Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر


”مسٹر ذیشن بیٹھیں ۔“البرٹ کی آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے واپس کھینچا ۔اور میں مرے مرے قدم اٹھاتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔
”یقینا اب تک تم یہی سوچتے رہے ہو گے کہ ہم نہایت بے وقوف اور گدھے ہیں جو اتنی آسانی سے تم سے دھوکا کھا رہے ہیں ۔“
میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے سکا تھا ۔
”پتا ہے بچپن میںمجھے اپنی ٹانگ پر اتنی سخت چوٹ لگی تھی کہ بس میری ٹانگ ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گئی تھی اور یہ سارا کیا دھرا میرے باپ کا تھا ۔مجھے درخت پر چڑھا کر اس نے نیچے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ، بیٹا چھلانگ لگاﺅ میں تمھیں پکڑ لوں گا ....ان پر اعتبار کرتے ہوئے میں نیچے کودااور مجھے پکڑنے کے بہ جائے وہ ایک جانب ہٹ گئے ۔میری ٹانگ پر سخت چوٹ لگی تھی ۔جب درد سے بے حال ہو کر میں رو رہا تھا اس وقت انھوں نے میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے ایک اہم سبق پڑھایا تھا جومجھے آج تک یاد ہے ۔ انھوں نے کہا تھا ،”بیٹا !....تمھیں تکلیف تو ضرور ہوئی ہے لیکن اب تمھیں یہ بات نہیں بھولے گی کہ زندگی میں کبھی اپنے باپ پر بھی اعتبار نہ کرنا ۔“اس کی بات پر ٹریسی نے زور دار قہقہہ لگایا تھا ۔اس کے قہقہے سے میرے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد نے کروٹ بدلی لیکن مجھے کچھ واضح یاد نہیں آسکاتھا۔بھاری آواز کے برعکس اس کا قہقہہ نہایت سریلا تھا ۔البرٹ نے اس کے قہقہے پر توجہ دیے بغیر اپنی بات جاری رکھی ۔
”یقینا تم جان گئے ہو گے کہ میں یہودی ہوں اور پھر امریکن خفیہ ایجنسی کا ایک آفیسر بھی ہوں کیا مجھے نہیں معلوم کہ تم مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔میں اچھی طرح جانتا تھا کہ تم نے کسی حالت میں پاک آرمی کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا نہ جان کا خوف تمھیں اس بات پر مجبور کر سکتا ہے اور نہ کوئی لالچ ہی اکساسکتا ہے ۔“
”جب جانتے ہو تو پھر اتنی تگ و دو کا فائدہ ؟“میں ابتدائی جھٹکے سے سنبھل گیا تھا ۔
”میں نے کہا تم پاک آرمی کے خلاف کام نہیں کرو گے ....اوربے فکر رہو ہم نے تمھیں پاکستان کے خلاف استعمال ہی نہیں کرنا ۔“
”کیا مطلب ؟“میں نے اس کی طرف حیرانی سے دیکھا ۔
وہ اطمینان سے بولا۔”مطلب نہایت واضح ہے ....ہم تمھیں افغانستان میں موجوددہشت گردوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔“
”اور اگر میں اس کے لیے بھی تیار نہ ہوا تو ....؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میںبولا ۔”تو جاﺅ رستا کھلا ہے ،روکا کس نے ہے ۔بس خیال رکھنا کہ پاک آرمی کے ہتھے نہ چڑھ جانا ۔“
میں نے لرزتی سوچوں کے ساتھ کہا ۔”یعنی تم یہ وڈیوز پاک آرمی کے حوالے کر چکے ہو ؟“
”نہیں ہوئیں تو ہو جائیں گی .... دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔“
میں نے مرے مرے لہجے میں کہا ۔”جب تم آرمی کے حوالے یہ وڈیوز کرو گے تو یقینا انھیں سازش کی بو سونگھنے میں دیر نہیں لگے گی ۔“
”ہم نے آرمی کے حوالے نہیں کرنی ۔یہ تو آرمی کے اپنے ذرائع جو دہشت گردوں میں موجود ہیں ۔وہ بڑی جان فشانی سے ان وڈیوز تک رسائی حاصل کریں گے اور فی الفور متعلقہ افراد تک یہ وڈیوز پہنچا دیں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”اور اگر میں تمھارے لیے کام کروں تو پھر کب تک یہ وڈیوز آرمی کے حوالے نہیں کی جائیں گی ؟“
وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”تین سال ہمارے لیے کام کرو ،معاوضا بھی ملے گا اور تین سال بعد اپنی بے گناہی کے ثبوت بھی مل جائیں گے ۔میرا مطلب ہے تین سال بعد ان تمام وڈیوز کو ضائع کر دیا جائے گا ۔“
”مگر میں تم پر کیوں اعتبار کرنے لگا ۔“
”مجبوری ہے تمھاری ،اعتبار تو کرنا پڑے گا۔یوں بھی امید پر دنیا قائم ہے ۔تین سال بعد کم از کم تم اپنے گھر والوں سے تو مل سکو گے ۔اب اگر یہ وڈیوز خفیہ ایجنسیوں کے حوالے ہو گئیں تو پہلے مرحلے میں وہ تمھارے گھر والوں کو اٹھا کر لے جائیں گے ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”تین سال کی غیر حاضری کا کیا بہانہ کروں گا ؟“
”قید....یا سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے یاداشت چلے جانے کا بہانہ ....نہیں تو تمھیں شہادت کے درجے پر فائز کر دیتے ہیں ،تمھارے گھر والوں کو بھی آرمی کی طرف سے اچھی خاصی دولت مل جائے گی ۔یہاں سے فارغ ہوتے ہی تم اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر کسی اور جگہ منتقل ہو سکتے ہو ....اگر امریکہ آنا چاہو تو خوش آمدید۔“
میں سوچ میں پڑ گیا ۔انھوں نے مجھے بالکل ہی بے دست دپا کر دیا تھا ۔مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔
”تم جاﺅ اورا طمینان سے سوچو ....ہمیں تمھارے جواب کا انتظار رہے گا ۔بس یہ یاد رکھنا جس وقت تم نے کام کرنے کی حامی بھری اسی وقت سے تمھارے تین سال کی شروعات ہو جائے گی ۔“
میں تھکے تھکے انداز میں اٹھ کر وہاں سے باہر نکل آیا ۔دروازے پر موجود محافظوں نے مجھے دیکھتے ہی ایک دم میری جانب ہتھیار سیدھے کر لیے تھے ۔
”ہاتھ اوپر ۔“ان کے کمانڈر نے فوراََ حکم دیا ۔لیکن میں اس کی بات ان سنی کرتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔کمانڈر نے فوراََ دروازہ کھول کر اندر جھانکا ۔اسی وقت میرے کانوں میں البرٹ کی آواز پڑی۔
” اسے جانے دو ۔“
کمانڈر نے دروازہ بند کر کے تمام محافظوں کو ہتھیار نیچے کرنے کا کہا ۔میں بے پروائی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھتا رہا ۔وہاں سے نکل کر میرے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچی تھی ۔انھوں نے مجھے اس انداز میں گھیرا تھا کہ میں پھڑپھڑا بھی نہیں سکتا تھا ۔
میں بستر پر گرنے کے انداز میں ڈھیر ہوگیا ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہود و نصاریٰ کتنے عیار ، دھوکے باز اور سازشی ہوتے ہیں میں بے وقوفوں کے انداز میں ان کی ہر بات پر عمل کرتا گیا تھا۔مجھے پھانسنے کے لیے انھوں نے لمبی چال چل تھی ۔سہراب خان کا کردار ایک دم میری نظروں میں واضح ہو گیا تھا۔ اسے بڑے طریقے اور مہارت سے میرے قریب بھیجا گیا تھا ۔اور مجھے مزید اطمینان دلانے کے لیے اسے گرفتار کر کے مصنوعی طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا ۔ ہمدرد بن کر اس نے میرے دل میں جینے کی امنگ پیدا کرنے کے ساتھ مجھے یہ ترغیب دی کہ میں کس طرح گوروں کو دھوکا دے سکتا تھا۔اور پھر مجھے اس کام پر آمادہ کرتے ہی اسے وہاں سے غائب کر دیا گیا ۔میری سزا پر عمل درآمد بھی روک دیا گیا۔ اور جونھی میں نے کام پر آمادگی ظاہر کی البرٹ بروک بغیر کوئی شک و شبہ ظاہر کیے مجھ پر یقین کرنے لگا ۔ اس کا مقصد تو بس میرے منھ سے آرمی پر حملوں کا اعتراف کروانا تھا ۔میرے جرم کو مزید گھناﺅنا بنانے کے لیے اس نے کرنل کولن فیلڈ کا کردار بھی ڈرامے میں شامل کیا اور میں احمقوں کی طرح اس کے کہنے پر چلتا گیا ۔وہ میرے ہمراہ بیٹھ کر آرمی پر حملے کا ہر منصوبہ بڑی تفصیل سے بناتا جس کی وڈیوباقاعدگی سے تیار ہوتی ، پھروہ کارروائی کسی اور کے ہاتھوں سرانجام پاتی ۔اوراس کے بعد میں کرنل کولن فیلڈ کے سامنے اس کارروائی کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہوئے انعام بھی وصول کرتا ۔اگر یہ وڈیوز واقعی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ لگ گئی تھیں تو انھیں مر کر بھی میری بے گناہی پر یقین نہیں آ سکتا تھا ۔آخری ملاقات میں تو کرنل کولن فیلڈ نے مجھے واپس آرمی میں جا کر اپنے لیے کام کرنے کی دعوت بھی دی تھی جس کی میں نے بڑے جوش و خروش سے حامی بھر لی تھی ۔
گویا میں واپس جا کر جتنی بھی کوشش کرتا اپنے بڑوں کو یہ یقین نہیں دلا سکتا تھا کہ میں بے گناہ ہوں ۔انھوں نے کوئی پہلو بھی تشنہ نہیں رہنے دیا تھا ۔اتنے ثبوتوں کی موجودی میں مجھے پھانسی کے پھندے سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا تھا ۔لیکن اس سے پہلے خفیہ ایجنسیوں نے پوچھ گچھ کے نام پر میرے ساتھ جو سلوک کرنا تھا اس کے بارے سوچ کر ہی میں کانپ جاتا تھا ۔وطن دشمنوں اور غداروں کے لیے ان ایجنسی والوں کے دل میں رحم کی رمق بھی موجود نہیں ہوتی تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ تحقیق کے بعد انھیں میری بے گناہی کایقین آجاتا مگر یہ یقین کتنے عرصے بعد آنا تھا اور اس دوران مجھے کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ۔غدار نہ ہوتے ہوئے بھی میری ذات پر ایسا دھبہ لگ جاتا جس کے اثرات میری آئندہ آنے والی نسل کو بھی سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑتے۔
”شادی کرو گے تو نسل چلے گی نا ؟“میرے دماغ میں ایک ایسی سوچ ابھری جو نہ جانے مجھے تسلی دے رہی تھی یا میرے انجام کو مزید بھیانک بنا کر پیش کر رہی تھی ۔سر جھٹک کر میں نے ان اذیت ناک سوچوں سے جان چھڑانا چاہی مگر اس وقت ان سوچوں کے آگے بند باندھنا ناممکن تھا ۔میں پیش آنے والے حالات کے بارے سوچنے لگا ۔
اب وہ مجھے افغانستان میں موجود مجاہدین کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے کیونکہ افغانستان میں مختلف دھڑے کام کر رہے تھے ۔ امریکن ،افغان ،انڈین آرمی اور دہشت گرد پاکستان آرمی کے خلاف متحرک تھے ۔مجاہدین امریکن اور انڈین آرمی کے خلاف برسرپیکار تھے ۔کچھ مقامی سرداراپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے ۔کچھ نے مجاہدین کے ساتھ الحاق کیا ہوا تھا کچھ حکومت کے ساتھ تھے ایک لمبی اور الجھی ہوئی جنگ کا حصہ بننا یقینا دشوار تھا لیکن پاک آرمی کے خلاف کام کرنے سے کئی گنا بہتر تھا ۔میری بے گناہی کے ثبوت البرٹ بروک کے پاس موجود تھے اور ان ثبوتوں کے حصول تک ان کے لیے کام کرنا میری مجبوری تھی ۔اگر میں اس طرح نہ کرتا تو یقینا اپنی بے گناہی کے ثبوت کبھی حاصل نہ کر پاتا ۔
ان الجھن آمیز سوچوں میں میں پوری رات کھویا رہا لیکن کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا ۔دل چاہ رہا تھا کہ کسی ایسی جگہ پر جا کر چھپ جاﺅںجہاں مجھے کوئی نہ ڈھونڈ سکے ۔
ناشتا اور دوپہر کا کھانا اکیلا آدمی ہی لے کر آیا تھا اس کے ساتھ کوئی مسلح آدمی موجود نہیں تھا ۔ میں نے اسے البرٹ بروک سے ملاقات کی بات کی تھوڑی دیر بعد میں اس کے سامنے بیٹھاتھا ۔
”تو کیا فیصلہ کیا ؟“وہ اس وقت اکیلا ہی تھا ۔
”کوئی پاکستانی میری گولی کا نشانہ نہیں بنے گا ۔“میں نے اپنا فیصلہ سنایا۔
وہ تصحیح کرتا ہوا بولا ۔”کوئی پاکستانی فوجی تمھاری گولی کا نشانہ نہیں بنے گا ۔“
”میں نے پاکستانی کہا ہے ....“میں مصر ہوا ۔
وہ منھ بناتے ہوئے بولا ۔”یہ مطالبہ ہی غلط ہے ۔“
”وہ کیسے ....؟“
”کیونکہ اب تک کئی پاکستانی تمھاری گولی کا نشانہ بن چکے ہیں ۔“
”وہ تمام دہشت گرد تھے ۔“
”بالکل صحیح ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”دہشت گرد کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ وطن۔باقی تم یہ اصرار تو کر سکتے ہو کہ پاکستان کے اندر کسی کو قتل نہیں کرو گے لیکن افغانستان کے اندر کام کرتے ہوئے کسی ایسی شرط کے پیش کرنے کا مطلب ہے تم ہمارے لیے کام ہی نہیں کرنا چاہتے ۔“
اس کی بات خلافِ حقیقت نہیں تھی ۔”پاک آرمی کے کسی فوجی کو افغانستان میں بھی نشانہ نہیں بناﺅں گا ۔“میں نے حتمی فیصلہ سنایا۔
”منظور ۔“اس نے بے جھجکے اثبات میں سر ہلادیا ۔اسی وقت ٹریسی کمرے سے برآمد ہو کر اپنی مخصوص جگہ پر آن بیٹھی ۔
میں نے کہا ۔”میں تیار ہوں ۔“
”شاباش۔“ٹریسی کے ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ ابھری ۔اس کی آواز بھاری تھی، لیکن ہنستے وقت اس کی آواز کافی سریلی ہو جاتی تھی ۔کبھی کبھی مجھے یوں لگتا جیسے وہ آوازتبدیل کر کے بول رہی ہے ۔
البرٹ نے پوچھا ۔”کافی چلے گی ؟“
”آپ پئیں۔“میں نفی میں سرہلا کر وہاں سے باہر نکل آیا ۔میں نے ان کے ساتھ کام کرنے کی حامی تو بھر لی تھی لیکن نہ تو میرا ضمیر مطمئن ہو رہا تھا اور نہ میرا دماغ اس کی تائید کر رہا تھا ۔
کمرے میں آکر لیٹے ہوئے مجھے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ سردارصنوبر خان پہنچ گیا وہ کافی دنوں بعد لوٹا تھا ۔
”مبارک ہو بھئی ،سنا ہے ہمارے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔“بے تکلفی سے کہتے ہوئے وہ میرے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا تھا ۔
”کبھی کبھی ایسے فیصلے کرنا مجبوری بن جاتی ہے ۔“
”کسی مجبوری ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ البرٹ نے مجھے کس طرح سے پھانسا تھا ۔
”چھوڑ و اس بات کو ،یہ بتاﺅ اتنے دن کہاں غائب رہے ۔“میں نے وہ دل خراش موضوع تبدیل کیا ۔
”اپنا تو کاروبار ہی ایسا ہے کہ کسی جگہ پر ٹک کر نہیں رہ پاتا ۔“
میں نے پوچھا ۔” اب مجھے تمھارے زیر کمان کام کرنا پڑے گا یا البرٹ خود ہی مجھے حکم دیا کرے گا؟“
وہ ہنسا ۔”تم ایک خصوصی آدمی ہو جناب!....میری کیا مجال کہ تمھیں حکم دے سکوں ۔البتہ یہ ممکن ہے کہ کبھی کبھی البرٹ صاحب کا حکم تم تک پہنچانے میں واسطہ بننا پڑے ۔“
”ہونہہ!“میں نے مطمئن انداز میں سر ہلادیا کہ ایک غدار کے زیر کمان کام کرنا مجھے مزید پریشان کر سکتا تھا ۔
”اچھا آج تمھارے لیے ایک خاص پارٹی کا انعقاد کر رہا ہوں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیسی پارٹی ؟“
”تھوڑا ہلا گلا کریں گے ، رقص وغیرہ سے لطف اندوز ہوں گے ،گانا بجانا ہوگا،کھانے پینے کا بندوبست کیا جائے گا اور بس اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔“
میں نے بے زاری سے کہا ۔”اس کی کیا ضرورت ہے ۔“
وہ جلدی سے بولا ۔”واہ ....اس کی کیوں ضرورت نہیں ،ایس ایس جیسے نشانہ باز کی آمدپر چھوٹا موٹا جشن تو بنتا ہے نا ۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے میں چپ ہو گیا ۔وہ تھوڑی دیر گپیں ہانکنے کے بعد چلا گیا ۔
رات کو حویلی میں واقعی جشن کا سماں تھا ۔پانچ چھے رقاصائیں اور پشتو کے دو تین گائیک بھی بلائے گئے تھے ۔سہ پہر ہی کو آگ کے بڑے بڑے الاﺅ حویلی کے وسیع صحن میں جلا کر سالم دنبے اور بکرے بھونے گئے ۔اندھیرا چھاتے ہی گانے بجانے کی محفل شروع ہو گئی تھی ۔البرٹ بروک کے علاوہ بھی مجھے چند امریکن نظر آرہے تھے ۔خصوصی مہمانوں کے لیے صوفہ سیٹ رکھے گئے تھے جبکہ باقی لوگ تین اطراف میں بچھی ہوئی چاپائیوں پر بیٹھ گئے تھے ۔رقص کرنے والیوں کے لیے صوفوں اور چارپائیوں کے درمیان میں جگہ بنائی تھی
مختلف پکوانوں سے بھرے ڈونگے اور ٹرے گانے بجانے کے دوران ہی چارپائیوں اور صوفوں کے سامنے پڑی ہوئی میزوں پر سجا دیے گئے تھے ۔گویا ناظرین کورقاصاﺅں کے خوب صورت اجسام کو لٹکتے مٹکتے دیکھتے ہوئے کھانے کی سہولت پہنچائی گئی تھی ۔ایسی محافل میں ام الخبائث کی موجودی فرض ہوتی ہے ۔ٹریسی بھی لمبوتراگلاس ہاتھ میں تھامے میرے ساتھ آن بیٹھی اورگلاس سے ہلکی ہلکی چسکیاں لیتے ہوئے شوخی بھری نگاہوں سے مجھے گھورنے لگی ۔میں اس سے بے پرواناچنے والیوں کو دیکھتا رہا ۔پیشہ ور ہونے کے باوجود ان میں سے کوئی بھی پلوشہ کی طرح رقص نہیں کر سکتی تھی ۔ان میں سے ایک کے جسمانی خال و خد پلوشہ سے ملتے جلتے تھے ۔بس بال ذرا لمبے تھے ،نین نقش پلوشہ کی طرح جاذب نظر نہیں تھے اور وہ پلوشہ جتنی ماہر رقاص بھی نہیں تھی ۔ دشمن جاں سے تھوڑی بہت مشابہت رکھنے کے وجہ سے وہ میری نظروں کا مرکز بنی رہی ۔
”تم مسلسل اس کالے کپڑوں والی رقاصہ کو اس لیے گھورے جا رہے ہو کہ یہ جسمانی طور پر اس جسم فروش لڑکی سے مشابہت رکھتی ہے جس نے تمھارا سودا کیا تھا ۔ہے نا ؟“ٹریسی کی بھاری آواز نے میرے کانوں میں زہر انڈیلا ۔
میں نے تلخ لہجے میں کہا ۔”تمھیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔“
”ہاہاہا....“اس کا سریلا قہقہہ بلند ہوا ۔”ویسے میرے بارے کیا خیال ہے ؟“اس نے بے باک لہجے میں پوچھا ۔
میں طنزیہ لہجے میں بولا ۔”مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو آئینہ دیکھ لینا تھا ۔“
اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”یقین کرو میں تمھاری نام نہاد محبوبہ کی طرح جسم فروش نہیں ہوں۔“
”تو اس جسم کو کوئی احمق ہی خرید سکتا ہے ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس سے چڑ ہونے لگی تھی ۔ شاید اس نے پلوشہ کے بارے جو بکواس کی تھی وہ مجھے ہضم نہیں ہورہی تھی ۔
میرے طنزیہ لہجے کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ بولی ۔”ویسے شادی شدہ ہو کر تمھیں کسی فاحشہ میں دلچسپی نہیں لینا چاہیے تھا ۔“
اس کی بات سنتے ہی میں حیرت سے اچھل پڑا تھا ۔”تمھیں کیسے پتا کہ میں شادی شدہ ہوں۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولی ۔”تم امریکن انٹیلی جنس کی ایک میجر سے مخاطب ہو ۔“
”اچھا ....تو امریکن انٹیلی جنس کی میجر کو یہ تو معلوم ہے کہ میں شادی شدہ ہوں،لیکن یہ پتا نہیں کہ کافی عرصہ پہلے ہی میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں ۔“
اس نے تصدیق چاہنے والے انداز میں کہا۔”اس فاحشہ کے لیے جو تمھیں بیچ کر چلی گئی ۔“
”میرا خیال ہے ایک امریکن لڑکی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلق کو اتنے اوچھے نام سے ظاہر کرے ۔تم خود بھی یقینا کئی مردوں کونواز چکی ہو گی ۔“
”ہونہہ!....“اس نے طنزیہ ہنکارا بھرا ۔”غلط فہمی ہے جناب کی ،ضروری نہیں کہ ہر امریکن لڑکی ایسی ہی ہو ۔“
”ایک ادھ کی پارسائی پوری قوم کی بے راہ روی کا دفاع نہیں کر سکتی ،بالکل اس طرح جیسے ایک ادھ کی بے راہ روی پوری قوم کو گمراہ ثابت نہیں کرتی ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی ۔”فی الحال موضوعِ بحث وہ فاحشہ اور میں ہیں ۔نہ توتمھاری قوم کی پارسائی اس کی جسم فروشی پر مٹی ڈال سکتی ہے اور نہ میری تہذیب کی آزادی مجھے میلا ثابت کر سکتی ہے ۔“
”یوں دعوا کرنے سے کیا حاصل،شاید تمھارے قریبی ساتھی بھی اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہ ہوں ۔“میں نے اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔
وہ اعتماد سے بولی ۔”تمھیں تحقیق کرنے کی اجازت ہے ۔“
”کس لیے ؟“میں نے اسے حیرانی سے گھورا ۔
”دوستی کے لیے ۔“اس نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔
”محترما !....میں نے صرف اپنی بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنے کے لیے تمھارے لیے کام کرنے کی حامی بھری ہے ۔یقینا اس میں تم سے عشق کرنے کی کوئی وجہ شامل نہیں ہے ۔“
وہ مسکرائی ۔”تو کیا ....یہ کام تو اب بھی ہوسکتا ہے ۔“
میں نے طنز کا ایک اور تیر چلاتے ہوئے کہا ۔”ہاں ،اگر تم دنیا کی آخری لڑکی ہوئیں تو ....“
اس نے برا منائے بغیر پوچھا ۔”اچھا سچ سچ بتاﺅکیا حقیقت میں میں تمھیں بدصورت اور بھدی لگ رہی ہوں ۔“
”مجھے نہیں لگ رہی ہو ....تم ہو ہی بدصورت ۔“میں نے اسے مطعون کرنا جاری رکھا ۔
اسی وقت تین امریکن صوفوں کو چھوڑ کر رقاصاﺅں کے ساتھ ناچنے لگے تھے ۔
”اچھا میرے ساتھ رقص کرنا پسند کرو گے ۔“میری کسی بھی بات کا برا منائے بغیر وہ زبردستی گلے پڑ رہی تھی ۔
میں نے منھ بناتے ہوئے جواب دیا ۔”اگر ناچنا آتا تب بھی یہ حماقت نہ کرتا ۔“
”چلو نا ....“اس نے کھڑے ہو کر میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ۔
ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا کر میں بھنے ہوئے گوشت کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
کندھے اچکاتے ہوئے وہ ناچنے والوں کی طرف بڑھ گئی ۔پشتو ساز پر رقص کرنا کچھ زیادہ ہی آسان ہوتا ہے ۔اپنے امریکن ساتھیوں کے بہ جائے وہ اسی لڑکی کے ساتھ مل کر تھرکنے لگی جو مجھے پلوشہ کی طرح لگ رہی تھی ۔چست لباس میں اس کا سڈول اور پرکشش بدن پیشہ ور رقاصاﺅں سے زیادہ جاذب نظر لگ رہا تھا ۔
”آج تو بڑی گپ شپ ہو رہی تھی ۔“صنوبر خان نے میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا ۔
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”گپ شپ نہیں کر رہا تھا ،جان چھڑا رہا تھا ۔“
وہ حسرت بھرے لہجے میں بولا ۔”قسم سے یار ہم تو ترس رہے ہیں اس کالی کے لیے ۔“
میں استہزائی انداز میں ہنسا ۔”تو میں کیا کروں ۔“
”یہ بھی صحیح کہا ۔“اس نے برا نہیں منایا تھا ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”سردار صاحب !....وہ امریکن ہے اور تم اس کے لیے کام کرتے ہو اپنے آقاﺅں کی عزت پر نظر رکھنا کوئی مثبت فعل نہیں ہے ۔“
”ہا....ہا....ہا۔“اس نے بلند بانگ قہقہہ لگایا ۔”یار یہ حبشن اپنے امریکن ساتھیوں کو بھی گھاس نہیں ڈالتی ۔“
”ویسے اس حبشن میں پرکشش لگنے والی چیزکون سی ہے ؟“
وہ ندیدے پن سے بولا ۔”مجھے تو سر تاپا پرکشش دکھتی ہے ۔“
میں نے ٹریسی کی طرف دیکھا اس کے رقص کو بے ہنگم اچھل کود ہی کہا جا سکتا تھا ،لیکن حقیقت یہی ہے کہ جوان لڑکی کا سازوں کی لے پر اچھلنا کودنا ہی بہ ذات خود ایک خوش کن نظارہ ہوتا ہے ۔ صنوبر خان کی بات میں مجھے بھی کوئی شک نہیں تھا ۔ٹریسی کے اندر ایک عجیب سی پراسرار کشش موجود تھی جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔حالانکہ بہ ظاہر نظر وہ کالی کلوٹی تھی ۔
موضوع تبدیل کرتے ہوئے اس نے مجھے بے حیائی سے پوچھا ۔”اچھا رات گزارنے کے لیے کس رقاصہ کا انتخاب کرو گے ۔“
میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”مجھے ان خرافات سے دور ہی رکھو ۔“
”نہ کرو یا ر!“اس نے حیرانی ظاہر کی ، اس کی حیرت مجھے ترغیب دینے کی غرض سے تھی ۔
”یہ حقیقت ہے صنوبر خان ۔“میں اپنی بات پر قائم رہا ۔
”تم سے شاید پلوشہ خان وزیر کا پرکشش بدن نہیں بھلایا جاتا ۔“اس کا اندازہ حقیقت سے خالی نہیں تھا ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”نہ تو میں نے اسے اس نظر سے دیکھا تھا اور نہ کبھی اس کے بارے غلط خیال دل میں لایا تھا۔“
”اتنا عرصہ اس کے قریب رہنے کے باوجود ایسا دعوا کرنا تمھیں زیب نہیں دیتا ۔“ایک مکروہ ہنسی اس کے ہونٹوں پر نمودار ہو گئی تھی ۔
میں نے بے زاری سے کہا ۔”مجھے صفائیاں دینے سے چڑ ہے ۔“
”ویسے وہ خود بھی اس معاملے میں بڑی تیز ہے،مردوں کو لبھانا اور الو بنانا تو اس کے لیے بالکل ہی آسان ہے ۔“
”بھاڑ میں جائے ۔“میں تپتے ہوئے بولا ۔
”ٹھیک ہے جگر !....مزے کرو ۔“وہ مزید تکرار کیے بغیر اٹھ کر البرٹ کی طرف بڑھ گیا تھا ۔
گھنٹے پون گھنٹے کی اچھل کود کے بعد ٹریسی دوبارہ میرے پاس آن کر بیٹھ گئی تھی ۔”کیسا لگا میرا رقص۔“ماتھے پر نمودار ہوئے پسینے کے قطرے پونچھتے ہوئے اس نے داد چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
”جیسی تم ،ویسے تمھارا رقص ۔“مجھے سچ مچ ہنسی آگئی تھی ۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔”تمھاری محبوبہ سے تو اچھا ہی ناچتی ہوں گی ۔“
”ٹریسی !....میں اس کے کردار کے بارے کچھ نہیں کہنا چاہتا اورنہ میں اس کے کسی فعل کی صفائی ہی دینا چاہتا ہوں ۔لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں ،تم تو کیا آج تک میں نے کسی پیشہ ور رقاصہ کو بھی اس جیسا خوب صورت رقص کرتے نہیں دیکھا ۔“
”اچھا ،اس کا مطلب ہے اس کا تعلق ضرور کسی کوٹھے وغیرہ سے ہوگا۔“
میں نے حیرانی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا ۔”تمھیں کیا معلوم کوٹھا کیا ہوتا ہے ؟“
”تم یہ بات کیوں بھول جاتے ہو کہ میں امریکن انٹیلی جنس کی میجر ہوں اور پاکستا ن آنے سے پہلے یہاں کے لوگوں اور تہذیب و ثقافت کے بارے مکمل جان کاری حاصل کر چکی ہوں ۔“
”ویسے سچ کہوں تو مجھے تم البرٹ بروک کی محافظ لگتی ہو ۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔”وہ میرا ہم رینک ہے ۔گو مجھ سے دوتین سال سینئر ہے لیکن ہے وہ بھی میجر ۔“
میں کولڈ ڈرنک کا گلاس بھر کر ہلکی ہلکی چسکیاں لینے لگا ۔وہ پروگرام رات گئے تک جاری رہا ۔ اس دوران ٹریسی میرے ناگواری ظاہر کرنے کے باوجودوہیں بیٹھے زبردستی میرے ساتھ گپیں ہانکتی رہی۔ پروگرام کے اختتام پر پسند کی رقاصہ کو پکڑ کر امریکن جیالے اپنے کمروں کا رخ کرنے لگے ۔
ٹریسی نے مسکرا کر کہا ۔”ایک لڑکی تو تمھارے حصے میں بھی آ رہی ہے ۔“اس کا اشارہ بچ جانے والی رقاصہ کی طرف تھا جسے کسی نے بھی ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا تھا ۔
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”تم ہو نا میرے ساتھ ۔“
”سچ ۔“وہ جیسے کھل اٹھی تھی ۔
”بالکل ،لیکن اس کے بعد تم پارسائی کا دعوا نہیں کر سکو گی ۔“
وہ اطمینان سے بولی ۔”پروا نہیں ۔“
”چلتا ہوں ،پھر ملیں گے ۔“
”میں جانتی تھی تمھارے بھونڈے مذاق کو ۔“منھ بناتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔اس کی کھلی ڈلی دعوت کے باوجود مجھے یقین تھا کہ اس کی دعوت بس دکھاواہی ہے ۔
٭٭٭
اگلے دن دوپہر کو میری آنکھ کھلی تھی ۔ناشتے کا وقت گزر چکا تھا ۔ملازم میرے لیے دوپہر کا کھانا لے آیا ۔کھانے سے فارغ ہو کر میں چاے پی رہا تھا کہ البرٹ ،ٹریسی کے ہمراہ میرے کمرے میں داخل ہوا ۔میں اسے دیکھ کر حیران ر گیا تھا ۔کیونکہ اسے اپنے کمرے میں میںپہلی بار دیکھ رہا تھا ۔
وہ لکڑی کی کرسی پر نشست سنبھالتے ہوئے بولا۔”مسٹر ذیشن !....ہم ذرا علام خیل تک جا رہے ہیں پرسوں واپسی ہو گی اس کے بعداکٹھے افغانستان کی جانب کوچ کریں گے ۔“
ٹریسی بے تکلفی سے میرے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئی تھی ۔
”میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں ، حویلی میں پڑے پڑے تنگ آگیا ہوں۔“
”مناسب نہیں ہے ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”کیا مطلب ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
”دراصل وہاں چند قبائل کے سرداروں کا اکٹھ ہورہا ہے جس میں پاکستان آرمی کے خلاف حکمت عملی ترتیب دی جائے گی اور یقینا تم ایسی کسی بھی محفل کا حصہ بننا پسند نہیں کرو گے ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے تائیدی انداز میں سر ہلاد یا تھا ۔
ٹریسی نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”اگر پسند کرو تو میں تمھارے لیے رک سکتی ہوں ۔“
”کوشش کرنا کہ علام خیل ہی سے افغانستان چلی جانا ۔میں البرٹ کے ساتھ آ جاﺅں گا ۔“
میری بات پر البرٹ نے زور دار قہقہہ لگایا ۔ٹریسی کے چہرے پر بھی خوب صورت مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی ۔
البرٹ نے کہا ۔”ویسے ٹریسی والکرکی طرف سے دی گئی دعوت ٹھکرا نا کفران نعمت ہی تو ہے ۔“
ٹریسی نے یقین بھرے لہجے میں کہا ۔”یہ صرف ان جانے میں بے وقوفی کا مرتکب ہو رہا ہے۔“
”میں بے وقوف ہی بھلا ۔“
”وقت آنے پر پتا چل جائے گا ۔“اعتماد بھرے لہجے میں کہتے ہوئے ٹریسی کھڑی ہو ئی اور وہ دونوں الوداعی مصافحہ کر کے وہاں سے نکل گئے ۔
ان کے جانے کے تھوڑی دیر بعد صنوبر خان بھی مجھے ملنے کے لیے آگیا کمانڈر بہارخان بھی اس کے ہمراہ تھا ۔
چند منٹ گپ شپ کر کے وہ کمانڈر بہار کو میرے بارے میں بتانے لگا کہ اب وہاں پرمیری حیثیت البرٹ صاحب کے خصوصی نمائندے کی سی تھی ۔اس لحاظ ان کے لیے ضروری تھا کہ میری ہر بات کو اہمیت دیتے ۔
الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے اس نے بھی وہی باتیں دہرائی تھیں جو اس سے پہلے البرٹ مجھے بتا چکا تھا ۔پاک آرمی کے خلاف طے کی جانے والی حکمت عملی میں وہ مجھے شامل نہیںکرنا چاہتے تھے ۔ گو یہ بات میرے دل پر ایک بوجھ ہی تھی کہ میں ان لوگوں کے ہمراہ تھا جو فوج کے خلاف متحرک تھے ۔گو میں بے بس تھا مگر یہ دلیل مجھے دہشت گردوں کا ساتھ دینے پر مطمئن نہیں کر سکتی تھی ۔
میری زندگی بھی عجیب گورکھ دھندا بن گئی تھی ۔مجھے اس انداز میں پھانس لیا گیا تھا کہ میرے لیے کوئی چناﺅ نہیں بچا تھا۔البتہ جان کی قربانی دے کر میں اس آزمائش سے بچ سکتا تھا ۔
”شاید اورنگ زیب صاحب کو میری بے گناہی کا یقین آجائے ؟“ایک امید بھری سوچ میرے دماغ میں اجاگر ہوئی ۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ روح فرسا خیال میرے دماغ میں جاگا کہ اگر میری وڈیوز خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں چڑھ گئیں تو اورنگ زیب صاحب میری مدد کرنے کے قابل ہی نہیں رہے گا ۔
مجھے ہر طرف اندھیرا اور نا امیدی ہی نظر آ رہی تھی ۔اذیت ناک سوچوں سے جان چھڑا نے کے لیے میں کمرے سے باہر نکل کر حویلی کے صحن میں آگیا ۔رات والے جشن کی باقیات کی صفائی کر دی گئی تھی ۔میں حویلی کا جائزہ لینے لگا ۔حویلی کو تقریباََ پرانے طرز تعمیر کے مطابق ہی بنایا گیا تھا ۔بس چند چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہی کی گئی تھیں۔داخلی دروازے پر ایک آدمی گود میں کلاشن رکھ کر کرسی پر بیٹھا تھا ۔ سامنے کی جانب جہاں جنوبی اور مشرقی دیوار مل رہی تھی وہاں دیوار کی بلندی پر ایک مورچہ بنا تھا اور اس وقت وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔اسی طرح ایک مورچہ شمال مغربی دیوار کے سنگم پر بنا ہوا تھا ۔اس وقت مجھے وہ بھی خالی نظر آیا ۔یقینا وہاں رات کے وقت ہی سنتری موجود ہوتے تھے ۔البتہ صنوبر خان کی موجودی میں مجھے وہاں دن کو بھی سنتری نظر آتے تھے ۔صنوبر خان کے جاتے ہی سنتری ڈھیلے ہو جاتے تھے ۔
میں شام کا اندھیرا پھیلنے تک حویلی میں گھومتا رہا ۔اندھرا ہوتے ہی میں واپس کمرے میں آگیا تھا ۔ایک آدمی میرے لیے کھانا لے کر آیا ۔بھوک نہ ہونے کے باوجود میں نے تھوڑا بہت کھانا کھایا اور آرام کرنے لیٹ گیا ۔مگر آرام میری قسمت میں نہیں تھا ۔فائر کی آواز نے مجھے اچھلنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ میں فوراََ کمرے سے نکلا اسی وقت میرے کانوں میں ایک کرخت آواز گونجی ....
”اگر حرکت کی تو جان سے جاﺅ گے ۔“
ایک لمحے کے لیے لگا کہ یہ مجھے کہا گیا ہے ،مگر پھر صحن میں ہونے والی تیز روشنی میں مجھے جنوبی دیوار کے ساتھ ایک آدمی ہاتھ اٹھائے کھڑا نظر آیا ۔اس نے چہرے پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا ۔یقینا اس نے جنوب مغرب کی جانب سے حویلی کے اندر گھسنے کی کوشش کی تھی اور اس کی بد قسمتی کہ اس پر سنتری کی نظر پڑ گئی تھی ۔اس آدمی کا رخ میری ہی جانب تھا اور اس کے جسمانی خدو خال میری دھڑکنوں کو بے ربط کر رہے تھے ۔
فائر کی آواز اور سنتری کے للکارنے پر تمام لوگ ہتھیار سونتے باہر نکل آئے تھے ۔میں بھی اسی طرف بڑھ گیا ۔اندر گھسنے والے نے سنتری کے حکم پر اپنی کلاشن کوف نیچے پھینک دی تھی ۔کمانڈر بہار خان کے اشارے پر ایک آدمی نے آگے بڑھ کر نیچے پڑی کلاشن کوف اٹھائی اور اس کے ساتھ ہی اس کے چہرے پر لپٹا کپڑا کھول دیا ۔
میرا دل اتنی زور سے دھڑکا ،گویا حلق کے رستے باہر آ گر ے گا ۔وہ پلوشہ تھی ۔وہی بے خوف چہرہ اور بے نیازانہ انداز۔وہ اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے مجھے ہی گھور رہی تھی ۔
”کیا یہ کسی بدکردار لڑکی چہرہ ہو سکتا ہے ؟“احمق دل نے اس کی طرف داری کرنے میں ایک لحظے کی تاخیر نہیں کی تھی ۔
”ڈر اس لڑکی کے چہرے پر ظاہر ہوتا ہے جس کے پاس کھونے کو کچھ ہو ۔اس فاحشہ کو کس چیز کا خوف اور ڈر ہو گا ۔لڑکیاں عزت لٹ جانے کی وجہ سے ڈرتی ہیں اور اس نے اپنی عزت ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے ۔ یقینا بہار خان کے آدمیوں کو نواز کر یہ اپنی جان آسانی سے چھڑا لے گی ۔“میرے دماغ نے حقیقت کے مطابق تجزیہ کیا تھا ۔
”ارے واہ !....یہ تو اپنی دل جانی ہے ....یقینا اسے معلوم ہو گیا ہے کہ سردار صنوبر خان اور ایس ایس کی صلح ہو گئی ہے ۔اب اس سے پہلے کہ تم اس کے خلاف کوئی قدم اٹھاﺅ یہ خود ہی تمھارا خاتمہ کرنے پہنچ گئی ہے ۔“بہار خان کا مخاطب میں تھا ۔
میرا دماغ اس حالت میں نہیں تھا کہ بہار خان کو جواب دے سکتا ۔میں تو بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے پلوشہ کو گھورے جا رہا تھا ۔مدت سے پیاسی آنکھیں شربت دیدار سے لطف اندوز ہو رہی تھیں ۔اس کی صورت مجھے اتنی ہی موہنی ،اتنی ہی پیاری ،اتنی ہی پر کشش لگ رہی تھی جتنی پہلے لگا کرتی تھی۔
”ارے بے غیرت سنبھلو ....“میرے دماغ نے اتنی زور سے ڈانٹا کہ دل چونک کر اس کے ٹرانس سے باہر آگیا ۔
مجھے خاموش پا کر بہار خان اپنے آدمیوں کو بولا ....”اسے اندر باندھ دو میں تھوڑی دیر تک تفتیش کا آغاز کرتا ہوں ....میرے بعد تمھارا نمبر پڑے گا ۔“اس کا غلاظت بھرا اندازاس کے مکروہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا ۔یوں بھی پلوشہ کے بارے اپنے دل میں چھپی غلاظت وہ ایک بار پہلے بھی میرے سامنے ظاہر کر چکا تھا ۔لیکن میں اسے یا اس کے آدمیوں کو ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا ۔پلوشہ جتنی بھی بدکردار اور بے راہ رو ہوتی میرے سامنے اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا چاہے اس بارے اس کی اپنی مرضی اور خواہش ہی کیوں نہ شامل ہوتی ۔
”اسے باندھ دو ....میں خود تفتیش کروں گا ۔“میں نے اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھانے میں ایک لحظہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
بہار خان نے روکھے لہجے میں کہا ۔”یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے محترم !“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ میری دشمن ہے اور اس کے ساتھ میرا کافی حساب کتاب رہتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے اس بات کا فیصلہ سردار خود ہی آکر کرے گا ۔“بہار خان نے اک درمیان کا رستا نکالا۔اس کے آدمی پلوشہ کو بازوﺅں سے پکڑ کر اسی کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے جہاں چند دن میں نے بھی گزارے تھے ۔
”بہار خان !....تم صنوبر خان کی واپسی کی بات کر رہے ہو ،جبکہ میں ایک لمحہ بھی انتظار نہیں کر سکتا ۔تم نہیں جانتے اس لڑکی کے بارے میرے دل میں نفرت کا کیسا الاﺅ دہک رہا ہے ؟“
اس نے مکروہ لہجے میں کہا ۔”تو پھر ایک ہی حل ہے ،چھوڑو پوچھ گچھ کو ،اکھٹے ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں ۔“
”ایسا جو بھی خیال تمھارے دل میں پرورش پا رہا ہے اسے بھول جاﺅ ....میں اسے قتل تو کر سکتا ہوں ،لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتا ۔“
”میرا خیال ہے ہم تمھارے زیر کمان نہیں ہیں ۔“بہار خان بگڑ گیا تھا ۔
”شاید تمھیں سردار صنوبر خان کے آخری الفاظ بھول گئے ہیں ۔“تیکھے لہجے میں کہتے ہوئے میں اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں وہ پلوشہ کو لے گئے تھے ۔بہار خان نے بھی بادل نخواستہ میرے پیچھے قدم بڑھا دیئے ۔
پلوشہ کے ہاتھ انھوں نے چھت سے لٹکتی زنجیروں سے باندھ دیئے تھے ۔باندھنے والے شاید اس سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرتے مگر ہمارے قدموں کی چاپ سن کر وہ ایک جانب ہو کر کھڑے ہو گئے تھے ۔
پلوشہ سب سے بے نیاز مجھے گھور رہی تھی ....وہ میری مجرم تھی ،اس نے میرے ارمانوں کا خون کیا تھا ،مجھے دھوکا دیا تھا ،میرا سودا کرکے پیسے کھرے کیے تھے ،اس کی وجہ سے میں پاک آرمی کی نظر میں مجرم بننے والا تھا ،اس نے مجھے ایسی اذیت اور ایسی تکلیف پہنچائی تھی جس کا درمان ممکن ہی نہیں تھا ۔
نپے تلے قدم رکھتا ہوا میں اس کے سامنے جا کر رک گیا ۔اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں عجیب طرح کی یاسیت بھری تھی ۔
”تو پندرہ لاکھ ختم ہو گئے ہیں یا سردار صنوبر خان کی آغوش کو بھلانے میں ناکامی ہوئی ہے اور اس کا پہلو گرم کرنے آئی ہو ۔“دانت پیستے ہوئے میں نے منہ سے زہر اگلا ۔
وہ میری بات کا جواب دیئے بغیر یاسیت بھری نظروں سے مجھے گھورتی رہی ۔
”کچھ پوچھا ہے میں نے فاحشہ !“اس کے ریشمی بالوں کو مٹھی میں بھرتے ہوئے میں نے زور دار جھٹکا دیا ۔ایک تیز سسکی اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی میرے دل پر جیسے زور دار گھونسا لگا تھا ۔اس سے پہلے جب میں نے اسے غار میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا اس وقت اس نے ذرا بھر بھی کمزوری نہیں دکھائی تھی اور ابھی اس نے صنف نازک ہونے کا ثبوت دینے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
”جواب دو ۔“دل پر جبر کرتے ہوئے میں نے اس کے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کیا ۔
”چٹاخ ۔“کی آواز سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا ۔پھول سے چہرے پر میری انگلیوں کے بنے ہوئے نشان صاف نظر آنے لگے تھے ۔تھپڑسے اس کے ہونٹ بھی پھٹ گئے تھے ۔ہونٹوں سے رسنے والا خون ایک جانب تھوک کر اس نے دوبارہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ۔وہ ساحرانہ نگاہیں مجھ پر بے بسی طاری کر رہی تھیں ۔اس کے غلیظانہ افعال کو یاد کر کے میں نے دماغ میں بھری ہوئی نفرت کو دل کی طرف دھکیلا اور اس میں وقتی طور پر کامیاب بھی رہا تھا ۔
”بتاﺅ کیوں آئی ہو یہاں ۔“میں نے اسے ایک اور تھپڑ رسید کیا ۔“ایک تیز کراہ اس کے ہونٹوں سے برآمد ہوئی تھی ۔
”کیا پوچھ رہا ہوں میں ۔“اس کی خاموشی پر میرا غصہ بڑھ گیا تھا ۔اسے گریبان سے پکڑتے ہوئے میں نے نیچے جھکایا اور اس کے ساتھ ہی میرا گھٹنا زور دار انداز میں اس کے پیٹ میں لگا ۔
”افف....“وہ کرب ناک انداز میں کراہی ۔
”بتاﺅ مجھے ....فاحشہ ،طوائف بتاﺅ ....کیوں آئی ہوئی یہاں ....بتاﺅ ....کیوں کیا تھا میرا سودا ....کیوں مجھے دھوکا دیا تھا ....ہے کوئی جواب ۔“میں نے اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی تھی ۔وہ تابڑ توڑ حملے برداشت نہیں کر سکی تھی ۔ہاتھ ڈھلیے چھوڑتے ہوئے وہ زنجیر کے ساتھ جھول گئی ۔
”اسے مار دو گے بھائی صاحب ۔“بہار خان نے فوراََ مجھے بازووں سے پکڑ کر پیچھے کھینچا ۔ میں ایک دم ہوش میں آگیا تھا۔وہ بے ہو ش ہو گئی تھی ۔زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہاتھوں کی وجہ سے وہ نیچے تو نہیں گری تھی البتہ اس کے گھٹنے فرش سے ٹکرا رہے تھے ۔
جاری ہے
 

”پانی لے کر آﺅ ۔“میں نے ایک آدمی کو کہا ۔اس آدمی کے واپس آنے تک میں اپنے اکھڑے ہوئے سانسوں پر قابو پاتا رہا ۔وہ پانی کا جگ لے کر واپس لوٹا ۔اس سے پانی کا جگ لے کر میں نے پلوشہ کے چہرے پرپورا جگ ہی الٹ دیا تھا۔اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں ۔ایک دو لمحہ اسی حالت میں زنجیروں سے لٹکے رہنے کے بعد وہ لڑکھڑاتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔اس کے بدن میں ہونے والی لرزش واضح نظر آ رہی تھی ۔ایک بار پھر میرا دل بغاوت پراتر آیا لیکن دماغ اسے کمزوری ظاہر کرنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا ۔میں اس کے بالکل قریب کھڑا تھا ،اتنے قریب کہ اس کے مہکتے سانس میری قوت شامہ کو تازگی بخش رہے تھے ۔میری پیاسی نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ....جانے کتنی بار میرے ہونٹوں نے ان موٹی موٹی ساحرانہ آنکھوں کے نمکین پانی کا ذائقہ چکھا تھا ۔ جانے کتنی بار میرے ہونٹوں نے ان ملائم گالوںکے لمس سے لذت کشید کی تھی۔جانے کتنی بار میرے ہونٹوں کو لب شیریں کی حلاوت نصیب ہوئی تھی ۔اور اب وہ سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا تھا ۔وہ چہرہ جسے میں تقدیس اور پاکیزگی کی علامت سمجھا کرتا تھا وہ غلاظت کی پوٹ نکلاتھا ۔
”کچھ پوچھا ہے میں نے ۔“دل کی طرف سے تسلسل سے دہرائی جانے والی نرمی کی درخواست کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے غضب بھرے لہجے میں پوچھا ۔میرے دائیں ہاتھ نے ایک بار پھر ان زلفوں کو گرفت میں لے لیا تھا جو ریشم کے تاروں سے بھی ملائم تھیں ۔
اس کی آنکھوں کی گہرائی میں جوار بھاٹا اٹھا ۔دو موتی پلکوں سے پھسل کر گالوں پر لڑھکے اور میرا سارا غصہ ،سارا غضب ہوا بن کر اڑ گیا ۔اس کے بالوں پر میری گرفت ڈھیلی ہوئی اور میرا ہاتھ نیچے لٹکنے لگا۔
”چلو۔“بہار خان کی طرف رخ کر کے میں نے تمام کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا ۔
میرے ہمراہ قدم بڑھاتے ہوئے اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔”بس ہو گئی تفتیش ۔“
”جب کہہ دیا ہے کہ اس بارے تم میں سے کوئی کچھ نہیں کہے گا تو یقینا تمھارا بولنا نہیں بنتا ۔“
”مجھے تو خاموش کرالو گے ،مگر سرادر صنوبر خان نے جس طرح کی تفتیش کرنی ہے وہ یقینا تم سے برداشت نہیں ہو گی ۔“
”اس معاملے میں سردار کی بھی کوئی بات نہیں سنوں گا ۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے دروازہ تالا کیا اور چابی جیب میں ڈال لی ۔دروازے کو کھلا چھوڑ کر میں بہار خان کے آدمیوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا کہ وہ پلوشہ کے ساتھ کوئی گھٹیا حرکت کر سکیں ۔پلوشہ کے ہاتھوں میں پڑی زنجیر کے تالے کی چابی بھی ان سے لے کر میں نے جیب میں ڈال لی تھی ۔
بہار خان مجھے تو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، البتہ اپنا ایک آدمی اس نے پلوشہ کے قید خانے کے سامنے کھڑا کر دیا تھا ۔
میں اپنے کمرے میں پہنچ کر بے قراری سے ٹہلنے لگا ۔مجھے ایک فی صد بھی اندازہ نہیں تھا کہ پلوشہ مجھے یوں ٹکرا جائے گی ۔اس سے ملنے کی بڑی خواہش تھی اور اب جبکہ وہ سامنے آگئی تھی تو میرے پاس سوال ہی ختم ہو گئے تھے ۔مجھے اس کی آمد کا مقصد بھی معلوم نہیںتھا ۔ جب تک وہ خود زبان نہ کھولتی میں اس سے کچھ نہیں اگلوا سکتا تھا ۔خود پر جبر کرتے ہوئے اس پر جتنا تشدد میں کر سکتا تھا کر چکا تھا۔ اس سے مزید میں اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا ۔اس کے پھولوں سے ملائم بدن کی لرزش میری آنکھوں میں لہرائی اور میرا دل دکھ کے گہرے احساس سے بھر گیا ۔
”مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔“خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے میں اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا ۔اپنے افعال کی وہ خود جواب دہ تھی مجھے اسے تشدد کا نشانہ بنانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا۔
”تمھاری آنکھوں سے آنسو کیوں نکلے ہیں چندا !“آنکھیں بند کرتے ہوئے میں نے اس سے سوال کیا ۔”پلیز مجھے معاف کر دو ،کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا ۔“ میری آنکھوں میں پانی بھر گیاتھا۔میری بے چینی میں ایک دم اضافہ ہو ااورمیں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگا ۔
”وہ بھوکی ہو گی ،شاید اسے پیاس بھی لگی ہو ....ہو سکتا ہے کپڑوں کے گیلا ہونے کی وجہ سے اسے سردی لگ رہی ہو ،وہ اتنی نازک ہے ،کیا ساری رات ہاتھ بلند کیے کھڑی رہ سکے گی ۔“مختلف قسم کے اذیت ناک سوال میری سوچوں میں سرسرانے لگے ۔
”اگر صنوبر خان نے واپس آکر اسے تشدد کا نشانہ بنانا چاہا تو کیا میں اسے روک پاﺅں گا ۔“ اس کا جواب نفی میں تھا ۔میرے لیے ایک ساتھ اتنے زیادہ آدمیوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ ہوتا ۔
کافی دیر سر کھپانے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے فرار کرا دینے میں بھلائی تھی ۔ دو دن بعد میں نے یوں بھی افغانستان روانہ ہو جانا تھا پھر نامعلوم کب واپسی ہوتی ۔میں زندہ بھی رہ پاتا یا نہیں ۔ بہتر یہی تھا کہ اس کے ساتھ ایک آخری احسان کرتا جاتا ۔میں نے اسے دنیا کی ہر لڑکی سے زیادہ چاہا تھا اور اپنی چاہت کے لیے اتنا تو میں کر ہی سکتا تھا ۔بعد میں صنوبر خان یا البرٹ پارٹی جو بھی بکواس کرتے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہی میں اپنے کمرے سے باہر نکلا ۔اور برآمدے میں چلتا ہوا مطلوبہ کمرے کی طرف بڑھنے لگا ۔کمرے سے باہر بہار کا مقرر کیا ہوا سنتری پستول سے کھیل رہا تھا ۔میں نے ایک لمحے میں اس پستول کو پہچان لیا تھا ۔وہ وہی پستول تھا جو پلوشہ نے قبیل خان سے چھینا تھا ۔اور اب اس کے ہاتھ چڑھ گیا تھا ۔کلاشن کوف اس نے کندھے سے لٹکائی ہوئی تھی ۔
مجھے قید خانے کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ چوکنا ہو گیا تھا ۔میرے قریب پہنچتے ہی وہ محتاط انداز میں بولا۔”کمانڈر بہار نے حکم دیا ہے کہ کوئی آدمی پلوشہ سے نہ ملے ۔“
”کیا اس نے میرا نام بھی لیا تھا ۔“
”جی جناب ۔“اس نے زور وشور سے کہا۔
”ہونہہ!....“میں نے پر خیال انداز میں سرہلایااور پھر ایک دم جھپٹ کر اس کی گردن پکڑ لی۔
اس نے تڑپ کر میری گرفت سے نکلنا چاہا مگر میں نے سرعت سے اس کی گردن اپنے دائیں بازو کی گرفت میں لیتے ہوئے مخصوص انداز میں دبا دی ۔اس کا بے ہوش جسم میرے ہاتھوں میں جھول گیا تھا۔اسے احتیاط سے زمین پر لٹا کر میں کھڑا ہوگیا۔اس کے ہاتھوں سے پستول لینا مجھے نہیں بھولا تھا ۔
میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔کسی بھی وقت بہار خان کا کوئی آدمی اس طرف کا رخ کر کے میرے کام میں رخنہ انداز ہو سکتا تھا ۔دروازہ کھول کر میں اندر داخل ہوا ۔وہ اسی حالت میں کھڑی تھی جیسا میں اسے چھوڑ گیا تھا ۔دروازہ کھلنے کی آہٹ پر وہ اس طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔میرے اندر داخل ہونے پر اس کے چہرے پر بے چینی کے آثار نمودار ہوئے اور اس کی نظریں ایک بار پھر میرے چہرے کا طواف کرنے لگیں ۔میرے پاس سوال وجواب کا وقت نہیں تھا۔اس کی ریشمی کلائیوں کو زنجیر سے آزاد کرا کر میں نے پستول اس کی جانب بڑھا تے ہوئے بے گانے لہجے میں کہا ۔
”باہر موجود سنتری کو میں نے بے ہوش کر دیا ہے ،برآمدے سے نکلتے ہی دائیں جانب مڑجانا اورکوشش کرنا کسی آدمی کا سامنا نہ ہو ۔“
پستول میرے ہاتھ سے لے کر وہ دکھی نظروں سے مجھے گھورنے لگی ۔شاید تھوڑی دیر پہلے ہونے والے تشدد کا گلہ کر رہی تھی ۔اس کی نظروں کی تاب نہ لا کر میں نیچے دیکھنے لگا ۔ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ ایک دم مڑی اور باہر نکل گئی ۔میں بس اس کی پشت کو گھورتا رہ گیا تھا ۔میری زندگی کا ایک اور باب بند ہو گیا تھا ۔میں تھکے تھکے انداز میں وہیں کھڑا رہا۔ دل بار بار احتجاج کرتے ہوئے اسے روکنے کی ضد کر رہا تھا ۔لیکن دماغ ایسی کسی بھی بے قوفی کے لیے تیار نہیں تھا ۔
اچانک میرے کانوں میں تڑتڑاہٹ کی آواز گونجی ۔میں خیالوں کی دنیا سے نکلتا ہوا باہر کی طرف بھاگا ۔سنتری کی کلاشن کوف مجھے غائب نظر آئی یقینا وہ پلوشہ کے ہاتھ چڑھ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی مجھے سنتری کی گردن غیر معمولی طور پر پیچھے کی طرف مڑی ہوئی نظر آئی ۔جاتے جاتے وہ میرے لیے جواب دہی مشکل کر گئی تھی ۔
فائرنگ کی آواز ایک دم تیز ہو گئی تھی ۔میں جھکے جھکے انداز میں باہر نکلا۔پلوشہ مجھے جنوبی دیوار کے ساتھ بنے ایک کمرے کی آڑ میں داخلی دروازے کے اوپر بنے مورچے والے سنتری سے فائر کا تبادلہ کرتی نظر آئی ۔اسی وقت اندرونی کمرے سے کمانڈر بہار بھاگتا ہوا باہر نکلا ۔اس نے ہاتھوں میں کلاشن کوف تھامی ہوئی تھی ۔اس کی جگہ سے پلوشہ کو نشانہ بنانا نہایت آسان تھا ۔اسے کلاشن کوف سیدھی کرتے دیکھ کر میں تڑپ کر آگے بڑھا ۔
”گولی نہ چلانا ۔“میں اس کے سامنے آگیا تھا ۔
”ہٹ جاﺅ جوان !“وہ دھاڑا ۔
”میں نے قریب ہوتے ہوئے ایک دم اس کی کلاشن کوف کی بیرل پر ہاتھ ڈالااگلے ہی لمحے کلاشن کوف میرے ہاتھوں میں تھی ۔
بہار خان کو میری یہ جسارت پسند نہیں آئی تھی ۔اس نے گالیاں بکتے ہوئے مجھ پر ہلہ بول دیا۔ایک جانب ہٹتے ہوئے میں نے اس کے کولہوں پر ایک زور دار ٹھوکر رسید کی ۔وہ چند قدم بھاگتے ہوئے منہ کے بل نیچے گرا پڑا ۔لیکن ایک لمحہ بھی زمین پر لیٹے بغیر وہ دوبارہ کھڑا ہوا اور گالیاں بکتے ہوئے میری جانب بڑھنے لگا ۔
اچانک مجھے پلوشہ کی تیز چیخ سنائی دی۔میرا دل خوف سے بھر گیا تھا ۔میں نے اس کی جانب نظریں دوڑائیں وہ نیچے گر گئی تھی، یقینا اسے گولی لگی تھی ۔
میرے دماغ میں ایک دم سرخ چادر تن گئی ،بغیر ایک سیکنڈ ضایع کیے میں نے کلاشن کوف کی بیرل کا رخ بہار خان کے سر کی طرف موڑااورٹریگر دبادیا ۔ورنہ میرا اسے قتل کرنے کا ایک فیصد بھی ارادہ نہیں تھا ۔لیکن پلوشہ کی چیخ سننے کے بعد اگر میری کوئی ترجیح تھی تو وہ پلوشہ کی زندگی تھی ۔
مورچے کی طرف سے اب تک فائر کی آواز آ رہی تھی ۔گھٹنا نیچے ٹیکتے ہوئے میں نے مورچے کے ہول پر شست باندھی جہاں سے کلاشن کوف کی بیرل جھانک رہی تھی ۔اس بے وقوف نے مورچے کے اندر جلنے والی روشنی کو بھی بجھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔مسلسل دو بار ٹریگر دبا کر میں نے مورچے والے سورما کو اپنے انجام تک پہنچایا۔اور پلوشہ کی طرف بھاگ پڑا۔ وہ ہوش میں تھی اس کی دائیں ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا گولی اس کی ران کی جڑ میں لگی تھی۔ میں نے فوراََ دائیں بائیں دیکھا ۔چند قدم کے فاصلے پر پڑی لاش کے سر سے بندھی پگڑی کھل کر نیچے گری ہوئی تھی ۔وہ پلوشہ کی گولی کا نشانہ بنا تھا ۔
میں نے آگے بڑھ کر پگڑی اٹھا ئی اور اس سے ایک لمبی پٹی پھاڑ کر پلوشہ کی ٹانگ پر لپیٹنے لگا۔اس کی ٹانگ سے بھل بھل بہتا خون دیکھ کر مجھ پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی تھی ۔وہ آنکھیں بند کرکے کراہتی رہی ۔حالانکہ وہ بہت حوصلے اور برداشت والی تھی لیکن اس وقت برداشت کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا ۔بلکہ تھوڑی دیر پہلے میرے تشدد کرنے پر بھی اس نے خاصی کمزوری دکھائی تھی ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ ایسی نہیں تھی ۔
اس کی حالت دیکھ کر میرا دماغ ماﺅف ہوا جا رہا تھا ۔میری سمجھ میں کوئی لائحہ عمل نہیں آرہا تھا ۔ میں نے حویلی کے صحن میں نظریں دوڑائیں ،ایک لاش داخلی دروازے کے ساتھ اور دوسری صحن کے وسط میں پڑی تھی ۔تیسری لاش بہار خان کی تھی جو برآمدے کے سامنے تھی ۔اسی طرح ایک لاش اس سنتری کی تھی جسے میں نے بے ہوش کیا تھا اور بعد میں پلوشہ نے اس کی گردن مروڑ دی تھی ۔پانچویں لاش مورچے کے اندر موجود اس آدمی کی تھی جسے ختم کرنے کے لیے میں نے عادت کے برعکس اکٹھی دو گولیاں چلائی تھیں ،کیونکہ اس وقت پلوشہ کی چیخ سن کر مجھ سے ذراسی بھی تاخیر برداشت نہیں ہو پارہی تھی ۔
صنوبر خان ،بہار خان کے زیر کمان چار آدمی حویلی میں چھوڑ گیا تھا ۔پانچواں خود بہار خان تھا۔اور پلوشہ خان کی وجہ سے وہ پانچوں لاشوں کی صورت بکھرے پڑے تھے ۔اب وہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا ۔صنوبر خان تک پلوشہ کی گرفتاری کی بات پہنچ گئی تھی ،اس لیے میں ان اموات کو کسی نامعلوم حملہ آور کے کھاتے میں بھی نہیں ڈال سکتا تھا ۔گو مجھے یقین تھا کہ ان مرنے والوں کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ان کی وجہ سے البرٹ بروک مجھے صنوبر خان کے ہاتھوں کوئی نقصان پہنچنے دیتا ۔لیکن اس وقت میرے لیے پلوشہ مصیبت بن گئی تھی ۔نہ تو وہ اکیلی کہیں جا سکتی تھی اور نہ میں اسے وہیں رہنے دے سکتاتھا ۔اس کے تمام افعال کے باوجود وہ اب بھی میرے لیے اہم تھی ،مجھے اس کا مرنا کسی طور بھی قبول نہیں تھا ۔بلکہ اس کی ٹانگ میں گولی لگنے کی جتنی تکلیف مجھے ہو رہی تھی شاید خود اسے اتنی تکلیف نہ ہوتی ۔ میں تشویش بھرے انداز میں اسے تڑپتے دیکھ رہا تھا ۔ میں جانتا تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا زخم نے پھوڑے کی شکل اختیار کرتے جانا تھا ۔ہمیشہ گولی لگتے وقت ذرا سی جلن اور درد ہوتا ہے اور جوں جوں زخم ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے تکلیف میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ گولی اب تک اس کے جسم کے اندر تھی ۔
اچانک میرے ذہن میں وہاں پڑے ابتدائی طبی امداد کے بکس کا خیال آیا ۔اور میں نے بھاگ کر انیکسی کا رخ کیا ۔ابتدائی طبی امداد کابکس تلاش کرتے ہوئے مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی ۔ بکس کھول کر میں نے اندر نگاہ دوڑائی اور اپنے کام کی دوائی ڈھونڈنے لگا ۔ایک سنائپر کو ابتدائی طبی امداد کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔مطلوبہ دوائیوں کو دیکھ کر میری آنکھوں میں اطمینان جھلکنے لگا تھا۔میں بکس اٹھا کر باہر نکلنے لگا مگر پھر مجھے خیا ل آیا کہ پلوشہ کی ران میں لگنے والی گولی نکالنے کے لیے لازمی طور پر کسی آرام دہ جگہ کی ضرورت تھی اورایسی آرام دہ جگہ اس انیکسی سے بڑھ کر کوئی نہیں تھی ۔ایک لمحے کے لیے میرے دماغ میں آیا کہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاﺅں یقینا انگور اڈے میں ایسا ڈاکٹر مل جاتا ۔ مگر اس کے ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اسے تقریباََ ران کی جڑ میں گولی لگی تھی اور وہاں سے گولی نکالنے کے لیے اس کا بے پردہ ہونا لازمی تھا ،جبکہ میں کسی مرد ڈاکٹر کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کہ اسے بے پردہ دیکھے۔
”چاہے وہ اپنے مفاد کے لیے ہر کسی کو اس کی اجازت دیتی رہے ۔“میرے دماغ میں ایک تلخ سوچ گونجی ۔
”ہاں ....“میرا دل، دماغ کے خلاف ڈٹ گیا تھا ۔”یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہوتی ہے ۔ اس کی بے راہ روی کا یقین ہوتے ہوئے بھی میں اس کی عزت کو اتنا ہی قیمتی سمجھوں گا جتنا کسی بھی چاہنے والے کے دل میں اپنے محبوب کی عزت و حرمت کا خیال چھپا ہوتا ہے ۔“
میں بھاگ کر باہر نکلا اور اس کی طرف بڑھ گیا ۔وہ دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی ۔میں نے بغیر کسی تاخیر کے ایک ہاتھ اس کے گھٹنوں کے نیچے اور دوسرا ہاتھ اس کے کندھوں کے پیچھے سے گزار کر اسے اوپر اٹھا لیا ۔اس کا کومل وجود مجھے پھول کی طرح ہلکا لگا تھا ۔
جیسے ہی اسے لے کر میں سیدھا ہوا اس کے منہ سے ایک تیز کراہ خارج ہوئی تھی ۔یقینا ٹانگ کو ذرا سا ہلانے پر بھی درد کی شدید لہر نے اٹھنا تھا ۔بے ساختہ اس نے اپنی بانہوں کا ہار میرے گلے میں ڈالتے ہوئے اپنا چہرہ میرے کندھے پر ٹیک دیا تھا ۔اس وقت مجھے اس پر بہت پیار آیا تھا ۔
اسے اٹھاکر میں انیکسی کے اندر لایا اور اندرونی کمرے میں آرام دہ بیڈ پر لٹا دیا ۔دو تکیے اس کے سر کے نیچے رکھ کر میں باہر نکل آیا ۔اس کی ران سے گولی نکالنے کے لیے مجھے کسی باریک دھار والے چاقو ،چھری کی تلاش تھی ۔چھری کے بہ جائے مجھے جسم سے گولی نکالنے مخصوص آلہ فورسپ ،کمانڈر بہار خان کے کمرے میں پڑے ابتدائی طبی امداد کے بکس میں پڑا نظر آگیا یوں بھی ان کا روزمرہ ہی ایسا تھاجس میں گولی لگنا معمول کی بات تھی۔
میں واپس انیکسی میں آگیا۔گو یہ کام مجھے پہلی بار کرنا پڑ رہا تھا لیکن اس بارے میں نے تربیت حاصل کر رکھی تھی ۔خصوصی سنائپر کورس اور کمانڈو ز کے ساتھ کرنے والے کورس میں مجھے جسم میں پیوست گولی کونکالنے کے بارے بہت باریک بینی سے سمجھنے کا موقع ملا تھا۔
پلوشہ کا کراہنا جاری تھا ۔نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میرے قدموں کی چاپ سن کر ہی اس نے کراہنا شروع کیا ہے ۔
”کیا یہ میری ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی بہانہ ہے ۔“ایک امید افزا سوچ میرے دماغ میں ابھری ،لیکن پھر میں نے سختی سے اس خیال کو جھٹلا دیا ۔اسے میری ہمدردی حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جو کچھ وہ میرے ساتھ کر چکی تھی اس کے بعد مجھ سے تعلقات بحال کرنے کی کوئی صورت نکالنا اس کی بے وقوفی ہی تھی ۔
بیڈ پر بیٹھتے ہوئے میں نے سب سے پہلے اس کی ران کے ساتھ بندھی ہوئی پٹی کھولنے لگا ۔
”افف....“اس کے چہرے پر اذیت جیسے ثبت ہو گئی تھی ۔میرے ہاتھوں میں لرزش شروع ہو گئی،اسے تکلیف میں مبتلا دیکھنا مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
پٹی کھلتے ہی اس کی کراہیں مزید بلند ہو گئی تھیں۔
”اگر تمھارا رونا پیٹنا تھوڑا مدہم ہو جائے تو شاید میں آرام سے اپنا کام کر سکوں ۔“بہ ظاہر میں نے سخت لہجے میں ڈانٹا تھا لیکن درپردہ میرا دل کر رہا تھا کہ اسے اپنی آغوش میں بھرکر کہوں ۔
”بس کرو میری جان !....تمھارے کراہنے سے میرے ہاتھ کانپنے لگ گئے ہیں ۔تمھیں جتنی تکلیف اپنی ٹانگ میں محسوس ہو رہی ہے اس سے کئی گنا بڑھ کرمیرے دل کو درد ہو رہا ہے ۔“مگر میں ایسا نہیں کہہ سکتا تھا ۔ہمارے درمیان اب ایسے کسی بھی تعلق کی گنجائش باقی نہیں رہی تھی ۔
میرے ڈانٹنے کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ،البتہ ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے کراہنا بند کر دیا تھا ۔
پٹی کھولنے کے بعد کے مراحل بہت دشوار تھے ۔سب سے پہلے تو اس کے زخم کو کھول کر دھوناناقابلِ عمل لگ رہا تھا ۔اگر پہلے کبھی ایسی صورت حال پیش آئی ہوتی تو مجھے اتنی مشکل پیش نہ آتی کیونکہ اس وقت میں اسے شریک حیات بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اب وہ میرے لیے اجنبی لڑکی تھی ۔اور کسی اجنبی لڑکی کو بے پردہ کرنا ایک شریف انسان کے لیے دشوار ہی ہوتا ہے ۔لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا ۔بغیر کسی گاڑی کے انگور اڈے تک جانا اگر ناممکن نہیں تومشکل ترین ضرور تھا ۔اور بالفرض میں وہاں تک پہنچ بھی جاتا تب بھی عجیب بات یہ تھی کہ میرا دل اسے کسی مردڈاکٹر کے سامنے بے پردہ ہونے کی اجازت دینے پر بھی تیار نہیں تھا ۔ اس کے بعد خون کو روکنا بھی بہت ضروری تھا ۔ابتدائی طبی امدا کا تو پہلا اصول ہی خون کے بہاﺅ کو روکنا ہوتا ہے ۔
ایک صاف چادر لے کر میں نے اس کے پیٹ سے لے کر رانوں تک بچھائی اور اس کا زیریں لباس اتار دیا ۔وہ آنکھیں بند کیے خاموش پڑی رہی ۔اسے جھجکتے گھبراتے نہ دیکھ کر ایک بار پھر میرے دماغ میں صنوبر خان اور اس کے آدمیوں کی سنی ہوئی باتیں گونجنے لگی تھیں ۔سر جھٹک کر میں نے ان واہیات خیالوں کو دور کیا اور سپرٹ سے اس کا زخم کاصاف کرنے لگا ۔
اس کے منھ سے ایک بار پھر پر اذیت کراہیں نکلنا شروع ہو گئی تھیں ۔سپرٹ زخم میں بہت زیادہ جلن پیدا کر دیتی ہے ۔سپرٹ اور اس کے زخم سے نکلنے والے خون سے بیڈ پر بچھے قیمتی گدے کا بیڑا غرق ہو رہا تھا ۔مگر پلوشہ کی تکلیف کے مقابل مجھے اپنی جان کی پروا نہ ہوتی وہ تو ایک گھٹیا سا گدا تھا ۔
زخم صاف کر کے میں نے گولی کو پکڑکر باہر کھینچنے والا چمٹا نما آلہ فورسپ بھی سپرٹ سے دھو لیا۔اچانک میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر اجاگر ہو گیا جب غار کے اندر میرے کندھے سے گولی نکالتے وقت اس نے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں میرا چہرہ تھامتے ہوئے تسلی دی تھی ۔گولی نکالتے وقت اس نے چند سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگایا تھا ۔اس کا وہ احسان آج تک میرے دل پر نقش تھا ۔رات کے وقت کسی نوجوان لڑکی اکیلا گھر سے نکل کر ایسی جگہ پر پہنچنا بہ ذات خود بہت بڑا کارنامہ تھا ۔شاید ابھی مجھے اس کے اسی احسان کا بدلہ چکانے کا موقع مل رہا تھا ۔
اس کی ران کے نیچے تکیہ رکھ کر میں نے دل ہی دل اللہ پاک کو یاد کیا ۔ زخم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر کیسی تکلیف محسوس ہوتی ہے یہ بات الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔مجھ پر یہ اذیت ناک وقت بیت چکا تھا اور میں اس تکلیف کی شدت سے خوب واقف تھا ۔اب ایسی ہی تکلیف سے پلوشہ دوچار ہونے والی تھی ۔
میرے دل کو تو اس کے کانٹا چبھنا بھی گوارا نہیں تھا لیکن بد قسمتی کہ مجھے اسے اس حال میں دیکھنا پڑ رہا تھا ۔
گہرا سانس لے کر میں نے ہمت باندھی اورچمٹے نما اوزار کی نوک زخم کے منہ کی طرف بڑھا دی ۔اگر اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتا تو مجھے ذرا بھر بھی پروا نہ ہوتی ۔میرے اعصاب بہت مضبوط تھے، لیکن بد قسمتی سے جو شخصیت میرے سامنے زخمی حالت میں پڑی تھی اس کاتعلق براہ راست میرے دل سے جڑاتھا اپنی عزیز ہستی کا آپریشن کرنا خود اپنے جسم کے کسی حصے پر طبع آزمائی کرنے کے مترادف ہوتا ہے ۔
اچانک میرے دماغ میں خیال آیا کہ اگر وہ تکلیف کی شدت کو برداشت نہ کرسکی اور اس نے اچھلنا شروع کر دیا تو یقینا وہ زیادہ زخمی ہو سکتی تھی ۔یہ خیال آتے ہی میں رسی کی تلاش میں انیکسی سے باہر نکل آیا ۔رسی ڈھونڈنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔ ایک لمبی رسی مجھے ملازموں کے کمرے میں مل گئی تھی ۔
میں جونھی واپس لوٹا اسے حیرانی بھری نظروں سے اپنا منتظر پایا۔یقینا اس کی سمجھ میں میرا یوں چلے جانا نہیں آرہا تھا ۔میرے ہاتھوں میں رسی کا بنڈل دیکھ کر اس کی حیرانی دو چند ہو گئی تھی ۔لیکن اس نے کچھ بھی کہنے سے گریز کیا تھا ۔
میں بھی وضاحت کیے بغیر بیڈ کے نیچے سے رسی گزار کر اسے مضبوطی سے جکڑنے لگا ۔اس کی چھاتی اور پیٹ سے رسی لپیٹتے ہوئے میں اس کے گھٹنوں تک رسی کو بل دیتے ہوئے لایا۔بس رانوں کی تھوڑی سی جگہ میں نے خالی چھوڑ دی تھی اب وہ چاہ کر بھی معمولی سے زیادہ حرکت نہیں کر سکتی تھی ۔وہ خاموشی سے مجھے یہ سب کرتا دیکھتی رہی ۔شاید اسے بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔
میرے کندھے سے گولی نکالتے وقت اس نے میری مردانگی کو یوں للکارا تھا کہ مجھے اس اذیت ناک مرحلے سے گزرنا آسان ہو گیا تھا ۔ لیکن وہ تو صنف نازک تھی ، ایک جوان سال لڑکی کو میں کیاکہہ کر جوش دلاتا۔اس کی عمر کی لڑکیاں تو شاید ایسا منظر دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جائیں ۔لیکن وہ ان روایتی دوشیزاﺅں سے یکسر مختلف تھی ۔
فورسپ دوبارہ ہاتھوں میںتھام کر میں نے زخم میں گھسیڑا ،گو میرا دل کانپ رہا تھا مگر میں نے ہاتھوں کی لرزش پر قابو پالیا تھا وہ کمزوری دکھانے کا وقت نہیں تھا ۔میں جتنی نرمی دکھاتا پلوشہ کو اتنی زیادہ تکلیف پہنچتی ۔گولی لگنے کا زخم سامنے سے ہمیشہ تنگ ہوتا ہے لیکن گولی جسم کو پھاڑ کر نکل جائے تو جس جگہ سے گولی نکلتی ہے وہاں سے کافی سارا گوشت لے اڑتی ہے ۔
پلوشہ نے سختی سے دانت پر دانت جما کر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔اس کا سارا جسم تشنج کے مریض کی طرح اکڑ کر لرزنے لگا تھا۔اگر میں نے اسے باندھا نہ ہوتا تو یقینا وہ خود کو زیادہ زخمی کرا بیٹھتی ۔اس کی تیز کراہوں سے بے پروا بنتے ہوئے میں نے گولی ٹٹول کر آلے کے منہ میں تھامنے لگا۔ یہ بہ ظاہر بہت عام اور آسان سا لگتا ہے پڑھنے والوں کوکبھی بھی اس تکلیف اور اذیت کااندازہ نہیں ہو سکتا جو زخمی پر گزر رہی ہوتی ہے ۔البتہ زخمی کوئی ایسی شخصیت ہو جس سے دل کے تار جڑے ہوں تب انسان اس درد کو بہت اچھی طرح محسوس کر سکتا ہے ۔
گولی کو آلے کے منہ میں پھنسا کر میں نے احتیاط سے باہر کھینچا ۔پلوشہ مٹھیاں بھینچ کر اس درد کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔گولی زخم سے باہر نکلتے ہی اس نے سختی سے روکا ہوا سانس ایک آہ کے ساتھ خارج کیا اور بدن ڈھیلا چھوڑ دیا ۔زخم سے خون بہت تیزی سے نکلنے لگا تھا ۔میں نے دوبارہ زخم کو سپرٹ سے دھویااورپائیوڈین سے روئی تر کر کے زخم کے منہ پر رکھ دی ۔خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے میں نے کافی زیادہ پٹی تہہ کر کے زخم کے منہ پر دبا دی تھی ۔پٹی باندھنے سے پہلے اسے رسیوں کی گرفت سے آزاد کرانا ضروری تھا ۔
اس کا جسم رسیوں سے آزاد کرکے میں نے چوڑی پٹی زخم پر لپیٹی اور ایک درد کش ٹیکہ تیار کرنے لگا ۔درد کش ٹیکہ بھی جسم کے پر گوشت حصے میں لگایا جاتا ہے ۔لیکن اب اس کا میرا معاملہ ڈاکٹر اور مریض کا سا تھا ۔دل میں کافی ساری جھجک محسوس کرتے ہوئے میں نے اسے کولہے پر انجیکشن لگا دیا ۔ دوائیوں کے بکس میں اینٹی بائیوٹک انجیکشن بھی موجود تھے ۔ایک اینٹی بائیوٹک انجیکشن میں نے اس کے دائیں بازو کی رگ میں بھی لگا دیا ۔
وہ ابھی تک گہرے گہرے سانس لے کر گزری تکلیف کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔میرا دل کر رہا تھا کہ اس کا سر گود میں لے کر بیٹھ جاﺅں ،لیکن شکر کا مقام تھا کہ میرے دماغ نے برے بھلے کی تمیز نہیں کھوئی تھی ورنہ مجھے دل کی مانتے ہی بنتی ۔
پٹی باندھ کر میں نے اس کی ران سے نکلنے والی گولی دیکھی اور حیران رہ گیا ۔کیونکہ وہ پستول کی گولی تھی جبکہ میرے خیال کے مطابق تو اسے کلاشن کوف کی گولی لگی تھی ۔مورچے سے پلوشہ کی آڑتک کے لمبے فاصلے سے پستول کی گولی کا پلوشہ کی ران میں اتنی گہرائی میں اترنا میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔پستول کی گولی بیس پچیس گز کے بعد اپنی طاقت کھو نے لگتی ہے اور سو گز کے فاصلے سے تو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔جب کہ جس مورچے سے وہ گولی چلائی گئی تھی اس کا فاصلہ سوگز سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں تھا ۔
ایک دو لمحہ سوچنے کے بعد میں نے سرجھٹک کر اس فالتو کی سوچ کو دور بھگایا ۔خون اور سپرٹ کی وجہ سے بیڈ پر بچھے گدے کا کافی ساراحصہ خراب ہو گیا تھا ۔میں نے ایک بار پھر احتیاط سے پلوشہ کو اپنے بازووں میں بھرا اور دوسرے کمرے میں جا کر صاف ستھرے بیڈ پر لٹا دیا ۔کمرے کی الماری کھولنے پر مجھے زنانہ لباس لٹکے نظر آئے وہ لازماََ میجر ٹریسی والکر کا کمرہ تھا ۔جینز کی چست پتلونیں بنیان اور اسی طرح کے دوسرے واہیات لباس ۔البتہ دو زنانہ شلوار قمیص سوٹ دیکھ کر میں خوش ہو گیا تھا ۔چونکہ پلوشہ کی قمیص پر بھی کافی خون لگا تھااس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ وہ صاف لباس پہن لے ۔ایک سوٹ الماری سے باہر نکال کر میں پلوشہ کو مخاطب ہوا ۔
”میں باہر جا رہا ہوں تم کپڑے تبدیل کر لو ۔“یہ کہتے ہوئے میرے دماغ میں خوش حال خان کی بیٹھک میں گزرنے والا منظر در آیا ۔جب اس کے کپڑے گیلے ہونے پر میں نے اسے زنانہ لباس پہننے کا کہا تھا ۔اس وقت اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا ....
