خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر


ہلکے سے دھماکے کے ساتھ گولی مزل سے نکلی ۔میرے کندھے کوجانے پہچانے جھٹکے کا دباو¿ محسوس ہوا اور اس کے ساتھ جینیفر بچوں کی طرح قلقاری مارتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔
”آئی لو یو ذی !“وہ وارفتگی سے بولی ۔”تم نے کر دکھایا۔“
ٹیلی سکوپ سائیٹ میں مجھے وہاں بھگڈر مچتی ہوئی نظر آرہی تھی۔
”اٹھو ۔“میرے چہرے کو اپنے ہونٹوں کا نشانہ بنا کر وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی ۔
میں فوراََ کھڑا ہو گیا ۔رائفل اور دوسرا سامان اٹھا کر ہم فوراََ نیچے کی طرف بھاگے ۔چھت کے قریب پہلا کمرہ خالی تھا ۔اسے ماسٹر کی سے کھول کر ہم اندر داخل ہوئے ۔رائفل اور دوسرے سامان کو بیڈ کے نیچے دھکیل کر ہم سرعت سے باہر نکلے ۔سیکورٹی گارڈ کی وردی میں ملبوس ہمارا ساتھی فائر ہوتے ہی غائب ہو گیا تھا ۔
لفٹ کا انتظار کرنے کے بجائے ہم سیڑھیوں کے ذریعے نیچے اترنے لگے ۔منصوبے کے مطابق ہمیں تین چار منزل نیچے اتر کر لفٹ پکڑنی تھی ۔اڑتالیسویں منزل پر ہمیں لفٹ خالی ملی ۔پہلی منزل کے بجائے جینفر نے پانچویں منزل کا بٹن دبادیا ۔
میں نے پوچھا۔”ہم نے تو نیچے نہیں اترنا تھا ؟“
”ذی !....بالکل خاموش رہو ۔“جینیفر نے آہستہ سے مجھے جھڑکا ۔
تیز رفتار لفٹ نے ہمیں جلد ہی پانچویں منزل پر پہنچا دیا تھا ۔مجھے ساتھ لے کر وہ ایک مخصوص کمرے میں گھس گئی ۔
اندر گھستے ہی اس نے فوراََوگ اتاری ،چہرے پر چڑھا ماسک اتارا اور اصل شکل میں آ گئی ۔ ہاتھ پر چڑھے باریک کالے دستانے اتار کر اس نے میری پرواہ کیے بغیر اپنی جینز کی پتلون بھی اتار دی تھی۔ نیچے اس نے باریک انڈرویئر پہنا ہوا تھا ۔میں نے فوراََ اپنا رخ دوسری جانب موڑ لیا تھا۔
چند لمحے بعد اس کی آواز آئی ۔”اب تم میری جانب دیکھ سکتے ہو؟“
وہ کالی رنگ کی چست پتلون اور سفید رنگ کی شرٹ پہن چکی تھی ۔اس کے اوپر ایک کالے ہی رنگ کا کوٹ پہن کر وہ میری طرف متوجہ ہو گئی ۔
اس نے میرا ماسک اتارا۔اور وہاں پر موجود بیگ سے ایک دوسرا ماسک نکال کر مجھے پہنانے لگی ۔میرے سکن کلر کے دستانے اتار کر اس نے مجھے دوسرے دستانے پہنا دیے۔اور ایک دوسرا لباس نکال کر اس نے مجھے لباس بدلنے کا کہا ۔اسی وقت درازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔
مجھے سائیڈ پر ہونے کا اشارہ کر کے اس نے آگے بڑھ کر دروازے میں لگے مخصوص سوراخ سے باہر جھانکا اور پھر مطمئن ہو کر دروازہ کھول دیا ۔
اندر داخل ہونے والی شخصیت دیکھ کر مجھے حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔کیونکہ وہ بھی جینیفر ہی تھی ۔ بالکل اسی حلیے میں جس میں اصل جینیفر کھڑی تھی ۔
”ذی!....اس کی باتوں پر عمل کرنا ۔“میرے قریب ہو کر اس نے ایک بار پھر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور سرعت سے باہر نکل گئی ۔
”شاید تم لباس بدلی کر رہے تھے ؟“اس کا لہجہ جینیفر سے بہت مماثل تھا ۔
میں نے اثبات میں سر ہلا نے پر اکتفا کیا تھا۔یوں بھی میں کافی الجھ گیا تھا کہ وہ سارا ڈراما میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔
”تم یہیں بدلی کر لو۔میں ڈریسنگ روم میں چلی جاتی ہوں ۔“بیڈ پر رکھا بیگ اٹھا کر وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی ۔میں نے بھی جلدی جلدی لباس بدلی کر لیا ۔
جب وہ ڈریسنگ روم سے نکل تو اس کی شکل بالکل بدلی ہوئی تھی ۔جینیفر کے بال سنہری تھے ۔ جبکہ اس لڑکی کے بال کالے اور بالکل لڑکوں کے انداز میں ترشے ہوئے تھے ۔
میرا لباس اور باقی کا سامان اس نے کالے رنگ کے بیگ میں منتقل کیا اور بیگ کندھے سے لٹکاتے ہوئے بولی ۔
”یہیں رہنا ۔کہیں جانے کی کوشش نہیں کرنی ؟“
”تم کہاں جا رہی ہو ؟“
”میں یہ سامان ٹھکانے لگا دوں ؟“
میں نے پوچھا ۔”واپس آ و¿ گی ؟“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سر ہلایااور باہر نکل گئی ۔
میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔کبھی سوچتا کہ مجھے جینیفر پر اعتبار کرنا چاہیے کہ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اور کبھی یہ خیال آتا کہ میں کسی بڑی سازش کا شکار بن گیا ہوں ۔
کافی دیر تک میں شش و پنج میں مبتلا رہا اور آخر میں خود کو جینیفر کے رحم و کرم پر چھوڑںے کا فیصلہ کر لیا ۔
جینیفرکو گئے ہوئے دو گھنٹے ہونے والے تھے ۔اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔میں نے مخصوص سوراخ سے جھانک کر دیکھا ۔کالے رنگ کے سوٹ میں ملبوس دو آدمی نظر آئے ۔میں نے دروازہ کھول دیا کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ۔اور جینیفر نے بھی اس بارے کوئی ہدایت نہیں دی تھی ۔
دروازہ کھلتے ہی وہ دونوں اندر داخل ہوئے ۔اور آتے ساتھ مجھ سے نام پوچھا ۔
”سٹیفن۔“میرے ذہن میں جو پہلا نام آیا میں نے اگل دیا ۔
اس کا اگلا سوال شناختی کارڈ کے متعلق تھا جس کا جواب میرے پاس نہیں تھا ۔مجھے خاموش پا کر ایک نے جیب میں ہاتھ ڈال کر پستول نکال کر مجھے حکم دیا ۔
”ہاتھ اوپر ۔“ہاتھ اوپر کرتے ہوئے میرے دماغ میں سوچ ابھری کہ بس ابھی پھنس گیا ہوں۔
اسی وقت جینیفر اسی طرح کے لباس میں ملبوس دو آدمیوں کے ساتھ نمودار ہوئی جنھوں نے تین آدمیوں کو ہتھکڑی لگا کر پکڑا ہوا تھا ۔
”کیپٹن !....اس کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں ہے ۔“
”گرفتار کر لو۔“جینیفر کی آنکھوں میں مجھے شناسائی کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آئی تھی ۔
میرا شک یقین میں بدل گیا تھا کہ میں ایک بہت بڑی سازش کا شکار ہو چکا تھا۔
”مم....مگر میں ........“میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولنا چاہا۔
”ہیڈکواٹر جا کر بات کرنا ۔“میری بات سنے بغیر اس نے سختی سے میرے بازو پشت کی جانب موڑتے ہوئے ہتھکڑی لگا دی ۔جینیفرپیچھے مڑ کر باہر نکل گئی تھی ۔ہم چاروں کو دھکیلتے ہوئے وہ باہر لائے اور کالے شیشوں والی ایک ویگن میں بٹھا کر انھوں نے ہمارے سروں پر کالے رنگ کے نقاب چڑھائے اوراس کا دروازہ باہر سے تالا کر دیا ۔
میں جینیفرپر اعتبار کر کے بری طرح پھنس گیا تھا ۔ویگن سٹارٹ ہو کر آگے بڑھ گئی ۔مجھے معلوم تھا کہ وہاں جاتے ہی جب میک آپ اترتا اور میرا اصل چہرہ سامنے آتا تو مجھے الیکٹرک چیئر پر بیٹھنے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔اور اس کے ساتھ جو پاکستان اور مسلمانوں کی بدنامی ہونی تھی وہ ایک علاحد ہ پریشانی تھی ۔میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ ساری بات بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے بتا دوں گا ۔
”اگر میں نے فوراََ ہوٹل سے نکلنے کی کوشش کی ہوتی تو یقینا بچ جاتا؟“ایک حسرت بھری سوچ میرے ذہن میں ابھری ۔اور میں سر جھٹک کر رہ گیا ۔جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا میں کئی بار جینیفر کے ہاتھوں دھوکا کھانے کے باوجود ایک مرتبہ پھر اس پر اعتبار کر بیٹھا تھا۔کہتے ہیں مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا لیکن میں نے تیسری مرتبہ اس سے دھوکا کھا یاتھا۔اور اس کے بعدمزید یوں بھی گنجائش نہیں رہی تھی کہ اب میرے بچنے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں رہا تھا ۔میں حقیقت بتا کر بھی اپنی جان نہیں بچا سکتا تھا۔بلکہ یہ بھی ممکن تھا کہ کرنل سکاٹ پارٹی مجھے حقیقت بتانے کے قابل ہی نہ چھوڑتے اور اس سے پہلے ہی میرا اگلے جہاں کا ٹکٹ کٹا دیتے ۔
ویگن ایک جھٹکے سے رکی اور میں اذیت بھری سوچوں سے حال کی جانب پلٹا ۔
”سٹیفن !....باہر آو¿؟“میں گرفتار ہوتے وقت جو نقلی نام بتایا تھا اسی سے مجھے پکارا گیا ۔
میں جھکے جھکے اٹھا۔دروازے کے قریب کھڑے کسی آدمی نے مجھے بازوو¿ں سے پکڑ کر نیچے اترنے میں مدد دی اور میرے نیچے اترتے ہی اس نے میرے ہاتھوں سے ہتھکڑی کھول دی ۔لیکن اس نے میرے چہرے سے کالے رنگ کا کپڑا نہیں ہٹایا تھا ۔ازخود میں نے بھی کپڑا اتارنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔میرے کانوں میں ویگن کے آگے بڑھنے کی آواز آئی ۔اسی وقت کسی نے میرے سر سے نقاب کھینچا۔ میری آنکھوں کے سامنے جو پہلا منظر ابھرا وہ سنہری بالوں والی خوب صورت اور دلکش جینیفر کا تھا وہ مسکرا رہی تھی ۔ہاتھ میں پکڑا نقاب اس نے دور پھینک دیا تھا ۔
کالی ویگن دور جا رہی تھی ۔ہم اس وقت ایک ویران سے کوچے میں موجود تھے ۔
”ی ....یہ ....کیا ہے ؟“میں ہکلایا۔
وہ شوخی سے بولی ۔”کہا تھا نا؟....اپنی جینی پر اعتبار کرو ۔“یہ کہہ کر اس نے میرے چہرے سے ماسک نوچ کر پرے پھینکا اور وارفتگی سے لپٹ گئی ۔
”جینی !....کیا مذاق ہے ؟....کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا ؟“
اس نے قہقہہ لگایا۔”یہ بھلا کیا بات ہوئی کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا ۔جناب یہ پاکستان نہیں نیو یارک ہے ؟“
”پھر بھی ۔“میں نے نرمی سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑاتے ہوئے پوچھا۔”بتاو¿ نا ؟ کیا معاملہ ہے ؟“
”چلو ہوٹل چل کر بتاو¿ں گی ؟“وہ میری حرکت کا برا مناتے بغیر بولی ۔میں اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس کی معیت میں چل پڑا۔تھوڑی دیر بعد ہم مصروف شاہراہ پر نکل آئے تھے ۔چونکہ وہاں سے نومیڈ ہوٹل نزدیک ہی تھا اس لیے ہم نے ٹیکسی میں بیٹھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
کمرے میں جا کر وہ پرتکلف کھانے کا آرڈر دے کر وہ واش روم کا رخ کرتے ہوئے وہ شوخ لہجے میں بولی ۔
”ذی !....نہانا ہے تو آجاو¿؟“
”شکریہ میں بعد میں نہالوں گا ۔“میں نے منہ بنا کر کہا ۔اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔
اس کے انداز سے مجھے لگ رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہے ۔شایدیہ برین ویلزکو کامیابی سے ٹھکانے لگانے کی خوشی تھی ۔
اس کے واش روم سے باہر نکلتے ہی میں اندرجانے لگا ۔
وہ میرے قریب رک کر بولی ۔
”اندر نیا سوٹ لٹکا ہوا ہے ۔نہا کر پہن لینا۔“
اور میں سر ہلا کر اندر گھس گیا ۔میرے نہا کر باہر آنے تک کھانا آ چکا تھا ۔میری وجہ سے اسے بھی حلال کھانا پڑ رہا تھا ۔
”اب پوچھو تمھارے ذہن میں کون سے سوالات آ رہے ہیں ؟“وہ چھری کانٹا سنبھالتے ہوئے مستفسر ہوئی ۔
”ہم نے منصوبے کے مطابق کیوں کارروائی نہیں کی ؟“
”کیونکہ میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی تھی ۔“
”کیا مطلب ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب یہ ہے میری جان !....کہ جب تم نیچے پہنچ کر ہوٹل سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ؟ اس وقت تک درجنوں سرکاری اہلکاروں نے وہاں پر پہنچ کرہوٹل سے کسی کے بھی باہر جانے کو ناممکن بنا دیا تھا ۔اور جو لوگ بھی باہر جانے کی کوشش میں تھے وہ تمام اس وقت تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں ۔“
میں نے تلخی سے پوچھا ۔”کیا منصوبہ بناتے وقت یہ پہلو تم لوگوں کی نظر سے اوجھل تھا ؟“
”نہیں ۔کرنل سکاٹ اور کرنل جولی روز ویلٹ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے ۔اس لیے انھوں نے حکم دے دیا تھا کہ اگر تم کامیابی سے فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو تمھیں قتل کر دیا جائے ؟ میںنے بہ ظاہر تو حامی بھر لی لیکن اس کے ساتھ تمھیں بچانے کا تہیہ بھی کر لیا تھا ۔میں نے خود سی آئی اے کے اہلکار کی صورت میں ہوٹل کی تلاشی لینی تھی اور اسی صورت میں میں خود کو شک کے نرغے میں آنے سے بچا سکتی تھی ۔یہ بات کرنل سکاٹ وغیرہ نے پہلے سے طے کر دی تھی کہ لزا کو میرا ہم شکل بنا کر ہوٹل میں داخل کیا جائے گا اور ہوٹل میں داخل ہو کروہ اپنے اصل روپ میں آجاتی اور میں اس کی جگہ لے لیتی ۔ ہم دونوں نے چونکہ لفٹ سے نکلتے ہی علاحدہ علاحدہ ہو جانا تھا اس لیے آگے تمھاری اپنی صواب دید تھی ۔مگر میں جانتی تھی کہ تمھارا بچ نکلنا مشکل ہو جائے گا اس لیے میں نے منصوبے میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی ۔اور دیکھ لو تمھیں مکھن سے بال کی طرح نکال کر لے آئی ؟“
”مطلب کرنل سکاٹ اور جولی نے مجھے دھوکے میں رکھا ؟“
وہ صاف گوئی سے بولی ۔”سب سے پہلے ہر آدمی کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں ؟“
”تم کل رات یا آج صبح کو بھی یہ سب کچھ بتا سکتی تھیں ؟“
”اگر فائر سے پہلے بتاتی تو شاید تم صحیح طریقے سے فائر نہ کر پاتے اور اس کے بعد وقت ہی نہیں تھا بتانے کا....البتہ اس کے متعلق صبح ناشتے پر میں نے اشارہ کر دیاتھا ؟“
”تم نے میرے لیے اتنی تگ و دو کیوں کی ؟“
میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ افسردہ لہجے میں بولی ۔”کیا تم نہیں جانتے ؟“
”ویسے سچ کہوں تو میں تم پر اعتبار کر کے بہت پچھتا رہا تھا۔“
”جانتی ہوں ....تم نے کبھی مجھے اعتبار کے قابل سمجھا ہی نہیں ؟“
”میری جگہ پرتم خود کو رکھ کر سوچو؟“
”میں کئی بار صفائی دے چکی ہوں کہ میرا تمھاری جانب مائل ہونا کسی مقصد کے مرہون منت نہیں تھا۔بلکہ تمھاری نشانہ بازی کی صلاحیت سامنے آنے کے بعد بھی کسی کے دماغ میں یہ منصوبہ نہیں آیا تھا ۔البتہ جس وقت برین ویلز کا یہ صحافیوں کے ساتھ سوال و جواب کا پروگرام کرنل جولی روز ویلٹ کے علم میں آیا اس وقت کسی ایسے سنائپر کی ضرورت محسوس ہوئی ۔اور اس نے کرنل سکاٹ تک یہ بات پہنچائی۔ کرنل سکاٹ چونکہ مجھے بہ طور ایک اچھے سنائپر کے پہچانتا ہے اس لیے اس نے مجھ سے مشورہ لیا ۔ مگر میں نے پندرہ سو میٹر سے زیاد ہ فاصلے پر نشانہ لگانے سے معذوری ظاہر کی ۔تب اس نے میجر جیمس میتھونی سے بات کی ۔اور میجر جیمس میتھونی کے واسطے سے تمھارا نام اس کے کانوں تک پہنچا ۔کرنل سکاٹ نے تمھیں راضی کرنے کی ذمہ داری فوراََ مجھے مجھے سونپ دی ۔اور میری پسندیدگی فرض کی لپیٹ میں آ گئی ۔میں تمھیں اصل بات بتانے کی حالت میں نہیں تھی ۔اسی طرح میرے سینئرز بھی ابھی تک میرے ان جذبات سے واقف نہیںہیں جو میرے دل میں تمھارے لیے پنہاں ہیں ۔البتہ میری آج کی کارروائی کے بعد انھیں اصل بات کی تہہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی ۔شاید تھوڑی بہت باز پرس بھی ہو ۔مگر مشن خوش اسلوبی سے پورا ہونے کی خوشی میں بات زبانی کلامی سرزنش سے آگے نہیں بڑھے گی ؟“
”پندرہ سو میٹر سے برین ویلز کو نشانہ بنانے میں کیا قباحت تھی ؟“
”پندرہ سو میٹر کے دائرے میں آنے والی عمارتوں پر اگر سرکاری اہلکار تعینات نہ کیے جاتے توسیکورٹی آفیسر شک کی زد میں آ جاتا۔اب یہ ہوٹل تو قریباََ دو کلومیٹر دور تھا ۔یہاں سرکاری عملہ تعینات نہ کرنے کا مضبوط جواز تو موجود ہے نا؟“
کھانا کھانے کے بعد ہم نے چاے بھی وہیں منگوا کر پینے لگے ۔اس دوران جینیفرنے ٹی وی آن کر دیا ۔برین ویلز کے قتل کی خبر اب تک بریکنگ نیوز کے طور پر چل رہی تھی ۔اور اس کے قتل کے پیچھے اصل محرک ڈھونڈنے کے لیے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں ۔مستقبل قریب میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو بھی اس قتل کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا ۔تحقیقات کرنے والوں کی رسائی اس وقت تک ہیوی سنائپر تک نہیں ہو پائی تھی البتہ ہمارے فائر کرنے کی جگہ تلاشنے میں انھیں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔برین ویلز کے آدھے اڑے ہوئے چہرے کی تصویر بھی سکرین کے ایک کونے میں نظر آ رہی تھی ۔وہ چونکہ دستخط کرتے وقت کئی کیمروں کی زد میں تھا اس لیے اسے گولی لگنے کی فلم بہت صاف بنی تھی ۔اس کا کرنل جولی روز ویلٹ کی طرف فائل کا بڑھانا اور پھر مسکراتے ہوئے کچھ کہنااور اسی لمحے اس کے چہرے کے ٹکڑوں کا ہوا میں اڑنا اور اس کا اچھل کر پیچھے گر کر تڑپنے لگ جانا۔یہ دو تین سیکنڈز کے اندر برپا ہوا تھا ۔
”ویسے کیا تمھیں بھی اصل وجہ معلوم نہیں ہے ؟“میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا ۔
”برین ویلز کا واضح جھکاو¿ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف تھا اورشاید اس کی زندگی مسٹر جارج ڈبلیو بش کے دوبارہ صدر بننے میں رکاوٹ بنتی ؟“اس نے گول مول انداز میں اصل بات اگل د ی ۔ بیس جنوری دوہزار پانچ کو جارج ڈبلیو بش کی مدت صدارت پوری ہو رہی تھی ۔میں نے اسے مزید کریدنے سے احتراز برتا کہ اس طرح کی زیادہ معلومات کبھی کبھی جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں ۔
چاے کا کپ خالی کر کے اس نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”اگر چاہو تو ہم رات یہیں گزار سکتے ہیں ؟“
میں نے روکھے لہجے میں جواب دیا ۔”شکریہ جی !....“
”ویسے باقی سنائپرز بھی آج کیمپ میں تو نہیں ہوں گے ؟“
”کیا مطلب ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا۔
”مطلب یہ کہ کل ہمارے کیمپ سے نکلتے باقی تمام کو بھی ایک دو دن باہر گزرنے کی اجازت مل گئی تھی ۔اس ضمن میں تما م کو ایک ایک ہزار ڈالر بہ طور جیب خرچ کے بھی دیا جاناتھا تاکہ وہ نیویارک یا کسی دوسرے قریبی شہر کی سیر کر سکیں ۔“
”اور یہ مہربانی کس لیے ؟“
”تاکہ کرنل سکاٹ کے پاس تمھارے کیمپ سے باہرجانے کا مضبوط جوازموجود ہو ؟.... تمھارے پکڑے جانے کی صورت میں وہ کہہ سکتا تھا کہ کیمپ سے صرف تم نہیں تمام سنائپرز باہر ہیں۔“
”ویسے بہت مکار قوم ہے تمھاری ؟....بہت دور تک سوچتے ہو ؟“میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی ۔”اب تمھیں اصل بات بتا دی تو تم طنز کرنے لگے ۔اور پلیز کرنل سکاٹ یا میڈم جولی کے سامنے ایسا کچھ نہ کہہ دینا ؟....وہ کبھی بھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی حقیقت تم پر ظاہر ہو ؟“
”میرا خیال ہے ہمیں چلنا چاہیے ؟“
”اب تو ایسی کوئی بات نہیں کہ تمھیں مجھ سے بھاگنے کی ضرورت پڑے ؟“
میں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”پہلے ایسی کون سی بات تھی ؟“
”نن ....نہیں ....میرا مطلب ہے اب تو تم آزاد ہو نا ؟تم نے اپنا مشن پورا کر لیا ہے ؟“وہ گڑبڑا گئی تھی ۔
”کیپٹن جینیفر !....میں جانتا ہوں کہ تم نے پہلے پہل جو مجھے اس قسم کی آفر کی تھی اس کے پسِ پردہ مجھے بلیک میل کرنے کا ارادہ کار فرما تھا۔اور اسی وجہ سے تم مجھے اس فارم ہاو¿س پر لے گئی تھیں.... کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟“
”تم صحیح کہہ رہے ہو ؟اور ہمیں چلنا چاہیے ؟“وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔میں بھی ہونٹوں پر تبسم سجائے اس کے پیچھے ہو لیا ۔اس کی خاموشی ظاہر کر رہی تھی کہ میرا اندازہ بالکل درست تھا۔
٭٭٭
واپسی کے سفر میں جینیفر بہت خوش تھی ۔ اسے اس کارنامے پر ترقی ملنے کی بھی امید تھی۔
”ویسے شادی وغیرہ کے متعلق کچھ نہیں سوچا ؟“میں نے مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔
”فی الحال تو بالکل نہیں ۔“وہ صاف گوئی سے بولی ۔”ابھی تو زندگی انجوائے کرنے کے دن ہیں ۔ابھی سے یہ بیڑیاں پہن لوں ؟“
”تمھارے لیے زندگی انجوائے کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ بندہ جنسی بے راہروی کا شکار ہو جائے ۔حالانکہ شادی بھی اسی انجوامنٹ کا نام ہے ۔بس فرق یہ ہے کہ اس صورت میں صرف ایک مرد میسر ہوتا ہے اور اور وہ شغل باعث گناہ بھی نہیں ہوتا؟“
”ذی !....کیا میں تمھیں اتنی گھٹیا اور بے راہرو لگتی ہوں ؟....“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی ۔”تمھیں آفر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں سہل الحصول ہوں ۔اگر ایسا ہوتا تو سنائپر کورس پر آنے والے کم از کم خوب صورت مردوں کے ساتھ میں تعلق رکھ چکی ہوتی ؟....مگر میں تمھیں چیلنج کرتی ہوں کہ کوئی ایک مرد ایسا لے آو¿ جو یہ دعوا کر سکے کہ اس نے جینیفر کو حاصل کر لیا ہے ؟“
”پھر انجواے منٹ اور شادی نہ کرنے سے کیا مراد ؟“
”شادی کے بعد عورت واقعی بندھ جاتی ہے ؟آزادی کی زندگی بسر نہیں کر سکتی ۔“
”ایسا صرف ہمارے ہاں ہوتا ہے ؟“
”ذی !....ایک سچ بولوں ؟“اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔
”سچ ہی تو سننا چاہتا ہوں ؟“
”میں شروع دن سے جانتی ہوں کہ تم میرے ساتھ جسمانی تعلق نہیں رکھو گے ؟....اس لیے جتنی بار بھی میں نے تمھیں دعوت دی ہے وہ صرف ڈرامے اور دکھاوے کے طور پر تھی ؟“
”اور اس دن جو فارم ہاوس پر لے جا کر اپنی پوری کوشش کی تھی وہ کیا تھا ؟“میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
”اگر تم راضی ہو جاتے توتمھیں کمرے میں لے جاتی اندھیرا کر کے واش روم میں جاتی اور وہاں ایک اور لڑکی تیار بیٹھی تھی تمھیں سنبھالنے کے لیے ؟“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”ہونہہ!....صحیح کہا۔“
اس نے پوچھا ۔”خفا ہو گئے ہو ؟“
”نہیں ....بس عورت ذات کی مکاری کے بارے سوچ رہا ہوں ؟“
”عورت کو مکار ی پر مجبور کرنے والی ذات بھی تو مرد کی ہے نا؟....“اس نے تلخ لہجے میں کہا۔ ”ایک غلط کام پرکسی مرد کو راضی کرنے کے لیے دوسرا مرد ،عورت کو استعمال کرتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی صنف کی فطرت جانتا ہے ؟.... وہ جانتا ہے کہ کسی معصوم عورت کو پامال کرنے کے لیے ایک مرد کتنا گر سکتاہے ؟....اگر مرد کی فطرت میں عورت کے حصول کی اتنی تمنا نہ ہوتی تو کسی کو عورت کے استعمال کی ضرورت ہی نہ پڑتی ....؟اور نہ عورت کو اپنی ذات پر جبر کر کے کسی ناپسندیدہ شخص کو اپنی چاہت کا یقین دلانا پڑتا ؟“
”سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ؟“
”ساری عورتیں بھی ایک سی نہیں ہوتیں اور معاف کرنا ایک دو مردوں کا عمل پوری برادری کی نمائندگی نہیں کر سکتا ۔یہ جاسوسی کی دنیا کا قانون ہے کہ مرد کوبلیک میل کرنے کے لیے سب سے آسان ، اہم اور تیز بہ ہدف طریقہ عورت کا استعمال ہے ۔اور ایسا مرد کی ہوس پرست طبیعت کی وجہ سے ہے؟مرد چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا اس کی فطرت ایک سی ہوتی ہے ۔“
”ہر آدمی اپنی ذات کا ذمہ دار ہوتا ہے ؟“اس کی سچی اور کھری باتوں کا اس کے علاوہ مجھے کوئی جواب نہیں سوجھا تھا ۔
”مان لیا ؟....مگر تم نے عورت ذات کو مکار کہا تو جواباََتمھیں آئینہ دکھانا پڑا ۔ورنہ تم سے مجھے کوئی گلہ نہیں ۔“
”چلو اس بہانے مجھے اپنی حیثیت کا تو پتا چل گیا کہ تم میری جانب کیوں مائل ہوئی تھیں ؟“
اس بار اس نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔میں نے لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد دوبارہ زبان کھولی ۔
”اور جہاں تک گلے کا تعلق ہے تو وہ مجھے تم سے ہونا چاہیے ؟اگر حقیقت کھنگالی جائے توپہلے دن تم جانے کیوں میرے پاس آئیں تھیں ؟یقینا اس وجہ سے کہ ہمارا ملک تمھارے ہاں کچھ زیادہ ہی بدنام ہے ؟....اور پھر مجھ سے ملتے وقت تم میری یاداشت سے متاثرہوئیں اور میری جانب دوستی کاہاتھ بڑھایا۔یہ دوستی شاید برقرار رہتی اگر میں روس اور چائنہ کا ذکر کر کے تمھارے پیارے اور عظیم ملک امریکہ کی شان میں گستاخی کا مرتکب نہ ہوتا؟....اس کے بعد تمھارے دل میں دبی نفرت ابھر کر سامنے آئی اور اس نفرت کے اظہار کے لیے تم انڈین سنائپرز کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے لگیں،مجھے تحقیر اور حقارت کا نشانہ بنانے لگیں اور پھر بد قسمتی سے میری نشانہ بازی کی صلاحیت سامنے آئی اور تمھیں حکم ملاکہ اس مرغے کو پھانسنا ہے پس تمھیں مجھ سے محبت کا ڈرما کھیلنا پڑا ۔سب سے پہلے تم نے مجھے اپنے جسم کی رشوت پیش کی، ناکام ہونے پر دولت کی آفر کی اور جب اس طرح بھی دال نہ گلی تو میرے اعتبار پر ڈاکا ڈالا۔دوستی اور محبت کی آڑ میں میری پیٹھ میں چھرا گھونپا ۔اب کہو گلہ میر ابنتا ہے یا تمھارا؟تم مجھے جسمانی تعلقات کی آفر کرتیں ،دولت کی رشوت دیتیں یا کچھ بھی کرتیں مگر محبت اور دوستی کا ڈراما تمھیں نہیں کھیلنا چاہیے تھا ۔اور سچ کہوں تو آج جو تم مجھے ہوٹل سے بچا کر لے آئی ہو تو ایسا کرنل سکاٹ اور کرنل جولی روز ویلٹ وغیرہ کی منشا کے مطابق ہوا ہے ۔اسی وجہ سے تم کہہ رہی تھیں کہ میں کرنل سکاٹ وغیرہ سے اس بات کا ذکر نہ کروں کہ انھوں نے میرے لیے کوئی اور آرڈر دیا تھا۔“
کچھ پینا پسند کرو گے ؟“پٹرول پمپ کے ساتھ بنی ایک ٹک شاپ کو دیکھ کر اس نے گاڑی روکتے ہوئے پوچھا ۔میری بات کا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا ۔
”ہاں ایک ٹھنڈی بوتل یقینا مجھے غصے پر قابو پانے میں مدد دے گی ۔“اور وہ سرہلاتی ہوئی دکان میں گھس گئی ۔
٭٭٭
سردار مجھے اپنے کمرے ہی میں ملا تھا۔
”ذیشان بھائی !“وہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھا تھا ۔بستر سے اٹھ کر وہ میرے گلے لگ گیا ۔
”تمھاری کامیابی کی خبر میں نے ٹی وی پر دیکھ لی تھی ۔“
”تم کہیں نہیں گئے ؟“
”دل ہی نہیں چاہ رہا تھا ۔تم میرے لیے خطرے کا سامنا کر رہے تھے ۔میں کیسے سیر سپاٹے کرتا؟“
”گویا لی زونا بے چاری کو اکیلا چھوڑ یا ؟“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”وہ بھی یہیں ہے ؟“
”تو یوں کہو نا ؟کہ یہیں پر رنگ رلیاں منا رہے تھے ؟“
”نہیں جناب !....وہ تمھاری جینیفر کی طرح آوارہ مزاج نہیں ہے ؟....وہ اور میں گپیں ہانکتے ہیں ایک دوسرے کو اپنی گزری زندگی کی کہانیاں سناتے ہیں اور بس ؟“
”یونھی جینیفر غریب پر الزام تو نہ لگاو¿ نا یار!“
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو تم مجھے تفصیلات بتاو¿ نا ؟“
” لیکن اس کے لیے تمھیں اچھی سی چاے پلانی پڑے گی ؟“
”ٹھیک ہے ۔“وہ بستر کو چھوڑ کر الیکٹرک کیتلی کی طرف بڑھ گیا ۔اور میں اسے تفصیل سے ساری کہانی سنانے لگا ۔
چاے پینے تک میں ساری تفصیل اس کے گوش گزار کر چکا تھا ۔اس کے بعد ہم سو گئے تھے ۔
اگلی صبح اٹھ بجے کے قریب ہی کرنل سکاٹ کا بلاوا آ گیا تھا ۔وہاں کرنل جولی روز ویلٹ بھی اس کے ہمرا موجود تھی ۔
”ویلڈن بوائے !“میرے اندر داخل ہوتے ہی کرنل جولی روز ویلٹ مسکراتے ہوئے کھڑی ہو ئی اور آگے بڑھ کر اس نے مجھے گلے سے لگاتے ہوئے میرے دونوں گال چوم لیے تھے۔کرنل سکاٹ نے بھی مجھے چھاتی سے لگا کر میری پیٹھ تھپکی ۔
”بیٹھو ۔“وارفتگی سے خوش آمدید کہہ کر کرنل سکاٹ نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
”شکریہ سر ۔“میں نے کرسی سنبھال لی ۔
”بہت عمدہ اور بے مثال کاکردگی کا مظاہرہ کیا ہے تم دونوں نے ۔خاص کر تمھارے کام کی تعریف تو سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہو گی ؟“
”شری کانت کیسا ہے سر ؟“میں نے گویابین السطور اس کا وعدہ یاد دلایا۔
”وہ پہلے سے بہت بہتر ہے ۔اور اسے یہ بھی پتا چل گیا ہے کہ وہ ریگن واچ کی غلطی کی وجہ سے زخمی ہوا ہے ۔آج سرکاری طور پر بھی انڈین آرمی کو معذرت کا لیٹر بھیج دیا گیا ہے ۔شری کانت کو بھی اتنی رقم مل جائے گی کہ وہ ساری زندگی ریگن واچ کو دعائیں دیتا رہے گا ۔“
”مجھے بھی یہی امید تھی ۔“میں نے متشکرانہ انداز میں کہا۔
کرنل سکاٹ نے کہا۔”کل تمھارے کورس کی اختتامی تقریب بھی ہے ۔اول پوزیشن حاصل کرنے پر بھی پیشگی مبارک ہو ؟....“
میں نے پوچھا۔”یہ پوزیشن مجھے حالیہ کارکردگی پر دی جا رہی ہے یا حقیقت میں میری یہی پوزیشن بن رہی ہے ؟“
”تم نے مجموعی طور پر اٹھانوے فیصدنمبر حاصل کیے ہیں اور سیکنڈ والے کے اسی فیصد نمبر ہیں؟“
”پھر ٹھیک ہے ؟“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”کچھ اور درکار ہو تو کہو؟“کرنل جولی روز ویلٹ نے خوش دلی سے آفر کی ۔
”شکریہ میڈم !“
”میں نے اپنی زندگی کو داو¿ پر لگا کر تمھارے نشانے پر اعتماد کیا اور شکریہ کہ تم میرے اعتماد پر پورے اترے ۔جینیفر نے تمھارے نشانے کی جتنی بھی تعریف کی تھی کچھ کم ہی تھی ۔اب مجھے تمھارے کسی بھی کام آ کر خوشی ہو گی ؟“
”اگر کوئی ایسی ضرورت پڑی تو میں یقینا اظہار کرنے میں تامّل نہیں کروں گا ؟“
”ٹھیک ہے ۔اس کے بعد شاید تم سے ملاقات نہ ہو ؟“ان دونوں نے اٹھ کر مجھے الوداع کیا اور میں واپس کمرے میں آ گیا ۔جینیفر دوپہر کے کھانے اور پر رات کے کھانے پر بھی دکھائی نہیں دی تھی ۔ میں نے بھی کسی سے معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اگلے دن تقسیم انعامات کی تقریب میں البتہ وہ نظر آ گئی تھی ۔بجھی بجھی اور مجھ سے دور دور ۔سردار نے اس کی وجہ بھی دریافت کی مگر میرے پاس اسے مطمئن کرنے کے لیے کوئی مناسب جواب موجودنہیں تھا ۔
میجر جیمس نے کورس میں تمام سنائپرز کے کی کارکردگی پر اجمالاََ روشنی ڈالی ۔اور پھر تیسری پوزیشن والے سنائپر کا نام لیا ۔وہ اسرائیلی دوشیزہ اینڈریا برٹن تھی ۔اسے سٹیج پر بلا کرمیجر جیمس نے ایک شیلڈ اور دس ہزار ڈالرکا چیک تھما دیا ۔دوسری پوزیشن کے لیے جینیفر ہنڈسلے کا نام پکارا گیا۔اسے بھی ایک شیلڈ اور بیس ہزار ڈالر کا چیک تھمایا دیا گیا ۔اول پوزیشن کے بارے مجھے پہلے سے پتا چل گیا تھا ۔مگر میں نے سردار اور لی زونا وغیرہ کو یہ بات نہیں بتائی تھی ۔اس لیے جونھی جیمس میتھونی نے اول پوزیشن لینے کے ضمن میں میرا نام لیا سردار اور لی زونا خوشی سے اچھل پڑے تھے ۔میجر جیمس نے مجھے گلے سے لگا کر چند شاندار جملے میری تعریف میں کہے اور پھر حسنِ کارکردگی کا ایک سرٹیفیکیٹ ،پچاس ہزار ڈالر کا چیک اور اول پوزیشن کی ٹرافی میرے حوالے کر دی ۔سوائے راج پال کے تمام نے میرے لیے دل کھول کر تالیاں بجائی تھیں ۔پچاس ہزار ڈالر بہت بڑی رقم تھی ۔اتنی ہی رقم کرنل سکاٹ نے مجھے برین ویلز کے قتل کے سلسلے میں آفر کی تھی ۔مجھے لگ رہا تھا کہ اتنی خطیر رقم مجھے برین ویلز کو ٹھکانے لگانے کے صلے ہی میں ملی تھی۔
اختتامی کلمات کہہ کر میجر جیمس نے ہماری اگلے دن کی فلائیٹس کا اعلان کیا اور تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔انعامی تقریب سے واپسی پر میں نے چیک میجر جیمس کے حوالے کر کے نقد رقم منگوا لی تھی۔
رات کو پر تکلف ڈنر اور اس کے بعد موسیقی کی محفل کا انعقادہوا ۔پینے پلانے کا بھی خوب اہتمام کیا گیا تھا ۔انگلش کی بے ہنگم موسیقی اوربے ہودہ شاعری سے مجھے کوئی لگاو¿ نہیں تھا۔گو میری اس بات سے اختلاف کرنے والے کثیر لوگ ہوں گے ۔مگر یہ وہ لوگ ہیں جو انگلش کی اچھی شاعری کے دلدادہ ہیں ۔آج کل کے پاپ میوزک کی وکالت یقینا وہ بھی نہیں کریں گے ؟اور بے ہودہ شاعری سے میری مراد بھی پاپ میوزک کی لچر شاعری ہی سے ہے ۔
مجھے کمرے میں آئے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ سردار لی زونا کے ہمراہ وہاں آن پہنچا ۔
”ذیشان بھائی !....آج تو ہم دونوں رات بھر گپ شپ کریں گے ؟“
”تو لی زونا کے کمرے میں بیٹھ جاتے ؟....جینیفر تو یوں بھی موسیقی سے بہرہ مند ہو رہی ہو گی؟“
”وہ تو ڈنر کے بعد ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔“لی زونا نے متبسم ہو کر کہا ۔
”چلو ٹھیک ہے ،مگراس شرط پر کہ لی زونا بہن اپنے ہاتھوں سے بہترین سے کافی بنا کر پلائے؟“
”ابھی لیں بھائی !“وہ اٹھ کر الیکٹرک کیتلی کی طرف بڑھ گئی ۔
لی زونا کافی واقعی بہت اچھی بناتی تھی ۔کافی پی کر میں نے ان کے ساتھ تھوڑی گپ شپ کی اور پھر باہر نکل آیا ۔وہ دونوں ایک دوسرے کا کافی پسند کرنے لگے تھے ۔ سردار کی شادی کے متعلق جاننے کے بعد بھی لی زونا کی پسندیدگی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا ۔میں نے سوچا کہ آخری رات انھیں تنہائی کی چند گھڑیاں اکٹھے بتانے دوں پھر تو جانے وہ کبھی مل بھی پاتے یا نہیں ۔
باہر میوزک کا اونچا شور سنائی دے رہا تھا ۔تھوڑی دیر لان میں ٹہلنے کے بعد میرے قدم غیر ارادی طور پر جینیفر کے کمرے کی طرف اٹھ گئے ۔نیویارک سے واپسی کے بعد اس نے مجھ سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔میں نے سوچا چلو اس کو تھوڑا مطعون ہی کر دوں کہ محبت کی دعوے دار مجھے الوداع کہنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کر رہی تھی ۔
دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹا کر میں اندر داخل ہوا ۔وہ نیچے قالین پر بیٹھی تھی ۔بیڈ کی سائیڈ سے ٹیک لگاکر اس نے اپنی ٹانگیں قالین پر پھیلائی ہوئی تھیں ۔ایک بڑی سی بوتل اس کے سامنے دھری تھی جبکہ ادھ بھرا گلاس اس کے ہاتھ میں تھا ۔
مجھے دیکھ کر بھی اس کے چہرے پر کوئی تاثر اجاگر نہیں ہوا تھا ۔میں بھی اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔
”آج تو عیاشی ہو رہی ہے ؟“میں نے مزاحیہ لہجے گفتگو کی ابتدا کی ۔
اس نے ایک ہلکا سا گھونٹ بھر کر پوچھا ۔”کیسے آنا ہوا ؟“
”کل واپسی ہے سوچا الوداعی ملاقات کر لوں ؟“
”ہو گئی ملاقات ۔اب تم جا سکتے ہو ؟“اس کے لہجے میں بھرپور اجنبیت در آئی تھی ۔
”جینی !....کیا ہو گیا ہے تمھیں ؟....کہا ں تو اتنی چاہت کے دعوے اور کہاں اتنی بے زاری کہ دو گھڑی کی گفتگو بھی گوارا نہیں ؟“
”ہاں نہیں ہے گوارا تو ؟....اور تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرا نام کیپٹن جینیفر ہنڈسلے ہے ۔جینی نہیں ؟“
میں نے ہنس کر کہا ۔”اتنا لمبا نام تو خیر میں نہیں لے سکتا ؟“
”کیوں نہیں لے سکتے ہاں ....؟تم چیز کیا ہو ؟....ایک تھرڈ کلاس پاکی فوجی ،ایک سپاہی ؟تم میرا پورا نام کیوں نہیں لے سکتے ؟....سنائپر کورس میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم تمیز ہی کھو دو سینئر جونئیرکی ؟“اس کے لہجے سے صاف محسوس کیا جا سکتا تھا کہ وہ اس وقت نشے میں تھی ۔اس کی بد تمیزانہ گفتگو مجھے عجیب لگ رہی تھی۔
”جینی !....کیا ہو گیا ؟“میں نے نرم لہجے میں دریافت کیا ۔
”میں کہہ رہی ہوں پورا نام لو میرا ۔تمھاری سمجھ میں نہیں آ رہا ؟“اس نے الٹے ہاتھ سے میرا گریبان تھام کر بد تمیزی سے پوچھا ۔میں ہکا بکا رہ گیا تھا ۔
جاری ہے
 

”اچھا یہ گلاس مجھے دو۔“میں نے اس کے ہاتھ سے ادھ بھر ا گلاس لینا چاہا ۔
”بکواس کرنے کی ضرورت نہیں دفع ہو جاویہاں سے ۔“وہ غصے سے دھاڑی ۔”نفرت ہے مجھے تم سے ،تمھاری صورت اور تمھاری عادات سے۔میں کہہ رہی ہوں دفع ہو جاو. “
”ادھر میری طرف دیکھو جی!“میں نے اس کا نام مزید مختصر کرتے ہوئے اسے کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔
”چھوڑو مجھے ۔“اس نے ایک جھٹکے سے اپنے کندھے میری گرفت سے آزاد کرائے ۔
میں نے زبردستی اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر کمرے کے کونے کی طرف اچھال دیا ۔
”تمھاری یہ جرات ۔“اس نے میرا گریبان تھامنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔مگر میں نے اس کی گرفت سے اپنا گریبان چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔وہ چند لمحے گہرے گہرے سانس لیتی رہی اور پھر ایک دم میرا گریبان چھوڑ کر مجھے لپٹ گئی ساتھ ہی اس کی سسکیوں سے کمرے کی فضا گونج اٹھی تھی ۔میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسے تسلی دینے لگا ۔
تھوڑی دیر بعد مجھ سے علاحدہ ہو کر وہ آنکھیں صاف کرنے لگی ۔
”ملنے کیوں نہیں آئیں ؟“میں اس کا ہاتھ تھام کر مسکرایا۔
”.ایک دھوکے باز ،آوارہ اور فراڈی لڑکی سے یہ پوچھنا ہی فضول ہے۔“
” بے شک تمھیں دھوکے باز کہتا رہا ہوں مگر دل سے کبھی ایسا نہیں سمجھا ۔اور معاف کرنا جس کو دھوکے باز سمجھا جاتا ہے اس کی کسی بات پر یقین نہیں کیا جاتا۔کیا میں نے کبھی تمھاری کسی بات سے انحراف کیا ہے ،سوائے ایک بات کے ۔اور وہ بھی بہ قول تمھارے تم نے دل سے کبھی نہیں کہا ۔“
”جھوٹ بول رہے ہو ۔“وہ سسکی ۔
”جھوٹ کیوں ،اگر ایسا ہوتا تو میں تمھیں ملنے ہی کیوں آتا۔“
”کل اور پرسوں کیوں نہیں آئے ؟“وہ شکوہ کناں ہوئی ۔
”میں شرمندہ تھا ،کیوں کہ رستے میں تمھاری کافی بے عزتی کر چکا تھا ۔“میں نے اس کا دل رکھنے کو صریحاََ جھوٹ بولا۔
”ذی !....پلیز تم نہ جاو۔“میرے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے وہ گڑگڑائی ۔
میں ہنسا ۔”ویسے اتنی شراب نوشی اچھی نہیں ہوتی،بندہ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگتا ہے ۔“
”میں نشے میں نہیں ہوں،میں سچ کہہ رہی ہوں ذی !....تم نہ جاو میں تمھیں گرین کارڈ لے دوں گی۔کرنل سکاٹ تمھیں بہت اچھے معاوضے پر اپنے پاس رکھ لیں گے،میں وعدہ کرتی ہوں میرے جسم و جان کے بس تم ہی مالک ہو گے اور میں تمھیں یہ بھی یقین دلاسکتی ہوں کہ آج تک میں کسی مرد کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں گئی ۔“
”جی !....اگر یہ ممکن ہوتا تو میں ایک لمحے کے لیے بھی نہ ہچکچاتا،مگر سچ تو یہ ہے کہ میں مجبور ہوں ،میرے پاوں میں نہ صرف پاک آرمی کی زنجیریں ہیں بلکہ میں ایک بیوی کا شوہر اور ایک باپ کا اکلوتا سہارا بھی ہوں ۔“
”تم انھیں یہاں سے کافی ساری رقم بھجوا سکتے ہواور پاک آرمی کے ہاتھ اتنے لمبے نہیں ہیں کہ تمھیں یہاں سے گرفتار کر کے لے جائیں ۔“
”صحیح کہا ....مگر یہاں میری حیثیت کیا ہو گی ؟....ایک اجرتی قاتل کی ،کرنل سکاٹ مجھ سے سوائے اپنے دشمنوں کو قتل کرانے کے اور کیا کام لے گا ۔“
”تم کچھ بھی نہ کرنا ۔میں ہوں نا،کمانے کے لیے۔تم بس مجھے سنبھال سمیٹ کر رکھنا اور مجھے ڈھیر سارا پیار دینا ۔“
”ہاں جی !....تم ہو بھی اس قابل کہ تمھیں ڈھیر سارا پیار دیا جائے ،مگر افسوس کہ تم میری مجبوریوں کو سمجھ نہیں پا رہی ہو۔تم شاید یہ سمجھ رہی ہو کہ میں پاکستان آرمی کے خوف سے یہاں نہیں رک رہا تو یقین مانو ایسی کوئی بات نہیں۔مجھے پاکستان آرمی کا کوئی خوف نہیں ہے۔مجھے تو میرا ضمیر ملامت کرے گاکہ جس ملک نے مجھے اس مقام تک آنے میں مدد دی میں کسی قابل ہوتے ہی اس سے غداری کر بیٹھا ۔ پھر میرے والد کو فقط پیسوں کی نہیں میری دیکھ بھال اور محبت کی ضرورت ہے۔ معافی چاہتا ہوں جی !.... مگر میں تمھاری یہ آفر کو قبول نہیں کر سکتا ۔“
”ہاں ،میری آفر قبول کرو گے بھی کیسے،تم مجھ سے محبت تھوڑی کرتے ہو ۔“
”بیوقوفوں کی سی باتیں نہ کرو جینی !“میں نے اسے محبت سے جھڑکا ۔
”ذی !....میں مر جاوں گی ۔“
”کچھ نہیں ہوگا تمھیں اور اب پلیز کوئی اور بات کرو۔“
”تم تو ہو ہی سنگ دل ۔“وہ میرے قریب سے اٹھ کر الیکٹرک کیتلی کی جانب بڑھ گئی ۔ ”کافی یا چاے؟“
”جو مل جائے ۔“میں نے مسکرا کر کہا۔
”پھر کافی ٹھیک رہے گی ۔“کہہ کر اس نے کیتلی کا پلگ سوئچ میں لگا دیا ۔
کافی پینے کے بعد بھی وہ محبت کے اظہار کے ساتھ مجھے وہاں روکنے کی کوشش میں مصروف رہی ۔میں رات گئے تک اس کے ساتھ بیٹھا رہا ۔وہ بہت زیادہ خوب صورت اور پرکشش تھی ،لیکن وہ اس سے دگنی بھی حسین ہوتی تو بھی میں وہاں نہیں رک سکتا تھا ۔پاکستان آرمی سے غداری کرنا اور پھر اپنی بیوی اور باپ کو لا وارث چھوڑنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
جس وقت میں اپنے کمرے میں پہنچا تو سردار اور لی زونا کو مصروفِ گفتگو پایا۔
”میرا خیال ہے گھنٹا ڈیڑھ آرام کر لیا جائے ۔“میں نے مشورے کے انداز میں کہا ۔
”صحیح کہا بھائی !“لی زونا خوش دلی سے بولی ۔اور پھر ہم دونوں سے مصافحہ کر کے وہ باہر نکل گئی ۔
جینیفر صبح ناشتے کی میز پر ہی مجھے الوداع کہہ کر چلی گئی تھی ۔بہ قول اس کے کہ وہ مجھے جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔
لی زونا اور اس کے ساتھی کی فلائیٹ ہم سے بعد تھی ۔وہ ہمارے پاس بیٹھی گپ شپ کرتی رہی۔ہم اپنا سامان پیک کر کے باہر لان میں بیٹھے دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔باتوں باتوں میں جینیفر کا ذکر ہو ا ۔اور وہ مسکرا کر پوچھنے لگی ۔
”بھائی ایک بات کہوں خفا تو نہیں ہو گے ۔“
”بالکل بھی نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔
”کل جینیفر تمھیں کس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔“
”تمھیں کیسے پتا ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔
”کل رات کو جب میں اپنے کمرے میں لوٹی تو وہ کسی کو فون پر کہہ رہی تھی کہ ،وہ نہیں مان رہا میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔میں جان گئی کہ موضوع ِ گفتگو تمھاری ذات ہے۔“
ایک تلخی سی میرے اندر گھل گئی تھی ۔وہ گزشتا رات بھی میرے ساتھ محبت کا ڈراما کرتی رہی تھی۔ یقینا اس کے پس پردہ کرنل سکاٹ کی ہدایت ہو گی ۔اسے کرائے کا ایک ایسا قاتل چاہیے تھا کہ جس کا نشانہ بے خطا ہو اور جس کے پکڑے جانے کی صورت میں اسے کسی الزام کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔
میں آہستہ سے بولا۔”وہ مجھے روکنے کی کوشش میں تھی ۔“
”ہونہہ!....تو میرا شک درست تھا ۔“اس نے پر خیال انداز میں سر ہلایا۔
”تم نے مجھے تو یہ بات نہیں بتائی ۔“خاموش بیٹھا سردار مجھے مخاطب ہوا ۔میںنے اس کی بات پر کان دھرے بغیر لی زونا کو کہا۔”کون سا شک ؟“
”یہی کہ اس دن نیویارک میں جو اہم شخص دوکلومیٹر دور سے نشانہ بنایا گیا اس کے پسِ پردہ تمھارا ہاتھ ہے ۔“
”ہاں یہ سچ ہے۔“میں نے اعتراف کرنے میںحرج نہیں سمجھا تھا۔
”ویسے تم سے اس بے وقوفی کی توقع نہیں تھی ۔“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
”ایسا تم اس لیے کہہ رہی ہو کہ اصل بات سے ناواقف ہو۔“
”ایسی بھی کیا مجبوری آن پڑی تھی ؟“
جواباََ میں نے مختصر الفاظ میں ساری کہانی سنا دی ۔
”اور تم لوگوں نے مجھے اس بات سے بے خبر رکھا ۔اس کی شاکی نظروں کا محور سردار کی ذات تھی ۔سردار اس سے نظریں چرا کر نیچے دیکھنے لگا ۔
”اسے میں نے منع کیا تھا ۔“
”کیا مجھ پر اعتبار نہیں تھا ۔“وہ افسردہ ہو گئی تھی ۔
”نہیں ....بلکہ تم پر کوئی آنچ آتی نہیں دیکھ سکتے تھے ۔“
ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے خفگی کو دور جھٹکا۔”بہ ہرحال میں اس سلسلے میں تمھاری اچھی رہنمائی کر سکتی تھی ۔“
میں نے کہا۔”ہاں مگر انھوں نے کوئی دوسری صورت چھوڑی ہی نہیں تھی ۔“
”اے !....تم نے کیوں منہ لٹکا لیا ہے ۔“وہ سردار کی پیٹھ میں مکا مار کر ہنسی ۔”میں بھلا تم سے خفا ہو سکتی ہوں اور وہ بھی الوداع ہوتے وقت۔“
”میں معذرت خواہ ہوں ۔“سردار پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔اسی وقت مان ین لی بھی لی زونا کو ڈھونڈتا ہوا وہاں آن پہنچا ۔
”ہیلو دوستو!“کہہ کر وہ بھی وہیں بیٹھ گیا ۔ہمیں مجبوراََ موضوع گفتگو بدلنا پڑا ۔اور پھر ہمارے جانے کا وقت آن پہنچا ۔لی زونا ہماری موجودی کی پروا کیے بغیر سردار سے لپٹ کر روپڑی تھی ۔خود سردار بھی آبدیدہ ہو گیا تھا ۔
”بھول تو نہیں جاو¿ گے ؟“اس نے سسکتے ہوئے پوچھا ۔
”پتا نہیں ۔“کہہ کر سردار نے اپنا بیگ اٹھایااور ہمیں لے جانے والی کار کی جانب بڑھ گیا ۔ اب چنارے بیگم کی محبت میں دھڑکتے دل میں کسی اور کا نام بھی شامل ہو گیا تھا۔
میں نے لی زونااور مان ین لی سے مصافحہ کیا اور سردار کے پیچھے چل پڑا ۔کار میں بیٹھ کر اس نے سیٹ ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔میں اس کی کیفیت سمجھ سکتا تھا ۔موت سے نظریں ملانے والا سچا اور کھرا پٹھان اس وقت لی زونا کو دیکھنے کا حوصلہ اپنے اندر مفقود پاتا تھا۔
کار چل پڑی ۔لی زونا ہاتھ لہراتی رہی میں نے بھی کار سے ہاتھ نکال کر انھیں خدا حافظ کہا ،مگر سردار آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا ۔
٭٭٭
ہم پاکستان میں سہ پہر ڈھلے اترے تھے ۔
”اب کیا کریں ؟“سردار نے پوچھا۔”یونٹ رپورٹ کریں یاگھر کا چکر لگا لیں۔“
میں نے جواباََ کہا۔”میرا تو خیال ہے ہمارے کے گھر اتنی دور نہیں ہیں ؟تم نے مردان جانا ہے اور میں نے تلہ گنگ ۔تو کیوں ناآج کی رات گھر گزار لیں،صبح گیارہ بارہ بجے تک راولپنڈی پہنچ جانا یونٹ چلے جائیں گے ۔اور یوں بھی ہمارے اگلے چند دن انٹرویو وغیرہ ہی میں گزریں گے ۔ شاید ہفتہ ایک مزیدچھٹی ملنے میں بھی لگ جائے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“سردار بہ خوشی تیار ہو گیا ۔ہم نے اگلے دن بارہ بجے پیر ودھائی بس اڈے میں ملنے کا پروگرام طے کر کے اپنی اپنی راہ چل پڑے ۔
میرے پاس کافی بڑی رقم موجود تھی ۔میں ایر پورٹ سے ٹیکسی کرا کے صدر بازار پہنچا اور ماہین اور ابو جان کے لیے تحائف خریدنے لگا ۔شام کی آذان مجھے وہیں ہو گئی تھی ۔دوبارہ ٹیکسی کرا کے میں پیرودھائی موڑ پہنچا اورتلہ گنگ جانے والی ویگن میں بیٹھ گیا ۔رات کے نو بج رہے تھے جب میں تلہ گنگ اڈے پر اترا ۔سردیوں کا موسم تھا اس لیے ویرانی کا عالم نظر آیا۔وہا ںسے میرے گاو¿ں کا فاصلہ پانچ چھے کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھا ۔میں عموماََ پیدل ہی گھر چلا جاتا تھا ۔اس دن میں نے ایک ٹیکسی والے سے بات کی کرائے سے چار پانچ گنا زیاد ہ پیسے لے کر وہ میرے ساتھ جانے پر آمادہ ہو گیا ۔مجھے گھر کے سامنے اتار کر اس نے کرایہ وصول کیا اور واپس مڑ گیا ۔اس کے جاتے ہی میں نے دستک دینے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر پھر ابوجان کو بے آرام کرنا مجھے مناسب نہ لگا کہ دروازہ کھولنے انھی نے آنا تھا ۔بیگ کندھے سے اتار کر میں نے نیچے زمین پر رکھا اور اچھل کر دیوار پر چڑھ گیا ۔دوسری جانب آہستگی سے اتر کر میں نے دروازہ کھول کر اپنے دونوں بیگ اٹھائے اور دروزاہ کنڈی کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔صحن میں اندھیرا تھا البتہ برآمدے کے اندر جلنے والے انرجی سیور کی روشنی نے صحن میں بھی اچھا خاصا اجالا کر رکھا تھا ۔اپنے کمرے سامنے پہنچ کر میں رکا ۔دروازے کی درز سے جھلکنے والی روشنی نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔ کیونکہ ماہین لائیٹ بجھا کر سونے کی عادی تھی ۔میں دروازے پر دستک دینے ہی لگا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں ماہین کی ہنسی گونجی ۔اور پھر جواباََ ایک مردانہ آواز نے میرے کانوں میں زہر انڈیلامیں بالکل سن ہو گیا ۔اس وقت ماہین کے کمرے میں کسی غیر مرد کی موجودی ۔میرا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
قریب ہو کر میں نے دروازے سے کان لگائے ۔مرد کہہ رہا تھا۔
”اتنی جلدی تو میں جانے والا نہیں ۔“
”جانو !....تم تو سیر ہی نہیں ہوتے ۔“ماہین کی جذبات میں ڈوبی آواز سن کر تو مجھے اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا دشوار ہو گیا تھا ۔
”میری پیاری ماہی کی صورت ہی ایسی ہے کہ ساری زندگی دیکھنے سے بھی دل نہ بھرے۔“
”تو پھر کوئی کام دھندا کرو نا،تاکہ میں اس مصیبت سے طلاق لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمھاری ہو جاو¿ں ۔“
”کام دھندہ بھی کر لوں گا تھوڑا صبر تو کرو ۔“اس نے بات ختم کرتے ہوئے جانے کیا حرکت کی تھی کہ ماہین کی تیز سسکی ابھری ۔
اور پھر کسی کو تھپڑ مارنے جیسی آواز ابھری اس کے ساتھ ماہین کی آواز آئی ۔
”کتنی بار منع کیاہے کہ شرارت نہ کیا کرو ۔“
وہ کمینگی سے ہنسا ۔”تم بھی مجھے کام دھندے کا نہ کہا کرو۔“اس کی آواز مجھے جانی پہچانی لگ رہی تھی ۔
”تو کیا مجھے پانے کے لیے تم اتنا نہیں کر سکتے؟“ماہین نے ناراضی بھری آوازمیں پوچھا۔
”واہ جی واہ .... تمھیں پانے کے لیے اب مزدوری شروع کر دوں۔“‘اس نے قہقہہ لگایا اورمیں نے پہچان لیا ۔وہ اس کا چچا زاد طاہر تھا ۔جانے کتنے عرصے سے یہ کھیل کھیلا جارہا تھا ۔اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ ابوجان کو نیند کی گولیاں کھلا دیتے تھے ۔
”تو کوئی نوکری شروع کر دو۔“ماہین نے مشورہ دیا ۔
”نوکری وغیرہ تو مجھ نہیں ہونے والی البتہ کوئی کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہے ۔تم کچھ رقم کا بندوبست کر ونا ۔“
”میں کہاں سے رقم کا بندوبست کروں ،مجھے ذیشان اتنے پیسے تھوڑی دیتا ہے کہ اس سے کوئی کاروبار ہو سکے ۔“
”اتنے زیورات جو پڑے ہیں تمھارے پاس،ان کا کیا کرو گی ؟“
”ذیشان پوچھے گا نہیں کہ زیورات کہاں گئے ۔“
”کر لینا کوئی بہانہ ۔“طاہر نے کہا اور اس کے ساتھ محبت کے اظہار کی حیوانی آوازیں میرے کانوں میں پڑیں ۔
”اچھا اب جاو¿ نا ،میں اس بارے کچھ سوچتی ہوں ۔“وہ نیم رضامندی سے بولی ۔
”بس تھوڑی دیر اور ....“طاہر کی جذبات سے بوجھل آواز کوئی اور تقاضا کر رہی تھی ۔
”جانو !....تم بھی نا ۔“ماہین کی آواز میںبھی سپردگی کا عندیہ تھا ۔
اس سے زیادہ بکواس سننے کی مجھ میں تاب نہیں تھی ۔میں نے دروازے کو دھکا دیا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا ۔یوں بھی انھیں کسی کا ڈر خوف نہیں تھا کہ وہ دروازہ کنڈی کرتے ۔گھر میں موجود اکیلا بوڑھا کسی نامعلوم نشے کے زیر اثر تھا ۔میں دندناتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ مجھے دیکھ کر دونوں کا رنگ فق ہو گیا تھا ۔ماہین تو گویا کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی زندہ مثال لگ رہی تھی۔
طاہر ایک جھٹکے سے اٹھا اور جلدی جلدی کپڑے پہننے لگا ۔اسے دیکھ کر ماہیں کو بھی اپنی بے لباسی کا خیال آگیا تھا ۔وہ بھی اٹھ کر کپڑے ڈالنے لگی ۔
میں طنزیہ لہجے میں بولا ۔”تمھیں کیا ضرورت ہے کپڑے ڈالنے کی،ایک تمھارا شوہر ہے اور دوسرا ....اس سے ویسے کچھ چھپا نہیں ہے ۔“
”ہم بات چیت سے یہ مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔“کپڑے پہنتے ہی طاہر نے گفتگو کی ابتدا کی ۔
”کون سا مسئلہ۔“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
”یہی مسئلہ ،آپ بس درگزر کریں۔“
میںنے ان دونوں کو مخاطب کر کے پوچھا ۔”ویسے اس حالت میں اگر ایک شوہر اپنی بیوی کو پکڑ لے تو کیاوہ بیوی اور اس کے آشناکو قتل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔“
”خخ....خدا کے لیے معاف کر دو ۔“ماہین تھر تھر کانپنے لگی تھی ۔
”ہم آیندہ ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔“طاہر کی ٹانگیں بھی لرزنے لگی تھیں ۔
” تمھیں مار کر ہاتھ ہی گندے ہوں گے ۔“میں نے منہ بنا کر کہا۔”اور ماروں بھی کس کے لیے ،جب میری عزت ہی کو اپنی عزت کا پاس رکھنا نہیں آیا ۔“
ماہین نے شرمندگی سے سر کو جھکا لیا تھا ۔
”ویسے تمھیں کس چیز کی کمی دی تھی میں نے ۔اور اگر تمھیں میں پسند نہیں تھا تو تم مجھے بتا دیتیں زبردستی تھوڑی کر نا تھی میں نے۔“
”میں بہک گئی تھی ۔“اس نے سسکی بھر کر کہا ۔
”یہ بھی خوب کہا ۔میں امریکہ میں خود کو تمھاری امانت سمجھ کر غیر عورتوں سے دور رکھتا رہا اور تم یہاں بہک گئیں ۔ خیر اپنے اپنے ظرف کی بات ہے ۔“
”پلیز ذیشان!.... مجھے ایک موقع دے دو۔“اس نے بھاگ کر میرے قدموں سے لپٹنے کی کوشش کی تھی۔
میں نے دھکا دے کر اسے پیچھے گراتے ہوئے کہا ۔”میرا عورت ذات سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور پاگل تم اپنا رونا رو رہی ہو ۔بہ ہر حال جاو تم آزاد ہو ۔میں تمھیں طلاق دیتا ہوں اور اگلے پانچ منٹ میں تم دونوں یہاں سے غائب نہ ہوئے تو شاید تمھیں قتل نہ کرنے کے فیصلے میں مجھے ترمیم کرنا پڑے۔“
