رہے ہو؟“
”جی سر !“اویس نے سعادت مندی سے کہا۔”میں آپ کی بیٹی کو اپنی عزت بنانے کے لیے آیا ہوں۔ آپ منع کر دیں گے تو واپس لوٹ جاو¿ں گا اور اس کے بعداگر مجھے کبھی یہاںدیکھ لیا تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔“
”دیکھو جوان !....آپ بہت بڑی جرا¿ت کا اظہار کر چکے ہیں ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ کیا کہوں اور پھر میں روایتی باپ بھی نہیں ہوں کہ بیٹی کی مرضی جانے بغیر اس کی شادی کر دوں ۔“
”آپ پوچھ لیں بیٹی سے ۔یقینا وہ میرے تعاقب سے بے خبر نہیں رہی ہو گی۔“
اور نصیب خان نے بھی اسے ششدر کر دیا اس نے بھی اسی وقت بیٹی کو بیٹھک میں بلا لیا ۔ اور پشتو کے بجائے اردو میں اس سے پوچھا کہ آیا وہ اویس کو جانتی ہے ۔اس نے نفی میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
”اس نے آج تمھیںبازار میں دیکھا ہے اور اب اپنے والد صاحب کو یہاں لانا چاہتا ہے ۔ کیا میں اسے والد کو بلانے کی اجازت دے دوں؟“
اس مرتبہ ارم کا چہرہ شرم سے گلنار ہو گیا تھا۔ منہ سے کچھ کہے بنا اس نے سرکو جھکا لیا ۔
”ٹھیک ہے بیٹی !....جاو¿۔“بیٹی کو واپس بھیج کر وہ اویس کو مخاطب ہوا ۔
”جوان !آپ کایہ فعل عجیب لگتا ہے ،مگر مجھے اچھا لگا ۔آپ نے آج کل کا بے ہودہ طریقہ کار اپنانے کے بجائے سادہ اور سچا طریقہ اپنایا۔اور یہ اس بات کا مظہر ہے کہ آپ کے من میں کوئی کھوٹ یا میل نہیں ہے ۔ آپ میری بیٹی کو بھی ورغلانے کی کوشش کر سکتے تھے ،مگر آپ نے ایسا نہ کیا ۔جاو¿ اب اپنے والد کو راضی کرنے کی کوشش کرو میری طرف سے ہاں ہے ۔“اویس خوشی سے پھولا نہ سماتے ہوئے واپس آ گیا۔ گھر آ کر اس نے والد سے بات کی مگر وہ اس کی شادی کہیں اور کرنے کا سوچے ہوئے تھا۔اس نے کھلا انکار کر دیا ۔ دو تین دن بعد اویس نے راولپنڈی جا کرنصیب خان کو ساری بات بتا دی اور یہ بھی کہا کہ وہ ارم کے علاوہ کہیں شادی نہیں کرے گا اگر نصیب خان اس پر تھوڑی اور مہربانی کرے اور اسے چند ماہ کی مہلت دے دے تاکہ وہ اپنے والدین کو راضی کر سکے ۔نصیب خان نے اس مرتبہ بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سال بھر کی مہلت دے دی اور اس کے ساتھ اپنے آبائی گھر کا پتا بھی اس کے حوالے کر دیا کہ اس کی سروس کے فقط چھے ماہ بقایا تھے ۔اویس اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا واپس آ گیا ۔اور اس کے بعد وہ مسلسل اس کوشش میں مصروف رہا کہ اپنے والد کو راضی کر سکے ۔وہ سعادت مند بیٹا تھا باپ کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔والد کب تک جوان بیٹے کی خواہش کو ٹا لتا، آخر گیارہ ماہ اویس کی مسلسل منت سماجت نے اسے راضی ہونے پر مجبور کر دیا ۔اس دوران اویس نے نصیب خان سے رابطہ منقطع نہیں کیا تھا ۔ وہ باقاعدگی سے مہینے پندرہ دن کے بعد نصیب خان سے ملاقات کے لیے اس کے گاو¿ں جاتا رہا ۔نصیب خان کا تعلق صوابی کے مشہور گاو¿ں شیوہ سے تھا۔اور جب وہ ریٹائرڈ ہو کر اپنے گاو¿ں چلا گیا تو وہاں بھی اس کا آنا جانا لگا رہا ۔اور اب وہ مجھے کامیابی کی نوید سنا رہا تھا۔ مجھے بھی یہ سن کر بہت اچھا لگا تھا کہ اس کی راہ کی ساری روکاوٹیں دور ہو چکی ہیں ۔
٭٭٭
ہفتے کی صبح سویرے سویرے ہی ہمارا قافلہ شیوہ گاو¿ں کی طرف روانہ ہوا ۔ پانچ بڑی بسوں کے علاوہ دو ویگنیں اور چار کاریں بھی تھیں ۔تین بسوں میں عورتیں سوار تھیں ۔نوجوان لڑکے بسوں کی چھتوں پر بیٹھے بیٹھے ڈھول کی تھاپ اور شہنائی کی سریلی آواز پر تھرک رہے تھے ۔ لڑکیوں کی بسوں میں بھی ڈھولک کی آواز کے ساتھ نوجوان لڑکیوں کی تالیوں کی آواز ایک تسلسل سے سنائی دے رہی تھی ۔کچھ سریلی اور کچھ بے سری آوازیں بھی گیتوں کی شکل میں بلند ہو رہی تھیں ۔ہم اویس کے تمام دوست ایک ہی ویگن میں بیٹھے تھے ۔صوابی شہر سے گزرتے ہوئے ہم ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شیوہ پہنچ گئے تھے۔شیوہ صوابی سے قریباََ بیس بائیس کلو میٹر دور ہے اور کافی بڑا گاو¿ں ہے ۔بلکہ اسے شہر کہنا ہی مناسب ہوگا۔پٹھانوں نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برات کے لیے بہت اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔سب سے پہلے مہمانوں کی تواضع موسم کی مناسبت سے ٹھنڈے مشروبات سے کی گئی اور اس کے بعد نکاح پڑھایا گیا ۔نکاح کے اختتام پر کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا ۔پر تکلف کھانے کے بعد رخصتی ہونی تھی مگر اس سے پہلے دولھن والوں نے ایک چھوٹی سی شرط رکھ دی کہ رخصتی اس وقت ہوگی جب دولھا یا اس کے دوستوں میں سے کوئی فائر کے ذریعے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنائے گا ۔اویس کے دوستوں نے بڑی خوشی سے یہ شرط قبول کی اور میدن میں اتر آئے ۔گاو¿ں کے نزدیک ہی ایک چھوٹی سی پہاڑی موجود تھی ۔ دولھن والے برات کو لے کر پہنچ گئے ،گو نصیب خان جوان لڑکوں کو منع کرتا رہا کہ یہ طریقہ پٹھانوں میں رائج ہے پنجاب میں اس کا کوئی تصور نہیں ۔مگر جوان اس کی کہاں سننے والے تھے ۔سب سے زیادہ پرجوش اس کا سگا بھتیجا تھا جو اویس ہی کا ہم عمر تھا ۔لگتا تھا ارم کی شادی سے اسے کوئی خاص تکلیف پہنچی تھی اور اب اس کا کچھ نہ کچھ تدارک وہ برات کی بے عزتی کر کے چکانا چاہتا تھا ۔
پہاڑی کی بنیاد میں آس پاس کی زمین سے تھوڑی ابھری ہو ئی جگہ پر ایک مربع فٹ کا ایک شیشہ لگایا گیا تھااور قریباََ تین سو میٹر دور سے اسے نشانہ بنانا تھا ۔
”اس شیشے کو ہٹ کرنے کے لیے آپ لوگوں کے پاس دس گولیاں ہیں ۔“رحمت خان نے فخریہ انداز میں ایک کلاشن کوف دولھا کی طرف بڑھائی ۔”آپ خود فائر کرنا چاہیں یا آپ کا کوئی دوست اپنی مہارت کا ثبوت دینا چاہے یہ آپ پر منحصر ہے ۔لیکن اگر دس گولیوں میں نشانہ نہ بنا سکے تو پھر دولھن لینے کے لیے آپ کو کل آنا پڑے گا اور یہ ہماری روایت ہے ۔“
”نہیں یہ روایت ہمارے پنجابی بھائیوں پر لاگو نہیں ہوتی ۔“نصیب خان نے جلدی سے اپنے بھتیجے کی تردید کی ۔
”چچا جان !روایت تو روایت ہوتی ہے ۔اور لڑکے والوں کے لیے لڑکی کے خاندان کی روایات کا پاس کرنا ضروری ہوتا ہے ۔“
اویس کا والد جلدی سے بولا۔”ہاں مگر کوئی ایسی روایت ہو جس پر عمل بھی کیا جا سکے ،ہمارے جوان ہتھیاروں سے ذرا دور ہی رہتے ہیں ۔
”حالانکہ ہتھیار مرد کا زیور ہیں ۔یقین مانو اگر میں اپنے گاو¿ں کی کوئی لڑکی بلا لوں تو دس گولیوں میں تو وہ بھی اس شیشے کو نشانہ بنا لے گی ۔“
”رحمت خان !....غلط بات ،مہمانوںسے ایسے بات نہیں کرتے ۔“نصیب خان نے اپنے بھتیجے کو ڈانٹا ۔
”چچا جان !....مردوں سے مردانگی کی توقع ہی کی جا سکتی ہے ۔“رحمت خان نے نصیب خان کی بات کو درخور اعتناءنہیں سمجھا تھا ۔
اویس نے بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا ۔میں جانتا تھا کہ وہ فائر کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے ۔ہمارے باقی دوست بھی اس معاملے میں کورے تھے۔لیکن رحمت خان کی بات ایسی نہیں تھی کہ ہمیں غصہ نہ آتا ۔اویس نے سر جھٹکتے ہوئے کلاشن کوف پکڑی نشانہ لگانے کی جگہ کی طرف بڑھا ۔
”ایک منٹ اویس !“میں اسے رکنے کا اشارہ کرکے رحمت خان کی طرف متوجہ ہوا ۔
”رحمت خان !....کیا اچھی نشانہ بازی کا مظاہرہ ہی مردانگی کی علامت ہے ؟“
اس نے استہزائی انداز میں کہا ۔”ہمارے ہاں تو ہے ۔“
میں نے پوچھا۔”مطلب جو آپ سے اچھا نشانہ باز ہو گاوہ آپ سے بہتر مرد ہوگا؟“
”بے شک ....مگر آپ لوگوں میں یقینا کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھ سے اچھا تو کیا صرف مرد ہونے کا ثبوت ہی دے دے ۔“
اس کی بات پر ہمیں تو کیا نصیب خان کو بھی غصہ آ گیا تھا ۔”رحمت خان تم حد سے بڑھ رہے ہو ۔چلو کوئی نشانہ بازی نہیں ہوگی ۔بیٹی کا باپ میں ہوں اور میں اپنی بیٹی کے لیے کوئی ایسی شرط ضروری نہیں سمجھتا ۔“
”چچا جان !آپ کی بیٹی ہماری بھی کچھ لگتی ہے ۔اور اس کے لیے رشتوں کی کمی نہیں ہے کہ ہم اپنی روایات دور جھٹکنے پر مجبور ہو جائیں ۔“
”بد تمیز !“نصیب خان غصے میں اس کی طرف بڑھا مگر میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھا م لیا۔”ایک منٹ چچا جان !....آپ غصے نہ ہوں میں مسئلہ حل کر دیتا ہوں ۔“
یہ کہہ کر میں نے اویس کے ہاتھ سے کلاشن کوف لے کر کہا ۔”رحمت خان !....اب جبکہ آپ نے ہمیں مردانگی کا ثبوت دینے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو ذرا اس شیشے کے دائیں بائیں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دو شیشے اور بھی گاڑ دیں ۔“
اس نے استہزائیہ لہجے میں پوچھا ”تو آپ دس گولیوں سے تین شیشوں کو نشانہ بنائیں گے ؟“
میں مصر ہوا ۔”آپ شیشے تو لگوائیں ۔“
”اس نے اپنے ایک دوست کو دو شیشے دے کر ہدف کی طرف دوڑا دیا۔
برات میں موجود لوگوں میں جوش کی لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ اب بات عام رواج سے ہٹ کر چیلنج کی طرف پھر گئی تھی ۔اویس کی آنکھوں میں اضطراب ہلکورے لے رہا تھا ۔اور کیوں نہ ہوتا کہ اس کی دلھن کا معاملہ تھا ۔وہ لڑکی جو جانے کب سے اس کے خوابوں میں بسی ہوئی تھی ، ایک فرسودہ روایت کی وجہ سے اس کے ملنے میں چوبیس گھنٹے کی تاخیر ہونے والی تھی ۔گو وہ میرے بارے میں جانتا تھا کہ فوجی ہونے کے ناتے میں رائفل کے استعمال سے اچھی طرح واقف ہوں گا ،مگر پھر بھی اتنی دور سے چھوٹے سے شیشے کو نشانہ بنانا اسے نہایت مشکل نظر آ رہا تھا ۔
اس لڑکے کے واپس آ تے ہی میں نے کلاشن کوف کی میگزین اتار کر میگزین میں بھری تمام گولیاں باہر نکالیں اور پھر رحمت خان کی طرف پانچ گولیاں پھینک کر میں نے باقی کی پانچ گولیاں میگزیں میں بھر لیں ۔
”تو آپ پانچ گولیوں سے تین شیشو ں کو نشانہ بنائیں گے ؟“رحمت خان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”نہیں ....“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”دو گولیاں صرف کلاشن کوف کو جانچنے کے لیے ہیں ۔ اس لیے پہلی دو گولیاں میں کسی پتھر پر فائر کروں گا ۔جب مرد ہونے کی نشانی ہی درست نشانہ لگانا ہے تو پھر کسی گولی کو خطا نہیں جانا چاہیے ۔“
”دوست !....بڑھکیں مارنا بہت آسان ہے ۔“اس مرتبہ رحمت خان کے لہجے میں پہلے والا استہزا غائب تھا۔”لیکن یہاں سے تین گولیوں پر تین شیشے توڑنا ناممکن ہے....“
”یہ میرا درد سر ہے ۔“کہہ کر میں زمین پر بیٹھ گیا تھا ۔
”اچھا اگر آپ نے تین گولیوں میں ایک بھی درست نشانہ لگا دیا تو ....“
”اگر تینوں ہٹ نہ ہوئےں تو ہم خالی ہاتھ جائیں گے ۔“میں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔
”ذیشان !“اویس نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں مجھے پکارا ۔
میں پر اعتماد لہجے میں بولا۔”فکر مت کرو ۔اویس !آج میں اپنی بہن کو لے کر ہی جاو¿ں گا ۔‘ ‘ میری بات نے نصیب خان اور ارد گرد موجود اس کے کافی رشتا داروں کے چہروں پر فخریہ مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔
جاری ہے
 

اگر میری اپنی رائفل ہوتی تو یہ ہدف نہایت آسان تھا مگر کسی دوسرے کی رائفل سے ہدف کو نشانہ بنانا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔تین سو گزکا فاصلہ ایک سنائپر کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے لیکن رائفل نشانہ باز ی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔یہاں قارئین کی معلومات کو بتاتا چلوں کہ اچھی نشانہ بازی ایک مکمل سائنس ہے ۔اس میں جہاں ایک فائرر کو بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے وہیں ہتھیارکی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے ۔آرمی میں کسی بھی فائرنگ مقابلے یا عام روٹین کی فائرنگ سے پہلے جوان اپنے ہتھیار کو صفر کرتے ہیں ۔صفر کرنے سے مراد ہتھیار کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ گولیاں صحیح نشانے پر لگ سکیں ۔اس معاملے میں سنائپر تو بہت زیادہ محتاط ہوتے ہیں ۔ایک سنائپر کبھی بھی اپنی رائفل دوسرے کو استعمال کے لیے نہیں دیتا ۔یقینا ایک اچھے نشانہ باز کے لیے میری پوزیشن کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔
خیر مجھے اپنے تجربے پر بھروسا تھا ۔میں نے سو گز دور پڑے ایک چھوٹے سے پتھر پر نشانہ باندھا اور سانس روکتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔گولی پتھر کے دائیں کونے پر لگی تھی اس وجہ سے پتھر ایک گز بائیں جا پڑا تھا۔گویا کلاشن کوف دائیں مار کر رہی تھی ۔میں نے دوبارہ اسی پتھر کے بائیں کونے پر نشانہ باندھا ۔اس مرتبہ گولی پتھر کے درمیان میں لگی اورپتھر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔
میں نے پیچھے مڑ کر رحمت خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔
”پہلے دائیں طرف والا شیشہ ، پھر درمیانی اور آخر میں بایاں ۔“
اور سامنے مڑ کر نشانہ سادھنے لگا ۔سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس وقت ہوا بالکل ساکن تھی ورنہ ہوا فائر پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے ۔سونے پر سہاگہ کہ سورج بھی میری پیٹھ پیچھے چمک رہا تھاجو نشانہ بازی کو مزید تقویت دیتا ہے ۔
کلاشن کوف کی رئیر سائیٹ پر آٹھ سو تک رینج لگائی جا سکتی ہے ۔مگر ایک انسانی آنکھ ٹیلی سکوپ یا کسی دوسرے خارجی ذریعے کے بغیر تین سوسے چار سو میٹرتک صحیح نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہتھیار بھی عموماََاس نہج پر تیار کیے جاتے ہیں ۔تین سو میٹر کے بعد شستی نقطہ اور گولی کے ملاپ میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے ۔یوں توگولی بہت زیادہ فاصلے تک جا سکتی ہے۔ مگر نشانے کی درستی نشانے باز کے منتخب کیے گئے فاصلے تک ہوتی ہے ۔مثلاََ اگر آرمی میں زیادہ استعمال ہونے والی رائفل جی تھری کو دیکھیں تو اس کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے ۔اگر اسی جی تھری کے ساتھ ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا دیں تو اس کی کارگر رینج چھے سو میٹر ہو جاتی ہے ۔جبکہ جی تھری کی گولی ساڑھے تین کلو میٹر تک ایک انسان کی جان لے سکتی ہے ۔لیکن ساڑھے تین کلومیٹر تک گولی کو منتخب ہدف تک پہنچانا ناممکن ہے ۔بلکہ کارگر رینج کے بعد ہدف کا تعین گولی خود کرتی ہے ۔گو بہت پرانے فائرر کارگر رینج کے بعد سو دو سو میٹر تک اپنے تجربے سے کچھ نہ کچھ اندازہ لگا کر ضرور کامیاب فائرکر لیتے ہیں ۔مگر یہ ان کا ذاتی تجربہ ہوتا ہے ۔عام لکھائی پڑھائی میں یہ بات نہیں آتی ۔
کلاشن کوف کی کارگر رینج بھی تین سومیٹر ہے ۔پتھر کو نشانہ بنانے کے لیے میں نے سو میٹر کی رینج لگائی تھی ۔شیشہ چونکہ تین سو گز دور تھا اس لیے میں نے تین سو کی رینج لگا کر رئیر سائیٹ کی وی سے فرنٹ سائیٹ کی ٹپ کو دیکھتے ہوئے شیشے کے بائیں کنارے کا نشانہ باندھا ۔میں زمین کے اوپر بیٹھا تھا اور میری کہنیاں اپنے گھٹنوں پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ہتھیار کو ہدف کے متوازی تھامتے ہوئے میں نے سانس روکااور ٹریگر کو آرام سے پریس کر دیا ۔دھماکے کی آواز کے ساتھ دائیں شیشے کی کرچیاں ہوا میں بکھر گئی تھیں ۔وہاں موجود افراد کے لبوں سے تحسین آمیز آوازیں بلند ہوئیں ۔اپنی پوزیشن بدلے بغیر میں نے کلاشن کوف کی مزل کو تھوڑا بائیں گھمایااور ٹریگر دبا دیا درمیانی شیشے کی کرچیاں پہلے والے شیشے کے ساتھ مکس ہو گئیں ۔اور پھر تیسرے فائر کے ساتھ میں نے تیسرا شیشہ بھی توڑ دیا تھا۔لوگوں نے تحسین آمیز نعرہ بلند کیا ۔ سب سے پہلے اویس میرے قریب آکر مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔
”شکریہ شانی !“اس نے جذبات سے بوجھل آواز میں کہا ۔اس کے بعد نصیب خان اور پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تھا ۔اچھا نشانہ باز پٹھانوں کے لیے ہیرو کی مانند ہوتا ہے ۔کیونکہ ہتھیار سے پٹھان کی محبت اس کے خون میں شامل ہے ۔رحمت خان نے بھی پھیکے دل سے میری تعریف کی تھی ۔وہ مجھ سے مرعوب تو ہو گیا تھا مگر اس کے ساتھ اس کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت کا پیغام بھی صاف پڑھا جا سکتا تھا۔خیر مجھے اس سے کچھ لینا دینا تو تھا نہیں ،کہ میں اس کی نفرت یا محبت کو خاطر میں لاتا ۔گو اسے کہنے کو میرے پاس کافی ذخیرہ الفاظ موجود تھا ۔مگر اس کے منہ پر تھپڑ مارنے کو میری نشانہ بازی کا عملی مظاہرہ ہی کافی رہاتھا ۔ اس کے بعد وہ ہماری روانگی تک مجھے نظر نہیں آیاتھا ۔
ایک صاحب نے نزدیک آ کر میری پیٹھ تھپتھاتے ہوئے کہا ۔
”بھائی صاحب !....آج تو آپ نے یوسف خان کی طرح لڑکی والوں کی منہ مانگی شرط پوری کی ہے۔“
مجھے یوسف خان کی کہانی کا تو علم نہیں تھا ،مگر میں نے ہنس کر اس کا شکریہ ضرور ادا کر دیا تھا ۔
دولھن کو اس کی رشتا دار عورتیں پکڑ کر باہر لائیں اور کار میں بٹھانے لگیں ۔دوسری عورتیں اور مرد بھی بسوں وغیرہ میں بیٹھنے لگ گئے تھے ۔میں ویگن کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ مجھے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباومحسوس ہوا ۔میں نے مڑ کر دیکھا ۔ ایک عمر رسیدہ بزرگ کھڑے تھے ۔
”اسلام علیکم باباجی !“میں نے جلدی سے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا۔مجھے اندازہ تھا کہ نشانہ بازی پر مجھے سراہنے والا کوئی ہو گا ۔کیونکہ کافی انجان آدمیوں نے بڑی محبت اور چاہت سے میری پیٹھ تھکنے کے ساتھ مجھ سے بڑی چاہت سے معانقہ بھی کیا تھا ۔مگر جب اس بوڑھے نے لبوں کو جنبش دی تو میں ششدر رہ گیا تھا ۔
”بیٹا !....بہت مایوس کیا آپ نے ۔“اس نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”وہ کیسے بزرگو!....؟“میرے لہجے میں حیرانی کے ساتھ طنز کی بھی آمیزش تھی ۔
وہ مدبرانہ لہجے میں گویا ہوا ۔”بیٹا!جسے آپ اپنے تیئں کارنامہ سمجھ رہے ہو میرے نزدیک ایک نو آموز کی درمیانہ درجے کی کارروائی ہے ۔عام لوگوں کا سراہنا اپنی جگہ مگر آپ ایمان داری سے بتائیں جب پتھر پر پہلی گولی چلانے کے ساتھ آپ کویہ پتا چل گیا تھا کہ گولی کس طرف کو جا رہی ہے تو دوسری گولی چلانے کا فائدہ ؟....یہ سراسر اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ آپ میں خود اعتمادی کی کمی ہے ۔ہوا بھی ساکن تھی ،روشنی آپ کے موافق،پھردوسری گولی کیوں ضائع کی ۔سنائپر کے لیے ایک گولی کی کتنی اہمیت ہوتی ہے کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے۔پھر آپ نے پہلے شیشے کے درمیان میں گولی ہٹ کی دوسرے شیشے پر یہ گولی دائیں کنارے پر لگی اور تیسرے شیشے پر یہ گولی بائیں کنارے پر لگی ۔میں خود قریب جا کر دیکھ کر آیا ہوں ۔یہ کون سی سنائپنگ ہے ؟....سراسر اناڑی پن ہے۔اور پہلی گولی کے بعد ہر نیا نشانہ لیتے ہوئے آپ نے دس سے پندرہ سیکنڈز ضائع کیے ۔اگلا نشانہ ایک سے دو سیکنڈ کے اندر لے لینا چاہیے تھا۔ جبکہ سنائپر رائفل کے بر عکس آپ کے ہاتھ میں کلاشن کوف تھی جو کہ آٹو میٹک ہتھیار ہے۔“
اس بوڑھے کی باتوں نے مجھے ایک دم احساس دلا دیا کہ کسی اہل فن کے سامنے کھڑا ہوں۔اس کا مشاہدہ غضب کا تھا ۔یقینا ایک ہی رائفل سے فائر کرنے والے اچھے فائرر کی گولیاں ایک ہی جگہ پر لگنا چاہیں تھیں۔اور نشانے کو یقینی بنانے کے لیے میں نے واقعی عام حالت کے بر عکس زیادہ وقت لگایا تھا ۔
میں نے خفیف لہجے جواب دیا ۔”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں سر !....وہ کیا کہتے ہیں اندھوں میں کانا راجا،تو بس وہی مثال مجھ پر فٹ بیٹھتی ہے ۔مجھے کیا معلوم تھا کوئی استاد یہاں موجود ہے۔ اگر پتا ہوتا تو ضرور احتیاط کرتا ۔ گو اس کے بعد بھی آپ میری غلطیاں ڈھونڈلیتے مگر یہ یقینی بات ہے کہ ایسی صورت میں غلطیوں کی تعداد میں تھوڑی کمی ضرورہوتی ۔“
”بیٹا !....ہمیشہ یاد رکھو ایک سنائپر کے لیے ضرروی ہے کہ وہ جب بھی ٹریگر پریس کرے یہ سوچ کر کرے کہ اس کے پاس آخری گولی ہے جو نشانے پر لگنے کی صورت ہی میں اس کامشن پایاے تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔“
”ویسے سر !.... آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں سنائپر ہوں ؟“میں متجسس ہوا ۔
وہ ہنسا۔”جس نے عمر کا بہترین حصہ اس شغل میں بِتایا ہو ؟ یہ سوال اس کا مذاق اڑانے ہی کے مترادف ہے ۔“
”آپ کا نام جان سکتا ہوں سر؟“
”آج کل مجھے عمر درازخان کہتے ہیں۔ویسے کبھی عزرائیل ثانی کہہ کر پکارا جاتا تھا۔“
”کیا ؟“میں نے بے ساختہ اس کے ہاتھ تھام کر چوم لیے ۔وہ میرے استادوں کے استادوں کا بھی استاد تھا ۔اس وقت پاک آرمی میں سنائپنگ کے لیے جی تھری پرٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر استعمال کیا جاتا تھا۔وہ جی تھری رائفل سے چھے سو میٹر تک بھی ایک آدمی کے عین دونوں آنکھوں کے درمیان گولی مارنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔(آج کی جدید سنائپر رائفل سے ایک نو آموز بھی چھے سو میٹر پر ہدف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے ۔مگر جی تھری رائفل سے چھے سو کے فاصلے پر کسی آدمی کو نشانہ بنانا بہت بڑاکمال تھا کجا یہ کہ اس کے سر میں گولی ماری جائے )دوسو اور تین سو میٹر کے فاصلے سے وہ ٹارگٹ پر کوئی بھی نام لکھ لیتا تھا ۔اس کی کہانیاں آج تک سنائپرز میں زبان زد عام تھیں ۔وہ کبھی اپنے مشن کو ادھورا چھوڑ کر نہیں لوٹا تھا۔ استاد ہمیں بتاتے تھے کہ وہ اڑتی ہوئی مکھی کو بھی نشانہ بنا سکتا تھا۔وہ ہمارے لیے ہیرو کا درجہ رکھتا تھا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ بہ ظاہر گم نام ہو گیا تھا مگر اس کے شاگرداور پھر شاگردوں کے شاگرد آج تک اس کے کارناموں اور اس کے نام کو زندہ رکھے ہوئے تھے ۔
”آپ مجھے جانتے ہیں ؟“اس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری جس میں غرور کے بجائے انکساری چھپی تھی ۔
میں نے فرط عقیدت سے کہا۔”آپ میرے ہیرو ہیںسر!....بلکہ میرے کیا ہم سب کے ہیرو ہیں۔“
”آپ لوگوں کی محبت ہے بیٹا!“
اسی وقت اویس نے مجھے آواز دی ۔”ذیشان!....ہم بس تمھاراہی انتظار کر رہے ہیں ۔“
”اچھا سر !....اجازت دیں ۔“ میں نے ایک مرتبہ پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھا م کر چوما۔ ”میں ان شاءاللہ جلد ہی آپ کو ملنے دوبارہ آو¿ں گا ۔“
”ضرور بیٹا !“اس نے مجھے کھینچ کر چھاتی سے لگایا اور میرے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے بولا۔ ” لگتا ہے تم میرا ریکارڈ توڑ دو گے ۔“اس نے اپنائیت سے مجھے آپ کے بجائے تم کہا تھا۔جو مجھے بہت اچھا لگاتھا۔
”مشکل ہے سر !“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”ہاں البتہ کوشش ضرور کروں گا ۔“
”گڈ ،اور جب ملنے آنا تو وہ میرا مکان ہے ۔“اس نے تھوڑی دور موجود ایک سفید رنگ کے پختہ مکان کی طرف اشارہ کیا ۔
میں ”شکریہ ۔“کہہ کر منتظر کھڑی ویگن کی طرف بڑھ گیا ۔
٭٭٭
اگلے دن اویس کی دعوتِ ولیمہ تھی ۔جہاں میں مرکزِ نگاہ بنا رہا ۔مرد تو کیا گاو¿ں کی عورتوں کوبھی میرے کارنامے کی بابت پتا چل گیا تھا ۔اویس تو میرے صدقے قربان جا رہا تھا ۔اس نے ہنستے ہوئے اپنی نئی نویلی دولھن کا شکریہ بھی مجھ تک پہنچا دیا تھا۔
”بس یار اللہ پاک نے عزت رکھ لی ۔“میں نے انکساری سے اس کی بات کا جواب دیا ۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”بالکل اللہ پاک ہی سب کی عزت رکھنے والا ہے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بندہ اس طرح کی استادی نہیں دکھا سکتا ۔“
اس وقت بشیر بابا نے آکر مجھے چھاتی سے لگا لیا ۔”واہ میرے شیر !....دل خوش کر دیا ہے ۔ اگرآپ نہ ہوتے تو کل شایدپٹھان بھائیوں کے سامنے ہماری سبکی ہو جاتی ۔“
”عزت ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے چچا ۔“
”ہاں بیٹا !صحیح کہا ۔ سبب بھی تووہی پا ک پروردگار پیدا فرماتا ہے ۔“
میں اثبات میں سر ہلا کر اویس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا ۔صبح دس بجے ہی کھانا کھلانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔میں چونکہ دولھا کا قریبی دوست تھا اس لیے میں بھی انتظامیہ میں تھا ۔اور پھر دن بارہ بجے کے قریب ابوجان نے وہیں آکر مجھے ایک مہمان کی آمد کی اطلاع دی ۔
”کون ہے ابو جان ؟“
”تمھارا فوج کا کوئی ساتھی ہے بیٹا!“
”اسے یہیں ساتھ لے آنا تھا۔“
ابوجان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”وہ ہمارا مہمان ہے بیٹا ....تمھارے دوست اویس کا نہیں ۔“
”اچھا آپ چلیں ،میں اویس کو بتا کے آتا ہوں ۔“
ابوجان سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گئے اور میں اویس کی طرف بڑھ گیا،کہ اس سے اجازت لینا ضروری تھا ۔
”یار مہمان کو بھی یہیں لے آتے ۔“اویس نے بلا تکلف آفر کی ۔
”میرا بھی یہی ارادہ تھا مگر ابوجان کہتے ہیں گھر کی رحمت پر پہلا حق اسی گھرانے کا ہوتا ہے جہاں رب پاک نے وہ رحمت بھیجی ہوتی ہے ۔“
”چلو ٹھیک ہے ۔“وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا اور میں گھر کی جانب چل دیا ۔
بیٹھک میں ابوجان کے ہمراہ شہزاد بیٹھا تھا ۔اس کاتعلق بھی تلہ گنگ ہی سے تھا ۔
”ارے شہزادے !....