”آپ کو بڑا شوق ہے مجھے زنانہ لباس میں دیکھنے کا ۔“
آج بھی میں اس کی طرف زنانہ لباس ہی بڑھا رہا تھا ۔لیکن وہ کوئی شوخی بھرا جملہ یا لاڈ بھرا انداز اپنائے بغیر خاموشی سے مجھ گھور کر رہ گئی تھی۔
میں کمرے سے باہر نکل کرباورچی خانے کی طرف بڑھ گیا وہاں مجھے دودھ کے پیکٹ پڑے نظر آئے تھے ۔دو پیکٹ کھول کر میں نے ایک صاف برتن میں ڈالے اور چولھے پر رکھ دیے ۔چولھے کے ساتھ ایک بڑا گیس سلنڈر لگا تھا اس لیے مجھے آگ جلانے میںکوئی تگ و دو نہیں کرناپڑی تھی ۔وہیں ایک الماری میں مجھے اوولٹین بھی نظر آگئی تھی ۔تین چار چمچ اوولٹین کے دودھ میں ڈال کر میں نے اچھی طرح چمچ ہلا یا اور گرم دودھ شیشے کے جگ میں ڈال کر پلوشہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اندر داخل ہونے سے پہلے میں نے دروازہ ہلکے سے کھٹکھٹانا ضروری سمجھا تھا ۔
وہ لباس تبدیل کر چکی تھی ۔زنانہ لباس میں وہ ہمیشہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آیا کرتی ۔اس وقت بھی ہلکے آسمانی رنگ کے کپڑے اپنی خوشی قسمتی پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ میں اپنی نظروں پر اختیا ر کھونے لگا تھا ۔ وہ آنکھیں کھول کر لیٹی تھی ۔میری آمد کے ساتھ ہی اس نے پلکوں کی چلمن گرا لی تھی ۔ نہ جانے مجھے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے آنکھیں اس لیے بند کر لی تھیں تاکہ میں اسے سہولت سے دیکھ سکوں ۔اس کے بال پہلے سے بڑے ہو گئے تھے ۔ مجھے یقین تھا کہ جونھی اس کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوتے اس کے حسن نے مزید نکھر آنا تھا ۔
”مگر اس وقت تم اسے دیکھ نہیں پاﺅ گے ۔“میرے دل نے مجھے محرومی کا طعنہ دینے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
خیر وہ بعد کا مسئلہ تھا۔فی الحال تو میں اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکتا تھا ۔اوولٹین ملے دودھ کاجگ شیشے کی میز پر رکھتے ہوئے بھی میری نظریں اس کے ملیح چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔ اس کے چہرے پر اطمینان اور سکون بھرے تاثرات پھیلے تھے ۔میری نظریں سیراب ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھیں ،مگر میں زیادہ دیر اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔خود پر جبر کرتے ہوئے میں نے اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹائیں اور اس کی خون آلود قمیص اٹھاکر دوسرے کمرے میں آگیا ۔اس کی قمیص بھی بقیہ لباس کے ساتھ پھینک کر میں وہاں پڑے دو صاف تکیے اٹھا کر واپس لوٹ آیا ۔تین چار تکیے اکٹھے رکھ کر میں نے اسے بازووں سے تھام کر تکیوں سے ٹیک لگا کر بٹھادیا۔حالانکہ وہ خود بھی اٹھ کر بیٹھ سکتی تھی لیکن میرے ہاتھ بار بار اس کے پھول سے بدن کے لمس سے حظ اٹھانا چاہ رہے تھے اس لیے میں نے اسے خود پکڑ کر بٹھا دیا تھا۔اس نے بھی بغیر کسی جھجک کے اپنا جسم میرے حوالے کیا ہوا تھا ۔ کندھوں کے پیچھے تکیے درست کر کے میں نے اوولٹین ملے دودھ کا گلاس بھر کر اسے تھما دیا ۔
وہ چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھر کر اوولٹین ملادودھ پینے لگی ۔میز کو کھینچ کر میں نے بیڈ کے ساتھ لگا دیا تاکہ ایک گلاس خالی کر کے وہ اپنے لیے دوسرا گلاس بھی بھر سکے اور خود اس کمرے سے نکل آیا ۔ گھڑی پر نگاہ دوڑانے پر صبح کے تین بجتے نظر آئے ۔رات قریباََ بیتنے والی تھی اور میں وہاں مزید نہیں ٹھہرسکتا تھا ۔صنوبر خان اور اس کے آدمیوں نے دن چڑھے پہنچ جانا تھا ۔اور ان کی آمد سے پہلے پلوشہ کو وہاں سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ضروری تھا ۔اور یقینی طور پر وہ خود حرکت کرنے کے قابل نہیں تھی اس لیے اسے میں نے ہی کسی محفوظ مقام تک پہنچا نا تھا ۔اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہونے کے بعدہی میں صنوبر خان اور البرٹ پارٹی کا سامنا کر سکتا تھا ۔اتنا یقین تو مجھے بھی تھا کہ ان پانچ غیر اہم افراد کے قتل کی وجہ سے وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔خاص کر میں صنوبر خان کے آقاﺅں کی ضرورت تھا ۔ اور اس کے آقاﺅں کے نزدیک صنوبر خان کے آدمیوں کی حیثیت چند ٹکوں میں بکنے والے غلاموں سے بڑھ کر نہیں تھی ۔
انیکسی سے باہر نکل کر ایک امید کے سہارے میں نے دوبارہ نظریں دوڑائیں مگر پارکنگ میں کوئی گاڑی تو کیا سائیکل کھڑی بھی نظر نہ آئی ۔اب یہ بد قسمتی ہی تھی ورنہ وہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی گاڑی موجود رہتی تھی ۔
گویا اب مجھے پلوشہ کو اٹھا کر ہی لے جانا پڑتا ۔ایک دم میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا۔بے ایمان دل اس کی قربت کے مواقع ہی تو تلاش رہا تھا ۔
اب اسے انگور اڈے پہنچانا ممکن نہیں تھا ۔کافی دیر سوچنے کے بعد مجھے وہی غار سب سے محفوظ لگا جہاں اس نے میرے کندھے سے گولی نکالی تھی ۔وہ غار حویلی سے اڑھائی تین کلومیٹر دور تھا ۔وہاں پلوشہ کے پاس کھانے پینے اور دوسری ضروریات کی اشیاءچھوڑ کر میں آرام سے واپس آسکتا تھا ۔ اس کے بعد میری ذمہ داری پوری ہو جاتی ۔
پلوشہ اور سامان کو اکھٹا وہاں تک پہنچانا آسان نہیں تھا ۔اسے غار تک پہنچانے سے پہلے وہاںاستعمال کا سامان پہنچاناضروری تھا ۔
نیچے بچانے کے لیے فوم کا گدا ،تکیہ ،سلپنگ بیگ ،پینے کے لیے دودھ کا کاٹن ،کھانے کے لیے بسکٹ،پیسٹریاں ،زخم کے لیے صاف پٹیاں، دوائیاں اور انجیکشن ،کلاشن کوف اور فالتو میگزینیں وغیرہ۔ یہ تمام سامان اٹھا کر تین کلو میٹر چلنا اتنا آسان بھی نہیں تھا ۔مگر جس کے لیے میں یہ کر رہا تھا اس کے لیے اس سے زیادہ مشقت کرنا بھی میرے لیے نہایت آسان تھا ۔
ضرورت کا تمام سمیٹ کر میں نے ایک بیگ میں ڈالا اور بیگ کندھوں میں ڈال کر میں نے فوم کا گدا لپیٹ کر اٹھایا اور حویلی سے باہر آگیا ۔سورج طلوع ہونے تک مجھے تمام سامان اور پلوشہ کو غار تک پہنچانا تھا ۔ٹارچ کی روشنی میں اطمینان سے آگے بڑھتا گیا ۔میرے دل میں بس جنگلی جانوروں کے بارے تھوڑی سی فکر مندی تھی ،کیونکہ اس علاقے میں بھیڑیے ،ریچھ اور سوّروغیرہ پائے جاتے ہیں ۔بندر بھی موجود ہیں مگر ان کا شمار نقصان پہنچانے والے جانوروں کی فہرست میں نہیں آتا ۔چیتے اور تیندوے کی افواہیں بھی سننے میں آتی رہتی ہیں مگر کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ۔
میں بغیر کسی قابل ذکر واقعے کے آدھے گھنٹے تک غار کے نیچے پہنچ گیا تھا ۔چونکہ وہاں میں پہلے بھی دو تین بار آچکا تھا اس لیے مجھے رستا پہچاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تھی ۔
چڑھائی پر چڑھ کر میں نے سامان غار سے باہر چھوڑا اور کلاشن کوف کندھے سے اتار کر ہاتھ میں تھامتے ہوئے محتاط انداز میں غا رکے اندر گھس گیا ۔غار بالکل خالی پڑا تھا ۔اچھی طرح دیکھ بھال کر کے میں باہر نکل آیا ۔باہر رکھا سامان اٹھا کر میں نے غار کے اندر رکھا اور واپسی کی راہ لی ۔واپسی میں خالی ہاتھ تھا اس لیے مجھے بھاگنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی ۔میں پندرہ منٹ میں حویلی میں پہنچ گیا تھا ۔ پلوشہ کو غار میں پہنچا کر مجھے ایک بار پھر حویلی ہی میں لوٹنا تھا ۔مجھے فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ میرے پاس کافی وقت موجود تھا۔ صنوبر خان اتنا سویرے کبھی نہ لوٹتا ۔اور نہ اتنا سویرے اسے بہار خان سے رابطہ کرنے کی کوئی ضرورت پیش آ سکتی تھی ۔
پلوشہ مجھے جاگتی ہی ملی تھی ۔میرے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے نظر بھرکر مجھے دیکھا اور آنکھیں موند لیں ۔یہ اس کی مہربانی ہی تھی کہ وہ اس فیاضی سے مجھے اپنے دید ارکا موقع فراہم کر رہی تھی ۔
”وہ تم سے آنکھیں نہیں ملا پارہی ہے محترم ۔“میرے دماغ نے حسب عادت اس کے خلاف زہر اگلا۔
”مجھے آم کھانے سے غرض ہے ۔“اس کی دید کے پیاسے دل نے دماغ کی بات کو درخور اعتناءنہیں جانا تھا ۔
”ہمیں یہاں سے جانا پڑے گا ....کیا تم پیدل چل سکو گی ؟“یہ سوال منہ سے نکالتے ہی مجھے اپنے سوال کے احمقانہ پن کا اندازہ ہو گیا تھا ۔
اس نے آنکھوں کی چلمن اٹھاتے ہوئے میری جانب گہری نظروں سے دیکھا مگر جواب دیے بغیر دوبارہ آنکھیں موند لیں ۔
خون بہنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر پیلاہٹ نظر آرہی تھی ۔یقینا وہ کافی نقاہت بھی محسوس کر رہی تھی ۔میں نے آگے بڑھ کر اس کے کومل وجود کو بازوﺅں میں بھرا اوراوپر اٹھا لیا ۔وہ مضبوط اور چھریرے بدن کی مالک تھی ۔مجاہدین کے کیمپ میں تربیت کے بعد عملی زندگی میں بھی کافی عرصے سے سرگرم تھی اور اس جفا کشی اور محنت کی وجہ سے اس کابدن سانچے میں ڈھلا محسوس ہوتا تھا ۔
انیکسی سے نکل کر میں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا کیوں کہ اسے مسلسل بازوﺅں میں بھر کر غار تک پہنچانا ممکن نہیں تھا ۔آرمی میں زخمیوں اور لاشوں کو اٹھانے کی عملی تربیت دی جاتی ہے ۔میں نے بھی اسے اسی انداز ہی میں اٹھایا ہوا تھا جیسا کہ ہمیں تربیت ملی تھی ۔لیکن ایسا کرنے کی وجہ سے اس کے جسم کے بہت سے گداز حصے میرے بدن سے مس ہو کرمیری قوت برداشت کا امتحان لینے لگے تھے۔اور میں ٹارچ کی روشنی میں دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو اس کے لمس کی سحر آفرینی سے بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہو گیا ۔پلوشہ سے دوبارہ ملنے کے بعد میں عجیب قسم کی کش مکش میں پھنس گیا تھا ۔دماغ اس سے نفرت کی ترغیب دینے کے ساتھ اس سے دور جانے کے مشورے دے رہا تھا ،جبکہ دل اسے اپنی آغوش میں بھر کر ماضی کی ساری باتیں بھلانے کے چکر میں تھا۔بلا شک و شبہ اس نے میرے ساتھ بہت برا سلوک کیا تھا ۔اور اس سے بھی زیادہ دکھ مجھے اس کی بے راہ روی اوربد کرداری کا تھا ۔لیکن ان سب باتوں کے باوجو د دل کی ایک ہی رٹ تھی ۔
”جو ہوا اسے بھول جاﺅ۔“
جبکہ دماغ اتنا بے وقوف نہیں تھا ۔اس کی بے راہ روی اور غیر مردوں سے غلط تعلقات کسی صورت بھلائے جانے کے قابل نہیں تھے ۔سب سے بڑھ کر وہ کسی دوسرے مرد کو پسند کرتی تھی ،جس سے شادی کے لیے اس نے اتنے زیادہ پاپڑ بیلے تھے ۔اب میرے معاف کرنے یا اس کے لیے اپنی آغوش دوبارہ وا کرنے سے اس نے کون سا بھاگ کر میرے پاس آجانا تھا ۔اس کے نزدیک اگر میری تھوڑی سی بھی اہمیت ہوتی تو وہ کبھی بھی ایسا نہ کرتی ۔
دماغ کے بھاری دلائل نے دل کو خاموش کرا دیا تھا ۔ قریباََ سوا گھنٹے میں میں غار کے دہانے پر پہنچ گیا تھا ۔ہر طرف صبح کا اجالا پھیل گیا تھا ۔اسے کندھے سے اتار کر میں نے بازوﺅں میں بھر ا اور غار میں داخل ہو گیا ۔ زمین پر بچھے گدے کے پاس جا کر ،اسے احتیاط سے گدے پر لٹاد یا اور سر کے نیچے تکیہ درست کر کے غار سے باہر نکل آیا۔میرا ارادہ جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے کا تھا ۔لکڑیوں کی وہاں کوئی کمی نہیں تھی ۔پندرہ بیس منٹ لگا کر میں نے غار کے اندرکافی ساری خشک لکڑیاں ڈھیر کر لیں۔
اب مجھے اس سے رخصت لینا تھی ۔وہ آنکھیں بند کیے چت لیٹی ہوئی تھی ۔ اس کی بند آنکھوں کا فائدہ اٹھاکر میں نے چند لمحے اپنی نظروں کو عیاشی کی اجازت دی ۔لیکن پیاسی نظریں سیر ہونے کانام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔نہ جانے وہ اتنی پر کشش ،جاذب نظر اورمن موہنی تھی یا مجھے ہی ایسی لگتی تھی۔ میں شاید اس شغل کو اتنی جلدی ترک نہ کر سکتا مگر اس کی پلکوں کی جنبش نے مجھے نظر یں پھیرنے پر مجبور کردیاتھا۔اس کی آنکھیں وا ہوتے ہی گلا کھنکار کر گویا ہوا ۔
”میں نے ضرورت کا تمام سامان یہاں رکھ دیا ہے ، امید ہے تین چار دنوں میں تم چلنے کے قابل ہو جاﺅگی۔یہاں سے انگور اڈہ اتنی دور نہیں ہے تم آسانی سے وہاں پہنچ کر چھپ سکتی ہو۔باقی تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا میں اس بارے بات نہیں کرنا چاہتا بس ایک مشورہ دینے کی جسارت کروں گا کہ آج کے بعد وہ سارے پرانے کام چھوڑ دو ۔عورت کی اصل جگہ اس کا گھر ہوتا ہے ۔تم نے قبیل خان سے بدلہ لینا تھا سولے لیا ،اب کسی اچھی جگہ شادی کر کے اپنا گھر بساﺅ۔“ایک لمحہ رک کر میں نے گفتگو کو طول دینے کے لیے الفاظ کی تلاش میں اپنے دماغ پر زور دیا لیکن اس سے بچھڑنے کے غم نے ایک دم میری سوچوں پر حملہ آور ہو کر میری گویائی سلب کر لی تھی ۔بڑی مشکل سے میں ۔”خدا حافظ۔“کہہ کر ایک دم مڑا اور غار سے باہر نکل آیا ۔میرے دل کو ایک انجانی ڈور پیچھے کی جانب کھینچ رہی تھی ۔میرا ضمیر بھی اسے اس حالت میں بے یارومدد گار چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا ۔مگر اب وہاں رک کر میں اپنی نظروں سے نہیں گر سکتا تھا ۔بہ قول شاعر ....
تعارف بوجھ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق روگ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے تکمیل دے دینا ہو ناممکن
اسے اک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
غار سے نکل کر میں دوڑ پڑا ۔آہستہ چلنے کی صورت میں مجھے خدشہ تھا کہ میں پھر واپس لوٹ جاﺅں گا ۔حویلی کے قریب پہنچا تو دھوپ پھیل گئی تھی ۔
سب سے پہلے میں مورچے پر چڑھ کر وہاں موجود لاش کے پاس وہ پستول ڈھونڈنے لگا جس کے ذریعے اس نے پلوشہ کو اتنی دور سے گولی ماری تھی ۔مگر اس کے پاس کلاشن کوف پڑی دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہیں رہی تھی ۔گویا پلوشہ اس کی گولی سے زخمی نہیں ہوئی تھی ۔اپنا شک دور کرنے کے لیے میں نے ایک بار پھر انیکسی میں جا کر دیکھا ۔وہ پستول ہی کا بلٹ تھا ۔کلاشن کوف اور پستول کے بُلٹ میں کافی فرق ہوتا ہے ۔اسے تو کوئی عام آدمی بھی پہچان سکتا ہے سنائپر کی نظر تو اس معاملے میں بہت تیز ہوتی ہے ۔
”کہیں کوئی اور بھی یہاں موجود تو نہیں ۔“ایک روح فرسا خیال میرے دماغ میں جاگر ہوا ۔ مگر پھر میں نے یہ خیال سختی سے جھٹلا دیا، کیونکہ کسی بھی تیسرے کی موجودی میں شاید اب تک ہم اس کا نشانہ بن چکے ہوتے ۔میں زیادہ دیر اس مسئلے پر نہیں سوچ سکا تھا ۔میرے دل میں عجیب قسم کے وسوسے سر ابھارنے لگے تھے ۔پلوشہ کی مرہم پٹی تو میں نے کر دی تھی کیا وہ دوبارہ اپنی پٹی تبدیل کر پاتی ۔ فطری تقاضے کے لیے وہ غار سے باہر کیسے نکل پاتی ۔وہ صبح شام خو د کودرد کش اوراینٹی بائیوٹک انجیکش کیسے لگا پاتی ۔ میں نے اس کے پاس پانی کی تین بوتلیں بھر کر رکھی تھیں ۔کیا وہ پانی اس کی ضروریات کو پورا کر سکتا تھا ۔اور اگر کوئی جنگلی جانور خون کی بو پاکر غار میں گھستا تو وہ کیسے اس سے مقابلہ کرتی ۔اور اگر وہ جانور پر فائر کرتی تو کیا فائر کی آواز سن کر صنوبر خان کے آدمی چوکنا نہ ہوجاتے ۔میں تو اپنی جان چھڑانے کے شوق میں اسے موت کے منہ میں چھوڑ آیا تھا ۔
بغیر تاخیرکے میں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔بیرونی دروازے کے قریب پہنچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ بیڈ پر پلوشہ کا خون بکھرا دیکھ کرصنوبر خان یا البرٹ وغیرہ کو اندازہ لگانے میں دیر نہ لگتی کہ ہم دونوں میں کوئی ایک زخمی ہے ´پھر ایک گدا اور رضائی وغیرہ کو غائب دیکھ کر وہ یقینا یہی سوچتے کہ ہم کہیں قریب ہی چھپے ہیں ۔ورنہ رضائی اور گدے کا ہم نے کیا کرنا تھا ۔
ایک نتیجے پر پہنچتے ہوئے میں نے ضرورت کی چند چیزیں حویلی سے باہر نکال کر رکھیں اور پھر اس چھوٹے کمرے کا رخ کیا جہاں وہ ڈیزل اور پٹرول وغیرہ ذخیرہ رکھتے تھے ۔تین چار بھرے ہوئے کین اس وقت بھی وہاں موجود تھے ۔اگلے دس پندرہ منٹ میں میں نے وہ پٹرول انیکسی اور دوسرے کمروں میں چھڑک دیا تھا ۔وہاں موجود تین چار گیس سلنڈر بھی میں نے کھول دیے ۔اور پھر پٹرول کو ایک لکیر کی طرح زمین پر گراتا ہوا میں داخلی دروازے تک آیا اسے تیلی دکھا دی ۔آگ سرعت سے زمین پر پڑے تیل کو چاٹتی ہوئی کمروں کے دروازے تک پہنچی ۔میں نے حویلی سے باہر نکل کرضروری سامان اٹھایااور اپنی جانِ حیات کے مسکن کی طرف چل پڑا ۔گیس سلنڈروں کے پھٹنے کے دھماکے میرے کانوں میں پڑے اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ایک بار پھر صنوبر خان سے دشمنی کا آغاز ہو گیا تھا ۔
غار تک پہنچتے ہوئے سورج کافی تیز ہو گیا تھا ۔ساری رات بھاگ دوڑ میں گزر گئی تھی ۔مجھے اس وقت بھوک کے ساتھ چاے کی بھی سخت حاجت محسوس ہو رہی تھی ۔
”پتا نہیں وہ میری واپسی کو کیا نام دے گی ۔“غار کے اندر داخل ہوتے ہوئے میرے دماغ میں بس یہی سوال گردش کر رہا تھا ۔وہ اسی حالت میں پڑی تھی ۔مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر کسی قسم کے تاثرات نہیں ابھرے تھے ۔
سامان نیچے رکھ کر میں نے سب سے پہلے آگ جلا ئی اور دودھ کا پیکٹ کھول کر اس کے لیے دودھ گرم کرنے لگا ۔اوولٹین ملا کر میں نے دودھ گلاس میں ڈالا اور ایک پیسٹری کا ریپراتارکر اس کی طرف بڑھا دیا ۔
”مجھے چاے پینا ہے ۔“میں نے اتنے عرصے بعد پہلی مرتبہ وہ مدھر اور پیاری آواز سنی تھی ۔ ورنہ کل رات سے وہ مسلسل خاموش ہی تھی ۔
میں نے نرم لہجے میں کہا ۔”دودھ پی لو پھر چاے بھی بناتا ہوں ۔“
مزید کچھ کہے بنا اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔میں جلدی سے دودھ کا گلاس نیچے رکھ کر اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا ۔اس کے بیٹھتے ہی میں نے دودھ کا گلاس اور پیسٹری اسے تھما دی ۔اس کے بازوﺅں سے پکڑتے وقت مجھے اس کا جسم کافی گرم لگا تھا ۔یقینا اسے بخار ہورہا تھا ۔میں دل ہی دل میں اسے اکیلا چھوڑ کر جانے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔مجھے ایسا کرنا کسی طوربھی زیب نہیں دیتا تھا ۔
پیسٹری ایک بار دانتوں سے کاٹ کر اس نے واپس رکھ دی تھی البتہ دودھ وہ ہلکے ہلکے گھونٹ لے کر پیتی رہی ۔میں چاے بنانے لگا ۔میرے چاے بنانے تک وہ گلاس خالی کر چکی تھی ۔ایک پیالی میں چاے ڈال کر میں نے اس کی طرف بڑھا دی ۔پیالی تھماتے ہوئے اس کی پرکشش آنکھیں میری طرف اٹھیں میں اس کی طرف ہی متوجہ تھا ۔اس کی آنکھوں کی گہرائی میں مجھے اضطراب کی لہریں اٹھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔
”یہ بھی کھالو نا ۔“میں پیسٹری کی طرف اشارہ کیا ۔
”دل نہیں کر رہا ۔“کہہ کر وہ چاے پینے لگی ۔
میں خود وہ پیسٹری اٹھا کر کھانے لگا ۔ اس کے دانتوں نے اس پیسٹری کو کاٹا تھا۔ محبوب کے منہ سے لگی ہوئی کوئی بھی چیز چاہنے والے کے لیے ایک نعمت ہی تو ہوتی ہے ۔پیسٹری کھا کر میں نے بسکٹ کا ایک پیکٹ کھول کر معدے کو تقویت دینے لگا ۔وہاں مجھے اعلا کوالٹی کے بسکٹ اور پیسٹریاں وغیرہ پڑی ہوئی ملی تھیں جو یقینا امریکی آقاﺅں کی خاطر رکھی گئی تھیں ۔میں تمام ہی سمیٹ لایا تھا ۔
میں جونھی چاے پی کر فارغ ہوا وہ آہستہ سے بولی ۔
”مجھے تازہ دم ہونا ہے ۔“
”چلو ۔“اسے بازوﺅں میں بھر کر میں باہر لایا اور ایک مناسب جگہ اتار کر پانی کی بوتل اس کے ساتھ رکھ کر آڑ میں ہو گیا ۔
تھوڑی دیر بعد اس کی آواز آئی ۔”آجائیں ۔“
میں نے دوبارہ اسے بازوﺅں میں بھرا اور بستر تک لے آیا ۔اسے لٹاتے ہوئے میں نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اس کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا ۔مجبوراََ اسے لٹانے سے پہلے میں نے بخار اور سکون کی گولی کھلانا مناسب سمجھا ۔
گولی کھلا کر میں نے اسے احتیاط سے پیچھے لٹایا اور اس کے جسم پر رضائی درست کرنے لگا ۔ اس کی طرف سے اطمینان محسوس کر کے میں نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکائی اور ہاتھوں میں دوربین پکڑ کر باہر نکل آیا ۔وہ غار اس پہاڑی کے قریباََ درمیان میں بنی ہوئی تھی ۔میں درختوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔بیس پچیس منٹ بعد میں چوٹی تک پہنچ گیا تھا ۔ایک بڑے پتھر کے عقب میں لیٹ کر میں حویلی کا جائزہ لینے لگا ۔حویلی سے اٹھتا ہوا دھواں اس بات کا مظہر تھا کہ اسے ابھی تک آگ لگی ہوئی تھی ۔ گو اس آگ سے ان کے سامان اور لکڑی کے دروازوں ہی کو نقصان پہنچنا تھا لیکن یہ نقصان بھی کافی زیادہ تھا ۔ چھت میں چونکہ لکڑی وغیرہ کا استعمال نہیں ہوا تھا اس لیے چھتیں اور دیواریں محفوظ تھیں ۔ابھی تک صنوبر خان وغیرہ میں سے کوئی وہاں نہیں پہنچا تھا ۔کیونکہ حویلی کے قریب مجھے کوئی گاڑی نظر نہیں آ رہی تھی۔
چند لمحے اچھی طرح اطراف کا جائزہ لے کر میں نیچے اتر آیا ۔غار میں داخل ہوتے ہی پلوشہ کی بھاری سانسوں نے مجھے اس کے سو جانے کا مژدہ سنایا تھا ۔
اس کا چہرہ رضائی سے باہر تھا ۔نزدیک ہو کر میں اسے محبت بھری نظروں سے گھورنے لگا ۔ نزدیک آتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر میرے اعصاب پر سوار ہونے لگی تھی ۔میں چاہ کر بھی اس سے نفرت نہیں کر پا رہا تھا ۔بلکہ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ مجھے پہلے سے بھی زیادہ پیاری لگنے لگی ہے ۔شاید اب وہ ناممکن الحصول ہو چکی تھی اورایسی شخصیت جو رسائی سے دور ہو ہمیشہ انسان کو زیادہ پرکشش لگنے لگتی ہے ۔
میں بھی ساری رات کا تھکا ہوا تھا ۔مجھے بھی نیند آنا چاہیے تھی مگر پلوشہ کی قربت نے میری نیند اڑا دی تھی ۔میں بس اس کے سرہانے بیٹھا اسے محبت پاش نظروں سے گھورتا رہا ۔کافی دیر میں اسی شغل میں مصروف رہا ۔اچانک اس نے کروٹ بدلنے کی کوشش کی اور کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں ۔ میں جلدی سے رخ موڑ کر اپنا بستر ٹھیک کرنے لگا ۔حویلی کو آگ دکھانے سے پہلے میں نے دو کمبل اور تکیہ وغیرہ اپنے لیے سنبھال لیے تھے ۔
بستر بچھا کر میں اس کی طرف مڑا ۔اس کی آنکھیں ایک بار پھر بند ہو چکی تھیں ۔میں بھی بستر میں گھس کر اس کی طرف رخ کر کے لیٹ گیا ۔جلد ہی نیند نے مجھے غافل کر دیا تھا ۔گو ہم دونوں کا اس طرح سو جانا مناسب نہیں تھا ۔لیکن اس غار کی جگہ ایسی تھی کہ وہ آسانی سے کسی کو نظر نہیں آ سکتی تھی ۔سب سے بڑھ کر غار کے دہانے پر موجود درختوں کے جھنڈ کی وجہ سے یہ غار لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی تھی۔
٭٭٭
میری آنکھ کہیں سہ پہر کے قریب جا کر کھلی تھی ۔پلوشہ جاگ رہی تھی اور چت لیٹی غار کی چھت میں جانے کیا تلاش کر رہی تھی ۔بستر سے نکل کر میں نے پانی کی خالی بوتلیں اٹھائیں اور غار سے باہر نکل آیا ۔نالے میں صاف و شفاف پانی بہہ رہا تھا ۔وزیرستان کی پہاڑیوں میں کافی چشمے مل جاتے ہیں ۔ نالے میں اتر کر پہلے تو میںنے وضو کر کے وہیں پر عصر کی نماز اداکی اور پھر پانی کی بوتلیں بھر کر واپس لوٹ آیا ۔
پلوشہ کی پٹی تازہ کرنی تھی ۔پائیوڈین اور صاف پٹی دوائیوں کے بکس سے نکال کر میں اسے مخاطب ہوا ۔
”کیا پٹی تبدیل کر لو گی ؟“
میری طرف متوجہ ہو کر اس نے نفی میں سر ہلادیا تھا ۔میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔ بے ایمان دل کو تو بس اسے چھونے کا بہانہ چاہیے تھا ۔
”اچھا میں کر دیتا ہوں ۔“میں نے پہلے کی طرح اس کے جسم پر چادر بچھا کر زیریں لباس اتارا اور پرانے والی پٹی کھول کر نئی پٹی باندھنے لگا ۔پرانی پٹی خون سے تر تھی لیکن خون کا رسنا رک گیا تھا ۔نئی پٹی باندھ کے میں نے درد کش انجیکش کولہے میں لگایا ۔اور پھر اس کا لباس درست کر کے اسے بازو میں انٹی بائیوٹک انجیکش لگانے لگا ۔اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ وہ مسلسل مجھے گھورے جا رہی ہے ۔
خالی انجیکشن ایک طرف پھینک کر میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا ،مگر اس نے نظریں چرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور اسی طرح مجھے گھورتی رہی ۔میں بھی بے اختیار اسے دیکھتا چلا گیا ۔ اچانک اس کی آنکھوں میں جوار بھاٹا اٹھتا محسوس ہوا اور اس کے ساتھ ہی سیلابی ریلا پلکوں کے پشتے کو خاطر میں نہ لاتا ہوا بہہ نکلا ۔میں سارے شکوں ،گلوں اور نفرتوں کو پس پشت ڈالتا ہوا تڑپ کر آگے بڑھا اگلے ہی لمحے اس کا کومل وجود میری آغوش میں تھا ۔
”کیا ہوا ....میری جان !“میرے منہ سے بے ساختہ پھسلا ۔اتنا سنتے ہی اس کے منہ بلند چیخ نکلی اور وہ اپنے زخم کی پروا کیے بغیر مجھ سے یوں لپٹی جیسے لوہا مقناطیس کو چمٹتا ہے ۔اور پھرزوردار سسکیوں کے ساتھ اس کے منہ سے بے ربط الفاظ نکلنے لگے ....
”کہا تھا نا جلدی آنا مجھے ڈر لگ رہا ہے ....میں نے کہا تھا مجھے کچھ ہو جائے گا ،مگرتمھیں تو اپنی نوکری کی پڑی تھی نا ....بھاڑ میں جائے تمھاری نوکری ....مجھے اذیتوں ،مصیبتوں اور دکھوں کے حوالے کر کے سکھ کما لیا ہے نا ....مل گیا ہے سکون ،آ گیا ہے آرام ....ذلیل کمینے میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی ....کبھی نہیں.... کبھی نہیں ........“گلہ کرنا میرا بنتا تھا ،ناراض ہونا مجھے جچتا تھا ....شکوے شکایتیں میں نے کرنا تھیں ۔مگر وہ کچھ سوچے بغیر سارا الزام میرے سرپر پھینکے جا رہی تھی ۔ اس کی جذباتی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ میں اسے روکتا ٹوکتا ۔یوں بھی میں نے اس کی ساری غلطیاں معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اس سے دور رہنا ممکن ہی نہیں تھا تو دور ی کیسے اختیار کرتا۔اس کا واویلا حد سے بڑھتا دیکھ کر مجھے اس کا منہ بند کرنا پڑااور خوش قسمتی سے ایسا کرنے کے لیے میرے ہاتھ فارغ نہیں تھے ۔
وہ مدہوش ہو کر میرے بازووں میں جھول گئی تھی ۔جانے کتنی دیر میں اسے اپنی آغوش میں لیے ماحول سے بے خبر بیٹھا رہا ۔وہ آہستہ آہستہ پر سکون ہو تی گئی ۔اس کے آنسو تھمے ، سسکیاں بند ہوئیں اور وہ اپنی مسحور کن آنکھیں کھول کر مجھے دیکھنے لگی ۔اس کے لبوں پر مجھے وہی دھیمی دھیمی شوخ مسکراہٹ نظر آ رہی تھی جس نے مجھے اس کا دیوانہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔
جاری ہے
 

”اب بتاﺅ ،گلہ کرنا میرا بنتا ہے یا تمھارا ۔“اسے متبسم دیکھ کر میں نے چاہت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
وہ پر زور لہجے میں بولی ۔”میرا ....میرا ....میرا ۔“
”وہ کیوں ؟“اس کی ناک کی پھننگ سے پکڑ کر میں نے آہستہ سے مروڑا۔
”کیونکہ آپ کی لاڈلی جوہوں ۔“اس کا ناز بھرا انداز مجھے نہال کر گیا تھا ۔
”جانتی بھی ہو مجھ پر کیا بیتی ۔“
اس کے چہرے سے تبسم غائب ہوا اور اس نے سسکتے ہوئے کہا ۔”نہیں اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔“اس کی آنکھیں ایک بار پھر چھلکنے کو تیار ہو گئی تھیں ۔
”اگر ایک آنسو بھی گرا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا ۔“اس کی پلکوں کے آشنا لمس کو لبوں سے محسوس کرتے ہوئے میں نے تنبیہ کی ۔
”راجو !....مجھے معاف کردو ۔“مجھے اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
میں نے چاہت بھرے لہجے میں کہا ۔”راجو کی جان !....کر دیا معاف ۔ایک بار نہیں ہزار بار معاف کر دیا ۔پھر ایسا کرو گی پھر معاف کروں ....جتنی بار کرو گی اتنی بار معاف کروں گا ۔“
”وجہ نہیں پوچھو گے ؟“
”کبھی نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”البتہ بتانا چاہو تو سنوں گا ضرور۔“
”نہیں بتاﺅں گی ....آپ پوچھیں گے تب بھی نہیں بتاﺅں گی ۔“
میں نے اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بے پروائی سے کہا ۔”ٹھیک ہے۔“
”باقی باتوں کو چھوڑیں،بس آپ مجھ سے ابھی ابھی شادی کریں ۔مجھے ایک لمحے کی تاخیربھی گوارا نہیں ہے۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”چند شرائط ماننا پڑیں گی ۔“
”فرماﺅ ؟“اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔
”بال نہیں کٹواﺅ گی ،مردانہ لباس نہیں پہنو گی ، کانوں میں بالیاں اور ناک میں کوکا پہنو گی ، مردوں میں نہیں ناچو گی اور خودکشی کرنے کی دھمکی نہیں دو گی ۔“
وہ دلبری سے مسکرائی ۔”آخری شرط کے علاوہ باقی سب منظور ہیں ۔“
”نہیں جی ،سب سے اہم تو آخری شرط ہی ہے ۔“
”راجو !....اب مذاق کو چھوڑیں۔“
”چندا کوئی مولوی تو مل جائے نا ؟“
”نکاح مولوی کے بغیر بھی ہو جاتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،مگر گواہ کہاں سے لائیں گے ۔“
”آپ بس جان چھڑانا چاہ رہے ہیں ۔“وہ روہانسی ہونے لگی ۔
میں نے اعتما دبھرے لہجے میں کہا ۔”اللہ پاک کی قسم جان نہیں چھڑا رہا ۔انگور اڈے پہنچتے ہی پہلا کام یہی کروں گا ۔“
”اگر ایسا نہ کیا تو خدا قسم میں اپنی جان....“اتنا کہہ کر وہ ایک لمحہ کو رکی اور پھر قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”پتا تو چل گیا ہو گا ۔“
”جی ہاں چل گیا ہے پتا ....تمھاری بکواس کرنے کی عادت اتنی جلدی تو ختم نہیں ہو سکتی ۔“
”نہیں ہوگی ....نہیں ہوگی ....نہیں ہوگی ۔“لاڈ بھری ہٹ دھرمی سے کہتے ہوئے اس نے میری گود میں سر رکھا اور اپنے بازو میری کمر کے گرد لپیٹ لیے ۔
ایک دم وہ پرانی پلوشہ کے روپ میں میرے سامنے آ گئی تھی ۔وہی شوخی ،ویسے لاڈاور وہی محبوبانہ انداز ۔میرے دماغ میں صنوبر خان کے آدمیوں کی سنی ہوئی باتیں گونجیں مگر میں نے خود میں اتنی جرّات مفقود پائی تھی کہ اس سے دریافت کر سکتا۔وہ اس کا رشتا کسی منور خان نامی آدمی سے جوڑ رہے تھے جو ان کے بہ قول پلوشہ کا محبوب تھا ۔اور اس کے لیے پلوشہ نے میراسودا کیا تھا ۔مگر پلوشہ کا انداز دیکھتے ہوئے ذرا بھر بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ کوئی دنیا میں عزیز بھی ہے ۔اس کی چاہت میں نہ تو کوئی کھوٹ نظر آ رہا تھا اور نہ وہ ویسی لگ رہی تھی جیسی ان تمام نے بکواس کی تھی ۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”کہاں گم ہو گئے ہو ؟“
”یہیں ہوں ۔“میں ہولے سے مسکرایا ۔”اپنی چندا کو گود میں لیے بیٹھا ہوں ۔“
”ہاں بس ایسے ہی بیٹھے رہو ....میں توسونے لگی ہوں ۔“
”ایک بات پوچھو ں؟“
مجھے سوالیہ نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”تمھیں گولی کیسی لگی تھی؟“
اس کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم ابھر ا۔سچ سچ بتا دوں ۔“
میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا ۔”بالکل سچ ....کیوں کہ مجھے کچھ کچھ اندازہ ہے ۔“
”اگر وعدہ کرو کہ نہ تو کچھ کہو گے اور نہ ناراضی کا اظہار کرو گے تو شاید سچ اگل دوں۔“
”کوشش کروں گا ۔“مجھے اپنے اندیشے صحیح ہوتے نظر آرہے تھے ۔
وہ مصر ہوئی ۔”نہیں جی وعدہ ۔“
”اچھا وعدہ رہا ۔“بادل نخواستہ مجھے اس کی بات ماننا پڑی۔
”میں نے خود ہی ماری تھی ۔“میرے دل میں چھپے شبہات کو اس نے حقیقت کا جامہ پہنایا۔
”مگر کیوں ....؟“میں چیخ ہی تو پڑا تھا ۔
”کیا آپ نہیں جانتے ۔“وہ بھی ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
”نہیں ....میں نہیں جانتا کہ تم نے یہ بے وقوفی کیوں کی ۔“
”کیوں کہ میں راجو کے بغیر مر جاتی ....کیسے آپ کو وہاں چھوڑ کر آجاتی ....میں جانتی ہوں آپ مجھے قصور وار سمجھ رہے ہیں ،نامعلوم انھوں آپ کو کیا کیا کہانیاں سنائی ہوں گی اور پھر میں نے آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کو پکڑوانے کا معاوضا بھی تو وصول کیا تھا ۔وہاں میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اپنی صفائیاں دیتی رہتی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ آپ میری کسی بات پر یقین نہ کرتے ۔اس لیے جب آپ نے مجھے آزاد کر کے بھاگنے کو کہا اسی وقت میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو ساتھ لیے بغیر نہیں جاﺅں گی ....اور آپ کو ساتھ لے جانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ میں اس طرح زخمی ہوتی کہ خود حرکت کے قابل نہ رہتی تبھی آپ مجھے وہاں سے خود نکال کر لاتے ۔اس کے ساتھ میں نے خود کو گولی بھی ایسی جگہ پر ماری کہ آپ کسی اور سے میرا علاج بھی نہ کرا سکیں ۔اور دیکھ لو وہی ہوا جو میں نے سوچا تھا ۔“
”چندا !....ایسا کرتے ہیں بھلا ۔“اس کی چاہت دیکھ کر میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔
”تو اور کیا کرتی ....کیسے آپ کو ساتھ لانے پر مجبور کرتی ۔“
” میں تم سے پوچھ تو رہا تھا کہ بتاﺅ کیوں آئی ہو ....تم نے کوئی وجہ بھی نہیں بتائی تھی بس چپ چاپ مار کھاتی رہیں ۔“
”اور صنوبر خان کا پالتو جو کچھ کہہ رہا تھا وہ بھول گئے ہیں آپ ....بلکہ آپ کو تو بہانہ چاہیے تھا میری پٹائی کرنے کا ۔“اس کے لہجے سے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ اسے میری وہ حرمت ناگوار گزری تھی ۔
”ویسے تم اتنی نازک کب سے ہو گئی ہو کہ ذرا سا تھپڑ کھا کر کراہنا شروع کر دیتی تھیں ۔“
”آپ کی نظر میں تو نازک ہوں نا ۔“اس نے لاڈ بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”ہاں چندا !....میری نظر میں تو تم پھولوں اور کلیوں سے بھی نازک ہو ۔“
”تو بس آپ کے تھپڑ کھا کرہی تو کراہ رہی تھی ۔کوئی اور کتنی بھی کوشش کر لیتا میرے منہ سے افف نہیں سن سکتا تھا ۔البتہ آپ کی بات اور تھی ۔آپ کو تو اپنی کراہیں سنا کر جانچ رہی تھی کہ آیا اب بھی مجھے پیار کرتے ہو یا دل سے نکال بیٹھے ہو ۔“
میں نے چاہت سے کہا۔”تمھیں دل سے نکالنے کے لیے ،دل ہی کو سینے سے نکالنا پڑے گا۔“
”جھوٹا۔“اس نے اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالتے ہوئے مجھے نیچے کی طرف کھینچا اور میں اس کے چہرے پر جھک گیا ۔
اس کا مطمح نظر پورا کر کے میں نے پوچھا ۔”اچھا یہ بتاﺅتم روئی کیوں تھیں ۔“
”آپ کی محبت دیکھ کر رونا آگیا تھا ۔“
”محبت ....؟“میں حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔
”ہاں محبت ....آپ اگراس وقت آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیتے تو آپ کو پتا چلتا کہ رونی صورت کیا ہوتی ہے ۔اپنے تیئں آپ غصہ اورنفرت دکھا رہے تھے جبکہ آپ کی آنکھیں کہہ رہی تھیں کہ وہ ساری چوٹیں جو بہ ظاہر نظر مجھے لگ رہی تھیں ان کا نشانہ آپ کا اپنا دل ہے۔“
”میری دلی کیفیت جاننے کے باوجود تم نے کسی قسم کی صفائی دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔“
”محبت کرنے والے صفائیوں کے محتاج نہیں ہوتے ....اور یقین مانو اس وقت میرا صفائی دینا کسی کام کا نہیں تھا ۔بلکہ سچ کہوں تو اگر اس وقت میں آپ کو ساری بات بتا دیتی اور آپ میری بات کو ایک بار بھی غلطی سے جھٹلا دیتے تو مجھے مرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی ۔“
”ساری کہانی تو تم نے مجھے اب بھی نہیں بتائی ۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”ہاں نہیں بتاﺅں گی،جب تک شادی نہیں کر لیتے نہیں بتاﺅں گی ۔“
”جانتی ہوانھوں نے مجھے گرفتار کرنے کے بعد کیا کیا باتیں سنائیں ؟“
”راجو !....کہہ دیا نا، میں نے کچھ نہیں سننا ....کیوں مجھے اذیت دینا چاہتے ہیں ۔“
”سننا تو پڑیں گی راجو کی جان ۔کیونکہ اس کے بعد ہی ہم شادی کر سکیں گے ۔“میں مصر ہوا اور اس نے آنکھیں بند کرکے خاموشی اختیار کر لی ۔
وہ تمام بکواس کر رہے تھے کہ تم کسی اور سے محبت کرتی ہو اور اس سے شادی کرنے کے لیے تمھیں پندرہ لاکھ روپے درکار تھے.... ....“میں نے دھیمے لہجے میں صنوبر خان کے آدمیوں سے سنی ہوئی ساری بکواس دہرا دی ۔
” آپ نے ان کی باتوں کا یقین کرلیا ....“اس نے جیسے کراہتی ہوئی آواز میں پوچھا ۔ ”اوراسی لیے آپ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ میں صنوبر خان سے ملاقات کرنے کولوٹی ہوں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”پتا نہیں یقین کیا یا نہیں ۔“
”تو گویا اب ہماری شادی میں میری پارسائی رکاوٹ بن گئی ہے ۔“اس مرتبہ اس کے لہجے میں عجیب قسم کی بے گانگی در آئی تھی ۔
”اللہ پاک کی قسم بالکل بھی نہیں ....اگر ایسی بات ہوتی توکیاتم میری گود میں لیٹی ہوتیں ۔ “
”پھر شادی کا طعنہ کیوں دیا ؟“اس کی آواز جیسے کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
”اس کی وجہ تم نہیں میں خود ہوں ....یہ ضمنی بات تھی اصل بات اور ہے ....“اتنا کہہ کر میں اسے البرٹ بروک کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی کہانی سنانے لگا ۔آخر میں میں کہہ رہا تھا ....” اب میں نہ صرف امریکنوں اور صنوبر خان کا دشمن نمبر ایک ہوں بلکہ ان کے ساتھ پاک آرمی بھی مجھے کسی صورت معاف نہیں کرے گی ۔تو کیا تم کسی ایسے آدمی کو اپنا شریک حیات بنانا چاہو گی ۔جو ہر طرف سے خطروں میں گھرا ہو۔“
میری بات ختم ہوتے ہی اس کے منہ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔میں نے اس کے موہنے چہرے کی طرف دیکھا جو خوشی سے کھل رہا تھا ....”راجو !....یہ تو انھوں نے دھوکے سے آپ کوپاک آرمی کا دشمن بنا دیا ہے اور امید ہے جلد ہی پاک آرمی کے سامنے سچائی آ جائے گی ،اگرآپ سچ مچ بھی ایسے ہوتے تب بھی میرا انتخاب آپ ہی ہوتے ....بلکہ ساری دنیا بھی آپ کے خلاف ہو جائے تب بھی پلوشہ آپ ہی کا چناﺅ کرے گی ۔اور جہاں تک صنوبر خان کے آدمیوں کی بکواس کا تعلق ہے اللہ پاک کی قسم آپ کی پلوشہ کوآج تک نہ تو کسی نے اس طرح چھوا ہے جیسے آپ چھوتے ہیں اور نہ اس حال میں دیکھا ہے جیسا آپ دیکھ چکے ہیں ....سپوگمائے باجی کی عزت کی خاطر میں نے اپنا بچپن کھیلنے کودنے کے بہ بجائے سخت قسم کی تربیتی مشقوں میں گزار دیا تھا ،اب یہ کیسے ممکن ہے کہ میں خود اتنی بے راہ رو اور سستی ہو جاﺅں ....اور نہ جانے وہ کس منحوس منور خان کو میرا محبوب بنا کر پیش کر رہے ہیں ۔میں نے زندگی میں ایک مرد سے محبت کی ہے اور وہ وہی ہے جس کی گود میں اب بھی سر رکھ کر لیٹی ہوں ،بہ خدااگر میری اس بات میں ذرا بھر جھوٹ ہو تو مجھے مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہ ہو ۔میں مانتی ہوں میں نے اچھا نہیں کیا تھا۔ میراچھوٹا بھائی اور میری ماں ، میرے لیے آپ سے بڑھ کر نہیں ہیں ....مگر میں کمزور پڑ گئی ....شاید اس لیے کہ انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو جان سے نہیں ماریں گے ....شاید اس لیے کہ میں کچھ مہلت حاصل کرنا چاہتی تھی اور شاید اس لیے کہ میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ اگر آپ کو کچھ بھی ہو گیا تو آپ کے قاتلوں کو فنا کر کے میں آپ کے پاس پہنچنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاﺅں گی ۔لیکن اب اس کی میں جو توجیہ دینا چاہوں وہ خود مجھے قابل قبول نہیں ہے کجا کسی دوسرے کو ۔میں ہمیشہ آپ کی مجرم رہوں گی ۔بے شک آپ مجھے کبھی معاف نہ کرنا بس خود سے دور نہ کرنا اس کے علاوہ مجھے ہر سزا منظور ہے ۔“
”تو میری موت کے بعد تم تمام کو مار کر خود کشی کر لیتیں ۔“میں نے اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پیار سے ڈانٹا ۔
”آپ کے مرنے کے بعد کیا میں زندہ رہ پاتی ۔راجو!.... یاد رکھنا عورت زندگی میں صرف ایک بار محبت کرتی ہے اوراس کے بعد وہ کسی مرد سے سمجھوتہ تو کر سکتی ہے محبت نہیں کر سکتی اور میں سمجھوتہ کرنے کی عادی نہیں ہوں ۔“
”جانتی ہو جب تم پندرہ لاکھ کی خطیر رقم لے کر اکیلی انگور اڈے کی طرف جا رہی تھیں اس وقت مجھے یہ سوچ پریشانی میں ڈالے ہوئے تھی کہ اتنی بڑی رقم کی وجہ سے کوئی تمھیں جانی نقصان نہ پہنچا دے۔“
”راجو !....“میرا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتے ہوئے وہ رو پڑی ۔
”روتی کیوں ہو پگلی ....وہ وقت تو بیت گیا ہے ،اب تو بس میری چندا ہو گی اور میں ۔“
”آپ شادی کرنے میں دیر کیوں کر رہے ہیں ۔اگر پہلے میری بات مان لی ہوتی تو ہمیں ان آزمائشوں کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا ۔“
”تو میں کب دیر کرنا چاہتا ہوں ....پہلے بھی اس لیے موخّر کیا تھا کہ دونوں خاندان مل بیٹھ کر اس خوشی کے موقع سے لطف اندوز ہوں ،اب تو وہ خیال بھی دور جھٹک دیا ہے ،بس کوئی گواہ مل جائیں میں چاند کو اپنی منکوحہ بنانے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کروں گا ۔“
” کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک میں جاتے ہیں وہاں ہم چھپ کر بھی وقت گزار لیں گے اور وہیں نکاح بھی پڑھا لیں گے ۔“اس کے دماغ کی سوئی بس ایک ہی خیال پر اٹک گئی تھی ۔گو اب تو میں خود بھی اس کام کو موخّر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ تو جیسے باولی ہوتی جا رہی تھی ۔
”یہاں سے انگور اڈے تک جائیں گے کیسے ؟“میں نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا ۔
”کیا میرا وزن بہت زیادہ ہے ؟“اس نے منہ بسورتے ہوئے شکوہ کیا ۔اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
”پھول کا بھی وزن ہوتا ہے کیا ؟“اس کا کومل چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے میں نے چاہت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
”تو پھر انگور اڈے تک جانے میں کیا مسئلہ ہے ؟“
”کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے ....بس پیٹ پوجا کر کے نکلتے ہیں ۔“
”سچ ....“وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
”بالکل سچ ۔اب مجھ سے بھی یہ دوریاں برداشت نہیں ہوتیں ....اتنی پیاری لڑکی کے پاس رہ کر خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے ۔
”جی جی ....آرام سے رہیں ....میں نے نکاح کی بات کی ہے ....رخصتی کی نہیں ۔“اس نے شوخی بھرے لہجے میں کہا ۔
اور میں کھسیانے انداز میں اس کا سر تکیے پر منتقل کرتا ہوا ۔چولھے کی طرف بڑھ گیا ۔اندھیرا چھا نے لگا تھا۔آگ جلا کر میں نے شام کی نماز ادا کی اور پھر چاے بنا کر بسکٹ اور پیسٹریوں وغیرہ سے ہم پیٹ پوجا کرنے لگے ۔کھانے سے فارغ ہو کر میں نے ایک کلاشن کوف تو غار سے باہر پتھروں میں چھپا دی تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے اور دوسری کلاشن کوف گلے سے لٹکا کر میں نے چند ضروری دوائیاں بھی بکس سے نکال کر جیبوں میں بھر لی تھیں ۔پلوشہ کو بازوﺅں میں بھر کر میں غار سے باہر نکلا اور اسے کندھوں پر لاد کر انگور اڈے کی طرف روانہ ہوگیا ....سفر کرنے کے لیے پوری رات پڑی تھی اور مجھے امید تھی کہ آہستہ روی سے سفر کرتے ہوئے بھی ہم صبح صادق سے پہلے انگور اڈے تک پہنچ جاتے ۔
اترائی اترتے ہی پلوشہ نے دھیمے لہجے میں کہا ....”راجو !....یاد ہے جس دن آپ مجھ سے بات کرنے کے لیے کئی کلومیٹر چل کر آئے تھے ۔اور بچھڑنے کے بعد پہلی بار ہماری بات ہو رہی تھی ۔“
میں نے چاہت بھرے لہجے میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔”تم سے جڑی کوئی بات بھول سکتی ہے بھلا ۔“
”ہماری وہ باتیں ....خبیث صنوبر خان نے سن لی تھیں ....جرگے میں چونکہ میری اصلیت کھل گئی تھی اور اس نے ماموں جان کے گھر کو پہلے سے تلاش کیا ہوا تھا اس لیے اسی رات صبح صادق کے قریب اس خبیث کے آدمی مجھے ،امی جان اور میرے چھوٹے بھائی کو گرفتار کر کے لے گئے ۔میں ہر تکلیف جھیل لیتی ،ہر تشدد برداشت کر لیتی اپنی عزت اور عصمت کو بھی داﺅ پر لگا لتی مگر انھوں نے تو میرے معصوم بھائی اور بوڑھی ماں کو بے عزت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اگر وہ انھیں قتل کرنے کی دھمکی دیتے تب بھی میں ان کی دھونس میں نہ آتی ۔مگر وہ ننگ انسانیت تو میرے معصوم بھائی جو بہ مشکل نو دس سال کا ہے اور بوڑھی عورت کے بارے ایسی ایسی شرمناک اور واہیات گفتگو کر رہے تھے کہ مجھے مجبور ہونا پڑا ۔ میرے حامی بھرتے ہی ایک کالی لڑکی اور ایک انگریز بھی وہاں آگئے ۔انھوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ میرے راجو کو کچھ نہیں ہو گا ۔وہ پندرہ لاکھ کی رقم لینے کا ڈراما بھی اس کالی لڑکی کا تھا ۔وہ یہ باتیں اپنے ساتھی کے ساتھ کر رہی تھی اسے معلوم نہیں تھا کہ میں انگریزی جانتی ہوں ورنہ میرے سامنے ایسی گفتگو نہ کرتی ۔اگلے دن ہمیں علام خیل لایا گیا۔رات کو میری آپ سے گفتگو ہوئی ۔میں نے جان بوجھ کر ایسا رویہ رکھا کہ آپ کو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے مگر آپ تو اپنی لاڈلی کی محبت میں ایسے اندھے ہوئے تھے کہ بغیر کسی غور و فکر کے بھاگتے چلے آئے ۔“یہ کہتے ہوئے وہ ناز بھرے انداز میں ہنس دی تھی ۔جبکہ میں خود کو ملامت کرنے میں لگا ہوا تھا میری عزیز ہستی کے ساتھ کیا کچھ بیت گیا تھا اور میں اس کی محبت میں شک کرتا پھر رہا تھا ۔مجھے خاموش پا کر اس کی بات جاری رہی ....
