Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سنائپر


لڑکیوں کی جنس ایسی ہے کہ انھیں مردوں کے گندے ارادے کے بارے فوراََ ہی اندازہ ہو جاتا ہے ۔دو روز پہلے ان ظالموں نے اس معصوم کو غلط نیت ہی سے پکڑنا چاہا تھا اور آج ان کی آمد پر وہ ایک دم سہم گئی تھی ۔اس نے فوراََ اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ اسی کے لیے لوٹے ہوں گے ۔حالانکہ اس سے بڑی بہن بھی موجود تھی ،مگر ان موذیوں کی نظر ابھی تک گلگارے پر نہیں پڑی تھی ۔
”دروازہ بند کر دیا ہے نا،ثمر خان کہاں ہے ؟“گلگارے نے اطمینان بھرے انداز میں پوچھا ۔مجھے اس کے چہرے پر ذرا بھر بھی خوف نظر نہیں آیا تھا ۔
”میں یہیں ہوں باجی ۔“دروازے کی طرف سے ثمر خان کی آواز آئی ۔
میں نے اپنے پاﺅں بالٹی سے نکالے اور تولیے سے صاف کر کے جرابیں ڈالنے لگا ۔جونھی میں نے بوٹوں میں پاﺅں ڈالے وہ حیرانی سے پوچھنے لگی ۔”آپ کیوں تیار ہونے لگے ۔“
”شاید آنے والے مہمانوں سے کوئی بات چیت کرنا پڑ جائے ۔“
”آپ ان کی فکر نہ کریں ،برساتی مینڈکوں کی طرح یہ اچکے بھی برف باری کے دنوں میں نمودار ہو جاتے ہیں ....اس سے پہلے بھی دو تین بار ان جیسوں سے واسطہ پڑ چکا ہے ، حد درجہ کے بزدل ہوتے ہیں ۔ہوائی فائر سن کر بھی بھاگنے میں دیر نہیں لگاتے ۔“
”تو اب کیا کریں ،یونھی دروازہ بند کر کے بیٹھے رہیں ۔“
”نہیں ،دو تین گولیاں تو ضائع کرنا پڑیں گی ۔میں مورچے پر چڑھتی ہوں ۔“والد کا سر دبانا چھوڑ کر وہ دیوار میں کیل کے سہارے ٹنگی کلاشن کوف اتارنے لگی ۔
اچانک دروازے پر زور دار دستک ہوئی ۔میں نے اپنی طرف دیکھتی گلگارے کو آنکھوں سے استفہامیہ اشارہ کیا۔
وہ فوراََ بولی ۔”کوئی ضرورت نہیں ہے دروازہ کھولنے کی ،میں مورچے پر چڑھ رہی ہوں۔“
”ٹھیک ہے آپ مورچے پر پہنچیں ،میں دروازے پر جا کر ان سے وجہ پوچھتا ہوں ،ہوسکتا ہے مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائے ۔“
”یہ لاتوں کے بھوت ہیں ۔“
”پھربھی پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ۔اپنی گولیاں اور توانائی خواہ مخوا ضائع نہ کرو۔“گلگارے کو کہہ کر میں نے گلاک نائینٹین کاک کر کے ہاتھ میں تھامااور گرم چادر اوڑھتے ہوئے رنڑا کو کہنے لگا ۔”تم کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دو ۔“
”جی لالا۔“وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔گلگارے بھی مزید تکرار کیے دوسرے کمرے میں لگی سیڑھی کی جانب بڑھ گئی جس کے ذریعے وہ چھت پر بنے مورچے میں پہنچ سکتی تھی ۔
وقفے وقفے سے ان کا دستک دینا جاری تھا ۔دروازے کے قریب پہنچ کر میں نے رسمی انداز میں پوچھا ۔”کون ؟“
”دروازہ کھولو۔“میری نرم آواز نے اسے لہجہ سخت کرنے کی شہہ دی تھی ۔
دروازے میں بنی ذیلی کھڑکی کی کنڈی کھول کر میں باہر نکلا ،ان میں سے دو دروازے کے قریب جبکہ تین چند قدم پیچھے ہٹ کر کھڑے تھے ۔دستک دینے والوں میں ایک کے ہاتھ میں ایٹ ایم ایم اور دوسرے کے ہاتھ میں کلوز بٹ کلاشن کوف تھی ،جبکہ تھوڑی دور کھڑے افراد میں دو کے ہاتھ میں تیس بورپستول اور ایک نے سنگل بیرل بارہ بور اٹھائی ہوئی تھی ۔
”جی ۔“سلام و دعا اور مصافحے کے بغیر میں نے خشک لہجے میں پوچھا ۔
”میں طالبان کمانڈر ہوں اور پرسوں اس گھر سے میرے آدمیوں پر فائر کیا گیا ہے ۔“گھنے گھنگریالے بال ،لمبی مونچھوں اور ہلکی داڑھی والے ایک آدمی نے دھمکی آمیز لہجے میں گفتگو کی ابتدا کی تھی۔
”تو جن پر گولیاں چلائی گئیں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت وہ کس عبادت کی بجا آوری کی کوشش میں تھے ۔“میں نے بہ ظاہر عام سے انداز میں کہا ۔میرے لہجے سے غصے یا خوف کا کوئی اظہار نہیں ہو رہا تھا ۔
”ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی ۔وہ اپنے رستے پر جارہے تھے کہ ایک نوجوان لڑکی نے انھیں دیکھااور ڈر کر گھر کی طرف بھاگ پڑی۔حالانکہ کہ انھوں نے لڑکی کو کچھ بھی نہیں کہا تھا ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”جانتے ہو جھوٹ بولنے کے لیے بھی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔“
اس کے ساتھ کھڑا دوسرا آدمی بپھر کر بولا ۔”جھوٹ نہیں بول رہے ،تم ذرااس لڑکی کو باہر بلاﺅ۔“
”وہ میری چھوٹی بہن ہے اور اس نے ان بزدلوں کا جو حلیہ بتایا ہے وہ بالکل تم دونوں جیسا ہے ۔ تمھاری خوش قسمتی کہ اس دن تم بچ نکلے ،مگر یقین مانو خوش قسمتی ہمیشہ ساتھ نہیں دیا کرتی ۔“
”دھمکی دے رہے ہو ؟“خود کو کمانڈر بتانے والے کا غصہ دیدنی تھا ۔
”نہیں ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں کہا ۔”جان بچانے کا موقع دے رہا ہوں ۔“
”یقینا تم ہم سے واقف نہیں ہو ورنہ بڑھکیں مارنے کے بجائے اپنی جان بچانے کا سوچتے۔“
میں متبسم ہوا ۔”جانتا نہ ہوتا تو شاید کچھ اہمیت دے بھی دیتا ۔“
”چلو تعارف کرا دیتے ہیں ۔“اس نے کندھے سے لٹکی کلاشن کوف اتاری ۔اس کے ساتھی نے بھی ایٹ ایم ایم رائفل ہاتھ میں تھام لی تھی ۔اچانک ہی ماحول دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ مسلسل تین گولیاں چلائی گئی تھیں اور ساری گولیاں خود کو کمانڈر کہنے والے کلاشن کوف بردار کے سامنے زمین میں لگی تھیں ۔
دھماکے کی آواز سنتے ہی وہ حیرت اور خوف سے اچھل پڑے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ان کی نظریں مکان کے سامنے والی دیوار کے دائیں کونے میں نے مورچے کی طرف اٹھیں جہاں سے کلاشن کوف کی بیرل جھانک رہی تھی ۔گلگارے نے اپنا کالا دوپٹا پگڑی کے انداز میں سر پر باندھ کر اس کا ایک پلو چہرے سے بھی لپیٹ لیا تھا ۔مورچے کے ہول سے کلاشن کوف کی بیرل کے ساتھ اس کے چہرے کی بھی جھلک دکھائی دے رہی تھی ۔وہاں سے وہ ایک مرد ہی دکھائی دے رہی تھی ۔اس کے باعتماد فائر نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ کلاشن کوف کا استعمال جانتی تھی۔میں نے بھی چادر کے نیچے چھپایا پستول باہر نکال لیا تھا ۔
ایک دو لمحے مورچے کی طرف خوف زدہ نظروں سے دیکھنے کے بعد نام نہاد کمانڈ اپنے ساتھیوں کو بولا ۔
”چلو پھر کبھی سہی ۔“یہ کہتے ہوئے وہ پیچھے مڑا۔
”بات سنو ۔“میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔”اگر دوبارہ اس گھر کی طرف آنا ہو تو اپنے دوسرے ساتھیوں کو بتا کر آنا ،کیونکہ واپسی کے لیے تمھیں ان کے کندھوں کی ضرورت پڑے گی ۔“
”دیکھ لوں گا تمھیں۔“گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے وہ دوبارہ چل پڑا تھا ۔
”اگر میرے پانچ گننے تک یہ غائب نہ ہو جائیں تو سب سے آخر والے کو گولی مار دینا ۔“ گلگارے کی جانب رخ کر کے میں نے اس کا نام لیے بغیر کہا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے زور سے۔” ایک “پکارا تھا ۔
ان سورماﺅں کی ٹانگوں میں ایک دم جان پڑ گئی تھی ۔میرے تین کہنے تک وہ ڈھلان سے اتر کر میری نظروں سے غائب ہو گئے تھے ۔
میں مسکراتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔میرے کمرے میں داخل ہونے تک گلگارے بھی نیچے آ گئی تھی۔اس کے ہونٹوں پر شوخ مسکراہٹ کھل رہی تھی ۔کلاشن کوف کودیوار کے سہارے کھڑا کرتے ہوئے اس نے کہا ۔
”دیکھ لی ان کی بہادر ی۔“
”یقینا آپ کی نشانہ بازی سے ڈر کر بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔“
رنڑا نے فوراََکہا ۔”ہاں لا لا جی !....باجی کا نشانہ بہت اچھا ہے ۔بابا جان سے بھی اچھا ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”خاک اچھا ہے ، اتنے قریب سے بھی تین گولیاں چلا کر ان لٹیروں کو نشانہ نہیں بنا پائی ۔“
”مرد کبھی بھی یہ بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا کہ کوئی عورت اس سے بہتر انداز میں ہتھیار کو استعمال کر سکتی ہے ۔“میرے مذاق کو جانے کیوں اس نے سنجیدگی سے لے لیا تھا ۔
”گلگارے بہن !....میں مذاق کر رہا تھا ۔“میں نے فوراََ ندامت ظاہر کی ۔
”میں نے بھی آپ کی بات نہیں کی ،ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے ۔“وہ میری ندامت کو خاطر میں نہیں لائی تھی ۔
”ضروری تو نہیں کہ اپنے والد سے اچھی نشانہ بازلڑکی ،ہر مرد سے بہتر ہو ....یقینا آپ سے بہتر کئی مرد نشانہ باز دنیا میں موجود ہوں گے ۔“نہ جانے کیوں مجھے اس کا انداز اچھا نہیں لگا تھا ۔
”آ جائیں ،آپ بھی تو مرد ہی ہیں نا ۔“اس نے مجھے للکارنے میں ایک سیکنڈ بھی ضائع نہ کیا ۔
”میں نے اپنے بارے تو ایسا کچھ نہیں کہا ۔“میں نے پسپا ہونے میں دیر نہیںلگائی تھی ۔
”جس دن خود سے بہتر نشانے باز نظر آگیا مجھے ضد پر جری نہیں پاﺅ گے ۔“
اسی وقت خاموش لیٹے شمریز خان نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔”گلگارے تو میرا بیٹا ہے بیٹا ہے ۔“
”نہیں باباجان !....میں آپ کی بیٹی ہوں اور مجھے عورت ذات ہونے پر فخر ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے عجیب سی نظروں سے میری جانب دیکھا اور باپ کے سرہانے کے ساتھ بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔
”شمریز چچا !....آپ کو یقین ہے کہ یہ دوبارہ نہیں آئیں گے ۔“
”ذیشان صاحب،ہمارے علاقے میں مختلف پارٹیاں سرگرداں رہتی ہیں ،ان میں مجاہدین، اسمگلر ، شکاری ،چور اچکے ،دہشت گرد،ناقابل معافی جرم کر کے چھپنے کی غرض سے یہاں آنے والے وغیرہ ۔ان سب کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ان میں سب سے بڑی مصیبت ازبک اور تاجک دہشت گرد ہوتے ہیں جو پورے پورے گاﺅں پر قابض ہوجاتے ہیں ۔چونکہ ہمارا گاﺅں کچھ زیادہ اچھی جگہ پر واقع نہیں ہے اس لیے کوئی ایسا گروپ ااس طرف متوجہ نہیں ہوا۔البتہ چھوٹے موٹے چور اچکے جو تین تین چار چار کی تعداد میں پھررہے ہوتے ہیں آئے روز تنگ کرتے رہتے ہیں ۔یہ بھی عموماََ اس جگہ ہاتھ ڈالتے ہیں جہاں انھیں مزاحمت نہ ہونے کا یقین ہو ۔ البتہ کسی خاص چیز کے لالچ میں یہ دو تین بار کوشش ضرور کرتے ہیں اور ایسی حالت میں کبھی جان سے جاتے ہیں کبھی وہ چیز حاصل کر لیتے ہیں ۔اور ہمارے پاس ایسی کون سی خاص چیز ہے جس کے پیچھے انھیں بار بار آنے کی زحمت کرنا پڑے ۔“
میرے دماغ میں فوراََ رنڑا کا نام گونجا ۔وہ چودہ پندرہ سال کی ایسی کھلتی ہوئی کلی تھی جس کے پیچھے ہوس کے پجاری ،بھیڑیوں کی طرح دانت نکوسے ہوئے وہاں پہنچے تھے ۔مجھے ان کی گفتگو بھولی نہیں تھی ۔گفتگو کی ابتداءہی میں انھوں نے رنڑا کو بلانے کی بات کی تھی ۔اور کسی بھی جنسی مریض کے لیے سب سے اہمیت کی حامل ایسی لڑکی ہوتی ہے جس پر اس کا دل آجائے ۔مجھے بھی ان درندوں سے یہی خدشہ تھا کہ ان میں کسی کا ایک دل رنڑا پر آگیا تھا اور اب وہ اتنی جلدی پیچھا چھوڑنے پر راضی نہ ہوتے ۔گندگی بھرے ذہن کی سوچوں کو کلاشن کوف کی گولی ہی صاف کر سکتی ہے ۔میں انھیں واپس جانے دینے کے فیصلے پر پچھتانے لگا ۔اپنے خیالات میں میں شمریز خان یا گلگارے کو حصہ دار نہیں بنا سکتا تھا ۔نہ یہ ایسے اندیشے تھے جن پر کسی لڑکی کے باپ سے تبادلہ خیال کیا جا سکتا ۔اس لیے میں نے ان کی خوش فہمی برقرار رکھتے ہوئے چپ سادھ لی تھی ۔