”چلو ماہین!....“طاہر نے گھبراتے ہوئے کہا ۔وہ لرزتی کانپتی کھڑی ہو گئی ۔طاہر نے بستر سے اس کی گرم چادر اٹھا کر اسے پکڑائی اور وہ دونوں گھر سے باہر نکل گئے ۔گلی کا دروازہ بند کر کے میں اپنے کمرے میں آیا ۔ماہین کی چارپائی سے مجھے گھن آ رہی تھی ۔بڑی جستی پیٹی سے میںنے اپنا کمبل نکالا اور بستر پر لیٹ گیا ۔آن کی آن میں میری دنیا تباہ و برباد ہو گئی تھی ۔میں جینیفر کی چال بازیوں اور مکاریوں پر شاکی آ رہا تھا ماہین تو اس سے بھی سو قدم آگے نکلی تھی ۔آج تک وہ مجھ سے جھوٹی محبت جتاتی رہی تھی ۔ اس کے گزشتہ رویے کو یاد کر کے میری آنکھیں نم ہو نے لگیں ۔اس کے ناز نخرے ،اس کی ادائیں ،اس کا لاڈ بھرا انداز ،میری آمد پراس کی آنکھوں میں جھلملاتے قوس قزح کے رنگ ،وہ روٹھنا ،وہ منانا....کیا وہ سب جھوٹ تھا ؟....سب دھوکا فریب تھا ؟....میرے دل میں عورت ذات کی نفرت بھرنے لگی ۔مجھے اپنا سکول کا استا د حمید اللہ یاد آگیا ۔وہ ہمیشہ عورت ذات کی برائیوں پر مائل رہتا تھا ۔”یہ مکار ،چال باز اور فریبی ہوتی ہیں ....خبردار کبھی عورت پر اعتبار کرنے کی کوشش نہ کرنا؟“عور ت کے بارے بات چیت کرتے ہوئے اس کی گفتگو کا اختتامی فقرہ یہی ہوا کرتا تھا ۔حالانکہ اس وقت ہم میں اتنی سمجھ نہیں تھی کہ استاد کی باتوں کو پرکھ سکتے ۔اور پھر سکول کے بعد کبھی کسی نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں تھا ۔ماہین سے شادی کے بعد تو استاد حمید اللہ کی باتیں یوں بھی بھول گئی تھیں ۔آج بہت عرصے بعد جب ٹھوکر لگی تو اپنا استاد بھی یاد آگیا۔وہ چند سال پہلے فوت ہو گیا تھا ورنہ میں اپنی درد بھری داستان سنا کراس کے تجربات کو ضرور خراج تحسین پیش کرتا ۔
اچانک مجھے لگا کہ میں نے ان دونوں کو زندہ چھوڑ کر بے غیرتی کا ثبوت دیا تھا ۔مگر پھر میں خود کو سمجھانے لگا کہ انھیں قتل کر کے بھی مجھے کیا حاصل ہو جاتا؟....اور دیکھا جاتا تو وہ ایک طرح سے میرے لیے قتل ہی ہو چکی تھی ۔
صبح کی آذان تک میں یونھی اذیت ناک سوچوں میں گھرارہا۔اور پھر آذان کی آواز سنتے ہی غسل خانے میں گھس گیا ۔وضو کر کے میں ابوجان کے کمرے کی طرف بڑھا۔لائیٹ جلانے پر وہ مجھے بے سودھ لیٹے نظر آئے ۔حالانکہ وہ ہلکی سی آواز سن کر جاگ جایا کرتے تھے ۔
میںنے ان کے پاو¿ں کوہاتھ لگایا اور پھر ان کی ٹانگیں دبانے لگا ۔تھوڑی دیر کے بعد ان کی آنکھوں میں جنبش ہوئی اور انھوں نے آنکھیں کھول دیں ۔
”ارے ذیشان بیٹا !“وہ سر جھٹک کر غنودگی بھگاتے ہوئے اٹھ بیٹھے ۔”تم کب پہنچے ؟“
”بس تھوڑی دیر ہی ہوئی ہے ابوجان !....آپ اٹھیں جماعت نکل جائے گی ؟“
”ہاں بس اب تو اٹھ گیا ۔آج کم بخت نیند نے کچھ زیادہ ہی اثر دکھایا ہے ۔“
انھیں جگا کر میں مسجد کی طرف بڑھ گیا ۔واپسی پر ہم اکٹھے ہی آئے ۔گھر میں داخل ہوتے ہی انھوں نے ماہین کو آواز دی ۔
”ماہین بیٹا!....چاے تو لے آو¿؟“
”آپ بیٹھیں ابو جان !میں بنا لاتا ہوں ؟“
”ماہین بیٹی کو بنانے دو یار!....تم ذرا امریکہ کا حال احوال سناو¿؟
”وہ چلی گئی ہے ابو جان !....“میں آہستہ سے بولا۔
”چلی گئی ہے ؟“ابو جان ششدر رہ گئے تھے ۔”مگر کہاں ؟....کیوں ؟“
”میں چاے بنا کر لاتا ہوں پھر بات کرتے ہیں ؟“
”چھوڑو چاے کو ۔“ابوجان پریشانی سے بولے ۔”ماہین کیوں چلی گئی ہے ؟“
”وہ یہاں رہنا نہیں چاہتی تھی ابوجان !“
”یہ بھلا کیا بات ہوئی ؟“میری مہمل بات بھلا کب انھیں مطمئن کر سکتی تھی ۔
”’ابوجان !....آپ اتنی گہری نیند سونے کے عادی تو نہیں تھے پھر آج آپ کو کیا ہوا تھا؟“
”اس میں میری نیند کہاں سے آآآ....“ابوجان نے فقرہ مکمل کرنے کے بجائے میری طرف دیکھا ۔اور پھر سوچتے ہوئے بولے ۔”ایسا ہفتے میں ایک ادھ بار ہو جاتا ہے ؟....مگر وہ ایسی تو نہیں تھی ۔“ابوجان بغیر میرے بتائے بات کی تہہ تک پہنچ گئے تھے ۔
”میں بھی کسی کے کہنے پر انھیں ایسا نہ سمجھتا مگر آنکھوں دیکھا جھٹلانا ممکن نہیں ۔“
یہ کہہ کر میں باورچی خانے کی طرف بڑھ گیا ۔جب چاے بنا کر لوٹا تو ابوجان کسی گہری سوچ میں تھے ۔شاید انھیں یقین کرنے میں دشواری ہو رہی تھی ۔
”چاے لیں ابوجان !“میں نے پیالی ان کی جانب بڑھائی جو انھوں نے خاموشی سے تھام لی ۔ہم نے خاموشی سے چاے پی گویا ہمارے پاس کہنے کو کچھ بھی باقی نہیں بچا تھا ۔اس وقت میں برتن باورچی خانے میں رکھنے جا رہا تھا جب دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا ۔
”چچا حشمت علی اپنے دنوں بیٹوں اصغر اور اشغرکے ہم راہ دروازے پر کھڑاکینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔وہ ابوجان کے ماموں کاسالا تھا۔میرا سابقہ سسر اور ماہین کا باپ ۔میں اسے ہمیشہ چچا جان کہہ کر بلاتا تھا ۔
”آئیں چچا جان !“میں دروازے سے ایک طرف ہوا ۔
”تم نے اچھا نہیں کیا ذیشان !“وہ اندر داخل ہوتا ہو اغصیلے لہجے میں بولا۔”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ تم نے آدھی رات کو میری بیٹی کو طلاق دے کر گھر سے نکال باہر کیا ؟“
اس کی بلند آواز سن کر ابوجان بھی کمرے سے باہر نکل آئے تھے ۔انھیں دیکھ کر حشمت ان کی طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا۔”اور بھائی حیدر علی !....مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی ؟“
جوباََابوجان خاموش رہے تھے ۔
”اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ بیوی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے شوہر کو کھانا گرم کر کے نہ دے اور شوہر آدھی رات کو اسے طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دے ؟“
”غصہ انسان سے بہت کچھ کروا دیتا ہے بھائی صاحب!....بہ ہرحال کمان سے نکلا تیر اور بیوی کو دیے طلاق کے تین الفاظ واپس نہیں آ سکتے ؟“مجھے کچھ نہ کہتا دیکھ کر ابوجان نے بھی اصل بات سے پردہ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
”ویسے شرم و حیا اور غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے ذیشان میاں !....“چچا حشمت علی کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا ۔”میرا دل تو کر رہا ہے کہ تمھیں ،تمھاری مردانگی کا مزا چکھاو¿ں مگر بے غیرت آدمی کی پٹائی سے بھی کچھ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہے ؟“
میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔میں چاہتا تو اصل بات بتا کر اسے شرمندہ کر سکتا تھا مگر ایک باپ کے لیے بیٹی کی طلاق کا صدمہ ہی کافی تھا ۔اگر وہ اس کی بے راہروی کا سنتا تو شاید کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہ رہتا ۔
”حشمت بھائی !....غصہ تھوکیں اور آئیں بیٹھیں ؟“ابوجان نرم طبیعت کے مالک تھے ۔ جھگڑے فساد سے ان کی جان جاتی تھی ۔
”بیٹھنا اور اس گھر میں ؟“حشمت علی طنزیہ لہجے میں بولا ۔”میں یہاں تھوکنا گوارا نہ کروں ؟ اور اس وقت میں تم لوگوں سے بات چیت کرنے نہیں آیا ؟اپنی بیٹی کا سامان سمیٹنے آیا ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ خاموش کھڑے بیٹوں کو مخاطب ہوا ۔
”چلو بھئی !....سامان سمیٹو بہن کا ۔“وہ دونوں نتھنے پھلائے میرے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔خود حشمت چچا بھی ان کے پیچھے چل پڑا ۔انھو ں نے ہم سے پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی تھی کہ آیا کوئی ہمارا سامان بھی کمرے میں موجود ہے یا نہیں ؟
اصغر اور اشغر سامان کمرے سے نکال کر صحن میں رکھنے لگے ۔اچانک حشمت علی کمرے سے باہر نکلا اس نے ہاتھ میں بٹوہ پکڑا ہوا تھا ۔میں نے اس کے چہرے کی طرف نگاہ دوڑائی وہاں غصے اور غضب ناکی کی جگہ ندامت اور شرمندگی بھرے اثرات تھے ۔
قریب آ کر اس نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور پھر سسکیاں بھرتے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا ۔
”مجھے معاف کر دینا بیٹا !....میں غلطی پر تھا ۔“میں اس کی بات سن کر ششدر رہ گیا تھا ۔ جانے اس کے ہاتھ کیا لگا تھا کہ ایک دم اس کی حالت تبدیل ہو گئی تھی ۔
”چچا جان !خیر تو ہے ؟“میں نے آہستہ سے پوچھا ۔”کیاہوا؟“
”تمھیں دونوں کو مار دینا چاہیے تھا بیٹا !“تھوڑی دیر پہلے والا حشمت کہیں غائب ہو گیا تھا۔
”تو کیا ہوتا چچا !....اب بھی وہ میرے لیے تو مر ہی گئی ہے نا ؟“
”اس طاہر کی گردن تو میں اتاروں گا ؟“چچا نے بٹوہ کھول کر میرے سامنے کیا ۔وہ طاہر کا بٹوہ تھا۔ جو وہ غلطی سے ماہین کے بستر پر چھوڑ گیا تھا ۔اس میں اس نے ماہین کی تصویر بھی رکھی ہوئی تھی۔اس کے علاوہ اس کی اپنی تصویر اور شناختی کارڈ وغیرہ بھی تھا ۔
”کوئی ضرورت نہیں چچا !....دوبول پڑھوا کر اس کے ساتھ رخصت کر دو ؟اگروہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہیں تو انھیں اکٹھے زندگی گزارنے کا حق ہے ؟گو ان کا طریقہ غلط تھا مگر مطالبہ تو غلط نہیں ہے نا ؟“
”اگر مجھے اس بے غیرت کا بٹوہ نہ ملتا تو کیا تم یونھی ہمیشہ میرے اور میرے بیٹوں کے ہاتھوں مطعون ہوتے رہتے ؟“
”ہم نے کون سا ایک گھر میں رہنا ہے چچا !“میں نے پھیکی مسکراہٹ سے کہا ۔”یوں بھی اگر وہ اپنے گناہ پر پردہ ڈالنا چاہتی تھی تو مجھے اس کی پردہ دری کرنے سے کیا حاصل ہوتا۔“
”میں آپ سے بھی شرمندہ ہوں حیدر بھائی!“حشمت چچا ابوجان کو مخاطب ہوا ۔
”اچھا چھوڑو جو ہونا تھا وہ ہو چکا ؟“ابو نے اسے تسلی دی ۔
”بیٹا یہ سامان واپس رکھ دو ؟“حشمت اپنے بیٹوں کو مخاطب ہوا ۔
”نہیں نہیں چچاایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟“میں نے جلدی سے کہا ۔”اور معاف کرنا یہ سامان آپ کا نہیں آپ کی بیٹی کی ملکیت ہے ۔“
پہلے تو اس نے سخت سے انکار کر دیا مگر پھر ابوجا ن اور میرے سمجھانے پر وہ سامان لے جانے پر راضی ہو گیا ۔انھوں نے اپنی ٹریکٹر ٹرالی ساتھ لائی تھی ۔اصغر اور اشغر کو بھی اصل بات کی بھنک پڑ گئی تھی۔ وہ دونوں مجھ سے نظر نہیں ملا پا رہے تھے ۔میں نے ماہین کا سارا زیورجو وہ اپنے گھر سے لائی تھی یا اسے ہم نے دیا تھا،ان کے حوالے کر دیا تھا۔جب وہ جانے لگے تو میں نے ایک دن پہلے خریدے ہوئے تحائف بھی یہ کہہ کر ان کے حوالے کر دیے کہ” میرے یہ کس کام کے ؟چلو جس کے لیے خریدے ہیں وہی استعمال کر لے ؟“
غضب ناک اورتیش کی حالت میں آنے والے میرا سسر اور سالے ندامت اور خفت بھرے آنسو بہاتے ہوئے رخصت ہوئے تھے ۔
ان کے جانے کے تھوڑی دیر بعد میں بھی ابوجان سے اجازت لے کر راولپنڈی روانہ ہو گیا ۔
٭٭٭
سردار مجھ سے پہلے پہنچ گیا تھا ۔اس نے مجھ سے گھر کی خیر خیریت پوچھی ۔جواباََ میں نے ۔ ”الحمداللہ ۔“کہہ کر اصل بات بتانے سے گریز کیا ۔یوں بھی ایک مسلم کے لیے اللہ پاک شکر تو ہر وقت بنتا ہے ۔مگرایک انسان کی فطرت عجیب قسم کی ہے ۔لاکھوں کروڑوں نعمتیں وصول کر کے ایک تکلیف پر رب کریم کی ناشکری پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔
یونٹ میں ہمیں پر جوش طریقے سے خوش آمدید کہا گیا تھا ۔خاص کر میری بہت پذیرائی ہوئی تھی ۔دوتین دن کے بعد ہمیں دس دس دن کی چھٹی مل گئی ۔میرا گھر جانے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا ۔میں گھر جانے کے بجائے صوابی چلا گیا ۔استاد عمر دراز مجھے بہت محبت سے ملا تھا ۔میں ان کے ساتھ صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ کر امریکہ میں گزرے شب و روز دہرانے لگا ۔ساری تفصیل سننے کے بعد اس نے میری تعریف کرنے کے بجائے پوچھا ۔
”ذیشان بیٹا !....تم پریشان اور افسردہ کیوں ہو ؟“
”ایسی تو کوئی بات نہیں سر !“میں نے نفی میں سرہلایا۔
وہ ہنسا ۔”تمھارا مطلب ہے میری آنکھیں دھوکا کھارہی ہیں ؟“
” چھوڑیں سر ؟“دکھ کے بادل برسنے کے لیے تیار ہو گئے تھے ۔
وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہنے لگا ۔”ضروری نہیں کہ آنسو روکنے والا غم چھپانے میں بھی کامیاب ہو جائے ؟“
”سر !....مجھے گزرے غموں کو یاد کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ؟“
”غم بانٹنے سے ہلکا ہوجاتا ہے بیٹے !“
میں نے صاف گوئی سے کہا ۔”کچھ غموں کے تذکرے پر غیرت آمادہ نہیں ہوتی؟“
”عورت کا غم ہمیشہ مرد کو توڑ کر رکھ دیتا ہے ؟“وہ جہاں دیدہ شخص بغیر میرے بتائے حقیقت کے قریب پہنچ گیا تھا ۔”لیکن یاد رکھنا بیٹے کمزوری نہیں دکھانا ۔تم سے زیادہ نقصان اس کا ہوا ہے ؟.... اس نے ایک مخلص ساتھی گنوا دیا جبکہ تمھاری جان ایک دغاباز اور مطلبی سے چھوٹ گئی ہے ؟“
استاد عمر دراز کی بات سن کر میرے دل پر چھائے غم کے بادل ایک دم ہٹ گئے تھے ۔
”صحیح فرمایا سر !“میرے ہونٹوں پر تبسم ظاہر ہوا ۔”اس طرح تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ؟“
”اچھا اب اصل بات بتاو¿؟....کون تھی ؟“
”میری بیوی نے طلاق لے لی ہے سر ؟“
”اچھا کیا اس نے خود طلاق لے لی ورنہ ایسی عورتوں کو طلاق دینا پڑ جاتی ہے ؟“
”یہی تو غم ہے ؟“میں ایک بار پھر اداس ہو گیا تھا ۔
”اوہ ....چلو یہ بھی بہتر ہوا کہ جوانی ہی میں تمھیں اس کی اصلیت معلوم ہو گئی ۔ورنہ اولاد ہوجانے کی صورت میں تمھیں فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آ تی؟“
”اچھا چھوڑیں سر!.... اس موضوع کو آپ نے میری کارکردگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ؟“
”وہ تو میں نے پہلے دن سے بتا دیا تھا کہ تم میرا ریکارڈ توڑ دو گے اور وہی ہوا ؟میں بس چھے سات سو میٹر تک ہدف کو نشانہ بناتا رہا اور تم انیس سو میٹر تک پہنچ گئے ؟“
”یہ تو خیر آپ زیادتی کر رہے ہیں ۔انیس سو میٹر سے میںنے اس ہتھیار سے ہدف کو نشانہ بنایا ہے جس کی کارگر رینج دوہزار میٹر ہے جبکہ آپ نے سات سو میٹر پر جی تھری سے ہدف کو نشانہ بناتے تھے ۔جس کی کارگر رینج ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر بھی چھے سو میٹر بنتی ہے ۔“
”یہ بھی تو دیکھو نا کہ میری شہرت پاکستان تک محدود رہی اور تم جانے کتنے ممالک کے سنائپرز کو پچھا ڑ آئے ہو ؟“استاد عمر دراز سنائپنگ کے فن کی طرح باتوں میں بھی ماہر تھا ۔
میں ہنستے ہوئے بولا۔”آپ کردار کی طرح گفتار کے بھی غازی ہیں ۔“
انھوں نے شفقت سے کہا ۔”بس ،ہر فرمان بردار شاگرد کی طرح تم اپنے استاد ہارتے نہیں دیکھ سکتے ۔“
”شام کی آذان ہو رہی ہے ،میرا خیال ہے وضو مسجد میں کرنا بہتر رہے گا ؟“میں نے اس بحث سے جان چھڑاتے ہوئے مشورہ دیا ۔
”یہ مناسب ہے ۔“وہ سر ہلاتے ہوئے کھڑ ے ہو گئے ۔
٭٭٭
اگلا دن ہم نے استاد عمر دراز کے گھر گپ شپ میں گزارا ۔ان کے چند دوست بھی آ گئے تھے خوب محفل جمی رہی ۔اب اتنی پشتو تو مجھے بھی آ گئی تھی کہ ان کی بات چیت سمجھ لیتا ،البتہ میں خود مکمل طور پر بول نہیں پاتا تھا ۔اس دن سہ پہر کو میں نے استاد عمر راز سے اجازت چاہی
”بیٹا !....آتے جاتے رہا کرو ۔“وہ مجھے گلے ملتے ہوئے شفقت سے بولے ۔
”جی سر !....یہ کوئی بتانے کی بات تو نہیں ہے نا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
انھوں نے شرارتی لہجے میں کہا ،”اور اگر شادی کا ارادہ ہو تو ضرور بتانا،ایسی دلھن ڈھونڈ کر دوں گا کہ تمھاری سوچ سے بھی ماورا ہو گی ۔“
”سر !....اگر حقیقت کہوں تو مجھے عورت ذات سے نفرت ہو گئی ہے ،اتنی نفرت جس کی بابت آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔وہاں امریکہ میں بھی ایک اپنی جھوٹی محبت کے دعوے لے کر میرے پیچھے پڑ گئی تھی بعدمیں پتا چلا کہ اس کے یہ دعوے فقط مجھے امریکہ کا غلام بنانے کی نیت سے تھے ۔اب تو عورت کے بارے میرے تجربات ومشاہدات کا نچوڑ یہی ہے جو کہ ہمارے اسکول کے استادمرحوم حمید اللہ جان صاحب کا تھا کہ بے شک سانپ ،بچھو پر اعتبار کر لینا عورت پر نہیں ۔“
”اسے شدت پسندی اور تشدد کہتے ہیں بیٹا ۔“استاد عمر دراز نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی ۔
”آپ صحیح فرما رہے ہیں سر !مگر کبھی کبھی یقین کی سب سے اونچی سیڑھی سے اتنے زور کاد ھکا لگتا ہے کہ انسان کے سارے نظریات تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ چاہ کر بھی کسی پر بھروسا نہیں کر سکتا ۔“
”تم جز کو کل پر منطبق کر رہے ہو ؟“ان کی کوشش جاری رہی ۔
”میرا کُل تو وہی تھی سر !“میں ادااس ہو گیا ۔
”میں امید کرتا ہوں کوئی تو ایسی ہو گی جو تمھارے دل سے عورت ذات کے بارے یہ بدگمانی دور کردے گی ۔“
”سر !....اپنا خیال رکھیے گا ،آپ کی دعاﺅں کی ہمیشہ ضرورت رہے گی ۔“ان کی بات کا جواب نہ دے کر میں نے اپنا مطمح نظر ان تک پہنچا دیا تھا ۔
”ٹھیک ہے بیٹا !....اللہ پاک تمھیں سکھی رکھے ۔وہی ذات بابرکات ہی تمھارے ذہن سے یہ غلط سوچ نکال سکتی ہے ۔“
”اللہ حافظ سر !“میں نے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے ان کے دونوں ہاتھوں کو بوسا دیا اور وہاں سے نکل آیا ۔شام کی آذان ہو رہی تھی جب میں گھر میں داخل ہوا ۔وہاں پھوپھو جان کو دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی تھی ۔وہ بیوہ تھیں ،ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔تمام شادی شدہ تھے ۔پہلے وہ باری باری تینوں بیٹوں کے ہاں قیام کرتی تھیں مگر اب شاید ابو جان انھیں مستقل اپنے پاس لے آیا تھا ۔ بعد میں ابوجان سے گفتگو ہونے پر پتا چلا کہ میرا اندازہ درست تھا ۔کلثوم بوا مستقل ہی وہاں منتقل ہو گئی تھیں ۔ابو جان مجھے دیکھ کر خوش ہو گئے تھے ۔پھوپھو نے بھی مجھے گلے سے لگا کر پیار کیا ۔یقیناانھیں ماہین کے ساتھ میری علاحدگی کی خبر مل چکی تھی لیکن انھوں نے اس متعلق کوئی سوال کرنے سے گریز کیا تھا۔چھٹی کے بقیہ دن میں نے گھر میں گزارے ۔زیادہ تر میں گھر ہی میں رہتا تھا ۔بس دو تین باراپنے دوست اویس ہی سے ملاقات کرنے گیا یا وہ خود میرے گھر آ گیا تھا ۔ماہین کے مسئلے پر اس نے مجھے کریدنے کی کوشش کی مگر اسے بھی میں نے اصل بات کی ہوا نہیں لگنے دی تھی ۔البتہ دبے لفظوں میں اس نے مجھے یہ باور ضرور کرا دیا تھا کہ لوگوں کو اصل بات کا پتا چل چکا تھا ،ایسی باتیں چھپا نہیں کرتیں ۔
ابوجان اور پھوپھو نے دوسری شادی کے بارے میرا عندیہ جاننے کی کوشش کی مگر میں نے سختی سے منع کر دیا تھا ۔دنیاوی دلچسپیوں سے جی ہی اچاٹ ہو گیا تھا ۔ماہین کے اس طرز عمل کے باوجود بستر پر لیٹتے ہوئے عموماََاس کی یاد دماغ میں در آتی ۔وہ مجھے بہت زیادہ پیاری تھی ۔میں نے اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی ،کبھی اس کی کسی خواہش کو نظر انداز نہیں کیا تھا ۔خود اس کے رویے سے بھی مجھے کبھی یہ اندازہ نہ ہو پایا کہ وہ مجھ سے بے وفائی کررہی ہے اور میری امانت میں خیانت کی مرتکب ہو رہی ہے ۔یا اسے میں نا پسندہوں اورکوئی اور پسند ہے ۔میرے چھٹی آنے پر اس کا خوش ہو جانا ،میری ہر ضرورت کا خیال رکھنا ،روٹھنا منانا، گلے شکوے کرنا ،ابو جان کی خدمت بیٹیوں کی طرح کرنا اور بھی اس کی کئی ایسی عادات تھیں جو مجھے بہت پسند تھیں ۔اگر میں نے خود اسے رنگے ہاتھوں نہ پکڑ اہوتا تو شاید ابو جان کے بتانے پر بھی یقینا نہ کرتا ۔ امریکہ میں کیپٹن جینیفر کی وجہ سے عورت ذات کے بارے میرے دل میں جو بد گمانی پیدا ہوئی تھی ماہین کی حرکت نے اس پر تصدیقی مہر ثبت کر دی تھی ۔اب میں چاہ کر بھی عورت ذات پر اعتماد نہیں کر سکتا تھا ۔ جینیفر نے ہمیشہ مجھے اپنے رویے سے یہی باور کرایا تھا کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے ۔یہاں تک کہ آخری ملاقات میں اس نے جو اداکاری کی تھی ،جس طرح مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا چاہا تھا ایسی مکاری اور عیاری کسی عورت ہی کا خاصا ہو سکتی ہے ۔گو مرد ذات بھی دھوکا دہی میں کچھ کم نہیں مگر میرے نزدیک اس میدان میں مرد،عورت کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔
وہ چھٹی جو کبھی یوں گزرتی تھی کہ جاتے وقت تشنگی کا احساس شدت سے دل میں رہتا تھا ،اب بڑی مشکل سے گزری ۔وہی گھر جس میں کوئی لمحہ ماہین کے بغیر نہیں گزرتا تھااب اس کا وجود ناپید تھا ۔ چھٹی ختم ہونے پر میں بڑی مشکل سے رخصت ہوا کرتا تھا مگر اس دن میں صبح ناشتے کے بعد ہی جانے کے لیے تیار تھا ۔بوا اور ابوجان سے دعائیں لے کر میں گھر سے نکل آیا ۔
جاری ہے
 

سردار رات گئے ہی واپس لوٹا تھا ۔اس کی آمد سے پہلے ہی میں سو گیا تھا ۔صبح ہی اس سے ملاقات ہو پائی تھی ۔چنارے بیگم کی رفاقت نے اس سے دل سے لی زونا کے بچھڑنے کے غم کو کافی حد تک کم کر دیا تھا ۔
ہم دو تین دن ہی آرام سے گزار پائے تھے کہ یونٹ کو ایک نئی سر گرمی کا لیٹر ملا ۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تعینات ڈویژنز نے اپنی زیر کمان یونٹوں میں سنائپرز کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ہمارے کمانڈنگ آ فیسرسے انسٹرکٹر ز طلب کیے تھے ،اس کے علاوہ حساس علاقوں میں تعینات کرنے کے لیے کچھ تجربہ کار سنائپرز بھی مانگے تھے کیونکہ دہشت گردوں کے بہت سے سنائپرز پاک آرمی کا کافی نقصان کر چکے تھے ۔مجھے امید تھی بھیجے جانے والے سنائپرز میں میرا نام ضرورشامل ہوگا ۔مگر دو دن بعد انسٹرکٹرز کے طور پر راﺅ تصور صاحب اور حوالدار فیاض کا چناﺅ ہوا تھا جب کہ سنائپنگ کے لیے سردار خان، اسدخٹک ،بشیر حیدر ،عصمت اللہ جان اور سہیل مروت کا انتخاب کیا گیا تھا ۔
ان کے جانے کے دوسرے دن مجھے پتا چلا کہ اس پارٹی میں میرا قرعہ فال کیوں نہیں نکلا تھا ۔ مجھے دوبارہ انڈین سرحد پار جا کر ایک اور ہدف کو نشانہ بنانا تھا ۔اس بار میرے ساتھ حوالدار نصیرالدین جا رہا تھا ۔وہ یوں بھی مجھ سے سینئر تھا ۔مشن کی تفصیلات ہمیں یونٹ سیکنڈ ان کمانڈ کی زبانی سننے کو ملیں تھیں ۔ٹو آئی سی صاحب نے کانفرنس روم میں ہمیں بریفنگ دی ۔پچپن انچ کی بڑی ایل ای ڈی پر ہمیں ہدف کی تصاویر ،اس کے علاقہ اور اسے قتل کرنے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔سرحد عبور کرنے کے مقام کا بھی سرسری ذکر انھوں نے کر دیاتھا،ویسے اس علاقے میں سرحد پار کرنا عمومی طور پر ہماری اپنی صو ابدید پر ہوتا ہے۔ٹو آئی سی کی بریفنگ کے بعد اگلا پورا ہفتہ ہم ہندی زبان کے وہ مشہور الفاظ سیکھنے میں مصروف رہے جو اردو میں مستعمل نہیں ہیں ۔یوں بھی اردو اور ہندی کے رسم الخط مختلف ہونے کے باوجودبولنے میں دونوں زبانیں قریباََ مماثل ہیں ۔بلکہ پاکستان میں انڈین فلموں،ڈراموں اور کارٹونز وغیرہ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ان خالص ہندی الفاظ کو بھی نامانوس نہیں رہنے دیا ۔البتہ عام بول چال میں ہم وہ الفاظ استعمال نہیں کرتے ۔
اس کا نام رنجیت چوپڑہ تھا ۔ اس کی شخصیت اتنی اہم نہیں تھی کہ اسے قتل کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان سے سنائپرز بھیجے جاتے ،بس انا کا مسئلہ آڑے آ گیا تھا ۔وہ شخص پاکستان میں دو مرتبہ دہشت گردی کی واردات کرنے کے بعد بھی صاف بچ کر نکل گیا تھا۔اس کے خلاف سارے ثبوت ملنے کے بعد پڑوسی ملک سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا مگر ایسی بات اگر بنیا مان جائے تو اسے بنیا کون کہے ؟اور مزے کی بات یہ کہ وہ کسی سرکاری ایجنسی یا انڈین آرمی کا فرد نہیں بلکہ کرائے کا ٹٹو تھا ۔ انڈین حکومت کی ہٹ دھرمی کو دیکھ کر ہائی کمان کی طرف سے یہی حکم آیا تھا کہ اس شخص کو زندہ رہ کر پاکستان میں کرنے والی دہشت گردی کی کارروائی پر ملنے والے انعام سے مستفید نہیں ہونے دیا جا سکتا ۔ یوں بھی دو مرتبہ معصوم لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ،بلکہ ہندومحاورے کے مطابق معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے کو یہ دہری دہشت گردی اندرونِ خانہ بہت زیادہ کامیاب کر گئی تھی۔اور اب تو وہ باقاعدہ سیاست میں حصہ لینے پر پرتول رہا تھا ۔پاکستانی حکومت کی طرف سے رنجیت چوپڑہ کے مطالبے کا ایک نقصان یہ ہوا تھا کہ اس شخص کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام کر دیا گیا تھا ۔ انڈیا میں پاکستانی جاسوسوں کی موجودی یقینی ہونے کے باوجود یہ کام ان سے نہیں لیا جاسکتا تھا ۔کیونکہ ایک تو پاکستانی جاسوس ایسی دہشت گردانہ کارروائیوں سے عمومی طور پر دور رہتے ہیں جن سے سوّل عوام یا معصوم لوگ متاثر ہوں ۔ ان کا غیر مسلم ہونااس بات کو لازم نہیں کرتا کہ انھیں جینے کا حق نہیں ۔اسلام اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی مذہب یا مسلک کے بے گناہ افراد کو قتل کر دیا جائے ۔ دوسراوہ جاسوس لڑائی بھڑائی کے چکر میں ذرا کم کم ہی پڑتے ہیں ۔یوں بھی ان میں زیادہ تعداد ان افرادکی ہوتی ہے جو لڑائی بھڑائی کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ انھی وجوہات کو دیکھ کر یہ ہدف ایک سنائپر کے حوالے کر دینے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے لیے ہم دونوں کا انتخاب ہوا تھا۔
وہ یونٹ میں ہماری آخری رات تھی صبح سویرے ہم نے کشمیر روانہ ہونا تھا کہ سرحد پار کرنے کے لیے پہاڑی علاقہ ہی مناسب تھا ۔رات کوئی بارہ بجے کا عمل ہو گا جب ڈیوٹی پر متعین سپاہی نے مجھے جگا کر بتایا کہ کمانڈنگ آفیسر مجھے اپنے آفس میں یاد کر رہے ہیں ۔میں نے جلدی سے غسل خانے میں گھس کر منہ پر چند چھینٹے پانی کے مارے اور منہ پر تولیہ رگڑ کر کمانڈنگ آفیسر عرفان ملک کے آفس کی طرف بڑھ گیا ۔استاد نصیرالدین بھی مجھے اپنے کمرے سے نکلتا دکھائی دیا ۔یقینا اسے بھی طلب کیا گیا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ سر ہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑا ۔
کمانڈنگ آفیسر کے اردلی نے ہمیں دیکھتے ہی کہا کہ کمانڈنگ آفیسر بے تابی سے ہمارے منتظر ہیں ۔اور ہم سر ہلاتے ہوئے دفتر میں داخل ہو گئے ۔
”آگئے آپ لوگ ۔“ہم پر نظر پڑتے ہی اس نے سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو ایک طرف دھکیلتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔”بیٹھیں ۔“
اور ہم دونوں آفس ٹیبل کے سامنے پڑی فوم والی کر سیوں پر بیٹھ گئے ۔
”تو جانے کے لیے تیار ہو ؟“عرفان صاحب نے مسکرا کر پوچھا ۔
”جی سر !“ہم بیک زبان بولے تھے ۔
”اچھا آپ لوگوں کو اس وقت بلانے کا مقصد یہ ہے کہ جانے کی ترتیب میں تھوڑی تبدیلی کر نا ناگزیر ہو گئی ہے۔اب دو کے بجائے صرف ایک سنائپر نے جانا ہے تو آپ دونوں میں سے کون زیادہ تیار ہے ۔“کمانڈنگ آفیسر نے انتخاب کی ذمہ داری ہمارے سر پھینکی ۔
ہم دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر میں نے گلا کھنکھارتے ہوئے دبے لفظوں میں کہا ۔
”سر!.... استاد نصیر الدین گو مجھ سے سینئر ہیں اور ہر لحاظ سے بہتر بھی ہیں ،مگر اس مشن پر سرحد پار جا کر ہمیں ڈریگنوو سنائپر رائفل ہمارے حوالے کی جانی تھی اور اس رائفل کو میں استعمال کر چکا ہوں اور بدقسمتی سے استاد نصیرالدین کو اس سے پہلے ڈریگنوو رائفل استعمال کرنے کا موقع نہیں مل سکا ۔“
”یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے سر !“استاد نصیرالدین نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے میری بات کی تردید کی ۔”ذیشان بلاشبہ ایک اچھا نشانے باز ہے ۔مگر ہندی زبان پر مجھے اس سے زیادہ عبور ہے اور اس سے پہلے ایک مشن پر میں انڈین سرحد عبور کر کے قریباََ ایک ماہ وہاں رہ بھی چکا ہوں ۔“
کمانڈنگ آفیسر ملک عرفان کے چہرے پر خوب صورت مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔”آپ دونوں کا جذبہ قابل ِ تعریف ہے اور مجھے فخر ہے کہ مجھے آپ جیسے ماتحت ملے ہیں کہ ماہر فن ہونے کے ساتھ جن میں وطن کی خدمت اور محبت کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے ۔بہ ہر حال میں جانتا ہوں کہ اس مشن کے لیے آپ دونوں ایک بہترین انتخا ب ہیں پھربھی میں یہ ذمہ داری ذیشان کے کندھوں پر ڈالتا ہوں ....اور حوالدار نصیرالدین !....آپ صبح میجر وسیم سے مل کر نئے مشن کی تفصیلات معلوم کر لیں آپ کے پاس تیاری کے لیے فقط دو دن ہیں ۔“
”جی سر !“حوالدار نصیرالدین کا چہرہ جوکمانڈنگ آفیسر کی پہلی گفتگو پربجھ سا گیا تھا ایک دم کھل اٹھا ۔
”فی امان اللہ !....“عرفان صاحب نے کھڑے ہو کر ہم دونوں سے معانقہ کیا اور پھر دفتر کے دروازے تک ہمیں رخصت کرنے بھی آئے ۔
ان کے دفتر سے نکل کر ہم دونوں استاد نصیر کے کمرے میں آ گئے ،وہاں وہ مجھے علاقے کے بارے ضروری ہدایات دینے لگا ۔گو اس سے پہلے علاقے کے بارے ضروری باتیں ہمیں ٹو آئی سی میجر وسیم تفصیل سے بتا چکے تھے ۔لیکن استاد نصیر چونکہ علاقے سے زیادہ واقفیت رکھتا تھا اس لیے وہ اہم باتوں پر دوبارہ روشنی ڈالنے لگا ۔رات کا بقیہ حصہ میں نے استاد نصیرالدین سے اس سے علاقے کے بارے ضروری معلومات حاصل کرتے گزارا ۔صبح کی آذان کے ساتھ ہم نے مسجد میں جاکر نماز ادا کی اور پھر ناشتا کر کے میں جانے کے لیے تیار تھا ۔آخری دم تک استاد نصیرالدین کی نصیحتیں جاری رہیں ۔سردار خان اور میرے محترم استاد راﺅ تصور تو یوں بھی وزیرستان جا چکے تھے ۔
بس میں بیٹھ کر میں نے ابوجان اور پھوپھو سے چند منٹ بات کی لیکن انھیں اصل بات نہیں بتائی تھی ۔اس کے بعد استاد عمر دراز بات کی ۔ انھیں البتہ میں نے تمام بات بتا دی تھی ۔دو تین مفید مشوروں کے ساتھ انھوں نے ڈھیروں دعائیں دیں۔ رابطہ منقطع کر کے میں نے بس کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔دوست احباب کی صورتیں کسی فلم کی طرح میری آنکھوں میں گھومنے لگیں ۔ان میں ماہین کی شکل بھی شامل تھی جانے کیوں وہ بے وفا وقت بے وقت یاد آنے لگتی ۔بہت مختصر وقت کے لیے وہ میری زندگی میں آئی تھی اور اس سے میں نے بہت زیادہ محبت کی تھی مگر اب وہ محبت نفرت میں ڈھل گئی تھی ۔بلکہ وہ کیا مجھے تو عورت ذات ہی سے سخت قسم کی نفرت ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود اکثر اوقات تنہائی میں اس کے ساتھ گزارا وقت بے طرح یاد آنے لگتا ۔بھروسے کا ٹوٹنا بعض اوقات انسان ہی کو توڑ دیتا ہے ۔اس کی بے وفائی اور بد کرداری نے مجھے بھی توڑ دیا تھا ۔اب تو بس دل میں وطن کی خدمت کے علاوہ کوئی تمنا ،کوئی خواہش باقی نہیں رہی تھی ۔ پہلے میں سوچا کرتا کہ جانے کب میری نوکری کی مدت پوری ہو گی اور میں ماہین کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاروں گا ۔اور اب نوکری کی میعادپوری ہونے کے خوف سے دل مسوس کر کے رہ جاتا کہ اس کے بعد میری زندگی کا کیا مصرف ہو گا ۔ ہر انسان کی زندگی کے ساتھ مختلف رشتے جڑے ہوتے ہیں اور ان میں سب سے پائیدار رشتا اولاد کا ہوتا ہے لیکن اولاد بھی بیوی کے واسطے ہی سے انسان کی زندگی شامل ہوتی ہے گویا اصل رشتا میاں اور بیوی کا ہوتا ہے ۔قرآن مجید فرقان حمید میں بھی رب کریم نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گویا مرد کے لیے اپنی عورت اور عورت کے لیے اپنے مرد سے بڑھ کر کوئی قریب نہیں ہوتا ۔نبی پاک ﷺ کو اپنی چاروں بیٹیوں سے بہت زیادہ محبت تھی ۔خصوصا سیدہ فاطمہ ؓ پر تو آپ خصوصی شفقت فرمایا کرتے اس کے باوجود اس جہان فانی سے رخصت ہوتے وقت آپﷺ کا مبارک سر مومنوں کی ماں امی جان سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی مقدس گود میں تھا ۔بیوی کا رشتا اتنا خوب صورت ،اتنا مفید اور اتنا پیارا ہے کہ اس کے مقابل کوئی رشتا پیش نہیں کیا جا سکتا ،لیکن میرا اس مقدس رشتے پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا ۔میں چاہ کر بھی عورت پر اعتبار نہیں کر سکتا تھا ۔آج کل تو میں جہاں کوئی لڑکی دیکھتا میری آنکھوں میں خون اتر آتا ۔اور عجیب بات یہ تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نفرت بڑھتی جا رہی تھی ۔ہزاروں دلائل اور ہزاروں تاویلات کے باوجود میں عورت کی طرف مائل نہیں پا رہا تھا ۔میں ٹھنڈے دل و دماغ کا انسان ہوں اور اپنے جذبات و غصے پر قابو پانے میں بھی زیادہ تر کامیاب ہی رہتا ہوں ۔ماہین کو غیر مرد کی آغوش میں دیکھ کراگر میں اسے قتل بھی کر دیتا تب بھی یقینا میں حق بہ جانب ہوتا کہ عموماََ اس قسم کے معاملے میں مرد حضرات یونھی کیا کرتے ہیں ۔بلکہ کچھ عیار مرد تو اپنی بے گناہ بیویوں سے جان چھڑانے کے لیے بھی ان کی جھوٹی بے راہ روی کا ڈراما ترتیب دے کر انھیں جان سے مار دیتے ہیں ۔لیکن میں ایسا نہیں کر سکا تھا اوراب اپنے صبر و حلم پر پچھتا رہا تھا ۔میں خودکو تنہائی میں کوسنے لگتا کہ میں نے سراسر بزدلی اور بے وقوفی کا ثبوت دیا تھا ۔مجھے ان دونوں کو اتنے آرام سے نہیں جانے دینا چاہیے تھا۔کم از کم ان دونوں کی اچھی طرح پٹائی تو کر ہی سکتا تھا ۔میں کافی دیر انھی سوچوں میں سرگرداں رہا یہاں تک کہ بس ایک طویل فاصلہ طے کر کے باغ پہنچ گئی ۔باغ سے چھتردو کا فاصلہ سات آٹھ کلومیٹر تھا اور مجھے وہیں پاک آرمی کی ایک یونٹ میں رات گزارنا تھی ۔باغ سے چھتر دو کے لیے ویگنیں اور ڈاٹسن وغیرہ دن کے وقت دستیاب ہوتی ہیں ۔ایک ویگن میں بیٹھ کر میں چھتر دو پہنچا ۔ویگن سے اترتے ساتھ مجھے روڈ کے کنارے ایک گیٹ پر پاک آرمی کا جوان ڈیوٹی پر کھڑا نظر آیا ۔اس سے مطلوبہ یونٹ کے بارے معلومات لے کر میں اس سمت کو بڑھ گیا ۔مطلوبہ یونٹ کے گیٹ پر اپنا تعارف کرانے پر اس نے میرا سروس کارڈ دیکھ کر میری پہچان کو یقینی بنایا اور پھر مجھے گیٹ پر بنے استقبالیہ کے کمرے میں بٹھا کر اپنے سینئر سے بات کرنے لگا ۔تھوڑی دیر بعد رجمنٹ پولیس کا حوالدار وہاں پہنچ گیا ۔اسے بھی میں نے اپنی آمد کا مقصد بتائے بغیر کسی ذمہ دار آفیسر سے ملوانے کی درخواست کی ۔وہاں ان کی یونٹ کا ریئر تھا ۔باقی کی یونٹ آگے پوسٹوں پر لگی ہوئی تھی ۔البتہ آفیسر میس میں ایک کیپٹن صاحب موجود تھا جو غالباچھٹی سے واپس آیا تھا ۔رجمنٹ پولیس کے حوالدار نصراللہ نے انٹرکام پر آفیسر سے بات کر کے مجھے وہیں لے گیا ۔
کیپٹن کا شف اس یونٹ کا کواٹر ماسٹر صاحب تھا ۔پرتپاک انداز میں مصافحہ کر کے اس نے مجھے بیٹھنے کو کہا ۔
میرے نشست سنبھالتے ہی وہ حوالدار کی طرف متوجہ ہوا ۔”نصراللہ !....آپ جائیں اور چاے وغیرہ کا میس ویٹر کو بتا دو ۔“
”جی سر !“کہہ کر نصراللہ سیلوٹ کرتا ہوا باہر نکل گیا ۔
”جی راجا ذیشان حیدر !.... بتائیں کیا مسئلہ ہے ۔“
اس مرتبہ میں نے جیب سے خفیہ چٹھی نکال کر اس کی طرف بڑھا دی ۔چٹھی پڑھ کر وہ گہری سوچ میں کھو گیا ۔چند لمحے سوچنے کے بعد وہ میری جانب دیکھتے ہوئے مستفسر ہوا ۔
”ویسے کیا آپ سرحد پار جانے کے مقصد پر روشنی ڈال سکتے ہیں ۔“
میرے ہونٹوں پر مدھم سے مسکراہٹ نمودار ہوئی اور میں نے منہ سے کچھ کہنے کے بجائے نفی میں سر ہلادیا ۔
”ہونہہ!....“کہہ کر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور فون اٹھاکر بٹالین میں رابطہ کرنے لگا ۔ چند سیکنڈز بعد وہ اپنے کمانڈنگ آفیسر سے محو گفتگو تھا ۔اس نے میرا نام وغیرہ ہی بتایا تھا کہ اسے آگے سے ہدایات ملنے لگیں یقینا انھیں بذریعہ فون یا چٹھی پہلے سے میری آمد کے بارے مطلع کر دیا گیا تھا ۔وہ خاموشی سے کمانڈنگ آفیسر کی باتیں سنتا رہا ۔درمیان میں وہ ”جی سر ۔“اور ”ٹھیک ہے سر ۔“کہہ کر تائید بھرے انداز میں اپنا سر ہلاتا رہا ۔ جونھی دوسری جانب سے بات مکمل ہوئی اس نے رسیور رکھ دیا ۔اسی وقت میس ویٹر چاے کے برتن لیے اندرداخل ہوا ۔چاے پینے کے دوران ہی اس نے حوالدار نصراللہ کو بلا کر مجھے مہمان خانے میں سلانے کا حکم دیا اور مجھے بتایا کہ میں نے اگلی صبح اس کے ہمراہ بٹالین ہیڈکواٹر جانا تھا ۔چاے پی کر میں کیپٹن کاشف سے مصافحہ کر کے آفیسر میس سے نکل آیا ۔وہ رات میں نے مہمان خانے میں گزاری ۔اگلی صبح میں نے کیپٹن کاشف کے ساتھ ان کے بٹالین ہیڈکواٹر جانا تھا جو وہاں سے کم از کم بائیس ،تیئس کلومیٹر آگے تھا ۔
٭٭٭
چاند کی انیس ،بیس تاریخ تھی ۔چاند نکلتے ہی میںآگے جانے کے لیے تیار تھا ۔میں دو دن پہلے وہاں پہنچا تھا۔ بہادر کیمپ میں کمانڈنگ آفیسر سے میری تفصیلی بات چیت ہوئی تھی ۔ایک رات بہادر کیمپ میں گزار ی اگلا سارا دن اس بٹالین کا انٹیلی جنس آفیسر مجھے وہاں بارڈر پر تعینات اپنی اور دشمن کی پوسٹوں کی جگہ کے بارے تفصیل سے بتاتا رہا تھا۔نقشے پر بھی اس نے مجھے باریکی سے سمجھادیا تھا ۔اس سے اگلے دن وہ مجھے لے کر کیدیٰ گلی پہنچا جہاں سے میں نے سرحد عبور کرنا تھی ۔کیدیٰ گلی کا علاقہ بھی اسی بٹالین کی حدود میں آتا تھا ۔بہادر کیمپ سے قریباََ چھے ساتھ کلومیٹر دور تھا ۔
رات کا کھانا کھا کر میں نے عشاءکی نماز باجماعت ادا کی اور پھر سرحد پار کرنے کے لیے ضروری کارروائیاں کرنے لگا ۔
اپنے ساتھ میں صرف ایک پستول لے کے جا رہا تھا ۔گلاک نائینٹین ایک اعلا قسم کا پستول ہے۔وزن میں ہلکا جسمامت میں مختصر اور کارکردگی میں بہت عمدہ ۔دنیا بھر میں پائے جانے والے پستولوں میںایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ڈریگنوو رائفل مجھے وہیں سے ملنا تھی ۔
اس بٹالین کاانٹیلی جنس آفیسر میرے ساتھ بارودی سنگی قطے تک چل کر آیا تھا ۔اس کے ساتھ اس پوسٹ کا کمانڈر میجر مزمل بھی تھا ۔اس جگہ سے گزرنے کے رستے کی نشان دہی کر کے انھوں نے الوداعی معانقہ کیا ۔
”ذیشان !....اللہ پاک تمھیں کامیاب کرے اور خیریت سے لوٹو ۔“دعائیہ انداز میں میرا کندھاتھپتھپا کر انھوںنے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔اور خود وہیں کھڑے ہو کر میری حرکت کی نگرانی کرنے لگے ۔
بارودی سرنگی قطے کو عبور کرتے ہی میں نے پیچھے دیکھ کر ہاتھ لہرایا ۔وہ ہیولوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے ۔مجھ پر نظر رکھنے کے لیے انھوں نے اپنی آنکھوں سے شب ِ دیدعینک لگائی ہوئی تھی ۔میرے ہاتھ کے جوا ب میں انھوں نے بھی جواباََ ہاتھ لہرا دیے۔میں آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگا ۔فروری کا مہینا اختتام پذیر ہونے کو تھا لیکن اس علاقے میں سردی عروج پر تھی ۔برف نے سارے پہاڑوں کو سفیدی کی چادر اوڑھا دی تھی ۔میں مکمل تیاری کے ساتھ آگے روانہ ہوا تھا مگر میرے پاس موجود سامان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں تھی جو پاک آرمی میں استعمال کی جاتی ہو ۔بوٹ ،دستانے ،جرابیں ،گرم ٹوپی سے لے کر میرے پہننے والے کپڑوں تک۔ تمام کی تمام وہ اشیاءتھیں جو خصوصاََ اس علاقے کے مقامی لوگ استعمال کرتے تھے ۔انڈین کرنسی کے چند ہزار روپے بھی میرے پاس موجود تھے ۔ضرورت پڑنے پر میں مزید رقم وہاں پر موجود ایک مخصوص شخص سے لے سکتا تھا ۔کرن مہتا کے نام سے میرے پاس شناختی کاغذات بھی موجود تھے جو کہ انبالے کے ایک مضافاتی گاﺅں کا رہائشی تھا ۔
پیدل چلتے ہوئے سر دی کا احساس نہیں ہوتا ۔مجھے بھی مسلسل چلتے ہوئے پسینہ آ گیا تھا۔رات کے وقت اترائی کا سفر پر مشقت تو نہیں لیکن مشکل بہت ہوتا ہے ذرا سی بے احتیاطی سے انسان نیچے لڑھک سکتا ہے اور نیچے لڑھکنے کا مطلب موت ہی ہے کیونکہ اتنی بلندی سے گر کر بچ جانے والاجن بھوت تو ہو سکتا ہے انسان نہیں۔ٹارچ جلانے کا خطرہ میں مول نہیں لے سکتا تھا۔لے دے کے بیسویں کے چاند کی مدہم روشنی میری معاون اور مددگار تھی ۔مجھے اس پہاڑ سے نیچے آتے گھنٹا ،پون گھنٹا لگ گیا ،کیونکہ میں سیدھا نیچے اترنے کے بجائے ترچھا چلتا گیا تھا ۔سیدھا اترنے میں پھسلنے کاخطرہ زیادہ تھا ۔جنوری فروری میں برف جم کر بہت سخت ہو چکی ہوتی ہے ۔اور برفانی تودوں کے گرنے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس اکتوبر نومبر میں چونکہ برف تازہ تازہ پڑی ہوتی ہے اس لیے برفانی تودے زیادہ گرتے ہیں ۔
نالے میں اترتے ہی میں خطرناک علاقے میں پہنچ گیا تھا ۔ سامنے والی پہاڑی پر انڈیا کا بٹالین ہیڈکواٹر موجود تھا ۔گو وہ کافی اونچائی پر تھا لیکن اس کے سامنے نیچے کی طرف اس کی فارورڈ آبزرونگ پوسٹ بھی موجود تھی جو نالے سے قریباََ پچاس ساٹھ گز ہی بلند ہو گی ۔ایسی پوسٹوں پر ڈیوٹی پر موجود سنتری حد سے زیادہ چوکنا ہوتے ہیں ۔خاص کر ہندو تو اس معاملے میں بہت محتاط ہوتے ہیں ڈر کی وجہ سے پوری پوری رات جاگ کر گزار دیتے ہیں ۔اور پھرشب دید عینکوں کی موجودی میں کسی بھی شخص کو دیکھ لینا اتنا مشکل نہیں ہوتا ۔اس ضمن میں تھرمل امیجنگ سائیٹ بہت کارآمد ہے جوحرارت کے اصول پر کام کرتی ہے ۔یہ نہ صرف اندھیرے میں دیکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ دوربین کی طرح اس سے لمبے فاصلے تک بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
ان سب سے بڑھ کر خطرہ مجھے پوسٹ پر موجود کتوں سے تھا ۔ ان علاقوں میں ہر پوسٹ پر کتے موجود ہوتے ہیں ،خال ہی کوئی پوسٹ کتوں سے تہی دامن ہوتی ہے ۔اور یہ کتے رکھوالی کا بہت عمدہ ،اعلا ،سستا اور کارآمد ذریعہ ہیں ۔ساری رات نہیں سوتے اور پوسٹ کی حدود میں کسی بھی جنگلی جانور کی آمد پر یا کسی غیر متعلق آدمی کی آمد پر آ سمان سر پر اٹھا لیتے ہیں ۔اور کتوں کے بھونکنے پر سنتری فی الفور شب دید عینک کی مدد سے علاقے کا جائزہ لینا شروع کر دیتے ہیں ۔یہ کتے بعض اوقات کافی دور کی حرکت بھی دیکھ لیتے ہیں اور بھونکتے ہوئے اسی سمت دوڑ پڑتے ہیں ۔انسان کتنا ہی چاق و چوبند اور ہوشیار کیوں نہ ہو ،مسلسل ایک ہی کام کر کے سست پڑ ہی جاتا ہے اور کتوں کا تسلسل سے بھونکنا اسے ہوشیار کرنے کے لیے کافی ہو تا ہے ۔
انھی کتوں کے خوف سے میںفاروڈ آبزرونگ پوسٹ سے مخالف جانب بالکل نالے کی جڑ میں، جھاڑیوں کی آ ڑ لیتا ہوا گزرنے لگا ۔دن کو اپنی پوسٹ سے میں اس علاقے کا اچھی طرح جائزہ لے چکا تھا ۔اس فارورڈ پوسٹ سے کلو میٹر بھر آ گے مجھے چند گھر بھی نظر آئے تھے ۔وہ سول لوگ تھے اوراس علاقے میں زیادہ تر مسلمان ہی آبا د تھے لیکن ان میں جاسوسوں کی موجودی کو نظر آنداز نہیں کیا جا سکتا تھا ، بلکہ کئی بار پاک آرمی مقامی لوگوں کی صورت دھارے انڈین جاسوسوں کو گرفتار کر بھی چکی تھی ۔ان میں کچھ تو انڈین آرمی کے تربیت یافتہ جاسوس تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو روپے پیسے کی لالچ میں آ کر اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے تھے ۔انھی میں جاسوسوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو دونوں جانب کی آرمی سے ملے ہوتے ہیں ۔ایسے لوگ پاک آرمی کی کارروائیوں اور حرکت کی خبریں انڈین آرمی تک پہنچا دیتے ہیں اور انڈین آ رمی کی باتیں پاک آرمی تک لے آتے ہیں۔کچھ مقامی اور بے بس لوگوں کوبھی انڈین آرمی بلیک میل کر کے اپنا جاسوس بنا لیتی ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جان ،مال اور عزت و آبرو کے نقصان کی دھمکی دی جا تی ہے۔مختصراََ یہ کہ وہاں کسی مقامی آدمی پر اعتبار کرنا نہایت مشکل ہے۔ سرحد عبور کرنے کے بعدبھی یہ مسئلہ جوں کا توں ہی باقی رہتا ہے ۔کسی بھی شخص پر اعتبار کرنے کے لیے ضروری ہوتاہے کہ اس کے بارے سر حد عبور کرنے والے کسی بھی جاسوس اور میری طرح کسی ہدف کی تلاش میں آئے ہوئے شخص کو پہلے ہی سے مطلع کردیا جائے ،کہ فلاں شخص سے رابطہ کرکے مدد حاصل کی جاسکتی ہے ۔ورنہ اس کے علاوہ کسی پر بھی اعتبار کرنے کی صورت میں پکڑے جانے کاخطرہ بہت زیادہ ہے ۔
مجھے بھی چند مخصوص نام اور ان سے ملنے کے لیے شناختی الفاظ وغیرہ بتا دیے گئے تھے ۔جس آدمی سے میں نے ڈریگنوو رائفل لینا تھی وہ ہندو کا نام اور شناخت دھارے ایک مسلم تھا ۔اس کا نام آدیت ورما تھا ۔اس نے شادی بھی ایک ہندو لڑکی سے کی ہوئی تھی ۔نامعلوم وہ کب سے وہاں موجود تھا ۔ پاکستان سے جانے والے خاص الخاص افراد ہی کو اس کے بارے بتایا جاتا ۔میرے مقصد کو مدنظر رکھ کر مجھے بھی اسی سے ملنے کا حکم دیا گیا تھا ۔
میں نالے میں آگے بڑھتا رہا ۔نالے میں برف موجود نہیں تھی البتہ درمیان میں صاف و شفاف پانی ضرور بہہ رہا تھا ۔پانی کی سطع تو چند انچ سے زیادہ بلند نہیں تھی البتہ چوڑائی میں نالہ سات آٹھ گز سے زیادہ وسیع تھا۔اور اس میں بکھرے ہوئے پتھروں پر پاﺅں رکھ کر بغیر جوتے بھگوئے نالے کو عبور کرنا نہایت آسان تھا ۔نالے میں موجود گھر نسبتاََ بلند جگہ پر واقع تھے ۔تمام گھر نالے میں قدرے دائیں جانب واقع تھے جبکہ انڈین پوسٹیں بائیں جانب واقع تھیں ۔میں ان گھروں سے دو سو گز پہلے ہی وہ نالہ احتیاط سے عبور کر نے لگا۔کیونکہ نالے کے دائیں کنارے حرکت کرنا ممکن نہیں رہا تھا ۔ایسا کرنے کی صورت مجھے ان گھروں کے درمیان سے گزرنا پڑتا ۔اور اس آبادی میں کتوں کی موجودی یقینی تھی ۔ایک اجنبی پر وہ جس غضب ناک انداز میں بھونکتے اس کا اندازہ لگانے کے لیے عقل بیناکی ضرورت نہیں ہے۔
نالے کا پانی پتھروں سے ٹکراتے اور ہلکے پھلکے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے دھیمی دھیمی سرگوشیاں کر رہا تھا ۔ایسی سرگوشیاں گرمیوں کے موسم میں تو بہت بھلی لگتی ہیں لیکن سردیوں میں یہ خوب صورت شور کپکپی طاری کر دیتا ہے ۔پتھر پانی میں مسلسل پڑے چکنے ہو گئے تھے ۔ان پر پاﺅں جما کر نالہ عبور کرنا تھوڑا دشوار گزار لگا کیونکہ پھسلنے کی صورت میں کپڑے گیلے ہونے کا اندیشہ تھا ۔اور اس علاقے میں موسم بھی کسی کمینے دشمن سے کم نہیں ہے ۔سردی کسی کی جان لیتے وقت مذہب ،ارادہ اور مقصد نہیں پوچھتی بس جو اس کی لپیٹ میں آ جائے اس کا کام نبٹا دیتی ہے ۔
نالہ خیریت سے پار کر کے میں نالے کے بائیں کنارے چلنے لگا ۔مجھے سب سے بڑی سہولت وہاں بکھری ہوئی جھاڑیاں دے رہی تھیں ۔ان کی آڑ لے کر چلتے ہوئے میں دشمن کی نظروں سے اوجھل تھا ۔آگے جا کر وہ نالہ بائیں جانب مڑ رہا تھا ۔اسی جانب تیس پینتیس کلومیٹرکے فاصلے پر اوڑی شہر تھا ۔ میری منزل انبالہ کا شہر تھا ۔کشمیر کی سرحد کے ساتھ جا لندھر واقع تھا اور اس کے بعد انبالہ آتا تھا ۔وہاں تک مجھے اپنی کوشش سے پہنچنا تھا۔ جالندھر اور انبالہ کے بارے اچھی خاصی معلومات یونٹ کے سیکنڈ ان کمانڈ اور پھر استاد نصیرالدین کی وساطت سے مجھے مل چکی تھیں لیکن زبانی کلامی سننے اور عملی طور پر وہاں پہنچنے میں بڑا فرق ہے ۔
نالہ مڑ کر دو تین سو گز آگے مگر بلندی پر انڈیا کی ایک اور پوسٹ تھی جو اسی موڑ کی حفاظت پر مامور تھی ۔میں اس پوسٹ کے نیچے سے ہو کر گزرا ۔وہاں بنی ہوئی پگڈنڈی اس بات کا مظہر تھی کہ وہ رستا مسلسل استعمال میں رہتا تھا ۔ایسے رستے پر چلنا اس لحاظ سے مفید رہتا ہے کہ بارودی سرنگ وغیرہ کا خطرہ نہیں ہوتا۔میں بھی اسی رستے پر ہو لیا ۔وہاں کافی جھاڑیاں پھیلی تھیں ۔اس پوسٹ کی حدود سے میں تھوڑاہی آگے بڑھا ہوں گا کہ اچانک میرے کانوں میں کسی کے بولنے کی آواز پڑی ۔میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اس کے ساتھ ہی نیفے میں اڑسا ہوا پسٹل میں نے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔ جھاڑیوں کی وجہ سے دکھاﺅ محدود ہو گیا تھا ۔اگر میرے کانوں میں باتوں کی آواز نہ پڑتی تو یقینا میرا ان بولنے والوں سے آمنا سامنا ہو گیا ہوتا ۔منٹ بھر بعد ہی آواز واضح ہو گئی تھی ۔
”موہن !....تھوڑا آہستہ چلو یا ر!....تاکہ پوسٹ تک پہنچتے ہوئے ہماری ڈیوٹی کا وقت پورا ہو جائے ۔“
”دو تین منٹ آرام کر لیتے ہیں ۔“ایک دوسری آواز سنائی دی ۔
”سجیت کو تو ہر وقت آرام کی پڑی ہوتی ہے ۔“یہ آواز پہلی دونوں آوازوں سے مختلف تھی ۔
”ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں ۔آہستہ چلنے سے بہتر ہے چند منٹ بیٹھ کر آرام کر لیا جائے ۔“وہ یقینا سجیت تھا ،جو اپنے کہے کا دفاع کر رہا تھا ۔یہ بات کرتے ہوئے وہ میرے سامنے پہنچ گئے تھے ۔میں ان کی تعداد گننے لگا ۔پانچ افراد تھے ۔پانچوں نے اپنے کندھوں سے ہتھیار لٹکائے ہوئے تھے ۔ایک نے اپنی پیٹھ پر بڑا وائرلیس سیٹ بھی باندھا ہوا تھا ۔یقینا یہ ان پٹرولنگ پارٹی تھی ۔کشمیر کی سرحد کو دونوں ممالک پوسٹوں بنا کر محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔کیونکہ بڑے بڑے نالے اور پہاڑی علاقے کو زمینی سرحد کی طرح مورچے وغیرہ بنا کر اور کانٹا تار لگا کر اپنے قبضے میں کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔پھر سردیوں میں تو یوں بھی برف اتنی شدید ہوتی ہے کہ کئی کئی فٹ تک علاقے کو ڈھک دیتی ہے اور کانٹا دار تار وغیرہ برف کے اندر دب کر اپنی افادیت کھو دیتی ہے ۔
وہ گپ شپ کرتے میرے سامنے سے گزرتے چلے گئے ۔لیکن وہ زیادہ دور نہیں گئے ہوں گے کہ اچانک ایک جھاڑی سے لومڑ نکل کر بھاگا ۔جھاڑیوں کی حرکت دیکھ کر ایک آدمی چیخا ۔
”یہاں کوئی ہے ۔“
”کوئی جانور ہو گا گنیش!“کسی نے بے پروا انداز میں اسے تسلی دی ۔
”ایک منٹ دیکھ تو لوں ۔“گنیش پیچھے مڑا ۔اس کا رخ اس جھاڑی کی طرف تھا کہ جس کی میں نے آڑ لی ہوئی تھی ۔بد قسمتی سے وہ بد بخت لومڑ بھی اسی جانب کو دوڑا تھا ۔
میں نے غیر محسوس انداز میں پیچھے ہٹنا چاہا مگر دیر ہو گئی تھی۔مجھے پہلے ہی دو تین جھاڑیاں چھوڑ کر چھپنا چاہیے تھا لیکن جلدی میں میں جس جگہ چھپا تھا وہیں بیٹھا رہ گیا تھا ۔میرے خیال میں تو وہ یوں بھی آگے بڑھ رہے تھے اس لیے مزید رستے سے ہٹنے ضرورت نہیں رہی تھی۔اس میں میرا قصور بھی اتنا زیادہ نہیں تھا کہ مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ کوئی لومڑ آخری وقت پر ایسی حرکت کر گزرے گا ۔میں ابھی وہاں سے غائب ہونے کا کوئی طریقہ سوچ ہی رہا تھاکہ ایک دم گنیش جھاڑی کی اوٹ سے نمودار ہوا چاند کی مدہم روشنی سے بڑھ کر گنیش کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی طاقتور ٹارچ نے میرا بھانڈا پھوڑا تھا ۔
”کون ہو تم ؟“اس کے منہ سے خوف اور غصے کی ملی جلی آواز برآمد ہوئی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتارنے کی کوشش کی ۔
اسے اس کوشش میں کامیاب ہونے دینا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف تھا ۔میں نے بغیردیر کیے ٹریگر دبا دیا ۔میرے پاس سائیلنسر موجود تھامگر اتنا وقت نہیں تھا کہ میں سائیلنسر پستول کی نال پر فٹ کر پاتا۔ماحول دھماکے کی آواز سے گونج اٹھا تھا ۔ دو تین گز کے فاصلے سے چلائی ہوئی گولی کے خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔گو روشن ٹارچ کی وجہ سے مجھے اس کا چہرہ واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن اس کا ہیولہ واضح تھا اور گولی چلانے کے لیے اتنا دکھاﺅ کافی ہوتاہے ۔سر میں لگنے والی گولیوں نے اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں دیا تھا ۔میں نے مسلسل دو مرتبہ ٹریگر دبایا تھا ۔اس کے گرتے ہی میں نے قدم بڑھا کر اس کی کلاشن کوف اٹھالی ۔اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹارچ کا رخ قدرتی طور پر اس کی طرف ہو گیا تھا ۔اس نے بنڈوریل پہنا ہوا تھا جس کے سامنے مجھے دو ہینڈ گرنیڈ لٹکتے نظر آئے ۔میں نے لگے ہاتھوں وہ گرنیڈ بھی اس کے بنڈوریل سے نکال کر اپنی جیبوں میں دال لیے تھے ۔یہ کرتے ہی میں جھکے جھکے پیچھے بھاگا۔
”گنیش !....گولیاں تم نے چلائی ہیں ؟“سراسیمہ لہجے میں پوچھا گیا ۔ گنیش غریب جواب دینے کی حالت میں ہوتا تو بتاتا ۔
”گنیش !....تم جواب کیوں نہیں دے رہے ؟“اس مرتبہ ایک اور خوفزدہ آواز ابھری ۔
میں اس دوران جھکے جھکے وہاں سے دورہٹنے لگا ۔
”گنیش کو گولی لگ چکی ہے ۔“کسی نے چیختے ہوئے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے کلاشن کوف کا فائر کھول دیا تھا ۔فضا مسلسل فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھی تھی ۔میں بغیر کسی تاخیر کے زمین پر لیٹ گیا اور اسی حالت میں ان سے دور ہٹنے لگا ۔اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر میری طرف سے فائر کا جواب نہ دیا گیا تو وہ میرا تعاقب کر سکتے تھے ۔میں نے رک کر کلاشن کوف کاکاکنگ ہینڈل کھینچ کر چھوڑا ۔ ایجکشن سلاٹ کے رستے گولی اڑ کر دور جا گری تھی ۔یقینا رائفل پہلے سے لوڈ تھی اور میرے کاکنگ ہینڈل کھینچنے کی وجہ سے پہلے سے لوڈ شدہ گولی باہر نکل گئی تھی ۔لیکن وہ وقت ایسی باتوں پر غور کرنے کا نہیں تھا ۔میں نے سیفٹی لیور کو سنگل راﺅنڈ فائر کرنے کی حالت پر لگایا اور دو تین فائر داغ دیے ۔اس کے ساتھ ہی میں زوردار آواز میں بولا ۔