”آپ کو گرفتار کر کے انھوں نے وعدے کے مطابق میری امی جان اور بھائی کو رہا کر دیا ۔ ایک مہربانی انھوں نے یہ کی تھی کہ وہ رقم مجھ سے واپس نہ لی ۔میں امی جان اور بھائی کو لے کر ڈیرہ اسماعیل خان پہنچی ....وہاں وزیرستان کے کافی مہاجرین پناہ گزین ہیں ۔ایک محلے میں کرایے کا گھر تلاش کر کے میں نے چند ماہ کا پیشگی کرایہ ادا کیا ۔اور بقیہ رقم امی جان کے حوالے کر دی ۔اس کے بعد وہاں چند دن ان کے ساتھ ہی رہی تاکہ وہ اچھی طرح سے علاقے کو جان جائیں اور جب مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ میرے بغیر بھی رہ لیں گے تو اپنے راجو کے لیے واپس لوٹ آئی ۔چار پانچ دن پہلے ان کا ایک آدمی جو رخصت پر جا رہا تھا میرے ہاتھ چڑھ گیا ۔اس سے مجھے آپ کے بارے تمام تفصیل معلوم ہو گئی ۔ اور کل جب میں نے بہت ساری گاڑیوں کو وہاں سے جاتے ہوئے دیکھا تب میں نے اندر گھسنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اب یہ میری بد قسمتی تھی کہ اندر داخل ہوتے ہی میں ان کی نظروں میں آ گئی ۔بعد کی کہانی آپ کو معلوم ہے ۔“
ساری تفصیل اطمینان سے سننے کے بعد میں نے کہا ۔”تم نے تو کہا تھا کہ شادی سے پہلے مجھے کچھ بھی نہیں بتاﺅ گی ۔“
”کہا تو تھا ....لیکن آپ کی محبت دیکھ کر رہا نہیں گیا ....مجھے فخر ہے کہ میں نے آپ کو چاہا ہے ، جو مرد اپنی عورت کا غیر مرد سے غلط تعلق دیکھ کر بھی اس کی محبت سے دست بردار نہیں ہو سکتا ایسے مرد کا ملنا بہت دشوار ہوتا ہے ۔اور میری خوش قسمتی کہ مجھے ایک ایسا ہی ہیرا مل گیا ہے ۔“
”تم غلط کب سے ہو گئیں چندا !“
وہ ہنسی ۔”آپ تک جو خبریں پہنچیں اس کے مطابق تو مجھ جیسی غلط لڑکی شاید ہی دنیا میں پائی جاتی ہو ۔“
”اچھا دفع کرو پرانی باتوں کو ....یہ بتاﺅ شادی کرنے کا کتنا معاوضا لو گی ۔“
اس نے حیرانی بھرے لہجے میں کہا ۔”معاوضا....“
”ہاں ....تمھاری طرف رواج ہے نا کہ لڑکی والے، لڑکے والوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں ،اب چونکہ ہمارا کوئی سر پرست موجود نہیں ہے تو یہ سب ہمیں ہی طے کرنا پڑے گا نا ۔“
”ہا....ہا....ہا ۔“اس کے سریلے قہقہے نے میرے کانوں میں جلترنگ بجائے ۔
میں مصر ہوا ۔”ہنسو مت سچ سچ بتاﺅ ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”میں نے پہلے ہی دن سے اپنی قیمت بتائی ہوئی ہے ۔“
”یعنی پچاس لاکھ ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میںپوچھا ۔
”ہاں ،بس آپ پچاس لاکھ کی تمام صفریں ختم کر کے بقیہ رقم ادا کر دینا ۔“
”پچاس لاکھ سے پانچ روپے پر اتر آئی ہو ؟“میں نے مصنوعی حیرانی ظاہر کی ۔
وہ مسرور کن لہجے میں بولی ۔”ڈرتی ہوں نا ....کہیں انکار ہی نہ کردیں۔“
”پگلی !....اپنی جان کی قیمت دے کر بھی تمھیں حاصل کرنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے ۔“
وہ چاہت سے لبریز لہجے میں پوچھنے لگی ۔”راجو !....میں آپ کو اتنی پیاری کیوں لگتی ہوں ۔“
میں جھٹ بولا۔”کیونکہ تم ہو ہی اتنی پیاری ۔“
”جھوٹا ....یہ بات اس وقت بھول گئی تھی جب میری پٹائی کر رہے تھے ۔“
میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ۔”وہ تو شادی کے بعد بھی کروں گا ۔“
”اور جب میں روﺅں گی تب ؟“
”ہونہہ،ویسے یہ سوچنے کی بات ہے ۔“میں نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ۔ ”بہ ہرحال اس بارے بھی کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔“اسی طرح کی پیار بھری نوک جھوک میں رستا کٹنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا ۔ایک دو مرتبہ میں پلوشہ کے کہنے پر سستانے کے لیے رکا تھا مگر مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی ۔پلوشہ کے پھول سے بدن کو اٹھا کر چلنا میرے لیے چنداں دشوار نہیں تھا ۔
رات کے دو بج رہے تھے جب میں کمانڈر نصراللہ کی بیٹھک کے سامنے پہنچا ۔نیفے میں اڑسا پلوشہ والا پستول نکال کر میں بیٹھک کے بیرونی دروازے کا تالہ توڑکر اندر داخل ہوگیا ۔اندرونی کمرے کو فقط کنڈی لگی ہوئی تھی ۔کنڈی کھول کر میں پلوشہ کو بازوﺅں میں بھرے اندرداخل ہوا اور اسے ایک چارپائی پر بٹھا کر اس کے لیے بستر بچھانے لگا ۔بستر بچھا کر میں نے اسے سلایا اور اور دوسری چارپائی اس کے قریب لگا کر خود بھی لیٹ گیا ۔وہ چت لیٹی تھی مگر اپنی گردن موڑ کر مجھے دیکھتی رہی ۔میں بھی اس کی طرف کروٹ بدلے اسے دیکھے بغیر بیتے ہوئے دنوں کی کمی پوری کر رہا تھا ۔مگر ہم زیادہ دیر یہ وظیفہ جاری نہ رکھ سکے کہ بجلی چلی گئی ۔
”راجو ٹارچ جلا لو نا ؟“پلوشہ کی منت بھری آواز میرے کانوں میں پڑی ۔
میں نے انکار کرتے ہوئے کہا ۔”نہیں جی اس لوڈ شیڈنگ کو غنیمت سمجھ کر سوتے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے۔“کہہ کر اس نے غیر متوقع طور پر میری بات مان لی تھی ۔
٭٭٭
میری آنکھ دروازے پر ہونے والی دستک سے کھلی تھی کوئی بیرونی دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا ۔باہر نکل کر میں نے دروازے کی درز سے جھانک کر کمانڈر نصراللہ کو پہچانا اور دروازہ کھول دیا ۔
”ارے آپ ۔“وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
”آئیں کمانڈر !“میں نے ایک طرف ہو کر اسے رستا دیا اور اس کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ کنڈی کر دیا ۔
”بڑے عرصے بعد نظر آئے ہو ؟“مجھ سے معانقہ کرتے ہوئے وہ مستفسر ہوا ۔
”حالات نے اجازت ہی نہ دی ۔“میں اسے ساتھ لیے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس نے کہا۔”ویسے آپ کے متعلق کافی باتیں سننے میں آرہی ہیں ۔“
”کیسی باتیں ۔“استفسار کے بنا نہیں رہ پایا تھا ۔
”ایک بات کی تصدیق تو آپ کے بتائے بغیر ہو گئی ہے ۔“اس نے زنانہ کپڑے پہنے لیٹی ہوئی پلوشہ کی طرف اشارہ کیا ۔جو اسے دیکھتے ہی اٹھنے لگی تھی ۔میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھنے میں مدد دی ۔
کمانڈر نصراللہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا ۔”بیٹی کیا ہوا ہے؟“
”اسے گولی لگی ہے ۔“پلوشہ سے پہلے میں نے اس کی بات کا جواب دیا ۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔”ویسے میں تو یہ سن کر حیران رہ گیا تھا کہ پلوخان ،دراصل پلوشہ خان وزیر ہے ۔“
”بات ہی حیرانی کی ہے ۔“میں نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔
”اچھا یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ....سب سے پہلے میرا خیال ہے ناشتا ہو جائے ۔“
میں بے تکلفی سے بولا ۔”بھوک تو لگی ہے ۔“
وہ سرہلاتے ہوئے باہر نکل گیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم پر تکلف ناشتے کو جڑے ہوئے تھے ۔ناشتے کے دوران ہی قبیل خان اور جہاں دادکے قتل اور اس کے بعد ہونے والے جرگے کی باتیں اس نے میرے سامنے دہرا دی تھیں ۔کوئی بھی واقعہ مختلف زبانوں سے گزر نے کے بعد حقیقت سے کافی دور ہو جاتا ہے ۔ہمارے واقعے میں بھی کچھ نئی باتیں شامل ہونے کے علاوہ کچھ باتیں حذف بھی ہو گئی تھیں ۔ ناشتا کر کے میں نے ان باتوں کی اجمالاََ وضاحت کر دی تھی ۔اس کے ساتھ ہی کمانڈر کو میں نے اپنی گرفتاری سے رہائی تک کے واقعات سنانے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھا تھا ۔ان حالات میں وہ کوئی بہتر مشورہ دے سکتے تھے ۔
میری بات ختم ہوتے ہی وہ سوچ میں پڑ گیا۔چند لمحے سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد وہ کہنے لگا ۔
”ذیشان صاحب !....آپ دونوں میرے بچوں کی جگہ پر ہیں اگر برا نہ منائیں تو سب سے پہلے میں آپ دونوں کے اکٹھا رہنے پر اعتراض کروں گا ۔ایک جوان لڑکے اور لڑکی کو بغیر کسی رشتے کے یوں ایک ساتھ رہنا بالکل ہی مناسب نہیں ۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ علاحدہ ہو جائیں ....قبیل خان کے موت کے بعد میرا نہیں خیال کہ پلوشہ کو کسی اور جنگ میں حصہ لینا چاہیے ۔اور اگر تم دونوں اکٹھا رہنے پرمصر ہو تو پھر شادی کر لو ۔“اس کی بات نے پلوشہ کے چہرے پر قوسِ قزح کے رنگ بکھیر دیے تھے ۔ میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔
”محترم کمانڈر ہم اسی غرض سے آپ کے پاس حاضر ہوئے تھے ۔ہم آج ہی نکاح کرنا چاہیں گے ۔“
کمانڈر نصراللہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔”جزاک اللہ ....آج تو پھر بہت مبارک دن ہے نماز ظہر کے بعد آپ دونوں کا نکاح کر دیا جائے گا ۔“
میں نے کہا ۔”شکریہ کمانڈر اس کے ساتھ ہی اگر آپ میرے لیے کچھ خریداری کر لیں ۔“
”کیوں نہیں ۔“وہ خوش دلی سے بولا۔
”چلیں آپ کو بتاتا ہوں ۔“میں نے اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا ۔میں نے پلوشہ کے سامنے مطلوبہ سامان کی تفصیل بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
باہر آکر میں نے دوہزار ڈالر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے مطلوبہ سامان کی تفصیل بھی دہرا دی ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے رخصت ہو گیا ۔میں بیرونی دروازہ کنڈی کر کے پلوشہ کے پاس آگیا ۔
”کیوں جی ،مجھ سے چوری چوری کیا منگوا رہے ہو ؟“
”پلوشے ،چپ کرو یار!....دلہنیں ایسی بات چیت میں حصہ نہیں لیا کرتیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”مجھے ایسی دلہن بننا بالکل گوارا نہیں ہے ۔“
”اچھا شور کرنے کی ضرورت نہیں ....تمھاری پٹی تبدیل کرنے کا وقت ہو گیاہے ۔“
وہ لجاتے ہوئے بولی ۔”آپ باہر بیٹھیں میں خود تبدیل کر لوں گی ۔“
”ہائیں۔“میں حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔”پہلے بھی میں ہی تو کرتا رہا ہوں ۔“
وہ کھل کھلاتے ہوئے بولی ۔”پہلے کی بات اور تھی۔اس وقت تو میں آپ کو پھانس رہی تھی ۔“
”بے حیا ۔“ میں نے نئی پٹی اور پائیوڈین لے کر اس کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔
”راجو !....میں سچ کہہ رہی ہوں میں پٹی تبدیل کر لوں گی ۔“
”اچھا یہ لو ،کرو تبدیل ۔“میں مطلوبہ سامان اس کے قریب رکھ کر صحن میں آگیا ۔اس کا شرمانا میری سمجھ سے بالاتر تھا مگر شرماتے ہوئے وہ اور بھی پیاری لگنے لگتی تھی۔تھوڑی دیر بعد اس نے آواز دے کر مجھے اندر بلالیا ۔پرانی پٹی اٹھا کر میں نے باہرصحن کے ایک کونے میں پھینکی اور انجیکش تیار کرنے لگا ۔
اینٹی بائیوٹک اور درد کش انجیکشن لگا کر میں اس سے گپ شپ کرنے لگا ۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔باربار وہ بے پایاں خوشی سے کہہ اٹھتی ....”راجو !....مجھے یقین نہیں آرہا آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے بننے جا رہے ہیں ۔“
میں خود بھی اس خوشی کو اتنا ہی محسوس کر رہا تھا جتنا کہ وہ۔دو تین دن پہلے تک میری زندگی میں ایک بہت بڑا خلا نظر آرہا تھا ۔غم اور دکھ مجھے اس طرح سے گھیرے ہوئے تھے کہ میرا سانس لینا محال ہو گیا تھا اور آج میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔سارے غم اور دکھ درد بھولی بسری داستان نظر آنے لگے تھے ۔ وہ میرے لیے کتنی ضروری اور اہم تھی اس بارے مجھے تب پتا چلا تھا جب میرے تیئں وہ مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور چلی گئی تھی ۔اور اب ایک دم اس کا واپس ملنا مجھے اپنے رب کی بارگاہ میں شکر گزاری کے گہرے احساس سے سر ٹیکنے پر مجبور کر رہا تھا ۔
ہم کمانڈر نصراللہ کی واپسی تک گپ شپ کرتے رہے ۔وہ مجھے تلخ ایام میں اپنی دگرگوں حالت کا بتا رہی تھی کہ میری جدائی میں اس کی کیا حالت بنی رہی ۔اس کی باتیں سن کر تو مجھے لگ رہا تھا کہ میں نے ذرا بھر بھی تکلیف نہیں کاٹی اور ساری اذیتیں میری جانِ حیات ہی کو چمٹی رہی ہیں ۔
کمانڈر نصراللہ میرا مطلوبہ سامان لے آیا تھا ۔سامان رکھ کر وہ نماز کے بعد آنے کا کہہ کر چلا گیا۔ میں نے سرخ لباس پلوشہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا ۔
”یہ کپڑے پہنو ....میں بھی لباس تبدیل کرتا ہوں ۔“اپنے سفید کپڑے اٹھا کر میں بیٹھک کے صحن میںبنے غسل خانے میں گھس گیا ۔ واپس پہنچنے پر وہ مجھے سرخ لباس پہنے نظر آئی ۔سرخ رنگ کے کڑھائی کیے ہوئے دوپٹے میں اس کا سفید چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا ۔یاقوتی ہونٹوں پر چھائی شرمیلی مسکان مجھے بے خود کر گئی تھی ۔
”بیٹھو نا ۔“مجھے مسلسل کھڑا دیکھ کر وہ لجاتے ہوئے بولی ۔اور میں چونک کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔
”اب نظر ہی نہ لگا دینا ۔“میری آنکھوں سے پھوٹتی چاہت دیکھ کر وہ شرمیلی مسکان سے بولی۔
میں نے وارفتگی کے عالم میں پوچھا ۔”چندا !سچ سچ بتاﺅ تم ہو اتنی پیاری یا مجھے لگ رہی ہو؟“
”مجھے اپنی شکل و صورت سے کچھ نہیں لینا دینا بس آپ کو پیارالگنے کا احساس ہی میرے لیے کافی ہے ۔“
”دو دن پہلے تک میں خود کو دنیا کا بد قسمت اور ناکام ترین انسان سمجھ رہا تھا اور آج مجھے خود سے خوش قسمت کوئی دکھائی بھی نہیں دیتا ۔“
وہ شرارت سے مسکرائی ۔”یہ تو جب شادی کے بعد میں اپنی فرمائشیں پوری کرواﺅں گی تب معلوم پڑے گا ۔“
”بھول ہے تمھاری ۔“اس کا ملائم ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے میں سہلانے لگا ۔
”سچ کہوں راجو !....تو مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا ۔“
”بس تھوڑی ہی دیر کی تو بات ہے ،کمانڈر نصراللہ ،گواہوں کو لے کر آتے ہی ہوں گے ۔“
”اب تو لمحے بھی صدیاں بن گئے ہیں ۔“اس نے بے چینی ظاہر کی ۔خود میری حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی ،مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ تھوڑی دیر بعد وہ میری بن جائے گی ۔ہزارہا اندیشے اور وسوسے میرے دامن سے لپٹے تھے ۔مگر ہمارے اندیشوں کے برعکس کمانڈر نصراللہ ظہر کی نماز کے بعد اپنے دو جوان بیٹوں کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا ۔رازداری کے تقاضے پورا کرنے کے لیے اس نے اپنے بیٹوں کے علاوہ کسی کو دعوت نہیں دی تھی ۔
رسمی کلمات کی ادائی کے بعد وہ نکاح کا خطبہ پڑھنے لگا ۔خطبہ پڑھ کر اس نے پہلے پلوشہ کی رضامندی معلوم کی اور پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگا کہ.... ”پلوشہ خان وزیر بنت ِ یامین خان وزیر تمھیں اپنے حبالہ نکاح میں قبول ہے ۔“
میرا دل کر رہا تھا کہ سو بار کہوں ۔”قبول ہے ،قبول ہے ،قبول ہے ....“مگر شرم مانع ہوئی اور میں نے ایک دفعہ پر اکتفا کیا۔
”مبارک ہو ۔“مجھ سے معانقہ کر کے کمانڈر نصراللہ نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔اس کے دونوں بیٹوں نے بھی مجھے مبارک باد دی۔کمانڈر نصراللہ نے مٹھائی کا ڈبہ کھول کر سب کا منھ میٹھا کرایا۔
اس کے دونوں بیٹے تو مٹھائی کھا کر والد سے اجازت لے کر رخصت ہو گئے ۔جبکہ کمانڈر وہیں بیٹھ گیا ۔
”اب کیا ارادہ ہے ۔“بیٹوں کے رخصت ہوتے ہی وہ پوچھنے لگا ۔
”چچا جان !....ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا جو حل ہو گیا ہے ۔فی الحال پلوشہ کے ٹھیک ہونے تک ہم یہیں رہیں گے اس کے بعد ہی کچھ سوچیں گے ۔“میں نے پہلی مرتبہ اسے اس رشتے سے پکارا تھا ۔
”بیٹا !....آپ دونوں نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔اگر مجھے پلوشہ کے بارے پہلے سے پتا ہوتا تو یقینا بہت پہلے میں آپ پر زور دے چکا ہوتا ۔بہ ہرحال دیر آید درست آید۔“انھوں نے میرے چچا کہنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجھے بیٹا کہنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
”ہم بہت پہلے یہ فیصلہ کر چکے تھے چچا جان!.... ہمارا خیال تھا کہ بزرگوں کی موجودی میں یہ بابرکت فعل سر انجام دیں گے ۔مگر حالات ہمیں ایسا موقع دینے پر تیار نہیں تھے مجبوراََ یہ قدم اٹھانا پڑا۔“
”بلاشبہ بزرگوں کی شمولیت باعث برکت ہوتی ہے ،مگر جب حالات ایسے ہو جائیں تو دیر نہیں کرنی چاہیے ۔“
میں نے کہا ۔”آپ ہمارے بزرگ ہی تو ہیں ۔“
”بے شک ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔
ہم دونوں ہی گفتگو کر رہے تھے ۔پلوشہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی ۔اس شوخ ،شرارتی اور نٹ کھٹ کی ساری تیزی طراری کہیں گم ہو گئی تھی ۔
”چچا جان !....ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بزرگوں کے سامنے ایک بار پھر شادی کرئیں گے تاکہ وہ ہمارے فعل کا برا نہ منائیں ۔“
”یہ بھی ٹھیک ہے ۔“وہ میرے فیصلے کو سراہتے ہوئے کھڑے ہو گئے ۔”اب میں چلوں گا ۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بلوا لینا ۔“
”ٹھیک ہے چچا جان !“میں انھیں رخصت کرنے دروازے تک چلا گیا ۔بیرونی دروازہ کنڈی کر کے میں واپس کمرے میں آیا ۔میری دلھن سرخ کپڑوں میں سمٹی ہوئی بیٹھی تھی ۔اللہ پاک نے انسان کو نکاح کا طریقہ بھی بہ طور نعمت عطا کیا ہے ۔دو گواہوں کے سامنے مرد اور عورت ہمیشہ ایک ساتھ رہنے کا اقرار کر کے ایک ایسے رشتے میں بندھ جاتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا ۔ وہ عورت جسے نکاح کے دو بولوں سے پہلے چھونا منع اور گناہ تھا نکاح ہوتے ہی اسے چھونا عبادت بن جاتا ہے ۔وہ عورت جسے دیکھنا جائز نہیں تھا ،نکاح کے بعد اس کا دیکھنا باعث ثواب ہو جاتا ہے ۔میاں بیوی کا ایک دوسرے سے ہنسی مذاق اور دل لگی کرنا پسندیدہ ترین فعل گردانا گیا ہے ۔جھوٹ ایک ایسا ناپسندیدہ فعل ہے جسے موجب لعنت قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بیوی کو خوش کرنے کے لیے اس کی جھوٹی تعریف کی اسلام اجازت دیتا ہے ۔اور اب پلوشہ میری بیوی تھی ۔میرا لباس ،میرے زندگی کی گاڑی کا دوسرا پہیہ، میری شریک حیات،میرے دکھ سکھ کا ساتھی ،میرے ہونے والے بچوں کی ماں ،میری محبتوں اور چاہتوں کا مرکز اور میری سب کچھ تھی ۔
میں دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے قریب بیٹھ گیا ۔وہ مزید سمٹ گئی تھی ۔میں جانتا تھا کہ وہ شوخ و چنچل حسینہ شرما رہی تھی ۔مگر میں اس وقت اسے تنگ کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے میں نے گفتگو کی ابتداءکی ۔
”چندا !....آخر میں نے تمھیں پا لیا ہے ۔اس لمحے کے خواب جانے میں کب سے دیکھ رہا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یوں ایک دم تم مجھے حاصل ہو جاﺅگی ۔یقینا یہ میرے پاک رب کا کرم اور رحمت ہے کہ تم میری شریک حیات بن گئی ہو ۔میں اللہ پاک کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔میں جانتا ہوں میں تمھارے قابل نہیں ہوں ۔تمھاری شخصیت ،شکل و صورت ،دلیری و بہادری اور غیرت مندی اس کی متقاضی ہے کہ تم کسی بادشاہ کی ملکہ بنتیں ۔لیکن تم نے خود ایک بے بضاعت ،غریب اور عام سی شکل و صورت کے فوجی کو پسند کیا۔اور تمھارا یہ احسان یہ فوجی کبھی نہیں اتار سکے گا ۔البتہ نئی زندگی کی شروعات میں ،میں وعدہ کرتا ہوں کہ دنیا کی ہر خوشی تمھارے قدموں میں ڈھیر کرنے کی کوشش کروں گا ۔تمھیں رانی، ملکہ اور شہزادی بنا کر رکھوں گا ۔تمھاری ہر خواہش میرے لیے حکم کا درجہ رکھے گی ۔“میرے ہاتھ کو اس نے ایک دم سختی سے جکڑ ا،ایک تیز سسکی میرے کانوں میں گونجی اور وہ روتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی۔
”کیاہوا چندا !....“اپنا بازو اس کے گرد لپیٹتے ہوئے میں نے چاہت سے لبریز لہجے میں پوچھا ۔مگر وہ کوئی جواب دیے بغیر سسکیاں بھرتے ہوئے روتی رہی ۔
میں نے اس کے چہرے سے گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا ،آنسو بھری آنکھوں سے محبت کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں ۔
ان سحر انگیں آنکھوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے میں نے کہا ۔”میں نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے چندا !....تم میرے لیے اللہ پاک کا ایک عظٰم تحفہ ہو ....تم نے میرے دل کی اجڑی ہوئی دنیا کو جس محبت سے بسایا ہے وہ کوئی چھوٹا احسان نہیں ہے ۔ایک ٹھکرائے ہوئے مرد کو گلے سے لگا کر تم نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے ۔ان پھول سے رخساروں پر طمانچے مار کریقینا میں نے تمھیں بہت دکھ پہنچایا ہے ، میں آج خلوص دل سے معافی مانگ رہا ہوں ۔ان گھٹیا لوگوں کی جھوٹی باتوں میں آکر میں نے تم پر شک کیا ۔اس سے بہتر تھا کہ میں مر جاتا ........“
ایک دم تڑپ کر اس نے میرے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے دائیں بائیں سر ہلا کر گویا مجھے سرزنش کی تھی ۔
”یہ حقیقت ہے چندا !....“
”راجو !....اگر مزید کچھ کہا تو میرا دل پھٹ جائے گا ۔اللہ پاک کی قسم آپ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہیں ،میری غلطیوں کو اپنے کھاتے میں نہ ڈالیں ۔قصوروار میں ہوں ،مجرم میں ہوں ۔ عظیم تو آپ ہیں جو اتنے الزامات کے باوجود بغیر صفائی مانگے مجھے گلے سے لگا لیا ۔“وہ پھر رونے پر تیار ہو گئی تھی ۔
”ویسے منہ دکھائی کے بغیر چاند کا دیدار کرا دیا ہے ۔“میں نے ایک دم موضوع تبدیل کر دیا تاکہ وہ جذباتی کیفیت سے نکل آئے ۔
اس نے لجا کر پلکوں کی چلمن گرالی ۔
”اچھا پتا ہے میں نے چچا نصراللہ کو سونے کے کنگن لانے کو کہا تھا۔کنگن تو نہ ملے سونے کی چوڑیاں مل گئیں ۔یقینا ان ریشمی کلائیوں میں پہلی بار چوڑیاں ڈالنے کا شرف مجھے ہی مل رہا ہے ۔ ہے نا؟“
”آنکھیں کھولے بغیر اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔میں نے پیکنگ کھول کر سنہری چوڑیاں نکالیں اور اس کی دونوں کلائیوں میں چار چار چوڑیاں پہنا دیں ۔چوڑیوں کے ساتھ چچا نصراللہ گلابی رنگ کے نگینے والی خوب صورت انگوٹھی بھی بنوا لایا تھا ۔انگوٹھی اسے پہنا کر میں نے اس کا ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے کہا اب تو میں اس روشن چہرے کے دیدار کا حق دار ہو گیا ہوں نا ....اب تو آنکھیں کھول دو۔“
میرے درخواست کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے اس نے سحر انگیں آنکھیں کھول دیں ۔
میں نے اپنی جیکٹ کی جیبوں سے ڈالرز کی پانچ گڈیاں نکال کر اس کی گود میں ڈالتے ہوئے کہا ۔”تم نے پچاس لاکھ کا کہا تھا ....یہ پچاس ہزار ڈالرز ہیں پاکستانی رقم میں یہ پچاس لاکھ سے زیادہ مالیت بن رہی ہے ۔اب یہ نہ کہنا میں تمھاری امی جان کی منھ مانگی قیمت ادا نہیں کر سکا ہوں ۔“
”راجو !....مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ،نہ سونا چاندی ،نہ زیور ، نہ زمین جائیداد اور نہ روپیا پیسا بس کبھی خود سے دور نہ کرنا ۔ایک بار پہلے بھی کہا تھا میری غلطیوں کو بنیاد بنا کر مجھے خود سے جدائی کی سزا نہ دینا ۔اور مجھے کچھ نہیں چاہیے کچھ بھی تو نہیں چاہیے ۔“اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ۔
”وعدہ کرتا ہوں چندا !....تمھیں خود سے کبھی جدا نہیں کروں گا ،کبھی بھی نہیں ۔تم چاہو گی تب بھی نہیں ۔“
اس نے آنکھیں موند کر میری گود میں سر رکھ دیا اور میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔ہم نہ جانے کتنی دیر یونھی ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے ۔یہاں تک کہ کمانڈر نصراللہ رات کا کھانا لے آیا ۔ہمیں رات ہونے کا پتا بھی نہیں چلا تھا ۔کھانا کھا کر میں نے پوچھا ....
”پٹی تو خود کر لو گی نا ؟“
”جی نہیں ۔“وہ لاڈ سے بولی ۔”میرا سرتاج موجود ہے نا ۔“
”بڑی آئی سرتاج والی ۔“اس کے ناک کی پھننگ مروڑ کر میں اس کی پٹی کرنے لگا ۔ پٹی کر کے میں نے اسے ضروری دوائیاں کھلائیں ،انجیکش لگائے اور ہم سونے کے لیے لیٹ گئے ۔لیکن رات بھر اس نے مجھے سونے نہیں دیا تھا ۔نہ جانے کہاں کہاں کی باتیں اسے یاد آ رہی تھیں ۔خود میری آنکھوں سے بھی نیند غائب تھی ۔اسے پانے کی خوشی ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی ۔صبح صادق کے قریب کہیں جا کر میں نے اسے زبردستی سلایا۔میرے بازو پر سر رکھ کر وہ بے خبر سو گئی ۔مجھے بھی نیند نے اپنی مہربان آغوش میں لے لیا تھا ۔نیند میں بھی اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اور اسی طرح شوخی بھری مسکراہٹ اور چنچل اداﺅں سے وہ میری نیند میں اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی رہی ۔
٭٭٭
مہینے بھر میں اس کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا ۔اس دوران میں نے اس کی توانائی بحال کرنے کے لیے اسے خوب اچھی غذائیں کھلائی تھیں ۔دودھ ،شہد ،مختلف قسم کے پھل ،خشک میوہ جات ،دنیا جہان کی اچھی غذائیں میں چچا نصراللہ کو کہہ کر منگواتا رہتا ۔خرچ کے لیے البرٹ بروک کے دیے ہوئے کافی ڈالرز موجود تھے ۔یوں بھی انگور اڈے میں دکاندار ڈالرز بڑی خوشی سے وصول کرتے تھے ۔اس کے ساتھ وہاں ڈالرز کے بدلے پاکستانی رقم بھی مل جاتی تھی ۔امریکنوں کی افغان آمد کے بعد افغانستان میں تو ڈالرز کا عام رواج تھا ۔پلوشہ نے پچاس ہزار ڈالریہ کہہ کر زبردستی واپس کر دیے تھے ۔کہ اسے بس میری ہی ضرورت تھی ۔
اس ایک ماہ کے دوران میں نے اس کے اتنے لاڈ اٹھائے تھے اتنی نازبرداری کی تھی کہ جتنے کی وہ حق دار تھی ۔کئی بار میری چاہت کو دیکھ کر وہ رونے لگ جاتی ۔اس کے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد بھی ہمارا دل کہیں جانے کو راضی نہیں تھا ۔ہم دونوں مستقبل کے اندیشوں سے بے نیاز بس ایک دوسرے کی ذات میں کھوئے ہوئے تھے ۔محبوب کی معیت میں گزرے دن پر لگا کر گزر جاتے ہیں ۔ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوا تھا اور ڈیڑھ ماہ گزر گیا ۔
نہ جانے ہم وہاں کتنا عرصہ مزید گزارتے کہ وصل کے شب و روز نے ہمیں ہر غم سے بے نیاز کر دیا تھا ،لیکن ہم یہ بھول گئے تھے کہ دشمن ہماری تاک میں ہیں ۔کمانڈر نصراللہ کو روزانہ بیٹھک میں کھانے پینے کا سامان پہنچاتے دیکھ کر یقینا کسی کو شک ہو گیا تھا ۔اور یہ شک کرنا اس لیے بھی بنتا تھا کہ ہم دونوں میں سے کوئی بھی بیٹھک سے باہرنہیں نکلتا تھا ۔اور پھر ایک دن ہم پر چھاپہ پڑ گیا ۔
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی کہ میرے کانوں میں ہلکی سی آواز آئی، یوں لگا جیسے کوئی دیوار سے لٹک کرنیچے اترا ہو ۔آنے والا یقینا اپنے تیئں ایسے وقت میں آیا تھا جب کہ عمومی طور پر لوگ سو جاتے ہیں لیکن میرے اور پلوشہ کے سونے میں ابھی تک کچھ وقت باقی تھا ۔ہم تو کبھی کبھی باتوں باتوں میں صبح کر دیتے تھے ۔ایک دوسرے کی باتیں سن کر ہمار ا جی ہی نہیں بھرتا تھا ۔اس وقت بھی ہم سرگوشیوں میں محو گفتگو تھے کہ سرگوشیوں میں باتیں کرنے کا الگ ہی مزہ ہے ۔وہ آواز پلوشہ نے بھی سن لی تھی ۔
”کوئی ہے ۔“کہہ کر وہ ایک دم چوکنا ہوتے ہوئے میرے بازوﺅں کے گھیرے سے نکلی میں نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
میں دوسری چارپائی پر پڑی کلاشن کوف کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ اچانک دروازہ دھکیلتے ہوئے دو آدمی اندر داخل ہوئے ۔اگر میں کلاشن کوف اٹھانے کی کوشش کرتا تو یقینا مارا جاتا ۔کلاشن کوف کا خیال دل سے نکالتے ہوئے میں نے چھلانگ لگائی اور آگے والے آدمی سے توپ سے نکلے ہوئے گولے کی طرح ٹکرایا ۔اس نے ہاتھ میں سائیلنسر لگا پستول تھاما ہواتھا ۔میری ٹکر کھا کر وہ دیوار سے ٹکرایااور پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔لیکن اس سے پہلے کہ میں دوسرے سے نمٹنے کی کوشش کرتا اس کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی ....
”اگر ذرا سی بھی حرکت کی تو کھوپٹری میں روشندان کھول دوں گا ۔“یہ فقرہ اس نے انگریزی میں ادا کیا تھا ۔وہ دونوں غیر ملکی ہی تھے ۔میں ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے پیچھے مڑا ۔اس دوران پلوشہ چارپائی سے اتر کر اس کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ کھلے دروازے سے ٹریسی والکر کسی بگولے کی طرح اندر داخل ہوئی اس کی لات چھاتی میں کھا کر پلوشہ دیوار سے جا ٹکرائی تھی ۔اگر وہ دیوار سے ہاتھ نہ ٹیک لیتی تو یقینا زیادہ زخمی ہو گئی ہوتی ۔
پلوشہ کو لات کھاتے دیکھ کر میں نے بے چینی سے پہلو بدلا ،مگر اسی وقت نیچے گرے ہوئے آدمی نے اپنا پستول اٹھا کر میری گردن سے لگا دیا ۔اور مجھے ایک دم رکنا پڑا ۔ مجھ پر پہلے جس آدمی نے پستول تانا ہوا تھا اس نے بھی میرے قریب آکر میرے بازو کو مروڑ کر پیٹھ پیچھے جکڑ لیا تھا۔
دیوار سے ٹکرا کر پلوشہ پیچھے مڑی میںاس کے چہرے پر چھائی وحشت دیکھ کر ڈرگیا تھا ۔
”نہیں پلوشہ کوئی حرکت نہ کرنا ۔“میں نے اسے روکنا چاہا۔میری گردن سے پستول لگائے ہوئے امریکن نے بھی اسے متنبہ کرنے کے لیے اس کی جانب پستول سیدھا کیا ،لیکن ٹریسی والکر نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کرتے ہوئے کہا ....
”چھوڑو اسے میں دیکھ لیتی ہوں ۔“اس کے لہجے میں شامل اطمینان یہ ظاہر کر رہا تھا کہ اسے خود پر کتنا اعتماد تھا ۔لیکن وہ پلوشہ کی صلاحیتوں سے بھی ناواقف تھی ۔پلوشہ نہ تو میری منت کو خاطر میں لائی تھی اور نہ اس نے اپنی جانب اٹھے ہوئے پستول کی دھونس کو کسی قابل سمجھا تھا ۔وہ جارحانہ انداز میں ٹریسی والکر کی طرف بڑھی جو اسے آڑے ہاتھوں لینے کے لیے تیار تھی ۔
جاری ہے
 

میں جانتا تھا کہ پلوشہ لڑائی بھڑائی میں کسی سے کم نہیں تھی ،لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ ٹریسی والکر ایک خطرناک لڑاکا تھی ۔اور پھر پلوشہ کو زخمی ہونے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھتے ہی اتنے سخت حریف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔
”میجر !....پلیز اسے کچھ نہ کہنا ۔“میں پلوشہ کے بجائے ٹریسی کی منت کرنے لگا ۔
اس کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ بھاری لہجے میں بولی ۔”نہیں اس کی گرمی تو نکالنا پڑے گی نا ۔“یہ الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ پلوشہ نے اس پر چھلانگ لگا دی ۔
اپنی جگہ کھڑے کھڑے وہ نیچے جھکی اور اس کی ٹانگ پیچھے سے خم کھا کر پلوشہ کی چھاتی میں لگی ، وہ کولہوں کے بل نیچے گر گئی تھی ۔غصے میں میری مٹھیا ں بھینچ گئی تھیں ۔ٹریسی نے ایک دم سیدھے ہو کر چھلانگ لگائی اور اس کا گھٹنا خطرناک انداز میں پلوشہ کے پیٹ کی طرف بڑھا ۔اگر وہ گھٹنا پلوشہ کے پیٹ میں لگ جاتا تو یقینا اسے بے ہوش ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا ۔لیکن پلوشہ کو میں نے کچھ زیادہ ہی نازک اندام سمجھ لیا تھا وہ اتنی کمزور نہیں تھی جتنی مجھے لگ رہی تھی ۔ٹریسی کا گھٹنا پیٹ تک پہنچنے سے پہلے وہ مچھلی کی طرح ٹرپ کر ایک طرف کو ہوئی اور اگلے ہی لمحے اس کے ننگے پاﺅں کے زوردار ٹھوکر ٹریسی کے چہرے پر لگی ٹریسی کولہوں کہ بل گر کر پیچھے کو الٹ گئی تھی ۔لیکن ٹریسی نے ایک لمحہ بھی زمین پر نہیں گزارا تھا فوراََ الٹی قلابازی لیتے ہوئے وہ پیچھے کی جانب کھڑی ہو گئی ۔مگر اس وقت تک پلوشہ زمین سے اٹھ کر اس پر چھلانگ لگا چکی تھی ۔پلوشہ کا دایاں گھٹنا خطرنا ک انداز میں اس کی چھاتی کی طرف بڑھا ۔اپنی کلائیوں کا کراس بنا کر ٹریسی نے بہ مشکل وہ وار سہا لیکن اس کے ساتھ ہی دوتین قدم پیچھے ہٹتی چلی گئی تھی ۔اس کے عقب میں دیوار تھی مجبوراََ اسے دیوار سے ٹکر کر رکنا پڑ گیا تھا ۔
پلوشہ کی حرکت نہیں رکی تھی ۔نیچے گرتے ہی وہ دائیں پاﺅں پر گھومی اور اس کے بائیں پاﺅں کی جچی تلی ضرب ایک بار پھر ٹریسی کی چھاتی میں لگی ۔ٹریسی کا سر زوردار انداز میں دیوار سے ٹکرایا۔اس کے چہرے پر چھائی استہزائیہ مسکراہٹ ، غیض و غضب میں تبدیل ہو گئی تھی ۔یقینا اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اس کے مقابل کوئی عام لڑکی نہیں ہے ۔
زوردار ٹھوکر اس کی چھاتی میں لگاتے ہی پلوشہ کا دایاں ہاتھ دائرے میں گھوما ،اگر اس مرتبہ وہ اپنے داﺅ میں کامیاب ہو گئی ہوتی تو ٹریسی کا بے ہوش ہونا لازمی تھا۔لیکن اس کے دائروی مکے کو اپنی ہتھیلی پر روکتے ہوئے ٹریسی نے سر کی زوردار ٹکر پلوشہ کی چھاتی میں رسید کی اور پلوشہ پیچھے کو الٹ گئی ۔
ٹریسی نے اسے چھاپنے کے لیے اس پر چھلانگ لگائی مگر ایک دم اپنی ٹانگیں گھٹنوں سے موڑتے ہوئے پلوشہ نے اپنے پاﺅں ٹریسی کی چھاتی پر ٹیکے اور اسے سر سے پیچھے اچھا ل دیا ۔اس کے ساتھی ہی وہ سپرنگ کی طرح اچھل کر کھڑی ہو گئی تھی ۔ٹریسی بھی الٹی قلابازی کھا کر اپنی جگہ پر اٹھ کھڑی تھی۔
ایک مرتبہ پھر وہ آمنے سامنے کھڑی تھیں ۔پلوشہ کی گرمی نکالنے والی خود غصے میں تپ رہی تھی۔آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو تولتے ہوئے دونوں نے اکٹھی چھلانگ لگائی اور ایک دوسرے سے گھتم گھتا ہو گئیں ۔میں اپنی پلوشہ کو جتنا قابل سمجھتا تھا وہ اس سے کئی گنا بڑھ کر تھی ۔ٹریسی کے ہر وار کو اگر اینٹ سمجھا جاتا تو وہ اس کا جواب پتھر سے دے رہی تھی ۔دونوں نہ تو ہار ماننے کو تیار تھیں اور نہ تھکنے کو ۔وہ ایسی دلچسپ اور خطرناک جنگ تھی کہ مجھے قابو کرنے والے پوری طرح اس میں کھو چکے تھے۔ ٹریسی والکر کے بارے مجھے معلوم ہوا تھا کہ وہ ایک خطرناک لڑاکا تھی اور یہ بات اس کے ساتھی مجھ سے بہتر جانتے تھے ۔اب گھریلو لباس پہنے ہوئے ایک عام سے لڑکی کو ٹریسی کا مقابلہ کرتے دیکھنا ان کے لیے یقینا حیرت کا باعث تھا۔اور پھر وہ دونوں لڑتے ہوئے اپنے لباس وغیرہ سے غافل ہی ہو گئیں تھیں ۔ پلوشہ جیسی پرکشش دوشیزہ اور ٹریسی جیسی جاذب نظر فگر کی مالک لڑکی کے جسمانی زاویوں کو یوں چند فٹ کے فاصلے سے اس انداز میں دیکھنا ایک خوش کن نظارہ ہی تو تھا ۔اور اس نظارے نے انھیںپوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا وہ مجھ سے پوری طرح غافل ہو چکے تھے ۔اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ۔میں نے ایک دم اپنا بازو مروڑے ہوئے شخص کے چہرے پر اپنے سر کے عقبی حصے کی زوردار ٹھوکر لگائی ۔اور اس کے ساتھ ہی اسے اپنے جسم سے پیچھے کی طرف دھکیلا ۔دوسرے آدمی نے میری گردن سے پستول لگایا ہوا تھا ۔میرے پیچھے ہٹتے ہی اس کا پستول میری آنکھوں کے سامنے تھا ۔چوٹ کھا کر میرے عقبی جانب موجود آدمی کے منہ سے ۔”افف....“ کی زوردار آواز نکلی اور میرا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد ہو گیا ۔میں نے دوسرے آدمی کے ہاتھ سے پستول لینے کے بہ جائے اس کی کلائی مروڑتے ہوئے پستول کی نال اس کی کھوپڑی کی طرف گھمائی اور ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک ۔“کی آواز کے ساتھ گولی اس کے ماتھے پر لگی تھی ۔اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر کے میں فوراََ پیچھے مڑا اور عقبی جانب موجود آدمی کی دونوں ٹانگوں کے درمیان گھٹنے کی زوردار ضرب لگائی ۔وہ ابھی تک ناک والی ٹکر سے مدہوش تھا ٹانگوں کے درمیان لگنے والی ضرب سے وہ منہ کے بل گرا۔اس کے ہاتھ سے سائیلنسر لگا پستول لے کر میں نے اس کی کھوپڑی میں بھی روشن دان کھول دیا تھا۔یہ تمام کارروائی میں نے چند سیکنڈ کے اندر ہی کر ڈالی تھی ۔
ان دونوں سے فارغ ہوتے ہی میں ٹریسی اور پلوشہ کی طرف متوجہ ہوا ۔اسی وقت پلوشہ نے ٹریسی کی چھاتی میں لات مار کر اسے پیچھے کی طرف گرایا تھا ۔
”ایک منٹ پلوشے !“میں نے زوردارآواز دے کر پلوشہ کو آگے بڑھنے سے روکا ۔میرا پستول والا بازو ٹریسی کی طرف سیدھا ہوا۔ اس نے بھی اپنی جانب اٹھتی ہوئی گلاک کی بے رحم نال دیکھ لی تھی ۔اس کی آنکھوں سے کسی لبریز پیالے کی طرح خوف چھلکا اور وہ چلائی ....
”ذی ....گولی نہ چلانا ۔“وہ لوچ دار اور سریلی آواز ٹریسی والکر کی تو نہیں تھی ۔اور مجھے ذی صرف ایک ہستی ہی کہتی تھی جس کا نام کیپٹن جینیفر ہنڈسلے تھا ۔
وہ زمین سے اٹھ کر اپنی شناخت کراتے ہوئے بولی ۔”میں جینی ہوں ۔“اس کے ساتھ ہی اس نے گریبان کے اندر ہاتھ ڈالا اور ایک باریک جھلی اس کے چہرے سے اترتی چلی گئی ۔ کالے سیاہ چہرے کے نیچے جینیفر کا سرخ و سفید چہرہ نکل آیا تھا ۔اس کے سر کے بال سنہری تھے ۔لیکن اب یقینا اس نے کسی لوشن سے بالوں کا رنگ بھی کالا کیا ہوا تھا ۔
میرا پستول والا ہاتھ ابھی تک اس کی طرف اٹھا ہوا تھا ۔لیکن اپنی پہچان کرانے کے بعد وہ بے جھجک میرے جانب بڑھی ،اگلے ہی لمحے میرے پستول کو ایک جانب کرتے ہوئے وہ مجھ سے لپٹ چکی تھی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ثقافت کا مظاہرہ شروع کر دیا ۔
”یہ کیا پاگل پن ہے جینی !“اسے ڈانٹتے ہوئے میں نے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا ۔ پلوشہ پھٹی پھٹی نظروں سے ہمیں گھور رہی تھی ۔مجھے لگا وہ گر جائے گی ۔
”اتنے عرصے بعد ملے ہو کیا میرا اتنا بھی حق نہیں بنتا ۔“اس نے شرمندگی ظاہر کیے بغیر منھ بنایا۔
”شاید تم بھول گئی ہو کہ تم میری دشمن ہو ۔“میں نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا ۔
”بھول ہے تمھاری ....اگر دشمن ہوتی تو آج تم زندہ نظر نہ آرہے ہوتے ۔“
”یہ مہربانیاں اپنے پاس رہنے دو سمجھیں ....اور میں نے تمھیں منع کیا تھا کہ پلوشہ پر ہاتھ نہ اٹھانا ۔“
”تمھاری پیلاوشہ بھی کوئی ہے ۔“اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے عجیب سے تلفظ سے پلوشہ کا نام ادا کیا ۔
”دانت مت نکالو ....تمھیں پتا بھی ہے یہ ابھی بیماری سے اٹھی ہے ۔“
”تو اس نے بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی....تمھیں میرا احساس نہیں اور اس کے لیے مرے جا رہے ہو ۔بھول گئے ہو اس سے پہلے میں تمھاری زندگی میں آئی ہوں ۔“
”جینی!.... سمجھنے کی کوشش کرو پلوشہ میری بیوی ہے ۔“
”بیوی ....“جینیفر حیران ہی تو رہ گئی تھی ۔”مگر شادی کب ہوئی ؟“
”مہینا ہو گیا ہے اور یقین مانو ابھی ہم ہنی مون منا رہے تھے کہ تم مصیبت بن کر نازل ہو گئی ہو۔“
”تو ایسی لڑکیاں تو شادی کے بغیر بھی نہ نہیں کرتیں ،تمھیں شادی کی ضرورت کس لیے پیش آ گئی ۔“
میں نے غصیلے لہجے میں کہا ۔”شاید تمھارا زندہ واپس جانے کا ارادہ نہیں ہے ۔“
وہ اعتماد بھرے لہجے میں بولی ۔”تم جتنی بڑھکیں مار لو ایک بات تو یقینی ہے کہ تم مجھے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے ۔“
”ہاں ....مگر پلوشہ کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔“
”اب ڈراﺅ تو نہیں نا یار !“بے تکلفی سے کہتے ہوئے وہ چارپائی پر بیٹھ گئی ۔پلوشہ ابھی تک کینہ توز نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔
”ویسے اپنی پیاری بیوی کو بھی بتا دو کہ میں دشمن نہیں ہوں ۔“پلوشہ کو مسلسل گھورتے دیکھ کر وہ کہے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔
”پلوشہ ، انگریزی اچھی طرح جانتی ہے محترمہ ۔“میں نے دوسرے امریکی کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاک اٹھا کر نیفے میں اڑسنے لگا ۔
”اوہ ....یہ بات ہے ۔“وہ پلوشہ کی طرف متوجہ ہوئی ۔”بے بی غصہ تھوک دو،میں میجر جینیفر ہنڈسلے ہوں ،ذی کی پرانی دوست۔“
پلوشہ کوئی جواب دیے بغیر خاموشی سے دوسری چارپائی پر بیٹھ گئی ۔اس کے چہرے پر چھائے غصے بھرے تاثرات معدوم نہیں ہوئے تھے ۔میں جانتا تھا کہ جنیفر کے مجھ سے لپٹنے اور بوس و کنار کی بات اسے ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔
میں اسے پشتو میں مخاطب ہوا ۔”چندا !....یوں غصہ نہیں کرتے ۔اور تم جانتی تو ہو کہ یہ ان لوگوں کی ثقافت ہے ۔“
”میں کسی گھٹیا ثقافت کو نہیں جانتی اور آپ سے تو میں بات ہی نہیں کرنا چاہتی ۔“وہ جیسے غصے سے ابل رہی تھی ایک دم پھٹ پڑی۔
”بھئی یہ تو بہت غصے میں ہے ۔“جینیفر مزاحیہ انداز میں بولی ۔اسے پلوشہ کی حالت دیکھ کر لطف آ رہا تھا ۔
”اچھا یہ بتاﺅ کیسے تشریف آوری ہوئی ؟“میں اس کے سامنے چاپائی پر جگہ سنبھالتے ہوئے مستفسر ہوا ۔یوں بھی میں جانتا تھا کہ پلوشہ کا غصہ اتنی آسانی سے اترنے والا نہیں تھا ۔
جواباََ اس نے جو کچھ بتایا اس کا لب لباب یہی بنتا تھا کہ صنوبر خان کے ایک آدمی نے تین چار بار کمانڈر نصراللہ کو بیٹھک میں کھانا لاتے دیکھا۔ ایک دن اس نے یونھی تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کردروازے کی درز سے آنکھ لگا کر بیٹھک میں جھانکا ۔اس وقت میں کسی کام سے بیٹھک کے صحن میں نکلا تھا ۔مجھ پر نظر پڑتے ہی اس نے یہ بات صنوبر خان تک پہنچانے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اور اگلے ہی دن جینیفر نے مجھے پکڑنے کا پروگرام بنا لیا ۔چونکہ وہ جانتی تھی کہ میں نے صنوبر خان کے آدمیوں کے ہاتھ نہیں آنا تھا اس لیے خود ہی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ مجھے پکڑنے آ گئی تھی ۔انھیں اب تک یہ خوش فہمی تھی کہ میں ان سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف نہیں کروں گا ۔
”ٹھیک ہے تو جواب سن لو ،میں تم لوگوں کے لیے کام نہیں کر سکتا ۔بلکہ پاکستان آرمی کے خلاف البرٹ نے جو کارروائیاں کرائی ہیں ان کا جواب اسے دینا پڑے گا ۔“
”پاگل مت بنو ذی !“جینیفر نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی ۔
”اس میں پاگل پن کی کیا بات ہے ،کیا مجھے جچتا ہے کہ میں اپنے ملک کے خلاف کام کرنے والوں سے معاہدے کرتا پھروں ۔“
”ذی !....جانتے ہومیں امریکہ سے افغانستان صرف تمھاری خاطر آئی ہوں ۔“اس نے مجھے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا چاہا ۔
پلوشہ سے ہماری گفتگو برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔وہ رضائی میں گھس گئی ۔مگر جینیفر اسے خاطر میں لائے بغیر مجھے قائل کرنے کی کوشش میں لگی رہی ۔
میں صاف گوئی سے بولا ۔”جتنے دن میں امریکہ میں رہا تم مجھے اسی طرح اپنی جھوٹی محبت کا دھوکا دے کر ورغلاتی رہیں اب تک تمھاری وہ عادت ختم نہیں ہوئی ۔“
”ذی میں قسم کھاتی ہوں میں نے کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولا ....اور اگر تم یہ سوچ رہے ہو کہ لی زونا نے تمھیں پہلے سے میرے بارے بتا دیا تھا تو یقین کرو ہر مرتبہ وہ گفتگو میں نے خود لی زونا کے کانوں تک پہنچائی تھی کیونکہ میں تمھیں بلیک میل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔“
میں شکوہ کناں ہوا ۔”بعد میں تم نے ان کا آلہ کار بن کر مجھے بلیک میل تو کروا دیا تھا ۔“
”ہاں ....کیونکہ کرنلسکاٹ ڈیوڈاور کرنل جولی روز ویلٹ کسی بھی قیمت پر تم سے برین ویلزکے قتل کا کام لینا چاہتے تھے ۔اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میرے بغیر وہ کوئی ایسا منصوبہ ترتیب دے لیں جس سے تمھاری ذات کو نقصان پہنچے ۔“
”آخری دن بھی تم نے محبت کا ڈراما کھیلا تھا ۔“
وہ ہنسی ۔”یقینا لی زونا نے تمھیں کہا ہو گا کہ میں کسی کو فون پر یہ کہہ رہی تھی کہ میں تمھیں راضی کرنے میں ناکام رہی ہوں ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”وہ میں نے اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے کہا تھا ،ورنہ حقیقت یہی ہے کہ مجھے کسی نے تمھیں وہاں رہنے پر مجبور کرنے کو نہیں کہا تھا ۔“
”میری سمجھ میں یقینا تمھاری بات نہیں آئی ۔“
”ذی!.... میں نہیں چاہتی تھی کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے میری محبت کو ٹھکرا دیا ہے ۔اس لیے جونھی تم نے میری آفر ٹھکرائی میں نے بھی لی زونا کے ذریعے تم تک یہ بات پہنچا دی کہ میں کسی کے کہنے پر تمھیں وہاں رکنے پر راضی کر رہی تھی ۔“
میں نے پوچھا ۔”لی زونا کو تمھارے ڈرامے کی بابت معلوم تھا ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”میں اس کے آنے کی منتظر تھی ۔جونھی اسے آتے دیکھا میں نے فرضی طور پر موبائل فون پر بات چیت شروع کر دی ۔اور اتنا تو مجھے معلوم تھا کہ وہ تمھیں یا سیردر (سردار) کو لازماََ بتائے گی ۔اور جب تم چلے گئے تو یقین مانو میں بہت بے چین رہی ۔تمھاری ٹریننگ میں بنی ہوئی وڈیوز دیکھ کر دل کو بہلایا کرتی تھی ۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ تم افغانستان محاذکے پر پہنچے ہوئے ہو ۔اور تمھاری محبت مجھے بھی اس مشکل جگہ پر کھینچ لائی ۔“
”اچھا مان لیا ،جو تم کہہ رہی ہو وہ صحیح ہے ،لیکن میرا نکار تو اب بھی برقرار ہے ۔“
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”ذی !....تم بے شک امریکن سی آئی اے کے لیے کام نہ کرو ،بلکہ تم امریکہ میں بھی کوئی کام نہ کرنا سب کچھ میں کروں گی ،تمھیں گرین کارڈ لے کر دوں گی اور تمھیں زندگی کی وہ سہولتیں ملیں گی جو تم نے خواب میں بھی نہیں سوچی ہوں گی ۔تم بے شک ہمارے بچوں کو مسلمان بنا نا میں اس پر بھی اعتراض نہیں کروں گی بس میرے ساتھ چلو ۔“
”اور اس کا کیا کروں ؟“میں نے رضائی میں لپٹی پلوشہ کی جانب اشارہ کیا ۔
”اسے میں اتنی رقم دے دوں گی کہ یہ باقی کی زندگی عیاشی میں گزارے گی ۔“
میں ہنسا ۔”مطلب تم ،مجھے اس سے خرید لو گی ؟“
”پہلے بھی تو اس نے پندرہ ہزار ڈالر میں تمھارا سودا کر لیا تھا ....اب اس سے چار پانچ گنا زیادہ رقم لے کر کیوں کر انکار کرے گی ۔“
”بکواس نہ کرو جینی !....مجھے معلوم ہے اس معصوم کے ساتھ تم لوگوں نے کیا ظلم کیا تھا ۔“
”چلو مان لیا ،لیکن یہ بھی تو سوچو اس نے اپنے چھوٹے بھائی اور ماں کو تم پر ترجیح دی ،جبکہ میں وعدہ کرتی ہوں کہ اگر تم کہو گے تو اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو تمھارے لیے چھوڑ دوں گی ۔“
”یہ ممکن نہیں ہے جینی !“میں نے بے بسی سے سرہلایا۔
”کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ،کیا میں تمھیں پیاری نہیں لگتی ،کیا میری محبت تمھارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ۔“اس کی آواز سچ مچ گلو گیر ہو نے لگی ۔بغیر شک و شبہ کے مجھے یقین تھا کہ وہ ڈراما نہیں کر رہی تھی ۔
”جینی معلو م ہے ہمارے درمیان سب سے بڑا تہذیبوں کا فرق ہے ۔ہم وقتی طور پر یقینا ایک ہو جائیں گے، شادی بھی کر لیں گے اور چند سال محبت سے بھی گزار لیں گے ۔لیکن تم جس ماحول میں پل کر جوان ہوئی ہو وہ اس ماحول سے یکسر مختلف ہے جو مجھے میسر رہا ہے ۔میں کبھی بھی یہ گوارا نہیں کروں گا کہ میری بیوی کو چھونا تو درکنار کوئی دیکھ بھی سکے ۔جبکہ اپنی تہذیب کے مطابق تم میرے سامنے کسی بھی مرد کے گلے لگنے کو بھی معیوب نہیں سمجھو گی ۔اور یہ میں نے ایک مثال دی ہے اس کے علاوہ بھی ہماری شادی میں کئی ایک قباحتیں ہیں جو اس وقت تمھیں اس لیے نظر نہیں آ رہیں کہ تمھاری آنکھوں پر محبت کی پٹی بندھی ہے ۔جونھی یہ پٹی کھلے گی تمھیں یہ شادی ایک مذاق سے بڑھ کر معلوم نہیں ہو گی ۔“
وہ روہانسی ہوتے ہوئے بولی ۔”نہیں بلکہ تمھاری آنکھوں پر پیلاوشہ کی محبت کی پٹی بندھی ہے۔اس چھوٹی سی چھوکری نے تمھیں مجھ سے چھین لیا ہے ۔“
میں زچ ہوتے ہوئے بولا ۔”یقینا تم نے میری بات نہ سمجھنے کی قسم کھائی ہے ۔“
”اچھا سچ سچ بتاﺅ ....تمھیں ہم دونوں میں سے کون زیادہ پیارا ہے ۔اورکیا تمھاری پیلاوشہ مجھ سے خوب صورت ہے ؟“
”چلو تمھیں دروازے تک چھوڑ آﺅں ....اور صبح ہونے والی ہے تھوڑی دیر تک ہم دونوں بھی یہاں سے چلے جائیں گے ۔“
”میں اپنے ساتھیوں کی لاشیں یہاں نہیں چھوڑ سکتی ۔“
”تو میں نے ان لاشوں کاکیا کرنا ہے ۔اٹھاﺅ اور لے جاﺅ۔“
”میری مدد کرو ۔“وہ اپنے ساتھیوں کی لاشوں کی طرف بڑھ گئی ۔دونوں لاشوں کوبیٹھک کے بیرونی دروازے کے پاس رکھ کر وہ باہر نکل گئی ۔اپنی گاڑی انھوں نے بیٹھک سے تھوڑے فاصلے پر پارک کی تھی ۔ڈبل کیبن اس نے بیٹھک کے دروازے کے سامنے لا کر کھڑی کی اور میری مدد سے لاشوں کو گاڑی کی باڈی میں رکھ لیا ۔
لاشیں کو ٹھکانے لگا کر وہ میرے جانب متوجہ ہوئی ۔”میں نے کوئی سوال پوچھا تھا ۔“
”تم حد سے زیادہ خوب صورت ہو اورمجھے بہت زیادہ پیاری ہو جبکہ پلوشہ کے بغیر شاید میں زندہ نہ رہ پاﺅں ۔“
”مطلب وہ مجھ سے زیادہ پیاری ہے ۔“
”میں نے ایسا تو نہیں کہا ۔“
”تو پھر اس بات کا کیا مطلب بنتا ہے ؟“
”یہی کہ ہمارے ملاپ میں بہت ساری رکاوٹیں ہیں جو ہم چاہ کر بھی دور نہیں کر سکتے ۔“
”ذی !....“وہ جذباتی انداز میں مجھے لپٹ گئی ۔میرے ہاتھوں نے بھی اس کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا ۔وہ میرے لیے امریکہ سے افغانستان تک آ گئی تھی ۔اس کی اتنی پذیرائی تو میرا حق بنتا تھا ۔وہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرتی رہی اور میں اسے روکے ٹوکے بغیر اس کا ساتھ دیتا رہا ۔میں جانتا تھا کہ وہ ہماری آخری ملاقات تھی اور آخری ملاقات میں اس کا دل توڑنا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔گو میں جانتا تھا کہ اسے میری پلوشہ کے ساتھ محبت بہت کھل رہی تھی لیکن پلوشہ میری مجبوری تھی ۔اگر میں جینی کا محبوب تھا تو پلوشہ میری محبت تھی ۔لیکن کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جن کا کھلم کھلا اقرار کسی دل کو چکنا چور کر دیتا ہے ۔میں نے بھی پلوشہ کی محبت کے بہ جائے اور مسائل کا رونا رو کر جینیفر کو ٹالنے کی کوشش کی تھی ۔جینی اس قابل تھی کہ اسے چاہا جاتا مگر اس کے ساتھ وہ سب باتیں بھی کھلی حقیقت تھیں جو میں اس کے گوش گزار کر چکا تھا ۔
بڑی مشکل سے وہ مجھ سے علاحدہ ہوئی ۔اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر میں نے اس کے ماتھے پر بوساس دیا اور کہا ....”جی !....پلیز یہاں سے واپس چلی جاﺅ ....میں ہمیشہ ایک اچھے اور مخلص دوست کی طرح تمھیں یاد رکھوں گا ۔جب کبھی دل کرے مجھے ملنے آجانا ....مگر خدارا مجھے اس بات پر مجبور نہ کرنا کہ اپنے وطن اور تم میں،مجھے ایک کا چناﺅ کرنا پڑے....شاید ایسے موقع پر میں تمھاری توقعات پر پورا نہ اتر سکوں ....اور ہاں میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں ۔“
چودھویں کے چاند کی روشنی میں مجھے اس کے پرکشش چہرے پر دل آویز تبسم نمودار ہوتا ہوا محسوس ہوا اور چاہت بھرے لہجے میں بولی ....”شکریہ ذی !....اب شاید میں اطمینان سے واپس لوٹ سکوں ....اور ہاں پیلاوشہ کو میری طرف سے بہت پیار کرنا ۔“اتنا کہتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
میں نے پوچھا ۔”کیا میری وڈیوز پاک آرمی تک پہنچ گئی ہیں ؟“
”فی الحال تو نہیں لیکن جلد ہی پہنچا دی جائیں گی ....اور معذرت چاہوں گی کہ میں البرٹ کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی ۔وہ مجھ سے سینئر ہے ۔“
”جی !....اپنا خیال رکھنا اور یاد رکھنا جتنا جلدی ہو سکے یہاں سے واپس چلی جاﺅ ۔تم پر گولی چلانے کے بعدشاید میں خود کو کبھی معاف نہ کر سکوں ۔“
وہ ہنسی ۔”مطلب مجھ پر گولی ضرور چلانی ہے ۔“
”خدا حافظ۔“اس کی بات کا جواب دیے بغیر میںگاڑی کی کھڑکی سے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہو گیا۔
ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے رخصت ہو گئی ۔گاڑی کے موڑ مڑنے تک میں وہیں کھڑا رہا ۔جونھی گاڑی کی عقبی بتیاں نظروں سے غائب ہوئیں میں بیٹھک میں داخل ہو گیا ۔گو اس وقت بیٹھک میں موجود رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا لیکن مجھے جینیفر پر پورا بھروسا تھا ۔وہ کبھی بھی میری پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپ سکتی تھی ۔
اس کے باوجود میں نے صبح ہوتے ہی وہاں سے چلے جانے کا منصوبہ بنا لیا تھا ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظر پلوشہ پر پڑی جو اسی طرح رضائی میں لپٹی پڑی تھی ۔اب اسے منانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔یقینا وہ غصے میں تھی اور خفا بھی تھی ۔
میں نپے تلے قدم رکھتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور پھر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے آہستہ سے رضائی ہٹا کر میں نے اس کا چہرہ سامنے کیا اس کی آنکھیں رو روکر سوجنے والی ہو گئی تھیں ۔جونھی میں نے اس کے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اس نے بے ساختہ میری چھاتی پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیا ....