مجھے خاموش پا کر شمریز خان پوچھنے لگا ۔”کن خیالوں میں کھو گئے ہو ۔“
”بس یہ سوچ رہا تھا کہ وہ خبیث دوبارہ کس لیے لوٹے تھے ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے کچھ نہ کچھ اندیشے ان کے دماغ میں ابھارنے چاہے ۔
خاموش بیٹھی گلگارے بولی ۔”کیونکہ پہلے انھیں خاطر خواہ طریقے سے خوش آمدید نہیں کہا گیا تھا ۔“
”بہ ہر حال کچھ بھی ہو میرے جانے کے بعد آپ لوگ محتاط رہنا ۔“
”میرا خیال ہے ہم اپنی حفاظت کر سکتے ہیں ۔باقی دو دنوں میں ہمیں آپ کی عادت نہیں پڑ گئی کہ آپ کے جانے کا دکھ یا کمی محسوس ہو۔“
گلگارے نے کافی تلخ مگر مبنی بر حقیقت بات کہی تھی ۔اور ایسی سچی بات کو ہضم کرنا کافی مشکل ہوتا ہے ۔مگر وہ میری محسن تھی اور میں اسے سخت جواب دے کر اس کا دل نہیں دکھا سکتا تھا ۔
میں نے ۔”آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔“کہہ کر چپ سادھ لی تھی ۔
٭٭٭
رات کو کھانے کے خالی برتن میرے سامنے سے اٹھاتے ہوئے گلگارےدھیمے لہجے میں بولی ۔ ”میں اپنی سہ پہر کی گفتگو پر معذرت خواہ ہوں ۔“
میں نے کہا ۔”بہنوں کا بھائیوں سے معذرت کرنا عجیب سا لگتا ہے ۔“
”صحیح کہا ۔میرا نقطہ نظر بھی یہی ہے ۔“اس نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔”بہ ہرحال میں نادم ہوں ۔“نجانے کیوں مجھے اس کا انداز معنی خیز لگا تھا ۔
برتن سمیٹ کروہ باہر نکل گئی جبکہ میں شمریز خان سے طبیعت کا پوچھنے لگا ۔وہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہا تھا ۔
آسمان بالکل صاف ہو گیا تھا اس لیے سردی تھوڑی زیادہ محسوس ہو رہی تھی ۔گلگارے باورچی خانے میں برتن رکھ کر واپس لوٹ آئی ۔باپ کو گولیاں کھلا کر وہ اس کا سر دبانے لگی ۔میں لحاف میں چھپ گیا ۔ ایک لڑکی کی موجودی میں مجھے تھوڑا عجیب سا محسوس ہوتا تھا ۔ان لوگوں کا رواج مہمان کو بیٹھک میں سلانے کا تھا ،لیکن وہاں میں جس حال میں پہنچا تھا اس کی وجہ سے مجھے گھر کے اندر جگہ مل گئی تھی اور پھر گھر کے سربراہ کا علاج کرنے کی وجہ سے انھوں نے مجھے بیٹھک کی راہ نہیں دکھلائی تو میرا بھی کچھ حق بنتا تھا۔ سیانے کہتے ہیں کسی کے گھر مہمان بنو تو اپنی نظروں کی حفاظت کرو ۔گو میں گلگارے کو بہن ہی کہتا تھا لیکن اس کے باوجود مجھے تھوڑا سا خود میں سمٹنے کی ضرورت تھی ۔یوں بھی موسم کو صاف دیکھ کر میں نے صبح آگے جانے کا ارادہ کر لیا تھا ۔میں کوئی سیر سپاٹے کے لیے نہیں آیا تھا کہ وہاں کچھ دن گزارنے کی کوشش کرتا ۔ مجھے بہت اہم کام درپیش سے تھے ۔سب سے بڑھ کر اپنی پلوشہ کوتلاش کرناتھا ۔میں نہیں چاہتا تھا کہ میری شریک حیات آگ و خون کی جنگ کا مزید حصہ بنے۔
پلوشہ کا نام ذہن میں آتے ہی میری سوچیں اسی کی ذات پر مرتکز ہو گئیں ۔یوں لگ رہا تھا جیسے اس سے بچھڑے صدیاں بیت گئی ہوں ۔اس کے ساتھ گزرے پل کسی سہانے سپنے کا حصہ لگ رہے تھے ۔اس کا روٹھنا ، منانا ،اس شوخیاں ،شرارتیں اور چنچل پن ،اس کی محبت بھری گفتگو ۔میری چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھنے کا جنون ۔اس کی ہر ادا ،ناز نخرا اور دلربانہ انداز میرے دماغ کے پردہ سکرین پر فلم کی طرح چلنے لگا ۔اور اسی کو سوچتے سوچتے میں نیند کی گہری وادیوں میں ڈو ب گیا ۔جہاں ہر رات کی طرح اپنی آغوشِ محبت وا کیے وہ مجھے بے صبری سے اپنی منتظر نظر آئی ۔
”راجو !....بھول تو نہیں گئے ہو اپنی لاڈلی کو ۔“اس نے شکوہ کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
میں نے چاہت بھرے لہجے میں کہا ۔”چندا ،سانس لینا بھی کوئی بھول سکتا ہے ۔“
”چل جھوٹے ۔“وہ ناز بھرے انداز میں مسکرا دی تھی ۔
٭٭٭
اگلی صبح بستر سے نکلنے سے پہلے ہی ہوا کی سائیں سائیں مجھے وہاں مزید رکنے کا مژدہ سنا رہی تھی ۔بے وقت کی برف باری میری راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی تھی ۔وزیرستان میں برف باری عموماََ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں شروع ہوتی ہے ۔اور اب نومبر کے وسط میں ہونے والی برف باری نے اچھا خاصا مسئلہ پیدا کر دیا تھا ۔
ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر میں نے شمریز خان کی پٹی تبدیل کی ۔اب اس کے زخم میں پہلے جتنا درد نہیں تھا ۔گولیاں وغیرہ گلگارے نے اسے کھلا دی تھیں ۔
ظہر کے بعد برف باری تو جاری رہی البتہ ہوا رک گئی تھی ۔میں رنڑا اور ثمر خان کو لے کر خشک لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل آیا ۔گلگارے نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی تھی مگرمیں نے اس کی بات کودرخور اعتناءنہ جانا۔یونھی بے کار بیٹھا رہنا مجھے پسند نہیں تھا ۔
برف ڈیڑھ دو فٹ کے قریب پڑ چکی تھی ۔سپورٹس شوز پہن کر اس برف میں چلنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے شمریز خان کے بوٹ ڈال لیے تھے ۔لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لیے ہمیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔واپسی پر ہم تینوں کے سر پر لکڑیوں کے گٹھے تھے ۔آتے جاتے ہوئے رستے میں اور لکڑیاں اکٹھی کرنے کے دوران رنڑا کی زبان مسلسل چلتی رہی تھی ۔اپنے گھر ،گاﺅں ،والد بہن ، سہیلیوں وغیرہ کے بارے اس نے کوئی پہلو تشنہ نہیں رہنے دیا تھا ۔اپنی گلگارے باجی سے وہ بہت متاثر تھی اور اسی کی طرح بننا چاہتی تھی ۔
خشک لکڑیاں رکھنے کے لیے انھوں نے ایک بڑا کمرہ مختص رکھ چھوڑا تھا ۔وہ کمرہ آدھے سے زیادہ لکڑیوں سے بھرا ہوا تھا ۔لکڑیاں وہاں رکھ کر رنڑا اور ثمر خان تو چھت پر چڑھ گئے ۔ان کے ہاتھ میں لکڑی کے بنے ہوئے مخصوص پھاوڑے تھے جن کی مدد سے وہ چھت پر پڑی برف اتارنے لگے ۔ کہ چھت پر پری برف چھتوں کو نقصان پہنچاتی ہے ۔مجھے چاے کی طلب ہو رہی تھی۔گلگارے باورچی خانے میں مصروف نظر آئی ۔دروازے پر رک کر میں نے پوچھا....
”چاے مل جائے گی ۔“
اس نے خوش دلی سے کہا ۔”ضرور ملے گی ۔آئیں، یہیں بیٹھ کر پی لیں ۔“
مجھے وہاں بیٹھنا مناسب معلوم نہیں ہورہا تھا مگر اس نے دعوت اس خلوص سے دی تھی کہ میں ٹھکرا نہ سکا ۔لکڑی کی چوکی پر میں چولھے کے قریب بیٹھ گیا ۔وہ غالباََ شام کے لیے سالن تیار کر رہی تھی ۔ ہانڈی چولھے سے اتار کر اس نے چھوٹی سی دیگچی چڑھا دی ۔ایک دوسرے پتیلے میں گائے کاتازہ دودھ رکھاتھا ۔ ان کی اپنی دو گائیں اور دس پندرہ بکریاں تھیں ۔
میں نے مشورہ دینے کے انداز میں کہا ۔”ویسے آپ لوگ اگر گاﺅں ہی میں رہتے تو زیادہ بہتر نہ ہوتا ۔ان لچے لفنگے آوارہ گردوں سے بھی جان چھوٹ جاتی اور لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے میں اور کئی مسائل بھی حل ہو جاتے ۔“
”ہم پہلے گاﺅں ہی میں رہتے تھے ۔ابھی دوسال ہوئے ہیں یہاں گھر بنائے ہوئے ۔ گاﺅں والا گھر بھی اب تک موجود ہے ۔اور گاﺅں اتنی دوربھی نہیں ہے کلو میٹر ڈیڑھ کا تو فاصلہ ہے ، صحیح موسم میں تو دن میں دو تین بار چکر لگ جاتا ہے ۔“
”پھر بھی یہاں گھر بنانے کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔“
”ایک تو یہاں پانی کا چشمہ بالکل ہی ساتھ ہے ،دوسرا یہ ہماری اپنی زمین ہے یہاں اخروٹ کے پندرہ بیس درخت ہیں جن کی نگرانی ہم یہاں رہتے ہوئے آسانی سے کر سکتے ہیں ،خشک لکڑی بھی وافر موجود ہے ،گاﺅں میں رہتے ہوئے تو ہمیں لکڑی لینے کے لیے یہیں آنا پڑتا تھا ۔ اب ہماری دیکھا دیکھی ماموں جان بھی یہیں گھر بنانے کی سوچ رہے ہیں ۔شاید آنے والی گرمیوں میں وہ کام کی ابتدا کر دیں ۔“اس نے وہاں گھر بنانے کی وجوہات پر مفصل روشنی ڈالی ۔
”ہونہہ!....مطلب میرا مشورہ ٹھیک نہیں تھا ۔“
چاے کی پیالی میری جانب بڑھاتے ہوئے وہ مسکرائی ۔”خیر اتنا بھی برا نہیںتھا کہ آپ پریشان ہو جائیں ۔“
”اور کوئی نئی تازی ۔“میں نے بھاپ اڑاتی چاے کی پیالی تھام لی ۔
ہانڈی دوبارہ چولھے پر چڑھا کر اس نے اپنی پیالی اٹھائی اور دھیمے لہجے میں کہنے لگی۔ ”ہمارے گاﺅ ں کے ایک آدمی نصیر خان نے مجھ سے اپنے بیٹے کا رشتاکرنے کے لیے باباجان کو دس لاکھ کی آفر کی ہے، جبکہ باباجان پندرہ لاکھ مانگ رہے ہیں ۔“
اس کی بات سن کر میں ششدر رہ گیا تھا ۔وہ کوئی ایسی معلومات نہیں تھی جوایک جوان لڑکی کسی اجنبی لڑکے کو بتا پاتی ۔مجھے اس کی بات کا کوئی مناسب جواب بھی نہیں سوجھ رہا تھا ۔
”شاید میری بات آپ کو بری لگی ہے۔“مجھے خاموش پا کر اس نے نظریں جھکاتے ہوئے عجیب سے لہجے میں پوچھا ۔
”اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے ؟“میں نے زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر چپکا ئی ۔ ”اور یوں بھی بہنوں کی کوئی بات بھائیوں کو بری نہیں لگا کرتی ۔“
”اوہ ....چاے میں چینی ڈالنا تو بھول ہی گئی تھی ۔“صفائی سے موضوع تبدیل کرتے ہوئے وہ چینی کا ڈبہ کھولنے لگی ۔”آپ نے بھی ذکر نہیں کیا ۔“
”میں کم چینی پیتا ہوں محسوس ہی نہ ہوا کہ چینی بالکل نہیں ہے ۔“
”کیا آپ مجاہدین کے ساتھی ہیں ۔“ چمچ سے چینی حل کرتے ہوئے اس نے اچانک پوچھا ۔
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔
”تو پھر یہاں آپ کی آمد کا مقصد ؟“
”بتایا تو تھا کہ اپنے ساتھیوں کی تلاش میں سرگرداں ہوں ۔“
”ہاںبتایا تو تھا ،مگر اس روکھے پھیکے اور جان چھڑانے کے انداز میں کہ کچھ اندازہ ہی نہیں ہو پارہا ۔“
”کیسا اندازہ ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
”یہی کہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آئے کیوں ،پھر وہ آپ سے بچھڑے کیسے اور اب افغانستان جیسے دشوار گزار ملک میں انھیں ڈھونڈیں گے کیسے،آپ کا تعلق کس علاقے سے ہے ؟ وغیرہ وغیرہ ۔“
”شاید یہ سب جاننا آپ کے لیے ضروری نہ ہو ۔“میں نے جان چھڑانا چاہی ۔
اس نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”کسی بھی آدمی کی ضروریات اور ترجیحات کو وہ خود ہی اچھی طرح جانتا ہے ۔“ان پڑھ ہوتے ہوئے بھی وہ بہت نپی تلی اور بامعنی گفتگو کرتی تھی ۔
”میری کہانی بہت لمبی ہے ۔“
”جب دادی جان زندہ تھیں ،میں روزانہ سونے سے پہلے ان سے کہانی سنا کرتی تھی ۔اور ہمیشہ اس بات پر شاکی رہتی کہ ان کی کہانی اتنی جلدی ختم کیوں ہو جاتی ہے ۔آپ بھی اپنی کہانی مختصر کر کے سنانے کی کوشش نہ کرنا ۔ “