تم؟“میں بازو پھیلا کر اس کی جانب بڑھا ۔وہ بھی مسکراتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا ۔پرتپاک معانقے کے بعد میں اس کے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”اچھا آپ لوگ گپ شپ کرومیں کھانے کا دیکھ لوں ۔“ابوجان گھر کے اندر کی جانب بڑھ گئے ۔ٹیبل پردھرے چاے کے برتن وہ ساتھ لے جانا نہیں بھولے تھے ۔
”سناو¿ بھئی !کیسے رستا بھول پڑے ؟“
وہ ہنسا۔”کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔“
”یا اللہ خیر۔“میں نے ڈرنے کی اداکاری کی ۔
” اتنا بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بس تمھاری بقیہ چھٹی منسوخ ہو گئی ہے ۔“
”دھت تیرے کی ۔“میں نے منہ بنایا۔
”گھبرا گئے ؟“
”نہیں بہت خوش ہوں ۔“میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔
”وجہ نہیں پوچھو گے؟“
”نہیں ....پہلے چھٹی کی منسوخی کی خبر ہضم کر لوں ۔“
”اب اتنا بھی خراب نہیں ہے تمھارا ہاضمہ ۔“
”اچھا پھوٹو ....تمھارے پیٹ میں درد ہو رہا ہو گا ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا۔”یقین مانو کسی فوجی کے لیے سب سے بری خبر چھٹی سے بلاوے کی ہوتی ہے ۔“
”صحیح کہا یار !“میں نے تکیے کے ساتھ ٹیک لگالی ۔
”کسی کورس کے سلسلے میں ملک سے باہر جانے کا سنا ہے میں نے ۔“اس نے محتاط الفا ظ میں مجھے اصل بات بتانا چاہی ۔
”ملک سے باہر ،کیا میں نے جانا ہے ؟“میرے لہجے میں بے یقینی تھی ۔
”دو نشانہ باز جائیں گے اور ان کا انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر ہو گا ۔“
”تو دو بندوں کے جانے کا میری چھٹی سے کیا تعلق ....؟“
”کل سے تمام لوگوں کی دو ہفتوں کی پری ٹریننگ شروع ہو رہی ہے ۔ٹریننگ کے اختتام پر اچھی کارکردگی والے دو سنائپرز امریکہ جائیں گے ۔وہاں پر دوسرے ممالک سے بھی کچھ سنائپرز آ رہے ہیں ۔ اس اکٹھ میں پہلا ہفتہ تو رینج ماسٹر کی سائیٹ کے بارے جان کاری مہیا کرنے کے متعلق ہوگااس کے بعد آٹھ ہفتوں کاسنائپر کورس ہے جس میں کارکردگی کی بنیاد پر سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیے جائیں گے اور یقینا ہر ملک چنے ہوئے افراد ہی بھیجے گا ۔اور یہی کوشش ہمارے کمانڈر کی بھی ہے ۔“
”مگر یار!.... رینج ماسٹر تو برطانیہ کا ہتھیار ہے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔(ان دنوں رینج ماسٹر نئی نئی پاکستان آرمی میں وارد ہوئی تھی ۔یہ ایک لانگ رینج اور بڑے کیلیبروالی سنائپر رائفل ہے ۔ اوراپنی ٹیلی سکوپ سائیٹ کی مدد سے کوئی بھی اچھا نشانے باز اس سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک کسی انسان کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اپنے بڑے کیلیبر کی وجہ سے اسے افراد کے علاوہ میٹریل کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔)
”ہاں ،مگر لیوپولڈ سائیٹ ایک امریکن کمپنی کی ایجاد ہے ۔“اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا ۔
”جانا کب ہے ؟“
”بتایا تو ہے ۔دو ہفتوں کی ٹریننگ کے بعد جن افراد کا انتخاب ہوگا وہی جائیں گے۔ شاید ہفتہ ایک مزیدکاغذی کارروائی وغیرہ میں لگ جائے ۔“
”مطلب دو ہفتوں بعد مجھے بقیہ چھٹی مل جائے گی ؟“
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیوں ؟تم نہیں جانا چاہتے ؟“
”میرے چاہنے سے کیا ہو گایار!،کئی پرانے سنائپر موجود ہیں وہ ہمیں آگے تھوڑابڑھنے دیں گے۔“
وہ خلوص سے بولا۔”کوشش کرو۔ تم جا سکتے ہو۔“
”خوش فہمی ہے تمھاری ۔“
”نہیں ....خوش فہمی ہمیشہ اپنے بارے ہوا کرتی ہے ۔“اس نے کہا ۔اسی وقت ابوجان کھانے کے برتنوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
”ابو جان!مجھے آواز دے لی ہوتی۔“میں نے جلدی سے برتن ان کے ہاتھ سے پکڑ لیے ۔
”کوئی بات نہیں بیٹا !....“ابو جان نے مسکرا کر کہا۔”یہ کون سا بھاری بوجھ ہے ۔چند روٹیاں اور ڈونگا بھر سالن ہی تو ہے۔“
”بات وزن کی نہیں احساس کی ہے ابو جان !“
مجھے نادم دیکھ کر ابو جان نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”مہمان کے لیے لایا ہوں بیٹا!“
”آپ بھی آئیں نا ۔“انھیں واپس جاتے دیکھ کر میں نے کہا ۔
”میں کھا چکا ہوں ۔“
”میں بھی آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔“کھانے کے برتن شہزاد کے سامنے دھرتے ہوئے میں صاف گوئی سے بولا۔
”کیوں ڈائیٹنگ کر رہے ہو یابھابی کی اجازت نہیں ہے۔“
”میں ولیمے سے آ رہا ہوں ۔کیا کوئی گنجایش سے ہو سکتی ہے ؟“
”یقینا نہیں ۔“کہہ کر وہ کھانے کو جڑ گیا ۔مگر اس دوران اس کی زبان نہیں رکی تھی ۔
”یار شانی !....تمھارا نشانہ بہت اچھا ہے اور سنائپنگ میں نشانے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔“
”اچھا ایک اور بات بتاو¿ں....“مجھے استاد عمر دراز سے ملاقات یاد آئی ۔”کل اپنے دوست کی اویس کی شادی کے سلسلے میں ہم صوابی گئے تھے وہاں اتفاق سے استاد عمر دراز سے ملاقات ہو گئی ۔“
”عمر دراز ....؟“
میں ہنسا۔ ”تم اسے عزرائیل ثانی کے نام سے جانتے ہو گئے ۔“
”کیا ....یعنی وہ ایک حقیقی کردار ہے ؟“اس نے چبائے بغیر نوالہ نگلتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔
اس کی حیرانی بجا تھی استاد عمر دراز کے اتنے زیادہ قصے ہم نے سنے تھے کہ ہمیں وہ افسانوی کردار لگتاتھا۔
”بالکل ۔“
”مگر تم نے اسے کیسے پہچانا،مطلب تمھارا تعارف کیسے ہوا؟“
جواباََمیں نے ملاقات کی ساری تفصیل دہرا دی ۔
اس نے بے ساختہ مجھے داد دیتے ہوئے کہا۔”واہ ....اس کا مطلب ہے جناب کی نشانہ بازی کی شہرت پنجاب سے خیبر پختون خواہ تک پھیل چکی ہے۔“
”شہرت کہاں یار!....استاد عمر دراز نے میرے شیخی کے غبارے سے ایسے ہوا نکالی کہ اب تو شرمندگی ہو رہی ہے ۔“
”بے وقوف ہو تم ....اس جیسے اہل فن کا تمھاری نشانہ بازی پر بات کرنا ہی تمھارے لیے باعثِ فخر ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ویسے وہ دکھنے میں کیسا ہے ؟“
”درمیانی قد و قامت کا ہے ۔قریباََ میرے جتنا ہی قد ہو گا ۔“
”کبھی موقع ملا تو ملاقات کو چلیں گے ۔“
”انشا ءاللہ ،ضرور۔“میں نے کہا۔
”واپسی کا کیا ارادہ ہے ؟“
”اپنی کہو ۔“
”جمعہ کو آیا تھا اور آج ہی واپسی ہے ۔“
”ٹھیک ہے بس اڈے پر میرا انتظار کرنا۔اکٹھے چلیں گے ۔“
اوراس نے کھانے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔
٭٭٭
دوڑنا بھاگنا آرمی کے ہر کورس، کھیل اور کیڈر کا جزو لاینفک ہے ۔ہم بھی صبح کی سخت ترین پی ٹی کے بعد فائرنگ رینج پر پہنچے تو انسٹرکٹر شدت سے منتظر نظر آئے ۔چونکہ پی ٹی اور فائرنگ کے انسٹرکٹر علاحدہ علاحدہ تھے اس لیے فائرنگ انسٹرکٹروہاں پہلے سے وہاں موجود تھے ۔صوبیدار راو¿ تصور صاحب ہمیں پڑھانے لگے۔
”سنائپنگ آپ لوگوں کے لیے کوئی نیا موضوع نہیں ہے لیکن الفاظ کے تکرار اور دہرائی سے ہمیشہ انسان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ کوئی بات دوسری یا تیسری دفعہ سمجھانے پر انسان کے دماغ میں بیٹھتی ہے ۔ہم آج بھی زیادہ تر پرانی باتوں کو دہرائیں گے ۔ اس کا یہ مطلب لینابھی بالکل غلط ہے کہ کچھ نیا نہیں پڑھیں گے ۔گویا ہم دہرائی کے ساتھ پڑھائی بھی کریں گے ۔آپ جانتے ہوں گے کہ ایک اچھے سنائپر کے لیے چند باتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔جیسا کہ وہ اچھا نشانے باز ہو ،چھپاو¿ اور تلبیس کا ماہر ہو ،جنگی چالو ںسے اچھی طرح واقف ہو ،اسے نقشہ بینی پر عبور ہو ،بہت زیادہ قوت برداشت کا مالک ہواور جلدی سے فیصلہ کر کے اس پرعمل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو ۔گو اس کے علاوہ بھی کئی خصوصیات ایک اچھے سنائپر سے توقع کی جا سکتی ہیں مگر ان کی حیثیت ثانوی ہے ۔جہاں تک تعلق ہے نشانہ بازی کا یہ ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ۔اور زیادہ سکھلائی اس صلاحیت کو مزید پالش کرتی ہے ۔ اگر ایک آدمی قدرتی طور پر اچھا فائرر نہیں ہے تو زیادہ پریکٹس سے اس کا فائر بہتر تو ہو سکتا ہے بہترین نہیں ہو سکتا ۔ مطلب وہ اچھا سپاہی بن سکتا ہے ،اچھا سنائپر نہیں بن سکتا ۔ نشانہ بازی کے علاوہ جلدی اور بر وقت فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی ایک آدمی کو قدرتی طور پر میسر ہوتی ہے ۔البتہ باقی کی صلاحیتیںمشق کی متقاضی ہوتی ہیں۔جیسے چھپنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ چیزیں نظر کیوں آتی ہیں،کوئی بتا سکتا ہے چیزیں نظر کیوں آتی ہیں ؟“راو¿ صاحب ہمیشہ تبادلہ خیال کے انداز میں لیکچر دیتے ۔
”جی سر !“شہزاد جلدی سے بولا۔”شکل و صورت سے ،سا ئے سے ،حرکت سے،فوجی سازو سامان سے،سطح سے ،پس منظر سے،۔درمیانی فاصلے سے۔ “
”گڈ،اب جبکہ ہمیں پتا چل گیا کہ ہم کس وجہ سے نظر آ سکتے ہیں تو چھپنے کے لیے ہمیں ان باتوں سے پرہیز کرنا ہو گا ۔دیکھیں بھیڑوںکے ریوڑ کے درمیان چلتا ہوا گڈریا ہمیں فوراََ نظر آ سکتا ہے لیکن وہی گڈریا اگر اپنے ہاتھ زمین پر ٹیک کر گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دے تو یقینااس کا نظر آنا ممکن نہیں رہے گا۔کیاخیال ہے ؟“
”جی سر !“ہم یک زبان بولے تھے ۔
”اسی طرح سرسبز جھاڑیوں کے بیچ سفید ،سرخ ،زرد رنگ وغیرہ قسم کا لباس پہن کر چھپنے کی کوشش کرنا،ناکامی کو گلے لگانے والی بات ہے ۔البتہ سبز رنگ کا لباس آپ کو سبزے کا حصہ بنا دے گا ۔ اس کے برعکس اگر آپ برفیلے علاقے میں ہیں تو وہی سبز رنگ آپ کوپھنسا دے گا۔وہاں آپ کو سفید رنگ کالباس چھپنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ ساکن اشیاءکے درمیان آپ کی ذرا سی حرکت بڑی آسانی سے مشاہدے کی زد میں آ جائے گی اور سکائی لائن پر حرکت تو ایک سنائپر کے لیے تباہ کن ہے ........“ان کی باتیں جاری رہیں ۔راو¿ صاحب کا کسی بھی موضوع پر لیکچر سن کر میرے دل میں یہی خیال جنم لیتا کہ میں اس موضوع کے بارے بہت کم جانتا ہوں ۔ہمیشہ ان کے لیکچر میں نئے نئے نکات اور عمدہ معلومات کی بھر مار ہوتی ۔ دوپیریڈپڑھائی کے بعد ہم فائر کرنے لگے اور بقیہ دن اسی کام میں گزرا ۔
٭٭٭
دو ہفتوں کے بعدپر ہمارا ٹیسٹ ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ نمبر نشانہ بازی کے تھے ۔ پہلے ہفتے کے اختتام پر میںنے ویک اینڈ لیا،لیکن گھر جانے کے بجائے میں نے صوابی کا رخ کیا تھا۔ہمارے استاد ہمیں بہت اچھا پڑھا رہے تھے مگر اس کے باوجود میری خواہش تھی کہ میں مقابلے کے ٹیسٹ سے پہلے استاد عمر دراز سے کوئی رہنمائی لے لوں ۔یقینا اس کے پاس عملی تجربہ موجود تھا ۔صوابی سے بیس بائیس کلومیٹر آگے اس کا گاو¿ں تھا ۔شیوا نام کا گاو¿ں کافی بڑا تھا ۔اس کامکان ڈھونڈنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔دروازے پر اطلاعی گھنٹی کی غیر موجودی میں مجھے دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
دروازہ استاد عمر دراز ہی نے کھولا ۔”ارے ذیشان بیٹا ۔“مجھے دیکھتے ہوئے اس نے حیرانی سے کہا اور اس کے ساتھ ہی معانقے کے لیے بازو وا کر دیے۔
”جی سر !“میں نے احترام سے جواب دیا ۔
”اندر آجاو¿۔“اس نے ایک طرف ہو کر مجھے اندر جانے کا رستا دیا ۔
”ویسے سر !شایدمیں نے اپنا نام آپ کو نہیں بتایا تھا ۔“میں نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہ سوال اس بات کا ثبوت ہے کہ تم اپنی ٹریننگ کو عام زندگی میں بروے کار نہیں لا رہے ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“استاد عمر دراز کے اشارے پر میں صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا تھا ۔
”بھول گئے،اس دن جب تم لوگ واپس جا رہے تھے تو تمھارے دوست نے نام لے کر تمھیں پکارا تھا۔اور ایک سنائپر کی یاداشت اتنی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ اسے ہفتے ڈیڑھ میں اسے کسی کا نام بھول جائے۔
اس کی بات سن کرمیں ششدر رہ گیا تھا۔واقعی میں اس کی یاداشت اور مشاہدہ غضب کا تھا۔کسی دوسرے کے پکارنے پر کسی کا نام یوں یاد رکھ لینا بہ ظاہر نظر عام سی بات ہے مگر روز مرہ کی زندگی کو دیکھیںتو اس بات کااندازہ ہوگا ،کہ کیاہم سرسری ملاقات میں کسی کا نام اس طرح یاد رکھ سکتے ہیں،یقینا سیکڑوں میں کوئی ایک ادھ بندہ ہی یاد رکھ پاتا ہو گا ۔
”سر !آپ قدرتی سنائپر ہیں ۔“میں تعریف کیے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”برخوردار !ایک نام یاد رکھنے سے میں سنائپر بن گیا ۔“
”سر!....نام تو میں ایک وقت میں درجنوں یاد کر لوں گا ،الحمداللہ میری یاداشت بھی بہت اچھی ہے،مگر آپ انداز تھوڑا نرالا لگا۔“
وہ ہنسا ۔”خیر چھوڑو۔یہ بتاو¿ چاے، قہوہ یا ٹھنڈا چلے گا؟“
”موسم کی مناسبت سے تو ٹھنڈا ہی بہتر رہے گا ۔“میں نے بغیر کسی تکلف کے جواب دیا۔
اس نے وہیں سے زور دار ہانک لگائی ۔”وشمہ !“اور اس کے بعد پشتو میں جوکچھ کہااس میں صرف شربت کا لفظ میرے پلّے پڑا تھا۔
اور پھر اس سے پہلے کہ میں وشمہ کے بارے کوئی اندازہ لگاتا وہ اپنا تعارف کرانے لگا۔اس کی نرینہ اولاد نہیں تھی ۔دو بیٹیاں تھیں جو کہ کب کی اپنے گھروں کی ہو گئیں تھیں بلکہ اب تو خود بچوں والی تھیں۔ ان دنوں وہ اپنی گھر والی کے ساتھ اکیلا ہی رہ رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مجھے سیدھا گھر کے اندر لے آیا تھا ورنہ پٹھانوں میں کسی کو گھر کے اندر لے جانے کا رواج ذرا کم ہی ہے ۔مہمانوں کی خاطر ہر گھر سے ملحق بیٹھک موجود ہوتی ہے ۔
شربت بنا کر اس کی بیوی وہیں لے آئی تھی ۔جگ گلاس ٹیبل پر رکھ کر اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پشتو میں کچھ کہا ۔جس کا ترجمہ استاد عمر دراز نے کیا ۔وہ مجھ سے حال چال پوچھ رہی تھی۔
”ٹھیک ٹھاک ہوں خالہ !....بس آپ کی دعا چاہیے ۔“میں نے اردو میں کہا ۔
میر ی کا ترجمہ بھی استاد عمر دراز نے پشتو میں کیا اور وہ سر ہلاتے ہوئے واپس چلی گئی ۔
استاد عمر دراز نے مسکراتے ہوئے مجھے مشورہ دیا۔”ویسے تمھیں پشتو سیکھ لینا چاہیے ۔“یہ کہہ کر وہ جگ سے گلاس بھرنے لگا۔
”صحیح فرمایا۔“شربت کا گلاس اس کے ہاتھ سے تھامتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”فی الحال تو آپ مجھے نشانہ بازی کے بارے کچھ سکھائیں۔“
”اتنے اچھے نشانہ باز تو ہو تم ۔“
”شایدایسا ہی ہے ،مگر میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں۔“
”تو کس نے کہا کہ تم مجھ سے کم ہو۔“
”سر !گوآپ کسرِ نفسی سے یہ کہہ رہے ہیں ۔اس کے باوجود میں پھولے نہیں سما رہا ۔“
”اب ایسا بھی نہیں ہے ۔“
سر !اب چھوڑیں بھی یہ نہ ہو میں پھول کر پھٹ ہی جاو¿ں۔اور میری یاداشت اتنی بھی کم زور نہیں ہے ۔مجھے آپ کی ساری گفتگو حرف بہ حرف یاد ہے کہ میرے فائر میں آپ کو کون کون سی خامیاں دکھائی دی تھیں اب میں وہ اور اس جیسی مزیدخامیاں دور کرانے آیا ہوں۔“
” اس کے لیے آپ کے اساتذہ موجود ہیں نا ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”یا ان سے مطمئن نہیں ہو ؟“
”نہیں بہت اچھے استاد ہیں ،خاص کر راو¿ تصور صاحب تو بہترین انسٹرکٹر ہیں ۔“میں خلوص دل سے بولا ۔”لیکن آپ تو ان کے بھی استاد ہیں ،بلکہ ان کے استادوں کے استاد۔“
”ہاں مگر اب تو کئی جدید رائفلز متعارف ہو گئی ہیں اور ہم ٹھہرے ماضی کے سنائپر ۔“
”سر !نشانہ بازی کی اصل ٹیکنیکس تو وہی ہیں نا ۔“
وہ مسکرایا۔”ویسے تمھارے بارے میرا اندازہ ٹھیک تھا،کہ کافی ضدی ہو۔“
”پرسوں شام کو میری واپسی ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔
”ہتھیار تو یقیناساتھ نہیںلایا ہوگا ؟“اس نے پوچھا۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”سر! آپ تو آرمی کے قوانین کے بارے اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
”یونھی پوچھ لیا تھا ۔ویسے میرے پاس ڈریگنوو موجود ہے ۔“
”اوہ ویری گڈ ۔“میں نے تحسین آمیزلہجے میں کہا ۔(ڈریگنوو سنائپر رائفل روس کی ایجاد کردہ ایک آٹومیٹک سنائپر رائفل ہے حالانکہ عمومی طور پر سنائپر رائفلز بولٹ ایکشن ہوتی ہیں مطلب ہر دفعہ فائر کے بعد رائفل کو کاک کرنا پڑتا ہے ۔اس کی رینج ہزار میٹر ہے اور میگزین میں دس گولیوں کی گنجائش ہے ۔ اس کا بُلٹ سٹائر سنائپر جتنا ہی ہوتا ہے مطلب 7.62ایم ایم ۔)
”بس میاں !شوق تھا پچھلے سال کچھ رقم ہاتھ لگی اور میں نے اپنا شوق پورا کر لیا ۔ٹھہرو تمھیں دکھاتا ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اور چند لمحوں بعد ڈریگنوو رائفل کو ہاتھ میں پکڑے کمرے سے برآمد ہوا ۔رائفل کی بھوری باڈی چمک رہی تھی ۔واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ استاد عمر دراز اس کی صفائی کا خصوصی اہتمام کرتا ہے ۔
”یہ دیکھو ۔“اس نے رائفل اس انداز میں دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر میرے حوالے کی گویا وہ کوئی مقدس صحیفہ ہو ۔
میں نے اس کے ہاتھ سے رائفل تھامتے ہوئے اپنی ٹریننگ کے مطابق سب سے پہلے رائفل کی میگزین اتاری اور پھر دو دفعہ کاک کرکے اس کے خالی ہونے کا یقین کرنے کے لیے اس کی بیرل اوپر کی طرف کرکے میں نے ٹریگر پریس کیا اور پوچھا ۔
”کافی مہنگی آئی ہو گی ؟“
”نہیں، میرے شوق سے تھوڑی کم قیمت ہی تھی ۔“
”ہاں سر !شوق سے تو ہر قیمت کم ہی ہوتی ہے ۔اوراس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ؟“میں بے ساختہ ہنس کر پوچھا۔
”خریدی تھی ۔اس کے بغیر یہ رائفل کس کام کی ۔“
”صحیح کہا سر !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
اسی وقت شام کی آذان ہونے لگی تھی وضو کر کے ہم مسجد میں چلے گئے ۔وہاں کافی آدمیوں نے مجھے پہچان لیا تھا۔اویس کی شادی کے دن میں نے نشانہ بازی کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ انھیں بھولا نہیں تھا۔وہ تمام مجھے بہت محبت اور عقیدت سے ملے تھے ۔نماز کے بعد کافی آدمی بہ ضد تھے کہ میں ان کے گھر کھانا کھانے چلوں ،مگر استاد عمر دراز خود ایک روایتی پٹھان تھا ۔گھر آئی رحمت کو وہ کسی کے گھر کیسے جانے دے سکتا تھا ،کھانا کھا کر ہم عشاءکی نماز تک گپ شپ کرتے رہے ۔نماز پڑھ کر استاد عمر دراز بیٹھک ہی میں رائفل اٹھا لایا اور مجھے نشانہ بازی کے متعلق خاص خاص باتیں بتانے لگا ۔
”پتا ہے ،فائر پرسب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز کون سی ہے ؟“
”ہوا ....“میں بغیر کسی جھجک کے بولا۔
”گڈ۔“اس نے تحسین آمیز انداز میں سر ہلایا۔”فائر پر اثر انداز ہونے والے امور میں ہوا سب سے اہم ہے ۔اور یقینا تم جانتے ہو گے، کہ جوں جوں فاصلہ بڑھتا جائے گا فائر ہونے والی گولی پر ہوا کا اثر بڑھتا جائے گا ۔ایک سنائپر نے لمبے فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے اس لیے اسے ہوا کی اقسام ،فائر شدہ گولی پر ہوا کا اثر اور اس کے تدارک کے بارے معلوم ہونا چاہیے ۔بنیادی طور پر ہوا کی چار اقسام ہوتی ہیں ۔ہلکی ہوا ،درمیانہ ہوا،تازہ ہوا اور تیز ہوا........“استاد عمر دراز ہوا کے فائر پر اثر انداز ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالنے لگا ۔گو ان میں اکثر باتوں کا مجھے پہلے سے پتا تھا ،مگر کافی نئی باتیں بھی سننے کو ملیں ۔ہوا کے تذکرے کے بعدوہ دھوپ،دھند ،ٹھنڈ ،بارش،نمی ،درجہ حرارت اورگیلے ایمونیشن وغیرہ کے بارے بھی تفصیل سے بتانے لگا ۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا ۔
”میں جانتا ہوں ،تقریباََ یہ تمام باتیں تمھیں پہلے سے معلوم ہوں گی ،مگر میں چاہ رہا تھا کہ دہرائی ہو جائے تاکہ کل عملی تو پر بروے کار لاتے وقت یہ باتیں ہمارے ذہن میں ہوں ۔“
”نہیں سر !تمام تو نہیں ،البتہ اکثر باتیںمیرے علم میں تھیں ۔“
”اچھا اب سو جاو¿ رات کافی ہو گئی ہے ۔صبح ان شاءاللہ عملی طور پر مشق کریں گے ۔“
”سر !ایک بات پوچھناتھی ؟“اسے جانے پر آمادہ دیکھ کر میں نے اپنے دل کی خلش دور کرنا چاہی ۔
”ہاں ہاں پوچھو؟“
”یہ یوسف خان کون تھا ؟“
”کون یوسف خان؟“استاد عمر دراز نے حیرانی سے پوچھا ۔
”وہ جس دن ہم شادی کے سلسلے میں یہاں آئے تھے اس دن ایک بھائی نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا تھا، کہ میں نے یوسف خان کی طرح دلھن والوں کی شرط پوری کی ہے۔“
استاعمر دراز مسکرایا۔”خیر ،یہ تو اس نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا۔“
”یہ تو ہے سر !....وقتی جوش میں آ کر کافی حضرات مبالغہ آرائی میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔“
”ویسے تم نے یوسف شیر بانو کا قصہ نہیں سنا ۔“
”نہیں سر ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
جاری ہے
 

استاد عمر دراز چند لمحے سوچ کر کہنے لگا۔”یہ بہت دل چسپ داستان ہے ذیشان!....یوسف خان اور شیر بانو اسی علاقے کے حقیقی کردارہیں ۔یہ جو شیوہ گاو¿ں سے ملحق پہاڑی آپ کو نظر آ رہی ہے اسے کرماڑ پہاڑی کہتے ہیں ۔ اس کی چوٹی پر دونوں کا مزار بنا ہوا ہے ۔ یوسف خان ترلاندی گاوں کا تھا اور شیر بانو شیرا غنڈ گاو¿ں کی تھی ۔یوسف خان والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور شکار کا شوقین تھا اس کی ایک بہن بھی تھی ۔جو اس سے چھوٹی تھی ۔وہ ہرن کے شکار کے لیے کرماڑ پہاڑی پر جایا کرتاتھا۔وہ نہایت حسین و جمیل اورپرکشش جوان تھا ۔ایک دن شکار پر جاتے ہوئے اس کی مڈھ بھیڑ شیر بانو سے ہوگئی جو بہ ذات خود حسن کا مجسمہ تھی ۔اسے دیکھتے ہی شیربانو دل ہار بیٹھی ۔اب وہ روزانہ یوسف خان کا انتظار کرتی کہ اسے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکے ۔اور پھر زیادہ دن اس سے صبر نہ ہوسکا اور ایک دن اس نے یوسف خان کو روک کر اپنے دل کا حال کہہ سنایا۔اس کی شکل و صورت ایسی نہ تھی کہ یوسف خان انکار کرنے کے قابل ہوتا۔وہ بھی دل و جان سے اس پر فریفتہ ہو گیا ۔یوسف خان کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا ۔اسی طرح شیر بانو کا تعلق بھی سفید پوش طبقے ہی سے تھا ۔بہ ظاہر نظر ان کی محبت کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی ۔پس یوسف خان ،شیر بانو کا رشتا لے کراپنے سر پرستوں کے ہمراہ ان کے گھر پہنچ گیا ۔لیکن یہ تو اصولِ دنیا ہے، کہ دنیا والے محبت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہتے ہیں ۔شیر بانو کے حسن کی وجہ سے اس کے بھی کئی طلب گار تھے ۔شیر بانو کے والدین نے یوسف خان کو ٹالنے کے لیے ایک بہت بڑی رقم کا مطالبہ کر دیا ۔اتنی رقم کہ اس کی ادائی یوسف خان کی بساط سے کیا اس کے پورے خاندان کی بساط سے باہر تھی ۔مگر وہ عاشق صادق ذرا نہ گھبرایا اور شیربانو کے والدین سے مہلت طلب کر کے رقم کے حصول کے لیے اپنا گھر بارچھوڑ کر اکبر بادشاہ کی فوج میں ملازم ہوگیا ۔وہ ایک اچھا سپاہی تھا۔جلد ہی اس نے اکبر کی فوج میں اپنے قدم جما لیے۔ اور پھر اس کی خوش قسمتی کہ کسی باغی ریاست کے نواب کی سرکوبی کے لیے اکبر نے ایک لشکر بھیجا اور یوسف کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس مختصر لشکر کی سپہ سالاری اسے سونپ دی گئی ۔ اس جنگ میں یوسف خان کو فتح ہوئی ۔ اکبر بادشاہ اس کی کارکردگی کے متعلق سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے خوش ہو کر اسے شرف ِ ملاقات بخشا ۔دوران ملاقات اس نے یوسف خان سے،اپنی فوج میں اس کی شمولیت کی وجہ دریافت کی ۔جواباََ یوسف خان نے ساری کہانی کہہ سنائی ۔بادشاہ نے اسی وقت اتنی رقم یوسف خان کے حوالے کرنے کا حکم دیا جس سے وہ شیربانو کے والد کا مطالبہ پورا کر سکے ۔اور پھر رقم کی حفاظت اور یوسف خان کو بہ حفاظت اس کے علاقے تک پہچانے کے لیے سپاہیوں کا ایک دستہ بھی اس کے ہمراہ روانہ کیا۔ یوسف خان قریباََ دس برس بعد وطن واپس لوٹ رہا تھا۔اس کی بدقسمتی کہ جس وقت وہ اپنے علاقے میں پہنچا اسے اطلاع ملی کہ شیربانو کی شادی کسی اور سے طے پا گئی ہے ۔یوسف خان کو یہ اطلاع صوابی کے مشہور گاو¿ں دوبیان میں ملی ۔ یوسف خان وہاں پڑاو¿ ڈالنے کی تیاریوں میں تھا ۔یہ خبر سنتے ہی وہ بغیرکسی تاخیر کے شیر بانو کے گاو¿ں شیرا غنڈا کی جانب روانہ ہوا ۔ وہاں پہنچ کر اس نے ساری رقم شیر بانو کے والدین کے قدموں میں ڈھیر کر دی ۔مگر اب اس میں ایک دوسرا خاندان بھی ملوث ہو گیا تھا ۔ جس خاندان کے لڑکے سے شیر بانو کی نسبت طے ہوئی تھی وہ ہتھیار سونت کر باہر نکل آئے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے ۔یوسف خان بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا ۔اپنی جس محبوبہ کے لیے اس نے در در کی خاک چھانی تھی وہ اسے کسی دوسرے کے حوالے کرنے پر کیسے تیار ہو سکتا تھا ۔دونوں طرف کے جنگجو آمنے سامنے ہو گئے ۔گھمسان کا رن پڑا۔جس میں دونو ں طرف کے کافی لوگ مر گئے ۔ اس لڑائی میں فتح یوسف خان کی ہوئی ۔اور بالآخر وہ شیر بانو کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔اپنی دلھن کو لے کر وہ گھر پہنچا۔وہ منتیں مرادیں پوری ہونے کی رات تھی ۔جب وہ اپنی دلھن کا گھونگٹ اٹھانے کے لیے نزدیک ہوا تو شوخ و شنگ محبوبہ نے ایک عجیب شرط رکھ دی ۔کہنے لگی یوسف خان جب تمھیں پہلی بار دیکھا تھا تو تم ہرن کے شکار کے لیے جا رہے تھے اور اب میں منہ دکھائی میں بھی ہرن کے گوشت کی طلب گار ہوں ایسا ہرن جو تم نے اپنے ہاتھ سے شکار کیا ہو ؟....یوسف خان نے محبوبہ کی شرط پر سرِتسلیم خم کیا اور رات کے اسی پہر تیر کمان اٹھا کر کرماڑ پہاڑی کی جانب روانہ ہوا۔وہ محبوبہ سے وصل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔اس کے دو پالتو کتے بھی اس کے ہمراہ تھے ۔اور پھر اس کی بدقسمتی کہ پہاڑی کی بلندی پر اس کا پاو¿ں پھسلا اور محبوبہ کی شرط پوری کرنے کی حسرت دل میں لیے وہ قریباََ سو میٹر گہرائی میں جاگرا ۔وفادار جانور مالک کو گرتے دیکھ کر بھونکتے ہوئے واپس گھر کی جانب بھاگے ۔گھر والوں نے دونوں کتوں کو دردناک انداز میں بھونکتے دیکھ کرجان لیا کہ یوسف خان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے ۔کتوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے جب وہ اس جگہ پہنچے تو یوسف خان اپنی آخری سانس لے رہا تھا ۔غم سے نڈھال محبوبہ نے بے تابانہ محبوب شوہر کا سر اپنی گود میں رکھا اور یوسف خان اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھتا ہوا خالق حقیقی سے جا ملا۔یوسف خان کو اسی پہاڑی کی چوٹی پر دفن کیا گیا ۔اس کے بعدشیربانو بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکی اور جلد ہی اس کی روح اپنے محبوب سے جا ملی ۔اوراسے بھی اس کے محبوب کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ان کی قبریں آج بھی اس پہاڑی کی چوٹی پر موجود ہیں۔اورمحبت کرنے والے وہاں اپنی محبت کے حصول کے لیے دور دراز سے منتیں مانگنے کے لیے آتے ہیں ،تاکہ ان کی محبت کامیابی سے ہم کنار ہو۔اب یہاں منت پوری ہوتی ہے یا نہیں یہ تو خیر اللہ کو پتا ہے۔ مگر جہلا نے عقیدہ یہی بنایا ہوا ہے ۔پشتو کے مشہور شاعر جوشی علی حیدر نے یوسف خان اور شیر بانو کے متعلق کافی دردناک اشعار کہے ہیں جنھیں پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ۔“استاد عمردراز وہ دردناک کہانی ختم کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔”اب بتاو¿ ذیشان!....کیا تم نے یوسف خان کی طرح دلھن والوں کی شرط پوری کی ہے ؟“
”نہیں سر !“میں نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔”میں تو فی الحال یوسف خان کے کلی وال(گاوں والے)سے فائرنگ کے ڈھنگ سیکھنے آیا ہوا ہوں۔“
استاد عمر دراز بے ساختہ ہنس دیا۔”اچھا ٹھیک ہے ،تم آرام کرو ۔ان شاءاللہ صبح ملاقات ہو گئی ۔
”ان شاءاللہ !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
٭٭٭
اگلے دن ہم نے صبح کی نماز کے بعد ناشتا کیا اور پھرکرماڑ پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے ۔آج مجھے وہاں محبت کی انوکھی داستان کے دونوں کرداروں کی خوشبو بہت شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔استاد عمردرازاپنے ایک دوست کو بھی مددگار کے طور پر ساتھ لے آیا تھا ۔گھی کے کنستر سے بنایا گیا ہدف جس کی ہیئت بالکل درمیانی جسمامت کے آدمی جتنی تھی ۔اس پر سفید کاغذ چسپاں کیا گیا تھا۔ہدف ہم نے پہاڑی کی جڑ میں گاڑااور اس کے ساتھ ایک گہرے گڑھے میںاپنے ساتھ لانے والے آدمی کو بھی بٹھا دیا۔ اس کا کام ہمیں گولی لگنے کی جگہ اشارے سے بتانا تھا اورپھرگولی سے بننے والے سوراخ پر گوند سے ایک چھوٹا سا کاغذ چپکانا تھا ۔کیونکہ ہم ہر گولی کے بعد ہدف کو قریب سے نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ ہم پانسو میٹر کے فاصلے پر پہنچ کر فائر کرنے لگے ۔اس دوران استاد عمر درازاپنی رات کی گفتگو کو عملی طور پر بروے کار لانے کے بارے بتاتا رہا ۔پانسو میٹر سے کامیاب فائر کے بعد ہم چھے سو میٹر پر چلے گئے ۔اسی طرح فاصلہ بڑھاتے بڑھاتے آخر میں ہم نو سو میٹر سے فائر کر رہے تھے ۔پہلی دونوں گولیوں میں میں ٹارگٹ ہٹ نہیں کر سکا تھا ۔استاد عمر دراز نے کہا ۔
”دیکھو بیٹے !ڈریگنوو رائفل سے ہزار میٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور تم نو سو میٹر کے فاصلے پر ناکام ہو رہے ہو ؟وجہ معلوم ہے ؟“
میرے نفی میں سر ہلانے پر اس کی بات جاری رہی ۔”اس کی دو تین وجوہات ہیں ۔نمبر ایک ، کہ تمھارا ایمونیشن کافی دیر سے دھوپ میں پڑا ہے ۔میں نے جان بوجھ کر یہ بات نظر انداز کیے رکھی کہ شاید تم غور کر لو مگر تم نے توجہ نہ دی ۔اور جانتے ہوجب ایمونیشن گرم ہو تو اس کی وجہ سے چیمبر میں پریشر بڑھتا ہے اور گولی نشانے پر نہیں لگتی ۔دوسری بات یہ ہے کہ تم پہلی دفعہ ڈریگنو و رائفل سے فائر کر رہے ہو ۔اور یہ عام سنائپر رائفل کے برعکس سیمی آٹومیٹک ہے ۔اس وجہ سے عام سنائپر رائفل کے برعکس اس سے فائر کرتے وقت جھٹکا زیادہ لگتا ہے ۔اور لا شعوری طور پر اس جھٹکے کو سہارنے کے لیے رائفل پر تمھاری گرفت سخت ہو رہی ہے ۔اس کے علاوہ تم اس جھٹکے کو سہارنے کے لیے کندھے کو بھی تھوڑا ساآگے کر رہے ہو ۔تیسری بات یہ کہ دھوپ بہت تیز ہو گئی ہے یہ وقت آئیڈیل فائر کے لیے غیر موزوں ہے۔“
” سر!ضروری تو نہیں کہ عملی زندگی میں ہدف موزوں وقت میں آئے؟“
”دیکھو پہلے تم ان غلطیوںکو درست کرو جو آسانی سے درست کی جا سکیں۔مطلب ایمونیشن کو دھوپ سے بچاو¿،رائفل کے فائر سے ہونے والے جھٹکے کو سہارنے کے لیے وہ غلطی نہ کرو جو میں تمھیں بتا چکا ہوں۔“
”یہ تو میں کر لوں گاسر!....مگر دھوپ سے کیسے بچوں؟“
”دھوپ سے بچاو¿ ممکن نہیں۔پر ہدف کو تو بڑا کیا جا سکتا ہے ؟“
”میں سمجھا نہیں ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”اچھا یہ بتاو¿؟ایک انسان کے سر کا حجم کتنا ہوتاہے ؟“
”قریباََآٹھ سے دس انچ اونچا اور چھے انچ چوڑا۔“
”گڈ۔“کہہ کر اس نے ایک اور سوال جڑ دیا ۔”اور سر کو نکال کر اوپری دھڑ کتنا لمبا چوڑا ہوتا ہے ؟“
”قریباََ دو فٹ لمبا اوراٹھارہ سے بیس انچ چوڑا ....بازو شامل نہیں ہیں ۔“
”تو بس ،سر کے بجائے چھاتی میں گولی مارو۔سنائپر رائفل کی گولی اگر کسی کی چھاتی میں لگ جائے تب بھی اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے اور حفظ ماتقدم کے طور پر دوسری گولی بھی مار ی جا سکتی ہے۔“
استاد عمر دراز کی بات میری سمجھ میں آ گئی تھی ۔اس لیے تیسری اور چوتھی گولی میں نے کامیابی سے ہدف کی چھاتی میں مار دی ۔
استاد عمر دراز نے میری پیٹھ ٹھونکی ۔
”دیکھا،بس اتنی سی بات تھی ۔بہت جلدی تمھاری سمجھ میں آ گئی۔“
”جی سر !“میں سعادت مندی سے بولا۔حالانکہ میں کہہ سکتا تھا ”کہ اتنی جلدی کہاں آئی ، میں کئی سال سے سنائپر کی ٹریننگ حاصل کر رہا ہوں۔“مگر ایسا کہنا استاد کی بے ادبی ہوتا۔
”اچھا کھانا کھانے چلتے ہیں۔“اس نے کہا اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
کھانا ہم نے گھر جا کر کھایا ۔اس کے بعد ہم نے ظہر کی نماز پڑھی اور دوبارہ اسی جگہ پہنچ کر فائر کی مشق کرنے لگے ۔شام کی آذان کے ساتھ ہم نے مشق ختم کی اور گھر لوٹ آئے ۔رات گئے تک استاد عمر دراز مجھے اپنے واقعات ایسے انداز میں سناتا رہا جن میں فائر کی باریکیوں اور موقع محل کی مناسبت سے ایک سنائپر کی ترجیحات واضح ہوتیں؟اگلے دن بھی ہم دوپہر تک مشق کرتے رہے اس کے بعد میں استاد عمر دراز سے اجازت لے کر واپسی کے لیے روانہ ہوا ۔صوابی کی حدودتک ان دیکھے یوسف خان پرچھائیاں میری سوچ میں سرگرداں رہیں ۔اپنی یونٹ میں پہنچ کر میں اس کہانی کو ذہن سے جھٹک کر اپنے کورس کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ۔یوں بھی اس ظالم دنیا میں جانے کتنے یوسف خان اور کتنی شیر بانوسماج کے اندھے قانون کی بلی چڑھ گئے ہیں۔اور اگر کوئی سخت جان ہر آزمایش عبور کر کے اپنی محبت کے قریب پہنچ بھی گیا تو مقدر نے اسے اوندھے منہ گرا دیا ۔
سوموار کومیں نے پہلی مشق ہی میںتیرہ سو میٹر کے فاصلے سے ساری گولیاں ہدف پر ہٹ کر دیں ۔ہم ہیوی سنائپر رائفل سے فائر کر رہے تھے۔اور اسی رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بارے پڑھنے کے لیے ہم میں سے دو سنائپرز نے امریکہ بھی جانا تھا ۔اس کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔صوبیدار تصور صاحب نے مجھے خصوصی شاباش دی تھی ۔باقی کا دن بھی میرا فائر سب سے نمایاں رہا ۔استاد عمر دراز کی معیت میں گزرے دو دن میرے لیے بہت مفید رہے تھے ۔
ہفتے کے اختتام پر ہمارا امتحان ہوا جس میں میں نے پہلی اور سردار خان نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔وہ مجھ سے پانچ سال پہلے بھرتی ہوا تھا ۔تین مرتبہ مشن پر سرحد پار بھی جا چکا تھا ۔بڑا ہنس مکھ اور پرمزاح بندہ تھا۔لیکن ہنس مکھ اور پر مزاح وہ صرف اپنے دوستوں کے لیے تھا ۔دشمن کے لیے و ہ خالص پٹھان تھا۔گھٹا ہوا جسم ،میانہ قد ،سرخ و سفید رنگت ،خوب صورت نین نقش رکھنے والا یہ پٹھان بہت محنتی اور اچھا نشانہ باز تھا ۔اس کا تعلق مردان سے تھا۔میںہدف پر صرف ایک گولی اس سے زیادہ مار سکا تھا ۔اس نے خوش دلی سے مجھے پہلی پوزیشن کی مبارک باد دی تھی ۔
ایک ماہ کے اندر ہم نے امریکہ کے لیے اڑان بھرنی تھی ۔یہ ایک مہینا تیاریوں میں گزرا ۔دو ہفتے ہمیں انگریزی زبان کی کلاس بھی اٹینڈ کرنا پڑی ،تاکہ وہاں جا کر بول چال میں کوئی مسئلہ نہ ہو ۔ اس دوران پاسپورٹ بھی بننے ، ویزہ وغیرہ لگااور پھر ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔روانگی سے تین چار دن پہلے ہمیں گھر جانے کی اجازت ملی ۔دوتین گھر گزار کر ہم واپس پہنچ گئے ۔ اور پھر ایک دن ہم جہاز میں بیٹھے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ تھے ۔ہماری منزل امریکہ کا ساحلی شہر نیو جرسی تھا۔
٭٭٭
وہاں پینتیس ممالک سے سنائپرز آئے ہوئے تھے ۔مختلف ممالک سے آنے والے سنائپرز کی تعداد مختلف تھی ۔کسی ملک سے صرف ایک سنائپر آیا تھا تو کسی ملک سے چار سنائپرز بھی تھے ۔انڈیا سے بھی دو سنائپر آئے تھے ۔ دونوں ہندو تھے ۔ایک کانام شری کانت اور دوسرے کا راج پال تھا ۔دونوں نے بڑی کینہ توز نظروں سے ہمیں گھورا تھا ۔ابتدائی دو تین دن انتظامی و انصرامی کارروائیوں کی نظر ہو گئے اور پھر نئے ہفتے کی شروعات کے ساتھ باقاعدہ کلاس کی ابتداہوئی ۔تمام طلبہ سوّل سوٹ پہن کر آئے تھے ۔ کیونکہ لباس کے بارے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی ۔طلبہ کی تعداد 76 تھی جن میں سات لڑکیاں بھی شامل تھیں ۔امریکہ کے چار طلبہ تھے جن میں سے دو لڑکیاں کیپٹن جینیفرہنڈسلے اور لیفٹیننٹ کیٹ واٹسن تھیں۔جبکہ مردوں میں سارجنٹ ریگن واچ اور سارجنٹ نارمن تھے۔اسرائیل سے بھی دو لڑکیاں اور دومرد آئے تھے ۔ ایک لڑکی کا تعلق جاپان سے تھا۔فرانس ،برطانیہ ،چین یاروس جیسے ممالک سے کوئی بھی نہیں آیا تھا ۔
سری لنکا ،نیپال ،بنگلہ دیش ،ایران اور انڈونیشیا سے بھی دو دو سنائپرز آئے ہوئے تھے ۔یہاں تک کہ دو سنائپرز افغانستان سے بھی آئے تھے ۔لیکن شکل و صورت سے وہ بالکل افغانی نہیں لگ رہے تھے۔ دونوں کلین شیو تھے ۔تمام سنائپرز میں داڑھی والا ایک میں ہی تھا ۔گو میری داڑھی بھی بس کہنے کی حد تک ہی داڑھی تھی مگر پھر بھی میرے چہرے پر چند بال موجود تھے ۔زیادہ تر مرد کلین شیو ہی تھے ۔میرا ساتھی سردار خان بھی شیو کرتا تھا ۔البتہ اس کے چہرے پر گھنی مونچھیں ضرور موجود تھیں ۔
پہلا پیریڈ تعارف ہی میں گزر گیا تھا ۔گوصرف سرسری سا نام لینے سے ہر کسی کونام یاد نہیں رہ جایا کرتے ۔البتہ اس معاملے میں میر ی یاداشت کافی بہتر تھی ۔خاص کر استاد عمر دراز سے ملنے کے بعد تو میں ارد گرد کی چیزوں کواور زیادہ غور سے دیکھنے لگا تھا ۔اب تو میںعام سے عام بات کو بھی نظر انداز نہیں کرتا تھا ۔میں نے تعارف کے درمیان قریباََ پوری کلاس کے نام اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیے تھے ۔ جیسے ہی کوئی کھڑے ہوکر اپنا اوراپنے ملک کا نام بتاتا،میں اپنی یاداشت میں اس کانام بٹھا کر زبانی طور پر بھی اس کا نام دہرانا شروع کر دیتا ۔اور اس وقت تک زیر لب اس کا نام دہراتا رہتا ، جب تک کہ دوسرا آدمی کھڑا ہو کر اپنا تعارف نہ شروع کر دیتا ۔
دوسرے پیریڈ میں باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہوا ۔انسٹرکٹر لیوپولڈ سائیٹ کے بارے پڑھانے لگا۔گو سنائپر پری کیڈر کے بعد ہم نے دو ہفتے تک انگلش زبان کی کلاس اٹینڈ کی تھی مگر پھر بھی گورے انسٹرکٹرکی روانی میں بولی گئی انگلش سمجھنے میں مجھے تھوڑی دشواری محسوس ہو رہی تھی ۔خیرمیں توپھر بھی گزارا کررہا تھا، کہ میری تعلیم بی اے تھی اور مجھے انگریزی سے اچھی خاصی شد بد تھی ۔اصل دشواری تو سردار خان کو تھی جس کی تعلیم میٹرک تھی اور میٹرک بھی ایسی کہ جیسے وطن عزیز میں لاکھوں ،کروڑوں جوان میٹرک کی سند لیے گھوم رہے ہیں، کہ نام ہی کی سند ہی ہاتھ میں پکڑی ہوتی ہے ۔انسٹرکٹرکی باتیں اس کے سر سے کافی اونچی گزریں تھیں ۔ پیریڈ کے اختتام پر میں نے اپنے ساتھی کا مسئلہ انسٹرکٹر کے گوش گزار کر دیا ۔
ایک لمحا سوچ کر اس نے کندھے اچکائے اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا ....