”دفع ہو جائیں ....کچھ نہیں لگتی میں آپ کی ....جائیں اپنی جینی کے پاس ....وہ مجھ سے خوب صورت بھی ہے اور امیر بھی ہے ....میرے پاس کیا لینے آئے ہیں ....اگر وہ کم پڑے تو ماہین بھی منتظر ہو گی تمھاری ....اور وہ کشمیرن بھی ہے ....جاﺅ مجھے نہیں رہنا آپ ساتھ ۔“روتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں ۔مگر میں کوئی بات کیے بغیر اس کے آنسوچننے لگا ۔
”آپ نے اسے گلے سے کیوں لگایا ....اسے چوما کیوں ....آپ نے اس کے منھ پر تھپڑ کیوں نہ مارا ....بتائیں نا ں؟“وہ میرے پیار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے مچلتی رہی ۔
”کیا میری چاہت میں شک ہے ؟“اس کے کان سے لب لگاتے ہوئے میں نے سرگوشی کی۔
”ہاں ....شک ہے ....نفرت ہے مجھے آپ سے ....آپ اس قابل ہی نہیں کہ آپ سے محبت کی جائے ....آپ چلے جائیں ....کہیں دور چلے جائیں ........“
اس کے ہونٹوں پر مہر لگاتے ہوئے میں نے اس کے مسلسل شکووں کو روکنے کی کوشش کی مگر میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے مجھے دور دھکیل دیا ۔
”میں کہہ رہی ہوں دور ہو جائیں مجھ سے ....مجھے آپ کے جھوٹے پیار کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے ....وہ ....وہ ....میرے سامنے آپ سے پوچھ رہی تھی کہ وہ خوب صورت ہے یا میں اور یہ کہ وہ آپ کو پیاری ہے یا میں ....اور آپ اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دے رہے تھے ....باہر جا کر آپ نے یہی کہا ہو گا نہ کہ وہ آپ کو پیاری ہے ....مجھے پتا ہے آپ نے یہی کہا ہے ....آپ صرف اس لیے اس سے شادی نہیں کر سکتے کہ اس کی اور آپ کی ثقافت میں فرق ہے ورنہ تو آپ مجھے دودھ میں گری مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیتے ....“
”پلوشے !....مجھ سے تھپڑ کھاﺅ گی ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
وہ سسکیاں بھرتے ہوئے بولی ۔”ہاں ماریں گے تو آپ سہی ....آپ کی لاڈلی کے خلاف بات جو کر لی ،مجھے توآپ یوں بھی پیٹنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ....آپ کی لاڈلی نے بھی میری پٹائی کی اور آپ نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا ۔اس نے میرے پیٹ میں لاتیں ماریں ،مجھے چہرے پر مکے برسائے ،میری چھاتی ٹھوکریں رسید کیں اورآپ اسے سینے سے لپٹا کر پیار کرنے لگے ۔“
میں ہنسا ۔”اور تم نے اسے کچھ بھی نہیں کہا ۔“
”اگر مجھے پتا ہوتا کہ وہ تمھاری اتنی زیادہ لاڈلی اور پیاری ہے تو یقینا میں اس پر ہاتھ نہ اٹھاتی۔“
”ہونہہ!....“کرتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”تو گویا تم چاہ رہی ہو میں اس کے پاس چلا جاﺅں ۔“
”ہاں ....ہاں ....ہاں،میں یہی چاہتی ہوں ۔“
”ٹھیک ہے ....میں کھڑا ہوتا ہوا بولا ۔میں بھی تم سے اجازت ہی لینے آیا تھا لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کیسے شروع کروں ،شکریہ کہ تم نے خود ہی اجازت دے دی ....پچاس لاکھ کے قریب رقم میں یہیں چھوڑے جا رہا ہوں اور اتنی ہی رقم کل تک جینی بھی تمھیں بھجوا دے گی ....کوئی غلطی ہو تو معاف کرنا ۔“
”کک....کیا مطلب ؟“وہ جیسے تڑپ کر بستر سے اٹھی ۔”کک....کیا ....آپ سچ مچ ....“حیرت کی شدت سے پھیلی ہوئی آنکھیں اور زرد پڑتا رنگ دیکھ کرمجھے لگا اس کی حرکت قلب بند ہو جائے گی ۔
”خود ہی تو کہہ رہی ہو چلا جاﺅں ۔“
”میں اپنی جان لے لوں گی سمجھے آپ ۔“غصے سے چلاتے وہ مجھ سے لپٹ گئی ۔شدت جذبات سے اس کا بدن رعشے کے مریض کی طرح کانپ رہا تھا ۔
اپنے بازوﺅں میں بھر کر میں نے اس کا کومل بدن اٹھایا اور چارپائی پر لٹا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
”میں نے دور جا کر مرنا ہے کیا۔“
میرے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے اس نے کراہتے ہوئے کہا ۔”راجو ! .... آئندہ ایسا مذاق میں بھی نہ کہنا ....“
”میں نے کب کہا ،خود ہی تو مجھے بار بار دفع ہو جانے کا کہہ رہی تھیں ۔“
”میں غصے میں تھی ....آپ منا بھی تو سکتے تھے ۔“
”منا تو رہا تھا تم نزدیک ہی نہیں آنے دے رہی تھیں ۔“
”آپ نے اسے اتنی اہمیت کیوں دی؟“اس نے پرانا شکوہ نئے الفاظ میں دہرایا۔
”کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے چندا !....اور یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ میں اسے سزا دوں ۔ باقی میرے لیے جو اہم ہے میں اسی کے پاس ہوں ۔نہ تو مجھے ماہین کی ضرورت ہے نہ مجھے رومانہ چاہیے اور نہ کوئی دوسری تیسری ۔میرے لیے میراچاند،میری پلوشے ،میری گڑیا کافی ہے ۔“
وہ سسکی ۔”کبھی دور تو نہیں جاﺅ گے ۔“
میں عزم سے بولا ۔”اپنی زندگی میں تو نہیں جاﺅں گا ۔“
”اللہ پاک نہ کرے کہ میرے راجو کو کچھ ہو ۔“سارے گلے شکوے پس پشت ڈال کر اس نے مجھے ریشمی بانہوں کا ہار پہنا یا اور میرے پیاسے ہونٹوں کو سیراب کرنے لگی ۔
٭٭٭
صبح کی آذان ہوتے ہی میں نے پلوشہ کو تیار ہونے کا کہا ۔
”کہاں جانا ہے ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہ جگہ صنوبر خان کے آدمیوں کی نظر میں آ گئی ہے ۔چچا نصراللہ کو کہہ کر کسی دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”اگر اس لفنگی میجر کو قتل کر دیتے تو یقینا کسی کو اس جگہ کے بارے معلوم نہ ہوتا ۔“
”اس جگہ کے بارے جینی کو صنوبر خان سے پتا چلا ہے ،پھر تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو کہ اس کی موت کے بعد ہم محفوظ ہو جاتے۔“
وہ دوٹوک لہجے میں بولی ۔”میں آپ کو بتا رہی ہوں اس کے بعد وہ جب بھی میرے سامنے آئی بچے گی نہیں ۔“
میں نے مزاحیہ اندازمیں کہا۔”یہی بات جاتے ہوئے وہ بھی کہہ کر گئی ہے ۔“
”چلیں ،اس طرح آپ کی جان تو چھوٹ جائے گی نا ۔“
”مذاق کر رہا ہوں ،سچ تو یہ ہے کہ اس نے کہا ہے میری طرف سے پلوشہ کو بہت سارا پیار کرنا۔“
وہ تیکھے لہجے میں بولی ۔”یہ نہ ہو میں سمجھنے لگوں کہ آپ اس کے کہنے پر مجھے اتنی توجہ دے رہے ہیں اور آپ کو قریب ہی نہ آنے دوں ۔“
”تمھاری تو کوئی کل ہی سیدھی نہیں ہے ....اب اٹھ جاﺅ دیر ہو رہی ہے ۔“میں پاﺅں میں بوٹ ڈالنے لگا ۔
شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے وہ بھی تیار ہونے لگی ۔تھوڑی دیر بعد ہم کمانڈر نصراللہ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے ۔اس نے دروازہ کھولنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔وہ وضو کر کے مسجد جارہا تھا ۔
”ارے آپ ،اتنی صبح ۔“وہ ہمیں دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔
”ہاں چچا جان !....ایک مسئلہ ہو گیا ہے ........“میں اجمالاََ اسے رات کو ہونے والے واقعے کے بارے بتانے لگا ۔
”اوہ ....یہ تو بہت برا ہوا ۔خیر چلو میں تمھیں اپنے دوست کی بیٹھک میں چھوڑ آتا ہوں ۔“
”دوست کے بہ جائے اگر کسی ایسے آدمی کے پاس ٹھکانہ مل جائے جس سے آپ کا تعلق لوگوں کو معلوم نہ ہو تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔“
کمانڈر چچا نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”اس کی اور میری دوستی ایسی ہی ہے فکر نہ کرو ۔“
اور ہم سر ہلاتے ہوئے ان کی معیت میں چل پڑے ۔ان کا دوست امام مسجد تھا ۔اس کا گھر مغرب کی طرف سے مسجد کے کے ساتھ متصل تھا ۔اور گھر کے ساتھ ہی چھوٹی سی بیٹھک تھی جس کا صحن نہایت ہی مختصر سا تھا ۔اورایک چھوٹا سا کمرہ جس میں دو چارپائیوں کی گنجائش تھی ۔لیکن ایک فائدہ یہ تھا کہ بیٹھک میں ایک کھڑکی گھر کی طرف بھی کھلتی تھی جس کی وجہ سے پہلے کی طرح کسی کو وہاں ہمارے چھپنے کا شبہ نہیں ہو سکتا تھا ۔کیونکہ ہمیں اسی کھڑکی سے کھانے پینے کا سامان وصول ہو جانا تھا ۔
امام مسجد اور کمانڈر چچا ہمیں بیٹھک میں چھوڑ کر نماز کو چلے گئے ۔ہم دونوں بھی وضو کر کے بیٹھک ہی میں نماز پڑھنے لگے ۔
تھوڑی دیر بعد امام مسجد ہمارے لیے ناشتا لے آیا ۔اس کا نام مولانا عبدالقدوس تھا ۔چچا نصراللہ ہی کے ہم عمر تھے ۔اور جوانی میں مجاہدین کے ساتھ جہاد میں حصہ لے چکے تھے ۔نہ جانے کمانڈر نصراللہ نے اسے ہمارے بارے کچھ بتایا تھا یا نہیں لیکن ازخود اس نے ہم سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
ناشتا کر کے ہم نے بیٹھک کا دروازہ کنڈی کیا اور سونے کے لیے لیٹ گئے ساری رات جاگتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
٭٭٭
اسی رات میں اور پلوشہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کر رہے تھے ۔اپنے واپس جانے کی بات پر تو وہ ہتھے ہی سے اکھڑ گئی تھی ۔
”میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی راجو !....اس بات پر خفا ہونا ہے تو ہزار بار ہو جائیں ،مناﺅں گی بھی نہیں ۔“
”چندا !....معلوم ہے تمھاری موجودی میں میرا دل ہر وقت لرزتا رہتا ہے ۔“
” معلوم ہے ،مجھے واپس بھیج کر آپ نے اپنی جینی کے ساتھ گل چھرے اڑانے ہوں گے ۔“
میں نے خفگی سے پوچھا ۔”اب شک کرنا بھی شروع کر دیا ۔“
وہ بے پروائی سے بولی ۔”پہلے دن سے کرتی تھی ۔“
اس کے انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔اس کے ہونٹوں پر بھی خوب صورت تبسم کھلنے لگا ۔
”پلوشے !....مار کھاﺅ گی ۔“
اس نے دوٹوک انداز میں کہا ۔”مار کھا لوں گی ....چھوڑ کر نہیں جا سکتی ۔“
”اچھا تمھارا ارادہ کیا ہے ؟“
”آپ کی حفاظت کرنا ۔“
”مرد میں ہوں کہ تم ۔“
”میں ....اور آپ ہیں پنجابن کڑی ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا اور پھر کھل کھلا کر ہنستی چلی گئی ۔اس کی خوب صورت ہنسی ایسی نہیں تھی کہ میرے دماغ میں لڑائی بھڑائی کے منصوبے پل سکتے ۔ اس پرکشش اور دل کے تاروں کو چھیڑنے والی ہنسی کو سن کر ایک ہی کام سوجھ سکتا تھا اور وہی میں کرنے لگا۔
بادل زور سے گرجا اور چھت پر ٹپ ٹپ پڑنے والے قطروں نے کمرے کی رومانوی فضا کو چار چاند لگا دیے ۔وزیرستان میں گرمی کے موسم میں بھی رات کو اچھی خاصی سردی ہوتی ہے ۔خاص کر پہاڑیوں کے اوپر تو تیز چلنے والی ہوا موسم کو گرم ہونے ہی نہیں دیتی اور ستمبر اکتوبر میں ایک بار پھر سردی ڈیرے ڈالنے لگتی ہے۔اب اکتوبر کی شروعات تھی ، سردی آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی ۔اور ایسی سردیوں میں محبوب کی کمی کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگتی ہے۔جبکہ میرے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا ،کہ میری زندگی کا پیاراساتھی میرے ساتھ ہی تھا ۔اسے دور بھیج کر یقینا میں خوش نہ رہ پاتا ۔
بہت ساری دیر گزر گئی اور پھر اس کی مدھر آواز نے میرے کانوں میں سر بکھیرے ۔”راجو ! اگر میں چلی گئی تو خوش رہ پائیں گے ۔“
”نہیں ....“میرے منھ سے سچ ہی نکلا تھا ۔
”اسی لیے نہیں جاتی جانو !....کیا معلوم زندگی کب ساتھ چھوڑ جائے ،میں چاہتی ہوں مرتے وقت آپ کی بانہوں کا سہارا میسر ہو ۔یقین مانو میں کبھی کسی بات سے نہیں ڈری ....مگر آپ سے دور رہ کر جو کچھ مجھ پر بیتی ہے اب میں آپ سے دور ی کا تصور کرکے ہی لرزنے لگتی ہوں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”یہ حالت تو میری بھی ہوتی ہے چندا !“
”پھر دور بھیجنے کی بات کیوںکرتے ہیں ....اور فکر نہ کیا کریں میں نرم و نازک اور موم کی بنی ہوئی گڑیا صرف آپ کے لیے ہوں ۔ورنہ دیکھ لینا دشمن کے لیے میں لوہے کا چنا ثابت ہوں گی ۔“
اور یہ بات تو میں بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کسی تربیت یافتہ کمانڈو سے کم نہیں تھی ۔ امریکن سی آئی اے کی تربیت یافتہ میجر جینیفر ہنڈسلے جیسی خطرناک لڑاکا کو برابر کی ٹکر دینے والی کوئی عام لڑکی نہیں ہو سکتی تھی ۔لیکن اس کے باوجود میں اسے اپنے ساتھ پھرا کر غیر مطمئن تھا ۔وہ میری عزت تھی کسی بھی مشکل جگہ پر اس کی وجہ سے میری پریشان کئی گنا بڑھ جاتی ۔وہ دشمن کا تشدد تو برادشت کر لیتی مگر ایک عورت پر قابو پانے کے بعد وہ ننگ انسانیت اس کے ساتھ کیا کیا سلوک کر سکتے تھے اس کو سمجھنے کے لیے کسی عقل بینا کی ضرورت نہیں تھی ۔اور اگر پلوشہ کے ساتھ کوئی ایسا حادثہ پیش آجاتا تو شاید میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتا ۔ان سب سوچوں کے باوجود میں نے اسے خوش کرنے کی خاطر کہا ۔
”اچھا پھر ایسا کچھ نہیں کہوں گا ....اب خوش ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”کہہ دیں ....میں نے کون سا ماننا ہے کہ آپ کے کہنے کی فکر کروں ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”اچھا سوتے ہیں ....“اور میرے مشورے کی تائید میں اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔
جاری ہے
 

دوہفتے ہم نے وہیں گزار دیے تھے ۔ اس دوران امام مسجد کی وساطت سے کمانڈر نصراللہ کو کہہ کر ہم نے گلاک کی سو گولیاں بھی وانہ سے منگوا لی تھیں ۔جینی کے ہلاک ہونے والے ساتھیوں سے دو سائیلنسر لگے گلاک میرے ہتھے چڑھے تھے،جاتے ہوئے جینی نے جان بوجھ کران کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا تھا یا شاید اسے بھول گیا تھا ۔بہ ہرحال اگر وہ مانگتی بھی تو میں نے واپس نہیں کرنے تھے، کہ گلاک نائینٹین ایک کارآمد پستول ہے اور اس پر لگا سائیلنسر سونے پر سہاگے کی مصداق تھا ۔
ایک صبح ہم علام خیل جانے کے لیے تیا رتھے ۔ایک روز پہلے ہی رات کے وقت پلوشہ برقع اوڑھ کر اپنے ماموں کے گھر سے ہو آئی تھی ۔اور ماموں کے گھر جانے کی وجہ اس کا دودھ شریک بھائی مراد تھا ۔وہ چند دن کے لیے گھر آیاہوا تھا۔اسے مسجد میں دیکھتے ہی امام مسجد مولانا عبدالقدوس نے پلوشہ تک یہ بات پہنچانے میں دیر نہیں کی تھی کہ پلوشہ نے وہاں آنے کے اگلے ہی دن مولانا صاحب کو یہ درخواست کی تھی ۔اس کے ماموں کا گھر بھی اسی محلے میں تھا اور وہ اسی مسجد میں نماز پڑھتے تھے ۔
مراد سے اسے کافی کام کی باتیں معلوم ہوئی تھیں ۔دو دن بعد اس کی انگور اڈے والی حویلی میں ایک بڑا پروگرام تھا ۔میں نے حویلی کے سازوسامان اور دروازوں وغیرہ ہی کو جلا سکا تھا یقینا عمارت کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا تھا ۔اوروہاں پر جشن مناتے وقت اس کے زیادہ تر لشکریوں نے وہیں اکٹھے ہونا تھا اس صورت میں علام خیل کی حویلی میں اس کے آدمیوں کی کوئی خاص تعداد موجود نہ ہوتی ۔ علام خیل میں اس کی دو حویلیاں تھیں ایک میں اس کے خاندان والے رہائش پذیر تھے اور ددسری اس سے ملحق بیٹھک تھی جو رہائش کی حویلی سے بھی کافی بڑی تھی ۔یہ وہی حویلی تھی جو اس سے پہلے قبیل خان کا مسکن تھی ۔قبیل خان اور جہانداد خان سگے بھائی تھے جبکہ صنوبر خان ان کا سوتیلا بھائی تھا ۔ اور وہ شروع دن ہی سے ایک ہی حویلی میں سکونت پذیر تھے ۔
پلوشہ مجھے یہ بھی بتاچکی تھی کہ صنوبر خان نے اس پر تشدد کرتے وقت اس کی قمیص بھی پھاڑی تھی اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی ماں کے ساتھ بھی بد تمیزی کی تھی ۔اس لیے صنوبر خان کو سبق سکھانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے بھی ویسی ہی اذیت سے دوچار کیا جاتا ۔گو میں نے کبھی عورتوں کو مردوں کی دشمنی میں گھسیٹنے کا نہیں سوچا تھا نہ وزیرستان میں ایسا کوئی رواج تھا مگر صنوبر خان نے پلوشہ کی ماں اور کم سن بھائی کو درمیان میں لا کر اس گھٹیا رسم کو شروع کر دہی دیا تھا تو اسے اتنا احساس دلانا ضروری تھا کہ گھر والا وہ بھی تھا ۔
انگور اڈے سے علام خیل تک ہمیں ویگن مل گئی تھی ۔پلوشہ برقعے میں روپوش تھی جبکہ میں نے پگڑی باندھ کر اس کا پلو چہرے سے لپیٹا ہوا تھا ۔علام خیل میں ہمارے علاوہ دو مرد اور بھی اترے تھے ۔ ویگن ہمیں اتار کر آگے بڑھ گئی ،جبکہ میں پلوشہ کے ساتھ دھیرے قدموں گاﺅں میں داخل ہو گیا ۔ ہمارے ساتھ اترنے والے دونوں مرد ہم سے پہلے ایک جانب بڑھ گئے تھے ۔کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک تک ہم بغیر بات چیت کیے پہنچے تھے ۔دوپہر کا وقت تھا بیٹھک دروازہ کھلا تھا ۔دروازے پر موجود آدمی مجھے نہیں پہچانتا تھا ۔
”کمانڈر عبدالرشید بیٹنی سے ملنا ہے ۔“اپنا تعارف کرائے بغیر میں نے مدعا بیان کیا ۔
اس نے برقع میں روپوش پلوشہ پر حیرت بھری نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔”وہ کہیں گئے ہوئے ہیں ۔“
”کمانڈر عبدالحق مل جائیں گے ۔“کمانڈر عبدالحق وہی مرد مجاہد تھا جس کی وجہ سے میرے لیے مجاہدین کے ٹھکانوں کے دروازے کھلے تھے ۔
اس نے انکار میں سر ہلایا۔”وہ بھی موجود نہیں ہیں ۔“
”یہاں پر کوئی کمانڈر موجود نہیں جس سے میں بات کر سکوں ۔“
”قاری غلام محمد صاحب موجود ہیں ۔“
”رغزئی والے ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔کیونکہ اس کے متعلق کمانڈر عبدالحق مجھے پہلے سے بتا چکے تھے ۔کہ اگر میں رغزئی میں کبھی چلا جاﺅں تو ان کے ہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے ۔
”جی ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”ٹھیک ہے انھیں بتا دیں انگور اڈے سے کمانڈر نصراللہ خان خوجل خیل کے خصوصی مہمان آئے ہوئے ہیں ۔“
”آپ اندر تشریف لے جائیں وہ حجرے میں تشریف فرما ہیں ۔“اتنے زیادہ کمانڈرز سے واقفیت نے اسے احساس دلا دیا تھا کہ میں کوئی غیر نہیں تھا ۔
اور میں ۔”شکریہ ۔“کہتے ہوئے پلوشہ کے ساتھ حجرے کی طرف بڑھ گیا ۔اسے شاید اندازہ تھا کہ میں پہلے بھی وہاں آچکا ہوں اس لیے اس نے حجرے کی جگہ کے بارے میری رہنمائی کی کوشش نہیں کی تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ یہ کام اس نے اندر موجود آدمیوں کے لیے رہنے دیا ہو ۔
بیٹھک کے اندر کافی جوان دائیں بائیں پھر رہے تھے ۔اور خالص مردانہ ماحول میں ایک برقع پوش خاتون کی آمد ان کے لیے حیرانی کا باعث تھی ۔لیکن اس حیرانی کا اظہار کرنے کے لیے انھوں نے پلوشہ کو گھورنے سے پرہیز کیا تھا ۔
حجرے میں قاری غلام محمد صاحب چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔چونکہ میں انھیں شکل و صورت سے نہیں جانتا تھا اس لیے میں نے اندر داخل ہوتے ہی ۔”اسلام علیکم ۔“کہہ کر ان کے متعلق استفسار کیا ۔
تکیے سے ٹیک لگائے گھنی کالی داڑھی والے ایک صحت مند آدمی نے خوش اخلاقی سے ”جی؟“کہتے ہوئے گویا اپنا تعارف کرادیا تھا ۔اور پھر برقع پوش پلوشہ پر نظر پڑتے ہی اس نے ہاتھ کے اشارے سے وہاں بیٹھے ہوئے دوسرے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا ۔
تمام خاموشی سے اٹھ کر حجرے سے باہر نکل گئے تھے ۔
”تشریف رکھیں ۔“قاری غلام محمد نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔اور میں پلوشہ کے ساتھ زمین پر بچھی چٹائیوں پر بیٹھ گیا ۔
”کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“ہمارے بیٹھتے ہی اس نے نرم لہجے میں پوچھا ۔
”ہم نصراللہ خان خوجل خیل کے جاننے والے ہیں، کسی کام سے آئے ہیں ۔دو تین دن یہاں گزاریں گے ۔“
”مگر ،کوئی خاتون یہاں نہیں رہ سکتی ۔“قاری غلامحمد ہچکچاتے ہوئے انکار کیا ۔
”ایسی بھی کیا بے رخی ہے استاد جی ۔“پلوشہ نے اپنا برقع سامنے سے اٹھاتے ہوئے معصومانہ لہجے میں کہا ۔
قاری غلام محمد کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئی تھیں ۔”اوہ پلو خان !....تمھارے بارے معلوم ہوا تھا کہ تم پلوشہ خان وزیر ہو ....مطلب وہ حقیقت تھی ۔“
”جی استاد جی ۔“پلوشہ نے اثبات میں سرہلایا۔
”اس کا مطلب ہے آپ ایس ایس ہیں ۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا اور میں نے اثبات میں سرہلادیا۔یوں بھی مجاہدین اور صنوبر خان کے آدمیوں کی اکثریت مجھے ایس ایس کہہ کر ہی پکارتے تھے ۔
”اگر آپ لوگ برانہ منائیں تو ایک بات کہوں ۔“
”یہ میرے شوہر ہیں استاد جی !“اس کے نصیحت کرنے سے پہلے پلوشہ نے حقیقت اگل دی۔
وہ اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”ماشاءاللہ ....مبارک ہو ۔شادی کب کی ہے ؟“
پلوشہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔”ڈیڑھ ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے ....چچا نصراللہ خوجل خیل نے خود نکاح پڑھایا تھا ۔“
”بہت خوشی ہوئی ....اوریہ آپ کا اپنا گھر ہے بیٹی !....یہاں رکنے کے لیے کم از کم میری اجازت کی ضرورت آپ کو نہیں تھی ۔“
”آپ تمام اساتذہ کی اجازت تو مجھے زندگی کے ہر مرحلے پر درکار ہو گی استاد جی !.... میں نے یہ شادی بھی چچا نصراللہ خان کے کہنے پر کی ہے ۔“پلوشہ عقیدت سے بولی ۔
”خوش رہو بیٹی !“قاری غلام محمد نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگا ۔ ”یقیناکھاناآپ اپنے کمرے میں کھانا پسند کریں گے ۔“
”جی استاد جی !“پلوشہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
”چلیں میں آپ کو کمرہ دکھا دوں ۔“وہ ہمیں ساتھ لے کر بیٹھک کے شمالی کونے میں بنے ہوئے ایک بڑے سے کمرے کے پاس لایا جس کے ساتھ ملحق بیت الخلاءاور غسل خانہ بھی موجود تھا ۔وہ کمرہ یقینا پلوشہ کی وجہ سے ہمارے حوالے ہوا تھا ورنہ اس سے پہلے میں اور سردار یہاں رہ چکے تھے،اس وقت بھی ہمارے حوالے انھوں نے علاحدہ کمرہ ہی کیا تھا لیکن اس کمرے ساتھ یہ سہولت موجود نہیں تھی ۔
گوپلوشہ لڑکا نما لڑکی تھی اور ابھی تک اس کے سر کے بال اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے جن میں پونی ڈالی جا سکتی یا جوڑا باندھا جا سکتا ۔اسی طرح نہ تو اس کی ستواں ناک میں عورتوں کی طرح سوراخ ہوا تھا اور نہ کانوں میں ۔اب بھی مردانہ لباس پہن کر وہ لڑکے کا کردار آسانی سے ادا کر سکتی تھی ۔لیکن مجھے اس کا بے پردہ پھرنا بالکل بھی گوارا نہیں تھا ۔وہ میری عزت تھی اور اپنی عزت کی حفاظت ہر مسلم کرنا جانتا ہے۔ میرا پکا ارادہ تھا کہ صنوبر خان کوانجام تک پہنچاتے ہی اسے کسی بہانے تلہ گنگ جا کر چھوڑ آﺅں گا ۔ لیکن اسے اپنے ارادے سے مطلع کرنا گویا نیا محاذ کھولنے کے مترادف تھا اس لیے یہ ارادہ میرے دل ہی میں نہاں رہا ۔
شادی کے بعد سے وہ کھانا مجھے اپنے ہاتھوں ہی سے کھلاتی تھی ۔اس کی ہر ادا اور ہر انداز سے میرے لیے یوں محبت ٹپکتی تھی جیسے سوراخ زدہ چھتے سے شہد ٹپکتا ہے ۔میری پسند سے وہ مجھ سے زیادہ واقف تھی ،میری ناراضی اور خفگی کووہ ایک لمحے میں بھانپ جایا کرتی ۔اور میرے آرام و سکون کو اتنا خیال کرتی جیسے میں کوئی چھوٹا سابچہ ہی تو تھا ۔یقینا مشرقی بیویا ں اپنے خاوند کا ہر کام نہایت عقیدت سے سرانجام دیتی ہیں ،لیکن پلوشہ اس معاملے میں گھریلو خواتین سے بھی ایک ہاتھ آگے تھی ۔گو مجھ سے جھگڑا کرتے وقت وہ کافی ساری بکواس کر جایا کرتی تھی ،لیکن اس کی یہ باتیں بس زبان تک ہی محدود ہوتی تھیں ۔اور کچھ بھی ایسا ویسا کہتے ہوئے وہ مجھے آپ ہی کہا کرتی تھی ۔بلا شک و شبہ وہ میرے لیے قدرت کا ایک تحفہ ہی تو تھی ۔
کھانا کھا کر ہم آرام کے لیے لیٹ گئے ۔ظہر کی نماز میں نے باقیوں کے ساتھ ادا کی تھی البتہ پلوشہ کمرے سے باہر نہ نکلی ۔مسجد میں مجھے کچھ اور جاننے والے بھی مل گئے تھے ۔جن پہلی مرتبہ یہاں رہتے ہوئے ملاقات ہوئی تھی ۔کچھ دیر ان سے گپ شپ کر کے میں پلوشہ کے پاس پہنچ گیا ۔رات کا کھانا کھا کر ہم دونوں تیار ہو کر باہر نکل آئے ۔پلوشہ ایک بار پھر لڑکے کے روپ میں تھی ،لیکن چہرہ چھپانے کے لیے اس نے اپنی پگڑی کا پلو چہرے پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ صرف آنکھیں ہی نظر آتی تھیں ۔گو اس کی آنکھیں بھی کسی کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کرنے کے لیے کافی تھیں مگر رات وقت کوئی کہاں ان پر غور کر پاتا ۔قاری غلام محمد کو میں بتا دیا تھا کہ کچھ دیر کے لیے ہم باہر جا رہے ہیں ،تاکہ وہ اپنے سنتریوں کو اس کی اطلاع کر دے ۔کلاشن کو ف ہم نے کمرے ہی میں چھوڑ دی تھی اور دونوں کے پاس سائیلنسر لگے گلاک نائینٹین پستول موجود تھے ۔علام خیل اس کا اپنا گاﺅں تھا اور وہ اس کے چپے چپے سے واقف تھی ۔ میں اور سردار خان بھی اس گاﺅں کو اچھی طرح کھنگال چکے تھے اس لیے میرا بھی وہ خوب دیکھا بھالا تھا ۔ یوں بھی علام خیل کو پلوشہ کی پیدائش کا گاﺅں ہونے کی سعادت حاصل تھی اس لحاظ سے فطری طور پر میرے دل میں علام خیل کی محبت بسیرا کیے ہوئے تھی ۔
”چندا !....جانتی ہو قبیل خان کی وجہ سے مجھے علام خیل سے نفرت جیسی تھی ،مگر آج کل علام خیل مجھے اپنے گاﺅں کی طرح پیارا لگتا ہے ۔“
”راجو !....ایک بات آج تک میری سمجھ میں نہیں آ سکی ۔“صنوبر خان کی حویلی کی طرف مٹرگشت کے انداز میں جاتے ہوئے وہ سرگوشی میں بولی ۔
”کون سی بات ؟“میں حیرانی سے مستفسرہوا۔
وہ جذباتی لہجے میں بولی ۔”یہی کہ آخر آپ کو مجھ میں ایسی کون سی چیز نظر آئی جو آپ نے مجھے اتنے اونچے مقام پر بٹھا دیا ۔“
میں استہزائی انداز میں ہنسا ۔”تو مجھ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں ۔“
”اگر آپ میں سرخاب کے پر نہ لگے ہوتے تو وہ کمینی جینیفر آپ کے پیچھے امریکہ سے یہاں نہ آئی ہوتی۔اوروہ رومانہ آپ کی خاطر اپنے شوہر سے طلاق لینے پر آمادہ نہ ہو گئی ہوتی ۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”تو تمھیں ماہین بھول گئی ہے کیا ؟“
وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی ۔”آپ کو بھی تو پلوشے خان وزیر بھول گئی ہے ،جسے آپ کے بغیر سانس بھی نہیں لیا جاتا ۔“
”اچھا فضول باتوں کو چھوڑو یہ بحث واپس آکر کریں گے ۔“
”آپ نے خود ہی یہ بحث شورع کی ہے ۔“وہ منھ بنا کر خاموش ہو گئی ۔
میں نے بھی مزید کچھ کہنے سے گریز کیا تھا ۔صنوبر خان کی حویلی اور بیٹھک متصل تھیں ۔حویلی شمال کی جانب اور بیٹھک جنوب کی طرف بنی ہوئی تھی ۔دونوں کے داخلی دروازے شرقی جانب تھے ۔ حویلی کی شمالی دیوار پر شرقاََ غرباََ دو مورچے بنے تھے جبکہ بیٹھک کی جنوبی دیوار پر شرقاََ غرباََ دو مورچے بنے تھے ۔گویا حویلی اور بیٹھک کو ملا کر دیکھا جاتا تو ان کے چاروں کونوں پر مورچے موجود تھے ۔حویلی اور بیٹھک کے داخلی دروازوں کے بیچ بس درمیانی دیوار ہی کی آڑ تھی ۔اس طرح دونوں دروازوں کے سامنے ایک آدمی کھڑا ہو کر دونوں دروازوں کی دیکھ بھال کر سکتا تھا ۔
ہم دونوں حویلی اور بیٹھک کے سامنے سے گزرتے چلے گئے ۔دونوں دروازے بند تھے اور ان کے سامنے کوئی آدمی کھڑا ہوا نظر نہیں آرہا تھا ۔بیٹھک کی جنوبی دیوار سے تھوڑا آگے بڑھ کر ہم مغرب کی جانب مڑ گئے ۔وہاں سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر چڑھائی شروع ہو رہی تھی ۔اس ڈھلوان پر بھی اکا دکا گھر موجود تھے ۔گھروں سے بچتے ہوئے ہم تھوڑا سا بلندی پر آئے اور ایک تباہ شدہ گھر میں گھس گئے ۔ دو تین آوارہ کتوں نے ناراضی بھرے انداز میں بھونک کر ہماری آمد پر ناپسندیدگی کا اعلان کیا اور احتجاج کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے ۔وہ گھر کافی عرصے سے تباہ شدہ پڑا تھا ۔میں اور سردار اس کا اچھی طرح جائزہ لے چکے تھے ۔ایک کمرے کی چھت جو تھوڑی سلامت تھی اس کے اوپر لیٹ کر ہم حویلی کی جانب دیکھنے لگے ۔صنوبر خان کی حویلی وہاں سے بالکل نیچے تھی ۔چاند کی پہلی دوسری تاریخ تھی اس لیے اندھیرا کافی گہرا تھا ۔لیکن حویلی کے صحن میں ہونے والی روشنی ہماری کافی مدد کرسکتی تھی ۔میں نے دوربین آنکھوں سے لگا کر اس طرف دیکھا مگر اونچی دیواروں نے میری امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا ۔میں نے مایوس ہوتے ہوئے دوربین پلوشہ کی جانب بڑھا دی ۔
”کچھ بھی نظر نہیں آرہا ۔بس اتنا محسوس ہو رہا ہے کہ چاروں مورچوں میں سنتری موجود ہیں۔“
میں نے کہا ۔”حویلی کی دیواریں کچھ زیادہ ہی اونچی ہیں ۔“
اس نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔”میرا خیال ہے کل دن کو مزید بلندی سے جا کر جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ۔“
”ہونہہ !....“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”کل یہاں سے مزید آدمی بھی انگور اڈے والی حویلی کی جانب کوچ کریں گے ۔“
”اس بارے بھی کل پتا چل جائے گا ۔“
”چلو چلتے ہیں ۔“وہاں مزید ٹھہرنا فضول تھا اس لیے میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
وہ سرہلاتے ہوئے اٹھ گئی ۔واپس بھی ہم اسی رستے سے آئے تھے ۔بیٹھک اور حویلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہم اپنے مسکن تک پہنچے اور دروازے پر موجود آدمی کو اپنی پہچان کراتے ہوئے اندر گھس گئے ۔ایک اور امنگوں بھری وصل کی رات ہماری منتظر تھی ۔
٭٭٭
اگلی صبح ناشتا کرکے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی ہم باہر نکل آئے تھے ۔پلوشہ اسی طرح ایک لڑکے کے روپ میں تھی ۔ البتہ اپنا چہرہ اس نے پگڑی کے پلو سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ہم دونوں صنوبر خان کی حویلی کے سامنے گزرنے کے بہ جائے ایک دوسرے رستے سے پہاڑ کی بلندی سر کرنے لگے ۔ سورج کے اچھی طرح نکلنے تک ہم صنوبر خان کی حویلی کے عقب میں موجود ایک بلند ی پر موجو د تھے ۔اس جگہ سے خالی آنکھوں سے کوئی خاص نگرانی نہیں ہو سکتی تھی ،مگر ہمارے پاس ایک طاقت ور دوربین موجود تھی ۔درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر ہم بیٹھک اور حویلی کے صحن کا جائزہ لینے لگے ۔چونکہ یہ بلندی عین اس حویلی اور بیٹھک کے عقب میں موجود تھی اور اس کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا اس لیے یہاں سے دونوں عمارتوں کے صحن کا جائزہ لیا جا سکتا تھا ۔نامعلوم حویلی بناتے وقت قبیل خان یا بنانے والے نے اس متعلق کیوں سوچا تھا ۔شاید اتنی بلندی سے صرف دوربین کی مدد ہی سے محدود سا دکھاﺅ ممکن تھا اس لیے انھوں نے اسے اہمیت نہیں دی تھی ۔یوں بھی اتنی دور سے دوربین کی مدد سے بھی کسی کے چہرے کی شناخت ممکن نہیں تھی ۔
بیٹھککے صحن میں کافی ہلچل مچی ہوئی تھی ۔تین گاڑیاں ہمیں بیٹھک کے دروازے سے نکل کر انگور اڈے کا رخ کرتی نظر آئیں یقینا وہ رات کو ہونے والے جشن میں شرکت کرنے جا رہے تھے ۔
مورچوں کا جائزہ لینے پر ہمیں ان میں کوئی حرکت نظر نہ آئی ۔
”راجو !....میرے ذہن میں ایک منصوبہ آرہا ہے ۔“تھوڑی دوربین سے حویلی اور بیٹھک کا جائزہ لینے کے بعد وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔
”بولو۔“میں اس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔سر پر پگڑی لپیٹے مردانہ لباس میں کچھ عجیب ہی دکھائی دے رہی تھی ۔مگر میں نے کئی دفعہ محسوس کیا تھا کہ زنانہ لباس کے بہ جائے وہ مردانہ لباس میں زیادہ آرام دہ محسوس کیا کرتی تھی ۔اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ وہ بچپن ہی سے لڑکوں والے کپڑے پہننے کی عادی تھی ۔ بلکہ گزشتا شب وہ یہ کہہ رہی تھی کہ اسے مسلسل بڑھتے ہوئے بالوں سے الجھن محسوس ہونے لگی ہے۔ جواباََ مجھ سے ٹھیک ٹھاک جھاڑ کھا کر اس نے منھ بناتے ہوئے کہا تھا ....”جس دن بھی اسے موقع ملا وہ سر پر استرا پھروا دے گی ۔“
”اگر ایسا کیا تو سچ مچ خفا ہو جاﺅں گا ۔“اس دھمکی کے بغیر میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ۔
وہ شوخی سے بولی ۔”منانا مجھے آتا ہے ۔“اور میں زچ ہو کر خاموش ہو گیا تھا ۔
وہ مشورہ دیتے ہوئے بولی ۔”اگر ہم ابھی حویلی میں گھسنے کی کوشش کریں تو شاید کامیاب ہو جائیں ۔چاروں مورچے خالی ہیں اور بیٹھک میں آدمیوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابرہو گی ۔“
چند لمحے سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد میں نے اٹھتے ہوئے کہا ۔”چلو ۔“
”سچ ۔“وہ خوش ہو گئی تھی ۔
”اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ،رات کو کم از کم مورچوں میں موجود لوگ تو چوکنے ہوتے ہیں ۔اس وقت یقینا وہ بے فکر ہوں گے ۔اور مورچے یوں بھی خالی پڑے ہیں ۔صرف داخلی دروازے ہی پر کوئی محافظ موجود ہوگا ۔“
ہم احتیاط سے نیچے اترنے لگے ۔دونوں کے پاس سائیلنسر لگے گلاک موجود تھے ۔کلاشن کوف ہم کمرے ہی میں چھوڑ آئے تھے ۔رات جس ویران عمارت کی چھت سے ہم نے حویلی کی دیکھ بھال کرنے کی کوشش کی تھی وہاں چند لمحے رک کر ہم نے ایک بار پھر دوربین سے مورچوں کے خالی ہونے اطمینان کیا ۔وہیں پر ایک گرے ہوئے کمرے کی چھت کی کڑیوں میں سے پلوشہ نے ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی ایک کڑی اٹھا لی جو میرے بازو کے بہ قدر موٹی ہو گی ۔
”اس کا کیا کرو گی ؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔
اس نے شرارتی لہجے میں کہا ۔”جو بھی میرے قریب آیا،سر میں مار کر اس کا سر پھاڑ دوں گی ۔“
”میرے بھی ؟“میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”ہاں آپ کے بھی اگر دور جانے کی کوشش کی تو ۔“
میں مسکرا کر رہ گیا تھا ۔مزید کچھ کہے بغیر اس نے اترائی کی جانب قدم بڑھا دیے۔
بیٹھک اور حویلی کے عقب میں چھوٹا سا خالی میدان تھا ۔حویلی کے دائیں بائیں جڑا کوئی عمارت یا مکان موجود نہیں تھا ۔جنوب کی طرف پچاس ساٹھ گز کے فاصلے پر دو تین گھر بنے تھے اور قریباََ اتنے ہی فاصلے پر شمال کی جانب گھروں کا سلسلہ تھا ۔ان دونوں عمارتوں کے سامنے پختہ سڑک بنی تھی جو وہاں سے علام خیل اور انگور اڈے کو ملانے والی مستقل سڑک سے ملاپ کرتی تھی ۔سامنے کی جانب ہی سڑک عبور کر کے ڈھلان تھی جس کے اختتام پر کچے پکے مکانات کا سلسلہ شروع ہوجاتاتھا ۔وزیرستان کے چند بڑے شہروں ،جیسے میران شاہ ،وانہ ،رزمک ،مکین وغیرہ میں تو گلیاں اور کوچے مل جاتے ہیں لیکن عام آبادی سلسلے گلیوں وغیرہ کے تکلف سے آزاد ہیں ۔نظریہ ضرورت کے تحت جس کو جہاں جگہ ملتی ہے وہ اپنا مکان بنا لیتا ہے ۔دو دو تین تین مکانات اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر درمیان میں ڈھلان،میدان، درختوں کے جھنڈ یا کھیت وغیرہ آجاتے ہیں اور پھر چند گھر بنے ہوتے ہیں ۔بڑے شہروں کے مضافات میں موجود آباد ی کی بھی یہی صورت حال ہے ۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بڑے شہروں کی آبادی بھی پنجاب یا کے پی کے کے کسی متوسط گاﺅں سے زیادہ نہیں ہو گی ۔جب بڑے شہروں کا یہ حال ہے تو چھوٹے دیہاتوں کا اندازہ آپ خود کر سکتے ہیں ۔
ڈھلان سے اتر کر ہم دونوں ایک چٹان کے ساتھ یوں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے جیسے تھک کر سستا رہے ہوں۔دائیں بائیں کا اچھی طرح جائزہ لینے کے ساتھ ہم نے عقب میں موجود دونوں مورچوں کو بھی بہ غور دیکھ لیاتھا ۔دور کھیتوں میں چند عورتیں کام کرتی نظر آ رہی تھیں ۔ڈھلان اترتے وقت ایک بوڑھا شخص ہم سے تھوڑا آگے گدھے پر لکڑیاں لادے ہوئے جا رہا تھا ۔جو ہمارے چٹان کے ساتھ بیٹھنے کے بعد حویلی سے شرقی جانب ہوتا ہواآگے بڑھ کر مزید اترائی اترتے ہوئے مکانات کے سلسلے میں غائب ہو گیا تھا ۔انھی مکانوں کے مغربی جانب کچھ بچے اور بچیاں کھیل رہے تھے ۔لیکن جب ہم بیٹھک کی دیوار کے قریب پہنچ جاتے توانھیں نظر نہ آتے ۔مغربی جانب کچھ فاصلے پر دو نازنینیں بکریاں، بھیڑیں چرا رہی تھیں اور وہی دو ایسی جگہ پر تھیں ،جہاں سے ہمیں آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا ۔لیکن امید یہی تھی کہ اگر وہ ہمیں دیکھ بھی لیتیں تب بھی حویلی یا بیٹھک کے پاس آکر کسی کو بتانے کی جرّات نہ کرتیں ۔ اور اس کی وجہ بیٹھک میں اوباش مردوں کی موجودی اور بیٹھک سے منسوب جھوٹی سچی کہانیاں تھیں ، جن میں صنفِ نازک کے ساتھ زیادتی کے واقعات کثیر تعداد میں تھے ۔
”کہاں سے گھسا جائے ؟“اطراف کا جائزہ لینے کے بعدہم دونوں ہدف کی جانب متوجہ ہو گئے تھے ۔
وہ جلدی سے بولی۔”دونوں عمارتوں کو ملانے والی دیوار مناسب رہے گی ۔“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہاں سے گھسنے پر ہم دونوں عمارتوں میں موجود لوگوں کو دکھائی دے سکتے ہیں ۔اس کے بہ جائے جنوبی دیوار میں بنے ہوئے مورچے کی جگہ سے اندر داخل ہونے پر ایک تو دیکھے جانے کا خطرہ کم ہو گا دوسرا وہاں سے آسانی سے نیچے بھی اتر سکیں گے ۔“
”آپ کی محبت نے مجھے کچھ بہتر سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا ۔“اپنی غلطی تسلیم کرنے میں اس نے ایک لمحہ بھی نہیں لگایا تھا ۔اس کی ایسی باتیں مجھے خوشی سے نہال کر دیا کرتیں ۔محبت جتانے کا کوئی لمحہ بھی وہ ضائع نہیں جانے دیتی تھی ۔دل کی بات دل میں چھپا نے کی وہ عادی نہیں تھی ۔
ہم دونوں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے جنوبی مورچے کے عین نیچے آکر کر کھڑے ہوگئے ۔وہ دیوار کافی بلند تھی اور بالکل ہی سیدھی بنی ہوئی تھی ۔وزیرستان کے لوگ گھر کی بیرونی دیواریں بہت اونچی بناتے ہیں ۔ہر گھر کا نقشہ کسی قلعے کے جیسا ہوتا ہے ۔چاروں طرف اونچی اونچی دیواریں اور ان کے بیچوں بیچ چھوٹے چھوٹے کمرے جن کی چھتیں چاردیواری سے نیچی بنی ہوتی ہیں ۔دیوار کے اوپر وہ لوگ پلاسٹک ،کھجور کی چٹائیاں یا پتے وغیرہ کی اس طرح ڈالتے ہیں کہ بارش ہونے کی صورت میں پانی دیواروں کے اوپر نہ بہہ سکے ۔ان دیواروں کی اونچائی چودہ فٹ سے تو کم نہیں ہو گی ۔میرا قد پانچ فٹ نو انچ ہے جبکہ پلوشہ کا قدبہ مشکل پانچ فٹ دو انچ ہوگا اگر اس کے پاﺅں میرے اٹھے ہوئے ہاتھوں پر ہوتے تب بھی وہ دیوار کی بلندی کو نہیں چھو سکتے تھے ۔
”گڑ بڑ ہو گئی ہے ۔“دیوار کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہوئے میں نے پریشانی ظاہر کی ۔
”کیا ہوا ؟“اس نے پوچھنے میں تاخیر نہیں کی تھی ۔
اوپر کیسے چڑھیں گے ؟“میں پریشانی کی وجہ بتلائی ۔
”آپ بس اپنی نئی نویلی دلھن کے ناز نخرے اٹھاتے رہنا ،کام کی بات پر توجہ نہ دینا ۔“اس کے ہونٹوں پر محبوبانہ تبسم کھل گیا تھا ۔
”طنز کر رہی ہو ؟“میں نے مصنوعی غصے سے پوچھا ۔
وہ بے پروائی سے بولی ۔”حقیقت بتا رہی ہوں ۔بہ ہر حال پوچھنا یہ تھا کہ کیا مجھے ہاتھوں پر اٹھا لو گے ؟“
میں نے اسے مطعون کرتے ہوئے کہا ۔”بھول گئیں ،کتنے دیر ان بازوﺅں میں اٹھا کر چلتا رہا۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اس وقت تو میں پرائی لڑکی تھی اور غیر لڑکیوں کا وزن بھلا مردوں کو کہاں محسوس ہوتا ہے ۔“
”پلوشے !....مار کھاﺅ گی ۔“میں نے اسے پیار سے ڈانٹا ۔
”آپ اس ڈنڈے کا پوچھ رہے تھے نا ،تو یہ اسی لیے ساتھ لایا ہے راجو جی !“اس نے وہ موٹی کڑی میری آنکھوں کے سامنے لہرائی ۔اور جھک کر اپنے بوٹوں کے تسمے کھولنے لگی ۔ بوٹ اتار کر اس نے جرابیں بھی اتاریں اور جرابیں بوٹوں کے اندر ٹھونس کر ،دونوں بوٹوں کے تسموں کو ایک دوسرے سے باندھ کر گلے میں ڈال لیا ۔
تیار ہو کر وہ مجھے طریقہ بتانے لگی ۔تفصیل سن کر میں سر ہلاتے ہوئے نیچے بیٹھ گیا ۔اس نے اپنے ننگے پاﺅں میرے کندھوں پر رکھے اور دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئی ۔میں نے اپنی پیٹھ دیوار سے لگائی ہوئی تھی ۔جونھی اس نے مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا میں اطمینان سے کھڑا ہو گیا ۔یوں بھی وہ مجھے پھول کی طرح ہلکی لگا کرتی ۔سیدھا ہوتے ہی میں نے وہ مضبوط کڑی اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑی اور اس کا ہموار سرا اوپر کی طرف کرکے نچلا سرا زمین پر ٹکا دیا ۔ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی کڑی مجھ سے کافی اونچی تھی ۔ اس نے ایک پاﺅں میرے سر پر رکھا اوردوسرا پاﺅں بہ مشکل کڑی کے دوسرے کونے پر ٹکا کر وہ کڑی کے اوپر منتقل ہو گئی ۔پلوشہ کا سارا بوجھ کڑی پر منتقل ہو گیا تھا ۔منتقل ہو گیا تھا ۔
”تھوڑا اوپر اٹھا ﺅ ۔“اپنا توازن برقرار کرتے ہی اس نے ہولے سے کہا ۔اور میں کڑی کو آہستہ آہستہ اوپر اٹھانے لگا ۔کڑی کو متوازن پکڑنے کے لیے میں اسے اپنے سر اور گردن کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔میں بہت مشکل سے کڑی کو بلند کر پارہا تھا ۔میرے بازو بالکل اکڑ گئے تھے اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں زیادہ دیر کڑی کو اسی انداز میں تھامے نہیں رہ پاﺅں گا ۔
کم از کم پلوشہ کا وزن پچاس کلو کے بہ قدر تو ہوگا ۔حقائق کو خالی محبت کی آنچ سے نہیں ناپا جاتا۔ میرے دل میں بھری اس کی محبت کی وجہ سے اس کے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا تھا ۔البتہ محبت انسان کو برداشت اور حوصلہ ضرور عطا کرتی ہے ۔اور میں جانتا تھا کہ اگر کڑی میرے ہاتھوں میں ہلی جلی یا لرزی تو پلوشہ نیچے بھی گر سکتی تھی ۔اور اسے چوٹ لگنے کے اندیشے پر میرے بازوﺅں میںپورے جسم کی قوت سمٹ آئی تھی ۔
میں نے بہ مشکل فٹ بھر کڑی کو بلند کیا ہو گا کہ اچانک میرے ہاتھ بالکل ہلکے ہو گئے ۔میں نے گہرا سانس لے کر اوپر کی جانب نظریں اٹھائیں وہ دیوار کے کنارے میں انگلیاں پھنسا کر اوپر چڑھ رہی تھی ۔
کڑی کو ایک طرف پھینک کر میں وہیں نیچے کھڑا ہو گیا کہ اگر خدانخواستہ اس کے ہاتھ چھوٹ گئے تو اسے نچے گرنے سے پہلے بازوﺅں میں سنبھال سکوں ۔اتنی سخت جان ہونے کے باوجود مجھے تو وہ کانچ کی گڑیا ہی لگتی تھی ۔
مگر میری احتیاط بے کار گئی تھی ۔وہ دیوار کے اوپر پہنچ کر بیٹھک کے صحن کاجائزہ لینے لگی ۔چند لمحوں کے بعد وہ مطمئن ہو کر دیوار پر اس طرح لیٹی گئی کہ اس کا پیٹ تو دیوار کے اوپر تھا نچلا دھڑ دوسری جانب اور سینہ اورہاتھ میری طرف جھکے ہوئے تھے ۔اس کے ساتھ اس نے سر سے لپٹی پگڑی اتار کر اس کا ایک سرا اپنے ہاتھوں میں لپیٹ کر دوسرا سرا میرے لیے نیچے لٹکا دیا ۔اس نے پتلی دھوتی نما چادر ہی پگڑی کے انداز میں سر سے لپیٹی ہوئی تھی ۔چادر سر سے اتارتے ہی اس کے ریشمی بال بکھر کر ماتھے پر لہرانے لگے تھے ۔
میں نے ایک پتھر سے کڑی کا نچلا سرا جوڑ کر اسے دیوار کے ساتھ سیدھا کھڑا کیا اورپلوشہ کی چادر کو پکڑ کر آہستہ آہستہ اوپر اٹھنے لگا ۔میری نظر اس کے سرخ پڑتے چہرے پر تھی ،صاف لگ رہا تھا کہ اسے بہت زیادہ قوت صرف کرنا پڑ رہی ہے ۔اسے زیادہ زحمت سے بچانے کے لیے ہی میں نے کڑی کو دیوار کے ساتھ کھڑا کیا تھا ۔وہ ساڑھے سات آٹھ فٹ لمبی کڑی کافی مدد دے سکتی تھی ۔تھوڑا سا اوپر ہوتے ہی میں کڑی کے ہموار سرے پر پاﺅں رکھنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ایک دم پلوشہ کے ہاتھوں پر سے میرا وزن ہٹ گیا اور میں دیوار کا سہارا لے کر آہستہ آہستہ کھڑا ہو گیا ۔میرے ہاتھوں اور دیوار کی کگرمیں چند انچ کا فرق تھا ۔اس نے دوبارہ میرے ہاتھ تھامنے چاہے ،مگر میں اسے مزید مشقت میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا ۔
”میں چڑھ جاﺅں گا ،تم مورچے میں پہنچو۔“
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دیورا پر چڑھ کر اس نے دائیں بائیں کا جائزہ لیا اور پھر سیدھا کھڑے ہوکر مورچے کی ایک جانب سے نکلے ہوئے لکڑی کے سروں پر پاﺅں رکھتی ہوئی مورچے میں گھس گئی ۔اس اثناءمیں میں نے اچھل کر دیوار کی کگر میں انگلیاں پھنسائیں اور اپنے ہاتھوں کے بل پر اوپر اٹھ گیا ۔اگلے ہی لمحے میں دیوار پر تھا ۔اسی دیوار سے چند فٹ نیچے کمروں کی چھت تھی ۔لیکن چھت پر پاﺅں رکھنے میں یہ خطرہ تھا کہ اگر اس کمرے میں کوئی آدمی بھی موجود ہوتا تو اسے ایک منٹ میں معلوم ہو جاتا کہ چھت پر کوئی موجود ہے۔ میں نے ایک سرسری نظر صحن میں دوڑائی ،مگر نہ توداخلی دروازے پر کوئی نظر آیا اور نہ صحن کو ئی حرکت نظر آئی ۔غور کر نے پر مجھے حویلی کے داخلی دروازے کی اندر سے کنڈی لگی نظر آئی۔
کسی کے نہ ہونے کا اطمینان کرتے ہی میں سرعت سے اٹھا اور پلوشہ کی طرح بڑھی ہوئی لکڑیوں پر پاﺅں رکھ کر مورچے میں گھس گیا ۔مورچہ چھے سات فٹ چوڑا اور اتنا ہی لمبا تھا ۔دیوار کے ساتھ ایک کلاشن کوف کھڑی تھی ۔تپائی نما لکڑی کی میز پرگولیوں سے بھری تین چار میگزنیں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔جدید ساخت کی ایک دوربین دیوار سے لٹکی ہوئی تھی ۔ایک لوہے کی کرسی جس کی ٹانگیں اتنی اونچی تھیں کہ اس پر بیٹھنے والا آسانی سے مورچے کی تین اطراف کی دیواروں میں بنے ہوئے سوراخوں میں سے جھانک کر نگرانی کرسکتا تھا ۔چوتھی سمت میں یوں بھی مورچے کا دروازہ تھا ۔
پلوشہ جرابیں اور بوٹ پہن کر تیار تھی ۔سر پر باندھی ہو ئی چادر کو اس نے مفلر کے انداز میں چہرے پر لپیٹ لیا تھا جبکہ نیفے میں اڑسا ہو ا گلاک نائینٹین اس کے ہاتھ میں نظر آرہا تھا ۔وہ ہلہ بولنے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی ۔
”کلاشن کوف لے لیں ؟“اس نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”فی الحال اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آرہی ،گلاک کافی ہے ۔“میں نے اپنا گلاک بھی ہاتھ میں پکڑ لیا تھا ۔مورچے کے ساتھ لکڑی کی سیڑھی بنی ہوئی تھی ،مگر وہ سیڑھی اتنی چوڑی ضرورتھی کہ ہاتھوں کا سہارا لیے بغیر سیڑھی سے اترا جا سکتا تھا ۔سیڑھی کا اختتام ایک کمرے ہی میں ہو رہا تھا ۔
نیچے اترتے ہی پلوشہ نے اپنی پیٹھ میری پشت سے جوڑتے ہوئے عقب کی دیکھ بھال کرنے لگی ۔میں نے بارہا پرکھا تھا کہ اس کا انداز کسی تربیت یافتہ کمانڈو کا سا ہوتاتھا ۔اس کی دلربائی اور محبوبیت سے ہٹ کر بھی اس کی موجودی میں مجھے سردار خان جیسے تربیت یافتہ اور دلیر ساتھی کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔
اس کمرے کے دو دروازے تھے ۔ایک باہر صحن کی جانب کھلتا تھا ،جبکہ دوسرابرآمدے کی طرف ۔ ہمارا رخ اندر کی طرف تھا ۔گلاک کو فائر کے لیے تیار حالت میں تھامے میں دبے قدموں آگے بڑھتا گیا۔ ایک کمرے سے بے ہنگم موسیقی کی آواز آرہی تھی ۔اس کمرے کے دروازے سے ہم ایک لمبے چوڑے برآمدے میں داخل ہوئے ،جس کی مغربی جانب کمروں کے دروازے اور مشرقی جانب بیٹھک کا کھلا اور وسیع صحن تھا ۔کمروں کی یہ قطار دیوار کے اختتام کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی تھی بلکہ شمالی دیوار کی طرف مڑ جاتی تھی ۔اگر مغرب کی جانب سے دیکھا جاتا تو وہ کمرے اور برآمدہ انگریزی کے حرف ایل کی طرح نظر آتا تھا ۔شمالی جانب ان کمروں اور برآمدے کے اختتام پر ایک علاحدہ کمرہ بنا ہوا تھا ۔ شاید وہ سنتریوں کے لیے بنا تھا ۔جنوب مشرقی دیوار کے ملاپ پر بھی جنوب مغربی دیوار کے کونے کی طرح ایک طویل کمرہ بنا ہوا تھا جس اوپر ایک مورچہ موجود تھا جس سے مشرق اور جنوب کی جانب کی دیکھ بھال کی جا سکتی تھی ۔مورچے والے مشرقی اور مغربی دونوں کمروں کے درمیان تھوڑی سی جگہ خالی تھی اور پھر دو تین کمرے بنے نظر آ رہے تھے جن کے سامنے اپنا برآمدہ موجود تھا ۔مشرقی دیوار کے ساتھ دو تین غسل خانے اور بیت الخلاءبنے تھے اور ان کے بعد گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے ایک گیراج بنا ہوا تھا ، جس میں پہلو بہ پہلو پانچ چھے گاڑیاں با ٓسانی کھڑی کی جا سکتی تھیں۔اس وقت بھی وہاں ایک سنگل کیبن کھڑی تھی ۔مورچے والے کمرے شرقاََ غرباََ طول لیے ہوئے تھے ۔مغربی جانب بنا مورچے والا کمرہ دوسرے کمروں کی چوڑائی اور برآمدے کی چوڑائی کے برابر لمبا تھا ۔
مغربی جانب کمروں کی قطار میں آٹھ دروازے میں نے گنے ۔جن میں سے صرف دو کے دروازے کھلے تھے ۔ایک ہماری طرف سے دوسرا کمرہ اور دوسرا آخری کمرہ جس سے موسیقی کی آواز آرہی تھی ۔بند کمروں کو نظر انداز کر کے میں نے پہلے آنے والے کھلے کمرے میں جھانکا ۔مگر کمرہ بالکل خالی پڑا تھا ۔اس دوران پلوشہ صحن اور جنوبی دیوار کے ساتھ بنے ہوئے کمروں کی جانب متوجہ رہی تھی ۔ہم محتاط مگر ذرا تیز قدموں سے آخری کمرے کے قریب پہنچے ۔دروازے سے ذرا پہلے رکتے ہوئے میں نے پلوشہ کے کان سے منہ لگاتے ہوئے کہا ۔
”تم باہر ہی رہنا ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اس کی آواز بھی سرگوشی میں ڈھلی ہوئی تھی ۔
میں کھسکتا ہوا کھلے دروازے کے قریب ہوا ۔اب موسیقی کی آواز کے ساتھ ایسی حیوانی اور قبیح آوازیں بھی میرے کانوں میں پڑنے لگیں تھیں جو دیکھے بغیر کمرے کا اندرونی منظر آشکارا کر رہی تھیں ۔ میں نے دل ہی دل میں شکر کیا کہ میں پلوشہ کو باہر رکنے کا کہہ چکا تھا ۔
کمرے کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے اس لیے مجھے دروازے کو ٹھوکر مار کر یا دھکیل کر اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔میں گلاک دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے زقند بھر کر اندر گھسا ،کیوں کہ پستول کو اگر ایک کے بہ بجائے دونوں ہاتھوں میں تھاما جائے تو درست نشانہ لینے میں آسانی رہتی ہے۔
”خبردار اگر کسی نے حرکت کی ۔“میری آواز اتنی ہی بلند تھی کہ کمرے میں موجود آدمی ہی سن سکتے تھے ۔
جاری ہے
 

وہ تعداد میں چار تھے ۔ایک آدمی ،کم عمر بے ریش لڑکے کے ساتھ شرم ناک حالت میں موجود تھا جبکہ باقی تین سی ڈی پلیئر پر پشتو کا مجرا دیکھنے میں محو تھے ۔میری آواز سے سوائے لڑکے کے ساتھ گھناﺅنی حالت میں موجود آدمی کے باقی تمام سن ہو گئے تھے ۔وہ ابھی تک اپنی حرکت پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔اس کی مشکل گلاک کی مزل سے نکلنے والی بے رحم اور صورت حال ناآشنا گولی نے آسان کر دی تھی ۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اس کے اندر پلنے والے حیوانی جوش کو پر اذیت تھرتھراہٹ میں تبدیل کر دیا تھا ۔
اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی ان میں سے دو نے اٹھ کر دوسری چارپائی پر پڑی کلاشن کوفوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کی ۔یقینا حرکت میں برکت ہوتی ہے مگر ان کی حرکت کسی بھاری گاڑی کے پہیے کے نیچے سر دینے کے مشابہ تھی اور لازماََ ایسی حرکت برکت کے بہ جائے حسرت کا باعث بنتی ہے دونوں کی کوشش میں گلاک کی گولیاں یوں رخنہ انداز ہوئی تھیں جیسے بارش کی راہ میں چھتری ، دونوں اپنے ساتھی کی نقل اتارنے لگے ۔چوتھے آدمی نے فوراََ اپنے ہاتھ سر سے بلند کر لیے تھے ،جبکہ نوعمر لڑکا زور زور سے رونے لگ گیا تھا ۔
”چپ ۔“میں نے اس کی جانب دیکھے بغیر اسے ڈانٹا ۔”جلدی سے کپڑے پہنو ۔“
وہ لرزتا ہوا اپنے لباس کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
”حالات قابو ہیں باہر ہی رہو ۔“پلوشہ تک اپنی خیریت پہنچا کر میں آگے بڑھ کر ماہرانہ انداز میں چوتھے آدمی کی تلاشی لینے لگا ۔مگر اس کی جیبوں میں کوئی قابل ذکر چیز موجود نہیں تھی ۔اس کی قمیص اتار کر میں اسی سے اس کے ہاتھ پشت کی طرف کر کے باندھ دیئے ۔
ایل ای ڈی کی سکرین پر پشتو کے بھڑکیلے گیت پر چست شلوار قمیص میں ملبوس ایک رقاصہ جسم کو یوں توڑ موڑ رہی تھی جیسے اسے تشنج کے دورے پڑ رہے ہوں ۔جتنے واہیات اس گانے کے بول تھے ، اس سے کئی گنا واہیات اس لڑکی کا رقص تھا ۔
”پہ لار رازی پکار نہ رازی سہ ور سرا اوکو....یو کال کیگی کہ یار نہ رازی سہ ور سرا اوکو۔“
(راستے پر تو ملتا ہے مگر کسی کام نہیں آتا اب اس کے ساتھ کیا کریں ۔اور ایک سال ہو گیا ہے کہ یار میرے پاس نہیں آرہا اس کے ساتھ کیا کریں )
میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ سی ڈی پلیئر یا ایل ای ڈی کو آف کرتا پھرتا ۔میرے قیمتی وقت کو بچانے کے لیے گلاک کی گولی کام آئی تھی ۔ایل ای ڈی سکرین اور سی ڈی پلیئر پر ایک ایک گولی ضائع کر کے میں لڑکے کی طرف متوجہ ہوا جو باقاعدہ لرز رہا تھا ۔
اسے بازو سے پکڑ کر میں نے کمرے کے دروازے کی طرف دھکیلا ۔”پلو خان !....اسے ساتھ والے کمرے میں بند کر دو ۔“
”پلوشہ نے فوراََ اندر جھانک کر دیکھا مگر اس انداز میں بھی اس کا سر کسی پنڈولم کی طرح ہلتے ہوئے باہر کا بھی جائزہ لے رہا تھا ۔لڑکے کو بازو سے پکڑ کربغیر کوئی سوال کیے اس نے باہر کھینچ لیا ۔
”کمرے میں ہتھیار وغیرہ کی غیر موجودی کو یقینی بنا لینا ۔“یہ جانتے ہوئے بھی کہ پلوشہ کوئی بے احتیاطی نہیں کر سکتی تھی میں نے مشورہ دینے میں بخل سے کام نہیں لیا تھا ۔
”تم اچھا نہیں کر رہے ایس ایس !“وہ یقینا مجھے جانتاتھا،رہی سہی کسر پلوشہ کے نام نے پوری کر دی تھی ۔صنوبر خان کے آدمیوں کے لیے پلو خان، نام اجنبی نہیں تھا ۔یوں بھی پلوشہ خان وزیر اور ایس ایس کی داستان محبت کافی لوگوں تک پہنچ چکی تھی ۔اس میں زیادہ کردار قبیل خان اور جہانداد خان کی ہلاکت کاتھا ۔علاقے کے دو سرکردہ سردار وں کا ایک عام سی لڑکی اور لڑکے کے ہاتھوں قتل ہونا بہت بڑی بات تھی ۔
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔”ہاں،تمھارے جیسے ننگ انسانیت سے زمین کا صفایا کرنا یقینا اچھا نہیں بہت اچھا کام ہے۔“
”تمھارے ساتھ ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے ۔“
میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا ۔”مگر میری تو ہے ۔“
”وجہ ؟“
”تم میرے وطن کے دشمن ہو اور میرے لیے یہ وجہ کافی سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔“
”سردارصنوبر خان اس بار تمھیں معاف نہیں کرے گا ۔“اس نے دبے لفظوں میں دھمکیاں دینا جاری رکھا ۔اس مرتبہ میرا ہاتھ گھوما ،وہ الٹ کر پیچھے کو گر گیا تھا۔
میں نے اسے سر کے بالوں سے پکڑ کر سیدھا بٹھایا۔”میں تمھاری دھمکیاں سننے نہیں آیا ،اس لیے جو پوچھتا ہوں آرام سے اس کا جواب دیتے رہو ۔“
وہ کوئی لفظ منھ سے نکالے بغیر کینہ توز نظروں سے مجھے گھورنے لگا ۔
”تمھارا نام ؟“
وہ آہستہ سے بولا۔”شاہجہان۔“
” باقی لوگ کہاں دفع ہو گئے ہیں ۔“میں نے جانتے بوجھتے ایسا سوال پوچھا تھا جس کی بابت مجھے معلوم تھا ۔
”تھوڑی دیر ہوئی نکلے ہیں ،بس آتے ہی ہوں گے ۔“اس نے صفائی سے جھوٹ بولا ۔
اور میں اس کے جھوٹ بولنے ہی کا تو منظر تھا ۔اگلے سوال سے پہلے میں نے چارپائی پر پڑی کلاشن کوف کی سلنگ نکال کر اس کی ننگی پیٹھ پر چابک کی طرح تواتر سے برسانے لگا ۔
”اس نے سختی سے ہونٹ بھینچ لیے تھے ،مگر زیادہ دیر وہ ان ضربات کو برداشت نہ کر سکا اور جلد ہی کراہنے پر مجبور ہو گیا ۔اس کی پیٹھ پر سرخ لکیریں پڑ گئی تھیں ،کسی کسی جگہ سے خون بھی رسنے لگا تھا ۔
”یقینا ،اب جھوٹ نہیں بولو گے ،اس کی کراہیں جب چیخنے میں تبدیل ہونے لگیں تو ہاتھ روک کر میں دوبارہ اسے مخاطب ہوا ۔
”تم زیادتی کر رہے۔“اس نے کراہتے ہو زبان کھولی ۔
میں مسکرایا۔”جھوٹے جواب پر اتنی زیادتی تو روا ہوتی ہے نا میری جان ۔باقی جواب دیتے ہوئے یہ دھیان میں رہے کہ ،کچھ سوالات کے جواب مجھے معلوم ہیں اور ایسے سوالات کا مقصد تمھاری سچائی کو جانچنا ہے ۔یہ آخری وارننگ تھی ،اس کے بعد تمھارا جھوٹ زندگی کا آخری جھوٹ ثابت ہو گا۔“
اس نے بے بسی سے ہونٹوں پر زبان پھیری اور سر جھکا لیا ۔
میں نے اپنا سوال دہرایا۔”تو باقی لوگ کہاں گئے ہیں ؟“
”انگور اڈے والی حویلی میں آج سردار صنوبر خان ایک بہت بڑی پارٹی دے رہے ہیں ، جہاں ان کے حلیف سردار بھی آئیں گے ۔چند غیر ملکی مہمان بھی ہیں ۔“اس مرتبہ اس نے سچ بتاتے ہوئے تفصیلی جواب دیا ۔
”شاباش ....اب ذرا یہ بتاﺅ ،ساتھ والی حویلی میں کتنے محافظ موجود ہیں ؟“
”ایک بھی موجود نہیں ہے ۔“
”گھر میں کتنے مرد ہوں گے ۔“
” کوئی مردموجود نہیں ہے ،عورتیں اور بچے ہیں ۔“
”ہونہہ !....“ایک گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا ۔اس دوران پلوشہ بھی اندر آکر خاموشی سے بیٹھ گئی تھی ۔میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا ....
