نازیہ خانم جب لوٹی تو سات ماہ کی حاملہ تھی، نواز خان کے ساتھ وہ سوا سال تک رہی مگر اس کی ماں اور کوٹھے کی نائقہ اس کے اس حالت میں بھی لوٹ آنے پر بھی بہت خوش تھی، نازیہ کی ماں نے جب نازیہ کو نواز خان کے ساتھ رخصت کیا تھا تو اس کے ذہن میں ایک اندازہ تھا کہ نواز خان کم از کم پانچ سال تک نازیہ کو...
اخبار کے صفحوں پر نظر یں جمائے سوچوں کے گھوڑے بے لگام ہو کر ماضی کے تاریک رستوں پرجب سرپٹ دوڑنےلگےتو جسم کا ہر انگ پچھتاوے اور شرمندگی میں ڈوب گیا، اور بہت عرصے بعد مجھے ڈپریشن کا دورہ پڑنے لگا، جب دماغ کے ہرکونے پر ناامیدی اور پچھتاوے کے کالے سیاہ بادل برسنے لگے تو انکھوں سے پانی بہنے لگا، زبان...
ناشتے کے بعد نصرت کچن میں کام کر رہی تھی اور شہاب کی نظریں اپنی ماں کے بھرپور اور گداز جسم کا طواف، جسے نصرت محسوس کر کے زندگی میں پہلی دفعہ لطف لے رہی تھی، اسے آج اچھا لگ رہا تھا شہاب کا ان نظروں سے دیکھنا، اس نے ایک دم اپنا کام روک کر شہاب کی طرف دیکھا جو کرسی پر بیٹھا حوس بھری نظروں سے اسے...
اگلی صبح شہاب کی آنکھ کھلی تو اس نے گھڑی کی طرف دیکھا، وہ یونیورسٹی کے لیئے لیٹ ہو گیا تھا، اس نے آج چھٹی کا ارادہ کیا اور سارہ دن نصرت کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا،اپنی امی کے ساتھ دن گزارنے کا ہی سوچ کر اس کے جسم میں مزے اور سرور کی لہریں دوڑ گئیں، وہ جلدی سے فریش ہو کر نیچے گیا، تو دیکھانصرت...
شہاب کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے نصرت کی طرف دیکھا جو ابھی بھی سرور اور ہونے والی چودائی کے نشے میں لگ رہی تھی، شہاب نے کمرے میں لگی گھڑی کی طرف دیکھا تو شام کےچھ بج چکے تھے یعنی تھوڑی ہی دیر میں شہاب کے والد بھی دکان سے آ جاتے، شہاب نے اپنی ماں کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھااور ہونٹوں پر چومتے...
اور پھر نصرت ایک دم سے شہاب کے لوڑے پر بیٹھتی گئی اس نے اپنے دانت سختی سے بھینچ رکھے تھے اور اس کا جسم دوبارہ کانپنے لگا تھا، شہاب نصرت کی اس حرکت سے مزے اور سرور کے سمندر میں ڈوبتا گیا، اس نے نصرت کے چوتڑوں کے نیچے اپنے ہاتھ رکھ کر اسے تھوڑا اٹھانے کی کوشش کی مگر نصرت لن اندر باہر کرنے کی بجائے...
شہاب نے نصرت کے چہرے کی طرف دیکھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی سحر میں ہیں اور جو کچھ وہ کر رہی ہے وہ اسی سںحر کا نتیجہ ہے، شہاب نے اپنی کمر کو پیچھے کر کے نصرت میں داخل ہونے کے لیئے شیست لی اور ایک زوردار دھکا لگا کر نصرت کی چوت کو چیرتا ہوا اندر تک گھس گیا، نصرت اس زوردار حملے کے لیئے تیار نہ...