”It,s very deficult to arrange any translator today. However I will try my best tomorrow.“ (آج تو کسی ترجمان کا بندوبست کرنا مشکل ہے البتہ کل میں پوری کوشش کروں گا)
ہندو سنائپر شری کانت طنزیہ لہجے میں بولا۔”پڑھ لکھ کر آنا تھا نا ؟“یہ بات اس نے ہندی میں کہی تھی ۔(اور یہ بات تو قارئین جانتے ہوں گے کہ ہندی اور اردو بولنے کی حد تک قریباََایک جیسی ہیں ۔ البتہ ہر ایک کا رسم الخط مختلف ہے )
میں نے ترکی بہ ترکی کہا۔”میرا خیال ہے ہم پی ایچ ڈی کرنے نہیں آئے ؟“
گورے انسٹرکٹر کی سمجھ میں ہماری بات چیت تو نہیں آئی تھی ،لیکن لہجے کا اتار چڑھاو¿اسے محسوس ہو گیا تھا ۔اس نے جلدی سے سبق شروع کر دیا ....
”اوکے گائیز!....وی آر لرننگ اباو¿ٹ ڈیفلیکشن....“
ہمیں مجبوراََ چپ ہونا پڑا تھا ۔ورنہ سردار خان کے تیور بدلنے شروع ہو گئے تھے ۔اور یہ تو صرف مجھے معلوم تھا کہ وہ خوش اخلاق سا پٹھان اندر سے خالص اور کھرا پٹھان تھا ۔ہندوسے وہ اتنی ہی نفرت کرتا تھا جتنا کہ وہ اس کے مستحق ہیں ۔
پیریڈ کے اختتام پرہم کلاس روم سے باہر نکل آئے تھے ۔کچھ لوگوں نے سگریٹ سلگا لیے تھے اور چند ایک واش روم کی طرف بڑھ گئے تھے ۔
میں اور سردار باقی لوگوں سے تھوڑاسا ہٹ کر کھڑے ہوگئے ۔میں اسے انسٹرکٹر کی بتائی ہوئی خاص خاص باتو ں سے آگاہ کرنے لگا۔اسی وقت سنہری بالوں والی خوب صورت جینیفرہمارے قریب آئی....
”ہائے ....آئی ایم جینیفر !....“اس نے بے تکلفی سے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔اگر وہ اپنانام نہ بتاتی تب بھی مجھے اس کا نام یاد تھا ۔بلکہ مجھے یقین تھا کہ پوری کلاس کو اس کا نام ازبر ہو گیا ہو گا؟ اور اس کی وجہ اس کے علاوہ کوئی نہیں تھی کہ وہ ایک پرکشش اور خو ب صورت لڑکی تھی ۔
میں نے مسکرا کر کہا ۔”تعارف تو ہو چکا ہے ،کیپٹن جینیفرہنڈسلے ۔“
”اوہ !....میرا خیال ہے تمھیںصرف میرا ہی نام یادرہ گیا ہو گا ؟“وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولی ۔وہ ایک امریکن لڑکی تھی پاکستانی لڑکی نہیں کہ اپنی خوب صورتی نہ جتاتی ۔
میں اطمینان سے بولا۔”تم باقی کلاس کے بارے ایسا کہہ سکتی ہیں ؟“
وہ دلچسپی سے بولی ۔”اور تم ؟“
”مجھ سے کسی کا نام بھی پوچھ سکتی ہو ؟“
اس نے شوخی سے کہا ۔”اچھا ....یہ ساتھ والے صاحب کو نام لے کر بلائیں ؟“اس کا اشارہ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کالے رنگ کے سورن منگ سے تھا ۔
”مسٹرسورن!....تمھارا ایک منٹ ضائع کر سکتا ہوں ؟“میں نے سورن کو نام لے کر بلایا۔
”یس پلیز !....“وہ خوب صورت مسکراہٹ بکھیرتاہمارے قریب آ گیا ۔
”تمھارانام سورن منگ ہی ہے نا ؟“میں نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے خوش اخلاقی سے پوچھا ۔
”جی جی !....بالکل ....“اس نے میرے ساتھ کھڑے سردار خان اور جینیفر کو بھی ہاتھ ملاتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔”مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرا نام اتنا خوب صورت ہو سکتا ہے کہ اتنے پرکشش لوگوں کو یاد رہ جائے ۔“اس کا اشارہ واضح طور پر جینیفر کی طرف تھا ۔
”یہ واش روم سے کون باہر آ رہا ہے ؟“سورن منگ کی بات پر جینیفر نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر مجھے واش روم کے دروازے کی طرف متوجہ کیا۔جہاں سے امریکن سارجنٹ باہر آرہا تھا ۔
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس کا نام تو مجھے بالکل پسند نہیں آیا ۔بھلا ریگن واچ بھی کوئی نام ہے ؟“
”اور وہ جو سگریٹ پی رہا ہے ؟“جینیفر میرا امتحان لینے پر تل گئی تھی ۔
”وہ بے چارہ اسرائیلی ....اگر اس کے والدین مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی انھیں کلارک نام رکھنے کا مشورہ نہ دیتا ۔“
”تو اس اسرائیلی دوشیزہ کا کیا نام رکھتے ؟“جینیفر نے کالے بالوں والی اسرائیلن دوشیزہ کی جانب اشارہ کیا جسے دونوں ہندو¿وں نے گھیرا ہوا تھا ۔یوں بھی یہود و ہنود کی آپس میں گاڑھی چھنتی ہے ۔ اور اس دوستی کو تقویت دونوںکی مسلم دشمنی دیتی ہے ۔
میں ہنسا۔”بہ ہر حال سکارلیٹ نہ رکھتا ۔“
”تو کیا رکھتے ؟“
”کیٹ ٹھیک تھا بے شک اس کے باپ کا نام واٹسن نہ ہوتا ۔“میں نے جینیفر کی امریکن ساتھی کیٹ واٹسن کا نام دہرایا۔
”میں تم سے متاثر ہو رہی ہوں ۔“جینیفر کی مسکراہٹ میں حیرانی تھی ۔
”اور میں اینڈریا برٹن سے ۔“میں نے دوسری اسرائیلی دوشیزہ کی طرف اشارہ کیا۔جس کا مختصر لباس دعوت نظارہ دے رہا تھا ۔”کیا خوب صورت لباس زیبِ تن کیا ہے؟“
”اگر تمھیں وہ اس لباس میں اچھی لگ رہی ہے تو میرے پاس اس سے بھی اچھا لباس موجود ہے ۔“جینیفر معنی خیز انداز میں بولی ۔
میں نے گھبرا کر کہا۔”نہیں تم جینز ہی میں بہت اچھی لگ رہی ہو۔اور میں تو اینڈریا پر طنز کر رہا تھا ۔“
”جہاں تک میں سمجھا ہوں امریکن بیوٹی ہمارے پاکستانی بھائی کا امتحان لے رہی ہے ؟“ سورن منگ نے ہماری گفتگو سے کامیاب اندازہ لگایا۔
”مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا یا۔
سورن منگ نے منہ بنا کر کہا ۔”مجھے تو بس ان دو انڈین کے نام یاد رہ گئے ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ ہمارا تعارف پہلے سے ہو چکا تھا ۔“
”تم شاید شری کانت اور راج پال کی بات کر رہے ہو ؟“
”یہ لیں جی مس امریکا!....بھائی کو ان کے نام بھی یاد ہیں ۔“
”میرا نام جینیفر ہے ۔“جینیفر کو شایدمحسوس ہواتھا، کہ سورن منگ کو اس کانام نہیں آتا۔
”شکریہ ....مس جینیفر!....اب کم از کم تمھارانام مجھے نہیں بھولے گا ۔تم بے شک ہماری واپسی کے بعد فون کر کے بھی میرا امتحان لے سکتی ہو ؟بلکہ روزانہ امتحان لیتی رہا کرنا اس بہانے ہم بھی یہ خوب صورت اور رسیلی آواز سن لیا کریں گے؟“اس کی بات پر جینیفر نے ایک خوب صورت سا قہقہہ اچھالا۔اور اس سے پہلے کہ ہم میں سے مزید کوئی بات کرتا انسٹرکٹر کی طرف سے بلاوا آگیا اگلا پیریڈ شروع ہوگیا تھا ۔
کلاس روم کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے جینیفر پوچھنے لگی ۔
”اب اپنا تعارف بھی کرا دیں ؟“
”میرا نام ذیشان ہے اور میرے ساتھی کا نام سردار خان ہے ۔“میں نے سردار خان کی طرف اشارہ کیا جو اس ساری گفتگو میں خاموش رہا تھا۔
”ذی ژان....؟“اس نے عجیب سے تلفظ سے میرا نام لیا۔
”بس ایسا ہی کچھ کہہ لیا کرو؟“مجھ میں اپنے نام کی مزید مٹی پلید کرانے کا حوصلہ نہیں تھا ۔اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ تلفظ ٹھیک کرتے کرتے اگلی مرتبہ جانے کیا کہہ دیتی ۔
”اگر میں صرف ذی کہہ لیا کروں تو ؟“اس نے شوخ نظروں سے میری جانب دیکھا۔ ”بدلے میں تم بھی مجھے جینی کہہ لینا ۔“
میں نے قہقہہ لگایا۔”نہیں میں صرف جی کہوں گا ۔“
”جی ....؟“وہ آنکھیں میچتے ہوئے دلربانہ انداز میں مسکرائی اور کہا۔”ڈن۔“
”یہ بھی بتادوں ؟....”جی “ہمارے ہاں خود سے زیادہ مرتبہ والے شخص کو اثباتی جواب دینے کے لیے کہا جاتا ہے ۔“
”ہا....ہا....ہا“وہ بے ساختہ ہنسی ۔”ویسے میں تم سے سینئر تو ہوں نا ؟....آخرکو کیپٹن ہوں؟“
اور میں بھی جوابی مسکراہٹ اچھال کر انسٹرکٹر کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔جینیفر میرے اور سردار کے درمیان ہی بیٹھ گئی تھی ۔
تین پیریڈز کے بعد آدھا گھنٹا ٹی بریک کرنے کے لیے ملا ۔میس نزدیک ہی تھا۔میرے او ر سردار کے علاوہ بس چند آدمیوں نے چاے یا کافی کے مگ کو ہاتھ لگایا تھا۔اکثریت نے ام الخبائث کا جام تھامنے میں دلچسپی لی تھی ۔جینیفر نے بھی ہمیں کمپنی دینے کے لیے کافی پینا پسند کیا تھا ۔
دوران گفتگووہ پوچھنے لگی۔
”مسٹر ذی !....پہلے پیریڈ میں تم اس انڈین سے کیوں تلخ ہو رہے تھے ؟“جینی کا اشارہ شری کانت کی طرف تھا ۔
”وہ ہماری تعلیم پر پھبتی کس رہا تھا؟“
”انگریزی نہ جاننے سے تعلیم کا کیا تعلق ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
میں نے کہا۔”یہ بات کم از کم تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی؟“
”میں سمجھنا بھی نہیں چاہتی ۔مجھے تو بس یاداشت بہتر کرنے کے طریقے بتاو¿؟“
”ایک شرط پر ؟“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔” شرط سنے بغیر کم از کم کسی خوب صورت لڑکی کو ہاں نہیں کرنی چاہیے؟“
”کوئی اتنی بڑی یا بری شرط نہیں ہے ؟“میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”بس تم اپنی خوب صورتی کے راز کھول دو ۔ یاداشت بہتر کرنے کے طریقے میںبتا دیتا ہوں ؟“
جواباََاس کا مترنم قہقہہ گونجا۔اسی وقت سامنے بیٹھاراج پال اپنے ساتھی شری کانت کو کہنے لگا۔ ”ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں مسلے نے لڑکی دیکھی وہیں رال ٹپکانی شروع کر دی ۔“یہ بات اس نے ہندی میں کہی تھی ۔
میں نے اس کی بات کا برا مانے بغیر جواب دیا۔”صحیح کہامہاراج!....اور اسی وجہ ہی سے تو تم لوگ ہمیں بہت آسانی سے پھانس لیتے ہو ؟“
”تم حد سے بڑھ رہے ؟“راج پال کا غصہ ظاہر کر رہا تھا کہ اس کی سمجھ میں میری بات آ گئی تھی۔
”نہیں !....“میں اطمینان سے بولا۔”تم اپنی حد عبور کر رہے تھے اس لیے تمھیں تمھاری جگہ واپس دھکیلنا ضروری تھا ۔“
”میرا خیال ہے تم لوگوں کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے ؟“جینی نے ایک دم صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔اس دوران سردار خان نے اپنا کوٹ اتار کراپنی کرسی کے پیچھے لٹکایااور اپنی آستین اڑسنے لگا۔گو اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا مگر اس کا انداز ایسا تھا کہ دیکھنے والے خود بہ خود سمجھ گئے تھے ۔
”مسٹر کھان پلیز!....“جینی نے اسے بازو سے پکڑ کر کرسی پر بٹھاناچاہا۔
وہ اردو ہی میں جینی سے مخاطب ہوا۔”اس خنزیر کے بچہ کو زبانی بات سمجھ میں نہیں آتا بی بی ؟“
”سردار !....تم بیٹھو؟میں نے انھیں ان کی زبان میں سمجھا دیا ہے ۔“میں نے سردار کو بازو سے تھام کر دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا ۔
شری کانت اور راج پال ہمیں کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے وہاں سے تھوڑی دور پڑی ہوئی کرسیوں کی جانب بڑھ گئے تھے ۔
”ذی !....تم لوگ ایک دوسرے کے اتنا خلاف کیوں ہو ؟“
”تم لوگ ،رشین اور چائنیز کے خلاف کیوں ہو ؟“
”اوکے چھوڑو؟....تم شاید نہیں بتانا چاہتے ۔“
میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔”بتا تو دیا ہے ۔“
”اوکے ۔“روکھے لہجے میں کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی ۔یقینا اسے روس اور چائنہ کا ذکر پسند نہیں آیاتھا ۔
میں بھی اسے منانے کے بجائے سردار کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”یار سردار!....خود پر قابو پایاکرو ؟....ہم میدانِ جنگ یا بارڈر پر نہیں ہیں کہ تم فوراََ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہو ؟“
”ان خنزیروں کو دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے ۔“سردار کا غصہ ابھی تک نہیں اترا تھا ۔
”تمھاری بات درست ہے مگر جگہ بھی تو دیکھی جاتی ہے ؟اورتمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ہمیں واپس بھی بھیجا جا سکتا ہے ؟....کتنا دکھ ہو گا ہمارے سینئرز کو ؟....معلوم بھی ہے ہمیں یہاں بھیجنے کے لیے کتنی رقم خرچ ہوئی ہے ؟“
”معذرت خواہ ہوں ذیشان بھائی !....آیندہ خیال رکھوں گا ؟“اس نے نادم ہو کر کہا ۔
” ٹریننگ کے میدان میں انھیں نیچا دکھا کر ہم اپنا غصہ نکال سکتے ہیں ؟“
”ان شاءاللہ ایسا ہی ہو گا۔“سردار خان نے پرعزم ہوکر کہا۔
”اچھا چلیں بریک ختم ہونے والی ہے ۔“لوگوں کو کلاس روم کی طرف بڑھتا دیکھ کر میںکھڑا ہو گیا ۔سردار نے بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میری تقلید کی تھی ۔ٹی بریک کے بعد انسٹرکٹر نے صرف ایک پیریڈ پڑھا کر ہمیں یہ کہہ کر چھٹی دے دی ،کہ اگلے دن ہرسنائپر اپنے ملک کی آرمی یونیفارم میں ہوگا۔
٭٭٭
شام کو کوئی کلاس وغیرہ نہیں تھی ہم دونوں ٹریک سوٹ ڈال کر پی ٹی گراو¿نڈ میں چلے گئے ۔ بڑا خوب صورت ٹریک بنا ہواتھا ۔چار سو میٹر کے ٹریک پر بیس چکر لگانے کے بعد ہم دونوں جم میں گھس گئے تھے ۔ایک اچھے سنائپر کے لیے جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے صحت مند ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس کے ساتھ اس میں بلا کی قوت برداشت بھی چاہیے ہوتی ہے ۔سردار خان کی طرح جوشیلے سنائپر زیادہ دیر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے ۔کیونکہ دورانِ مشن ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جہاں ذلت آمیز برداشت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ۔اپنے ساتھی کو آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر دم سادھ کر لیٹنا پڑتا ہے ۔ اس کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کی سکت ہونے کے باوجود اسے چھوڑ دینا پڑتا ہے ۔اور پھر بھوک پیاس کا تو سنائپر کے ساتھ جنم جنم کا ساتھ ہے ۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ سنائپر کی ٹریننگ کی شروعات کے ساتھ استاد اپنے شاگردوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں مگر وقت پڑنے پر بہت کم سنائپرز ان باتوں پر پورا اترتے ہیں۔
ہم جم سے باہر نکلے تو سورج غروب ہونے والا تھا ۔ کمرے میں جا کر ہم نے نیم گرم پانی سے غسل کیا اور کپڑے بدل کر شام کی نماز وہیں کمرے میں پڑھ لی ۔
رات کو ڈائیننگ ٹیبل پر ایک بار پھر تمام سے ملاقات ہوئی ۔جینیفر مجھے شری کانت کے ساتھ گھومتی نظر آئی مگر میرے لیے یہ بات کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی ۔یوں بھی میں یوسف ثانی نہیں تھا کہ وہ میرے اطراف میں گھومتی رہتی ۔اتنی گپ شپ بھی اس نے جانے کس لیے کر لی تھی ۔سب سے بڑھ کر میں خود بھی اس کے ساتھ تعلق رکھنے کے حق میں نہیں تھا کہ کسی لڑکی کی قربت میں مجھ سے کوئی غلط کام بھی ہو سکتا تھا اور پھر لڑکی بھی جینیفر جیسی، جو لاکھوں میں ایک ہو؟۔سب سے بڑھ کر اس وقت میں پاک آرمی کی نمایندگی کر رہا تھا ۔گو اس علاقے میں عورت کی قربت کوغلط نہیں سمجھا جاتا،مگر میرا دین اور معاشرہ تو اس تعلق کو برا گردانتا ہے اور میرے لیے یہی کافی تھا ۔
ڈائیننگ ٹیبل پر حرام اور حلال ہر قسم کی خوراک دستیاب تھی ۔حلال کھانے والوں کے لیے برتن تک علاحدہ دستیاب تھے ۔حلال کھانے میں سبزی ،چاول اور چکن کی ڈشیںبنی تھیں جبکہ دوسروں کے لیے جو کچھ پکا تھا نہ تو ہم ان ڈشوں سے واقف تھے اور نہ واقفیت کا کوئی شوق ہی تھا ۔اس لیے ہم اپنے کھانے کی جانب متوجہ رہے ۔
ہم وہاں پر دس مسلمان تھے ۔پاکستان،ایران ،بنگلہ دیش ،انڈونیشیااور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ہم سارے مسلم کھانے کی ٹیبل پر اکٹھے ہو گئے تھے ۔اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ مسلم چاہے کسی بھی قوم ،علاقے یا ملک سے تعلق رکھتے ہو ں۔خدا ،رسول و قران کی ایک ان دیکھی ڈور انھیں آپس میں باندھے رکھتی ہے ۔کھانے کے دوران ایک بار پھر تعارف کا سلسلہ شروع ہوا ۔سب سے زیادہ مسئلہ سردار خان کے لیے تھا کہ اسے اردو اور پشتو کے علاوہ کوئی زبان بولنی نہیں آتی تھی ۔اس کے لیے مجھے ہی مترجم کے فرائض سر انجام دینے پڑتے ۔
کھانے کے بعد ہم دونوں اپنے کمرے کی جانب چل دیے کہ دوسری خرافات کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں تھا ۔جینیفر بھی مجھے اکیلی ہی ایک سپورٹس کار کی طرف بڑھتی دکھائی دی ۔شاید وہ باہر کسی سے ملنے جا رہی تھی ۔یوں بھی اس عمر تک امریکن لڑکیاں درجنوں بوائے فرینڈ بھگتا چکی ہوتی ہیں۔
ہمارے کمرے کے اندر بھی ایک LEDموجود تھی مگر ہم دونوں کی دلچسپی سنائپنگ کے متعلق کتابوں اورسنائپرز فلموں کے ساتھ تھی ۔ایک شیلف میں سنائپنگ کے متعلق مختلف کتابیں موجود تھیں کچھ سنائپرز رائفلز کے متعلق تھیں اور کچھ مختلف سنائپرز کے تجربات کے بارے تھیں ۔کمرے میں ایک کمپیوٹر اوردرجنوں سی ڈیز بھی موجود تھیں ۔ہم سنائپر کی زندگی کے متعلق ایک معلوماتی فلم لگا کر دیکھنے لگے ۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ ایک امریکن سپاہی پاکستان کے سپاہی سے بہتر ہے ۔لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کی تربیت بہت بہتر اور جدید سہولیات کو بروے کار لا کر کی جاتی ہے ۔جیسے ہم سنائپر کورس کے لیے آئے تھے تو ٹریننگ میدان کے علاوہ ، ہم تمام کے رہایشی کمروں میں بھی انھوں نے ایسی سہولیات مہیا کر د ی تھیں کہ ہم اپنے کمرے میں آرام کرتے وقت بھی سنائپنگ کے متعلق کافی کچھ سیکھ سکتے تھے ۔
کوئی بھی انسان کبھی اپنے فن میں کامل نہیں ہوتااورکوئی بھی عقل مند زندگی کے کسی مرحلے پر یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ ابھی اسے سب کچھ معلوم ہے ۔بہ قول ِ سقراط”سب سے زیادہ جاننے والا وہ ہے ،جو یہ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا ۔“
فلم دیکھنے کے دوران میں نے سردار حسین کو کہا۔” آج کے بعد ہم پشتو میں گفتگو کریں گے ۔“
”کیا مطلب ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب یہ خان صاحب !کہ مجھے پشتو سیکھنے کا شوق ہے اور اب ایک خان کی صحبت بھی میسر آ گئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے ؟اور اس بارے مجھے استاد عمر دراز نے بھی تاکید کی تھی ؟“
”استاد عمر دراز ؟“
”ہاں استاد عمر دراز ........“میں نے اسے استاد عمر دراز سے ہونے والی ملاقات کا حال بتا دیا ۔
”بڑے خوش قسمت ہو یارا !....میں بھی کہوں ایک دم تمھارا فائر مجھ سے بہتر کیسے ہو گیا ؟“
”یہ تو ہے ؟“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ویسے پشتو سیکھنا کسی فارغ وقت کے لیے موّخر کر دیتے تو ٹھیک تھا ۔کہیں سنائپر ٹریننگ ہی سے نہ ہاتھ دھو بیٹھو؟“
”فکر مہ کوہ مڑہ۔“(فکر نہ کرو)میں مزاحیہ لہجے میں بولا۔اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
٭٭٭
اگلے دن ہم پاک آرمی کی یونیفارم پہن کر گئے تھے ۔تمام اپنے اپنے ملک کی یونیفارم میں تھے ۔پیریڈ شرع ہوا توایک ادھیڑ عمر کا شخص سردار خان اور میرے درمیان آ کر بیٹھ گیا ۔وہ ترجمان تھا ۔ انسٹرکٹر کی کہی ہوئی باتیں وہ سردار کے سامنے دہراتا گیا ۔بریک ٹائم میں میںسردار کے ساتھ کھڑا ٹوٹی پھوٹی پشتو بولتے ہوئے اسے ہنسا رہا تھا ،کہ مجھے اپنی پیٹھ پیچھے جینیفر کی شوخ آواز سنائی دی وہ سورن منگ سے مخاطب تھی ۔
”ویسے نام یاد رکھنا وقت کا ضیاع ہی ہے سورن صاحب!....اب دیکھو نا تمام کی چھاتیوں پر نیم پلیٹ لگی ہے ۔نام پڑھ لو یونھی ہی دماغ کھپانے کا فائدہ ؟“
مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ سب کچھ مجھے سنانے کے لیے کہہ رہی ہے ،مگرمیں اس کی بات پر توجہ دیے بغیر سردار سے محو گفتگو رہا ۔
اس دن بھی ہمیں چار پیریڈز پڑھائی کرنا پڑی ۔سہ پہر کو ہم ٹریک پر دوڑ رہے تھے کہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والے کلارک اور ڈونلڈ پاسکو تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے ہمارے قریب سے گزر گئے ۔ چند قدم آگے بڑھنے کے بعدڈونلڈ پاسکونے پیچھے مڑ کر دیکھااور طنزیہ انداز میں مسکرا دیا ۔یہ یہودی مجھے کافی دفعہ شری کانت پارٹی کے ساتھ بیٹھا ہوا نظر آیا تھا۔
”ان کی ایسی کی تیسی ؟“سردار خان نے اپنی رفتار تیز کرنا چاہی ،مگر میں نے جلدی سے اس کا بازو تھام لیا ۔
”انھوں نے اس رفتار سے ٹریک کے ایک یا دو چکر لگانے ہیں بھولے بادشاہ!....اور ہم نے پانچ کلو میٹر کا فاصلہ پورا کرنا ہے ۔“
”میں پانچ کلومیٹر کا فاصلہ بھی پورا کروں گا اور انھیں آگے بھی نہیں نکلنے دوں گا ؟“سردار خان کی پٹھانی حس بیدار ہو گئی تھی ۔
”یار!.... دماغ کو تھوڑاسا ٹھنڈا رکھو؟سنائپر کو غصہ نہیں کرنا چاہیے ۔“میں نے اسے سمجھا بجھا کر ان کا پیچھا کرنے سے روک دیا ۔اور اگلے چکر ہی میں وہ دونوں ٹریک سے اتر کر جم کی طرف جا رہے تھے ۔
”دیکھ لیا ....بس یہی ان کی پریکٹس تھی ۔“
”وہ ہمیں چڑا رہے تھے ذیشان!“سردار کا غصہ اب تک نہیں اترا تھا ۔
”تو چڑاتے رہیں؟ہمیں ضرورت ہی کیاہے چڑنے کی ؟....یہ کوئی مقابلہ تو نہیں تھا نا؟“
”تمھارا تو ہر بات میں علاحدہ فلسفہ ہوتا ہے ؟....کل اس خوب صورت لڑکی کو بھی خفا کر دیا تھا۔اب وہ ہندوو¿ں کے ساتھ گھوم رہی تھی ۔“
میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔”تمھیں اس کے خفا ہونے کا غم ہے یا اس کے ہندوو¿ں کے ساتھ گھومنے پر ؟“
وہ چند لمحے سوچنے کے بعد بولا ۔”اس کے ہندوو¿ں کے ساتھ گھومنے پر ۔“
”مطلب میں اسے کہہ دوں کہ وہ ہندوو¿ں کے ساتھ نہ گھوما کرے ؟....کیونکہ میرے خان بھائی کو تکلیف ہوتی ہے ۔اور اگر وہ خود کو اکیلا سمجھتی ہے تو سردار خان اس کا اکیلا پن دور کر سکتا ہے ؟“
وہ جھٹ بولا۔”یہ بھلا کیسے ممکن ہے ؟....چنارے بیگم میری جان کو آ جائے گی ؟“
”میری باجی کو کیا پتا کہ اس کا شوہر امریکہ میں کیا کرتا پھر رہا ہے ؟“
”وہ مجھے سونگھ کر بتا دیتی ہے کہ میرے دل میں کیا ؟“
”یعنی آ پ کے خیالات اتنے بدبودار ہیں کہ ان کی بو ہماری بہن فوراََ سونگھ لیتی ہے ۔
”یار !....مذاق اڑانے کی کوشش نہ کرو؟میں نے یونھی کہہ دیا تھا ۔میری طرف سے بھاڑ میں جائے ۔“
جواباََ میں ہنس کر خاموش ہو گیا تھا کہ زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے ہمارا سانس پھولنے لگا تھا ۔
اسی وقت ہم نے جینیفر کو آتے دیکھا ۔وہ اکیلی نہیں تھی ۔اس کی امریکن ساتھی کیٹ واٹسن بھی اس کے ہمراہ تھی ۔دونوں نے چست پاجامے پہنے ہوئے تھے ۔بالائی لباس بھی فقط بلاو¿ز پر مشتمل تھا۔ مگریہ پاکستان تو تھا نہیں کہ ہمیں حیرانی ہوتی ۔وہاں کی عورتوں کے نزدیک تو وہ ایک مکمل لباس تھا ۔
”بے حیا عورتیں ۔“سردار خان نے ناک بھوں چڑھائی ۔
”دیکھ لو....تم مجھے ان سے دوستی کا مشورہ دے رہے تھے ۔“میں نے سردار کوشرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔
”وہ کیا کہتے ہیں جنگ اور محبت میں ہر کام جائز ہوتا ہے ۔“
”اس سے محبت کون کرتا ہے ؟“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”محبت نہ سہی ؟ہندو کے بچے سے جنگ تو ہے نا ؟“
”سردار !....جانتے ہو ؟تمھاری باتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟“
”کیا ....؟“
”یہی کہ تم خالص اور کھرے پٹھان ہو۔“
وہ خفت سے بولا۔”ذیشان بھائی !....طنز کر رہے ہو ؟“
”تو اور کیا کروں ؟....تم نے اس کے علاوہ مجھے کسی قابل چھوڑا ہی نہیں ہے؟“
”وہ دیکھو کافر کے بچے بھی پہنچ گئے ؟“سردار خان نے دور سے آتے ہوئے شری کانت اور راج پال کو دیکھ کر نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔
”بھاڑ میں جائیں یار !“سردار کو کہہ کر میں امریکن تتلیوں کی پشت کو گھورنے لگا جو۔” صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ۔“سے بھی ایک قدم آگے کا لباس زیب تن کیے ہم سے تیس پینتیس میٹر آگے دوڑ رہی تھیں ۔ان کے پاجامے ،جسم کا اصل رنگ چھپانے کے علاوہ کسی عضو کو چھپانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ۔آج کل تو خیر سے پاکستان میں بھی اس طرح کے سکن ٹائیٹ پاجامے کا عام رواج ہے ۔بلکہ ہمارے لبرلز ہم وطنوں کا پسندیدہ لباس یہی ہے ۔وہ دونوں لڑکیاں ہماری طرح جاگنگ ہی کر رہی تھیں اس لیے ہمارے بیچ فاصلہ برقرار رہا تھا۔ شری کانت اور راج پال ٹریک کے کنارے کھڑے ہو کر ان کے قریب آنے کے منتظر رہے ۔جیسے ہی وہ دونوں ان کے قریب پہنچیں وہ ان کے ساتھ قدم ملا کر دوڑنے لگے ۔ہمارا بیسواں چکر مکمل ہو گیا تھا اس لیے ہم جم کی طرف بڑھ گئے ۔
تھوڑی دیر بعد وہ چاروں بھی شوخ جملو ں کا تبادلہ کرتے ہوئے جم میں داخل ہوئے ۔
شری کانت نے ہمیں دیکھ کر معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”کیا حال ہے ساتھیو!“وہ گویا ہمیں یہ جتا رہا تھا کہ اس نے جینیفر کو ہم سے چھین لیا ہے ۔
سردار کے کچھ کہنے سے پہلے میں نے مسکرا کر کہا ۔”آج ،کل سے کچھ بہتر ہے کہ یہ بلا سر سے ٹلی؟۔“
شری کانت نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”اتنی خوب صورت لڑکی کو بلا کہنے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ انگور کھٹے ہیں ؟“
میں سادگی سے بولا۔”اب مجھے اس کے ذائقے کا کیا پتا؟....میں نے چکھا تھوڑی ہے اسے؟....یوں بھی ہم مسلمانوں کا مزاج اس بارے مختلف ہوتا ہے ۔ہم کسی کے بچے یا پھینکے ہوئے مال کو منہ نہیں لگاتے ؟“
”ہا....ہا....ہا“شری کانت نے مصنوعی قہقہہ لگایا۔”اسے کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے؟“
”ہا....ہا....ہا“میں نے بھی قہقہہ لگا کر اس کا ساتھ دیا تھا ۔
اسی وقت جینیفر نے راج پال سے ہم دونوں کی گفتگو کا مطلب پوچھا ۔جواباََ راج پال نے بغیر لگی لپٹے رکھے سب کچھ اس کے گوش گزار کر دیاتھا۔اس کی بات سنتے ہی جینیفر لال بھبکا ہو کر میری طرف بڑھی ۔
جاری ہے
 

”یو....“وہ گالی بکنے لگی تھی مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر رک گئی اور لمحا بھرمجھے گھورنے کے بعد بگڑے ہوئے لہجے میں مستفسر ہوئی ۔”تمھاری گفتگو کا مطلب کیا ہے ؟“
”میرا خیال ہے ؟....میں نے تمھیں کوئی بات نہیں کی کیپٹن!“میں نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا۔
”مسٹر کانٹ،کو تو کی ہے نا ؟“اس نے شری کانت کے نام کا حلیہ بگاڑا ۔
”نہیں ....شری کانت نے ہمارا حال پوچھا اور میں نے بتا دیا کہ کل سے بہتر ہے ۔باقی وہ خود تمھاری ذات کو گفتگو میں گھسیٹ رہا تھا تو میرا جواب دینا تو بنتا تھا نا ؟“
”مسٹر ذی !....اپنی حد میں رہو ؟“
”کیپٹن جینیفر ہنڈسلے!....میرا نام ذیشان حیدرہے ۔اگر نام لینا نہیں آتا توپلیز مجھے مخاطب نہ ہوا کرو؟“
ایک لمحا مجھے گھورنے کے بعد وہ ایکسرسائز مشین کی طرف بڑھ گئی ۔
”Any problem friend?“سارجنٹ ریگن واچ ہم سے تھوڑا دور ایکسرسائز کر رہا تھا۔ہمارے درمیان تلخ کلامی سن کر اس نے میرے نزدیک آ کر پوچھا۔
”نہیں شکریہ دوست!....کیپٹن جینیفر ہنڈسلے کو کوئی غلط فہمی ہوئی تھی ۔“
”اوکے ۔“کہہ کروہ کندھے اچکاتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔
ریگن واچ کے واپس مڑتے ہی سردار نے پوچھا۔”یہ کیوں غصے میں لال پیلی ہو رہی تھی ؟“
میں نے شرارت سے کہا ۔”کہہ رہی تھی ؟ تمھارا ساتھی سردار خان اسے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہا ہے ؟“
”اب اتنا بھی پٹھان نہیں ہوں یار !“
”کیوں پٹھان ہونا کوئی بری بات ہے کیا؟“
”تم لوگ پٹھانوں کو بے وقوف سمجھتے ہو نا؟“
”بالکل غلط ....یہ کس نے کہا کہ پٹھان بے وقوف ہوتے ہیں ۔پٹھان تو غیرت ،جرا¿ت اور بہادری کا دوسرا نام ہیں۔البتہ انھیں سادہ کہا جاسکتا ہے کہ دل میں کوئی بات چھپا نہیں سکتے اور جذبات میں ذرا جلدی آ جاتے ہیں ؟“
” اصل بات بتاو¿، مجھے ٹرخانے کی کوشش نہ کرو ؟“
”کمرے میں بتاو¿ں گا یہاں دشمن سن رہے ہیں ۔“کہہ کر میں پش اپ نکالنے لگا۔
راج پال اور شری کانت ٹریک سوٹ کا اپّر اتار کر بھونڈے انداز میں اپنے مسلز کی نمایش میں لگے تھے ۔بالکل آج کل کی انڈین فلموں کے ہیروز کی طرح جو سین کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود اپنے مسلز کی نمایش پر بہ ضد نظر آتے ہیں ۔ہاں یہ علاحدہ بات کہ فلموں میں تو کیمرہ ٹرک یا ڈمی کے استعمال سے یہ مقصد پورا ہو جاتا ہے یہاں ان دونوں کے پاس کوئی ایسے جسم موجود نہیں تھے کہ وہ کسی کو امریکن لڑکی کو متاثر کر سکتے ۔خیر یہ میری ذاتی رائے ہے ۔ضروری نہیں کہ لڑکیاں صرف مسلز دیکھ کر ہی متاثر ہوتی ہوں۔ان کی کوئی دوسری خوبی بھی ان گوریوںکو پسند آ سکتی تھی ۔
اپنی مشق کے اختتام پر ہم دونوں جم سے باہر نکل آئے تھے۔کمرے کی طرف جاتے ہوئے میں نے سردار خان کو جینیفر کے غصے کی بابت بتا دیا ۔
”ایک بات کہوں ذیشان بھائی !....مجھے لگتا ہے یہ گوری تمھاری ذات میں دلچسپی لے رہی ہے ؟“
”بھلا وہ کیسے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا۔
”یار !....سامنے کی بات ہے ؟وہ کل سے ان لوگوں کے ساتھ گھوم رہی ہے جن سے تمھیںنفرت ہے ۔اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ تم سے الجھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ایسا خواہ مخواہ تو نہیں کیا جاتا۔مجھے یاد ہے کہ چنارے بیگم ہر وقت میرے پیچھے پڑی ہوتی تھی ۔مجھ سے لڑنا جھگڑنا اس کا آئے روز کا معمول تھا ۔اب دیکھو وہ میری بیوی ہے ؟“
”خان صاحب!....صاف کہو نا؟تم مجھے میری بیوی کے ہاتھو ں قتل کرانا چاہتے ہو؟“
”ہا....ہا....ہا....وہ چنارے بیگم تو نہیں ہے کہ ایسا سخت قدم اٹھائے گی ؟“
”بھول ہے تمھاری ؟یہ جنس جسے بیوی کہا جاتا ہے ؟ شوہرنام کی مخلوق کے لیے برابر خطرناک ہوتی ہیں ۔“
”ویسے ذیشان بھائی !....مجھے تو چنارے کا غصہ ،اس کا لڑناجھگڑنا ،اس کی ضد یہ بہت یاد آتا ہے ۔ یقین کرو جو پیار محبت اس کے غصے میں ہوتا ہے اس کے لیے پردیس میں ترستا رہتا ہوں ۔“
”صحیح کہا۔“میں ٹھنڈا سانس لے کر ماہین کی یادوں میں کھو گیا تھا ۔وہ بھی تو ایسی ہی تھی ۔یقینا ساری محبت کرنے والی بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔ان کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان سے دور ہوتے ہیں کہ چند منٹ دیر سے گھر لوٹنے پر وہ کس کس طرح کی جرح کرتی ہیں ۔اور خفا ہوکر یا روٹھ کر بھی وہ اپنے خاوند کا اتنا ہی خیال رکھتی ہیں جتنا خوشی کی حالت میں رکھتی ہیں ۔بغیر کچھ کہے کھانے کے برتن سامنے لا دھرنا ۔بے توجہی ظاہر کرتے ہوئے بھی مکمل دھیان رکھنا کہ پلیٹ میں سالن ختم تو نہیں ہو گیا یا پانی کا گلاس تو خالی نہیں ہوگیا ۔بستر پر لیٹتے ہوئے ایسی حرکات کرنا کہ شوہر کو معلوم ہوتا رہے کہ بیگم صاحب جاگ رہی ہے سوئی نہیں اور شوہر صاحب کے پاس منانے کی گنجایش موجود ہے۔بہ ظاہر لاتعلقی کا انداز لیے شوہر کی ہر سہولت کا پوری توجہ سے جائزہ لینا؟ ایسا کوئی مشرقی بیوی ہی کر سکتی ہے ۔مغرب کے حصے میں یہ محبتیں کہاں ؟....وہاں تو بس ساری محبتوں کا محور ہی مرد و عورت کی جسمانی کشش یا دولت کا حصول ہوتا ہے ۔
٭٭٭
اگلے دن بریک کے دوران میں اور سردار ایک طرف کھڑے ہو کر لیوپولڈ سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔جینیفر ہمارے قریب کھڑے جمیل خان اور سکندر علی خان کے ساتھ آ کر گپیں ہانکنے لگی ۔ان دونوں کا تعلق افغانستان سے تھا ۔دونوں کلین شیو پٹھان تھے ۔انگریزی زبان پر انھیں اچھا خاصا عبور تھا ۔جینیفر ان سے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے لگی ۔میں سردار کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے تھوڑادور ہٹ گیا ۔سردار کو وہاں سے دور ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہوئی تھی کیونکہ جینفر کی طرف اس کی پشت تھی۔البتہ جس جگہ پر جا کر ہم رکے تھے وہاں جاپانی لی زونا اپنے ساتھی کے ساتھ ایسی زبان میں محو گفتگو تھی جس کا ایک لفظ بھی ہمارے پلے نہیں پڑ رہا تھا ۔
”یہ دونوں اتنی خوب صورت گفتگو تو نہیں کر رہے کہ تم مجھے اتنی تیزی سے یہاں تک کھینچ لائے ہو ؟“سردار طنزیہ انداز میں مستفسر ہوا ۔
”خان بھائی !....لی زونا کی معصومیت تو دیکھو نا ؟“میں نے بچوں کے سے نقش رکھنے والی جاپانی لڑکی کی جانب اسے متوجہ کیا ۔
لی زونا اپنا نام میرے منہ سے سن کر چونکی اور مجھے اپنے جانب گھورتا پا کر مسکرا کر ادب دینے کے انداز میں جھک گئی ۔
میں نے بھی اسی کے انداز میں جھک کر اسے آداب کہا ۔اس کا ساتھی اور سردار میرے انداز پر ہنس پڑے تھے ۔لی زونا کے معصوم چہرے پر بھی تبسم کھلنے لگا۔
”ہائے لی زونا !....میں ذیشان حیدر اور یہ میرا ساتھی سردار خان ہے ۔“میں نے اس کی جانب مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
وہ پرتپاک مصافحہ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔”تھینک یو ذیشان!....اینڈ تھینک یوسردار۔“اس کا ساتھی بھی ہمیں خوش دلی سے ملا تھا ۔ان سے مصافحہ کر کے ہم ان کے ساتھ ہی رک کر گپ شپ کرنے لگے ۔ میں نے کن انکھیوں سے جینیفر کی جانب دیکھا وہ ہماری جانب ہی متوجہ تھی ۔اس کا رویہ مجھے الجھن میں ڈالنے لگا تھا ۔ہر انسان اپنی خوب صورتی کے بارے خوش فہمی شکار ہوتا ہے ۔میں بھی اچھا خاصا خوب صورت اور پر کشش تھا مگر وہاں پر ایسے مرد موجود تھے جو مجھ سے خوب صورت اور قد آور تھے ۔میں تو شایدان کے عشرعشیر بھی نہیں تھا۔ درمیانی قدو قامت ،رنگت بھی ہلکی سانولی جسے زیادہ سے زیادہ گندمی کہا جا سکتا تھا۔ افغانستان سے آنے والے دونوں حضرات تو چھے فٹ سے بھی نکلتے ہوئے قد کے تھے ۔سرخ و سفید رنگت اور صحت مند جسم ۔بلاشبہ مغربی تہذیب کی میں پلی بڑھی ان عورتوں کے لیے وہ آئیڈیل ساتھی تھے ۔ان دو کے علاوہ بھی وہاں کافی خوب صورت مرد موجود تھے ۔ا ن تمام کی موجودی کے باوجود جینیفر کایوں مجھ میں دلچسپی لینا مجھے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔
پھر مجھے خیال آیا ....میں کسی مخصوص عہدے پر براجماں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں کہ ایک لڑکی کے اپنی جانب مائل ہونے کو کسی سازش کا نام دے دوں۔اسی طرح کوئی الھڑ دوشیزہ بھی نہیں، کہ اپنی عزت و عصمت کا خوف لاحق ہو؟گو مرد کی بھی عزت ہوتی ہے مگر فی زمانہ اس کا خیال بھی عورتوں ہی کو کرنا پڑتا ہے ۔خودمرد کو ایسی کوئی تگ و دو نہیں کرنا پڑتی کہ اس کی عزت محفوظ رہے ۔اپنے تیئں میں یہی کر سکتا تھا کہ اسے نظر انداز کرتا رہوں اور یہی میں کر رہا تھا۔
”شاید یہ دلچسپی کے بجائے نفرت ہو ؟“میرے دماغ میں ایک قابلِ قبول سوچ لہرائی ۔اسی وقت بریک ختم ہونے کی گھنٹی ہوئی اور میں سر جھٹک کر کلاس روم کی طرف بڑھ گیا ۔
تین دن لیوپولڈ ٹیلی کوپ سائیٹ کے بارے پڑھانے کے بعد چوتھے دن ہمیں عملی طور پر فائرنگ رینج پر لے جایا گیا ۔جدید سہولیات سے مزین وہ ایک بہترین فائرنگ رینج تھی۔یہاں پاکستان میں آو¿ٹ ڈور فائرنگ رینج میں مختلف فاصلوں پر فائر کرنے کے لیے فائرر کو ہدف سے دور جانا پڑتا ہے اور ہدف ایک جگہ پیوست ہوتے ہیں ۔وہاں اس کے برعکس حرکتی ہدف لگے ہوئے تھے ۔فائرر کواپنی جگہ سے ہلنا نہیں کرنا پڑتا تھا ۔بٹن دبا کر ہدف کو پچیس میٹر سے لے کر تین ہزار میٹر کے فاصلے تک با آسانی قریب یا دور کیا جا سکتا تھا۔ کلاس کے طلبہ کی تعداد کے برابر رینج ماسٹر سنائپر رائفلز دستیاب تھیں۔تمام سنائپرز کو علاحدہ علاحدہ رائفل ملی ۔ہر ایک نے اپنی رائفل کو خود ہی فائر کے لیے درست کرنا تھا ۔رہنمائی کے لیے انسٹرکٹرز موجود تھے ۔رینج پردس ہدف نصب کیے گئے تھے ۔اور ہر ہدف طاقتور کیمرے کی زد میں تھا۔ ایک فائرر اپنے ہر فائر کے بعد قریب لگی سکرین پر فائر شدہ گولی کو با آسانی دیکھ سکتاتھا۔اگلے دو دن ہم نے مختلف فاصلوں سے ہدف پر فائر کرنے میں گزارے ۔فائرنگ کی کارروائی دوپہر تک ہوتی اس کے بعد ہم واپس آ جاتے۔
دوسرے دن فائر کے اختتام پر انسٹرکٹرز نے ہمیں اگلے دن فاینل فائر کے متعلق بتا دیا ۔ لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کا اختتامی فائر تھا ۔اس کے بعد سنائپر کورس کی شروعا ت ہونا تھی ۔
ہم دونوں اپنی اپنی رائفل کمرے ہی میں اٹھا لاتے تھے ۔وہاں رائفل کمرے میں لانے کی اجازت تھی ۔البتہ کسی بھی سنائپر کو ایمونیشن کمرے میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی ۔
سردار خان مجھے مخاطب ہوا۔”ذیشان بھائی !....کل ہندوو¿ں کو آگے نہ بڑھنے دینا ؟“
”سینئر تم ہوسردار بھائی !....اور یہ تمھاری ذمہ داری ہے میری نہیں ؟“
”لانس نائیک اور سپاہی میں فرق ہی کتنا ہوتا ہے ؟“
میں ہنسا ۔”یہ تو تمھاری سوچ ہے ؟پاک آرمی میں تو ایک دن پہلے آنے والا سینئر گردانا جاتا ہے اورتم دو مختلف رینکوں کو مماثل کرنے کے چکر میں ہو ؟“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”مگر یہ پاکستان تو نہیں ہے نا ؟“
میں کب پیچھے رہنے والا تھا ۔فوراََ جواب دیا ۔”ہم تو پاکستانی ہیں نا بھائی ؟“
”تم شاید بھول رہے ہو؟وہاں پہلے نمبر پرکون آیا تھا؟“
”پہلے نمبر پر آنے سے عہدے میں فرق نہیں پڑتا میرے بھائی ؟“
”اچھا مزاق چھوڑو نا یار!....میں اپنی پوری کوشش کروں گا ،مگر یہ بھی دیکھو کہ تمھارا فائر مجھ سے کہیں بہتر ہے ؟“
” ٹھیک ہے ۔فی الحال تو رائفل کو صاف کرلیں ۔“میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کلیننگ راڈ میں چندی ڈالنے لگا ۔
”چلو ۔“وہ بھی اپنی رائفل کی طرف متوجہ ہو گیا۔(رائفل کی بیرل فائر کے بعد اندر سے بہت زیادہ گندی ہو جاتی ہے ۔فائر سے پیدا ہونے والی آلودگی رائفل کی بیرل کے اندر جم جاتی ہے ۔اگر اس آلودگی کو صاف نہ کیا جائے تو بہت جلد بیرل اندر سے خراب ہو جاتی ہے ۔نتیجے کے طور پر رائفل فائر کے قابل نہیں رہتی ۔ایک اچھا سنائپر اپنی رائفل کی صفائی کا اہتمام اپنے چہرے سے بھی زیادہ کرتا ہے )
٭٭٭
اگلے دن فائرنگ رینج پر پہنچتے ہی ہمارے سینئر انسٹرکٹرمیجرجیمس میتھونی ہمیںاختتامی فائر کے متعلق ضروری ہدایات دینے لگا ....