وہ جلدی سے بولی ۔”تمام بیٹھک چھان لی ہے ، کوئی بھی موجود نہیں ہے ۔“
میں دوبارہ شاہجہان سے سوالات کرنے لگا ۔سوالات کے اختتام پر میں نے پلوشہ کی جانب دیکھا ۔گویا اس کا کوئی سوال تھا تو وہ کر سکتی تھی ۔
وہ زہر خند لہجے میں مستفسر ہوئی ۔”شاہ جہان !یاد ہے میرے معصوم بھائی کے بارے غلاظت اگلتے وقت صنوبر خان نے تمھاری طرف اشارہ کر کے کہا تھا کہ اس کے پاس ایسے آدمی موجود ہیں جو کم سن لڑکوں کا شوق رکھتے ہیں ۔“
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔”وہ ....وہ ....تو سردار نے تمھیں ڈرانے کی غرض سے کہا تھا ۔“
”اور تم نے کہا تھا کہ میرے بھائی کے بعد میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرو گے ۔“پلوشہ کے اطمینان بھرے لہجے میں کوئی ایسی دھمکی پوشیدہ تھی کہ وہ تھرتھر کانپنے لگا تھا ۔
”مم....میں ....میں ....“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پلوشہ نے گلاک سیدھا کرتے ہوئے اس کی چھاتی میں گولی اتار تے ہوئے کہا ۔”بکواس بند کروکنجر۔“یقینا وہ مزید وقت ضائع کرنے کے حق میں نہیں تھی ۔
”چلیں ۔“شاہجہان کا پھڑکنارکتے ہی میں نے اسے متوجہ کیا ۔
”ہوں چلنا ہی پڑے گا ،ایل ای ڈی آپ نے یوں بھی توڑ دی ہے ،ورنہ جو گانا لگا تھا اس پر میں بہت اچھا رقص پیش کر سکتی تھی ۔“
”اور میں نے منع جو کیا تھا ۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا۔
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”آپ نے مردوں میں ناچنے سے منع کیا تھا ....آپ اکیلے کے سامنے تو کوئی قباحت نہیں ہے نا ۔“
”بے شرم ۔“میرے ہونٹوں پر بھی ہنسی نمودار ہو گئی تھی ۔
”اچھا ایک خوشی کی بات بتاﺅں ۔“اس نے مسرت بھرے لہجے میں پوچھا ۔
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”خوشی کی بات چھپانی تو نہیں چاہیے ۔“
”میری سوکن بھی یہیں موجود ہے ۔“
”سوکن ....؟“میں نے حیرانی بھری نظروں سے اسے گھورا ۔
وہ وضاحت کرتے ہوئے مسکرائی ۔”بیرٹ ایم 107۔“اسے بھی میں نے استاد محترم راﺅتصورو کا مقولہ میںنے سنایا تھا اور وہ اسے بھولا نہیں تھا ۔
”کہاں ہے ؟“میں بے صبری سے مستفسر ہوا ۔
”آئیں ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر جنوبی طرف بنے خواص کے کمروں کی طرف بڑھ گئی ۔وہیں ایک کمرے میں بیریٹ ایم 107مکمل سامان کے ساتھ موجود تھی ۔اس کے ساتھ ساٹھ کے قریب فالتو گولیاں بھی موجود تھیں ۔
وہ قیمتی رائفل دیکھتے ہی خوشی سے میری باچھیں کھل گئی تھیں ۔میں محبت بھرے انداز میں رائفل کی باڈی پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔
”راجو !....مجھے جلن محسوس ہو رہی ہے ۔“میری محویت میں پلوشہ کی آواز نے خلل ڈالا تھا ۔
میں فوراََ اس کی طرف مڑا ۔”چندا !....جانتی ہو سانس لینے کے بعد میرے لیے سب سے اہم کام تمھیں چاہنا ہے ۔“
”تو پھر رائفل کے ساتھ یوں چاہت سے تو پیش نہ آﺅ نا۔“وہ شکوہ کناں ہوئی ۔”مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ میرے علاوہ آپ کسی سے اس چاہت سے پیش آئیں چاہے وہ بے جان رائفل ہی کیوں نہ ہو ۔“
”پاگل ۔“مجھے سچ مچ ہنسی آ گئی تھی ۔
”اچھا ایک اور بات ،یہاں تہہ خانہ بھی موجود ہے جس میں کافی ہتھیار اور گولہ بارود موجود ہیں۔“
”اوہ ....“جوش بھرے انداز میں میں اسکی معیت میں تہہ خانے کی طرف بڑھ گیا ۔تہہ خانے کا دروازہ ساتھ والے کمرے میں موجود تھا ۔تہہ خانہ دو کمروں پر مشتمل تھا ۔دونوں کمروں کی لمبائی چوڑائی پندرہ سولہ فٹ کے قریب ہو گی ۔وہ دونوں کمرے عین ان خاص کمروں کے نیچے بنے تھے ۔ایک کمرے میں لکڑی کے بکسوں میں نئی کلاشن کوفیں، روگر ایم پی نائن سیمی آٹو میٹک (Ruger mp 9) پسٹل ،راکٹ لانچراور سنائپر رائفل ڈریگنوو بھری ہوئی تھیں ۔کلاشن کوفوں کی تعداد زیادہ تھی ۔کمرے کی دیواروں کے ساتھ ان ہتھیاروں کے ایمونیشن کی بھری ہو ئی پیٹیاں رکھی ہوئی تھیں ،جبکہ دوسرے کمرے میں بارود کی تھیلیاں ،مختلف قسم کے سوئچ، سیفٹی فیوزاور ڈیٹو نیٹر وغیرہ پڑے ہوئے تھے ۔اس کے ساتھ مختلف قسم کے بارودی پھندے ، ٹائم بم اورٹینک شکن بارودی سرنگیں بھی پڑی دکھائی دیں ۔
(قارئیں کی تفریح طبع کے لیے بارود کے بارے چند ضروری باتیں لکھتا جاﺅں ،کہ عمومی طور پر لکھاری حضرات بارود وغیرہ کے بارے بہت سطحی معلومات رکھتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لکھاریوں کی اکثریت وہ ہے جنھیں میں ڈرائینگ روم کے لکھاری کہا کرتا ہوں ۔عملی زندگی میں ان بے چاروں نے اصلی پستول تک کی شکل نہیں دیکھی ہوتی ۔اس ضمن میں بتاتا چلوں کہ پچھلے دنوں ایک محترم مصنف کی تحریر نظر سے گزری جس میں موصوف کا ہیروایک عمارت میں کچھ خطرناک دشمنوں سے نبرد آزما ہوتا ہے ،وہاں دشمنوں کے پاس کچھ فالتو ہتھیار اور ایمونیشن کا ذخیرہ بھی موجود ہوتا ہے ،ایمونیشن کے ذخیرے میں غلطی سے گولی لگتی ہے اور اتنا بڑا دھماکا ہوتا ہے کہ ساری عمارت بھک سے اڑ جاتی ہے جبکہ ہیرو صاحب اس دھماکے کی شدت سے اڑتے ہوئے عمارت سے باہر جانے والی کسی ٹرالی میں جا گرتے ہیں اور اسے خراش تک نہیں آتی ،جبکہ باقی کی عمارت اور اس میں موجود لوگوں کا نام و نشان بھی نہیں بچتا ۔کسی کرم فرما کی فرمائش پر میں نے وہ چند صفحات پڑھے یقین مانیں وہ سطور پڑھ کرمیری سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ ہنسوں یا روﺅں .... سب کے مرنے کے باوجو د ہیرو میاں کیسے بچے یہ تو ایک علاحدہ موضوع ہے ،میرا مسئلہ تو یہ ہے کہ آیا ایمونیشن کے ذخیرے میں گولی لگنے سے اس طرح دھماکا ہو سکتا ہے ۔یہ بات اتنی ہی بعید از قیاس ہے کہ جتنی پانی کو آگ لگنا۔کیوں کہ بارود کا ذخیرہ بھی اس طرح گولی لگنے سے ایک دم دھماکے سے نہیں پھٹتا ،جبکہ فاضل مصنف نے ہتھیاروں کے ایمونیشن کو یوں دھماکے سے پھٹا یا جیسے کوئی تیار شدہ ڈیمولیشن سیٹ یا آئی ای ڈی ہو ۔یقینا محترم نے کسی انگلش فلم کا سین دیکھ کر یہ منظر تراشی کی ہو گی ۔بہ ہرحال حقیقت سے اس کا دور دور تک کا واسطہ نہیں ۔حالا نکہ کسی بھی جگہ اگر کوئی ایسا ایمونیشن پڑا ہو جیسے کہ راکٹ لانچر یا مارٹر وغیرہ کا ایمونشن اور اسے آگ وغیرہ لگ جائے یا فاضل مصنف کے بہ قول گولی وغیرہ لگنے ہی سے وہ پھٹنا شروع ہو جائے تو یقینی طور پر ہر راکٹ یا گولہ علاحدہ علاحدہ اور وقفے وقفے سے پھٹے گا ۔باقی عام رائفل کی گولیاں دھماکا وغیرہ نہیں کریں گی ۔بس خود پھٹ کر ناکارہ ہو جائیں گی ۔ان کے پھٹنے کی آواز تو پھلجڑیاں چلنے کی طر ح آئے گی لیکن رائفل ،کلاشن کوف وغیرہ کی گولیاں اس طرح پھٹ کر کسی کمرے وغیرہ کو نہیں اڑا سکتیں ۔بہ ہر حال یہ ایک ضمنی بات تھی میں بارود کے بارے چند باتیں عرض کرنا چاہتا تھا ،اگر بارود کی اقسام کی بات کی جائے تو بارود کی دو بڑی اقسام ہیں ، ایک لو ایکسپلوزیواور دوسرا ہائی ایکسپلوزیو۔ لو ایکسپلوزیو رائفل وغیرہ کی گولیوں میں استعمال ہوتا ہے اور ہائی ایکسپلوزیوکسی بھی چیز یا جگہ کو تبارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔پھر خود ہائی ایکسپلوزیو کی مختلف اقسام ہیں ،کوئی مائع کی شکل میں ہوتا ہے،کوئی ٹھوس اور کوئی پاﺅڈر وغیرہ کی شکل میں تھیلیوں میں بند ملتا ہے ۔ اس کو پھٹانے کے لیے بھی ایک مخصوص قسم کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے ۔جس میں ،ڈیٹونیٹر ،پرائمر،سیفٹی فیوزوغیرہ کا استعمال ہوتا ہے ۔اسی طرح ہائی ایکسپلوزیو بارود کو شیطانی پھندوں میں بھی لگا کر استعمال کیا جاتا ہے جن میں کچھ پھندے ایسے ہوتے ہیں جو کھینچنے پر چال کرتے ہیں جنھیں دروازوں اور کھڑکیوں وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے ،کچھ پھندے وزن پڑنے پر چال کرتے ہیں جیسے بارودی سرنگیں ،کچھ وزن ہٹنے پر چال کرتے ہیں ،ایسے پھندے عام استعمال کی ایسی چیزوں کے نیچے رکھ کر استعمال کیے جاتے ہیں جنھیں عام روزمرہ میں لوگ دائیں بائیں کرتے رہتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو مخصوص وقت پر چال کرتے ہیں جنھیں ٹائم بم کہا جاتا ہے۔ بہ ہرحال یہاں میں اجمالاََ بارود کے بارے چند باتیں ذکر کی ہیں ورنہ یہ ایک بہت بڑا موضوع اور مستقل علم ہے ہے جس پر سیکڑوں ہزاروں صفحات بھی کم پڑ جائیں گے )
”میرا خیال ہے دونوں عمارتوں کو تباہ کرنے کے لیے یہ بارود کافی ہے ۔“بارود کے ذخیرے کو اچھی طرح دیکھتے ہی میں نے اعلان کیا ۔
”اس سے بہتر کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی ۔“پلوشہ نے خوشی کا اظہار کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”ٹھیک ہے میں دھماکے کے لیے بارودتیار کرتا ہوں تم گیراج میں کھڑی گاڑی کی چابیاں ڈھونڈ کر گاڑی کو ان کمروں کے سامنے کے آﺅ ۔“
وہ سرہلاتی ہوئی سیڑھیوں کی طرف چل پڑی جبکہ میں ڈیمولیشن سیٹ تیار کرنے لگا ۔
وہ کافی وقت لگا کر لوٹی تھی ۔اس کی واپسی تک تمام ضروری کارروائیاں کر کے میں نے سارے بارود کو ٹائم بم کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ٹائم بم پر میں نے وقت سیٹ نہیں کیا تھا ۔
”کافی دیر لگا دی ۔“اس کے واپس آتے ہی میں نے پوچھا ۔
”چابی نہیں مل رہی تھی ۔“
”چلو ایمونیشن اور ہتھیار گاڑی میں رکھتے ہیں ۔تاکہ اتنا قیمتی اسلحہ انھی کے خلاف استعمال ہو۔“
وہ کہنے لگی ۔”جانتی ہوں،آپ نے اسی لیے تو گاڑی کو ان کمروں کے سامنے منگوایا ہے ۔“
ہم دونوں ہتھیاراور ایمونیشن کی پٹیاں سنگل کیبن کی باڈی رکھنے لگے ۔ہمارا مزید آدھا گھنٹا اسی میں لگ گیا تھا ۔اسی اثناءمیں وہ لڑکا دروازے کو کھٹکھٹاتے ہوئے آوازیں دینے لگا ۔شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ ہم وہاں سے رخصت ہو گئے ہیں ۔
میں نے قریب جا کر اسے سختی سے ڈانٹا اور چپ رہنے کو کہا ۔وہ سہم کر دوبارہ خاموش ہو گیا تھا۔
”اب کیا کریں ؟“بیٹھک کے دوسرے کمروں میں موجود ہتھیار بھی گاڑی کی باڈی میں منتقل کر کے پلوشہ مستفسر ہوئی ۔
”تم قبیل خان کی عورتوں سے انتقام وغیرہ کا سوچے ہوئے تھیں ۔“میں نے اسے وہاں آتے وقت کی بات یاد دلائی ۔
”دفع کرو ....اس خبیث اور بے غیرت کے افعال میں ان بے چاریوں کا کیا قصور ۔“
”مگر ان سے گھر تو خالی کرانا پڑے گا ۔یہاں ہونے والے دھماکے سے یقینا اس عمارت کو بھی کافی نقصان پہنچے گا ....بلکہ میرا خیال ہے وہ بھی ملبے کا ڈھیر بنے گی ۔“
”راجو !....کہیں اس دھماکے سے دائیں بائیں موجود عمارتوں کو نقصان نہ پہنچے ،یا دھماکے کی وجہ سے جو پتھر وغیرہ اڑیں گے ان کی زد میںکوئی بے گناہ نہ آ جائے ۔“
” تم اتنی سمجھ دار پہلے تو نہیں تھیں ۔“اس کے ساتھ متفق ہوتے ہوئے بھی میں اس پر طنز کرنے سے باز نہیں آیا تھا ۔
وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔”اگر سمجھ دار ہوتی تو آپ سے شادی کرتی ۔“
میں دوبارہ تہہ خانے کا رخ کرتے ہوئے بولا ۔”پگلی ،یہی ایک کام تو تم نے سمجھ دار ی والا کیا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“کھل کھلا کر ہنستے ہوئے اس نے میرے ساتھ قدم بڑھادیے ۔سیڑھیاں اتر کر میں نے آپس میں باندھی ہوئی بارود کی تھیلیوں کو کھول کر وہ پاﺅڈرتہہ خانے میں بکھیرنے لگا ۔وہاں موجود ڈیٹونیٹر ،پرائمر اور دوسرا ہلکا پھلکا سامان میں نے پلوشہ کو گاڑی میں رکھنے کا کہا ۔سیفٹی فیوز جو کیبل کی طرح ہوتا ہے اسے کھول کر میں نے ایک سرا تہہ خانے میں موجود لکڑی کی پیٹی سے باندھا اور باقی کو کھول کر اوپر تک لے گیا۔ وہاں سے جاتے وقت میں اسے آگ لگانا چاہتا تھا تاکہ وہ تہہ خانے میں بکھرے تمام بارود کو ضائع کر دے ۔ڈیٹونیٹر کے بغیر وہ باردو دھماکا نہیں کر سکتا تھا ۔بس جل کر ضائع ہو جاتا ۔
باہرجا کر سب سے پہلے تو اس لڑکے کو کمرے سے نکال کر دو تین تھپڑ لگائے اور وہاں سے بھاگ جانے کا کہا۔اس کے بھاگ جاتے ہی میں نے پلوشہ کو داخلی دروازہ کھولنے کا کہا اور خود سیٹی فیوز کو آگ لگا کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔سیٹی فیوزکی لمبائی پینتیس چالیس فٹ تھی ۔سیفٹی فیوز ایک منٹ میں دو فٹ کے قریب جلتا ہے ۔اس طرح بیس منٹ کے بعد ہی آگ تہہ خانے تک پہنچ پاتی ۔
گاڑی کے دروازے سے باہر جاتے ہی ،پلوشہ نے دروازہ باہر ہی سے کنڈی کر کے میرے ساتھ آ بیٹھی ۔اگر گاڑی کو میں وہاں سے اپنے ٹھکانے پر لے جاتا تو خطرہ تھا کہ صنوبر خان کے کسی ہمدرد وغیرہ کی نظر پڑ سکتی تھی یا یونھی برسبیل تذکرہ ہی کوئی اس کا ذکر صنوبر خان یا اس کے کسی آدمی سے کر سکتا تھا، اس لیے میں انگور اڈے والی سڑک پر آگے نکلتا گیا ۔گاﺅں سے باہر آتے ہی میں دائیں بائیں احتیاط سے جائزہ لیتے ہوئے گاڑی نالے میں اتار دی ۔
اسی بڑے نالے میں چلتے ہوئے تھوڑا سا آگے جا کر میں نے گاڑی ایک ذیلی نالے میں موڑی ۔یہ وہی نالہ تھا جس جگہ سردار خان اور میں نے قبیل خان کے سالے خائستہ گل کو اپنے انجام تک پہنچایا تھا ۔
گاڑی گھنی جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں چھپا کر ہم باہر نکل آئے ۔پلوشہ نے وہاں سے روگر ایم پی نائن سیمی آٹو میٹک (Ruger mp 9) پسٹل اور ان کی سو ڈیڑھ سو کے قریب گولیاں اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی تھیں ۔میں نے بس بیرٹ ایم107کو ساتھ لینا پسند کیا تھا ۔اسی نالے نالے میں چلتے ہوئے ہم علام خیل کے شمالی جانب جا کر گاﺅں میں داخل ہوئے سہ پہر ڈھلے ہی ہم کمانڈر عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک میں پہنچ سکے تھے ۔جاتے ساتھ میں نے قاری غلام محمد کو حویلی پر حملے کی اجمالی تفصیل بتا کر اسے اسلحہ چھپانے والی جگہ کے بارے بتا دیا ۔خوشی سے اس کا چہرہ چمکنے لگا تھا ۔
”جزاک اللہ بیٹا !....باقی ہم سنبھال لیں گے ۔“اور میں سرہلاتا ہوا وہاں سے نکل آیا ۔
پلوشہ تکیے کے ساتھ کمر ٹیکے پشتو کا گوئی گیت گنگنا رہی تھی ۔میں اس کی گود میں سر کر لیٹ گیا۔ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے آہستہ آواز میں گنگناتی رہی ۔اس کی آواز کسی خوب صورت لوری سے کئی گنا بڑھ کر تھی ۔میری آنکھیں بند ہونے لگیں میں گیت کے بولوں میں کھویا ہوا نیند کی خوب صورت وادیوں میں اترتا چلا گیا جہاں پلوشہ اسی طرح گنگناتے ہوئے میرے ساتھ تھی ۔
”تل مے خیالونو کی اوسیگی پما گران دے ....دا پور کلے مے دا جانان دے۔“(وہ ہمیشہ میرے خیالوں میں بسا رہتا ہے اور مجھے بہت پیارا ہے ....اورمیرا محبوب دوسرے گاﺅں میں رہتا ہے )
٭٭٭
اگلے دن علام خیل میں کافی ہل چل مچی ہوئی تھی ۔صنوبر خان بالکل پاگل ہوا تھا ۔اپنے چار آدمیوں کی موت اسلحے اور بارود کا نقصان اسے اتنی جلدی ہضم نہیں ہو سکتا تھا ۔قاری غلام محمد نے ان کی گاڑی سے اسلحہ لینے کے لیے بہت اعتماد والے بندے روانہ کیے تھے ۔کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ مجاہدین میں بھی صنوبر خان کا کوئی آدمی چھپا ہوا ہو سکتا ہے ۔گو ایسا آدمی ہماری مخبری بھی کر سکتا تھا ۔مگر ہماری وہاں موجودی سے مجاہدین کے صنوبر خان سے ہونے والے معاہدے پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا تھا ۔وہ اسلحہ اٹھا کر قاری غلام محمد کے آدمی سیدھا انگور اڈے میں موجود اپنے کیمپ میں لے گئے تھے ۔ان ہتھیاروں اور ایمونشن کو عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک میں رکھنا بالکل بھی مناسب نہیں تھا ۔یہاں پر شاید کوئی یہ سوچے کہ مجاہدین معاہدے کے خلاف یہ کام رہے تھے تو ایسا سوچنا ٹھیک نہیں ہے ،کیونکہ یہ سب کارروائی میں نے اور پلوشہ نے کی تھی اور ان کا اسلحہ لوٹ لینے کے بعد ہم اپنی طرف سے مجاہدین کے حوالے کر رہے تھے ۔ البتہ اگر اس کام میں مجاہدین ہماری مدد کرتے تب وہ معاہدہ توڑنے والے بنتے ۔
ہم نے پورا دن کمرے میں بند رہ کر ہی گزارا تھا ۔میں نے خود بھی تمام نمازیں کمرے میں ادا کی تھیں ۔میری وہاں موجودی کے بارے اب صرف قاری غلام محمد یا اس کا وہ بھروسے والا آدمی جانتا تھا جو ہمارے لیے کھانا لاتا تھا ۔دن کا کھانا وہ عین اس وقت لایا تھا جب لوگ ظہر کی نماز کے لیے مسجد میں چلے گئے تھے اور رات کا کھانا وہ ٹھیک عشاءکی نماز کے وقت لایا تھا ۔پورا دن بے کار کمرے میں پڑے ہم مستقبل کے منصوبے بناتے رہے اور جب تھک گئے تو پلوشہ مجھے گود میں سلا کر اپنی سریلی آواز میں پشتو کے گیت سناتی رہی ۔اس کی آواز اتنی بلند نہیں تھی کہ کمرے سے باہر جا سکتی ۔
اگلے تین چار دن ہم نے وہیں گزارنے تھے ۔ کہ اس تازہ واقعے کے بعد صنوبر خان اور اس کے آدمی یقینا چوکنا ہوتے ۔اتنا اندازہ تو مجھے بھی تھا کہ صنوبر خان تک یہ بات پہنچ گئی ہو گی کہ اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔اور کوئی نہیں تو وہاں موجود جس لڑکے کو ہم نے زندہ جانے دیا تھا اس نے ضرور اس تک یہ خبر پہنچا دی ہو گی ۔کیوں کہ ایسے لڑکوں کی صنوبر خان کی بیٹھک میں آمدورفت رہتی تھی ۔
میرا ارادہ اب صنوبر خان کے کانٹے کو نکالنے کا تھا اس کے جانشینوں میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اس کی جگہ سنبھال سکتا ۔گو اس کے کمانڈروں میں چند ایسے آدمی موجود تھے جو دہشت گردانہ کاروائیوں کو جاری رکھ سکتے ،مگران میں کوئی بھی صنوبر خان یا اس کے ہلاک ہونے والے سوتیلے بھائی،قبیل خان جیسا نہیں تھا ۔البتہ یہ ممکن تھا کہ کسی دوسرے گاﺅں کا سردار ان کارروائیوں کی سرپرستی کرنے لگتا۔ یوں بھی کئی سردار اس کے حلیف تھے ۔اسی طرح دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی چند اس کے ساتھ ملے ہوئے تھے ۔البتہ کچھ اس کے دوست تو تھے مگر وہ پاک آرمی یا وطن دشمنی میں ملوث نہیں تھے وہ بس اسلحے اور نشہ آور اشیاءکی سمگلنگ کرتے تھے ۔
صنوبر خان کو ٹھکانے لگانے کے بعد میرا ارادہ پلوشہ کو گاﺅں چھوڑ کر آنے کا تھا کیوں کہ میں اسے مزید ان خطرناک کارروائیوں میں ساتھ نہیں رکھ سکتا تھا ۔پاک آرمی کا سپاہی ہونے کے ناتے میری ذمہ داری تو یہ بنتی تھی کہ میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتا ،میرے گھر والی کسی بھی حساب سے ان کارروائیوں کا حصہ بننے کی مجاز نہیں تھی ۔ اس کا میرے ساتھ موجود ہونا مجھے جتنا بھی خوش کرنے والا ہوتا ، لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اس کی وجہ سے میرا دل ہر وقت مختلف قسم کے اندیشوں سے لرزتا رہتا ۔ وہ تربیت یافتہ ،حوصلہ مند ،بہادر اور دلیر لڑکی جو دشمنوں کو ناکوں چنے چبانے کی صلاحیت رکھتی تھی وہ مجھے کانچ کی گڑیا لگتی جس نے ہلکی سی ٹھوکر سے بکھر جانا ہو ۔میرا دل چاہتا بس وہ ،ہار سنگھار کیے ،زنانہ لباس پہن کر میری آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتی رہے ۔اس کے پاﺅں میں زمین پر بھی نہ لگنے دوں اسے جہاں جانا ہو اپنے بازﺅں میں بھرکر لے جاﺅں ۔زمانے کے ہر سرد وگرم سے اسے محفوظ رکھوں ،اسے بس میری ہی آنکھیں دیکھ سکیں اور ہر وہ آسائش جس کے بارے بس گمان کی جا سکتا ہو اس کے قدموں میں ڈھیر کردوں ،ہر وہ آرام جو انسانی طاقت کے بس میں اسے پہنچاﺅں ،ہر وہ عیش جس کے لیے دنیا میں ترسا جاتا ہے اس کا نصیب کردوں ۔مجھے یہ بات بھی اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ بھی میرے بارے ایسے ہی خیالات رکھتی تھی۔ ایک سخت جان سنائپر اس کی نظر میں موم کا راجا تھا جس نے حالات کی تیز آنچ سے پگھل جانا تھا ۔ اسی وجہ سے وہ مجھ سے دور جانے پر خود کو آمادہ نہیں کر پا رہی تھی ۔
٭٭٭
رات کافی گزر گئی تھی ۔باتیں کرتے کرتے پلوشہ کی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔
”میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور دروازہ کھولنے کو بڑھا۔پلوشہ فوراََ رضائی میں گھس گئی تھی ۔اسے معلوم تھا کہ میں اس کے مردوں کے سامنے آنے کا بہت برا مناتا ہوں اور وہ میرے جذبات کا احترام کرنا جانتی تھی ۔مجھے ناراض کرنے کے بارے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
دروازہ کھولنے پر مجھے قاری غلام محمد کی شکل نظر آئی ۔میں نے حیران ہوتے ہوئے انھیں اندر آنے کا رستا دیا ۔
اندر آکر دروازہ بھیڑتے ہوئے وہ کہنے لگا ۔
”اس وقت زحمت دینے پر معذرت خواہ ہوں ۔“
میں احترام سے بولا ۔”حکم کریں قاری صاحب !“
”محترم بات یہ ہے کہ صنوبر خان اپنے آدمیوں کی ہلاکت اور اسلحے کے نقصان پر بالکل باولا ہوا ہے ۔اس تک یہ خبر بھی پہنچ گئی ہے کہ ایسا کرنے والے آپ دونوں ہیں ۔آپ دونوں کی تلاش میں وہ پاگلوں کی طرح بھاگتا پھر رہا ہے ۔اور اتنا تو آپ جانتے ہوں گے کہ غدار ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔ کوئی پیسے پر بک جاتے ہیں تو کوئی کسی اور لالچ میں اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں ....اسی وجہ سے میں نے اسلحہ اٹھانے کے لیے نہایت اعتماد والے آدمی روانہ کیے تھے ۔اسی طرح میری یہ کوشش بھی تھی کہ آپ دونوں کی دوبارہ آمد کی خبر کسی تک نہ پہنچے ۔ہو سکتا میں اس کام میں کامیاب نہ ہو سکا ہوں تو یقینا صنوبر خان تک آپ دونوں کی یہاں موجودی خبر پہنچ جائے گی ۔وہ فوراََ ہم مطالبہ کرے گا کہ آپ دونوں کو اس کے حوالے کیا جائے ۔یا یہ کہ آپ لوگوں یہاں سے نکال دیا جائے ۔اور اس صورت میں اس کے آدمی اس جگہ کو بھی گھیر لیں گے ۔“
میں نے فوراََ اس کا مطمح نظر سمجھتے ہوئے کہا ۔”گویا آپ چاہتے ہیں ہم یہاں سے چلے جائیں۔“
”نہیں ....“اس نے نفی میں سرہلایا۔”میں اس وقت آپ لوگوں کو یہاں سے بھاگنے کا رستا دکھانے آیا ہوں کہ بالفرض ایسا ہو جائے تو آپ لوگ کیسے بچ کر نکل سکتے ہیں ۔“
”میرا خیال ہے ہمیں علام خیل سے نکلنے کے تمام رستوں کا علم ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”یقینا ہوگا۔مگر میں آپ کو علام خیل نہیں، یہاں سے نکلنے کا رستا بتانے آیا ہوں ۔“
”یہاں سے ۔“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
وہ مسکرایا۔”جی محترم یہاں سے ۔آپ لوگ جس کمرے میں رہ رہے ہو یہ عام کمرہ نہیں ہے۔ یہ مجاہدین کے چند بڑے کمانڈروں کے لیے مخصوص ہے ۔اور آپ یہاں پلوشہ بیٹی کی وجہ سے ٹھہرایا ہے کہ لڑکی ذات کی بے پردگی نہ ہو اور اسے غسل خانہ یا بیت الخلاءوغیرہ کے استعمال کے لیے غیر مردوں کے سامنے نہ آنا پڑے۔“
”ممنون و شکر گزار ہوں ۔“
”میں بھی ۔“پلوشہ نے رضائی سے منہ نکالے بغیر کہا ۔مجھے اس کے انداز پر ہنسی آگئی تھی ۔
”اب اس بات سے یہ نہ سمجھ لینا کہ ایس ایس کی مجاہدین کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ۔حقیقت تویہ ہے کہ لوگ آپ کو بہت چاہتے ہیں ،جس طرح آپ نے ان دہشت گرد سرداروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے یقین مانو دل خوش ہوجاتا ہے آپ کے کارنامے دیکھ کر ۔“
”قاری صاحب !....اصل تعریف کے حق دار تو آپ لوگ ہیں کہ بغیر کسی صلے اور تنخواہ وغیرہ کے کفر سے برسرپیکار ہیں ،میں تو پاک آرمی کا نوکر ہوں ٹھیک ٹھاک تنخواہ لیتا ہوں ۔“
” کسر نفسی ہے آپ کی ورنہ پاک آرمی کا ہر سپاہی بھی اپنی جگہ جہاد ہی کر رہا ہے ،ملک کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر پہرہ دینا ،دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اندرون ملک ہر مصیبت کو گلے لگانا اتنا آسان نہیں ہے ،باقی جہاں تک تنخواہ کا تعلق ہے تو وہ لینا مجبوری ہے ۔اگر ایک آدمی اپنے اوقات اور صلاحیتیں ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو بیوی بچے اور بوڑھے والدین بھی اس کی ذمہ داری ہوتے ہیں ۔ملک کی خدمت کرتے ہوئے ان کا بوجھ کس پر لادے گا ۔“
میں نے کہا ۔”میرا خیال ہے ہم بے فائدہ تکرار میں مشغول ہیں ۔“
”چلیں پھر فائدے کی بات کر لیتے ہیں ۔“کہہ کر وہ مغربی دیوار کے ساتھ لگے کپڑے لٹکانے والے ہینگر کی طرف بڑھا ۔جس کی چوڑائی کے برابر دیوار پر خوبصورت پلاسٹک شیٹ لگی ہوئی تھی۔اور اس پلاسٹک شیٹ کا مقصد ہینگر سے لٹکانے والے کپڑوں کو دیوار کے ساتھ لگ کر گندا ہونے سے بچانے کا تھا ۔ہینگر زمین سے قریباََ ساتھ فٹ بلندی پر لگا تھا ۔جو کہ چوڑائی میں پانچ فٹ کے بہ قدر ہوگا۔اور اس جگہ پر لگی ہوئی پلاسٹک شیٹ پانچ فٹ چوڑی اور چھے فٹ لمبی تھی ۔یوں پلاسٹک شیٹ زمین سے ایک فٹ اوپر ہی ختم ہو جاتی تھی اس کے نیچے کچی دیوار نظر آتی تھی ۔
قاری غلام محمد نے پلاسٹک شیٹ کی ایک جانب گڑے ہوئے کیل نکالے جو نہایت آسانی سے باہر آگئے تھے ۔پلاسٹک شیٹ ہٹاتے دوسری جانب کھڑی دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔مجھے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ اس چوکور سوراخ کے اندر داخل ہوگیا جو زمین سے دوفٹ اونچا ئی سے شروع ہو کرچھے فٹ بلندی تک چلا گیا تھا ۔میں نے اس کے پیچھے قدم بڑھا دیئے ۔دوسری جانب جاتے ہی تین فٹ چوڑا رستا نظر آیا جو جنوب کی طرف جا رہا تھا ۔گویا وہ گیلری نما رستا تمام کمروں کے عقب سے گزرتا تھا ۔ وہ رستا اس بیٹھک کی جنوبی دیوار کے پاس جا کر ختم ہوا۔دیوار کے پاس زمین دوز رستا تھا ،سیڑھیاں اتر کر ہم پندرہ بیس فٹ سیدھے چلے اور پھر سیڑھیاں چڑھ کر پہلے کی طرح تین فٹ چوڑے رستے پر آگے بڑھنے لگے ۔یقینا نیچے اتر ہم نے گلی کو عبور کیا تھا اور اس کے بعد اگلے مکان کی عقبی دیوار کے ساتھ وہ رستا آگے بڑھنے لگا تھا ۔عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک اور ساتھ والے مکان کے درمیان تو گلی موجود تھی لیکن اس کے بعد چند مکانوں کی دیواریں بالکل جڑی ہوئی تھیں ۔اس لیے اس کے بعد ہمیں نیچے نہیں اترنا پڑا تھا ۔قاری صاحب خاموشی سے آگے بڑھتا گیا ۔میں بھی اس سے ایک قدم پیچھے چلتا رہا ۔ہم نے مسلسل پانچ چھے مکان عبور کیے ہوں گے ۔یہ تمام مکان ایک ہی قطار میں موجود تھے اور یقینا تمام کے مالکان کا ایک دوسرے سے خاص تعلق تھا تبھی تو وہ رستا وجود میں آیا تھا ۔ایک جگہ پر جاکر وہ رستا بند ہو گیا تھا ۔آگے ٹھوس دیوار نظر آرہی تھی ۔دیوار کے قریب جاتے ہی قاری غلام محمدنیچے جھکا ، ٹارچ کی روشنی میں مجھے لکڑی کا تختہ نظر آیا جسے قاری صاحب نے شمال کی جانب سے اٹھا کر جنوبی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ تین ضرب تین فٹ کا ایک چوکور خلا تھا جہاں سے مٹی کی سیڑھیاں نیچے اترتی نظر آرہی تھیں ۔
قاری صاحب کے پیچھے میں بھی سیڑھیاں اترنے لگا ۔سات آٹھ فٹ کی اترائی کے بعدہم نیچے پہنچ گئے تھے ۔وہ ایک دراڑ نما جگہ تھی ۔ٹارچ کی روشنی میں اس خلا کی دیواریں دیکھ کر صاف اندازہ ہوتا تھا وہ دراڑ قدرتی طور پر وجود میں آئی تھی ،اس کی بناوٹ میں انسانی ہاتھوں کا بس اتنا ہی عمل دخل تھا کہ اس پر ڈالی گئی چھت قدرتی نہیں تھی ۔وہ دراڑ مغرب کی جانب آگے بڑھتی گئی تھی اور رستا بتدریج نشیب میں اترتا گیا ۔ڈیڑھ دو سو میٹر کے بعد ہم جو دروازہ کھول کر باہر نکلے وہ اندرونی جانب سے تو لوہے کا تھا مگر بیرونی جانب یوں پتھر کی چٹان تراش کر اس میں نصب کی گئی تھی کہ دیکھنے والے کو وہ قدرتی اور ٹھوس چٹان ہی کی طرح لگتا تھا ۔اس کے ساتھ وہاں جھاڑیوں کا بھی کافی گھنا جھنڈ موجود تھا۔اس رستے کا اختتام ایک نالے میں ہورہا تھا ۔درختوں کے جھنڈ سے نکلے بغیر قاری غلام محمد نے اس نالے کے حدوداربع پر روشنی ڈالی اور ہم واپس مڑ آئے ۔
کمرے میں آکر قاری غلا م محمد مجھ سے اجازت لے کر باہر نکل گیا۔جانے سے پہلے وہ ٹارچ اور ایک مخابرہ میرے حوالے کرنا نہیں بھولا تھا ۔مخابرہ کے بارے اس نے ہدایت دی تھی کہ اسے میں نے چینل نمبر پندرہ پر ہر وقت آن رکھنا تھا ۔کسی بھی قسم کی ناگہانی صورت حال میں قاری صاحب نے ہمیں ہوشیار کرنا تھا ،اور اس کے بعد ضروری تھا کہ ہم کمرے کا دروازہ اندر سے کھول کر اس مخصوص رستے پر فرار ہوجاتے ۔
میں نے پلوشہ کو بھی تمام تفصیل سے آگاہ کردیا ۔سونے سے پہلے ہم نے اپنا سامان تیاری حالت میں سنبھال کر رکھ دیاتھا تاکہ ناگہانی صورت حال میں ہم اپنی چیزیں نہ سمیٹتے رہ جائیں ۔
صنوبر خان نے وہاں آنے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیا تھا جب مجبوری سے جاگنے والوں کے علاوہ کسی کی آنکھ کھلی نہیں رہ پاتی ،مگرقاری غلام محمد کی احتیاط کام آگئی تھی ۔رات، اڑھائی تین بجے کا وقت ہوگا جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ایک سنائپر یوں بھی ایک آنکھ کھلی رکھ کر سونے کا عادی ہوتا ہے ۔میں فوراََ اٹھ بیٹھا تھا ۔دروازہ کھولنے پر مجھے عبد الرحیم نامی آدمی دکھائی دیا جو ہمارے لیے کھانا وغیرہ لایا کرتا تھا۔دروازہ کھلتے ہی وہ جلدی سے اندر گھسا اور دروازہ اندر سے کنڈی کر دیا ۔
”بھائی جان !....صنوبر خان کے آدمیوں نے بیٹھک کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا ہے اور وہ قاری صاحب سے تعاون کی اپیل کر رہا ہے ۔اس کے بہ قول اسے پکی اطلاع ملی ہے کہ آپ دونوں یہاں چھپے ہو ۔“
”مگر قاری صاحب نے تو کہا تھا کہ وہ مجھے مخابرے پر اطلاع دے گا ۔“
”قاری صاحب نے آپ کو مخابرے پر پکارا تھا لیکن آپ کی طرف کوئی جواب نہ پا کر انھوں نے فی الفور مجھے بھیج دیا ،اب آپ باتوں میں وقت ضائع نہ کریں اور نکلیں ۔“
پلوشہ بھی جاگ گئی تھی اور عبدالرحیم کی باتیں اس کے کانوں تک بھی پہنچ گئی تھیں ۔وہ جلدی سے چہرے پر چادر لپیٹ کر پاﺅں میں بوٹ ڈالنے لگی۔میں نے بھی ایک منٹ میں اپنے بوٹ ڈالے اور بیرٹ کا تھیلا اٹھا کر خفیہ رستے کی طرف بڑھ گیا ۔پلوشہ میرے پیچھے ہی تھی ۔ٹارچ کی روشنی میں میں آگے بڑھتا گیا ۔یقینا عبدالرحیم وہیں لیٹ کر صنوبر خان کے آدمیوں کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ وہاں وہ لیٹا تھا ۔ورنہ کمرے کی حالت یہ ظاہر کر دیتی کہ تھوڑی دیر پہلے تک وہاں کوئی موجود تھا ۔البتہ عبدالرحیم کی موجودی میں کوئی شک کا اظہار نہیں کر سکتا تھا ۔
ہم قریباََچوتھے مکان کو عبور کرنے والے تھے جب مخابرے سے قاری غلام محمدکی آواز ابھری ۔
”جوان!....مجھے سن رہے ہو ۔“
”جی ،کہیں ۔“میں نے بھی اس کی طرح نام لیے بغیر ہی اسے جواب دیا تھا ۔
”بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے ،ایک غداردشمن تک ،اس رستے کی خبر پہنچا چکا ہے ۔یقینا وہاں اس کے آدمی تمھاری تاک میں موجود ہوں گے ۔“
”تو ....کیا کروں ؟“مجھے ایک دم رکنا پڑا ۔”واپس آنا مناسب رہے گا یا یہیں کچھ دیر چھپا رہوں ۔“
”اس کے بجائے کسی دوسرے گھر سے نکلنے کی کوشش کرو اور خیال رہے اس کے آدمی ہر طرف پھیل گئے ہیں اور ........“قاری صاحب کی آواز ایک دم غائب ہو گئی ۔مجھے شک ہوا کہ کسی کی آمد پر اسے خاموش ہونا پڑ گیا تھا۔
پلوشہ بھی اس کی تمام باتیں سن رہی تھی ۔”اب کیا کریں ؟“ایسی صورت حال میں بھی اس کے چہرے پر کوئی خاص پریشانی نظر نہیں آرہی تھی ۔وہ ایسی ہی بہادر اور دلیر تھی ۔اس کی بے خوفی دیکھ کر مجھے بہت حوصلہ ملا تھا ۔
ایک لمحہ سوچ کر میں مشرقی دیوار کا جائزہ لینے لگا ۔ایسے حالات میں قاری صاحب کا مشورہ سب سے بہتر تھا ۔جلد ہی مجھے ایک دروازہ نظر آگیا ۔دو فٹ چوڑا اور چار فٹ اونچا ایک ہی کواڑ تھا ۔جو ہماری جانب ہی کھل رہا تھا ۔پٹ کے کھولتے ہی سامنے سے ایک پلاسٹک کی شیٹ لگی نظر آئی ۔پلاسٹک کی وہ شیٹ ہٹاتے ہوئے میں نے اس چوکور سوراخ سے اندر جھانکا ۔
کمرے میں ساتھ ساتھ ملی ہوئی دو چارپائیوں پر دو آدمی موجود تھے ۔یقینا وہ میاں بیوی ہی ہوں گے ۔پلاسٹک ہٹانے پر ہینگر سے لٹکے کپڑے نیچے گر گئے تھے ۔گو اس سے اتنی زیادہ آواز نہیں ابھری تھی لیکن اس کے باوجود وہاں سوئے میاں بیوی جاگ گئے تھے ۔ہمیں دیکھ کر وہ اتنے حیران ہوئے تھے کہ عورت کو چہرہ چھپانا بھی بھول گیا تھا ۔کمرے میں جلتی ہوئی ایمرجنسی لائیٹ کی روشنی نے ہماری دیکھ بھال کو آسان کر دیا تھا ۔
میں نے ہونٹوں پر انگلی رک کر انھیں خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے دبے لہجے میں کہا ۔ ”ہم دشمن نہیں ہیں ۔“
”مم....مگر آپ ........“اس مرد نے ہکلاتے ہوئے لہجے میں کچھ کہنا چاہا ۔
”بات چیت نہیں ....خاموشی سے لیٹ جاﺅ۔دشمن ہمارے پیچھے ہیں ۔اور تفصیل بتانے کا وقت نہیں ہے ۔“قطع کلامی کرتے ہوئے اسے میں نے خاموشی کی تاکید کی اور پلوشہ کو ساتھ لے کر کمرے سے باہر کا رخ کیا ۔صحن میں اچھا خاصا اندھیرا پھیلا ہوا تھا ۔
کمرے کا درواز ہ باہر سے کنڈی کر کے ہم دونوں داخلی دروازے کی طرف بڑھے ۔ دروازے کے قریب پہنچتے ہی میرے کانوں میں آئی کام کی دھیمی آواز پہنچی ....کسی کو چوکنا رہنے کی ہدایت کی جا رہی تھی ۔یقینا ہم چاروں طرف سے گھیرے میں آ چکے تھے ۔صنوبر خان نے ہماری تاک میں نہ صرف اس نالے میں اپنے آدمی بٹھائے ہوئے تھے بلکہ ایک قطار میں موجود ان گھروں کے چاروں جانب بھی اس کے آدمی پھیلے ہوئے تھے ۔ہم دونوں کے بھاگنے کا کوئی رستا نہیں بچا تھا ۔
جاری ہے ۔
 

”اب کیا کریں ؟“پلوشہ کے قریب ہو کر میں نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔یقینا ہمارے پاس وقت کی بہت زیادہ کمی تھی ۔
”میرا خیال ہے عقبی جانب سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ،کیونکہ اس جانب ڈھلوان چڑھتے ہی ہم ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔“اس بہادر لڑکی کے لہجے میں حالات کی گھمبرتا کا ذرا سا بھی اثر موجود نہیں تھا ۔
”وہاں رک کر اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کرنا کہ جب کمک ملنے کی بھی کوئی امید نہ ہو،ایک حماقت ہی ہے ۔باقی فرار کے لیے نشیب کا رستا اس لیے بھی بہتر رہتا ہے کہ بھاگنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ۔“
وہ میرا مطلب سمجھتے ہوئے بولی ۔”مطلب ،آپ سامنے سے بھاگنے کا سوچے ہوئے ہیں ۔“
”کیا خیال ہے ؟“
”چلو ۔“اس نے بے خوف انداز میں کہتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھا دیئے۔
میں نے اپنی پشت پر لدا بیرٹ کا تھیلا اتار کر نیچے رکھا اور زنجیر کھول کرNVG (نائیٹ وژن گاگل )ڈھونڈنے لگا ۔وہ شب دید عینک ،امریکن سنائپر سے میرے ہاتھ لگی تھی ،جو بعد میں بیرٹ ایم 107کے تھیلے کے ساتھ صنوبر خان کے ہتھے چڑھ گئی تھی ۔اور گزشتا دن بیرٹ ایم 107کے ساتھ موجود تمام سامان کے ساتھ واپس میرے ہتھے چڑھ گئی تھی ۔
شب دید عینک ڈھونڈ کر میں نے آن کر کے تسموں کے ذریعے آنکھوں پر باندھ لی ۔کچھ قارئین کے لیے یقینا شب دید عینک ایک نئی اور عجیب چیز ہو گی ۔لیکن سنائپر کی پہلی اقساط میں میں اجمالاََ ان کا ذکر کر چکا ہوں ۔اس کے اندر ہر چیز سبز نظر آتی ہے ۔اور چاند کی چودھویں شب سے واضح نظارا دکھتا ہے ۔اس میں چھوٹی بیٹریاں پڑتی ہیں ۔آن کرتے ہی مجھے محسوس ہو گیا تھا کہ بیٹریاں ابھی تک استعمال نہیں ہوئی تھیں ۔
NVGآنکھوں پر باندھتے ہی میں نے پلوشہ کو کہا۔”میں دیوار کے اوپر سے جھانک کر دیکھتا ہوں کہ کتنے آدمی باہر موجود ہیں ،اور کوشش کرتا ہوں کہ انھیں اوپر ہی سے جہنم واصل کر دوں ۔تم دروازے پر تیار ی حالت میں رہنا اور میرا اشارہ پاکر باہر نکلنے کے لیے تیار رہنا ۔اور گلاک کے ساتھ فائر کرنا تاکہ سائیلنسر کی وجہ سے گولی چلنے کی آواز ظاہر نہ ہو ۔“یہ کہتے ہی میں نے اپنا گلاک نکال کر ہاتھ میں تھام لیا تھا ۔
وہ آہستہ سے بولی۔” ٹھیک ہے۔“اور اس کے ساتھ ہی اس نے کلاشن کوف کندھے سے لٹکا کر گلاک پکڑ لیا ۔
سامنے کی دیوار میں بنے ہوئے مورچے پر چڑھنے کے لیے لکڑی کی سیڑھی موجود تھی ۔میں اسی سیڑھی کی مدد سے اوپر چڑھا اور چودہ ،پندرہ فٹ دیوار سے نیچے جھانکنے لگا ۔دونوں مکانوں کے دروازے کے درمیان میں وہ ایک ڈبل کیبن لیے موجود تھے ۔ڈبل کیبن کی باڈی میں دو آدمی بیٹھے تھے ، جبکہ ایک ایک آدمی دونوں مکانوں کے سامنے اس انداز میں کھڑا تھا کہ کسی بھی شخص کے اندر سے نکلنے پر اس کی نظر میں آ جاتا ۔چاروں کلاشن کوف سے مسلح تھے ۔ان چار کے علاوہ گاڑی کے کیبن میں بھی ایک سے زیادہ آدمی موجود تھے ۔دروازوں پر نگراں کھڑے دونوں آدمی چونکہ گاڑی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے تھے اس لیے میں نے پہلے انھی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ۔گاڑی کی بتیاں آف تھیں جبکہ گلی میں بھی روشنی کا ایسا انتظام موجود نہیں تھا کہ وہ خالی آنکھ سے واضح نظر آتے ۔
گلاک سیدھا کر کے میں اس آدمی کے سر کا نشانہ سادھا جو اس کمان کے سامنے کھڑا تھا جس میں میں اور پلوشہ چھپے تھے ۔یہاں بتا تا چلوں کہ پستول اور رائفل کے فائر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پستول سے نشانہ سادھتے وقت رائفل کی طرح اس کی ریئر سائیٹ سے آنکھ نہیں لگانی پڑتی ،بلکہ ایک یا دونوں ہاتھوں میں پستول کو سیدھا کر کے اندازے سے نشانہ لینا پڑتا ہے ۔اگر پستول کی جگہ کوئی رائفل ہوتی تو یقینا میں آنکھوں پر بندھی NVGکی وجہ سے درست نشانہ نہ لے سکتا ۔
”ٹھک ۔“کی ہلکی سی آواز اگر ان کے کانوں میں پڑی بھی تھی تو وہ توجہ نہیں دے پائے تھے ۔ لیکن ان کے ساتھی کے گولی کھا کر گرنے کے دھماکے کی آواز گاڑی کی باڈی میں بیٹھنے والے اس کے ساتھیوں تک ضرور پہنچ گئی تھی ۔
”اوے بہرام خانا !....کھڑے کھڑے ،نیند تو نہیں آگئی ۔“ڈبل کیبن کی باڈی میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔مگر میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ ان کے مذاق سے محظوظ ہونے کی کوشش کرتا ۔میں نے فوراََ گلاک کی بیرل دوسرے مکان کے سامنے کھڑے ہوئے آدمی کی جانب موڑی اور اگلے ٹھک کے ساتھ وہ بھی نیچے گر کر خرخرانے لگا ۔
”کوئی گڑبڑ ہے ۔“باڈی میں بیٹھے ہوئے دونوں آدمی ۔ہڑبڑا کر اٹھے ۔مگر ان کے اترنے سے پہلے میں دو مرتبہ ٹریگر دبا چکا تھا ۔بیس پچیس گز سے میرے نشانہ چوکنے کا امکان ہی نہیں تھا ۔ایک آدمی جو اترنے کے قریب تھا وہ اوندھے منہ زمین پر گرا تھا ۔ان کے گرنے پر بھی گاڑی میں سے کوئی نہیں نکلا تھا جس کا مطلب یہی تھا کہ یا تو گاڑی کے اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا یا وہ گاڑی کے شیشے وغیرہ بند کر کے موسیقی وغیرہ سے محظوظ ہو رہے تھے ۔یوں بھی اچھی خاصی سردی تھی ۔اور پھر رات کے اس وقت تو یوں بھی سردی میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا تھا ۔
ایک بار میرا جی چاہا کہ پلوشہ کو آواز دے کر باہر نکلنے کا کہوں ،مگر پھر اسے خطرے میں جھونکنے پر میرا دل آمادہ نہ ہوا ۔خود میں نیچے اتر کر دروازے سے باہر جاتا تو زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ۔سرعت سے ایک فیصلہ کرتے ہوئے میں فوراََ باہر کی جانب دیوار سے نیچے لٹک کر کود گیا ۔نیچے لٹکنے کے باوجود میرے پاﺅں زمین سے چھے ساتھ فٹ بلند تھے ۔اس لیے اچھی خاصی آواز آئی تھی ،لیکن کسی قسم کی حرکت نہ ہوتی دیکھ کر میں نے قریب ہو کر دیکھا ،اسٹیئرنگ ویل پر ایک آدمی سر ٹیکے سویا ہوا نظر آیا ۔اس کے علاوہ گاڑی کا کیبن خالی تھا ۔دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر میں نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولااور اسے گریبان سے پکڑ کر باہر کھینچ لیا ۔
”کک....کیا ....کون ....“وہ ہڑبڑاتے ہوئے ہکلایا،مگر اس وقت تک میں گلاک کی ایک اور گولی ضائع کر چکا تھا۔اس کے تڑپنے کا نظارا کیے بغیر میں بھاگ کراس دروازے کے قریب پہنچا جہاں پلوشہ میری منتظر کھڑی تھی ۔
”آجاﺅ۔“اسے آواز دے کر میں گاڑی کی طرف پلٹ آیا ۔گاڑی کی باڈی میں پڑی لاش نیچے پھینک کر میں نے نیچے گرا آئی کام اٹھا لیا ۔اس وقت تک پلوشہ بیرٹ کے تھیلے کو پشت پر لادے وہاں پہنچ چکی تھی ۔
”کیا رہا ؟“اس نے قریب آتے ہی بے صبری سے پوچھا ۔اور اس سے پہلے کہ میں اسے جواب دیتا آئی کام سے ایک کھردری آواز ابھرنے لگی ۔کوئی تمام پارٹیوں کو چوکنا رہنے کی تاکید کرتے ہوئے بتا رہا تھا کہ شکار پھندے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ نالے کی طرف جانے کے بہ جائے کسی گھر سے نکلنے کی کوشش کر ے ۔بتانے والے تک شاید ہمارے عبدالرشید بیٹنی کی بیٹھک سے نکلنے کی خبر ابھی پہنچی تھی ۔گو اس نے اپنے ساتھیوں کو نہایت مفید مشورہ دیتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر بے چارہ ذرا لیٹ ہو گیا تھا ۔اوراس کا خیرخواہی بھرا مشور ہ اس کے ساتھیوں کے کام نہیں آ سکا تھا ۔
”گاڑی میں بیٹھو ۔“میںنے پلوشہ کی بات کا جواب دیئے بغیر اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔اور خوداسٹیئرنگ سنبھال لی ۔
”گاڑی مجھے چلانے دو ۔“بیرٹ کا تھیلا عقبی نشست پر پھینکتے ہوئے اس نے مجھے دوسری نشست کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا ۔”آپ کا نشانہ مجھ سے کئی گنا بہتر ہے اور میں آپ سے زیادہ رستوں سے واقف ہوں ۔“
میں بحث کیے بغیر دوسری نشست پر منتقل ہو گیا ۔پلوشہ نے کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میری گود میں پھینکی اورساتھ ہی گاڑی کے قریب گری ہوئی لاشوں کی گنیں اور ان کے بنڈوریل سے فالتو میگزینیں بھی نکال کر بیرٹ کے پاس پھینک دی تھیں ۔ایسے حالات میں اس کا دماغ بہت تیزی سے کام کرتا تھا ۔یقیناہتھیاروں اور ایمونیشن کی ہمیں سخت ضرورت پیش آ سکتی تھی ۔
وہ اندر بیٹھ کر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی ۔جبکہ میں NVGآنکھوں سے ہٹا نے لگا کہ اب اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا ۔
گاڑی سٹارٹ کرتے ہی اس نے مشرقی جانب موجود ایک مکان کے دائیں طرف بنے رستے پر گاڑی آگے بڑھا دی ۔
”دلبر خان کہاں چل دیئے ؟“ آئی کام سیٹ سے کسی کی آواز آئی ۔یقینا یہ آخری مکان کے سامنے کھڑی ہوئی پارٹی کا کمانڈر پوچھ رہا تھا ۔
میں نے اسے جواب دینے کی تکلیف گوارا نہیں کی تھی ۔
”دلبر خان !جوا ب کیوں نہیں دے رہے ،دلبر خان ....دلبر خان ....“وہ مسلسل اس ساتھی کو پکارنے لگا جو ہر قسم کے سوال و جواب سے بہت دور جا چکا تھا ۔
ایک نئی آواز نے پوچھا ۔”دلبر خان !....جواب کیوں نہیں دے رہے ؟“ اور اس مرتبہ بھی دلبر کی کوئی آواز نہ ابھرتے دیکھ کر اسی آواز کی طرف سے پوچھا گیا ۔
”طورخم جان !....اس کا رخ کس طرف ہے ؟“
”کمانڈر !....اس کی گاڑی مشرقی جانب نشیب میں اتر رہی ہے ۔“
”اس کا پیچھا کرو طورخم جان....“کمانڈر کی چیختی ہوئی آواز ابھری اور پھر وہ کسی دوسرے کو پکارنے لگا۔
”وزیر خان !....دلبر خان کی گاڑی آپ کی طرف آرہی ہے ،تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ سڑک پر ہو کر اسے روکو ۔“
وزیر جان کا اثباتی جواب ابھرا ۔”جی کمانڈر ۔“
”کمانڈر !....اس گاڑی میں دلبر خان نہیں ہے ،اس کی اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں یہاں بکھری پڑی ہیں ۔“یقینا طورخم کو ہمارا پیچھا کرنے کے لیے اس مکان کے قریب سے گزرنا پڑا تھا جہاں دلبر خان کے ساتھی موجود تھے اور گاڑی کی ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں سڑک پر پڑی لاشوں کا نظر آجانا حیرانی کا باعث نہیں تھا۔
”جانے نہ پائے ۔“کمانڈر کی آواز میں غیض وہ غضب بھرا تھا ۔ہم دونوں خاموشی سے ان کی باتیں سن رہے تھے ،تھوڑا سا نیچے آکر پلوشہ نے گاڑی کا رخ انگور اڈے کے بہ جائے مخالف سمت میں موڑ دیا ۔
”وہ ڈمبریانی کی طرف مڑ گئے ہیں ۔“یہ طور خم کی آواز تھی ۔
کمانڈر نے کہا ۔”تم تعاقب میں رہو ،ہم بھی آ رہے ہیں ۔“مجھے بائیں جانب دو گاڑیوں کی روشنی نظر آرہی تھی جو نشیب میں اتر رہی تھیں ۔
”پلوشے رفتار بڑھاﺅ ۔“بائیں جانب آنے والی روشنی کو دیکھتے ہی میں نے پلوشے کو ہدایت کی اور اس کے ساتھ ہی میں نے گاڑی کی ہیڈ لائیٹس پر نشانہ سادھ کر گولی چلا دی ۔
مگر چلتی گاڑی سے متحرک ہدف کو نشانہ بنانا لگ بھگ ناممکن ہی تھا ۔کیونکہ چلتی گاڑی میں انسان کے جسم کو مسلسل حرکت ملتی رہتی ہے ۔گو تربیت کے دوران ہم نے چلتی گاڑی سے بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مشق کی تھی لیکن پھر بھی میں ناکام رہا تھا ۔
اگلی مرتبہ میں نے ایک گولی فائر کرنے کے بجائے تین چار گولیوں کا برسٹ چلایا تھا ۔اس کے ساتھ ہی اگلی گاڑی کی دائیں والی لائیٹ بجھ گئی تھی ۔
اچانک دو تین کلاشن کوفیں اکھٹی گرجنے لگیں ۔بلا شک و شبہ نشانہ ہماری گاڑی ہی تھی ۔
پلوشہ نے ایکسی لیٹر کو مکمل دبا دیا تھا ۔سیدھی سڑک پر گاری کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح اڑی جا رہی تھی ۔پلوشہ کا با اعتماد انداز میں اسٹیئرنگ ویل پکڑنا ظاہر کر رہا تھا کہ وہ ایک ماہر ڈرائیور تھی ۔
بائیں جانب آنے والی گاڑیوں کے سڑک پر پہنچنے سے پہلے ہم آگے نکل گئے تھے ۔ہمارے عقب میں بھی ایک گاڑی نظر آ رہی تھی جو یقینا طورخم جان کی تھی ۔طورخم کی گاڑی سے پہلے ہی بائیں جانب سے آنے والی دونوں گاڑیاں سڑک پر پہنچ چکی تھیں ۔
میں نے سیٹ کو لیور کے ذریعے پیچھے کیا اور عقبی نشست پر منتقل ہو گیا ۔آئی کام سے ان کی اٹھنے والی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں ،شاید انھوں نے متبادل چینل لگا لیا تھا ۔میرے پاس فی الحال چینل تلاش کرنے کا وقت نہیں تھا ۔کلاشن کوف کے بٹ سے سیٹ کے عقب میں لگا ہوا شیشہ توڑ کر میں نے کلاشن کوف کی بیرل باہر نکال لی ۔مخالفین کی اگلی گاڑی سے اکادکا فائر کی آواز آ رہی تھی ۔اس گاڑی کی ایک ہیڈ لائیٹ میں ناکارہ کر چکا تھا ۔میں نے گاڑی کی دوسری ہیڈ لائیٹ پر شست باندھی اور دو ہلکے برسٹ چلا دیئے ۔میری دوسری کوشش کامیاب رہی تھی ۔
”ایک تو گئی ۔“پلوشہ نے شیشے میں سے گاڑی کی ہیڈ لائیٹ ضائع ہوتے دیکھ لی تھی ۔
”باقی بھی جائیں گی ۔“میں اعتماد سے بولا ۔اور دوسری گاڑی کے آگے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔
پلوشہ نے ایک خطرناک موڑ کاٹنے کے گاڑی کی رفتار آہستہ کی اور موڑ کاٹتے ہی رفتار بڑھا دی ۔میں آئی کام کے چینل تبدیل کرنے لگا ۔جلد ہی مطلوبہ چینل مجھے مل گیا ۔ان کی باتیں سن کر پتا چلا کہ کمانڈر کی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس ٹوٹی تھیں اور میرا تعاقب کرنے کے لیے وہ دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔ اس کے ساتھ وہ صنوبر خان سے مزید گاڑیاں اور آدمی بھی منگوا رہا تھا ۔
ہم نے مسلسل دو تین موڑ کاٹے ،اچانک میرے دماغ میں ایک منصوبہ پیدا ہوا اور اس پر عمل کرنے کے لیے میں نے فوراََ پلوشہ کو کہا ....”اگلا موڑ کاٹ کر گاڑی روک دو ۔“
”کیوں ....؟“حسب توقع اس نے سوال پوچھنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا تھا ۔
”میرا خیال ہے رک کر ہم دونوں گاڑیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔“
”اس کے لیے دو تین کلومیٹر بعد ایک مناسب جگہ آئے گی ۔“میرے ساتھ متفق ہوتے ہوئے اس نے منصوبے میں تھوڑی سی ترمیم بھی کر لی تھی ۔مجھے اس کی صلاحیتوں پر پورا بھروسا تھا اس لیے میں نے اگلے ہی موڑ پر رکنے پر اصرار نہیں کیا تھا ۔جلد ہی ہم مطلوبہ موڑ کے پاس پہنچ گئے تھے ۔
وہ موڑاتنا خطرناک تو نہیں تھا لیکن اس کے دائیں طرف موجود کھڑی ڈھلان کافی خطرناک تھی ۔جہاں سے گرنے کی صورت میں گاڑی پچاس ساٹھ فٹ نیچے نالے میں جا گرتی ۔سڑک کے بائیں جانب بھی ایسی ڈھلان موجود تھی جس پر گاڑی کا چڑھنا ناممکن تھا ۔
گاڑی موڑ کر اس نے ایک چٹان کے عقب میں کھڑی کی اور سرعت سے نیچے اتری ،میں نے بھی نیچے اترنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔ایک کلاشن کوف پلوشہ کی جانب بڑھاتے ہوئے میں نے اپنی کلاشن کوف پر بھی بھری ہوئی میگزین چڑھا لی تھی ۔اس کے ساتھ ہی میں نے NVGبھی اٹھا کر آنکھوں پر باندھنے لگا ۔کیونکہ اگر وہ گاڑی روک کر مقابلے پر اتر آتے تو اس اندھیرے میں ان نقل و حرکت دیکھنے میں NVGمیرے بہترین مدد گار ہو سکتی تھی ۔
آٹھ نو فٹ اوپر چڑھ کر ہم دونوں نے ایک پتھر کے عقب میں مورچہ سنبھال لیا تھا۔
”اگلی گاڑی تمھاری ہے ۔“میں نے NVGآن کرتے ہوئے اسے مطلع کیا ۔
”ٹھیک ہے باس ۔“وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔ذرا سا بھی محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ خطرناک صورت حال کو کوئی اہمیت دے رہی ہے ۔