”عبداللہ !....فائر مت کرو انھیں زندہ پکڑنا ہے ۔اسامہ !....تم وقاص کے ساتھ دائیں طرف سے جاﺅ ۔حمزہ تمھارے ساتھ ہو گا اور ہارون تم ابو ہریرہ اور خالد کے ساتھ بائیں طرف سے آگے بڑھو ۔“اتنا کہہ کر میں نے بھاری آواز بنا کر کہا ۔”جی کمانڈر!“
اور خود پیچھے مڑ کر جھکے جھکے انداز میں بھاگنے لگا ۔
اس کے ساتھ ہی میرے کانوں میں کسی کا گھبرائی ہوئی آواز میں ”بھاگو ۔“کہنا پڑ چکا تھا ۔ بھاگتے ہوئے انھوں نے چند گولیاں فائر کی تھیں مگر وہ ان کی اضطراری حرکت تھی،تمام گولیاں بغیر نشانہ سادھے اور کسی ہدف کو تاکے بغیر چلائی گئی تھیں ۔ہندو اتنا بہادر نہیں ہے کہ رک کر مجاہدین کا مقابلہ کر سکتا ۔ میں نے بھی جلدی میں ہونے کے باوجود ایسے نام لیے تھے جن سے عموماََ مجاہدین ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں ۔اور یہ سب سنتے ہی انھوں نے تحقیق کرنے یا کچھ سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔لیکن ان چار بندوں کے بھاگنے سے خطرہ نہیں ٹلا تھا ۔میں انڈیا کی حدود میں داخل ہو گیا تھا ۔اور مجھے یقین تھا کہ انھوں نے بڑے پیمانے پرفرضی مجاہدین کی تلاش کاکام شروع کر دینا ہے ۔
خیر وہ بعد کی بات ہے ۔میں نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی ۔فی الحال وہاں سے غائب ہونا ضروری تھا ۔میں تمام احتیاط بلائے طاق رکھ کر سر پٹ دوڑنے لگا ۔اس علاقے میں موجود نالے بتدریج گہرائی میں اترتے جاتے ہیں ۔ ہلکی ہلکی ڈھلان میں مجھے بھاگنے میں اگر کوئی دقت تھی تو بکھرے ہوئے پتھروں کی وجہ سے تھی ۔ بھاگتے ہوئے ہندوں کے اکا دکا کی فائر کی آواز ابھی تک آ رہی تھی ۔اچانک پورا علاقہ روشنی میں نہا گیا تھا۔ میں فوراََ زمین پر لیٹ کر ساکن ہو گیا ۔نالے پر تعینات پوسٹ سے کسی نے مارٹر گن سے روشنی کا گولہ فائر کیا تھا ۔مارٹر کا روشنی کا گولہ کافی بلندی پرجا کر پھٹتا ہے ۔روشنی کے گولے کے ساتھ چھوٹا سا چھتری نما کپڑا لگا ہوتا ہے اس لیے نیچے گرتے وقت گولہ دھیمی رفتار میں نیچے آتا ہے اور اس دوران اس کی روشنی سے کافی دور تک کے علاقے کی دیکھ بھال کی جا سکتی ہے ۔گولے کی روشنی ختم ہوتے ہی میں ایک بار پھر بھاگ پڑا اس دوران ایک اور گولہ فائر ہوا اس وقت تک میں جھاڑیوں کے ایک گھنے جھنڈ میں داخل ہو گیا تھا ۔اس مرتبہ میں نے رکنے کی کوشش نہیں کی اور آگے بڑھتا گیا۔وہ نالہ آگے جا کر تین شاخوں میں بٹ گیا تھا ۔میں نے بغیر کسی منطقی سوچ کے ایک نالے کا چناﺅ کیا اور آگے بڑھ گیا ۔وہ سوچنے کا وقت نہیں تھا ۔روشنی کے گولے مسلسل فائر ہو رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان جھاڑیوں کے جھنڈ پر تواتر سے گولیاں برسائی جانے لگیں۔ وکرس گن سے فائر کیا جا رہا تھا ۔اس کی آواز میں اچھی طرح پہچانتا تھا ۔اور پھر وہاں دو انچ مارٹر کے گولے بھی فائر کیے جانے لگے ۔ جن جھاڑیوں سے میں گزر رہا تھا وہ البتہ دو انچ مارٹر گن کی زد سے باہر تھیں ۔کیونکہ میری معلومات کے مطابق انڈین آرمی کے پاس موجود دو انچ قطر کی مارٹر کا زیادہ سے زیادہ رینج بہ مشکل ساڑھے سو میٹر تھا۔اس کے ساتھ ان کے پاس ساٹھ ایم ایم مارٹرز بھی موجود ہیں جن کا رینج بارہ سو پچاس میٹر ہے ۔ان دونوں مارٹرز کے مار کے علاقے سے تو میں نکل آ یا تھا لیکن اکیاسی ایم ایم مارٹر کہ جس کا رینج پانچ کلومیٹر تھا اس کی رینج میں میں اب بھی آ رہا تھا ۔لیکن اتنی عقل تو بہ ہر حال ان میں بھی موجود تھی کہ کہ اکیاسی ایم ایم مارٹر کے گولے وہ اپنے علاقے میں فائر نہیں کر سکتے تھے ۔ذرا سی بے احتیاطی سے خود ان کی کوئی اپنی پوسٹ بھی فائر کی زد میں آ سکتی تھی ۔(قارئین کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ یہاں میں نے انڈین مارٹروں کی رینج وغیرہ لکھی ہے ۔پاکستا ن آرمی کے پاس موجود انھی ناموں کی مارٹروں کی رینج بالکل مختلف ہے )
میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا تھا ۔وہ چھوٹی مارٹروں سے اپنی پوسٹ کے قریب موجود جھاڑیوں ہی میں مارٹر اور وکرس کا فائر کرتے رہے ۔دائیں بائیں کے علاقے میں بھی روشنی کے گولے فائر ہونا شروع ہو گئے تھے ۔یقینا وائرلیس سیٹ سے وہ اپنی دوسری پوسٹوں تک یہ خبر پہنچا چکے تھے ۔یا یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اپنی ایک پوسٹ سے فائر ہوتا دیکھ کر دوسروں نے حفظ ماتقدم کے طور پر روشنی کے گولے فائر کرنا شروع کر دیے ہوں ۔
بہ ہر حال کچھ بھی تھا یہ بات یقینی تھی کہ میں بری طرح پھنس چکا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی شک سے مبرا تھی کہ میں اتنی آسانی سے ہتھیار ڈالنے والوں میں سے نہیں تھا ۔
میں جھاڑیوں کے جنگل سے باہر آ چکا تھا ۔اب دوڑنے کے بجائے میں نے تیز قدموں سے چلنا شروع کر دیا ۔میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے پھیپھڑے منہ کے رستے باہر آ گریں گے ۔آ کسیجن کی کمی کی وجہ سے میری یہ حالت ہو رہی تھی ۔میں نے لمحہ بھر ٹھہر کر اپنا سانس قابو میں کیا اور پھر چل پڑا۔وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز میرے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔میرا اندازہ تھا کہ جلد ہی انھوں نے علاقے کی تلاشی کے لیے اپنی پارٹیاں نکال دینا تھیں ۔اس وقت تک میں اس علاقے سے جتنا دور نکل جاتا اتنا بہتر تھا ۔
اچانک مجھ سے چند سو گز آگے روشنی کا گولافائر ہوا ۔بغیر کسی شبے وہ اکیاسی ایم ایم مارٹر کا گولہ تھا کیونکہ یہ اس سے پہلے فائر ہونے والے گولوں سے حجم میں بڑا تھا اور اس کی روشنی بھی زیادہ تھی ۔
میں فوراََ نیچے لیٹ کر ساکن ہو گیا ۔اس کی روشنی میں دور دور تک کسی بھی چیز کی حرکت کو دیکھا جا سکتا ہے ۔نیچے لیٹ کر میں بھی اس گولے کی روشنی سے مستفید ہونے لگا ۔حد نگاہ تک نظر آنے والے علاقے کا میں نے اچھی طرح جائزہ لے لیا تھا ۔دوسرے گولے کے فائر ہونے سے پہلے میں اٹھ کر آگے بڑھ گیا ۔آگے وہ نالہ مزید دو حصوں میں منقسم ہو گیا تھا ۔جس سمت پوسٹ موجود تھی میں نے اسی سمت سفر جاری رکھا ۔دوسرے نالے میں لازماََ آگے جا کردوسری پوسٹ موجود ہونا تھی ۔اور نامعلوم وہاں سے اس کا فاصلہ کتنا تھا ۔جبکہ اس پوسٹ کے علاقے کو عبور کرنے کے بعد آگے چند کلومیٹر تک میں دوسری پوسٹ کے درد سر سے بچ سکتا تھا ۔پوسٹ چونکہ دو تین سو گز دور ڈھلان پر واقع تھی اس لیے میں پتھروں کی آڑ لے کر آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا ۔پوسٹ اور میرے درمیان کسی بڑی چٹان آنے کی صورت میں میں وہ فاصلہ بھاگ کر طے کرتا ۔اور اس کے بر عکس ہونے کی صورت میں زمین پر لیٹ کر رینگنے لگتا ۔ اچانک کلاشن کوف گرجی ،گولیوں کی بوچھا ڑ اسی سمت آئی تھی جہاں میں موجود تھا ۔بلا شک و شبہ شب دید آلات میں میری حرکت نظر آ گئی تھی ۔اب اس سمت سفر جاری رکھنا بے وقوفی تھی ۔میں فوراََ پچیس تیس گز دور نالہ موڑ کی طرف بڑھا ۔لیکن زمین سے اٹھنے کی غلطی میں نے نہیں کی تھی ۔چند قدم دور پتھر کی ایک بہت بڑی چٹان موجود تھی اس کی آڑ لے کر میں اس نالے میں گھس سکتا تھا جس میں داخل ہونا میں نے پہلے نا مناسب سمجھا ۔چٹان کی آڑ میسر آتے ہی میں سر پٹ بھاگا ۔اس وقت روشنی کا گولہ فائر ہوا ۔لیکن روشنی پھیلتے تک میں دوسرے نالے میں مڑ کر اوجھل ہو گیا تھا ۔اب میں نے پھر بھاگنا شروع کر دیا تھا ۔ موڑ کے سر ے کی طرف مجھے مسلسل فائر کی گونج سنائی دیتی رہی ۔میں دائیں بائیں دیکھتا آگے بڑھتا رہا ۔ اس جگہ میرے نظر آ نے کا مطلب یہ تھا کہ میرا پچھلا سفر بے کار گزرا تھا ۔دشمن میرے سفر کی سمت کو جان چکا تھا۔ اس کے ساتھ میں کتنا سفر کر چکا تھا یہ بھی اسے معلوم ہو گیا تھا ۔ہو سکتا ہے انھیں میرے اکیلا ہونے کے بارے بھی معلوم ہو گیا ہو کیونکہ جس آخری پوسٹ کے قریب میری حرکت دیکھی گئی تھی لازماََ انھیں صرف ایک آدمی ہی نظر آیا ہوگا ۔گو یہ حتمی بات نہیں تھی ۔وہ یہ بھی سوچ سکتے تھے کہ وہ فرضی مجاہدین مختلف سمتوں میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
قدموں کی رفتار سے زیادہ میری سوچیں مختلف قسم کے مفروضوں میں الجھی ہوئی تھیں ۔پاﺅں جلد از جلداس جگہ سے دور ہونے میں میری مدد کر رہے تھے اور دماغ کوئی بہتر حل سوچنے میں مسلسل سرگرداں تھا ۔موڑ سے تھوڑا دور آنے پر گھنی جھاڑیاں اور درخت شروع ہو گئے تھے ۔درختوں کی وجہ سے چاند کی روشنی بھی کا رآمد نہیں رہی تھی ۔لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ میں ٹارچ جلانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا ۔ٹارچ کی روشنی بہت دور سے نظر آ جاتی ہے اور ایسی حالت میں کہ دشمن میری موجودی سے با خبر تھا ٹارچ روشن کرنا ۔”آ بیل مجھے مار ۔“کی کہاوت کا عملی ثبوت دینا تھا ۔
میں ٹھوکریں کھاتا جھاڑیوں سے الجھتا آگے بڑھتا رہا ۔رکنے کا خطرہ میں کسی صورت مول نہیں لے سکتا تھا ۔مجھے علم تھا کہ صح پہلی روشنی کے ساتھ ہی یہ سارا علاقہ انڈین آرمی نے گھیر لینا تھا ۔ایسا کرنا ان کے لیے اس لیے بھی آ سان تھا کہ وہاں چاروں اطراف ان کی پوسٹیں پھیلی ہوئی تھیں ۔اپنی پوسٹوں کی آدھی نفری ہی نیچے نالوں میں تعینات کرنے سے وہ آنے جانے کے زیادہ تر رستے بند کر سکتے تھے ۔ایسا ہونے کی صورت میں میں لمبے عرصے کے لیے محبوس ہو جاتا ۔میرے پاس اتنا راشن موجود نہیں تھا کہ میں زیادہ وقت کسی پوشیدہ مقام پر گزار سکتا ۔یوں بھی سردی کی وجہ سے رضائی کے بغیر رات گزارنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا ۔اور ایسا بھی میں اپنے پاس موجود گرم کپڑوں کی بنا پر کہہ رہا ہوں ورنہ اس سردی میں رات گزارنا عزرائیل ؑ سے معانقہ کرنے کے مترادف تھا ۔
انھی سوچوں میں الجھا میں لمبے قدم اٹھاتا آ گے روانہ تھا ۔اس نالے میں نہ تو کوئی موڑ آیا تھا اور نہ کہیں نالے کی ذیلی شاخ نظر آئی تھی ۔دائیں بائیں کی چڑھائیاں بھی کافی دشوار گزار تھیں ۔اور رات کی وجہ سے تو وہ چڑھائیاں اور بھی سخت اور دشوار گزار نظر آ رہی تھیں ۔
اچانک مجھے ٹھٹھک کر رک جانا پڑا ۔ہوا کے دوش پر وائرلیس سیٹ کے سپیکر سے نکلتی آواز میرے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھی ۔ایک دم نیچے بیٹھ کر میں نے اپنے کان آواز کی سمت لگادیے ۔
آواز اتنی واضح نہیں تھی میں ان کی بات سمجھ پاتا ۔
میں بیٹھے بیٹھے ہی اس سمت کو بڑھنے لگا ۔جلد ہی واضح آواز میرے کانوں میں آنے لگی تھی ۔ یقینا وائرلیس سیٹ والے نے آواز کو دھیما رکھا ہوا تھا لیکن رات کے سناٹے میں پھر بھی کافی دور تک آواز جا رہی تھی ۔
”نہیں ۔اور بندوں کی ضرورت نہیں ہے ۔اتنے ہی کافی ہیں،اوور۔“میری سماعتوں میں پہلا مکمل فقرہ پڑا تھا ۔
”ٹھیک ہے سر !....ہم تیار بیٹھے ہیں ،اوور۔“وہاں موجود آدمی نے نسبتاََ دھیمے لہجے میں جوب دیا تھا ۔(وائرلیس سیٹ کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ اس پر بات چیت کرتے وقت اونچی آواز سے بات کرنا پڑتی ہے ۔اس طرح دوسری طرف سے آنے والی آواز بھی اچھی خاصٰ بلند ہوتی ہے ۔اور آواز کے کم ترین درجے میں بھی ،موبائل فون کے سپیکر آن ہونے جتنی آواز ضرور سنائی دیتی ہے ۔لیکن اس وقت وائرلیس سیٹ کی وہ خامی میرے لیے رحمت کا باعث بنی تھی ۔شہری علاقوں میں آپریشن وغیرہ کرنے کے لیے اب وائرلیس کے ساتھ ایئر فون کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اس وجہ سے دوسری طرف سے آنے والی آواز کو فقط استعمال کرنے والا ہی سن سکتا ہے )
”اور ضروری نہیں کہ ایک بندہ ہو ۔ایک بندہ تو ہمیں نظر آیا ہے ۔ہو سکتا ہے زیادہ افراد ہوں۔ ہم پیچھے سے آ رہے ہیں ۔تم نے آگے گزرنے نہیں دینا ۔اور جنگل سے باہر گھات لگانی ہے ۔ دوسری صورت میں وہ درختوں کی آڑ وغیرہ لے کر نکل بھی سکتے ہیں ،اوور۔“دوسری جانب دی جانے والی تمام ہدایات مجھے بغیر کسی دشواری کے سنائی دے گئی تھیں ۔
”ہم جنگل کے سرے ہی پر موجود ہیں سر !....اوور۔“
”ٹھیک ہے وہیں انتظار کرو آگے نہیں آنا ۔اور اپنے آدمیوں کو آڑ میں رکھنا ہے یہ نہ ہوہماری طرف سے چلائی گئی گولیوں کا نشانہ اپنے آدمی بن جائیں اوور۔“
”ہم مختلف پتھروں اور چٹانوں کی آڑ میں ہیں سر !اوور۔“
”کیپ لسننگ ،اوور اینڈ آل ۔“دوسری جانب کی آواز آنا بند ہو گئی تھی ۔
میں چوہے دان میں پھنس گیا تھا۔”آگے دریا، پیچھے کھائی ۔“والی مثال اس وقت سو فیصد مجھ پر منطبق ہو رہی تھی ۔میرے تعاقب میں آنے والوں کی تعداد دس بارہ سے زیادہ ہی ہونا تھی ۔اسی طرح سامنے بھی اتنے آدمی تو لازمی طور پر موجود ہونا تھے ۔ایسی صورت میں میرا بچ جانا ایک کرامت ہی ہوتی ۔
لیکن میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا ۔میں نے فیصلہ کرنے میں چندمنٹ سے زیادہ وقت نہیں لگایا تھا ۔حتمی فیصلے پر پہنچتے ہی میرے قدم چڑھائی کی طرف اٹھنے لگے ۔چڑھائی کا سفر یوں بھی بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ چڑھائی تو بہت دشوار گزار تھی ۔ وہ پہاڑی عبور کر کے اگر میں دوسری جانب اتر جاتا تو کسی محفوظ مقام تک پہنچ سکتا تھا ۔درختوں اور جھاڑیوں کی آڑ نے زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں دیا تھا ۔درختوں کی آڑ سے نکلتے ہی چڑھائی مزید سخت ہو گئی تھی ۔پہلے تو میں اوپر چڑھنے کے لیے جھاڑیوں وغیرہ کی مدد لے رہا تھا ،لیکن اب ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر چڑھتا۔ کلاشن کوف کی سلنگ میں نے سر سے گزار کرکلاشن کوف پیٹھ پیچھے لٹکا لی تھی ۔پہاڑی علاقہ عبور کرنے تک میں اس کلاشن کوف کوپھینکنا نہیں چاہتا تھا ۔ہاتھوں کی مددسے پتھر کے باہر کو نکلے ہوئے نوکیلے سرے پکڑ کر میں نے آہستہ آہستہ اوپر کھسکنا شروع کر دیا ۔اگر میرا ہاتھ پھسل جاتا تو میرا بچنا محال تھا۔میں درختوں کی آڑ سے نکل کر چند گز ہی اوپر چڑھا ہوں گا کہ میری سماعتوں میں کلاشن کوف کے برسٹ کی آواز گونجی ۔
”چل بھئی شانی !....تمھارا وقت تو پورا ہوا ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔
اسی وقت دو تین اور برسٹ چلائے گئے ۔لیکن کوئی بھی گولی مجھے نہیں چھو سکی تھی ۔میں نے نیچے کی طرف نظر دوڑائی ۔اسی وقت ایک اور کلاشن کوف گرجی ۔آواز کی سمت کا اندازہ کرتے ہی میرا رکا ہواسانس اطمینان بھرے انداز میں خارج ہوا ۔میری تلاش میں سرگرداں دشمن گھنی جھاڑیوں اور شک والی جگہ پر اپنا ایمونیشن پھونک رہا تھا ۔
میں نے دوبارہ اپنا سفر شروع کر دیا ۔دشوار گزار چٹان پر چڑھ کر آگے پچاس ساٹھ قدموں کا سفرپہلی چٹان کی نسبت آسان تھا ۔وہاں برف بھی بکھری پڑی تھی ۔میں آگے کو جھک کر بلندی سر کرنے لگا۔ فائر کی آواز آنا بند ہو گئی تھی ۔میرے قدموں میں تیزی آ گئی تھی ۔کیونکہ کہ مجھے جنگل میں نہ پا کر ان کا خیال دائیں یا بائیں موجود بلندی کی طرف جا سکتا تھا ۔گو چڑھائی بہت دشوار گزار تھی ۔لیکن جہاں تک درختوں کی حدود موجود تھی وہاں تک مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ آ سکتے تھے ۔
جلد ہی میرے اندیشوں نے حقیقت کا روپ دھار لیا تھا ۔اس مرتبہ پہاڑی کے قریباََ درمیان میں کلاشن کوف کا برسٹ چلایا گیا تھا ۔اس وقت تک میں نے آسان رستا طے کر لیا تھا ۔آگے پھر کھڑی چٹان تھی ۔اس چٹان کی جڑ میں میں آگے بڑھنے لگا تاکہ کہیں بھی ایسی جگہ نظر آئے جہاں سے اوپر جانا ممکن ہو سکے تو کوشش کروں ۔مجھے زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔گو وہ جگہ بھی ایسی تھی کہ عام حالات میں اس پر پاﺅں دھرنے کی جرّات میں خود بھی نہ کرتا ۔لیکن اس وقت میری جان پر بنی ہوئی تھی اور جب معاملہ آر پار والا ہو تو بڑے بڑے خطرے مول لے لیے جاتے ہیں ۔
جیب سے مضبوط اور تیز دھار خنجر نکال کر میں نے منہ میں پکڑ لیا تھا ۔کیونکہ بعض جگہوں پر ہاتھ پکڑنے کے لیے کوئی نوکیلی جگہ یا دراڑ نہ ملتی تو میں اس خنجر کو کسی تنگ درز میں گھسا کر ہلکا سا آسرا حاصل کرتا ۔سات آٹھ گز کی اس چٹان کو سر کرتے مجھے دانتوں پسینا آ گیا تھا ۔اپنی پکڑ مضبوط رکھنے کے لیے میں نے دستانے اتار کر جیب میں ڈال لیے تھے ۔اور اس وقت یوں لگ رہا تھا جیسے میرے ہاتھ میرے جسم کا حصہ نہ ہوں ۔سرد چٹان کے مسلسل لمس نے میرے ہاتھوں میں اینٹھن شروع کر دی تھی ۔چٹان پر چڑھتے ہی میں نے ہاتھوں کو آپس میں زور زور سے رگڑنے لگا ۔منٹ بھر یہ وظیفہ جاری رکھنے کے بعد میں نے جیب میں رکھے گرم دستانے نکال کر پہن لیے ۔اس کے بعد پہاڑی کی چوٹی تک کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی کہ مجھے دستانے اتارنے کی ضرورت پڑتی ۔تیس پینتیس قدموں کا سفر طے کر کے میں اوپر پہنچا ۔تلاش کرنے والی پارٹیاں پہاڑ کی اس بلندی تک پہنچ گئی تھیں جہاں درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے کسی جھاڑی پر فائر کرنے سے ہوا ۔وہاں پر میں ان پارٹیوں کی کارروائی سے بالکل محفوظ تھا ۔کیونکہ جس چٹان کو سر کر کے میں اوپر چڑھا تھا ۔اسے عام حالات میں سر کرنے کے لیے کوہ پیمائی کے سامان کا ہونا ضروری تھا ۔میں نے بھی بس جان کا خطرہ مول لیتے ہوئے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تھی ۔کہ اس کو عبور نہ کرنے کی صورت میںبھی میرے لیے موت ہی تھی ۔اور کوشش کر کے مرنا ،ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے کہیں بہتر ہے ۔اس طرح کم از کم دل میں کوئی حسرت تو باقی نہیں ہوتی ۔سکائی لائن سے نیچے ہو کر میں پہاڑ کی بلندی ہی پر آگے بڑھ گیا ۔(کچھ قارئین کی سمجھ میں شاید سکائی لائن کی بات نہ پڑی ہو ۔ان کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ کسی ایسی جگہ پر حرکت کرنا جہاں آدمی کے پس منظر میں کوئی چیز موجود نہ ہو ایسی صورت میں اس آدمی کی حرکت دور سے بھی آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے )
میری حرکت کنسرٹینا وائر (لچھے دار کانٹا دار تار)کو دیکھ کر رکی ۔تار کی موجود یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہاں سے سو دو سو گز کے فاصلے پر انڈیا کی کوئی پوسٹ موجود تھی ۔حالات جس قسم کے بن چکے تھے ان میں پوسٹ کے لوگوں کو غافل سمجھنا ایک حماقت ہی تھی ۔ کنسرٹینا وائر آدھے سے زیادہ برف میں چھپی ہوئی تھی ۔اور اسے عبور کرنا چنداں دشوار نہیں تھا ۔لیکن میں پوسٹ کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا ۔میں دائیں جانب سے اس پہاڑی پر چڑھا تھا ۔کنسرٹینا وائر کے ساتھ ساتھ ہی میں بائیں جانب نیچے اترنے لگا ۔بارودی سرنگی قطعے کو عموماََ باربرڈ وائر (سیدھی کانٹادار)لگا کر ظاہر کیا جاتا ہے ۔گو ہندو جس گھٹیا ذہنیت کا مالک ہے اس سے یہ بعید ہے کہ وہ جینوا معاہدے کے مطابق بارودی سرنگی قطعے کی نشان دہی باربرڈ وائر سے کرے ۔لیکن یہ ان کی فارورڈ پوسٹ نہیں تھی ۔یہاں دشمن کے لیے نہیں تو اپنے آدمیوں کی نشان دہی کے لیے اسے بارودی سرنگی قطعے کی نشان دہی کرنا ضروری تھا ۔اس کے علاوہ کئی کئی فٹ پڑی برف بھی عارضی طور پر بارودی سرنگوں کو ناکارہ کر دیتی ہے ۔کیونکہ برف کی موٹی تہہ کی وجہ سے بارودی سرنگ پر مطلوبہ دباﺅ نہیں پڑتا اور دباﺅ نہ پڑنے کی صورت میں بارودی سرنگ نہیں پھٹتی ۔
میں تار سے باہر رہ کر نیچے اترنے لگا ۔دوسری جانب بھی اترائی کافی دشوار تھی لیکن اتنی نہیں کہ میری حرکت رک سکتی ۔تھوڑا سا نیچے ہوتے ہی اکا دکا درخت اور جھاڑیاں شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے مکمل نالے میں اترے بغیر پہاڑی کے درمیان میں رہتے ہوئے آگے کا سفر شروع کر دیا ۔گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر مجھے صبح کے تین بجتے نظر آئے ۔میں نے دس بجے اپنا سفر شروع کیا تھا ۔گویا مجھے مسلسل حرکت کرتے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے ۔روشنی پھیلنے میں دو اڑھائی گھنٹے رہ گئے تھے اور اس مختصر وقت میں مجھے کسی محفوظ مقام پر پہنچنا ضروری تھا ۔اچانک میرے کانوں میں شدید فائرنگ کی آواز آئی ۔تین چار کلاشن کوفیں اکٹھی ہی گرج رہی تھیں ۔شاید کسی جنگلی جانور کی کم بختی آئی تھی ۔فائر کا دورانیہ کچھ زیادہ نہیں رہا تھا۔ جلد ہی فائر رک گیا تھا ۔گویا میرا اندازہ صحیح تھا کہ کسی گیدڑ یا لومڑ وغیرہ کی حرکت کے باعث جھاڑیاں ہلی تھیں اور بہادر بنیے نے فائر کھولنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
میں نے حفظ ما تقدم کے طور پر پسٹل کی نال پر سائیلنسر بھی چڑھا دیا تھا ۔تھوڑا آگے بڑھتے ہی مجھے بائیں طرف کافی دور روشنی کے دو تین گولے بلند ہوتے دکھائی دیے ۔لیکن وہ وہاں سے کافی فاصلے پر تھے ۔
تھوڑی سی دبی ہوئی جگہ آئی ۔گویا کہ کوئی چھوٹا سا نالہ ہو ۔مجھے اچھی خاصی پیاس محسو س ہورہی تھی ۔ اس دبی جگہ میں چشمے کی موجودی یقینی تھی ۔اور بدقسمتی یہ تھی کہ برف نے چشمے کو اپنے نیچے دبایا ہوا تھا ۔ نالے میں اتر کر مجھے پانی ضرورمل جاتا،لیکن صرف پانی کے حصول کے لیے نالے میں اترنا مجھے کب گوارا ہو سکتا تھا ۔ایک اچھے سنائپر میں اس سے کئی گنا زیادہ پیاس بھی برداشت کرنے کا حوصلہ موجود ہوتا ہے ۔میں ایک اچھاسنائپر ہوں یا نہیں اس بارے تو میں کچھ نہیں کہتا البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجھ میں بھوک پیاس کو برداشت کرنے کامادہ وافر مقدار میں موجود ہے۔
میں اسی سیدھائی میں چلتا رہا ۔روشنی ہونے کے خوف نے مجھے رفتار بڑھانے پر مجبور کر دیا تھا۔
میری بدقسمتی کہ درختوں کی حد اچانک ختم ہوئی ۔اس کے بعد درختوں کے کٹے ہوئے تنوں نے مجھے چوکنا کر دیا تھا ۔وہاں سے درخت اور جھاڑیاں کاٹنے کا مقصد یہی تھا کہ قریب کوئی پوسٹ موجود تھی ۔اس علاقے میں درختوں کی کٹائی تین مقصد سے کی جاتی ہے ۔مورچوں اور رہائشی بنکرز کی تعمیر کے لیے ۔جلانے کے لیے اور فیلڈ آف صاف کرنے کے لیے ۔اور وہاں مجھے موخّر الذکر بات صحیح لگی کیونکہ درخت بہت زیادہ تعداد کاٹے گئے تھے اور زیادہ تر درختوں کے خشک تنے وہیں موجود تھے ۔
درختوں کی آڑ سے باہر آنے کے بجائے میں نیچے نالے میں اترنے لگا ۔تھوڑا سااترتے ہی مجھے اپنے سفر کرنے کی سمت ہلکی سی روشنی دکھائی دی ۔وہاں ایک اور پوسٹ موجود تھی ۔میں درختوں کی آڑ لے کر نیچے اترتا رہا ۔نیچے اترتے ہوئے میری کوشش تھی کہ جھاڑیوں اور پتھروں وغیرہ کا شور نہ ہو ۔زیادہ تر پتھر تو برف میں دب گئے تھے لیکن جس جس جگہ برف ہٹ گئی تھی وہاں بہ ہر حال یہ خطرہ موجود تھا ۔ اورکھڑی ڈھلان میں یوں بھی برف جلد ختم ہوجاتی ہے ۔میں پندرہ بیس منٹ میں نیچے پہنچ گیا تھا ۔یہ نالا دوسرے نالوں کی نسبت تنگ تھا ۔پانی کے ہلکے شور نے مجھے پیاس کا احساس دلایا اور میںدستانے اتار کر اوک سے پانی پینے لگا ۔پانی کافی ٹھنڈا تھا ۔اس علاقے میں ایسے کافی چشمے مل جاتے ہیں جن کا پانی بہت گرم ہوتا ہے ۔لیکن وہ نالے کا پانی تھا اس میں مختلف چشموں کے پانی کے ساتھ پگھلی ہوئی برف کا پانی بھی شامل تھا ۔
پانی پی کر میں نے جھولے سے پلاسٹک کی واٹر بوتل نکال کربھر ی اور نالے کی جڑ میں دبے قدموں آ گے بڑھنے لگا ۔پانچ چھے سو گز کا علاقہ میرے لیے بہت خطرناک تھا ۔کسی محفوظ مقام تک پہنچنے کے لیے اس پوسٹ کا علاقہ عبور کرنا ناگزیر ہو گیا تھا ۔ روشنی ہوتے ہی دوسری طرف کے نالے میں موجود،میری تلاش میں سر گرداں افراد کو میرے فرار کی سمت معلوم ہو سکتی تھی ۔پچاس ساٹھ گز کا علاقہ ایسا تھا جہاں میں پیدل چل کر آیا تھا ۔گو وہاں برف قدرے سخت تھی اور میرے پاﺅں اس میں دھنسے نہیں تھے ۔لیکن قریب سے دیکھنے پر ایسے نشان ضرور نظر آ جاتے جس سے انھیں معلوم ہو جاتا کہ میں اس رستے سے بھاگا ہوں ۔
وہ پوسٹ نالے سے پچاس ساٹھ گز ہی اوپر بنائی گئی تھی ۔چاند پہاڑ کے پیچھے غائب ہو گیا تھا۔ رات کے اندھیرے کے ساتھ درختوں کے گھنے پتے اور نالے کے تنگ ہونے کی وجہ سے دائیں بائیں موجودپہاڑکی ڈھلانیں اندھیرے میں اضافہ کر رہی تھیں ۔میں کافی دیرسے اندھیرے میں چل رہا تھا لیکن اس کے باوجودبہ مشکل دو تین گز کے فاصلے پرموجودبڑی چٹان یا درختوں کے تنوں کا ہیولہ وغیرہ ہی دیکھ پا رہا تھا ۔سنتری بھی مجھے ٹارچ جلا کر یا شبِ دید عینک ہی کی مدد سے دیکھ سکتا تھا دوسری صورت میں مجھے نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔
اسی طرح احتیاط سے آگے بڑھتے ہوئے میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے مجھے پوسٹ کی ہلکی سی روشنی دکھائی دینے لگی تھی ۔بیس قدم مزید لے کر میں نے پوسٹ کے متوازی آ جانا تھا ۔اور پھر اس سے آگے میں تیزی سے سفر کر سکتا تھا ۔میں مزید نالے کی جڑ میں ہو کر آگے بڑھا ۔اچانک میرا پاﺅں کسی چیز میں الجھا ۔میں کسی جھاڑی کی ٹہنی سمجھتے ہوئے پاﺅں کو جھٹکا دیا ۔میرا پاﺅں آزاد ہوا اور اگلے ہی لمحے پورا ماحول روشنی سے نہا گیا تھا ۔میں بغیر کسی تاخیر کے نالے کی جڑ میں لیٹ گیا ۔میں دشمن کے جال میں پھنس چکا تھا ۔ نالے کی تنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے وہاں ٹرپ فلیئر لگا دی تھی ۔یہ ایک باریک سی تار ہوتی ہے جو کسی بھی رستے پر یوں لگائی جاتی ہے کہ آتے ہوئے دشمن کا پاﺅں الجھنے پر تار کٹ جائے ۔ تار کٹتے ہی ٹرپ فلیئر ایک لمحے میں جل جاتا ہے اور سارا ماحول روشنی سے نہا جاتا ہے ۔ٹرپ فلیئر استعمال کرنے والوں نے ایسی جگہ پر پہلے سے اپنے خود کار ہتھیارفکس کیے ہوتے ہیں ۔ ٹرپ فلیئر کے جلتے ہی ہتھیاروں کے قریب موجود سنتری فائر کھول دیتا ہے ۔
اس وقت بھی یہی ہوا تھا ۔ٹرپ فلیئر کے جلتے ہی وکرس گن کا فائر مسلسل وہاں آنے لگا اس کے ساتھ ہی انھوں نے نعرے لگاتے ہوئے کلاشن کوفوں کے دہانے بھی کھول دیے تھے ۔مجھ پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑ ی تھی ۔
جاری ہے
 

میں اسی طرح جڑ ہی میں لیٹا رہ گیا تھا ۔اگر میں اپنا سر ذرا سا بھی اوپر اٹھاتا ۔گولی مجھے لگ جاتی ۔ایک بنیادی غلطی ان سے یہ ہوئی تھی کہ انھوں نے نالے کے دوسرے کنارے پر اپنے آدمی نہیں بٹھائے تھے ۔اگر وہ ایسا کر لیتے تو یقینا آج میں یہ کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ بچا ہوتا ۔
ٹرپ فلیئر کی روشنی لمحاتی ہوتی ہے ۔روشنی ختم ہوتے ہی دوبارہ اندھیرا چھا گیا تھا ۔اوراس مرتبہ اندھیرا کچھ زیادہ ہی لگ رہا تھا کہ روشنی ہونے کے بعد اندھیرا زیادہ محسوس ہوتا ہے ۔
”مر گیا ہے کہ زندہ ہے ؟“اندھیرا ہوتے ہی کسی کے چیخنے کی آواز آئی تھی ۔
”ایلمونیٹنگ راﺅنڈ فائر کرو ۔“(روشنی کا گولہ )کسی دوسرے نے مشورہ دیا تھا ۔
ان باتوں کے دوران ایک لمحے کے لیے فائر رکا اور میں نے وہ جگہ چھوڑنے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگایا تھا ۔میں چند قدم ہی لے سکا تھا کہ اچانک ۔”ٹھک ۔“کی آواز آئی ۔میں اس آواز کو اچھی طرح پہچانتا تھا ۔انھوں نے مارٹر کا روشنی والا گولہ فائر کیا تھا ۔مارٹر کا گولہ ایک دم نہیں پھٹتا ۔اسے مکمل بلندی تک جاتے ہوئے دو تین سیکنڈ لگتے ہیں ۔اس لیے ”ٹھک ۔“کی آواز سننے کے بعد بھی میں نے چار پانچ قدم مزید بھی لے لیے تھے ۔روشنی کے پھیلنے سے پہلے میں پوسٹ کے بالکل متوازی پہنچ گیا تھا ۔ اس مرتبہ مجھے جو جگہ ملی تھی وہاں میں بیٹھ کر جوابی فائر بھی کر سکتا تھا ۔نالے کی بالکل جڑ میں سمٹ کر میں نے کلاشن کوف گلے سے نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی صرف سیفٹی لگی ہوئی تھی ۔ سیفٹی لیور سنگل راﺅند کی پوزیشن پر کر کے میں نے سر ابھار کر پوسٹ کی طرف دیکھنے لگا ۔
”کوئی نظر نہیں آ رہا ہے ۔شاید وہ بھاگ گیا ہے ۔“ایک آدمی نے مورچے سے آگے بڑھ کر مجھے اس جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کی جہاں میں اس سے پہلے پڑا تھا ۔اس وقت وہ میر ے لیے ایک آسان ہدف کی صورت سامنے کھڑا تھا ۔اور ایسی جگہ پر کھڑے ہو کر اس کا بچ کر واپس لوٹ جانا میرے لیے گالی سے کم نہیں تھا ۔
پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر ایک سنائپر کو نشانہ سادھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔کلاشن کوف کو سیدھا کرتے ہی میں نے ٹریگر دبا دیا تھا ۔
دھماکے کی آواز کے ساتھ اس کی چیخ بھی شامل تھی ۔گولی اسے چھاتی میں لگی تھی ۔درد بھری آواز نکالتے ہوئے وہ وہیں ڈھیر ہو گیا تھا ۔
”مورچے میں ہو جاﺅ ....مورچے میں ہو جاﺅ ۔“کسی نے چیخ کر کہا ۔اس کے ساتھ ہی وکرس گن گرجی مگر نشانہ میں نہیں تھا ۔جس کسی نے بھی فائر کیا تھا وہ عجلت میں گن کو میری سمت موڑ بھی نہیں سکا تھا ۔اس کے ساتھ ہی روشنی کا گولہ زمین پر گر چکا تھا ۔
میں نے جیب سے ہینڈ گرنیڈ نکال کر اوپر کی طرف اچھالا۔مجھے معلوم تھا کہ اس گرنیڈ کے پھٹنے سے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچنے والا لیکن اس کے ڈر سے وہ میرا پیچھا نہیں کر سکتے تھے ۔
زور دار دھماکے کے ساتھ کسی کے چیخنے کی آواز آئی ۔”اس کے پاس ہنڈ گرنیڈ ہیں نیچے ہو جاﺅ۔“
میں نے ان کی سمت مزیددو تین سنگل راوند فائر کیے اور جھکے جھکے انداز میں وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔
”سیکٹرنمبر ٹوکو کال کر کے مدد مانگو ۔“کسی نے چیختے ہوئے حکم دیا تھا ۔
اس کے ساتھ ہی مسلسل گولیاں چلنا شروع ہو گئی تھیں ۔وہ مورچے میں چھپ کر مسلسل نالے میں فائر کر رہے تھے ۔میرے پاس نہ تو اتنا ایمونیشن اور نہ اتنا وقت ہی کہ وہاں رک کر ان کا مقابلہ کرتا ۔ وہ اکیلی پوسٹ نہیں تھی ۔انھیں وہ جگہ گھیرنے میں تھوڑی دیر ہی لگنا تھی ۔اور میں خود کش حملہ آور بھی نہیں تھا کہ مجھے ان کی کمک کی پروا نہ ہوتی ۔
پوسٹ سے تھوڑا دور آتے ہی میں نے دوڑنا شروع کر دیا تھا ۔لیکن اس بھاگنے والے فیصلے پر میں زیادہ دیر عمل درآمد نہیں کر سکا تھا ۔درمیانی جسامت کے ایک پتھر سے ٹھوکر کھا کر میں گھٹنوں کے بل گرا۔ گھٹنوں کو اچھی خاصی چوٹ لگی تھی ۔ایک دو منٹ گھٹنوں کو زور زور سے ملنے کے بعد میں کھڑا ہوا اور لمبے قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔فائرنگ کی تیز آواز اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی ۔
ایک اور روشنی کا گولہ فضا میں بلند ہوا ۔اس کی روشنی میں مجھے اس نالے کی ایک شاخ داہنی جانب مڑتی نظر آئی جبکہ دوسری شاخ سیدھا آگے جا رہی تھی ۔میں نے مڑنے کے بجائے سیدھا آگے نکلنے کو ترجیح دی تھی ۔سیدھا جانے والا نالہ آگے جا کر چوڑا ہونا شروع ہو گیا تھا ۔اس کے ساتھ وہاں کافی جھاڑیاں بھی بکھری تھیں ۔مجھے روشنی کے چند اور گولے فضا میں بلند ہوتے نظر آئے ۔لیکن نالے میں موجود جھاڑیوں کی وجہ سے میں نے رکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔نالہ آہستہ آہستہ ہموار ہونا شروع ہو گیا تھا ۔اور پہلے جو مسلسل اترائی شروع تھی وہ ختم ہو گئی تھی ۔ہموار جگہ پر میں نے اپنی رفتار تھوڑی اور بڑھا لی تھی ۔میں آخری مڈبھیڑ ہونے والی پوسٹ سے کلومیٹر ڈیڑھ کلومیٹر دور آیا ہوں گا کہ اچانک مجھے سامنے سے ٹارچوں کی روشنی نظر آئی ۔وہ سو ڈیڑھ سو گز دور ہوں گے ۔ان کے آنے کے انداز سے محسوس یہی ہو رہا تھا کہ انھیں کہیں پہنچنے کی جلدی ہے ۔موخّر الذکر پوسٹ کی جانب سے بھی اب تک اکا دکا فائر کی آواز آ رہی تھی ۔ان کے قریب پہنچنے سے پہلے میں نالے ایک کنارے ہو گیا تھا ۔جھاڑی میں چھپنے کے بجائے میں نے ایک بڑے پتھرکی آڑ لینا زیادہ بہتر سمجھا تھا ۔کیونکہ کسی بھی شک کی بنا پر ان کے فائر کھولنے کی صورت میں جھاڑی مجھے فائر سے حفاظت مہیا نہیں کر سکتی تھی ۔اس کے برعکس پتھر مجھے نظری آڑ کے ساتھ فائری آڑ بھی مہیا کر رہا تھا ۔
وہ دس بارہ آدمی تھے ۔ایک دوسرے کو جلدی چلنے کی تلقین کرتے ہوئے وہ دائیں بائیں کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے آگے نکلتے چلے گئے ۔ وہ اس پوسٹ کی مدد کو جا رہے تھے ۔یقینا ان کے تیئں مجاہدین نے ان کی پوسٹ پر حملہ کیا تھا ۔شروع میں میری جن آدمیوں کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی تھی ۔اور انھیں میں نے جس غلط فہمی میں مبتلا کیا تھا ، اب تک وہ غلط بیانی مجھے فائدہ دے رہی تھی ۔
اس پارٹی کے بیس پچیس قدم دور جاتے ہی میں پتھر کی آڑ سے نکل کر آگے بڑھ گیا ۔اتنا اندازہ تو بہ ہرحال مجھے تھا کہ ان کی پوسٹ قریب ہی تھی ۔لیکن اس نالے میں ان کے گزر جانے کی وجہ سے اب اس نالے پر کسی شک کم ہی گزرتا ۔
مزید ادھ کلومیٹر آگے جانے پر مجھے نالے کے بائیں طرف اونچائی پر روشنی کی جھلک نظر آنے لگی ۔میں رکنے کے بجائے اسی طرح آگے بڑھتا گیا ۔پوسٹ نالے سے کافی بلند تھی ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر آگے نکلتا چلا گیا ۔پوسٹ سے پچاس ساٹھ گز آ گے آتے ہی ہلکی ہلکی روشنی پھیلنا شروع ہو گئی تھی۔میں نے دوبارہ بھاگنا شروع کر دیا ۔روشنی میں اضافے کے ساتھ میری رفتار میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔میری نظریں گاہے گاہے دائیں بائیں کی پہاڑیوں کا جائزہ لے کر رستے پر مرکوز ہو جاتیں ۔ نالے میں بکھرے ہوئے پتھر سے ٹکرا کر گرنے کا تجربہ اگر میرے ذہن سے محو ہوا بھی تھا تو گھٹنوں کو اچھی طرح یاد تھا ۔ملگجا اجالا پھیلتے ہی میری نظر نالے کے ایک کنارے بنے ہوئے کچے ٹریک پر پڑی ۔ٹریک کے دائیںبائیں بھی گھنی جھاڑیاں موجود تھیں اس لیے مجھے ٹریک پر سفر کرنے میں کوئی قباحت نظر نہ آئی ۔
روشنی بڑھتی جا رہی تھی اور میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں سرگرداں تھیں ۔ہلکا سا نشیب آیا نالہ شمال مشرق کی جانب مڑا اور مجھے ٹھٹھک کر رک جانا پڑا ۔آگے اچھی خاصی آبادی نظر آ رہی تھی ۔وہا ں مجھے پناہ مل سکتی تھی لیکن ایسی جگہوں پر کسی اجنبی کا چھپنا ممکن نہیں ہوتا ۔کیونکہ وہاں سیاح وغیرہ تو آنے سے رہے ۔لے دے کے مقامی لوگ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچانتے ہیں ۔ اگر انڈین آرمی وہاں گھر گھر تلاشی لینے پر تل جاتی تو یقینا میرے ساتھ میرے میزبان کی بھی شامت آ جاتی ۔بلکہ ممکن تھا کافی بے گناہ ان کے ظلم کی لپیٹ میں آ جاتے ۔جنوب کی سمت موجود پہاڑی پر مجھے کافی گھنا جنگل نظر آ رہا تھا ۔آبادی سے تین چار سو گز جنوب مغرب کی طرف وہ جنگل شروع ہو جاتا تھا ۔میں نے اسی جنگل کا رخ کیا ۔کچی سڑک سے اتر کر میں اس ٹریک کی طرف بڑھ گیا ۔ابھی تک اس چھوٹے سے گاﺅں میں زندگی سوئی ہوئی تھی ۔بس اکا دکا گھروں سے اٹھتا دھواں اس بات کا مظہر تھا کہ وہ گھر غیر آباد نہیں تھے ۔چوڑا نالہ عبور کر کے میں دوسری طرف موجود جنگل میں داخل ہوا اور بلندی کا سفر طے کرنے لگا ۔میری نظریں کسی مناسب جگہ کی تلاش میں تھیں ۔میں نے وہاں پورا دن گزارنا تھا اس کے لیے ضروری تھا کہ کوئی ایسی جگہ ہوتی جو آرام دہ ہونے کے ساتھ ساتھ محفوظ بھی ہوتی ۔یہ اور بات کہ سنائپر اپنی کمین گاہ چنتے وقت چھپاﺅ کو آرام پر ترجیح دیتا ہے ۔جلد ہی مجھے ایسی جھاڑیوں کا جھنڈ نظر آ گیا تھا ۔ اپنے جھولے سے تیز دھار خنجر نکال کر میں نے دائیں بائیں موجود جھاڑیوں سے اپنے مطلب کی ٹہنیاں کاٹنا شروع کر دیں ۔گھنٹا بھر بعد ہی میرے پاس ٹہنیوں کا ڈھیر لگ گیا تھا ۔میں ان ٹہنیوں سے اپنے لیے مچان بنانے لگا ۔گو عمومی طور پر سنائپر بلند درختوں پر مچان ناتے ہیں تاکہ دور دور تک کے علاقے پر نظر رکھی جا سکے اور فائر کرتے وقت کوئی رکاوٹ بھی نظر نہ آ ئے ۔لیکن وہاں میرا مقصد کسی ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا کہ میں اونچا درخت چنتا ۔اس کے علاوہ یہ بھی مسئلہ تھا کہ وہاں درخت بہت اونچے ہوتے ہیں ۔چیڑ دیار کے درختوں پر تو مچان بنائی ہی نہیں جا سکتی اورجن درختوں پر مچان بنائی جا سکتی ہے وہ بھی ایسی کہ اس میں بہ مشکل بیٹھا جا سکتا ہے ۔اور میرا ارادہ بیٹھنے کا نہیں لیٹنے کا تھا ۔
مزید گھنٹا بھر کی محنت سے میں مچان بنانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔دھوپ اچھی طرح نکل آ ئی تھی ۔اور مچان کے اوپر براہ راست دھوپ پڑ رہی تھی ۔اپنا جھولا سر کے نیچے رکھ کر میں لیٹ گیا ۔ساری رات دوڑنے بھاگنے میں گزر گئی تھی ۔جس جگہ دشمن سے آخری مڈبھیڑ ہوئی تھی وہ جگہ بھی میں کافی پیچھے چھوڑ آیا تھا ۔اس سارے علاقے کی تلاشی لینا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔زیادہ سے زیادہ وہ میری تلاش میں چند پارٹیاں نکال سکتے تھے ۔ان پہاڑی بلندیوں کو سر کر کے اور تمام جنگلوں کو چھان کے کسی ایک یا چند آدمیوں کو ڈھونڈ نکالنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف تھا ۔البتہ اگر انھیں میرے چھپنے کی جگہ کے بارے معلوم ہو جاتا تو پھر میرا نکلنا محال تھا ۔کیونکہ وہ اس جنگل کو گھیرے میں لے کر باریک بینی سے تلاشی کرتے اور میرا پکڑا جانا یقینی ہو جاتا۔
دھوپ کی نرم حدت نے جلد ہی مجھے نیند کی آغوش میں دھکیل دیا تھا ۔میری آنکھ بکری کے منمنانے سے کھلی ۔ایک سنائپر کی تربیت اس نہج پر کی جاتی ہے کہ نیند سے اٹھتے ہی اس کے حواس کام کرنے لگیں ۔اس لیے جاگتے ہوئے اسے یہ سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ کہاں اور کس ماحول میں پڑا ہے ۔آنکھ کھلتے ہی مجھے بھی دماغ پر زور نہیں دینا پڑا تھا ۔اس طرح جنگلوں اور مچانوں پر میں کئی راتیں گزار چکا تھا ۔یہ ماحول اور حالات میرے لیے نئے نہیں تھے کہ مجھے گھبراہٹ ہوتی ۔میں نے کروٹ بدلتے ہوئے اس سمت نگاہ دوڑائی جہاں سے آواز آئی تھی ۔مجھے کافی بھیڑیں اور بکریاں دائیں بائیں جھاڑیوں پر منہ مارتی نظر آئیں ۔جنگل آبادی کے قریب تھا اور وہاں کسی چرواہے کا آنا عجیب بات نہیں تھی ۔البتہ یہ فکر مجھے ضرور دامن گیر ہوئی کہ کہیں اس کی میرے مچان پر نظر نہ پڑ جائے ۔ایسی صورت میں میرے لیے مشکل کھڑی ہو جاتی ۔ایک بے گناہ کو قتل کرنے پر میرا ضمیر کسی طور بھی آمادہ نہ ہوتا ۔اور اسے زندہ چھوڑنے میں یہ قباحت تھی کہ وہ انڈین آرمی کی رہنمائی کرکے میری موت کا سامان پیدا کر سکتا تھا ۔ میں لیٹے لیٹے بھیڑ بکریوں کا جائزہ لیتا رہا ۔دو تین بکریاں ان جھاڑیوں کے پاس بھی پہنچ چکی تھیں جہاں میں چھپا ہوا تھا ۔اچانک ایک جھاڑی کی اوٹ سے گہرے سبز اور سرخ رنگ کا لباس جھلکا ۔میں چونک پڑا تھا ۔اگلے ہی لمحے وہ میرے سامنے تھی ۔وہ ایک چرواہن تھی ۔بکری کے ایک چھوٹے سے میمنے کو ہنکاتی وہ میرے مچان کی طرف ہی آ رہی تھی ۔ڈوپٹے کو اس نے بڑے عجیب بلکہ خوب صورت انداز میں سر سے لپیٹا ہوا تھا ۔یوں کہ اس کے تمام بال اس میں چھپ گئے تھے ۔وہ ایک دلکش اور جاذب نظر لڑکی تھی ۔کشمیر کا حسن یوں بھی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔لیکن مجھ پر اس کے حسن نے ذرا سا بھی اثر نہیں ڈالا تھا۔ ماہین کی بے وفائی کے بعد ،عورت ذات سے مجھے اتنی ہی نفرت تھی جتنا کسی بھی نا پسندیدہ چیز سے کی جا سکتی ہے ۔ وہ نہ صرف میری امانت میں خیانت کی مرتکب ہوئی تھی بلکہ اس کے ساتھ اس نے میرا مان ،غروراور بھروسا بھی توڑ دیا ۔اگر اسے طاہر سے محبت تھی تو وہ مجھ سے طلاق لے کے اس سے شادی کر سکتی تھی ۔یوں میری اور اپنی عزت کا جنازہ نکالنا اسے کسی طور زیب نہیں دیتا تھا ۔اس چرواہن کو دیکھ کر جانے کیوں میری سوچیں ماہین کی طرف پلٹ گئی تھیں ۔سر جھٹک کر میں نے ان نا پسندیدہ سوچوں کو دورکیا اور اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔
وہ ہلکی آواز میں کچھ گنگنا بھی رہی تھی ۔شکل کی طرح اس کی آواز بھی سریلی تھی ۔گیت کے بول تو میری سمجھ میں نہیں آ رہے تھے البتہ اس کی آواز کا اتار چڑھاﺅ اور مٹھاس متاثر کن تھے ۔وہ میرے مچان سے آگے گزرتی چلی گئی ۔مچان کی طرف اس نے کوئی دھیان نہیں دیا تھا ۔ان جھاڑیوں سے پندرہ بیس گز آگے ایک صاف پتھر کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ بیٹھ گئی ۔اس چھوٹے میمنے کو پکڑ کر اس نے گود میں لٹایا اور اس کے چہرے اور جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔وہ یوں بیٹھی تھی کہ اس کے سامنے دیکھنے پر مجھے اس کے چہرے کی ایک طرف نظر آتی ۔جانے وہ اس میمنے سے کیا باتیں کیے جا رہی تھی ۔باتیں کرتے کرتے وہ تھوڑا سا آگے کو کھسک کر زمین پر لیٹ گئی میمنے کو اٹھا کر اپنی چھاتی پر لٹاتے ہوئے اس نے اپنے بازوﺅں کے گھیرے میں لے لیا تھا ۔میمنا یقینا پہلے سے ان حرکتوں کا عادی تھا کہ بڑے مزے سے اپنا سر اس کی گردن پر رکھ کر لیٹ گیا تھا ۔میں نے اسی طرح لیٹے ہوئے آنکھیں بند کر لیں ۔ایک کشمیری دوشیزہ کی تنہائی میں کی جانے والی ادائیں دیکھنے کا مجھے کوئی شوق نہیں تھا ۔مجھے بس فکر تھی تو یہ کہ وہ مجھے دیکھ نہ لے ۔ اسی وجہ سے میں نے کروٹ بدلنے سے بھی احتراز برتا تھا ۔ممکن تھا کہ میرے کروٹ بدلنے سے جھاڑی کی شاخوں میں پیدا ہونے والی حرکت اسے اس جھاڑی کی طرف دیکھنے پر مائل کر دیتی ۔
لیکن میری احتیاط کسی کام نہیں آ سکی تھی ۔اس کی بکری کسی چیز سے ڈر کر بھاگی ۔بکری کا رخ میرے مچان ہی کی طرف تھا ۔وہ بے اختیار اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اس سمت کو دیکھنے لگی جہاں سے بکری بھاگ کر آئی تھی ۔یقینا بکری نے لومڑی یا گیدڑ وغیرہ دیکھا تھا ۔میں بھی اسی جانب دیکھنے لگا ۔اور اسی لمحے میری غلط فہمی ہوا ہو گئی ۔انڈین آرمی کے دو جوانوں کو دیکھتے ہی میں نے سائیڈ پر پڑی کلاشن کوف ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔
”ارے پردیپ سنگھ !....دیکھو تو ،بھوت کو ڈھونڈتے ہوئے ایک اپسرا مل گئی ہے ۔“
”بات تو صحیح کہہ رہے ہو ۔“پردیپ سنگھ نے مسکرا کر اس کی تائید کی تھی ۔
ان دونوں کا رخ اسی لڑکی کی جانب ہو گیا ۔دائیں بائیں کے ماحول سے وہ یکسر بے پروا ہو گئے تھے۔
”شہزادی !....کیا نام ہے تمھارا ؟“پہلے والے نے قریب جا کر گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ۔
”رر....رے....ریشم !....“لڑکی نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا ۔
”آہ ....کتنا پیارا نام ہے ۔“اس نے خباثت بھرے لہجے میں کہا ۔
”سلیم بھائی !....چلتے ہیں ۔باقی پارٹیاں آگے نکل جائیں گی ۔“پردیپ سنگھ نے ان جھاڑیوں کی طرف سرسری نظر سے دیکھتے ہوئے کہا جہاں میں چھپا تھا ۔
اور اس کے منہ سے سلیم سنتے ہی میرے سر پر گویا بم پھٹ پڑا تھا ۔وہ مسلمان تھا اور اس کے باوجود یوں گھٹیا انداز میں ایک معصوم لڑکی کو ندیدے پن سے دیکھ رہا تھا ۔میرا دل چاہا کہ اس کے گندے وجود پر پوری میگزین خالی کر دوں ۔بڑی مشکل سے میں نے اپنے ارادے پر قابو پایا تھا ۔یقینا انڈین آرمی میں ہندوﺅں کے ساتھ رہتے رہتے وہ بھی ان کی صحبت میں پوری طرح رنگ چکا تھا ۔
سلیم نے بازاری انداز میں کہا ۔”ویسے دل تو نہیں کر رہا کہ اس موقع کو ضائع کیا جائے ۔“
”پھر کبھی سہی یار !....اور اب تو صوبیدار صاحب بھی ساتھ ہے ۔اسے اگر معلوم ہو گیا تو تمھاری کھال کھینچ لے گا ۔تمھارا ہم مذہب ہی ہے ۔“
”ہونہہ !....بہت دیکھے ہیں ایسے ہم مذہب۔“سلیم نے طنزیہ ہنکارا بھرا ۔”اور پھر کیپٹن پرساد رانجن بھی تو ساتھ ہے ۔جانتے ہو کتنا شوقین ہے وہ ان کشمیری لڑکیوں کا ۔“
”اچھا اب چلو بھی باقی پارٹیاں آگے نکل گئی ہوں گی ۔نظر بھی آ رہا ہے کہ کتنا زیادہ جنگل باقی ہے ۔اب تک تو ہم ایک حصے ہی کی تلاشی لے پائے ہیں ۔اس سے دوگنا حصہ باقی ہے اور اس کے بعد سیکٹر دو کے علاقے کی بھی تلاشی لینا ہے ۔“
”افف یار!....تم بھی نا بس ....“سلیم نے افسوس بھرے انداز میں گندی سوچوں بھرا سر ہلایا۔
”ویسے تم نے یہاں کسی کمینے گھس بیٹھے کو تو نہیں دیکھا ؟“سلیم نے اپنا ہاتھ ریشم کے گال کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔لیکن اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ ریشم کے رخسارکو چھوتا وہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے انکار میں گردن ہلاتے ہوئے کہا ۔”کسی کو نہیں دیکھا ۔“
”ہائے اوے !....نخرہ تو دیکھو ۔“سلیم نے جھپٹ کر اس کا ہاتھ پکڑلیا ۔
ریشم کے منہ سے ایک سریلی چیخ بلند ہوئی تھی ۔وہ جھٹکا دے کر اس خبیث سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی مگر سلیم کی گرفت کافی سخت تھی ۔
”کیا ہوا ....کون ہے ؟“ڈیڑھ دو سو گز دور سے کسی کی چیختی ہوئی آواز آئی تھی ۔
”کوئی نہیں یا ر!....بس ایک بلبل ہمیں دیکھ کر گھبرا گئی ہے ۔“سلیم نے خباثت سے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
”یہ بلبلوں کے چکر کو چھوڑو اور آگے بڑھو۔“اس مرتبہ اسی آواز نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا ۔ اور سلیم ،ریشم کا ہاتھ چھوڑ کر چل پڑا۔ریشم کا ہاتھ پکڑتے پکڑتے وہ اس رخ سے ہٹ گیا تھا جس پر وہ پہلے چل کر آ رہے تھے ۔میرا مچان اب ان سے پانچ چھے گز دائیں پڑا رہا تھا ۔آگے بڑھتے ہوئے بھی ان کی نظریں ریشم کی جانب سرگرداں رہیں جو گھبرائے ہوئے انداز میں انھیں گھور رہی تھی ۔اس کی وجہ سے وہ دائیں بائیں کی جھاڑیوں کی اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کر سکے تھے ۔
”پریشان نہیں ہونا ،میں بعد میں آﺅں گا میری جان !“پندرہ بیس قدم آگے جا کر سلیم نے بے ہودہ انداز میں کہا ۔
پردیپ سنگھ اس کے انداز پر ہنس پڑا تھا ۔”یار !....اب اس غریب کو بخش بھی دو ۔“
جواباََ سلیم نے ایک زور دار قہقہہ لگایا ۔اور وہ جھاڑیوں کی اوٹ میں غائب ہو گئے ۔آہستہ آہستہ ان کی آواز معدوم ہونے لگی ۔
بے اختیار میرے منہ سے گہرا سانس خارج ہوا اور میں نے کلاشن کوف مچان پر رکھ دی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے ریشم کی جانب دیکھا ۔وہ چونکتے ہوئے میرے مچان کی جانب ہی دیکھنے لگی تھی ۔ شاید میرے منہ سے کچھ زیادہ ہی گہرا سانس خارج ہو گیا تھا ۔مجھے اپنی بے احتیاطی پر سخت غصہ آیا، لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔وہ کھوجتی نگاہوں سے قریب آئی۔اس نے اضطراری انداز میں اپنے ہاتھ میں موٹا سا ڈنڈا بھی پکڑا ہوا تھا ۔میں نے خود کو اچھی طرح چھپایاہوا تھا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں تھا کہ میں نے سلیمانی ٹوپی اوڑھی ہوئی تھی اور بالکل نظر بھی نہیں آ رہا تھا ۔
اس کے قریب آتے ہی میں اسے مزید سسپنس میں مبتلا کیے بغیر اپنی جگہ پر اٹھ بیٹھا ۔مجھے دیکھتے ہی وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی ، چیخ روکنے کے لیے اس نے بے ساختہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔
مچان سے نکل کر میں اس کے سامنے آ گیا ۔”یقینا ،انھیں آواز دے کر واپس بلانے میں آپ کوکوئی دلچسپی نہیں ہو گی ۔“
”نن....نہیں میں انھیں نہیں بلاﺅں گی ۔“اس نے گھبرائے ہوئے انداز میں دائیں بائیں سر ہلایا۔
”ویسے میری طرف سے کوئی قدغن نہیں ہے ۔آپ انھیں بڑے شوق سے بلا سکتی ہیں ۔تاکہ مجھے گرفتار کرنے کے ساتھ وہ آپ کو بھی انعام کے طور پرساتھ لے جائیں گے ۔یہ بھی ہو سکتا ہے ساتھ نہ لے جائیں اور یہیں مک مکا کر لیں ۔“
(یہاں قارئین کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ وہ لڑکی اور اس سے پہلے پردیپ سنگھ اور سلیم وغیرہ اردو میں بات نہیں کر رہے تھے ۔لڑکی بس ٹوٹی پھوٹی اردو ہی بول سکتی تھی ۔لیکن جس انداز میں بول رہی تھی ۔یقینا وہ الفاظ جاننے سے قارئین کو کوئی دلچسپی نہیں ہو گی۔اسی طرح پردیپ اور سلیم کے بولے ہوئے الفاظ میں بھی ہندی اور پنجابی کے بہت سارے الفاظ شامل تھے جنھیں میں نے آسان اردو میں لکھ دیا ہے )
ریشم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔”اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا تب بھی میں ان خنزیروں کو کچھ نہ بتاتی ۔میں انڈین فوج سے سخت نفرت کرتی ہوں ۔“
”اچھا آپ کس وقت واپس لوٹتی ہیں ؟“اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں خود بھی ایک پتھر پر بیٹھ گیا تھا ۔
”سہ پہر کو لوٹتی ہوں ۔“مجھ سے دو تین قدم دور ہٹ کر وہ بھی نیچے بیٹھ گئی تھی۔
مرد کی سوچ کے بارے عورت کی حسیات بہت تیز ہوتی ہیں ۔میرے چہرے اور آنکھوں سے ہویدااثرات اسے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ میں اس کے بارے کچھ غلط نہیں سوچ رہا تھا ۔
اس کے جواب نے مجھے اطمینان بھرا سانس لینے پر مجبور کر دیا تھا ۔یوں بھی میں اسے سہ پہر سے پہلے واپس لوٹنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا ۔اس پر شک کرنا میری مجبوری تھی ۔وہ گاﺅں میں جا کر کسی کو بھی میرے بارے اطلاع دے سکتی تھی اور ضروری نہیں تھا کہ جسے وہ یہ خبر سناتی وہ بھی انڈین آرمی سے اتنی ہی نفرت کرنے والا ہوتا ۔یا نفرت کرنے کے باوجود انعام حاصل کرنے کا لالچ بھی اسے یہ اطلاع انڈین آرمی تک پہنچانے پر مجبور کر سکتی تھی ۔البتہ سہ پہر کو اس کے چلے جانے کے بعد میں نے بھی وہ جگہ چھوڑ کر آگے بڑھ جانا تھا ۔اس کے بعد وہ بے شک جس کسی کو اطلاع دیتی رہتی میری صحت پر کوئی اثر نہ پڑتا ۔
”آپ روزانہ اس طرف ریوڑ لے کے آتی ہیں ؟“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”اور میں اکیلی نہیں ہوں ۔ہمارے گاﺅں کی کئی اور لڑکیاں اور لڑکے بھی اس جنگل میں اپنے ریوڑ لے کے گھوم رہے ہیں ۔“
”آپ کا کوئی بھائی نہیں ہے ۔“میں نے سلسلہ گفتگو دراز کیا ۔
وہ جواباََ بولی ۔”دو بڑے بھائی ہیں ۔لیکن دونوں سردیوں میں مزدوری کے لیے شہر چلے جاتے ہیں اور سردیوں کے اختتام پر لوٹ آتے ہیں ۔گاﺅں کے دوسرے بہت سے مرد بھی یہی کرتے ہیں ۔“
”ہونہہ!....“ہنکارا بھرتے ہوئے میں نے اوپر نیچے سر ہلایا۔
”کھانا کھاﺅ گے ؟“جانے کیسے اسے میزبان بننے کا خیال آ گیا تھا ۔وہ کندھے سے لٹکایا کپڑے کا تھیلا کھولنے لگی ۔
ساری رات کی بھاگ دوڑ اور پھر چند گھنٹے کی نیند کے بعد مجھے اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی ۔اور میرے پاس اس وقت بھوک مٹانے کے لیے چنوں کے بنے ہوئے مخصوص بسکٹ موجودتھے۔ لیکن وہ بسکٹ بس مجبوری کی حالت ہی میں کھائے جا سکتے ہیں ۔بھوک مٹانے کے ساتھ وہ غذائیت سے بھی بھرپور ہوتے ہیں ۔لیکن گندم کی روٹی اور سالن میں جو لذت ہے اس کا مقابلہ وہ روکھے پھیکے بسکٹ کبھی بھی نہیں کر سکتے تھے۔
میں نے واجبی سا انکار کیا ۔”یہ تو تمھارا کھانا ہے ،اگر میں نے کھا لیا تو تم کیا کھاﺅ گی ؟“
”مجھے کوئی خاص بھوک نہیں ہے ۔اور پھر میں رات کو بھی تو کھا سکتی ہوں ۔آپ تو شاید کب کے بھوکے ہوں ۔“اس نے کپڑے میں بندھی ہوئی دو روٹیاں جن پر ساگ رکھا ہوا تھا میرے سامنے رکھ دیں ۔
”شکریہ ....ویسے میرے پاس بسکٹ موجود ہیں ۔“کہتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ روٹیوں کی طرف بڑھا دیا ۔روٹیاں اور سالن ٹھنڈا ہو چکا تھا لیکن اس کی لذت اور مزہ برقرار تھا ۔
اسے آرام سے بیٹھا دیکھ کر میں نے کہا ۔”آپ بھی کھائیں نا ؟“
”نہیں میں آپ کے لیے چاے بناتی ہوں ۔“اپنا تھیلا اور ڈنڈا وہیں چھوڑتے ہوئے وہ جھاڑیوں پر منہ مارتی ہوئی ایک بکری کو پچکارنے لگی ۔بکری اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔اسے کان سے پکڑ کر وہ وہیں کھینچ لائی ۔اپنے تھیلے سے جست کا ایک کٹورا نکال کر اس نے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان میں رکھا ۔اور دونوں ہاتھوں سے بکری کو دوہنے لگی ۔اس حالت میں وہ اتنی دلکش لگ رہی تھی کہ میں بے اختیار نظر چرانے پر مجبور ہو گیا ۔