اس کے انداز پر مجھے ہنسی آ گئی تھی ۔اس کے ہونٹوں پر بھی تبسم کھلنے لگا ۔
”اچھا رات کو سب کچھ بتا دوں گا فی الحال میں رنڑا اور ثمر خان کا ہاتھ بٹا دوں ۔“وہ چھتیں صاف کر کے صحن میں اتر آئے تھے ۔
”وہ صفائی کر لیں گے ۔“گلگارے نے مجھے منع کیا ۔
”اگر میں بھی ان کی تھوڑی سی مدد کر لوں تو یقینا میری شان میں فرق نہیں پڑے گا ۔“
”اچھا وعدہ کریں رات کو اپنے متعلق سب کچھ بتائیں گے ۔“
”ان شاءاللہ ۔“کہہ کر میں باورچی خانے سے باہر آگیا ۔
بہن بھائی بڑے زور و شور سے صفائی میں مشغول تھے ،میں بھی ان کا ہاتھ بٹانے لگا ۔
٭٭٭
رات کا کھانا شمریز خان اور میں نے اکٹھے بیٹھ کر کھایا تھا ۔رنڑا نے خالی برتن سمیٹے اور ثمر خان کو ساتھ لے کر دوسرے کمرے میں سونے چلی گئی ۔جبکہ گلگارے، والد کو گولیاں کھلانے لگی ۔گولیاں کھلا کر وہ اس کا سر دبانے بیٹھ گئی ۔میں نے اپنی ٹانگیں لحاف میں کر لیں تھیں ۔اس دوران مجھے محسوس ہوا کہ گلگارے مجھے مسلسل گھور رہی ہے ۔میں نے بادل نخواستہ اس کی طرف دیکھا ،وہ فوراََ آنکھوں سے اشارہ کرکے مجھے وعدہ یاد دلانے لگی ۔ باپ کی موجودی میں وہ کھل کر نہیں کہہ پارہی تھی کہ میں اپنی کہانی سناﺅں ۔
اب میں بغیر کسی وجہ کے اپنی کہانی کیسے شروع کرتا ۔لمحہ بھر سوچنے کے بعد میں اس کے والد کو مخاطب ہوا ۔
”شمریز چچا !....کیا آپ میری کچھ رہنمائی کر سکتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو کیسے تلاش کروں ۔“
”میں اس بارے کیا کہہ سکتا ہوں ،یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ انھوں نے کس مقصد سے افغانستان کی سرحد پار کی اور انھیں افغانستان کے کس شہر یا علاقے میں جانا تھا ۔“
”شہر یا علاقے کے بارے تو مجھے بھی واضح نہیں البتہ ان کا مطمح نظر امریکن ایجنسی کے خلاف کام کرنا تھا ۔“
”تو صاف کہو نا کہ مجاہد ہیں ....اور مجاہدین کی تلاش بہت آسان ہے ۔ان کے کسی بھی کمانڈر کو مل کر آپ اپنے ساتھیوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں ۔“
گلگارے نے اپنی گہری نیلی آنکھوں سے خفگی بھرے انداز میں مجھے گھورا ۔اس نے باورچی خانے میں ، مجھ سے دریافت کیاتھا کہ آیا میں مجاہدین کا ساتھی ہوں اس وقت میں نے صاف انکار کر دیا اور اب امریکنوں کے خلاف کام کرنے کی بات پر وہ بھی والد کی طرح مجھے مجاہد سمجھ بیٹھی تھی ۔
”مجاہد نہیں ہیں شمریز چچا ۔“میں نے انکار میں سر ہلایا۔
”ذیشان میاں !....آپ کی باتیں میری سمجھ میں تو نہیں آ رہیں ۔نہ آپ نے اپنے بارے کوئی تفصیل بتائی ہے ۔اب میں کیا اندازے لگاتا پھروں اور کیسے مشورہ دوں ۔“
میں کافی دیر سے ایسے ہی کسی سوال کا منتظر تھا تاکہ گلگارے سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی کہانی سنا سکوں ۔اس کے لہجے میں اپنے بارے جاننے کا اشتیاق محسوس کرنے کے باوجود میں نے کہا ۔
”شمریز چچا ،میری کہانی کافی طویل ہے ،میں نہیں چاہتا کہ آپ کا وقت ضائع ہو یا آپ بیزاری محسوس کریں ۔“
”چارپائی پر پڑے معذور آدمی کے پاس وقت کی کمی نہیں ہوتی۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”اللہ نہ کرے آپ معذور ہوں ۔“
”میں عارضی معذوری کی بات کر رہا تھا ۔بہ ہرحال آپ اپنی کہانی شروع کریں ،اگر میں نے بیزاری محسوس کی بھی تو آپ پر اپنی بیزاری ظاہر نہیں ہونے دوں گا ۔“
اس کی بات پر میرے ساتھ گلگارے بھی ہنس پڑی تھی ۔
”میرا خیال ہے تم آرام کرو ۔“شمریز نے اسے جانے کی اجازت دی ۔
”بابا جان !آپ جانتے تو ہیں میں کہانیاں سننے کی کتنی شوقین ہوں ۔“اس نے فوراََ انکار میں سر ہلادیا تھا ۔
”جیسے تمھاری مرضی ۔“بیٹی کو کہہ کر اس نے استفہامیہ نظروں سے مجھے گھورا ۔گویا بہ زبان خاموشی کہہ رہے ہوں کہ میں نے اب تک کہانی شروع کیوں نہیں کی ۔
”میرا تعلق پاک آرمی سے ہے ۔“گلا کھنکارتے ہوئے میں نے بات شروع کی ۔میری بات سنتے ہی گلگارے کا چہرہ ٹیوب لائیٹ کی طرح چمکنے لگا تھا ۔میری بات جاری رہی ۔” وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کام کرتے ہوئے میرا ٹکراﺅ ایک بہت بڑے دہشت گرد قبیل خان سے ہوا ۔اسی اثناءمیں میری ملاقات ایک لڑکی پلوشہ خان وزیرسے ہوئی ،جو اپنی بہن کی بے حرمتی اور قتل کا بدلہ لینے کے لیے قبیل خان کو ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔ہمارا دشمن ایک ہی تھا اور اسی بات نے ہمیں قریب کر دیا ........“ میں ترتیب سے تمام ضروری باتیں ان کے گوشِ گزار کرتا گیا ۔قبیل خان اور جہانداد خان کی موت ،کس طرح پلوشہ کی وجہ سے میں امریکنوں کے ہاتھ چڑھا ،کس طرح انھوں نے میری وڈیوز بنائیں ،پلوشہ کا دوبارہ ملنا ،شادی ، صنوبر خان کی موت ،اپنی گرفتاری ،فرار اور پلوشہ کا سردار کے ساتھ میری بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے نکلنے تک میںنے تمام اہم باتیں ان کے گوش گزار کر دیں ۔پلوشہ کے ذکر پر گلگارے کا چہرہ بجھ سا گیا تھا۔یا شاید مجھے ہی کچھ ایسا لگ رہا تھا ۔میری بات ختم ہوتے ہی شمریز خان تحسین آمیز لہجے میں بولا ....
”تو آپ ہیں وہ ایس ایس جو اڑتی مکھی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔“میں نے اسے اپنی نشانہ بازی اور ایس ایس نام کے بارے کچھ نہیں بتایا ۔اب اس کا یوں کہنا مجھے ششدر کر گیا تھا ۔
”آپ کو میرے نام کا کیسے پتا ؟“
وہ مسکرایا۔ ”دیکھ لیں اتنی جادوگری تو ہمیں بھی آتی ہے ۔“
”پھر بھی ۔“میں جاننے پر مصر ہوا ۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”ہمارے گھر میں صرف اچکے اور آوارہ گرد ہی نہیں آتے ،یہاں مجاہدین کا گزر بھی رہتا ہے۔“
”یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔“
”بھائی ،قبیل خان جیسے بڑے سردارکا قتل جس کی جڑیں افغانستان تک پھیلی ہوئی تھیں ،اتنی چھوٹی بات نہیں ہے کہ علاقے میں اس کی شہرت نہ ہوتی ۔اور پھر اس کے قتل میں اس کی اپنی قوم و قبیلے کی لڑکی شامل تھی ....اس کے ساتھ دو قبیلوں کی لڑائی میں ایک سردار کا قتل اور وہ بھی اس انوکھے انداز سے ، آج تک اڑھائی تین کلومیٹر کے فاصلے سے ہم نے کسی کو نشانہ بنتے نہیں دیکھا ۔اور اسے نشانہ بنایا پلوشہ خان وزیر کے محبوب ایس ایس نے ۔اسی طرح قبیل خان کے روشن خان نامی کمانڈر کو ایس ایس نے کلو میٹر بھر کی دوری سے ایک آڑ میں پھنسالیا ،یہاں تک کہ اسے معافی مانگ کر اپنی جان بچانا پڑی ....یہ اور اس جیسی اور بہت سی باتیں ہمیں مجاہدین اوریہاں سے گزرنے والے دوسرے لوگوں سے پتا چلتی رہیں۔آپ کی باتوں میں بس صنوبر خان کی موت اور آپ کی پلوشہ سے شادی میرے لیے نئی بات ہے ۔ باقی آپ نے جونھی اپنی کہانی شروع کی میں نے آپ کو فوراََ پہچان لیا تھا ۔ “
”میں نے بھی ۔“گلگارے بھی پیچھے نہیں رہی تھی ۔”کیونکہ جو لوگ باباجان کے ساتھ بیٹھک میں مصروفِ گفتگو ہوتے ہیں میں ان کی ساری باتیں سنا کرتی ہوں ۔“
میں انکساری سے بولا ۔”خیرمیری نشانہ بازی کے متعلق تو لوگوں نے کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ورنہ اتنا اچھا نشانے باز ہوتا تو اس دن گلگارے بہن کاچیلنج قبول نہ کر لیتا ۔“
وہ سرعت سے بولی ۔”مجھے کیا پتا تھا کہ آپ ایس ایس ہیں ۔“
میں نے کہا۔”اچھا آپ نے ساری کہانی سن لی ہے نا،اب جائیں اورآرام کریں ۔“
”جب نیند آئے گی تو چلی جاﺅں گی ۔“وہ بے پروائی سے والد کا سر دباتی رہی ۔
ایک لمحہ اسے گھورنے کے بعد میں شمریز خان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔اس دوران اس نے بھی نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
”شمریز چچا !....اب تو آپ مشورہ دے سکتے ہیں نا ۔“
”ویسے آپ کی بیوی نے کی تو بے وقوفی ہے لیکن اتنا پتا چلتا ہے کہ وہ آپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے ۔“
”اس میں تو کوئی شک نہیں ،لیکن اس کی اس بے وقوفی سے مجھے کتنی تکلیف ہوگی اس کا وہ اندازہ نہ کر سکی ۔“
”اس کے لیے سب سے اہم آپ کی جان بچانا تھا ۔اور جن حالات میں اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ایسے حالات میں اس سے بہتر کچھ سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔“گلگارے ہماری گفتگو میں مخل ہوئی ۔
میں نے فوراََ کہا ۔”ہاں ،آپ بھی عورت ہو ۔اپنی ہم ذات ہی کی طرف داری کرو گی ۔“
”تو کیا کرتی ....آپ کو بے گناہ تشدد کا نشانہ بنتے دیکھتے رہتی ،جبکہ نہ تو وہ ایک گھریلوخاتون ہے ۔اور نہ لڑائی جھگڑا اس کے لیے کوئی نئی چیزہے ۔“ گلگارے اپنے موقف پر ڈٹ گئی تھی ۔
”اگر اسے کچھ ہو گیا پھر ؟“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”اگر وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی اور آپ کو کچھ ہو جاتا پھر ؟“
”اسے کچھ تو انتظار کرنا چاہیے تھا ۔“میں نے یوں جھلاتے ہوئے کہا گویا پلوشہ کو گلگارے ہی نے افغانستان بھیجا ہو۔
”انتظار کرنے والے عموماََ گھاٹے میں رہتے ہیں ۔اور معاف کرنا آپ کی باتوں سے لگ رہا ہے گویا چاہت کے اظہار کا حق صرف آپ ہی کو حاصل ہے ۔اگر آپ اس کے افغانستان جانے پر اتنے پریشان ہیں تو خود سوچیں آپ کے ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتاری پر اس پرکیا بیتی ہوگی ۔جبکہ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ آپ ایک منظم سازش کا شکار ہو چکے ہیں اور آپ کے خلاف بہت سارے ثبوت ایجنسیوں تک پہنچا دیے گئے ہیں ۔“
”آپ ،اس کی بڑی طرف داری کر رہی ہیں ۔“
”ہاں ،کیونکہ میں اسے حق پر سمجھتی ہوں ۔آپ بے جا ہی اس سے خفا ہو رہے ہیں ۔“
”میں خفا نہیں ،پریشان ہوں ۔اور اس کی وجہ سے مجھے اپنی صلاحیتیں دو محاذوں پر لگانا پڑ رہی ہیں ۔“
”آپ پلوشہ کی تلاش کو چھوڑیں اور اصل کام پر توجہ دیں ۔“وہ باقاعدہ بحث پر اتر آئی تھی ۔ شمریز خان متبسم ہو کر ہماری گفتگو سن رہا تھا ۔
”ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔میرے لیے ہرکام سے اہم پلوشہ کی خیریت ہے ۔“
گلگارے کے چہرے پر عجیب سا تاثر ابھرا جس کی توجیہ سے میں قاصر تھا ۔ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔”آپ کی باتوں سے ذرا بھی نہیں لگ رہا کہ آپ وہی ایس ایس ہیں ،جس کے واقعات سن کر ہم باپ بیٹی اتنے زیادہ متاثر ہو گئے تھے ۔“
”کہا تو ہے اس بارے لوگ کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لیتے رہے ہیں ۔“
”اچھا مجھے یہ بتائیں ،پلوشہ خان نے افغانستان میں جا کر کس کو تلاش کرنا ہے ؟“
”البرٹ بروک کو ۔“
”اور پلوشہ کی تلاش کے علاوہ آپ کا مطمح نظر کیا ہے ؟“اس نے دوسرا سوال پوچھا ۔