اس وقت موڑ کی جانب سے روشنی نمودار ہوئی ،پلوشہ نے اپنی کلاشنی کوف پہلے سے کاک کر کے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا ہوا تھا ۔(ناول پڑھنے والے زیادہ تر افراد تو سیفٹی لیور اور اس کی مختلف پوزیشنز کے متعلق جانتے ہیں مگر کچھ قارئین ایسے ہوتے ہیں جن کا ساری زندگی کسی ہتھیار سے پالا نہیں پڑا ہوتا ۔خصوصاََ خواتین کہ ہتھیار سے کوسوں دور ہوتی ہیں ،ان کی معلومات کے لیے بتاتا جاﺅں کہ آٹومیٹک ہتھیار میں سیفٹی لیورکے ایک تین کام ہوتے ہیں ۔جس وقت سیفٹی لیور محفوظ پوزیشن پر لگا ہو تب ٹریگر دبانے سے بھی ہتھیار فائر نہیں کرتا ۔جب سیٹی لیور سیمی آٹومیٹک پوزیشن میں لگا تب ہر بار گولی چلانے کے ٹریگر کو دبانا پڑتا ہے ۔اور جب سیفٹی لیور برسٹ پر لگا ہو تب ایک بار ہی ٹریگر دبانے سے ہتھیار سے مسلسل گولیاں برسنا شروع ہو جاتی ہیں )
دونوں گاڑیوں کے درمیان چند گز کا فاصلہ تھا ۔موڑ سے ہمارے مورچے تک پچاس ساٹھ گز سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا ۔وہ نسبتاََ پھیلا ہوا موڑ تھا یوں کہ جب تک ان کی گاڑٰ قریب نہ آجاتی ہماری گاڑٰ پر ان کی نظر نہیں پڑ سکتی تھی ۔
پچاس ساٹھ گز اتنا فاصلہ نہیں تھا کہ ہمیں دونوں گاڑیوں کے موڑ کاٹنے کے بعد انتظار کرنا پڑتا۔ جونھی دونوں گاڑیاں موڑ کاٹ کر سیدھا ہوئیں پلوشہ نے ٹریگر پر انگلی رکھ کر فائر کھول دیا اور اس کے ساتھ ہی میری کلاشن کوف بھی آگ اگلنے لگی ۔زوردار دھماکے کے ساتھ اگلی گاڑی کا دایاں پہیہ پھٹا اور گاڑی بے قابو ہو کر نالے میں جا گری ۔پچھلے ڈرائیور نے گاڑی بائیں جانب ڈحلان کی طرف موڑنی چاہی ،تھوڑی سی چڑھائی چڑھتے ہی گاڑی پہلو کے بل گر پڑی تھی ۔میں نے اس پر گولیاں برسانا جاری رکھا تھا ۔پلوشہ نے بھی نئی میگزین چڑھا کر کلاشن کوف کاک کی اور دوبارہ فائرنگ شروع کر دی ۔
اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا ہوا ، اور گاڑی نے آگ پکڑ لی ،یقینا فیول ٹینک میں گولی لگ گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی چند انسانی چیخیں بلند ہوئیں ،مگر کوئی گاڑی سے دور نہیں جا سکا تھا ۔
”چلو ۔“NVGمیں کسی کو حرکت نہ کرتے دیکھ کر میں اپنے گاڑی کی طرف بڑ ھ گیا ۔پلوشہ نے ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی ۔تھوڑا سا آگے جاتے ہی اس نے نسبتاََ آسان ڈھلان دیکھ کر گاڑی نالے میں اتار لی ۔اس کے ساتھ ہی وہ بولی ۔
”راجو !....بہتر ہو گا کہ ہم نالے نالے میں واپس علام خیل کی طرف جائیں ،ورنہ ا ب وہ پوری قوت سے اس سڑ ک پر آگے بڑھیں گے ،ہوسکتا ہے انھوں ڈمبریانی کے سردار ثقلین سے بھی مدد مانگ لی ہو اور وہ سڑک پر ہمارا منتظر ہو۔
”ٹھیک ہے ۔“مجھے اس کے ساتھ متفق ہوتے ہی بنی تھی ۔
”شب دید عینک مجھے دے دو ۔“اس نے ہیڈ لائیٹس آف کرکے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔
NVGاس کے حوالے کرنے کے بہ جائے میں نزدیک ہو کر خود ہی اس کے سر پر NVGکے تسمے باندھنے لگا ۔
اس نے کیبن کی اندرونی لائیٹ بجھاتے ہوئے تعریفی لہجے میں کہا ۔”بڑا صاف نظر آرہا ہے۔“
میں نے معنی خیز لہجے میں کہا ۔”خاک صاف نظر آرہا ہے ۔آنکھیں ترس ہی گئی ہیں ۔“
اور اس کے نقرئی قہقہے سے گاڑی کا کیبن گونج اٹھا تھا ۔
اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے ۔“میں نے منہ بنایا۔
”ہنسنے کی بات تو ہے نا ،جب نظر آتی ہوں اس وقت دیکھتے نہیں اور اب چند لمحوں کے لیے میرا چہرہ اوجھل کیا ہوا کہ جناب کو غم نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔“
”اس میں تو کوئی شک نہیں ہے چندا ،کہ جونھی تمھارا چہرہ نظر سے ذرا سا اوجھل ہوتا ہے میں پریشان ہو جاتا ہوں ۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی ۔”یہ وہی چہرہ ہے نا جس پر اتنے تھپڑ مار چکے ہو جتنا کسی پرانے میراثی نے ڈھول بھی نہیں پیٹا ہوگا ۔“
میں نے وارفتگی سے کہا ۔”وہ سارے تھپڑ جو بہ ظاہر تمھارے پھول سے گالوں پر لگے تھے ،ان کی تکلیف میرے دل کو جھیلنا پڑی تھی ۔“
”جھوٹا ۔“اس کے لہجے سے امڈتی چاہت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی ۔
ہم صنوبر خان کی تباہ شدہ گاڑیوں کی جگہ سے آگے بڑھے تب مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا ، کیونکہ اگر ان کی کچھ اور گاڑیاں وہاں تک پہنچ گئی ہوتیں تو ایک جگہ پر رکے ہونے کی وجہ سے وہ نالے میں جاتی ہوئی ہماری گاڑی کو دیکھ لیتے۔البتہ سفر کی حالت میں انھیں اندھیرے نالے کے بیچوں بیچ چلتی ہوئی ایسی گاڑی نظر نہیں آسکتی تھی جس کی ہیڈ لائیٹس بجھی ہوں ۔
NVGسے اتنا زیادہ بھی واضح نظر نہیں آتا کہ پلوشہ گاڑی کو زیادہ تیز چلا سکتی ،یوں بھی نالے میں بکھرے چھوٹے بڑے پتھر اچھی خاصی رکاوٹ پیدا کر رہے تھے ۔تھوڑی دیر بعد ہمیں علام خیل کی طرف سے تین گاڑیاں تیزی سے حرکت کرتی نظر آئیں ۔انھیں دیکھتے ہی پلوشہ نے گاڑی روک کر انجن بند کر دیا تھا ،گو اس کی کوئی خاص ضرورت تو نہیں تھی مگر وہ ذرا سا بھی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی ۔
گاڑیوں کے گزر جانے کے بعد وہ دوبارہ چل پڑی۔جلد ہی ہم علا م خیل کے مضافات میں پہنچ گئے تھے ۔علام خیل سے آگے بڑھنے کے بعد بھی پلوشہ نے گاڑی کوسڑک پر چڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ کہیں انھوں نے انگور اڈے سے کوئی نفری وغیرہ نہ منگوائی ہو ۔
”اب جاناکہاں ہے ؟“علام خیل سے تھوڑا آگے آتے ہی اس نے مشورہ چاہنے کے انداز میں پوچھا ۔
میں نے کہا”انگور اڈہ یا رغزئی چلتے ہیں ۔“
وہ کہنے لگی ۔”ا س کے لیے گاڑی سڑک پر چڑھانا پڑے گی ۔“
”ٹھیک ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اس سے پہلے کہ وہ کوئی مناسب ڈھلوان دیکھ کر گاڑی کو سڑک کی طرف موڑتی ،ہمیں دور سے دوڑتی ہوئی روشنیاں نظر آئیں ۔وہ قریباََ چار گاڑیاں تھیں اور انگور اڈے سے علام خیل کی طرف آرہی تھیں ۔پلوشہ نے گاڑی روک کر ایک مرتبہ پھر انجن بند کر دیا ۔جبکہ میں آئی کام سیٹ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے لگا ۔جلد ہی میں نے دشمنوں کی فریکونسی ڈھونڈ لی تھی ۔
”ہم علام خیل پہنچنے والے ہیں سردار !“
”یہاں رکنے کی ضرورت نہیں سیدھا آگے نکلتے جاﺅ ،کمانڈر دوداخان تین گاڑیاں لے کر ان کے پیچھے گیا ہوا ہے ۔اپنی دو گاڑیاں اور ان میں موجود آدمی دھوکے سے تباہ ہو گئے ہیں ۔احتیاط سے جانا اور اس بار ان خبیثوں کو بچنا نہیں چاہیے ۔“صنوبر خان کی آواز پہچاننے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔
باعتماد لہجے میں جواب ملا ۔”بے فکر رہیں سردار !....اگر آپ کو یہاں کچھ آدمیوں کی ضرورت ہے تو میں ایک گاڑی یہیں چھوڑ دیتا ہوں ۔“وہ جو کوئی بھی تھا یقینا انھیں گاڑیوں میں موجود تھا جو ابھی انگور اڈے سے علام خیل پہنچی تھیں ۔
”نہیں ،میرے ساتھ سدھیر خان اور بادشاہ گل موجود ہیں ،زیادہ بندوں کی اسے گھیرنے کے لیے ضرورت پڑے گی ،اس لیے تمام گاڑیاں ساتھ لے جاﺅ ۔اور ہاں ....زندہ لانے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
خباثت بھرے لہجے میں پوچھا گیا ۔”ویسے لڑکی کو چند دن زندہ رکھنے میں کیا حرج ہے سردار۔“
”تم نہیں سدھرو گے شالم خان ۔“صنوبر خان نے ہنستے ہوئے کہا ۔”اس خبیث کو گولی مارتے ہی پلوشہ خان کو سیدھا یہاں لے کر آنا ،میرا خیال ہے اس پرخبیث ایس ایس سے زیادہ ہمارا حق ہے ۔“
”شکریہ سردار !....“شالم نے مکروہ لہجے میں کہا ۔اسی وقت ہمیں ان کی گاڑیوں کی عقبی روشنی علام خیل سے آگے کی طرف حرکت کرتی نظر آئی۔
”راجو!....کیا خیال ہے ؟“پلوشہ نے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔
”تم بے وقوف تو نہیں ہو۔“اس کے انداز سے مجھے اس کی بات کی تہہ تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی تھی ۔
”صرف دو محافظ اس کے ساتھ ہیں ....اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ہم اس کے پاس پہنچ جائیں گے ۔“
میں نیم دلی سے کہا ۔”پلوشے!.... بغیر کسی منصوبے کے صنوبر خان پر ہاتھ ڈالنا مناسب نہیں ہو گا ۔“
”راجو یہ موقع پھر ہاتھ نہیں آئے گا ۔“وہ مصر رہی ۔
چلو ....“میں زیادہ دیر اس کی بات نہیں ٹال سکا تھا ۔
”شکریہ راجو !“خوشی سے چہکتے ہوئے اس نے گاڑی سڑک پر چڑھا دی ۔آنکھوں سے NVGاتارتے ہوئے اس نے گاڑی کی روشنیاں جلا دی تھیں ۔
”ویسے لائحہ عمل کیا ہوگا ؟“صنوبر خان کی حویلی کی طرف بڑھتے ہوئے وہ پوچھنے لگی ۔
”ان کی گاڑیاں آجارہی ہیں ۔بس سیدھا حویلی کے داخلی دروازے کی طرف چلتی جاﺅ ۔یوں بھی یہ انھی کی گاڑی ہے ۔“
”میرا ارادہ بھی یہی ہے ۔“اس نے میری تائید میں سر ہلادیا۔
بیٹھک کے دروازے پر پہنچتے ہی اس نے کیبن کی اندرونی روشنی بجھا دی ۔ذیلی کھڑکی کھول کر چوکیدار نے باہر جھانکتے ہوئے اس نے پوچھنے کی کوشش کی ۔
”کیا اندر جانا ....؟“سائیلنسر لگے گلاک نے اسے فقرہ پورا نہیں کرنے دیا تھا ۔اس کابالائی دھڑ کھڑکی سے باہر آگر تھا ۔
”چلو اترو ۔“میں سرعت سے کھڑکی کھو ل کر باہر نکلا ۔پلوشہ میرے کہنے سے پہلے حرکت میں آ چکی تھی ۔اسے اپنے عقب میں رکھتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا ۔صحن کے جنوب مغربی اور شمال مشرقی کونے میں دو بڑے انرجی سیور لگے اندھیرے سے برسر پیکا رتھے ۔
اندر داخل ہوتے ہی میں نے چوکیدار کی لاش گھسیٹ کر دروازے سے اندر کی ،پلوشہ نے اندر گھستے ہی ذیلی کھڑکی بند کر دی تھی ۔
بیٹھک کے اندر ملازموں کاایک کمرہ روشن تھا اور اس کا دروازہ بھی کھلا تھا ۔یہ وہی کمرہ تھا جہاں پلوشہ نے لڑکے کو قید کیا تھا ۔اس کے ساتھ وی آئی پی کمرے سے بھی روشنی جھلک رہی تھی ۔
”اس کمرے میں صنوبر خان ہو گا ،میرے آنے سے پہلے اندر نہ جانا ۔“میں نے پلوشہ کو وی آئی پی کمرے کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے دبے قدموں اس جانب بڑھ گئی ،جبکہ میرا رخ صنوبر خان کے محافظوں کے کمرے کی طرف ہو گیا تھا ۔
دروازے کے قریب پہنچتے ہی میرے کانوں میں آئی کام سیٹ کی کھڑکھڑاتی آواز گونجنے لگی ۔ وہ ہماری تلاش میں نکلی ہوئی پارٹیوں کی باتیں سن رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان کی حالات حاضرہ پر گفتگو بھی جاری تھی ۔
”ویسے مجھے تو شک ہے کہ وہ ملک ثقلین کے سڑک پر پہنچنے سے پہلے ہی ڈمبریانی سے آگے گزر گئے ہوں گے ۔“
”ناممکن اتنی جلدی وہ ڈمبریانی سے آگے نہیں جا سکتے ۔“دوسری آواز نے پہلے والے کو جھٹلایا۔میرے پاس ان کی فضول گفتگو سننے کا وقت نہیں تھا ۔ایک دم پستول تانتے ہوئے میں اندر داخل ہوا ۔وہ دونوں اپنی کلاشن کوفیں چارپائی کے ساتھ کھڑی کر کے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے ۔کمرے میں پھیلی سفیدے کی لکڑی کے جلنے کی بو ظاہر کر رہی تھی کہ وہ چرس سے بھرے ہوئے سگریٹ کو جڑے تھے ۔ ان دو نوں کو میں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ ہر وقت صنوبر خان کے ساتھ سائے کی طرح جڑے رہتے تھے ۔
مجھے دیکھتے ہی وہ اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے ۔
”تت....تم ....تم....؟“دونوں کے منہ سے بے ساختہ پھسلا ۔
”ہاں ....میں نے سوچا کہاں کہاں میری تلاش میں خوار ہوتے رہو گے ،چلو میں خود ہی تمھارے پاس پہنچ جاتا ہوں ۔“
”چلو سردار کے پاس چلتے ہیں ۔“سدھیر خان نے چارپائی کے ساتھ کھڑی کلاشن کوف کی طرف محتاط انداز میں ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس انداز میں کہا گویا میں ان کی دعوت ہی پر تو وہاں پہنچا تھا ۔
میں اس کی بات کا جواب دینے کے بہ جائے اس کے کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کی طرف پستول کی نال کر کے ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ ہی ایک تیز کراہ اس کے منہ سے نکلی اور وہ مضروب ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے دہرا ہو گیا ۔ بادشاہ گل نے ایک دم جھپٹ کر ہتھیار اٹھانا چاہا مگر گلاک کی بے آواز گولی اس سے تیز ثابت ہوئی تھی ۔جھکنے کے بعد وہ سیدھا نہیں ہو سکا تھا ۔اور اسی طرح اوندھے منھ گر گیا تھا ۔
”تت....تم ....تم۔“سدھیر خان نے ہکلا کر کچھ کہنا چاہا مگر اس کی بکواس سننے کا میرے پاس وقت نہیں تھا ۔تیسری بار ٹریگر دبا کر میں نے ایک گولی اس کی کھوپڑی میں اتاری اور مڑ گیا۔ برآمدے سے نکلتے ہی مجھے پلوشہ وی آئی پی کمروں کے سامنے چوکنے کے انداز میں کھڑی نظر آئی ۔
مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ اس اثناءمیں میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔دروازے پر رک کر اس نے تصدیق چاہنے والے انداز میں میری جانب دیکھا اور میرے اثبات میں سر ہلانے پر دروازے کو زور دار ٹھوکر رسید کرتے ہوئے اندر داخل ہوگئی ۔میں بھی اس کے ساتھ ہی تھا ۔
صنوبر خان صوفے پر پھیل کر بیٹھا تھا ۔اس کے سامنے بدیسی شراب کی بوتل کھلی پڑی تھی ۔ ایک ادھ بھرا گلاس اس نے ہاتھ میں تھاما ہوا تھا ۔ہمارے ایک دم اندر داخل ہونے پر وہ ہکا بکا رہ گیا تھا ۔ اس کے چہرے پر چھائی حیرانی سے محظوظ ہوتے ہوئے پلوشہ تیکھے لہجے میں بولی ۔
”سردار صنوبر خان وزیر !....سنا ہے آپ مجھے یہاں بلوا رہے تھے ،حکم کریں کیا کام تھا ۔“
حیرت کے پہلے جھٹکے سے سنبھلتے ہی اس کے چہرے پر حیرت کی جگہ خوف ظاہر ہوا ،مگر اس نے ہمت کر کے خود کو بے خوف ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔یوں بھی اتنے بڑے سردار کو اپنے احساسات چھپانا آتے تھے ۔
”ایس ایس!....تم نے ہمیں دھوکا دے کر اچھا نہیں کیا ۔“اس کا انداز دھمکی سے زیادہ شکوے کا رنگ لیے ہوئے تھا۔
”گو سوال جواب کا وقت گزر گیا ہے ،اس کے باوجود میں ایمان سے بتاﺅ دھوکا کس نے دیا ہے ،کیا جرگے کے بعد میں نے تمھارے کسی آدمی کو نشانہ بنایا تھا ....یقینا تمھارا جواب نفی میں ہو گا ۔ لیکن تم نے میری منگیتر کے ساتھ کیا کیا ؟“
وہ ڈھٹائی سے بولا ۔”جھوٹ بکتی ہے ،وزیر قوم کے نام پر بدنما دھبہ ہے یہ ۔ورنہ سچ وہی ہے جو میں تمھیں بتا چکا ہوں ۔اس نے تمھارا سودا کیا اور بدلے میں پندرہ لاکھ کی خطیر رقم وصول کی ۔“
میں مسکرایا ۔”ویسے داد دینا پڑے گی تمھاری ڈھٹائی کی ۔شاید تمھیں معلوم نہ ہو کہ ٹریسی والکر مجھے سب کچھ سچ سچ بتا چکی ہے ۔“
”چلو ایسا ہی ہے ....پھر بھی اس کے بعد ہماری صلح ہو چکی ہے اور میرا خیال ہے یہ وقت گڑے مردے اکھیڑنے کا نہیں ہے ۔“وہ اپنے جھوٹ پر قائم نہیں رہ پایا تھا ۔
”تھوڑی دیر پہلے تم اپنے آدمیوں کو میرے قتل کا حکم صادر کر چکے ہو اور اس کے ساتھ میری بیوی کے بارے نہایت گھٹیا حکم دے چکے ہو ۔“
”ہم سب کچھ بھلا کر نئے سرے سے دوستی کا آغاز کر سکتے ہیں ۔“اس مرتبہ وہ اپنا اعتماد برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا سرد لہجہ اور پلوشہ کے غضب بھرے تیور اسے گھگھیانے پر مجبور کر گئے تھے ۔
”اچھا مشورہ ہے ۔“میں نے اطمینان بھرانداز میں سر ہلایا۔”لیکن پلوشہ کو یقینا یہ مشورہ پسند نہیں آئے گا ۔“
وہ سرعت سے بولا۔”پلوشہ میری بیٹی کی طرح ہے ....میں اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لوں گا ۔“
”چلو مانگو ....“میں نے استہزائیہ انداز میں کہہ کر ذرا ایک طرف ہوا ۔
”پلوشہ میں تمھارے قبیلے کا سردار ہوں۔میں مانتا ہوں کہ مجھ سے زیادتی ہوئی ہے ۔لیکن یقین مانو تمھارے بھائی اور ماں کو میں نے کچھ بھی نہیں کہنا تھا صرف تمھیں ڈرا رہے تھے اور دیکھ لو وعدے کے مطابق انھیں بھی رہا کر دیا تھا اور تمھارا منگیتر بھی زندہ سلامت تمھارے پاس موجود ہے ۔“
”صنوبر خان ،یہ ہر فرعون کی فطرت میں شامل ہے کہ جب موت کو سامنے پاتا ہے تو سدھرنے کے دعوے شروع کر دیتا ہے ۔قوم کا سردار قوم کی ہر لڑکی کے باپ کی جگہ پر ہوتا ہے ،لیکن باپ اپنی بیٹیوں کے کپڑے تو نہیں پھاڑا کرتے ۔تُف ہے تم جیسے گندے باپ پر ۔“یہ کہتے ہی پلوشہ نے پستول والا ہاتھ سیدھا کیا،صنوبر خان نے دہشت زدہ ہو کر دونوں ہاتھ اٹھائے گویا گولیوں کو روک رہا ہو، مگر گولیاں ایسی ڈھال سے نہیں رکا کرتیں ۔پلوشہ ترس کھائے بغیر مسلسل ٹریگر دباتی گئی یہاں تک کہ پستول ہی خالی کر دیا ۔اس کی میگزین میں چھے گولیاں بچی ہوئی تھیں دو صنوبر خان کے سر اور باقی چھاتی میں لگی تھیں۔اسے زیادہ دیر پھڑکنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔اس کے ساکت ہوتے ہی میں نے کہا ....
”پلوشے چلو ۔“
وہ جیسے گہرے خیال سے چونکتے ہوئے بولی ۔”آں ....ہاں ....چلیں ۔“
ہم باہر نکل آئے ،اور گاڑی میں بیٹھ کر انگور اڈے کی جانب چل دیئے ایک بہت بڑا مرحلہ بہ خیر و خوبی گزر گیا تھا ۔پلوشہ نے اپنے چھوٹے بھائی ،ماں اور اپنی ہتک کا بدلہ لے لیا تھا۔جبکہ میں نے ایک اور دہشت گرد کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تھا ۔اب مجھے آگے کا لائحہ عمل طے کرنا تھا ۔گو اب تک میں خود میں اتنی جرّات مفقود پاتا تھا کہ پاک آرمی کے کسی ذمہ دار سے رابطہ کروں ۔البرٹ روک نے میری جس قسم کی وڈیو زتیار کی ہوئی تھیں ان کے مطابق میرے آرمی سے رابطہ کرنے کو بھی ایک سازش سمجھا جا تا ۔ اب میرے آرمی سے رابطہ کرنے پر لازمی بات ہے سب سے پہلے مجھ سے یہی مطالبہ کیا جاتا کہ میں گرفتاری پیش کروں ۔اور جب تک میں اپنی بے گناہی کے ثبوت نہ ڈھونڈ لیتا میرا گرفتاری پیش کرنا ممکن نہیں تھا ۔اور لازمی بات ہے گرفتاری پیش نہ کرنے کی صورت میں مجھے سچ مچ غدار قرار دیا جاتا ۔اور غدار کے لیے احکام تبدیل ہو جایا کرتے ہیں ۔
یہ بھی ممکن تھا کہ اب تک البرٹ بروک، پاک آرمی تک میری وڈیوز پہنچا چکا ہوتا ۔میں عجیب قسم کے حالات میں پھنس گیا تھا ۔”نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ۔“کی کہاوت میری حالت پر سو فیصد منطبق ہو رہی تھی ۔کوئی مناسب لائحہ عمل مجھے سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔آخر میں میں نے یہی فیصلہ کیا کہ پلوشہ کو گھر چھوڑ کر واپس اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے لوٹوں گا ۔اور ثبوت ملنے کے بعد کسی ذمہ دار سے ملاقات کروں گا ۔ایک صورت یہ بھی تھی کہ میں اپنی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کے پاس جا کر ساری کہانی من و عن بیان کر دیتا لیکن اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ میرا وڈیو بیان تھا جس میں میں نے کرنل کولن فیلڈ کے پوچھنے پر بڑے جوش و خروش سے پاکستان آرمی کے اندر رہتے ہوئے ان کے لیے کام کرنے کی حامی بھری تھی ۔اس بیان کے بعد میری ذات حد درجہ مشکوک ٹھہرتی تھی ۔
”چپ کیوں ہو ؟“مجھے مسلسل خاموش پا کر وہ پوچھے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔
”میرا خیال ہے گھر چلتے ہیں ،تمھاری امی جان اور بھائی کو بھی تلہ گنگ چھوڑ آتے ہیں ، شادی کا باقاعدہ اعلان بھی کردیں گے بلکہ دوبارہ شادی ہی کر لیتے ہیں۔“
وہ شرارت سے بولی ۔”میں اپنی شادی میں ناچوں گی تو ضرور ۔“
”شرم نہیں آئے گی ۔“
”شرم کیسی ....خوشی کے موقع پر عورتوں کا عورتوں کے مجمع میں ناچنا عام ہے ۔“
”ہاں مگر دلھن تو نہیں ناچا کرتی ۔“
وہ ڈھٹائی سے بولی ۔”جسے زیادہ خوشی ہو وہ ناچتی ہیں ۔“
میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔”تم بس میرے سامنے ناچ لیا کرنا ....“
وہ زبان نکال کر مجھے چڑاتے ہوئے بولی ۔”آپ کے سامنے تو بالکل بھی نہیں ناچوں گی ۔“
”پھر عورتوں میں بھی نہیں ناچنے دوں گا ۔“میں نے اسے چھیڑا ۔
”آپ کون سا وہاں موجود ہوں گے ۔“
”پھوپھو جان کو بتا دوں گا کہ تم پر نظر رکھے ۔“
”انھیں تو میں ایسے ہاتھ میں کروں گی کہ دیکھ لینا ،ہر وقت آپ کے کان کھینچیں گی ۔“
”اور میں جو تمھاری پٹائی کروں گا وہ ....“
وہ چاہت سے بولی ۔”کوئی بات نہیں ....بس دور نہ جانا ،پٹائی برداشت کر لوں گی ۔“
”کوئی پاگل ہی ہو گا جو اتنی پیاری بیوی کی پٹائی کرے گا ،میں تو پھول کی طرح رکھوں گا ۔“
وہ شوخ لہجے میں بولی ۔”بس بس جانتی ہوں،آپ نے اپنی پیاری محبوبہ کو نہیں بخشا ،بیوی کو کہاں معاف کرو گے ۔“
اس کے انداز پر میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا ۔
”زہر لگ رہی ہے آپ کی ہنسی ۔“اس نے مجھے بازو پر مکارسید کیا ۔
”مکے تم مار رہی ہو اور گلے مجھ سے کیے جا رہے ہیں ۔“
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی ۔”ابھی تو جو چھترول پھوپھو جان اور ابو جان سے کرواﺅں گی تب آپ کو پتا چلے گا ۔“
”میں شادی ہی نہیں کرتا ۔“
”وہ تو ہو چکی ہے جنا ب۔“
”کوئی ثبوت ہے ؟“
”ہاں ۔“قریب کھسک کر اس نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا ۔”یہ ثبوت کافی ہے یا کوئی اور دلیل پیش کروں ۔“
ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے میں نے دوسرا ہاتھ اس کی زلفوں میں پھیرا ۔ ”کافی سے بھی کچھ زیادہ ہے ۔“
اوروہ ناز بھرے انداز سے مسکرا دی ۔انگور اڈے پہنچ کر میں نے گاڑی نصراللہ خان خوجل خیل کے گھر کے سامنے روک دی ۔رات کے اس پہر انھیں بے آرام کرنا مناسب تو نہیں تھا مگر مجبوری تھی ۔ انھیں گھر سے بلا کر میں نے گلی ہی میں کھڑے کھڑے مختصر صورت حال سے آگاہ کیا ۔اور بیرٹ ایم 107ان کے پاس چھوڑ کر ہم اجازت لے کرچل پڑے ۔صبح دم ہم وانہ پہنچ گئے تھے ۔کمانڈرنصراللہ خوخل خیل سے ہم نے وانہ میں مجاہدین کے ایک ٹھکانے کا پتا معلوم کیا تھا ۔وہاں گاڑی چھوڑ کر ہم نے صبح کا پر تکلف ناشتا کیا ،صبح کی نماز پڑھی اور ویگن اڈے جا کر ڈیرہ اسماعیل خان جانے والی ویگن میں بیٹھ گئے ۔
جاری ہے
 

”راجو!.... ایک بات کہوں ۔“ہم وانہ سے نکل کر تھوڑا دور آئے تھے کہ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر دھیمے لہجے میں پوچھنے لگی ۔
”منع کس نے کیا ہے ۔“
اس نے حسرت بھرے لہجے میں کہا ۔” ایک کار لے دو گے ،مجھے بہت شوق ہے اپنی کار چلانے کا ۔“
میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ۔”جہیز میں لڑکیاں کار لایا کرتی ہیں سمجھی نا۔“
”راجو!.... آپ کو پتا تو ہے میں کتنی غریب ہوں ۔“وہ سنجیدہ ہو گئی تھی ۔
”مذاق کر رہا تھا چندا !....ایک چھوڑ دو کاریں لے لینا ۔“
”نہیں بس ایک ہی کافی ہے ۔“وہ خوشی سے کھل اٹھی تھی ۔
میں مسکرایا۔”پچاس لاکھ میں تو تین کاریں آ جائیں گی ۔“
”بس ہر وقت پچاس لاکھ کے طعنے دیتے رہتے ہیں ۔“اس نے منہ بسورا اور میں کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔
”تو کیا تمھاری امی جان پچاس لاکھ نہیں لیں گی ۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔”اب تو ضرور لیں گی اور میں کار بھی لوں گی ....اور کچھ ۔“
”اور یہ کہ کیا منہ دکھائی بھی دوبارہ دینا پڑے گی یا پہلے والی سے گزارا چل جائے گا ۔“
”سونے کے کنگن لوں گی ۔“
”میں تو پراندہ دوں گا ۔“
وہ دھمکی دیتے ہوئے بولی ۔”سر پر تو میں جاتے ہی استرا پھیروں گی ۔“
”تم ابھی بالوں کو ہاتھ لگا کر دکھانا ۔“
”بڑا آیا رعب جھاڑنے والا ۔“مجھے چڑا کر وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ویگن پہاڑی رستوں پر چکر کاٹتے ہوئے آگے بڑھتی جا رہی تھی ۔میں نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں ۔ ڈرائیور نے ایم پی تھری پر کوئی پشتو کا گیت لگایا ہوا تھا ۔پلوشہ اپنی مدھر آواز میں وہی گیت گنگنانے لگی تھی۔اور اس کی مدھر آواز مجھے سپنوں کی دنیا میں کھینچ کر لے گئی ۔
پلوشہ کا....”قرارا راشہ ،قرارا راشہ ........“مجھے سوتے میں بھی سنائی دیتا رہا ۔
میری آنکھ ویگن کے ناہموار زمین پر چلنے سے کھلی تھی ۔اس جگہ پر سڑک ٹوٹی پھوٹی تھی ۔آنکھ کھول کر میں نے پلوشہ کو دیکھا ....وہ بھی میرے کندھے سے سر ٹیکے اونگھ رہی تھی ۔اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان تک ہم ایسے ہی اونگھتے اور نیم خوابیدہ حالت میں پہنچے تھے ۔
ٹانک اڈے پر اتر کر ہم نے رکشا پکڑا اور پلوشہ کے گھر کی جانب چل پڑے ۔دن کے دس بج رہے تھے ۔بس اڈے سے اس کے گھر ت آدھا گھنٹا لگا تھا ۔رکشے والے کو فارغ کر کے ہم چھوٹے سے پختہ مکان کی طرف بڑھے ۔اور پلوشہ نے اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبا دیا ۔
چند لمحوں بعد اندر سے ایک زنانہ آواز ابھری ۔”کون ؟“
”امی جان ،میں ہوں پلوشہ۔“اس نے اپنا تعارف کرایا اور دروازہ کھل گیا ۔
پاکیزہ چہرے والی ادھیڑ عمر خاتون کے چہرے کے نقوش بالکل پلوشہ ہی طرح تھے ۔پلوشہ فوراََ ماں سے لپٹ گئی ۔
”کیسا ہے میرا بیٹا ۔“ماں نے اس کا ماتھا چوما ۔
”بیٹا تو آپ کا یہ ماں جی !“پلوشہ نے انھیں میری طرف متوجہ کیا ۔
وہ چونک میری میری جانب متوجہ ہوئیں ....اس کے ساتھ ہی ان کے چہرے پر شفقت بھری مسکراہٹ ابھری ۔
”یقینا میں اپنے بیٹے ذیشان کو دیکھ رہی ہوں۔“
مجھے اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ پلوشہ انھیں میرے بارے سب کچھ بتا چکی تھی ۔
”جی ماں جی !“میں نے اپنا سر ان کے نزدیک جھکا دیا ۔
”جیتے رہو بیٹا !“انھوں نے ممتا بھری شفقت سے میری پیشانی چوم کر مجھے اندر آنے کا رستا دیا ۔
اس کا چھوٹا بھائی بھی گھر ہی میں موجود تھا ۔وہ پلوشہ سے لپٹ کر پیار لینے لگا ۔پلوشہ کے بعد میں نے اسے بازوﺅں میں اٹھا کر اس کا نام پوچھا ۔
اس نے شرماتے ہوئے جواب دیا ۔”عدیل خان ۔“
میں نے پوچھا ۔”کس کلاس میں پڑھتے ہو ؟“
”میں اسکول نہیں جاتا ۔“اس کے جواب پرمیں نے پلوشہ کی جانب دیکھا اور اس نے دکھی انداز میں سر جھکا دیا ۔واقعی غربت انسان سے بہت سے حقوق چھین لیا کرتی ہے ۔
”اچھا ،مگر اب تو جانا پڑے گا ۔“میں نے اسے نیچے اتار کر چارپائی پر بیٹھ گیا ۔وہ دوبارہ پلوشہ کی گود میں چلا گیا تھا ۔
”راجو !....اصل میں ....“پلوشہ نے وضاحت کرنا چاہی ،لیکن اس کے بات پوری ہونے سے پہلے میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش ہونے کا اشارہ کیا ۔
”میں سب جانتا ہوں چندا !....اب یہ بھی پڑھے گا اور تمھاری بھی کوئی خواہش تشنی نہیں چھوڑوں گا ۔“
”ہاں جانتی ہوں اب میں بھی کسی کی ملکیت میں آ گئی ہوں ،کوئی ایسا جو میرے کہنے سے پہلے میری محرومیوں کا ازالہ کر دیتا ہے ۔“خوشی سے بھرپور تبسم اس کے ملیح چہرے پر نمودار ہوا اور وہ چاہت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگی ۔
اس کی ماں شربت کا جگ بنا کر لے آئی ۔وزیرستان میں اچھی خاصی سردی تھی مگر ڈیرہ اسماعیل خان کے گرم موسم میں ہمیں شربت ہی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔
پانی پلا کر وہ میرے سامنے ہی بیٹھ گئی ۔اس وقت جانے پلوشہ کو ماں نے کوئی اشارہ کیا یا وہ اپنی مرضی ہی سے اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لگا کر کمرے سے نکل گئی ۔اس کے کمرے سے نکلتے ہی جب میری ساس نے بات چیت شروع کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ پلوشہ کو انھوں ہی نے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا تھا ۔
”بیٹا !....پلوشہ مجھے آپ کے بارے سب کچھ بتا چکی ہے ،یہ میری خوش قسمتی ہے کہ آپ پلوشہ کو پسند کرتے ہیں ....ہمارے حالات جاننے کے باوجود آپ نے نہ صرف پلوشہ کا ساتھ دیا بلکہ آپ کی وجہ سے وہ قبیل خان جیسے موذی کو بھی کیفر کردار تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکی ۔یقین مانو پلوشہ نے میری بیٹی کے بہ جائے بیٹے کا کردار ادا کیاہے ۔اب جبکہ و ہ ہر ذمہ داری سے سبک دوش ہو چکی ہے تو میں چاہوں گی کہ وہ اپنے گھر کی ہو جائے ۔اس بارے آپ نے کیا سوچا ہے ؟“
”بس ابھی تھوڑی دیر بعد یہاں سے نکلیں گے ،شام تک میرے گھر پہنچ جائیں گے ۔کل یا پرسوں سادگی سے نکاح پڑھا لیں گے ۔“
میری بات پر اس سادہ خاتون کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔”اللہ پاک آپ کو خوش رکھے ، آپ کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے ۔“
میں نے ان کی دعا پر پرزور انداز میں کہا ۔”آمین ۔“
”ثمہ آمین۔“کہہ کر انھوں نے بھی اللہ پاک کی رحمت کو پکارا تھا ۔
”آپ اپنا ضروری وغیرہ سمیٹیں ،میں پلوشہ کو کہہ دیتا ہوں کہ وہ مالک مکان کو فون کر کے یہیں بلوا لے تاکہ اسے چابیاں واپس کریں ،پھر میں میں گاڑی لے آﺅں گا دن کا کھانا ان شاءاللہ راستے ہی میں کھائیں گے ۔“
”مکان کی چابیاں مالک مکان کو دینے کی کیا ضرورت ہے ،پرسوں ترسوں تک تومیں اور عدیل واپس لوٹ آئیں گے ۔“
میں حتمی لہجے میں بولا ۔”نہیں ماں جی !اب آپ دونوں بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں گے ۔“
”مگر بیٹا !....یہ مناسب نہیں لگتا ۔“اس نے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ۔
”ماں جی !....میں نہیں چاہتا کہ پلوشہ آپ دونوں کی وجہ سے پریشان یا دکھی رہے ۔اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے یقینا اکھٹے رہنا ہماری خوشیوں کو چار چاند لگا دے گا ۔“
”اللہ پاک آپ کو سکھی رکھے بیٹا ....۔“وہ جذباتی انداز میں دعائیں دینے لگی ۔
”چلیں اٹھیں پھر تیاری کریں ۔“میں کمرے سے باہر نکل آیا ۔پلوشہ مجھے باورچی خانے میں مصروف نظر آئی ۔عدیل بھی وہیں ایک لکڑی کی چوکی پر بیٹھا تھا ۔
میں نے پوچھا ۔”پلوشے مالک مکان کا موبائل فون نمبر ہے ؟“
”ہاں ،گھر کے موبائل میں Save تو کیا تھا ۔“
”تو اسے کال کر کے بلوا لو تاکہ مکان کی چابیاں اس کے حوالے کر دیں۔عدیل اور ماں جی تو پکے پکے ہمارے ساتھ ہی جائیں گے ۔“
شکر گزاری سے بھرپور نگاہ میرے چہرے پر ڈالتے ہوئے وہ سر ہلاتی ہوئی موبائل فون اٹھانے چل پڑی ۔تھوڑی دیر تک مالک مکان وہاں پہنچ گیا تھا ۔چونکہ پلوشہ پہلے ہی سے چند ماہ کا کرایہ اس کے حوالے کر چکی تھی اس لیے ہم نے بس مکان کی چابی اس کے حوالے کی اور بتا دیا کہ جاتے وقت ہم تالا لگاتے جائیں گے ۔
میرے منع کرنے کے باوجود دوپہر کا کھانا پلوشہ نے تیار کر دیا تھا ۔کھانا کھاکر میں انھیں سامان تیار کر نے کا کہہ کر بنوں اڈے پہنچ گیا ۔وہاں سے تلہ گنگ کے لیے میں نے ٹوڈی کار ہائر کی اورڈرائیور کے ساتھ واپس پہنچ گیا ۔پلوشہ ماں کے ساتھ مل کر ضروری سامان سمیٹ چکی تھی جو دو پرانے بیگوں میں ٹھونس دیا گیا تھا ۔
کار کی ڈگی میں سامان کے بیگ رکھ کر ہم تلہ گنگ کی طرف روانہ ہو گئے ۔راستے میں کوئی خاص واقعہ نہیں ہوا تھا ۔ڈیرہ اسماعیل خان سے تلہ گنگ تک ساڑھے چار پانچ گھنٹوں کا سفر تھا ۔ہم سہ پہر پانچ بجے گھر کے دروازے پر اتر رہے تھے ۔ڈرائیور کو فارغ کر کے میں سامان کے دونوں بیگ اٹھا کر گھر میں داخل ہوا ۔کئی ماہ بعد میں گھر لوٹ رہا تھا ۔اس دوران نہ تو ابو جان سے فون پر بات ہوئی تھی اور نہ میں کوئی چھٹی خط وغیرہ بھیج سکا تھا ۔
ابو جان صحن میں بچھی چارپائی پر تکیے سے ٹیک لگائے لیٹے تھے ۔مجھے دیکھتے ہی وہ حقیقتاََ اچھل پڑے تھے ۔چارپائی سے اٹھ کر وہ ہاتھ پھیلائے ہوئے میری طرف بڑھے ۔باورچی خانے میں بیٹھی پھوپھو جان نے بھی انھیں یوں بھاگتے دیکھ لیا تھا وہ بھی باورچی خانے سے باہر نکل آئی ۔
”شانی پتر !“مجھے دیکھتے ہی پھوپھو جان نے آواز لگائی ۔اس وقت تک ابو جان مجھے بانہوں میں سیمٹ چکے تھے ۔ابو جان کے بعد پھوپھو جان بھی مجھے وارفتگی سے ملی ۔اس دوران پلوشہ اور اس کی ماں ہمیں دلچسپی سے دیکھتے رہے ۔
”یہ مہمان ....“جذبات کا طوفان تھمتے ہی پھوپھو جان نے سوالیہ لہجے میں کہتے ہوئے پلوشہ کی ماں کی جانب مصافحے کا ہاتھ بڑھایا ۔
”پھوپھو جان !....یہ لڑکی کی ماں ہے ،آپ ذرا لڑکی کو دیکھ کر بتائیں ،شادی کے لیے کسی رہے گی ۔“میں نے پلوشہ کی طرف اشارہ کر کے مزاحیہ انداز میں پوچھا ۔
”ہائیں ....“پھوپھو جان نے ششدر ہو کر مجھے گھورا اور پھر پلوشہ کو دیکھا جو نفاست سے دوپٹا اوڑھے کسی شہزادی کی طرح دکھائی دے رہی تھی ۔گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے نقاب اتار دیا تھا۔
”کک....کیا یہ سچ ہے ۔“پھوپھو جان نے ہکلاتے ہوئے ہاتھ پھیلائے اور اگلے ہی لمحے پلوشہ اس کی مہربان آغوش میں تھی ۔وہ بے ساختہ اس کا معصوم چہرہ چومنے لگی ۔پھوپھو جان کی وارفتگی دیکھتے ہوئے پلوشہ اور زیادہ شرما گئی تھی ۔
”کیا بہت ہی بری شکل ہے لڑکی کی جو آپ پریشان ہو گئیں ۔“میں نے پھوپھو جان کو چھیڑا ۔
”آئے ہائے ،اتنی پیاری لڑکی تو میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی ۔“پھوپھو جان نے پلوشہ کو اپنے ساتھ لپٹائے رکھا تھا ۔
”آئیں بیٹھیں بہن جی !“ابو جان نے پلوشہ کی ماں کو چارپائیوں کی طرف بلایا اور خود عدیل خان کو بازوﺅں میں اٹھا لیا ۔
تھوڑی دیر بعد ٹھنڈے پانی سے پیاس بجھا کر ہم چاے پی رہے تھے ۔پھوپھو جان تو پلوشہ پر صدقے واری جا رہی تھی ۔انھیں ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اپنے لیے ایسی لڑکی ڈھونڈ کر لا سکتا ہوں ۔
رات کو کھانے کے بعد میں نے ابوجان کو اجمالاََ پلوشہ کی کہانی سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اس کی امی جان اور چھوٹا بھائی بھی ہمارے ساتھ ہی رہیں گے ۔
ابوجان میرے فیصلے سے بہت خوش ہو ئے تھے ۔اسی رات پھوپھوجان نے جھٹ منگنی پٹ ویاہ کا حکم صادر فرما دیا تھا ۔اب انھیں یہ تو معلوم نہیں تھا کہ ہم دونوں پہلے ہی سے میاں بیوی تھے ۔یوں بھی یہ بتا کر میں انھیں خفا نہیں کر سکتا تھا ۔ایک مسئلہ یہ پیدا ہو رہا تھا کہ پلوشہ کی ماں اردو صحیح طریقے سے سمجھ بول نہیں سکتی تھی ۔جبکہ پھوپھو جان اور ابوجان کوپشتو نہیں آتی تھی ۔پھو پھوجان اور پلوشہ کی ماں گلناز کے درمیان پلوشہ ہی ترجمان بنی ہو ئی تھی ۔
میرے ساتھ یہ دکھ چمٹا ہوا تھا کہ پلوشہ میری ہو کر بھی مجھ سے دور تھی ۔دوتین بار وہ مجھے دور دور سے زبان نکال کر چڑا چکی تھی ۔اس شوخ و چنچل کے ہاتھ مجھے تنگ کرنے کا بہانہ آگیا تھا ۔وہ رات میں نے بڑی بے قراری میں گزاری تھی ۔اگلی صبح میں اپنے دوست اویس کے گھر کی طرف چل پڑا تاکہ اسے شادی کے بارے بتا سکوں۔گھر سے نکلتے ہی میری نظر ریڑھی والے پر پڑی جو تازہ سبزی سجائے میرے گھر کے دروازے سے بیس پچیس گز دور کھڑا تھا ۔اس کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے سرسری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی لیکن اسے پہچان نہ سکا ۔یوں بھی فوجی حضرات اپنے گاﺅں کے باسیوں کو کم ہی جانتے ہیں ۔اس سے سبزی خریدنے والے ایک آدمی کو تو میں جانتا تھا کہ وہ ہمارا پڑوسی سرفراز صاحب تھا ۔البتہ دوسرا خریدار بھی میرے لیے اجنبی تھا ۔
میں آگے بڑھتا گیا ۔ میرے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر اویس کا گھر آتا تھا ۔دوسری گلی کاموڑ مڑتے ہوئے میں نے بے خیالی میں پیچھے مڑ کر دیکھا اور ریڑھی سے سبزی خریدنے والے کو اپنے پیچھے آتا دیکھ کر مجھے ذرا عجیب سا لگا تھا کیونکہ میرا مشاہدہ تھا کہ ریڑھی سے سبزی خریدنے والے عموماََ اسی محلے کے ہوتے ہیں جہاں ریڑھی والا موجود ہوتا ہے ۔کوئی اتنی دور سے سبزی خریدنے کسی مستقل دکان پر تو جا سکتا ہے ریڑھی پر نہیں ۔لیکن اس ک ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ شاہد وہ اتفاقاََ وہاں سے گزر رہا ہوں اس لیے اس نے اپنے لیے سبزی خرید لی ہو ۔موڑ مڑ کر اویس کی بیٹھک کے قریب پہنچتے ہوئے میں نے ایک مرتبہ پھر پیچھے دیکھا لیکن وہ سبزی والا غائب تھا ،البتہ ایک آدمی ہاتھ میں چھوٹی چھوٹی کتابوں کا بنڈل اٹھائے نظر آیا ۔
میں نے سر جھٹک کر اویس کے دروازے پر دستک دی ۔اویس کے آنے تک کتابیں بیچنے والا میرے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گیا تھا ۔
اس وقت اویس نے دروازہ کھول کر باہر جھانکا مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے ....”ابے تو زندہ ہے ۔“وہ بازو پھیلاتے ہوئے مجھ سے لپٹ گیا ۔
معانقہ کر کے وہ مجھے بیٹھک کے اندر لے گیا ۔اندر داخل ہوتے ہی اس نے بیٹھک کی گھر کی طرف کھلنے والی کھڑکی سے اپنی بیوی کو آواز دے کر چاے وغیرہ کا بتانے لگا ۔اس کی بیوی ارم مجھے اچھی طرح جانتی تھی ۔
”اب سناﺅ جانی !....بہت عرصے بعد چھٹی آئے ہو ؟“تکیہ اٹھا کر میری گود میں رکھتے ہوئے وہ میرے سامنے چارپائی پر بیٹھ گیا تھا ۔
میں ہنسا ۔”بس یار !....تمھارے لیے بھابی ڈھونڈ رہا تھا ۔“
”کیا ....؟میں سمجھا نہیں ۔“وہ حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔اسی وقت گلی میں ایک فقیر کی کے صدا سنائی دینے لگی ،نامعلوم کیوں وہ آواز سن کر میرا دل بے طرح دھڑکنے لگا تھا ۔میری چھٹی حس کسی بہت بڑے خطرے کی نشان دہی کر رہی تھی ۔
”ابے کس سوچ میں غرق ہو گئے ہو ۔“مجھے خاموش پا کر اس نے دوبارہ آواز دی ۔
”آں ....ہاں ....کچھ نہیں یار !....بس کل میری شادی ہے اس بارے اطلاع دینے آیا تھا۔“
”وہی تو پوچھ رہا ہوں ....یہ ایک دم کیسے ؟“
”ارم بہن کی طرح مجھے بھی ایک پٹھان لڑکی ٹکرا گئی اور میں نے فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا ۔“
اس نے اشتیاق سے پوچھا ۔”فلسفہ نہیں محترم ،مکمل تفصیل ....“
اور میں اسے پلوشہ کے بارے ضروری باتیں بتانے لگا ۔اسی دوران ارم بہن چاے لے آئی۔
”ذیشان بھیا!.... کیسے ہیں آپ ۔“چاے اور لوازمات کی ٹرے لکڑی کی میز پر رکھ کر اس نے میرے سامنے سر جھکا دیا ۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے میں نے جواب دیا ۔”بالکل ٹھیک بہنا ۔“
وہ ہم دونوں کو چاے کا ایک ایک پکڑاکر باہر نکل گئی ۔میری بات جاری رہی ۔اویس پلوشہ کے تذکرے کو بڑے غور سے سنتا رہا ۔میں نے اسے پلوشہ سے شادی ہو جانے کی بابت بھی سچ سچ بتا دیا تھا ۔
میری بات ختم ہوتے ہی اس نے حیرانی سے پوچھا۔”تو اب دوبارہ شادی کرنے کا مطلب؟“
”یار !....پلوشہ کی ماں اور میرے گھر والے تو اس شادی سے لاعلم ہیں تو کیوں نا دوبارہ شادی کر کے انھیں خوش ہونے کا موقع دیا جائے ۔“
”ہونہہ!....چلو جیسے آپ کی مرضی ۔“
میں اس کے ساتھ گھنٹا ڈیڑھ بیٹھ کر گپ شپ کرتا رہا ۔اس دوران میرے دماغ میں عجیب قسم کے اندیشے پرورش پاتے رہے ۔میری چھٹی حس بار بار مجھے آنے والے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی ۔ بہ ظاہر سب کچھ ٹھیک تھا مگر درپردہ کسی طوفان کی آمد کے آثار نہایت واضح تھے ۔
اویس نے جلد ہی میری بے توجہی کو جان لیا تھا ۔وہ طنزیہ لہجے میں بولا ۔
”شاید کافی دیر سے آپ پلوشہ بہن کو نہیں دیکھ پائے ہیں اس لیے ہر بات کا جواب ہاں ، ہوں سے زیادہ نہیں مل رہا۔اس لیے بہتر ہو گا کہ آپ تشریف لے جائیں ۔“
”ٹھیک ہے چلتا ہوں ۔“میں نے اس کی بات جھٹلانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آیا اور سہ پہر کو ملنے کا کہہ کر الوداعی مصافحہ کرنے لگا ۔گلی میں نکلتے ہی میں نے محتاط انداز میں دائیں بائیں دیکھا ۔سفید کاٹن کا سوٹ پہنے ایک آدمی سامنے سے آتا دکھائی دیا ۔میں نے اسی طرف جانا تھا ۔میں اس کے قریب سے گزرتا چلا گیا ۔اگلی گلی میں ایک سبزی ریڑھی والا آہستہ روی سے جاتا دکھائی دیا ۔میں تیز رفتاری سے چلتے ہوئے اس کے پاس سے گزرتا چلا گیا ۔چند قدم آگے جا کر میں نے ایک دم پیچھے مڑ کر دیکھا مگر وہ میری طرف متوجہ نہیں تھا اس کے باوجود مجھے اپنے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی نظر آ رہی تھیں ۔میں نے کبھی کسی ایجنسی کے لیے کام نہیں کیا تھا مگر ان کے طریقہ کار سے اچھی طرح واقف تھا ۔نہ جانے کیوں مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میرے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔یا شاید وہ میرے اندر کا خوف تھا جو ہر راہ گیر مجھے آئی ایس آئی کا رکن نظر آ رہا تھا ۔ میں نے سر جھٹک کر اس خیال کو دماغ سے نکالنے کی کوشش کی مگر کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی تھی ۔
گھر پہنچنے پر مجھے محلے کی کافی خواتین صحن میں بیٹھی نظر آئیں ،مجبوراََ میں بیٹھک میں گھس گیا ۔ ابو جان پہلے سے وہاں موجود تھے ۔پلوشہ کا چھوٹا بھائی عدیل خان ان کے پاس ہی بیٹھا تھا۔عدیل خان کو بھی پشتو کے علاوہ کوئی زبان بولنا نہیں آتی تھی ۔ابو جان اس کے لیے نمکو وغیرہ لے آیا تھا اور وہ ان کے پاس بیٹھا نمکو کھانے کو جڑا ہوا تھا ۔
میں ۔”اسلام علیکم ۔“کہتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔
”صبح سے کہاں غائب ہو یار !....“سلام کا جواب دیتے ہوئے ابوجان کہنے لگے ۔”نہ تو عدیل خان کی سمجھ میں میری بات آتی ہے اور نہ اس کی باتیں میرے پلے پڑ رہی ہیں ۔جبکہ پلوشہ بیٹی تو بہت اچھی اردو بولتی ہے ۔بلکہ آج صبح تو اس نے مجھ سے پنجابی میں بھی بات چیت کی ہے ۔“
”بتائیں پھر کیسی بہو ڈھونڈ کر دی ہے ۔“
ابو جان نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”بس زندگی میں یہی ایک اچھا کام کیا ہے ۔“ اور میں کھل کھلا کر ہنس پڑا ۔
اسی وقت پھوپھو جان نے اندر آکر کھانے کا پوچھا ۔
”پھوپھوجان بھجوا دیں کھانا اور خود زحمت نہ کرنا ،گھر میں کوئی اور بھی تو موجود ہو گا ۔“
”اور کون ہے گھر میں ،اب دلھن بیٹی تو تمھیں کھانا دینے آ نہیں سکتی ۔“
”دھت تیرے کی ۔“میں نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا ۔”ٹھیک ہے آپ ہی لے آئیں ۔“
پھوپھو جان دو ٹوک لہجے میں بولی ۔”مہینا بھر تو میں دلھن کو کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دوں گی۔“
”ٹھیک ہے پھوپھو جان !....اسے چڑھا لو سر پر ،مگر بعد میں مجھے گلہ نہ کرنا ۔“
”شانی !....میں پلوشہ بیٹی کے خلاف دوبارہ ایک لفظ بھی نہ سنوں تمھارے منھ سے ۔“
”چلیں جی اپنی تو قسمت ہی پھوٹی تھی جو اس لڑکی کو شادی کے لیے لے آیا ۔“پھوپھوجان ہنستی ہوئی بیٹھک سے باہر نکل گئی ۔ابو جان بھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے تھے ۔
”ابو جان دیکھ لی اپنی بہو کی حرکت ۔ایک ہی دن میں پھوپھوجان کو مجھ سے چھین لیا ۔پتا نہیں آگے کیا گل کھلائے گی ۔“
”ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھیں تمھاری پھوپھو۔“ابو جان نے بھی پھوپھو کی طرف داری میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
میں نے منھ بنایا۔”یعنی یک نہ شد دو شد۔“
”ہم تو بھئی ترسے ہوئے تھے بہو کے لیے ،اب اتنی پیاری بہو اللہ پاک نے جھولی میں ڈال دی ہے تو یقینا اسی کی طرف داری کریں گے ۔“
”عدیل خان !....تم سناﺅ ،کب اسکول جانا ہے ؟“میں پلوشہ کے چھوٹے بھائی کو مخاطب ہوا۔
وہ معصومیت سے بولا۔”جب آپ کہیں لالا۔“
میں ابو جان کو اس کے اسکول میں داخلے کا بتانے لگا ۔اسی اثناءمیں پھوپھو جان کھانا گرم کر کے لے آئیں اور ہم کھانے کو جڑ گئے ۔کھانے کے بعد پھوپھو جان میرے سر ہو گئیں کہ انھیں شاپنگ کے لیے شہر لے جاﺅں ۔اور میں ٹیکسی کروا کر انھیں شہر لے آیا ۔عدیل خان کو بھی میں نے ساتھ لے لیا تھا ۔ اس دوران ہر لمحہ یہی احساس میرے ساتھ رہا کہ میں ان دیکھی نگاہوں کے حصار میں ہوں ۔اگر میرا گمان صحیح تھا تو میرے بھاگنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی تھی ۔میں نے وقتی طور پر ان تکلیف دہ احساسات کو دور جھٹکا
پھو پھو جان نے زیادہ تر خریداری پلوشہ کے لیے کی تھی ۔درجن بھر سوٹ ،جیولری ،جوتے ، میک اپ کا سامان اور بھی جانے کیا کیا ۔پلوشہ ایک ہی دن میں پھوپھو جان کے دل پر قابض ہو گئی تھی ۔ وہ تھی ہی ایسی شوخ ،چنچل اور دل موہ لینے والی ۔
شام کی آذان تک ہم واپس لوٹ آئے تھے ۔پلوشہ کی فرمائش کے مطابق میں نے سونے کے کنگن بھی خرید لیے تھے ۔
٭٭٭
اگلے دن بعد از نماز ظہر ہمارا نکاح تھا اور شام کو رخصتی تھی ۔رخصتی کیا ،بس پھوپھو کے کمرے سے پلوشہ کو میرے کمرے تک آنا تھا ۔مجھے سچ مچ یوں لگ رہا تھا جیسے اس نے پہلی بار میری زندگی میں آنا ہو۔شادی کی رسموں نے میرے دماغ سے اس خطرے کو وقتی طور پرمحو کر دیا تھا جس کی تلوار پچھلے دو دن سے میرے سر پر لٹک رہی تھی ۔
شادی میں میری سابقہ بیوی ماہین کے والد چچا حشمت اور اس کے دونوں بیٹوں نے شرکت کی تھی ۔نکاح کے بعد انھوں نے بڑے خلوص سے مجھے مبارک باد دی تھی ۔ماہین کے متعلق مجھے پتا چلا تھا کہ اس کی شادی چند ماہ سے زیادہ نہیں چل سکی تھی ،مہینا بھر پہلے ہی اس نے اپنے دوسرے شوہر طاہر سے طلاق لے لی تھی ۔ان کے درمیان جھگڑے کی وجہ تو مجھے معلوم نہیں ہو پائی تھی ،مگر اتنا میں پہلے سے جانتاتھا کہ ایسی شادیاں کامیاب نہیں ہوا کرتیں ۔نہ ماہین جیسی لڑکیاں اچھی بیوی ثابت ہوتی ہیں اور نہ طاہر جیسے بد کردار کسی عورت کو اس کا صحیح مقام دے سکتے ہیں ۔
جن مردوں کے نزدیک عورت کی حیثیت جنسی کھلونے سے بڑھ کر نہیں ہوتی وہ عورت کا مقام کیا جانیں ۔حالانکہ شکل و صورت اور جسمانی خد و خال سے ہٹ کر بھی عورت کی ایک شناخت ہے ۔ شریک حیات کا مطلب زندگی کے ہر دکھ سکھ کو برابر بانٹنا ،ہر اذیت کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ،ہر خوشی پر یکساں حق جتانا ہوتا ہے ۔
کسی کو پسند کرنا یا چاہنا طبی میلان کے زیر اثر ہوتا ہے ،لیکن انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ شادی کے وقت ہر مرد و عورت کو اپنی پسند کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔اگر گھر والوں اور خاندان کے دباﺅ میں آکر کوئی دوسری جگہ شادی کر بھی لیتے ہیں تو پھر اس رشتے کو نبھانا چاہیے ۔کسی مرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی شریک حیات کو اس کا اصل مقام نہ دے اسی طرح کسی عورت کو بھی یہ روا نہیں کہ وہ شوہر کی امانت میں خیانت کی مرتکب ہو ۔شادی ہو جانے کے بعد بغاوت کرنا بے غیرتی اور بے حیائی کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس لیے بہتر یہی ہے شادی سے پہلے ہی لڑکی یا لڑکے کو اپنے بزرگوں کو اعتماد میں لے لینا چاہیے ۔ اسی طرح بزرگوں کا بھی کام بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ترجیحات کو مدنظر رکھیں ۔ان کی پسند کو اہمیت دیں ۔ ان کے جذبات کی قدر کریں ۔خالی بزرگی کی دھونس اور بڑے پن کا ناجائز استعمال نہ کریں ۔
بہ ہر حال کچھ بھی تھا مجھے ماہین کی ناکام شادی کے بارے جان کر خوشی نہیں ہوئی تھی۔البتہ یہ بات میرے لیے شکر کا باعث ضرور تھی کہ مجھے جلد ہی اس کی اصلیت معلوم ہو گئی تھی ۔ورنہ تو ایسی عورتیں ساری زندگی اپنے شوہر کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہتی ہیں اور شوہر اپنی آنکھوں پر بیوی کی خدمت اور محبت کی پٹی باندھے قبر میں جا اترتا ہے ۔
٭٭٭
نکاح کی سنت مسجد ہی میں ادا کی گئی تھی ۔اس کے بعد تکمیل سنت میں ابوجان نے چھوارے بھی پھینکے کہ ایسے موقع پر حاضرین کی طرف چھوارے اچھالنا سنت ہے ۔
واپسی پر ہم بیٹھک میں آ کر بیٹھ گئے ۔مجھے رات تک کا وقت گزارنا مشکل ہو رہا تھا ،یوں لگ رہا تھا جیسے پلوشہ کئی سالوں سے مجھ سے دور ہو ۔اس کے ساتھ ہی میری چھٹی حس بھی رہ رہ کر کسی انہونی کا اعلان کرنے لگتی ۔
عصر کی نماز بھی ہم نے مسجد ہی میں ادا کی تھی ۔نماز ادا کر کے ہم دوبارہ بیٹھک میں آ گئے تھے۔گھر کے اندر سے عورتوں ،لڑکیوں اور بچوں کا شور ایک تسلسل سے سنائی دے رہا تھا ۔نعروں کی گونج سے پتا چل رہا تھا کہ ڈھولک کی تھاپ پر لڑکیاں بالیاں رقص وغیرہ بھی کر رہی تھیں ۔
مہمان آہستہ آہستہ رخصت لے کر واپس جا رہے تھے ۔اچانک بیٹھک کے اندر دو اجنبی داخل ہوئے ۔میں اس وقت اتفاق سے دروازے ہی کی طرف متوجہ تھا ۔ان کی عقابی آنکھیں ،پر اعتماد انداز اور ہونٹوں پر کھلتی دھیمی مسکراہٹ مجھے لرزا گئی تھی ۔میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔مجھے محسوس ہوا کہ گزشتا دو دن سے میرے اندر پلنے والے اندیشے سچ ثابت ہونے جا رہے تھے ۔
وہ دائیں بائیں سے بے نیاز سیدھا میرے قریب پہنچے ۔
”اسلام علیکم !....ذیشان بھائی کیا حال ہے ۔“قریب آتے ہی ان میں سے ایک کسی پرانے شناسا کی طرح مجھے مخاطب ہوا ۔
میں ۔”وعلیکم اسلام ۔“کہہ کر کھڑا ہوا اور دونوں سے مصافحہ کر کے انھیں بیٹھنے کی دعوت دی ۔ اس وقت میرے ساتھ چارپائی پر اویس اور ایک دوسرا دوست بیٹھا تھا ۔انھوں نے ایک طرف ہو کر ان دونوں کو بیٹھنے کی جگہ دی ۔
”شادی مبارک ہو ذیشان بھائی ۔“اس مرتبہ دوسرا آدمی مجھے مخاطب ہوا ۔
”خیر مبارک ،شکریہ ۔“میں تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔
”میرا نام خرم ہے اور یہ ارسلان ہے ۔“اس نے اپنا اور ساتھی کا تعارف کرایا ۔لیکن اتنا تو مجھے بھی یقین تھا کہ وہ دونوں فرضی نام تھے ۔
”حکم کریں خرم بھائی ۔“ گو میں ان کا مطمح نظر جانتا تھا لیکن پھر بھی پوچھنا ضروری سمجھا ۔