کٹورا آدھے سے زیادہ دودھ کابھر کر اس نے نیچے رکھا اور بکری کو آزاد کر کے دائیں بائیں سے خشک لکڑیاں جمع کرنے لگی ۔جب تک میں کھانا کھاتا وہ لکڑیاں اکھٹی کر کے آگ لگا چکی تھی ۔آگ کے دائیں بائیں دو پتھر رکھ کر اس نے کٹورا اوپر رکھا اور اپنے تھیلے سے پتی اور چینی نکال کر اس میں ڈالنے لگی ۔یقینا یہ اس کا روزانہ کا کام تھا تبھی اتنے اطمینان اور ترتیب بھرے انداز میں سرانجام دے رہی تھی ۔
چاے تیار ہونے میں دیر نہیں لگی تھی ۔چاے بنا کر اس نے سٹیل کا ایک بڑا سا مگ نکال کر چاے کا بھرا اور میری جانب بڑھا دیا ۔چاے کی عام تین پیالیاں بہت آسانی سے اس مگ میں سما سکتی تھیں۔ لیکن وہ خالص دودھ کی چاے تھی ۔بغیر پس و پیش کے میں مگ تھام کر چاے پینے لگا ۔چاے بہت ہی عمدہ بنی تھی اور اس وقت مجھے چاے کی طلب بھی بہت شدت سے ہو رہی تھی ۔میں سارا مگ خالی کر گیا۔ اس دوران وہ دلچسپی سے میرے چہرے کو گھورتی رہی ۔
مگ خالی ہوتے ہی اس نے کٹورے سے مزید چاے اس میں انڈیلی اور مگ دوبارہ میری جانب بڑھا دیا ۔
”شکریہ ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا ۔
”تھوڑی سی تو لیں نا ۔“وہ مصر ہوئی ۔
”نہیں آپ پیئیں ،میں تھوڑی دیر بعد پی لوں گا ۔“
اور اثبات میں سر ہلاکر وہ چاے پینے لگی ۔چاے پی کر اس نے ڈنڈا اٹھایا اور دائیں بائیں پھیلی بکریوں اور بھیڑوں کو اکھٹا کر نے لگی ۔اس دوران میری نظریں اس پر گڑی رہیں ۔ایک دو بکریوں کو قریب لانے کے لیے اسے میری نگاہ سے اوجھل بھی ہونا پڑا لیکن جلد ہی وہ دوبارہ نظر آنے لگی تھی ۔اپنا میمنا پکڑ کر وہ پھر میرے قریب آ بیٹھی ۔
”آپ واپس جا رہے ہیں یا آ رہے ہیں ۔“میمنے کے منہ کو سہلاتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی ۔
”یقینا یہ جاننا آپ کو ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے گا ۔“میں نے بغیر لگی لپٹی رکھے روکھے لہجے میں جواب دیا ۔
”شاید آپ کو میرا سوال برا لگا ہے ۔“میرا لہجہ ایسا نہیں تھا کہ اسے میرے موڈ کا پتا نہ چلتا ۔
”کیوں نہیں لگنا چاہیے ؟“میں نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”بالکل بھی نہیں ۔“اس نے منہ بنایا۔
”کیوں ؟“اس مرتبہ میرے لہجے میں غصے بھری حیرانی شامل تھی ۔
وہ اطمینان سے بولی ۔”کیونکہ میں جانتی ہوں آپ نے گزشتہ رات ہی سرحد عبور کی ہے ۔“
میں استہزائی انداز میں ہنسا۔”ضروری نہیں کہ آدمی کا ہر تکا نشانے پر لگے ۔“
”اندازے نہیں لگا رہی ۔مجھے اچھی طرح معلوم ہے ۔“اس نے اپنی موٹی موٹی آنکھیں میری آنکھوں میں ڈال کر مجھے نظر چرانے پر مجبور کر دیا تھا ۔
”آپ کو کیسے معلوم ؟“میں نے اپنا اشتیاق چھپا نے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”یقینا یہ جاننا آپ کو ذرا سا بھی فائدہ نہیں دے گا ۔“اس نے میرا کہا ہوا فقرہ لوٹایا ۔
میں ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا ۔ایک لمحے کی خاموشی کے بعد اس کے ہونٹوں سے نقرئی قہقہہ برآمد ہوا ۔
”خفا ہو گئے ۔“اس نے شوخ لہجے میں پوچھا ۔اور میری طرف سے کوئی جوا ب نہ پا کر وہ کہنے لگی ۔”اچھا میں بتا دیتی ہوں ۔آج صبح چند انڈین فوجی ہمارے گاﺅں کے بڑے کے پاس آئے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ آج صبح یا رات کے کسی وقت اگر کوئی باہر کا آدمی ہمارے گاﺅں میں آیا ہو یا کسی اجنبی کو ہمارے گاﺅں کے کسی آدمی نے یہاں سے گزرتے ہوئے دیکھا ہو توبتا دیں ۔پس گاﺅں کے بڑے نے ان کے سامنے تمام لوگوں کو بلا کر یہ بات پوچھی مگر کسی کی طرف سے اثباتی جواب نہ ملا ۔پھر گاﺅں کے بڑے نے ان فوجیوں سے پوچھا کہ مطلوبہ آدمی کا رخ کس جانب ہے ۔تب انھوں نے بتایا کہ آدمیوں کی تعداد تو یقینی نہیں کہ ایک آدمی بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی ۔البتہ اتنا معلوم ہے کہ انھوں نے گزشتہ رات ہی سرحد پار کی ہے ۔اور ان میں سے ایک آخری مرتبہ ہمارے گاﺅں ہی سے چند کلومیٹر دور دیکھا گیا ہے۔ اس کا رخ ہمارے گاﺅں کی طرف ہی تھا ۔اس کے ساتھ وہ آپ کے خطرناک ہونے کے متعلق بھی کافی کچھ کہہ رہے تھے ۔“
”اور آپ کے خیال میں وہ میں ہوں ؟“اس کی تفصیلی گفتگو سن کر میں مطمئن ہو گیاتھا ۔
وہ زور سے ہنسی ۔”نہیں وہ میں ہوں ۔“
اس کے انداز پر میرے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی ۔
”ویسے آپ تیسرے آد می ہیں ۔“
”کیا ....تیسرا ....؟“میں حیران رہ گیا تھا ۔
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی ۔”میرا مطلب آپ سے پہلے بھی میں دو مجاہدوں سے اسی جنگل میں مل چکی ہوں ۔“
”کب؟“
”پانچ چھے ماہ ہو گئے ہوں گے ۔لیکن ان کی تلاش میں انڈین فوجی نہیں آئے تھے ۔“
”ہونہہ ۔“ہنکارا بھرتے ہوئے میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑائی ۔ساڑھے تین ہورہے تھے ۔”کیا آپ میرے لیے چاے گرم کر سکتی ہیں َ؟“
”کیوں نہیں ۔“وہ خوش دلی سے کہہ کر اپنی جگہ سے اٹھی ۔اس کا رخ اسی جانب تھا جدھر دوپہر کو ہندو فوجی گئے تھے ۔اگلے ہی لمحے وہ سرعت سے نیچے بیٹھی ۔میری طرف دیکھتے ہوئے وہ گھبرائی ہوئے لہجے میں بولی ۔
”وہ خبیث واپس آ رہے ہیں ۔“
یہ سن کر ایک لمحے کے لیے تو میں سن سا ہو گیا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ ہی میرا دماغ حفاظتی تدبیر سوچنے لگا ۔اتنا وقت نہیں تھا کہ میں مچان میں گھس سکتا یا وہاں سے اٹھ کر دور جا سکتا ۔میں فوراََ زمین پر الٹا لیٹ کر عقبی جھاڑی میں گھسنے لگا ۔ایک عقل مندی ریشم نے یہ کی کہ وہ اپنا جھولا اور چاے کے برتن اٹھا کر اس پتھر کی طرف بڑھ گئی جہاں وہ پہلے لیٹی تھی ۔
”دیکھا ،میں نے کہا تھا نا یہ سہ پہر کے بعد ہی واپس لوٹے گی ۔“سلیم کے خباثت بھر ے لہجے نے میرے کانوں میں زہر انڈیلا۔
”مان گئے یار !“اس کے ساتھ دوسرا پردیپ سنگھ ہی تھا ۔
”ماننا تو پڑے گا سردار جی !....اور دیکھا کیسی لاجواب ترکیب لڑائی ہے ۔وہ سالا صوبیدار تو پریشان ہی ہو گیا تھا ۔اس پھول کا رس چوسنے کے لیے مجھے خود کو ڈھلان سے بھی نیچے لڑھکانا پڑا ۔“
”ہاہاہا....بڑا حرامی ہے رے تو ۔“پردیپ سنگھ نے تحسین آمیز لہجے میں گالی بکی ۔
”اب توپہلا نمبر میرا بنتا ہے نا ۔“سلیم نے داد چاہنے والے انداز میں پوچھا ۔
”ٹھیک ہے یا ر!....جیساتمھیں پسند ہو ۔“پردیپ سنگھ نے فوراََ اتفاق کیا تھا ۔ان کی بکواس سنتے ہی مجھے حقیقت تک پہنچتے دیر نہیں لگی تھی ۔سلیم وہاں سے چلا تو گیا تھا مگرریشم کو وہ خبیث اپنے ذہن سے جھٹک نہیں پایا تھا ۔اور رستے میں اس نے خود کو جان بوجھ کر ڈھلان سے لڑھکالیا تاکہ سینئر کی نظر میں زخمی بن سکے ۔صرف اس کے زخمی ہونے کی وجہ سے باقی تمام تلاشی کا کام تو نہیں روک سکتے تھے۔ یقیناسینئر اسے واپس اپنی پوسٹ پر جانے کا کہہ کرباقیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا ہوگااور پردیپ سنگھ کو اس کی مدد کے لیے چھوڑ دیا گیا ہوگا ۔باقیوں کے آگے بڑھتے ہی وہ دونوں ریشم کی تلاش میں نکل پڑے ۔ اب یہ ریشم کی بدقسمتی کہ وہ میری وجہ سے اب تک اس جگہ سے ہل نہیں پائی تھی ۔بلکہ وہ یہاں دائیں بائیں جاتی تب بھی انھوں نے اسے تلاش کر لینا تھا ۔کہ ان کے ذہن پر اس وقت شیطان سوار تھا ۔
ان کی بکواس ریشم نے بھی سن لی تھی ۔وہ گھبرائے ہوئے انداز میں اپنی چیزیں جھولے میں ڈال رہی تھی ۔کٹورے سے بقیہ چاے گرا کر اس نے کٹورہ ،مگ اور کھانے والا کپڑا جھولے میں ڈالا اور جھولے کو بغل سے لٹکا کر اس نے اپنی لاٹھی ہاتھ میں پکڑ لی ۔
”کہاں کے ارادے ہیں میری بلبل ۔“اس کے قریب پہنچتے ہوئے سلیم نے گھٹیا انداز میں پوچھا۔
”مم....میں نے گھر جانا ہے ۔“ریشم کا چہرہ پیلا پڑ گیا تھا ۔وہ ان دونوں کے ارادے سے بے خبر نہیں تھی ۔
”چلی جانا میری جان !....ہم نے تمھیں کون سا پوری رات مصروف رکھنا ہے ۔“سلیم کے وضاحت بھرے غلیظ الفاظ سن کر ریشم کانپنے لگی تھی ۔
”خخ....خدا کے واسطے مجھے جانے دو ۔“وہ منمنائی ۔
”خدا کے واسطے ایسا نہ کہو ۔“سلیم نے اسی کے انداز میں جواب دیا تھا ۔پردیپ سنگھ یوں قہقہہ لگا کر ہنسا جیسے سلیم نے کوئی لطیفہ سنایا ہو ۔
آپ کو اللہ کا واسطہ ،سوہنڑیں رسول کا واسطہ ۔“ریشم نے آنسو بہاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ ان کے سامنے جوڑ دیے تھے ۔
مگر ان پر شیطانیت سوار تھی ۔پردیپ سنگھ تو چلو سکھ تھا لیکن سلیم کے اوپر بھی ان مقدس ناموں کے واسطوں نے کوئی اثر نہیں ڈالا تھا ۔سلیم خباثت سے ہنسا ۔
”ارے شہزادی !....گھبراتی کیوں ہے ؟....ہم تمھیں جان سے تھوڑی مار رہے ہیں ۔بس ذرا سا شغل کریں گے اور چلی جانا ۔“یہ کہتے ہی اس نے اپنی کلاشن کوف ایک طرف پھینکی اور جھپٹ کر ریشم کو دونوں بازﺅں سے پکڑ لیا ۔
”چھوڑو مجھے ۔“ریشم مچلتے ہوئے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔وہ ایک کشمیری چرواہن تھی ۔بلا شک و شبہ اس کے اندر اچھی خاصی قوت موجود تھی ۔ایک سلیم کے قابو میں وہ اتنی آسانی سے نہیں آ سکتی تھی ۔ایک مرتبہ تو اس نے خود کو سلیم کی گرفت سے چھڑایا لیکن پھر سلیم بری طرح اس سے چمٹ گیا ۔اسی دوران پردیپ سنگھ بھی اپنا ہتھیار پھینک کر تڑپتی مچلتی ریشم کو قابو کرنے میں سلیم کی مدد کرنے لگا ۔میں اس وقت تک گومگو کی کیفیت میں تھا ۔گو میں اتنا بے ضمیر اور بزدل نہیں تھا کہ ایک معصوم لڑکی کو اپنی نظروں کے سامنے لٹتا دیکھا رہتا ۔میں بس مناسب موقع کے انتظار میں تھا ۔اور جس وقت پردیپ سنگھ نے بھی اپنا ہتھیار نیچے پھینکا میں جھاڑی سے باہر نکل آیا ۔میں نے اپنے ہاتھ میں سائیلنسر لگا گلاک تھام لیا تھا ۔اسی وقت ریشم کے منہ سے منت اور دردبھرے انداز میں نکلا ۔
”خدا کے لیے میری مدد کرو ۔“اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اس وقت مجھے ہی پکارا تھا ۔
جاری ہے
 

میں سرعت سے ان کے قریب پہنچا ۔ میرے دوڑتے قدموں کی آواز سن کر پردیپ سنگھ نے حیرانی سے مڑ کر دیکھا ۔مگر اس کا یہ دیکھنا کسی کام نہیں آ سکا تھا ۔ٹریگر دبانے سے ہلکی سی ٹرنچ کی آواز نکلی اور پردیپ سنگھ کی کھوپڑی میں روشندان کھل گیا تھا ۔وہ الٹ کر پیچھے گرا اور منہ کالا کرنے کی حسرت دل میں لیے تڑپنے لگا ۔سلیم کو بھی کسی گڑ بڑ کا احساس ہو گیا تھا ۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا پردیپ سنگھ کا خون میں نہایا تڑپتا جسم اور میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاک جو سائیلنسر لگانے مزید بھیانک ہو گیا تھا دیکھتے ہی وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔
”کک....کون ہو تم ؟“
”کتوں اور خنزیروں کا شکاری ۔“غضب ناک انداز میں کہتے ہوئے میں نے اس کے چہرے پر پستول کی نال رسید کی ۔
”افف....“کہتے ہوئے اس نے اپنے پھٹے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے ۔
”اوہ ....معذرت خواہ ہوں ۔شاید زور کی لگی ہے ۔“میں نے زہریلے لہجے میں کہا ۔
”مم....میں بھی مسلمان ہوں ۔مم ....میں خدا قسم مسلمان ہوں ۔“
”سچ میں ؟“میں نے استہزائی لہجے میں پوچھا ۔
”اللہ پاک کی قسم میں مسلمان ہوں ۔“جوش سے کہتے ہوئے وہ پہلا کلمہ دہرانے لگا ۔
”اچھا ،تو یہ کون سی عبادت کر رہے تھے ؟“میں نے آنکھوں سے قہر برساتی ریشم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔وہ اتنے غصے میں تھی کہ اپنے پھٹے ہوئے گریبان پر بھی توجہ نہیں دے سکی تھی ۔
”غغ....غلطی ہو گئی ۔مم ....مجھے اس نے ورغلایا تھا ۔“اس نے پردیپ سنگھ کی لاش کی طرف اشارہ کیا ۔
اس مرتبہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر میں نے ٹریگر دبایا ۔گولی اس کے بائیں گھٹنے میں لگی تھی ۔”ہائے ۔“کہتے ہوئے وہ زمین پر گر گیا ۔
اس کی ”ہائے ۔“پر توجہ دیے بغیر میں دوبارہ ٹریگر دبایا اس کے دوسرے گھٹنے میں بھی سوراخ ہو گیا ۔
”خدا کے واسطے مجھے معاف کردو ۔“وہ زور سے چیخا تھا ۔اس کا بدن مسلس لرزرہا تھا ۔
”معلوم ہے اس سکھ کو میں نے کیوں اتنی آسان موت کے حوالے کیا ہے ۔“اس کے چہرے کو ٹھوکر کا نشانہ بناتے ہوئے میں نے پوچھا ۔
”اللہ کے واسطے چھوڑ دو ،معاف کر دو ۔“وہ گڑگڑایا ۔
مگر میںاس کی معافی پر توجہ دیے بغیر بولا ۔”کیونکہ یہ غیر مسلم تھا ۔اور تم....تم کس منہ سے یہ مقدس نام اپنے گندے ہونٹوں سے ادا کر رہے ہو ۔“میں نے اپنے جوتے کی ایڑی پوری قوت سے اس کے منہ پر ماری ۔اس کے سامنے والے سارے دانت ٹوٹ کر اس کے منہ میں گر گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی اس کے ہونٹوں سے خون ابل پڑا ۔وہ زور زور سے کراہنے لگا تھا ۔
”کیا تم اس کے گندے وجود سے دھرتی کو پاک کرنا چاہو گی ۔“میں نے ریشم سے پوچھا ۔
اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
”تویہ لو ۔“میں نے پسٹل اس کی طرف بڑھایا ۔
نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس نے زمین پر پڑا نو دس کلو وزنی پتھر اٹھایا اور سلیم کی طرف بڑھی ۔
سلیم نے اسے پتھر لے کر اپنی جانب بڑھتے دیکھا تو زور زور سے دائیں بائیں سر ہلاتے ہوئے ہاتھ باندھنے لگا ۔اس کے زخمی منہ سے عجیب و غریب آواز نکل رہی تھی ۔اس پر توجہ دیے بغیر ریشم نے اپنے دونوں ہاتھوں سر سے بلند کیے اور پوری قوت سے پتھرسلیم کے سر پر دے مارا ۔اسے چیخنے کا موقع بھی نہیں ملا تھا ۔دو تین دفعہ ہاتھ پاﺅں جھٹک کر وہ دنیاوی غموں سے آزاد ہو گیا تھا ۔
ریشم نے قریب آ کر میرے دونوں ہاتھ تھام کر رندھے ہو لہجے میں کہا ۔”اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے،خوش رکھے اور ہر غم سے آزاد کرے ۔“
”آمین ۔“کہتے ہوئے میں نے اس کے پھٹے ہوئے گریبان سے نظریں چرائیں جو کچھ مخفی رازوں کو آشکارا کرنے پر تلا تھا ۔اور گلا کھنکارتے ہوئے بولا۔
”ویسے اس وقت آپ کے دوپٹے کی ضرورت بال چھپانے سے زیادہ کسی اور جگہ پر ہے ۔“
”جج ....جی ؟“اس نے سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا ۔اس کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی تھی ۔
”میں کہہ رہا ہوں کہ اگر سوئی دھاگا موجود نہ ہو تو پھٹی ہوئی قمیص پر دوپٹا لپیٹا جا سکتا ہے ۔“
اس نے اپنے گریبان کی طرف دیکھا ۔ ایک دم اس کے چہرے پر شرم کی لالی قوس قزح کے رنگوں کی طرح پھیل گئی تھی ۔
”وہ ....میں ....“کہہ کر اس نے رخ دوسری جانب موڑ ا اور اپنے پھٹے ہوئے گریبان کے ساتھ کوئی ضروری کارروائی کرنے لگی ۔جبکہ میں ان لاشوں کی طرف متوجہ ہو گیا تھا ۔ان لاشوں کا چھپانا نہایت ضروری تھا ۔ورنہ اس گاﺅں کے لوگ کسی مصیبت میں بھی پڑ سکتے تھے ۔کیونکہ سلیم کی لاش دیکھ کر کسی کو بھی یہ اندازہ لگاتے دیر نہ لگتی کہ اسے دردناک طریقے سے ہلاک کیا گیا ہے ۔اور ایسا کسی وجہ ہی سے کیا جا سکتا ہے ۔جاسوس یا دہشت گرد گولی مارنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔یوں تشدد کا نشانہ نہیں بناتے۔گو وہ یہ بھی سوچ سکتے تھے کہ اس سے پوچھ گچھ کے لیے اس پر یوں تشدد کیا گیا ہے ۔لیکن پھر بھی اس میں کچھ نہ کچھ ریشم کی ذات ملوث ہو رہی تھی کیونکہ ان دونوں کے واپس پلٹنے کی وجہ ریشم کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی تھی ۔
”کیا سوچ رہے ہو ؟“ریشم کی آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا۔اس نے اپنی قمیص بکسوئے لگا کر مرمت کر لی تھی ۔
”ان لاشوں کو چھپانے کے بارے سوچ رہا ہوں ۔“
”اس کی کیا ضرورت ہے ۔“
”تمھارا کیا خیال ہے اپنے دو بندوں کی گم شدگی انڈین فوج کو آسانی سے ہضم ہو جائے گی۔“
”اتنا تو میں بھی جانتی ہوں کہ کوئی نہ کوئی انھیں ضرور اطلاع کر دے گا۔“
”تو جب انھیں پتا چلے گا اور وہ لاشیں اٹھانے آئیں گے تو سوچیں گے نہیں کہ یہ یہاں کیوں آئے تھے ۔کم ازکم اتنا اندازہ تو انھیں ہو جائے گا کہ یہ کسی لڑکی کے پیچھے یہاں تک پہنچے ہیں اور اس طرح شک کی زد میں تمھاری ذات بھی آ سکتی ہے ۔کیا ان درندوں کی تفتیش کا سامنا کر لو گی ؟“اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے پوچھا۔
اس نے خوف سے جھرجھری بھرتے ہوئے پوچھا ۔”انھیں کیسے چھپائیں ؟“
میں دھیرے سے ہنسا۔”میرا خیال ہے تمھاری سمجھ میں میری بات آ گئی ہے ۔“
”میری بے بسی ہی کا مذاق اڑاتے رہو گے یا لاشیں چھپانے کی کوئی ترکیب بھی سوچو گے ۔“ وہ دکھ بھرے انداز میں بولی ۔
”آپ تو خفا ہی ہو گئیں ۔“
”تو اور کیا کروں ۔خفا ہونے کا حق بھی چھیننا چاہتے ہو ۔“اس کے لہجے میں انتہا کی بے بسی کے ساتھ طنز کا عنصر بھی شامل تھا ۔
”میرا خیال ہے ،اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔“مجھے اس کا طنزیہ انداز اچھا نہیں لگا تھا ۔
”کیوں قصور نہیں ہے ۔کیا آپ ایک آزاد مسلمان ملک کے شہری نہیں ہیں۔کیا آپ مسلمان نہیں ہیں ؟“
اس کا غصے بھرا انداز مجھے حیران کر گیا تھا ۔
”ریشم !....آپ کی باتیں میرے سر سے کافی بلندگزر رہی ہیں ۔“
آپ کو سمجھنے کی ضرورت بھی کیا ہے ۔یوں بھی وہ مسلمان تو کب کے مر چکے جو ایک جسم کی مانند ہوا کرتے تھے کہ ایک عضو کی تکلیف پر سارا جسم بے چینی اور بے قراری محسوس کرتا ہے ۔اب کہاں سے لاﺅں وہ حجاج بن یوسف جس نے ایک مسلم لڑکی کی پکار پر پورے سندھ کو تہہ و بالا کر دیا تھا ۔ہماری آنکھیں تو طارق بن زیادہ اور محمد بن قاسم کی راہ تکتے تکتے پتھرا چکی ہیں مگر لگتا ہے ہمارے مجاہدین کو عیش و نشاط کی محافل ہی سے فرصت نہیں مل رہی ۔جانے کب وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر اپنی ماوﺅں ،بہنوں اور بیٹیوں کی خبر لیں گے ۔“ایک لمحہ کے لیے رک کر وہ استہزائی انداز میں ہنسی اور پھر اس کی بات جاری رہی۔”یقینا وہ دن کبھی نہیں آئے گا ۔یوں بھی جب جہاد ہی دہشت گردی کے زمرے آ گیا تو جہاد کرے گا کون ؟“
اس کی حقیقت پر مبنی گفتگو کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔لیکن میں نے چپ رہنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
”آپ کے مسلمان بھائی نہیں سوئے ،یقینا جس سے جتنا ہو سکتا ہے وہ کر رہا ہے اور اس کی زندہ مثال میری صورت میں آپ کے سامنے موجود ہے ۔باقی ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں ان کا جواب عوام سے مانگنا یقینا زیادتی ہے ۔“
”حکمرانوں کا چناﺅ عوام ہی کرتی ہے ۔“وہ ہار ماننے پر تیار نہیں تھی ۔
” غالباََاس لا ینحل بحث کی وجہ سے ہم اپنا وقت برباد کر رہے ہیں ۔“میں نے ان پر اذیت باتوں سے جان چھڑانا چاہی ۔
”ہونہہ!....صحیح کہا ۔“
”تو چلو کوئی جگہ ڈھونڈتے ہیں ۔“میں آگے بڑھ کر ان کی تلاشی لینے لگا ۔ان کی جیبوں میں سگریٹ اور لائیٹر کے علاوہ کوئی قابل ذکر چیز موجود نہیں تھی ۔لائیٹر اپنی جیب میں ڈال کر میں نے ان کے بنڈوریل سے کلاشن کوف کے فالتو میگزین بھی نکال کر کلاشن کوفوں کے ساتھ رکھ دیے ۔
وہ دائیں بائیں گھوم کر کوئی مناسب جگہ ڈھونڈ رہی تھی ۔
”ذرا یہاں آئیں ۔“نسبتاََ ڈھلان کی طرف سے مجھے اس کی آواز سنائی دی ۔میں اس کی طرف بڑھ گیا ۔
وہ ایک گڑھے کے کنارے پر کھڑی تھی ۔میرے قریب پہنچے پر پوچھنے لگی ۔”آپ نے اپنا نام کیا بتایا تھا ؟“
”میں نے اپنا نام بتایا ہی نہیں تھا۔البتہ آپ مجھے اجنبی کہہ سکتی ہیں ۔“روکھے لہجے میں کہتے ہوئے میں اس گڑھے کا جائزہ لینے لگا ۔گڑھا کافی گہرا تھا ،دونوں لاشیں آسانی سے اس میں سما سکتی تھیں۔
میرا روکھا لہجہ سن کر اس نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا تھا ۔میں لاشوں کی طرف بڑھ گیا ۔
”بات سنو ۔“میں نے پردیپ کی لاش کے پاس رک کر اسے آواز دی ۔
”جی ۔“وہ میرے قریب آنے لگی ۔
”اگر میں نے اکیلے یہ لاش اٹھائی تو میرے کپڑے ان کے گندے خون سے لتھڑ جائیں گے۔“
نزدیک پہنچ کر اس نے پردیپ سنگھ کے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کہا ۔”چلو .... مل کر اٹھا لیتے ہیں۔“
میں نے پردیپ سنگھ کی ٹانگوں سے پکڑ لیا ۔اسے گڑھے میں دھکیل کر ہم نے سلیم کے ساتھ بھی وہی کیا ۔اور اس کے بعد دائیں بائیں بکھرے پتھروں اور کنکروں سے گڑھے کو پاٹنے لگے ۔اس کام میں ہمیں گھنٹا بھر لگ گیاتھا ۔
ان کی لاشوں کی طرف سے بے فکری ہو تے ہی میں ریشم کو مخاطب ہوا ۔”ان کی دونوں کلاشن کوفین کسی ایسی جگہ چھپا دو جہاں آسانی سے نہ ڈھونڈی جا سکیں ۔اور خبردار انھیں گھر لے جانے کی کوشش نہ کرنا ۔ان پر نمبر لکھے ہوتے ہیں ۔انڈین فوجی انھیں دیکھتے ہی فوراََ پہچان جائیں گے ۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”انھیں بھی گڑھے میں دبا دینا چاہیے تھا ۔“
”شاید کبھی کام آ جائیں ۔میرا مطلب ہے کبھی کسی مجاہد سے سامنا ہو تو آپ یہ ان کے حوالے کر سکتی ہیں ۔“
”آپ ہی لیتے جائیں نا ،کیا آپ مجاہد نہیں ہیں ۔“
”نہیں میں مجاہد نہیں ہوں ۔بس کسی ذاتی کام سے سرحد عبور کی تھی غلطی سے ان کی نظر میں آ گیا اور اس کے بعد سے مسلسل بھاگتا پھر رہا ہوں ۔“
”شاید جھوٹ بولنے کا کوئی ڈپلوما ہی کیا ہوا ہے ۔“مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے وہ نیچے پڑی کلاشن کوفیں اٹھانے لگی۔”اور شاید آپ کو بھول گیا ہے کہ تھوڑی دیر پہلے آپ کوئی اور بڑھک مار چکے ہیں۔“
”یہ دو میگزینیں بھی ساتھ رکھ دو ۔“اس کے طنز پر تبصرہ کیے بغیر میں نے فالتو میگزینوں میں سے دو اس کی جانب بڑھا دیں ۔گو مجھے ان کی ضرورت تھی ۔لیکن زیادہ وزن ساتھ پھرانے سے احتراز برتتے ہوئے میں نے وہ میگزینیں وہیں چھوڑنا مناسب سمجھا تھا ۔
”دونوں کلاشن کوفیں اٹھا کر اس نے میرے ہاتھ سے میگزینیں لیں اور ایک بڑی چٹان کی طرف بڑھ گئی ۔
چٹان کی جڑ میں گنیں رکھ کر وہ دائیں بائیں پتھر رکھنے لگی ۔
”ابھی عارضی طور پر تو یونھی رکھ دو ،لیکن کل کوشش کرنا کہ انھیں پلاسٹک وغیرہ میں لپیٹ لینا کیونکہ اس طرح تو یہ زنگ پکڑ کر ناکارہ ہو جائیں گی ۔“
”مشورہ دینے کا شکریہ ۔“گنیں چھپا کر وہ واپس پلٹ آئی ۔میں وہاں بکھرے ہوئے خون کو چھپانے کے لیے کنکر اور مٹی وغیرہ ڈالنے لگا ۔گو اتنے بڑے علاقے میں زمین پر پڑے چند دھبوں کو ڈھونڈنا ناممکن تھا لیکن کوئی مقامی آدمی وہ دھبے دیکھ کر کسی کو اطلاع دے سکتا تھا ۔اور ایسی بات پھیلتے دیر نہیں لگتی ۔مجھے بس ریشم کی فکرتھی ۔وہ معصوم لڑکی اگر ان بزدلوں کے ہتھے چڑھ جاتی تو یقینا اس کی بے گناہی ثابت ہونے تک وہ کئی جاں گسل مراحل سے گزر چکی ہوتی ۔وہ ننگ انسانیت چانکیہ کے چیلے کمزور کے لیے کتنے خوں خوار اور ظالم ہیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے تقسیم ہند کے واقعات پڑھنا ہی کافی ہے ۔
میں نے گھڑی پر نظر دوڑا کر کہا ۔”اب آپ کو واپس لوٹنا چاہیے ۔“
”چاے بنانے میں اتنی دیر نہیں لگے گی ۔“ اپنی دودھ والی بکری کی تلاش میں اس نے دائیں بائیں نظریں دوڑائیں ۔
”نہیں تمھیں دیر ہو جائے گی ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔مگر میری بات کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے وہ مطلوبہ بکری کی طرف بڑھ گئی ۔اسے دودھ دوہتے دیکھنا ایک خوش کن نظارہ تھا لیکن میں نے اپنا رخ موڑ لیا تھا ۔اب میں اپنے دل میں کسی لڑکی کو جگہ نہیں دے سکتا تھا۔
اسے مصروف چھوڑ کر میں لکڑیاں اکھٹی کرنے لگا ۔خشک لکڑیوں کی وہاں کمی نہیں تھی ۔اس کے دودھ دوہنے تک میں آگ بھڑکا چکا تھا ۔کٹورا آگ پر رکھ کر وہ پتی چینی شامل کرنے لگی ۔چاے تیار ہوتے دیر نہیں لگی تھی ۔
مگ بھر کر اس نے میری جانب بڑھادیا۔میں گرم گرم چاے سے لطف اندوز ہونے لگا ۔
”اگر چاہو تو میں رات کا کھانا لا سکتی ہوں ۔“اس نے جھجکتے ہوئے آفر کی ۔
”ضرورت نہیں ہے ۔“اس پر بھروسا کرنے کے باوجود میں یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔
اس نے پھیکے لہجے میں کہا ۔”شاید مجھ پر بھروسا نہیں ہے ۔“
”جب معلوم ہے تو میرے منہ سننا ضروری ہے کیا ؟“
”وجہ ۔“اس نے اذیت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”کسی بھی انجان پر بھروسا کرنا ،ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔“
”کیا اب بھی میں انجان ہوں ۔“اس کا لہجہ دکھی ہو گیا تھا ۔
”کیا کہوں ۔“مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں سوجھا تھا ۔
”کہنے کو بچا ہی کیا ہے ۔“اس نے کٹورے ہی کو منہ لگا کر چاے پینا شروع کر دیا۔سورج پہاڑ کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔لیکن پہاڑ کی چوٹیوں پر اب تک سنہری دھوپ نظر آرہی تھی۔ہلکی ہلکی ہوا سردی کی شدت میں اضافہ کرنے لگی ۔ہم دونوں آگ کے قریب سمٹ آئے تھے ۔
چاے پی کر اس نے مگ اور کٹورا اپنے کپڑے کے تھیلے میں ڈالا اور ڈنڈا لے کر اپنے ریوڑ کو اکھٹا کرنے لگی ۔یوں بھی پالتو جانوروں کو بس اشارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھیڑ بکریاں اپنے مطلوبہ رستے پر ہو لیں ۔
ریوڑ کو اپنے رستے پر لگا کر وہ میرے قریب آئی ۔”خدا حافظ ۔“میری طرف گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ اداسی بھرے لہجے میں بولی ۔
میں نے بھی ہونٹوں پر رسمی مسکراہٹ بکھیر کر کہا ۔”فی امان اللہ ۔“
ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ مڑی اور اپنی بھیڑ بکریوں کے پیچھے چل پڑی ۔چھوٹا میمنا اس کے ساتھ ساتھ تھا ۔
میں آگ پر لکڑیاں ڈالنے لگا ۔چند قدم لے کر وہ پیچھے مڑی ۔
”جھوٹے اجنبی !....کیا اسی رستے سے واپس آﺅ گے ؟“
”معلوم نہیں ۔“میں نے بے رخی سے جواب دیا ۔
”میں انتظار کروں گی ۔ہو سکے تو میرے انتظار کا اختتام کرتے جانا ۔“اس نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔
مجھ سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تھا ۔میں سرجھکائے آگ تاپتا رہا ۔اپنے چہرے پر مجھے اس کی نگاہوں کی تپش محسوس ہو رہی تھی ۔
وہ چند لمحے میرے بولنے کی منتظر رہی اور پھر اس کے ہونٹوں سے رندھی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔”اپنا خیال رکھنا میرے اجنبی !“یہ کہہ کر وہ مڑ گئی ۔
میرے ہونٹوں سے بے ساختہ پھسلا ۔”میرا نام راجا ذیشان حیدر ہے ۔“
”شکریہ ۔“وہ ایک دفعہ پھر مڑی ۔”امید کرتی ہوں یہ سچ ہو گا ۔“یہ کہتے ہی وہ جھاڑیوں کے پیچھے روپوش ہو گئی تھی ۔میرے دل کے کسی نہاں کونے میں ہلکی سی کسک نے سر ابھارہ لیکن اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں ماہین کی یاد تازہ ہوئی اور میرے اندر تلخی پھیلتی چلی گئی ۔
میں نے اضطراری انداز میں بچی ہوئی تمام لکڑیاں آگ میں ڈالیں اور اپنی کلاشن اٹھانے کے لیے مچان کی طرف بڑھ گیا ۔اپنی کلاشن کوف اور تھیلا اٹھا کر میں دوبارہ آگ کے قریب آ بیٹھا ۔مجھے یقین تھاکہ ریشم کے گھر پہنچنے تک شام کا اندھیرا چھا جانا تھا ۔اتنی جلدی وہ میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی تھی ۔یوں بھی انڈیا کی کوئی پوسٹ ان کے گاﺅں کے اتنے زیادہ قریب نہیں تھی جہاں جا کر وہ میرے بارے اطلاع دیتی اور آناََ فاناََوہ میرے خلاف کارروائی کرنے پہنچ جاتے ۔سب سے بڑھ کر میرا دل چاہ رہا تھا کہ اس پر اعتبار کروں ۔کلاشن کوف گود میں رکھ کر میں آگ تاپتا رہا ۔میرا ارادہ تھا کہ شام کا اندھیراگہراہوتے ہی وہاں سے نکل پڑوں گا ۔آگ کو بجھتے دیکھ کر میں نے تھوڑی سی اورخشک لکڑیاں اکٹھی کیں اوردوبارہ آگ کے پاس آ ن بیٹھا ۔ریشم کو گئے ہوئے گھنٹا ڈیڑھ گھنٹا ہورہا تھا ۔سورج غروب ہو چکا تھا ۔ہر طرف ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا۔اچانک مجھے لگا کوئی اس طرف آ رہا ہے ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف ہاتھوں میں تھامی اور پاس پڑی ہوئے ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے ہو گیا ۔میری نظریں آواز کی طرف نگران ہو گئیں۔ ریشم بھی انھی جھاڑیوں کے عقب میں غائب ہو ئی تھی ۔اور پھر ملگجے اندھیرے میں وہاں سے ریشم کو برآمد ہوتے دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا ۔میں جلدی میں جلتی ہوئی آگ کا کوئی بندوبست نہیں کر سکا تھا ۔اس کا رخ آگ ہی کی جانب تھا ۔پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ اس نے دھیمے لہجے میں پکارا ۔ ”اجنبی .... اجنبی ۔“یقینا وہ بھاگتی ہوئی وہاں تک پہنچی تھی ۔
میں خاموش پڑا رہا ۔آگ کے قریب آ کر اس نے دائیں بائیں دیکھا اور پھر مچان کی طرف بڑھ گئی ۔اس نے ہاتھ میں کپڑے کی پوٹلی اٹھائی ہوئی تھی ۔مچان پر ایک سرسری نظر دوڑا کر وہ دوبارہ آگ کے قریب آ کر بیٹھ گئی ۔
”میں جانتی ہوں آپ کہیں قریب ہی ہیں ۔جب یقین آ جائے کہ میں اکیلی ہوں تب سامنے آ جانا۔میں بس آپ کے لیے کھانا لے کے آئی ہوں ۔“
میں نے اس مرتبہ بھی اس کی بات کا جواب نہیں دیا تھا ۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ پر عزم لہجے میں بولی ۔
”جب تک آپ سامنے نہیں آئیں گے میں یہاں سے ٹلنے والی نہیں ۔“
”یقینا بہت سے لوگ تمھیں بتا چکے ہوں گے کہ تم نرا سر درد ہو ۔“میں جھلا کر پتھر کے عقب سے نکل آیا ۔
”نہیں آج ہی پتا چلا ہے ۔“شوخ لہجے میں کہتے ہوئے وہ میرے جانب مڑی ۔”ویسے مجھے پہلے سے اندازہ ہو چکا تھا کہ آپ اسی پتھر کے عقب میں چھپے ہوں گے ۔بس گولی کے ڈر سے قریب جانے کی ہمت نہ کر سکی ۔“
”تو ایسا کام نہ کرو نا جس میں تمھیںڈرنا پڑے ۔“کلاشن کوف گود میں رکھ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
”ایک بات پوچھوں ؟“
”اگر میرے نہیں کرنے سے تم نے نہیں پوچھنی ،تو نہیں ۔“
وہ ہنسی ۔”نہیں اجازت تو میں رسماََ مانگی تھی ۔اور پوچھنا یہ تھا کہ میں نے آپ سے تم کے تخاطب پر ترقی پائی ہے یا تنزلی ۔“
”کیا ....؟“میری سمجھ میں اس کی بات نہیں آئی تھی ۔
”آپ مجھے مسلسل تم کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں نا، تو تم یا تو بہت قریبی کو کہا جاتا ہے یا کسی ناپسندیدہ اجنبی کو ۔“
اس کے توجہ دلانے پر مجھے احساس ہوا کہ اس کی دوبارہ آمد پرمیں اسے مسلسل تم کہہ کر مخاطب کر رہاتھا ۔
”معذرت خواہ ہوں دھیان نہیں رہا ۔“
اس نے شوخی بھرے لہجے میں کہا ۔”اتنی بے دھانیاں اچھی نہیں ہوتیں جناب!۔“
”ویسے آپ کو اس وقت گھر سے اکیلے نہیں نکلنا چاہیے تھا۔“
”آپ کا، مجھے ناپسندیدہ اجنبی سمجھ کر بھی تم کہہ کر مخاطب کرنا ۔اس آپ سے کئی گنا زیادہ عزیز ہے ۔“
”میں نے کچھ اور کہا ہے ۔“اس کے چاہت جتلانے پر مجھے کوفت محسوس ہورہی تھی ۔
”تو میں اکیلی کب ہوں ،آپ میرے ساتھ موجود ہیں نا ۔اور آپ کی موجودی میں مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا ۔“
”اچھا ایسا ہے کہ اب میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے ۔اور فی الحال مجھے بالکل بھوک نہیں ہے کیونکہ ،تھوڑی دیر ہی پہلے میں نے لیٹر بھر چاے اپنے معدے میں انڈیلی ہے ۔اس لیے تم اپنا کھانا واپس لے جا سکتی ہو ۔“
”واہ بہت خوب ،میں اپنی پیاری بکریوں کو اکیلا چھوڑ کر یہاں سے بھاگتے ہوئے گھر پہنچی اور وہاں سے واپس بھی اسی حالت میں آئی صرف آپ کے کھانے کے لیے ۔اور آپ فرما رہے ہیں کہ آپ کو بھوک نہیں ہے اس لیے میں اپنا کھانا واپس لے جاﺅں ۔کیا میں نے کھانے کا کوئی معاوضا مانگا ہے کہ آپ کو ایسا کہنے کی ضرورت پڑگئی ؟“
”ایسا میں نے کب کہا ؟....“میں نے فوراََ پٹری تبدیل کی کہ میں واقعی بہت غلط بات کہہ چکا تھا ۔”میرے کہنے کا مطلب تھا کہ تم گھر جا سکتی ہو میں یہ کھانا بعد میں کھا لوں گا ۔“
”پتا ہے اس کپڑے پر میں نے اپنے ہاتھوں سے بیل بوٹے کاڑھے ہیں ۔اپنا نام بھی لکھا ہے کھانا کھا کر اسے پھینک نہ دینا ۔شاید اسے دیکھ کر ہی کبھی میری یاد آجایا کرے ۔“اس نے کھانے کی پوٹلی میری جانب بڑھاتے ہوئے بہ ظاہر مزاحیہ انداز میں کہا تھا ۔
”یقینا اس سے پہلے ملنے والے مجاہدوں کو کھانا دیتے ہوئے بھی آپ نے کچھ ایسا ہی کہا ہو گا۔“میرا لہجہ اتنا طنزیہ نہیں تھا جتنا الفاظ زہریلے تھے ۔اپنی بات کا اثر دیکھنے کے لیے میں اس کے چہرے ہی کو دیکھ رہا تھا ۔آگ کی لپٹیں اس کے چہرے کو مزید دلکش بنا رہی تھیں ۔
وہ جیسے گہری سوچ میں ڈوب گئی ۔”ہاں میں نے ان دونوں کے لیے بھی گھر سے کھانا لایا تھا ۔ کیونکہ ان انھوں نے خود مجھ سے کھانا مانگا تھا ۔وہ آپ کی طرح شکی مزاج نہیں تھے ۔ اور پھر رخصت ہوتے وقت ایک نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔بیٹی،اللہ پاک تمھیں حفظ و امان میں رکھے اور دوسرے کو میں نے کہا تھا ، بھائی ،تمھاری بہن ہمیشہ تمھارے لیے دعا گو رہے گی ۔“اس نے میری طرف رخ موڑا ۔”آپ اجنبی تھے اور اجنبی ہی رہیں گے ۔“یہ کہتے ہی وہ اٹھ کر تھکے تھکے انداز میں چل پڑی ۔ چند قدم لینے کے بعد وہ رکی اور پیچھے مڑے بغیر بولی ۔
”اندھیرا پھیل رہا ہے ، یہ آگ دور سے نظر آ سکتی ہے ۔اور کوئی بھی اس طرف متوجہ ہوگیا تو آپ نے میری ذات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہے ۔شاید میں آپ کی نفرت برداشت نہ کر پاﺅں ۔خدارا آگ کو بجھا دو ۔اور یاد رکھنا میرا نام رومانہ ہے ۔“آخری الفاظ کہتے ہوئے مجھے اس کی سسکی سنائی دی اور وہ ایک دم بھاگ پڑی تھی ۔
آگ کے بارے اس نے صحیح کہا تھا ۔میں دیر کیے بغیر دائیں بائیں پڑے پتھر آگ پر پھینکنے لگا۔پتا نہیں پہلے اس نے اپنا نام بتاتے ہوئے غلط بیانی کیوں کی ۔اچانک مجھے یاد آیا کہ ریشم نام تو اس نے پردیپ سنگھ وغیرہ کو بتایا تھا اور میں بھی اسے اسی نام سے پکارنے لگا تھا۔بہ ہرحا ل وہ رومانہ تھی یا ریحانہ مجھے اس سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔اور نہ مجھے اس کا نام یاد رکھنے کی ضرورت تھی ۔اب کسی لڑکی کا میری زندگی میں آنا مشکل تھا ۔میرے لطیف جذبات مر چکے تھے ،میرا دل مردہ ہو گیا تھا ۔کسی عورت کا محبت اور خلوص بھرا برتاﺅ مجھے ہضم ہونے والا نہیں تھا ۔رومانہ کی ساری باتوں کا مجھ پر ذرا بھر بھی اثر نہیں ہوا تھا ۔ یوں بھی میں نے کسی خاص مقصد کے لیے سرحد عبور کی تھی جس میں رومانہ جیسی لڑکی سے تعلق کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی ۔بہ قول شاعر
کسی نے دھول کیا آنکھوں میں جھونکی
میں اب پہلے سے بہتر دیکھتا ہوں
آگ بجھا کر میں نے اپنا سامان سنبھالا اور وہاں سے روانہ ہو گیا ۔میں نے وہی رستا استعمال کیا تھا جس پررومانہ یا ریشم چل کر گئی تھی ۔دس پندرہ منٹ میں نیچے پہنچ گیا تھا ۔پہاڑ کی ڈھلان ختم ہونے کے بعد نسبتاََہموار جگہ تھی ۔پہاڑ کی جڑ سے فرلانگ بھر دور آبادی شروع ہو رہی تھی ۔میں نے آبادی سے دور دور ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔کسی کسی گھر سے روشنی کی ہلکی ہلکی جھلک نظر آ رہی تھی ۔اندھیرا چھا گیا تھا ورنہ یقینا گھروں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں ضرور نظر آتا ۔چاند نکلنے میں ابھی تک کافی وقت پڑا تھا ۔ اس علاقے میں یوں بھی پہاڑوں کی وجہ سے چاند طلوع ہونے کے کافی دیر بعد نظر آتا ہے ۔
گو کچی سڑک پر سفر کرنا مجھے کافی مسائل سے بچا سکتا تھا لیکن اس میں بڑی قباحت یہ تھی کہ کچی سڑک نے پوسٹوں کے قریب سے ہو کر گزرنا تھا اور میں کسی کی نظر میں آنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔ انڈین فوج مجھے پچھلے علاقے میں ڈھونڈتی پھر رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ وہ وہیں مشغول رہیں ۔
گزشتہ رات کے ہنگاموں کی وجہ سے میں رستے سے ہٹ گیا تھا ۔اور اب میرے پاس کوئی ایسا ذریعہ موجود نہیں تھا جسے بروئے کار لا کر میں متعین سمت سفر کر سکتا ۔ اپنے ساتھ نقشہ اور کمپاس وغیرہ میں نے نہیں لایا تھا ۔ کیونکہ میری منزل انبالہ شہر تھا اوروہ کسی ایسی خفیہ جگہ پر موجود نہیں تھا کہ مجھے نقشے کی ضرورت پڑتی ۔پہاڑی علاقے سے نکلنے کے بعد انبالہ تک پہنچنا میرے لیے مشکل نہیں تھا ۔مجھے چلتے ہوئے دو گھنٹے ہو رہے تھے ۔میں آبادی سے کافی آگے نکل آیا تھا ۔وہ وسیع نالہ آہستہ آہستہ تنگ ہونا شروع ہو گیا تھا ۔بائیں طرف بلندی پرمجھے دور ہلکی سی روشنی چمکتی نظر آئی ۔وہ کوئی پوسٹ بھی ہو سکتی تھی اور کسی کا گھر بھی ۔کیونکہ اگلے دفاعی مورچوں کو میں کافی پیچھے چھوڑ آیا تھا اس لیے مشکل تھا کہ یہاں انھیں کسی پوسٹ بنانے کی ضرورت پڑتی ۔بہ ہرحال یہ میرا اندازہ تھا ۔بعض اوقات آرمی اپنی عقبی رہائش اور اگلے مورچوںکے مابین زیادہ فاصلے کی وجہ سے درمیان میں ٹرانزٹ کیمپ وغیرہ بنا دیتی ہے ۔تاکہ آگے یا پیچھے جانے والے دستے چند گھنٹے یا ایک دو دن وہاں آرام کر سکیں ۔بعض اوقات تو درمیاں میں دو تین ٹرانزٹ کیمپ بھی بنا دیے جاتے ہیں ۔اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب سپاہ کو پیدل سفر کرنا پڑے ۔
میں نالے کی دا ئیں طرف چھوڑ کر بائیں جانب ہو گیا ۔اس کے لیے مجھے پانی سے گزرنا پڑا تھا ۔مگر پانی بالکل ہی تھوڑ اتھوڑا بہہ رہا تھا اس لیے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا ۔بائیں طرف ابھی تک کچا رستا موجود تھا۔ تھوڑا سا آگے جاتے ہی وہ کچا رستا بلند ہونے لگا ۔اور مجھے وہ رستا چھوڑنا پڑا کیونکہ اب اس رستے کا رخ اسی روشنی کی طرف ہو گیا تھا ۔گویا وہ روشنی کسی درمیانی کیمپ ہی کی تھی ۔ایسے کیمپوں میں عموماََ سنتری وغیرہ اتنے چوکنا نہیں ہوتے ۔میں نیچے سے ہو کر وہاں سے گزر گیا ۔اس کیمپ سے پانچ چھے سو گز آگے آنے کے بعد ایک بار پھر مجھے کچی سڑک مل گئی تھی ۔میں اسی پر چلنے لگا۔چاند نکل آیا تھا ۔ اس نالے میں دائیں بائیں سے اورچھوٹے چھوٹے نالوں کا پانی بھی شامل ہو رہا تھا ۔اب پانی کے شور کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ نالے کی تہہ میں اچھا خاصا پانی بہہ رہا ہے۔آگے جاکر وہ نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔ مجھے مجبوراََ سیدھی سمت میں ہی سفر جاری رکھنا پڑا ۔کیونکہ وہاں پانی دو حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود اتنا زیادہ تھا کہ گیلے ہوئے بغیر نالہ عبور کرنا ممکن نہیں تھا ۔جانے کتنے نالوں کا پانی اس میں شامل ہو گیا تھا ۔اس کے ساتھ کچی سڑک سے بھی یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ سڑک آگے جا کر کسی نہ کسی آبادی میں جا نکلے گی۔رات کے اڑھائی بج رہے تھے جب میں نے سستانے کے لیے مناسب جگہ کی تلاش میں دائیں بائیں نظریں گھمانی شروع کردیں ۔اچھی خاصی بھوک بھی محسوس ہو رہی تھی ۔جلد ہی ایسی جگہ مجھے مل جہاں میں آگ جلا سکتا تھا ۔ایک نالے کی وجہ سے سڑک پہاڑی کے اندر کی جانب مڑی تھی اور پھر نصف دائرہ بنا کر دوبارہ سیدھی ہو گئی تھی ۔وہ نصف دائرے کی جگہ ایسی تھی جہاں آگ جلانے کی صورت میں آگ دور سے نظر نہیں آ سکتی تھی ۔ٹارچ کے شیشے پر ہلکا کپڑا لپیٹ کر میں نے روشنی کو دھیما کیا اور دائیں بائیں سے خشک جھاڑیاں ڈھونڈنے لگا ۔آگ نے رستے سے تھوڑا ہٹ کر جلائی تھی کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ دن کے وقت وہاں سے گزرنے والے کسی فوجی کوبچی ہوئی راکھ دیکھ کر ذرا سا بھی شک گزرے ۔وہاں سے بہنے والا پانی کسی چشمے کا تھا کیونکہ پانی بالکل بھی ٹھنڈا نہیں تھا ۔خو ب سیر ہو کر پانی پی کر میں نے رومانہ کا دیا ہوا کھانا نکالا ۔کپڑا کھولتے ہی دیسی گھی کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرانے لگی ۔ تین روٹیاں تھیں اور تینوں پر دیسی گھی اچھی طرح چپیڑا گیا تھا ۔سالن آلو گوشت کا تھا ۔لیکن یقینامیرے لیے وہ بس روٹیوں پر گھی چپیڑنے کا اہتمام ہی کر سکی تھی ۔آلو گوشت ان کے روزمرہ کے مطابق بنا ہوا تھا ۔
روٹیوں کو آگ پر سینک کر میں کھانے کو جڑ گیا ۔اگر وہ لذیز نہیں بھی تب بھی اس وقت مجھے اتنا لطف دے رہا تھا کہ بیان سے باہر ہے ۔میں تینوں روٹیاں چٹ کر گیا تھا ۔کھانے کے بعد مجھے دن کو پی ہوئی چاے کی بہت یاد آئی ۔اتنی اچھی چاے پینے کا اتفاق خال ہی ہوتا ہے ۔
چشمے کے پانی سے ہاتھ دھو کر میں نے وہی روٹیوں والا کپڑا اٹھا کر ہاتھ خشک کرنے ہی لگا تھا کہ کچھ سوچ کر میں نے وہ کپڑا واپس رکھ دیا ۔اور اپنے ہاتھ آگ پر پکڑ لیے ۔شاید کھانا باندھنے کے احترام کی وجہ سے میں وہ کپڑا استعمال نہیں کر سکاتھا ۔
ہاتھ آگ پر سکھا کر میں بے خیالی میں اس کپڑے پر کشیدہ کیے بیل بوٹوں کو گھورنے لگا ۔بہت ہی نفاست سے کشیدہ کاری کی گئی تھی ۔زیادہ تر سرخ گلابی اورگہرے سبز رنگ کا استعمال کیا گیا تھا اور پھر میری نظریں سرخ پھولوں اور سبز رنگ کی بیل سے پھسلتی ہوئی اس کونے میں جا رکیں جہاں بہت خوب صورت لکھائی میں رومانہ لکھا ہوا نظر آ رہا تھا ۔
”یاد رکھنا میرا نام رومانہ ہے ۔“میرے کانوں میں اس کی گلوگیر آواز گونجی اور میں نے جلدی سے وہ کپڑا لپیٹ کر جھاڑی کی طرف اچھال دیا ۔
”میری بلا سے ۔“سر جھٹک کر میں آگ کی طرف متوجہ ہو گیا جس کے شعلے مدہم پڑتے جا رہے تھے ۔پاس پڑی خشک لکڑیاں اس پر ڈال کر میں نے آگ کو تازہ کیا ۔کھانا کھانے کے بعد سردی کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگتی ہے ۔یوں بھی وہاں اچھی خاصی سردی تھی ۔چلتے ہوئے البتہ اتنی سردی محسوس نہیں ہوتی ۔
میں اپنی جمع کی ہوئی لکڑیوں کے جلنے تک وہیں بیٹھا رہا ۔جونھی لکڑیاں ختم ہوئیں ۔اپنا تھیلا پیٹھ پر لٹکا کر میں چل پڑا ۔چار پانچ قدم لینے کے بعد اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر کسی کو کھانے والا وہ کپڑا وہاں پڑا ہوا مل گیا تو کیا رومانہ کے نام سے وہ اس تک پہنچ تو نہیں جائے گا ۔گو یہ بات امکان سے کافی بعید تھی لیکن اس کے باوجود میں نے پیچھے جا کر وہ کپڑا اٹھا لیا کہ اسے دہکتے ہوئے انگاروں میں ڈال کر خاکستر کر دوں ۔لیکن پھر میں وہ کپڑا انگاروں پر نہ پھینک سکا ۔
”پتا ہے اس کپڑے پر میں نے اپنے ہاتھوں سے بیل بوٹے کاڑھے ہیں ۔اپنا نام بھی لکھا ہے کھانا کھا کر اسے پھینک نہ دینا ۔شاید اسے دیکھ کر ہی کبھی میری یاد آجایا کرے ۔“میرے دماغ میں جیسے کسی نے سرگوشی کی اور میں نے وہ کپڑا تھیلے میں ڈال لیا۔شاید میں وہ کپڑا وہاں پھینکنا ہی نہیں چاہتا تھا۔
نیچے اتر کر میں دوبارہ سڑک ناپنے لگا ۔آگے جا کر وہ سڑک دائیں طرف مڑ گئی ۔نالہ عبور کرنے کے لیے لوہے کا مضبوط پل بنا ہوا تھا ۔نالے میں پانی کی مقدار اتنی ہو گئی تھی کہ اب اسے پل کے بغیر عبور کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا ۔یوں بھی مسلسل اترائی کی وجہ سے پانی کی رفتا بہت تیز تھی ۔پل عبور کرنے کے بعد سڑک پختہ ہو گئی تھی ۔میں صبح کی روشنی ظاہر ہونے تک یونھی بے فکر چلتا رہا ۔ ملگجا اجالا ہوتے ہی میری نظریں کسی پنا گاہ کی تلاش میں سرگرداں ہو گئی تھیں ۔سامنے نظر دوڑانے پر مجھے سڑک دائیں طرف مڑتی دکھائی دے رہی تھی ۔اور اسی جگہ دائیں طرف سے ایک بہت بڑا نالہ اس نالے میں آ کر مل رہا تھا ۔جونھی میں موڑ مڑا مجھے سامنے ایک کافی کھلی وادی دکھائی دی ۔پرشور نالہ جو اچھی خاصی نہر کی شکل اختیار کر گیا تھا بائیں طرف پہاڑی کی جڑ میں بہہ رہا تھا ،جبکہ دائیں طرف بہت بڑی آ بادی نظر آ رہی تھی ۔کچھ گھر نالے کے پار بائیں طرف کی پہاڑی پر بھی موجود تھے اور ان کے شہر میں داخل ہونے کے لیے نالے کے اوپر لکڑی کا ایک جھولتا پل موجود تھا ۔پہاڑی علاقے میں اتنی بڑی آبادی کا علاقہ شہر ہی کہلاتا ہے ۔کچھ گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکتی روشنی اس بات کا مظہر تھی کہ وہاں بجلی موجود تھی ۔یقینا وہ اس نالے کے پانی کوبجلی بنانے کے لیے استعمال کرتے تھے ۔پہاڑی علاقوں میں بجلی بنانے کا یہ سب سے اچھا اور سستا طریقہ ہے ۔اس آبادی کو دیکھ کر میں نے کلاشن کوف سے جان چھڑانے کا طریقہ سوچنا شروع کر دیا ۔لیکن وہاں کوئی ایسی جگہ مجھے نظر نہیں آ رہی تھی جہاں اسے محفوظ طریقے سے چھپا سکتا ۔ یہاں تک کہ آبادی قریب آ گئی تھی ۔میں نے سر کھپانا مناسب نہ سمجھا اور کلاشن کوف مع فالتو میگزینوں کے نالے میں اچھال دیں ۔میری واپسی جانے کب اور کس رستے سے ہونا تھی ۔اور اس کو چھپانے کے لیے نالے کے تیز رفتار پانی سے اور کوئی جگہ بہتر نہیں تھی ۔اب میرے پاس صرف گلاک پسٹل ہی رہ گیا تھا ۔ پسٹک کو میں نے مع سائیلنسر پیٹھ کی طرف سے شلوار میں اڑس لیا تھا ۔تیز دھار خنجر بھی چمڑے کے کیس میں بند کر کے میں نے جرابوں میں اڑس لیا ۔مضبوط پلاسٹک کے بوٹ کچھ عجیب سے لگ رہے تھے کیونکہ وہاں برف موجود نہیں تھی ۔اس کا بندوبست میں نے پہلے سے سوچا ہوا تھا ۔میری پیٹھ پر بندھے تھیلے میں سپورٹس شوز موجود تھے ۔تھیلے سے سفید رنگ کے سپورٹس شوز نکال کر میں نے پاﺅں میں ڈالے اور دوسرے بوٹ ہاتھ میں لٹکا لیے ۔آبادی میں داخل ہوتے ہی نسبتاََ ایک غریب گھر دیکھ کر میں نے وہ بوٹ اس کے دروازے پر پھینک دیے کہ چلو کسی غریب کے کام ہی آ جائیں گے ۔
زندگی بیدار ہو گئی تھی ۔چھوٹے سے بازار میں دو تین ہوٹلوں پر مجھے پراٹھے بنتے نظر آئے ۔ مجھے کھانے کی کوئی خاص حاجت تو محسوس نہیں ہو رہی تھی البتہ چاے کی طلب ہو رہی تھی ۔ایک مناسب ہوٹل دیکھ کر میں اس میں گھس گیا ۔چاے کے ساتھ انڈہ فرائی اور پراٹھے کا کہہ کر میں لکڑی کے بینچ پر ٹک گیا ۔ وہاں تین چار بندے پہلے سے بیٹھے ناشتا کر رہے تھے ۔کسی نے بھی مجھ پر خاص توجہ نہیں دی تھی ۔ میں ذرا مطمئن ہو گیا تھا ۔ہوٹل میں ایک ہی آدمی کام کرتا نظر آ رہا تھا ۔وہی اس کا مالک ،وہی باورچی اور وہی بیرا تھا ۔اس نے میرے سامنے ناشتا رکھا۔چاے کا پہلا گھونٹ لیتے ہی مجھے رومانہ کی بنائی ہوئی چاے یاد آ گئی ۔میں نے بے زاری سے سر جھٹکا اور انڈے پراٹھے کے ساتھ انصاف کرنے لگا ۔
ناشتا کر کے میں بل کی ادائی کرتا ہوا ہوٹل سے باہر آ گیا ۔سورج مشرق سے سر ابھار رہا تھا ۔ ایک دکان کے سامنے انگریزی میں لکھا ہوا مین بازار اوڑی پڑھ کر مجھے شہر کا نام معلوم ہوا ۔میں نے اندازے ہی سے درست جگہ پہنچ گیاتھا ۔اوڑی کے بعد قریب ترین شہر غالبادمبہ تھا ۔میرا ارادہ اوڑی شہر کے مضافات میں کسی کا زبردستی مہمان بننے کا تھا ۔ رات بھر کے مسلسل سفر کے بعد میرے بدن کو آرام کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔شاید شب بسری کے لیے بھی وہاں کوئی ہوٹل وغیرہ موجود ہوتا لیکن ہوٹل میں کمرہ لینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔کیونکہ جس جگہ وہ شہر موجود تھا وہاں لازماََ انڈین ایجنسیوں کے ایک دو بندوں نے ضرور موجود ہونا تھا ۔اور ان کی تفتیش کا سامنا کرنے سے اچھا تھا کہ میں کسی ویرانے میں دن گزار لیتا ۔
لیکن کچھ آگے جاتے ہی ایک سٹارٹ ویگن کو دیکھ کر میں نے اپنا ارادہ تبدیل کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔ویگن آدھی سے زیادہ سواریوں سے بھری ہوئی تھی ۔میں بھی اندر گھس کر ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گیا ۔دس پندرہ منٹ کے انتظار کے بعد ویگن چل پڑی تھی ۔مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کی اگلی منزل کیا ہونی ہے ۔
اوڑی سے نکلتے ہی کنڈیکٹر کرایہ وصولنے کے لیے سواریوں کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ایک سواری کے منہ سے دمبہ کا نام سن کر میں نے سکون بھرا سانس لیا تھا ۔اس نے کنڈیکٹر کی طرف سو روپے کا نوٹ بڑھایا تھا ۔کنڈیکٹر نے نوّے روپے کاٹ کر دس روپے اس کی جانب بڑھا دیے ۔جب کنڈیکٹر نے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے پہلے سے گنے ہوئے نوّے روپے اس کی جانب بڑھا دیے ۔
سڑک پختہ تھی لیکن کئی جگہوں پر مرمت ہونے والی تھی ۔نالوں وغیرہ میں تو سڑک قریباََ ختم ہو چکی تھی ۔میں زیادہ دیر باہر کے نظارے نہ کر سکا اور سامنے والی سیٹ پر سر ٹیک کر خوا ب کے سفر پر روانہ ہو گیا ۔نہ جانے کیسے سپنے میں مجھے رومانہ دکھائی دینے لگی ۔
”میں جاگ رہی ہوں نا آپ سو جائیں ۔“میرا سر اپنے زانو پر رکھ کر اس نے شیریں لہجے میں پکارا ۔ہم اسی جگہ موجود تھے جہاں ہم نے کل کا پورا دن گزارا تھا ۔
میں نے فکر مندی سے کہا ۔”کوئی آ نہ جائے ۔“
”تو میں فوراََ آپ کو جگا دوں گی ۔“میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے سر بکھیرے ۔
”میرا دل چاے پینے کو کر رہا ہے ۔“میں نے لاڈ بھرے انداز میں کہا ۔
”اچھا میں آپ کے لیے چاے بناتی ہوں ۔“اس نے میرا سر زانو سے اٹھا کر نیچے تھیلے پر رکھنا چاہا اور اچانک اس کے ہاتھ سے میرا سر چھوٹ گیا ۔ایک جھٹکے کے ساتھ میرا سر تھیلے پر لگا اور میری آنکھ کھل گئی ۔
کسی گڑھے کو عبور کرتے ہوئے ویگن کو سخت جھٹکا لگا تھا۔دائیںبائیں نظر دوڑانے پر مجھے زیادہ تر سواریاں اونگھتی ہوئی نظر آ ئیں۔ٹیپ ریکارڈ وغیرہ کی سہولت شاید ڈرائیور کے پاس موجود نہیں تھی تبھی گانے بجانے کے بے ہنگم شور کے بجائے ویگن میں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے میںخوا ب کے دلکش مناظرکو تصور میں لانے لگا ۔مگر کہاں بے ڈھنگی اور سخت سیٹ کاناپسندیدہ لمس اور کہاں رومانہ کے ریشمی اور ملائم زانوکا تازگی بھرا احساس ۔
”یہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔“اچانک میں نے خود کو کوسا ۔کل سے میری سوچیں بے اختیار ہو کر رومانہ کو یاد کرنے لگتیں ۔یہاں تک کہ تھوڑی سی آنکھ لگتے ہی وہ میرے خیالوں میں در آئی تھی ۔ماہین کا دیا ہوا گھاﺅ ابھی تک بھرا نہیں تھا اور دل کم بخت کسی اور خوش جمال کے ہاتھوں برباد ہونے پرکمر بستہ ہو گیاتھا۔میں دل ہی دل میں خود کو سمجھانے لگا ۔عورت ذات کی حقیقت جب مجھ پر کھل گئی تھی پھر جان بوجھ کر نئی چوٹ کھانا کہاں کی عقل مندی تھی ۔
کافی دیر دل ناداں کو نصیحتوں کاپرچارکرنے کے بعد مری آنکھ لگی اور رومانہ کود کر میری نظروں کے سامنے آ دھمکی ۔سارے نصیحتیں اور سارے خیر خواہی کے مشورے دل نے بغیر کسی دلیل کے رد کر دیے تھے ۔وہ خو ب صورت لباس پہنے سر پر تاج سجائے ہوئے ،ایک بڑے پتھر سے ٹیک لگائے بکری کے میمنے سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی ۔کبھی کبھی وہ ترچھی نگاہ مجھ پر بھی ڈال لیتی ۔اور ایسا کرتے ہی اس کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوتی ۔
”اب اس میمنے کی جان چھوڑو اور میرے قریب آﺅ۔“میں نے اسے اپنے پاس بلایا۔میں اس وقت اپنی مچان ہی میں لیٹا تھا ۔
”نہ جی نہ ۔“اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے خوب صورت دانتوں کی نمائش کی ۔ ”مجھے جھوٹے اجنبی پر بالکل بھی بھروسا نہیں کرنا ۔“
”یہ بات ہے ۔“میں نے بہ ظاہر خفگی ظاہر کی ۔
”ارے مذاق کر رہی تھی ۔آپ تو خفا ہو گئے ۔اپنے پیارے اجنبی کو بھلا میں خفا کر سکتی ہوں۔“میمنے کو گود سے اتار کر وہ سبک قدموں سے میرے مچان کی طرف آنے لگی اسی وقت جھاڑیوں اوٹ سے ماہین نکلی ۔اس نے ہاتھ میں بہت بڑا چھرا پکڑا ہوا تھا ۔
”خبردار اگر میرے شانی کے قریب گئیں ۔“اس نے دور ہی سے رومانہ کو للکار ا۔
”یہ میرا اجنبی ہے ۔“رومانہ اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی ۔ماہین کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چھرے کی پروا اس نے بالکل بھی نہیں کی تھی ۔
”میرا خیال ہے تمھاری سمجھ میں ایسے نہیں آئے گا ۔“ماہین نے بلا خوف و خطر رومانہ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا تھا ۔