”آج لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ سے فائر کرنے کا اختتامی مرحلہ ہے ۔کسی بھی سکھلائی کی کلاس میں اگر مقابلے کی فضا پیدا نہ کی جائے تو سکھلائی کے اندر طلبہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اختتامی فائر کے باقاعدہ نمبر دیے جائیں گے ۔ہر سنائپر کو پانچ گولیاں دی جائیں گی ۔جنھیں وہ اپنی مرضی سے کسی بھی فاصلے پرسے فائر کر سکتا ہے ۔فاصلے کی اکائی تین سو میٹر ہے ۔ اور یہاں سے ایک گولی کے ہدف کولگنے کے نمبر عشاریہ پچیس ہوں گے ۔پانسو میٹرسے ایک گولی کے نمبر عشاریہ پچاس ،سات سو میٹرسے ایک گولی کا ایک نمبر،ہزار میٹر سے ایک گولی کے دو نمبر ،پندرہ سو میٹر سے ایک گولی کے تین نمبراور اٹھارہ سو کے فاصلے سے ایک گولی کے چھے نمبر ہوں گے۔کوئی بھی فائرر اپنی تمام گولیاں تین سو میٹر کے فاصلے سے بھی فائر کر سکتا ہے اور اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے بھی بلکہ انیس سو یا دو ہزار میٹر سے فائر کرنے کی بھی ممانعت نہیں ہے ۔انیس سو میٹر پر ایک گولی کے نو نمبر ہوں گے ۔یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ لیوپولڈ سائیٹ کی رینج دو ہزار میٹر تک ہے مگر میں خود سترہ سو کے بعد ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہوں ۔ ہمارے ایک انسٹرکٹر ہوا کرتے تھے پیٹر سمتھ ۔وہ اٹھارہ میٹر کے فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنا لیتے تھے ۔ لیکن تم لوگوں کی بدقسمتی کہ میں ان سے تمھاری ملاقات نہیں کرا سکتا ، کیونکہ قریبا دو ماہ پہلے وہ وفات پا چکے ہیں ۔ خیریہ ایک ضمنی بات تھی میں تم لوگوں کے حوصلے کو مہمیز نہیں کرنا چاہتا ۔اور یاد رکھنا کہ یہ فائر جوڑیوں کی صورت میں ہو رہا ہے اس لیے دو آدمیوں کے نمبر ملا کر نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔اب تمام سنائپرز اپنے فائرنگ اڈوں پر تشریف لے جا سکتے ہیں ۔“
میجرجیمس میتھونی کی بات ختم ہوتے ہی ہم فائرنگ اڈوں کی جانب بڑھ گئے ۔میں سردار خان کو فائرنگ کی ہدایات کے متعلق بتانے لگا ۔میری بات ابھی تک درمیان میں تھی کہ مجھے میجرجیمس میتھونی نے پکارا۔
”مسٹر ذیشن!“وہ میرے نام میں الف کو حذف کر دیتے تھے ۔
”جی سر !....“میں نے رک جواب دیا۔
”میرے پاس آ سکتے ہو ؟“
”یس سر !....“کہہ کر میں نے سردار کو کہا۔”تم جاو¿ میں انسٹرکٹر کی بات سن کر آتا ہوں۔اور سردار سر ہلا کر فائرنگ اڈے کی سمت چل پڑا ۔جبکہ میں میجر جیمس میتھونی کی جانب بڑھ گیا ۔
اس کے نزدیک ،جینفر ہنڈسلے ،یہودی ڈونلڈ پاسکو،جاپانی مان ین لی ،شری کانت اور جمیل خان افغانی کھڑے تھے ۔
”جی سر !....“میں نے قریب جا کر اسے سیلوٹ کیا ۔
سر کے اشارے سے میرے سیلوٹ کا جواب دیتے ہوئے وہ گویا ہوا ....
” تمام کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ پریکٹس فائرکی کمپیوٹر رپورٹ کے مطابق چھیﺅں کا فائرنگ رزلٹ سب سے اچھا ہے ۔آج فاینل ٹیسٹ ہے اور میری خواہش ہے کہ پہلی پوزیشن پر تمھی میں سے کوئی کھڑا نظر آئے ۔لیکن یہ یاد رکھنا کہ کسی اکیلے کی کارکردگی اسے پہلا نمبر نہیں دلا سکتی ۔ سنائپنگ میں اپنے ساتھی کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔کیپٹن ہنڈسلے !....تمھارے پاس تو ساتھی کے چناو¿ کی تین آپشن موجود ہیں ۔اسی طرح مسٹر ڈونلڈ کے پاس بھی تین آپشن موجود ہیں کہ یہ اپنے کسی بھی ہم وطن کا انتخاب کر سکتا ہےں ۔لیکن باقی چاروں کے پاس ایسی کوئی آپشن موجود نہیں ہے ۔اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے۔ پہلی تین پوزیشنوں کا حصول تمھار ے اورتمھارے ملک کے لیے ضرور قابل فخر بات ہو گی ۔کیا میں درست کہہ رہا ہوں ؟ “
”جی سر !....“ہم نے بیک زبان کہا ۔اسی وقت فائرنگ کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنا شروع ہو گئی تھیں۔
”اوکے !....بیسٹ آف لک ۔“میجر جیمس نے ہمیں واپس جانے کا اشارہ کیا ۔اور ہم اپنے اپنے فائرنگ اڈوں کی جانب بڑھ گئے ۔وہاں چونکہ فائرنگ کے دس اڈے بنائے گئے تھے اس لیے ہر اڈے پر سات ،آٹھ سنائپر فائر کرتے تھے ۔ہمارے اڈے پر انڈین اور نیپالی سنائپربھی ہمارے ساتھ موجود تھے ۔
میں اس لحاظ سے باقیوں سے خوش قسمت تھا کہ میرا ساتھی بھی ایک اچھا فائرر تھا ۔یہ سوچ میں میرے دماغ میں سرگرداں تھی کہ رزلٹ اناو¿نسمنٹ کرنے والی کی دلکش آواز میرے کانوں میں پڑی ۔ اعلان کیا تھا کہ اس نے میرے سر پر بم پھوڑ ڈالا تھا ۔
”پاکستان سے تعلق رکھنے والے سردار خان نے تین سو میٹر کے فاصلے سے پانچ گولیاں کامیابی سے ہدف پر ہٹ کر دی ہیں ۔“وہ دوسرے کچھ نام بھی لے رہی تھی ۔مگر میرے دماغ میں سائیں سائیں ہونے لگی تھی ۔میرے ساتھ چلنے والے شری کانت نے قہقہہ لگایا۔
”لو جی ساتھی !....تمھارے بڈی نے کامیابی سے پانچ گولیاں ہدف پر مار دی ہیںاورایک نشانہ بھی خطا نہیں ہوا ۔“
غم و غصے کو ضبط کرتا میں فائرنگ اڈے پر پہنچا ۔”سردار خان !....یہ کیا کر دیا ؟“
میرا لہجہ اور انداز ایسا نہیں تھا کہ وہ پریشان نہ ہوتا۔
”کیا ہوا ذیشان بھائی ....؟دیکھو تو میں نے تمام گولیاں ہٹ کر دی ہیں ؟“
میں نے جھلا کر کہا۔”تمھیں کس نے کہا تھا کہ فائرنگ شروع کرو ؟“
”مم....مجھے اس نے کہا تھا ۔“اس نے راج پال کی جانب اشار ہ کیا۔
راج پال معصومانہ لہجے میں کہنے لگا۔”میں نے تو فقط اتنا بتایا تھا کہ ہرسنائپر کو اجازت ہے وہ جس فاصلے سے چاہے فائر کرے ؟اور کیا یہ غلط ہے ؟“
”ذیشان بھائی !....آخر ماجرہ کیا ہے ؟....مجھے بھی تو بتاو¿۔کیا غلط کر دیا ہے میں نے ؟اور تمھیں معلوم تو ہے مجھے انگریزی زبان نہیں آتی ؟“
شری کانت طنزیہ لہجے میں بولا۔”اسی لیے مشورہ دیا تھا کہ پڑھ لکھ کر آنا تھا ؟“
”مسٹر شری کانت !....پلیز اپنے کام سے کام رکھیں ۔اور یہ سارا قصورتمھارے ساتھی کا ہے؟ اسے کیا ضرورت تھی آدھی بات بتانے کی ؟“
راج پال نے تلخی بھرے لہجے میں کہا۔”میں کسی کا نوکر نہیں کہ ترجمہ کرتا پھروں؟“
ساتھ ہی شری کانت نے لقمہ دیا۔”ہمیں دوش دینے کے بجائے اپنی ساتھی کو جھڑکو؟“
راج پال کی حرکت گھٹیا ہونے کے باوجود میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔سردار خان بھی برابر کا قصور وار تھا اسے میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔
”میرے ساتھ آو¿ سردار!“میں واپس میجر جیمس کی جانب مڑ گیا ۔سردار بھی سر ہلاتا ہوا میرے ساتھ ہو لیا ۔
”ذیشان بھائی !....بتاو¿ تو سہی ہوا کیا ہے ؟“سردار نے پریشانی بھرے لہجے میں پوچھا۔
”یار سردار !....تمھیں میرا انتظار کرنا چاہیے تھا؟....ہندو کو دشمن سمجھنے کے باوجود تم نے اس کا اعتبار کر لیا؟“
”اس نے مجھے چیلنج کیا تھا کہ ایک منٹ میں پانچ گولیاں فائر نہیں کی جا سکتیں ؟....بس مجھے غصہ آگیا ۔میں نے سوچا جب ہر آدمی کی مرضی ہے کہ وہ جس فاصلے سے چاہے فائر کرے تو کیوں نا؟ تین سو سے فائر کر کے اس ہندو کا منہ تو بند کر دوں ۔یقین کرو تمھارے آنے سے پہلے اس نے میری پیٹھ تھپتھا کر مجھے شاباش د ی تھی ۔“
”ہاں شاباش تو اس نے دینا تھی کہ ہمیں پوزیشن سے جو آوٹ کر دیا ۔“
”کیا مطلب ؟“
”مطلب یہ ہے جناب!....کہ تین سو کے فاصلے سے ایک گولی لگنے کے عشاریہ پچیس نمبر ہیں اور تمھاری پانچ گولیوں کے ٹوٹل سوا ایک نمبر ملے ہیں ۔اب بس میرے والی پانچ گولیاں رہتی ہیں اور ان پانچ گولیوں سے ہم کیسے کسی پوزیشن پر آ سکتے ہیں ؟“
میری بات سن کر سردار ایک دم چپ ہو گیا تھا ۔اسے غلطی کا احساس تو ہو گیا تھا مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔
میجر جیمس نے ہمیں اپنی جانب آتے دیکھ لیا تھا ۔وہ ایک بڑی سکرین پر مختلف سنائپر ز کے فائر کا جائزہ لے رہا تھا ۔
 

میرے کچھ کہنے سے پہلے اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”مسٹر ذیشن!....تمھارے ساتھی نے کیا بے وقوفی کا مظاہرہ کیا ہے ؟“
”سر !اسی سلسلے میں حاضر ہوا تھا۔یہ اصل میں انگلش زبان سے نا بلد ہے ۔راج پال نے اسے مس گائیڈ کیا اور اس نے تمام گولیاں تین سو کے فاصلے سے فائر کر دیں ۔“
”تو اس ضمن میں ،میں کیا کر سکتا ہوں ؟“
”سر !....اگر میرے ساتھی کو دوبارہ موقع دیا جائے ........؟“
”نہیں ذیشن!ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟....اس طرح تو وہ تمام جو ایک دفعہ فائر کر چکے ہیں؟ دوبارہ فائر کرنے پر اصرار کریں گے ۔معذرت خواہ ہوں ۔بس اسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لو۔“
”اوکے سر !....“میجر جیمس کا حتمی لہجہ سن کر میں نے مزید منت زاری سے پرہیز کرتے ہوئے واپس جانا ضروری سمجھا۔
”میں معافی چاہتا ہوں ذیشان بھائی !....“سردار خان نے ندامت بھرے لہجے میں کہا ۔ ”میری وجہ سے یہ گڑ بڑ ہوئی ۔“
”اچھا چھوڑو یا ر!....“میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”شاید پوزیشن ہماری قسمت ہی میں نہیں تھی ؟“
واپس فائرنگ اڈے پر جا کر میں شری کانت پارٹی کو فائر کرتے دیکھنے لگا ۔خود میرا جی بالکل فائر سے اچاٹ ہو گیا تھا ۔شری کانت نے پندرہ سو میٹر سے چار گولیاں ہٹ کیں اور اس کی ایک گولی خطا گئی تھی ۔فائر اڈے سے پیچھے ہٹ کر اس نے مجھے فائر کرنے کی دعوت دی ۔
”شکریہ ....آپ جاری رکھیں ۔“میرا موڈ سخت آف تھا ۔شری کانت نے معنی خیز ہنسی کے ساتھ نیپالی سنائپرز کو دعوت دے دی ۔دونوں نیپالی سنائپر فائر کرنے لگے ۔اس کے بعد راج پال نے اپنی پانچوں گولیاں ہزار میٹر کے فاصلے سے فائر کر کے دس نمبر حاصل کرلیے ۔جینیفر نے پانچ گولیاں پندرہ سو میٹر کے فاصلے سے کامیابی سے ہٹ کر کے پندرہ نمبر حاصل کر لیے تھے ۔ جینیفر کے ساتھی نے بھی دس نمبر حاصل کیے تھے ۔ پہلی پوزیشن پرپچیس نمبر کے ساتھ جینیفرپارٹی براجمان تھی ۔چوبیس نمبر حاصل کرکے اسرائیل کاڈونلڈ پاسکو اور اس کی ساتھی سنائپر اینڈریا برٹن دوسری پوزیشن پر تھے ۔جبکہ بائیس نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن پر جاپانی اور انڈین سنائپر ز کی ٹیمیں آئی تھیں۔ سب سے کم نمبر ہماری ٹیم کے تھے۔سوا ایک نمبر کے ساتھ ہم سب سے آخری پوزیشن پر تھے ۔تاہم ابھی تک میرے پاس پانچ گولیاں موجود تھیں ۔میرا نام اناو¿نس کر کے مجھے مطلع کیا گیا کہ فائر سے رہ جانے والا میں اکیلا سنائپر باقی ہوں ۔
اسی وقت جینیفر بھی وہاں پہنچ گئی ۔شاید مجھ پر طنز کرنے آئی تھی ۔”تیسری پوزیشن کی مبارک ہو مسٹر کانٹ!“وہ باآواز بلند شری کانت کو مبارک بار دیتے ہوئے بولی ۔
”شکریہ کیپٹن!....اصل مبارک باد کی مستحق تو تم ہو؟“
”صحیح کہا....“وہ طنزیہ لہجے میں کہنے لگی ۔”ویسے ہم نے اور تمھارے پڑوسیوں نے بریکٹ بنا دی ہے ۔ایک سائیڈ پر ہم اور دوسری جانب تمھارے ہمسائے ؟“
”بھلا وہ کیسے ؟“شری کانت مجھے جلانے کا کوئی موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولی ”اول ہم اور سب سے پیچھے پاکستان،درمیان میں باقی سب ۔“
جواباََشری کانت قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔”ایسی بھی کوئی بات نہیں کیپٹن!....مسٹر ذیشان کی پانچ گولیاں بقایا ہیں ۔یقینا وہ پانسو سے فائر کر کے اڑھائی نمبر لے لے گا سوا ایک نمبر ان کے پاس پہلے سے موجود ہے ۔بس پونے چار نمبر لے کر ہمارے ساتھی سیکنڈ لاسٹ ہو جائیں گے ؟....اور یہ تمھیں معلوم ہو گا کہ انڈونشین سنائپرز کے ساڑھے تین نمبر ہیں ۔“
”ہا....ہا....ہا“دونوں نے باآواز بلند استہزائی قہقہہ لگایا۔
میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا ۔سردار ان کی گفتگو تو نہیں سمجھ پا رہا تھا مگر یہ اندازہ اسے ضرور تھا کہ وہ ہمارے متعلق ہی کچھ کہہ رہے ہیں ۔مگر اس وقت وہ اتنا پشیمان تھا کہ غصہ بھی ظاہر نہیں کر پا رہا تھا ۔اسی وقت میں نے میجر جیمس کو اپنی جانب آتے دیکھا۔
”آر یو فائن مسٹر ذیشن؟“قریب آتے ہی وہ فکر مندی سے مستفسر ہوا ۔
”یس سر !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تم فائر نہیں کر رہے ہو؟....کوئی مسئلہ ؟“
”نہیں سر !....بس فائر کرنے ہی لگا تھا ۔“اپنی رائفل اٹھا کر میں فائرنگ اڈے کی جانب بڑھا۔
”سنو ؟“میجر جیمس نے مجھے متوجہ کیا ۔”تم پانچ گولیاں پندرہ سو میٹر کے فاصلے سے ہٹ کر کے چوتھی پوزیشن لے سکتے ہیں ۔اس وقت افغانی سنائپرز سولہ پوائنٹ کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر ہیں۔“
”پندرہ سو میٹر سے پانچ گولیاں ؟“شری کانت نے قہقہہ لگایا۔جینیفر اور گوپال نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا ۔
میں ان کے قہقہے پر تبصرہ کیے بغیر فائرنگ پوزیشن بنانے لگا۔فائرنگ کے لیے سب سے بہترین اور آرام دہ پوزیشن لیٹی پزیشن ہوتی ہے ۔اس حالت میں ایک فائرر کے تمام اعضاءپر سکون حالت میں ہوتے ہیں ۔اور پھر رینج ماسٹر کے ساتھ فائر کرنے میں سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ رائفل کے ساتھ لگی دو پائی کی وجہ سے بیرل کو تھامنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔فائرر کوصرف بٹ کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ہدف کو حرکت دینے والے بٹن کودبا کر میں نے ہدف کو پندرہ سو میٹر کے فاصلے پر ایڈ جسٹ کیا۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ پر بھی پندرہ سو میٹر کافاصلہ ایلی ویشن ناب پر سیٹ کر کے میں نے ہدف کے درمیان میں شست لی اور سانس روک کر ٹریگر دبا دیا۔
ساتھ لگی سکرین پر نظر ڈالنے سے پہلے میری سماعتوں تک شری کانت پارٹی کا قہقہہ پہنچ گیا تھا۔ گولی ہدف کے دائیں طرف نکل گئی تھی ۔
میں نے سٹپٹا کر سائیٹ پر لگی ڈیفلکشن ناب کو دیکھا ۔(ڈیفلیکشن ناب سے رائفل کی دائیں بائیں کی غلطی درست کی جاتی ہے )میں نے ڈیفلیکشن زیرو لگائی ہوئی تھی کیونکہ رائفل میں دائیں بائیں کی کوئی غلطی موجود نہیں تھی ۔اور چونکہ میں دو دن سے اسی ڈیفلکشن پر فائر کر رہا تھا اس لیے میں نے ڈیفلکشن ناب کو چھونے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ لیکن غلطی مجھ سے یہ ہوئی تھی کہ میں نے اپنے کمینے اور کم ظرف دشمن کو نظر انداز کر دیا تھا ۔کسی بد باطن نے ڈیفلکشن ناب کو اپنی پوزیشن سے ہلا دیا تھا ۔ اور ایسا شری کانت یا راج پال کے علاوہ کون کر سکتا تھا۔ میں انسٹرکٹر سے شکایت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا کہ ڈیفلیکشن ناب کا جائزہ نہ لینا میری اپنی غلطی تھی ۔چند گہرے سانس لے کر میں نے اپنا بلڈ پریشر نارمل کیا ۔ ڈیفلکشن ناب کو گھما کر صفر پر لگا یااوردوبارہ فائر کے لیے تیار ہو گیا ۔اگلی گولی میں نے بڑی آسانی سے ہدف کے بیچوں بیچ ہٹ کردی تھی۔یوں دو گولیاں فائر کر کے میں نے تین پوائنٹ حاصل کر لیے تھے۔اگر میں باقی رہ جانے والی تین گولیاں اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے فائر کرتا تو تینوں گولیوں کے ہٹ ہونے کی صورت میں مجھے اٹھارہ پوائنٹ ملتے ۔تین پوائنٹ دوسری گولی کے اور سوا پوائنٹ سردار خان والے ملا کر ہم سوا بائیس نمبر لے کر تیسری پوزیشن پر آ سکتے تھے ۔اور اگر میں ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو شری کانت پارٹی کے استہزائی قہقہوں کا بدلہ لے سکتا تھا ۔یہ سوچتے ہی میرا ہاتھ ہدف کو حرکت دینے والے بٹن پر پڑا ۔اور جب تک ہدف اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے تک نہ پہنچا میں نے بٹن دبائے رکھا ۔
”اچھی کوشش ،میں تمھارے حوصلے کی داد دیتا ہوں ؟“مجھے پشت کی جانب سے میجر جیمس کی آواز سنائی دی ۔
”سٹھیا گیا ہے ؟“شری کانت نے میرے زخموں پر نمک چھڑکا ۔
”نہیں بھئی!.... پیٹر سمتھ بننے کی کوشش میں ہے ؟“اس دفعہ جینیفر کی آواز نے میرے کانوں میں زہر انڈیلا تھا ۔
مگر میں تمام سے بے نیاز نشانہ سادھنے لگا ۔اٹھارہ سو میٹر کا طویل فاصلہ ناقابلِ شکست کھائی کی صورت میں میری تمنا کی راہ میں حایل تھا ۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے دیکھنے کی طاقت انسانی آنکھ سے پچیس گنا زیادہ ہے ۔خالی آنکھ سے نظر نہ آنے والا ہدف سائیٹ کے اندر بہت چھوٹا دکھائی دے رہا تھا۔ دو تین گہرے سانس لے کر میں نے خود کو نارمل کیااور پھر مکمل سانس روک کر ٹریگر دبا دیا ۔
”شاباش۔“میرے کانوں میں میجر جیمس کی داد دینے والی آواز گونجی ۔”جوان !....تم نے کر دیکھایا۔“
فائر کرنے کے بعد میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔آنکھیں کھول کر میں نے سکرین کی جانب دیکھے بغیر دوبارہ پہلے والی جگہ پر شست سادھی اور سانس روک کر اگلا راو¿نڈ بھی فائر کر دیا ۔
”زبردست!....“میجر جیمس کے نعرے نے میری سماعتوں میں رس گھولا۔میں نے سکرین کی جانب دیکھا دونوں گولیاں درمیانی نقطہ سے چند انچ اوپر لگی تھیں۔تیسری گولی فائر کر کے میں شری کانت پارٹی کو ہرا سکتا تھا ۔مگر پھر بھی میں تیسری پوزیشن لے پاتا۔ایک سوچ میرے دماغ میں سرسرائی اور میں کھڑا ہو گیا ۔
”کیا ہوا ؟“میجر جیمس نے آگے بڑھ کر مجھے کندھوں سے تھاما۔”تم کر سکتے ہو ؟....بس آرام سے ۔اپنے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑو ۔“
”شکریہ سر !“کہہ کر میں نے ایک گہرا سانس لیا ۔
”تم کچھ اور سو چ رہے ہو ؟“میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میجر جیمس نے اضطراری انداز میں کہا ۔شاید اس نے میری سوچ پڑھ لی تھی ۔
”نہیں ....نہیں تم تیسری پوزیشن کھو دو گے ؟“اس کی گرفت میرے بازوو¿ں پر بہت سخت ہو گئی تھی۔
”شاید ایسا نہ ہو ؟“میرے منہ سے نحیف آواز برآمد ہوئی ۔
میجر جیمس نے میرے بازو چھوڑ کر دونوں ہاتھ آپس میں رگڑے۔”اوکے....اوکے ،میں کچھ نہیں کہتا؟مگر ایسا ہو گیا تو ؟....بہت انوکھا ہو گا؟“اس نے سارا بوجھ میری جانب منتقل کر دیا ۔وہ واقعی ایک ذہین انسٹرکٹر تھا کہ اپنے شاگرد کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا ارادہ جان گیا تھا ۔
”سرداراپنی ذمہ داری سنبھالو۔“شری کانت اور راج پال کے پژمردہ چہروں پر ایک نگاہ ڈال کر میں دوبارہ فائر کرنے کے لیے لیٹ گیا ۔
سردار جو اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے دو گولیوں کو ہٹ ہوتے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔ ”جی ذیشان بھائی !....“ کہہ کر میرے قریب آ گیا ۔اس نے میری کمر کے قریب بیٹھ کر اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیا،گویا اس وقت اس کی دعائیں ،اس کا حوصلہ ،اس کی قوت سب کچھ مجھے مل گیا تھا ۔میں اکیلا نہیں تھا ہم دو تھے ۔اور یہ سنائپرز کا خاص انداز ہوتا ہے ۔کسی بھی مشکل فائر کے وقت اسے اپنے ساتھی کا جذباتی سہارا چاہیے ہوتا ہے ۔اور پھر سردار کا ہاتھ مجھے اپنے مشفق استاد عمر دراز کا ہاتھ لگا ۔اس کے ساتھ میری سماعتوں میں استاد عمر دراز کی سرگوشی گونجی ....