خرم گلا کھنکارتا ہوا بولا ۔” اس خوشی کے موقع پر ہم کوئی اچھی خبر نہیں لائے ۔ایک ایمرجنسی کی وجہ سے آپ کو اسی وقت یونٹ میں حاضر ہونا ہے ۔“
میں اس ایمرجنسی سے واقف تھا ۔وہ میری عزت رکھنے کے لیے مجھے باقاعدہ گرفتار نہیں کر رہے تھے ۔اگر میں ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیتا تو یقینا وہ مجھے زبردستی لے جاتے ۔لیکن میں اتنا احمق نہیں تھا کہ ایسی بے وقوفی کرتا ۔البتہ نرمی سے اجازت لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔میں نپے تلے الفاظ میں بولا ۔
”اگر صبح تک رکنے کی اجازت مل جائے تو شکر گزار ہوں گا ۔“
”یقینا ایسا ہی ہونا چاہیے تھا ،مگر جواحکامات ملے ہیں اس کے مطابق آپ کے پاس آدھے گھنٹے کا وقت ہے ۔شام کی آذان سے پہلے ہم یہاں سے نکل جائیں گے ۔“اس مرتبہ بھی خرم ہی نے جواب دیا تھا ۔شاید سینئر وہی تھا ۔
میں نے اجازت طلب کرنے کے انداز میں پوچھا ۔”ٹھیک ہے ،میں گھر والوں سے اجازت لے کر آتا ہوں ۔“
خرم نے اعتماد بھرے انداز میں اجازت دیتے ہوئے کہا ۔”جی بھائی ،بتا دیا نا آپ کے پاس آدھا گھنٹا ہے ۔“
میرے جانے کی بات ابو جان کے پاس بھی پہنچ گئی تھی وہ فوراََ قریب ہوئے اور وجہ دریافت کرنے لگے ۔میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا ۔
”ابو جان !....کوئی ضروری کام آن پڑا ہے اس لیے بڑے افسر نے مجھے فوری طور پر بلوایا ہے ،اسی وجہ سے اس نے سرکاری گاڑی بھی بھیجی ہے ۔آپ فکر نہ کریں ۔ امید ہے چند دنوں تک میں لوٹ آﺅں گا ۔“
”مگر ایک دو دن کے بعد بھی تو جایا جا سکتا ہے بیٹا۔“ابوجان معترض ہوئے ۔
”ابو جان !....اسی کا نام فوج ہے ،اگر مجھے فی الفور حاضر ہونے کا حکم دیا ہے تو کوئی وجہ ہو گی ، خالی تنگ کرنا تو مقصد نہیں ہے نا کسی افسر کا ۔“
میرے لہجے کے اتار چڑھاﺅاور چہرے کے اثرات میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ ابوجان نے اصرار نہیں کیا تھا ۔میں نے ایک چھوٹے لڑکے کو بھیج کر پھوپھوجان کو دروازے پر بلایااور کہا کہ پردہ دار خواتین کو پردہ کرنے کا بتا دے میں گھر کے اندر آرہا ہوں ۔
انھوں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کوئی ضروری کام تھا بیٹا ۔“
”ہاں پھوپھو !....پلوشہ سے ملنا ہے ،مجھے ایمرجنسی میں واپس جانا پڑ رہا ہے ۔“
”کیا مطلب ،واپس جانا پڑ رہا ہے ۔“وہ ششدر رہ گئی تھیں ۔
”پھوپھو جان !....کہہ تو دیا کہ ایمرجنسی ہے ،زیادہ سوال و جواب کا وقت نہیں ہے ۔میں نے فوراََ جانا ہے ۔“
پھوپھو جان بادل نخواستہ سر جھٹکتی ہوئی اندر گھس گئی ۔ایک دو منٹ انتظار کے بعد مجھے بھی اندر جانے کی اجازت مل گئی ۔میں سیدھا دلھن کے کمرے کی طرف بڑھا ۔پھوپھوجان نے وہاں موجود خواتین کو باہر نکال دیا تھا ۔اس وقت دولھے کا دلھن کے کمرے میں جانا سب کے لیے اچنبھے کا باعث تھا مگر میرے پاس ان کی حیرانی دور کرنے کا وقت نہیں تھا ۔
میرے اندر داخل ہونے کی آہٹ سنتے ہی پلوشہ گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی تھی ۔اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی ایک لمحے کے لیے تو میں ساری پریشانیاں بھول کر اسے مبہوت ہو کر دیکھنے لگا ۔روایتی دلھن کا روپ دھارے وہ تختِ حسن پر براجمان ایسی ملکہ کی طرح لگ رہی تھی کہ جس کے سامنے جنت کی حوریں ،کوہ قاف کی اپسرائیں اور دنیا کی تمام حسینائیں ہاتھ باندھے کھڑی ہوں ۔اس کے جسم پر سجے زیورات ضور اپنی خوش قسمتی پر رشک کر ہے تھے ۔
”راجو !....کیا ہوا ؟....خالہ جان کہہ رہی ہیں آپ نے ابھی واپس جانا ہے ۔“وہ جسے میں نے زندگی کے کسی مرحلے میں خوف زدہ نہیں دیکھا تھا اس وقت مجھے سہمی ہوئی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ۔
”سب ٹھیک ہو جائے گا راجو کی جان !“میں نے اسے بازوﺅں کے گھیرے میں لے کر تسلی دینے کی کوشش کی ۔مگر اپنے لہجے میں اعتماد کا فقدان خود مجھے بری طرح کھل رہا تھا ۔وہ تو پھرپلوشہ تھی جو میرے دل میں چھپے خیالات کو بغیر بتائے جان جایا کرتی تھی ۔
”راجو !....مجھے ڈر لگا رہا ہے ۔“میری چھاتی پر سر رکھتے ہوئے وہ کراہی ۔
”غلط فہمیاں زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہ پائیں گی چندا ....میں ان شاءاللہ جلد ہی لوٹ آﺅں گا ۔میرا خیال ہے البرٹ روک نے میری وڈیوز ایجنسیوں تک پہنچا دی ہیں ۔ابھی ایجنسی کے آدمی ہی مجھے لینے آئے ہوئے ہیں ۔لیکن فکر کی ضرورت نہیں ۔نہ تو میں مجرم ہوں اور نہ ہماری ایجنسیاں اتنی احمق ہیں کہ دشمنوں کی چال کو سمجھ نہ پائیں ۔“
اس نے سسکتے ہوئے کہا ۔”میں آپ کے ساتھ جاﺅں گی ۔“
”پاگل نہ بنو چندا !....گھر والوں کو کون تسلی دے گا ۔اور تم اپنے سردار بھائی کو فون کر کے میری خیریت معلوم کر لینا میں اس کا موبائل فون نمبر تمھیں لکھ دیتا ہوں ۔“
وہ مصر ہوئی ۔”راجو !....آپ مجھے ساتھ لے جائیں نا ....میں متعلقہ آفیسرز سے بات کر کے ان کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کروں گی ۔“
”چھوڑو اس بحث کو تم کہیں بھی نہیں جا رہی ہو ....س میرے بعد میرے ابو جان اور پھوپھو جان کا خیال کرنا ....اور دیکھو میں اپنی چندا کے لیے کتنے پیارے کنگن لایا ہوں ۔“میں نے جیب سے خوب صورت قیمتی کنگن نکال کر اس کی ریشمی کلائیوں میں پہنانے لگا ۔
وہ بے آواز آنسو بہانے لگی ۔
”یقینا تمھارے آنسو مجھے اتنی تکلیف دے رہیں جتنی کسی کو عالم نزع میں ہو سکتی ہے ۔“
”راجو !....اگر آپ کو کچھ ہوا تو آپ کی پلوشے زندہ نہیں رہ پائے گی ۔“
”مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا پگلی ۔“
”اگر ہم دونوں بھاگ جائیں ....؟“اس نے امید بھرے لہجے میں تجویز پیش کی ۔
”بے وقوفوں والی بات نہ کرو ایسا کر کے میں خود پر لگے الزاموں کو سچا ثابت نہیں کرنا چاہتا ۔“ میں نے پلوشہ کو سمجھانے کی کوشش کی ،حالانکہ خود میرا دل یہی کر رہا تھا کہ وہاں سے نکل بھاگوں ....لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ میں اس وقت آئی ایس آئی کے گھیرے میں تھا اور ان سے کوئی بعید نہیں تھا کہ اس وقت آئی ایسا آئی کے چند ارکان عورتوں کے روپ میں برقع اوڑھے اس کمرے کے گرد میرے منتظر ہوتے ۔بھاگ کر اپنی لیے سختیاں بڑھانے سے بہتر تھا کہ میں آرام سے گرفتاری دے دیتا ۔ اور میں نے یہی کیا ۔
بڑی مشکل سے میں نے پلوشہ کو راضی کیا ۔وہ بار بار رونے لگتی ۔وہ ایک ہی رٹ لگا رہی تھی کہ اسے ڈر لگ رہا ہے ۔گو ڈرا ہوا تو میں بھی تھا ۔اگر کوئی حوصلے کی بات تھی تو وہ یہ تھی کہ میرا دامن کسی بھی قسم کی غداری اور جرم سے پاک تھا ۔البتہ یہ معلوم نہیں تھا کہ میری بے گناہی کتنے عرصے میں ثابت ہوتی ۔میں نے تو یہ منصوبہ بنایا ہوا تھا کہ پلوشہ کو گھر میں پہنچا کر اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے جاتا مگر اس سے پہلے ہی یہ مصیبت ٹوٹ پڑی تھی ۔
پلوشہ سے الوداعی ملاقات کر کے میں پھوپھوجان سے ملا اور جلد آنے کا کہہ کر گھر سے نکل آیا۔ بیٹھک میں ابوجان اور چند دوسرے احباب سے ہشاش بشاش انداز میں ملتے ہوئے میں خرم اور ارسلان کے پاس آ گیا ۔
”چلیں بھائی ۔“سخت پریشان ہونے کے باوجود میں نے بہ ظاہر مزاحیہ انداز اپنایا ہوا تھا تاکہ کسی کو میری پریشانی کے بارے معلوم نہ ہو جائے ۔
وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑے ۔ہمارے دروازے پر ہی ایک کالے شیشوں والی ڈبل کیبن کھڑی تھی ۔جس کی باڈی میں تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے ۔میں خرم اور ارسلان کے درمیان عقبی نشست پر بیٹھ گیا ۔اگلی سیٹ پر پہلے ہی سے دو آدمی موجود تھے ۔
ہمارے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی موڑی اور ہم گاﺅں سے باہر کی طرف چل پڑے ۔بڑی سڑک پر آتے ہی ارسلان نامی آدمی نے جیب سے ایک کالے رنگ کا کپڑا نکالا اور میرے سرپر چڑھا دیا۔ اب ارد گرد کے سارے منظر اندھیرے میں ڈوب گئے تھے ۔
جاری ہے
 

گاڑی کافی دیر چلتی رہی ۔اس دوران کسی نے بھی بات چیت نہیں کی تھی ۔میں بھی خاموش بیٹھا آنے والے پر اذیت لمحات کا سوچ رہا تھا ۔میں جانتا تھا کہ ایجنسی والے ملک دشمنوں کے لیے کیسے جلاد کا روپ دھارتے ہیں ۔گو میں ملک دشمن نہیں تھا لیکن میرے خلاف جو ثبوت موجود تھے وہ مجھے ملک دشمن ثابت کرتے تھے ۔اور میرا بے گناہ ہونا میرے کہنے سے تو ثابت نہیں ہو سکتا تھا ۔ایجنسی کا اپنا طریقہ کار تھا اب نہ جانے انھوں نے کس طریقے سے میری بے گناہی کا یقین کرنا تھا ۔ہمارا سفر چند گھنٹے جاری رہا ۔اس دوران گاڑی نے کئی موڑ کاٹے تھے ۔میرا اندازہ یہی تھا کہ ہم راولپنڈی شہر میں داخل ہوئے تھے ،لیکن یقین سے کچھ کہنا مشکل تھا ۔ٹریفک اور لوگوں کے ملے جلے شور سے کسی شہر کے بارے اندازہ لگانا مشکل تھا ۔
گاڑی کے رکنے پر بھی انھوں نے میرے سر سے کپڑا نہیں اتارا تھا ۔میرے دائیں انب ارسلان بیٹھا تھا اسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر گاڑی سے نیچے اتارااور ایک جانب آگے بڑھ گیا ۔اس کی معیت میں چلتے ہوئے میں نے تین چار موڑ کاٹے دو بار سیڑھیاں اتریں اور اور پھر میرے سفر کا اختتام ہو گیا ۔میرے سر سے کپڑا اتارا گیا ۔وہ ہر قسم کے سامان سے عاری کمرہ تھا ۔بس ایک کونے میں لکڑی کا تختہ نصب تھا جو زمین سے فٹ بھر اونچا تھا ۔اس پر ایک کمبل بچھا تھا اور سفید رنگ کا تکیہ پڑا تھا ۔
میں نے سرسری نظر دوڑاکا کمرے کا جائزہ لیا ۔میرے ساتھ وہاں تک اکیلا ارسلان ہی آیا تھا۔ میری جامہ تلاشی لے کر اس نے میری جیبوں سے تمام چیزیں نکال کر ایک مومی لفافے میں ڈالیں اور خاموشی سے باہر نکل گیا ۔جاتے ہوئے وہ لوہے کا مضبوط دروازہ باہر سے بند کر گیا تھا ۔یقینا ان کی ذمہ داری مجھے وہاں تک لانے کی تھی ،پوچھ گچھ کے لیے کسی اور نے وہاں آنا تھا ۔میں لکڑی کے پھٹے پر لیٹ گیا ۔میری قسمت میں انتظار ہی کی زحمت لکھی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی میرے لیے رات کا کھانا لے آیا ۔وہ اکیلا تھا اور بغیر کسی ہتھیار کے تھا ۔کمرے میں کوئی میز وغیرہ تو موجود نہیں تھی ۔اس نے کھانے کی ٹرے میرے سامنے بستر پر رکھی اور کچھ کہے بنا باہر نکل گیا ۔
بھوک نہ ہونے کے باوجود میں نے چند نوالے زہر مار کیے ۔اور غسل میں گھس کر وضو کرنے لگا۔ شام کی نماز سفر کی نذر ہو گئی تھی ۔شام کی قضا نماز پڑھ کر میں نے عشاءکی نماز ادا کی اور سونے کے لیے لیٹ گیا ۔
کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد ہی میں سونے میں کامیاب ہو سکا تھا ۔دیر سے سونے کے باوجود صبح جلدی میری آنکھ کھل گئی تھی ۔گھڑی وغیرہ کی غیر موجودی میں میں وقت کا اندازہ تو نہیں کر سکتا تھا بس اندازے ہی سے نماز ادا کی اور دوبارہ لیٹ گیا ۔
تھوڑی دیر بعد میرے لیے ناشتا آگیا ۔اور پھر میں ناشتے سے بہ مشکل فارغ ہی ہوا تھا کہ دروازہ کھول کر ایک آدمی پلاسٹک کی کرسی اٹھائے ہوئے اندر داخل ہوا ۔کرسی اس نے میری چارپائی کے سامنے رکھی اورناشتے کے خالی برتن اٹھاکر باہر نکل گیا ۔اس کے باہر جانے کے چند لمحے بعد قدموں کی آہٹ ہوئی ۔آنے والی شخصیت کو دیکھ کر میں حیرت سے اچھل پڑا تھا ۔وہ میجر اورنگ زیب تھا ۔میں بے اختیار کھڑا ہو گیا ۔
”بیٹھو ۔“کرسی پر نشست سنبھالتے ہوئے وہ سنجیدہ لہجے میں بولا ۔اس کے چہرے پر شناسائی کی ہلکی سی رمق بھی موجود نہیں تھی ۔
میں آہستگی سے بیٹھ گیا ۔چند لمحے مجھے گھورنے کے بعد وہ بغیر کسی تمہیدی جملے کے براہ راست مطلب کی بات پر آگیا ۔
”تو ایسا کرنے کی وجہ کیا تھی ؟....اپنی محبوبہ کی جان بچانا ،ڈالرز یا گرین کارڈ کا حصول ۔“
میں نپے تلے الفاظ میں بولا ۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہے سر !....اصل کہانی کوئی اور ہے ۔“
اس نے کہا ۔”تو شروع ہو جاﺅ ۔“
مجھے معلوم نہیں تھا کہ سردار نے میرے جانے کے بارے انھیں کیا بتایا تھا ۔لیکن میں اس وقت سچ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا تھا کیونکہ میرے بیان کا ہلکا سا تضاد میری مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ۔لمحہ بھر سوچ کر میں نے اپنے دماغ میں واقعات کو ترتیب دی اور پھر اس وقت سے بات شروع کی جب سردار خان اور میں نے وچہ نرائے جانا تھا ۔پلوشہ کا اپنی ماں اور بھائی کی وجہ سے مجھے پکڑوانا ،میرا البرٹ بروک کے ہاتھوں دھوکا کھانا ،وڈیو کلپس کی حقیقت ،پلوشہ کا مجھے بچانے کے لیے لوٹنا ، صنوبر خان کی موت اور میری گھر واپسی تک میں نے تمام ضروری باتیں اورنگ زیب صاحب کے گوش گزار کردیں۔ اس دوران اس نے مجھے ٹوکنے یا کسی قسم کے سوال کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔میری بات ختم ہوتے ہی وہ کہنے لگا ۔
”تم نے رہا ہوتے ہی ڈی بلاک میں رابطہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی تھی ۔یا میں نے تمھیں الفا ٹو یعنی سبیل خان سے رابطہ کرنے کا کہا تھا ،اسے بھی تم نے اپنی رہائی کی بابت نہیں بتایا ۔“
”کیونکہ میں اپنی رہائی کے ثبوت حاصل کر کے ہی آپ سے رابطہ کرنا چاہتا تھا ۔“
”جانتے ہو ،ہمارے ذرائع نے یہ بتایا ہے کہ تم نے صنوبر خان کو اپنے امریکی آقاﺅں کے کہنے پر قتل کیا ہے ۔صنوبرخان کی امریکیوں سے کوئی ان بن ہو گئی تھی اور انھوں نے تمھارے ذریعے اس کا کانٹا نکال دیا ۔“
البرٹ بروک واقعی بہت خبیث شخص تھا ۔صنوبر خان کاقتل جس کی بہ دولت مجھ پر غداری کا الزام ہلکا ہو سکتا تھا وہ اسے بھی میری مخالفت میں استعمال کر چکا تھا ۔
”سر !....امریکن میری نشانہ بازی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔اگر انھوں نے میرے ہاتھوں سے صنوبر خان کو مروانا ہوتا تو میں نے سنائپر رائفل سے اسے ختم کیا ہوتا جبکہ آپ جانتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے ۔اسے پلوشہ اورمیں نے اس وجہ سے قتل کیا کہ اس نے پلوشہ کو بلیک میل کرنے کے لیے اس کی ماں اور بھائی کو حبس بے جا میں رکھا ۔پلوشہ کو تشدد کا نشانہ بنایااور سب سے بڑھ کر وہ دہشت گرد تھا اور اسے ختم کرنے کا حکم مجھے پہلے سے مل چکا تھا ۔“
”اسے ختم کرنے کا باقاعدہ حکم تمھیں کس سے ملا تھا ۔“
”آپ سے ۔“
”میں نے کب کہا کہ صنوبر خان کو قتل کرو ۔“
”جب قبیل خان کو قتل کرنے کا حکم آپ دے سکتے ہیں ، اس کے جانشین جہاں داد کے قتل پر مجھے شاباش دے سکتے ہیں تو صنوبر خان بھی تو اسی کردار کا مالک تھا ۔“
”ہو گا ....لیکن باقاعدہ حکم نہیں دیا گیا تھا ۔تمھیں آخری حکم وچہ نرائے پہنچنے کا ملا تھا جس پر تم نے عمل نہیں کیا اور ایک لڑکی کی خاطر اپنے فرض سے غافل ہو گئے ۔تمھارا کورٹ مارشل ہونے کے لیے اتنی وجہ کافی ہے ،لیکن تم نے صرف اپنے فرض سے غفلت نہیں برتی بلکہ تم پر غداری کا الزام لگا ہوا ہے جس کے ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں ۔تم نے پاک آرمی کے کئی جوانوں اور آفیسرز کو شہید کرنے کا اعتراف کیا ہے اس کے لیے رقم وصول کی ہے ،اب تمھارا یہ کہنا کہ وہ فقط ایک ڈراما تھا تو یہ بات کوئی بھی نہیں مانے گا ۔“
”سر !....یہ میرے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ،امریکہ میں کورس کے دوران بھی انھوں نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی تھی اور پھر مجھے اپنے دوست سردار کی خاطر ان کا کام کرنا پڑا ....“ میں اسے امریکہ میں ہونے والا واقعہ سنانے لگا ۔
”یہ ساری بات سردار مجھے بتا چکا ہے اور یہ بات تمھارے کردار کو اور مشکوک کر رہی ہے ۔ کرنل کولن فیلڈ نے تم سے پہلی ملاقات میں اسی بات کا حوالہ دیا ہے کہ البرٹ بروک امریکہ ہی سے تمھیں اپنے لیے کام کرنے پر مائل کر چکا تھا اور تم نے نامعلوم وجوہات کی وجہ سے کچھ مہلت طلب کی تھی ۔اسی طرح سردار خان کے بہ قول وہاں امریکہ میں بھی تم اکیلے اکیلے ہی ان سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے ہو اور ان کے لیے کام بھی کرتے رہے ہو سردار کو وہی معلوم ہے جو اس نے تمھاری زبان سے سنا ،باقی واپسی پر تمھارے اکاﺅنٹ میں کافی بھاری رقم بھی جمع کی گئی ۔ایک سپاہی کے لیے پچاس ہزار ڈالر کوئی معمولی رقم نہیں ہوتی ۔“
”وہ رقم مجھے سنائپر کورس میں پہلی پوزیشن لینے پر بہ طور انعام ملی تھی ۔“
اس نے منہ بنایا ۔”کسی کورس میں اول پوزیشن لینے پر اتنی رقم نہیں ملا کرتی ۔“
”یونھی سہی ....مگر آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں نے وہاں ایک یہودی کو بھی قتل کیا تھا شاید وہ رقم اس کا انعام ہو بہ ہر حال میرے حوالے وہ سنائپر کورس میں اول پوزیشن حاصل کرنے کا انعام بتا کر کی گئی تھی ۔“
”تم نے واپسی پر اپنی یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر کو امریکہ میں ہونے والے حادثے کی اطلاع کیوں نہیں دی تھی ۔“
”کیوں کہ میرے تیئں وہ ایک حادثہ تھا جس سے ہم دونوں بہ خیریت گزر چکے تھے ۔اس کے ساتھ مجھے یہ بھی ڈر تھا کہ شاید میرا امریکنوں کے لیے کام کرنے والا فیصلہ غلط ہو اور کمانڈنگ آفیسر اس پر کوئی سزا سنادیں ۔“
” سردار اور تم نے ایک اور غلط کام یہ کیا کہ پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے کے باوجود دہشت گردوں سے چھینے ہوئے ہتھیار مجاہدین کے حوالے کرتے رہے ہو جو پاکستان آرمی کی پالیسی کے سخت خلاف ہے اس معاملے میں آرمی کا موقف بالکل واضح ہے ۔پاک آرمی کسی دوسرے ملک کے خلاف کام کرنے والے کسی فرد کی مدد کرنے کے حق میں نہیں ۔نہ کشمیر میں کام کرنے والے مجاہدوں کو آرمی کوئی مدد دیتی ہے اور نہ افغانستان کے محاذ پر امریکہ یا شمالی اتحاد کے خلاف مجاہدین کی مدد کرتی ہے ۔اور تم نے آرمی سے تعلق رکھنے کے باوجود ایسی حرکت کیوں کی ؟“
”سر !....ایک تو ہم سر چھپانے کے لیے مجاہدین کے ٹھکانے استعمال کر رہے تھے اور دوسرا یہ ہمارا ذاتی فعل تھا ،اس ضمن میں ہم نے نہ تو پاک آرمی کا حوالہ دیا اور نہ مجاہدین نے ہمیں پاک آرمی کا سمجھتے ہو ہم سے یہ ہتھیار وصول کیے ۔البتہ ہمارے اس فعل سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ہم امریکہ کے مفاد نہیں بلکہ اس کے خلاف کام کر رہے تھے ۔“
”دیکھو ذیشان !....یہ بات تمھارے حق میں بالکل ہی نہیں جاتی ،کیونکہ جو آدمی وطن سے غداری کر سکتا ہے وہ کسی کے لیے بھی مخلص نہیں ہو سکتا ۔ایسا شخص دوغلا ہوتا ہے اور اپنے مفاد کے لیے کسی کام میں عار محسوس نہیں کرتا ۔تمھارے اس فعل سے تمھاری غداری اور بھی واضح ہوتی ہے ۔البتہ سردار خان کو اس معاملے میں بے قصور مانا جا سکتا ہے کہ سینئر ہونے کے باوجود وہ تمھارے احکامات ہی کے تابع فرمان رہا ہے ۔“
اس مرتبہ میں اس کی بات کا جواب دینے کے بہ جائے خاموشی اختیار کر لی کہ اتنے ثبوتوں کے جواب میں میرے پاس لے دے کے اپنا ناقص حوالہ تھا اور اپنے بارے اپنی ہی گواہی دنیا کی کوئی عدالت تسلیم نہیں کرتی ۔“
مجھے خاموش پا کر اس نے ایک مرتبہ پھر زبان کھولی ۔”تمھارے پاس سوچنے کے لیے ایک ہفتہ ہے ....کیونکہ تم سے پوچھ گچھ کے لیے مجھے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے ۔اگر اس دوران تم اپنے جرائم کا اعتراف کر لیتے ہو تو ٹھیک ورنہ اس کے بعد تمھیں اسپیشل برانچ کے حوالے کر دیا جائے گا اور بات میرے ہاتھوں سے نکل جائے گی ۔“
میں خوف کھائے بغیر دو ٹوک لہجے میں بولا ۔”جو حقیقت تھی وہ میں نے بتا دی ہے سر !“
”صرف تمھارا کہہ دینا کافی نہیں ہے ،کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو ۔“
”ثبوت کے لیے میری گزشتا کاکردگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔“
”ایک آخری سوال ....تم نے شروع دنوں میں دعوا کیا تھا کہ ایک امریکن سنائپر تمھاری گولی کا نشانہ بنا ہے جس سے تمھارے ہاتھ بیرٹ ایم 107،گلاک پسٹل ،ایک قیمتی گھڑی اور بھی کافی چیزیں ہاتھ لگی تھیں ....“اتنا کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا اور پھر اپنی بات مکمل کرتے ہوئے بولا۔ ”کیا وہ سامان واقعی میں کسی سنائپر کو ہلاک کرنے کے بعد تمھارے ہاتھ لگا تھا یا ....امریکنوں نے اپنے ایجنٹ کے حوالے ضرورت کا سامان کیا تھا ۔“
میرے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔”اس کا گواہ تو سردار خان کی صورت میں موجود ہے ۔“
”نہیں ....“میجر اورنگ زیب نے نفی میں سر ہلایا۔”سردار خان کے کہنے کے مطابق جب تم نے مخالف پہاڑی پر موجود سنائپر کو ہلاک کر دیا تھا تو بااصرار اس پہاڑی کی طرف گئے تھے اور وہاں سے لوٹتے وقت تمھارے پاس وہ تمام سامان موجود تھا ۔“
عجیب اتفاق تھا کہ میرے مخلص دوست کی بتائی ہوئی صحیح باتیں بھی میرے خلاف غداری کے الزام کو تقویت دے رہی تھیں ۔
”میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں بے گناہ ہوں ۔“میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکا تھا ۔
”دوبارہ بتا دوں کہ میرے پاس ایک ہفتے کا وقت ہے ،آخری دن آﺅں گا اگر کچھ کہنا ہو تو ٹھیک ورنہ میں تمھیں متعلقہ لوگوں کے حوالے کر دوں گا ۔ “ یہ کہتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا ۔ ”اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو طلب کر لینا ۔“
میں بھی اس کے احترام میں بستر سے اٹھتے ہوئے بولا ۔”سردار خان سے ملاقات ہو سکتی ہے؟“
”اس تک تمھارا پیغام پہنچا دیا جائے گا ....“اورنگ زیب صاحب وہاں سے نکل گیا ۔
٭٭٭
اگلا ہفتہ میں نے قید تنہائی میں گزارا تھا ۔کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں تھی ۔اس دوران کسی نے بھی مجھ سے بات چیت کی کوشش نہیں کی تھی ۔بس اورنگ زیب صاحب کا ایک ہی پیغام مجھ تک پہنچا تھا کہ سردار چھٹی پر تھا اور اس کا موبائل فون نمبر بند مل رہا تھا ۔ایک ہفتے بعد اورنگ زیب صاحب دوبارہ میرے سامنے موجود تھے ۔مگر میرے پاس اسے بتانے کے لیے کوئی نئی بات موجود نہیں تھی ۔
چند لمحے مجھے سوالیہ نظروں سے گھورنے کے بعد اس نے لب کھولے۔
”چلنے کے لیے تیار ہو ؟“
میں نے منھ کھولے بغیر اثبات میں سر ہلادیا ۔
”عرفان ....“اس نے پیچھے مڑ کر کسی کو آواز دی ۔
”جی سر ۔“کہتے ہوئے ایک جوان اندر داخل ہوا ۔اس نے میرے ہاتھ پشت کی طرف موڑ کر ہتھکڑی لگائی اور میرے سر پر کالے رنگ کا کپڑا چڑھا کر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جانے لگا ۔اپنے ساتھ چلاتے ہوئے وہ مجھے تہہ خانے سے باہر لایا ۔(تہہ خانہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے سیڑھیاں چڑھنا پڑی تھیں )چند موڑ مڑنے کے بعد گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اس نے مجھے گاڑی کی سیٹ پر بٹھا دیا ۔
گاڑی اسٹارٹ ہو کر آگے بڑھ گئی ۔ٹریفک کا شور ایک تسلسل سے میرے کانوں میں پہنچ رہا تھا ۔گھنٹا ڈیڑھ چلنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹریفک کا شور ختم ہوا ۔گاڑی کا بار بار رکنا بھی موقوف ہو گیا تھا ۔ اوراس کی چال میں ردھم آ گئی تھی ۔ اچانک گاڑی رکی اورکسی نے میرے سر پر سے وہ کالا کپڑا کھینچا ۔وہ میجر اورنگ زیب ہی تھا ۔میرے سر سے کپڑا اتار کر اس نے میری ہتھکڑی کھولی اور پھر گاڑی آگے بڑھا دی ۔گاڑی اس وقت موٹر وے پر چل رہی تھی ۔ہم راولپنڈی سے لاہور کی طرف جا رہے تھے ۔
میجر اورنگ زیب نے دکھی لہجے میں کہا ۔”ذیشان !....معذرت خواہ ہوں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکا ۔“
”جانتا ہوں سر ۔“میجر صاحب کو ذمہ دار ٹھہرانا کسی بھی طور مناسب نہیں تھا ۔
”ویسے تم نے گھر آنے کی غلطی کیسے کر لی ؟“
”میں پلوشہ کو گھر چھوڑ کر افغانستان جانا چاہتا تھا ۔“
”تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ،سردار خان اور تمھاری نئی نویلی دلھن پرسوں وزیرستان کے لیے نکل گئے ہیں ،سردار خان مہینا چھٹی پر ہے ۔اور اپنی چھٹی وہ تمھاری بے گناہی کے ثبوت اکٹھے کرنے میں گزارے گا ۔“
”مم....مگر پلوشہ ........“میں گڑ بڑا گیا تھا ۔
”جی یہ سارا منصوبہ اسی کا ہے ،وہ تو اکیلی ہی روانہ ہو رہی تھی مگر سردار خان نے اسے اکیلے جانے کی اجازت نہ دی اور خود بھی اس کے ساتھ روانہ ہو گیا ۔“
”آپ کو کیسے پتا چلا ؟“
”سردار خان کی پرسوں مجھ سے بات ہوئی تھی ۔میں نے اسے روکنے ی کوشش کی مگر وہ کہنے لگا کہ وہ اپنی بہن کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔اور پلوشہ کسی صورت رکنے کو تیار نہیں تھی ۔“
میں نے پریشانی کے عالم میں خود کلامی کی ۔”پتا نہیں ابوجان نے اسے کیسے جانے کی اجازت دے دی ۔“
یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ اورنگ زیب صاحب کے ہاتھوں میں اسٹیئرنگ لہرایا اور کارسڑک سے اتر کر تیزی سے ڈھلان پر دوڑی ،آگے ایک کیکر کا بڑا درخت کھڑا تھا ۔اس کے مضبوط تنے سے ٹکرا کر کار ایک جانب مڑ گئی ۔اورنگ زیب صاحب کا سر زور دار انداز میں اسٹیئرنگ سے ٹکرایا تھا۔ میں نے بھی ڈیش بورڈ پر ہاتھ ٹیک کر بہ مشکل اپنا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرانے سے روکا ۔
”سر آپ ٹھیک ہیں ؟“میں نے اورنگ زیب صاحب کو سنبھالنا چاہا۔
”میں ٹھیک ہوں جوان !“اس نے معنی خیز مسکراہٹ سے میری جانب دیکھا ۔”ایسی صورت حال کا فائدہ نہ اٹھانا بے وقوفی ہوتی ہے ۔“
”کک....کیا مطلب سر !“
”کیا تم پلوشہ اور سردار خان کے پیچھے جا کر اپنی بے گناہی کے ثبوت نہیں ڈھونڈنا چاہتے ۔“
”مم....مگر ....آپ....؟“
”کیا تمھیں لگتا ہے کہ میں اتنا برا ڈرائیور ہوں کہ بریک ہی نہیں لگا سکا۔“
اس کے بات سن کر ایک دم میرے دماغ میں جھماکا ہوا ۔یہ سب اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا تھا ۔
”شکریہ سر !“اس کا مطمح نظر جانتے ہی میں نے اس کا ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا اور کار سے باہر نکل گیا ۔
”یہ کچھ رقم بھی لیتے جاﺅ اور گھر کا رخ نہ کرنا ۔“اس نے جیب سے بٹوہ نکال کر چند بڑی مالیت کے نوٹ میری جانب بڑھائے ۔اور اس کے ساتھ ہی کمر سے بندھا بھرا ہوا پستول مع میگزین کے میری جانب بڑھا دیا ۔
اس کا احسان شکریے سے بہت بڑا تھا میں نے رقم اور پستول پکڑ کر وہاں سے بھاگتے ہوئے دور جانے لگا ۔مجھے جلد از جلد وزیرستان پہنچنا تھا ۔جس پلوشہ کی حفاظت کے لیے میں نے گھر آنے کا خطرہ مول لیا تھا وہ محترما میرے لیے دوبارہ خطروں میں کود پڑی تھی ۔
٭٭٭
تھوڑی دور آتے ہی اچانک مجھے لگا کہ سڑک سے دور ہٹنا بے وقوفی ہوگی ۔سڑک ہی پر مجھے کوئی گاڑی مل سکتی تھی ۔
میں نے اپنا رخ تبدیل کیا اور دوبارہ سڑک کی طرف بڑھنے لگا ۔اورنگ زیب صاحب کی کار مجھ سے فرلانگ بھر پیچھے رہ گئی تھی اور وہ ابھی تک کارسے باہر نہیں نکلا تھا ۔میرے پاس اس وقت اور نگ زیب صاحب کا دیا ہوا پستول اور چند ہزار کی رقم تھی ۔میرا سروس کارڈ اور قومی شناختی کارڈ تلاشی کے دوران نکال لیے گئے تھے ۔البتہ گھر میں میرا نقل شناختی کارڈموجود تھا جو سلیم شاہ کے نام سے بنا ہوا تھا ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ اورنگ زیب صاحب نے مجھے گھر جانے سے منع کر دیا تھا ۔ یقینا تھوڑٰ دیر تک وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی اطلاع ہیڈکواٹر تک پہنچا دیتا اور دنیا کی تیز رفتار ایجنسی میری تلاش میں نکل پڑتی ۔اب میرا مقابلہ دہشت کردوں اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کے ساتھ بھی تھا ۔اور میرے لیے س سے بڑا مسئلہ آئی ایس آئی ہی تھی کیونکہ میں اپنے وطن کے کسی محافظ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا ،اس کے برعکس ان کی نظر میں میں مجرم تھا ،پاکستان آرمی کے کئی جوانوں اور آفیسرز کا قاتل ۔ایسے غدار کے لیے یقینا ان کے دل میں ذرا بھر بھی رحم موجود نہیں ہونا تھا ۔
مجھے زیادہ فاصلہ طے نہیں کرنا پڑا تھا سڑک کے کنارے بنے ہوئے ہوٹل کو دیکھ کر میں اسی جانب مڑ گیا ۔یوں بھی موٹر وے پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مسافروں کے لیے ہوٹل بنے ہوئے ہیں۔جہاں وہ کھانے پینے کے ساتھ تازہ دم بھی ہو سکتے ہیں ۔اور نماز کا وقت ہو تو مسجد وغیرہ کی سہولت بھی موجود ہے ۔ اس وقت ہوٹل پر صرف ایک گاڑی ہی رکی ہوئی تھی جو لاہور سے راولپنڈی جا رہی تھی ۔ مسافر نیچے اتر کر کھانے پینے میں مشغول تھے ۔دوپہر بارہ ایک بجے کا وقت تھا ۔میں نے بھی موقع غنیمت جانتے ہوئے جلدی جلدی کھانا کھایااور بل چکا کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔مسافر گاڑی میں بیٹھنا شروع ہو گئے تھے ۔
کنڈیکٹر کو بتا کرمیں بھی اندر گھس گیا ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد گاڑی راولپنڈی پہنچ گئی تھی ۔میں پشاور موڑ پر اتر گیا ۔سردیوں کی آمد آمد تھی ۔نومبر لگ چکا تھا ۔پٹھان بھائیوں کی ریڑھیاں گرم چادروں، ٹوپیوں ، جرابوں ،مفلروں اور کوٹوں وغیرہ سے سج گئی تھیں ۔اپنی شناخت چھپانے کے لیے مجھے اس وقت مفلر اور چادر وغیرہ کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔ایک چادراور سردیوں کا دوسرا ضروری سامان خرید کر میں ویگن کا انتظار کرنے لگا ،کیونکہ یہ سامان مجھے وزیرستان میں بہت کام دیتا وہاں تو سردی بھی بہت زیادہ پڑتی ہے ۔جلد ہی مجھے تلہ گنگ جانے والی ویگن مل گئی تھی ۔
تلہ گنگ اتر کر میں نے ایک دکان سے سستا سا موبائل فون اورسم کارڈ خریدا اور اویس کو کال کرنے لگا اس کا موبائل فون نمبر مجھے یاد تھا ۔یوں بھی الحمداللہ میری یاداشت قابل ذکر ہے ۔ ایک اچھے سنائپر کے لیے جہاں اور بھی کئی خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں اچھی یاداشت کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے ۔اس بارے میں کہانی کی شروعات میں مفصل بحث کر چکا ہوں اور یقینا قارئین ان باتوں کو دہرایا جانا پسند نہیں کریں گے ۔
”اسلام علیکم !“دوسری گھنٹی ہی پر کال رسیو کر لی گئی تھی ۔
”وعلیکم اسلام ،اویس !....میں ذیشان بات کر رہا ہوں ۔“
”کیا حال ہے جگر ،اتنے دن بعد فون کرنے کا خیال کیسے آگیا ۔“اس کے لہجے میں طنز کی آمیزش صا محسوس کی جا سکتی تھی ۔
”یار نہ تو گلوں شکوں کا وقت ہے اور نہ میرے پاس تمھیں سمجھانے کا وقت ہے ۔جو کہہ رہا ہوں اس پر فوراََ عمل کرو ۔“
”فرماﺅ ۔“سنجیدہ ہوتے ہوئے بھی اس کے لہجے سے طنز دور نہیں ہوا تھا ۔
”فوراََ میرے گھر جاﺅ ،میرے کپڑوں کی الماری کے اوپر والے خانے میں ایک پرانا سا پرس پڑا ہو گا جس میں میرا شناختی کارڈ ہے جو سلیم شاہ کے نام سے بنا ہوا ہے ۔تم وہ پرس اٹھا کر اسی وقت اپنی موٹر سائیکل پر تلہ گنگ کا رخ کرو ،ابوجان کو میرے بارے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔جونھی گاﺅں سے باہر نکلو مجھے دوبارہ کال کر لینا میں تمھیں مزید بتا دوں گا کہ میں کہاں مل سکتاہوں ۔“
”یار !....یہ کون سی جاسوسی کرانا شروع کر دی ہے۔“
”میں بہت بڑی مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں یار!.... تفصیل بتانے کا وقت بھی نہیں ہے اور یہ سب جاننا فی الحال تمھارے لیے ضروری بھی نہیں ہے ۔بس جو کہا ہے اس پر عمل کرو ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا اور میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
میں جانتا تھا کہ اویس کے لیے یہ سب کرنا بالکل بھی مشکل نہیں ہوگا ۔یوں بھی میرے گھر میں وہ بغیر روک ٹوک کے آ جاسکتا تھا ۔ابو جان ہمارے دوستی سے اچھی طرح واقف تھے یقینا وہ اویس کو میری الماری سے کچھ نکالنے سے کبھی بھی منع نہ کرتے ۔اس کے باوجود میں نے اویس کے بعد ابوجان کا نمبر بھی ملا دیا ۔
”اسلام علیکم !“دو تین گھنٹیوں کے بعد ابو جان کی مشفقانہ آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”وعلیکم اسلام !....ابو جان میں ذیشان بات کر رہاہوں ۔“
”کیسے ہو بیٹا !....میں نے تو سوچا شاید تم ایسی جگہ پر ہو جہاں سگنل ہی نہیں آتے ۔“
”نہیں ابوجان پہلے تو مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کر سکا البتہ اب ایسی جگہ جا رہا ہوں جہاں واقعی سگنل نہیں آتے ۔“
انھوں نے کہا۔”چلو جب موقع ملے کال کر دیا کرنا ۔“
”ٹھیک ہے ابو جی !....پلوشہ کہاں ہے ؟“
”وہ وزیرستان گئی ہے ۔کوئی اراضی کا مسئلہ تھا ،اس کا دودھ شریک بھائی اسے لینے آیا تھا ۔ کہہ رہی تھی چند دنوں تک لوٹ آئے گی ۔میں تو خود اس کے ساتھ ہی جانا چاہتا تھا مگر اس نے منع کر دیا ۔“
یقینا پلوشہ نے سردار کا تعارف اپنے دودھ شریک ھائی کے طور پر کرایا تھا اور ابوجان کو اصل بات سے آگاہ کیے بغیر وہ بہانہ کر کے نکل گئی تھی ۔البتہ یہ ممکن تھا کہ اس نے اپنی ماں کو حقیقت سے آگاہ کر دیا ہو ۔اس کی ماں یوں بھی اسے اچھی طرح جانتی تھی ۔
”اچھا ابوجان !....اجازت چاہوں گا ۔پھوپھوجان اور پلوشہ کی امی جان کو میرے سلام عرض کرنا اور اویس ابھی گھر آئے گا میری الماری سے اس نے کچھ کاغذات نکالنے ہیں ۔“
”ٹھیک ہے بیٹا !....اللہ حافظ ۔“ابوجان نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
میں نے بس اڈے کے مضافات میںموجود ایک ہوٹل میں بیٹھ کر چاے پینے لگا ۔دس پندرہ منٹ بعد ہی اویس کی کال آگئی ۔وہ میرا بٹوہ لے کر گاﺅں سے نکل پڑا تھا ۔
میں نے اسے تاکید کرتے ہوئے کہا۔”احتیاط سے آنا اور یہ دیکھ لینا کہ کوئی موٹر سائیکل یا کار تمھارے تعاقب میں تو نہیں ہے ۔“
اس نے ہنستے ہوئے کہا ۔”اچھی طرح دیکھ لیا ہے یار ،موٹر سائیکل تو چھوڑو کوئی پرندہ بھی میرے تعاقب میں نہیں ہے۔“
گو میں جانتا تھا کہ اویس کے لیے آئی ایس آئی کے کسی آدمی کو تاڑ لینا ناممکنات میں سے تھا ، کیونکہ ضروری نہیں تھا کہ وہ اس کے تعاقب ہی میں آتے ۔ان کے پاس کسی آدمی کا پیچھا کرنے کے ہزاروں طریقے تھے ۔لیکن اس کے باوجود میں خطرہ مول لینے پر مجبور تھا ۔میں، اویس کو بس اڈے پہنچنے کا کہہ کر ہوٹل سے نکل آیا ۔سڑک پر ایک ریڑھی والے پاس کھڑے ہو کر میں تھوڑی سے مونگ پھلی خریدکر ٹونگنے لگا ۔اویس جلد ہی وہاں پہنچ گیا تھا ۔اسے رکنے کا اشارہ کر کے میں اس کے قریب ہوگیا ۔
میرے چہرے گرد لپٹا مفلر دیکھ کر وہ مزاحیہ انداز میں بولا ۔”تم تو پکے ہی جاسوس بنے ہوئے ہو ۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے یار !....بٹوہ میرے حوالے کرو اور یہاں سے غائب ہو جاﺅ ۔“
”یہ لو ۔“بٹوہ میری جانب بڑھا کر اس نے موٹر سائیکل کو کک لگائی اور آگے بڑھ گیا ۔میں دوبارہ بس اڈے میں داخل ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد میں ایک ویگن میں بیٹھا میانوالی کی طرف رواں دواں تھا ۔ رات کا کھانا میں نے میانوالی بس اڈے میں کھایا اور وہاں سے ڈیرہ اسماعیل خان روانہ ہوگیا ۔ میانوالی سے ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر دو اڑھائی گھنٹوں پر مشتمل ہے ۔رات کے بارہ بجے میں ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گیا تھا ۔
اس وقت وانہ کے لیے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی تھی ۔وہ رات میں نے ایک ہوٹل میں گزاری۔ صبح سویرے میں ویگن میں بیٹھا وانہ کی طرف روانہ تھا ۔رستے میں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا تھا ۔ یوں بھی میرے جانے کی سمت کا صرف اورنگ زیب صاحب کو معلوم تھا ۔اور اس نے یقینا کسی کو بھی یہ بات نہیں بتانی تھی ۔مجھے ڈھونڈنے والوں کے لیے میرے جانے کی سمت کا تعین اتنا آسان نہیں تھا۔کیونکہ میں ان کی نظر میںمجرم تھا اور ایک مجرم کے لیے وزیرستان کا رخ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔
وانہ میں اترتے ہی میں انگور اڈے جانے والی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا کہ میں جلد از جلد پلوشہ کو ڈھونڈنا چاہتا تھا ۔یقینا اس نے سب سے پہلے کمانڈر نصراللہ خوجل خیل کے گھر کا رخ کرنا تھا کہ ہم نے اپنے ہتھیار اور ضروری سامان وہیں رکھوایا تھا ۔میں بس یہ دعا کر رہا تھا کہ وہ ابھی تک وہیں موجود ہوں ۔
انگور اڈے پہنچتے ہی میں کمانڈر نصراللہ کے گھر کی طرف بڑھ گیا ۔بیٹھک کوباہر سے تالا لگے دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا تھا ۔اگر وہ وہیں ہوتے تو یقینا سردار کو بیٹھک میں ہونا چاہیے تھا ۔پھر بھی ایک موہوم امید کے سہارے میں نے کمانڈر نصراللہ کے گھر کے دروازے پر دستک دی ۔تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی دروازے پر نمودار ہوئے ۔مجھے دیکھ کر ان کے چہرے پر حیرانی بھرے تاثرات نمودار ہوئے ۔
”ارے ذیشان میاں !....آپ کے متعلق تو مجھ تک کوئی اور خبر پہنچی تھی ۔“
میں نے ان سے معانقہ کرتے ہوئے جوا ب دیا ۔”آپ نے ٹھیک ہی سنا تھا چچا جان !.... میں کسی دوست کی مدد سے فرار ہوا ہوں ۔“
”وہ مجھے بیٹھک کی طرف لے جاتے ہوئے بولے۔”ویسے یہ آپ نے اچھا نہیں کیا ۔اب تو آپ کے محکمے کا شک یقین میں بدل جائے گا ۔“
”مجبوری تھی چچاجان !....بہ جائے قید میں پر اذیت دن گزارنے کے میں نے سوچا اپنی بے گناہی کے ثبوت تلاش کیے جائیں ۔“
”پلوشہ اورسردار خان بھی اسی غرض سے یہاں آئے تھے ۔“بیٹھک کا دروازہ کھولتے ہوئے انھوں نے میرے دماغ میں موجود سوال کا جواب دیا ۔
”وہ کہاں ہیں ؟“میں بے صبری سے مستفسر ہوا ۔
”وہ تو کل ہی یہاں سے چلے گئے ہیں ۔“کمانڈر نصراللہ نے میرے اندیشوں کو حقیقت کا روپ دیا ۔
”کس طرف گئے ہیں ؟“میرے لہجے میں شامل حیرانی ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھی ۔
”افغانستان ....کیونکہ صنوبر خان کی موت کے بعد یہاں کوئی امریکن تو باقی بچا نہیں ۔ علام خیل کا نیا ملک ایک شریف آدمی ہے ۔صنوبر خان کا لشکر قریباََ بکھر گیا ہے ۔کچھ لوگ ڈمبریانی کے ملک ثقلین سے جا ملے ہیں جو صنوبر خان کا حلیف ضرور تھا مگر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث نہیں تھا وہ صرف اسلحے اور نشہ آور اشیاءکی اسمگلنگ کرتا ہے ۔اب امریکیوں کی نظریں تورے خارکے ملک فیروز خان پر لگی ہیں ۔وہ اسمگلنگ کے ساتھ دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی حصہ لیتا رہا ہے ۔لیکن اس سے پہلے وہ صنوبر خان سے احکامات لیتا تھا اب شاید اسے براہ راست احکام ملنا شروع ہو جائیں ۔“
”میرے سامنے تو البرٹ بروک نے دیگان کے مقامی کمانڈر سے خود بات چیت کی تھی اس اور ضمن میں صنوبر خان کو بالکل لاتعلق رکھا تھا ۔“
”شمالی وزیرستان میں دیگان کا مقامی کمانڈر ہی ایجنسیوں کا خاص بندہ ہے ۔وہ قبیل خان کی طرح بڑے اثر رسوخ کا مالک ہے ۔دتہ خیل ،میرن شاہ ،غرلامئے ،بکا خیل اور میر علی وغیرہ کے علاقوں میں گلبدین خان ہی دہشت گردانہ کارروائیاں کرواتا ہے ۔“
”کیا سارے علاقوں کا وہ اکیلا سردار ہے ؟“
”نہیں ،ہر علاقے کا اپنا مَلک ہے ۔ان میں کچھ محب وطن ہیں اور کچھ دہشت گرد ہیں جبکہ کچھ صرف اسمگلر ہیں ۔لیکن گلبدین کو ہر علاقے میں ایسے کرائے کے آدمی مل جاتے ہیں جو پیسے لے کر وطن مخالف کارروائیوں میں اس کا ساتھ دیں ۔“
میں نے پوچھا ۔”یقینا پلوشہ اور سردار ہمارا رکھوایا ہوا سامان ساتھ لے گئے ہوں گے ؟“
انھوں نے منھ سے کچھ کہے بنا اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”اب میں نے بھی افغانستان ہی کا رخ کرنا ہے ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پلوشہ اور سردار کس رستے سے گئے ہیں اور وہاں انھوں نے کس جگہ جا کر ٹھہرنا ہے ۔“
”وہ انگور اڈے ہی کی طرف سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں ،انھیں میں نے رستا بتا دیا تھا ۔مجاہدین کے کچھ اڈوں کی طرف بھی رہنمائی کر دی تھی ،اب یہ معلوم نہیں کہ وہ کس جگہ ٹھہریں گے یا اپنے کام کا آغاز کیسے کریں گے ؟“
”ہونہہ!....“ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے میں گہری سوچ میں کھو گیا ۔اتنے بڑے ملک میں دو آدمیوں کو ڈھونڈنا سمندر میں گری سوئی تلاشنے کے مترادف تھا ۔پلوشہ نے میری پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا ۔گو وہ سب کچھ میری محبت کے زیر اثر کر رہی تھی لیکن اس کی وجہ سے میں اپنے کام پر صحیح توجہ دینے کے قابل نہیں رہا تھا ۔سردار خان ،میرا مخلص دوست تھا لیکن کیا وہ پلوشہ کی حفاظت کر پاتا اس بارے میرا دل مطمئن نہیں تھا ۔
”کن سوچوں میں کھو گئے ہو ؟“میری خاموشی کو طویل ہوتا دیکھ کر وہ پوچھے بنا نہیں رہ پائے تھے ۔
”چچا جان !....پچھلے دنوں ہم نے کافی سارے ہتھیار قاری غلام محمد صاحب کے حوالے کیے تھے جن میں درجن بھر ڈریگنوو رائفلز اور ان کا ایمونیشن بھی تھا ۔“
”ہاں مجھے پتا چلا تھا ۔“
”کیا ان میں سے ایک ڈریگنوو رائفل مجھے مل سکتی ہے ؟“
”مشکل ہے ۔“انھوں نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا ۔”کیونکہ وہ تمام ہتھیار افغانستان بھیجے جا چکے ہیں۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”تو کیا یہاں کیمپ میں کوئی ڈریگنوو رائفل موجود نہیں ہوگی ؟“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولے ۔”اگر کوئی بھی ڈریگنوو رائفل چاہیے تو ضرور ملے گی ،میں نے سوچا شاید آپ کو نئی والی ڈریگنوو چاہیے ۔“
”نئی پرانی کو چھوڑیں چچا جان ،مجھے کوئی سی بھی سنائپر مل جائے کام چل جائے گا ۔“
”ایک مشورہ دوں ۔“
میں انکساری سے بولا۔”آپ حکم بھی دے سکتے ہیں ۔“
وہ پوچھنے لگا ۔”آپ نے بھی افغانستان کا رخ کرنا ہوگا ۔“
”اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ۔“
”تو کلاشن کوف ساتھ لے جاﺅ ،کیونکہ آپ کسی ایسے مشن پر نہیں جا رہے جس میں خصوصی طور پر کسی کو دور سے نشانہ بنانا ہو ۔آپ نے اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے ہیں اور اپنی بیوی کو تلاش کرنا ہے ۔اور عام حالات میں کلاشن کوف ،سنائپر رائفل سے کئی گنا زیادہ مفید ہے ،اس لیے بہتر ہو گا کہ سنائپر رائفل کا وزن ساتھ پھرانے کے بہ جائے کلاشن کوف کو ساتھ رکھو ۔“
”صحیح کہہ رہے ہیں ۔“میں نے ان کے ساتھ متفق ہونے میں ایک لحظہ بھی نہیں لگایا تھا ۔
وہ خوش ہوتے ہوئے بولے۔”تو بس ،میرے پاس ایک بہترین کلاشن کوف موجود ہے وہی آپ لیتے جائیں ۔“
”ٹھیک ہے چچا جان !....آپ کلاشن کوف لے آئیں کیونکہ میں تھوڑی دیر تک افغانستان کے لیے نکلنا چاہتا ہوں ۔“
”پاگل تو نہیں ہوئے ۔“انھوں نے شفقت بھرے لہجے میں ڈانتا ۔”ابھی تو آئے ہو۔اب تک تو میں نے چاے پانی کا نہیں پوچھ سکا ہوں۔“
”چچا جان !یہ میرا اپنا گھر ہے ۔باقی میں چاہتا ہوں کہ جتنا جلدی ہو سکے پلوشہ اور سردار کو ڈھونڈ لوں ۔“
”دیکھو بیٹا !....حقیقت تو یہ ہے کہ ان دونوں کو تلاش کرنا اتنا آسان نہیں رہا ۔وہ اب قسمت ہی سے ملیں گے ،ان کو ڈھونڈنے کی دھن میں خود کو بہت زیادہ جوکھم میں نہ ڈالو ۔“
یقینا کمانڈر نصراللہ کو معلوم نہیں تھا کہ پلوشہ کی میری زندگی میں کیا اہمیت ہے ورنہ وہ کبھی بھی ایسا مشورہ نہ دیتے ۔
میں شاکی ہوا ۔”تو کیا انھیں ،ان کے حال پر چھوڑ دوں ۔“
”ایسا میں نے کب کہا ۔“وہ میری غلط فہمی دور کرتے ہوئے بولے۔”آپ ضرور ان کی تلاش میں نکلیں ۔لیکن ضروری تو نہیں کہ بغیر ایک دن آرام کیے آپ آگے بھاگ پڑیں ۔آج کی رات مجھے اپنی خدمت کا موقع دیں کل چلے جانا ۔آرام بھی کر لو گے ۔رستے کے بارے معلومات بھی لے لو گے اور آگے کے لیے کوئی لائحہ عمل بھی سوچ لو گے ۔“
ایک لمحہ سوچ میں ڈوبے رہنے کے بعد مجھے ان کا مشورہ قابل عمل لگا تھا ۔میری رضامندی پا کر وہ خوش ہو گئے تھے ۔
میرے رکنے کی بابت طے ہوتے ہی انھوں نے پوچھا ۔”کھانا لے آﺅں؟“
”فی الحال تو اچھی سی چاے پلوا دیں ۔کھانا رات کو کھاﺅں گا ،اگر ابھی کھالیا تو رات کو نہیں کھایا جائے گا ۔“اور کمانڈر نصراللہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بیٹھک سے نکل گئے ۔
میں آگے کا لائحہ عمل کے بارے سوچنے لگا ۔اپنی بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنا کوئی آسان نہیں تھا ۔کام شروع کرنے کا کوئی واضح طریقہ کار بھی میرے ذہن میں نہیں آرہا تھا ۔افغانستان کا علاقہ میرے لیے بالکل انجان اور نیا تھا ۔وہاں کے حالات کے بارے بھی کوئی واضح تصویر میرے ذہن میں موجود نہیں تھی ۔پھر وہاں پر امریکن قریباََ قلعہ بند ہی تھے ۔میں انھیں جانی نقصان پہنچانے کے منصوبے تو سوچ سکتا تھا ،انھیں بلیک میل کر کے اپنی بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنے کا کوئی منصوبہ مجھے نہیں سوجھ رہا تھا ۔لے دے کے یہی ایک طریقہ تھا کہ میں افغانستان جا کر ہی کوئی مناسب منصوبہ سوچ کر اپنے کام کی شروعات کرتا ۔اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت تھی کہ افغانستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہاں پر البرٹ بروک اور کرنل کولن فیلڈ کو تلاش کرنااگر ناممکن نہیں تو بہت زیادہ مشکل ضرور تھا ۔البرٹ بروک وغیرہ کا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میرے خلاف وہی کام کر رہا تھا ۔اب یہ کہنا تو مذاق ہی ہوتا کہ پورے افغانستان میں موجود امریکن مجھ سے واقف ہوتے یا میرے خلاف سرگرم عمل ہوتے ۔گو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانستان میں امریکنز کی موجودی دہشت گردوں کی وجہ سے نہیں ہے ۔نہ امریکہ پاکستان یا دنیا کا اتنا بڑا خیر خواہ ہے کہ اس نے اپنی اتنی بڑی فوج ،ہتھیار اور روپیا افغان جنگ میں جھونک دیا ہے۔جہاں تک ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کا معاملہ ہے تو امریکہ کے تیئں اس کے مجرم اسامہ بن لادن کو امریکہ نے اپنے انجام تک پہنچا دیا ہے پھر اب وہ یہاں کیا ڈھونڈ رہا ہے ؟۔اگر ہم اس ساری جنگ کا جائزہ لیں تو امریکہ کے مقصد کو کھوجنا اور دہشت گردی کی لہر کا اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں ہے ۔جیسا کہ سب جانتے ہی ہوں کہ اس جنگ کا آغازنو نومبر دوہزار ایک میں ہوا۔کہا گیا دو ہوائی جہاز ہائی جیک ہوئے اور دونوں جہاز ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت کے ساتھ چند سیکنڈ کے وقفے سے آکر ٹکرائے جس سے وہ تمام عمارت مٹی کا ڈھیر بن گئی ۔اب یہاں سب سے پہلا سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی عمارت جس کے سامنے جہاز ایک کھلونے کی طرح نظر آرہا تھا کیا جہاز کے ٹکرانے سے وہ ملبے کا ڈھیر بن سکتی ہے ۔یقینا نہیں ۔اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ عمارت کی تباہی میں جہازوں کا ٹکرانا ہاتھی کے دانت کی طرح تھا ۔اصل معاملہ کوئی اور تھا ۔امریکہ کو افغانستان میںمداخلت کا بہانہ چاہیے تھا ۔اور اس طرح اس نے دنیا کی ہمدردیاں سمیٹ کر وہ بہانہ پیدا کیا ۔اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو یہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تو یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر ہزاروں صفحات لکھنا بھی کم پڑ جائیں گے ۔مختصراََ اگر کہا جائے تو دنیا کے ہر اس خطے میں امریکہ نے اپنی افواج بھیجیں جہاں سے وہ کوئی فائدہ حاصل کر سکتا تھا ۔عراق پر حملہ ہوا تیل کی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے۔ صومالیہ ،کانگو وغیرہ میں یونائیٹڈ نیشن کی افواج گئیں کہ وہاں ہیرے کی کانیں ہیں ۔افغانستان پر قبضہ ہوا کہ دنیا بھر میں یہاں پوست کی کاشت سب سے زیادہ ہوتی ہے اور امریکہ کی ایجنسیاں نشہ آور ادویات کی سب سے بڑی سپلائیر ہیں ۔ دوسری بات جنگ کے جاری رہنے ہی میں امریکہ کے اسلحے کی فیکٹریاں چل سکتی ہیں اور تیسری بات یہ کہ اصل طالبان جو دینِ اسلام کی صحیح شکل سامنے لے کر آئے تھے جنھوں نے افغانستان میں امن قائم کر دیا تھا انھیں غلط ثابت کرنا ۔اور آج دیکھ لیں سنہ دو ہزار تک طالبان کا نام کس عزت سے لیا جاتا تھا اور پاکستانی عوام ان سے کتنی محبت کرتے تھے اور آج وہ کس مقام پر ہیں ۔اس مقصد کے لیے دہشت گرد تنظیمیں کھڑی کی گئیں جنھوں نے اسلام کا لیبل لگا کر ہر وہ کام کیا جو شاید شیطان بھی نہ کر سکے ۔ را ،موساد ،فری میسن اور باقی اسلام مخالف ایجنسیوں کی ہر کارروائی کی ذمہ داری ان مجاہدین کا لبادہ اوڑھنے والے ملعونوں نے قبول کی ۔مساجد،امام بارگاہوں ، بزرگوں کے مزارات ، اسکولوں اور ہسپتالوں میں دہشت گردی کرنے کے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا ،مگر مقصد چونکہ اسلام کو بدنام کرنا تھا ، جہاد کی غلط تعبیر پیش کرنی تھی اس لیے بہت بڑے پیمانے پر یہ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں ۔ اور عجیب بات یہ کہ اسلام کے نام لیوا ﺅں نے نہ تو کبھی سینما گھروں میں بم دھماکے کیے ،نہ فحاشی کے اڈوں کو نشانہ بنایا ،نہ فلم ڈراما انڈسٹری میں ایسی کارروائی کی گئی ۔اور ہمارا لعنتی میڈیا بھی اس ضمن میں اسلام مخالف پروگرام چلا چلا کر یہود وہنود و نصاریٰ کے ایجنڈے پر کام کرتا رہا ۔ ہماری عوام ایسی بھولی بھالی ہے کہ جو ٹی وی پر دیکھا اسے قران و حدیث سے بھی زیادہ اہمیت دی ۔اس ضمن میں یہ بھی یاد رکھیں کہ امریکہ کے مقاصد ابھی تک پورے نہیں ہوئے ۔ملک خداداد کو ختم کرنے کے لیے اس کی نظر اسلام کو بدنام کرنے کے بعد پاک آرمی پر لگی ہے ۔جس کی شروعات وہ کر چکا ہے ۔ دہشت گردی کے پیچھے وردی کے نعرے ، منظور پشتین نامی غدار کی ہرزہ سرائی اور ہمارے دیسی لبرلز کی زبان سے فوج مخالف باتیں اس کا بین ثبوت ہیں ۔میں برسبیل تذکرہ چند باتیں عرض کر دی ہیں ورنہ یہ موضوع ایسا نہیں کہ چند سطور میں بیان کیا جا سکے ۔