”نہیں ۔“اسے روکنے کے لیے میں نے مچان سے نیچے چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی ۔اس کے بعد دمبہ تک میری آنکھ نہیں لگی تھی ۔میں بلا ارادہ اسی اوٹ پٹانگ خواب کو سوچتا رہا ۔رومانہ کا یوں بار بار اپنے خوا ب میں آنا مجھے جو باور کر ا رہا تھا میرا دماغ وہ ماننے کو تیار نہیں تھا ۔ چند گھنٹے ایک انجان لڑکی کے ساتھ گزار کر بے وقوف دل جانے کیا امیدیں باندھ بیٹھا تھا ۔جب رومانہ کی یادوں نے کچھ زیادہ ہی پر پرزے نکالنے شروع کیے تو تنگ آ کر میں نے اپنی سوچوں دھارا موجودہ مشن کی طرف موڑ دیا ۔
انبالہ جا کر مجھے پاکستانی جاسوس آدیت ورما سے ہدف کے بارے مکمل تفصیل پتا چلنا تھی ۔اور اس کے ساتھ اس نے ڈریگنوو رائفل بھی میرے حوالے کرنا تھی ۔رقم اور ضرورت کی کسی اور چیز کا بندوبست بھی آدیت ورما ہی کے ذمہ تھا ۔اس کا اسلامی نام مجھے نہیں بتایا گیا تھا ۔البتہ آدیت ورما کےسے نہ مل سکنے کی صورت مجھے دو اور نام بھی بتائے گے تھے ،لیکن ان سے اشد ضرورت کے علاوہ رابطہ کرنے کی ممانعت تھی ۔یوں بھی ان میں سے ایک دہلی اور دوسرا آگرے میں تھا ۔اس کے بعد دمبہ آنے تک میں اپنے ہدف کو ٹھکانا لگانے کے منصوبے سوچتا رہا ۔
سنائپرز کو شروع شروع میں صرف میدان جنگ اور سرحدوں ہی پر استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب تو سنائپرز ہر قسم کی روایتی اور غیر روایتی جنگ میں استعمال ہو رہے تھے ۔بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں تو کئی قسم کے اجرتی قاتل سنائپنگ کر کے ہی مطلوبہ افراد کو ٹھکانے لگا رہے ہیں ۔خود میں بھی امریکہ میں جا کر ایک ایسی ہی کارروائی کا حصہ بن چکا تھا ۔
دمبہ کا محل وقوع بھی اڑوی شہر سے مختلف نہیں تھا ۔وہی پہاڑ ،وہی پرشور نالہ جس میں پانی کی مقدارپہلے سے کافی زیادہ ہو گئی تھی اور ویسے ہی گھر جو پہاڑی علاقے کا خاصا ہیں ۔ہم دو پہر ڈھلے ہی وہاں پہنچ پائے تھے ۔پوری رات کے پیدل اور پھر ویگن کے غیرا ٓرام دہ سفر نے مجھے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔ گو ایک سنائپر کے لیے تھکن ،بے آرمی ،مسلسل جاگنا اور بھوکا پیاسا رہنا کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے کہ سنائپر میں عام آدمی کے برعکس برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے ۔یہ برداشت کچھ تو قدرتی طور پر انسان میں موجود ہوتی ہے اور کچھ اسے تربیت جلا بخشتی ہے ۔
لیکن اس کے باوجود میں چاہتا تھا کہ کچھ دیر آرام کر لوں ۔ویگن سے اتر کر میں سمت کا تعین کیے بغیر چل پڑا۔صبح ناشتا کرنے کی وجہ سے مجھے کوئی خاص بھوک محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔دمبہ کا بازار اوڑی شہر سے کچھ بڑاتھا ۔لیکن وہاں ہوٹلز میں مجھے رہائش وغیرہ کا انتظام نظر نہ آیا ۔مجبوراََ مجھے ایک کھوکے والے سے معلومات لینا پڑی ۔اس کے جواب کالبِ لباب یہی تھا کہ وہاں ایسے کئی گیسٹ ہاﺅس موجود تھے جہاں کرائے پر کمرے بھی دستیاب تھے اور بسترے بھی ۔بستروں کی بابت پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک بڑے کمرے میں کئی بستر لگے ہوتے تھے گیسٹ ہاﺅس کا مالک چوبیس گھنٹوں کے لیے ایک بستر کے چالیس روپے وصول کرتا تھا ۔گرمیوں میں وہاں سیاحوں کا کافی رش رہتا تھا ابھی سردیوں کی وجہ سے کوئی سیاح دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔
یہ مفید معلومات لے کر میں اسی کھوکے والے سے ایک گیسٹ روم کا پوچھ کر اس جانب روانہ ہو گیا ۔وہ آبادی قریباََ مسلمانوں ہی کی تھی ۔لیکن اس کے ساتھ ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی خال خال موجود تھے ۔اس کا اندازہ مجھے دکانوں کے نام پڑھ کر ہی ہوگیا تھا ۔نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے ایک ہندو کے مسافر خانے میں کمرہ لیا ۔کیونکہ ایجنسیوں کے بندوں کی نظریں زیادہ تر مسلمان کے ہوٹلز اور مسافر خانوں پر گڑی رہتی ہیں اور پھر میں ایک ہندو کی شناخت ہی سے سفر کر رہا تھا ۔البتہ کمرہ لینے سے پہلے میں نے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں کھانا کھا لیا تھاجو کہ کسی مسلمان کی ملکیت تھا ۔ کیونکہ ہندو کے ہاتھ کے پکے ہوئے پر مجھے یقین نہیں تھا ۔جس مذہب میں گائے کا پیشاب پینا عبادت سمجھی جائے ،جو اپنے تیئں ہر پلید چیز کو گاﺅ ماتا کے پیشاب کے چھینٹوں سے پوتر (پاک)کردیں ایسے لوگوں کا پکا ہوا کھانا نری بے وقوفی ہی تو تھی ۔
چھوٹے سے کمرے میں ایک چارپائی پڑی تھی ۔اس پر بچھا ہوا بستر بھی اس قابل ضرور تھا کہ اس میں گھس کر چند گھنٹے آرام کر لیے جائیں ۔کمرے سے ملحق چھوٹے سے غسل خانے اور بیت الخلا کی سہولت بھی موجود تھی ۔دروازہ اندر سے کنڈی کر کے میں لمبی تان کر سو گیا ۔میری آنکھ شام کو کھلی تھی ۔غسل کی حاجت محسوس ہو رہی تھی اور گرم پانی بھی وہاں موجودتھا ۔غسل کر کے میں نے باہر جا کر پیٹ پوجا کی اور واپس آ کرپھر سو گیا ۔اگلی صبح میں بس میں بیٹھا جالندھر کی طرف رواں دواں تھا ۔جالندھر میں میں نے بس اڈے ہی پر کھانا کھایا اورتھوڑی دیر وہیں بس اڈے پر گھومتا رہا ۔ضرورت کی ایک دو چھوٹی موٹی چیزیں بھی میں نے خرید لی تھیں ۔اس کے بعد میں انبالہ جانے والی بس میں بیٹھ گیا ۔انبالہ جاتے ہوئے رستے کوئی خاص واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔میں اپنی سیٹ پر بیٹھا اونگھتا رہا ۔یا آگے والے سیٹ پر سر ٹیک کر سو گیا ۔اس سونے جاگنے کی کیفیت میں میری سوچوں کا مرکز نہ چاہتے ہوئے بھی رومانہ بنی رہی ۔البتہ جاگتے ہوئے میں اس کی سوچوں کو دماغ سے جھٹک کر مشن کے متعلق سوچنے لگتا ۔
انبالہ پہنچ کر میں نے ایک درمیانے درجے کے ہوٹل میں کمرہ لے کر سو گیا ۔دوپہر ایک بجے کے قریب اٹھ کر میں تازہ دم ہو کر کمرے سے نکل آیا ۔اپنا پستول میں نے وہیں کمرے ہی میں چھپا دیا تھا۔ شہر میں پستول اپنے ساتھ پھرانا مناسب نہیں تھا ۔آدیت ورما کا پتا میری یاداشت میں محفوظ تھا ۔ وہ کپڑے کے کاروبار سے منسلک تھا ۔مین بازار میں اس کی کپڑے کی بہت بڑی دکان تھی جہاں صبح آتھ بجے سے لے کر شام کی آذان تک وہ بیٹھا رہتا۔اس دکان کے عقب میں اس نے کپڑے کے بڑے بڑے گودام بھی بنائے ہوئے تھے ۔انبالہ جالندھر اوران شہروں کے مضافاتی قصبوں ،دیہاتوں کے زیادہ تر کپڑے کے تاجر اسی سے کپڑا خریدتے تھے ۔اس کی دکان ڈھونڈتے ہوئے مجھے ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئی تھی ۔
دکان پر کافی رش تھا ۔تین چار لڑکے مسلسل گاہکوں کو نبٹا رہے تھے ۔میں نے آدیت ورما کی تلاش میں نظریں دوڑائیں ۔اس کا حلیہ مجھے بڑی تفصیل سے بتا دیا گیا تھا ۔لیکن وہاں مجھے اپنے مطلوبہ حلیے کا کوئی آدمی نظر نہ آیا ۔اس وسیع دکان کے ایک کونے میں شیشے کا چھوٹا سا کین بنا ہوا تھا ۔جس کے شیشوں سے باہر سے اندر کا منظر نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔مجھے امید تھی کہ اس کے اندر بیٹھنے والی شخصیت آدیت ورما ہی کی تھی ۔اور پھر دکان کے ایک ملازم سے اس بات کی تصدیق کرتے ہی میں شیشے کے اس کیبن کی طرف بڑھ گیا ۔شیشے کے اس چھوٹے سے کیبن میں وہ ایک خوب صورت سی میز کے عقب میں گھومنے والی آرام دہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔اس کی عمر مجھے پچاس سال کے قریب بتائی گئی تھی ۔لیکن دیکھنے میں وہ چالیس سے زیادہ کا نہیں لگ رہا تھا ۔وہ کلین شیو تھا۔اس کے سامنے دھری میز پر مختلف فائلوں کے ساتھ لیپ ٹاپ بھی نظر آ رہا تھا۔ میز کے سامنے تھری سیٹر صوفہ رکھا ہوا تھا ۔جس پر اس دو اچھے تن و توش کے حضرات براجمان تھے کہ ان کی موجودی میں تیسرے آدمی کے بیٹھنے کی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی ۔ دائیں طرف دو فوم کی کرسیاں بھی رکھی ہوئی نظر آ رہی تھیں ۔میرے اندر داخل ہوتے ہی ،آدیت ورما نے فوم کی کرسیوں کی طرف اشارہ کر کے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔یقینا اجنبی افراد کی آمد اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔روزانہ کپڑے کے درجنوں بیوپاریوں کی آمدورفت وہاں ہوتی ہوگی ۔
جاری ہے
 

”لالا جی !....دو مہینے تو آپ کو بڑھانا ہوں گے ۔“میرے نشست سنبھالتے ہی صوفے میں دھنسے ہوئے ایک فرد نے سلسلہ کلام جوڑا ۔
”مکرم بھائی !....چھے ماہ کم تو نہیں ہوتے ۔“آدیت ورما نے کاروباری مسکراہٹ چہرے پر سجا لی تھی ۔اس کے لہجے سے ہویدا متانت اس کے اچھے کاروباری ہونے کی دلیل تھی ۔
”اچھا نہ آپ کا نہ ہمارا ۔سات ماہ کے اندر ہم مکمل ادائی کے ذمہ دار ہوں گے ۔“اس مرتبہ مکرم کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے آدمی نے زبان کھولی ۔
”ہونہہ!....“گہرا سانس لیتے ہوئے آدیت ورما نے کہا۔”چلو ،جیسے آ پ کی اِچھا ۔ “ (مرضی)اور ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی ۔
مکرم نے کہا۔”تو پھرلڑکوں کو لوڈنگ کا بتا دیں ۔“
آدیت ورما نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنے سامنے ٹیبل پر پڑی گھنٹی کا بٹن دبایا۔چند سیکنڈز کے اندر ایک نوجوان اندر داخل ہوا ۔
”مہیت !....مکرم صاحب کا یہ کپڑا لوڈ کروا دو ۔“آدیت ورما نے میز پر پڑی ایک فہرست اٹھا کر مہیت نامی نوجوان کی طرف بڑھا دی ۔
مہیت نے ۔”جی لالاجی !....“کہہ کر اس کے ہاتھ سے کاغذ لیا اور دفتر سے باہر نکل گیا ۔
”جی بھائی !....“مہیت کے باہر نکلتے ہی آدیت ورما میری جانب متوجہ ہوا ۔
”لالا جی !....سنا ہے لٹھے کا بھاﺅ کافی نیچے آ گیا ہے ۔کیا یہ سچ ہے ؟“میں نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مخصوص کوڈ دہرایا۔
یہ الفاظ سنتے ہی ممجھے اس کی آنکھوں میں بے چینی کی لہر اٹھتی نظر آئی لیکن اس نے اپنے چہرے پر کوئی ایسا اثر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا ۔میں دل ہی دل میں اس کے مضبوط اعصاب کا قائل ہو گیا تھا ۔
”ایسی افواہیں عموماََ سننے میں آتی رہتی ہیں ۔“اس نے متبسم ہو کر نرم لہجے میں جوابی کوڈ دہرایا۔
مکرم اور اس کا ساتھی بھی آدیت ورما کی بات پر مسکرا پڑے تھے ۔
”میں بس تصدیق کرنے ہی آیا تھا ۔“میں نے نادم انداز میں اگلا کوڈ بھی دہرا دیا تھا تاکہ شک کی گنجائش بھی ختم ہو جائے ۔
”ہاں ہم بھی لوگوں کی غلط فہمیاں دور کرنے کو تو بیٹھے ہیں ۔“آدیت ورما نے قہقہہ لگا کر کوڈ کا آخری حصہ دہرادیا۔
”شکریہ لالاجی !....“میں نے انکسارانہ لہجے میں جواب دیا ۔میں نے اپنی پہچان کرا دی تھی اس کے بعد میں آدیت ورما کی صوابدید پر تھا کہ کس طرح وہ مجھے ہدف سے متعلق معلومات پہنچاتا ہے اور کس طرح مجھے مطلو ب سامان میرے حوالے کرتا ہے ۔
”ویسے آپ کو کتنا لٹھا چاہیے تھا ؟“آدیت ورما نے مکرم وغیرہ کی وجہ سے سلسلہ کلام جاری رکھا کیونکہ اس کے علاوہ تو میرے وہاں بیٹھنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی تھی۔
”چھوٹا سا دکان دار ہو ں لالاجی !....اب کیا کہوں ۔“
”اچھا اس بارے بات کر لیتے ہیں ،پہلے میرا خیال ہے چاے پی لیں ۔“اس نے مرتبہ پھر سامنے پڑی گھنٹی بجا دی ۔
”آپ لوگ یقینا چاے لینا پسند کریں گے ۔“آدیت نے ان دونوں سے دریافت کیا ۔
”شکریہ لالا جی !....مکرم نے بہ مشکل صوفے سے اٹھتے ہوئے انکار میں سر ہلایا ۔اس کا ساتھی بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا ۔”ہم اب اجازت چاہیں گے ۔“
آدیت نے بھی کھڑے ہو کر ان سے الوداعی مصافحہ کیا ۔اورگھنٹی کی آواز پر اندرآنے والے لڑکے کو دو چاے کا بتا کر وہ دوبارہ میری جانب متوجہ ہو گیا ۔
”آپ کا نام نہیں پوچھ سکا ہوں ؟“
”کرن مہتا۔“
”کہاں ٹھہرے ہو؟“اس نے میرا اصل نام جاننے کی خواہش نہیں کی تھی ۔
”ہنومان جی ہوٹل کمرہ نمبر ستائیس۔“
اس نے کاغذ پر ایک پتا لکھ کر میری طرف بڑھا دیا ۔”فی الحال یہاں پہنچو ۔یہ ایک چھوٹا سا کوارٹر ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے دراز سے ایک چابی بھی نکال کر مجھے دے دی ۔”جب تک مزید معلومات نہیں ملتیں آپ نے کہیں بھی نہیں جانا ۔کھانا آپ قریبی ہوٹل سے کھا لیاکرنا ۔“
”ٹھیک ہے سر !“میں نے اس کی عمر اور انڈیا میں گزارے ہوئے عرصے کو دیکھتے ہوئے مودّبانہ لہجے میں کہا ۔
اس نے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی تنبیہہ کے انداز میں اٹھا کر نفی میں سر ہلایا۔”فقط لالاجی۔“
”جی لالا جی !“میں نے فوراََ اثبات میں سر ہلادیا تھا ۔
”اب جاﺅ۔چاے پینا کوئی اتنا ضروری بھی نہیں ہے ۔“اس نے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔اور میں ہندوﺅں کے انداز میں نمستکار کہتے ہوئے وہاں سے باہرنکل آیا ۔میرے دل میں اس کی ذات کے بارے ہلکی سی کرید تو ضرور موجود تھی لیکن اپنے اندر میں اتنی جرّات مفقود پاتا تھا کہ اس سے کچھ دریافت کر سکوں ۔ وہ ایک خاموش مجاہد تھا جانے کتنے سال اس نے مادر وطن کے لیے قربان کر دیے تھے ۔اپنی جوانی کے بہترین دن یوں گزار دینا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔اپنے علاقے ،گھر ،والدین ،بہن بھائیوں اور بیوی وغیرہ کے لیے اس کی حیثیت ایک مردے سے بڑھ کر نہیں تھی ۔سب بڑھ کر وہ اطمینان اور سکون سے اپنے ربّ کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا تھا ۔اور گھر میں ایک ہندو بیوی کے ہوتے ہوئے شاید اسے چھپ کر بھی نماز پڑھنے کا وقت نہ ملتا ہو ۔اس جیسے کئی اور خاموش مجاہد بھی انڈیا میں موجود ہیں ۔جن کا مقصد زندگی ہی پاک وطن کے خلا ف سازشوں کو بے نقاب کرنا اوراپنے ازلی دشمن کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رکھنا ہوتا ہے جس سے دشمن کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے ۔عوام کو شاید پتا نہ ہو کہ ایسے خاموش مجاہدوں کی وجہ سے جانے کتنی بار پاکستان جنگ کا ایندھن بننے سے بچا ہے ۔اور کتنی بار ایسی سازشیں تکمیل سے پہلے ہی طشت از بام ہو گئیں کہ جن پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان مزید کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا سکتا تھا۔بنگلہ دیش کے بارے بھی ان مجاہدوں نے بہت پہلے ساری سازش کا پتا چلا لیا تھا لیکن ہماری عیاش اور خود غرض قیادت نے اس بارے غور و غوص کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔بلکہ ہمارے کچھ سیاست دان تو خود ایسا ہونے دینا چاہتے تھے ۔ان کے نزدیک بنگلہ دیش کا علاحدہ ہوجاناہی مفیدتھا ۔بہ ہرحال یہ ایک لمبی بحث ہے اور اس کا میری کہانی سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے ۔یوں بھی پاک آرمی کی اعلا قیادت کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تو میرے جیسے عام سپاہی کی تو حیثیت ہی کیا ہے ۔
ہوٹل سے اپنا سامان سمیٹ کر میں حساب کتاب چکتا کر کے باہر نکل آیا ۔مجھے انتظار نہیں کرنا پڑا اور ہوٹل سے باہر نکلتے ہی مجھے ایک خالی رکشا مل گیا تھا ۔مطلوبہ پتا چونکہ آدیت ورما نے انگلش میں لکھا تھا اس لیے میں نے خود پڑھ کر رکشا ڈرائیور کو بتا دیا ۔
آدھے گھنٹے بعد میں مطلوبہ کوارٹر کے سامنے تھا ۔رکشے والے کو فارغ کر کے میں تالا کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔دو کمرے،ان کے سامنے چھوٹا سا برآمدہ ، باورچی خانہ ،بیت الخلااور غسل خانے پر مشتمل وہ ایک ساتھ ستھرا کوارٹر تھا ۔ چھوٹا سا صحن جس میں بس دو چارپائیاں پہلو بہ پہلو آ سکتی تھیں ۔ برآمدے میں کھڑی انڈین ساخت کی نئی بائیک دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی تھی ۔
بیرونی دروازہ کنڈی کر کے میں اندر گھس گیا ۔بائیک کا ہیلمٹ اور چابی مجھے کمرے کے اندر میز پر پڑا نظر آ گیا تھا ۔دونوں کمروں پر سرسری نظر ڈال کر میں نے ایک چارپائی کو اپنے سونے کے لیے پسند کیا اور بستر جھاڑ کر لیٹ گیا ۔نامعلوم کس وقت آدیت ورما مجھے اگلی پلاننگ سے آگاہ کرتا تھا ۔اس وقت تک راوی چین ہی لکھتا نظر آتاتھا۔
مجھے ہفتہ یونھی بے کار رہنا پڑا ۔اس دوران میں ایک قریبی ہوٹل پر جا کر دو وقت کھانا کھاتا اور بس اس کے بعد اسی کوارٹر میں رہتا ۔کیونکہ آدیت ورما نے مجھے فضول گھومنے سے منع کیا تھا ۔
وہ جمعہ کا دن تھا ۔گیارہ بجے کے قریب کسی نے کوارٹر کے دروازے پر دستک دی ۔میرا دل ے اختیار دھڑک اٹھا تھا ۔یوں بھی دشمن ملک رہنے والے کو ہر وقت پکڑے جانے ہی کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔پسٹل نیفے میں اڑس کر میں نے دروازے کے قریب جا کر پوچھا ۔”کون ؟“
”میں ڈاکیہ ہوں جی ۔“
”ڈاکیہ ؟“میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی ۔”میرے دروازے پر ڈاکیے کا کیا کام ؟“
حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا گیا ۔”یہ کرن مہتا صاحب کا گھر نہیں ہے ؟“
”میں ہی کرن مہتا ہوں ۔“میں نے بادل نخواستہ دروازہ کھولتے ہوئے باہر جھانکا ۔اور باہر کھڑے اکیلے آدمی کو دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا۔
”آپ کے نام رجسٹری آئی ہے مہاراج!“اس نے ایک خاکی لفافہ میری جانب بڑھاتے ہوئے مودّبانہ لہجے میں کہا ۔لفافے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ اور اس نے خفیف انداز میں مسکراتے ہوئے دائیں آنکھ میچ لی ۔گویا وہ اپنا ہی آدمی تھا ۔
”دھنے واد ۔“(شکریہ )کہہ کر میں نے اس کے ہاتھ سے لفافہ لے لیا ۔
وہ اثبات میں سرہلاتا ہوامزید کوئی بات کیے بغیر رخصت ہو گیا ۔
درواہ کنڈی کرکے میں اپنے کمرے میں پہنچا اور لفافہ چاک کرکے اندر سے لکھا ہوا کاغذ برآمد کر لیا ۔
خط ہفتہ وار شائع ہونے والے کسی اردورسالے کے مدیر کی جانب سے لکھا گیا تھا ۔مضمون کچھ اس طرح تھا ۔
”آپ کا بھیجا گیا افسانہ قابل اشاعت تو ہے لیکن اس میں رسالے کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ کانٹ چھانٹ کی گئی ہے ۔خاص کر وہ سین تو بالکل ختم کرنا پڑا جس میں مرکزی کردار کو اپنے بیڈ کے نیچے کھدائی کرنے پر خزانہ ہاتھ لگتا ہے ۔محترم اب خزانوں کا دور نہیں ہے امید ہے آپ کو برا نہیں لگا ہوگا ۔ بہ ہر حال آپ کوشش جاری رکھیں امید ہے جلد ہی کچھ بہترکر پائیں گے ۔باقی جس ہفتے آپ کا افسانہ شائع ہوگا آپ کو بہ ذریعہ چھٹی اطلاع کر دی جائے گی ۔اور یاد رکھنا لکھائی کی مشق کے لیے کھلی فضا خاص کر پہاڑی علاقہ بہتر رہتا ہے۔“ آخر میں انگریزی محاورہ درج تھا ۔Practice makes a man perfect
ایک دفعہ تو وہ تحریر پڑھ کر میں چکرا گیا تھا کہ اس بے معنی تحریر کا مقصد کیا ہے ۔دوبارہ پڑھنے پر بیڈ کے نیچے کھدائی والے فقرے نے مجھے تحریک کی دعوت دی ۔اس کوارٹر میں ایک ہی بیڈ پڑا تھا ۔ دوسرے کمرے میں دو چارپائیاں رکھی ہوئی تھیں ۔اور اتفاق سے میں بیڈ ہی پر سورہا تھا ۔میں نے بیڈ ہٹا کر اس کے نیچے بچھی ہوئی پلاسٹک کی چٹائی بھی ہٹادی ۔کمرے کا فرش پختہ اینٹوں کا بنا ہوا تھا ۔لیکن بیڈ کے نیچے ڈیڑھ فٹ چوڑی اور چار فٹ لمبی جگہ کی اینٹیں واضح طور پر ایسی دکھائی دے رہی تھیں کہ کسی نے اکھیڑ کر دوبارہ لگائی ہوں ۔میں جلدی جلدی وہ اینٹیں ہٹانے لگا ۔دو تین اینٹیں ہٹاتے ہی مجھے اس کے نیچے مضبوط پلاسٹک کا بکس نظر آنے لگا تھا ۔جلد ہی میں نے اکھڑی ہوئی تمام اینٹیں اٹھا کر ایک جانب رکھ دی تھیں ۔نیچے موجود پلاسٹک بکس نکال کر میں نے بے تابی سے کھولا ۔اس میں ایک سنائپر رائفل اور سنائپرز کے کام آنے والا دوسرا سامان بھرا ہوا تھا ۔ لیکن وہاں روس کی ایجاد کردہ ڈریگنوو رائفل کے بجائے اسرائیلی ساخت کی گلیل سنائپر رائفل پڑی تھی ۔ خوش قسمتی سے گلیل کو بھی میں زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت استعمال کر چکا تھا ۔کارگر رینج دونوں رائفلوں کا ہزار میٹر ہے ۔ ڈریگنوو سنائپر رائفل کی میگزین میں دس گولیاں پڑتی ہیں جبکہ غلیل کی میگزین میں بیس گولیوں کی گنجائش ہے البتہ گلیل، ڈریگنوو کے مقابلے میں وزن میں تھوڑی زیادہ ہے ،لیکن کارکرگی میں اس سے بہتر ہے ۔وزن میں زیادہ کا مطلب کوئی یہ نہ لے کہ گلیل کوئی بہت ہی وزنی رائفل ہے ۔گلیل کا مجموعی وزن ساڑھے چھے کلو گرام ہے ۔یقینا یہ کوئی اتنا وزن نہیں ہے کہ کسی سنائپر کو ساتھ پھرانے میں کوئی تکلیف محسوس ہو ۔امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران مجھے گلیل سے دو تین مرتبہ فائر کرنے کا موقع ملا تھا۔البتہ ڈریگنوو رائفل سے میں فائر کی کافی مشق کر چکا تھا اور پاکستان سے آتے وقت مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ انڈیا میں مجھے ڈریگنوو رائفل ملے گی ۔اس کے باوجودڈریگنوو کے بجائے گلیل کو پا کر مجھے خوشی محسوس ہوئی تھی ۔
یقینا تحریر میں موجود آخری فقرہ Practice makes a man perfect کا مطلب یہی تھا کہ مجھے مشق کی دعوت دی گئی تھی اور مشق کے لیے پہاڑی علاقہ تجویز کیا گیا تھا ۔رائفل کے ملتے ہی ساری تحریر ایک دم واضح ہو گئی تھی ۔سادہ الفاظ میں مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ میں اگلے حکم تک گلیل رائفل کے ساتھ مشق کروں ۔اسی بکس میں گلیل کا ایمونیشن بھی پڑا تھا ۔دو سو گولیاں کا مطلب یہ تھا کہ میں ایک سو ننانوے گولیاں مشق کے لیے استعمال کر سکتا تھا ۔ہدف کے لیے مجھے یوں بھی ایک ہی گولی درکار تھی ۔رائفل کے پرزوں کے ساتھ موجود اعلا کوالٹی کا سائیلنسر یقینا مجھے چھپ کر مشق کرنے میں مدددینے کے لیے تھا۔ بلکہ سائیلنسر کے علاوہ تو مشق کرنا ناممکن ہو جاتا ۔
میں نے ایک بار رائفل کے پرزوں کو مکمل جوڑ کر اطمینان کر لیا تھا کہ رائفل صحیح کام کر رہی ہے اس کے بعددوبارہ پرزوں کو کھول کر ایک سفری بیگ میں ڈال لیا ۔
سب سے پہلے میں نے قریبی ہوٹل پر جا کر دن کا کھانا کھایا اور پھر کوارٹر پر واپس آ کر سفری بیگ کندھوں میں ڈال کر بائیک کو کوارٹر سے باہر لے آیا ۔چیک کرنے پر بائیک کی ٹینکی پٹرول سے بھری نظر آئی ۔بائیک کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ میری آمد سے ایک دو دن ہی پہلے خریدی گئی ہے ۔
درمیانی رفتار سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے میں شہر کے مضافات میں موجود پہاڑی سلسلے کی جانب روانہ ہو گیا ۔گھنٹے بھر بعد ہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں میں بغیر کسی کی مداخلت کے مشق کر سکتا ۔ سائیلنسر کی موجودی نے یوں بھی فائر سے پیدا ہونے والی آواز سے بے فکر کر دیا تھا ۔دو اڑھائی گھنٹے کے اندر میں نے فائر کرتے ہوئے گلیل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کو اچھی طرح جانچ کر اپنے مطابق ڈھال لیا تھا ۔اس دوران میں نے پچاس راﺅنڈ فائر کیے تھے ۔آخری دس راﺅنڈ میں نے ہزار میٹر کے فاصلے پر فائر کیے تھے ۔نشانے کی درستی سے مطمئن ہو کر میں نے رائفل کو کھول کر سفری بیگ میں ڈالا اور واپسی کی راہ لی ۔اپنے کوارٹر میں پہنچ کر میں نے رائفل کی بیرل اور فائر سے گندے ہونے والے پرزوں کو اچھی طرح صاف کیا گرم ابلتا پانی بھی بیرل میں ڈالا تاکہ صفائی میں کوئی کمی نہ رہ جائے ۔یوں بھی جس ہتھیار کو فائر کے بعد صاف نہ کیا جائے وہ خراب ہوجاتا ہے ۔اور ایک سنائپر تو اپنے ہتھیار کی صفائی کے بارے بہت زیادہ حساس ہوتا ہے ۔
گلیل کو صاف کر کے میں نے ہلکا سا تیل کر واپس بیگ میں ڈال دیا ۔اب مجھے مزید مشق کی ضرورت نہیں تھی ۔اگلے چار دن تک پھر آدیت ورما کی جانب سے پھر خاموشی چھا گئی تھی ۔پانچویں دن میں اپنے مخصوص وقت پر دوپہر کے کھانے کے لیے کمرے سے نکلا ۔بیرونی دروازے کی کنڈی کھولنے سے پہلے میری نظر سفید رنگ کے لفافے پر پڑی جو یقینا کسی نے دروازے کے نیچے سے اندر دھکیلا تھا ۔
لفافہ اٹھا کر میں واپس پلٹ آیا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے بے صبری سے لفافہ کھولا ۔وہاں فقط چند الفاظ لکھے ہوئے تھے ۔
”ہوٹل اور کمرہ نمبر کے بارے آپ جانتے ہیں ۔“اتنا لکھ کرآنے والے کل کی تاریخ اور دن کے تین بجے کا وقت درج تھا ۔
اور وہاں پر میں صرف ایک ہوٹل سے واقف تھا جہاں میں نے اس شہر میں وارد ہونے کے ساتھ پہلی رات گزاری تھی ۔گویا مجھے ہنومان جی ہوٹل کمرہ نمبر ستائیس کا بتایا گیا تھا ۔یقینا آدیت ورما کا کوڈ ورڈز میں مجھ تک پیغام پہنچانے کا مقصد یہی تھا کہ اگر اس کی لکھی ہوئی چٹھی کسی اور کے ہاتھ لگ بھی جاتی تو وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا ۔بہ ہرحال یہ جاسوسوں کااپنا طریقہ کار تھا ۔اورمیں نے گو جاسوس بننے کی کوئی تربیت تو حاصل نہیں کی تھی اس کے باوجود اس بارے کافی کچھ جانتا تھا کہ کمانڈو ز کی زیر نگرانی میں بھی چند کورس کر چکا تھا ۔اسی طرح امریکہ میں بھی ہمیں دشمن سنائپرز کے طریقہ کار اور ان کی چالوں وغیرہ کے بارے کافی تفصیل سے بتایا گیا تھا ۔اسی طرح یہ بھی سکھایا گیا تھا کہ ایک سنائپر دشمن ملک میں جا کر خودکو کس طرح سے دشمن کی گرفت میں آنے سے بچا سکتا ہے یہ اسباق کسی بھی طرح جاسوسی پڑھائی سے کم نہیں تھے ۔یہی وجہ تھی کہ دونوں مرتبہ آدیت ورما کے خط پڑھتے ہوئے مجھے مطلب سمجھنے میں زیادہ دقّت کا سامنا نہیں کرنا پڑاتھا ۔
اگلے دن میں مطلوبہ وقت سے گھنٹا بھر پہلے ہنومان جی ہوٹل میں پہنچ گیا تھا ۔تین بجے تک کا وقت میں نے چاے پیتے اور ہال کی دیوار پر ٹنگی بڑی ایل سی ڈی پر چلتی فلم دیکھتے گزارا ۔تین بجنے سے پانچ منٹ رہتے تھے جب میں سیڑھیوں کے ذریعے ہوٹل کی دوسری منزل پر پہنچا ۔کمرہ نمبر ستائیس میں ایک رات گزار چکا تھا ۔اور مجھے یقین تھا کہ رقعے میں اسی کمرے کی بابت بتایا گیا تھا ۔اس کے باوجود دروازے پر دستک دیتے وقت میرے دل میں ہلکا سا دھڑکا موجود تھا ۔
”دروازہ کھلا ہے ،آجاﺅ ۔“دستک کے جواب میں مجھے فوراََ جواب موصول ہوا تھا ۔
اندر گھستے ہی میری نظر صوفے پر بیٹھے ہوئے ایک قبول صورت جوان پر پڑی ۔اس کی عمر کا اندازہ میں نے پینتیس ،چھتیس سال کے قریب لگایا تھا ۔اس کے سامنے پڑی ٹیبل پر دیسی شراب کی ایک بوتل اور دو گلاس رکھے ہوئے تھے ۔ایک گلاس آدھا بھرا ہوا جبکہ دوسرا بالکل خالی تھا ۔
”خوش آمدید۔“اس نے بیٹھے بیٹھے میری جانب مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
اسے ہاتھ ملا کر میں نے بھی اس کے سامنے کرسی سنبھال لی تھی ۔
وہ دوسرے گلاس میں بھی شراب انڈیلنے لگا ۔
”میں یہ نہیں پیتا ۔“
”میں بھی نہیں پیتا ۔“ہلکے سے مسکراتے ہوئے اس نے آدھے سے زیادہ گلاس بھر کر میرے سامنے رکھ دیا ۔”میرانام دھیراج ودھاوا ہے ۔“
”کرن مہتا ۔“ سمجھنے والے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے اپنا تعارف بھی کرادیا۔یقینا اس بات سے ہم دونوں واقف تھے کہ ہم دونوں کے بتائے گئے نام فرضی تھے ۔
”پرسوں سہ پہر کے چار بجے عوامی پارک میں رنجیت چوپڑہ کا جلسہ ہے ۔انتخابات میں پانچ چھے ماہ پڑے ہیں لیکن اس نے اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔حکومت کی طرف سے اسے کافی سپورٹ کیا جا رہا ہے ۔اس کی حفاظت کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے ۔بلٹ پروف گاڑی اسے ملی ہوئی ہے ، چار پانچ محافظ ہر وقت اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔اس کا مکان بھی پولیس کے ساتھ خفیہ ایجنسی کے بندوں کے نرغے میں رہتا ہے ۔اور ایسا پاکستانی سرکار کی طرف سے اس کے مطالبے کے بعد کیا گیا ہے ۔ بلکہ سچ کہوں تو اس پر ہونے والے ایک ناکام حملے کے بعد اس کی حفاظت کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے ۔ یہ بات شاید تمھارے لیے حیرانی کا باعث بنے کہ اس پر حملہ نہ تو کسی پاکستانی جاسوس نے کیااور نہ یہ کام پاکستان سے آئے ہوئے کسی سنائپر یا کمانڈو وغیرہ کا ہے ۔“
میں اس پر حملہ ہونے کی بات سے لاعلم تھا ۔لیکن اس کے ساتھ جو بات دھیراج کر رہا تھا وہ اور بھی حیران کرنے والی تھی ۔
”پھرحملہ آور کون تھا ؟“میں سوال پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
”یہ کام اس نے خود کروایا ہے ۔اور اسی وجہ سے اس کی حفاظت کو مزید بہتر بنا دیا گیا ہے ۔“
”ہونہہ!“میں گہرا سانس لے کر رہ گیا تھا ۔
”بہ ہر حال اب انتخاب میں کامیابی کے بعد تو اس کی پانچوں گھی اور سر کڑاہی میں ہو گا ۔یوں بھی ان انتخاب میں اس کی کامیابی ننانوے فیصد یقینی ہے ۔اس کے ساتھ یہ بات بھی آپ کے ذہن میں رہے کہ اگرپرسوں کا حملہ ناکام ہو گیا تو اس کے بعد اس کی حفاظت کو مزید بھی بہتر بنا دیا جائے گا ۔ بلکہ وہ خودبھی محتاط ہو کر قلعہ بند ہو جائے گا ۔“
”منصوبہ کیا ہے ؟“میں نے پوچھا ۔
”منصوبہ بنانا آپ کا کام ہے ۔تفصیلات پوچھ سکتے ہیں کوئی چیز چاہیے ہو تو بتا سکتے ہیں ۔“
”عوامی پارک کا نقشہ چاہیے ۔“
”یہ لو ۔“اس نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نکال کر میری طرف بڑھادیا۔
”پارک کے اطراف میں کوئی ایسی عمارت جہاں سے سٹیج نظر آ سکے ۔“
”نقشے میں پارک اور اس کے دائیں بائیں کے سارے علاقے کی تفصیلات نمبر ون نے خود باریک بینی سے درج کر دی ہیں ۔“
”نمبر ون ؟“میرے منہ سے نادانستگی میں نکلا ۔
”یہ جاننا آپ کے لیے ضروری نہیں ہے ۔“اس نے منہ بنا کر کہا ۔
”معذرت خواہ ہوں ۔“میں نے جلدی سے کہا ۔
”کوئی بات نہیں ۔“وہ خوش دلی سے ہنسا ۔”ویسے آپ اسے جانتے ہیں ۔“
اس کے کہنے کے مطابق تو آدیت ورما ہی نمبر ون تھا کیونکہ میں اس کے علاوہ وہاں کسی سے واقف نہیں تھا ۔
”روسٹرم پر کوئی بلٹ پروف شیشہ وغیرہ تو نہیں لگا ہوتا ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
میں نے اس کا دیا ہوا نقشہ کھول کر میز پر رکھا اور جائزہ لینے لگا ۔وہ نقشہ بڑی عرق ریزی اور مہارت سے بنایا گیا تھا ۔میں دل ہی دل میں نقشہ بنانے والے کی قابلیت کو سراہے بغیر نہیں رہ سکا تھا ۔ ہر وہ سوال جو اس نقشے کو دیکھ کر کسی کے دل میں پیدا ہو سکتا تھا اس کے بارے پہلے ہی سے حاشیے پر تفصیل درج کر دی گئی تھی ۔سٹیج بنانے کے لیے تین جگہوں کی نشان دہی کی گئی تھی کہ جہاں جہاں سٹیج بننے کا امکان تھا۔تینوں جگہوں کا درمیانی فاصلہ چند گز سے زیادہ نہیں تھا ۔یقینا آدیت ورما کو سنائپرز کے طرقہ کار سے اچھی طرح واقفیت تھی ۔میرے نقشہ پڑھنے کے دوران دھیراج دونوں گلاسوں کی شراب غسل خانے میں گرا کر آگیا تھا ۔گلاس ٹیبل پر رکھ کروہ خاموشی سے بیٹھ گیا ۔
نقشے کو بہ غور دیکھنے کے بعد میں نے دو تین چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھیں ۔جس کا دھیراج نے تسلی بخش جواب دیا تھا ۔
”رائفل کا کیا کرنا ہے ؟“میں نے ایک اہم سوال پوچھا کیونکہ اگر اس رائفل کی وجہ سے کسی اپنے کے پھنسنے کا ذرا بھر بھی امکان ہوتا تو مجھے اس رائفل کو بھی سنبھالنا پڑتا ۔
وہ صاف گوئی سے بولا۔”یہ ایک قیمتی رائفل ہے اور اس کی خریداری پاک وطن کے خزانے کے پیسوں سے ہوئی ہے۔لیکن یہ آپ کی جان سے قیمتی نہیں ہے ۔“
اس کے کہنے کا صاف مطلب یہی تھا کہ اگر میں خود کو محفوظ رکھتے ہوئے اس رائفل کو بچا سکتاتھا تو ٹھیک ، ورنہ رائفل سے زیادہ اہمیت میری اپنی تھی ۔وہ میری اہمیت واضح نہ کرتا تب بھی میں اپنی اہمیت سے واقف تھا ۔میری تربیت پر پاک آرمی بہت زیادہ خرچ کر چکی تھی اور مجھے کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں خسارہ پاک آرمی ہی کو ہونا تھا ۔
”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے اعلان کی کہ میرے پاس مزید سوالات موجود نہیں تھے ۔
”آپ کا بھی شکریہ ۔“اس مرتبہ اس نے کھڑے ہو کر مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا ۔”اگر کسی چیز کی ضرورت ہو یا کچھ پوچھنا ہو تو پرسوں دوپہر تک میں یہیں ملوں گا ۔“اور میں اثبات میں سرہلاتا ہواوہاں سے باہر نکل آیا ۔
اگلے دن صبح سویرے ہی میں بائیک پر مطلوبہ پارک کی طرف بڑھ گیا ۔لیزر رینج فائینڈر(فاصلہ ناپنے کا آلہ)میں نے ایک لفافے میں ڈال کر اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔پارک میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں تھی لوگوں کی آمدورفت سے حوصلہ پا کر میں بھی اندر گھس گیا ۔پارک کی چاردیواری کی جگہ لوہے کا مضبوط جنگلہ لگا ہوا تھا جس کی بلندی پانچ فٹ کے قریب تھی ۔اور پھر جنگلے ساتھ لگے ہوئے درخت نظری دیکھ بھال کے لیے بہت بڑی رکاوٹ تھے ۔سٹیج بنانے کی جگہ پارک کے شرقی جانب تھی ۔ اس طرف جنگلے سے باہر کچھ دکانوں کی عقبی دیوار پڑتی تھی ۔اور دکانوں کی چھت پر لامحالہ سیکیورٹی نے موجود ہونا تھا ۔پارک کے مغربی جانب سڑک گزر رہی تھی اور سڑک عبور کر کے تین منزلہ شاپنگ پلازہ بنا ہوا تھا ۔
شمال اور جنوب کی جانب بھی سڑک گزر رہی تھی لیکن سڑک کے پار جو عمارتیں تھیں وہاں سے سٹیج کی جگہ کو دیکھنا ناممکن تھا ۔اب میرے پاس لے دے کے شاپنگ پلازہ کی چھت رہ گئی تھی ۔اس کے علاوہ میں پارک ہی کے کسی درخت پر مچان بنا سکتا تھا ۔لیکن ایک تو وہاں مچان بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور تھا اور دوسرا میں چھپ کر بیٹھ بھی جاتا اور کامیابی سے اپنا کام بھی کر لیتا تب میرا بچنا جھوٹ تھا۔گویا پارک کے کسی درخت پر مچان بنانے سے بہتر تھا کہ میں خود کش دھماکا کر لیتا ۔کم از کم اس طرح رنجیت چوپڑہ کی موت تو یقینی ہو جاتی ۔شاپنگ پلازہ کی دائیں طرف سے ایک چوڑی سڑک گزر رہی تھی جبکہ بائیں جانب ایک زیر تعمیر عمارت تھی جس کی پہلی منزل بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تھی ۔لے دے کے وہاں فائر کے لیے مناسب جگہ شاپنگ پلازہ کی چھت تھی ۔اور میرے خیال کے مطابق وہاں سنتری ضرور تعینات کرنے تھے ۔پہلے تو میں نے شاپنگ پلازہ کے تین اطراف میں گھوم کر اچھی طرح جائزہ لیا۔پلازہ کی عقبی جانب ایک مارکیٹ تھی ۔دائیں جانب گزرنے والی سڑک کے کنارے ایک بڑا کچرہ دان بنا ہوا تھا جس کی عقبی دیوار پلازے ہی کی دیوار تھی ۔باہر سے اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد میں اندر گھس گیا ۔داخلی دروازے پرواک تھرو گیٹ بنا ہوا تھا جس سے گزر کر لوگ اندر جا رہے تھے ۔لیکن مجھے اس گیٹ کو اس لیے کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا کہ کافی لوگوں کے گزرنے پر وہ مخصوص سائرن بجا کر اعلان کر رہا تھا کہ متعلقہ افراد کے پاس لوہے یا دھات کی کوئی چیز موجود ہے لیکن اس کے قریب کرسیاں رکھے دو محافظ اس آوازپر کوئی دھیان نہیں دے رہے تھے ۔کیونکہ واک تھرو گیٹ کی سیٹی تو موبائل فون اور موٹر سائیکل کار کی چابی وغیرہ سے بھی بج اٹھتی ہے ۔البتہ کسی کے ہاتھ میں بیگ وغیرہ کی موجودی میں محافظ سرسری انداز میں چیک کر لیتے تھے ۔میں نے رینج فائینڈر کو اپنے کوٹ کے اندر سے بغل میں داب لیا اور جیبوں میں ہاتھ ڈال کربے دھڑک واک تھرو سے گزر گیا ۔موٹے کوٹ کر اندر کسی کو یہ اندازہ نہیں ہو سکتا تھا کہ میں نے اپنی بغل میں کوئی چیز پکڑی ہوئی ہے ۔
اوپر جانے کے چوڑی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں ۔جس پر لوگوں کی آمدورفت اچھی خاصی تھی ۔ آخری منزل پر پہنچ کر میں چھت پر جانے والی سیڑھیوں کی تلاش میں نظریں گھمانے لگا۔اور وہ کوئی ایسی چھپی ہوئی نہیں تھیں کہ میں تلاش نہ کر سکتا ۔چھت کی سیڑھیاں ایک کونے میں بنی ہوئی تھیں ۔ان کی بائیں جانب لکڑی کے بڑے بڑے ریک رکھے ہوئے تھے جو مختلف قسم کے سامان سے بھرے ہوئے تھے ۔ جبکہ دائیں جانب دیوار تھی ۔سیڑھیوں پر قدم رکھتے ہی بندہ دوسرے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا تھا ۔سیلز مین کو نگاہ میں رکھ کر میں سیڑھیوں کی جانب غیر محسوس انداز میں کھسکا اور جونھی وہ ایک گاہک کی فرمائش پوری کرنے کے لیے پیچھے کی طرف مڑا میں نے جھپاک سے سیڑھیوں پر قدم رکھ لیے ۔ سیڑھیوں کے اختتام پر لوہے کا ایک دروازہ تھا ۔جس کی کنڈی کے ساتھ حسب توقع ایک تالا جھول رہا تھا۔لیکن اس کا اندازہ مجھے پہلے سے تھا اور اس کا بندوبست بھی میں کر کے آیا تھا ۔جیب سے دو مڑی ہوئی تاریں نکال کر میں تالا کھولنے لگا ۔یوں بھی انھوں نے ایک واجبی سا تالا لٹکا رکھا تھا ۔تالا کھول کر میں نے آہستہ سے کنڈی کھولی اور چھت پر نکل آیا ۔چھت کے دائیں کونے پرپانی کی ایک بڑی ٹینکی بنی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تھوڑا بہت کاٹھ کباڑ بھی بکھرا پڑا تھا ۔وہاں سے قریباََ سار ا پارک نظر آ رہا تھا۔خصوصاََ وہ جگہ جہاں سٹیج بننا تھا ۔لیکن مصیت یہ تھی کہ کل یہاں پر دو تین بندوں کی موجودی لازمی تھی ۔ یوں بھی ایسی جگہ کو کوئی احمق ہی نظر انداز کر سکتا تھا ۔ایک خیال یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ شاید کل سیکورٹی کے پیش نظر یہ شاپنگ پلازہ ہی بند کر دیا جائے ۔
میں چھت کے کنارے سے سٹیج کے عقب میں موجود دیوار کا فاصلہ ناپا۔وہاں تک نو سو پندرہ میٹر فاصلہ بن رہاتھا ۔گویا اس لحاظ سے بھی وہ ایک مناسب جگہ تھی ۔
تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک قابل عمل منصوبہ میرے ذہن میں آیا ۔گو خطرہ تو اس میں بھی موجود تھا ۔ایک سنائپر کی زندگی یوں بھی ہر دم خطرات میں گھری ہوتی ہے اس لیے کسی بھی خطرے کا سامنا کرنا سنائپر کے مشن کا لازمہ ہوتا ہے ۔
واپس پلازہ میں جا کر میں نے پلاسٹک کی پچاس فٹ لمبی ،پتلی لیکن مضبوط رسی خریدی اور ساتھ ایک مضبوط دھاگے کا گولہ بھی خرید لیا ۔دونوں چیزیں شاپنگ بیگ میں ڈال کر میں نے ہاتھ میں لٹکائیں اور سیلز مین کی نظروں سے بچ کردوبارہ چھت پر پہنچ گیا ۔
رسی کا ایک سرا پانی کے ٹینک کے ساتھ لگی لوہے کی سیڑھی سے باندھ کر میں نے دوسرا سرا دھاگے سے باندھا اور دھاگے کے ساتھ ایک چھوٹا سا پتھرباندھ کر میں نے نیچے کچرا دان میں پھینک دیا۔ رسی میں نے اس لیے نہیں لٹکائی تھی کہ وہ کسی کو بھی اپنی جانب متوجہ کر سکتی تھی جبکہ اتنے باریک دھاگے کا کسی کو نظر آنا آسان نہیں تھا ۔
یہ کام کر کے میں چھت سے نیچے اترآیا۔دوسری منزل پر مجھے عورتوں کے خوب صورت سلے سلائے سوٹ نظر آئے ۔اس وقت جانے کیوں میری آنکھوں میں رومانہ کا خوب صورت سراپا لہرا گیا ۔ بے اختیار میں نے اپنی پسند کے دو سوٹ ،ایک گرم اور قیمتی زنانہ سوئیٹراور سرخ و سبز رنگ کی کانچ کی چوڑیاں بھی خرید لیں ۔گہرے سرخ رنگ کی سوئیٹر جس پر سبز رنگ کے پھول بنے تھے ۔رومانہ نے لباس بھی اسی رنگ کا پہنا تھا ۔یقینا یہ دونوں رنگ اس کی سج دھج میں چار چاند لگا دیتے تھے ۔سر جھٹک کر میں نے ان فضول خیالات سے دامن چھڑانے کی کوشش کی ،لیکن یہ ایک بھونڈی کوشش ہی تھی ۔کسی کے نام پر خریداری کرنا اور اسے اپنی سوچوں سے دور بھی جھٹکنا ایک نرالا کام ہی توتھا ۔
پلازے کا داخلی اور خارجی دروازہ ساتھ ساتھ ہی تھا ۔خارجی دروازے پر خریداری کی رسید دکھا کر میں باہر آگیا ۔پارکنگ میں جا کر میںنے اپنی بائیک نکالی ،میرا رخ ہنومان جی ہوٹل کی طرف تھا ۔آدھے گھنٹے بعد میں وہاں پہنچ گیا تھا ۔دھیراج وردھا مجھے اپنے کمرے ہی میں ملا تھا۔
”جی جناب !....“میری دستک کے جواب میں دروازہ کھول کر اس نے اندر آنے کا رستا دیتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا ۔
”مجھے اپنی تصویر والاپولیس کی اسپیشل برانچ کے انسپکٹرکا کارڈ شام تک چاہیے ۔ضروری نہیں کہ بالکل اصل ہو ۔ بناوٹی بھی چل جائے گا ۔“
”کوئی پرمسئلہ نہیں ۔آپ ذرا اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرلیں ۔“دھیراج نے جیب سے اپنا موبائل نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
میں بالوں کو ہاتھ سے کنگھی کر کے اس کی کی طرف متوجہ ہو گیا ۔تصویر نکال کر اس نے پوچھا ۔
”کچھ اور ؟“
”دو عدد واکی ٹاکی سیٹ بھی چاہیں ۔“
”ٹھیک ہے ۔مزید کچھ ۔“
”نہیں ....یہ چیزیں لینے کے لیے میں کتنے بجے آ سکتا ہوں ؟“
”دو گھنٹے بعد آجانا ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر میں وہاں سے نکل آیا ۔اپنے کوارٹر پر جاکر میں نے کپڑوں کے سوٹ اور سوئیٹر کو الماری میں رکھا اوراپنے منصوے پر از سر نو غور کرنے لگا ۔اس منصوبے کو سوچتے سوچتے نہ جانے پھر کیسے رومانہ میرے خیالوں میں آ دھمکی ۔اور میں اس سادہ اوربھولی بھالی کشمیرن کے خیالوں میں کھو گیا ۔ ماہین کی بے وفائی کے بعد مجھے کسی ایسے ہی سہارے کی ضرورت تھی ۔اور میں جو پھوپی جان اور ابوجان کو سختی سے شادی کے بارے انکار کر آیا تھا اب پھر سے خود کو نئے رشتے پر آمادہ پا رہا تھا ۔خود رومانہ کے ساتھ بھی میرا رویہ کچھ زیادہ ہی خشک اور روکھا روکھا رہا تھا ۔لیکن جونھی اس کا ظاہری بدن میری آنکھوں سے اوجھل ہوا تھا ایک دم ہی اس کی شخصیت کا ساحرانہ پن مجھے اپنی گرفت میں لینے لگا تھا ۔
”جھوٹے اجنبی !....“اس کی شوخ آواز میرے کانوں میں پڑی اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دو ڑ گئی ۔
”پتا ہے اس کپڑے پر میں نے اپنے ہاتھوں سے بیل بوٹے کاڑھے ہیں ۔اپنا نام بھی لکھا ہے کھانا کھا کر اسے پھینک نہ دینا ۔شاید اسے دیکھ کر ہی کبھی میری یاد آجایا کرے ۔“میں اپنے سفری تھیلے سے کھانے والا کپڑا نکال کر دیکھنے لگا ۔
اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ ضروری تو نہیں تھا کہ میری واپسی اسی رستے سے ہو ۔ شاید آدیت ورما نے میرے لیے کوئی دوسرا رستا چنا ہو ۔اور ان حالات میں کسی سینئر کے احکامات پر عمل نہ کرنا خود کو موت کے منہ میں دینے کے مترادف تھا ۔
”کیا رومانہ کی وجہ سے میں دوبارہ سرحد عبور کرنے کی جرّات کر سکو ںگا ؟“اپنی اس سوچ کا جواب نفی میں تھا ۔کیونکہ سرحد عبور کرنے کے لیے مجھے پاک آرمی کی اجازت درکار تھی ۔اور میرا کوئی بھی سینئر اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیتا کہ میں ایک لڑکی خاطر انڈیا کی سرحد عبور کرتا ۔وہ میرے لیے کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہوتی میرے سینئرز کے لیے ایک عام لڑکی ہی تھی ۔
”مگر وہ میرے لیے کب اتنی ضروری ہوئی ہے ۔“میں نے اپنی پاگل ہوتی سوچوں سے پوچھا۔اور جواب ڈھونڈنے کے لیے میرے دماغ نے ان لمحات کو میری نظروں کے سامنے لا پھینکا جو اس کی معیت میں گزرے تھے ۔
”کیا اس کے کندن بدن کی جھلک نے مجھے اس کی ذات میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا ہے ؟“ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر لہرا گیا جب وہ اپنا پھٹا گریبان لیے میرے سامنے بے پرواہی سے کھڑی تھی ۔لیکن میرے دل نے اس سوال کو درخور اعتنا ءنہ جانا ۔یقینا یہ وجہ نہیں تھی ۔کیونکہ اسے اس حالت میں دیکھ کر نہ تو اس وقت میرے دماغ میں اس وقت کوئی غلط خیال آیا تھا اور نہ ابھی آ رہا تھا ۔
”پھر ؟“میری خود احتسابی جاری رہی ۔
”اپنا خیال رکھنا میرے اجنبی !........آپ کا، مجھے ناپسندیدہ اجنبی سمجھ کر بھی تم کہہ کر مخاطب کرنا ،اس آپ سے کئی گنا زیادہ عزیز ہے ....شاید میں آپ کی نفرت برداشت نہ کر پاﺅں........اور یاد رکھنا میرا نام رومانہ ہے ....رومانہ ہے ....رومانہ ہے ....“میں بے اختیار اٹھ بیٹھا ۔
”ہاں یاد ہے کہ تم رومانہ ہو ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا۔
ان خوشگوار یادوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں اپنے منصوبے پر نظر ثانی کرنے لگا ۔ گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر مجھے دو گھنٹے پورے ہو تے نظر آئے ۔میں کوارٹر سے باہر نکل آیا ۔تھوڑی دیر بعد میں ہنومان ہوٹل کے کمرہ نمبر ستائیس میں داخل ہورہا تھا ۔دھیراج نے میری مطلوبہ چیزیں میری طرف بڑھا دیں ۔دو واکی ٹاکی سیٹ اور میراتعلق پولیس کی اسپیشل برانچ سے ظاہر کرنے والا کارڈ۔اس پر میری تصویر بھی چسپاں تھی ۔کارڈ بنانے والے نے میرے کپڑوں والی تصویر کو وردی پہنا دی تھی جس کے کندھوں پر انسپکٹر رینک کے سٹار چمک رہے تھے ۔آج کل یوں بھی کمپیوٹر نے اس کام کو نہایت آسان کر دیا ہے ۔
”اب ایسا ہے کہ کل جونھی رنجیت چوپڑہ کی تقریر شروع ہوتی ہے آپ واکی ٹاکی کو آن کر کے عوامی پارک کے سامنے موجود پلازہ کے پاس پہنچ جانا ۔اور ........“میں اسے تفصیل سمجھانے لگا ۔
”ٹھیک ہے ۔“میرے بات ختم ہوتے ہی اس نے پر جوش انداز میں سر ہلادیا تھا ۔وہاں سے میں نے مارکیٹ جا کر پچاس ساٹھ فٹ مضبوط نائیلون کی رسی خریدی اور واپس کوارٹر پر پہنچ گیا ۔شام تک کا وقت میں نے کوارٹرمیں گزارا۔شام کی آذان سن کر میںنے نماز پڑھی اور اللہ پاک سے اپنے مشن کی کامیابی کے لیے دعا کی ۔اس کے بعد گلیل سنائپر رائفل اور دوسرے ضروری سامان کو سفری بیگ میں ڈال کر میں دوبارہ کوارٹر سے باہر نکل آیا ۔شاپنگ پلازہ رات کے نو بجے بند ہوتا تھا ۔سب سے پہلے میں نے پلازے کے دائیں کونے میں موجود کچرہ دان کے قریب جا کر موٹر سائیکل روکی اس جگہ پر تقریباََ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔مطلوبہ دھاگا ڈھونڈنے میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا ۔دھاگے سے پکڑ کر میں نے پلاصٹک کی رسی نیچے کھینچ لی ۔رسی کا سرا مضبوطی سے سفری بیگ کے ساتھ باندھ کر میں نے بیگ کو کچرے دان میں رکھا اور اوپر بھی تھوڑا بہت کچرہ ڈال دیا ۔رات کے وقت یوں بھی کسی کی نظر اس طرف نہیں پڑنا تھی ۔
اس سے فارغ ہو کر میں نے اپنی موٹر سائیکل شاپنگ پلازہ کے سامنے بنی پارکنگ میں کھڑی کی اور اندر گھس گیا ۔صبح کے مقابلے میں رات کے اس وقت وہاں رش زیادہ تھا ۔مجھے چھت پر پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی ۔پہلی فرصت میں میں نے پلاسٹک کی رسی کی مدد سے اپنا بیگ اوپر کھینچا اور پلاسٹک کی رسی اور بیگ کاٹھ کباڑ کے ڈھیر میں چھپا کر شاپنگ پلازہ سے باہرنکل آیا ۔واکی ٹاکی میں نے اپنے پاس ہی رہنے دیا تھا ۔میرا اس دن کا کام ختم ہو گیا تھا ۔اگر اگلے دن شاپنگ پلازہ نے بند بھی ہونا تھا تو یقینا دوپہر کے بعد ہی ہوتا ۔ویسے امید یہی تھی کہ شاپنگ پلازہ بند نہ ہوتا کیونکہ رنجیت چوپڑہ کوئی صدر یاوزیر اعظم نہیں تھا کہ اس کی سیکورٹی اتنی زیادہ سخت رکھی جاتی ۔پلازے کی چھت پر دو تین سنتری چھوڑ کر انھوں نے پارک گھیرنے پر زیادہ توجہ دینا تھی ۔
٭٭٭
اگلے دن میں آٹھ بجے اپنے کوارٹر سے نکل آیا تھا ۔صبح ہی سے سٹیج بننا شروع ہو گیا تھا ۔اس کے ساتھ پارک کے داخلی دروازے پر بھی پولیس کے دو سپاہی تعینات کر دیے گئے تھے ۔گو وہ سپاہی آنے جانے والوں سے کوئی خاص تعرُّض نہیں کر رہے تھے اس کے باوجود میں نے پارک میں گھسنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔دوپہر کا کھانا شاپنگ پلازہ کے عقبی سمت میں موجود ہوٹل میں کھا کر میں نے اسی ہوٹل کی پارکنگ میں اپنی موٹر سائیکل کھڑی کر کے تین بجے کے قریب شاپنگ پلازہ میں گھس گیا ۔ایک سیلز مین سے چمڑے کے مضبوط دستانے خریدتے ہوئے میں نے سرسری انداز میں پلازے کے بند ہونے کے بارے پوچھ لیا تھا ۔
”نہیں سر!.... ہمیں تو ایسے کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ۔“اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
ساڑھے تین بجے مجھے پولیس کے دو سپاہی سیڑھیوں سے چھت پر چڑھتے دکھائی دیے ۔گویا میر ااندازہ درست تھا ۔چار بجے کے قریب لاﺅڈ سپیکر کی آواز وہاں آنے لگی تھی لیکن وہ رنجیت چوپڑہ نہیں تھا ۔کوئی دوسرا آدمی اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا ۔سوا چار بجے وہ خود سٹیج پر پہنچا ۔اس کی آواز میں نے اس سے پہلے نہیں سنی تھی ۔لیکن اس کی باتوں سے اندازہ ہو گیا کہ وہی کمینہ ہے ۔بہت اچھا ساﺅنڈ سسٹم لگایا گیا تھا کہ اس کی آواز شاپنگ پلازہ کے اندر بھی نہایت واضح سنائی دے رہی تھی ۔اس کی تقریر شروع ہوتے ہی میں نے چھت کا رخ کیا ۔اس مرتبہ اوپر جاتے ہوئے میں نے سیلز مین کی نگاہوں سے بچنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”جی سر !“مجھے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کر سیلز مین نے شائستہ لہجے میں پوچھا ۔
”انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھور۔“میں نے جیب سے سروس کارڈ نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا اور اس کا جواب سنے بغیر سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
پولیس کے دونوں سپاہی اکٹھے کھڑے زور و شور سے کسی دوشیزہ کے لباس پر تبصرہ کر رہے تھے۔ میرے قدموں کی چاپ پر دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
”یہاں پر تم دو آدمی ہو بس ؟“ان کے سوال کرنے سے پہلے میں نے سوال جڑ دیا ۔
”جی ہاں !....لیکن آپ کون ؟“ان میں سے ایک نے محتاط انداز میں میرا تعارف مانگا ۔
”اس کے سوال کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے واکی ٹاکی نکال کر پکارنے لگا ۔
”انسپکٹر ارجن فار ایس پی سریش اوور!“
”سریش فار انسپکٹر ارجن سینڈ یور میسج اوور !“مجھے دھیراج کی واضح آواز سنائی دی ۔یہ دو چھوٹے چھوٹے فقرے ہی ان دونوں کو چوکنا کرنے کے لیے کافی تھے ۔
”سر !....اسپیشل برانچ کے آدمی اب تک نہیں پہنچے اور میں یہاں اکیلا ہوں اوور۔“
”سوری انسپکٹر ارجن !....میں نے تین آدمی بھجوا دیے ہیں شاید پندرہ بیس منٹ تک تمھارے پاس پہنچ جائیں اوور۔“
”ٹھیک ہے سر !....لیکن اب پلازے کے داخلی دروازے پر کس کو کھڑا کروں اوور؟“میں نے پریشانی بھرے انداز میں جواب دیا ۔
”کیا وہاں پولیس کا کوئی سپاہی موجود نہیں ہے اوور ؟“دھیراج میرے بتائے ہوئے الفاظ بہت خوب صورتی سے بول رہا تھا ۔
”یہاں چھت پر دو سپاہی ڈیوٹی پر موجود ہیں ۔اور نیچے پارک کے گیٹ پر بھی تین کے قریب سپاہی موجود ہیں ۔باقیوں نے سٹیج کو گھیرا ہوا ہے اوور۔“
”ایسا کرو دس پندرہ منٹوں کے لیے ان چھت والے سپاہیوں کو گیٹ پر کھڑا کردو ۔انھیں سمجھا دو کہ کسی کو بھی پلازے کے اندر داخل نہ ہونے دیں ۔اس دوران تم خود چھت پر ہی موجود رہنا اوور۔“
”ٹھیک ہے سر اوور اینڈ آل ۔“
دھیراج سے بات ختم کر کے میں ان دونوں سپاہیوں کی طرف متوجہ ہو گیا ۔گو دونوں نے ہماری بات چیت سن لی تھی اس کے باوجود میں نے دوبارہ سے اپنا تعارف کرانا ضروری سمجھا ۔
”ہیلو ،میں انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھورفرام سپیشل برانچ !“میں نے مصافحے کے لیے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
”سر سپاہی سنیل داس!“میرا نام پوچھنے والے نے جلدی سے میرا مصافحے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر اپنا نام بتایا ۔
”اور میں اریش گپتا سر !“دوسرے نے بھی مودّب انداز میں مجھے ہاتھ ملایا۔
”اچھا آپ لوگوں کے ذرا سے تعاون کی ضرورت تھی،گو یہ آپ لوگوں کی ڈیوٹی نہیں بنتی لیکن سرکار کا ملازم ہونے کے ناتے ہمارا کام تو ایک ہی ہے نا ۔“
”ٹھیک ہے سر !....ہم نے آپ کی تمام باتیں سن لی ہیں ۔آپ حکم کریں کرنا کیا ہے ؟“ اریش گپتا نے جلدی سے سر ہلایا۔
”نیچے داخلی دروازے پر اتنی دیر رکنا ہے کہ جب تک سپیشل برانچ کے بندے آپ کے پاس نہیں پہنچ جاتے ۔وہ ہیڈکواٹر سے نکل چکے ہیں ،بس دس پندرہ منٹ میں پہنچ جائیں گے ۔آپ کا کام بس اتنا ہے کہ کسی بھی آدمی کو پلازے کے اندر نہیں آنے دینا ۔البتہ باہر نکلنے پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔“
”ٹھیک ہے سر !“دونوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مجھے سیلوٹ کیا ۔
”ویسے آپ اپنے کسی سینئر سے اجازت لینا چاہتے ہیں بے شک پوچھ لیں ۔“میں انھیں کسی بھی قسم کے شک کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔
”نہیں سر !....ایسی کوئی بات نہیں ۔اگر کسی سینئر نے باز پرس کر بھی لی تو آپ یہیں موجود ہیں نا ۔“
”گڈ۔اور یاد رکھنا کسی کو بھی اندر نہ آنے دینا ۔“
”آپ بے فکر رہیں سر !“وہ دونوں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے ۔