”ذیشان بیٹا!....ناممکن صرف وہ کام ہے جس کے بارے سوچا نہ جا سکے ۔پیٹر سمتھ نے اٹھارہ سو میٹرسے کامیاب فائر کیا تھااور تم نے بھی یہ کر دکھایا،لیکن یاد رکھو ررینج ماسٹر کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔اورایک سنائپر کو رسک لیتے رہنا چاہیے ۔ورنہ اس کے پاس صرف ہار کا آپشن بچے گا ۔ اور ہارنا تو دنیا کا آسان ترین کام ہے ۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاو¿؟.... ہار جاو¿ گے ۔“
میرا ہاتھ ہدف کو حرکت دینے والے بٹن کی طرف بڑھا۔بٹن پریس ہوتے ہی ہدف آگے کو سرکنے لگایہاں تک کہ سکرین پر انیس سو میٹر کا ہندسہ چمکنے لگا تھا۔اگر میں انیس سو سے گولی ہٹ کر لیتا تو مجھے نو نمبر ملتے اورسوا پچیس نمبروں کے ساتھ ہم پہلی پوزیشن حاصل کر لیتے۔
اپنی جسمانی ہیئت درست کر کے میں نے رائفل کے بٹ کو اپنے دائیں کندھے میں پھنسایا، بایاں ہاتھ بٹ پر رکھ کر میں نے رائفل کو مضبوطی سے جکڑا،اپنی بائیں آنکھ بند کر کے میں نے دایاں گال مخصوص جگہ پر ٹیکا ۔آنکھ کو ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے سے برابر فاصلے ایڈجسٹ کیا۔اورمیری دائیں آنکھ کی دیدٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسوں سے گزرتی ہوئی انیس سو میٹر دور موجود ہدف پر جا رکی ۔میں نے شست درمیانی نقطے سے ذرانیچے لی تھی کیونکہ اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے فائر ہونے والی گولی درمیانی نقطہ سے چند انچ اوپر لگی تھی ۔دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی نے ٹریگر کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا ۔اور پھر سانس روکتے ہوئے میں نے ٹریگر پریس کر دیا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنا ماتھا زمین پر ٹیک دیا ۔بالکل خاموش چھا گئی تھی ۔
اور پھراس خاموشی کو میجر جیمس کی پاٹ دار آواز نے توڑا ۔
”ناقابل یقین!....“اور اس کے ساتھ میرے کانوں میں تالیوں کی آواز گونجی ۔تمام سنائپرز آہستہ آہستہ اسی فائرنگ اڈے کے قریب جمع ہو گئے تھے ۔
”مبارک ہو ذیشان بھائی !....“سردار خان کی خوشی سے چہکتی ہوئی آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔اور میں گہرا سانس لے کر کھڑا ہو گیا ۔سردار خان پر جوش انداز میں مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔ میں نے سکرین کی جانب نگاہ دوڑائی۔یہ گولی پہلے والی دونوں گولیوں کے درمیان لگی تھی ۔
سردار خان سے گلے مل کر میں جیسے ہی آگے بڑھا ،میجر جیمس نے مجھے بانہوں میں بھرکر میرا ماتھا چوم لیا ۔اور اس کے بعد فرداََ فرداََ تمام ملنے لگے ۔شری کانت اور راج پال وہاں سے کھسک لیے تھے کہ کوشش کے باوجود مجھے نظر نہ آئے ۔جینیفر البتہ ایک جانب کھڑی ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔اس نے گہری نظروں سے میری جانب دیکھا ضرور تھا مگر مبارک باد دینے آگے نہیں بڑھی تھی ۔میں نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر اپنی رائفل کی جانب بڑھ گیا ۔کیونکہ میجر جیمس نے واپسی کا اعلان کردیا تھا۔
اپنی رائفل کو بیگ میں رکھتا ہوا سردار خان دوبارہ مجھ سے لپٹ گیا ۔
”شکریہ ذیشان بھائی !....تم نے مجھے بہت بڑی شرمندگی اور پشیمانی سے بچا لیا۔“
”نہیں سردار !....شکریہ تمھارا کہ مجھے یہ موقع فراہم کیا ۔ورنہ دوسری صورت میں، میں کبھی بھی اتنا بڑا رسک نہ لے پاتا۔“
” ان بنیوں کی شکلیں تواس وقت دیکھنے والی تھیں جب تم اٹھارہ سو میٹر سے دوسری گولی بھی ہٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔“
”ویسے نظر نہیں آ ئے ؟“
”نظر تو اب وہ کافی دن تک نہیں آئیں گے ؟“سردار خان نے قہقہہ لگا کر کہا۔اور ہم پارکنگ میں کھڑی لگژری بس کی طرف بڑھ گئے ۔
٭٭٭
اتوار کا دن ہم دن چڑھے تک سوتے رہے ۔اٹھے تو دوپہر کے کھانے کا وقت تھا ۔حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر ہم ڈائیننگ روم کی جانب بڑھ گئے۔وہاں ہمیں بس چند آدمی ہی نظر آئے ۔ جاپانی لی زونا اور ساتھی کے ہمراہ موجود تھی ۔مجھے دیکھتے ہی وہ مسکرا نے لگی ۔
”لو جی !....تمھاری کارکردگی دیکھ کر لڑکیاں کافی متاثر ہوئی ہیں ۔“
”یہ تو ہر کسی کو ہنس کر ملتی ہے ۔بہت سادہ سی ہے ؟“اسے کہہ کر میں نے لی زونا اور اس کے ساتھی کو ”ہیلو۔ “ کہا۔
”مجھ سے تو کبھی ہنس کر نہیں ملی ؟نہ کبھی بات ہی کی ہے ؟“سردار خان نے منہ بنایا۔
”اردو یا پشتو بولنا اسے نہیں آتا،جاپانی اور انگلش سے تم ناواقف ہو تو اسے اپنی ہنسی ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے بھلا؟“
”کیسے ہومسٹر ذیشان !“ہمارے کرسیاں سنبھالتے ہی لی زونا نے پوچھا۔
”بالکل ٹھیک ۔ہوں سسٹر!“میں نے خوش دلی سے کہا۔
”ویسے اگر میں جاپانی سیکھ لوں تو ؟“سردار خان نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔
”کیا فائدہ ؟....جب تک تم جاپانی زبان سیکھوگے لی زونا بوڑھی ہو چکی ہو گی ۔“
”تم میرے بارے کیاکہہ رہے ہواپنے ساتھی کو ؟“میرے ہونٹوں سے اپنا نام سن کر لی زونا نے دلچسپی سے پوچھا۔
میں نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا۔ ”میرا ساتھی جاپانی زبان سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا تھا ....تو میں نے مشورہ دیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ جب تک تم جاپانی زبان سیکھو گے لی زونا بوڑھی ہو چکی ہو گی ؟“
”ہا....ہا....ہا“لی زونا اور مان ین لی نے زوردار قہقہہ لگایا۔
”محترم!.... یقینا تم نے اصل بات پھوٹ دی ہو گی ؟اسی لیے یہ دونوں اتنا زور سے ہنسے ہیں؟“سردار نے کہا۔”ویسے سودا گھاٹے کا نہیں ہوا ،ہنستے ہوئے یہ اور بھی خوب صورت لگتی ہے ۔“
”اسے بتا دوں ؟“
”کہہ دو ،میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے ؟بات بگڑنے لگی تو میں مکر جاو¿ں گا۔ انھیں کون سا اردو زبان سمجھ میںآتی ہے ؟“
”ویسے تمھاراساتھی چاہے تو میں اسے بوڑھا ہونے سے پہلے جاپانی زبان سکھا سکتی ہوں۔“لی زونا نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔
میں نے اس کی بات کا ترجمہ سردار کے سامنے دہرایا۔
”مکمل زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں ؟بس اتنا ہی سکھا دے کہ کسی کو آئی لو یو کیسے کہتے ہیں ؟“
اور میرے منہ سے سردار کا جواب سن کر مان ین لی تو زور زور سے ہنسنے لگا البتہ لی زونا شرما کر کہنے لگی ۔
”شکل سے تو بہت بھولا لگتا ہے ؟واقعی میں یہ سب کچھ اسی نے کہا ہے ؟ یا تم اپنی طرف سے کہے جا رہے ہو ؟“
”تمھیں کیسے یقین آئے گا ؟“
”اچھا چھوڑیں ؟“وہ اپنے سامنے دھری پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی ۔
”کیا کہہ رہی ہے ؟“سردار خان نے بے تابی سے پوچھا ۔
”خان صاحب!....میرا خیال ہے چنارے بیگم کے ہاتھوں حرام موت مرنے سے بہتر ہے تم کسی مشن میں جامِ شہادت نوش کرو؟“
”اس میں چنارے بیگم کہاں سے آن ٹپکی ؟....اور اسے بھلا یہ کون بتائے گا ؟“
”تو کیا لی زونا کے ہاتھوں گولی کھانی ہے ؟کافی اچھا نشانہ ہے ۔کل دس پوائنٹ حاصل کیے ہیں محترما نے ؟“
”اب تم نے پھر اس کا نام لے لیا اور وہ ہماری جانب دیکھ رہی ہے ؟کیا سوچ رہی ہو گی ہمارے بارے ؟“لی زونا کو اپنی جانب گھورتا پا کر سردار خان پریشانی سے بولا۔
میں نے اطمینان سے کہا۔”ہمارے نہیں ؟....تمھارے بارے خا ن صاحب!“
لی زونا نے ٹشو اٹھا کر ہاتھ صاف کیے اور اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے بولی ۔”ویسے میں کافی بہت اچھی بناتی ہوں ذیشان صاحب!“مان ین لی بھی اس کی تقلید میں کھڑا ہو گیا تھا ۔
”ضرور ۔“میں نے خوش دلی سے کہا۔”ڈنرکے بعد ہم تمھاراٹیسٹ لینے آئیں گے ؟“
”سر آنکھوں پر ۔“وہ ایک گہری نگاہ سردار خان پر ڈال کر مان ین لی کے ساتھ چل پڑی۔
”ضرور میرے بارے کچھ برا کہا ہو گا؟جبھی تم بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہے تھے؟“ان کے ڈائیننگ ہال سے نکلتے ہی سردار شکوہ کناں ہوا ۔
”نہیں یار!....وہ کافی پینے کی دعوت دے رہی تھی ؟“
”تو ٹھیک ہے نا ؟....انکار کیوں کر دیا ؟“سردار خان نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے تھے ۔
”انکار کہاں کیا ہے ؟....رات کے کھانے کے بعد جائیں گے ؟“
”چلو پھر ٹھیک ہے ۔“سردار خان دوبارہ کھانے کو جڑ گیا ۔
٭٭٭
سنائپرزلڑکیاں علاحدہ بلاک میں تھیں۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جینیفرلی زوناکی روم میٹ ہے تو میں کبھی بھی وہاں نہ جاتا۔جس وقت ہم دونوںلی زونا کے کمرے میں پہنچے وہ اکیلی بیٹھی ٹی وی پر کوئی جاپانی فلم دیکھ رہی ۔
”آئیں ذیشان صاحب!“اس نے فرداََ فرداََ ہم دونوں سے مصافحہ کیا۔ ”بیٹھیں ۔“اس نے بیڈ کی جانب اشارہ کیا ۔
ہم دونوں اس کے بیڈ سے متصل پڑے بیڈ پرگئے ۔”مان ین لی نظر نہیں آ رہا ؟“میں نے بیٹھتے ساتھ پوچھا ۔
”ابھی اپنے کمرے کی طرف گیا ہے ؟اسے نیند آئی ہوئی تھی ۔“
”اگر تم نے بھی سونا ہو تو ....؟“
وہ قطع کلامی کرتے ہوئے سرعت سے بولی ۔”نہیں نہیں ....میں اتنا جلدی نہیں سوتی ۔“
سردار نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔”مجھے اس کی صورت دکھانے ساتھ لائے ہو ؟“
میں نے مسکراتے ہوکہا۔”کیا یہ کم ہے ؟“
مجھے ہنستے دیکھ کر لی زونا بھی اپنے ہونٹوں پر تبسم بکھیرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”کیا بات ہو رہی ہے ؟“
” کہہ رہا ہے مجھے اپنا مترجم بنا کر لایا ہے اور میں نے خودتم سے گپ شپ ہانکنی شروع کر دی ہے؟“
”اچھا بڑا تیز ہے یہ ؟“وہ معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔”میں کافی بنالوں ؟“وہ کونے میں بنے کیبنٹ کی طرف بڑھ گئی جہاں الیکٹرک کیتلی رکھی ہوئی تھی۔
”کیا کہہ دیا اسے ؟“
”وہی جو تم نے کہا تھا۔“
”ساتھ اس کا جواب بھی بتا دیا کرو ؟“
”کافی بنا رہی ہے ۔“
”کافی تو ہم اپنے کمرے میں بھی بنا کر پی سکتے تھے ؟“سردار نے منہ بنایا۔
اسی وقت کمرے کا دروازہ کھول کر جینیفر اندرداخل ہوئی ۔ہم دونوں پر نظر پڑتے ہی وہ ٹھٹھک کر رک گئی تھی ۔
”جینی آو¿....“اسے دیکھتے ہی لی زونا خوش دلی سے بولی ۔”مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی ہوں تم لینا پسند کرو گی ؟“
جینیفرنے اس کی بات کا جواب دیے بغیر سخت لہجے میں کہا۔”یقینا مہذب لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی کے بیڈ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھنے کی زحمت کریں ۔“
”جینی !....سوری تمھیںبرا لگا ۔اصل میں انھیں میں نے یہاں بیٹھنے کو کہا تھا ۔“اس کا تلخ لہجہ سن کر لی زونا گھبرا گئی تھی ۔
میں سردار کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوگیا ۔”ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ تمھارا بیڈ ہے ورنہ کبھی ایسی جسارت نہ کرتے ؟“
”عذرِ گناہ بد تر از گناہ ؟“جینیفر نے انگریزی میں جو کچھ کہا اس کا بامحاورہ ترجمہ یہی بنتا تھا۔
”اوکے لی زونا !....پھر کبھی سہی ؟“لی زونا کو کہہ کر میں نے سردار کو چلنے کا اشارہ کیا ۔
”پلیز ذیشان !....بیٹھیں نا؟....میرے بیڈ پر بیٹھ جائیں یا یہ کرسیاں لے لیں؟“ لی زونا نے ایک کونے میں پڑی ہوئی دو کرسیوں کی جانب اشارہ کیا ۔وہ جینیفر کے رویے اور ہمارے ردعمل پر پریشان ہو گئی تھی ۔
”نہیں شکریہ ۔تمھاری طرف سے کافی ہو گئی ۔“یہ کہ کر میں سردار کے ساتھ باہرجانے لگا۔ میری طرف سے سخت جواب نہ ملنے پر جینیفر نے مزید کوئی بات نہیں کی تھی ۔بس خاموش کھڑی کڑے تیوروں سے مجھے گھورتی رہی ۔
”اب کیا ہوا ؟....“باہر نکلتے ہی سردار خان نے معصومیت سے پوچھا۔”میں تو بس بے زبان جانوروں کی طرح بغیر کچھ جانے تمھارے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہوں؟“
”یار وہ کیپٹن صاحبہ کو ہماری وہاں موجودی پر اعتراض تھا ۔“
”تو وہ اس اکیلی کا کمرہ تو نہیں ہے ؟“
”بے شک نہ ہو ؟....مگر ہم وہاں خواہ مخواہ لڑائی جھگڑا تو نہیں کر سکتے تھے؟یوں بھی اسے اپنی ہار کا غم ہے ؟وہ کوئی ایسی بکواس بھی کر سکتی تھی کہ جسے شاید میں برداشت نہ کر پاتا اور بات بہت بڑھ جاتی۔“
”صحیح کہا ۔“سردار نے میرے ساتھ متفق ہونے میں تاخیرنہیں کی تھی ۔
٭٭٭
سوموار کے دن سنائپر کورس کی شروعات میجر جیمس میتھونی کے لیکچر سے ہوئی ۔
”تمام کو ایک بار پھر خوش آمدید۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کی سکھلائی کی ایک سنائپر کے لیے کارآمد سہی، مگر اس کے باوجود اس کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی اس کے بارے مکمل جانکاری حاصل کرنے کے بعد اچھا سنائپر بننے کا دعوا کر سکے ۔ہراچھا سنائپر اچھا نشانہ باز ضرورہوتاہے ،مگر ہر اچھا نشانہ باز اچھا سنائپر نہیں ہو سکتا ۔سنائپنگ کے لیے نشانہ بازی کے علاوہ بھی بہت خوبیوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔اچھا مشاہدہ ،قوت برداشت ،بہترین یاداشت ،بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ،بھو ک، پیاس ،سردی، گرمی برداشت کرنے طاقت اور اس کے علاوہ بھی کافی کچھ ۔ابھی اگر میں مشاہدے اور یاداشت کی بات کروں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ تمام لوگوں میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہوگا جو سامنے آکر کلاس کے ہر فرد کو اس کے نام سے پکار سکے ۔حالانکہ تم لوگ ایک ہفتے سے ساتھ ہو؟کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟“میجر جیمس نے سوالیہ انداز میں اپنی طائرانہ نگاہ چاروں طرف گھمائی پہلی قطار میں بیٹھی جینیفر نے پیچھے مڑ کر میری جانب گہری نظروں سے دیکھا ۔ میں خاموش بیٹھا رہا ۔گو میں میجر جیمس کا دعوا غلط ثابت کر سکتا تھا ،مگر وہ میرا استاد تھا ۔اور مجھے میرے استادوں ہی نے اپنے استاد کا چیلنج قبول نہ کرنے کی ہدایت کی ہوئی تھی ۔میجر جیمس کی بات جاری رہی ....
”یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے ۔کافی حضرات کو شاید میری باتیں ہضم نہیں ہو رہی ہوں گی ؟اوراچھی یاداشت ،قوتِ برداشت وغیرہ انھیں فضول کی باتیں لگ رہی ہوں گی؟لیکن ذرا تصور کروشدید گرمی میں، بھاری گِلی سوٹ پہن کر، کسی تیار فصل میں ،براہ راست دھوپ کی زد میں لیٹے ہوئے سنائپر کا،جسے ہدف کے کے انتظار میں کئی گھنٹے بے حس و حرکت وہیں لیٹنا ہو ؟....اسے کتنی قوت برداشت کی ضرورت پڑے گی ؟....یا وہ سنائپر جو کسی انجان علاقے سے گزرتے ہوئے رستے کی نشانیوں کو ذہن میں بٹھانے کی کوشش میں مصروف ہو تاکہ وہ واپس پلٹتے وقت رستا نہ بھول جائے ۔ ایسے وقت میں کیسی یاداشت درکار و گی ؟........“ میجر جیمس مثالوں کے ذریعے اپنی بات کی وضاحت کرتا گیا۔
پہلا مکمل پیریڈ اس نے لیکچر میں گزار دیا تھا ۔بریک میں سورن منگ میرے قریب آ کر مستفسر ہوا ....”ارے پاکستانی بھائی !....تم میجر جیمس کا دعوا غلط کر سکتے تھے ؟“
”فائدہ ؟“میں نے مسکرا کر پوچھا۔
”اس کے دل میں تمھاری دھاک بیٹھ جاتی ؟“
”شاید ....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”مگر عزت ختم ہو جاتی ۔“
”بھلا وہ کیسے ؟“
”سورن بھائی !....استاد کاچیلنج قبول کرنے کے لیے نہیں ہوتا؟سمجھانے کے لیے ہوتا ہے ۔ ایک میرے سامنے آنے سے میجر جیمس کی بات میں وہ اثر نہ رہتا جو اب طلبہ پر پڑا ہو گا۔“
”صحیح کہا ۔“سورن منگ اثبات میں سر ہلا کر میری پیٹھ تھپتھائی اور اپنے ساتھی کی جانب بڑھ گیا ۔سردار اس وقت جمیل خان اور سکندر علی خان کے ساتھ پشتو میں مصروفِ گفتگو تھا ۔
اسی وقت لی زونا نے میرے قریب آکر ”ہیلو “کہہ کر مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
”کیسی ہو ؟لی زونا !“میں نے اس کا ملائم ہاتھ تھام کر پوچھا۔
”میں رات والے واقعے پر معذرت خواہ کرنے آئی ہوں ۔نہ جانے جینیفر کو کیا ہو گیا تھا ؟وہ ایسی بد اخلاق ہے تو نہیں ؟“
”کوئی بات نہیں ۔اور معذرت کیوںکر رہی ہو ؟“
”تم میرے مہمان تھے نا ؟“
اسی وقت سردار خان افغانیوں سے گفتگو چھوڑ کر ہمارے قریب آ گیا ۔
”ارے تم تو پشتو تازہ کر رہے تھے نا ؟“اسے دیکھ کر میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
”اوہ ہاں ....مگر اچانک ایک ضروری بات یاد آگئی تھی ۔“
”کیا ؟“
”یہی کہ مجھے انگریزی سیکھ لینی چاہے ۔“یہ کہہ کر کو لی زونا کو مخاطب ہوا ۔”ہیلو !....مائی نیم از سردار خان اینڈ آئی بیلانگ ٹو پاکستان۔“اس کی پٹھانی لہجے میں بولی گئی انگلش سن کر لی زونا کا دلکش قہقہہ فضا میں گونجا۔
”اینڈ ائی ایم لی زونا فرام جاپان۔“وہ سردار کے انداز ہی میں بولی تھی ۔
”یس یس آئی نو ....“سردار نے جلدی سے سر ہلا یا اور پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔”آگے کیا کہوں ؟“
”کچھ بھی کہہ دو ،اس نے کون سا برا ماننا ہے ؟“
”سردار!.... مجھ سے بات کرو نا ؟“لی زونا نے ٹھہرٹھہر کرچھوٹا سا فقرہ ادا کیا۔
”مائی انگلش از فنش جی !....آئی سپیک لٹل لٹل انگلش ۔“اس مرتبہ لی زونا کے ساتھ میں بھی اپنی ہنسی ضبط نہیں کر پایا تھا ۔اور ہمارے قہقہے سن کردائیں بائیں کھڑے کافی لوگ ہماری جانب متوجہ ہو گئے تھے ۔
”ویری انٹرسٹنگ ....“لی زونا نے ہنستے ہوئے سردار کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا ۔
”تھینک یو ،تھینک یو۔“کہہ کر وہ مجھے مخاطب ہوا ۔”ٹھیک کہا ہے نا ؟“
”بالکل درست ۔“میں نے انگوٹھا اٹھا کر اسے شاباش دی ۔
اسی وقت بریک ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور ہم کلاس روم کی طرف بڑھ گئے ۔
ٹی بریک کے وقت بھی لی زونا ،سردار خان کو ڈھونڈتے ہمارے قریب آ گئی تھی ۔سردار مجھ سے چھوٹے چھوٹے انگلش کے فقرے پوچھ کر اس سے گپ شپ کرنے لگا ۔خود جاپانیوں کی انگلش بھی اتنی فصیح نہیں ہوتی ،مگر لی زونا کو انگلش پر کافی عبور تھا ۔وہ سردار خان کی ذات میں بھی کافی دلچسپی لے رہی تھی ۔
ٹی بریک کرتے ہوئے اس نے سردار خان کو سکاچ پینے کی دعوت دی تھی ۔مگر سردار نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔
”نو.... نو.... لی زونا!....ڈرٹی تھنگ ۔“
وہ ہنسی ۔”بٹ وائے ؟“
سردار میری جانب مڑا ۔”اب کیا کہوں ؟“
میں نے انگریزی میں کہا۔”کہہ دو ہمارے مذہب میں شراب پینا حرام ۔“
چونکہ لی زونابھی میری بات سن رہی تھی اس لیے سردار کے دوبارہ دہرانے سے پہلے وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”لیکن ذیشان !....کھانے پینے کی چیز کا مذہب سے کیا تعلق ؟“
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔اور ایک مسلمان کے لیے صرف عبادت کرنا ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ ہر کام میں مذہب سے پوچھ کر قدم اٹھا نا ہوتا ہے ۔“
اس نے دلچسپی سے پوچھا۔”تو کیا تم ہر کام میں مذہب کی مکمل پیروی کرتے ہو ؟“
”ہم دونوں کی حد تک تو میر ا جواب نفی میں ہوگا ۔البتہ ہمارے ملک میں ایسے لاکھوں مسلمان موجود ہیں جو ہر کام میں مذہب کی شمولیت کو لازم خیال کرتے ہیں ۔“
”جب ہر بات پر عمل نہیں کرتے تو شراب پینے میں کیا مضائقہ ہے ؟“
”کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے خصوصی طور پر منع کیا گیاہے ۔اور ان میں سے ایک شراب بھی ہے ۔“
”یار!....اسے کن باتوں میں لگا لیا ہے ؟“سردار شکوہ کناں ہوا ۔”مجھے انگلش سیکھنے دو ؟“
”انگلش بولنا مجھے بھی آتا ہے ؟“میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔
”ٹھیک ہے مگر لی زونا کی باتیں میری سمجھ میں زیادہ آتی ہیں ۔“
لی زونا پوچھنے لگی ۔”کس بحث میں پڑ گئے ہو؟“
”موصوف نے تم سے انگلش سیکھنی ہے ؟ا س لیے براہ مہربانی جناب سے مخاطب ہوں ۔“لی زونا کو کہہ کر میں نے کرسی سے ٹیک لگا کر لگا لی ۔ جبکہ وہ ہنستے ہوئے سردار خان کی طرف متوجہ ہو گئی ۔اور بریک کے خاتمے تک مجھے سردار خان کی فصیح و بلیغ انگلش سے بہرہ مند ہونا پڑا۔
٭٭٭
پہلا ہفتہ ہم کلاس روم تک محدود رہے ۔انسٹرکٹرز لیکچر کے ساتھ مختلف وڈیوز وغیرہ دکھا کر ہمیں سنائپنگ سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی دیتے رہے ۔اس کے باوجود کہ ہم دونوں عملی طور پر بھی سنائپنگ کر چکے تھے ،وہاں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا تھا ۔ہمیں جدید سنائپر رائفلوں کو دیکھنے ،سمجھنے اور استعمال کرنے کا موقع ملا ۔مختلف ممالک کے گِلی سوٹوں کو دیکھنے اور پہننے کا موقع ملا ۔سرکشوں اور باغیوں کے خلاف کاروائیوں میں ہمیں ایسا ایمونیشن مہیا کیا گیا جسے پینٹ ایمونیشن کہتے تھے ۔نرم پلاسٹک کے بُلٹ میں سرخ رنگ کا پینٹ بھرکرتانبے کے کیس میں فٹ کیا گیا تھا۔یوں کہ فائر ہونے کے بعد گولی جس جگہ پر بھی لگتی سرخ رنگ کاان مٹ نشان چھوڑ جاتی ۔اس ایمونشن کو فائر کرنے کے لیے نقل بہ مطابق اصل سنائپر رائفلیں بھی موجود تھیں ۔مختلف حرکتی ہدفوں پر ہم اصل گولیاں فائر کرتے ۔مگر مقابلے وقت یا کسی عمارتی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں پینٹ ایمونیشن استعمال کرایا جاتا۔
اس دن ہمیں صبح ناشتے کے بعد ایک ایک راو¿نڈ دے کر ہمیں اپنی پٹ (سنائپر کے زمین پر چھپنے کی جگہ )میں چھپ جانے کا حکم ملا ۔ہم جوڑیوں کی شکل میں تھے ۔کام یہ تھا کہ ہمیں سارا دن اس پٹ میں گزار کر ہدف کا انتظار کرنا تھا ۔ہدف کسی بھی وقت نمودارہو سکتا تھا ۔ہر جوڑی کو ان کے مطلوبہ ہدف کی نشان دہی اسی وقت کی جاتی ۔ہدف نمودار ہونے کے ایک منٹ کے اندر ہدف کو نشانہ بنانا تھا ۔کھانے پینے کے نام پر ہوامیں موجود آکسیجن اور صبر کے گھونٹ ہی تھے ۔ہماری حرکات پر نظر رکھنے کے لیے ہر پٹ پر ایک کیمرہ بھی نصب تھا جو ذرا سی بے قاعدہ حرکت کو اجاگر کرکے سنائپر کے کارکردگی نمبرز میں نمایاں کمی کرا سکتا تھا ۔
علاقہ سرسبز تھا اس لیے ہم نے پٹ بناتے وقت سبزے کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا تھا۔
”ویسے ،کسی نے اپنی مرضی کی جوڑی بنانے اجازت نہیں دی ورنہ ضرور میں اتنا افسردہ نہ ہوتا؟“سردار نے پٹ میں جگہ سنبھالتے ہی موشگافی کی ۔
”کچھ لوگوں کی نیت کے بارے انسٹرکٹر زکو اچھی طرح اندازہ ہے ؟وہ ایسا غلط فیصلہ کبھی بھی نہیں کر سکتے ؟“
سردارتر کی بہ ترکی بولا۔”میں نے تمھاری اور جینیفر کی بات نہیں کی تھی کہ تم نیت کو بیچ میں لے آئے ؟“
”یہ بھی خوب کہی؟....جبکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جینیفر اور میں ایک دوسرے کو کتنا نا پسند کرتے ہیں؟“
”خوش فہمی ہے جناب کی ؟....کیپٹن صاحبہ !....ہر وقت تمھاری ٹوہ میں لگی رہتی ہے ؟‘
”ہاں ،اسے خدا واسطے کا بیر جو ہوا ؟“
”نہیں ،وہ چاہتی ہے تم اس کے آگے پیچھے پھرو ؟“
”راج پال اور شری کانت کم ہیں کیا ؟“
”وہ دونوں تو ہیں ہی بونگے ،کئی بار لی زونا کے ارد گرد بھی منڈلا چکے ہیں ؟“
”تمھارا مطلب ہے لی زونا کے گرد منڈلانے والے بونگے ہوتے ہیں ؟“
”بس میرے پیچھے پڑے رہو ؟“الفاظ سردار کے ہونٹوں پہ تھے کہ گولی چلنے کی آواز آئی ۔یقینا کسی کے سامنے اس کا ٹارگٹ نمودار ہو گیا تھا ۔
”لیں جی ؟کسی بھائی کا انتظار تو اختتام پذیر ہوا ؟“
”تم شاید بھول رہے ہو کہ ہم نے جوڑیوں میں کارروائی کرنی ہے ؟“
”ہاں یہ تو ہے ۔“سردار نے اثبات میں جواب دیا۔
اچانک میرے سامنے پڑے میسج رسیور پر ہلکی سی ٹون کے ساتھ ایک میسج نمودار ہوا۔
”سردار خان کے لیے ،نوے ڈگری،فاصلہ پانسو میٹر ،سرخ رنگ کا غبارہ ،وقت ایک منٹ۔“
میں نے پٹ بناتے وقت شمال کی سمت کے تعین کے لیے ایک پتھر رکھ لیا تھا ۔اور شمال کی سمت اتفاق سے ہماری ناک کی سیدھ میں بن رہی تھی ۔
میں نے فوراََ سردار کو مطلع کیا ۔”سردار پورا دائیں طرف ،پانسو میٹر کے فاصلے پر نظر آنے والا سرخ غبارہ تمھارا ہدف ہے ۔تمھارا وقت شروع ہے ۔“
”اوکے باس !“بغیر کسی پریشانی کے سردار نے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر پانسو میٹر کی رینج لگا ئی اور دائیں سمت مڑ کر دور نظر آنے والے غبارے پر شست باندھ لی ۔ہر سنائپر کے پاس فائر کرنے کے لیے ایک منٹ کا وقت تھا۔میری نگاہ گھڑی پر تھی سردار کو پینتیس سیکنڈ ہو گئے تھے ۔
”اطمینان سے سردارتمھار پاس پچیس سیکنڈ ہیں ۔“اسے کہتے ہوئے میری نگاہ گھڑی کی سیکنڈز والی سوئیوں پر تھی ۔
”پندرہ سیکنڈ بقایا....پچاس ........“اور اس کے ساتھ ہی سردار نے ٹریگر دبا دیا تھا ۔گولی چلنے کے دھماکے ساتھ میں نے غبارہ پھٹتے دیکھا۔
”شاباش سردار !....“میں نے اسے داد دیتے ہوئے کہا ۔”لیکن وقت زیادہ لگا ہے ۔
سردار نے منہ بنایا۔”تم خود کہہ رہے تھے کافی وقت ہے اور اب کہہ رہے ہو کہ وقت زیادہ لگاہے؟“
”وہ تو میں اس لیے کہہ رہا تھا کہ کہیں گولی مس ہی نہ کر دو؟ورنہ ہر پانچ سیکنڈ کا ایک بونس نمبر ہے ۔“
”تو کیا جس نے پہلے پانچ سیکنڈ میں نشانہ بنا لیا اسے گیارہ بونس نمبر ملیں گے ؟“
”بالکل !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”پہلے کیوں نہیں بتایا؟“
”بتایا تھا حضور!....مگر اس وقت تم لی زونا سے محو گفتگو تھے تو اس غریب کی بات پر کہاں کان دھرتے ۔“
”یار !سچ کہوں تو لی زونا بالکل چنارے بیگم کی ڈپلی کیٹ لگتی ہے ؟“
”جی جی بالکل ....تمام لڑکیاں ایک دوسرے کی ڈپلی کیٹ ہی ہوتی ہیں بس نین نقش کا فرق ہوتا ہے ۔ورنہ تو وہی دو آنکھیں ،دو کان ،ایک ناک ،ایک ٹھوڑی اورباقی کا پورا جسم ؟“
”تم میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے ہو؟“
”یہ بھی جناب کی غلط فہمی ہے ۔ورنہ تو میں تمھاراٹھیک ٹھاک مذاق اڑا چکا ہوں ۔“
اسی طرح کی گپ شپ میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔سہ پہر کے قریب میسج رسیور پر میرے نام کا پیغام ایک ہلکی سی ٹون کے ساتھ اجاگر ہوا ۔
”ذیشان حیدر کے لیے ،دو سو سترڈگری،فاصلہ چارسو میٹر ،سبز رنگ کا غبارہ ،وقت ایک منٹ۔“
پیغام پڑھتے ہی میں فوراََ بائیں ہاتھ لیٹا ۔ایلی ویشن ناب جو کہ سردار کے فائر کے بعد میں نے پانسو میٹر پر لگا دی تھی۔اسے چار سو میٹر پر سیٹ کرتے ہی سائیٹ کے ساتھ آنکھ لگائی اور بغیر کسی وقفے کے سانس روکتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔رائفل کے دھماکے ساتھ غبارہ پھٹنے کا دھماکا شامل تھا ۔
”تیرہ سیکنڈز۔“سردار نے بغیر توقف کے اعلان کیا ۔
”میرا خیال ہے بہترین ہو گیا ؟“ایک گہرا سانس لے کر میں ڈھیلا پڑ گیا تھا ۔
سردار نے پوچھا۔”اب کیا کریں گے ؟“
”انتظار۔“میں نے کہا۔”جب تک واپسی کا حکم نہیں ملتا ہم پٹ نہیں چھوڑ سکتے ؟“
اگلے آدھ گھنٹے میں ہمیں واپسی کا حکم مل چکا تھا ۔ہم سارے بسوں کی پارکنگ میں جمع ہونے لگے۔وہاں سے ہماری رہایش تک کاایک گھنٹے کا سفر تھا ۔ تمام کی گنتی پوری ہوتے ہی ہمیںبسوں میں سواری کا حکم ملا ۔میں بس میں گھس کے شیشے والی طرف بیٹھ گیا ۔سردار ابھی تک سوار نہیں ہونے پایا تھا۔میں باہر دیکھنے لگا ۔اسی وقت کوئی میرے ساتھ آکر بیٹھا ۔میں نے سمجھا سردار ہے ۔باہر جھانکتے ہوئے مجھے دو غبارے نظر آئے ۔
”سردار !....وہ دیکھودوغبارے نظر آ رہے ؟یقینا یہ کچھ لوگوں کے ناکام فائر کا اعلان کر رہے ہیں ۔“
جواباََ دلکش انداز میں گلا کھنکارا گیا۔میں نے چونک کر پلٹا ۔اور ششدر رہ گیا ۔میرے ساتھ والی سیٹ پر کیپٹن جینیفر بیٹھی تھی ۔
اسے دیکھتے ہی میں بے ساختہ کھڑا ہوگیا۔
”پلیز تھوڑا رستا دیں ؟“مجھے اس کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں تھا۔
مجھے رستا دیے بغیر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔”ذی !....تمھیں نہیں لگتا کہ ہمیں اب صلح کر لینی چاہیے ؟“
”میرا تم سے کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے کیپٹن صاحب ؟“بے رخی سے کہتے ہوئے میں نے اپنے گھٹنے سے اس کی ٹانگوں کو ٹہوکا دیا تاکہ میرا رستا چھوڑ دے ۔
”اگر جھگڑا نہیں ہے تو پھر بیٹھیں ۔“اس نے بے تکلفی سے میرے بازو کو پکڑ کر کھینچا ۔
مگر میں ایک جھٹکے سے بازو چھڑا کر اسکی ٹانگو ں کے اوپر سے گزر کر باہر آ گیا ۔سردار مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔یقینا وہ کسی دوسری بس میں سوار ہو گیا تھا ۔اور اس میں تو شک کی کوئی گنجایش ہی نہیں تھی کہ وہ لی زونا کے ساتھ تھا۔
میری اس حرکت کاکوئی بھی نوٹس نہیں لے پایا تھا کہ ابھی تک تمام لوگ سیٹوں پر بیٹھ نہیں پائے تھے ۔
دائیں بائیں دیکھنے پر مجھے صرف ایک سیٹ خالی نظر آئی ۔مختصر سا سکرٹ پہننے والی یہودن اینڈریا برٹن ،گلیِ سوٹ میں کافی عجیب لگ رہی تھی ۔
”آفیسر !کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟“وہ لیفٹیننٹ تھی ۔اس سے پوچھے بغیر وہاں بیٹھنا مجھے مناسب نہیں لگا تھا۔
”مجھے خوشی ہو گی مسٹر ذیشان!“اس نے خوش دلی سے سر ہلایا۔
”شکریہ ۔“کہہ کر میں بیٹھ گیا ۔
”آج میں نے سات بونس نمبر لیے ہیں ؟“اس نے خوشگوار لہجے میں مجھے اطلاع پہنچائی ۔
”ویلڈن !....“میں نے تعریفی لہجے میں کہا ۔”اورتمھارے بڈی نے ؟“
”تین ۔“
”بہت خوب۔“
”اور تم؟“
میں نے مسکرا کر کہا ۔”بس ،غبارہ پھاڑ لیا تھا ۔“
”شاید تم بتانا نہیں چاہتے ۔“
”کیا ؟“
”یہی کہ آ پ نے کتنے سیکنڈز میں گولی فائر کر لی تھی؟“
”میرا ساتھی تو تیرہ سیکنڈ بتا رہا تھا ؟“
وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔”میں جانتی تھی ،میرے خوشی زیادہ دیر رہنے والی نہیں ہے ؟“
”میں تو تمھاری خوشی کو کل تک برقرار رکھناچاہ رہا تھا ؟تم نے خود ہی اگلوا لیا ؟“
اس نے معصومیت سے پوچھا۔”ویسے ہم آپس میں بڈی نہیں بن سکتے ؟“
”شایدتم مسٹر پاسکو کے ہاتھوں میرا قتل کرانا چاہتی ہو ؟“میں نے خوفزدہ ہونے کی اداکاری کی ۔”پورا باڈی بلڈر ہے ۔معلوم نہیں کیا کھاتاہے ؟“
”ہا....ہا....ہا“اس کا سریلا قہقہہ گونجا ۔جینیفر پیچھے مڑ کر قہر آلود نظروں سے ہمیں گھورنے لگی تھی ۔
”یہ کیپٹن صاحبہ کو کیا ہوا ؟“اینڈریا حیرانی سے پوچھنے لگی ۔
”کیا پتا ؟ تمھارا قہقہہ ان کی طبع نازک پرگراں گزرا ہو ؟“
”ہونہہ!....کیپٹن ہو گی امریکن آرمی کی ؟“اینڈریا نے منہ بنا کر کہا۔”ویسے پتا ہے کورس سے واپسی پر میں نے بھی کیپٹن کارینک لگا لینا ہے۔“
میں نے جلدی سے کہا۔”پیشگی مبارک ہو ؟“
”شکریہ ۔اور اس خوشی میںتمھیں ڈنر کرا سکتی ہوں ؟“
”نہیں آفیسر !....شکریہ ۔یوں بھی جب سے ہم آئے ہیں باہر نہیں نکلے ؟“
”پھر تو ڈنر اور ضروری ہو جاتا ہے ؟“وہ اصرار کرنے لگی ۔
”پھر کسی دن سہی ؟“میں نے جان چھڑائی ۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ ڈنر کی شروعات کے ساتھ باہر جانے کا آغاز ہوجانا تھا جسے روکنا مشکل ہوجاتا۔اور ہمارے پاس اتنے اخراجات نہیں تھے کہ گوریوں پر لٹا سکتے ۔آرمی کے خرچے پر امریکہ میں کورس کے لیے جانا ایک علاحدہ بات تھی ۔ورنہ اپنی محدود تنخواہ میں تو ہم بس عزت کی روٹی کھا سکتے تھے ۔
”جیسے تمھاری مرضی ۔“اس نے مزید اصرار نہیں کیا تھا۔
رہایش پر پہنچ کر ہم نیچے اترے ۔اینڈریا نے پرجوش مصافحے کے ساتھ مجھے الوداع کہا اور میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔
پارکنگ سے ہمارا کمرہ نزدیک ہی تھا۔کمرے میں گھستے ہی میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنے جوتوں کے تسمے کھولنے لگا ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔
”آجاو؟“میں نے حیرانی سے کہا ۔کیونکہ سردار کبھی بھی دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کرتا تھا ۔
دروازہ کھول کر جینیفر اندر داخل ہوئی ۔اسے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا تھا۔
اند ر داخل ہوتے ہی وہ بغیر کسی تمہید کے بولی ۔”ذی !....تم نے اچھا کیا جو مس اینڈریا کے ساتھ ڈنر کی حامی نہیں بھری ۔میں تمھیں کبھی بھی اس کے ہمراہ جانے کی اجازت نہ دیتی ۔“
گہرا سانس لے کر میں نے اپنے غصے کو نارمل کیا ۔اور اس کی بات کا جواب دیے بغیر بایاں جوتا اتار کر دائیں جوتے کے تسمے کھولنے لگا۔
جاری ہے
 

اسی وقت سردار کمرے میں داخل ہوا ۔
”ذیشان بھائی آج........“وہ مجھے کچھ بتانے لگا تھا مگر جینیفر کو دیکھتے ہی بات بدلتے ہوئے بولا ۔
”ہیلو کیپٹن !....ہاو¿ آر یو ؟“