میں نے فوراََکہا ۔”البرٹ بروک کی تلاش ۔“
”تو جب آپ دونوں کی منزل ایک ہی ہے تو دائیں بائیں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے سیدھا اپنے کام پر توجہ دیں ۔امید ہے پلوشہ خان بھی آپ کو البرٹ بروک کے دائیں بائیں مل ہی جائے گی ۔“
اس کی بات نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔اس کا مشورہ رد کرنے کے قابل نہیں تھا ۔میں نے تحسین آمیز انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔”ویسے مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری چھوٹی بہن اتنی سمجھ دار ہو سکتی ہے ۔“
”صحیح کہا ۔“اس نے منہ بناتے ہوئے اوپر نیچے سر ہلایا۔”مردوں کے نزدیک عورت ہمیشہ فاترالعقل ہی رہی ہے ۔اسی وجہ سے تو باباجان بھی کہتے رہتے ہیں کہ میں ان کی بیٹی نہیں بیٹا ہوں ۔گویا بیٹی سے تو بہادری اور عقل مندی کی توقع عبث ہے ۔“
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔”خیر یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں ۔میں نے حیرانی آپ کے عورت ہونے پر نہیں کم عمر ہونے پرظاہر کی ہے ۔اسی طرح شمریز چچا اس وجہ سے آپ کو بیٹا نہیں کہتے کہ ان کی نظر میں بیٹی بہادر نہیں ہو سکتی ۔بلکہ وہ اس لیے ایسا کہتے ہیں کہ کسی کی تعریف کرنے کے لیے عموماََ تشبیہ کا سہارا لیا جاتا ہے ۔جیسے کہا جاتا ہے فلاں تو شیر ہے شیر ۔اگر میں پوچھوں ،کیا ایک جانور انسان سے بہتر ہو سکتا ہے ۔تو آپ کا جواب یقینا نفی میں ہوگا ۔لیکن کبھی کسی نے خود کو شیر کہنے کا برا نہیں منایا ہوگا۔یونھی آپ کا اعتراض کرنا بھی نہیں جچتا۔“
”باتیں بنانا تو مردوں کا خاصا ہے ۔“میری بات سے اختلاف نہ کرنے کے باوجود وہ میری وضاحت قبول کرنے پر راضی نہیں تھی ۔
”اسے چھوڑیں چچا ،آپ کوئی مشورہ دیں نا ۔“میں اس سے بحث کرنا ترک کرتے ہوئے شمریز خان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔
وہ مستفسر ہوا۔”ایک بات تو طے ہو گئی نا کہ آپ پلوشہ کے بجائے البرٹ بروک کی تلاش میں نکلیں گے ۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اس سے بہتر مشورہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔“
”اب رہ گئی البرٹ بروک کی بات تو اس کے متعلق آپ کو مجاہدین سے کوئی رہنمائی نہیں مل سکتی ۔اس ضمن میں یا تو صنوبر خان کے قائم مقام سے مدد مل سکتی ہے کہ اب اسی سے امریکنوں نے کام لینا ہے یا آپ کسی امریکی کو اغواءکر کے البرٹ بروک کے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔“
”ہونہہ۔“میں نے پر خیال انداز میں کہا ۔”اس کا مطلب ہے مجھے ملک گلبدین،یا ملک فیروز خان پر ہاتھ ڈالنا چاہیے تھا۔“
”غالباََ آپ تورے خار کے ملک فیروز خان کی بات کر رہے ہیں ۔“
”جی ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اور یہ گلبدین کون ہے ؟“
میں نے جواب دیا ۔” دیگان کا سردار ہے اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا کرتا دھرتا ہے ۔“
”بہ ہر حال بہتر یہی ہے کہ اب پیچھے جانے کے بجائے آگے ہی کا رخ کرو ۔یوں بھی آپ کی پلوشہ بھی آگے جا چکی ہے ۔“
میں نے مسکرا کر کہا ۔”آپ نے تو ہر پچھتاوے کا خاتمہ کر دیا ہے۔“
اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ،اچانک چھت پر ہلکا سا دھماکا ہوا ،یوں جیسے کوئی دیوار سے نیچے اترا ہو۔کمروں کی چھت سے چاردیواری قریباََ ساڑھے چار پانچ فٹ اونچی تھی ۔میں سوالیہ انداز میں شمریز خان کی طرف دیکھنے لگا تھا ۔میرے کچھ کہنے سے پہلے ویسی ہی آواز دوبارہ ابھری اور میرے دل میں تھوڑا ساشک تھا بھی تو وہ دور ہو گیا ۔ یقینا وہ موذی رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھانے پہنچ گئے تھے ۔ گلگارے کے چہرے پر بھی گہری تشویش اور اندیشے ظاہر ہو گئے تھے ۔حالانکہ چھوٹی موٹی باتوں کو وہ خاطر میں نہیں لایا کرتی تھی ۔
جاری ہے
 

میں فوراََ لحاف سے باہر نکلا ۔بوٹ ڈالنے کا وقت نہیں تھا ۔پاﺅں ہوائی چپل میں ڈال کرمیں نے سر پر گرم ٹوپی رکھی اور اپنی کلاشن کوف کاک کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑلی۔
”شمریز چچا کی چارپائی کو دروازے کے سامنے سے ہٹا دو ۔ثمر خان اور رنڑا کو بھی دروازے کے سامنے نہ آنے دینا ۔“گلگارے کو ضروری ہدایات دیتے ہی میں چھت پر چڑھنے کے لیے دوسرے کمرے کی طرف بڑ ھ گیا ۔
گلگارے نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے چاہے مگر اس کی بات سننے کے لیے رکا نہیں تھا ۔ دوسرے کمرے کے شمال مغربی کونے میں لوہے کی سیڑھی لگی تھی جس کا اختتام چھت پر بنے ہوئے مورچے میں ہوتا تھا ۔ان کے گھر دو ،مورچے بنے ہوئے تھے ۔ایک گھر کی سامنے کی طرف شمال کی جانب اور دوسراگھر کی عقبی جانب جنوب مغربی دیوار پر ۔دونوں مورچوں پر جانے کے لیے علاحدہ علاحدہ سیڑھیاں لگی ہوئی تھیں ۔مورچوں پر لوہے کے مضبوط دروازے لگے تھے جو اندر کی جانب بند ہوتے تھے ۔
میں سرعت سے سیڑھیوں پر چڑھتا ہوا چھت کے سوراخ سے مورچے میں داخل ہوا ۔ مورچے کے دروازے پر مجھے کھسر پھسر سنائی دے رہی تھی ۔مجھے لگا کوئی دروازے کو کھولنے کی کوشش میں ہے ۔میں دروازے کے قریب ہوا اور ان کی سرگوشیوں کی آواز میرے کانوں میں پڑنے لگی ۔
”سنگین خانا ،دروازہ اندر سے بند ہے ۔اور ہول اتنے چھوٹے ہیں کہ ان سے اندر نہیں گھسا جائے گا ۔“
”تو پھر دوسرے مورچے کا جائزہ لیں ۔“شاید اس مرتبہ بولنے والا سنگین خان تھا ۔
”یقینا وہ بھی اندر سے بند ہوگا ۔“ایک تیسری آواز ابھری تھی ۔”ہمیں صحن ہی میں اترنا پڑے گا ۔“
”لازماََ انھوں کمروں کے دروازے بھی اندر سے بند کیے ہوں گے ۔“یہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے سنگین خان کو پکارا تھا ۔
”پھر کیا کریں ؟“سنگین خان کی آواز میں بے چینی تھی ۔
”دیکھ لو ....تمھی اس لڑکی کو حاصل کرنے کے لیے پاگل ہوئے جا رہے ہو ۔اور اتنا تو ہمیں معلوم ہے کہ گھر میں کم از کم دوہتھیار بردارمرد موجود ہیں ۔“تیسرے مرد نے اندیشہ ظاہر کیا ۔
”الفت جان !....کیا میں نے تمھارے لیے کبھی خطرہ مول نہیں لیا ۔“سنگین خان کی آواز میں گہری خفگی پنہاں تھی ۔
”میں نے ایسا کیا کہہ دیا ۔“الفت جان جھلاتے ہوئے بولا ۔”فقط مشورہ ہی دیا ہے نا ۔“
”لڑنے کی ضرورت نہیں اور کوئی ترکیب سوچو کہ ہمیں ناکام نہ لوٹنا پڑے ۔“یہ وہی تھا جس نے سنگین خان کو دروازہ بند ہونے کی اطلاع دی تھی ۔
سنگین خان بولا۔”میرا خیال ہے نیچے اتر کر دیکھتے ہیں ۔اگر دروازے بند ملیں گے تو صبح کا انتظار کر لیں گے ۔جیسے ہی وہ اٹھیں گے ہم انھیں چھاپ لیں گے ۔“
الفت جان طنزیہ لہجے میں بولا۔”مطلب تم اس لڑکی کو حاصل کیے بغیر نہیں جانے والے ۔“
”بالکل بھی نہیں۔“سنگین خان حتمی لہجے میں بولا ۔”جب سے اسے دیکھا ہے میری راتوں کی نیند ہی اڑ گئی ہے ۔اسے پائے بغیر مجھے سکون نہیں آئے گا ۔“
الفت جان نے کہا ۔”اسفند یار !....وزیر بادشاہ اور سلیم جان کو بھی اوپر ہی بلا لو ۔وہ ساری رات باہر تو نہیں کھڑے رہیں گے ۔“
”ٹھیک ہے ۔“اسفند یار اس سے متفق ہوتا ہوا بولا۔وہ یقینا ان آدمیوں کو اوپر لانے کے لیے چل پڑا تھا ،مگر اس کے قدموں کی آواز مجھے سنائی نہ دی کہ وہ نہایت احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا ۔میں نے مورچے کے ہول سے احتیاط سے باہر جھانکا ۔مورچے کے اندر اندھیرا تھا اور میرا نظر آنا ممکن نہیں تھا ۔ برف باری کب کی رک چکی تھی ،آسمان بھی صاف تھا ۔اٹھارہ انیس کے چاند کی روشنی سفید برف پر منعکس ہو کر ماحول کوخوب روشن کیے ہوئے تھی ۔مورچے کے دروازے پر کھڑے آدمی تو مجھے نظر نہ آسکے البتہ اسفند یار دیوار کی جڑ میں قدم رکھتا ہوا دروازے سے دور جاتا نظر آیاگیا۔
مجھے ان کی بے وقوفی پر حیرانی ہو رہی تھی کیونکہ کچی چھتوں پر جتنی بھی احتیاط سے قدم رکھا جائے نیچے موجود آدمیوں کو لازماََ پتا چل جاتا ہے کہ کوئی چھت پر چل رہا ہے ۔البتہ کوئی گہری نیند میں ہو تو علاحدہ بات ہے ۔اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ۔شاید انھیں یہ لگا ہو کہ تمام سو رہے ہیں اور یہی بات ان کی اس حماقت کی وجہ بنی ہو ۔واقعی جب انسان کے دماغ پر کسی عورت کے حصول کا بھوت سوار ہو تو اسے اس کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا ۔سنگین خان کے غلاظت بھرے بھیجے میں بھی معصوم رنڑا کا نوخیز اور پر کشش جسم سمایا ہواتھا ،جس کی وجہ سے وہ بار بار شمریز خان کے گھر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔اور اس کا ایک ہی علاج تھا کہ ،گندے خیالات سے بھری کھوپڑی ہی اس کے سر پر باقی نہ رہنے دی جاتی ۔ اس کے علاوہ تو رنڑا کا خیال اس کے ذہن سے محو نہیں ہو سکتا تھا ۔
اچانک ہلکی آہٹ کے ساتھ کسی نے میری پیٹھ پر ہاتھ رکھا ،یقینا وہ گلگارے تھی جو محتاط انداز میں چلتی ہوئی وہاں پہنچی تھی ۔مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ کچھ بول نہ دے ۔میں نے فوراََ مڑ کر اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر جمادیا،وہ ایک دم ساکت ہو گئی تھی ۔
اسی وقت سنگین خان نے بے صبری ظاہرکرتے ہوئے کہا ۔”نیچے اتریں ۔“اور اس کے بولنے کے بعد مجھے گلگارے کو کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ اسے ساری صورت حال واضح ہو جانی چاہیے تھی۔اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر میں دوبارہ دروازے کی جانب متوجہ ہوگیا ۔
”ٹھہروانھیں اوپر تو آنے دو ۔“الفت خان نے میری دل لگتی بات کہی تھی ۔میں بھی ان کے اوپرہی آنے کا منتظر تھا ۔
”تو وہ آجائیں گے نا ؟“سنگین خان نیچے جا کر جلد از جلد دروازوں کا جائزہ لینا چاہتا تھا ۔ شاید اس کے دل کے کسی کونے میں دروازہ کھلا ہونے کی امید روشن تھی ۔اور نفسانی خواہشات اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہی تھیں ۔
” رسی کے بغیر چھت سے کودو گے تو کتنا دھماکا ہوگا یہ بھی سوچا ہے ۔“الفت جان نے اس کی بے صبری پر ڈانٹا۔”اورہوش سے کام لو ،وہ کہیں سج سنور کر اپنے دولھے سنگین خان کی منتظر نہیں کہ تم مرے جا رہے ہو ۔“
”ہائے الفت جان !....تم نے اسے دیکھا نہیں ورنہ یہ بکواس نہ کرتے ۔یقین کرودودھ کی طرح سفید ،مکھن کے پیڑے کی طرح ملائم اورچاند کی طرح روشن چہرہ ہے اس کا ۔ اگر چہرے کی یہ حالت ہے تو باقی بدن کیسا ہوگا ۔افف....ایک تو یہ بھی چیونٹی کی رفتا ر سے اوپر چڑھ رہے ہیں ۔“سنگین خان رنڑا کی تعریف کرتے کرتے اپنے ساتھیوں کی سستی پر شکوہ کناں ہو گیا ۔اسے بالکل ہی قرار نہیں آرہا تھا ۔نہ جانے گزشتہ رات اس نے کیسے صبر لیا تھا۔