اب اصل کہانی کی طرف آتے ہیں میں بات کر رہا تھا اپنے بے گناہی کے ثبوتوں کو ڈھونڈنے کی ۔اور ایسا کرنے کے لیے میرے پاس کوءیواضح لائحہ عمل موجود نہیں تھا ۔اس کے ساتھ پلوشہ کی تلاش ایک علاحدہ سر درد تھی ۔اس جذباتی لڑکی سے کوئی بعید نہیں تھا کہ میری بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود کو کسی مشکل میں پھنسا دیتی ۔میری وجہ سے اب وہ بھی البرٹ بروک وغیرہ کی نظر میں ایک دشمن ہی تھی ۔اس پر قابو پانے کے بعد جانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ۔ایک خوب صورت لڑکی کا ایسے درندوں کے چنگل میں پھنس جانا ایک مرد کی نسبت زیادہ تکلیف دہ اور اذیت ناک ہوتا ہے ۔ عورت کو جان کے ساتھ عزت کا مسئلہ بھی درپیش ہو تا ہے اور اپنی عصمت کی حفاظت اس کے لیے اپنی جان سے بھی زیادہ معنی رکھتی ہے ۔مجھے اگرذرا بھی شک ہوتا کہ وہ کوئی ایسا کام کر دے گی تو میں جاتے ہوئے اسے سختی سے منع کر گیا ہوتا ۔مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔میری شریک حیات جسے میں پھولوں کی سیج پر سلانا چاہتا تھا وہ آگ و خون کے دریا میں چھلانگ لگا چکی تھی ۔
میری سوچوں میں کمانڈر نصراللہ کی آمد سے خلل پڑا ۔انھوں نے چاے کے برتن ٹرے میں اٹھائے ہوئے تھے اور کندھے سے رشین ساخت کی کلاشن کوف لٹکائی ہوئی تھی جس کی بیرل قلم نما ترشی ہوئی تھی ۔کمانڈر نصراللہ روس کے خلاف جہاد میں حصہ لے چکے تھے اور یقینا یہ خوب صورت ہتھیار اسی دور کی یادگار تھا ۔(کلاشن کوف روس کے ایک سائنس دان میخائل کلاشن کوف کی ایجاد ہے ۔روس کے بعد اس ہتھیار کو بہت سارے ملکوں نے بنایا ،ہر ملک نے اس میں مناسب تبدیلی بھی کی مگر اس کا بنیادی فنکشن وہی رہا ۔چائنہ ،انڈیا اور پاکستان خود بھی یہ ہتھیار بنا رہا ہے ۔یہ ایک ہر دل عزیز ہتھیار ہے۔ موسم اس کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتا ۔ورنہ کافی ہتھیار ایسے ہیں جو منفی درجہ حرارت میں کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔یہ مجاہدین ،دہشت گردوں ،پاک آرمی ،انڈین آرمی میں باقاعدگی سے استعمال ہو رہا ہے ۔ دنیا میں اگر نئے ہتھیاروں کی ایجاد کا جائزہ لیں تو سیکڑوں،ہزاروں قسم کے نئے ہتھیار متعارف ہو چکے ہیں مگر اس کے استعمال میں کمی کے بہ جائے اضافہ ہی ہوا ہے ۔پہلے اس کا بٹ لکڑی کا ہوتا تھا اور بیرل کے ساتھ ایک فولڈ ہونے والی سنگین لگی ہوتی تھی ۔آج کل یہ کلوز بٹ میں بھی دستیاب ہے اور اس کی بیرل کے ساتھ لگی ہوئی سنگین بھی ختم کر دی ہے ۔اس کے ساتھ استعمال ہونے والی میگزینیں بھی مختلف قسم کی ہوتی ہیں ۔جن میں تیس ،چالیس اور ستر گولیوں والی پڑتی ہیں )
چاے کے ساتھ وہ بسکٹ بھی لے آئے تھے ۔چند بسکٹ چبا کر میں نے چاے کی پیالی معدے میں انڈیلی اور کلاشن کوف کا جائزہ لینے لگا ۔اس کے ساتھ چالیس گولیوں والی میگزین لگی ہوئی تھی ۔
”قریباََ چالیس سال سے یہ میرے پاس ہے ۔“مجھے کلاشن کوف کا جائزہ لیتے دیکھ کر کمانڈر اس ہتھیار کے ساتھ اپنی رفاقت کی داستان سنانے لگا ۔”یہ مجھے ابو جان نے تحفے میں دی تھی ۔اور اس کے بعد اسے میں کبھی بھی خود سے جدا نہیں کیا ۔نہ جانے کتنے اسلام کے دشمن اس کی بیرل سے نکلی گولی کا نشانہ بنے ،جانے کتنے ایسے مواقع آئے جب اس نے میری جان بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور جانے کتنی مرتبہ اس کی مدد سے میں نے اپنے مشکل میں پھنسے ساتھیوں کی مدد کی یہ سب شمار سے باہر ہے ۔ جب سے میں گوشہ نشین ہوا ہوں اس وقت سے یہ سوچ رہا تھا کہ یہ کس کے حوالے کروں کیونکہ میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں یہ ابھی تک پہلے کی طرح تازہ دم ہے اور اسے گوشہ نشین کرانا نا انصافی ہو گی ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھے کوئی ایسا نظر نہیں آرہا تھا جسے یہ قیمتی اور نایاب ہتھیار تحفے میں پیش کر سکوں ۔ایک دفعہ تو میں نے اسے اپنے بڑے بیٹے کے حوالے کرنے کا سوچا ،مگر بعد میں وہ مجھے اس کا صحیح حق دار نظر نہ آیا ۔ وہ اسے اس طرح استعمال نہیں کر سکتا جس طرح میرا دل چاہتا ہے ۔اب آپ کو دیکھ کرلگا کہ میری تلاش ختم ہو گئی ہے ۔“
میں ہنسا۔”چچا جان !....میری تعریف میں آپ نے کچھ مبالغہ نہیں کر لیا ۔“
وہ صاف گوئی سے بولے۔”جو باتیں مجھ تک پہنچی ہیں اگر وہ سچ ہیں پھر تو مبالغہ نہیں ہے ۔“
”بہ ہرحال میں آپ کی توقعات پر پورااترنے کی کوشش کروں گا ۔“
”بیٹا ! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا ۔ایک انسان سے توقعات اس کی صلاحیتوں اور ماضی کے کارناموں کو مدنظر کر کی جاتی ہیں ، مگر مستقبل کا حال اللہ پاک بہتر جانتا ہے ۔ضروری نہیں ماضی کا ہیرو مستقبل میں بھی اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑتا جائے ۔ہو سکتا ہے آپ کو اس ہتھیار سے ایک گولی بھی چلانے کا موقع نہ ملے اورخدانخواستہ اس سے پہلے ہی آپ کسی کی گولی کا نشانہ بن جائیں ۔میرے لیے بس یہ اطمینان کافی ہے کہ آپ اس ہتھیار کو مجھ سے بھی بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں ۔اور یہی میرا مطمح نظر ہے ۔“
”بجا فرمایا۔“ان کی بات تردید کرنے کے قابل نہیں تھی ۔اسی اثناءمیں عصر کی آذان ہونے لگی تھی ۔وہ مسجد تشریف لے گئے اور میں وہیں نماز ادا کرنے لگا ۔
ان کی واپسی پر میں نے انھیں کہہ کر بازار سے ابتدائی طبی امداد کا کچھ سامان منگوا لیا تھا ،جس میں درد کش و انٹی بائیوٹک گولیاں ،انجیکشن اور ابتدائی طبی امداد کی کوئی اور ضروری چیزیں شامل تھیں ۔ میں جس علاقے میں جا رہا تھا وہاں کچھ بھی ہو سکتا تھااور یہ سامان میرے لیے بہت زیادہ ضروری تھا ۔گولی لگنے کے حادثے سے میں دو بار گزر چکا تھا ۔ایک بار خود مجھے گولی لگی تھی اور دوسری بار میری جانِ حیات پلوشہ نے حماقت کا ارتکاب کرتے ہوئے خود کو گولی ماری تھی ۔گو یہ بات تو ہمیں تربیت ہی میں بتا دی جاتی ہے کہ ابتدائی طبی امداد سے متعلق سامان کتنا ضروری ہوتا ہے ۔لیکن ان دو حادثوں کے بعد تو مجھے حق القین ہو گیا تھا ۔کمانڈر نصراللہ نے ایک مخصوص سفوف کی چھوٹی سی تھیلی بھی میرے حوالے کی تھی ۔ یہ سفوف زخم وغیرہ میں بھر نے سے درد ،جلن اور سوزش کو بھی ختم کرتا تھا اور خون کے بہاﺅ میں بھی رکاوٹ ڈالتا تھا ۔یہ وہی سفوف تھا جو پلوشہ نے میرے کندھے سے گولی نکال کر زخم میں ڈالا تھا ۔
رات کا کھانا وہ نماز مغرب کے بعد لے آئے تھے ۔عشاءپڑھ کر میں سونے کے لیے لیٹ گیا کہ صبح سویرے ہی مجھے سرحد عبور کرنا تھی ۔نہ جانے افغانستان میں کون سے ہنگامے میرے منتظر تھے ۔
جاری ہے
 

اس وقت بے ہوشی کے عالم میں مجھے بہت گہری کھائی دکھائی دے رہی تھی ۔تیز بارش ہورہی تھی اور میں لمحہ بہ لمحہ کھائی کی طرف پھسلتا جارہا تھا ۔اپنے ہاتھوں کے ناخن چکنی زمین میں گھسیڑنے کے باوجود میں خود کو پھسلنے سے روک نہیں پا رہا تھا ۔اور پھر میں ایک دم کھائی میں لڑھک گیا خوش قسمتی سے آخری کوشش میں پتھر کا ایک ابھرا ہوا کنارہ میری انگلیوں کی گرفت میں آگیا تھا۔ اسے پکڑ کر میں ہوا میں لٹکنے لگا ۔نیچے دیکھنے پر حد نگاہ تک اس کھائی کی تہہ نظر نہ آئی ۔میرے ہاتھ سے پتھر کا کنارہ چھوٹنے کی دیر تھی اس کے بعد یقینا کھائی کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ہی میں نے رب کو پیارا ہو جانا تھا ۔میں نے اوپر اٹھنے کی کوشش کی مگر میرے بازوں میں جان ہی ختم ہو گئی تھی ۔موت لمحہ بہ لمحہ مجھے نگلنے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی ۔پتھر کا کنارہ میرے ہاتھ سے چھوٹنا ہی چاہتا تھا کہ اچانک ایک جانب سے پلوشہ بھاگتی ہو ئی نمودار ہوئی ،اگلے ہی لمحے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس نے میرے دائیں ہاتھ کو اپنے ملائم ہاتھ میں جکڑ لیا ۔دونوں ایڑیاں چکنی زمیں میں گاڑ کر اس نے پورا زور لگایا اور میں آہستہ آہستہ اوپر آنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد میں ہانپتا ہوااس کے پہلو میں لیٹا تھا ۔
”راجو !....مجھے آواز نہیں دے سکتے تھے ۔“وہ شکوہ کناں ہوئی ۔”اگر مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی ہوتی تو آپ تو گئے تھے نیچے ۔“
”چندا میرا حلق ہی خشک ہو گیا تھا ۔منھ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی ۔“
”ضروری تو نہیں کہ آپ منھ ہی سے پکارتے ،مجھے کسی اور طرح سے بھی تو متوجہ کر سکتے تھے نا۔“اس کا گلہ جاری رہا ۔”اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو پلوشہ کیسے زندہ رہ پاتی ۔“
میں مسکرایا ۔”گویا مجھ سے زیادہ اپنی موت کی فکر ہے ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی ۔”ہاں ....ہاں ....ہاں اپنی موت کی فکر ہے ،کیونکہ میرے راجو کے لیے میری زندگی بہت اہمیت کی حامل ہے ۔“
”چندا !....خفا تو نہیں ہوتے ،اب بتاﺅ نہ ایسی حالت میں تمھیں کیسے متوجہ کرتا ۔“
وہ منھ بناتے ہوئے بولی ۔”آپ کے پاس پستول بھی موجود تھا ،اس سے ہوائی فائر کر لیتے۔“
”اوہ ....اس کا تو خیال ہی نہیں رہا تھا ۔“میں نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔
”خیال ہی نہیں رہا تھا ۔“وہ مجھے چڑاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔اسے یہ بھول گیا تھا کہ زمین کتنی چکنی اور پھسلن زدہ ہے ۔کھڑے ہوتے ہی اس کا پاﺅں پھسلا اور وہ کھائی میں گرتی چلی گئی ۔میں نے ایک دم اسے گرفت میں لینا چاہا مگر کھائی کے اندھیرے اسے نگل گئے تھے ۔میری سماعتوں میں بس اس کی آخری چیخ ہی گونجتی رہ گئی تھی جو وہ میرا نام پکارتے ہوئے چیخی تھی ۔
”راجو....................“اس کے ساتھ ہی مجھے ہوش آگیا ۔اس حالت میں بھی اس بھیانک سپنے سے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔میرے ہونٹوں اور زبان پر فوراََ برے خواب کے شر سے بچنے کی دعا مچل گئی اور اس کے ساتھ ہی میرے دماغ میں پلوشہ کی تجویز گونجی ۔
”آپ کے پاس پستول بھی تو موجود تھا ۔آپ ہوائی فائر بھی تو کر سکتے تھے ۔“گویا وہ میرے خواب میں مجھے اس صورت حال سے نمٹنے کی تجویز ہی تو بتانے آئی تھی ۔میں کوشش کر کے اپنا بازو کمر کی طرف لے گیا جہاں میں نے نیفے میں گلاک نائینٹین اڑسا ہوا تھا ۔پستول کو پکڑنے کے لیے مجھے دستانہ اتارنا پڑا تھا ۔میری انگلیاں بس تھوڑی تھوڑی حرکت ہی کر پا رہی تھیں ،بہ مشکل پستول کا دستہ پکڑ کر میں نے پستول کو باہر کھینچا ۔اب پستول کو کاک کر نے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔بڑی مشکل سے میں نے دستانے والے ہاتھ کو پستول کے اوپر ٹیک کر اس کی سلائیڈ کو پیچھے کی جانب کھینچنا چاہا مگر کامیاب نہیں ہو سکا تھا ۔دو تین منٹ کی کوشش کے بعد اچانک مجھے یاد آیا کہ میں نے کلاشن کوف کاک کر کے کندھے سے لٹکائی تھی ۔لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ کلاشن کوف تو میں چند گز پیچھے پھینک آیا تھا اور وہاں تک پہنچنا میرے لیے ممکن نہیں رہا تھا ۔میں دوبارہ پستول کے ساتھ مغز ماری کرنے لگا ۔چند لمحوں کی کوشش کے بعد سلائیڈ ہلکا سا پیچھے کو کھسکی میں نے ہاتھ پر مکمل زور دے دیا تھا اور پھر وہ مشکل مرحلہ بھی طے ہو گیا ۔سلائیڈ مکمل پیچھے دھکیل کر میں نے اس پر سے ہاتھ ہٹایا ۔سلائیڈ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی اور پستول کاک ہو گیا ۔
میں نے ٹریگر گارڈ میں شہادت کی انگلی ڈال کر پستول کی بیرل کا رخ سامنے کی طرف کرتے ہوئے ٹریگر کھینچ لیا۔ دھماکے کے ساتھ میرے ہاتھ کو جھٹکا لگا۔ گولی فائر ہونے کی آواز سے ماحول گونج اٹھا تھا ۔میں نے ایک گولی پر اکتفا نہیں کیا تھا ۔دوسری ،تیسری اور چوتھی بار بھی میں ٹریگر دباتا گیا ۔ہر بار مجھے اتنا ہی زور لگانا پڑا جتنا کہ ایک گہرے کنویں سے پانی کا بڑا ڈول کھینچنے والے شخص کو لگانا پڑ تا ہے۔چوتھی بار ٹریگر دبا کر میں نے بے دم ہو کر اپنی کہنیوں پر سر ٹیک دیا ۔اس کے بعد میری ہمت جواب دے گئی تھی ۔ کئی لمحے بیت گئے یا شاید مجھے ہی لگ رہا تھا کہ وقت تھم گیا ہے ۔ دروازے پر آہٹ ہوئی کسی نے کچھ پکارا تھا مگر شایدمیری سماعتوں نے بھی کام چھوڑ دیا تھا ۔پھر میری آنکھوں نے روشنی کی جھلک دیکھی ۔اور میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔
دو ہاتھوں نے مجھے بازو سے پکڑ کر جھنجوڑا ....اور میرے کانوں کے قریب ہی ایک نسوانی آواز آئی ....”ہوش میں.... آﺅ اٹھو ....“شاید وہ اکیلی عورت مجھے اٹھا نہیں پا رہی تھی ۔
”مم.... میں حرکت نہیں کر سکتا ۔“میں زیر لب بڑبڑا کر رہ گیا تھا ۔مجھے مدد بھی ملی تھی تو ایک کمزور عورت کی جو مجھے اٹھا بھی نہیں سکتی تھی ۔
وہ دروازے کی طرف منہ کر کے زور سے چلائی ۔”رنڑا....رنڑا ،بھائی کو ساتھ لے کر یہاں آﺅ ۔“
چند لمحوں بعد مجھے قریب سے ایک لڑکی آواز سنائی دی ۔”جی باجی !....“شاید وہ اس کی چھوٹی بہن تھی ۔
”تم دونوں اس کی ٹانگوں سے پکڑو ،میں بازو تھامتی ہوں ،یہ بے ہوش ہے ،اگر کچھ دیر ایسے پڑا رہا تو زندہ نہیں بچے گا ۔“
”ٹھیک ہے باجی ۔“اس مرتبہ ایک لڑکے کی آواز آئی تھی ۔اور پھر میرا جسم ذرا سا زمین سے بلند ہوا اور وہ مجھے اندر لے جانے لگے ۔طویل صحن عبور کر کے وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے ۔کمرے میں انگھیٹی روشن تھی ۔ایک دم مجھے لگا میں جنت میں پہنچ گیا ہوں ۔
”رنڑا جلدی سے خالی چارپائی پر بستر بچھاﺅ ۔اور پیٹی سے موٹے والا لحاف بھی نکال لاﺅ۔“
”جی باجی !“رنڑا سعادت مندی سے بڑی بہن کے حکم پر عمل کرنے لگی ۔
وہ چھوٹے بھائی کو مخاطب ہوئی ۔”ثمر خان !....بھاگ کر باورچی خانے سے چھری اٹھا لاﺅ اس کا گیلااور اکڑا ہوالباس کاٹ ہی کر جسم سے اتارنا پڑے گا۔“
”کون ہے گلگارے بیٹی !“کسی مرد کی تکلیف میں ڈوبی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”بابا جان !....کوئی اجنبی ہے ۔فائر کی آواز سن کر میں باہر نکلی تو یہ دروازے پر بے سدھ پڑا تھا ۔شاید ہمیں متوجہ کرنے کے لیے ہی اس نے فائر کیے تھے ۔“باپ کو تفصیلی جواب دیتے ہوئے بھی وہ مسلسل میرا کوٹ اتارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔مگر کوٹ بالکل اکڑ گیا تھا ۔اسی وقت اس کا بھائی ثمر خان بھاگتا ہوا وہاں پہنچا ۔
”یہ لیں باجی !“اس نے یقینا بہن کی طرف چھری بڑھائی تھی ۔چھوٹے بھائی کے ہاتھ سے چھری لے کر اس نے جلدی سے میرا کوٹ کاٹنا شروع کر دیا ،کوٹ کے بعد اس نے قمیص اور بنیان بھی کاٹ کر میرے جسم سے علاحدہ کر دی اور پھر اپنا دوپٹا میرے درمیانی جسم پر ڈال کر اس نے میرا زیریں لباس بھی کاٹ کر جسم سے علاحدہ کر دیا تھا ۔میں نیم وا آنکھوں سے اس دوشیزہ کی کارروائی دیکھ رہا تھا ۔مگر میرا جسم حرکت سے معذور تھا ۔میری جان بچانے کے لیے وہ جس حوصلے کا مظاہرہ کر رہی تھی اتنی جرّات کم ہی لڑکیوں کا خاصا ہوتی ہے ۔جتنی دیر میں وہ لباس کاٹ کر میرے جسم سے علاحدہ کرتی اتنی دیر تک اس کی چھوٹی بہن رنڑا ایک موٹا لحاف چارپائی پر بچھا کر دوسرا لحاف میرے اوپر ڈالنے کے لیے تیار کر چکی تھی ۔
”اسے اٹھانے میں میری مدد کرو ۔“اس نے چھوٹی بہن کو آوازدی ۔ایک مرتبہ پھر تینوں نے مل کر مجھے اٹھایا اور نرم بستر پر لٹا دیا ۔اس کے ساتھ ہی گلگارے بی بی نے مجھے وہ موٹا لحاف اوڑھا دیا ۔ خوش گوار حدت میری رگوں میں اترنے لگی تھی ۔
”ثمر خان انگیٹھی میں اور لکڑیاں ڈالو ۔“چھوٹے بھائی کو کہہ کر وہ بہن کو مخاطب ہوئی۔ ”رنڑا!.... دودھ میں ہلدی ڈال کر گرم کر کے لے آﺅ ۔“
وہ دونوں ۔”جی باجی ۔“کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے تھے ۔وہ خود لحاف کے کونوں کو موڑ کر میرے جسم کے نیچے دینے لگی تاکہ لحاف مکمل بند ہو جائے ۔اور ہوا کا گزر بالکل ممکن نہ رہے ۔
میرے جسم میں اٹھنے والا درد تاحال پہلے کی طرح ہی باقی تھا ۔گو گلگارے بی بی نے بہت اچھے طریقے سے مجھے سنبھالا تھا ۔میرا گیلا لباس اتار کر مجھے لحاف اوڑھانے کے بہ جائے اگر وہ براہ راست مجھے انگھیٹی کے قریب ڈال دیتی تو بلا شبہ میرے جسم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا ۔ٹھنڈ لگنے والے شخص کو یوں ایک دم آگ کے قریب لے جانا بالکل ہی غلط ہے ۔البتہ مجھے لحاف اوڑھا کر انگھیٹی کی آگ کو زیادہ سے زیادہ دہکانا بہت مناسب تھا ۔یقینا ٹھنڈے علاقے سے تعلق رکھنے کے باعث اسے معلوم تھا کہ ٹھنڈ کا شکار ہونے والے شخص کو کیسے سنبھالا جاتا ہے ۔
میں نے آہستہ آہستہ ہاتھوں کی انگلیوں کو حرکت دینے شروع کر دی تھی ۔میرے پاﺅں ابھی تک سن تھے ۔البتہ نچلے دھڑ میں شدید درد ہو رہا تھا ۔اور ایسا ہونا میرے لیے تسلی کا باعث تھا ۔درد کا احساس ہونے کا مطلب یہی تھا کہ میرا جسم ٹھیک تھا ۔میں پاﺅں کی انگلیوں کو حرکت دینے کی کوشش کرنے لگا ۔آہستہ آہستہ میرے پاﺅں میں بھی درد کا احساس جاگنے لگا تھا ۔میرے کانوں میں اس مرد کے کراہنے کی آواز پہنچی غالبا وہ بھی کسی قسم کی تکلیف میں مبتلا تھا ۔
اسی وقت رنڑا ہلدی ملا دودھ لے کر پہنچ گئی ۔میرے چہرے سے تھوڑی سی رضائی کھسکا کر گلگارے بی بی نے میرا منھ باہر نکالا اور میرے سر کے نیچے تکیہ رکھ کر ایک بڑے چمچ سے ہلدی ملا دودھ مجھے پلانے لگی ۔اس نے مجھے رضائی سے باہر نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ہلکا گرم دودھ میرے جسم میں جس جس جگہ تک جارہا تھا مجھے اس کابہاﺅ محسوس ہو رہا تھا ۔میں دودھ کا پورا کٹورا خالی کر گیا تھا ۔دودھ نے مجھے بہت تقویت پہنچائی تھی ۔
دودھ پلا کر اس نے میرا چہرہ دوبارہ ڈھانپ دیا ۔
”رنڑا !....ثمر خان کو ساتھ لے جا کرڈربے سے وہ بڑا چوزہ پکڑ لاﺅ ۔“وہ چھوٹی بہن کو مخاطب تھی ۔
”کیوں باجی !“یقینا اس کی بات سن کر رنڑا حیران ہوئی تھی ۔
”اسے ذبح کر کے یخنی بنانا ہے ۔جب تک اسے اندر سے گرمی نہیں پہنچے گی اس کی سردی دور نہیں ہو گی ۔“
”اچھا باجی !“کہہ کر وہ ثمر خان کو ساتھ چلنے کا کہنے لگی ۔
میرا دل اس کے لیے شکر گزاری کے احساسات سے بھر گیا تھا ۔ وزیرستان کے لوگ غریب ہونے کے باوجود بہت زیادہ مہمان نواز تھے ۔ایک اجنبی کی اتنی زیادہ خدمت اور دیکھ بھال یقینا مہمان نوازی کا منھ بولتا ثبوت تھی۔
چوزہ اس نے خود ہی ذبح کیا تھا ۔میں بس سماعتوں ہی سے ان کی حرکات کا اندازہ لگا رہا تھا ۔ اس دوران ان کے باپ کی کراہتی ہوئی آواز بھی میرے کانوں میں پڑ جاتی ۔وہ مسلسل نہیں کراہ رہا تھا ۔ بلکہ مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کروٹ تبدیل کرنے یا ہلتے جلتے وقت اسے تکلیف پہنچتی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ میرے لیے یخنی بھی بنا کر لے آئی تھی ۔کالی مرچ اور نمک کے علاوہ اس نے اس میں کچھ نہیں ڈالا تھا ۔ایک مرتبہ پھر اس نے میرے چہرے سے لحاف ہٹا کر مجھے اپنے ہاتھوں سے یخنی پلائی ۔دیسی چوزے کی یخنی پیتے ہی آہستہ آہستہ میرے پاﺅں کی انگلیوں میں بھی درد کا احساس ہونے لگا ۔جو اس بات کا مظہر تھا کہ میرے پاﺅں پہلے سے بہتر ہو رہے تھے ۔
ہاتھوں کا درد تو ختم ہو چکا تھا ۔میں بار بار مٹھیاں بھینچ کر ہاتھوں کی ورزش کرنے لگا ۔ٹانگوں کا درد بھی آہستہ آہستہ زائل ہو رہا تھا ۔
میری سماعتوں میں لکڑیوں کی کھٹ پٹ آنے لگی ۔یقیناوہ انگھیٹی میں مزید لکڑیاں ڈال رہی تھی۔
”تم دونوں اب اپنے کمرے میں جا کرسو جاﺅ۔“انگھیٹی میں لکڑیاں ڈال کر وہ چھوٹے بہن بھائی کو مخاطب ہوئی تھی۔
”جی باجی !“انھوں بیک زبان ہی کہا تھا ۔لگتا تھا دونوں بہن بھائی کے نزدیک باجی کا حکم حرف آخر کی حیثیت رکھتا تھا ۔
”بابا جان !....قہوہ پیئیں گے ۔“اس مرتبہ وہ باپ کو مخاطب ہوئی تھی ۔
”نہیں بیٹی !....اب بس آرام کرو ۔“
اس نے جلدی سے کہا ۔”تھوڑا سا پی لینا باباجان !....یوں بھی مہمان کے لیے بنانے لگی ہوں ۔“
پہلے ہلدی ملا دودھ ،پھر یخنی اور اب گرم قہوہ وہ مسلسل گرم مشروبات میرے معدے میں انڈیل کر سردی کے خلاف میری قوت مدافعت کو بڑھا رہی تھی ۔ہمیں بھی سردی سے نمٹنے کے لیے جو طریقے پڑھائے گئے تھے ان میں متاثرہ شخص کے جسم کو گرم کرنے کے لیے گرم ماحول اور لباس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ گرم مشروبات پلانے کے بارے بھی ہدایات کی گئی تھیں ۔
اس کے باپ نے کہا ۔”ٹھیک ہے بیٹی !“اور اس کے قدموں کی آواز کمرے سے باہر جانے لگی ۔
اب میرے بازوﺅں میں جان پڑ گئی تھی ۔ٹانگوں کا درد بھی مدہم ہونے لگا تھا اور پاﺅں بھی حرکت کرنے لگے تھے ۔البتہ دونوں پاﺅں اور پنڈلیوں میں ہلکا ہلکادرد ضرور محسوس ہو رہا تھا ۔
”یہ لیں بابا جان !“وہ شاید قہوے کی پیالی اپنے باپ کے حوالے کر رہی تھی ۔کراہتی ہوئی آواز میں میں نے شکریہ کے الفاظ سنے اور پھر اس کے قدموں کی آواز میری چارپائی کی طرف بڑھ گئی ۔
پہلے کی طرح ہی اس نے مجھے قہوہ بھی پلایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی نرم آواز میری سماعتوں میں گونجی ....
”اب کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟“
”پہلے سے بہت بہتر لگ رہا ہے ۔اللہ پاک آپ کواور آپ کے گھرانے کو دنیا اور آخرت کی عزت اور کامیابی دے۔“میرے دل سے خلوص بھری دعا نکلی تھی ۔
”آمین ۔“کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا شاید اسے میرے دعائیہ انداز پر ہنسی آئی تھی ۔وہ تیکھے نقوش اور گہری نیلی آنکھوں والی خوب صورت دوشیزہ تھی ۔اس قدر نیلی آنکھیں میں زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ۔میری ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر وہ میرے اتنے قریب ہوئی تھی ورنہ شاید میں اس کا چہرہ بھی نہ دیکھ پاتا ۔اس کا اور میرا حساب بالکل ڈاکٹر اور مریض کا سا تھا ۔
میرے چہرے کو ایک بار پھر ڈھانپ کروہ کمرے باہرسے نکل گئی ۔واپسی پر اس نے میرے چہرے پر سے لحاف اتارے بغیر مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
”سرھانے کے ساتھ کپڑوں کا جوڑا رکھ دیا ہے ۔جونھی خود کو اس قابل سمجھو کہ کپڑے پہن سکو یہ پہن لینا ۔اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دے لینا میں ساتھ والے کمرے میں ہوں اور جاگ رہی ہوں ۔“
میں نے لحاف منہ سے اتارے بغیر دھیمے لہجے میں کہا ۔”ٹھیک ہے بہن،شکریہ ۔“
اس کے جانے کے بھی میں اسی طرح لیٹا رہا ۔قریباََگھنٹے بھر بعد ایک بار پھر میری سماعتوں میں قدموں کی چاپ گونجی،جو انگھیٹی کے ساتھ جا کر رک گئی تھی ۔لازماََ وہ انگھیٹی میں لکڑیاں ڈالنے آئی تھی ۔لکڑیاں ڈال کر وہ واپس لوٹ گئی ۔میں اب بہت بہتر محسوس کر رہا تھا ۔لحاف کا کونہ الٹا کر میں نے باہر جھانکا ۔وہ کافی بڑا کمرہ تھا ۔کمرے کے ایک کونے میں درمیانی سی انگھیٹی لگی ہوئی تھی ۔جس میں جلنے والی آگ کی تپش سے کمرے میں خوشگوار حدت پھیلی ہوئی تھی ۔انگھیٹی کے مخالف کونے میں لالٹین لٹکی تھی جس کی زرد روشنی کمرے میں پھیلے اندھیرے کے ساتھ برسرِ پیکار تھی ۔لالٹین کے نیچے ایک چوڑی چارپائی پڑی تھی جس پر ایک ادھیڑ عمر شخص لیٹا نظر آیا ۔سر کے علاوہ اس کا باقی جسم موٹے لحاف میں پوشیدہ تھا ۔اس کے چہرے پر گھنی داڑھی نظر آرہی تھی ۔وہ آنکھیں کھولے جانے چھت کی کڑیوں میں کیا تلاش کر رہا تھا ۔اس کی چارپائی کے علاوہ بھی کمرے میں تین چارپائیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک پر تو میں لیٹا تھا اور دو پارپائیاں خالی پڑی تھیں ۔ان پر بستر بھی نہیں بچھے تھے ۔
ایک سرسری نظر کمرے میں دوڑا کر میں نے سرھانے کے ساتھ رکھے کپڑے اٹھائے اور لحاف کے اندر ہی زیریں لباس ڈالنے لگا ۔شلوار پہن کر میںاٹھ بیٹھا اور قمیص ڈال کر دوبارہ لحاف میں غائب ہو گیا ۔دودھ اور یخنی سے میری بھو ک کافی حد تم مٹ گئی تھی مگر اب آہستہ آہستہ دوبارہ بھوک محسوس ہونے لگی تھی ،سردی میں یوں بھی بھوک زیادہ لگتی ہے اور مجھے تو کھانا کھائے چوبیس گھنٹے ہونے کو تھے ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں گلگارے بی بی کو نیند سے اٹھا کر کیسے کہتا کہ مجھے بھوک لگی ہے کھانے کو کچھ لاﺅ۔پہلے بھی اس نے اتنا کچھ کیا تھا اب وہ غریب سو رہی تھی تو مجھے بھوک لگ گئی تھی۔میں نے اسے آواز نہ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر میرے اس فیصلے پر اس نے خود ہی پانی پھیر دیا ۔وہ دوبارہ انگھیٹی میں لکڑیاں ڈالنے آئی تھی مجھے جاگتے پا کر وہ سر پر دوپٹا ٹھیک کرنے لگی ۔میں نے بھی اس کے دلکش سراپے سے نگاہیں پھیرکر مخالف جانب دیکھنے لگا ۔ وہ میری محسن تھی ۔اسے سبب بنا کر اللہ پاک نے مجھے دوبارہ زندہ رہنے کا موقع عطا فرمایا تھا ۔میں اس کی جتنی عزت اور احترام کرتا کم تھا ۔یوں بھی مجھے نظروں کی حفاظت کرنا آتا تھا ۔ آج اگر میں پرائی عزت پر ایسی ویسی نظریں گاڑتاتو یقینا میری پلوشہ بھی کسی بدنیت کی گندی نظروں کا شکار بنتی۔
انگھیٹی میں لکڑیاں ڈال کر وہ لوٹی اور میرے قریب رکتے ہوئے پوچھنے لگی ....”کسی چیز کی ضرورت ہے ۔“
”نہیں شکریہ ۔“
”بھوک تو نہیں لگی ؟“پتا نہیں اس نے میرے بھوکا ہونے کا اندازہ لگالیا تھایا روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔
’کوئی خاص نہیں ،آپ کو زحمت ہو گی ۔“یہ کہتے ہوئے بھی میں اس کی جانب دیکھنے سے گریز کر رہا تھا ۔
”ارے ،زحمت کیسی ....ابھی لائی ۔“مجھے محسوس ہوا کہ ایسا کہتے ہوئے وہ متبسم ہوئی تھی ۔ اپنے انکار پر ثابت قدم رہ کر میں صبح تک پیٹ کا واویلا نہیں سن سکتا تھا ۔اس لیے خاموش رہااور وہ کمرے سے باہر نکل گئی ۔ہمارے مکالمے سے اس کے والد کی آنکھ کھل گئی تھی ۔یا شاید وہ پہلے ہی سے جاگ رہا تھا اور مجھے سوتا سمجھ کر بات نہیں کر رہا تھا ۔
”جوان اب طبیعت کیسی ہے ؟....اور کیا ہوا تھا ؟“
”الحمداللہ ،ٹھیک ہوں چچا جان !....اورہونا کیا تھا کل صبح برف باری میں پھنس گیا ،بڑی تلاش کے بعد بھی کوئی جائے پناہ نہ ڈھونڈ سکا ،یہاں تک کہ جان کے لالے پڑ گئے ،بس اتفاق ہی تھا کہ آپ کے دروازے تک آپہنچا اورکچھ سانس باقی تھے جو گلگارے بہن کی مدد مل گئی ۔اللہ پاک اسے اجر دے ،عزت اور سلامتی دے ۔“
”آپ کا نام کیا ہے ،آپ اس علاقے کے تو نہیں لگتے ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”ذیشان نام ہے اورمیں واقعی اس علاقے کا نہیں ہوں ۔یہاں مجھے اپنے ساتھیوں کی تلاش کی جستجولے آئی ہے۔“
”میرا نام شمریز خان ہے اور اگر آپ کے ساتھی گم ہو گئے ہیں تو شاید انھیں ڈھونڈنا اتنا آسان نہ ہو ۔“اس نے بلا جھجک حقیقت کا اظہار کر دیا تھا ۔
”مگرکوشش تو کرنا چاہیے نا ....ناکامی کے خوف سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا بزدلی کہلاتا ہے ۔“
اس نے متبسم ہوتے ہوئے پشتو کہاوت بولی ۔”کہ غر سومرہ ہم لوڑ وی پہ سر پہ لار وی ۔“ (پہاڑ جتنا بھی اونچا ہو اس پرچڑھنے کا رستا ضرور ہوتا ہے )مگر اس کی ہنسی میں بھی تکلیف کا عنصر واضح چھلک رہا تھا ۔
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔”ویسے برا نہ منائیں تو پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو ہوا کیا ہے ؟“
”باباجان کوٹانگ میں گولی لگی ہے ۔“چھابے میں گرم روٹیاں اور سالن کا کٹورا رکھے گلگارے بی بی نے اندر داخل ہوتے ہی والد سے پہلے میری بات کا جواب دیا ۔
”کب ،کیسے ؟“میں نے حیران ہو کر پوچھا ۔
”پرسوں ....“لکڑی کی چھوٹی سی میز پر چھابہ رکھ کر اس نے وہ میز اٹھا کر میری چارپائی کے ساتھ رکھ دی ۔”رنڑا اور ثمر خان گھر سے باہر خشک لکڑیاں چن رہے تھے اسی وقت دو آوارہ گرد وہاں سے گزر ے ۔ان بدبختوں نے رنڑا کو اکیلا سمجھ کر پکڑنا چاہا ،رنڑا چیختی ہوئی گھر کی جانب بھاگی ،رنڑا کی چیخیں سن کر باباجان ہتھیار لے کر باہر نکلے ،وہ تینوں میری چھوٹی بہن کا پیچھا کر رہے تھے ۔ ابو جان نے فوراََ ہوائی فائر کیا ،جسے سنتے ہی وہ جوابی فائر کرتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے ۔ باباجان بھی ان کے فائر کا جواب دیتے رہے ،ان بزدل اچکوں کو تو معلوم نہ ہو سکا مگر اس دوران ابوجان کی ٹانگ میں ایک گولی لگ گئی تھی ۔میں اس وقت باورچی خانے میں تھی ۔فائرنگ کی آواز سن کر میں بابا جان کی مدد کو پہنچی مگر وہ وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔ہم بابا جان کو اٹھا کر اند ر لے آئے۔سہ پہر ڈھلنے کو تھی ۔ ہم نے سوچا اگلی صبح بابا جان کو ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گے کہ ایک تو تھوڑی دیر میں اندھیرا ہونے والا تھا دوسراخان کلے یہاں سے کافی فاصلے پر ہے ۔مگر آج صبح جب ہم آگے جانے کے لیے تیار ہوئے تو موسم خراب ہو گیا اور ہمارا ارادہ پھر دھرے کا دھرا رہ گیا ۔“
”کیا گولی ٹانگ کے اندر ہی ہے ؟“میں نے کھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھا ۔
”جی ....“گلگارے نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”ہونہہ!“کہہ کر میں روٹی کا گرم نوالہ توڑ کر منھ کی جانب لے جانے لگا ۔سالن میں اس نے اسی یخنی کو تڑکا لگا کر میرے سامنے رکھ چھوڑا تھا ۔نوالہ چباتے ہوئے میں نے پوچھا ۔”اب موسم کی کیا صورت حال ہے ؟“
”ہوا تو قریباََ رک گئی ہے مگر برف باری جاری ہے ۔“اس نے والد کی چارپائی کے قریب پڑی ہوئی خالی چارپائی پر نشست سنبھال لی تھی ۔
”میرا کچھ سامان باہر رہ گیا تھا ۔کہیں وہ برف ہی میں نہ دب جائے ۔“
”آپ کا پستول تو میں لے آئی تھی ، اس کے علاوہ کیا ہے ۔“
چند گز پیچھے ڈھلان کی جانب میرا سفری تھیلا اور کلاشن کوف پڑی تھی ۔“
” ابھی لائی ۔“وہ اٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گئی ۔
”صبح لے آنا ....“میں نے رسمی انداز میں اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔میرے روٹی کھانے سے پہلے ہی وہ ہاتھوں میں میرا تھیلا اور کلاشن کوف پکڑے واپس لوٹ آئی تھی ۔تھیلے کے اوپر پڑی نرم برف کو اس نے باہر ہی جھاڑ دیا تھا ،لیکن خود تھیلے کا مضبوط کپڑا گیلا ہو کر اکڑ گیا تھا ۔تھیلے کو انگھیٹی کے سامنے رکھ کر اس نے کلاشن کوف کو دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا ۔اور خود انگھیٹی کے سامنے ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی ۔اس نے موٹا اونی کوٹ پہنا ہوا تھا مگر گرم کمرے سے نکل کر باہر کا رخ کرنے والے سے سردی صحیح حال پوچھتی تھی ۔
میں نے ممنونیت سے کہا ۔”بہت شکریہ ۔“
”ویسے آپ اس طوفان میں کیسے پھنسے ؟“اس نے بھی وہی سوال پوچھا جو پہلے اس کا والد پوچھ چکا تھا ۔جواباََ میں نے وہی باتیں دہرا دیں جو اس کے باپ کو بتائی تھیں ۔اپنی بات کے اختتام تک میں کھانے سے فارغ ہو گیا تھا ۔
برتن سمیٹتے ہوئے وہ پوچھنے لگی۔”کچھ اور چاہیے ؟“
میں نے جھجکتے ہوئے کہا ۔”اگر دودھ والی چاے مل جاتی ....“
”کیوں نہیں ....“خوش دلی سے کہتے ہوئے وہ باپ کی جانب متوجہ ہوئی ۔”بابا جان !.... آپ چاے لیں گے ۔“
اس نے کراہتے ہوئے کہا ۔”بنا رہی ہو تو پی لوں گا ۔“
”شمریزچچا!ایک بات کہوں خفا تو نہیں ہوں گے ۔“
”کھل کر کہوذیشان میاں ۔“وہ بس مسکرانے کی کوشش ہی کر پایا تھا ۔
”جب تک ٹانگ سے گولی نہیں نکلے گی آپ یونھی تکلیف محسوس کرتے رہیں گے ۔بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم مزید بگڑتا جائے گا ۔زیادہ وقت گزرنے پر آپ کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔“
وہ افسردہ لہجے میں بولا ۔”جانتا ہوں ،مگر کیا کیا جاسکتا ہے ۔جب تک موسم ٹھیک نہیں ہو جاتا ہم خان کلے تک نہیں پہنچ سکتے ۔اور گولی بھی نہیں نکل سکتی ۔“
میں نے کہا ۔”اگر تھوڑی تکلیف برداشت کر لو تو شاید میں بھی یہ گولی نکال لوں ۔“
”تکلیف تو اب بھی برداشت کر رہا ہوں ۔“
”اس سے توکچھ زیادہ ہو گی ....لیکن ان شاءاللہ اس کے بعد آرام ضرور آجائے گا اور آپ کو خان کلے جانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی ۔“
”مگر آپ یوں بغیر کسی اوزار کے ........میرا مطلب ہے گولی ہے کوئی کانٹا تو نہیں ہے کہ سوئی کے ساتھ نکل آئے ۔“اس کے لیے میری آفر حیرانی کا باعث بنی تھی ۔
”یہ میرا درد سر ہے،آپ برداشت کرنے والے بنیں ۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا ۔”سر پر پڑی مصیبت کوجھیلنا پڑتا ہے ۔“
”ٹھیک ہے صبح روشن ہونے پر ان شاءاللہ آپ کی ٹانگ سے گولی نکالوں گا ۔“یہ کہہ کر میں چارپائی سے اٹھ کر اپنے سفری تھیلے کی جانب بڑھ گیا ۔دیوار سے لٹکی جائے نماز اتار کر میں نے انگھیٹی کے سامنے بچھائی اور اپنا تھیلا کھول کر سارا سامان باہر نکال کر جائے نماز پر رکھنے لگا ۔وہ سفری تھیلا پیرا شوٹ کے مضبوط کپڑے کا بنا ہوا تھا اس کے باوجود نمی کا اچھا خاصا اثر اندر پہنچا تھا ۔البتہ تھیلے کے اندر رکھی ہوئی ضروری اشیا چونکہ پلاسٹک کے لفافوں میں بند تھیں اس لیے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا ۔ورنہ ابتدائی طبی امداد کے تو سارے سامان نے برباد ہو جانا تھا ۔سامان کو انگھیٹی کے سامنے پھیلا کر رکھنے کے بعد میں نے کلاشن کوف کو بھی مکمل کھول کر اس کے پرزے خشک ہونے کے لیے انگھیٹی کے سامنے رکھ دیے تھے ۔ اسی اثناءمیں گلگارے چاے کی پیالیوں کے ساتھ پہنچ گئی تھی ۔چاے کی کیتلی کے ساتھ وہ تین خالی پیالیاں لے آئی تھی ۔ہمیں ایک ایک پیالی پکڑا کر اس نے تیسری پیالی میں اپنے لیے چاے انڈیل لی ۔
چاے بہت اچھی بنی تھی ،بس میٹھا ذرا زیادہ ہو گیا تھا ۔چاے پی کر میں نے گلگارے سے کوئی پرانا خشک کپڑا اور اپنا پستول مانگا ۔اور وہ سر ہلاتے ہوئے چاے کے برتن سمیٹ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔ اس کی آمد ایک پرانی زنانہ قمیص اورگلاک نائینٹین کے ساتھ ہوئی تھی ۔
اس کے ہاتھ سے پراناکپڑا لے کر میں نے کلاشن کوف اور پستول کے پرزوں کو اچھی طرح خشک کیا ۔دونوں ہتھیاروں کی میگزینوں سے گولیاں نکال کر انھیں بھی خشک کیا اور تمام سامان کو انگھیٹی کے سامنے مزید خشک ہونے کے لیے رکھ کر رضائی میں گھس گیا ۔گلگارے کافی دیر کی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی ۔شمریز خان بھی اونگھ رہا تھا ۔ میری بھی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔رات کے دو بج رہے تھے ۔میرے پاس آرام کرنے کے لیے چار ساڑھے چار گھنٹے موجود تھے ۔طلوع آفتاب کہیں پونے ساتھ بجے ہوتا تھا۔
٭٭٭
اگلے دن موسم کی صورت حال برقرار رہی ۔نماز پڑھ کر میں دوبارہ لیٹ گیا تھا ۔تھوڑی دیر بعد میرے لیے رنڑا ناشتا لے آئی ۔وہ چودہ سال کی تھی مگراچھی صحت کی وجہ سے دیکھنے میں کچھ بڑی ہی لگ رہی تھی ۔اس کے معصوم چہرے پر کئی سوال مچل رہے تھے ۔ناشتا میرے سامنے رکھ کر اس نے خالی چارپائی پر نشست سنبھال لی ۔اسی وقت اس سے چھوٹا بھائی ثمر خان بھی وہاں پہنچ گیا ۔شرماتے ہوئے اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور بہن کے ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔
”تو آپ کا نام ثمر خان ہے ؟“انھیں مانوس کرنے کے لیے میں نے خود ہی گفتگو کی ابتدا کی تھی ۔
”جی لالا۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔
”اسکول پڑھتے ہو؟“
وہ معصومانہ انداز میں بولا۔”یہاں پراسکول ہے ہی نہیں ،البتہ مولوی صاحب سے قرآ ن پڑھنے جاتا ہوں ۔“
میں نے پوچھا ۔”کہاں جاتے ہو ؟“
”یہیں اپنے گاﺅں میں ۔“
”کیا یہاں اور گھر بھی ہیں ؟“
ثمر خان کے بجائے اس کا باپ شمریز جواب دیتے ہوئے بولا۔”ہاں ذیشان صاحب!.... پہاڑی کے عقب میں ہمارا چھوٹا سا گاﺅں ہے خواگااوبو۔قریباََ بیس پچیس گھر ہوں گے ۔ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے جہاں مولوی صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں ۔“
”اور میری چھوٹی سی بہن رنڑا بھی وہاں جاتی ہے ۔“
’میں باجی سے پڑھتی ہوں ۔“میرے مخاطب کرنے پر وہ کھل اٹھی تھی ۔میں تھوڑی دیر دونوں بچوں سے عام سے سوالات پوچھتا رہا ،اس دوران ان کی بڑی بہن گلگارے بھی وہاں پہنچ گئی تھی ۔طلوع ِ آفتاب کے باعث اچھی خاصی روشنی بھی ہو گئی تھی ۔میں گلگارے کو مخاطب ہوا ....
”گلگارے بہن !....ایسا کرو ایک برتن میں پانی گرم کر کے لے آﺅ ،صاف نرم کپڑا،قینچی اورایک لمبی رسی بھی لے آﺅ۔“
”خیر تو ہے ۔“میری فرمائش سن کر اسے حیرانی ہوئی تھی ۔
میں مسکرایا ۔”آپ کے باباجان کی خیر نہیں ہے ۔“
اسے ہنوز حیرانی میں مبتلا پا کر میں وضاحت کرتے ہوئے بولا ۔”شمریز چچا کی ٹانگ سے گولی نکالنا بہت ضروری ہے ورنہ دیر ہونے کے ساتھ زخم کے بگڑ جانے کا اندیشہ ہے ۔“
”کیا آپ ڈاکٹر ہیں ؟“
میں نے کہا ۔”ہاں ،کچھ ایسا ہی سمجھو۔“
ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ رنڑا اور ثمر خان کو رسی لانے کا بتا کر واپس مڑ گئی ۔اس کے چہرے پر تذبذب کے آثار نظر آ رہے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد مطلوبہ سامان پہنچ گیا تھا ۔ان تمام کے ساتھ مل کر میں نے شمریز خان کی چارپائی کو اٹھا کر انگھیٹی کے نزدیک کیا اور ثمر خان کو کمرے کا دروازہ مکمل کھولنے کو کہا تاکہ روشنی ہو جائے۔ سارے انتظامات مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا ....
”گلگارے بہن !....آپ ان دونوں کو ساتھ لے کر چلی جائیں ۔“
”شش....شاید آپ کو میری مدد کی ضرورت پڑے ۔“اس نے ہکلاتے ہوئے آفر کی ۔یقینا وہ والد کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔والد اور بیٹی کا بھی عجیب رشتا ہے ،کمزور اور نازک اندام بیٹی کے بس میں ہو تو والد کی تمام تکالیف اپنے ذمہ لے لے ۔حالانکہ بعض باپ اپنی بیٹی کے بہت سارے حقوق کی ادائی میں غفلت برت جاتے ہیں اس کے باوجود بیٹی کے دل سے اپنے باپ کی محبت کم نہیں ہوتی ۔
”اچھا بچوںکو باہر بھیج دو ۔“میں اصرار کیے بغیر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گیا ۔یوں بھی آپریشن کے دوران مجھے اس کی ضرورت پڑ سکتی تھی ۔شمریز خان کے بدن سے لحاف اٹھا کر میں نے خالی چارپائی پر پھینک دیا ۔اسے گھٹنے سے ذرا اوپر گولی لگی تھی ۔گلگارے یا اس نے خود شلوار کے اوپر ہی سے ایک بڑی چادر زخم پر لپیٹ دی تھی ۔جس کے لپیٹنے کا بس اتنا فائدہ ہوا تھا کہ خون کا بہاﺅ رک گیا تھا ۔ان کا جانے انجانے میں کیا ہوا یہ کام شمریز خان کی زندگی کی ضمانت بن گیا تھا۔ میں نے زخم پر بندھی پٹی کھول کر قینچی سے اس کے زخم پر موجود شلوار کابڑا ساٹکڑا کاٹ دیا تاکہ زخم کے علاج میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ ابتدائی طبی امداد کے سامان میں میں نے فورسپ بھی رکھا تھا ۔اس باریک منھ والا آلے سے جسم میں موجود گولی کو پکڑ کر نکالا جا سکتا ہے ۔آپریشن کرنے والے سرجن کے پاس تو کئی قسم کے فورسپ ہوتے ہیں لیکن ہم جیسوں کو تو بعض اوقات کسی باریک دھار کے خنجر سے بھی یہ کام کرنا پڑتا ہے۔البتہ خنجر اور فورسپ میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خنجر سے زخم کا منھ بھی چر جاتا ہے اور خنجر سے کام لینے والے کو اس کام میں زیادہ ماہر بھی ہونا چاہیے ۔کیونکہ خنجر کی نوک سے ٹٹول کر گولی کو محسوس کرنا اور پھر نوک ہی کی مدد سے گولی کو زخم سے باہر نکالنا نہایت دشوار اور مشکل ہوتا ہے ۔اس پر مستزاد تکلیف میں مبتلا شخص کی کراہنا اور سسکنا ہوتا ہے ۔ گو طبی لحاظ سے خنجر سے گولی نکالنا شاید سراسر غلط ہو،اس طرح متاثر شخص کواس طریقہ کار سے بھی بہت زیادہ تکلیف کاسامنا کرنا پڑتا ہے مگر یہ وقتی تکلیف بعد میں ہونے والی معذوری یا زخم کے ناسور میں تبدیل ہونے کی اذیت سے بہت بہتر ہوتی ہے ۔
زخم کو دھونے سے پہلے میں نے شمریز خان کو مخصوص طریقے سے باندھ دیا تاکہ وہ تکلیف کی وجہ سے ہل جل کر خود کو مزید زخمی نہ کرا بیٹھے ۔اسے باندھنے کے بعد میں نے گرم پانی سے اس کا زخم دھویا اور زخم پرتھوڑی سپرٹ بھی ڈال دی ۔دھونے اور سپرٹ سے خون کا بہاﺅ پھر جاری ہو گیا تھا ۔کپڑے کا ایک گولا بنا کر میں نے شمریز خان کے حوالے کیا تاکہ وہ دانتوں میں دبا کراپنی چیخ روکنے کی کوشش کر سکے۔ اس کے بعد فورسپ کو اسپرٹ سے تر کرکے میں آپریشن کے لیے تیار تھا ۔
پہلی مرتبہ مجھے پلوشہ کے بدن سے گولی نکالنا پڑی تھی اور اسے تکلیف میں مبتلا دیکھ کر میرے ہاتھوں میں لرزش شروع ہو گئی تھی ۔ لیکن آج مجھے کسی قسم کی جھجک یا پریشانی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔میں اطمینان سے اپنا کام کرنے لگا۔
فورسپ کو زخم کے اند ر ڈالتے ہی شمریز خان کی مٹھیاں اذیت کی زیادتی سے بھینچ گئی تھیں ۔سختی سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس کے منھ سے دردبھری سسکیاں نکل رہی تھیں ۔گلگارے نے بے ساختہ اس کا سر سہلانا شروع کر دیا تھا ۔وہ باپ کے زخم کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی ۔کافی ہمت اور حوصلے والی ہونے کے باوجود اس میں اتنی ہمت مفقود تھی کہ براہ راست آپریشن ہوتا دیکھ سکتی ۔ایسا منظر کم لوگ ہی دیکھ پاتے ہیں ۔وہ پلوشہ ہی تھی جو گلگارے سے بھی عمر میں سال دو سال چھوٹی ہو گی اور دیکھنا تو چھوڑو وہ خود اپنے ہاتھوں یہ کام کر گزرتی تھی ۔
فورسپ کی نوک کاگولی سے ٹکرانا مجھے محسوس ہو گیا تھا ۔گولی کواحتیاط سے فورسپ کے منھ میں پکڑ کر میں نے آہستگی سے آلے کو باہر کھینچ لیا ۔گولی کے باہر آتے ہی شمریز خان نے بدن ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔اس نے دانتوں میں پکڑا کپڑا زبان کی مدد سے باہر دھکیلا اوراس کے ساتھ ہی اس کے منھ سے گہرا سانس خارج ہوا ۔
میں نے صاف کپڑا زخم کے منھ پر دبا کر بھل بھل بہتے خون کو روکا اور گلگارے کو کہا ۔
”والد کے جسم سے رسی کھول لو ۔“
میرے اچانک پکارنے پر وہ ہڑبڑا سی گئی تھی ۔اس کے ساتھ ہی اس نے دھیمے لہجے میں ۔ ”جی ۔“کہا اور رسی کی طرف متوجہ ہو گئی ۔اس کے رسی کھولنے تک میں نے زخم کے منہ پر پٹی کو دبائے رکھا۔جونھی وہ رسی کھول کر فارغ ہوئی میں نے کہا ....
”اس پٹی کو یہاں دبا کر رکھو ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ میرے قریب ہوئی ۔میں نے پیچھے ہو کر اسے زخم پر ہاتھ رکھنے کی جگہ دی اور خود دوائیوں کی طرف متوجہ ہوگیا ۔سب سے پہلے میں نے صاف کپڑے سے مناسب لمبائی میں دو تین پٹیاں پھاڑیں ۔پھرپائیوڈین کی بوتل کھول کرمیں نے گلگارے کو پیچھے ہٹنے کو کہا۔
زخم پر تھوڑی سی پائیوڈین ڈال کر ساتھ ہی درد کش اور خون کے بہاﺅ کو روکنے والا سفوف زخم میں بھر دیا ۔اس کے اوپر ایک پٹی تہہ کر کے رکھتے ہوئے میں نے دوسری پٹی زخم پر لپیٹ دی ۔پٹی سے فارغ ہو کر میں نے درد کش ٹیکہ تیار کر کے شمریز خان کو پہلو کے بل لٹایا اور جسم کے پر گوشت حصے میں وہ ٹیکہ لگا دیا ۔اس کے بعد اینٹی بائیوٹک ٹیکہ بھی اس کی رگ میں لگا کر میں اس سے حال پوچھنے لگا ۔
”کافی بہتر محسوس ہو رہا ہے ،درد بھی ختم ہو نا شروع ہو گیا ہے ۔“
”آپ کا بہت بہت شکریہ ۔“گلگارے نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا ۔”آپ تو شاید ہماری مدد کرنے آئے تھے ،میں سمجھ رہی تھی ہم آپ کی مدد کرر ہے ہیں ۔“
”گلگارے بہن !....آپ نے تو مجھے نئی زندگی دی ہے ۔میں نے جو کام کیا ہے یہ آج نہیں تو کل پرسوں تک ڈاکٹر صاحب نے کر دینا تھا ۔اور یقینا وہ مجھ سے بہت بہتر انداز میں یہ کام سرانجام دیتا ۔“
”پتا نہیں موسم نے کب ٹھیک ہونا ہے۔اور ڈاکٹر صاحب کوئی کلومیٹر بھر کے فاصلے پر تو نہیں بیٹھا کہ ہم آسانی سے وہاں پہنچ جائیں ۔اس علاقے میں ڈاکٹر صاحب تک مریض کو لے جاتے ہوئے مریض کی جو حالت ہوتی ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتی ۔اور باباجان کی طرح زخمی آدمی کا تو ستیاناس ہو جاتا ہے ۔ گولی نکالنے کے لیے بھی ڈاکٹر صاحب کم از کم پندرہ بیس ہزار روپے طلب کرتا ہے۔ دوائیوں کا خرچ ایک علاحدہ مسئلہ ہوتا ہے ۔آپ نہیں جانتے آپ نے ہمیں کتنی پریشانیوں سے چھٹکارا دلایا ہے ۔“
میں نے مزید تکرار سے بچتے ہوئے کہا ۔”مجھے خوشی ہوئی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کے کسی کام آیا ۔“یہ کہہ کر میں گرم پانی سے اپنے ہاتھ اور فورسپ کو دھونے لگا ۔وہ اپنے والد کے سرہانے کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی تھی ۔تمام سامان سنبھال کر میں نے شمریز خان کو کھلانے کے لیے درد کش اور اینٹی بائیوٹک گولیاں گلگارے کی طرف بڑھا دیں ۔اور ساتھ ہی اسے گولیاں کھلانے کی ترتیب بھی بتا دی ۔
رنڑا اور ثمر خان ساتھ والے کمرے کے دروازے سے بار بار متجسس ہو کر جھانک رہے تھے ۔
”آپ دونوں بھی آجاﺅ۔“میں نے انھیں آوازدی اور وہ بھاگ کر اندر آگئے ۔رنڑا تو آتے ساتھ باپ سے لپٹ گئی تھی ۔
”اب میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹی !“وہ اس کا سر تھپتھپانے لگا ۔اللہ پاک کی قدرت بھی عجیب ہے ۔یقینا ان معصوم لڑکیوں نے اپنے باپ کی تکلیف دور ہونے کے لیے خلوص دل سے دعا کی ہوگی اور وہ عظیم رب مجھ جیسے گناہ گار کوان کی مدد کے لیے اس انداز میں گھسیٹ کر وہاں تک لے آیا تھا ۔ورنہ اس سے پہلے میں کبھی بھی کسی غار وغیرہ کی تلاش میں اتنا سرگرداں نہیں رہا تھا ۔ان پہاڑوں میں گھنٹے ادھ گھنٹے کی تلاش کے بعد ہی کوئی نہ کوئی پناہ گاہ مل جایا کرتی تھی ۔گزشتا دن میں شام تک پاگلوں کی طرح پھرنے کے بعد بھی کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ نہیں سکا تھا ۔
انھیں باتیں کرتا چھوڑ کر میں اپنی کلاشن کوف اور پستول کے ساتھ مصروف ہو گیا ۔شاید گلگارے میری ہی جانب متوجہ تھی کہ جونھی میں نے کلاشن کوف کے پرزوں کو ہاتھ لگایا وہ فوراََ بولی ۔
”اگر چاہیے ہوتو گھر میں رائفل کا تیل پڑا ہے ۔“
”یہ تو بہت اچھا ہوگا ۔“میں خوش ہو گیا ۔
”ابھی لائی ۔“وہ سرہلاتے ہوئے ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔اس کی واپسی ایک درمیانے حجم کی پلاسٹک کی بوتل کے ساتھ ہوئی جس میں ہتھیاروں پر لگانے والا تیل بھرا تھا ۔یہ تیل ہتھیار کے پرزوں کو زنگ وغیرہ لگنے سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور چال والے پرزوں کی حرکت میں بھی آسانی پیدا کرتا ہے ۔
”شکریہ۔“ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے تیل کی بوتل پکڑ لی ۔
سہ پہر تک برف باری رک گئی تھی ۔لیکن بادل اب تک ویسے ہی موجود تھے ۔میں اس وقت انگیٹھی کے سامنے نمک ملے گرم پانی کی ادھ بھری بالٹی میں پاﺅں ڈبوئے بیٹھا تھا ۔گزشتاکل میرے پیروں کو جس سردی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کا اثر اب تک ہلکے ہلکے درد کی صورت میں موجود تھا ۔اور اس درد کا بہترین حل نمک ملا گرم پانی ہی تھا ۔
گلگارے اپنے والد کا سر دبا رہی تھی ۔اسے اچھا خاصا بخار ہو گیا تھا ۔میں نے سردرد اور بخار والی گولی بھی اسے کھلا دی تھی ۔رنڑا اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ خشک لکڑیاں اکھٹی کرنے گھر سے باہر نکل گئی تھی ۔اچانک وہ بھاگتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی ۔
”بب.... باجی ، اس دن والے آدمی اس طرف آرہے ہیں ۔ان کے ساتھ تین آدمی اوربھی ہیں ۔“یہ بتاتے ہوئے اس کے معصوم چہرے پر خوف کے مارے ہوائیاں اڑ رہی تھیں ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top