وہ مسکرائی ۔”فائن مسٹر سیردر !....“اس نے مصافحے کے لیے سردار کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سردار نے کہا ۔”نائیس تو میٹ یو ؟“وہ مکمل انگریزی جھاڑنے کے چکر میں تھا ۔
”ہاو¿ سوئیٹ ،تم نے تو انگلش میں بھی مہارت حاصل کر لی ۔“جیینیفر نے کھلے دل سے اس کی انگریزی کو سراہا۔
”شکریہ کیپٹن !....یہ بس لی زونا کی مہربانی ہے ۔“سردار نے سارا کریڈٹ لی زونا کے کھاتے میں ڈال دیا ۔
”ویسے آج ڈنر کے بارے کیا خیال ہے ؟....باہر چلیں ؟“اس نے ایک دم سردار کو مشورہ دیا۔”لی زونا کو بھی ساتھ لے چلیں گے ؟“
”یہ کیا کہہ رہی ہے ؟....ڈنر اور لی زونا ؟“سردار مجھ سے پوچھنے لگا۔جینیفر کی تیزی سے بولی گئی انگلش اس کے سر پر سے گزر گئی تھی ۔
”یہ تمھیںڈنر کی دعوت دے رہی ہے ۔اور بتا رہی ہے کہ لی زونا بھی اس کے ہمراہ ہو گی ؟“
”یس.... یس ۔“وہ جلدی سے بولا ۔”وائے ناٹ؟ ....آئی ایم ریڈی۔“
”لیکن ذ ی بھی ساتھ ہوگا؟“اس مرتبہ اس نے بولنے کی رفتار کم کرتے ہوئے میری جانب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا تھا۔
”تو کیا ؟....یہ نہیں جانا چاہتا ؟“
”ہاں میں نہیں جانا چاہتا۔“
”کیوں ؟“سردار نے حیرانی سے پوچھا۔
”کیونکہ میں نے اینڈریا کے ساتھ کہیں جانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے ؟“سردار کو اردو میں بتا کر میں نے وہی فقرہ انگلش میں بھی دہرا دیا تھا ۔
”تم ایسا کچھ نہیں کرنے والے ؟“جینیفر نے غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہا۔
”تم کون ہوتی ہومجھے روکنے والی ؟“میں تن کر کھڑا ہو گیا ۔
سردار نے گھبرا کر کہا۔”ارے تم تو لڑنے لگے ۔“
”تم میرے ساتھ جاو¿ گے ؟“جینیفر بھی میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
”کیوں میں تمھارازرخرید ہوں ؟“
وہ بے باکی سے بولی ۔”نہیں ....بلکہ اس لیے کہ میں تمھیںپسند کرتی ہوں ؟“
”مگر مجھے تمھاری پسندیدگی کی بالکل ضرورت نہیں ہے ؟“
وہ طیش میں آ کر چلائی ۔”جھوٹ کہتے ہو ....جھوٹے ؟“
”کیپٹن صاحبہ !....تم زیادتی کر رہی ہو ؟“
”ذیشان بھائی !....تم گلی سوٹ اتارو ؟....اور میڈم تم بھی جاکرگلی سوٹ بدلی کرو پھر بات کرتے ہیں ۔“سردار نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اس تک اپنی بات پہنچائی ۔
”اوکے ،میں کپڑے بدل کر آتی ہوں ۔“جینیفراثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
”تم کس خوشی میں اتنا چہک رہے ہو ؟“میں سردار پر برس پڑا ۔
”جینی بھابی ہمارے کمرے میں آئی تھیں ؟اب خوشی کا اظہار بھی نہ کروں ؟“
”بکواس نہ کرو یار !“اسے جھڑک کر میں واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
٭٭٭
ڈنر پر جینیفر نہایت خوب صورت لباس میں نظر آئی ۔میں اسے نظر انداز کیے سردار سے محو گفتگو رہا ۔مگر جب ہم واپس آرہے تھے تو اس نے سردار خان کو اشارے سے اپنے پاس بلا کر جانے کیا کہا ۔ جواباََ سردار خان نے اثبات میں سر ہلا کر میرے پاس واپس آیا اور کہنے لگا۔
”ذیشان بھائی !....تم کمرے میں جاو¿ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ؟“
”خیریت تو ہے ؟....مجھے بتاو¿،کیا بات ہے ؟“
”آ کر بتاتا ہوں ؟“سردار کا انداز جان چھڑانے والا تھا۔میں کندھے اچکاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔خواہ مخواہ کا اصرار مجھے مناسب نہیں لگا تھا۔
کمرے میں آئے مجھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ دروازہ کھٹکھٹا کر جینیفر اندر داخل ہوئی ۔
ایک دم میرے ذہن میں ساری کہانی آ گئی ۔یقینا جینیفر نے سردار کو یہاں آنے سے منع کیا تھا اور اس میں بھی شبہ نہیں تھا کہ اس نے سردار کو لی زونا کے پاس بھیجا ہوگا۔
”ہیلو ذ ی!....“وہ بے تکلفی سے میرے بیڈ پر آ کر ٹک گئی تھی ۔
”مجھ سے کیا چاہتی ہومس جینیفر !“میں نے سنجیدہ ہو کر پوچھا ۔
”کچھ بھی نہیں ؟....بس تم مجھے اچھے لگتے ہواور میرے خیال میں یہ وجہ کافی ہے ؟“
”تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں شادی شدہ ہوں ؟“
”ہا....ہا....ہا“اس کے نقرئی قہقہے سے کمرے کی فضا گونج اٹھی ۔”تو میں نے کب کہا ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں ؟....محبت کے بعد شادی کرنا مشرقی روایات کا خاصا ہوگا؟ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ؟“
”تو تمھارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟“
”ہمارے ہاں تو محبت ہونے کے بعد بس محبت کی جاتی ہے ۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے وہ میرے قریب ہوگئی ۔
میں جلدی سے بیڈ سے اترتا ہوا بولا۔”پلیز ....کیپٹن!“
”ذی !....کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ؟“میرے دور ہٹنے پر وہ دل گرفتہ سی ہو گئی تھی ۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”اس لیے تو دور بھاگا ہوں کہ بہت خوب صورت ہو ؟“
”سچ ....“وہ خوش ہو گئی تھی ۔”اگر ایسا ہے تو یوں دور ہٹنے کا مطلب مجھے سمجھ میں نہیں آتا؟“
”میں سمجھا بھی نہیں سکتا ؟....“
”ذی !....“وہ بیڈ سے اٹھ کر میرے جانب بڑھی ۔
”پلیز جینی !....تم بہت اچھی لڑکی ہو لیکن میں اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ؟“میں نے فی الفور سارے جھگڑے مٹا دئے تھے کہ وہ مجھے راضی کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے پر کمربستہ نظر آتی تھی ۔
”چلو تم نے مجھے جینی تو کہہ دیا نا ؟“وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ۔”اور وعدہ کرو کل میرے ساتھ ڈنر پرباہر چلو گے ؟“
”مشکل ہے ؟“میں نے سردار کے بستر پر جگہ سنبھالتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
”آخر کیوں ؟“
”جینی !....تم جانتی ہو میرا تعلق بہت غریب ملک سے ہے ؟....یہاں میری آمد کا مقصد بس لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بارے سیکھنا اور سنائپر کورس کرنا ہے ۔میں ان عیاشیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ؟“
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کردوبارہ میرے قریب آکربیٹھ گئی اور میرا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔ ”تم سے اچھا نشانے باز بھلا کون ہو سکتا ہے ؟....آج بھی تم نے نو بونس پوائنٹ لیے ہیں ....اور ڈنر پر جانے سے تمھارے کورس پر کیا فرق پڑے گا ؟“
”اچھا ٹھیک ہے ،لیکن صرف ایک بار ۔“میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑانا چاہا۔وہ نہایت حسین لڑکی تھی اور اس کی قربت کسی کو بھی پھسل جانے پر مجبور کر سکتی تھی ۔
”اب کیا ہاتھ پکڑنے پر بھی تمھیںاعتراض ہے ؟“غصے سے کہتے ہوئے اس نے میرے ہاتھ پراپنی گرفت سخت کر دی ۔
”جینی !پلیز ۔“میں زبردستی ہاتھ چھڑا کر اپنے بستر پر جا بیٹھا ۔”اگر یونھی ضد کرو گی تو میں تمھارے ساتھ دوستی نہیں کر پاو¿ں گا ؟“
”اچھا ٹھیک ہے ۔“غیر متوقع طور پر وہ مان گئی تھی ۔
اسی وقت سردار کمرے میں داخل ہوا ۔اس کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات نے مجھے چونکا دیا تھا۔
”ہیلو کیپٹن !“کہہ کر وہ میرے ساتھ ا ٓکر بیٹھ گیا ۔
”ہائے سردار !“کہہ کر وہ کھڑی ہوگئی ۔اور مجھے مخاطب ہو کر بولی ۔”ٹھیک ہے ذی !میں چلتی ہوں ۔کل ملاقات ہو گی ۔“
اورمیں مسکراتے ہوئے اسے الوداع کہنے کے لیے کھڑاہوگیا۔
دروازے کے قریب پہنچ کر وہ ایک دم مڑی اور مجھ سے لپٹ کر میرے گال پر بوسا دیتے ہوئے بولی ۔”سوری ذی !....یہ ہماری ثقافت ہے ۔“میں سوائے خفت سے سر جھکانے کے اور کچھ نہ کہہ سکا۔
دروازہ بند کرکے میں سردار کا حال پوچھنے لگا۔
”کیا ہوا خان صاحب!....تمھاری صورت پر کیوں بارہ بج رہے ہیں ؟“
”کچھ نہیں یار !....بس گھر یاد آرہا ہے ۔“
”گھر تو خیر مجھے بھی یاد آ رہا ہے ۔“
”کچھ دیر کھلی فضا میں نہ پھر لیں ؟“اس نے مشورہ دیا ۔
”میرا تو خیال ہے سونا چاہیے ؟“
وہ مصر ہوا ۔”بس جاگنگ ٹریک کا ایک چکر لگا کر واپس آ جائیں گے ؟“
”اچھا چلو ۔“اس کا اصرار دیکھتے ہوئے میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔
ٹریک کے قریب پہنچتے ہوئے وہ پر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔”میںتمھیں ایک خاص بات بتانے کے لیے کمرے سے باہر لایا ہوں ۔“
”خاص بات ؟“
”ہاں ....لی زونا کہہ رہی تھی تمھیں بتا دں کہ جینیفر سے تھورادور رہے ؟“
میں نے منہ بنایا ۔”تو یہ کمرے میں بھی کہا جا سکتا تھا؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”وہ کہہ رہی تھی یہ بات تمھیں کمرے سے باہر لے جا کر بتاو¿ں ۔اور وہ خودبھی مجھے یہ بتانے کے لیے تازہ ہوا میں ٹہلنے کے بہانے کمرے سے باہر لے گئی تھی۔“
”جینفر سے محتاط رہنے کا بھلا کیا مقصد ہو ا؟“
”بس اس نے آسان لفظوں میں یہی بتایا تھا ۔اور مزید یہ کہا کہ موقع ملنے پر وہ تمھیں سار ی بات سمجھا دے گی ۔“
”لی زونا جاسوس تو نہیں ہے ؟“میں نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا۔
”صحیح پہچانا۔“سردار نے داد دینے والے انداز میں کہا ۔”اس کا تعلق جاپان انٹیلی جنس سے ہے ۔“
”ویسے مجھے خود جینیفر کے رویے پر حیرانی تھی ۔مجھ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ وہ یوں فریفتہ ہو جاتی ؟“
”شایدتمھاری کسی صلاحیت کی وجہ سے وہ تمھاری جانب مائل ہوئی ہو ؟“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔
”نہیں ....اس کی دلچسپی مجھے پہلے روز دکھائی دے گئی تھی ۔گو یورپین ممالک میں یہ ایک عام سی بات ہے ،مگر کافی پرکشش اور خوب صورت قد کاٹھ کے جوانوں کو چھوڑ کر اسے میری ذات سے جو عشق ہو گیاتھاوہ ضرور اچنبھے میں ڈالنا والاتھا اور اب لی زونا کی بات نے میرے شبے کی تائید کر دی ہے کہ جینیفر مجھ سے کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے ؟“
سردار نے کہا۔”اچھا چلو واپس چلتے ہیں ؟....بعد میں لی زونا سے مل کر مزید تفصیل پوچھ لینا۔“
”چلو ۔“میں اس سے متفق ہوتا ہوا بولا۔اور ہم اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔
٭٭٭
اگلے دن سر شام ہی جینیفر ایک خوب صورت لباس پہنے میرے پاس پہنچ گئی ۔میں نے سردار اور لی زونا کو ساتھ لے جانے پر اصرار کیا مگر وہ فقط مجھے لے جانے پر بہ ضد ہوئی ۔مجبوراََ مجھے خاموش ہونا پڑا۔اس کے پاس اپنی کا رموجود تھی ۔ٹریننگ کیمپ سے نکل کر بجائے شہر کی طرف جانے کے وہ باہر کی جانب مڑ گئی ۔
”کہاں جا رہی ہو ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
اس نے اطمینان سے جوا ب دیا”پہلے لانگ ڈرائیو ؟اس کے بعد ڈنر کریں گے ۔“
”دیر ہوجائے گی ؟“میں نے فکر ظاہر کی ۔
”کوئی نہیں ہوتی دیر ۔“ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
”جیسے تمھاری مرضی ۔“میں نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
اسی وقت اس کے موبائل فون پر کال آنے لگی ۔وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر کال رسیو کر نے لگی ۔”جی ! میں مہمان کے ساتھ ڈنر پر جارہی ہوں ؟“مختصر جواب دے کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اس وقت پاکستان میں بھی موبائل فون خواص کے دائرے سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں نظر آنے لگ گئے تھے ۔ گو میں خود اس نعمت سے محروم تھا مگر موبائل میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھا ۔
قریباََ دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس نے ایک ذیلی سڑک پر کار موڑ دی ۔کار کے تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میری نظر چھوٹی دیواروں والی فارم نما عمارت پر پڑی ۔گویا وہ ذیلی سڑک کے بجائے اس عمارت تک پہنچنے کا رستا تھا ۔
”یہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟“میں نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔”اسے کہتے ہیں سر پرائز ؟....یہ فارم ہاو¿س میرے ابو کے دوست کا ہے ۔آج ہم یہیں ڈنر کریں گے ؟....اور فکر نہ کرو میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میرا مہمان ایک مسلم ہے ۔اس نے گوشت وغیرہ کسی مسلم ہی سے لایا ہوگا ؟“
”مگر ہم تو کسی ہوٹل میں جانے والے تھے نا ؟“میں نے ناراضی سے پوچھا ۔
”نہیں ۔“اس نے فارم ہاوس کے داخلی دروازے پر کار روک کر ہیڈ لائیٹ بجھائی ۔اسی لمحے خود کاردروازہ کھل گیا ۔کار آگے بڑھاتے ہوئے وہ تسلی بخش انداز میں بولی ۔”میں نے فقط باہر جانے کی بات کی تھی ۔اگر تم نے خود سے ہوٹل سمجھ لیا تو میرا کیا قصور ؟“یہ کہتے ہوئے اس نے کھلے صحن میں کار روک دی ۔
”اور ابھی آتے وقت بھی کچھ ایسا کہا تھا کہ لانگ ڈرائیو کے بعد ڈنر کریں گے ؟“
وہ ہنسی ۔”تو کیا یہ غلط ہے ؟“یہ کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی ۔میں بھی دروازہ کھول کر باہر آ گیا ۔
اسی وقت اندرونی عمارت سے ادھیڑ عمر کا ایک مرد اور ایک عورت برآمد ہوئی ۔عمارت میں ہر طرف لگے بڑے بڑے انرجی سیورز کی وجہ سے دن کا سا سماں تھا ۔
انھوں نے قریب آتے ہی جینفر کو گلے سے لگا کر پیار کیا اور مجھ سے پرتپاک مصافحہ کیا ۔
جینیفر نے تعارف کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے مرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”یہ ہیں جنا ب !....انکل انتھونی گرانٹ اور یہ ہیں آنٹی پیٹریشیا۔“اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولی ۔”اور یہ ہیں مسٹر ذیشن،جسے میں ذی کہہ کر مخاطب کرتی ہوں ۔“
”تم سے مل کر خوشی ہوئی ۔“انتھونی نے رسمی انداز میں کہا ۔
”اندر چلتے ہیں ؟“پیٹریشیا نے مشورہ دیا ۔”بقیہ گفتگو وہاں کریں گے ۔“
عمارت اندر سے بہت سجی ہوئی اور خوب صورت تھی ۔ڈرائینگ روم کے اندر بچھے ہوئے قیمتی صوفوں کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ کوئی فارم ہاو¿س وغیرہ نہیںتھا ۔
ہمارے نشست سنبھالتے ہی ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ٹرالی درجن بھر گلاس مختلف قسم کے رنگ کے مشروب سے بھرے ہوئے رکھے تھے ۔
”لڑکے !....گھبرانا نہیں ؟یہ مختلف قسم کے جوس ہیں ۔“انتھونی نے مسکراتے ہوئے مجھے تسلی دی ۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک گلاس اٹھا لیا ۔
”رستے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟“پیٹریشیا مستفسر ہوئی ۔
جینیفر نے جواب دیا ۔”ہم کون سا پیدل آئے ہیں آنٹی !“
”تو کیسی جا رہی ہے ٹریننگ ؟“انتھونی مجھے مخاطب ہوا تھا ۔
میں نے مختصراََ کہا۔”بہت اچھی ؟“
پیٹریشیا نے پوچھا ۔”اس سے پہلے کبھی امریکہ آنا ہوا ؟“
”نہیں آنٹی !....یہ پہلا موقع ہے ؟“
”تو پھر ؟....پسند آیا ہمارا ملک ؟“اس کے لہجے میں دنیا کی طاقتور مملکت کا شہری ہونے کا غرور کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔
میں نے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ۔”کیا تبصرہ کروں ؟....آج پہلی بار ٹریننگ کیمپ سے نکلا ہوں اور وہ بھی رات کے وقت ۔“
انتھونی نے کہا ۔”اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے ؟....گھوم پھر لیا کرو ؟“
”اسے ٹریننگ میں پہلی پوزیشن کے حصول کا بخار چڑھا ہے ؟....چھٹی کے دن بھی ٹریننگ میں جتا رہتا ہے ۔“کافی دیر سے خاموش بیٹھی جینی نے شوخ لہجے میں کہا ۔
”ویسے یہ تو زیادتی ہے اپنے ساتھ ،کہ امریکہ میں آکر اس طرح ٹریننگ کیمپ میں محدود ہو کر بیٹھا رہا جائے ؟“انتھونی نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔
”میرا خیال ہے پہلے ڈنر کرتے ہیں ؟....باقی گپیں بعد میں ہانکیں گے ؟“جینیفر نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔پیٹریشیا اور انتھونی مسکرا کر کھڑے ہو گئے ۔میں نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا ۔
وسیع ڈائیننگ ٹیبل مختلف لوازمات سے بھری ہوئی تھی ۔
”لڑکے !....چکن اور بیف ایک مسلم کی دکان سے خریدا ہے ،بلکہ یہ ساری ڈشیں پکانے والا بھی ایک انڈین مسلمان ہے ۔میں نے جینی کی ہدایات پر پورا عمل کیا ہے ؟....تم بے فکر ہو کر ہر ڈش پر ہاتھ صاف کر سکتے ہو ؟“
”شکریہ انکل !“جینی نے انتھونی کا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
کھانا کھانے کے بعد ہم دوبارہ ڈرائینگ روم میں آ گئے تھے ۔انتھونی اور پیٹریشیا مجھ سے پاکستان کے بارے مختلف سوال کرنے لگے ۔طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کی اٹھنے والی لہر زیادہ تر ان کے سوالا ت کا موضوع رہی ۔
”اچھا تم لوگوں کے لیے اوپر والا کمرہ ٹھیک کر دیا تھا ۔ہم آرام کرنے جا رہے ہیں تم بھی انجوائے کرو ؟“انتھونی پیٹریشیا کو ساتھ لیے کھڑا ہو گیا ۔
میں نے گھبرا کر کہا ۔”نہیں ،ہم واپس جائیں گے ؟“
”ٹھیک ہے ،واپس چلے جانا ۔“انتھونی نے بے پرواہی سے کہا اور وہ دونوں ڈرائینگ روم سے باہر نکل گئے ۔
”چلیں ؟“میں نے جینیفر سے پوچھا ۔
”گھڑی دو باتیں بھی کر لو ؟ہم خالی ڈنر کرنے تو نہیں آ ئے تھے ؟“
”باتیں وہاں جا کر بھی ہو سکتی ہیں ۔“
”کچھ باتوں کے لیے خلوت کی ضرورت پڑتی ہے نا ؟“معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ میرے بالکل قریب ہو گئی ۔
اتنا تو میں بھی جانتا تھا کہ وہ مجھے وہاں بغیر کسی مقصد کے لے کے نہیں آ ئی تھی ۔اور پھر اتنی خوب صورت اور دلکش لڑکی جب کسی کو گناہ پر مائل کرنا چاہے تو بچنے کے لیے جنید بغدادیؒ کازہد اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا تقویٰ چاہیے ہوتا ہے ۔میں یقینا اس کے حسن کی لپیٹ میں آ جاتااور فخر کرنے کے لیے میرے پاس کچھ نہ بچتا ،مگر لی زونا کی چھوٹی سی نصیحت مجھے چیخ چیخ کسی خطرے سے روشناس کرا رہی تھی ۔اگر گزشتا رات سردار مجھ تک لی زونا کی بات نہ پہنچاتا تو یقینا میں بہک گیا ہوتا۔مگر اب میرے جذبات پر عقل غالب تھی ۔اور یہ تو اصول دنیا ہے کہ جب انسان خود کو کسی ان دیکھے خطرے میں گھرا پائے تو اس کے جذبات کی آگ عقل پر غالب نہیں آ سکتی ۔مجھے اس وقت واضح طور پر لگ رہاتھا کہ کوئی نادیدہ آنکھ ہماری نگرانی کر رہی ہے ۔
میں خود کو اس کی گرفت سے آزاد کراتا ہوا کھڑا ہوا ہوگیا ۔
”میرا خیال ہے اس بارے میں نے تمھیںپہلے سے بتا دیا تھا ؟“
وہ جلدی سے میرا ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولی ۔”ذی !....لڑکی میں ہوں اور گھبرا تم رہے ہو ؟“
”ہاں ....کیونکہ میرا مذہب،میری تہذیب ،میرا معاشرہ اور پاک آرمی کا قانون مجھے اس کام کی اجازت نہیں دیتا ۔“
”ہا....ہا....ہا“وہ کھڑے ہوکر بے باکی سے مجھ سے لپٹ گئی ۔”یہ لطیفے کسی اور دن کے لیے سنبھال رکھو جانی !“
”جینیفر !....میرا خیال ہے ،تمھاری گاڑی کے بغیر مجھے کیمپ تک پہنچنے کے لیے گھنٹے سے زیادہ کا وقت نہیں لگے گا ؟“یہ کہتے ہوئے میں بڑی سختی سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا تھا،کیونکہ اگر وہ مزید کچھ دیر مجھ سے لپٹی رہتی تو شاید میری مدافعت دم توڑ دیتی ۔
جینیفر کے چہرے پر خجالت اور غصے کے آثار دیکھ کر میں بغیر معذرت کے باہر کی جانب چل پڑا۔لیکن اس سے پہلے کہ میں داخلی دروازے تک پہنچتا میری سماعتوںسے انتھونی کی آواز ٹکرائی ۔
”مسٹر ذیشان !....ایک منٹ ؟“
میں نے حیرت سے مڑ کر دیکھا ۔پیٹریشیا اور وہ دونوں اکٹھے کھڑے تھے ۔
انتھونی نے کہا۔”ہماری بات سن کر چلے جانا ۔“
اس کے انداز کو دیکھتے ہوئے میں خاموشی سے پلٹ کر ان سامنے پہنچ گیا ۔
”جی فرمائیں ؟“
”بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“اس نے مجھے نشست سنبھالنے کا اشارہ کیا ۔اس نے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بریف کیس پکڑا ہوا تھا ۔میرے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے جب وہ بریف کیس ٹیبل پر رکھا تبھی میری نظر اس بیگ پر پڑی۔
”بیٹھ جاو¿ کیپٹن!“اس مرتبہ انتھونی کے لہجے میں پہلے والی شفقت اور پیار محبت کی جگہ حکم کا اثر واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا ۔
جینیفر بھی سر جھکائے خاموشی سے بیٹھ گئی ۔
انتھونی نے بریف کیس کھول کر میری طرف گھمایا۔ سو سو ڈالر کے نئے کڑکڑاتے نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر میں ششدر رہ گیا تھا ۔
”یہ پچاس ہزار ڈالر میں ....تمھارے ملک کی کرنسی میں یہ کتنے ہوتے ہیں ؟یہ حساب خود کر لینا۔“انتھونی نے اطمینان سے وہ بریف کیس میری جانب کھسکا دیا ۔
”کس خوشی میں ؟“بریف کیس کو ہاتھ لگائے بغیر میں مستفسر ہوا۔
”ایک چھوٹے سے کام کا یہ پیشگی معاوضا ہے ۔بقیہ کا آدھا معاوضا کا م ہو نے کے بعد ؟“
”یقینا مجھے کسی غیر قانونی کام میں دلچسپی نہیں ہو گی ؟“
”قانون کون بناتا ہے ؟....حکومت ؟....“اس نے تصدیق چاہتے ہوئے پوچھا ۔”کیا میں صحیح کہہ رہا ہوں ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”تمھاری تسلی کے لیے عرض ہے کہ یہ امریکن حکومت ہی کا کام ہے ۔اور میرا تعلق امریکن سی آئی اے سے ہے ۔تسلی کے لیے میراکارڈ دیکھ سکتے ہو ۔اس نے جیب سے اپنا سروس کارڈ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا ۔
میں نے کارڈ کو ہاتھ لگائے بغیر اس کے مندرجات پر نگاہ دوڑائی ۔کرنل سکاٹ ڈیوڈ لکھا ہوا نظر آیا ۔
”میرا اصل نام سکاٹ ڈیوڈ ہے ؟اور یہ کرنل جولی روز ویلٹ ہیں ؟“
”شایدتم صحیح کہہ رہے ہو؟....مگر میں پاکستان آرمی کے زیرِ کمان ہوں ۔اس رقم کے بجائے مجھے میرے سینئرز سے حکم دلوا دیں ۔اتنی رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ؟“
”کچھ کام ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں خفیہ رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ؟“
”چھپا کر کرنے والا کام غلط ہی ہوتا ہے سر !“میں نے حتی الوسع کوشش کی تھی کہ میرے لہجے سے تلخی یا طنز نہ جھلکے ۔
وہ ہنسا ۔”غلط فہمی ہے تمھاری مسٹر ذیشان!....میاں ،بیوی کا جسمانی تعلق رکھنا کسی قوم اور مذہب کے نزدیک غلط یا ناجائز نہیں ہے لیکن ہم یہ کام چھپ کر سر انجام دیتے ہیں ۔قضائے حاجت کے لیے بھی ہم لوگوں کی نظروں سے چھپ کر جگہ ڈھونڈتے ہیں ۔بچے کو دودھ پلاتے ہوئے ماں بچے اور اپنے جسم کو چادر سے ڈھانپ لیتی ہے ۔آپریشن کرنے کے لیے ڈاکٹر کسی غیر متعلق شخص کو آپریشن کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے ....وغیرہ وغیرہ ....میں اس موضوع پر اور بھی درجنوں مثالیں پیش کر سکتاہوں ،کہ ہر چھپا کر کیا جانے والا کام جرم نہیں ہوتا ؟“
”سر !....یہ تمام کام چھپ کر سر انجام دینے کے باوجود سب کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں ۔کیا لوگ نہیں جانتے کہ میاں بیوی بند کمرے میں کیا کر رہے ہیں ؟یا ماں کے بچے کو چادر سے ڈھانپنے کا مطلب کیا ہے ؟....یقینا سب ان کاموں کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں ۔میںتمھاری مثال سے بالکل متفق نہیں ہوں ؟“
”ذیشان !....ہر حکومت کی ترجیحات میں رازداری پہلے نمبر پر آتی ہے ؟“
”تو ٹھیک ہے ،اس کے لیے حکومت کا ایسا آدمی بھی ڈھونڈنا چاہیے جو راز داری برت سکے؟“
”اچھا تم کام کے متعلق توسن لو ؟....کرنے نہ کرنے کا فیصلہ بعد میں کرنا ؟“کافی دیر سے خاموش بیٹھی جولی روزویلٹ نے زبان کھولی ۔
”میڈم !....اگر کوئی ایسا خفیہ کام ہے جس کے بارے جان لینے کے بعد، وہ کام نہ کرنے کے فیصلے پر مجھے جانی نقصان پہنچ سکتا ہو تو براہ مہربانی مجھے نہ بتائیں ؟....یوں بھی، اطمینان رکھیں کہ میں یہ کام نہیں کرنے والا۔“
”تو یہ تمھاراآخری فیصلہ ہے ؟“کرنل سکاٹ نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”جی سر !....میں اپنی حکومت کی مرضی جانے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا ۔“
”اوکے ....تمھاری صاف گوئی پسند آئی ۔“کرنل سکاٹ نے بیٹھے بیٹھے میری جانے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔
اس سے ہاتھ ملا کر میں کھڑا ہو گیا ۔کرنل جولی روزویلٹ خاموش بیٹھی مجھے کڑے تیوروں سے گھورتی رہی ۔میں نے بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”کیپٹن !....تم لوگ جاسکتے ہو؟“کرنل سکاٹ ،خاموش بیٹھی جینیفر سے مخاطب ہو ۔
اور وہ ۔”یس سر !“کہہ کر کھڑی ہو گئی ۔ہم دونوں آگے پیچھے چلتے وہاں سے باہر نکل کر کار میں بیٹھ گئے ۔جینیفر نے خاموشی سے کار موڑی ،خود کار دروازہ خود بہ خود کھل گیا تھا ۔مین روڈ پر چڑھتے ہی وہ نارمل رفتا ر سے ڈرائیونگ کرنے لگی ۔
”خفا ہو ؟“مجھے خاموش پا کر اس نے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”کیا نہیں ہونا چاہیے ؟“میں نے سرسری لہجے میں پوچھا
”ہاں ....کیونکہ میں نے تمھیںنقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی ؟“
”تو یہ کیا تھا ؟....اتنی رقم کی آفر کسی خطرناک کام کے لیے ہی کی جاتی ہے ؟“
”مجھے حکم ملا تھا ؟“اس نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی ۔
”دھوکا دینے کے لیے محبت اور دوستی کا سہارا نہ لیا ہوتا؟“یہ بات میں بہ مشکل پوری کر پایا تھا کہ جینیفر نے ایک دم بریک لگاکر میری جانب مڑی ۔
”ایسی کوئی بات نہیں ہے ذی !“اس نے میرے دونوں ہاتھ تھام کر وارفتگی سے کہا ۔”تمھیں پہلی بار کلاس روم میں دیکھا اورتم مجھے اچھے لگے ۔یاد ہے میں پہلے دن ہی تمھاری جانب متوجہ ہو گئی تھی؟ گو اس کے بعد ہم ایک دوسرے سے تھوڑے خفا رہے ۔اس دوران میں نے جو الٹی سیدھی حرکتیں کیں ؟ ساری کی ساری تمھاری توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے کی تھیں ؟....اور جہاں تک اس کام کا تعلق ہے جو تم سے کرنل سکاٹ لینا چاہ رہے ہیں ؟تو اس بارے مجھے پرسوں حکم ملا ہے ؟“
”مجھے اب اس موضوع پر بات نہیں کرنی ؟....یوں بھی کافی دیر ہو گئی ہے اب چلنا چاہیے ؟“
”تم مجھ سے خفا نہیں ہو سکتے ؟“اس کی آنکھوں میں مجھے ہلکی سی نمی کی جھلک نظر آئی ۔اگر یہ اداکاری تھی تو کمال کی اداکاری تھی ۔
خواہ مخواہ بات بڑھانا مجھے مناسب نہ لگا ۔میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”میں تم سے خفا نہیں ہوں جینی !....اب آگے بڑھو ؟“
”سچ کہہ رہے ہو ؟“اس نے خوشی سے بھرپور لہجے میں پوچھا ۔
”مجھے جھوٹ بولے کی ضررت ہی کیا ہے ؟“
”شکریہ ذی !“اس نے بے تکلفی سے آ گے ہو کر میرے گال پر بوسا دیا اور پھر سیدھے ہو کر کارآگے بڑھا دی ۔اس کے بعد کیمپ کے آنے تک ہم نے اس موضوع کو نہیں چھیڑا اور دائیں بائیں کی گفتگو کرتے رہے ۔
کیمپ میں پہنچتے ہی اس نے مجھے کار سے اترنے سے پہلے کہا ۔”ذی !....یقیناتم آج کے واقعے کا ذکر کسی سے نہیں کرو گے ؟“
”بے شک ۔“کہہ کر میں کار سے باہر نکل آیا ۔مجھے کمرے کے دروازے تک پہنچا کر اس نے الوداع کہا۔مگر جاتے جاتے وہ اپنی ثقافت پر عمل کرنا نہیں بھولی تھی ۔
سردار کمپیوٹر پر سنائپر سے متعلق ایک فلم دیکھ رہا تھا۔مجھے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ چہکا۔
”شکر ہے تمھیں اپنی جینی سے فرصت ملی ؟....میں تو سوچ رہا تھا شاید صبح ہی واپسی ہو گی ؟“
”فضول کی نہ ہانکا کرو یار !“میں جوتوں کے تسمے کھولنے لگا ۔
”ویسے ذیشان بھائی !....اسی کو ڈیٹ پر جانا کہتے ہیں نا؟“یہ کہہ کر وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔
اور میں پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ واش روم میں گھس گیا ۔
جاری ہے
 

اگلا ہفتہ بغیر کسی خاص واقعے کے گزر گیا ۔اس دوران ایک دفعہ لی زونا سے تفصیل سے بات ہوئی اسے فارم ہاو¿س والی بات بتائے بغیر میں نے اس کے ان خدشات کے بارے استفسار کیا جو اس نے سردار کی زبانی مجھ تک پہنچائے تھے ۔جواباََ اس نے بتایا کہ اس نے جینیفر کی کسی سے ہونے والی مبہم سی گفتگو سنی تھی ۔اور اس وقت جینیفر مجھے راضی کرنے کی حامی بھر رہی تھی ۔وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ لی زونا واش روم میں ہے ۔اور کمرے کے اندر اس نے یہ بات بتانے سے اس لیے منع کیا تھا ،کہ ہمارے کمروں میں خفیہ کیمروں کی موجودی کے شک کو نظر انداز نہیںکیا جا سکتا تھا ۔
جینیفربھی مجھے باقاعدگی سے مل رہی تھی ۔ اس کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔شری کانت پارٹی کو اس کا مجھ سے یوں گھلنا ملنا سخت ناگوار گزرتا تھا ،مگر ان بے چاروں کے بس میں کوئی بات نہیں تھی ۔
اور پھر ہمارا کورس اختتام پذیرہونے میں تین دن رہ گئے ۔آخری تین دن ہمیں ایک مخصوص علاقے میں سنائپر مخالف کارروائی کرنا تھی ۔اس کے لیے ہر آدمی کے حوالے پینٹ ایمونیشن کیا گیا ۔اور ایسی سنائپر رائفلیں ہمارے حوالے کی گئیں جو اصل سنائپرز رائفلوں کی ہو بہ ہو نقل تھیں ۔بس اصل اور نقل میں اتنا فرق تھا کہ نقل سے صرف پینٹ ایمونشن فائر ہو سکتا تھا ۔
پینٹ رائفلز سے بھی چھے سات سو میٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا ۔تین دنوں کا راشن پانی ہمارے پاس ہوناتھا ۔تمام سنائپرزکوجوڑی جوڑی کی شکل میں جنگل میں جانا تھا ۔ہر سنائپر کو ایسی گھڑی پہننے کو دی گئی تھی جس میں کیمرہ نصب تھا ۔اس طرح سارے سنائپرز کو سکرین پر دیکھا جا سکتا تھا ۔ جو جو سنائپردوسرے سنائپر کی گولی کا شکار ہوتا جاتا وہ اس کارروائی سے نکلتا جاتا۔اس طرح صرف ایک جوڑی نے باقی بچنا تھا اور بچ جانے والے کو جیتا ہوا تصور کیا جاتا ۔اگر تین دن کے بعد بھی ایک سے زیاہ جوڑیوں نے بچ جاتیںتو اس صورت میں وہ جوڑی یا اکیلا بچ جانے والا سنائپر جیت کا حق دار ٹھہرتا جس نے زیادہ سنائپرز کو نشانہ بنایا ہوتا۔یہ ساری تفصیل ہمیں اس مشق کے آغاز سے ایک دن پہلے میجر جیمس نے بتا دی تھی ۔
اسی رات جینیفر ڈنر کے بعد میرے پاس پہنچ گئی ....اس وقت سردار لی زونا کے پاس تھا۔
”پتا ہے ؟....میں تمھارے لیے کیا تحفہ لائی ہوں ؟“اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی پوچھا۔
”جادو مجھے آتا نہیں ؟الہام مجھے ہوتا نہیں ؟علم الغیب جاننے والی ذات صرف اللہ پاک کی ہے ؟........“
”ذی !تم بھی نا ؟“اس نے ہنستے ہوئے قطع کلامی کی ۔”اچھا یہ دیکھو ؟“اس نے خوبصورت پیکنگ میں ایک چھوٹا سا ڈبا میری جانب بڑھایا ۔
”یہ کیا ہے ؟“میں نے ڈبے کو الٹ پلٹ کر حیرنی سے دیکھا۔
”کھول کر دیکھو ؟“وہ میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔چونکہ میں جانتا تھا کہ اگر میں وہاں سے اٹھ کر کہیں بھی بیٹھتا اس نے میرے ساتھ لگ کر ہی بیٹھنا تھا ۔اس لیے اسے نظر انداز کر کے میں پیکنگ کھولنے لگا ۔ڈبے میں کالے رنگ کا ایک چھوٹا سا موبائل فون بند تھا ۔
”یہ تو موبائل فون ہے ؟“
”اچھا ہے نا؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
”ہاں مگر میرے کس کام کا ؟“
”پتا ہے ؟....یہ تحفہ وغیرہ نہیں ہے ؟....“خلاف توقع وہ میرے قریب سے اٹھ کر سردار کے بیڈ پر بڑے انداز سے تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔یقینا وہ کوئی خاص بات کرنے کے موڈ میں تھی ۔اور چاہتی تھی کہ میں پر سکون انداز میں اس کی بات سنوں اسی لیے وہ مجھ سے تھوڑا دور ہٹی تھی ۔
میں نے متبسم ہو کر پوچھا ۔”تو پھر کیا ہے ؟“
”کل کی مشق کے بارے علم ہے نا ؟“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”تو بات یہ ہے کہ میں تمھارے ہاتھوں مشق سے آو¿ٹ نہیں ہونا چاہتی ۔تم سب سے خطرناک نشانے باز ہو۔اور میں چاہتی ہوں کم از کم میں تمھاری گولی کا نشانہ نہ بنوں ؟“
”تو اس میں موبائل فون کا کیا کردار ؟....کیا یہ بہ طور رشوت کے ہے ؟“
”تمھیں پتا ہے نا ؟سب کے پاس نقشہ اور جی پی ایس موجود ہو گا ؟“
”ہاں تو ؟“
”بس مجھے اپنی جگہ سے آگاہ رکھنا ،اسی طرح میںتمھیں اپنی جگہ سے با خبر رکھوں گی۔ پس ہم دونوں ایک دوسرے سے دور رہیں گے ؟“
”تم جانتی ہو ہر آدمی کیمرے کی آنکھ کی زد میں ہوگا؟....پھر میں کیسے بتا پاو¿ں گا ؟“
”کال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟....موبائل فون پر میسج بھی بھیجا جا سکتا ہے ؟“وہ موبائل فون آن کر کے مجھے میسج بھیجنے کا طریقہ سمجھانے لگی ۔”کیمرہ گھڑی میں لگا ہے ؟جب بھی میسج کرنا چاہو؟موبائل فون کو اسی گھڑی والے ہاتھ کے نیچے کر کے میسج بھیج دینا۔،نہ کسی کوموبائل فون دکھائی دے گا ؟اور نہ کسی کے کانوں میں تمھاری آواز پڑے گی ؟“