نصرت بےتابی اور بےصبری سے شہاب کو چوم اور چاٹ رہی تھی، اور اس کا نچلہ دھڑ کسی سپنی کی طرح شہاب کے جسم پر لوٹ رہا تھا، شہوت سر چڑھ کر بول رہی تھی، نصرت نے اپنی ٹانگیں پھیلا کر شہاب کے دونوں طرف کردی اور اپنی جلتی چوت کو شہاب کے لوڑے پر رگڑنے لگی، نصرت کی بے اختیاری دیکھ کر شہاب نے معملات کو اپنے...
شہاب کی سٹی گم ہو چکی تھی، وہ حیران پریشان سا لیٹا اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا، اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب اور سانسیں بےقابو تھیں، شہاب نے اپنا کانپتا ہاتھ اپنی امی کےسر پر رکھا، تو نصرت نےبات جاری رکھتے ہوئے کہا شہاب تم بھی سوچ رہے ہو گے کہ میں کیسی عورت ہوں، کل تک ہر طریقہ تم پر آزمایہ کہ تم...
شہاب نے نصرت کے گرد ہاتھ لپیٹتے ہوئے کہا، امی میری پیاری امی جو ہونا تھا وہ ہو گیا مگر اسے آپ ہی ٹھیک کر سکتی ہیں نصرت نے شہاب کے کندھے پر سر رکھے رکھے ہی جواب دیا نہیں بیٹا رات کو مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ تمھارے ابو بہت اگے نکل گئے ہیں اور واپسی اب ناممکن ہے شہاب نے اپنی امی کے سر پر ہاتھ رکھا...
شہاب کی بات سن کر نصرت تھوڑی سوچ میں پڑ گئی، مگر شہاب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا امی مجھے اپ دونوں بہت پیارے ہیں شروع شروع میں جب مجھے ابو کی اس عادت کا پتہ لگا تو مجھے بہت سخت غصہ ایا تھا مگر میں نے بہت سوچا کہ ابو ایسا کیوں کر رہے ہیں تو مجھے اندازہ ہوا ابو تو شکار بن گئے ہیں آپ کی ابو کی...
دوپہر کو شہاب یونیورسٹی سے گھر آیا تو نصرت لیونگ روم میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی، شہاب کو دیکھتے ساتھ ہی نصرت کا چہرہ کھل اٹھا اور اس نے شہاب سے کھانے کا پوچھا تو شہاب انکار کرتا ہوا اپنے کمرےمیں چلا گیا، نصرت کو اندازہ تھا کہ شہاب نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور کھانا بھی نہیں کھا رہا اور وہ...
شہاب اور نصرت کے درمیان تعلقات نارمل ہو چکے تھے، شہاب نے بھی بہت حد تک اپنے آپ پر قابو پا لیا تھا، وہ اپنے دماغ میں کسی بھی ایسی سوچ کو جگہ دینے سے گریز کر رہا تھا جو اس کے اور اس کی ماں کے رشتے کو خراب کرنے کا سبب بنے، مگر نصرت اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کر رہی تھی وہ یہ کہ شہاب کی طرف اپنے...
صبح نصرت کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ اس کا آدھے سے زیادہ جسم شہاب کے اوپر ہے اور وہ اس کے مضبوط سینے پر اپنا سر اور بازو رکھے سو رہی ہے، اس کےممے شہاب کی پسلیوں پر دبے ہوئے ہیں اور اس کی ایک ٹانگ شہاب کے اوپر ہے، نصرت نے اٹھتے ساتھ ہی شہاب کے چہرے کی طرف دیکھا جو بہت گہری نیند میں تھا، نصرت...
آدھی رات گزر چکی تھی، شہاب اپنی ماں کے بازو پر سر رکھےاور سینے میں منہ چھپائے گہری نیند میں تھا، مگر نصرت ابھی بھی جاگ رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسووں کی لڑی بہہ بہہ کر تکیہ بھگو رہی تھی، وہ گزرے ہوئے ان سالوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جس میں وہ شہاب کی کیفیت سے بےخبر رہی، اسے دکھ تھا کہ کتنا آسان...