”شاید موسم کی خرابی آڑے آگئی تھی۔“میں نے سوچا مگر اس کے ساتھ مجھے خیال آیا کہ خراب موسم تو ایسے کاموں کے لیے مفید رہتا ہے ۔
اس کی گھٹیا گفتگو گلگارے نے بھی سن لی تھی اور یہ ناممکن تھا کہ وہ بات کی تہہ تک نہ پہنچ گئی ہو ۔اپنی چھوٹی بہن کے متعلق ایسی باتیں سن کر یقینا وہ غصے کے ساتھ خفت بھی محسوس کر رہی ہوگی ۔
میں مورچے کے ہول سے باہر جھانکنے لگا ۔چھت کی اس جانب کوئی دوسرا ہول موجود نہیں تھا اس وجہ سے گلگارے بھی میرے قریب آکر باہر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ایسا کرتے ہوئے وہ بالکل میرے ساتھ جڑ گئی تھی ۔وہ خوش نما ،بھرپوراور گداز جسم کی مالک ایک نو خیز دوشیزہ تھی ۔ جبکہ میں عام خواہشات سے مغلوب ہونے والا ایک گناہ گار جوان اس کی قربت مجھے مہنگی پڑ سکتی تھی ۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ایک قابل احترام اور پاکیزہ خیالات کی حامل لڑکی کے بارے میرے ذہن میں کوئی گندہ خیال پرورش پاکر ہمیشہ کی شرمندگی میرا نصیب کر دے ۔ یوں بھی شیطان خون کی طرح انسان کی رگوں میں دوڑتا ہے ۔
حفظ ماتقدم کے طور پرمیں نے فوراََ اسے بازو سے تھام کر نرمی سے دور دھکیل دیا ۔گو ایسی حرکت نرمی سے کی جائے یا سختی سے ۔مخالف کو نہایت ناگوار گزرتی ہے ،بلکہ صنف نازک کو تو شرمسار کر دیتی ہے ۔لیکن ایسا کرنا میری مجبوری تھی ۔
وہ کچھ کہے بنا دور ہو گئی ۔البتہ اندھیرے کی وجہ سے اس کے چہرے کے تاثرات مجھے دکھائی نہیں دے رہے تھے کہ میں اس کے غصے یا شرمندگی کا اندازہ کر پاتا ۔
میں دوبارہ ہول سے باہر جھانکنے لگا ۔چھت کا دوسرا کنارہ اتنی دور نہیں تھا کہ مجھے ان کے واضح ہیولے دکھائی نہ دیتے ۔یوں بھی برف پڑ جانے کے بعد چاندنی رات میں ماحول کچھ زیادہ ہی روشن ہو جاتا ہے ۔پہلے وہاں صرف اسفند یار موجود تھا ،اس کے بعد ایک ہیولے کا اضافہ ہوگیا ۔اور دیوار سے ایک تیسرا ہیولہ بھی چھت پر اتر رہا تھا ۔ان کے نیچے موجود دونوں ساتھی ،اوپر پہنچ گئے تھے ۔
میں ان کے ارادوں کو بھی جان گیا تھا اور ان میں سے کسی کی زندگی بھی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی ۔نہ میں نے کسی سے کوئی پوچھ گچھ ہی کرنا تھی۔کلاشن کوف کو نیچے ہی سے کاک کر کے آیا تھا کہ ،کلاشن کوف کاک کرنے سے اچھی خاصی آواز ابھرتی ہے ۔ہاتھ سے ٹٹول کر میں نے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور باہر نکلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔
دروازے کے بولٹ کواگر میں احتیاط سے کھولتا تو ذرا سی بھی آواز نکلنے پر سنگین خان اور الفت جان چوکنا ہو کر سنبھل سکتے تھے ۔اس کے برعکس بولٹ کو ایک جھٹکے سے کھولنے پر آواز تو ضرور اٹھتی مگر ان کے سنبھلنے سے پہلے میں دروازہ کھول چکا ہوتا ۔میں نے دوسری تجویز پر عمل کا سوچا اور دورازے کے بولٹ پر مضبوطی سے ہاتھ جما کر ایک دم بولٹ کھول کر دروازے کے اکیلے پٹ کو اندر کی طرف کھینچ لیا ۔ وہ دونوں اپنے ساتھیوں کی طرف رخ کر کھڑے تھے جو انھی کی طرف چل پڑے تھے ۔بولٹ کھلنے کی آواز پر وہ اچھل کر سنبھلے ....سنگین خان کے منھ سے بے ساختہ ....”کک....کیا ....ہے ۔“نکلا تھا ۔ لیکن یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس کے لبوں سے ادا ہوئے تھے ۔
انسان بھی کتنا انجان اور لاعلم ہے ۔نفسانی خواہشات سے مغلوب ،رنڑا کے نوخیز بدن کو روندنے کا منصوبہ بنانے والے سنگین خان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ موت اس کے کتنا قریب پہنچ چکی تھی ۔اس کے ،رنڑا کی چیخیں اور آہیں سننے کے متمنی کانوں میں کلاشن کوف کی بھیانک تڑتڑاہٹ موت کا نغمہ بن کر گونجی ۔اس نے لذت کے عروج کے حصول کا منصوبہ بنایا ہوا تھا اور ربّ نے اذیت کی انتہا اس کے مقدرمیں لکھ دی تھی ۔
کلاشن کوف کے فائرکی آوازاور اپنے دونوں ساتھیوں کے نیچے گرنے پر ایک لمحے کے لیے وہ بد حواس ہو کر ساکت ہو گئے تھے ۔میں نے ٹریگر سے انگلی ہٹائے بغیر بیرل کا رخ ان کی جانب موڑا ۔ان میں سے ایک آدمی نے زیادہ ہوشیار ی دکھانے کی کوشش کی اور فوراََ دیوار پر چڑھ کر دوسری جانب کودنے کی کوشش کی ۔مگر چھت کے ساتھ متصل دیوار پر چڑھنے تک اس کی اپنی کوشش کا عمل دخل تھا ، جبکہ اسے دوسری جانب گرانے میں سراسر کلاشن کوف کی گولیوں کا کمال تھا ۔
سنگین اور الفت جان کے تڑپنے کی رفتار میں ٹھہراﺅ آتا جا رہا تھا ۔جبکہ دوسرے دو ابھی تک اپنے ہاتھ پاﺅں جھٹک رہے تھے ۔وہ ایک معصوم کلی کو تڑپانے آئے تھے ،انھیں خود تڑپنا پڑ گیا تھا ،اسی کو مقدر کہتے ہیں ،یہی موت کی گھات ہوتی ہے ،یہی فرق انسان اور اللہ پاک کے بنائے ہوئے منصوبے میں ہوتا ہے۔ایک طرف انسان تجویز بنا رہا ہوتا ہے اور دوسری جانب اللہ پاک ایک فیصلہ فرما چکا ہوتا ہے۔ اور ہوتا وہی ہے جو اللہ پاک نے مقرر کر دیا ہو۔ وہ ظالم تھے اور ظالموں پر اللہ پاک لعنت فرما چکا ہے ،جبکہ لعنت کا مطلب اللہ پاک کی رحمت سے دور ہونا ہے ۔وہ بھی اپنے گندے منصوبوں اور غلیظ خیالات کے ساتھ توبہ کی توفیق پائے بغیر مردار ہو گئے تھے ۔
گو مجھے یقین تھا کہ دیوار سے کودنے والا میری گولی کھا کر ہی دوسری جانب گرا ہے ۔لیکن اس کے باوجود میں نے ایک بار نیچے جھانک کر دیکھنا ضروری سمجھا ۔اس کی مڑی تڑی لاش دیوار کے ساتھ ہی پڑی تھی ۔
اسی وقت گلگارے بھی مورچے سے نکل آئی ۔مجھے مخاطب کیے بغیر وہ ہاتھ میں موجودٹارچ جلا کر ان کے چہرے دیکھنے لگی ۔ان کے چہروں پر اذیت ثبت ہونے کے باوجود مجھے پہچاننے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔وہ وہی پانچوں تھے جو اس دن دھمکانے آئے تھے ۔مورچے کے دروازے کے ساتھ گرنے والے الفت جان اور سنگین خان میں ایک کے پاس تیس بور پستول اور دوسرے کے پاس کلاشن کوف تھی ۔جبکہ دوسرے کونے پر پڑی لاشوں کے پاس بارہ بور بندوق ،ایٹ ایم ایم اور ایک پستول پڑانظر آرہا تھا ۔دیوار سے کودنے والا اپنی رائفل وہیں پھینک گیا تھا ۔
”ان کی لاشوں کا کیا کریں ؟“ میں جانتا تھا کہ وہ خفا ہے اس کے باوجود میں اسے مخاطب ہوا۔
میری بات کا جواب دیے بغیر وہ وہاں پڑے ہتھیار سمیٹنے لگی ۔
”میں نے کچھ پوچھا ہے ۔“میں اسے دوبارہ مخاطب ہوا ۔مگر بے پروائی سے تمام ہتھیار اٹھا کر وہ واپس مورچے کی جانب چل دی ۔مجھے اچھی خاصی سبکی کا احساس ہوا تھا ۔گو میں نے بھی اس کی توہین کی تھی ،مگر میرا مقصد ہرگز ہرگز اس کی توہین یا سبکی کا نہ تھا ۔میں نے فقط حفاظتی تدبیر پر عمل کیا تھا ،مگر وہ جان بوجھ کر میری ہتک کرنے پر تل گئی تھی ۔
سر جھٹک کر میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا ۔کمرے میں رنڑا اپنے باپ کی بغل میں گھسی تھی ۔وہ گلگارے کی طرح بننا چاہتی تھی مگر اس کی طبیعت مجھے گلگارے سے یکسر مختلف نظر آئی تھی ۔گلگارے بہادر،دلیر اور حوصلے والی تھی ۔جبکہ رنڑا روایتی لڑکیوں کی طرح ڈرپوک ،سہمی ہوئی اور جلدی گھبرا جانے والی تھی۔ثمر خان البتہ مجھے کافی حوصلے والا لگا تھا ۔جب میں کمرے میں داخل ہوا اس وقت گلگارے باپ کو تمام موذیوں کے مرنے کی اطلاع دے چکی تھی ۔
میں نے اندر داخل ہوکر پوچھا ۔”چچا شمریز !....ان لاشوں کا کیا کریں ۔“
”لازمی بات ہے زمین میں دبانا پڑیں گی ۔“
”اتنا بڑا گڑھاکھودنے میں تو صبح ہو جائے گی ۔“
”گڑھا کھودنے کی ضرورت نہیں ہے ،ہمارے گھر کے شمالی جانب جو اخروٹ کے دو بڑے درخت ہیں ان کی غربی جانب تھوڑی سی ڈھلان اتر کر ایک کافی بڑا گڑھا موجود ہے ۔گلگارے بیٹی آپ کو وہ جگہ دکھا دے گی ۔وہاں پھینک کر اوپر پتھر پھینک دو ۔ایسوں کے لیے ایسی ہی قبر دستیاب ہوا کرتی ہے ۔“
”ثمر خان چلا جائے گا ،مجھے سخت نیند آرہی ہے ۔“وہ اتنی خفا تھی کہ میرے ساتھ جانے پر بھی راضی نہیں تھی ۔
میں نے فوراََ کہا ”ثمر خان، میں چھت پر پڑی لاشوں کو شمالی جانب پھینک کر آتا ہوں ،تم کوئی ٹارچ اور بیلچہ وغیرہ ڈھونڈ لو۔“
”جی لالا۔“کہہ کر اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔میں دوبارہ مورچے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا ۔ایک ایک کر کے میں نے چاروں لاشوں کو شمالی جانب سے دیوار سے باہر پھینک دیا ۔میرے کپڑے تو ان کے گندے خون سے ناپاک ہو گئے تھے ۔لیکن یہ کپڑے شمریز خان کے تھے ۔اس لیے مجھے زیادہ پروا نہیں تھی ۔مورچے کا دروازہ اندر سے بند کر کے میں نیچے اتر آیا ۔گلگارے اپنے لحاف میں گم ہو چکی تھی ۔رنڑا بھی بہن کی موجودی سے حوصلہ پا کر اپنی چارپائی پر پہنچ چکی تھی ۔میں سرسری نظر ان پر ڈالتا ہوا دوسرے کمرے میں پہنچ گیا جہاں ثمر خان چوڑے منہ والے بیلچے اور ٹارچ کے ساتھ میرا منتظر تھا۔
”ذیشان صاحب !....یقینا آپ کو زحمت ہو رہی ہوگی ،مگر میں مجبور ہوں اور ........“
”کیسی باتیں کر رہے ہیں شمریز چچا ۔“میں قطع کلامی کرتا ہوا بولا ۔”اس میں زحمت کیسی ۔ اب عورتیں تو یہ کام نہیں کرسکتی نا ۔اور گھر میں موجود صحت مند مرد اس کام کے لیے جا رہے ہیں ۔کیوں ثمر خان۔“میں آخری فقرہ مسکرا کر کہا تھا ۔
ثمر خان فوراََ چھاتی چوڑی کرتے ہوئے بولا ۔”جی لالا۔“اس کے انداز پر شمریز خان بھی مسکرا پڑا تھا ۔
میں ثمر خان کے ساتھ گھر سے باہر نکل آیا ۔سب سے پہلے میں نے غربی جانب اکیلی پڑی لاش اٹھائی اور ثمر خان کی معیت میں چل پڑا ۔اخروٹ کے دونوں درخت پچاس ساٹھ گز سے زیادہ دور نہیں تھے ۔اور مذکورہ گڑھا ان درختوں سے مزید پچیس تیس گز ڈھلان میں بنا تھا ۔وہ گڑھا اتنا بڑا تھا کہ پانچوں لاشیں آسانی سے اس میں سما جاتیں ۔
میں نے ایک ایک کر کے تمام کی لاشیں گڑھے میں پھینک دیں۔ہر لاش کو اٹھانے سے پہلے میں اس کی تلاشی ضرور لے لیتا تھا ۔ان کی جیبوں سے نکلنے والی تھوڑی بہت نقدی میں اپنے پاس سنبھالتا رہا ، کیونکہ اب وہ ان کے کسی کام کی نہیں تھی ۔صرف ایک آدمی کی جیب سے توقع سے زیادہ رقم برآمد ہوئی تھی جس پر میں حیرانی کا اظہار ہی کر سکتا تھا ۔ گڑھے کو پتھروں سے پاٹنے کے لیے ثمر خان نے بھی میرا ہاتھ بٹایا تھا ۔وہاں جا بجا اتنے پتھر بکھرے تھے کہ ہمیں زیادہ دور نہیں جانا پڑا تھا ۔آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد ان کی لاشیں مکمل۔ طور پر پتھروں سے ڈھک گئی تھیں ۔پتھر پھینکنے کے بعد میں نے بیلچے کی مدد سے گڑھے کی دیواریں بھی گرا کر کنکر بھری مٹی ،گڑھا پاٹنے والے پتھروں پر بکھیر دی تھی ۔اب ان پتھروں کو کوئی مردار خور جانور بھی ہٹا کر لاشوں تک رسائی نہیں پا سکتا تھا ۔البتہ مردہ خور کیڑوں کی چند روزہ ضیافت کا انتظام ہو گیا تھا ۔
لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہم واپس آگئے ۔ثمر خان کو اس کی چارپائی پر بھیج کر میں خود غسل خانے میں گھس گیا ۔ خون آلود کپڑے اتار کر میں نے کپڑا گیلا کر کے جسم پر لگے خون کے اثرات کو صاف کیا اور پھر صاف ستھرے کپڑے پہن کر باہر آگیا ۔شمریز خان میرے انتظار میں جاگ رہا تھا ۔
ایک بار پھر تہہ دل سے میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد ہی اس نے لحاف اپنے اوپر لے لیا تھا ۔
٭٭٭
رات کو دیر تک سونے کی وجہ سے صبح کی نماز پر میں بہ مشکل ہی جاگ پایا تھا ۔نماز پڑھ کر دوبارہ سویا تودیر سے جاگا۔ سورج کافی اوپر آگیا تھا ۔وہ دن خوب روشن اور صاف تھا ۔سفر کرنے کے لیے ایک بہترین دن ،اگر میں کھانا کھا کر نکل جاتا تو اچھا خاصا سفر طے کر لیتا امید تھی کہ خان کلے تک پہنچ جاتا ۔ لیکن میں جانے کے لیے تیار نہیں ہوا ۔میری نگاہوں میں گلگارے کا خفگی بھرا چہرہ گھوم رہا تھا ۔میں نے واقعی اس کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔جہاں میں چار پانچ دن گزار چکا تھا وہاں ایک دن مزید رکنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔
چارپائی چھوڑ کر میں حوائج ضروریہ سے فارغ ہوا ۔اور ہاتھ منھ دھو کر غسل خانے سے باہر آگیا۔رنڑا نے مجھے بستر چھوڑتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔میرے غسل خانے سے باہر آنے تک وہ ناشتا لے آئی تھی ۔وہاں دودھ والی چاے کا صرف میں ہی شوقین تھا ،باقی قہوے کو زیادہ پسند کرتے تھے ۔ چاے پی کر میں شمریز خان سے گپ شپ کرنے لگا ۔رستے کے بارے ضروری معلومات لینے کے علاوہ میں نے اس سے گرم کوٹ ،پانی پلہ(رین کوٹ) اور لانگ بوٹ بھی مانگ لیے تھے ۔یہ تمام سامان اس کے پاس موجود تھا ۔اور مجھے آگے سفر کے لیے ان چیزوں کی اشد ضرورت تھی ۔
اس نے خوش دلی سے جواب دیا ۔”اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے ۔“
میں نے ممنونیت سے کہا ۔”شکریہ شمریز چچا!“
اس نے پوچھا ۔” رات کو جو ہتھیار ہاتھ آئے ہیں ان کا کیا کرو گے ؟“
میں نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا۔”بارہ بور ،رنڑا کے لیے بہتر رہے گی ، کلاشن کوف ثمر خان کی ہو جائے گی ،ایٹ ایم ایم آپ رکھ لینا کہ آپ کی کلاشن کوف پر گلگارے قابض ہے ۔ باقی بچے دو پستول تو ان کے بدلے میں میں نے گرم کوٹ ،پانی پلہ اور بوٹ لے لیے ہیں نا ۔“
اس نے نفی میں سر ہلایا۔” یہ تو خیر زیادتی ہے ،اتنے قیمتی ہتھیار آپ کو یونھی نہیں چھوڑ دینے چاہئیں ۔“
”پہلی بات کہ میں یونھی نہیں چھوڑ رہا اور دوسرا ،کیا یہ سارا وزن ساتھ پھراتا رہوں گا۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلاتے ہوئے مشورہ دیا ۔”ساتھ پھرانے کی کیا ضرورت ہے بیچ دو ۔خواگااوبو میں ان کے کئی خریدار مل جائیں گے ۔“
”شمریز چچا !....چند ٹکے ،رنڑا اور ثمر خان کی خوشی سے اہم نہیں ہیں ۔باقی یہاں رہتے ہوئے آپ کو ان ہتھیاروں کی بہت ضرورت پڑے گی ۔“
”شکریہ ذیشان صاحب ۔“
”اچھا میں ذرا دیکھ لوں یہ بچے کیا کر رہے ہیں ۔“میں باہر آگیا ۔گلگارے دن کا کھانا بنانے باورچی خانے میں گھسی تھی ۔میں اس سے معذرت کرنے کے لیے ہی رکا تھا اور اس سے بہتر موقع اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا ۔دروازے پر کھڑے ہو کر میں پوچھنے لگا ۔
”چاے مل سکتی ہے ۔“
آٹے کے پیڑے بنا کر اس نے سامنے رکھے ہوئے تھے اور اب روٹیاں ڈالنے والی تھی ۔ میری آواز سنتے ہی وہ کوئی جواب دیے بغیر کھڑی ہوئی اور باورچی خانے سے باہر نکل کر رنڑا کو آوازیں دینے لگی۔وہ بھائی کے ساتھ مل کر مویشیوں کے باڑے کی صفائی میں لگی تھی ۔بہن کی آواز سنتے ہی باہر نکل کر پوچھنے لگی ۔
”جی باجی !“
”مہمان کے لیے چاے بنا دو ۔“اس کے لہجے سے ٹپکتی اجنبیت مجھے شرمسار کر گئی تھی ۔
”ٹھیک ہے باجی ۔“سعادت مندی سے کہتے ہوئے اس نے ہاتھ دھوئے اور باورچی خانے میں آگئی ۔
”لالا !....دودھ والی چاے یا قہوہ ۔“
”تمھیں نہیں پتا ،بڑا بھائی کون سی چاے پیتا ہے ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔”پتا تو ہے ۔“
”تو پھر بناﺅ ۔“
”ٹھیک ہے لالا جان !“اس نے چاے کا پتیلا چولھے پر چڑھا دیا ۔
”ویسے باجی آپ سے خفا تو نہیں ہیں ۔“
”کیا پتا ۔“میں نے منھ بنایا۔”اور مجھے اس کی خفگی کی پروا بھی کب ہے ۔جب میری ننھی سی رنڑا بہن موجود ہے تو کسی دوسرے کے نخرے کیوںاٹھاﺅں ۔“
”دیکھ لیں لالاجی !....آپ نے چلے جانا ہے اور باجی نے میری درگت بنا دینی ہے ۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”درگت کیوں،کل میں نے آوارہ گردوں سے جوبارہ بور بندوق چھینی ہے وہ تمھاری ہوئی۔ گلگارے جونھی رعب جمانے کی کوشش کرے بندوق نکال لینا ۔“
وہ معصومیت سے بولی ۔”مجھے بندوق چلانا ہی نہیں آتا۔“
”چاے پی کر میں تمھیں سکھا دیتا ہوں ۔“
”پتا ہے رات کو جس وقت آپ دشمنوں سے لڑ رہے تھے اس وقت باباجان نے مجھے آپ کے بارے سب کچھ بتا دیا تھا ۔“
”کیا سب کچھ ؟“میں نے حیرانی ظاہر کی ۔
”یہی کہ آپ فوجی ہیں ،بہت اچھے نشانہ باز ہیں ،دلیر اور بہادر ہیں اور ان تمام بدمعاشوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔سچ میں میں اس وقت اتنی ڈری ہوئی تھی ،باباجان کی باتیں سن کر مجھے بہت تسلی ہوئی ۔بعد باباجان کا کہنا سچ ثابت ہوا اورمیرے بہادر لالا نے سب کو قتل کر دیا ۔“
یقینا رات کو اس کا خوف دور کرنے کے لیے ہی شمریز خان نے میری بہادری کے بارے کچھ مبالغہ آرائی کی تھی ۔
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”ان بدمعاشوں کو تمھاری باجی گلگارے نے مارا ہے ۔“
”لالاجی ،باباجان کہتے ہیں جھوٹ مذاق میں بھی نہیں بولنا چاہیے ۔ایسا ہی ہے نا ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے بھاپ اڑاتی چاے کی پیالی میرے سامنے رکھی اور اپنے لیے چاے ڈالنے لگی ۔
”تم اپنے لالاکو جھوٹا کہہ رہی ہو۔“میں نے اسے ہلکے سے ڈانٹا ۔
وہ شوخی سے مسکرائی ۔”نہیں لالاجی !....میں نے تو بس تصدیق چاہی ہے ۔“
میں اس کی ہنسی میں شامل ہوتا ہوا بولا۔”ویسے تمھارے باباجان نے بالکل ٹھیک کہا ہے ۔“
چاے پینے کے دوران وہ مجھ سے رات والی ساری بات اگلوا چکی تھی ۔چاے کی پیالی خالی کرتے ہوئے اس نے کہا۔
”اچھا چھت پر چڑھتے ہیں ،آپ مجھے بارہ بور رائفل چلانا بھی سکھا دینا اور وہاں آپ کو ایک خاص بات بھی بتاﺅں گی ۔“
میں نے اس کی تجویز میں ہلکی سی ترمیم کرتے ہوئے کہا ”تو گھر سے باہر جاتے ہیں نا ۔“
وہ مصرہوئی ۔”نہیں چھت پر جانا ضروری ہے ۔“
”اچھا ٹھیک ہے ،میں اوپر جارہا ہوں ،تم رائفل لے آﺅ۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ گلگارے کو آوازیں دینے لگی ۔”باجی !....ہم نے چاے پی لی ہے آجائیں ۔“
رنڑا کی آواز سن کر وہ مویشیوں کے باڑے سے باہر نکل آئی ۔رنڑا کو چاے بنانے بھیج کر وہ خود صفائی میں مشغول ہو گئی تھی ۔وہ نہ صرف ناراض تھی بلکہ اپنی ناراضی کا واضح اظہار بھی کر رہی تھی ۔
میں نے اسے گھور کر دیکھا مگر وہ مجھ سے نظریں ملائے بغیرسرجھکائے باورچی خانے میں گھس گئی ۔ایک لمحے کے لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں بھی باورچی خانے میں گھس کر اس سے ناراضی کی وجہ دریافت کروں ،مگر پھر مجھے ہمت نہ ہو سکی۔نہ جانے میرے زبردستی پوچھنے پر وہ کیا ردعمل ظاہر کرتی ۔ آخر وہ ایک جوان لڑکی تھی اور اس کا کوئی سخت ردعمل ،شمریز خان کے دل میں غلط فہمی کا بیج بھی بو سکتا تھا ۔ مجھے اپنا دن ضائع کرنے پر افسوس ہوا ۔مجھے آج صبح ہی آگے چلے جانا چاہیے تھا۔یہ سب کچھ سوچتے ہوئے میں چھت پر جانے کے لیے سیڑھی والے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
چھت بالکل صاف پڑی تھی ۔ان موذیوں کے خون کا ایک قطرہ بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا گندہ خون برف پر گرا تھا ۔جو صبح ہی صبح رنڑا اور ثمر خان نے اٹھا کر چھت سے نیچے پھینک دی تھی ۔
اسی وقت رنڑا نے چھت پر چڑھ کر مجھے آواز دی ۔”لالاجی !....اس طرف ۔“اس نے مکان کے سامنے شمال کی جانب موجود مورچے کی طرف اشارہ کیا ۔ہم چھت پر چلتے ہوئے اس مورچے کے قریب پہنے ۔مکان کی بناوٹ ایسی تھی کہ اس کے تین اطراف میں کمرے تعمیر کیے گئے تھے جبکہ سامنے والی دیوار کے ساتھ کوئی کمرہ نہیں بنا تھا ۔شمال مشرقی دیوار کے ساتھ جو آخری کمرہ تھا اس کی چھت پرسامنے کے رخ کی دیکھ بھال کے لیے مورچہ بنا یا گیا تھا ۔تمام کمروں کو ملانے کے لیے دروازے لگائے گئے تھے ۔یوں کہ آدمی صحن میں نکلے بغیر پورے کمروں میں گھوم سکتا تھا ۔سامنے والا مورچہ جس کمرے پر بنا تھا اس کی چھت باقی کمروں سے بلند تھی ۔اتنی کہ چھت اور سامنے والی مشرقی دیوار کی بلندی برابر ہو جاتی تھی ۔یوں کہ اس جانب سے آدمی چھت پر لیٹ کر بھی فائر کر سکتا تھا ۔
وہاں پہنچتے ہی میں نے دیکھا کہ رنڑا نے میری کلاشن کوف بھی کندھے سے لٹکائی ہوئی ہے ۔
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”ارے بھئی میری کلاشن کوف کیوں لے آئی ہو ،کیا کلاشن کوف سے بھی فائر کرنا ہے ؟“
”نہیں لالاجی !....کلاشن کوف سے تو آپ نے فائر کرنا ہے ۔“
”میں نے کیوں ؟“
”بتاتی ہوں ۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے اس نے ایک جانب انگلی اٹھائی ۔”وہ درخت کا تنا نظر آرہا ہے۔“
میں نے اس کی انگلی کی سیدھ میں دیکھا قریباََ اڑھائی تین سو میٹر کے فاصلے پر درخت کا ایک ٹنڈ منڈ تنا نظر آرہاتھا ،جو زمین سے سات ،آٹھ فٹ بلند تھا ۔”ہاں مگر اس میں کیا خاص بات ہے ۔“
”تنے کے درمیان میں کوئی چیز نظر آرہی ہے ۔“میری بات کا جواب دیے بغیر اس نے اگلا سوال داغا ۔
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ،لگتا ہے کوئی شیشہ چمک رہا ہے ۔“
وہ میری کلاشن کوف لانے کا مقصد پھوٹتے ہوئے بولی ۔”بس لالاجی !....اسی شیشے کو آپ نے دس گولیوں سے نشانہ بناناہے ۔“
میں ہنسا ۔”تو یہ کام اپنی باجی سے کروانا تھا نا ۔“
”باجی ہی کا تو یہ ہدف ہے ۔اور یقین مانو درجنوں گولیاں ضائع کر چکی ہے ابھی تک اسے کامیابی نہیں ہوئی ۔“یہ بات کہتے ہوئے اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی تھی یوں جیسے گلگارے ہم سے دو قدم دور ہی تو کھڑی ہو ۔
”اگر میں بھی اسے نشانہ نہ بنا سکا پھر ؟“
”پھر مجھے معلوم ہو جائے گا کہ گلگارے باجی سچ کہتی ہیں ۔“
میں نے اشتیاق آمیز لہجے میں پوچھا ۔”کیا کہتی ہے وہ ؟“
”کک....کچھ نہیں ۔“وہ ہکلا گئی تھی ۔
”جانتی ہو شمریز چچا کہتے ہیں جھوٹ مذاق میں بھی نہیں بولنا چاہیے ۔“میں نے اس کی باورچی خانے میں کہی گئی بات لٹائی ۔وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھی ....