مجھے بہ ظاہر جینیفر کی بات میں کوئی قباحت نظر نہیں آ رہی تھی ۔اس کی تجویز بھی ہر سقم اور کجی سے پاک تھی ۔اس کے محبت بھرے رویے کے جواب میں میں اتنا تو اس کے لیے کر ہی سکتا تھا ۔
”تم کسی اور کے ہاتھوں بھی تو نشانہ بن سکتی ہو؟“
”ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے؟“اس نے منطقی لہجے میں کہا۔”لیکن انسان ڈرتا تو اسی سے ہے جو اسے نقصان پہنچا سکے ؟....اور اس لحاظ تمام سنائپرز کے لیے سب سے بڑا خطرہ تم ہو ؟تمام اسی کوشش میں رہیں گے کہ تم سے دور دور رہیں ؟“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”آج تمھارے ہاتھ میں کچھ زیادہ لمبا بانس نہیں ہے ؟“
وہ تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھی ۔سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے بولی ۔”میں تمھیں یقین دلا سکتی ہوں؟“
”مجھے یقین آ گیا ہے۔“میں نے فوراََ دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے شکست کا اعلان کیا ۔اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
تھوڑی دیر مزید مجھے بریف کرنے کے بعد اس نے جانے کی اجازت چاہی ۔جاتے جاتے وہ مجھے موبائل فون چارج کر لینے کی تاکید کرنا نہیں بھولی تھی ۔
٭٭٭
جانے سے پہلے ہم تمام تیار کھڑے تھے ۔
”تمام لوگ جس جس جگہ پر کھڑے ہیں ؟اپنا پیک اور ہتھیار وہیں چھوڑ کر میرے پاس آ جائیں ۔“ہمارے انسٹرکٹرکیپٹن ٹونی گریفن نے میگا فون کے ذریعے اپنی بات ہمارے کانوں تک پہنچائی کیونکہ ہم تمام کافی دور دور تک بکھرے ہوئے تھے ۔
اپنا سامان اپنی جگہ پر چھوڑ کر ہم اس کے قریب اکٹھے ہو گئے ۔
”سارے اس ہال میں چلے جائیں ۔“اس نے ایک بڑے ہال کی جانب اشارہ کیا۔
ہم نے حکم کی تعمیل کی ۔وہ سینما کے جیسا ہال تھا ۔تمام فرش میں گڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے ۔
کیپٹن ٹونی گریفن نے سامنے آ کر کہا ۔”ہم تمھیںجنگل میں داخل کرنے سے پہلے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس جنگل کی اندرونی تفصیلات بہ ذریعہ فلم دکھادیں ۔گو نقشے اور جی پی ایس وغیرہ تمھارے پاس موجود ہیں؟ کسی بھی علاقے میں کارروائی کرنے سے پہلے سنائپر اس علاقے کی قراولی (ریکی)کرتا ہے ۔ اور ہم تمھیں قراولی کا موقع فراہم نہیں کر سکے اس لیے جنگل کے متعلق یہ تفصیلی فلم دکھا کر قراولی نہ کرنے سے ہونے والی کمی کو پورا کر رہے ہیں ۔“
گھنٹے بھر کی فلم میں اس جنگل کے متعلق تمام تفصیلات موجود تھیں ۔فلم دکھانے کے بعد کیپٹن ٹونی گریفن نے ہمیں کچھ اہم باتوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ جنگل میں داخل ہونے کے بعدہمارے پاس فقط ایک گھنٹے کا وقت ہو گا اس کے بعد تمام جوڑیوں کو اجازت ہو گی کہ وہ ایک دوسرے پر اپنا نشانہ آزما سکیں ۔ اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لیے ہمیں شفاف آئینوں والے خصوصی چشمے دیے گئے تھے تاکہ پینٹ ایمونیش براہ راست آنکھ پر لگ کر کوئی نقصان نہ پہنچا سکے ۔
اپنے سامان کی طرف واپس جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی بدمزگی یہ پیدا ہو گئی کہ سردار لی زونا سے کوئی بات کہنے کے لیے اس کے قریب لمحا بھر کے لیے رکااور وہاں سے گزرنے والے شری کانت نے طنزیہ انداز میں کہہ دیا کہ وہ سب سے پہلے سردار کی اس ننھی بلبل کو نشانہ بنائیں گے ۔
جواباََ سردار نے بھی اسے ٹھیک ٹھاک جواب دیا۔بات شاید بڑھ جاتی مگر جینیفر نے آ کر معاملہ سنبھال لیا اور دونوں اپنے سامان کی طرف بڑھ گئے ۔
”اگر جینیفر نہ آ جاتی تو اس بنیے کو تو میں نے جنگل میں گھسنے سے پہلے فارغ کر دینا تھا ؟“ سردار نے اپنا پیک اٹھاتے ہوئے غصیلے لہجے میں کہا ۔
”ہاں ،ٹھنڈے دماغ سے کسی بات پر غور کر نا خانو ںکے مسلک میں کہاں ؟“
”مجھے ہی ٹوکتے رہنا ....؟ان بنیوں کو سبق سکھانے کی نہ سوچنا ؟“
”انھیں سبق سکھا تو دیا تھا ؟....بھول گئے لیوپولڈ ٹیلی سکوپ کے سائیٹ کے فائر میں کتنے شرم سار اور بے عزت ہوئے تھے ؟“
”اس بات کو کئی ہفتے گزر گئے ہیں ؟“سردار نے منہ بنایا۔
”ہفتے نہیں کئی سال گزر جائیں ،مگر وہ یہ ذلت فراموش نہیں کر سکتے ؟“
”اچھا ٹھیک ہے بقرط صاحب !....اب چلو ؟....یہ نہ ہو اگلے ہماری شروعات کا یہیں اختتام کر دیں ؟“
”بہت باتیں کرنا آ گیا ہے ....؟یقینا یہ لی زونا کی صحبت کا اثر ہوگا؟“
”ہاں لی زونا کے ذکر سے یاد آیا ؟....وہ کہہ رہی تھی ذیشان بھائی کو کہہ دینا کہ کم از کم پہلے دن اگر وہ ہمارے نشانے کی زد میں آ جائیں تو انھیں کچھ نہ کہیں ؟“
”ہونہہ!....ہم میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ؟....ہم خود لوگوں سے چھپتے پھر رہے ہوں گے ؟“
”یار !....میں کچھ نہیں جانتا ؟اگر لی زونا آج نظر آ گئی تو میں تمھیں گولی نہیں چلانے دوں گا؟“سردار حتمی لہجے میں بولا ۔
”اچھا اب فالتو کی باتوں کو چھوڑو ؟....پہلے مرحلے میں چھپنے کی کوشش کرنا ہو گی ۔باتیں بالکل ختم ، دائیں بائیں کا اچھی طرح جائزہ لو ؟یہ دیکھو دشمن کہاں کہاں چھپ سکتا ہے ؟“
”اوکے باس !“سردار نے مزاحیہ انداز میں کہا اور ہم دائیں بائیں کا جائزہ لیتے آگے بڑھ گئے ۔آدھے گھنٹے بعد ہی مجھے ایک مناسب جگہ دکھائی دے گئی تھی ،مگر میں سردار کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ اس جگہ سے سو میٹر دورجاکرمیں سردار کے ساتھ ایک جھاڑی میں چھپ گیا ۔خوب اچھی طرح دائیں بائیں کا جائزہ لے کر میں نے سردار کو بتایا کہ ہمیں پیچھے مڑنا ہے ۔
”پہلے وہیں رک جاتے ؟“اس نے سرگوشی کی ۔
”ہو سکتا ہے کوئی ہماری نگرانی کر رہا ہو؟....یہاں سے کرال کر کے جائیں گے ؟....“
”ہاں یہ ٹھیک ہے ۔“سردار نے میری تائید کی ۔
چند لمحے دائیں بائیں کا جائزہ لینے کے بعد ہم دونوں اونچی گھاس اور جھاڑیوں میں رینگتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد ہم مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے تھے ۔گھنی جھاڑیوں کے بیچ گھنّی شاخوں والا وہ درخت ایک سنائپر کے لیے بہت مناسب مچان بن سکتا تھا ۔گو ایسی آئیڈیل جگہ دوسروں کی نگاہ میں بھی بہت جلدی آ جاتی ہے مگر وہاں درخت اتنی کثرت سے تھے کہ اس درخت کا نمایاں ہونا آسان نہیں تھا۔
”میں نگرانی کر رہاہوں تم مچان بناو¿؟“ایک مضبوط شاخ پر بیٹھ کر میں نے سردار کو کہا ۔
اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے اپنا پیک اتار کر سائیڈ پر رکھا ۔رائفل دوسری شاخ سے لٹکائی اور مچان بنانے لگا ۔جبکہ میں چوکنا ہوکر دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگا۔
مچان کی تکمیل کے ساتھ ہم دونوں اس میں لیٹ گئے ۔
سردار نے پوچھا ۔”اب کیا تین د ن یہیں گزاریں گے ؟“
میں نے جواب دیا ۔”نہیں ،بس آج کا دن ....اس دوران اگر کوئی اس رستے سے گزر گیا تو انجام کو پہنچے گا ؟دوسری صورت میںکل جنگل میں گھوم کر شکار ڈھونڈیں گے ؟“
اسی وقت موبائل پر میسج رسیو ہوا۔میں سردار کو موبائل کے بارے تفصیل سے بتا چکا تھا اس لیے اس نے ٹون کی آواز سن کر کوئی سوال پوچھنے سے گریز کیا تھا ۔میں نے کیمرے کی آنکھ سے بچ کر میسج پڑھا۔ جینیفر نے اپنی جگہ کا چھے ہندسی حوالہ بھیجا تھا ۔(چھے ہندسہ حوالہ معلوم ہونے کے بعد ہم کسی بھی آدمی کی جگہ کے بارے جان سکتے ہیں ۔کہ وہ نقشے کے مطابق کس جگہ پر بیٹھا ہوا ہے ۔آرمی سے متعلق قارئین اس بارے مکمل آگاہ ہوں گے ۔دوسروں کو سمجھانے کے لیے یہ مجمل بات ہی کافی ہے ۔ورنہ تفصیل بتانے کی صورت میں تو شاید اصل کہانی درمیان ہی میں رہ جائے اور ہم نقشہ بینی سیکھنے میں لگ جائیں ۔)
میں نے جی پی ایس پر اپنی جگہ کا چھے ہندسی حوالہ دیکھ کر اسے بھیجا اور پھر نقشہ نکال کر جینیفر کی جگہ دیکھنے لگا ۔وہ ہم سے قریباََسات سو میٹر دائیں طرف موجود تھی۔
اچانک سردار نے سرگوشی بھرے لہجے میں کہا ۔”ذیشان !....ایک پارٹی اسی طرف آ رہی ہے؟“
میں نے اس کی بتائی ہوئی سمت میں نگاہ دوڑائی ۔درختوں کی آڑ لے کر دو آدمی ہماری جانب ہی بڑھتے آ رہے تھے ۔
”کیا خیال ہے ؟“
”بسم اللہ پڑھیں ۔“سر دار نے مجھے دعوت دی ۔
”فاصلہ معلوم کر و؟“میں ٹیلی سکوپ سائیٹ کے حفاظتی کور تار کر شست باندھنے لگا ۔
لیزر رینج فائینڈر سے فاصلہ معلوم کرکے سردار نے جواب دیا ۔”چار سو میٹر ۔“
”ایلی ویشن ناب گھما کر میں نے چار سو کی رینج لگائی اور ان دونوں کے تھوڑا آگے پہنچنے کا انتظار کرنے لگا ۔کیونکہ آگے تھوڑی سی جگہ ایسی تھی کہ انھیں جھاڑیوں یا درختوں کی آڑ میسر نہیں آ سکتی تھی ۔
وہ دونوں آ گے پیچھے چلتے ہوئے جونھی خالی جگہ پر آئے میں نے پیچھے والے کا نشانہ لے کر گولی داغ دی ۔
”ہِٹ ۔“آنکھو ں سے دوربین لگائے سردار نے فوراََ اعلان کیا ۔
یقینا پیچھے والے کے منہ سے خود کو کوسنے کا کوئی فقرہ ادا ہوا ہوگا؟ کہ آگے والا رک کر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔اورجب تک آگے والے کی سمجھ میں کچھ آتامیں نے رائفل دوبارہ کاک کر کے فائر کر چکا تھا ۔دونوں کی چھاتیوں پر سرخ نشان ثبت ہو گیا تھا ۔احکامات کے مطابق انھوں نے اپنے پیک سے سفید رنگ کی قمیصیں نکال کر پہن لیں ۔اب انھیں کوئی نشانہ نہیں بنا سکتا تھا ۔
”اگلی دفعہ میری باری ہے ؟“سردار نے کہا ۔اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
اس وقت میری سماعت میں ہلکے ہلکے دھماکوں کی آواز آئی ۔یقینا کوئی اور جوڑی مقابلے سے باہر ہو گئی تھی ۔
سہ پہر کے قریب ہمیں بائیں جانب سے ایک جوڑی گزرتی دکھائی دی ۔میں نے سردار کو متوجہ کیا ۔اس نے جلدی سے لیٹ کر شست باندھی اور میں ان کا فاصلہ ناپنے لگا مگر اس کے فائر کرنے سے پہلے فائر کی آواز ہمارے کانوں میں پہنچی ۔وہ دونوں کسی اور کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے ۔
”دھت !....“سردار نے منہ بنایا۔
”تمھاری قسمت محترم !.... ؟“میں نے کہا ۔
اس کے بعد شام کے قریب ایک اور جوڑی دکھائی دی ۔دونوں سنائپر کہیں مچان بنانے کے فکر میں تھے ۔اس بار بھی سردار نے انھیں نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر سردار سے پہلے ہی وہ کسی دوسرے کا نشانہ بن گئے تھے ۔
سردار زچ ہو کر بولا۔”کیا مصیبت ہے یار !“
”اب تمھاری باری ختم ۔“میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
”ٹھیک ہے ؟تم اپناشوق پورا کرلو ؟“سردار نے اپنی رائفل ایک طرف پھینک دی تھی ۔مگر اس کے بعد کوئی نہ آیا اور اندھیرا چھا گیا ۔
میں نے کہا ۔”ایک آدمی کو جاگنا پڑے گا ؟“
”ٹھیک ہے تم سو جاو¿۔“سردار اطمینان سے بولا۔اور میں رائفل کو چھاتی سے لگا کر لیٹ گیا ۔
ایک بجے کے قریب سردار نے مجھے ہلایا۔
”ٹھیک ہے خان صاحب !....سو جاو¿۔“میںآنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا ۔تھوڑی دیر بعد میں سردار کی بھاری سانسوں کی آواز سن رہا تھا ۔
گھنٹا ڈیڑھ بعد میں فطری تقاضا پورا کرنے کے لیے نیچے اترا ۔مچان سے تھوڑی دور ہوتے ہی مجھے پانچ چھے گز دور ہلکی ہلکی روشنی کی جھلک نظر آئی ۔کوئی آگ جلا کر کچھ پکانے کی تگ و دو میں تھا ۔ میں نیچے اترنے کے مقصد کو موخّر کرتے ہوئے جلدی جلدی درخت پر چڑھا ،اپنے پیک سے نائیٹ ویژن گاگل نکال کر آنکھوں پر لگائی اور رائفل اٹھا کر نیچے اتر آیا ۔سردار کو اٹھانے کی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی تھی ۔اندھیرے کے باوجود میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور درختوں کی آڑ لیتا ہوا اس جانب روانہ ہو گیا ۔آخری سو میٹر کا فاصلہ میں نے کرالنگ کرتے ہوئے طے کیا تھا ۔بیس پچیس گز دور رک کر میں ان کی باتوں کی طرف دھیان دیا ۔وہ شاید قہوہ یا چاے وغیرہ بنا چکے تھے ۔پشتو سے ملتے جلتے فارسی لب لہجے سے میں نے فوراََ پہچان لیا کہ وہ ایرانی سنائپر تھے ۔ دونوں کا رخ دوسری جانب تھا ۔اتنے فاصلے سے مجھے شست لینے کی بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی ۔نائیٹ ویژن سائیٹ اتارے بغیر میں نے پہلی گولی فائر کی ۔دھماکے کی آواز سن کر وہ اچھل پڑے تھے ۔مگر ان کی کسی حفاظتی تدبیر سے پہلے میں نے دوسری گولی بھی فائر کر دی تھی ۔
”گڈ یار !....اب ہو کون سامنے ہی آ جاو¿۔“گولی کی چوٹ کھاتے ہی ان میں سے ایک مزاحیہ انداز میں بولا۔مگر میں اس کی بات کا جواب دئےے بغیر پیچھے مڑا اور تیز قدموں وہاں سے رخصت ہو گیا ۔میں ان کے ساتھ بات چیت کر کے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔کیونکہ گولی چلنے کے بعد اگر وہاں قریب کوئی دوسری پارٹی موجود ہوتی تو وہ مجھے نشانہ بنا سکتی تھی ۔وہ مجھے انگریزی میں مخاطب ہوا تھا اس لیے مجھے سمجھنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے نہ بتاو¿؟“اسی آدمی نے دوبارہ آواز دی ۔”ویسے شکریہ ۔اب ہم جا کر آرام کر سکیں گے ؟“
واپسی پر سردار مجھے سوتا ہوا ملا ۔اور اس کی وجہ یقینا یہ تھی کہ ایک تو اسے معلوم تھا کہ اس کا ساتھی جاگ رہا ہے ۔اور دوسرا یہ کوئی اصلی جنگ نہیں تھی۔ورنہ ایک سنائپر اتنی بے فکری سے نہیں سو سکتا۔
صبح کے قریب میں ایک بار پھر نیچے اترا ،اور نقشہ کھول کر ٹارچ کی روشنی میں جنگل میں موجود پانی کا مقام تلاش کرنے لگا ۔ٹارچ کی روشنی کو چھپانے کے لیے میں نے ایک چادر اوڑھ لی تھی ۔ درمیانی سی جھیل اس جگہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھی ۔ڈگری ،فاصلہ وغیرہ نوٹ کرنے کے بعد میں نے نقشہ لپیٹ کر پیک میں ڈالا ۔اور مچان پر چڑھ کر سردار کو جگانے لگا
”خان صاحب !....اٹھ جاو¿۔“
”اٹھ گیا یار !....سردی سونے ہی کدھر دے رہی ہے ؟“سردار جمائی لیتے ہوئے بیٹھ گیا۔واقعی سردی کافی زیادہ تھی ۔اس کے باوجود کہ ہم نے گلی سوٹوں کے نیچے گرم لباس پہنے ہوئے تھے پھر بھی سردی کی شدت میں کوئی خاص کمی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔
میں نے کہا۔”حرکت کرنے کے لیے سب سے بہترین وقت یہی ہے ؟“
”بس مجھے دس منٹ درکار ہیں تیاری کے لیے؟“سردار نے کہا اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
تھوڑی دیر بعد ہم محتاط انداز میں جھیل کی جانب روانہ تھے ۔ایسی حالت میں بات چیت کرنا بالکل مناسب نہیں ہوتا ۔اس وجہ سے ہم دونوں کی زبان پر بھی تالے لگے تھے ۔
ہم بہ دقت تمام تین کلومیٹر چلے تھے کہ اچانک میرے کانو ںمیں ہلکی ہلکی باتوں کی آواز پڑی۔اپنے قدم روکتے ہوئے میں نے تصدیق کرنا چاہی ۔سردار نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا مگر پھر باتوں کی آواز اس کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھی ۔
ہم دونوں ایک دم لیٹ گئے ۔
”یہیں رکو ۔“اسے کہہ کر میں رینگتا ہوا ایک درخت کے تنے کی آڑ لے کر اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
ابھی تک سورج طلوع نہیں ہوا تھا مگر روشنی پھیل چکی تھی ۔وہ دونوں ہم سے پچاس میٹر دور ہوں گے ۔دونوں اپنا سامان پیک کر رہے تھے ۔یقینا انھوں نے رات وہیں گزاری تھی ۔میں بغیر وقت ضائع کیے دو گولیاں فائر کر دیں ۔دونوں بڑی آسانی سے نشانہ بن گئے تھے ۔میںجھک کر بھاگتا ہوا سردار کے نزدیک پہنچا اور ہم آگے روانہ ہو گئے ۔
جھیل کے کنارے ایک مناسب درخت پر میں نے مچان بنائی اور وہیں بیٹھ گئے ۔ڈیوٹی کا نمبر سردار کا تھا ۔ہم بہ مشکل اوپر پہنچے ہی تھے کہ جینیفر کا پیغام آ گیا ۔وہ میری جگہ کے بارے پوچھ رہی تھی ۔
میں نے جی پی ایس پر دیکھ کر اپنی جگہ کا چھے ہندسہ حوالہ دے دیا ۔
جھٹ اس کا اگلا پیغام ملا۔”ہم بھی اسی جانب آرہے ہیں ؟....پہنچ کر اپنی جگہ کے بارے بتاتی ہوں ۔“
”اوکے ۔“لکھ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔یوں بھی سردار نگرانی کر رہا تھا ۔اور پھر مجھے اونگھ آرہی تھی کہ موبائل فون پر پیغام کی ہلکی سی گھنٹی بجی ۔”شاید وہ اپنی جگہ کے بارے بتا رہی ہے ؟“ایک بار تو میں میرے جی میں پیغام کو نظر انداز کرنے کا خیال آیا۔کیونکہ میں اٹھ کر بھی وہ پیغام پڑھ سکتا تھا ،مگر پھر نہ چاہتے ہوئے بھی میں پیغام کھول کر پڑھ لیا۔
پیغام پڑھتے ہی میری غنودگی غائب ہو گئی تھی ۔جینیفر نے لکھا تھا کہ اس نے شری کانت اور راج پال کو ہمارے طرف جاتے دیکھا ہے ۔“
میں فوراََ لکھا۔”تو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟“
اس کا شوخی بھرا پیغام موصول ہوا ۔”میں ایسی حالت میں نہیں تھی کہ انھیں نشانہ بنا سکتی ....میرا مطلب ہے جب تک میں پتلون پہنتی وہ درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو گئے تھے ۔یوں بھی میں اپنا ہتھیار اپنے ساتھی کے پاس چھوڑ آئی تھی اور وہ مجھے سے پچاس ساٹھ میٹر دور تھا۔“
”کس جانب سے آرہے ہیں ؟“
اس نے مختصراََ لکھا۔”شمال ۔“
”ٹھیک ہے ،شکریہ ۔“لکھ کر میں سردار کو مخاطب ہوا ۔
”خان صاحب!....ذرا ہوشیار رہنا ؟“
”کیا ہوا ؟“اس نے بے تابی سے پوچھا ۔
”شاید ہمارے پڑوسی اسی جانب آ رہے ہیں ؟“میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔ اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ چاروں طرف دیکھنے لگا جبکہ میں دائیں جانب متوجہ رہا ۔کہ وہی سمت شمال بھی تھی ۔
وہ مجھے جلد ہی دکھائی دے گئے تھے ۔اگر اگر جینیفر اطلاع نہ دیتی تو شاید وہ چھپ کر ہماری پوزیشن تک پہنچ جاتے ۔مگر سوال یہ تھا کہ انھیں ہماری جگہ کے بارے معلوم تھا یا وہ یونھی احتیاط سے حرکت کر رہے تھے ۔موخّر الذکر سوچ مجھے صحیح لگی کیونکہ ہمارے چھپنے کی جگہ کے بارے صرف جینیفر جانتی تھی ۔ اور جینیفر سے یہ بعید تھا کہ وہ ایسا کچھ کرتی ۔بلکہ اس نے تو مجھے ان کے آنے کی اطلاع دی تھی ۔
”سردار !....وہ دیکھو ؟“میں نے سردار کو ان کی جانب متوجہ کیا ۔وہ دونوں قریباََ تین سو میٹر دور تھے ۔
”اب میری باری ۔“سردار نے شست باندھتے ہوئے کہا ۔جبکہ میں ان کا درست فاصلہ اور ہلکی ہلکی چلنے والی ہوا کی رفتا ناپ کر سردار کو مدد دینے لگا ۔سنائپرز کاجوڑیوں کی شکل میں حرکت کرنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ دونوں میں سے ایک آدمی فائر کرتا ہے جبکہ دوسرا ہوا کی رفتا ر، درست فاصلہ وغیرہ ناپتا ہے ۔
”چارسو بیس میٹر۔“میں نے اسے فاصلے سے آگاہ کر کے ونڈ میٹر دیکھنے لگا۔”دو کلومیٹر فی گھنٹا۔“میں نے اسے ہوا کی رفتا ر بھی بتا دی ۔
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر وہ شست باندھنے لگا ۔میں نے دوربین آنکھوں سے لگا لی تھی ۔چند لمحوں کے بعد اس نے ٹریگر دبادیا۔ایک زور دار دھماکے کے ساتھ جھک کر حرکت کرنے والا الٹ کر پیچھے جا گر ا تھا ۔
فائر کی آواز اور ہدف کے گرنے کے اندازکو دیکھتے ہی میرا دل کسی انجانے خطرے کے زیر ِ اثر دھڑکنے لگا ۔
”رائفل ادھر دو ؟“وہ دوبارہ شست باندھ رہا تھا کہ میں نے اس سے رائفل جھپٹ لی ۔
”کیا ہوا ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
اسے جواب دیئے بغیر نے میگزین کیچ دباکر میگزین کو رائفل سے علاحدہ کیا اور میرے بدترین اندیشے درست ثابت ہوئے ۔
میں نے سرسراتے ہوئے لہجے میں کہا ۔”سردار !....یہ ایمونیشن تو اصلی ہے ؟“
”کک کیا ....؟“سردار کا رنگ اڑ گیا تھا۔”م....مم ....مگر میں نے تو ....پینٹ ایمونیشن ڈالا تھا ؟“
”یہ رائفل بھی اصلی ہے ؟....تم کل سے لیے پھر رہے ہو ؟....کیا اتنا اندازہ نہیں ہو سکا تمھیں ؟“ناگواری سے رائفل نیچے رکھتے ہوئے میں نے دوربین آنکھوں سے لگا لی ۔اس کا ساتھی گھٹنوں کے بل اس کے ساتھ بیٹھا ہوا شاید اس کے زخم سے خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اسی وقت ہمارے پاس موجود واکی ٹاکی پر ایک پیغام دہرایا گیا۔
”مشق اختتام پذیر ہوئی ؟....کوئی سنائپر اب گولی نہیں چلائے گا ۔میں دہرا رہا ہوں کوئی سنائپر اب گولی نہیں چلائے گا ۔ایک سنائپر شدید زخمی ہو گیا ہے ۔تمام واپس کیمپ میں آ جائیں ....“یہ پیغام بار بار دہرایا جانے لگا ۔
اچانک موبائل پر جینیفر کی کال آنے لگی ۔تمام احتیاط بالائے طاق رکھ کر میں نے کال رسیو کر لی ۔
”ذی !....کیا ہوا ؟“اس کے لہجے میں پریشانی تھی ۔
”پپ....پتا نہیں ؟“میں گڑبڑا گیا تھا ۔
”ذی !....شاید تمھاری گولی سے انڈین سنائپر زخمی ہو گیا ہے ؟....یوں کرو واپس کیمپ لوٹ جاو¿۔زخمی سنائپر کے قریب نہ جانا ۔تمھیں دیکھ کر وہ جھگڑا نہ شروع کر دیں ۔اور کسی کو بھی اصل بات کی ہوا نہ لگنے دینا ۔میں واپس آکر تم سے بات کرتی ہوں ؟“
”ٹھیک ہے ۔“رابطہ منقطع کر کے میں ہکا بکا بیٹھے سردار کو نیچے اترنے کا اشارہ کیا ۔نیچے اترتے ہی میں نے رائفل سے زندہ گولیاں نکال کر نیچے پھینکیں اور میگزین میں پینٹ ایمونیشن بھر دیا ۔ سردار کے حوالے اس کی رائفل کر کے ہم کیمپ کی جانب بڑھ گئے ۔
”خود پر قابو پاو¿؟“سردار کے چہرے پر ثبت پریشانی کے اثرات دیکھ کر میں نے اسے تسلی دی۔
”مجھے اچھی طرح یاد ہے ذیشان بھائی کہ میں نے میگزین میں پینٹ ایمونیشن لوڈ کیا تھا ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ میرے پاس ڈمی رائفل تھی ۔نہ جانے کب رائفل اور ایمونیشن بدلی ہوا ؟“
”اچھا فی الحال خاموش رہو ۔اور اس بارے کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ۔“
اسے چپ کر ا کے میں اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا ۔مجھے سردار کی بے گناہی پر کوئی شبہ نہیں تھا۔مگر صرف میرے کہنے سے تو کوئی اسے بے گناہ نہ مانتا۔سب سے بڑھ کر ایک انڈین سنائپر اس کی گولی سے گھایل ہواتھا ۔ہمیں چلتے ہوئے دس پندرہ منٹ ہوئے تھے کہ ایک ہیلی کاپٹر گڑگڑاتا ہوا ہمارے سروں پر سے گزر گیا ۔یقینا وہ زخمی کو اٹھانے جا رہا تھا ۔پھر ایک چکر فضا میں کاٹ کر ہیلی نیچے بیٹھنے لگا۔ہمارے کیمپ تک پہنچنے سے پہلے ہیلی واپس روانہ ہو گیا تھا ۔
گھنٹے ڈیڑھ میں ہم اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں سے مشق کی شروعات ہوئی تھی ۔مشق سے باہر ہونے والے سنائپرز واپس کیمپ پہنچ چکے تھے ۔ہم فلم ہال میں بیٹھ کر باقی سنائپرز کا انتظار کرنے لگے ۔ہم سے پہلے بھی چند سنائپرز موجود تھے ۔وہ بھی مشق کے ایک دم ختم ہونے پر حیرانی کا اظہار کر رہے تھے ۔زخمی ہونے والے سنائپر کے متعلق بھی وہ قیافہ شناسی کر رہے تھے ۔لی زونا بھی وہاں موجود تھی ۔
میںنے سردار کو آہستہ سے کہا ۔”لی زونا کو کچھ نہ بتانا ؟“
لی زونا ہمیں دیکھتے ہی جلدی سے ہماری طرف بڑھی ۔
”شکر ہے تم لوگ ٹھیک ہو ؟“ہم سے مصافحہ کرتے ہوئے وہ آہستہ سے بولی ۔”ویسے پتا چلا کون زخمی ہوا ہے ؟“
”فکر نہ کرو ،تھوڑی دیر تک پتا چل جائے گا ؟“میں نے جھوٹ بولنے کے بجائے بات کو گول مول کرنا مناسب سمجھا ۔
اگلے دس پندرہ منٹ میں تمام پہنچ گئے تھے ۔
انڈین سنائپرز کے ہمراہ مجموعی طور پر بارہ جوڑیا ںبقایا تھیں ۔ان کے علاوہ سارے سنائپرز مشق سے باہر ہو کر واپس کیمپ پہنچ گئے تھے ۔
جینیفر نے آ کر تمام کو بتایا کہ انڈین سنائپرشری کانت شدید زخمی ہو کر ہاسپیٹل پہنچ گیا ہے ۔شری کانت کے زخمی ہونے کی وجہ سے اس نے لا علمی کا اظہار کیا تھا۔
تمام کے اکٹھا ہوتے ہی ہم لگژری بس میں بیٹھے اور واپس روانہ ہوئے ۔
سردار کے چہرے پر ہویدا پریشانی بھرے تاثرات کسی کو بھی حقیقت سے روشناس کرا سکتے تھے۔ میں دبے لفظوں میں اسے اپنی حالت پر قابو رکھنے کا مشورہ دینے لگا ۔
کیمپ میں پہنچ کر ہم نے گلی سوٹ سے چھٹکارا حاصل کیا ۔اور نہا کر سول کپڑے پہن لیے۔
”چاے کے بارے کیا خیال ہے ؟“سردار کے غسل خانے سے نکلتے ہی میں نے پوچھا ۔
”میں بنا دیتا ہوں ؟“وہ الیکٹرک کیتلی کی طرف بڑھ گیا ۔
میں نے پوچھا۔”ویسے تمھارا کیا خیال ہے ؟کہ یہ رائفل کون بدلی کر سکتا ہے ؟“
”کیا یہاں یہ گفتگو کرنا مناسب ہو گا ؟“
”ہاں ....“میں اطمینان سے بولا۔”کیونکہ ،انتظامیہ اس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ شری کانت کس کی گولی کا نشانہ بنا ہے ؟“
”میرے خیال میں یہ اسی کاکام ہے جو خود گولی کا نشانہ بنا ہے ؟....“سردار نے کمرے میں پڑے چھوٹے فرج سے ملک پیک کا ڈبہ نکال کر الیکٹرک میں دودھ ڈالنے لگا ۔
میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی بھی ہمارا پیچھا کرنے کی کوشش نہ کرتے ؟“
”وہ ہمارا پیچھا کب کر رہے تھے ؟“ملک پیک کا خالی ڈبی کوڑا کرکٹ کی ٹوکری میں اچھا ل کر وہ کیتلی میں چاے کی پتی ڈالنے لگا ۔
اس کی بات میرے دل کو لگی ۔”کہہ تو صحیح رہے ہو؟....انھیں کیا خبر کہ ہم کہاں چھپے ہیں ؟“
سردار کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔
”جی آجائیں ؟“میں نے آواز دی اور دروازہ کھول کر ایک انجان آدمی اندر داخل ہوا ۔
”ذیشان !....کون ہے ؟“وہ مستفسر ہوا ۔
”جی !“میں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
”تمھیں کرنل یادکر رہے ہیں ؟“
”مجھے ؟....کہاں ہیں وہ ؟“میں حیرانی سے کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا ۔
اس نے جواب دیا ۔”آئیں میں تمھیںلے چلتا ہوں ۔“
سردار نے مجھے جانے پر آمادہ دیکھ کر کہا۔”چاے تو پی لیتے ؟“
”واپسی پر پی لوں گا ؟“کہہ کر میں نوواردکے ساتھ چل پڑا ۔تھوڑی دیر بعد میں کرنل کے سامنے تھا۔اسے دیکھ کر حیرانی کے ساتھ میرے دل کی دھڑکن بھی بڑھ گئی تھی ۔کرنل سکاٹ ڈیوڈ کا چہرہ میرے لیے نیا نہیں تھا ۔میں نے اٹن شن ہو کر اسے تعظیم دی اور اس کے اشارے پر اس کے سامنے رکھی نشست سنبھالی۔
وہ چند لمحے مجھے گھورتا رہا ۔میں نے بھی اس سے نظریں نہیں چرائی تھیں ۔
”تو کیا خیال ہے ؟“اس نے بغیر کسی تمہید کے گفتگو شروع کردی۔
”میں نے بتا دیا تھا ؟“
”جانتے ہو قتل کی سزا کیا ہے ؟....تم دونوں کے ہاتھوں ایک انڈین فوجی قتل ہوا ہے ؟ اور ایساغلطی سے نہیں ہوا ....؟“
میں نے بے ساختہ پوچھا۔”کیا وہ مر گیا؟“
”نہیں ....فی الحال تو زندہ ہے ؟مگر مرنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے ؟“
”یہ سراسر الزام ہے ؟....ہمیں پھانسنے کی کوشش کی جا رہی ہے ؟“
”ہاں ۔“ا س نے اثبات میں سرہلایا۔”مگر اس بات کا تو صرف تمھیں یا مجھے پتا ہے نا ؟ ورنہ بہ ظاہر تو یہ قتل عمد ہے اور کیپٹن جینیفر بھی تم لوگوں کے ساتھ شامل ہے ۔اب یہ نہ پوچھنے بیٹھ جانا کہ کیپٹن جینیفر کا مجھے کیسے پتا ؟“
میں نے تلخی سے کہا۔”ظاہر بات ہے ؟....وہ بھی اس سازش کا حصہ ہے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”اس کے علم میں اصل بات نہیں ہے ۔ہم نے تو بس اسے کورس میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے کا طریقہ بتایا تھا ۔اور وہ بے خبری میں استعمال ہو گئی ؟....اس کے بھیجے ہوئے آخری پیغام محفوظ ہیں جس میں اس نے تمھیں انڈین سنائپرز کے آنے کی اطلاع دی ۔اور تمھارے ساتھی نے اصل سنائپر رائفل کا استعمال کیا ۔ورنہ اس سے پہلے بھی تم نے کافی سناپرز کو نشانہ بنایا تھا ۔تو پھران میں سے کسی پر اصل سنائپر رائفل کی گولی کیوں نہیںچلائی گئی ؟“
”پہلے بھی سردار نے ........؟“
”صفائی دینے کی ضرورت نہیں ؟....اس بات کا یقین کیسے دلاو¿ گے ؟....کیا عدالت میں یہ بات ثابت کر سکو گے ؟جبکہ کیمرے سے بننے والی فلمیں ہمارے پاس ہیں؟“
میں نے گہرا سانس لے کر آنکھیں بند کر لیں ۔درحقیقت ہمیں بڑی چابک دستی اور ہوشیاری سے پھانسا گیا تھا ۔ساری کارروائی بالکل بے داغ تھی ۔
مجھے خاموش پا کر وہ وبارہ بولا۔”گولی چلانے والا الیکٹرک چیئر پر بیٹھے گا ؟اس کا ساتھ دینے والاکم از کم دس سال قید با مشقت پائے گا اور قاتلوں کو معلومات دینے والی کیپٹن کاکورٹ مارشل ہو گا ؟ یہ میں نے کم سے کم سزا تجویز کی ہے ۔“
”کیا چاہتے ہو ؟“
”یہ ہوئی نا مردوں والی بات ؟“کرنل سکاٹ مسکرایا۔”یقین مانو اگر یہ کام تمھارے علاوہ کوئی اور کر سکتا تو ہم کبھی بھی تمھیں تکلیف نہ دیتے ؟“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”پھر تو، مجھے فخر کرنا چاہیے کہ میں بھی کچھ ایسا کر سکتا ہوںجو کوئی بھی امریکی نہیں کر سکتا ؟“
”یہ حقیقت ہے ۔انیس سو میٹر کے فاصلے سے آج تک کسی نے بھی ہدف کو نشانہ نہیں بنایا؟“
میں نے منہ بنایا۔”اس میں نشانہ بازی کہاں سے آ گئی ؟“
”کیونکہ تمھیں اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے ایک آدمی کو نشانہ بنانا ہے ؟“
جاری ہے
 

”اگر کسی کو قتل کرنا ہی مسئلے کا حل ہے ہے تو مجھے بے گناہ ہوتے ہوئے بھی ہر سزا قبول ہے۔“میں نے پر عزم لہجے میں کہا۔
”چاہے کسی مسلم دشمن شخص کو بھی مارنے کا موقع ملے ؟“
”کسی مسلم دشمن شخص کو امریکا کیوں قتل کرائے گا ؟“
”یہ ایک الگ بحث ہے ؟....البتہ تم ہر طرح سے اپنا اطمیان کر سکتے ہو ؟“اس نے اپنے سامنے رکھی ایک ضخیم فائل اٹھا کر میری جانب بڑھائی ۔”اس میں مطلوبہ شخص کے بارے مکمل معلومات درج ہیں ۔کچھ اخباری تراشے بھی ہیں ؟....تمھارے پاس دو دن ہیں فائل تفصیل سے پڑھ لو،پرسوں اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا ؟“یہ گویا بات ختم ہونے کا اعلان تھا ۔
”ایک چھوٹی سی خلش ہے ؟“
”پوچھو ؟“اس نے استفہامیہ نظروں سے میری جانب دیکھا ۔
”سردار!....پہلے بھی تو اس رائفل سے فائر کر سکتا تھا ؟“
وہ ہنسا ۔”دو تین مرتبہ اس نے کوشش کی تو تھی ؟....پھر کیا کیوں نہیں ؟“
”مطلب ....؟“
”جی بالکل ،تم صحیح سمجھے ؟“اس نے میری بات کاٹی ۔”تمھارا ساتھی جب بھی فائر کرنے کی کوشش کرتا ہم اس کے فائر سے پہلے مطلوبہ سنائپر کو نشانہ بنوا دیتے ۔“
”اور اگر انڈین سنائپرز کو میں نشانہ بناتا پھر ؟“
”بہ ظاہر تو ایسا ممکن نہیں تھا ،کیونکہ تمھارا پٹھان دوست مشق شروع ہونے سے پہلے ان سے جھگڑ چکا تھا ؟بلکہ انھیں دھمکی بھی دے چکا تھا ۔بس ضرورت اس بات کی تھی کہ تم لوگوں تک یہ خبر بروقت پہنچ جائے کہ تمھاری جانب آنے والے انڈین سنائپرز ہیں اور یہ کام کیپٹن جینیفر نے بہ حسن خوبی کر لیا۔اور یہی وجہ تھی کہ تمھارے موبائلز کو ہم نے نظر انداز کیے رکھا ؟“
”اور اب اگر میں اس کام کے لیے راضی ہو جاتا ہوں تو پھر یہ کیس کس طرح حل ہو گا ؟“
”کوئی مسئلہ ہی نہیں ....شری کانت کی جان بچ گئی ہے ؟....گولی چلانے کی ذمہ داری سارجنٹ ریگن واچ قبول کر لے گا ؟“
”اوکے ۔“میں جانے کے ارادے سے کھڑا ہو گیا۔
”غالباََ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں پڑے گی یہ بات تمھارے تک رہنی چاہیے ؟....زیادہ سے زیادہ تم اپنے ساتھی سردار سے مشورہ کر سکتے ہو ؟“یہ کہہ کراس نے سر کے اشارے سے مجھے جانے کا اشارہ کیا اور میں وہاں سے باہر نکل آیا ۔
٭٭٭
اس کا نام برین ویلز تھا ۔ ایک اعلی عہدے پر فائز ہونے کے علاوہ وہ سول حلقوں میں بھی کافی اثر رسوخ رکھتا تھا ۔اس کی مسلم دشمنی واقعی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔مسلمانوں کے خلاف چلنے والی ہر تحریک میں وہ پیش پیش ہوتا ۔فائل میں لگے اخباری تراشوں میں اس کے بیانات پڑھ کر اس کی مسلم دشمنی مجھ پرروز ِ روشن کی طرح واضح ہو چکی تھی ۔اب امریکن حکومت یا کرنل سکاٹ ڈیوڈ اسے کیوں مروانا چاہتے تھے ؟....یہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا؟کافی غور و فکر کے بعد میں نے سردار کو بھی ساری بات تفصیل سے بتلا دی ۔اس وقت ہم باہر لان میں بیٹھے تھے ۔
”تو کل اس لیے تمھیں بلایا گیا تھا ؟“اس نے پرخیال انداز میں سر ہلایا۔
”بالکل ۔“
”اس میں بھی ا ن کی کوئی چال نہ ہو ؟....آج کل یوں بھی نام نہاد مسلمانوں کو رقم دے کر دہشت گردانہ کارروائیوں ملوث کیا جاتا ہے اور پھر اسی کو آڑ بنا کر اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے ؟“
”اس بارے میں نے کافی سوچا ہے ؟لیکن موجودہ صورت حال میں ہم سے یہ کام لے کر ہمیں پھنسایا نہیں جا سکتا ؟....کیونکہ نہ تو ہمارا امریکہ میں کسی ایسی مسلمان تنظیم سے رابطہ ثابت کیا جا سکتا ہے اور نہ ایک ٹریننگ کرنے والے سپاہی کے پاس ہیوی سنائپر جیسے ہتھیار کی موجودی کا کوئی جواز بنتا ہے؟ ایسا ہونے میں سراسر ان کی اپنی ناا ہلی ثابت ہو گی ؟....اور پھر میں یوں بھی اس کام کے لیے تمھارے علاوہ کسی دوسرے کو مدد گار کے طور پر ساتھ لے جانے کی کوشش کروں گا؟“
”اصل بات یہ ہے کہ وہ خود کیوں نہیں یہ کام کرتے ؟“