ان کے رخصت ہوتے ہی میں نے کسی بھی مداخلت سے بچنے کے لیے فی الفور چھت کے دروازے کی کنڈی باہر سے لگائی اور اپنے بیگ کی طرف بڑھ گیا ۔ سب سے پہلے میں نے بیگ سے نائیلون کی مضبوط رسی نکالی اور پانی کی ٹینکی کے ساتھ گڑی سیڑھی سے اس کا ایک سرا باندھ کر دوسرا سرا پلازے کی عقبی جانب لٹکا دیا ۔عقبی جانب دکانوں کی چھت پلازے کی دیوار سے متّصل تھی ۔رسی چھت سے سات آٹھ فٹ اوپر ہی ختم ہو گئی تھی لیکن میرے لیے اتنا ہی کافی تھا ۔
اپنے فرار کا رستا منتخب کرتے ہی میں نے جلدی جلدی گلیل رائفل کے پرزے جوڑے اس کی مزل پر سائیلنسر چڑھایااور ایک مناسب جگہ پر رائفل کی دوپائی منڈیر پر لگا دی ۔چھت کی منڈیر تین چار فٹ اٹھی ہوئی تھی اس لیے میں لیٹ کر فائر نہیں کر سکتا تھا ۔سٹیج کا فاصلہ ناپ کر میں نے ایلیوشن ڈرم کو مطلوبہ رینج کے مطابق گھمایااور ٹیلی سکوپ سائیٹ سے رنجیت چوپڑہ کے سر کا نشانہ لینے لگا ۔ہوا کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی اور سورج میری پشت پر تھا یہ میرے لیے ایک بہترین صورت حال تھی ۔
”میں بھارت ماتا کا ادنا سا سیوک ہوں ،ساری جنتا کا سیوک ہوں ........“ اس کی بکواس جاری تھی ۔اور میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اسے بکواس کرنے کی زیادہ مہلت دیتا ۔
سانس روک کر میں نے ٹریگر دبا دیا ۔ایک ہلکی سی ۔”ٹھک۔“ہوئی اور وہ پیچھے کو گر گیا ۔ایک لمحہ کے لیے تو کسی کی سمجھ میں بھی نہین آیا تھا کہ کیا ہوا ہے ۔اس کے بعد کہرام مچ گیا تھا ۔ایک دم شور کی آواز اٹھی ۔میرے پاس وہ تماشا دیکھنے کا وقت نہیں تھا ۔
جاری ہے
 

میں نے فوراََ نیچے بیٹھ کر رائفل کو کھولنے لگا ۔اس کام میں مجھے ایک منٹ سے زیادہ نہیں لگا تھا ۔رائفل کو بیگ میں رکھ کر میں بھاگتا ہوا پانی کی ٹینکی کے پاس پہنچا اور وہ بیگ نیچے کچرہ دان میں پھینک دیا ۔کچرہ دان کے ساتھ کھڑی چھوٹی سی وین میں دھیراج موجود تھا ۔میں خود جلدی سے پلازے کی عقبی جانب بڑھ گیا ۔چمڑے کے دستانے میں نے دوڑتے ہوئے ہاتھ میں دال لیے تھے ۔رسی کو پکڑ کر میں نے ہاتھ ہلکے سے ڈھیلے رکھے اور تین چار سیکنڈ میں میں پلزے کی عقی جانب موجود دکان کی چھت پر تھا ۔دو تین چھتوں سے گزر کر میں ایک گلی میں اتر ا اور تیز قدموں سے ہوٹک کی جانب چل پڑا ۔گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی ۔مجھے چھت سے اترتے دیکھ کر ایک دو تین آدمیوں نے مجھے حیرانی بھری نظروں سے گھورا لیکن میں ان کی نظروں کی پروا کیے بغیر چلتا رہا ۔ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہوتے وقت مجھے پولیس کی دو تین جیپیں ہوٹل کے سامنے سے گزر کر پارک کی طرف جاتی دکھائی دیں ۔اسی وقت ایک ایمبولینس بھی سائرن بجاتی ہوئی وہاں سے گزری ۔میں نے موٹر سائیکل کا ہنڈل لاک کھول کر ہیلمٹ سر پر رکھا ۔اور اطمینان بھرے انداز میں موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے وہاں سے باہر نکل آیا ۔کوارٹر پر پہنچتے ہی میں نے ٹی وی آن کر لی تھی ۔رنجیت چوپڑہ کی ہلاکت کی بریکنگنیوز بڑے زور شور سے چل رہی تھی ۔گولی اسے ماتھے میں لگی تھی ۔یوں بھی اس وقت کئی کیمرے اس کے چہرے کو فوکس کیے ہوئے تھے ۔گولی لگ کر پیچھے گرنے کا منظر نہایت صفائی سے فلم بند ہوا تھا۔نیچے گرتے ہی اس کا ہاتھ پاﺅں جھٹکتے ہوئے تڑپنا مجھے کافی سکون دے گیا تھا ۔اس کمینے کی وجہ سے جانے کتنے مظلوم اور بے قصور یونھی تڑپے تھے ۔ یہ منظر مختلف چینلز پر بار بار دکھایا جا رہا تھا ۔البتہ اس کی لاش کی فوٹو نہیں دکھائی جا رہی تھی ۔
ایک اینکر بڑے سخت الفاظ میں اس کارروائی کو کسی پاکستانی دہشت گرد سے منسوب کر رہا تھا اور یہ کوئی ایسا غلط بھی نہیں تھا ۔اس کی بات کا لبِّ لباب یہی تھا کہ پاکستانی حکومت نے رنجیت چوپڑہ پر خوامخواہ بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اب اس خود ساختہ الزام کو سچا ثابت کرنے کے لیے دہشت گردی کی یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ۔
رات آٹھ بجے کی خبروں میں پولیس کی بے مثال کاکردگی پر روشنی ڈالی گئی ،انھیں وہ رسی وغیرہ مل گئی تھی ۔گلیل کا فائر شدہ کیس بھی انھیں مل گیا تھا ۔یقینا وہاں ڈیوٹی پر موجود دونوں سپاہی زیر عتاب آگئے ہوں گے ۔
اگلے دن کی خبروں میں دونوں سپاہیوں کی کہانی تک بھی کسی تیز طرار رپورٹر نے رسائی کرلی تھی ۔سپیشل برانچ کے انسپکٹر ارجن سنگھ راٹھورکی تلاش بڑی تندہی سے جاری تھی ۔میرا حلیہ بھی تفصیل سے بتایا جا رہا تھا ۔چھوٹی چھوٹی داڑھی ،درمیانہ قد کالے گھنے بال عمر بائیس سے پچیس سا ل کے درمیان ، سڈول جسم ،گندمی رنگت ،اٹھی ہوئی ستواں ناک باریک مونچھیں ۔چوڑی پیشانی وغیرہ وغیرہ ۔میرے پہنے ہوئے لباس کو بھی انھوں نے تفصیل سے یان کیا تھا ۔اپنے حلیے کا سن کر مجھے کافی دلچسپ لگا تھا ۔شام تک ہاتھ سے بنی ہوئی میری ایک تصویر بھی جاری کر دی گئی تھی ۔اور وہ تصویر قریباََ نوے فیصد مجھ سے مماثلت رکھتی تھی ۔میں نے دیر کیے بغیر سب سے پہلے تو اپنی داڑھی مونچھیں صاف کیں ۔اپنا لباس اتار کرایک شاپر میں ڈالا اور شام کو کھانے کے لیے جاتے وقت ان کپڑوں پر پٹرول چھڑک وہ ساتھ لے گیا۔رستے میں ایک کچرہ دان موجود تھا ۔دائیں بائیں دیکھ کر میں گلی کے خالی ہونے کا یقین کیا اور شاپر کو کچرہ دان میں پھینک کر تیلی دکھا دی ۔پٹرول نے آگ پکڑنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔میں تیزی سے ہوٹل کی جانب بڑھ گیا ۔
واپسی پر کوارٹر کا دروازہ کھولتے ہی مجھے ایک سفید لفافے میں بندایک خط زمین پر پڑا دکھائی دیا ۔دروازہ کنڈی کے کر کے میں نے اسے اٹھا لیا ۔
”شاباش آپ تو بہت اچھے قلم کار ہیں ۔اتنی مہارت سے کم لکھاری ہی قلم چلاتے ہوں گے ۔ بہ ہرحال فی الحال آرام کریں ۔افسانے کی اشاعت کے بارے آپ کو جلد ہی مطلع کر دیا جائے گا ۔“
اس خط کے بعد دس دن تک مجھے وہیں آرام کرنا پڑا ۔رنجیت چوپڑہ کی ہلاکت چند دن سے زیادہ خبروں میں نہیں ٹک پائی تھی ۔آج کی عوام ہر آن نئی خبروں کی متلاشی رہتی ہے ۔جلد ہی کئی قسم کی بریکنگ نیوز نے اس خبر کو نیچے دبا دیا تھا ۔ہفتہ بھر خبریں پڑھنے والے ایک دو لائن رنجیت کے قاتل کے بارے پڑھ دیتے بعد میں وہ بھی ختم ہوگیا ۔البتہ اس بارے دو تین خصوصی پروگرام ضرور چلائے گئے جس میں بیٹھے تبصرہ نگاروں نے پاکستان کے بارے خوب ہرزہ سرائی کی ۔
گیارہویں دن میں دھیراج ودھاوا کے سامنے ہنومان جی ہوٹل کے اسی کمرے میں موجود تھا۔سرسری لہجے میں میرے کام کی تعریف کرتے ہوئے اس نے مجھے تھوڑی سی رقم پکڑائی اور واپس جانے کا مژدہ سنایا۔واپس جانے کے لیے رستے کا انتخاب میری صواب دید پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔اور یہ اجازت ملتے ہی میری آنکھوں کے سامنے رومانہ کا معصوم چہرہ گھوم گیا ۔
”جھوٹے اجنبی !....کیا اسی رستے سے واپس آﺅ گے ۔“اس کا معصومیت بھرا شوخ فقرہ میرے کانوں میں گونجا اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔
”کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا سکتے ہو۔“دھیراج مجھ سے پوچھ رہا تھا ۔
”شکریہ ۔“اس سے الوداعی مصافحہ کر کے میں جانے کے ارادے سے کھڑا ہو گیا ۔
”ویسے اگر آپ مزید یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ممانعت کوئی نہیں ہے ۔“میری معیت میں اس نے بھی نشست چھوڑ دی تھی ۔
”قید میں کون رہنا چاہتا ہے مہاراج !“میں مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے آہستہ سے ہنسا ۔ وہ بھی مسکرا دیا تھا ۔
٭٭٭
واپسی کا رستا مجھے ازبر تھا۔کوارٹر کو تالا لگا کر میں نے چابی دھیراج کی بتائی ہوئی مخصوص جگہ پر رکھی اور بس اڈے کی جانب روانہ ہو گیا ۔جالندھر جانے والی بس مجھے بڑی آسانی سے مل گئی تھی ۔شام تک میں جالندھر پہنچ گیا تھا ۔رات کو ایک ہوٹل میں کمرہ لے کر میں نے آرام کیا اور اگلے دن صبح دمبہ جانے والی ویگن میں بیٹھ گیا ۔رات کو آٹھ نو بجے تک میں اوڑی شہر پہہنچ گیا تھا ۔انبالہ میں مجھے تقریباََ بیس دن لگ گئے تھے ۔فروری کا مہینا اختتام پذیر ہو گیا تھا ۔میں نے سپورٹس شوز ہی میں آگے جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اب برف تقریباََ ختم ہو چکی تھی ۔بس بلند و بالا چوٹیوں پریا ایسے کونوں کھدروں میں جہاں سورج کی روشنی نہیں پڑتی تھوڑی بہت برف نظر آ جاتی تھی ۔زیادہ تر رستے صاف تھے ۔اور پھر مجھے مسلسل چڑھائی بھی تو چڑھنا تھی ۔نیچے اترتے وقت تو آدمی آسانی سے اتر سکتا ہے چڑھائی چڑھنے کے لیے کافی زور لگتا ہے۔ اپنا سفری تھیلا پشت پر لٹکا کر میں چل پڑا ۔آتے وقت مجھے اس رستے پر سفر کرنا محسوس ہی نہیں ہواتھا لیکن واپسی کے لیے مسلسل چڑھائی چڑھنا بہت مشکل تھا ۔رومانہ کے گاﺅں سے اوڑی شہر تک مجھے پوری رات لگ گئی تھی ۔لیکن اب یقینا میں ایک رات میں نہیں پہنچ سکتا تھا ۔یہی سوچ کر میں نے قدموں کی رفتار ہلکی رکھی تھی ۔گو میرا دل چاہ رہا تھا کہ اڑ کر رومانہ کے پاس پہنچ جاﺅں ۔اس کے لیے خریدی ہوئی سوئیٹر اورکپڑوں کے دو سوٹ میرے سفری جھولے میں موجود تھے ۔مجھے یقین تھا کہ اپنے جھوٹے اجنبی کے یہ تحائف اسے پسندضرور آنے تھے ۔صبح ہونے کے قریب میں بہ مشکل اس جگہ تک پہنچا تھا جہان میں نے آتے وقت کھانا کھایا تھا ۔وہ جگہ دن گزارنے کے لیے بہتر ین تھی ۔کھانے کے لیے میرے پاس بسکٹ اور خشک میوہ موجود تھا ۔پیٹ بھر کر میں سونے کی کوشش کرنے لگا ۔اپنے جسم پر میں نے گرم چادر لپیٹ لی تھی ۔لیکن سردی کی وجہ سے مجھے نیند نہ آ سکی مجبوراََ میں گھٹنوں میں سر دے کر اونگنے لگا۔آگ میں نے جان بوجھ کر نہیں جلائی تھی کہ ہلکا سا خطرہ مول لینا بھی مجھے گوارا نہیں تھا ۔اگر وہاں میری موجودی کی ذرا سی بھنک بھی انڈین آرمی کو پڑ جاتی تو میرے لیے کافی مشکلا ت کھڑی ہو جاتیں ۔ گو مجھے خطروں کی اتنی پروا نہیں تھی لیکن ایسی صورت میں شاید میرا رومانہ سے ملنا بھی کٹھنائی میں پڑ جاتا جو مجھے کسی صورت گوارا نہیں تھا ۔دھوپ چڑھنے پر مجھے نیند آ گئی ۔
میری آنکھ ہلکی سی آواز سے کھلی ۔ وہ ایک لومڑ تھا میرے بدن میں حرکت ہوتے دیکھ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا ۔سورج کا سفر جاری تھا ۔اندھیرا ہوتے ہی میں وہاں سے چل پڑا۔اس مرتبہ میرے سفر کا اختتام اسی جگہ پر ہوا جہاں میری رومانہ سے ملاقات ہوئی تھی ۔ان جھاڑیوں میں اب تک وہ مچان بنی ہوئی تھی ۔میں نے بے دھڑک ٹارچ روشن کر کے مچان کا جائزہ لیا کیونکہ اتنے گھنے جنگل میں اول تو ٹارچ کی روشنی کے دور سے دیکھے جانے کا خطرہ کم تھا ۔اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تب بھی گاﺅں قریب تھا اور گاﺅں کے لوگوںکا وہاں آنا جانا لازماََ رہتا ہوگا ۔یوں بھی صبح صادق طلوع ہو چکی تھی ۔میں چادر اوڑھ کر مچان میں بیٹھ گیا ۔ سورج نکلنے تک میں سردی کی وجہ سے نہیں لیٹ سکا تھا اور سورج نکلنے کے بعد کسی کو دیکھنے کی چاہت میں آنکھیں بند نہیں کر پایا تھا ۔وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔انتظار ہمیشہ انشان کو کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔میں بھی بے چین ہونے ساتھ سخت بوریت محسوس کر رہا تھا ۔میرا دل کررہاتھا کہ بس جلدی سے رومانہ آ جائے اور پھر وہ آگئی ۔میرے کانوں میں ہلکی سی گھنگھناہٹ پڑی ۔رومانہ نے چند بکریوں کے گلے میں چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں لٹکائی ہوئی تھیں ۔ان کے بجنے کی آواز سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی ۔پہلی بکری جس پر میری نظر پڑی وہ وہی تھی جس کا دودھ نکال کر رومانہ نے میرے لیے چاے بنائی تھی ۔میں پر اشتیاق نگاہوں سے اس جانب دیکھتا رہا ۔وہ جھاڑیوں کی اوٹ سے طلوع ہوئی ۔وہی لباس ،وہی حلیہ ،اس کے دائیں بائیں گھومتا سفید میمنا پہلے سے تھوڑا بڑا ہو گیا تھا ۔اس کا رخ اسی مچان کی طرف تھا ۔مجھے خاصی حیرانی ہوئی کہ وہ دائیں بائیں توجہ دیے بغیر یوں مچان کی طرف کیوں بڑھتی چلی آ رہی ہے ۔اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر میں بھی مچان سے باہر نکل آیا ۔
رنجیت چوپڑہ کو قتل کرنے کے اگلے دن میں نے کلین شیو کروا لی تھی ۔لیکن اس بات کو بھی قریباََ دو ہفتے ہونے والے تھے ۔میری داڑھی اب قریباََ اتنی ہی ہو گئی تھی جتنی کہ پہلے تھی ۔
جھاڑیوں کے ہلنے پر وہ ٹھٹک کر رکی اس کی آنکھوں میں پراشتیاق حیرانی تھی ۔جونھی میں مچان سے نکل کر سیدھا کھڑا ہوا اس نے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا پھینکا اور اتنی تیزی سے میرے جانب بڑھی کہ مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا ،اگلے لمحے وہ مجھ سے لپٹ چکی تھی ۔
”میرے اجنبی !“اس کی کومل آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔”اتنی دیر کر دی ۔“ اس نے میری چھاتی پر سر رکھ دیا ۔
میں کوشش کے باوجود اپنی بانہوں کو اس کے گرد گھیرا ڈالنے سے روک نہیں سکا تھا ۔جانے کتنی دیر ہمیں اس حالت میں گزر گئی ۔میرا دل ہی سیر نہیں ہورہا تھا ۔یقینا یہی حالت اس کی تھی کہ وہ بھی علاحدہ ہونے کو تیار نہیں تھی ۔پہلے فقرے کے بعد اس نے اپنے ہونٹوں سے ایک لفظ بھی نہیں نکالا تھا میری زبان بھی گنگ تھی ۔
کافی دیر کے بعد اس کی سریلی آواز نے ایک بار پھر میرے کانوں میں جلترنگ بجائے ۔ ”مجھے یقین تھا کہ آپ اسی رستے سے لوٹیں گے ۔“
”یقین کی وجہ ؟“میں نے دایاںہاتھ اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا ۔
اس نے پلکوں کی چلمن اٹھا کر اپنی ساحرانہ آنکھوں سے مجھے مسحور کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہو جواب دیا ۔”کیونکہ میں روزانہ خواب میں تمھیں لوٹتے دیکھا کرتی تھی ۔“
میں ہنسا ۔”اچھا خواب بھی دیکھتی ہو ۔“
”ہاں ....بہت زیادہ ....لیکن صرف اپنے اجنبی کے ۔“اس نے دوبارہ اپنا سر میری چھاتی پر دھر دیا شاید اس کا علاحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
”کیوں تمھارے اجنبی میں ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ؟“میں نے اسے چھیڑا۔
”پتا نہیں ۔“وہ بھول پن سے بولی ۔
”اچھا پتا ہے میں تمھارے لیے تحفہ لے کر آیا ہوں ۔“
”صحیح کہا ۔آپ میرے لیے قدرت کا ایک عظٰم تحفہ ہی تو ہیں ۔“
”میں تمھارے لیے چوڑیاں لے کے آیا ہوں ۔“میں نے اس کے کان سے منہ لگا کر کہا ۔ یہ بات میں اپنا منہ اس کے کان سے لگائے بغیر بھی کہہ سکتا تھا ۔لیکن پھر میرے ہونٹوں کو وہ حلاوت تو نصیب نہ ہوتی جو اس طرح کہنے میں ہوئی تھی ۔
”سچ میں ۔“اس نے خوشی سے بھرپور آواز میں پوچھا ۔
”کیوں تم مجھے جھوٹا سمجھتی ہو ؟“
میری بات پر پورا جنگل گنگنا اٹھا تھا ۔یا شاید صرف وہ ہنسی تھی اور مجھے یونھی محسوس ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے ٹھیک ہے سمجھ میں آ گیا ،کہنے کی ضرورت نہیںہے ۔“اس کی معنی خیز ہنسی کے جواب میں میں جلدی سے بولا۔
”ویسے چوڑیاں دکھا کر آپ مجھے غلط بھی تو ثابت کر سکتے ہیں ۔“وہ شوخی بھرے لہجے میں بولی۔
”تم چھوڑو گی تو ایسا کر پاﺅں گا نا ۔“
”اتنا ہی تنگ ہو رہے ہو تو یہ لو ۔“مجھے اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے وہ منہ بنا کر پیچھے ہٹی۔
مجھے لگا کہ میں نے خود اپنے پاﺅں پر کلھاڑی مار دی ہے ۔لیکن پھر میں نے خود میں اتنی ہمت مفقود پائی کہ اسے دوبارہ تھام لوں ۔مچان میں پڑا سفری تھیلا اٹھا کر میں نے رومانہ کے لیے لائے ہوئے تحائف باہر نکال لیے ۔
کپڑوں کے دو جوڑے ،سوئیٹر اور چوڑیاں ۔تمام چیزیں دیکھتے ہی وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
”ا ب بتاﺅ جھوٹا ہوں یا سچا ۔“
”جھوٹا ....“اس نے شوخ مسکراہٹ میرے جانب اچھالی ۔”کہا تھاکہ چوڑیاں لایا ہوں اور اس کے ساتھ کپڑے اور سوئیٹر بھی تو موجود ہیں نا ۔“
”پسند آئے ۔“
میری بات کا جواب دیے بغیر وہ ایک قمیص کو اپنے سامنے لٹکا کر پوچھنے لگی ۔”کیسے لگ رہی ہوں ۔“
میں بے اختیار بولا۔”تمھیں خوب صورت لگنے کے لیے کسی بیرونی سجاوت کی ضرورت نہیں ہے ۔“
”آپ کو کیسے پتا چلا کہ مجھے یہ دونوں رنگ بہت پسند ہیں ؟“ایک قمیص لپیٹ کر پتھر رکھتے ہوئے اس نے دوسری قمیص اپنے سامنے پھیلا لی ۔
”پتا نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔
”اچھا مجھے چوڑیاں پہناﺅ نا ۔“اس نے اپنی ریشمی کلائیاں میرے سامنے پکڑیں ۔اور میں اسے ساتھ لیے نیچے بیٹھ گیا ۔اس کے ملائم اور لچک دار ہاتھوں میں تمام چوڑیاں آسانی سے پھسل کر داخل ہو گئی تھیں ۔
چوڑیاں پہن کر اس نے اپنی دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹیکیں اور کلائیاں نیچے لٹکا کر مسرت بھری نظروں سے چوڑیوں کو دیکھنے لگی ۔گاہے گاہے وہ اپنے شوخ نظر مجھ پر بھی ڈال لیتی ۔ہنسی اس کے ہونٹوں سے چپکی ہوئی تھی ۔
”ایک بات کہوں ۔“اسے کچھ بولتے نہ دیکھ کر میں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
”کب سے آپ کے کچھ کہنے کی منتظر ہوں ۔“چاہت بھرے لہجے میں کہہ کر وہ سوئیٹر پہننے لگی۔
”مجھے تمھارا نام بھی یاد ہے اور میں نے تمھارا کھانا باندھنے والا کپڑا بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا ۔میں مبہوت ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
وہ شرما کر نیچے دیکھتے ہوئے بولی ۔”پتا ہے میں روزانہ جنگل میں آتے ہی سب سے پہلے مچان میں جھانکتی تھی کہ کہیں آپ لوٹ ہی نہ آئے ہوں ۔“
مجھے اس کی بات پر ذرا بھی شبہ نہ ہوا کیونکہ آج بھی وہ سیدھا مچان ہی کی طرف آئی تھی ۔
”روما !....میں تم سے شادی کرنے کے لیے لوٹا ہوں ۔“میں زیادہ دیر اس خواہش کو اپنے دل میں نہیں دبا سکا تھا ۔
وہ کھسک کر قریب ہوئی اور میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔کچھ نہ کہتے ہوئے بھی اس نے خوب صورت طریقے سے اپنی رضامندی مجھ تک پہنچا دی تھی اور یقینا یہ طریقہ الفاظ سے کے استعمال سے زیادہ مجھے اچھا لگا تھا ۔
”روما !....پتا ہے میں ایک فوجی ہوں ۔انڈیا میں ایک ایسے دہشت گرد کو ٹھکانے لگانے گیا تھا جو پاکستا ن میں دو دفعہ بم دھماکے کروا کردرجنوں بے قصوراور معصوم لوگوں کی موت کی وجہ بنا تھا۔اور یاد رکھنا میری آنے والی زندگی میں بھی ایسے کئی مشن آئیں گے ۔کیا تمھیں ایسا آدمی قبول ہے جس کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے ۔“
اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا ۔”میں پہلے سے جانتی ہوں کہ آپ کیا ہیں ؟“
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان میں اس کا ملائم ہاتھ تھاما۔یوں لگ رہا تھا میں نے گلاب کی بہت ساری پتیاں ہاتھ میں پکڑ لی ہوں ۔”اس کا مطلب ہے مجھے آج ہی تمھارے ابو جان سے بات کرنا پڑے گی ۔“
”نن....نہیں ....نہیں ۔“وہ ہکلاتے ہوئے بولی ۔”میں سہ پہر کو بکریاں گھر چھوڑ کر تمھارے لیے کھانا لے کر آﺅں گی ۔اور یہاں سے اکٹھے نکل چلیں گے ؟“
مجھے اس کی گھبراہٹ پر اچنبھا ہوا تھا ۔”کیسی بات کر رہی ہو روما !....تمھارے والد کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا ٹھیک نہیں ہوگا ۔“میں نے اس کی گھنی سیاہ زلفوں کو دوپٹے کی قید سے آزاد کیا اور اپنی انگلیاں ان میں پھیرنے لگا ۔وہ گویا ریشم کے تار ہی تو تھے ۔ نرم،چمکیلے ،خوشبودار ۔
”اگر اس نے انکار کر دیا ؟“
”انکار کیوں کرے گا ....میں اس کی منت کر کے اسے منا لوں گا ۔اس کے پاﺅں پڑ جاﺅں گا اس کا ہر مطالبہ پورا کروں گا اور مجھے یقین ہے ایک سچا کشمیری پاک آرمی کے جوان کو اپنی بیٹی کا رشتا دینے سے انکار نہیں کر سکتا ۔“
”کیوں نہیں کر سکتا ۔آپ کچھ بھی تو نہیں جانتے میرے بھولے بھالے اجنبی !“اپنا ہاتھ میری گرفت سے چھڑاتے ہوئے وہ دونوں ہاتھوں کو اضطراری انداز میں مروڑنے لگی ۔
”اچھا میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر وہ کسی بھی صورت نہ مانے تو میں تمھیں یونھی لے جاﺅں گا ۔ لیکن ایک بار ان سے بات کرنا ضروری ہے ۔“
”آپ کی سمجھ میں میری بات کیوں نہیں آ رہی ،وہ نہیں مانیں گے ....نہیں مانیں گے .... نہیں مانیں گے ۔“روما کی آنکھوں میں نمی نمودار ہوئی ۔”اپنا اور میرا وقت برباد نہ کرو ۔بس طے ہو گیا کہ ہم شام کو جائیں گے اور پتا ہے جس دن آپ یہاں سے گزرے تھے اسی رات میں نے اپنی ضروری چیزیں باندھ کر رکھ دی تھیں ۔مجھے دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں پیدا ہونے والی پسندیدگی مجھے پہلی نگاہ ہی میں نظر آ گئی تھی اور میں اچھی طرح جانتی تھی آپ ضرور لوٹیں گے بس مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ کب لوٹیں گے ؟“
”ایک امکان کو آپ کیوں یقین سمجھے بیٹھی ہیں ۔“میں بہ ضد ہوا ۔
”میں آپ کو اچھی لگتی ہوں نا ؟“اس نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا ۔
”پگلی !....میرا جواب تمھیں معلوم ہے ۔“میں نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا۔
”کیا میرے بغیر رہ لو گے ؟“اس نے حسرت بھری نگاہوں سے مجھے گھورا ۔
”یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔یوں بھی میں ایسا موقع نہیں آنے دوں گا ۔اور کہہ تو دیا کہ وعدہ کرتا ہوں اگر آپ کے والدمحترم نہ مانے تو پھر موقع ملتے ہی میں تمھیں لے اڑوں گا ۔“
”اگر ہاں کرنا ابوجان کے بس میں نہ ہوتو پھر بھی اس سے ملنے پر اصرار کرو گے ۔“عجیب حسرت زدہ درد بھری آواز میں وہ پوچھ رہی تھی ۔
”روما !....تم کیوں اپنی گفتگو سے مجھے اذیت پہنچا رہی ہو اور تمھارے ابو جان کے بس میں بھلا کیوں نہیں ہوگا ۔“میں نے جھک کر اس کی پیشانی پر مہر محبت ثبت کی ۔
”اگر میں کسی اور کی ملکیت ہوں پھر ؟“اس کی آواز جیسے گہری کھائی سے ابھری تھی ۔
”کسی اور کی ملکیت ؟....یقینا میں تمھاری بات سمجھنے میں ناکام رہا ہوں ۔“
”میں شادی شدہ ہوں ،گزرے ستمبر میں میری شادی میرے چچا زاد اسفند یارسے ہو گئی ہے۔ شادی کے ہفتے بھر بعد وہ میرے دونوں بھائیوں کے ساتھ کمانے کے لیے چلا گیا اور اب وہ اگلے ماہ واپس لوٹ آئیں گے ۔“اس نے سسکتے ہوئے اپنی بات پوری کی ۔میرے کانوں میں جیسے کسی پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا تھا ۔میرے ہاتھ بے جان انداز میں اس کے ریشمی گالوں سے نیچے پھسلے ،میری بولتی بند ہو گئی تھی ۔
”مجھے معاف کر دو اجنبی !“وہ روتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی ۔”میں مجبور تھی ۔“
وہ کسی اور کی امانت تھی،کسی اور کی ماہین ۔اگر اسے وہ رشتا پسند نہیں تھا تو اسے پہلے انکار کر دینا چاہیے تھا ۔اور اب وہ مجھے انجانے میں ایک ایسے گناہ کی جانب گھسیٹنے والی تھی جس کا کوئی کفارہ بھی نہیں تھا۔اگر میں اسے یونھی ساتھ لے گیا ہوتا تو نکاح کرنے کے باوجود ہماری شادی نہیں ہو سکتی تھی ۔وہ کسی اور کی منکوحہ تھی ۔اس سے طلاق لیے بغیر بھلا وہ میرے آنگن میں کیسے روشنی پھیلا سکتی تھی ۔
میں جھرجھری لے کر ایک دم ہوش میں آیا اور اسے خود سے دور جھٹک دیا ۔”تم عورتیں ہوتی ہی قابلِ نفرت ہو،تمھاری جنس ہے ہی مکاری اور دھوکے کی علامت ۔کیا تم مجھے پہلے یہ بات نہیں بتا سکتی تھیں ۔اور اگر تمھیں اپنا چچا زاد پسند نہیں تھا تو اس سے شادی کے لیے کیوں حامی بھری ،کیوں نکاح کے وقت قبول کہا ،کیوں ڈولی میں بیٹھ کر اس کے گھر گئیں ،کیوں ....کیوں ....کیوں ۔“میرے ہونٹوں سے وحشت زدہ آواز برآمد ہوئی ۔
وہ جیسے کراہی ۔”کیونکہ اس وقت تک مجھے آپ نہیں ملے تھے ۔“
”اور جب مجھ سے بھی خوب صورت مل جائے گا پھر ؟“میں نے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے اسے مطعون کیا ۔
”اللہ پاک کی قسم وہ شکل و صورت کے لحاظ سے آپ سے خوب صورت ہے ۔“
”تم نے بہت برا کیا رومانہ !....بہت زیادہ ۔میں پہلے ہی عورت ذات کا ڈسا ہوا ہوں، تم نے بھی میرے گھاﺅ پر تیزاب انڈیل دیا ۔مجھے نفرت ہے تم سے اور....اور ہر عورت سے ۔“یہ کہتے ہی میں وہاں سے چل پڑا ۔اپنا تھیلا اٹھانا بھی مجھے یاد نہیں رہا تھا ۔
”اجنبی !....اجنبی ....میں مر جاﺅں گی ۔“وہ روتے ہوئے میرے پیچھے سے آکر لپٹ گئی تھی ۔”یوں خفا ہو کر نہ جاﺅ ....لوٹ آنے کا وعدہ کر کے جاﺅ ۔میں اس سے طلاق لے لوں گی ۔“
میں نے پیچھے مڑ کر اس کی گرفت سے خود کو چھڑایا اور اس کے ساتھ ہی میرا ہاتھ گھوما ۔ ”چٹاخ۔“کی آواز کے ساتھ اس کے پھول سے گال پر میرا تھپڑ پڑا ،وہ نیچے گر گئی تھی ۔مجھے یوں لگا وہ تھپڑ میرے دل پر پڑا ہوا ۔میں اندھا دھند بھاگ کھڑا ہوا۔مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میرا رخ کس جانب ہے ۔میرے دماغ میں تو بس رومانہ کی باتیں ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں ۔
””میں شادی شدہ ہوں ،گزرے ستمبر میں میری شادی میرے چچا زاد سے ہو گئی ہے ۔میں شادی شدہ ہوں ....میں شادی شدہ ہوں ....میں شادی شدہ ہوں ۔“میں بھاگتا رہا ناہموارزمین پر، جھاڑیوں اور درختوں سے بھرئی ہوئی ڈھلوان پر،جا بہ جا بکھرے ہوئے پتھرو ں اور کنکروں پر ۔پتا نہیں مجھے بھاگتے ہوئے کتنا وقت بیت گیا تھا ۔شاید پوری صدی بیت گئی تھی یاشاید میں نے اسی وقت دوڑنا شروع کیا تھا ۔اچانک مجھے ٹھوکر لگی میں اوندھے منہ گرا اور نیچے لڑھکتا چلا گیا ۔وہ ڈھلان کافی نیچے جا رہی تھی ،لیکن مجھے ایک بڑی چٹان نے مزید نیچے جانے سے روکا اور میں وہیں اوندھے منہ لیٹ کر گہرے گہرے سانس لینے لگا ۔دوبارہ اٹھنے کی ہمت مجھ میں مفقود تھی ۔میں لیٹا رہا ،سوچتا رہا.... سوچتا رہا، یہاں تک کہ میرا سر درد سے پھٹنے لگا ۔کتنی آسانی سے اس نے مجھے بے وقوف بنایا تھا ۔یا شاید میں تھا ہی احمق ۔اگر احمق نہ ہوتا تو اتنی بڑی ٹھوکر کھانے کے بعد مجھے سنبھل جانا چاہیے تھا ۔امریکہ میںمجھے کیپٹن جینفر الو بناتی رہی تھی ۔پاکستان میں ماہین اور اب کشمیر میں میں رومانہ کے ہاتھوں گدھا بن چکا تھا ۔کافی دیر میں اسی حالت میں پڑا رہا ۔یہاں تک کہ میری مثبت سوچوں نے مجھے ان حالات کی طرف متوجہ کیا جو مجھے درپیش تھے ۔میں ابھی تک پاکستان کی سرحد عبور نہیں کر پایا تھا ۔زاد راہ کا تھیلا میں مچان میں بھول آیا تھا ۔مچان کی طرف لوٹ کر جانے میں مجھے اپنی موت نظر آ رہی تھی ۔میں آہستہ آہستہ اٹھ بیٹھا ۔سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔جس جگہ میں موجود تھا وہاں بہت اچھی دھوپ لگ رہی تھی ۔میں پتھر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔میرا سب کچھ اس تھیلے میں رہ گیا تھا ۔پستول ،ٹارچ ،خوراک ،چادر ہرچیز وہیں تھیلے میں تھی ۔پتا نہیں بے دھیانی میں میں کتنا فاصلہ طے کر چکا تھا ۔اگر میں سہ پہر کے بعد وہیں لوٹ جاتا تو شاید اپنا تھیلا واپس حاصل کر لیتا ۔”لیکن اگر روما شام تک وہیں بیٹھی رہی پھر ؟“
میری سوچوں میں جو سوال ابھر اس کا آسان جواب یہی تھا کہ اب میں واپس نہیں لوٹوں گا ۔
گھنٹا ڈیڑھ مزید وہیں گزارنے کے بعد میں چڑھائی چڑھنے لگا ۔ایک دو بکریوں کو دیکھ کر میں نے اپنے جانے کی سمت میںتھوڑی سی تبدیل کرنا ضروری سمجھاتھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا کسی اور سے ٹکراﺅ ہو ۔مگر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔وہ بھی ایک جوان عورت تھی اس کے ساتھ دس گیارہ سال کا ایک لڑکا بھی تھا ۔وہ دونوں ایک دم جھاڑیوں کی اوٹ سے نکل کر میرے سامنے آ گئے تھے۔ مجھے دیکھ کر وہ دونوں ٹھٹک کر رکے ۔مگر میں انھیں مخاطب کیے بغیر آگے بڑھ گیا ۔جھاڑیوں کی آڑ میسر آنے تک میں اپنی پشت پر کسی کی نظروں کو محسوس کرتا رہا ۔مطلوبہ بلندی پر پہنچ کر میں نے اس سڑک کی تلاش میں نظریں دوڑائیں جس پر چل کرمیں وہاں تک پہنچا تھا ۔اسی سڑک سے میں اپنی سمت درست رکھ سکتا تھا ۔مجھے وہ سڑک تلاش کرنے میں کوئی دقت نہیںہوئی تھی ۔میں اسی جانب چل پڑا۔اب مجھے اترائی کا مرحلہ درپیش تھا ۔میں احتیاط سے چلتے ہوئے جنگل سے باہر نکلا سامنے وسیع نالا تھا اس کو عبور کر کے میں مطلوبہ سڑک تک پہنچ جاتا ۔اس سڑک کے متوازی میں نے اسی نالے میں چلنا شروع کر دیا ۔مجھ سے رات ہونے کا انتظار بھی نہیں ہو سکا تھا ۔اندھیرا چھاتے ہی میں روڈ پر چڑھ گیا ۔چاند کی بارہ تاریخ تھی ۔اس لیے مجھے روشنی کی کوئی فکر نہیں تھی ۔انڈین پوسٹوں سے چھپتا چھپاتا ۔چڑھائیاں چڑھتا میں طلوع آفتاب سے ذرا پہلے اس جگہ پر پہنچ گیا تھا جہاں آتے وقت میرا انڈین پٹرول سے واسطہ پڑا تھا ۔ اس جگہ سے آگے سفر کرنا مناسب نہیں تھا ۔مجھے مسلسل جاگتے ہوئے اڑتالیس گھنٹے ہونے کو تھے ۔تھکن بھی کافی ہو رہی تھی ۔لیکن جس جگہ میں نے دن بھر چھپ کر رہنا تھا وہ علاقہ انڈین فوجیوں کی گزر گاہ تھا ۔ نسبتاََ پہاڑ کی جڑ کی طرف ہو کر میں جھاڑیو ں کے ایک گھنے جھنڈ میں گھس کر بیٹھ گیا ۔کچھ نہ کھائے ہوئے بھی چھتیس گھنٹے ہونے والے تھے ۔میں نے تو رومانہ کے پاس موجود کھانا کھانے کے لالچ میں گزشتہ صبح وہاں پہنچتے ہوئے بسکٹ وغیرہ کھانے سے احتراز برتا تھا۔بہ ہرحال بھوکا ہونے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ نیند مجھ سے دور رہی ۔گو اس میں بھوک کے ساتھ ساتھ سردی کا بھی گہرا عمل دخل تھا ۔وہ میری زندگی کا ایک اذیت بھرا دن تھا ۔تھکن،نیند کی کمی ،بے پناہ بھوک اورسب سے بڑھ کر دماغی بے سکونی جس کی وجہ رومانہ کی یاد تھی ۔
وقت چاہے اچھا ہو یا برا گزر جاتا ہے ۔وہ دن بھی گزر گیا ۔رات نے ڈیرے ڈالے اندھیرا گہرا ہوا اور میں اپنی کمین گاہ سے نکل کر آگے بڑھ گیا ۔میری واپسی اسی رستے پر ہوئی تھی جس پر میں چل کر آیا تھا ۔چند گھرانوں کی آبادی عبور کر کے میں نے نالہ پار کیا ۔اس میں اب پہلے کی نسبت پانی کی مقدار تھوڑی زیادہ تھی ۔لیکن اتنی زیادہ نہیں تھی کہ مجھے پاﺅں گیلے کرنے پڑتے ۔جلد ہی میں اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں بارودی سرنگی قطعہ مو جود تھا ۔اس قطعے کو پارکرنے کا رستا مجھے معلوم تھا لیکن اس سے پہلے میں نے پاکستانی سنتری کو آواز دینا ضروری سمجھا ۔کیونکہ اس قطعے میں قدم دھرتے وقت میں نے اس کی نظروں میں آ جانا تھا ۔اور یوں ایک آدمی کو یوں خاموشی سے پوسٹ کی جانب آتا دیکھ کر وہ فائر بھی کھول سکتا تھا ۔
”اسلام علیکم بھیا !“میں نے زوردار آواز میں پکارا ۔
”ایک تیز ٹارچ چمکی اور اس کے ساتھ ہی آواز آئی ۔”کون؟“
”قریب آ کر تعارف کرا دیتا ہوں ۔“میں نے دونوں ہاتھ سر سے بلند کر کے کہا ۔
اس نے مجھے خبردار کرتے ہوئے کہا ۔”حرکت نہ کرنا ،تم بارودی سرنگی قطعے کے کنارے کھڑے ہو ۔“
”رستا مجھے معلوم ہے بھائی !....بس آپ اپنی گولی ضائع نہ کرنا ۔“میں نے قدم آگے بڑھا دیے ۔اس نے ٹارچ بجھا دی۔ چاند کی روشنی ہی اتنی تیز تھی کہ ٹارچ جلانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔
ارودی سرنگی قطعہ پار کر کے میں اس کی جانب بڑھ گیا ۔میں اس سے دس گز دور ہوں گا کہ اس نے مجھے رکنے کو کہا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے ٹارچ کی روشنی میرے چہرے پر ڈالی ۔
”ارے آپ ۔“اس کے منہ تحیّر آمیز آواز برآمد ہوئی ۔”آجائیں ۔“ٹارچ بجھا کر وہ خود بھی میری جانب بڑھا ۔
”کریم !....کون ہے یہ ؟“مورچے کی طرف سے ایک بھاری آواز سنائی دی ۔یقینا وہاں ایک اور آدمی موجود تھا ۔
”استاد جی !....یہ وہی ہے جسے ہم شہید سمجھے ہوئے تھے ۔“کریم قریب آ کر مجھ سے لپٹ گیا۔
اس کا استاد بھی مورچے سے باہر آ گیا ۔”کیا حال ہے بھائی جان !....“کریم کے بعد اس نے بھی مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے پوچھا ۔
”اللہ پاک کا کرم ہے جی !“میں اطمینان بھرے انداز میں مسکرایا ۔
اس نے اسی وقت فیلڈ ٹیلی فون پر پوسٹ کے سینئر کو میرے پہنچے کی خبر سنائی ۔اگلے پانچ منٹ میں وہ سینئر وہیں تھا ۔وہ میجر مزمل تھا ۔جس دن میں گیا تھا اس دن بھی وہ اسی پوسٹ پر موجود تھا ۔استاد نے ایڑیاں جوڑ کر اسے سیلوٹ کیا ۔میں نے بھی اپنی ایڑیاں جوڑ لی تھیں ۔
”ذیشان !....صحیح نام لیا نا ؟“میجر صاحب نے آگے بڑھ کر مجھے چھاتی سے لگایا ۔اس کے چہرے سے ہویدا خوشی کے اثرات مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھے کہ پاک آرمی ایک خاندان کی مانند ہے اور کسی ایک کی کامیابی کو تمام اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ۔اس میں آفیسرز اور نچلے رینک کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔
”جی سر !....میرا نام ذیشان ہی ہے ۔“
”یار !....ہم تو اس دن ڈر ہی گئے تھے ۔“میرے کندھے پر بے تکلفانہ انداز میں ہاتھ رکھ کر وہ مجھے پوسٹ کی سمت لے جانے لگا ۔”ویسے ہوا کیا تھا ؟“
”لمبی کہانی ہے سر !....اور مجھے مسلسل جاگتے ہوئے ساٹھ گھنٹے ہونے والے ہیں ۔“
”ہونہہ!....میرا خیال ہے سونے سے پہلے آپ کھانا کھانا ضرورپسند کریں گے؟“
”جی سر !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اس نے ایک حوالدار کو بلا کر میرے لیے تازہ کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور ساتھ میرے سونے کے لیے جگہ تیار کھرنے کا بھی بتا دیا ۔حوالدار مجھے ساتھ لے کر اپنے کمرے میں آ گیا ۔برفانی علاقوں میں ٹن پیک سالن ملتا ہے ۔کک نے اٹھ کر فوری طور پر میرے لیے چکن کا سالن گرم کیا اور اور جلدی جلدی روٹیاں بنا کر میرے سامنے دھر دیں ۔تھوڑی دیر بعد خوب سیر ہو کر کھانا کھانے کے بعد میں سنو کے سلپنگ بیگ میں گم ہو گیا تھا ۔خوابوں کی دنیا میں روما میرا انتظار کر رہی تھی ۔
٭٭٭
یونٹ واپسی پر کمانڈنگ آفیسر نے مجھے خصوصی شاباش دی ۔میرے مشن کے کامیاب ہونے کی خبر وہ ٹی وی پر دیکھ چکا تھا ۔
”ویسے نو سو میٹر کے فاصلے سے ماتھے میں گولی مارنا ۔اچھی کاکردگی ہے ۔“کمانڈنگ آفیسر کے چہرے پر مجھے خوشی چھلکتی دکھائی دی ۔
”شکریہ سر !“
وہ ہنسا ۔”اب تم یقینا مہیناچھٹی مانگو گے ۔“
”نہیں سر !“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”دس دن کافی ہیں ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا ۔”تمھارا کمپنی آفیسر مہینا چھٹی کی اجازت لے چکا ہے بر خوردار!“
”پھر تو مجبوری ہے سر !“میں نے دس دن پر اصرار کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یوں بھی فوجی آدمی کے لیے چھٹی کا حصول سب سے بڑی خوش خبری ہوتی ہے ۔اور سینئر کی جانب سے آفر کی ہوئی چھٹی کو ٹھوکر مارنے کا مطلب خود کو خوا مخواہ فضول سوالات کے حوالے کرنا تھا ۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ میری ذات زیر بحث لائی جائے ۔البتہ کلرک کے پاس میں باضابطہ طور پر طلاق نامہ جمع کروا چکا تھا ۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی بھی حادثے کا شکار ہونے کے بعد میرے لواحقین کو ملنے والی ساری رقم ماہین کے پاس چلی جاتی ۔(ہر فوجی کی قانونی وارث اس کی بیوی ہوتی ہے )
”کوشش کرو اسی مہینے میں نئی دلھن ڈھونڈ لو ۔“اس نے معنی خیز انداز میں کہا ۔یقینا میرا طلاق نامہ اس کے سامنے بھی پیش ہوا تھا ۔اور اسے معلوم تھا کہ میں بیوی کو طلاق دے چکا ہوں ۔لیکن اس بارے اس نے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”پہلے والی سے مشکل سے جان چھڑائی ہے سر !“میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔
”صحیح کہا۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔اور میں سیلوٹ کر کے وہاں سے باہر نکل آیا ۔
دو دن گھر گزار کر میں تیسرے دن ابو جان سے اجازت لے کر استاد عمر دراز کو ملنے چل پڑا ۔ مجھے دیکھ کر استاد عمر دراز خوش ہو گئے تھے ۔ میں نے انھیں آخری مشن کی تفصیلات وغیرہ بتلائیں ۔وہ مجھ سے ہدف کا فاصلہ ،ہوا کی رفتار سورج کی سمت اور اس طرح کی دوسری تفصیلات بڑی باریک بینی سے معلوم کرنے لگے ۔یقینا انھیں سنائپنگ کا جنون تھا اور اس طرح کی کارروائی سے وہ بہت لطف اندوز ہوتے تھے ۔
”ذیشان بیٹا !....بلا شبہ تمھارا نشانہ اب مجھ سے بہتر ہو گیا ہے ۔“میری بات کے اختتام پر انھوں نے تعریفی لہجے میں کہا ۔
میں طنزیہ انداز میں ہنسا ۔”یہ خوش فہمی تو کبھی کبھی مجھے بھی ہو جاتی ہے ۔“
”یہ حقیقت ہے بیٹا !“اس نے آگے بڑھ کر میری پیٹھ تھپکی ۔
”ساٹھ ستر سال کے بوڑھے سے مقابلہ کرنا بھی تو زیادتی ہے نا سر !“
”میں اپنی جوانی کی بات کر رہا ہوں میاں !“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”یہ مبالغہ آرائی کچھ کم نہیں ہو سکتی ۔“
”اس میں مبالغہ آرائی کہاں سے آ گئی ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”ویسے میں چکن کے بجائے مونگ کی دال کھانا پسند کروں گا ۔“میں نے موضوع تبدیل کرنا مناسب سمجھا تھا ۔
اور میری بات پر استاد عمر دراز شفقت بھرے انداز میں مسکر ا پڑے تھے ۔
اگلے دوتین دن میں نے انھی کے ساتھ پشتو سیکھتے گزارے ۔اس کے علاوہ ہم نشانہ بازی اور مختلف سنائپررائفلز کے بارے بھی گفتگو کرتے رہتے ۔جدید رائفلز کے بارے میرا علم کافی وسیع تھا ۔استاد عمر دراز ان رائفلز کے بارے جاننے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے ۔
وہاں سے واپسی پر پھر وہی خواب گاہ اور تلخ یادیں ۔اب تو ماہین مجھے بھول ہی چکی تھی ۔اس کی جگہ لینے کے لیے روما جو موجودتھی ۔وہ بھولی بھالی کشمیری چرواہن مجھے بہت اچھی لگنے لگی تھی ۔لیکن اس نے میرے ساتھ بہت غلط سلوک کیا تھا ۔اگر اس نے پہلی ملاقات میں اپنے شادی شدہ ہونے کی بات بتا دی ہوتی تو میں کبھی بھی اسے دل میں جگہ نہ دیتا ۔لیکن اس نے مجھے دھوکا دیا ۔اور وہ راز کھولا بھی تو اس وقت جب میں اس سے شادی کرنے کا تہیہ کر چکا تھا ۔اس کے آخری الفاظ ہر وقت میرے کانوں میں گونجتے رہتے ۔
”اجنبی !....میں مر جاﺅں گی ۔یوں خفا ہو کر نہ جاﺅ ....لوٹ آنے کا وعدہ کر کے جاﺅ ۔میں اس سے طلاق لے لوں گی ۔“
”ہونہہ!....طلاق لے لوں گی ۔“میں نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا ۔”طلاق لینا تھی تو شادی کیوں کی تھی ۔“
وہ سسکی ۔”کیونکہ پہلے مجھے تم نہیں ملے تھے ۔“
”اگر اتنا یوسف ثانی ہوتا تو ماہین میرے ساتھ یوں نہ کرتی ۔“میں نے تلخ ہوتے ہوئے سوچا اور کمرے سے باہر نکل آیا ۔صحن میں ابو جان چارپائی ڈالے پھوپھو جان سے باتیں کر رہے تھے ۔وہ چولھے کے ساتھ لکڑی کی چوکی پر بیٹھی غالباََ چاے بنا رہی تھیں۔میں بھی دوسری چارپائی پر بیٹھ کر ان کی باتیں سننے لگا ۔
” کوئی نئی تازی سناﺅ خوردار!“میرے بیٹھتے ہی ابوجان میری طرف متوجہ ہو گئے۔
”میرے پاس تو وہی گھسی پٹی فوجی باتیں ہی ہوں گی ابوجان!....“
”ہونہہ!....ویسے ملک شاہ جہان کی بیٹی نے بارہ جماعتیں پڑھ لی ہیں ۔تو کیا خیال ہے ؟“ ابوجان نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
”خیال تو ٹھیک ہے لیکن شایدوہ انکار کر دے ۔“میں نے ان کی طرف جوابی مسکراہٹ اچھالی۔
”انکار کیوں کرے گا ۔“ابوجان ایک دم اٹھ بیٹھے ۔
میں نے قہقہہ لگایا۔”ساٹھ پینسٹھ سال کے بوڑھے کے لیے وہ کیسے اپنی بیس بائیس سال کی بیٹی کا رشتا دے گا ۔“
”دھت تیرے کی ۔“ابوجان ہنسے ۔پھوپھو نے بھی قہقہہ لگایا تھا ۔”میں تمھارے بارے بات کر رہا تھا ۔“
میں نے اطمینان سے کہا ۔”اور میں آپ کے بارے ۔“
”تم نہیں سدھرو گے ۔“ابوجان نے دوبارہ تکیے سے ٹیک لگالی ۔
”اچھا میں ذرا اویس سے ہو آﺅں ۔“میں گھر سے باہر آ گیا ۔اویس مجھے اپنے گھر ہی میں ملا تھا ۔ارم سے شادی کے بعد اس کی محبت اور بڑھ گئی تھی ۔اپنا فارغ وقت وہ گھر ہی میں گزارا کرتا تھا ۔ میں دل ہی دل میں دعا کرتا رہتا کہ ان کی محبت کو کسی کی نظر نہ لگے۔
ان کی بیٹھک میں بیٹھ کر ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے ۔اس دوران اس کی بیوی وہیں چاے بنا کر لے آئی تھی ۔وہ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھی ۔
”اسلام علیکم ذیشان بھائی !“
”وعلیکم اسلام !....میری چھوٹی بہن کسی ہے ؟“میں نے خوش دلی سے جواب دیا ۔
”اللہ پاک کا فضل ہے۔“چاے کے کپ ہمارے سامنے رکھ کر وہ باہر نکل گئی ۔
”سنا ہے طاہر اس سے شادی کر رہا ہے ۔“ارم کے بیٹھک سے نکلتے ہی اویس نے گویا مجھ سے تصدیق چاہی ۔
”کس سے ۔“
”ماہین سے ۔“اویس کا انداز انکشاف کرنے والا تھا ۔
”اگر ایسا ہے تو بہت اچھا ہے ۔“میں بے پرواہی سے بولا۔
”شانی تمھیں وہ بہت پسند تھی نا ؟“اویس نے دکھی لہجے میں پوچھا ۔
”شکر ہے تم نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ۔“
”کیا مطلب ؟“اویس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”مطلب یہ کہ وہ مجھے پسند تھی ۔ہے نہیں اور اللہ پاک کا شکر کہ میرے سامنے اس کی اصلیت کھل گئی ۔ورنہ بچہ ،بچی ہونے کے بعد یہ راز کھلتا تو خود سوچو میں نے کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو جانا تھا ۔“
”صحیح کہتے ہوئے ۔“وہ اپنا کپ اٹھا کر چاے پینے لگا ۔
ہفتے بھر بعد ہی اویس کی بات کی تصدیق ہو گئی تھی ۔ماہین کے باپ حشمت چاچا نے ہمارے گھر آ کر مجھ سے اجازت مانگی تھی ۔
”بیٹا !....اگر تمھیں برا نہ لگے تو طاہر کے گھر والے ماہین کا رشتا مانگ رہے ہیں ۔“
”حشمت چچا !....میرا آپ کی بیٹی سے کیا واسطہ؟اور پھر جو کچھ ان دونوں کے درمیان تعلق رہ چکا ہے اس کے بعد ان کی شادی کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے ۔“
”بیٹا !....میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں ۔“چچا حشمت کے لہجے میں ندامت تھی ۔
”چچا جان !....آپ کا شرمندہ ہونا تب بنتا تھا جب وہ شادی سے پہلے ایسی کوئی حرکت کرتی۔ شادی کے بعد مرد و عورت اپنے عمل کے خود جواب دہ ہوتے ہیں ۔آپ میرے بڑے ہیں اور خدارا یوں ندامت ظاہر کر کے مجھے شرمندہ نہ کیا کریں ۔“
”جیتے رہو بیٹا !“چچا حشمت میرے سر پر ہاتھ پھیر کر واپس لوٹ گئے ۔
مہینا گزار کر میں نے یونٹ کی راہ لی ۔راﺅ تصور صاحب اور حوالدار فیاض واپس آ گئے تھے ۔ وہ دونوں وزیرستان میں بہ طور انسٹرکٹرز گئے تھے ۔البتہ سردار خان، اسدخٹک وغیرہ جو سنائپنگ کے لیے گئے تھے ان کی واپسی کا کوئی پتا نہیں تھا ۔
مجھے چھٹی سے واپس آئے ہفتہ ہونے کو تھا کہ ایک دن شام کے وقت مجھے حکم ملا کہ صبح میں نے پشتوزبان سیکھنے کی کلاس میں شامل ہونا ہے ۔
مجھے حیرانی تو کافی ہوئی مگر فوج کی زندگی میں اس سے بھی کئی گنا عجیب احکام ملتے رہتے ہیں۔
اگلے دن کلاس شروع ہونا تھی ۔اور حیرانی کی بات یہ تھی کہ پڑھانے والے دو تھے اور پڑھنے والا میں اکیلا ۔مجھے پڑھانے کے لیے اپنی یونٹ ہی کے دو پٹھانوں کا انتخاب ہوا تھا ۔کلاس کیا تھی بس پشتو زبان کا سیکھنا تھا جو پہلے بھی تھوڑی بہت جانتا تھا ۔سارا دن ہم پشتو میں گپیں کرتے رہے ۔اس دوران مجھے جس لفظ کی سمجھ نہ آتی میں ان دونوں سے پوچھ لیتا ۔یوں بھی مجھے پشتو کی گرائمر نہیں سیکھنا تھی ۔
اسی دن رات کو آٹھ بجے مجھے یونٹ سیکنڈ ان کمانڈ میجر وسیم کے دفتر حاضر ہونے کا حکم ملا ۔اس کے اردلی کو کہہ کر میں نے اندر جانے کی اجازت مانگی وہ میرا ہی منتظر تھا ۔
”آﺅ ذیشان!.... بیٹھو ۔“اس نے سامنے پڑی کرسی کی جانب اشارہ کیا ۔میں مودّبانہ انداز میں کرسی پر بیٹھ گیا ۔
”آج پشتو زبان سیکھنے کی کلاس اٹینڈ کی تھی ۔“اپنی گھومنے والی کرسی سے ٹیک لگا کر اس نے تمہید باندھی ۔
”جی سر !....“
”تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ تمھارے کچھ ساتھ وزیرستان میں پاک آرمی کی مختلف کانوائیوں کے ساتھ چل رہے ہیں ۔“
”جی سر !“میں نے لگا بندھا جواب دہرایا۔
”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ اپنے کام کو کچھ خاص بہتر طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے ۔اور اس کی وجہ ظاہر ہے ۔گاڑی پر بیٹھ کر پہلے سے چھپے ہوئے دشمن کے سنائپرز کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیںہوتااور یہ بات ہائی کمانڈ کی نظر سے بھی اوجھل نہیں ہے ۔تم جانتے ہو گے کہ وزیرستان میں اپنی فوج قلعہ بند ہے ۔حرکت کرتے وقت یا کسی علاقے کی تلاشی لینے کے علاوہ کسی کو کیمپ سے باہر رہنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔جبکہ دہشت گرد اطمینان سے دندناتے پھر رہے ہیں ۔اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے سنائپرز کو بھی کیمپ سے باہر جانا ہوگا ۔طالبان کے کئی دھڑے ہیں۔لیکن انھیں ہم بنیادی طور پر دو بڑے گروپوں میں بانٹ سکتے ہیں ۔پہلا گروپ اصل طالبان یا مجاہد ہیں ۔اور وہ امریکہ کے خلاف افغانستان میں برسرِ پیکا ر ہیں۔دوسرا گروپ جو کئی گروپوں کا مجموعہ ہے اس میں مقامی لوگ ہیں جو ایجنسیوں سے پیسے لے کر پاک آرمی پر حملے کرتے ہیں ،باہر کی کئی ایجنسیاں جیسے ،را،موساد ،فری میسن اور کے جی بی وغیرہ کے تربیت یافتہ دہشت گرد ہیں ،کچھ اپنے پنجاب کے علاقے سے خریدے گئے دہشت گرد ہیں۔ یہ سب ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہیں ۔لیکن ان کے کام تقریباََ ایک سے ہیں ۔پاک آرمی پر چھپ کر حملے کرنا ،سنائپنگ کرنا ،آرمی کے قافلوں کے رستے پرآئی ای ڈیز وغیرہ لگانااور ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنا ۔“وہ ایک لمحے کے لیے سانس لینے کو رکا اور پھر اس کی بات جاری رہی ۔
” سردار خان، اسدخٹک ،بشیر حیدر ،عصمت اللہ جان اور سہیل مروت کوجلد ہی کیمپ سے باہر رہنے کے احکام مل جائیں گے ۔یوں بھی وہ پانچوں پختون ہیں اس لیے انھیں پشتو کلاس کی ضرورت ہی نہیںہے۔ان سے سروس کارڈ وغیرہ بھی جمع ہو جائیں گے اور وہ مکمل طور پر سول کی طرح کام کریں گے ۔طریقہ وہی ہوگاجو سنائپرز کا خاصہ ہوتا ہے وہ جوڑیوں یعنی بڈی سسٹم میں کام کریں گے ۔ میر علی ،بکا خیل ،میرن شاہ، دتہ خیل ،غرلامئے ،اور اس سے ملحقہ علاقے ان کے دائرہ کار میں آئیں گے ۔ تمھیں ایک مہینے بعد وانہ ،شکئی ،شوال وادی اور انگور اڈے کی طرف جانا پڑے گا۔وہاں پر فوجی قافلوں پر بہت زیادہ حملے ہو رہے ہیں ۔اور اس طرف آپریشن کی تقریباََ شروعات ہے ۔ا ب تم یہ بھی سوچو گے کہ تمھیں پشتو سکھانے کی کیا ضرورت آن پڑی جبکہ وہاں دوسری زبانوں کے جاننے والے بھی موجود ہیں ۔“اس نے جو نکتہ اٹھایا تھا وہی بات میرے دماغ میں پیدا ہوئی تھی ۔چونکہ وہ خود ہی اس سوال کا جواب دینے والا تھا اس لیے میں خاموشی سے اس کی سنتا رہا ۔”اصل میں کمانڈنگ آفیسر نہیں چاہتا کہ تم پشتو نہ جاننے کی وجہ سے مار کھا جاﺅ ۔اور کوئی آدمی تمھارے سامنے ہی تمھارے خلاف منصوبہ بندی کرتا رہے اور تمھیں معلو م ہی نہ ہو ۔تم پر وہ بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں ۔تمھیں وہاں کافی عرصہ گزارنا پڑے گا کچھ اور ضروری باتیں بھی ہیں جو تمھیں بعد میں بتائی جائیں گی فی الحال ان پانچوں میں سے تم اپنی پسند کا ایک ساتھی چن لو اسے کل ہی واپس بلا لیا جائے گا ۔بلکہ میرا خیال ہے سردار ہی کو بلوا لوں ۔“آخری فقرہ انھوں نے مسکرا کر کہا تھا ۔
”جی سر !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”کوئی سوال ؟“اس نے گویا اپنی بات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔
”سوال جواب کے لیے مہینا پڑا ہے سر !“
”انتیس دن ۔“اس نے میری تصحیح کرتے ہوئے مجھے جانے کا اشارہ کیا ۔
اور میں ۔”اسلام علیکم سر !“کہتے ہوئے باہر آ گیا ۔
جاری ہے
 

دودن بعد سردار واپس آ گیا تھا ۔اسے ابھی تک یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اسے کیوں واپس بلایا گیا تھا ۔
”یار ! ....اسد خٹک اور سہیل مروت پارٹی مجھ سے اچھے سنائپر تو نہیں ہیں ۔“رسمی کلمات کے اختتام پر اس نے شکوہ داغا ۔
میں نے اسے چڑاتے ہوئے کہا ۔”یہی بات میں نے بھی میجر وسیم کو کہی تھی مگر اس کی نظر میں تو تم نکمے ترین سنائپر ہو ۔“
”یہ تو خیر جھوٹ ہے ۔لیکن مجھے واپس نہیں بلانا چاہیے تھا ۔“
”اچھا یار !....اب تو واپس آ گئے ہو چھوڑو اس قصے کو ۔“
”سنا ہے تم دوبارہ سرحد پار گئے تھے ۔“
”ہاں گیا تو تھا ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔
”تو کیا رہا ؟“اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔
میں نے منہ بنایا”اگر تمھارے سامنے زندہ موجود ہوں تو یقینا کامیاب ہی لوٹا ہوں ۔“
”مکالمہ بازی نہیں چلے گی محترم !....پوری کہانی پھوٹو ۔“
اور میں نے ہنستے ہوئے اجمالاََ ساری کہانی سنا دی ۔سردار کے ساتھ میرے تعلقات اس نوعیت کے تھے کہ میں نے روما کا بھی سرسری سا ذکر کر دیا تھا ۔
”باقی سب تو ٹھیک ہے یہ کشمیری چرواہن والی بات ذرا پھر سے دہراﺅ اور اس میں جو جو باتیں حذف کی ہیں اب کی بار وہ بھی شامل کرنا ۔“
میں چڑ کر بولا ۔”بکواس نہ کرو یا ر!“
”اچھا اس کا نام تھا رومانہ ....ویسے دکھنے میں کیسی تھی ؟کیاکیپٹن جینیفر سے خوب صورت تھی۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا ۔”ہاں بس لی زونا جیسی شکل تھی ۔“
”یہ ظلم نہ کرو جانی !“وہ افسردہ ہو گیا تھا ۔”خدا کی قسم سو سے زیادہ مرتبہ خواب میں آ چکی ہے۔“
میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔”کہتی کیا ہے ؟“
”جاپانی زبان مجھے خاک سمجھ میں آتی ہے ۔“اس نے منہ بنا کر کہا اور مجھے ہنسی چھوٹ گئی ۔
”اچھا چھوڑو ان فضول باتوں کو کام کی بات سنو،تمھیں میرے ساتھ کام کرنے کے لیے بلایا گیا ہے ۔ایک ماہ بعد ہم دو ونوں نے وانہ کا رخ کرنا ہے اور........“میں نے ٹو آئی سی کی ساری باتیں اس کے سامنے دہرا دی تھیں ۔
”سچ کہہ ررہے ہو ۔“اس نے بے یقینی سے پوچھا ۔
”سو فیصد سچ ۔“
”مطلب ا ب مزہ آئے گا ۔“وہ کھل اٹھا تھا ۔
٭٭٭
سردار کی آمد کے دوسرے دن میں کلاس کے بعد ٹو آئی سی میجر وسیم کے دفتر میں کھڑا تھا ۔
”جی ذیشان !....“میرے سیلوٹ کے جواب میں وہ خفیف سا سر ہلاتے ہوئے پوچھنے لگے۔
”سر!....میں پشتو سیکھنے کے لیے پٹھانوں کے کسی علاقے میں جا کر پندرہ بیس دن گزارنا چاہتا ہوں ۔“
وہ ہنسا ۔”ابھی تو مہینا چھٹی کاٹ کر آئے ہو یا ر!“
”سر !....میں نے پٹھانوں کے علاقے کی بات کی ہے ۔“
”گویا سردار خان کو چھٹی کٹوانے کا ارادہ ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”چھٹی تو اس کی یوں بھی بنتی ہے ۔وہ آپریشن کے علاقے سے براہ راست یونٹ واپس پہنچا ہے ۔“
”ہونہہ!....اس کی چھٹی کی بات تو اس کے سینئر کو کرنا چاہیے ۔“
”میں اس کی چھٹی نہیں اپنی کلاس کی بات کرنے آیا ہوں سر !“
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”لیکن واپسی پر میں خود تمھارا امتحان لوں گا ۔“
”ٹھیک ہے سر!“میں نے اثبات میں سر ہلا کر الوداعی سیلوٹ کیا اور اس کے دفتر سے باہر نکل آیا ۔
اسی دن سہ پہر ڈھلے میں اور سردار گاڑی میں بیٹھے اس کے گاﺅں کی طرف روانہ تھے ۔اس کا تعلق مرادن سے ہے ۔ایک رات اس کے پاس گزار کر اگلے دن میں صوابی چلا گیا ۔گو سردار نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن میں نے سختی سے انکار کر دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری وجہ سے وہ اپنے بچوں کو صحیح وقت نہ دے پاتا ۔وہاں سے میں سیدھا استاد عمر دراز کے پاس پہنچا ۔باقی کے چودہ دن میں نے استاد عمردراز کے پاس ہی گزارے وہاں قیام کے دوران میں مسلسل پشتو میں بات کرتا رہا ۔الحمداللہ میری یاداشت کافی تیز ہے اور پھر استاد عمر دراز کے سکھانے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ میں ٹھیک ٹھاک پشتو بولنے لگا ۔سردار کی آمد کے اگلے دن ہم دونوں صبح سویرے استاد عمر دراز سے اجازت لے کر روانہ ہوئے ۔ دوپہر کا کھانا ہم نے میرے گھر میں کھایا اور سہ پہر ڈھلے وہاں سے یونٹ روانہ ہو گئے ۔یونٹ پہنچنے کے تیسرے دن میجر وسیم نے ہمیں رات کے وقت کانفرنس روم میں بلایااور بڑی تفصیل سے اس علاقے کے بارے بتانے لگا ۔