”لالاجی !....آپ نے ادھا رلوٹانے میں ذرا دیر بھی نہیں لگائی ۔“
”آئیں بائیں نہیں ،اصل بات بتاﺅ ۔تمھاری باجی کیا کہتی ہے ۔“
”وہ ....“کہہ کر وہ ایک دو لمحے کو خاموش ہوئی اور پھر اٹکتے ہوئے بات مکمل کرنے لگی ۔ ”کہتی ہیں کہ ........آپ ....بس ایسے ....مشہور ہو گئے ہیں ........اور.... آپ ....اتنے اچھے نشانہ باز بھی نہیں ہیں ۔“
”اور تم اسی لیے مجھے آزمانے لے آئیں ۔“
”نہیں لالاجی !....یہ بات نہیں ہے ۔“
”اچھا چھوڑو اس موضوع کو ،تمھاری باجی صحیح کہتی ہے ۔مجھ سے یہ نشانہ نہیں لگے گا ۔اب چلو میں تمھیں بندوق چلانا سکھا دوں ۔“
اس نے منھ پھلاتے ہوئے کہا ۔”یونھی فائر کیے بغیر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔“
”ہر آدمی کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے پانی میں ہے ۔“
وہ میرے سر ہوگئی ۔”نہیں بس آپ اس شیشے کو نشانہ بنائیں گے ،مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی میرے لالا جی کے خلاف بات کرے ،چاہے وہ باجی ہی کیوں نہ ہوں ۔“
”رنڑا ،بات کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔“
”آپ نے نہیں ناکرنا فائر ....؟“اس کے لہجے میں ناراضی شامل ہونے لگی تھی ۔گلگارے پہلے سے خفا تھی اب رنڑا کو خفا کرنا مجھے مناسب نہ لگا ۔یوں بھی وہ اتنی عقیدت اور خلوص سے مجھے لالاجی کہتی تھی ۔اور ہر لڑکی کی نظر میں اس کا بڑا بھائی ہیرو ہوتا ہے دنیا کے تمام مردوں سے انوکھا ۔ایک چھوٹی بہن کے سامنے میں اس کے بھائی کو زیرو نہیں کر سکتا تھا ۔
”اچھا ناراض نہ ہو ،کرتا ہوں فائر۔لیکن صرف ایک گولی فائر کروں گا ۔اگرشیشے کو نشانہ نہ بنا سکا تو سمجھ لینا تمھاری باجی ٹھیک کہتی ہے ۔“یہ کہہ کر میں نیچے بیٹھ گیا ۔ کلاشن کوف کی سائیٹ پر تین سو رینج لگاکرمیں نے دونوں کہنیاں اپنے گھٹنوں پر ٹیک دیں ۔یہ سنائپر کی وہ خاص پوزیشن ہوتی ہے جب وہ درخت پر بنی مچان سے کسی ہدف کو نشانہ بناتا ہے ۔پوزیشن درست کر کے میں نے پچھلی سائیٹ کے وی نما کٹاﺅ کو اگلی سائیٹ کی نوک سے ملایااور شیشے پر نظر سادھ لی ۔اس کلاشن کوف کو میں پہلے سے آزما چکا تھا وہ میری نظر کے مطابق ہی صفر تھی اس لیے مجھے اس وقت کلاشن کوف کو جانچنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ۔ شیشے کا دو انچ کا ٹکڑا صرف اپنی چمک کی وجہ سے دکھائی دے رہا تھا ۔اور سورج کی روشنی پڑنے کی وجہ سے وہ اپنے حجم سے کچھ بڑا دکھائی دیتا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ گلگارے اسے نشانہ نہیں بنا پا رہی تھی ۔یہ بھی ممکن تھا کہ اس کی کلاشن کوف صحیح طریقے سے صفر ہی نہ ہوئی ہو ۔اور اتنا باریک نشانہ لگانے کے لیے ہتھیار کا مکمل صفر ہونا ضروری ہوتا ہے ،جبکہ ہتھیار کی ایسی صفرکاری کوئی منجھا ہوا سنائپر ہی کر سکتا ہے ۔عام نشانہ بازی میں چونکہ اتنے فاصلے پر لگے ہدف کی لمبائی چوڑائی ایک انسان کے بالائی جسم کے بہ قدر ضرور ہوتی ہے اس لیے عموماََ ہتھیاروں کو اس باریک بینی سے نہیں جانچا جاتا ۔البتہ جہاں تک میری ذات کا تعلق تھا تو میں نے جس ہتھیار کو چند دن بھی پاس رکھنا ہوتا، اسے اپنے طریقے سے صفر ضرور کرتا تھا ۔اور اس وقت میرے ہاتھوں میری ذاتی کلاشن کوف ہی تھی ۔وہ کلاشن کوف جو کمانڈر نصراللہ نے مجھے بہ طور تحفہ عنایت کی تھی ۔
شیشے کی چمک کی وجہ سے اس کا مرکز معلوم کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔میں نے اپنی آنکھوں کو ساٹھ ستر فیصد میچ کر شیشے کی چمک کو دھندلایا اور مجھے شیشے کا مرکز معلوم ہوگیا ۔اس کام میں مجھے دو تین سیکنڈ ہی لگے تھے ۔شیشے کا مرکز معلوم ہوتے ہی میں نے بغیر کسی جھجک کے ٹریگر دبا دیا ۔دھماکے کی گونج ختم ہونے سے پہلے شیشے کی چمک ختم ہو گئی تھی ۔لازمی بات ہے ایک نازک شیشے کو کلاشن کوف کی طاقت ور گولی نے درجنوں ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا تھا ۔
”اوہ ....نشانہ بن گیا لالاجی !زندہ باد ۔“رنڑا وارفتگی سے چلائی اور اس کے ساتھ ہی منڈیر سے جھک کر گلگارے کو آوازیں دینے لگی ۔”باجی ....باجی ....باجی....“
”ہاں کیا ہے ۔“وہ باورچی خانے سے نکل کر سامنے ہوئی ۔ اس نے شاید یہ سوچا تھا کہ رنڑا نے پہلی مرتبہ گولی چلائی ہے اور یہی خوش خبری اسے دینا چاہتی ہے ۔
”لالاجی ....نے ایک ہی گولی سے شیشے کو نشانہ بنا دیاہے ۔میں کہتی تھی نا لوگ جھوٹ نہیں کہتے ،لالاجی بہت بہادر ،دلیر اور اچھے نشانہ باز ہیں ۔“وہ جوش بھرے انداز میں کہتی چلی گئی تھی ۔
”تمھارا دماغ خراب ہواہے ۔“سر جھٹکتے ہوئے وہ واپس مڑ گئی یقینا اسے میری تعریف پسند نہیں آئی تھی ۔
”کیا سچ مچ لالانے اس شیشے کو نشانہ بنا لیا ہے ۔“ثمر خان جواس کے گلگارے کو مسلسل پکارنے پر صحن میں آیا تھا حیران کن انداز میں پوچھنے لگا ۔
رنڑا جلدی سے بولی ۔”قسم سے سچ کہہ رہی ہوں ،بے شک اوپر آکر دیکھ لو ۔“
”ابھی آیا ۔“وہ خوش ہوتا ہوا سیڑھی کی طرف بھاگ پڑا ۔چند سیکنڈ بعد ہی وہ مورچے کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیاتھا۔آتے ساتھ اس کی نظروں مطلوبہ تنے کی جانب اٹھ گئی تھیں۔رنڑا پر جوش انداز میں اسے تفصیل بتا نے لگی ۔میں بس مسکراتے ہوئے ان دو معصوم بچوں کو دیکھ رہا تھا ۔میری نظر میں وہ معمولی سا کام ان کی نظر میں ایک بہت بڑا کارنامہ تھا ۔دو کلومیٹر دور سے ہدف کو نشانہ بنانے والے سنائپر کے لیے دو اڑھائی سو میٹر دور سے کسی ہدف پر گولی مارنا ایک مذاق ہی تو تھا ۔
٭٭٭
رات کو سوتے وقت تک ثمر خان اور رنڑا اسی موضوع کو چھیڑے رہے ۔گلگارے نے اس بحث میں حصہ لینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔شمریز خان خود اس شیشے کو نشانہ بنانے کے لیے چند گولیاں ضائع کر چکا تھا۔رنڑا کی زبانی شیشہ ٹوٹنے کی بات سنتے ہی اس نے بس اتنا کہا تھا ۔
”وہ ایس ایس ہے بیٹی ،یہ نشانہ تو اس کے لیے نہایت معمولی بات تھی ۔“
”باجی تو کہتی تھیں ان سے اچھا نشانہ باز کوئی ہو ہی نہیں سکتا اوریاد ہے انھوں نے لالاجی کو للکارا بھی تھا ۔“
شمریز خان محبت سے بولا۔”وہ بھی تو تمھاری طرح بچی ہے ۔“
رنڑا نے منھ بناتے ہوئے دل کے پھپھولے پھوڑے۔”بچی کہاں ہیں ....اتنی بڑی ہو گئی ہیں ۔اور دیکھ لیں ذرا بھی ان کی حکم عدولی کریں پٹائی کرنے سے بھی باز نہیں آتیں ۔“
”تمھیں لالا جی کیا ملے ، بڑی بہن ہی کے خلاف ہو گئی ہو ۔“
رنڑا جلدی سے بولی ۔”خلاف تو خیر نہیں ہوئی ،وہ مجھے بہت پیاری ہیں ۔البتہ لالاجی سے ذرا کم ۔“
شمریز خان نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ۔”تمھارے لالاجی کل واپس جا رہے ہیں ۔“
”کیوں ....کس لیے ۔“وہ فوراََ میری جانب متوجہ ہو گئی تھی ۔
میں ہنسا ۔”تو کیا ساری زندگی یہیں پر گزاروں گا ۔“
”کیا فرق پڑتا ہے ،ہمارا اتنا بڑا گھر ہے ۔“
میں اسے ڈراتے ہوئے بولا۔”میری بیوی پلوشہ نے یہ سنا ،نا تو تمھیں جان سے مار دے گی۔“
رنڑا فخر سے بولی ۔”میرے لالاجی کے ہوتے وہ مجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتی ۔“
”بھول ہے تمھاری ،وہ تمھارے لالاجی کے بھی کان کھینچتی ہے ۔“
”لالاجی !....بابا جان کہتے ہیں کہ جھوٹ....“رنڑا کے منہ میں یہ الفاظ تھے کہ گلگارے اندر داخل ہوئی ۔
”رنڑا ،بڑوں سے تمیز سے بات کیا کرو ۔اور جاﺅ سو جاﺅ ۔“
”جی باجی ۔“وہ دھیمے لہجے میں کہہ کر اٹھ گئی ۔
میں نے کہا ۔”چچا شمریز !....ایک بات پوچھنا تھی ۔“
”پوچھو جناب ۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا ۔جبکہ گلگارے میری طرف پیٹھ کر کے باپ کے پاﺅں دبانے بیٹھ گئی تھی ۔
”بڑوں سے تمیز سے بات کرنا ،صرف چھوٹی بہنوں کے لیے ضروری ہوتا ہے یا یہی کلیہ بڑی بہن پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔“
شمریز خان نے بلند بانگ قہقہہ لگایا۔”گویا آپ میری گلگارے بیٹی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ بڑوں کی عزت نہیں کرتی ....اگر ایسا ہے تو بہت زیادتی کر رہے ہیں آپ۔“
”میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا ۔“
”آپ کی بات سے تو مجھے یہی انداز ہ ہوا ہے ۔“
”اچھا اس موضوع کوچھوڑیں چچا شمریز !....آپ مجھے راستے کے بارے مزید تفصیل بتائیں۔“
”بہتر تو یہی ہے کہ چند دن اور یہیں قیام کر لو ،جلد ہی مجاہدین کی کوئی پارٹی یہاں سے گزرے گی ان کے ساتھ آگے چلے جانا۔“
”میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ کسی کا انتظار کر سکوں ۔“
اس نے پوچھا ۔”اچھا صبح کس وقت نکلو گے ؟“
”ناشتا کرتے ہی ،قریباََ سات آٹھ بجے تک ۔“