”اس بارے کرنل سکاٹ کا کہنا تھا کہ وہ اٹھارہ سو میٹر دور سے ہدف کو نشانہ بنوانا چاہتے ہیں اور میرے علاوہ کوئی بھی اس فاصلے سے فائر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا ؟“(قارئین کی معلومات کے لیے لکھتا چلوں کہ اب Anzio 20mm Gaint Sniper Rifle بھی ایجاد ہو گئی ہے جس کی کارگر رینج 3500میٹر ہے ۔البتہ کچھ ہتھیار شناس اسے صرف اینٹی مٹیریل رائفل کہتے ہیں )
”بہ ظاہر تواس کی بات بالکل ٹھیک ہے ؟“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔
میں نے پوچھا ۔”تو پھر کیا کروں ؟....آمادگی ظاہر کر دوں ؟“
”اگر لی زونا سے مشورہ کر لیں ؟وہ یوں بھی انٹیلی جنس سے متعلق ہے اس معاملے میں بہتر رائے دے سکے گی ؟“سردار کا مشورہ کافی بہتر تھا ۔
”کیا لی زونا کو رازدار بنانا ٹھیک ہو گا ؟....کہیں وہ راز فاش نہ کر دے ؟“
”جہاں تک میرا اندازہ ہے لی زونا قابل اعتماد لڑکی ہے ؟....وہ یقینا ہمیں دھوکا نہیں دے گی ؟....بلکہ یاد کرو تو تمھیں جینیفر سے محتاط رہنے کا مشورہ اسی نے دیا تھا ؟“
”ٹھیک ہے رات کو ڈنر کے بعد تم اس کے کمرے میں چلے جانا وہاں کافی وغیرہ پی کر تھوڑی دیر گپ شپ کرنا اور پھر ہوا خوری کے بہانے اسے یہاں لے آنا ؟لیکن یاد رہے کسی بھی قسم کے نقصان کے ذمہ دار تم خود ہو گے ؟“
”نقصان ؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں نقصان ؟....کیونکہ یقینا ہمارے کرم فرماو¿ں کو لی زونا کااس راز سے واقف ہو نا پسند نہیں آئے گا؟“
”رہنے دو پھر ؟“سردار دوٹوک لہجے میں بولا۔
”بڑی فکر ہے خان صاحب !“
”نہیں یار !....کسی بے گناہ کو خواہ مخواہ اپنے مسائل کا شریک بنانا کہاں کی عقل مندی ہے ؟“ اس نے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا ۔
”درست کہا ....یوں بھی کرنل سکاٹ نے مجھے کسی بھی آدمی کو یہ بات بتانے سے منع کر دیا تھا۔“ میں فوراََ اس کے ساتھ متفق ہو گیا تھا ۔
٭٭٭
رات کا کھانا کھا کر سردار لی زونا کے ساتھ کافی پینے چلا گیا تھا ۔انھوں نے مجھے بھی دعوت دی مگر میں نے لی زونا کے ساتھ جانا مناسب نہ سمجھا ۔میری وجہ سے لی زونا پر شک کیا جا سکتا تھا ۔میں اپنے کمرے میں آ کر برین ویلز کی فائل کا مطالعہ کرنے لگا ۔مجھے پڑھتے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دروازہ کھٹکھٹا کر جینیفر اندر داخل ہوئی ۔مشق سے واپسی کے بعد وہ پہلی بار میرے پاس آئی تھی ۔
”کیا حال ہے ذی !“وہ بے تکلفی سے میرے ساتھ بیٹھ گئی ۔
”بہتر ہے ؟“مختصراََ کہہ کر میں مطالعے کی طرف متوجہ رہا ۔
”کیا پڑھ رہے ہو ؟“میرے موڈ کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس نے میرے ہاتھ سے فائل لینے کی کوشش کی ۔
میں فائل بند کرکے تکیے نیچے رکھتا ہوا بولا۔”کسی کے ذاتی کاغذات کو دیکھنے کی کوشش کرنا میرا خیال ہے مثبت فعل نہیں ہے ؟“
”تمھارا موڈ کیوں بگڑاہوا ہے ؟“
”تم نہیں جانتیں ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔
میں نے تلخی سے کہا ۔”جھوٹ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ؟“
”ذی !....بہ خدا مجھے علم نہیں ہے تم کیوں خفا ہو؟“
”اچھا ....چلو یہ بتا دو کہ شری کانت کو موبائل فون کس نے لے کر دیا تھا ؟“میں نے ایک اندازے کے تحت پوچھا ۔کیونکہ جس طرح جینیفر کو مجھے انڈین سنائپرز کی آمد سے مطلع کرنے کے لیے کسی رابطے کی ضرورت تھی ،بعینہ اسے شری کانت پارٹی کو میری جگہ کے بارے بتانے کے لیے بھی ان سے رابطے کی ضرورت ہوتی ۔اس کے علاوہ تو کوئی ایسی صورت نہیں تھی جس سے انڈین سنائپرز کو میری جانب بھیجا جاسکتا ۔
”کک....کون سا موبائل ؟“اس کی آواز میں شامل لرزش مجھے یقین دلا نے کے لیے کافی تھی کہ میرا تیر نشانے پر لگا تھا ۔
”اب کہہ دو یہ بھی جھوٹ ہے کہ شری کانت کے حوالے بھی تم نے موبائل کیا تھا ؟“
”ٹھیک ہے ؟....لیکن اسے بھی تو میں نے اسی لیے لے کر دیا تھا تاکہ میں اس کی گولی کا نشانہ بننے سے بچ جاو¿ں ....اصل میں میں چاہتی تھی کہ تم لوگ آپس میں لڑ تے رہو گے اور میں ....؟“
”بس کرو جینی ؟....“میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا۔”جھوٹ بولنے کے لیے لہجے میں اعتماد کا ہونا ضروری ہوتا ہے ؟“
”میں مجبور تھی ؟“
”مجھے بس یہ افسوس ہے کہ تم نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے دوستی اور محبت کو ہتھیار بنایا۔“
”ذی !....میں تم سے سچ مچ محبت ........“
”براہ مہربانی میں مزید کچھ نہیں سننا چاہتا ۔تم تشریف لے جاسکتی ہو ؟“میں نے ایک بار پھر اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔
”اس میں تمھارا کوئی نقصان نہیں تھا سمجھے تم ؟....“وہ بھی ایک دم غصے میں آ گئی تھی ۔”گولی کا نشانہ انڈین سنائپرز نے بننا تھا تم نے نہیں ؟....اور جس کام کے لیے تمھیں مجبور کیا جا رہا ہے اس میں بھی تمھارا کوئی نقصان نہیں بلکہ ایک طرح سے فائدہ ہے کہ تمھیںایک مسلمان دشمن شخص کو ختم کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔“
”کیا مجھے اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا تھا ؟“
”کوشش تو کی تھی ؟....تم مانے ہی نہیں ؟“
”فارم والے قصے کو چھوڑو ؟....میرا اشارہ مشق والے واقعے کی طرف ہے ؟“
اس نے افسردہ لہجے میں کہا۔”میں نہیں بتا سکتی تھی ؟....اگر بتا دیتی تو میرا بہت زیادہ نقصان ہو جاتا ؟“
”تو پھر محبت کا دعوا کس لیے ؟“
”ٹھیک ہے نہیں کرتی دعوا ....میں تمھاری دشمن ہوں ؟مجھے تم سے] نفرت ہے ؟مجھے تم ایک آنکھ نہیں بھاتے ؟اب خوش ؟“وہ گلوگیر لہجے میں کہتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔اس کی آنکھوں کے کٹورے پانی سے لبریز ہو گئے تھے ۔مگر اس سے پہلے کہ آنسو باہر آتے وہ رخ موڑ کر چل دی ۔
میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔دروازے کے سامنے وہ ایک لمحے کے لیے رکی ، اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنکھوں کو ملا اور باہر نکل گئی ۔
میں آنکھیں بند کر کے موجودہ صورت حال پر غور کرنے لگا ۔میں انکار کرنے کی حالت میں نہیں تھا ۔اس سے جہاں ہم دونوں سزا کے حق دار ٹھہرتے وہیں ملک کی بھی بدنامی تھی ۔ہم دونوں بری طرح پھنس گئے تھے ۔کرنل سکاٹ کے لیے شری کانت کوٹھکانے لگانا کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔اور اس کی موت کا الزام لامحالہ ہم دونوں کے سر ہوتا،کہ ہمارے خلاف ناقابل ِ تردید ثبوت موجود تھے ۔برین ویلز کو وہ جس وجہ سے بھی مروا رہے تھے یہ میرا درد سر نہیں تھا ،مگر برین ویلز کی مسلم دشمنی میں شبے کی گنجایش نہیں تھی ،کیونکہ کرنل سکاٹ نے میرے حوالے جو فائل کی تھی اس میں زیادہ تر حوالے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے برین ویلز کے بیانا ت پر مشتمل تھے ۔اور ایک مسلم دشمن یہودی کو اپنی جان بچانے کے لیے کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن میں کرنل سکاٹ کے سامنے بیٹھا اسے اپنا فیصلہ سنا رہا تھا ۔
”گڈ!.... مجھے تم سے اسی فیصلے کی توقع تھی ۔“میرا اثبات سنتے ہی کرنل سکاٹ خوش دلی سے مسکرایا۔
”مجبوری ہے ؟“میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔
”اچھا میں فالتو باتوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اصل مدعا پر آتا ہوں ؟.... تمھارے پاس قریباََایک ہفتے کا وقت ہے اس دوران تم روزانہ فائرنگ رینج پر جا کر مشق کر لیا کرو ۔ اس ضمن میں ایک نئی ہیوی سنائپر تمھارے حوالے کر دی جائے گی ؟“
میں نے کہا ۔”وہ پہلے والی ٹھیک ہے نا ؟“
”نہیں ....ہم وہ استعمال نہیں کر سکتے ۔فائر کے بعد رائفل وہیں پر چھوڑنی پڑے گی اور اس رائفل پر آرمی کا نمبر کھدا ہوا ہے؟....تفتیش کا رخ فوراََ ہماری جانب مڑ جائے گا اور ہمیں جواب دینا مشکل ہو جائے گا ۔اس لیے ہم تمھیں بالکل نئی رائفل دیں گے ۔یقینا ایک ہفتے میں نئی رائفل کواپنے موافق کرنا تمھارے لیے مشکل نہیں ہو گا ؟“
”ویسے میری فائرنگ مشق پر دوسرے ممالک کے سنائپرز کو کوئی حیرانی یا شک وغیرہ نہیں ہو گا؟“
تم یہاں سے جینیفر کے ساتھ سیر سپاٹے کے بہانے نکلو گے ۔کسی کو کیا معلوم کہ تم کہاں جا رہے ہو؟“
”ویسے مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ ایک آدمی کو مروانے کے لیے تم اتنے پاپڑ بیل رہے ہو؟ حالانکہ تم لوگ پورے کے پورے شہر صفحہ ہستی سے مٹا کر بھی انسانیت کے خادم ہی رہتے ہو ؟“
”اورتم لوگ بس کڑھتے رہنا ؟“اس نے قہقہہ لگایا۔”بہ ہر حال تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بیرن ویلز کوئی عام آدمی نہیں، ایک امریکن شہری ہونے کے ساتھ بہت اثر رسوخ اور پہنچ والا شخص ہے ؟وہ جس گاڑی میں سفر کرتا ہے وہ کئی کلو گرام بارود کا دھماکا برداشت کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔اس کے گرد ہر وقت درجن بھر اعلا تربیت یافتہ کمانڈوز کا گھیرا ہوتا ہے ۔بلٹ پروف جیکٹ وہ صرف سوتے وقت اتارتا ہے ۔پانی کا ایک گلاس بھی بغیر طبی معائنے کے اسے پیش نہیں ہوتا ۔ایک اسی منزلہ عمارت کی آخری منزل میں اس کی رہایش ہے ۔جس کی ساری کھڑکیوں میں بلٹ پروف شیشے لگے ہوئے ہیں ۔ اس عمارت کی نچلی منازل میں حساس سرکاری دفاتر ہیں اس لیے وہاں کسی غیر متعلقہ شخص کا گزر ممکن ہی نہیں ۔اور بالفرض کوئی اندر گھسنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو برین ویلز کی رہائش گاہ تک نہیں پہنچ سکتا کہ وہاں صرف اس کے محافظوں ہی کا داخلہ ممکن ہے ۔کوئی اس کے محافظوں کا روپ دھار کے بھی اندر نہیں جاسکتا کہ داخلے کے وقت کمپیوٹر ،انگلیوں کے نشان ،آنکھ کی پتلی کا معائنہ اور آواز کو پہچان کر ہی داخلے کی اجازت دیتا ہے ۔“وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر گویا ہوا ۔”یقینا یہ سرسری معلومات ہی تمھیں یہ بتانے کے لیے کافی ہو گی کہ برین ویلز کو ختم کرنا کتنا مشکل ہے ؟....اور پھر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ختم کرنے کے ساتھ ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کوئی ہم پر شک کر سکے ۔اور یہ تبھی ممکن ے جب تم ہماری مدد کرو گے ؟“
میں نے پوچھا ۔”اور میں اسے کہاں سے نشانہ بناو¿ں گا ؟“
”وقت آنے پر یہ بھی بتا دوں گا ؟فی الحال تم اپنی مشق پر توجہ دو ؟“
”اس دوران تمام ممالک کے سنائپرز یہیں رہیں گے ؟“
”ہاں ،کیونکہ اکیلے تمھیں روکنے میں انھیں پتا چل جائے گا کہ شر ی کانت کے زخمی ہونے میں تمھارا ہاتھ ہے ؟....جبکہ تحقیقا ت کے بہانے سب کو روکنے پر کسی کو شک نہیں ہو گا ؟“
”آخری بات ،کیا میرے ساتھ جینیفر کا ہونا لازمی ہے ؟“
”ایک تو اسے یہ سب کچھ معلوم ہے ؟....اور ہم نہیں چاہتے کہ زیادہ آدمیوں تک یہ بات پہنچے ۔دوسرا اس کی اپنی یہ خواہش ہے ۔اس کے ساتھ وہ امریکن شہری ہے اور جہاں پرکارروائی ہونی ہے اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہے اور سب سے بڑھ کر وہ خود بھی بہت اچھی سنائپر ہے ؟“
”مجھے اجازت دیں ؟“میں کھڑا ہو گیا ۔
”ٹھیک ہے ....لیکن یاد رکھنا اس کام کو ہلکا نہ سمجھنا ؟تمھاری ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ وہ مزید چوکنا ہو جائے گا اور یہ مشکل کام ناممکن میں بدلی ہو جائے گا ۔“
”جب حامی بھر لی ہے تو دھوکا نہیں دوں گا ؟البتہ سو فیصد کامیابی کا دعوا کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔“
اس نے متفق ہونے کے انداز میں سرہلایااور میں وہاں سے باہر نکل آیا ۔
میں بہ مشکل اپنے کمرے میں داخل ہو پایا تھا کہ جینیفرآ دھمکی ۔اس کے چہرے پر کل والی گفتگو کے آثار اب تک معدوم نہیں ہوئے تھے ۔
وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔”سرسکاٹ کہہ رہے ہیں، ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ؟“
”میں تیار ہوں ۔“میرے لہجے میں بھی اجنبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔
”چلو پھر ۔“اس نے کہا ۔اور ہم کمرے سے باہر نکل آئے ۔سردار غائب تھا ۔اور جہاں تک میرے اندازے کے مطابق اسے لی زونا کے پاس ہونا چاہیے تھا ۔اسے میں نے سختی سے تاکید کر دی تھی کہ وہ لی زونا کو یہ بات بالکل نہ بتائے ۔یوں بھی وہ کوئی چھوٹا بچہ نہیں تھا کہ اپنے فائدے نقصان کی بابت نہ جان سکتا ۔
میں جینیفر کی معیت میں چلتا ہوا اس کی کار تک پہنچا ۔اس کے پاس سرخ رنگ کی خوب صورت بی ایم ڈبلیو تھی ۔فائرنگ رینج تک ہم بغیر کوئی گفتگو کیے پہنچے تھے ۔شناخت کے مراحل سے گزر کر ہم فائرنگ اڈے پر پہنچ گئے ۔مجھے وہیں رکنے کا کہہ کر وہ وہاں پر بنی ایک دو منزلہ عمارت کی طرف بڑھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک وہ ایک نوجوان کے ہمراہ واپس لوٹی جس نے ہیوی سنائپررینج ماسٹر کا بکس اٹھایا ہوا تھا ۔خود جینفر کے پاس ہیوی سنائپر کا چھوٹا ایمونیشن بکس تھا جس میں اس رائفل کی سو گولیاںپیک ہوتی ہیں ۔ بکس میں پیک شدہ رائفل وہیں رکھ کر وہ واپس لوٹ گیا ۔میں نے بکس کھول کر رائفل باہر نکالی ٹیلی سکوپ سائیٹ اس پر فٹ کی ۔اس دوران جینیفر نے ایمونیشن نکال کر میگزین میں بھرنا شروع کر دیا تھا۔تیار ہو کر میں نے ہدف کو دوسو میٹر کے فاصلے پر سیٹ کیا اور وائفل کی زیرونگ دیکھنے لگا ۔پانچ گولیاں فائر کرنے کے بعد میں نے لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ مناسب تبدیلی کی ۔اور پھر ہدف کو پانسو میٹر دور کرکے فائر کرنے لگا ۔اگلی مرتبہ میں نے ہزار میٹر سے فاصلے سے فائر کیا ۔اور پھر ہزار سے ایک دم میں نے ہدف کو اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے پر دھکیل دیا ۔ہوا بالکل موافق تھی ۔جینیفر خاموشی سے خالی میگزینیں بھرتی رہی اور میں میگزینیں ہدف پر خالی کرتا رہا ۔بکس میں موجود تمام گولیاں ختم کرنے کے بعد ہم واپس جانے کے لیے تیار ہو گئے ۔
کار میں بیٹھتے وقت وہ سرسری لہجے میں بولی ۔”تم واقعی بہت اچھے نشانہ باز ہو ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔”ہاں اور یہ صلاحیت مجھے اس مقام پر لے آئی ہے ؟“
میرا جواب ایسا نہیں تھا کہ وہ مزید کچھ بول پاتی ۔
٭٭٭
اگلے پانچ دن میں اور جینیفر مسلسل فائرنگ رینج پر جاتے رہے ۔میں روزانہ پچاس گولیاں اٹھارہ سو اور پچاس گولیاں انیس سو میٹر کے فاصلے سے ہدف پر فائر کرتا ۔اس دوران کبھی تیز ہوا چل رہی ہوتی ،کبھی درمیانی ۔کبھی تیز دھوپ ،کبھی معتدل اور کبھی سہ پہر کے بعد کا وقت ۔ہر قسم کے حالات میں فائر کرنے سے اس فاصلے پر میرا نشانہ مزید پختہ ہو گیا تھا۔اتوار کے دن مجھے ایک مرتبہ پھر کرنل سکاٹ کے سامنے پیش ہونا پڑا۔جینیفر بھی میرے ہمراہ تھی ۔وہ بھی اکیلا نہیں تھا۔فارم ہاو¿س والی کرنل جولی روز ویلٹ اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بجائے وہ براہ راست مقصد پر آ گیا ۔”آج شام کو تم لوگوں نے نیویارک جانا ہے ۔سنائپر رائفل پہلے ہی سے بھجوا دی گئی ہے ۔وہاں تم لوگوں نے جس جس ہوٹل میں ٹھہرنا ہے اس کے بارے جینیفر کو سب کچھ معلوم ہے ۔وہاںتم لوگوں کے چہرے بدل دیے جائیں گے اور نئی شناخت کے کاغذات تمھیں مل جائیں گے ۔“یہ کہہ کروہ کرنل جولی روز ویلٹ کی طرف متوجہ ہو ا۔خاموش بیٹھی جولی روزویلٹ نے ٹیبل سے ریموٹ کنٹرول اٹھا کر دیوار پر لگی بڑے سائز کی ایل ای ڈی آن کی اور اپنے سامنے موجود لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہو گئی ۔ایل ای ڈی کی سکرین روشن ہوئی اور پس منظر میں ایک خوب صورت عمارت نظر آنے لگی۔جولی کے لب وا ہوئے ۔
”سوموار کودن دس بجے ہدف نے یہاں ایک میٹنگ میں شمولیت کرنی ہے جس کا دورانیہ ایک گھنٹا ہو گا ۔اس کے بعد وہ اسی عمارت کے لان میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرے گا۔اس نے دس منٹ کی مختصر سی تقریر کرنی ہے اور اس کے بعد صحافیوں کی طرف سے سوالات و جوابات کا ایک مختصر سا سلسلہ ہوگا اس کا دورانیہ بھی دس سے پندرہ منٹ پر مشتمل ہو گا ۔صحافیوں سے گفتگو ختم کر کے وہ اس جگہ آئے گا ۔“جولی نے کرسر سے،ترتیب سے لگی کرسیوں کی نشان دہی کی ۔”اس کرسی پر میں نے اس سے تین کاغذ سائن کرانے ہیں ۔اور اس میں بہ مشکل پچاس سیکنڈ سے ایک منٹ تک کا وقت لگے گا ۔اسی دوران اسے نشانہ بنایا جا سکے گا ۔اس کے عمارت کے گرد تیرہ سو سے چودہ سو میٹر کے دائرے میں جتنی بھی بلند عمارتیں ہیں کہ جن کی چھت سے اس جگہ کو دیکھا جا سکے ؟ان پر پولیس ، سی آئی اے اور ایف بی آئی کے اہلکار تعینات ہوں گے ۔البتہ اس سے زیادہ فاصلے والی عمارتوں کو ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا ہے ۔اور اس میں ایک اس ہوٹل کی عمارت ہے ۔“جولی نے ایک بلند ہوٹل کی تصویر پر کرسر روکا ۔”یہ فور سیزن ہوٹل ہے اس کی بلندی قریباََ دو سو میٹر ہے ۔اور یہ باون منزلہ عمارت ہے ۔اس کی چھت سے اس کرسی تک کا ہوائی فاصلہ اٹھارہ سو پچاسی میٹر بنتا ہے ۔پچاسویں منزل پر تم دونوں کے لیے کمرہ بک ہو چکا ہے ۔ وہاں سنائپر رائفل بھی پہنچ گئی ہوئی ہے ۔کمرے سے رائفل چھت پر لے جانا اور کامیاب فائر کے بعد خود کو سرکاری اہلکاروںسے محفوظ رکھنا تمھاری اپنی ذمہ داری ہوگی ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں پوچھا ۔”مطلب اگر ہم ان کے ہاتھ چڑھ گئے تو تم ہم سے لاتعلقی ظاہر کرو گے ؟“
”نہیں ،میں نے ایک امکانی بات کی ہے ؟....ویسے ایسا موقع نہیں آئے گا ؟اس ہوٹل میں قریباََ پونے چار سو کمرے ہیں اور تمام کمروں کی چھان بین کر کے کسی اہلکار کا تم تک پہنچنا اتنا آسان نہیں ہوگا ،مگر احتیاط تو لازم ہے نا ؟“
”تم جانتی ہو کہ میرے لیے یہ بالکل انجان علاقہ ہے ؟“
اس نے اطمینان سے جواب دیا ۔”کیپٹن کی موجودی میں تمھارا یہ گلہ بے جا ہے ؟“
”کاغذ دستخط کراتے وقت تمھارااس سے فاصلہ کتنا ہوگا؟“
”وہ اس کرسی پر بیٹھا ہو گا اور میں اس کے بائیں طرف والی کرسی پر بیٹھی ہوں گی ؟“اس نے دواکٹھی پڑی کرسیوں کی نشان دہی کی ۔
میں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا۔”مناسب ہو گا کہ تم بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو کر ا س سے دستخط لینا اور بلٹ پروف جیکٹ ضرور پہننا۔“
”کیا مطلب؟“
”مطلب یہ کہ ٹانگ میںلگنے والی گولی سے موت واقع نہیں ہوتی ؟“
”مگرمجھے تو بتایا گیا ہے کہ تم بے مثال نشانہ باز ہو ؟“
”میڈم انیس سو میٹر کے فاصلے سے ایک آدمی کے سر کو نشانہ بنانا ہے اور موسم کا کوئی پتا نہیں کہ کیسا ہو ؟سب سے بڑا خطرہ ہوا کا ہوتا ہے ۔گولی کو آسانی سے دائیں بائیں لے جا سکتی ہے ۔“
”جب وہ روسٹرم سے چل کر اس کرسی تک آئے گا تو کیا اس وقت اسے نشانہ بنانا ممکن نہیں ؟“
”حرکتی ہدف کو اتنے فاصلے سے نشانہ بنانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی کہ کھڑے ہو کر اس سے دستخط لوں ؟....لیکن اگر اس نے مجھے بیٹھنے کا کہا تو یقینا میں انکار نہیں کر سکوں گی ؟“
”یہ کاغذ تمھارے بجائے کوئی اور دستخط کرانے نہیں آ سکتا ؟“
”نہیں ....اور اگر آ سکتا تب بھی میں خود ہی آتی کہ دوسری صورت میں میں شک کی زد میں آ سکتی ہوں ۔“
”تیز ہوا چلنے کی صورت میں کیا میں گولی نہ چلانے کا فیصلہ کر سکتا ہوں ؟“
جولی روزویلٹ نے سوالیہ نظروں سے کرنل سکاٹ کی طرف دیکھا ۔
”نہیں ۔“کرنل سکاٹ نے نفی میں سر ہلایا۔”یہ موقع بہت عرصے بعد ہاتھ آیا ہے ۔اور ہم تم لوگوں کو مزید یہاں روک بھی تو نہیں سکتے نا ؟“
”ٹھیک ہے ،لیکن کوشش کرنا میڈم !....ہوا اگر ہدف سے تمھاری طرف چل رہی ہو تو پھر بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہونے کو ترجیح دینا ۔“
”کوئی اور سوال ؟“کرنل جولی روز ویلٹ نے میری بات کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
”شکریہ مادام !“میں نے کہا ،جبکہ جینیفر نے نفی میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔
”ٹھیک ہے ۔تمھارے پاس ایک گھنٹے کا وقت ہے ۔یہ ساری تفصیلات ایک بار پھر اس پریزنٹیشن میں دیکھ لو ۔اس کے بعد مزید ایک گھنٹے میں تمھیں یہاں سے روانہ ہونا ہوگا؟“یہ کہہ کر کرنل سکاٹ کھڑا ہو گیا ۔کرنل جولی روز ویلٹ نے بھی اس کی تقلید کی تھی ۔ہم دونوں نے بھی اٹھ کر انھیں تعظیم دی۔وہ لیپ ٹاپ کو آن چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ان کے جانے کے بعدجینیفر مجھے اس جگہ اور ارد گرد کی عمارتوں سے واقفیت دلانے لگی ۔اس کی باتیں سن کر مجھے کرنل سکاٹ کی بات بالکل صحیح لگنے لگی تھی کہ اس مشن میں جینیفر سے اچھا ساتھی مجھے نہیں مل سکتا تھا ۔تمام پہلوو¿ں کا ایک بار پھر جائزہ لینے کے بعد ہم دونوں جانے کے لیے تیار تھے ۔
میں نے کہا ۔”میرا خیال ہے میں ایک بار اپنے ساتھی سے مل لوں ؟“
”ٹھیک ہے ؟....تم ہو آو¿ ۔“جینیفرنے اثبات میں سر ہلادیا ۔
میں وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں آیا ۔سردار ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی شکوہ کناں ہوا ۔
”آج کل نظر ہی نہیں آتے ذیشان بھائی !“
میں نے ہنستے ہوئے کہا۔”تمھاری نظر لی زونا سے دائیں بائیں ہو تو ہم نظر آئیں نا ؟خان صاحب!“
”کہہ سکتے ہو بھائی !“اس نے منہ بنا کر کہا ۔
”اچھا میں تمھیں الوداع کہنے آیا ہوں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”میں اور جینیفر بس کچھ دیر میں نیویارک روانہ ہو جائیں گے ۔“
”مجھے بھی ساتھ لے چلتے ؟“
”ہم کوئی سیر سپاٹے کے لیے نہیں جا رہے ؟“
”اسی لیے تو کہہ رہاہوں ۔“وہ پر خلوص لہجے میں بولا۔
”بس یار !....دعا کرنا ۔“میں نے اس سے الوداعی معانقہ کیا اور واپس مڑ گیا ۔
٭٭٭
جینیفر کی خوبصورت بی ایم ڈبلیو کار میں بیٹھ کر ہم نیو جرسی سے نیویارک روانہ ہو گئے ۔پونے دو گھنٹوں میں ہم نیویارک پہنچ گئے تھے ۔نومیڈ ہوٹل میں ہمارے لیے ایک کمرہ اصل ناموں سے بک تھا ۔ وہاں ہمارا حلیہ بدلنے کے لیے میک اپ کا ایک ماہر موجود تھا ۔ ہم نے اپنا حلیہ بدلی کیا اور وہاں سے باہر آ گئے ۔
جینیفر ایک نیگرو لڑکی کے روپ میں تھی ۔اس کے چہرے ، گردن اور ہاتھوں پر مخصوص کالے رنگ کی باریک جھلی ایسے چپکا دی گئی تھی کہ معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی سرخ و سفید جینیفر ہے ۔اس نے جینز کے ساتھ مکمل بازوو¿ں والی قمیص پہنی تھی یوں باقی جسم لباس میں چھپ گیا تھا ۔اس نے سر پر گھنگریالے بالوں والی وگ پہن لی تھی ۔میں خود اس وقت ایک گورے کے بہروپ میںمستور تھا ۔چونکہ انگلش پر دسترس رکھنے کے باوجود میرا لہجہ امریکنوں سے یکسر مختلف تھا اس لیے جینفر نے مجھے زیادہ بات چیت سے منع کردیا تھا ۔البتہ روزمرہ کے چند فقرے میں نے امریکنوں کے انداز میں کہنا رٹ لیے تھے۔
نومڈ ہوٹل سے فور سیزن ہوٹل تک اتنا زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ ہم ٹیکسی میں بیٹھ کرفورسیزن ہوٹل کی جانب روانہ ہو گئے ۔سہ پہر کا وقت تھا ۔رش کافی زیادہ تھا ۔یوں بھی نیویارک دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک ہے ۔پندرہ بیس منٹ میں ہم فور سیزن ہوٹل کی بلند و بالا عمارت کے سامنے تھے نیچے اتر کر جینیفرنے کرایہ ادا کیا اور ہم اندر کی طرف بڑھ گئے ۔استقبالیہ پر بیٹھی لڑکی کو جینیفر خود مخاطب ہوئی تھی ۔تھوڑی دیر بعد ہم لفٹ کے ذریعے بلند ہو رہے تھے ۔
کمرہ نہایت شاندار ، صاف ستھرااور ہوادار تھا ۔دروازہ اندر سے لاک کر کے ہم نے بیڈ کے نیچے سے پیک شدہ ہیوی سنائپر نکالی ۔اس کے ساتھ ایک بیگ میں سنائپنگ سے متعلقہ سامان یعنی دوربین ،لیزر رینج فائنڈر،ونڈ میٹر وغیرہ بھی موجود تھا ۔
سامان واپس رکھ کر ہم سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر پہنچے اندھیرا گہرا ہو گیا تھا ۔نیچے جھانکنے پر روشنیوں کا سیلاب نظر آ رہا تھا ۔لیکن کتنی زیادہ بھی روشنی کیوں نہ ہوتی؟ ہدف کاتفصیلی جائزہ لینا ممکن نہیں تھا ۔البتہ اگلے دن کے لیے ہم نے اپنے بیٹھنے کی جگہ کا چناو¿ کر لیا تھا ۔تھوڑی دیر چھت پر گزار کر ہم نیچے اتر آئے ۔
کھانا ہم نے روم سروس کے ذریعے کمرے ہی میں منگوا لیا تھا ۔چونکہ ہوٹل میں مسلمانوں کے لیے حلال کھانا دستیاب تھا اس لیے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی ۔کھانا کھا کر ہم نے تھوڑی دیر کل کی کارروائی پر بات چیت کی اور پھر سونے کے لیے لیٹ گئے ۔مجھے اس کی عادت کا پتا تھا اس لیے میں نے اس کے ساتھ بستر پر لیٹنے سے گریز کیا تھا ۔مجھے صوفے پر لیٹتا دیکھ کر وہ بس مجھے گھور کر رہ گئی تھی ۔صبح سویرے اٹھ کر ہم سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر پہنچے اور وہاں ہیوی سنائپر اور دوسرا سامان چھپا کر رکھ دیا ۔ پھر نیچے آ کر ناشتا کرنے لگے ۔
کافی کا سپ لیتے ہوئے وہ سرسری لہجے میں بولی ۔”مشن کی تکمیل کے بعد ہم نے فوراََ یہ ہوٹل چھوڑنا ہے نا؟“
”جی !....طے تو یہی ہوا تھا؟“
”اگر اس وقت میں حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کر دیتی ہوں تو تم بحث میں نہ الجھنا ،بس میں جو کہوں خاموشی سے اس پر عمل کرنا ۔“
”کیا مطلب ؟“
”مطلب کو چھوڑو....تمھیں یہاں سے بہ خیریت واپس لے جانا میری ذمہ داری ہے اور براہ مہربانی چوں چراں کیے بغیر میری ہدایات پر عمل کرتے رہنا ۔“
”جو کچھ کرنا ہے ،ہم اس پر کافی تفصیل سے بحث کر چکے ہیں ؟پھر تمھاری اس بات سے میں کیا نتیجہ اخذ کروں ؟“میں نے جھلا کر کہا ۔
”یہی کہ میں تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی ۔“میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ ایک عزم سے بولی ۔
اس وقت مجھے اس کی آنکھوں میں سوائے سچائی کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا یا شاید وہ اتنی اچھی اداکاری کر رہی تھی کہ مجھے اس کا اصل چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔میں نے خاموشی سے سر جھکا لیا ۔
نو بجے کے قریب ہم اوپر پہنچے ،ہوٹل سیکورٹی کی وردی میں ایک آدمی جینیفر نے چھت کے دروازے پر متعین کر دیا تھا تاکہ ہمیں کوئی ڈسٹرب نہ کرسکے ۔ہمارا کام پورا ہوتے ہی اس نے وہاں سے رفو چکرہو جانا تھا ۔اس کی موجودی میں ہم دونوں بے فکر ہو کر اپنا کام کرسکتے تھے ۔دن کی روشنی ہمیں مطلوبہ عمارت آسانی سے نظر آ رہی تھی ۔دوربین کی مدد سے میں نے اس عمارت کا اچھی طرح جائزہ لیا ۔ تقریب کے لیے وہاں کرسیاں اور روسٹرم وغیرہ رکھ دیا گیا تھا ۔چھاتی تک تو ہدف نے روسٹرم کے پیچھے چھپ جانا تھا اس سے اوپر بلٹ پروف شیشہ لگا تھا ۔
جینیفرکو موبائل فون پرکارروائی میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کاپیغام موصول ہوا کہ برین ویلز نے اپنی تقریر کے بعد کاغذ دستخط کرنے تھے اور اس کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب دینا تھا ۔میںنے اس عمارت کے گرد موجود اونچی عمارتوں پرسرکاری اہلکار گھومتے دیکھے ۔عمارت کو بھی پولیس کی تیز رفتار کاروں نے گھیرا ہوا تھا ۔جولی روزویلٹ نےجتنی کرسیاں پریزنٹیشن میں دکھائی تھیں اتنی ہی کرسیاں وہاں رکھی ہوئی تھیں ۔
جینیفررائفل کو بکس سے نکال کر سیٹ کرنے لگی ۔میں بھی نیچے بیٹھ کر اس کا ہاتھ بٹانے لگا ۔ رائفل کو جوڑ کر میں نے مطلوبہ کرسی پر فکس کردیا ۔جینیفرنے لیزر رینج فائینڈر سے کرسی کا فاصلہ ناپا۔اٹھارہ سو نوے میٹر فاصلہ بنا تھا ۔ایلیویشن ناپ پر مطلوبہ رینج لگا کر میں رائفل کے پیچھے لیٹ گیا ۔
جینیفرنے ونڈ میٹر،بلاسٹک کیلکولیٹر اور فائرنگ ٹیبل بیگ سے باہر نکال لیے تھے ۔یہ فائرنگ ٹیبل ہم نے مشق کے ذریعے ترتیب دیا تھا ۔ویسے تو فائرنگ ٹیبل ہر رائفل کے ساتھ بھی دستیاب ہوتا ہے مگر مختلف کمپنیوں کے بنائے ہوئے ایمونشن میں فرق ہوتا ہے۔درجہ حرارت اور ہوا میں موجود نمی وغیرہ بھی ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتی ۔جبکہ ان چیزوں کا فائر پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے ۔اگر بہ نظرِ انصاف دیکھا جائے تو سنائپر رائفل سے نشانہ بازی کسی سائنس سے کم نہیں ہوتی۔البتہ عام نشانے بازی میں ان سب باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
میں نے پوچھا ۔”میگزین میں گولیاں بھردی ہیں ؟“
”بھر دیتی ہوں ۔“اس نے میگزین اتار کر بیگ سے دوگولیاں نکالیں اور میگزین میں ڈال کر میگزین دوبارہ رائفل سے جوڑ دی ۔دونوں گولیوں پر کسی بھی قسم کی لکھائی اور نشان وغیرہ لگا ہوا نہیں تھا ۔
”دو ہی گولیاں ملی ہیں ۔“کہہ کر وہ ونڈ میٹر سے ہوا کی رفتار ماپنے لگی ۔رفتار ماپ کر اس نے فائرنگ ٹیبل کی مدد سے مطلوبہ ڈیفلیکشن مجھے بتا دی ۔
ابھی تک ٹھہرو،ہوا کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ رک جائے یا تیز ہو جائے ۔جس وقت ہدف روسٹرم چھوڑ کر کرسی کی جانب حرکت کرے گا اس وقت تم نے ہوا کی رفتار معلوم کر کے مطلوبہ ڈیفلیکشن بتانا ہوگی۔“
”ٹھیک ہے ۔“کہہ کر اس نے دوربین اٹھائی اور میرے ساتھ ہی الٹی لیٹ کر دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگی ۔میں یہ کام ٹیلی سکوپ سائیٹ کی مدد سے کر رہا تھا ۔
”ویسے ایمونیشن معیاری تو ہے نا ؟“ایک اندیشہ میرے ذہن میںکلبلایا اور میں نے جینیفر کے گوش گزار کر دیا ۔
”یہ بالکل وہی ایمونیشن ہے جس سے کہ تم مشق کرتے رہے ہو ؟....بس کیس اور بلٹ پر کوئی نشان وغیرہ نہیں ہے ۔“اس کے جواب پر میں نے اطمینان سے سر ہلادیا تھا ۔قارئین کی معلومات کے لیے لکھتا چلوں کہ ہر سنائپر رائفل کا ایمونیشن مختلف کمپنیاں بناتی ہیں اور ہر کمپنی ایک مخصوص گرین بارود کیس میں بھرتی ہے ۔(گرین ،گولی میں بارود کی مقدار ناپنے کا پیمانہ ہے )
انتظار کے لمحات طویل ہونے کے باوجود بیت جایا کرتے ہیں ۔آخر وہ وقت آہی گیا ۔ برین ویلز اندرونی عمارت سے محافظوں کے نرغے میں برآمد ہوا ۔اور سیدھا روسٹرم کے پیچھے آ کر رک گیا ۔دو محافظ اس کے دائیں بائیں اور تین پیچھے کھڑے ہو گئے تھے ۔جینیفرمسلسل رنگ بدلتی ہوا کو ونڈ میٹر سے ماپ رہی تھی ۔اور پھر جونھی برین ویلز روسٹرم کو چھوڑ کر کرسی پر بیٹھی کرنل جولی روز ویلٹ کی جانب بڑھی ،جینیفرنے فوراََ مطلوبہ ڈیفلیکشن معلوم کر کے سائیٹ پر لگانے لگی ۔میں نے اعصاب کو پرسکون کر کے کرسی کا نشانہ سادھ لیا تھا ۔برین ویلز جونھی قریب پہنچا کرنل جولی روز ویلٹ کھڑی ہو گئی ۔اور پھر شاید اس نے اسے بیٹھنے کو کہا تھا کہ وہ اس کے سامنے فائل دھرتی ہوئی بیٹھ گئی تھی ۔ہوا نارمل ہی تھی لیکن پھر بھی کونل جولی روزویلٹ کے دل میں خوف کی موجودی یقینی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ جو شخص اس کے اتنے قریب بیٹھا ہے اس نے گولی کا نشانہ بننا ہے اور نشانہ باز کی ہلکی سے غلطی سے وہ گولی برین ویلز کے بجائے اس کے سر میں پیوست ہو سکتی تھی ۔
گہرا سانس لے کر میں نے نشانہ سادھ لیا ۔جینیفرنے بھی آنکھوں سے دوربین لگاتے ہوئے مجھے دھیمے لفظوں میں تسلی دینا شروع کر دی تھی ۔
”ذی !....تم یہ کر سکتے ہو ؟تمھارے لیے یہ بالکل مشکل نہیں ہے ؟اطمینان سے ٹریگر دبانا کہ ہمارے پاس بس ایک ہی گولی فائر کرنے کا موقع ہے ۔ہلکی ہوا دائیں سے بائیں چل رہی تھی ۔جینیفر کے ڈیفلیکشن لگانے کے بعد ہوا کی رفتار میں تھوڑا اضافہ ہوا تھا لیکن اب حساب کتاب کا وقت گزر چکا تھا۔ کرنل جولی روز ویلٹ بھی برین ویلز کے دائیں جانب بیٹھی ہوئی تھی ۔ہوا کی رفتار میں اضافہ جینیفر نے بھی محسوس کر لیا تھا ۔اور یہ بات مجھے بتانے میں اس نے دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ذی !.... ہوا میں تھوڑی تیز آ گئی ہے ؟“
مگر میں نے اس کی بات کا جوا ب دئیے بغیر اپنی شست تھوڑی سی دائیں طرف کر دی ۔یہ اندازہ ہر سنائپر کے ذاتی تجربے کی مرہون منت ہوتا ۔اس بارے نہ تو کوئی استاد سکھا سکتا ہے اور نہ کسی کتاب میں یہ اندازہ درج ہوتا ہے ۔اور یہی انداز ایک عام نشانے باز اور اچھے نشانے باز میں تمیز کی وجہ بنتا ہے ۔
ہدف کے سر جھکا کر دستخط کرنے تک میں منتظر رہا ۔جونھی اس نے فائل بند کر کے کرنل جولی روز ویلٹ کی سمت بڑھائی ۔اس وقت سیکنڈ بھر کے لیے ساکت ہو گیا تھا ۔ میں نے سانس روکتے ہوئے ایک دم ٹریگر کھینچ لیا ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top