28
اگلی صبح عارف اور ڈی جی پی ورما وزیراعلی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ جیسے جیسے عارف اس کیس کی تمام تفصیلات ثبوتوں کے ساتھ بتائی جا رہا تھا ویسے ویسے وزیراعلی کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا " یہ ساری تفصیلات سننے کے بعد میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان لوگوں کی نظر میں قانون کی...
قسط نمبر 22
انیق اس وقت اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے کومل کی بات مانی. وہ ننگا تھا اور داراب ہاؤس کے ہی ایک کمرے میں تھا. اس کے سامنے ارم فرحان لیٹی تھی. یہ تھی تو ایک سینیٹر ہی جو عمر میں پچپن سال کی تھی اور کئی طرح کے امراض میں مبتلا تھی. کومل کا میسیج آنے پر وہ کومل کی لینے کے چکر میں آیا...
اپڈیٹ
ارم کی قسمت شاید کچھ زیادہ ہی اچھی تھی کہ اگلے روز اس کو میرے لن سے چدنا تھا اور صبح صبح ہی ایک کولیگ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جس وجہ سے مجھے پہلے ہی شہر جانا پڑا۔ یہ پورا ہفتہ سوکھا ہی گیا اور میں بس چیمیٹ پر شو دیکھ کر ہی کام چلا سکا۔ اگلے ہفتے گاؤں میں بھی ایک شادی تھی تو میری ساری پھدیاں...
27
عارف اس وقت پھول چند مہتا کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ پھول چند مہتا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی تحویل میں تھا۔ اپنے سامنے مدھیہ پردیش پولیس کے ڈی سی پی کو دیکھ کر وہ بھی کافی حیران تھا۔ عارف نے کہا " دیکھو پھول چند۔ میں زیادہ لمبی بات نہیں کروں گا اور تم سے سیدھا سوال پوچھوں گا ۔ یہ بات میں...
26
عارف صبح سویرے بیدار ہوا اور وہ بہت جلدی
اپنے گھر چلا گیا۔ وہ اس حقیقت سے واقف تھا کہ صبا جلد بیدار ہونے والی نہیں تھی کیونکہ وہ اس گولی کے زیر اثر تھی جو حمیرا نے اس کی چائے میں ملائی تھی۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر اس کے لیے ایک نوٹ چھوڑ دیا جس پر لکھا تھا کہ اسے جلد آفس جانا ہے اس لیے جا رہا ہے۔...
اپڈیٹ
میں روٹین میں گاؤں پہنچا اور اس پر جان بوجھ کر پہلا چکر زینت کے گھر کا لگایا۔ اس روز اس کا شوہر اور اس کی سوتن موجود تھے چنانچہ روٹین کی گپ شپ لگانے کے بعد میں نے ایسے ہی اس کے جیٹھ حاضر کے بارے میں سوال کر لیا کیونکہ حاشر کی بیوی کوثر بھی وہاں موجود تھی۔ زینت کے شوہر صفدر نے بتایا کہ حاشر...
21قسط نمبر
زین اور زارا اسی فلیٹ میں تھے جہاں وہ دو تین روز قبل ملے تھے. زارا صرف پینٹی میں تھی اور زین صرف انڈروئیر میں. زین زارا کی گود میں لیٹا کسی چھوٹے بچے کی طرح اس کے ممے چوس رہا تھا اور وہ کراہتے ہوۓ کہہ رہی تھی "...
قسط نمبر 20
عابد اور انیق اپنی خفیہ جگہ بیٹھے تھے. عابد نے کہا " آج تمہیں فرصت کیسے مل گئی ادھر کا راستہ بھولنے کی " انیق نے کہا " بھائی بات ہی ایسی ہے. آپ اور زین بھائی سنو گے تو پاگل ہی ہو جاؤ گے" عابد نے کہا " ایسا کیا ہے" اس نے کہا " زین بھائی کو آنے دو نا..سرپرائز خراب نہیں کرتے" وہ بولا "...
میں گاؤں سے واپس شہر آگیا اور اپنے کام پر لگ گیا۔ مجھے دوسرے روز ہی شک ہوا جیسے کچھ لوگ میرا پیچھا کر رہے ہیں۔ لیکن میں نے پھر بھی احتیاطی طور پر سنسان جگہوں پر جانا کم کر دیا اور اگلے دو روز میں مجھے یقین ہو گیا کہ میرا مسلسل پیچھا کیا جا رہا ہے۔ پیچھا کرنے والے دیہاتی ٹائپ لوگ لگ رہے تھے اور...
اگلے روز مجھے اپنی دونوں سہیلیوں کے بھائیوں کے گھروں کو بھگتانا تھا۔ پہلا پڑاؤ علیم بھائی کے گھر میں ہوا اور ان کے چار سال کے بچے کو تمام باتیں سکھانے کے بعد میں سیدھا سلیم بھائی کے گھر گیا۔ گاؤں میں جیسے عام طور پر دروازے کھلے ہوتے تھے ویسے ہی ان کے گھر کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا چنانچہ میں...
میں کافی دیر اس کے اوپر لیٹا ہوا اپنی سانسیں درست کرتا رہا اور پھر اپنے فوجی کو اس کے مورچے سے نکالا تو فوجی ہم دونوں کے پانی سے لتھڑا ہوا تھا۔ میں اس کے برابر میں لیٹ گیا اور اپنی سانسوں کو پوری طرح سے بحال کرنے لگا لیکن وہ بھی سیدھی لیٹی ہوئی اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی۔ یہ سب کچھ اس قدر اچانک...
قسط نمبر 19
انیق اور کومل ایک دوسرے کی بانہوں میں لیٹے تھے. کومل نے ایک
خوبصورت سی ساڑھی پہن رکھی تھی. یہ جگہ موٹروے کے پاس ایک جگہ پر بنائی گئی تھی اور کومل کے بقول اس جگہ کا علم صرف اسی کو تھا. وہ بولی " بومی میں جانتی ہوں کہ تمہارے من میں ناجانے کتنے سوال چل رہے ہوں گے مجھے اور ہمارے بیچ جو...
قسط نمبر 18
جس وقت انیق کومل کے ساتھ وقت گزار رہا تھا. اس وقت لاہور ہی کے ایک اور علاقے میں ایک گھر میں ہادیہ اور زین ننگے تھے اور ہادیہ زین کے لن پر کود رہی تھی. زین کے ہاتھ اس کی گانڈ کے ارد گرد تھے اور وہ چلا رہی تھی "...