”جو کچھ میں بتا رہاہوں اسے غور سے سننا اور اچھی طرح دماغ میں بٹھا لینا ۔تم دونوں جس علاقے میں جا رہے ہومجھے نہیں معلوم کے اس بارے تم کتناکچھ جانتے ہو ۔لیکن سینئر ہونے کے ناتے تمھیں اس علاقے کے بارے بنیادی معلومات فراہم کرنا میرا کام بنتا ہے ۔ فاٹا کی دو حدود ہیں، ایک انتظامی حد جو کہ پرسکون تحصیلوں کو قبائلی علاقے سے علاحدہ کرتی ہے اور دوسری پاک افغان سرحد جو کہ پاکستان کو افغانستان سے علاحدہ کرتی ہے۔ دونوں سرحدوں کا درمیانی علاقہ سات ایجنسیوں ،باجوڑ ، مہمند ، خیبر ،کرم، اور کزئی ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایجنسیپر مشتمل ہے ۔ ان سے متّصل کچھ مخصوص علاقے جو کہ پشاور کے ساتھ ملحق ہیں۔ کوہاٹ، بنوں ، لکی مروت،ٹانک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان ہیں۔ یہ عموماً فرنٹیر ریجن (FR)یعنی سرحدی علاقہ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔سات ایجنسیاں اور FR کو فاٹا کہا جاتا ہے ۔ FATAصوبہ سرحد کی تقریباً 20 فیصد آبادی اور37فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ان میں سرحدی علاقوں کو چھوڑ کر باقی تمام مکمل پہاڑی علاقہ ہے ۔ قبائلی علاقے اور افغانستان کے درمیان بے شمار درے ہیں ۔آپ لوگوں نے چونکہ وزیرستا ن میں کام کرنا ہے اس لیے میں باقی تفصیل چھوڑ کرصرف وزیرستان کے بارے بات کروں گا ۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وزیرستان دو ہیں ایک شمالی اور دوسرا جنوبی ۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کی آبادی قریباََ اڑھائی لاکھ نفوس پر مشتمل ہو گی اس میں وزیراور داوڑ رہتے ہیں ۔ ایجنسی ہیڈ کوارٹر میران شاہ میں ہے۔ ٹوچی دریا ایجنسی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ۔کچھ اہم جگہیں اور مواصلاتی مراکز میں میرانشاہ دتہ خیل لاﺅدہ سنڈی غلام خان اور رزمک ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی آبادی قریباََپانچ لاکھ ہو گی ۔ایجنسی ہیڈکواٹر وانہ میں ہے ایجنسی کا دوسرا ہیڈ کوارٹر ضلع ٹانک میں ہے ۔وہاں زیادہ تر محسود قبائل رہتے ہیں۔ آبادی کا تین چوتھائی حصہ محسود قبائل ہیں۔ اور باقی وزیر قبائل ہیں جنوبی وزیرستان میں محسود اور وزیرقوم کے درمیان کچھ مسئلے چل رہے ہیں ۔ اور یاد رہے کہ وزیرستان میں دو بڑی قومیں وزیر اور محسود کی ہے اور باقی چھوٹی قومیں انھی دو قوموں کی مختلف شاخیں ہیں۔ موجودہ نظام کے مطابق سرکاری املاک ، سڑکیں اور کچھ بندوبستی علاقہ چھوڑ کر باقی کا تمام علاقہ قبائلی معاشرے کے لوگ اپنے رسوم و رواج کے مطابق اس کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ علاقے کا بیک وقت سفیر بھی ہوتا ہے اور حاکم بھی ہوتا ہے یہ مجسٹریٹ بھی ہوتا ہے پولیس کا سربراہ بھی ہوتا ہے صحت اور تعلیم کا امیداوار بھی ہوتا ہے اور چیف انجینئر بھی ہوتا ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ کو تمام قبیلوں کا اعتمادلے کر چلنا ہوتا ہے اور اپنی وفاداری اور سچائی کا یقین دلانا ہوتا ہے۔ انتظامی لحاظ سے پولیٹیکل ایجنٹ کے ماتحت اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ تحصیل دار اور نائب تحصیلدار ہوتے ہیں۔ پولیس کی خدمات خاصہ داروں سے لی جاتی ہیں جو کہ علاقے کے مَلک فراہم کرتے ہیں۔وزیرستان میں جرگہ سسٹم رائج ہے ۔جرگے سے مراد کچھ قبائلی سرداروں کا کسی مسئلے پر غور کرنے کیلئے اکھٹا ہونا ہے۔ اس مسائل میں چاہے کسی کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہو یا کسی کے ساتھ امن صلح کرنا ہو یہ قبائلی علاقوں کی قدیم روایات میں سے ایک اہم جز ہے جس میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔ معاملات چاہے ذاتی توعیت کے ہوںیا معاشرتی ہوں تمام کے تمام اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ جرگے کو عدلیہ، مقننہ اور انتظامی خود مختاری حاصل ہے اور انھیںاختیار ہے چاہے کسی کو سزا دیں یا جزا دیں۔ الغرض جرگہ ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں اس پر ہر علاقے میں اٹھنے والے تمام طوفانوںسے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ہے۔ جرگہ ہی حکومت کے ساتھ معاملات کو حل کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں ملکی سسٹم بھی رائج ہے کہ ہر قبیلے کا ایک روایتی سردار ہوتا ہے جو اپنے قبیلے کی نمائندگی کرتا ہے ان کے مسائل کو حل کرتا ہے اسے حکومت اور قبائلی معاشرے میں انتہائی عزت حاصل ہے ان سرداروں کو مَلک کہا جاتا ہے ان سب کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا ہے جن کو ملکی وظیفہ کہا جاتا ہے ۔ اور یہ موروثی نظام کے تحت اگلے وارث کو منتقل ہوتا جاتا ہے ہے ملک کا حکومت اور قبیلے کے درمیان خلیج کو دور کرنے میں اہم کردار ہے۔ پھر ایک سسٹم نکات کا ہے ۔نکات لفظ نکہ سے نکلا ہے۔ جس کے لغوی معنی دادا کے ہیں ۔نکات سسٹم قبائلی روایات کاا ہم ترین جزو ہے اس سے مراد نفع و نقصان کی بنیاد پر قبائل اور خاندانوں کے مابین آمدن کی تقسیم کا نظام ہے ۔ یہ نظام بھی موروثی ہے اس نظام کے تحت حکومتی مراعات کی تقسیم ، جرمان کا اکھٹا کرنا اور کسی بھی تصفیے کے حل کرنے کیلئے چندہ اکھٹا کرناہے۔ تمام تعمیراتی منصوبوں کی اس نظام کے تحت تقسیم کی جاتی ہے۔ وزیرستان کا مکمل علاقہ مختلف قبائل کی ملکیت ہے اس لیے کوئی بھی قبیلہ یا قوم اپنے علاقے میں ہونے والے کسی بھی جرم یا بدسلوکی کی ذمہ دار ہے چاہے یہ عمل اس علاقے کے مقامی شخص نے کیا ہو یا کسی خارجی شخص نے کیا ہو اصطلاحاً وہ انھی کی ذمہ داری ہے ۔
اسی طرح کسی بھی بااثر شخص کو حکومت کے ساتھ مخلص ہونے پر یا پھر کوئی خدمات سرانجام دینے پر لنگی یا پگڑ کا تحفہ دیا جاتا ہے ۔ انہیں لنگی بردار کہتے ہیں۔ لنگی بردار کا بھی کچھ وظیفہ مقرر کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ ملکی نظام کی طرح موروثی نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خاصہ داری نظام کو قبائلی معاشرے میں ایک ادارے کی حیثیت حاصل ہے جو کہ ملکی نظام کے ماتحت کام کرتا ہے۔ خاصہ داری نظام کی ذمہ داری ہے کہ علاقے میں نظم و نسق برقرار رکھا جائے اور گزر گاہوں کی رکھوالی کو ہر طرح ممکن بنایا جائے اسی لئے اسے مجموعی قبائلی ذمہ داری برائے تحفظ کا نام دیا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرے میں لشکر کو طاقت کا سرچشمہ تصور کیا جاتا ہے۔ لشکر کی تعداد چند درجن سے لے کر ہزاروں تک ہو سکتی ہے۔ پولیٹیکل ایجنٹ بسا اوقات ملک کے لشکر کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔ “وہ ایک لمحہ سانس لینے کو رکا پھر اس کی بات جاری رہی ۔
”یاد رہے ،قبائلی معاشرہ ایک تنگ نظر معاشرہ ہے تاہم مذہبی اقدار کا پاس بری سنجیدگی سے کیا جاتا ہے۔ قبائلی معاشرے نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے کچھ ساختہ اسلوب مرتب کیے ہیں ۔ انصاف کا نظام جرگہ اور بدل کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے جو کہ صدیوں پرانی رسوم و روایات سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ جرگے کی وجہ سے پولیٹیکل انتظامیہ کا کردار علاقے میں انتہائی محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔قبائلی علاقے کے لوگ جنگ جواور انتہائی مہمان نواز ہیں تاہم اگر کوئی ان کی روایت کی پاس داری نہ کرے تو یہ جانی دشمن بن جاتے ہیں ۔وہ انتہائی سخت گیر نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور موروثی، خونی لڑائیوں کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ۔ ہر کوئی اپنی نو عمری ہی سے ذاتی بچاﺅ اور نشانہ بازی کے رموز میں مہارت حاصل کرتا ہے۔ ان لوگوں میں پہل پن کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ اور وہ دشمن کی کمزوری سے بہ خوبی فائدہ اٹھانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے لوگ گوریلا کاروائیوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ افواج پاکستان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھتے ہیں اورخود ان کے بارے میں مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔کیونکہ وہ انتہائی چالاک لوگ ہیں۔ اسی لئے وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں۔ قبائلی علاقے کے لوگوں کے بہت سے روپ ہوتے ہیں اس لئے ان کی شناخت نہایت ضروری ہے۔روایتی طور پروہ لوگ چھوٹی چھوٹی جنگی کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔ جن میں خاص طور پر چھاپہ ،گھات شامل ہیں ۔اس کے ساتھ وہ اچھے نشانہ باز ہوتے ہیں اس لیے کلاشن کوف ہی کو سنائپر رائفل کی جگہ استعمال کرتے ہیں ۔ان لوگوں میں گھل مل کر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ تمھیں ان لوگوں کی اچھی بری عادات کے بارے مکمل علم ہو ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ذہن میں رہے کہ وہاں آپ لوگوں کا پالا صرف قبائلیوں سے نہیں پڑے گا ۔بلکہ وہاں پر ہر علاقے کے آدمی تمھیں نظر آئیں گے ۔ مجاہدین کے روپ میں دہشت گرد اور ایجنسیوں کے آدمی ملیں گے تو مَلکوں اور سرداروں کے روپ میں غنڈے۔باہر ممالک جیسے سعودی عرب وغیرہ کے بھی مجاہد امریکہ سے برسر پیکار ہیں ۔سب سے بڑا مسئلہ مجاہد اور دہشت گرد کی پہچان ہے جسے انڈیا ،اسرائیل اور امریکہ وغیرہ کی ایجنسیوں اور بھی مشکل بنا دیا ہے ۔اس وجہ سے آرمی کو وہاں کام کرنے میں کافی مشکل پیش آ رہی ہے ۔اس بارے آرمی کالائحہ عمل تو بہت وسیع ہے جس کے بارے بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ البتہ اس لائحہ عمل کا ایک جز وہاں اپنے آدمیوں کو سول لوگوں کے روپ میں بھیجنا بھی ہے ۔اس ضمن میں آرمی نے کچھ تو سول لوگوں ہی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے ایسے لوگ جو کہ اسلام اور وطن سے محبت رکھتے ہیں ۔باقی تم جیسے خصوصی ایجنٹ وہاں بھیجے جا رہے ہیں ۔اور تم لوگوں کا کام بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔وہاں جو بڑے بڑے گروپ سر گرم عمل ہیں ان میں حقانی گروپ ،حافظ گل بہادر گروپ............“وہ تفصیل سے گروپوں کے بارے بتانے لگا ۔وہ بریفنگ کئی گھنٹوں پر مشتمل تھی ۔رات کے دو بجے جا کر ہمیں رخصت ملی اور اس کے بعد یونٹ سے رخصت ہونے تک روزانہ بلاوا آ جاتا اور ہمیں بوریت بھری مفید معلومات سے بہرہ مند ہونا پڑتا ۔
ہم دونوں کو جو بنیادی کام ملا وہ دشمن کے سنائپرز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں موجود ایسے مقامی اور بااثر افراد کا خاتمہ تھا جو درپردہ غیر ملکی ایجنسیوں کے پٹھو تھے ۔اس کے ساتھ ہمیں یہ ہدایات بھی مل گئی تھیں کہ وہاں ون الفا نامی ایک سینئر ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہونا تھا ۔ہمیں بغیر اشد ضرورت کے کسی سرکاری فرد سے رابطہ نہ کرنے کی تاکید کی گئی تھی ۔کیونکہ ہمارا بھانڈا پھوٹ جانے کی صورت میں ہم درد ناک موت کا شکار بھی ہو سکتے تھے ۔البتہ بہ حالت مجبوری آرمی سے رابطہ کرنے کی صورت میں ایک مخصوص پاس ورڈ بتا دیا گیا تھا، جو اس علاقے میں کام کرنے والی یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسرز ہی جانتے تھے ۔اس کے ساتھ ہمیں نہ تو اپنا سروس کارڈ ساتھ لے جانے کی اجازت تھی اور نہ کسی ہتھیارہی کو ہم ساتھ لے جا سکتے تھے ۔ کیونکہ آرمی کے ہتھیار وں پر مخصوص نمبر کندہ ہوتے ہیں۔ ہتھیار خریدنے اور دوسری ضروریات کے لیے ہمارے اکاﺅنٹس میں اچھی خاصی رقم ٹرانسفر کر دی گئی تھی ۔ ہمیں رخصت کرتے وقت میجر وسیم کے آخری الفاظ یہ تھے ۔
” یوں سمجھو کہ تم دونوں پاکستان میں نہیں بلکہ کسی دشمن ملک میں جا رہے ہو ۔کچھ مخصوص بندوں کے بارے میں نے تمھیں بتا دیا ہے ۔لیکن یہ یاد رکھنا وہ سول ہیں وہ تمھیں دھوکا بھی دے سکتے ہیں ۔بہت زیادہ محتاط رہنا ۔باقی تمھارے اکاﺅنٹس میں منتقل کی گئی رقم کا مصرف صرف اور صرف تم دونوں کا مشن ہے ۔یہاں تک کہ وہاں سے چھٹی آتے وقت کرایہ بھی تم اپنے ذاتی پیسوں سے ادا کرو گے۔باقی وہاں ون الفا تمھاری بہترین رہنمائی کے لیے موجودہو گا ۔امید ہے میری بات تم دونوں کی سمجھ میں آ گئی ہو گی ۔“
”جی سر !“بیک زبان کہتے ہوئے ہم نے اثبات میں سر ہلاد یے ۔
”کوئی سوال ؟“
”نو سر !“
”اللہ کے حوالے ۔“اس نے کھڑے ہوتے ہوئے الوداعی معانقے کے لیے بازو پھیلا دیے۔
٭٭٭
یونٹ سے رخصت ہوتے وقت ہمیں پانچ پانچ دن کی چھٹی ملی تھی اس کے بعد ہم نے اپنے مشن پر روانہ ہونا تھا ۔جب سے مجھے وزیرستان جانے کی بابت پتا چلا تھا میں نے بال کٹوانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وزیر اور محسود قوم کے مردوں کے بال بھی عورتوں کی طرح بڑے بڑے ہی ہوتے ہیں ۔ویسے تو ایک مخصوص حد تک بڑے بال نبی پاک ﷺ کی مبارک سنت بھی ہے ۔لیکن وزیر اور محسود یہ بال شاید ہی سنت سمجھ کر بڑھاتے ہوں ۔وہ تو بس اپنی ثقافت جان کر ایسا کرتے ہیں ۔واپسی کے دن ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں اکٹھا ہونا طے کیاتھا ۔میں صبح ناشتے کے بعد پھوپھو جان اور ابو جان سے الوداع ہو کر گھر سے نکل آیا،دن کے ایک بجے تک میں ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گیا تھا ۔سردار کے آنے تک میں ویگن اڈے میں موجود ایک سستے ہوٹل کے سامنے دھری چارپائی پر بیٹھا رہا ۔ وہ اڑھائی بجے کے قریب وہاں پہنچا تھا ۔ ویپن خریدنے کے لیے ہم نے اپنے اکاﺅنٹس سے دو دو لاکھ کے قریب رقم پہلے سے نکلوائی ہوئی تھی ۔وانہ جانے کے لیے اس اڈے سے کوئی گاڑی نہیں مل رہی تھی ۔ پوچھنے پر ہماری ایک اور بس اڈے کی طرف رہنمائی کر دی گئی ۔رکشے میں بیٹھ کر ہم مطلوبہ بس اڈے میں پہنچ گئے ۔رستے میں البتہ ہم نے کچھ ضروری خریداری بھی کر لی تھی ۔جس میں میں دو سلپنگ بیگ اور گرم چادریں اوراور گرم کوٹ وغیرہ شامل تھے ۔ وانہ جانے کے لیے ہمیں ویگن مل گئی تھی ۔ہم رات کو کہیں آٹھ نو بجے ہی وانہ پہنچ پائے تھے ۔
ایک مناسب سے ہوٹل میں کمرہ لے کر ہم نے شب باشی کا بندوبست کیا ۔
”سردار صاحب !....اب سناﺅ کیا ارادے ہیں ؟“چارپائی سنبھالتے ہی میں نے سردار کو پشتو میں مخاطب ہوا ۔اب میں اچھی خاصی روانی سے پشتو بول لیتا تھا ۔
”فی الحال تو آرام کرنا ہے بہت تھک گیا ہوں ،صبح ہی اسلحہ وغیرہ کی خریداری ہو سکے گی ۔“ اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
”اچھا مشورہ ہے ۔“میں نے اس کی تائید کرنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا تھا ۔
صبح نو دس بجے ہم وانہ میں موجود مخصوص آدمی کے حجرے میں موجو دتھے ۔اسے اپنی پہچان کراتے ہوئے ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آ ئی تھی ۔
”قہوے سے ہماری تواضع کرنے بعد وہ سیدھا مدعا پر آ گیا ۔”جی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“
”ہمیں اسلحہ درکار ہے ۔“سردار نے جواب دیا ۔
”کون کون سا ؟“
”ایک کلاشن کوف ،ایک تیس بور پستول ، ایک ڈریگنوو رائفل اور آئی کام سیٹ ۔“اس مرتبہ بھی اسے جواب دینے والا سردار ہی تھا ۔چونکہ ہم نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ کون کون سا ہتھیار اور سامان خریدنا ہے اس لیے اس نے بغیر لمحہ ضائع کیے بتا دیا تھا ۔
”ہونہہ!....مل جائے گا ۔اور کچھ ؟“
”نہیں بس یہی کافی ہے ۔“سردار کو اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کرمیں نے نفی میں سر ہلادیا ۔
”چلو پھر یہ تو ابھی خرید لیتے ہیں ۔“
تھوڑی دیر بعد ہم ایک دوسرے آدمی کے گھر میں موجود تھے ۔بیٹھک کے ساتھ اس نے ایک کمرہ ایسا بنایا ہوا تھا جدھر کافی مقدار میں اسلحہ موجود تھا ۔ہمارے میزبان قرار خان سے اس کی اچھی واقفیت تھی اس لیے بغیر کسی پوچھ گچھ کے وہ ہمیں سیدھا اپنے اسلحہ خانے میں لے گیا ۔روسی ساخت کی کلاشن کوف جس کی بیرل قلم نما ترشی ہوتی ہے سردار نے اپنے لیے پسند کی تھی ۔میں نے ڈریگنوو رائفل اور درے کا بنا ہوا تیس بورپستول خرید لیا ۔اس کا سائیلنسر بھی میں نے مانگا مگر ان کے پاس سائیلنسر موجود نہیں تھا ۔ڈریگنوو رائفل کے میں نے سو راﺅنڈ بھی خرید لیے تھے ۔آئی کام سیٹ خریدنے کے لیے ہمیں بازار کا رخ کرنا پڑا ۔ایک سیٹ ،ایک فالتو بیٹری اور ایک چارجر خرید کر ہم قرار خان کا شکریہ ادا کر کے اسی ہوٹل میں آ گئے جہاں ہم نے رات گزاری تھی ۔ایک اور رات وہیں گزار کر ہم اگلے دن وانہ سے آگے بڑھ گئے۔ ہماری منزل شکئی کا شہر تھا جو وانہ سے قریباََ تیس پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پرہے ۔
آرمی قافلے کی حرکت کے بارے ہمیں ایک مخصوص شخص سے پتا چلنا تھا ۔روزانہ رات کے نو بجے کے بعد صبح طلوع آفتا ب سے پہلے تم ہم چینل نو پر اس سے رابطہ قائم کر سکتے تھے ۔
شکئی ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔وہاں ٹھہرنے کے بجائے ہم نے مضافات میں نکل جانا مناسب سمجھا ۔وزیرستان میں ہر طرف چھوٹی چھوٹی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں ۔پہاڑوں کی وادیوں میں اونچی ڈھلانوں پر نالوں کے کناروں پر اور جنگلات میں ۔کہیں تو فقط تین چار گھر وں کی آبادی ہے تو کہیں پچاس ،ساٹھ اور سو اور دو سو گھرانوں کی آبادی ہے ۔دہشت گردوں کے اڈے زیادہ تر پہاڑیوں کی بلندیوں پر بنے ہوئے تھے ۔پہاڑیوں میں موجود بڑے بڑے غار انھیں چھپنے میں مدد دیتے تھے ۔جہاد کا جذبہ رکھنے والے اصل مجاہدوں کے ٹھکانے بھی ایسی ہی جگہوں پر بنے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ آبادیوں میں بھی گھر لے کر وہ لوگ رہائش پذیر تھے ۔ہر آبادی کا ایک بڑا ہوتا ہے ،جسے ملک یا مشر کہتے ہیں ۔
ہم دونوں پیدل ہی ایک جانب روانہ تھے ۔دوپہر کا کھانا ہم نے خرید کر پاس رکھا ہوا تھا ۔ ایک مناسب جگہ بیٹھ کر ہم نے پیٹ پوجا کی اور پھر چل پڑے ۔دو تین ڈبل کیبن جیپیں ہمارے پاس سے گزریں مگر ہم لفٹ مانگے بغیرچلتے رہے ۔سہ پہر ڈھلے ہم ایک چھوٹی آبادی کے قریب سے گزرے کچی سڑک سے وہ آبادی کوئی سو دو گز بلندہموار جگہ پربنی ہوئی تھی ۔سڑک کنارے ایک شخص گدھے پرلکڑیاں لادے جا رہا تھا ۔اس کا رخ آبادی ہی کی جانب تھا ۔وہ سڑک کے دائیں جانب موجود جنگل سے برآمد ہوکر ہمارے آگے آگے چلنے لگا تھا ۔
سردارقدم بڑھا کر اس کے قریب ہوتے ہوئے مخاطب ہوا ۔”بھائی صاحب !....رات گزارنے کی کوئی جگہ مل جائے گی ۔“
”کیوں نہیں ۔“وہ خوش دلی سے بولا ۔”چلو میرے ساتھ ۔“
ہم ۔”جزاک اللہ ۔“کہہ کر اس کی معیت میں چل پڑے ۔
وہ پوچھنے لگا ۔”کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟“
”شوال وادی ۔“اس بار بھی جواب سردار ہی نے دیا تھا ۔
”ویسے یہاں سے شوال وادی تک کتنا فاصلہ ہو گا ؟“ اس کے مزید سوالات سے بچنے کے لیے میں اس سے پوچھنے لگا ۔
لمحہ بھر سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا ۔”فاصلے کے بارے تو وضاحت نہیں کر سکتا البتہ پیدل جاتے ہوئے ایک دن لگ جائے گا ۔“
”کبھی گئے ہو وہاں ؟“میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔
”جی ،دو تین بار اتفاق ہوا ہے جانے کا ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔
اور اس گاﺅں کا کیا نام ہے ؟“
” شہزادہ خان کلے ،ویسے اصل شہزادہ خان کلے پیچھے والا گاﺅں ہے جس سے گزر کر آپ یہاں تک پہنچے ہیں ۔“اسی سوال و جواب میں ہم اس کے گھر کے قریب پہنچ گئے تھے ۔وہاں چند گھر ہی تھے ۔گھروں کے تقریباََ درمیان میں ایک چشمہ بہہ رہا تھا ۔اس وقت بھی دو تین قریب البلوغ بچیاں وہاں بیٹھی پانی بھر رہی تھیں ۔ہم ان کے قریب سے گزرے تھے ۔وہ ہمیں حیرانی اور دلچسپی بھری نظروں سے گھور کر رہ گئی تھیں ۔
وہاں عموماََ لوگ قلعہ نما گھر بناتے ہیں ۔جن کی چاردیواری دس گیارہ فٹ کے قریب ہوتی ہے ۔دیوار کے دو مخالف کونوں میں مورچوں کا ہونا بھی ضروری ہے ۔اس چاردیواری کے بیچوں بیچ وہ رہائشی کمرے بناتے ہیں جن کی بلندی بس اتنی ہوتی ہے کہ آدمی آسانی سے کھڑا ہو سکے ۔چاردیواری مٹی کی بنی ہوتی ہے لیکن بہت مضبوط ہوتی ہے ۔دیوار کی چوڑائی قریباََ ڈیڑھ سے دو فٹ کے درمیان ہوتی ہے ۔اتنی سیدھی اور ہموار گویا اینٹوں سے چنائی کی گئی ہو ۔دیوار کو لپائی کرنے کی زحمت وہ نہیں کرتے اور دیوار کے اوپر سرکنڈے ،جھاڑیاں یا اس طرح کی کوئی اور چیز رکھ کر اوپر مٹی ڈال دیتے ہیں اس طرح دیواروں کے اوپر پڑنے والا بارش کا پانی دیوار پر نہیں بہہ پاتا ۔اندرونی کمرے ،کچے یا پکے بلاکوں کے بنے ہوتے ہیں ۔چھتوں میں لکڑی کے بڑے بڑے شہتیر استعمال کرتے ہیں۔ لکڑ ی کی اس علاقے میں کوئی کمی نہیں ہے ۔
ہمارے میزبان کا نام کریم خان تھا ۔اس کا گھر بھی روا ج کے مطابق بنا ہوا تھا ۔ہمارے لیے بیٹھک کا دروازہ کھول کر وہ اندر چلا گیا ۔گھر کا سربراہ کریم کا والد تھا ۔کریم کے علاوہ اس کے دو بیٹے اور بھی تھے ۔رات کا کھاناہم نے تینوں بھائیوں اور باپ کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کھایا ۔کھانے کے بعد قہوہ پیتے ہی ان کے سوالوں سے بچنے کے لیے میں تھکن کا بہانہ کرتے ہوئے لیٹ گیا ۔وہ بھی گپ شپ پر مصر ہوئے بغیر خوش دلی سے اٹھ کر اندر چلے گئے ۔
نو بجنے میں پانچ منٹ رہتے تھے جب میں نے آئی کام آن کر لیا ۔آواز میں نے بالکل دھیمی ہی رکھی تھی ۔چونکہ یہ پہلے سے طے تھا کہ میرے پکارنے ہی پر جواب دیا جائے گا ۔اس لیے میں نے خود ہی اپنا پاس ورڈ پکارنا شروع کر دیا ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور۔“چند مرتبہ یہ دہرانے کے بعد ہی سپیکر سے ایک بھاری آواز برآمد ہوئی ۔
”ون الفا فار ایس ایس ....سینڈ یوور میسج اوور۔“
”پہنچنے کی اطلاع دینا تھی اوور۔“میں نے جواب دیا۔
اس نے کہا ۔”یس ،خدا حافظ۔“میں نے فوراََ سات چینل اوپر کر کے نئی فریکونسی لگا دی ۔ ایسا ون الفا نے احتیاطاََ کروایا تھا کیونکہ کوئی بھی اگر ہماری بات سن رہا ہوتا تو یہی سمجھتا کہ ہم نے رابطہ منقطع کر دیا ہے ۔لیکن اس نے یس کہہ کر جو خدا حافظ کہا تھا اس کا مطلب یہی تھا کہ” خداحافظ “میں جتنے حروف تھے اتنے چینل اوپر چلوں ۔اگر وہ نو کہہ کر کوئی لفظ بولتا تو اس لفظ میں موجود حروف کی تعداد کے مطابق میں نیچے چینل لگاتا۔
مطلوبہ چینل لگاتے ہی وہی بھاری آواز سنائی دی ۔
”جگہ اوور؟“
”شہزادہ خان کلے اوور۔“
”پرسوں شکئی سے آگے فوجی قافلہ چلے گا ۔ تین جگہیں ایسی ہیں جہاں گھات لگنے کا زیادہ خطرہ ہے ۔پہلی دو جگہوں پر آرمی کی پکٹنگ لگی ہو گی ، تیسرا مقام جو سب سے خطرناک ہے اسے تم لوگوںنے سنبھالنا ہے ۔گزشتہ قافلے میں اس جگہ ہمارے چار جوان ، سنائپرز کا شکار ہو چکے ہیں اوور۔“
”وہاں پکٹنگ نہیں لگ سکتی اوور!“
”نہیں وہ جگہ کافی دور ہے ۔اور ہمارے پاس اتنی نفری نہیں ہے کہ تمام علاقے میں پکٹنگ کر سکیں ۔ایک دو اور وجوہات بھی ہیں جو ملنے پر بتا پاﺅں گا ۔اوور!“
میں نے پوچھا ۔”جگہ کی نشان دہی کر دو اوور۔“
”شہزاد خان کلے سے آپ جنتوئی جائیں وہاں سے آگے لگرائے آئے گا ۔یہ گاﺅں جس پہاڑی کے دامن میں بنا ہے اس کی بلند ترین چوٹی لگی نرائے کے ساتھ ہی زیڑہ کیل کی چوٹی آتی ہے ۔یہ بالکل شمالی اور جنوبی وزیر ستان کی حد بن رہی ہے ۔اسی جگہ کو آپ نے سنبھالنا ہے اوور!“
میں نے پوچھا ۔”قافلہ گزرنے کا وقت اوور!“
”بارہ سو سے چودہ سو کے درمیان اوور۔“(یاد رہے آرمی میں دن کے بارہ بجے کے بعد تیرا بجتے ہیں ۔اور وقت کی فارمیٹ چوبیس گھنٹے والی استعمال ہوتی ہے ، تاکہ مطلوبہ وقت میں کسی شک کی گنجائش ہی نہ رہے)
میرے ”راجر !“(سمجھ گیا )کے جواب میں اس نے ۔”اوور اینڈ آل!“کہا اور میں نے آئی کام بند کر دیا ۔
سردار نے ساری گفتگو سن لی تھی ۔میری بات ختم ہوتے ہی اس نے کہا۔
”مطلب کل جنتوئی کا رستا ناپیں گے ۔“
”بالکل ۔“کہہ کر میں سونے کے لیے لیٹ گیا ۔صبح ناشتا کر کے ہم نے اپنے میزبانوں سے جنتوئی کا رستا معلوم کیااور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے اجازت لے کر چل پڑے ۔وہاں سے جنتوئی تک سڑک موجود تھی ۔دو تین گھنٹوں میں پیدل چلتے ہوئے ہم جنتوئی پہنچ گئے تھے ۔ہم نے اپنا حلیہ اور لباس اسی علاقے کے لوگوں جیسا بنایا ہوا تھا اس لیے کسی نے ہم پر خاص توجہ نہیں دی تھی ۔اس علاقے کے لحاظ سے جنتوئی ایک بڑی آبادی کا گاﺅں تھا ۔ایک مسجد کے قریب سے گزرتے ہوئے مجھے تبلیغی جماعت ڈیرہ ڈالے نظر آئی ۔سردار خان کو آنکھ سے اشارہ کر کے میں مسجد ہی میں گھس گیا ۔سردار نے میری تقلید کی تھی ۔ہمارے پاس موجود سفری تھیلوں سے انھیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی تھی کہ ہم مسافر ہیں ۔ان سے ہاتھ ملا کر ہم نے اپنا سامان ایک دیوار کے ساتھ رکھا اور وضو کرنے لگے ۔ہمارے وضو کرنے تک ان کے کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔دستر خواں بچھا کر انھوں نے ہمیں خلوص سے کھانا کھانے کی دعوت دی ۔ہمارا تو مطمح نظر ہی اس وقت کھاناکھانا تھا اس لیے ہم بلا تکلف ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔کھانے کے بعد بھی ہم ان کے ساتھ بیٹھے رہے ۔ان کا امیر ایک باریش شخص تھا ۔اپنا تعارف وغیرہ کرانے کے بعد اس نے غیر محسوس انداز میں گفتگو کا رخ دعوت الی اللہ کی طرف موڑ دیا ۔ظہر کی آذان تک ہم اس کی پر مغز اور روح پرور گفتگو سے مستفید ہوتے رہے ۔نماز پڑھ کر بھی ہم وہیں بیٹھے رہے ۔ اپنی دعوت کے روزمرہ سے فارغ ہو کر انھوں نے ہمیں چاے بھی پلائی ۔اس کے بعد ہم ان سے رخصت ہو لیے ۔ہمارا ارادہ لگی نرائے تک جانے کا تھا ۔تاکہ اگلے دن ہم صبح سویرے ہی اپنی جگہ پر بیٹھ سکیں۔ عصر سے پہلے ہی ہم لگرائے پہنچ گئے تھے ۔لیکن وہاں رکنے کے بجائے ہم آگے بڑھتے گئے ۔ لگرائے گاﺅں سے آگے مسلسل چڑھائی تھی ۔جب ہم لگی نرائے پہنچے توشام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا۔مکمل اندھیرا چھانے سے پہلے ہم نے رات گزارنے کے لیے جگہ تلاش کر لی ۔درختوں کے جھنڈ میں موجود ایک بڑی چٹان کے نیچے ہم نے اپنا سامان رکھا اور دائیں بائیں گھوم کر چند منٹوں میں کافی ساری خشک لکڑیاں اکھٹی کر لیں ۔وہاں اچھی خاصی سردی محسو س ہو رہی تھی ۔اپنی گرم چادریں دائیں بائیں باندھ کر ہم نے ہوا کی آمد کا رستا روکنے کی واجبی سے کوشش کی اور پھر آگ جلا دی ۔ایسے موقع کے لیے ہم پہلے سے انتظام کر کے چلے تھے ۔سردار سٹیل کا کٹورا نکال کر چاے بنانے لگا ۔چنوں وغیرہ سے بنے غذائیت سے بھرپور مخصوص بسکٹ ہمارے پاس موجود تھے ۔دو تین بسکٹ ہی آدمی کو بارہ تیرہ گھنٹے کے لیے خوراک سے بے نیاز کر دیتے تھے۔ چاے وغیرہ پی کر سردار نے میرا سلپنگ بیگ نیچے بچھایا اور اپنے سلپنگ بیگ میں گھس کر سو گیا ۔ جبکہ میں رات ایک بجے جاگتا رہا ۔اس دوران میں نے آگ کو نہیں بجھنے دیا تھا ۔ایک بجے سردار نے میری جگہ سنبھالی اور میں سو گیا ۔میری آنکھ سردار کے جگانے پر کھلی۔وہ چاے تیار کر چکا تھا ۔ناشتے سے فارغ ہو کر ہم بغیر وقت ضائع کیے زیڑہ کیل کی جانب بڑھ گئے ۔ہتھیار کے علاوہ ہم نے باقی سامان وہیں چھوڑ دیا تھا ۔وہ چوٹی قریباََ تین چار سومیٹر آگے تھی ۔اس کی بلندی بھی لگی نرائے سے کچھ زیادہ تھی ۔ پندرہ بیس منٹ میں ہم وہاں تھے ۔مزید گھنٹا بھر لگا کر ہم نے اپنے لیے ایک فائرنگ پوزیشن بنا لی ۔ایسی جگہ جہاں سے ہمیں آسانی سے نہیں دیکھا جا سکتا تھا ۔کچا رستا کافی نیچے سے گزر رہا تھا ۔یہ جگہ ایسی تھی کہ وہاں سے سڑک تک اترنے کے لیے کافی دور جا کر رستا مل سکتا تھا ۔ وہ درہ نما رستا بن رہا تھا ۔ ہمیں اپنی جگہ پر چھپے گھنٹا بھر ہی ہوا ہو گا کہ مجھے بائیں جانب حرکت نظر آئی ۔ دوربین تو ہمارے پاس موجود نہیں تھی میں نے ڈریگنوو رائفل کی ٹیلی سکوپ میں دیکھا ۔دو تین آدمی اوپر آ رہے تھے ۔انھوں نے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھامی ہوئی تھیں ۔ان کے اطمینان کو دیکھ کر پتا چلتا تھا کہ وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ اس پہاڑی پر آرمی کی کوئی پکٹ لگی ہوئی نہیں ہے ۔اور ایسا لازمی طور اس وجہ سے تھا کہ وہ آرمی کی حرکت سے باخبر رہتے تھے ۔مزید کچھ دیر کی جستجو کے بعد مجھے ان کی صحیح تعداد معلوم ہو گئی تھی ۔
”سردار خان !....پانچ آدمی ہیں اور تما م کے پاس کلاشن کوفیں ہیں ۔“
سردار مسکرایا ۔”گویا ،تمھاری پانچ گولیاں ضائع ہو گئیں ۔“
وہ ایک اچھا نشانے باز تھا ۔پٹھان قوم یوں بھی ہتھیا ر کے استعمال کی ماہر ہوتی ہے ۔وہ پٹھان ہونے کے ساتھ ایک سنائپر بھی تھا ۔لیکن جب سے ہم امریکہ سے لوٹے تھے اس کے بعد اسے میرے نشانے پر بہت زیادہ اعتماد ہو گیا تھا ۔اب بھی اصولاََ ڈریگنوو رائفل اس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھی کہ وہ مجھ سے سینئر تھا ۔لیکن اس کے عکس اس نے خود کلاشن کوف پکڑی ہوئی تھی اور میرے حوالے سنائپر رائفل کی ہوئی تھی۔
میں نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا ۔”ہونے دو ضائع ،ہمارے کو ن سے اپنے پیسے خرچ ہوئے ہیں ۔“
”اب مجھے بھی نظر آ گئے ہیں ۔“سردارنے درختوں کے عقب سے برآمد ہونے والے آدمیوں کو دیکھ کر کہا ۔
وہ تمام اپنے لیے مناسب جگہ تلاش کرنے لگے ۔ہم نے جان بوجھ کر ایسی جگہ پر فائرنگ پوزیشن بنائی تھی جہاں سے نیچے سڑک پر فائر کرنا ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور تھا ۔اسی وجہ سے انھوں نے اس ٹیکری کو نظر انداز کر دیا تھا ۔چند منٹوں کے اندر انھوں نے اپنے لیے مناسب جگہ تلاش کر لی تھی ۔دو آدمی ہمارے چھپنے کی جگہ سے فقط پچاس گز دور ہی بیٹھے تھے ۔ان سے ساٹھ ستر گز ہٹ کر دو آمی ایک بڑے پتھر کے پیچھے لیٹ گئے تھے ۔ان کا پانچواں آدمی ہم سے دو سو گز کے فاصلے پر ایک بڑے درخت کے تنے کے ساتھ بیٹھا تھا ۔اس کے ہاتھ میں مجھے وائرلیس سیٹ بھی نظر آ رہا تھا ۔
میں نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی ساڑھے گیارہ ہونے کو تھے ۔چند کلو میٹر کے فاصلے پر مجھے گرد وغبار اٹھتا نظر آیا ۔یہ وہی سمت تھی جس جانب سے آرمی قافلے نے آنا تھا ۔
میرے کانوں میں دہشت گردوں کے قہقہے کی آواز آئی ۔نہ معلوم کس بات پر وہ ہنس رہے تھے ۔ان کے حملے کا طریقہ کار مجھے معلوم تھا ۔کلاشن کوف کے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کر کے یہ بیرل کا رخ آرمی کے جوانوں کی طرف کر کے ٹریگر دبا کر رکھتے ہیں ۔اور جب تک میگزین خالی نہیں ہو جاتی ٹریگر دبائے رکھتے ہیں ۔اس طرح اندھا دھند فائر نگ کی زد میں پاک آرمی کا کوئی نہ کوئی جوان لازمی آجاتا ہے اور یہی ان کی کامیابی ہوتی ہے ۔
”میرا خیال ہے پہلے انھی دونوں کا سر اڑانا ۔“سردار نے سرگوشی کرتے ہوئے نزدیک موجود دو آدمیوں کی طرف اشارہ کیا ۔
”نہیں پہلے دور والے ۔“میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سرگوشی کی۔”دور والوں کو اگر ہماری بھنک مل گئی تو وہ چھپ سکتے ہیں ۔یہ دونوں تو گھڑے کی مچھلی ہیں ۔“
”ہونہہ !....یہ صحیح ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
اگلے آدھے گھنٹے میں آرمی کا قافلہ قریب پہنچ گیا تھا ۔قافلے کے قریب پہنچتے ہی میں نے سب سے دور موجود شخص کے سر کا نشانہ سادھ لیا تھا ۔
پہلی تین گاڑیوں کے گزرنے کے ساتھ ہی انھوں نے ایک دم فائر کھول دیا تھا ۔تمام خود تو پتھر کے پیچھے چھپے تھے ۔البتہ ان کی کلاشن کوف کی نال پتھر کی ایک جانب سے آگے کو نکلی ہوئی تھیں ۔اس طرح کہ اگر ان کے خلاف درست فائر بھی کیا جاتا تب بھی وہ سامنے سے آنے والی گولی سے محفوظ رہتے ۔ لیکن اس وقت ان کی بدقسمتی کہ ان کے عقب میں ہم موجود تھے ۔
ماحول گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا تھا ۔ایسی صورت حال میں ڈریگنوو کی گولی کی آواز کس نے سننا تھی ۔میرے ٹریگر دباتے ہی ان کا پہلا آدمی لڑھک گیا تھا ۔وہ جس تنے کی آڑ میں بیٹھا تھا وہیں نیچے ڈھلان کی طرف منہ کے بل گرا تھا ۔اگلی دو گولیوں نے سو گز دور پڑے دونوں آدمیوں کی کھوپڑیوں میں سوراخ کر دیے تھے ۔سردار نے بھی کلاشن کوف تیاری حالت میں پکڑی تھی مگر یہ صرف حفظِ ماتقدم کے طور پر تھا ۔آرمی کے جوانوں نے جوابی فائرنگ شروع کر دی تھی ۔اس لیے فائرنگ کی آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی ۔
ہمارے نزدیک پڑے دونوں جوان ابھی تک اپنے ساتھیوں کی ہلاکت سے ناواقف تھے ۔ میں نے ان کی بے خبری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کے سر میں گولی اتاری ۔اس مرتبہ اس کے ساتھی کو پتا چل گیا تھا ۔اس نے ہراساں نظروں سے اپنے ساتھی کی خون چکاں لاش دیکھی ۔اس کے ساتھ ہی اس کی نظریں اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف اٹھیں ۔انھیں بے حس و حرکت دیکھ کر وہ جھکے جھکے انداز میں وہاں سے دور ہٹنے لگا ۔ان بہادروں کی ہمت بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ چھپ کر فائر کرو اور جب دیکھو کہ آگے سے اینٹ کا جواب پتھر سے مل رہا ہے تو پھر بھاگو ۔انھوں نے بھی گھات کے لیے جو جگہ چنی تھی اس کے عقب میں بھاگنے کا وسیع رستا موجود تھا ۔عقبی ڈھلان سے اتر کر وہ جہاں مرضی چاہے جاسکتے تھے ۔ ان گھنے جنگلوں ،ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے ندی نالوں ، غاروں ،کھڈوں اور سمندر کی لہروں کی طرح حد نگاہ تک نظر آنے والے پہاڑی سلسلوں میں چند افراد کو ڈھونڈنا جتنا مشکل ہے اس کا اندازہ ہر وہ شخص آسانی سے لگا سکتا ہے جس نے ان علاقوں کو دیکھا ہوا ہو ۔
میں نے اسے چند قدموں سے زیادہ آگے نہیں جانے دیا تھا ۔ڈریگنو و کی گولی اس کے کولہے میں لگی تھی ۔وہ منہ کے بل گر پڑا تھا ۔
”سردار !....اسے زندہ پکڑنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”یوں بھی اسے جس جگہ گولی لگی ہے اب گھسیٹ کر ہی کہیں جا سکتا ہے ۔
اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا اور ہم سے دو سو گز دور مارٹر گن کا گولہ لگا ۔میں نے متوحش انداز میں نیچے جھانکا ۔آرمی کے جوانوں نے ایک بڑی چٹان کے عقب میں مارٹر گن لگا لی تھی ۔ میں نے جلدی جلدی آئی کام آن کیا ۔
”ایس ایس فارون الفا اوور۔“
”سینڈ یور میسج اوور !“مجھے پہلی کال کے جواب میں ون الفا کی آواز سنائی دی ۔
”ون الفا !....آپ قافلے کے ساتھ ہیں اوور !“میں نے بے صبری سے پوچھا ۔
”ہاں ....ساتھ ہوں تو تمھیں سن رہا ہوں نا ،ورنہ اتنی دور تک آواز کہاں جاتی ہے اوور !“
”تو پھر جلدی سے مارٹر کا فائر رکواﺅ ۔یہاں اب ہم دو ہی بچ گئے ہیں ۔پانچ بندے تھے سارے جہنم واصل ہو گئے ہیں اوور!“
”گڈ !“کہہ کر خاموشی چھا گئی تھی ۔اسی وقت ایک اور گولہ پہلے گولے سے پچاس گز ہماری طرف لگا تھا ۔
”ون الفا فارایس ایس اوور!“
”یس !“میں نے مختصراََ کہا۔
”فائر رکوا دیا ہے اور....ویٹ....“اس نے بات درمیان میں چھوڑ دی تھی ۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد اس کے آواز دوبارہ ابھری ۔”ایس ایس !....ہمارے دائیں جانب پہاڑی پر کوئی سنائپر موجود ہے اوور!“
”لوگوں کو اس طرف آڑ میں کر لو میں دیکھتاہوں اوور !“سرعت سے جواب دیتے ہوئے میری نگاہیں سامنے کی پہاڑی پر گھومنے لگیں ۔خوش قسمتی سے سورج میری پشت پر چمک رہا تھا ۔میری نگاہیں نے ایسی جگہ کو تلاشنے لگیں جہاں ایک ایسا سنائپر جس نے نیچے گہرائی میں موجود ہدف کو نشانہ بنانا ہو اپنا ٹھکانہ بنا سکتا تھا۔
”ایس ایس !....“دو آدمی زخمی ہو گئے ہیں اوور۔“الفا کی آواز میں گہرا غم چھپا تھا ۔ اسے جواب دینے کے بجائے میری نظریں سامنے پہاڑی پر سرگرداں تھیں ۔اور پھر شیشے کی چمک نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا میں نے بغیر تاخیر کے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے سے اس سمت دیکھا ۔سبزے کا ڈھیر مجھے یہ باور کرانے کے لیے کافی تھا کہ وہاں دو سنائپر موجود تھے ۔ان کے چھپنے کا انداز ظاہر کر رہا تھا کہ وہ باقاعدہ سنائپر کی تربیت حاصل کر چکے ہیں ۔
”سردار !....سامنے والی پہاڑی پر موجود درختوں کے جھنڈ کے ساتھ والی ٹیکری کا فاصلہ میرے خیال میں تو آٹھ سو میٹر ہو گا ۔“
”نہیں ہزار میٹر سے کم نہیں ہے ۔“اس نے فوراََ جواب دیا ۔چونکہ ہمارے پاس لیزر رینج فائینڈر (فاصلہ ناپنے والا آلہ )موجود نہیں تھا اس لیے میں اندازے والا کلیہ استعمال کیا تھا ۔
”ٹھیک ہے نو سورینج لگا دی ہے ۔“میں نے فوراََ اپنے اور اس کے اندازے کا اوسط نکالتے ہوئے نوسو رینج لگا ئی ۔اور اس سبزے کے ڈھیر پر شست سادھ لی ۔اچانک مجھے ہلکی سی حرکت دکھائی دی شاید اس نے سر اوپر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔میری انگلی نے فوراََ ٹریگر کی آزادنہ حرکت کو پورا کیا ۔ ہلکے سے دھماکے ساتھ میں نے اٹھے ہوئے سر کو نیچے گرتے دیکھا ۔ایسا دو صورتوں میں ہو سکتا تھا ۔یا تو اسے گولی لگ تھی یا وہ اگلی گولی سے بچنے کے لیے لیٹا تھا ۔لیکن اس کے ساتھ پڑے ڈھیر میں حرکت ہوتی دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میرا پہلا اندازہ درست تھا ۔وہ میری گولی کا شکار ہو چکا تھا۔میں نے اندازے سے بالکل صحیح رینج لگا لی تھی ۔دوسرے بے وقوف نے ایک دم اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی تھی ۔ ڈریگنوو رائفل عام سنائپر رائفلز کے برعکس سیمی آٹومیٹک ہے ۔اس لیے مجھے رائفل کو بار بار کاک کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔اورزمین سے اٹھ کر اس نے یوں بھی مجھے زیادہ ہدف مہیا کر دیا تھا ۔یقینا گولی اس کی گردن کے تھوڑا نیچے ،دونوں کندھوں بیچ میں لگی تھی ۔وہ منہ کے بل گرگیا تھا ۔
”ایس ایس فار الفا اوور !“
”سینڈ یور میسج اوور !“الفا کی آواز میں غصے کی آمیزش صاف محسوس کی جا سکتی تھی ۔
”ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنا دیا گیا ہے ۔آپ اپنا سفر جاری رکھیں اوور !“
”گڈ ....اوور اینڈ آل ۔“اس کے لہجے میں غصے کی جگہ اطمینان اور خوشی نے لے لی تھی ۔
”سردار!.... اپنے دوست کو سنبھالو۔“
”یس باس !“کہہ کر وہ تھوڑی دور اوندھے لیٹے دشمن کی طرف بڑھ گیا ۔میری نظریں چاروں جانب سرگرداں رہیں ۔ممکن تھا کوئی چھپا ہوا شکاری ہماری تاک میں ہوتا ۔مگر سردار کو بہ خیر و خوبی اس زخمی کے پاس پہنچتے دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔
”اسے یہاں لے آﺅ ۔“میں نے سردار کو آواز دی اور وہ سر ہلاتے ہوئے نیچے پڑے دشمن کا ہاتھ پکڑ کر اسے میری جانب گھسیٹ کر لانے لگا ۔وہ ننگ انسانیت اسی لائق تھا اس لیے میں بھی سردار کے طریقے سے متفق تھا ۔
سردار نے اسے ٹیکری کی جڑ میں پھینکا ۔میں نیچے اتر کر ان کے قریب پہنچ گیا ۔وہ بری طرح کراہ رہا تھا ۔
میں نے پاﺅں کی ٹھوکر سے اسے سیدھا لٹایا ۔اس کے چہرے کے نقوش درد کی شدت سے بگڑ گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں خوف اور نفرت بھرے تاثرات کو محسوس کرنا مشکل نہیں تھا۔
”تو تمھارا نام کیا ہے ؟“میں نے اس کی زخمی طرف پاﺅں رکھ کر زور سے دبایا ۔
”آہ....“اس کے منہ سے بے ساختہ درد بھری آواز نکلی ۔
”اوہ ....معذرت خواہ ہوں ۔شاید درد ہو رہا ہے ۔“میں نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”تم کس کے آدمی ہو ؟“اس نے بہ مشکل اپنی کراہوں پر قابو پا کر بگڑے ہوئے لہجے میں دریافت کیا ۔
”میں نے کچھ پوچھا تھا ۔“میں نے دوبارہ اس کی مضروب جگہ پر پورے پاﺅں کا دباﺅ ڈالا ۔
”ضض....ضمیر خان....ضمیر خان۔“اس نے درد سے چلاتے ہوئے اپنا نام ادا کیا ۔
”ہونہہ!....تو کس کے کتے ہو ؟“اس مرتبہ بھی میں نے اس کی زخمی طرف کو اپنے پاﺅں کے دباﺅ کا نشانہ بنایا تھا ۔
”تت....تم اچھا نہیں کر رہے ....سردارقبیل خان تم لوگوں کو چھوڑے گا نہیں ۔“درد سے تڑپتے ہوئے بھی وہ دھمکی دینے سے باز نہیں آیا تھا ۔
”یہ پانچوں سردار قبیل خان کے آدمی تھے ۔“میں نے اپنی حرکت دہراتے ہوئے اگلا سوال پوچھا ۔
”ہاں ....ہاں ....ہاں اور خدا کے لیے میں ہر بات کا جواب دوں گا یوں نہ کرو ....“زخم پر مسلسل پڑنے والے دباﺅ سے اس کی ٹانگ رعشے کے مریض کے ہاتھوں کی طرح کانپ رہی تھی ۔
”وہ سامنے پہاڑی پر جو دو آمی موجود تھے وہ بھی قبیل خان کے آدمی تھے ؟“اس مرتبہ میں نے اس کے ساتھ اکڑوں بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔
”ان پانچوں کے علاوہ مجھے نہیں معلوم کہ سردار کو کوئی اور بندہ یہاں تھا۔“
”سردارخان !....اس کے ہاتھ باندھ کر لاشوں کی تلاشی لو اور تمام ہتھیار اکٹھے کر لو ،میں ذرا ان سنائپرز کا جائزہ لے کر آتا ہوں ۔“
سردار نے منہ بنایا ۔”کیا ضروت ہے ان کا جائزہ لینے کی ۔“
”وہ دونوں مجھے تربیت یافتہ سنائپر لگ رہے تھے ۔اس لیے ان کے بارے جاننا ضروری ہے۔“نیفے میںتیس بور پستول کی موجودی کا یقین کرتے ہوئے میں اس طرف بڑھ گیا جہاں سے نیچے اتر سکتا ۔آرمی کا قافلہ وہاں سے نکل گیا تھا ۔سامنے والی پہاڑی کا ہوائی فاصلہ تو آٹھ نو سو میٹر تھا ،لیکن درمیان میں ایک نالہ پڑتا تھا اس وجہ سے زمینی فاصلہ زیادہ بن رہا تھا ۔پھر اس مقام سے براہ راست نالے میں اترنا بھی مشکل تھا اس کے لیے مجھے تین چار سو میٹر دائیں جانا پڑا ۔وہاں سے نالے میں اتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے مطلوبہ پہاڑی کی جانب بڑھنے لگا ۔یوں بھی اس علاقے میں دوڑنا قریباََ ناممکن ہی ہے کیونکہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس بہت زیادہ پھول جاتا ہے ۔اترائی میں جاتے ہوئے تو پھر بھی کچھ نہ کچھ دوڑا جا سکتا ہے چڑھائی چڑھتے ہوئے تو ایسا سوچنا ہی بے وقوفی ہے ۔میں نالے میں آگے بڑھتا گیا ۔مناسب ڈھلوان آتے ہی میں اوپر چڑھنے لگا ۔درمیان سے کچھ اوپر پہنچتے ہی میں نے پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔مطلوبہ جگہ کے قریب پہنچ کر میں دبے قدموں آگے بڑھنے لگا ۔ان دونوں میں سے اگر کوئی زندہ بچ گیا ہوتا تو مجھے نقصان بھی پہنچا سکتا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ ان کا کوئی تیسرا آدمی بھی وہاں موجود ہوتا۔لیکن یہ صرف امکان تھا۔سنائپرز عموماََ جوڑیوں میں اپنا کام کرتے ہیں ،یا پھر اکیلے ۔
ایک چٹان کے پیچھے چھپ کر میں نے چند سیکنڈ سن گن لی اور پھر اپنا سر آگے کو نکال کر ان کا جائزہ لیا ،مگر ان کے بدن میں حرکت نظر نہیں آ رہی تھی ۔پھربھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر میں ان کی جانب بڑھا ۔سب سے پہلے میں نے اس کا جائزہ لیا جو فرار ہونے کی کوشش میں میری گولی کا نشانہ بنا تھا ۔میں نے اسے سیدھا کیا شکل سے وہ کوئی مقامی ہی نظر آتا تھا۔اس کی حرکت یہی ظاہر کر رہی تھی کہ وہ کوئی باقاعدہ سنائپر نہیں تھا ورنہ یوں اٹھ کر نہ بھاگتا ۔البتہ اس کا چھپنا مجھے اچنبھے میں ڈالے ہوئے تھا ۔ دوسرا سنائپر گہرے سبز رنگ کے لباس ہی میں تھا ۔اس کی رائفل بھی سبز رنگ کی پٹیوں اور چھوٹی چھوٹی ٹہنیوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔میں نے اس کی لاش کو سیدھا کیا اور میرے منہ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔ وہ کوئی یورپین تھا ۔خدوخال سے امریکی ہی لگ رہا تھا ۔اب اس کے چھپاﺅ اور تلبیس کا عقدہ مجھ پر کھل چکا تھا ۔میں نے اس کی رائفل سے ٹہنیاں ہٹائیں اور مجھے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ ٹہنیاں ہٹتے ہی بیرٹ ایم 107میرے سامنے پڑی میرے دل کی دھڑکنوں کو مزید تیز کر رہی تھی ۔ یہ امریکہ کی ایجاد کردہ اعلا کوالٹی کی سنائپر رائفل ہے۔اس کا رینج ساڑھے اٹھارہ سو میٹرہے ۔اس کی میگزین میں بھی دس گولیاں پڑتی ہیں ۔میں اپنے وہاں آنے کے فیصلے کو دل ہی دل میں سراہنے لگا ۔اس رائفل کے لیے تو میں کراچی تک بھی پیدل جا سکتا تھا ۔میں نے اس امریکن کی لاش کی تلاشی لی ٹانگ کے ساتھ بندھے گلاک نائینٹین کو دیکھ کر مجھے لگا شاید میں خواب دیکھ رہا ۔اپنے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارنے کے بعد بھی جب سائیلنسر لگا گلاک موجود رہا تو مجھے یقین آگیا کہ آج میری قسمت عروج پر ہے ۔گلاک مع ہولسٹر کے کھول کر میں نے اپنی ٹانگ کے ساتھ باندھا ۔اس کے سامنے بکھرا سنائپنگ کا ضروری سامان سمیٹ کر اس کی پشت پر بندھے مضبوط جھولے میں ڈالا ۔اس میں دوربین ،لیزر رینج فائینڈر ،ونڈ میٹر ، کمپاس ،جی پی ایس ،جدیدنائیٹ ویژں سائیٹ اور اسی طرح کی ضرورت کی چند اور چیزیں شامل تھیں ۔ اس کے ہاتھ پر ایک قیمتی گھڑی بھی بندھی ہوئی تھی ۔اس کے ساتھ ایک چمڑے کی مضبوط پٹی تھی جس میں بیریٹ ایم 107کے دس راﺅنڈ ترتیب سے لگے تھے ۔گولیوں کا ایک ڈبہ اس کے جھولے میں بھی موجود تھا ۔مجموعی طور پر اس کے پاس تیس گولیاں موجود تھیں ،جن میں سے وہ تین گولیاں ہی فائر کر سکا تھا۔اس کا مزید ایمونیشن منگوانا مشکل نہیں تھا ۔دوسرے آدمی کی تلاشی لینے پر چرس ،نسوار ،ایک چاقو اور تھوڑی سی نقدی نکلی ۔اس کے پاس کلاشن کوف تھی ۔اس کی کلاشن کوف کو گلے میں لٹکا کر میں نے بیریٹ ایم 107کندھے پر رکھی اور نیچے اترنے لگا ۔ڈیڑھ گھنٹے بعد میں سردار کے پاس پہنچ گیا تھا ۔ مجموعی طور پر میں اڑھائی گھنٹے لگا کر آرہا تھا ۔سردار اہم کام نمٹا چکا تھا ۔ تمام لاشیں اس نے ایک گڑھے میں ڈال دی تھیں۔ان کے پاس موجود آئی کام سیٹ اس نے اپنے قبضے میں کر لیا تھا ۔ایک آئی کام سیٹ مجھے اس سنائپر کے پاس بھی ملا تھا ۔بلکہ اس کے ساتھ تو ائیر فون بھی تھا جو اس نے کان میں لگایا ہوا تھا ۔وہ بھی میں اتارتے ہوئے ساتھ لے آیا تھا ۔
”بڑی دیر لگا دی ۔“مجھے دیکھتے ہی سردار شکوہ کناں ہوا ۔
”اللہ کے بندے جو کچھ مجھے وہاں ملا ہے اگر اس کے لیے ایک ہفتہ بھی لگ جاتا تو کم تھا ۔
میں نے مسرت بھرے لہجے میں جواب دیا ۔”بیریٹ ایم 107،دوربین ،کمپاس ،ونڈ میٹر ،لیزر رینج فائینڈر،گلاک نائینٹین اور بہت کچھ ۔“یہ کہتے ہی میں نے بیریٹ ایم 107کندھے سے اتار کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
”ارے واہ ،یہ ان کے پاس کیسے ؟“حیرانی بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ بیریٹ ایم 107 کا جائزہ لینے لگا ۔
”یہ ایک امریکن سنائپر کے پاس تھی ۔“میں نے انکشاف کیا ۔
”ہونہہ!....اتنا قیمتی سامان ایک امریکن کے پاس ہی ہو سکتا ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”بہ ہر حال اب کیا کریں ہمارے پاس کل سات کلاشن کوفیں اوردو سنائپر رائفلز موجود ہیں۔“
”پہلے تو تم یہ اپنے پاس رکھو ۔“میں نے نیفے میں اڑسا تیس بور پستول اس کی جانب بڑھایا ۔
”شکریہ ۔“اس نے منہ بناتے ہوئے پستول پکڑ لیا تھا ۔
”گلاک تو نہیں دے سکتا ۔“میں نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا ۔
”گلاک تم دے نہیں سکتے اور بیریٹ ایم 107تم سے اچھی میں چلا نہیں سکتا ۔نتیجہ واضح ہے ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس کے بات کرنے کے انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔
”ہنسنے کی ضرورت نہیں اب اس کے بارے کیا کرنا ہے ؟“اس نے زخمی کی جانب اشارہ کیا جس پر غشی طاری تھی ۔یقینا اس کا کافی سارا خون بہہ چکا تھا ۔
”اس سے کافی کچھ پوچھنا تھا ۔“
”میں نے اچھی طرح کھنگال لیا ہے ۔تم صرف یہ بتاﺅ اس کا کرنا کیا ہے ؟تاکہ یہاں سے نکلنے کی کریں ۔ان کا پتا کرنے کے لیے کوئی بھی آ سکتا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔کافی دیر ہو گئی ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا ۔”ویسے ان کے پاس جو آئی کام تھا اس پر انھیں کیوں نہیں پکارا جا رہا ؟“
”آئی کام تو میں نے آف کر دیا ہے ۔“
”ہاں ،آخر تم نے کسی نہ کسی طرح تو یہ ثابت کرنا ہے نا کہ تم پٹھان ہو ۔“
”اگر تم نے دوبارہ پٹھانوں کے خلاف منہ کھولا تو میں کلاشن کوف کی ایک گولی ضائع کر کے اس ثبوت کو مزید بھی پختہ کر سکتا ہوں ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔”اگر یہ بات لی زونا کرتی پھر ؟“
”یار !....اس کا نام یوں نہ لیا کرو ۔تمھیں اچھی طرح پتا ہے مشکل سے اس کی یادوں سے جان چھڑاتا ہوں اور تم دوبارہ یاد دلا دیتے ہو ۔“سردار خان سچ مچ اداس ہو گیا تھا ۔اس دوران میں اس کے ہاتھ سے دہشت گردوں والا آئی کام لے کر آن کر چکا تھا۔لیکن کوئی آواز سنائی نہ دی ۔
”چلو نکلتے ہیں ۔“میں نے ہولسٹر سے گلاک نکال کر ایک گولی زخمی ضمیر خان کے سر پر ضائع کی اور سردار کو چلنے کا اشارہ کیا ۔تمام ہتھیار ہم نے اٹھا لیے تھے ۔اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہمیں اتنی زیادہ کلاشن کوفیں ملنے والی ہیں تو کم از کم کلاشن کوف پر تو اتنی رقم خرچ نہ کرتے ۔
زیڑہ کیل سے اتر کر ہم لگی نرائے اس جگہ پہنچے جہاں ہم نے رات گزاری تھی ۔اپنے سفری جھولے وغیرہ ہم نے وہیں چھوڑے دیئے تھے ۔سب سے پہلے اس پتھر کے ساتھ ایک مناسب جگہ ڈھونڈ کر ہم نے چار کلاشن کوفیں اور ان کے فالتو میگزین چھپا دیے ۔لگی نرائے سے دو سو گز نیچے آکر ہم نے ایک اور جگہ پر دو کلاشن کوفیں اور ان کے فالتو میگزین چھپا دیے۔بیریٹ ایم 107کو ہم نے نہایت محفوظ جگہ پر چھپایا تھا ۔ایسی جگہ جہاں کسی کا گمان بھی نہ پہنچتا کیونکہ میں اس قیمتی اور مفید رائفل کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔ اس کا کیرنگ بیگ مضبوط پلاسٹک کا تھا اس لیے میں نے اس پر کوئی کپڑا وغیرہ لپیٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ہم بیریٹ کو چھپا کر بہ مشکل دو تین قدم چلے ہوں گے کہ آئی کام سے آوازیں آنے لگیں ۔
”روشن خان ....روشن خان....روشن خان !“
”سن رہا ہوں گل جان !....کہو۔“
”ہم اچھی طرح دیکھ چکے ہیں ، یہاں کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔“گل جان خاصا ڈرا ہوا لگ رہا تھا ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی روشن خان کی کرخت آواز سنائی دی ۔”ٹھیک ہے ضمیر خان کی لاش کو بھی باقی چاروں کے ساتھ اسی گڑھے میں ڈال کر اوپر پتھر وغیرہ ڈال دو ۔“
”روشن خان !....میرا خیال ہے ہمیں لاشوں کو ساتھ لانا چاہیے ۔“پہلے والے آدمی نے مشورہ دینے کے انداز میں کہا تھا ۔
روشن خان نے بے پرواہی سے کہا ۔”تم تین آدمی ،پانچ لاشیں لا سکتے ہو تو لے آﺅ ۔“
”ہم کس طرح پانچ لاشیں اٹھا کر چل سکتے ہیں ۔“
”تو پھر وہی کرو جو میں نے کہا ہے اور یہ تو تمھیں معلوم ہے کہ میں جو بھی کہتا ہوں سردار کے حکم پر کہتا ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟“
”لاشیں دفنا کر بہ راستا لگرائے جنتوئی پہنچو ۔جنتوئی میں موجود اپنے آدمیوں کو بھی چوکنا کر دو کہ نئے آدمیوں پر نظر رکھیں۔یقینا ہمارے آدمی آرمی نے نہیں مارے ورنہ وہ لاشوں کو ساتھ اٹھا کر لے جاتے ہیں ۔اور جس نے بھی مارے ہیں وہ اسی علاقے میں گھومتا نظر آ جائے گا ۔“
”کہیں مجاہدین نہ مارے ہوں ؟“گل خان نے خوف زدہ آواز میں پوچھا ۔
”نہیں ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے ،وہ ہمارے آدمیوں کو نہیں چھیڑتے ،نہ ہم انھیں کچھ کہتے ہیں ۔“
گل خان نے کہا ۔”ٹھیک ہے ہم لاشیں دفنا کر لگرائے جا رہے ہیں ۔“
”سیدھا لگرائے جانا وہ یقینا کافی دیر کے وہاں سے نکل گئے ہوں گے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“گل خان نے بغیر کسی پس و پیش کے کہا ۔اور روشن خان کے ۔”خدا حافظ ۔“ کہنے پرخاموشی چھا گئی ۔
ہمارا رخ اس وقت لگرائے ہی کی جانب تھا ۔ان کی گفتگو سنتے ہی میرے قدم رک گئے تھے ۔
”شاید تم لگرائے نہیں جانا چاہتے ۔“سردار میرا ارادہ بھانپ گیا تھا ۔
”کیا ان حالات میںوہاں جانا مناسب ہوگا ؟“میں نے جواباََ دریافت کیا ۔
”تو پھر ؟“اس نے گیند میرے کورٹ میں رہنے دی تھی ۔
” وہیں چلتے ہیں جہاں گزشتا شب گزاری تھی ۔“
”خیال رہے اس طرف سے دشمن کے آدمی بھی موجود ہیں ۔“
”نہیں شام کا اندھیرا چھا رہا ہے ،یقینا وہ زیڑہ کیل سے سیدھا لگرائے کا رخ کریں گے ، لگی نرائے پر آنے کا ان کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔یوں بھی انھیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ سیدھا لگرائے کا رخ کریں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“سردار نے اثبات میں سر ہلایااور ہم واپس لگی نرائے کی بلندی طے کرنے لگے۔اوپر پہنچنے تک اندھیرا کافی گہرا ہو گیا تھا ۔
سردار نے اندھیرے میں ٹھوکر کھاتے ہوئے پوچھا ۔”ٹارچ جلا لوں ؟“
”نہیں ۔“میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔
”مجھ سے ٹھوکریں نہیں کھائی جاتیں ۔“ضدی لہجے میں کہتے ہوئے سردار نے ٹارچ جلالی ۔
اچانک کلاشن کوف کاک کرنے کی ہلکی سی آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
”جھک جاﺅ ۔“سردار کے ہاتھ سے ٹارچ جھپٹتے ہوئے میں نیچے لیٹ گیا تھا ۔
”کک....کیا ہوا ؟“اس نے ہکلاتے ہوئے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔لیکن میرے جواب دینے سے پہلے کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ نے اس کی حیرانی دور کر دی تھی ۔
”بائیں جانب چلو ۔“سردار کو کہہ کر میں جھکے جھکے انداز میں اس طرف بڑھ گیا ۔
”یہ کون ہو سکتے ہیں ؟“سردار نے میرے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے دبے لہجے میں پوچھا ۔
میں نے جواب دیا ۔”یہ یقینا وہی ہیں جو کہہ رہے تھے کہ رستے میں وقت ضائع کیے بغیر لگرائے پہنچو ۔“یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ اسی جگہ دوتین اور برسٹ آئے۔
”کبیر خان !....ہم پہنچ گئے ۔“ایک چیختی ہوئی آواز ہمیں دائیں اور تھوڑا نیچے کی طرف سے آئی تھی ۔
”تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ؟“سردار نے دشمنوں کی بات پر دھیان دیے بغیر الجھن آمیز لہجے میں پوچھا ۔
”بالکل ایسا ہی ہے سردارخان !....انھوں نے ہمیں بے وقوف بنایا ہے ۔میرے اندازے کے مطابق روشن خان اور گل خان کی ساری گفتگو فرضی تھی ۔دونوں پاس بیٹھے ہوئے یہ بکواس کر رہے تھے۔ تاکہ اگر ہم یہیں چھپے ہوں تو اطمینان سے چھپے رہیں اور یہ بات وہ بڑے اطمینان سے اسی چینل پر کر رہے تھے جوان کے ہلاک ہونے والے ساتھی نے اپنے وائرلیس سیٹ پر لگایا ہوا تھا ۔“اسی وقت اکٹھی دو گنیں چلنے کی آواز سنائی دی تھی ۔
”اس کا مطلب ہے ان کی تعداد بھی تین سے زیادہ ہو گی ۔“پتھر کی ایک بڑی چٹان کے پیچھے رکتے ہوئے سردار نے پوچھا ۔
”بلا شبہ ۔“مختصراََ کہتے ہوئے میں نے ڈریگنوو کو ہاتھ میں پکڑکر کاک کر لیا ۔سردار نے کلاشن کوف پہلے سے تیاری حالت میں پکڑی ہوئی تھی ۔
جاری ہے
 

میں نے سیٹ آن کر کے ائیر فون کی لیڈ اس میں لگاکر کان میں اڑس لی ۔اب سیٹ کی آواز دور تک سنائی نہیں دے سکتی تھی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے سیٹ آن کیا لیکن خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔میں چینل تبدیل کرنے لگا ۔چینل انیس پر مجھے مطلوبہ گفتگو سنائی دینے لگی ۔
”میں نے صرف دو آدمی دیکھے ہیں اور دونوں غالباََ مشرقی طرف بھاگے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے تم اسی جگہ موجود رہو ،تمھارے ساتھ دوسرا کون ہے ؟“پوچھنے والا روشن خان تھا ۔
اس نے مختصراََ کہا ۔”بسمل جان ۔“
اس مرتبہ اسے جواب دینے کے بجائے وہ کسی دلبر خان کو پکارنے لگا ۔
”سن رہا ہوں ۔“دلبر خان نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”شاید ان کا رخ تمھاری طرف ہے ....دو آدمی ہیں ،کوشش کرنا زندہ ہاتھ لگ جائیں ۔نہیں تو اڑا دو لیکن بھاگنے نہ پائیں ورنہ سردارقبیل خان ہماری جان کو آجائے گا ۔“
”بے فکر رہو ۔“دلبر خان نے اعتماد بھرے لہجے میں جواب دیا ۔
ناصر خان!....تمھارے پاس کتنے آدمی ہیں ؟“اس مرتبہ وہ ایک اور آدمی کو مخاطب ہوا تھا ۔
”دس آدمی ہیں کمانڈر!“جواب دینے والا لازماََ ناصر ہی تھا۔
”پانچ آدمی نالے کے سامنے بھی بھیج دو ،تاکہ وہ نالے میں اتریں تو مکمل گھیرے میں ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ۔“ناصر خان نے جواب دیا ۔
”عظمت جان!....تمھارے ساتھ آٹھ آدمی تھے ؟“وہ باقاعدہ کسی فوجی کمانڈر کی طرح اپنے ماتحتو ںسے بات کر رہا تھا ۔
”جی کمانڈر!“عظمت نامی شخص نے جواب دینے میں تاخیر نہیں کی تھی ۔وہ تمام آئی کام کے استعمال کے ساتھ پہاڑی علاقے میں جنگ کے طرقہ کار سے بھی اچھی طرح واقف تھے ۔
”میرا خیال ہے ان آدمیوں کے ساتھ لگرائے کی طرف آنے والا کوئی آدمی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔“
”جی کمانڈر!“عظمت جان نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا تھا۔
”سردار خان !....برے پھنسے دوست !“میں نے ساتھ بیٹھے سردار خا ن کودبی آواز میں صورت حال سے آگاہ کیا ۔”ان پہاڑیوں کو انھوں نے چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے ۔“
سردار نے اعتماد بھری سرگوشی سے جواب دیا ۔”اگر ان کے پاس سو بندے بھی ہوں تب بھی ان پہاڑیوں کو نہیں گھیر سکتے ۔“
”بات تو ٹھیک ہے لیکن فی الحال ہم گھیرے میں ہیں دوست ۔“
”لگرائے کی طرف نیچے اترنے کے بارے کیا خیال ہے ؟“سردار نے مشورہ دینے والے انداز میں پوچھا ۔
میں نے نفی میں سر ہلایا ۔”نہیں اس جانب کوئی عظمت جان آٹھ آدمیوں کے ساتھ ہمار منتظر ہے۔“
”ویسے تمھارا مشورہ مان کر میں نے بہت بے وقوفی کا ثبوت دیا ہے ۔“
میں ہنسا ۔”اس کے بجائے اگر تم یہ کہو کہ میرا مشورہ مان کر تم نے پٹھان ہونے کا ثبوت دیا ہے تو کیسا رہے گا ۔“
”راجا ذیشان حیدر صاحب !....ایک بات بتا دوں اگر ہم رات کے اندھیرے میں ان کے گھیرے سے نہ نکل سکے تو دن کی روشنی میں ہمارا بھاگنا ناممکن ہو جائے گا ۔“
اس کی بات رد کرنے کے قابل نہیں تھی ۔”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”کوئی سگریٹ سلگا رہا ہے ۔“سردار نے مجھے ہلکے سے شعلے کی جانب متوجہ کیا ۔اس کا فاصلہ ہم سے پچاس گز سے زیادہ نہیں تھا ۔
”یہ اس کی زندگی کا آخری کش ہو گا ۔“دھیمے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے ٹیلی سکوپ کے کور اتارے بغیر ہی ڈریگنوو کی مزل کو اس کی جانب سیدھا کیا اتنے نزدیکی فاصلے پر مجھے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی ۔ٹریگر دباتے ہی دھماکے کی گونج کے ساتھ ایک درد بھری کراہ نے مجھے بتا دیا کہ میں کامیاب رہا تھا ۔اسی وقت کلاشن کوف کا اندھا دھند فائر اس پتھر کی جانب آنے لگا ۔
”سردار !....نیچے لیٹ کراسی سمت جانا ہے جدھر سے فائر آ رہا ہے ۔“میں نے سرگوشی کی ۔
”گویا مجھے ایک بار پھر پٹھان ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا ۔“دبی آواز میں ہنستے ہوئے اس نے کہا ۔”میرا مطلب ہے تمھاری بات مان کر ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے خان صاحب !....“انھیں ہماری جگہ کے بارے معلوم ہو گیا ہے ۔“
”میں مذاق تو نہیں کر رہا ۔“سردار نے جوا ب دیا ۔اسی وقت کسی نے ٹارچ کی روشنی ہماری سمت پھینکی ۔وہ شاید ہمارے چھپنے کی جگہ کا جائزہ لینا چاہتا تھا ۔وہ اس بات میں کامیاب بھی ہو گیا ،لیکن زندگی کی بازی ہار گیا ۔وہ بے وقوف شاید نہیں جانتا تھا کہ روشنی پر نشانہ سادھنا کتنا آسان کام تھا ۔ڈریگنوو کی ایک اور گولی کم ہو گئی تھی ۔
”اب اگر کسی الو کے پٹھے نے روشنی کرنے کی کوشش کی تو اسے میں خود گولی مار دوں گا ۔“ روشن خان کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی ۔اسی وقت کلاشن کوف کے دو تین برسٹ ہماری طرف آئے ، مگر ہم نے جوابی فائر سے گریز کیا تھا ۔ہمارے پاس اتنا فالتو ایمونیشن نہیں تھا کہ ان کے ہر فائر کا جوا ب دیتے ۔
”تم لوگ چاروں طرف سے گھیرے میں ہو بہتر یہی ہو گا کہ خود کو ہمارے حوالے کر دو ۔“وہ روشن خان کی آواز تھی اس کی آواز کو میں اچھی طرح پہچان گیا تھا ۔اس کی بات کا جواب سردار نے دو گولی فائر کے ساتھ دیا تھا ۔سردار کے فائر کے ساتھ دو تین برسٹ فائر آئے لیکن ہم پتھر کی چٹان کے باعث محفوظ رہے ۔
مجھے آئی کام پر روشن خان کی آواز سنائی دی وہ دلبر خان کو پکار رہا تھا ۔دلبر خان کے جواب دینے پر وہ کہنے لگا ۔
”دلبر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ ہماری طرف بڑھتے آﺅ ۔“
جواباََ دلبر خان نے ”جی کمانڈر!“کہہ کر حکم پر عمل پیرا ہونے کا عندیہ دیا ۔
اس کے ساتھ ہی روشن خان کسی برمن خان کو آواز دینے لگا ۔
برمن خان کے ”حکم جناب !“پر وہ پوچھنے لگا ۔
”تمھارے پاس ہینڈ گرنیڈ موجود ہیں ۔“
”جی ہاں ،تین گرنیڈ موجود ہیں ۔“برمن خان کا اقراری جواب سن کر وہ بولا ۔
”فوراََمیرے پاس آجاﺅ ،میں اس وقت لگی نرائے کی بلندی پر کھڑا ہوں ۔“
”کمانڈر!....پانچ دس منٹ لگ جائیں گے ۔“
”میں منتظر ہوں ۔“کہ کر روشن خان خاموش ہو گیا تھا ۔
”سردار !....روشن خان کسی آدمی سے ہینڈ گرنیڈ منگو ا رہا ہے ،یقینا اس کا ارادہ ہمارے خلاف ہینڈ گرنیڈ استعمال کرنے کا ہے ،اس لیے جتنا جلدی ہو یہاں سے نکلنا چاہیے ۔“
”میرا خیال ہے سامنے کے بجائے دائیں طرف نکل چلتے ہیں ۔“سردار نے مشورہ دیا۔
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”اس طرف تنگ نالہ ہے اگر اس میں اتر گئے تو چوہے دان میں پھنس جائیں گے ۔انھوں نے نالے کو پہلے سے گھیرا ہوا ہے ۔“
”مکمل نہیں اترتے ،ڈھلان پر ہو کر زیڑہ کیل کی جان بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ،اگر روشن خان پارٹی کی حد بندی سے گزر گئے تو آگے جانامشکل نہیں ہو گا۔“سردار اپنی بات پر مصر رہا ۔
”ہونہہ !....لگتا ہے لی زونا کے ساتھ دو ماہ گزار کر تم میںبھی تھوڑی عقل آ گئی ہے ۔“
اس نے پوچھا ۔”تو چلیں ،اس سے پہلے کہ ہینڈ گرنیڈ کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔“
”میرے پیچھے رہنا اور تم فائر نہ کرنا میرے پاس سائیلنسر لگا پستول موجود ہے کسی بھی اچانک نمودار ہونے والے ہدف کو میں خود سنبھال لوں گا ۔“اس سے بات کرتے ہوئے میں نے ڈریگنوو رائفل کی سلنگ سر سے گزار کر اپنی چھاتی کے سامنے لائی اس طرح کہ رائفل میرے پشت پر بندھے تھیلے پر مضبوطی سے ٹھہر گئی ۔سائیلنسر لگا گلاک نائینٹین میں نے ہاتھ میں تھا م لیا تھا ۔
”ٹھیک ہے ۔“سردار نے کہا اور اس کا جواب سنتے ہی میں جھکے جھکے انداز میں آگے بڑھ گیا ۔
ہم جس چٹان کے پیچھے دبکے تھے اس کے سامنے روشن خان نے مورچہ بنا رکھا تھا ،اس کے عقبی جانب دلبر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ آ رہا تھا۔دائیں جانب عظمت خان اور بائیں جانب ناصر خان اپنے آدمیوں کے ساتھ موجود تھا ۔لیکن ناصر خان نالے کی پرلی طرف اور سامنے کی سمت میں موجود تھا ۔وہ نالہ زیڑہ کیل سے نکل رہا تھا ۔لازمی طور پر زیڑہ کیل کی بلندی پر بھی ان کے آدمیوں نے موجود ہونا تھا ۔ روشن خان جیسے شاطر سے بعید تھا کہ اس نے وہ سمت نظر انداز کر دی ہو ۔لیکن زیڑہ کیل کی پرلی جانب اگر ہم پہنچ جاتے جس طرف امریکن سنائپر میرا نشانہ بنا تھا تو ہمارا نکلنا مشکل نہیں تھا ۔
نالے میں دس پندرہ گز نیچے جا کر ہم اسی ڈھلان پر متوازی آگے بڑھنے لگے ۔ہوا کافی تیز رفتاری سے چل رہی تھی ۔اور یہ ہوا جہاں سردی میں اضافے کا باعث بن رہی تھی وہیں ہمارے لیے اس لحاظ سے نہایت مفید تھی کہ ہماری ہلکی پھلکی آہٹ دشمن کو سنائی نہیں دے رہی تھی ۔
ہم تیس پینتیس گز ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ ایک زور دار دھماکا سنائی دیا ۔یقینا انھوں نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا تھا ۔
”جانانہ !....میرا خیال ہے ان کمینوں کا کام تو ہوگیا ۔“مجھے ہلکی ہنسی کے ساتھ کسی کی آواز سنائی دی ۔ہمارے استقبال کے لیے اس جانب بھی روشن خان نے اپنے آدمی کھڑے کیے ہوئے تھے ۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہوازیڑہ کیل کی جانب سے ہمارے رخ چل رہی تھی ۔اس لیے وہ آواز آسانی سے سنائی دے گئی تھی ۔سردار نے بھی وہ آواز سن لی تھی ۔ہم دونوں دب کر نیچے بیٹھ گئے۔ اسی وقت ایک اور زور دار دھماکا ہوا انھوں نے حفظِ ماتقدم کے طور پر ایک اور گرنیڈ بھی پھینک دیا تھا ۔
سردار کو وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے میں رینگتا ہوا آگے بڑھا ۔ان کے باتیں کرنے کی دھیمی آواز میری رہنمائی کر رہی تھی ۔جلد ہی ان کے ہیولے مجھے نظر آ گئے تھے ۔ان کا رخ ہماری جانب ہی تھا۔
اسی وقت میرے کان میں لگے رسیور میں روشن خان کی آواز ابھری ،اور ساتھ ہی وہی آواز مجھے ان آدمیوں کے پاس موجود آئی کام سے بھی آ رہی تھی ۔
”تما م پارٹیاں ہوشیار رہیں ۔وہ یہاں سے غائب ہیں ۔“
”اس کا مطلب پھر بچ گئے ہیں کمینے ۔“مجھے وہی پہلے والی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی میں نے گلاک سیدھا کرتے ہوئے مسلسل دو مرتبہ ٹریگر دبادیا۔
”ٹھک ٹھک ۔“کی آواز کے ساتھ دو درد بھری کراہیں بلند ہوئیں ۔ میں زمین سے اٹھ کر تیزی سے آگے بڑھا ۔سردار نے بھی میری تقلید کی تھی ۔ان کے تڑپتے اجسام کو پھلانگتے ہوئے ہم آگے بڑھ گئے ۔دس پندرہ گز آگے جاتے ہی ہم دوبارہ بلندی چڑھنے لگے ۔ڈھلوان سے ہموار سطح پر آتے ہی ہم تیزی سے زیڑہ کیل کی طرف بڑھ گئے ۔
”ناصر خان!....تیار ہو جاﺅ،میرا خیال ہے وہ نالے میں اتر گئے ہیں ۔“
”ہم تیار ہیں کمانڈر !“ناصر کی اعتماد بھری آواز ابھری ۔
ہم زیڑہ کیل کی بلندی پر چڑھنے لگ گئے تھے ۔وہ لگی نرائے سے اتنی زیادہ بلند نہیں تھی ۔
”گل خان!....تمھارے ساتھ کتنے آدمی ہیں ؟“روشن خان کسی نئے بندے کو پکار رہا تھا ۔
”ہم دو آدمی ہیں کمانڈر!“گل خان کی آواز سنائی دی ۔
”برمن خان!....تم اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر گل خان کے پاس پہنچو ۔
”ٹھیک ہے کمانڈر!“برمن نے جواب دیا ۔
اب معلوم نہیں برمن خان اس وقت کہاں تھا ۔چڑھائی ختم ہونے کے قریب ہی ہم دبے قدموں چلنے لگے اسی وقت سردار کے پاﺅں کے نیچے ایک پتھر آکر لڑھک گیا ۔ہم فوراََ لیٹ گئے ۔یہ بروقت لیٹنا ہمارے کام آگیا تھا ۔اسی وقت ایک طاقتور ٹارچ کی روشنی اس طرف آئی ۔سردار میرے آگے تھا ۔اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کلاشن کوف کا فائر کھول دیا ۔
”تڑ تڑ اہٹ کی آواز میں ایک چیخ بھی شامل تھی ۔ٹارچ سمیت وہ اوندھے منہ گرا ،ٹارچ ابھی تک روشن تھی ۔
”سردار !....ادھر ہو جاﺅ۔“ایک قریبی پتھر کی آڑ لیتے ہوئے میں نے سردار کوسرعت سے پکارا ۔
اسی وقت روشن خان بھی اپنے آدمی سے پوچھنے لگ گیا تھا ۔”گل خان !....فائر تم نے کیا ہے۔ “گل خان غریب زندہ ہوتا تو جواب دیتا ۔
سردارایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر لیٹے لیٹے ہی لڑھکتے ہوئے میرے قریب پہنچا ۔اور اسی وقت کسی نے کلاشن کوف کا فائر کھول دیا ۔کلاشن کوف مسلسل گرجنے لگی ۔اس نے اس وقت تک ٹریگر سے انگلی نہ اٹھائی جب تک ”ٹرنچ ۔“کی آواز کے ساتھ کلاشن کوف خالی نہ ہو گئی ۔
ہم پتھر کے پیچھے سمٹ کر لیٹے ہوئے تھے ۔اگر وہ پتھر نہ ہوتا تو یقینا ہم مارے گئے تھے ۔ ”ٹرنچ ۔“کی آواز سنتے ہی میں نے کہا ۔”سردار !....فائر ۔“اور اس نے لیٹے لیٹے مطلوبہ جانب کلاشن کوف کی نال کرتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔مسلسل دھماکوں کی وجہ سے ہمیں پتا نہیں چلا تھا کہ وہ فائرنگ کامیاب گئی تھی یا ناکام۔آئی کام پر روشن خان مسلسل گل خان کو پکار رہا تھا ۔میگزین خالی ہوتے ہی سردار نے نئی میگزین لگاتے ہوئے کلاشن کوف کاک کی ۔لگی نرائے کی جانب سے دوتین برسٹ فائر ہوئے ۔ یقینا وہ اسی جانب ہی بڑھتے چلے آ رہے تھے ۔
”سردار !....خطرہ تو مول لینا پڑے گا ۔“میں اٹھ کر تھوڑادائیںمڑا اور جھکے جھکے انداز میں آگے بڑھنے لگا ۔سامنے سے فائر نہ آتے دیکھ کر میں سمجھ گیا تھا کہ سردار کی گولیاں رایگاں نہیں گئی تھیں۔
زیڑہ کیل کی بلندی چڑھتے ہی میں نے اس طرف کا رخ کیا جہاں سے میں دن کو اتر کر امریکن سنائپر والی پہاڑی پر چڑھا تھا ۔سردار میرے پیچھے ہی دوڑتا ہوا آرہا تھا ۔عقب میں مجھے مسلسل فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔
روشن خان نے ناصر خان کو چند بندے اس جانب بھیجنے کا حکم دیا ۔ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ زیڑہ کیل پر ان کا کوئی آدمی باقی نہیں بچا تھا ۔
میں اور سردار ٹھوکریں کھاتے کسی نہ کسی طرح اس جگہ پہنچ گئے جہاں سے میں دن کونیچے اترا تھا۔وہ رستا کافی ہموار تھا ۔اس پر چھدرے چھدرے درخت بھی موجود تھے ۔جلد ہی ہم نیچے کچی سڑک پر پہنچ گئے تھے ۔ہم تیز رفتاری سے زیڑہ کیل سے دور ہٹنے لگے ۔آگے وہ نالہ انگلش کے لفظ وائی کی طرح دو شاخہ ہو گیا تھا ۔ہم نے مشورے سے بائیں جانب اختیا رکر لی تھی ۔تیز رفتاری سے حرکت کرنے کے باعث ہمارے سانس پھول گئے تھے ۔زیڑہ کیل کی جانب سے اب بھی فائرنگ کی آواز آرہی تھی لیکن آئی کام خاموش تھا ۔
شاید وہ کسی دوسرے چینل پر شروع ہو گئے تھے ۔میں نے چینل تبدیل کر نا شروع کر دیا ۔جلد ہی روشن خان کی منحوس آواز پھر سے میرے کانوں میں پڑنے لگی ۔وہ انھیں تین پارٹیوں میں بانٹ کر ایک پارٹی کو لگرائے کا رخ کرنے کا کہہ رہا تھا ۔دوسری پارٹی کو اس نے وہ سمت بتائی کہ جس طرف ہم دونوں روانہ تھے اور تیسری ناصر خان والی پارٹی کو اسی نالے پر تعینات رکھا تھا ۔مجھے یہ پتا نہیں چل سکا تھا کہ اس نے چینل کیسے تبدیل کرا یا تھا ۔کیونکہ میں نے پچھلے چینل پر اس کے منہ سے کوئی کوڈ ورڈ یا کوئی لفظ نہیں سنا تھا ۔گھڑی پر نگاہ ڈالنے پر ہندسے سوا نو بجے کا اعلان کرتے نظر آئے ۔میں نے اندازہ لگایا کہ شاید نو بجے کے بعد انھیں پہلے سے چینل تبدیل کرنے کا بتایا ہوا تھا ۔پہلے والا چینل نو بجے تک ہی استعمال ہونا تھا ۔وائرلیس سیٹ کو استعمال کرتے وقت اس طرح کے چٹکلے ہر کوئی آزماتا رہتا ہے ۔
میں نے سردار کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”سردار خان!....اب ہمارا مقابلہ روشن خان کے ایک تہائی لشکر سے ہے ۔“
سردار نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا ۔”جس وقت بھی یہ روشن خان ہاتھ لگا اسے تو میں اپنے ہاتھ سے گولی مارو ںگا ۔“
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا دور ٹارچ کی روشنی نظر آئی تھی ۔ہم نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر لی۔ ایک لحاظ سے ہماری رفتار کو ان پر فوقیت حاصل تھی کہ انھوں نے ہمیں تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا جبکہ ہم بغیر دائیں بائیں کا جائزہ لیے آگے بڑھتے جا رہے تھے ۔مسلسل تیز رفتاری سے سفر کرتے ہمیں تین گھنٹے ہونے کو تھے ۔
شیطان کی آنت کی طرح کا وہ لمبا نالہ اب اوپر کو بلند ہونے لگا تھا ۔اچانک پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر ایک طاقتور ٹارچ کی روشنی ہم پر پڑی ۔ہم نے نیچے لیٹنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اسی وقت سامنے سے ایک برسٹ فائر ہوا ۔
”یہ وہی گروپ ہے یا ان کے کوئی اور ساتھی ہیں ؟“سردار ہکلایا ۔
”جو بھی ہیں اب تو برے پھنس گئے ہیں خان جی !“میں آہستہ آہستہ پیچھے کو کھسکا ۔
ٹارچ ایک بار پھر روشن ہوئی اور اس روشنی میں چند قدم آگے لگی کانٹا دار تار کو دیکھتے ہی میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا ۔
”سردار خان!....یہ آرمی کی کوئی پوسٹ ہے ۔“میں نے خوشی سے بے قابو لہجے میں کہا ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے جیب سے ٹارچ نکال کر بار بار جلا کر ٹارچ کا اشارہ کرنے لگا ۔
”کون ؟“دبنگ لہجے میں پوچھا گیا ۔
”ہم دوست ہیں دشمن نہیں ۔“سردار کو اٹھنے کا کہہ کر میں ہاتھ بلند کر کے کھڑا ہو گیا ۔پستول میں نے ہولسٹر میں رکھ لیا تھا ۔سردار بھی کلاشن کوف زمین پر رکھتے ہوئے میرے ساتھ ہاتھ بلند کر کے کھڑا ہوگیا ۔
”آگے آ جاﺅ ۔“اسی آواز نے ہمیں پکارا ۔اور ہم ہاتھ بلند کیے آگے بڑھنے لگے ۔کانٹا دار تار کے درمیان میں ایک جگہ رستا بنا نظر آرہا تھا ۔ہم اسی سے گزر کر آگے بڑھنے لگے ۔
ہم ٹارچ والے سے دس پندرہ گز دور پہنچے ہوں گے کہ اس نے اگلا حکم صادر کیا ۔”رک ،اپنے ہتھیار اور سامان یہیں چھوڑ دو ۔“
ہم نے بے چوں و چراں ان کے کہنے پر عمل کیا ۔
”اب آگے بڑھو۔“ہتھیار اور تھیلے زمین پر رکھتے ہی ہمیں دوبارہ آگے بلایا گیا ۔
نزدیک پہنچنے پر ہمیں تین فوجی نظر آئے ایک نے ہاتھ میں ٹارچ تھام رکھی تھی جبکہ دو کے ہاتھوں میں ہتھیار تھے ۔ایک اپنا ہتھیار سلنگ اپ کر کے آگے بڑھا اور ہماری تلاشی لینے لگا ۔
تلاشی کے بعد ان کے سینئر نے ایک سپاہی کو ہمارا سامان لینے بھیجا جو ہم ان کے حکم پر پیچھے چھوڑ آئے تھے ۔تھوڑی دیر بعد ہم پوسٹ کمانڈر کے سامنے کھڑے تھے ۔وہ ایک جونیئر آفیسر تھا ۔
”جی جناب !....اپنا تعارف کرائیں ۔“اس نے ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا ۔ہمارے پر اعتماد لہجے میں کی جانے والی بات چیت سے اسے اتنا اندازہ تو ہو گیا تھا کہ ہم دشمن نہیں تھے ۔
”میں اپنے آئی کام سیٹ پر آپ کی بات کسی سے کرانا چاہتا ہوں ۔“
”بات کراﺅ۔“اس نے اجازت دینے والے انداز میں سر ہلایا۔اس کا جواب سن کر ایک بندے نے آئی کام سیٹ میری جانب بڑھا دیا ۔
”پوسٹ کا نام ؟“آئی کام سیٹ پکڑتے ہوئے میں نے جونیئر آفیسر سے پوچھا ۔
”یہ ایف بلاک ہے ۔“اس نے بغیر کسی تردّد کے پوسٹ کا نام بتا دیا ۔
سیٹ آن کر کے میں نے چینل نو لگایا اورون الفا کو پکارنے لگا ۔
”سینڈ یور میسج اوور۔“میرے دو تین دفعہ پکارنے پر ون الفا کی بھاری آواز سپیکر سے برآمد ہوئی ۔
”ہم اس وقت ایف بلاک پر پہنچ گئے ہیں اوور !“بغیر کسی تمہید کے میں مطلب کی بات پر آ گیا کہ وائرلیس سیٹ پر تمہیدیں نہیں باندھی جا سکتیں ۔
”مگر کیوں ؟....اوور۔“اس کا لہجہ حیرانی سے پر تھا ۔
”کہانی لمبی ہے اوور۔“میں نے تفصیل بتلانے سے گریز کیا تھا ۔
”کام بتاﺅاوور۔“اس نے بھی تفصیل پوچھنے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔
”پوسٹ کمانڈر کو ہماری شناخت کروا دو اوور۔“
”ٹھیک ہے پوسٹ کمانڈر کو ابھی آرڈر مل جائیں گے اور تم نے اگلے حکم تک یہیں رہنا ہے اوور۔“
اور میرے ”راجر ۔“(سمجھ گیا )کہنے پر اس نے اوور اینڈ آل کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
پانچ منٹ بعد پوسٹ کمانڈ کے بینکر میں پڑے فیلڈ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔اس نے رسیور اٹھا کر کہا ۔”یس !....صوبیدار رمضان بات کر رہا ہوں ۔“
اور پھر دوسری جان سے اسے کچھ ہدایات دی جانے لگیں ۔ہمیں تو بس اس کی ۔”یس سر ،یس سر۔“ہی سنائی دیتی رہی ۔
بات ختم کرتے ہی اس نے رسیور میری جانب بڑھا دیا ۔
”اسلام علیکم سر !....ذیشان حیدر بات کر رہا ہوں ۔“میں نے رسیور کان سے لگاتے ہوئے اپنا تعارف کرایا ۔
”وعلیکم اسلام ،ذیشان !....کل کا دن ایف بلاک پر گزارو اور پرسوں تم دونوںڈی بلاک پر چلے جانا، وہاں ون الفا تمھارا منتظر ہے ۔ڈی بلاک کا رستا تمھیں صوبیدار رمضان سے معلوم ہو جائے گا۔“
اور میرے ”ٹھیک ہے سر !“کہنے پر اس نے ۔”خدا حافظ۔“کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا ۔
”یقینا آپ لوگوں نے کھانا نہیں کھایاہو گا ؟“میرے رسیور رکھتے ہی صوبیدار رمضان مستفسر ہوا ۔
”جی سر !“سردار نے اثبات میں سر ہلایا۔
ایک آدمی کو کھانا لانے کا کہہ کر وہ ہم سے گپ شپ کرنے لگا ۔ہماری دن بھر کی کارروائی چونکہ اپنی فوج کے لیے کوئی راز کی بات نہیں تھی اس لیے ہم نے اسے مکمل تفصیل سے سب کچھ بتا دیا ۔ ساری تفصیل سردار نہیں سنائی تھی ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی صوبیدار رمضان نے باقاعدہ ہمیں گلے لگا کر ہماری پیٹھ تھپتھپائی تھی ۔اسی وقت تازہ کھانا تیار ہو کر آ گیا ۔گرم گرم روٹیوں اور بھیڑ کے گوشت سے سیر لطف اندوز ہونے کے بعد ہم نے ملک پاﺅڈر کی بنی چاے پی اور بستر میں گھس گئے ۔سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد سخت تھکن محسوس ہو رہی تھی ۔وزیرستان نے ہمیں کافی اچھے انداز میں خوش آمدید کہا تھا۔ قسمت اچھی تھی ورنہ سردارقبیل خان کے آدمیوں نے تو ہمیں مارنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا تھا ۔اگلاپورا دن ہم ایف بلاک پر آرام کرتے رہے ۔سہ پہر کے وقت ہم نے صوبیدار رمضان سے ڈی بلاک کا رستا معلوم کر لیا تھا جہاں ون الفا ہمارا منتظر تھا ۔اس نے ایک دور ایک پہاڑی کی جان اشارہ کیا اور ساتھ ہمیں وہاں تک جانے کے رستے کے بارے بھی تفصیل سے بتا دیا ۔اگلی صبح کا انتظار کرنے کے بجائے ہم شام کا کھانا کھا کر ہی ڈی بلاک کا رستا ناپنے لگے ۔امریکن سنائپر کا کمپاس میرے پاس موجود تھا۔ یوں بھی اس کی گھڑی میں بھی ایک جدید کمپاس فٹ تھا ۔ڈی بلاک کا فاصلہ وہاں سے نو دس کلومیٹر کے بہ قدر تھا ۔وہ پوسٹ ایف بلاک سے زیادہ اونچائی پر واقع تھی ۔
کمپاس کی مدد سے ہم اونیچے نیچے رستوں اور خشک و تر نالوں کو عبور کرتے ہوئے رات ارہ بجے کے ڈی بلاک کے قریب پہنچ گئے تھے ۔سنتری کو اپنی پہچان کرا نے کے تھوڑی دیر بعد ہی ہم ون الفا سے معانقہ کر رہے تھے ۔
وہ پینتیس چھتیس سال کا خوش رو جوان تھا ۔اس کا تعلق ایک خفیہ ایجنسی سے تھا ۔اس کا رینک میجر اورنام اورنگ زیب خٹک تھا ۔وہ ہم سے بڑے تپاک سے ملا ۔گزشتا دن کی تفصیل سن کر اس نے ہمیں ایک بار پھر شاباش دی اور مطلب کی بات پر آ گیا ۔
”قبیل خان کا تعلق وزیر قوم سے ہے اور اس کے پاس پندرہ سولہ سو کا لشکر (لڑاکالوگ) موجود ہے ۔اس کا اصل علاقہ وادی شوال میں موجود گاﺅں علام خیل ہے جہاں تک ابھی آرمی نہیں پہنچی ۔ یہ انڈین ایجنسی را کا خاص پرزہ ہے ۔دوسری ایجنسیاں بھی اس سے کام لیتی رہتی ہیں ۔بہ ہر حال زیادہ عرصہ بچ نہیں سکے گا ۔تم دونوں کو ایک خاص کام کے بعد اس کی سرکوبی کے لیے جانا ہو گا ۔وادی شوال میں ہمارے تین آدمی موجود ہیں۔لیکن وہ کھل کر تمھارا ساتھ نہیں دے پائیں گے ۔وہ بس رابطے کا ایک ذریعہ ہی ہیں ۔ان میں سبیل خان نامی آدمی تمھارے ساتھ رابطے میں رہے گا ،اس سے بھی تم ایس ایس کے کوڈ نام سے چینل سات پررابطہ کر سکتے ہو ۔وہ اپنا کوڈ نام الفا ٹو بتائے گا ۔“
سردار نے پوچھا ۔”خاص کام کیا ہے سر ؟“
”یہاں ایک بلند چوٹی ذخیرہ ٹاپ ہے جہاں دہشت گردوں کے دو سنائپر موجود ہیں ۔ان میں سے ایک کانام ذوالجدین ہے اور دوسرے کو مرشد کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تمھیں یقینا حیرانی ہو گی کہ یہ ذوالجدین نامی آدمی پاک آرمی کی کمانڈو بٹالین سے بھگوڑا ہو کر دہشت گردوں کے ساتھ شامل ہوا ہے ۔یونٹ میں کسی آفیسر سے اس کا جھگڑا ہوا اور یہ باغی ہو کر دہشت گردوں کے پاس چلا گیا ۔اور پھر یہاں روپے پیسے کی وافر دستیابی نے اسے مزید شہہ دی ۔یہ دونوں بہت اچھے سنائپر ہیں ۔ہمارے شہید ہونے والے جس جوان کے سر میں گولی لگی ہو تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ ذوالجدین کی فائر کی ہوئی گولی ہے اور چھاتی میں لگنے والی گولی کو مرشد کی حرکت مانا جاتا ہے ۔جنگل ٹاپ پر دہشت گردوں کے مضبوط مورچے بنے ہوئے ہیں ۔ہیلی کاپٹر کی شیلنگ بھی وہاں فائدہ مند نہیں ہوئی ۔وہاں سب سے خطرناک یہی دو آدمی ہیں اور انھیں کس طرح نشانہ بنانا ہے یہ آپ دونوں کی صواب دید پر ہے ۔“
”ویسے ذوالجدین کا نام میں نے سنا ہوا ہے ۔“میں نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”کمانڈو ز کے ساتھ ایک کورس کے دوران اس کی غائبانہ تعریف سنی تھی ۔“
”صحیح پہنچے ۔“میجر اورنگ زیب نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اگر ہم دونوں جنگل ٹاپ پر جا کر خود کو دہشت گرد ظاہر کریں تو یقینا انھیں آسانی سے جہنم واصل کر سکیںگے ۔“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔
”نہیں ،پہلی بات تو یہ ہے کہ ،یہ لوگ بہت شاطر ہیں ،کسی نئے آدمی پر اعتماد نہیں کرتے ۔اور ان کے پاس آنے والے دہشت گرد کسی سردار یا ایجنسی کی وساطت سے آتے ہیں ۔یوں نہیں کہ کوئی بھی آدمی منہ اٹھا کر ان کے پاس پہنچ جائے ۔ہمارے جو آدمی ان میں شامل ہیں وہ بھی ہم نے جانے کتنی مشکلوں سے ان کا حصہ بنائے ہیں ۔دوسرا جو آدمی قریب جا کر کسی دہشت گرد کو ہلاک کرے گا خود اس کا بچنا بھی ناممکن ہو جائے گا اور میں تم دونوں جیسے تربیت یافتہ اور بہترین سنائپر زکو اتنے سستے میں قربان نہیں کر سکتا ۔“
”شکریہ سر !“میں اس کی پر خلوص بات سن کر بولا۔”ویسے ذخیرہ ٹاپ کے قریب کوئی اونچی چوٹی موجود نہیں ہے ؟“
”زیڑہ کیل سے شمال کی جانب ایک بلند چوٹی وچہ نرائے ہے جس کا ذخیرہ پوسٹ سے ہوائی فاصلہ ڈیڑھ کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہی ہے ۔لیکن وہ ایسی جگہ ہے جہاں فوج پوسٹ نہیں بنا سکتی کیونکہ ایک تو پانی کا نزدیک ترین چشمہ بھی اس سے اتنی دور ہے کہ روزمرہ ضروریات کا پانی وہاں تک پہنچانا نہایت مشکل ہو جاتا ہے ۔اسی طرح وہاں گاڑی کا رستا بھی موجود نہیں ہے اس لیے راشن بھی ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا ۔اس کے بیس میں پوسٹ بنانے میں یہ قباحت ہے کہ دہشت گرد عارضی طور پر وچہ نرائے کی چوٹی پر چڑھ کر آرمی کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ اس طرح کی چند اور مجبوریاں بھی ہیں ۔البتہ تم لوگ اس چوٹی کو عارضی طور پر اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہواور یقینا اس کے لیے تمھیں ہیوی سنائپر بھی دستیاب ہو گی کیونکہ اس جگہ سے ذخیرہ ٹاپ ڈریگنوو کی رینج سے باہر ہو جاتی ہے ۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”آج مارا جانے والا امریکن سنائپر ہمارے لیے بیرٹ ایم 107 کاتحفہ چھوڑ گیا ہے ۔“
”بیرٹ ایم 107؟“میجر اورنگ زیب کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
میں وضاحت کرتے ہوئے بولا۔”جی ہاں ،یہ بھی ہیوی سنائپر ہی ہے ۔“
”تم لوگوں کے پاس نظر تو نہیں آ رہی ؟“
میں جواب دیتے ہوئے بولا۔”ایک جگہ پر چھپا دی ہے ۔اور ہو سکے تو اس کا ایمونیشن منگوا دیں کیونکہ اس کے ساتھ صرف ستائیس گولیاں ہمیں ملی ہیں ۔“
”اچھا میں اپنے پاس لکھ لیتا ہوں ۔“اس نے نوٹ بک نکال کر اس پر بیرٹ ایم 107 کا نام لکھ لیا ۔
”اور ہاں گلاک نائینٹین کا ایمونیشن بھی ۔“مجھے اچانک پستول یاد آ گیا جس کی چند گولیاں ہی میرے پاس رہ گئی تھیں ۔
میجر اورنگ زیب نے فوراََ کہا ۔”اس کی پچاس گولیاں میرے پاس موجود ہیں ۔جاتے ہوئے لیتے جانا ۔“
”شکریہ سر !“میں نے اطمینان بھرا سانس لیا ۔
”میرا خیال ہے یہ گھڑی بھی تمھیں امریکن سنائپر ہی سے ہاتھ لگی ہے ؟“اس نے میری کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف اشارہ کیا ۔
”جی سر !....“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”اگر پسند ہے تو میں آپ کو دے دیتا ہوں ۔“
”میں ضرو ر لیتا اگر تمھیں اس کی قیمت معلوم ہوتی اور تب تم یہ پیش کش کرتے ۔“اس نے گویاانکشاف کرتے ہوئے کہا ۔”یہ گھڑی پاکستانی کرنسی میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ کی ہوگی ۔“
”سر !....ابھی چند ماہ پہلے جب ہم امریکہ میں سنائپر کورس کر رہے تھے اس وقت اس کی قیمت تین ہزار امریکن ڈالر کے قریب تھی ۔آپ نے تو اس کی قیمت آدھے سے بھی گھٹا دی ہے ۔“
میری بات سن کر اس کے چہرے پر خفت بھرے تاثرات نمودار ہوئے ۔”معذرت خواہ ہوں ، میں نے محتاط اندازے کے مطابق کہا تھا ۔“
”کوئی بات نہیں سر !....یہ لیں ۔“میں نے گھڑی کلائی سے اتار کر اس کے جانب بڑھائی ۔ ”میرا خیال ہے اپنے الفاظ کا پاس آپ ضرور رکھیں گے ۔“
”کن الفاظ کا ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہی کہ اگر مجھے اس گھڑی کی قیمت معلوم ہوتی اور میں تب بھی آپ کو تحفہ دینا چاہتا تو آپ ضرور قبول کرتے ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”میں نے سوچا شاید تم ناواقفیت کی بنا پر مجھے دے رہے تھے۔“
”نہیں میں اس لیے آپ کو دے رہا تھا کہ آپ کے ہاتھ پر یہ اپنی پہچان کرا سکے گی ۔ہم جیسے اگر اتنی قیمتی گھڑی باندھ لیں تو دیکھنے والے اسے نقل ہی سمجھتے ہیں ۔“
”شکریہ ذیشان !....“اس مرتبہ وہ گھڑی میرے ہاتھ سے لے کر اپنی کلائی پر باندھنے لگا ۔ میں نے جیب سے اپنی پرانی گھڑی نکال کر کلائی پر باندھ لی تھی۔
”اچھا ہم ذخیرہ ٹاپ کی بات کر رہے تھے ۔“میجر اورنگ زیب نے گفتگو کا رخ دوبارہ ہمارے مشن کی طرف موڑا۔
”سر !....اتنی دور سے ہمیں پہچان کیسے ہو گی کہ فلاں شخص ذوالجدین یا مرشد ہے ؟“میں نے کافی دیر سے ذہن میں کلبلاتے سوال کو الفاظ کی صورت میں ڈھالا۔
”اچھا سوال ہے ۔“اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے سوال کو پسندیدگی کی سند سے نوازا۔”ذخیرہ ٹاپ سے ہماری پوسٹ ای بلاک اورشاہ جہان شہید پوسٹ پر زیادہ فائر آتا ہے مذکورہ دونوں پوسٹوں پر کوئی آدمی آڑ لیے بغیر حرکت بھی نہیں کر سکتا ۔اور ذخیرہ ٹاپ میں ان سنائپرز ہی کی وجہ سے ان دونوں پوسٹوں پر ایک مورچے سے دوسرے مورچے تک کے لیے فائری خندقیں کھودی گئیں ہیں۔ اب ہو گا یہ کہ....“وہ ہمیں اپنا منصوبہ بتانے لگا ۔اس کی بات ختم ہوتے ہی ہم دونوں نے بیک زبان کہا ۔
”سمجھ گئے سر ۔“
”گڈ ۔“اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔اور پھر مزید معلومات ہمارے گوش گزار کرنے لگا ۔ہم صبح کی نماز پڑھ کر ہی سو پائے تھے ۔
”اگلے دن شام کا کھانا کھا کر ہمیں رخصت کرتے وقت میجر اورنگ زیب نے کہا ۔ ”میں اگلے دس دن یہیں ہوں ،اس کے بعد شاید میں وانہ چلا جاﺅں لیکن کسی نہ کسی کی وساطت سے تمھیں میرے احکام اور ہدایات ملتی رہیں گی ۔“
”ٹھیک ہے سر !“کہہ کر ہم نے اس سے الوداعی معانقہ کیا اوروہاں سے روانہ ہو گئے ۔
٭٭٭
ڈی بلاک سے لگی نرائے کا زمینی فاصلہ پندرہ سولہ کلومیٹر سے زیادہ بن رہا تھا ۔ہم نے وہاں سے لگی نرائے ہی کا رخ کیا تھا کیونکہ اس کے دامن میں ہم نے بیرٹ ایم 107چھپائی ہوئی تھی ۔اس کے بغیر تو وچہ نرائے سے ذخیرہ ٹاپ پر فائر کرنا ناممکن تھا ۔صبح کے تین بج رہے تھے جب ہم وہاں پہنچے ۔ وہاں رکے بغیر ہم نے بیرٹ ایم 107 لی اور وہیں سے وچہ نرائے کی طرف بڑھ گئے ۔ڈریگنوو رائفل بھی میں نے وہاں نہیں چھوڑی تھی ،کیونکہ بیرٹ ایم 107 سے فائر کرنے کے بعد اس کو میں نے کہیں چھپا دینا تھا ۔یہ رائفل ہمیں کسی خاص موقع ہی پرضرورت پڑنا تھی ورنہ ڈریگنوو کی رینج میرے لیے کافی تھی۔ یوں بھی اس کا وزن ڈریگنو سے کافی زیادہ تھا اور اتنی وزنی رائفل کو ہر وقت ساتھ پھرانا آسان کام نہیں تھا۔ جبکہ اس کی ضرورت بھی کبھی کبھی پڑنا ہو ۔ طلوع آفتاب تک ہم وچہ نرائے کے دامن میں پہنچ گئے تھے۔ ایک مناسب غار ڈھونڈ کر ہم نے اپنا سامان وہیں رکھا سردی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ہمیں آگ جلانے کی ضرورت پڑتی ۔یوں بھی اپریل کا مہینہ ختم ہونے کو تھا ۔بلندی پر البتہ اچھی خاصی سردی پڑ رہی تھی ۔ خاص کر تیز ہوا سردی کی شدت کو بڑھا دیتی تھی ۔نومبر میں دسمبر میں تو برف باری بھی شروع ہو جاتی ہے ۔
سردار کو آرام کرنے کا کہہ کر میں بیرٹ ایم 107کو بیگ سے نکال کر جوڑنے لگا۔رائفل کو مکمل جوڑ کر میں غار کے دہانے پر آگیا ۔غار کے سامنے کافی گھنے درخت تھے ۔درختوں ساتھ ایک چھوٹی سی ٹیکری پر لیٹ کر میں نے پانسو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا پتھر چنا اور مطلوبہ رینج لگا کر ایک گولی فائر کر دی ۔اعلا کوالٹی کے سائیلنسر کی وجہ سے ہلکی سی ٹھک کی آواز آئی تھی ۔وہ پتھردو تین ٹکڑوں میں بٹ پر بکھر گیا تھا ۔ہر سنائپر اپنی رائفل کی صفر کاری اپنے طریقے سے کرتا ہے (صفرکاری کا مطلب ہے رائفل کو درست نشانہ لگانے کے لیے جانچنا) اور ضروری نہیں کہ ایک سنائپر کی صفر کی ہوئی رائفل سے دوسرا سنائپر بھی درست نشانہ لگا پائے کیونکہ ہر انسان کی ماسٹر آئی مختلف ہوتی ہے ۔اس کے باوجود امریکن سنائپر کی صفر کی ہوئی رائفل حیرت انگیز طور پر میرے مزاج کے موافق رہی تھی ۔(بہت سے قارئین کو توشاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ماسٹر آئی ہوتی کیا ہے ۔فائر کرتے وقت ہر شخص کو ایک آنکھ بند کر کے فائر کرنا پڑتا ہے اور درست فائر کے لیے ضروری ہے کہ ہر فائرر اپنی ماسٹر آئی کھول کر فائر کرے ۔گو ضرورت تو نہیں لیکن قارئین کی معلومات کے لیے ماسٹر آئی معلوم کرنے کا طریقہ درج کر دیتا ہوں ۔اپنا بایاں بازو مکمل کھل کر اپنی شہادت کی انگلی کھڑی کریں ۔اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے اس انگلی سے کسی بھی نشان پر شست لیں ۔اب باری باری اپنی دونوں آنکھیں بند کر کے دیکھیں کہ کس آنکھ کو کھلا رکھتے ہوئے اس نشان پر شست برقرار رہتی ہے ۔بس وہی آپ کی ماسٹر آئی ہے )
ایک گولی ہزار میٹر کے فاصلے پر فائر کر کے میں نے رائفل کے صفر ہونے کا یقین کیا ۔اور واپس غار میں پلٹ آیا ۔بیگ کھول کر سامان کا جائزہ لیتے ہوئے میں بے اختیار اپنا سر پیٹنے لگا ۔اس میں رکھی NSV-80 کلپ آن نائیٹ ویژن سائیٹ میرا منہ چڑا رہی تھی ۔دو تین دن پہلے زیڑہ کیل پر اگر یہ سائیٹ ہم استعمال کرتے تو روشن خان پارٹی کے کئی بندوں کو نشانہ بنا سکتے تھے ۔حالانکہ امریکن سنائپر سے سامان قبضہ کرتے وقت میں نے اچھی طرحNSV-80 کلپ آن نائیٹ ویژن سائیٹ کو دیکھا تھا، لیکن جب ضرورت پڑی اس وقت یہ سائیٹ ذہن ہی سے نکل گئی تھی ۔یہ ایک بہترین سائیٹ ہے اور سنائپر رائفل پر لگا کر اس سے رات کے اندھیرے میں بھی فائر کیا جا سکتا ہے ۔بہ ہرحال جو بے وقوفی ہونا تھی وہ تو ہو چکی تھی اس پر ماتم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔
غار کے ٹھنڈے فرش پر پاﺅں پسار کر میں نے اپنے سفری تھیلے سے چنوں کے بنے ہوئے غذائیت سے بھرپور بسکٹ نکال کر کھانے شروع کر دیے ۔بسکٹ کھا کر میں نے غار سے باہر جا کر خشک لکڑیاں اکٹھی کیں اور آگ جلا کر چاے بنانے لگا ۔
سردار اپنی مرضی سے دوپہر کو بارہ بجے اٹھ گیا تھا ۔اس کے بستر سے نکلتے ہی میں لیٹ گیا ۔ تھکاوٹ سے یوں بھی آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔سردار کے آواز دینے پر آنکھ کھلی تو شام کا ملگجا اندھیرا چھا چکا تھا ۔رات کے وقت وچہ نرائے کی بلندی طے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔یہ کام اگلے دن پر اٹھا کر ہم نے وہ رات بھی اسی غار میں گزاری ۔صبح سویرے ہم بالکل تازہ دم تھے ۔چاے پی کر ہم نے وچہ نرائے کی چڑھائی پر قدم رکھ دیے ۔ذخیرہ ٹاپ سے اس کی بلندی ذرا ہی کم تھی لیکن اس کی چڑھائی نہایت دشوار گزار اور خطرناک تھی ۔مسلسل اوپر چڑھتے ہوئے ہمیں دو گھنٹے لگ گئے تھے ۔وچہ نرائے کی چوٹی ایسی تھی کہ وہاں رہائش نہیں بنائی جا سکتی تھی ۔اس جگہ ہوا بھی خاصی تیز چل رہی تھی ۔ایک پتھر یلی چٹان سے ٹیک لگا کر ہم سستانے لگے ۔
ذخیرہ ٹاپ وہاں سے صاف نظر آ رہی تھی ۔دو بینکر سامنے تھے اور باقی کھدائی کر کے پہاڑی کے اندر بناے گئے تھے ۔میں نے دوربین نکال کر جائزہ لیا ۔ایک آدمی ان بینکرز کے اوپر ٹہلتا نظر آیا ۔
آئی کام پر میں نے ای بلاک سے رابطہ کیا ۔
”ہم بٹالین میں پہنچ گئے ہیں اوور۔“میں نے کوڈورڈ میں انھیں بتایا کہ ہم اپنی جگہ پر پہنچ چکے تھے ۔
پوسٹ کمانڈر نے جوا ب دیا ۔”شاباش،کل چھٹی نکل جانا ۔باقی پوسٹ کی فکر نہ کرو ہم چوکنا ہیں اوور۔“
”ٹھیک ہے واپسی پردوسرے چینل بات ہو گی اوراینڈ آل۔“کہہ کر میں نے بات چیت ختم کر دی ۔میں نے اسے بتا دیا تھا کہ ہم وچہ نرائے کی بلندی پر تیار بیٹھے ہیں ۔مجھے یقین تھا کہ میجر اورنگ زیب خٹک فیلڈ ٹیلی فون پرانھیں سارا منصوبہ سمجھا چکا ہوگا ۔
”سردار !....تیار ہو جاﺅ۔“بیرٹ ایم 107کی دوپائی کھول کر میں نے مناسب جگہ پر لگائی اور رائفل کاک کر کے اس کے پیچھے لیٹ گیا ۔
سردار نے سب سے پہلے تو ایل آر ایف (لیزر رینج فائینڈر)نکال کر فاصلہ ناپا۔
”سترہ سو دس میٹر۔“کہہ کر اس نے ایل آر ایف آنکھوں سے ہٹایا اور اور ونڈ میٹر نکال کر ہوا کی رفتار ناپنے لگا ۔”پندرہ کلومیٹر فی گھنٹا۔“ہوا کی رفتار بتا کر وہ ونڈ چارٹ دیکھنے لگا۔ اس دوران میں ذخیرہ پوسٹ کا زاویہ دیکھنے لگا ۔ذخیرہ پوسٹ ہم سے بلند تھی اور فائر کرتے وقت بلندی ، گہرائی اور متوازی ہدف پر فائر کرنے کے الگ الگ طریقے ہیں ۔جیسے اپنی پوزیشن سے نیچے فائر کررہے ہوں تو کشش ثقل کی وجہ سے گولی آگے جائے گی اورجب اپنی پوزیشن سے اوپر فائر کر رہے ہوں تو گولی پہلے لگے گی۔فائر کرتے وقت سنائپر کوبلندی اور پستی کا فرق نکالنا پڑتا ہے ۔حقیقت میں سنائپنگ ایک سائنس ہے ۔اورجب تک ایک سنائپر رائفل کو صحیح طریقے سے استعمال نہ کر سکے تو کامیابی کے حصول میں ناکام رہتا ہے ۔میں بہ مشکل مکمل تیار ہو پایا تھا کہ ہدف مجھے نظر آ گیا ۔بیرٹ ایم 107 کی طاقتور ٹیلی سکوپ سائیٹ میں مجھے دو آدمی بھاگ کر بینکر سے نکلتے دکھائی دیے ۔ایک نے دونوں ہاتھوں میں سنائپر رائفل اٹھائی ہوئی تھی ۔بینکر کی چھت پر سنائپر کو دوپائی پر لگا کر وہ اس کے پیچھے لیٹ گیا ۔گویا وہی میرا ہدف تھا ۔
میں نے سردار کو آئی کام آن کرنے کی ہدایت کی ۔اسی وقت ذخیرہ پوسٹ پر لیٹے سنائپر نے گولی فائر کی اور پھر مکا ایسے لہرایا جیسے اس نے کامیاب فائر کر دیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دوربین میں ای بلاک کا جائزہ لینے لگا ۔
”تھری ،ٹو ون ....“میں نے آہستہ سے دہرایا ۔اورایک سیکنڈ انتظار کر کے ٹریگر دبا دیا۔
جبکہ سردار نے وہی ہندسے آئی کام پر دہراتے ہوئے ایک کے بعد فائر کہا ۔اس کے ساتھ ہی ای بلاک کی طرف سے 12.7ایم ایم کابرسٹ چلایا گیا ۔مذکورہ سنائپر سر کے بائیں جانب میری گولی کھا کر پشت کے بل گرا تھا ۔ذخیرہ ٹاپ وچہ نرائے سے شمال کی سمت میں واقع تھی جبکہ ای بلاک ذخیرہ ٹاپ سے مغرب کی جانب تھا ۔مذکورہ سنائپر کا رخ ای بالک کی طرف ہونے کی وجہ سے اس کی بائیں جانب میری طرف تھی ۔ای بلاک سے 12.7کا فائرہ کرانے کا یہی مقصد تھا کہ دہشت گردوں کا دھیان وچہ نرائے کی طرف نہ آئے اور وہ اپنے سنائپر کی ہلاکت کی وجہ 12.7کا فائر ہی سمجھیں۔یہ علاحدہ بات کہ ذرا سا غور کرنے پر وہ حقیقت کی تہہ تک پہنچ سکتے تھے ۔
سردار خوشی سے چہکا۔”راجا صاحب!....“تمھارے فائر کی تعریف کیے بنا رہا نہیں جاتا ۔“
”شکریہ یار!“کہہ کر میں نے ٹیلی سکوپ کے عدسے سے آنکھ پیچھے ہٹا لی ۔وہ اپنے ساتھی لاش لے کر نیچے اتر گئے تھے ۔
”کنٹرول فا رای بلاک اوور۔“سردار سے آئی کام لے کر میںای بلاک کو پکارنے لگا ۔
”ای بلاک فار کنٹرول !....ہمارا ایک آدمی سنائپر کی گولی سے شہید ہو گیا ہے اوور۔“
”ہمیں تو 12.7ایم ایم کے فائر کی آواز سنائی دی تھی اوور۔“
”12.7ایم ایم سے جوابی فائر ہم نے کیا ہے اوور۔“
”ٹھیک ہے محتاط رہو ایک ہی سنتری کو گولی لگی ہے دوسرے کو نہیں اوور۔“میں نے کوڈ ورڈ میں بتا دیا کہ ایک سنائپر کو میں کامیابی سے نشانہ بنا چکا ہوں ۔
”ٹھیک ہے سر !....ہم فی الحال شہید ہونے والے کی لاش کو اگلی پوسٹ تک پہنچانے کا بندوبست کرتے ہیں اوور۔“
”کل تک خدا حافظ اوور اینڈ آل۔“میں نے اسے بتا دیا کہ اگلی کارروائی کل ہو گی ۔چونکہ آئی کام وغیرہ پر گفتگو بالکل محفوظ نہیں تھی اور ہر وقت کسی اور کے سننے کا خدشہ رہتا ہے اس لیے ہم نے ساری گفتگو یوں کی کہ کوئی اگر سن بھی رہا ہو تو وہ یہی سمجھے کہ آرمی کا آدمی دہشت گردوں کی گولی کا نشانہ بن چکا ہے ۔حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا ۔انھوں نے کپڑوں اور روئی وغیرہ سے انسان کے اوپری جسم کا پتلا بنایا تھا یوں کہ اسے مکمل سنتری کا روپ دیا گیا تھا۔کمر سے نیچے ایک ڈنڈا باندھ کر ایک آدمی اس ڈنڈے کو پکڑ کر فائری خندق میں چھپ کر اس پتلے کو یوں دائیں بائیں حرکت دینے لگا جیسے کوئی سنتری چھت پر ٹہل رہا ۔یہ ہم نے چارے کے طور پر کیا تھا ۔کیونکہ اس سے پہلے بھی یہی ہوتا تھا کہ جونھی کوئی فوجی سامنے نظر آتا ذخیرہ ٹاپ سے فوراََ سنائپر کا فائر آ جاتا ۔ہماری چال کامیاب رہی تھی ۔فوجی کو چھت پر ٹہلتے دیکھ کر ذوالجدین یا مرشد دونوں میں سے کوئی ایک فوراََ اسے شکار کرنے کو بھاگا یوں مجھے آسانی سے پتا چل گیا کہ وہاں پر سنائپر کون ہے ۔اس کے علاوہ اتنی دور سے تو کسی کی پہچان مشکل تھی ۔
ہم اپنا سامان سمیٹ کر بلندی سے تھوڑا نیچے اتر ے ۔درختوں کے جھنڈ کے درمیان ہم رات گزارنے کی جگہ بنانے لگے ۔گو اترے تو ہم جنوب کی طرف سے تھے لیکن رات گزارنے کی مناسب جگہ ہمیں شمال کی جانبب ملی تھی ۔جگہ بنا کر میں آئی کام سے چھیڑ خانی کرنے لگا مختلف چینل تبدیل کر کے میں دشمن کی بات سننے کی کوشش کرنے لگا ۔ایک چینل پر روشن خان کی مدہم آواز سنائی دی لیکن وہ جس آدمی سے بات کر رہا تھا اس کی آواز نہیں آرہی تھی ۔ روز مرہ کی چند باتیں کرنے کے بعد ر اس کی آواز بھی غائب ہو گئی ۔ایک دو چینلز پر کوئی عام آدمی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے نظر آئے ۔چونکہ موبائل فون اس علاقے میں کام نہیں کرتا اس لیے عام لوگ بھی آئی کام کو رابطے کے ذریعے کے طور پر کام میں لاتے ہیں ۔گو اس کی رینج اتنی زیادہ نہیں ہوتی ،لیکن چند کلومیٹر کے فاصلے پر بات ہو جانا بھی غنیمت ہی ہوتا ہے ، کہ پہاڑی علاقے میں تو چند کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔میںزیادہ دیر اس شغل کو جاری نہ رکھ سکا یوں بھی خواہ مخواہ آئی کام کی بیٹری کو استعمال کرنا مناسب نہیں تھا ۔
رات کو ہم آگ جلا ئے رکھی تھی ۔اگلے دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ہم دوبارہ بلندی کے سفر پر روانہ ہوئے ۔واپسی کے لیے ہم نے وہی رستا استعمال کیا جس سے نیچے اترے تھے ۔اپنی جگہ پر ہم پہنچنے ہی والے تھے کہ شوں کی آواز کے ساتھ ایک گولی میرے کافی قریب سے گزرتی ہوئی ہمارے عقب میں موجود چٹان سے ٹکرائی ۔میں نے لیٹنے میں دیر نہیں لگا ئی تھی ۔گولی کے پتھر سے ٹکرانے کی آواز سردار بھی سن چکا تھا ۔وہ بھی فوراََ زمین بوس ہو گیا ۔
”بال بال بچے ہیں راجا صاحب !“سردار اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔
یقینا زیادہ فاصلے کی وجہ سے نشانہ خطا ہوا ہے ۔“
”نہیں ۔“سردار نے نفی میں سر ہلایا۔”وہ بے وقوف بے صبری کا مظاہرہ کر گیا ہے ۔اگر وہ ہمارے رکنے کا انتظار کر لیتا تو شاید کامیا ب ہو جاتا ۔
رینگ کر پتھر کی آڑ لیتے ہوئے میں نے بیرٹ ایم 107 کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے ڈسٹ کور اتارے اور ذخیرہ ٹاپ کا جائزہ لینے لگا ۔یقینا اپنے ساتھی کے سر کی بائیں جانب لگی ہوئی گولی کی وجہ سے انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ ان پر کس جانب سے فائر کیا گیا ہے ۔ہم بے خبری میں مار کھا گئے ہوتے لیکن فاصلے کے زیادہ ہونے اور ہمیں حرکت کے دوران نشانہ بنانے کی بے وقوفی کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو پایا تھا ۔کیونکہ حرکتی ہدف کو نشانہ بنانا ناممکن نہیں توبہت زیادہ مشکل ضرور ہے ۔
سورج قریباََ ہماری پشت پر چمک رہا تھا ۔ہوا بالکل تھمی ہوئی تھی ۔جلد ہی مجھے ٹیلی سکوپ سائیٹ کے شیشے کی چمک دکھائی دے گئی تھی ۔مخالف سنائپر قریباََ چھت سے چمٹا ہوا تھا ۔لیکن اس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کا شیشہ اپنی چمک کی وجہ سے واضح نظر آرہا تھا ۔اسی وقت ایک اور گولی ہمارے سامنے پڑے پتھر کی جڑ میں لگی ۔
میری رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ پر ابھی تک گزشتہ کل والی ایلی ویشن اور ڈی فلکشن لگی تھی ۔ کل چونکہ کافی ہوا چل رہی تھی اس لیے میں نے ڈی فلیکشن ناب کو ونڈ چارٹ کی ریڈنگ کے مطابق گھمادیا تھا ۔آج ہوا ساکن تھی میں نے فوراََ ڈی فلیکشن ناب کوگھما کر صفر ریڈنگ پر لگایااور دشمن کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے پر شست باندھ لی،کیونکہ ٹیلی سکوپ کے آئی گلاس پر لازماََ سنائپر کی آنکھ نے ہونا تھا ۔سانس روکتے ہوئے میں نے ٹریگر دبایا۔سردارنے آنکھوں سے دوربین لگائی ہوئی تھی ۔گولی کی ”ٹھک ۔“ہوتے ہی اس نے کہا ۔
”لیں جی راجا صاحب !....مشن مکمل ۔دوسرا سنائپر بھی گیا جان سے ،اس غریب کو پتا ہوتا کہ عزرائیل ثانی کا شاگرد عزرائیل ثالث مقابلے میں ہے تو یقینا ٹکر نہ لیتا ۔“
مجھے اس کی بات پر ہنسی چھوٹ گئی تھی ۔
”میں صحیح کہہ رہا ہوں یار !....ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے گولی گزارنا شاید استاد عمر دراز کے لیے بھی ممکن نہ ہو ۔“
”نہیں ۔“میں نے فوراََ نفی میں سر ہلایا۔”استاد جی !....کا فائر مجھ سے کئی گنا بہتر ہے ۔“
”چلو ای بلاک کو تو خوش خبری سنا دیں ۔“اس نے آئی کام آ ن کیا اور مطلوبہ چینل کے لیے بٹن دبایا۔ابھی تک وہ مطلوبہ چینل تک نہیں پہنچا تھا کہ ایک چینل پر روشن خان کی منحوس آواز سنائی دینے لگی ۔ اس کی صاف اور واضح آواز سنتے ہی میں نے فوراََ کہا ۔
”سردار !....ٹھہرو اس کی بات سننے دو ،ای بلاک کو بعد میں بھی اطلاع دی جا سکتی ہے ۔“وہ بٹن دبا چکا تھا ۔میری بات پر دوبارہ روشن خان والا چینل لگا دیا ۔
”آج کسی کی غلطی معاف نہیں ہو گی ۔اس لیے احتیاط سے کام لینا ۔وہ دونوں دن کی روشنی میں کہیں حرکت نہیں کر سکتے ۔“
”ہم تیار ہیں کمانڈر!....ہم بھی ....ہم بھی ....ہم بھی ....ہم بھی ۔“مختلف آدمی وقفے وقفے سے اپنے تیار ہونے کا اعلان کرتے گئے ۔
”سردار !....تم نے وہی سنا جو مجھے سنائی دیا ۔“میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ سردار کی طرف دیکھا ۔
میری بات کا جواب دیے بغیر اس نے دوربین آنکھوں سے لگائی اور وچہ نرائے کے دامن میں پھیلے درختوں کی طرف غور سے دیکھنے لگا ۔
”اب ہوشیاری سے اوپر کی طرف بڑھو ۔اور خود کوحتی الوسع چھپا کر رکھو ۔ان دونوں میں سے کم از کم ایک ایسا ضرور ہے جس کا نشانہ بے داغ ہے ۔ابھی ابھی مجھے ذخیرہ ٹاپ سے خبر ملی ہے کہ مرشد کو آنکھ میں گولی لگی ہے ۔“
”راجا صاحب !....مرنے سے پہلے کون سی دعا پڑھی جاتی ہے ؟“دوربین آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے سردار نے سنجیدگی سے پوچھا ۔
میں نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا ۔”مسلمان تو کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ۔“
”تو پڑھ لو بھائی !....رات کے اندھیرے میں تو نکل گئے تھے اب وہ یقینا نہیں چھوڑیں گے۔“
”اتنی بھی جلدی کیا ہے پہلے انھیں تو یاد کرالیں کلمہ شہادت ۔“میں اتنی آسانی سے ہار ماننے کے لیے تیار نہیں تھا ۔”،یہ بتاﺅتمھارے پاس کتنی گولیاں ہیں ؟“
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top