”ہونہہ!....کہہ کر وہ چند لمحے سوچ میں ڈوبا رہا اور پھررستے کے بارے ضروری باتیں بتانے لگا ۔گھنٹا ڈیڑھ بات چیت کرنے کے بعد ہم آرام کرنے لیٹ گئے کہ صبح مجھے سفر بھی کرنا تھا ۔ہماری گفتگو کے دوران گلگارے مسلسل خاموش بیٹھی رہی تھی ۔اور جونھی ہم سونے لگے وہ اپنے باپ کے جسم پر لحاف ٹھیک کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔
٭٭٭
صبح نماز کے بعد میںلحاف میں گھس کر ناشتے کا انتظار کرنے لگا ۔ناشتا رنڑا لے کر آئی تھی ۔شمریز خان اور میں نے اکٹھے بیٹھ کر ناشتا کیا ۔میں دو تین پراٹھے کھا گیا تھا تاکہ دوپہر کے کھانے کی حاجت نہ رہے ۔ناشتے کے بعد میں اپنا سفری تھیلا تیار کرنے لگا ۔تھوڑی دیر میں میں جانے کے لیے تیار تھا ۔شمریز سے الوداعی معانقہ کر کے میں نے رنڑا اور ثمر خان کے سر پر شفقت بھر اہاتھ رکھا ۔وہ دونوں میرے جانے سے پریشان ہو گئے تھے ۔
رنڑا نے پوچھا ۔”لالاجی !....آپ واپس کب لوٹیں گے ۔“
”اس بارے تو کچھ نہیں کہہ سکتا ۔“
اس نے منھ بسورا۔”اچھا یہ وعدہ تو کر سکتے ہیں نا کہ اسی رستے سے لوٹیں گے ۔“
”نہیں ۔“میں نے اپنے سر کو دائیں بائیں حرکت دی ۔”مجھے نہیں معلوم کہ میری واپسی کن حالات میں ہو گی ،بلکہ مجھے تو یہ بھی پتا نہیں کہ میں واپس لوٹ بھی سکوں گا یا نہیں ۔“
”لالا جی ،ایسے تو نہیں کہتے ۔“رنڑا کی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں ۔
”اچھا تمھاری باجی کہاں ہے؟کیا اس نے مجھے رخصت نہیں کرنا ۔“میں نے جلدی سے موضوع تبدیل کیا ۔
”وہ تو ناشتا بنا کر گھر سے نکل گئی تھیں ۔“وہ انکشاف کرتے ہوئے بولی ۔”شاید گاﺅں کی طرف گئی ہو ں۔میں نے انھیں کہا بھی تھا کہ لالاجی نے ناشتے کے بعد الوداع ہونا ہے ،مگر مجھے انھوں نے یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ یہ معلومات میں اپنے پاس ہی رکھوں ۔“
”شاید کوئی ضروری کام ہو ۔“میں نے کھسیانا ہوکر بات بنائی ۔
”بچی ہے ذیشان صاحب ،میں اس کی طرف سے معذرت خواہ ہوں ۔“شمریز خان نے جلدی سے صفائی دی ۔
جیب سے چار پانچ ہزار کے بقدر رقم نکال کر میں نے ثمر خان اور رنڑا کے ہاتھ پرآدھے آدھے نوٹ رکھے اور باہر کی جانب قدم بڑھا دیے ۔وہ انکار میں سر ہلاتے رہ گئے تھے ۔
گلگارے واقعی مجھ سے سخت ناراض تھی ۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ اتنی حساس ہو گی ۔اور آخری وقت تک مجھے معاف کرنے پر تیار نہیں ہو گی ۔اسے منانے کے لیے میں نے اپنا ایک دن ضائع کر دیا تھا ۔ گو اس کے ساتھ میرا کوئی ایسا جذباتی لگاﺅ تو نہیں تھا کہ میں وہ واقعہ بھول نہ پاتا ،البتہ اس نے میری جان بچا کر جو احسان کیا تھا اس قرض کے بوجھ نے میرے کندھے ضرور جھکا دیے تھے ۔
گھر سے نکل کر میں جنوب کی طرف موجود ڈھلان پر چلنے لگا ۔ڈھلان پر ترچھا چلتے ہوئے میں نالے میں اترسکتا تھا مگر نالے میں برف کچھ زیادہ ہی اکٹھی ہوتی ہے ۔جبکہ تازہ پڑی برف میں چلنا کافی دشوار ہوتا ہے ۔ڈیڑھ دو فٹ پڑی ہوئی تازہ برف میں آدمی کا پاﺅں گھٹنے تک دھنس جاتا ہے ۔پاﺅں کو اوپر کھینچتے ہوئے ٹھیک ٹھاک طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے ۔یوں منٹوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے ۔اس پر مشقت چلنے سے اتنی تھکن ہوتی ہے کہ چند کلومیٹر چلنا بھی کارِ دار بن جاتا ہے ۔اسی وجہ سے میں نے نالے میں اترنے کے بجائے ڈحلان پر ترچھا چلنا پسند کیا تھا کہ ڈھلان پر زیادہ برف جمع نہیں ہوپاتی ۔
کلومیٹر بھر چل کر مجھے نالے کی تہہ نظر آنے لگی ۔یہ دیکھ کرمیں خوش ہو گیا تھا کہ تہہ میں بہتے پانی کی وجہ سے نالے کے درمیان میں برف مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی ۔ میں نے ڈھلوان پر چلنے کا ارادہ ختم کر کے نالے میں اترنے لگا ۔اسی وقت میری نظر پندرہ بیس گز دور گزرنے والے قدموں کے نشانات پر پڑی۔کوئی آدمی وہاں سے پہلے بھی گزرا تھا ۔
ایک لمحے کے لیے میرے دماغ میں خیال گزرا کہ شاید وہ گلگارے کے پاﺅں کے نشان ہوں ،مگر پھر میں نے اپنے خیال کو جھٹلا دیا کہ ان کا گاﺅں خواگا ابو مخالف جانب میں پڑتاتھا اسے اس طرف آنے کی کیا ضرورت تھی ۔
نالے میں اتر کرمیں پانی کے کنارے کنارے چلنے لگا ۔قدموں کے بنے ہوئے دوسرے نشان بھی نالے کی تہہ میں بہتے ہوئے پانی کے پاس آکر ختم ہو گئے تھے ۔میں چلتے ہوئے چوکنے انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ بھی لیتا گیا کہ قدموں کے نشان کسی ایسے اچکے کے بھی ہو سکتے تھے جو مجھے دھوکے سے نشانہ بنا لیتا ۔نالے کا رخ مشرق سے مغرب کی جانب تھا ،پانی کا بہاﺅ بھی اسی جانب تھا ۔ مجھے گویا غیر محسوس اترائی میں اترنا پڑرہا تھا اس وجہ سے مجھے چلنے میں کوئی دشواری بھی پیش نہیں آرہی تھی ۔
فرلانگ بھر کے فاصلے پر نالا جنوب کی طرف مڑا مزید پچاس میٹر چلتے ہی مجھے پاﺅں کے نشان اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔اس طرف نظریں دوڑاتے ہی مجھے قریبی ٹیکری پر کوئی بیٹھا ہوا نظر آیا ۔اسے پہچانتے ہی میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ کوئی اور نہیں گلگارے تھی ۔گود میں کلاشن کوف رکھے ایک پتھر پر تشریف ٹیکے وہ سامنے کی جانب دیکھ رہی تھی ۔وہ مجھے دیکھ چکی تھی مگر اس نے نہ تو مجھے مخاطب کیا تھا اور نہ میری جانب متوجہ ہوئی تھی ۔وہ چھوٹی سے ٹیکری نالے کی تہہ سے بیس پچیس گز ہی بلند تھی۔ایک لمحہ رک کر میں نے اس کی جانب گہری نظروں سے دیکھا اور پھر آگے گزرتا چلا گیا ۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے آگے جاتا دیکھ کر ضرور آواز دے گی ،مگر دس پندرہ قدم چلنے کے باوجود وہ اسی طرح بے پروائی سے بیٹھی ناک کی سیدھ میں دیکھتی رہی ۔
اپنے قدم روک کر میں نے دوبارہ اس کی جانب دیکھا اور پھر ایک فیصلے پر پہنچتے ہوئے اس کے قدموں کے بنے ہوئے نشانات کی طرف بڑھ گیا ۔نہ جانے وہ وہاں کیوں آئی تھی ،مجھے معذرت کا موقع دینے ،مجھ سے مزید شکوے کرنے یا کسی اور مقصد سے ۔بہ ہرحال اس کی سوچ جو بھی تھی اس کی وہاں آمد کی وجہ میں ہی تھا ۔اور وہی وجہ جاننے کے لیے میں اس کی طرف بڑھنے لگا ۔
جاری ہے
 

تھوڑی سی چڑھائی طے کر کے میں اس کے قریب پہنچا ۔مگر میری جانب توجہ دیے بغیر وہ سامنے دیکھتی رہی ۔اس کا چہرہ بالکل سپاٹ نظر آرہا تھا یوں جیسے کوئی آدمی تنہائی میں خالی الذہن ہو کر خلا میں گھور رہا ہو۔
قریب پہنچ کر میں نے گلا کھنکار کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا،مگر اس کے انہماک میں کوئی فرق نہ پڑا،اس نے میری طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی ۔اس کے دائیں جانب پڑے پتھرپر سے برف ہٹا کر میں نے بھی نشست سنبھال لی ۔سفری تھیلا اپنے کندھوں سے نکال کر میں نے نیچے رکھ دیا تھا۔
ایک دو لمحہ سوچنے کے بعد میں نے دھیمے لہجے میں گفتگو کی ابتداءکرتے ہوئے کہا ۔
”مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔میں شرمندہ ہوں اور معافی کا طلب گار ہوں ۔“
اس کے انہماک میں دراڑ پڑی ،میری جانب سرگھماتے ہوئے اس نے گہری نیلی آنکھیں میرے چہرے پر جمائیں جن کی تہہ میں جوار بھاٹا اٹھنا شروع ہو گیا تھا ۔”اور آپ کے معذرت کرنے سے مجھے پہنچنے والی اذیت کا ازالہ ہو جائے گا ۔“
”میں نے تو بس اپنی غلطی کو تسلیم کیا ہے اور یقینا اعتراف جرم سے مجرم معافی کا حق دار تو ہو جاتا ہے ۔“
”حق دار نہیں ،طلب گار کہیں ۔یہ طے کرنا زیادتی کا شکا ر ہونے والے کاکام ہے کہ معاف کیا جائے یا بدلہ لیا جائے ۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا ۔”شاید اتنا بڑا قصور تو نہیں تھا میرا ۔“
”یہ چھوٹی بات نظر آرہی ہے آپ کو ،جانتے بھی ہیں مجھ پر کیا بیتی ؟....میں اپنی نظروں سے گر گئی ،آپ کو آنکھ ملانے کے قابل نہ رہی ،میرے کردار ،پارسائی اور شخصیت کا بت پاتال میں جا گرا۔ میرے احساسات کے اتنے ٹکڑے ہوئے جنہیں سمیٹنے کے لیے شاید ساری زندگی بھی کم پڑ جائے ۔“ اس کی نیلی آنکھیں جھیل کا منظر پیش کرنے لگی تھیں ۔”میں ایسی لڑکی تو نہیں ہوں جیسی آپ سمجھ بیٹھے ،اپنے رشتے کی اطلاع ہی دی تھی نا ،یہی باورکرایا تھا کہ میں آپ کو بھائی نہیں سمجھتی وہ بھی اس وقت جب تک مجھے پلوشہ کے بارے معلوم نہیں ہوا تھا ۔اور میں کچھ بھی سمجھتی رہتی آپ نے تومجھے چھوٹی بہن کہا تھا نا ،اگر مجھ سے آپ کے ساتھ ٹکرانے کی غلطی ہو گئی تھی تو اسے اس انداز میں اجاگر کرنے کیا ضرورت تھی کہ میرے کردار پر انگلی اٹھنے کی نوبت آجاتی ۔اور میں قسم کھا کر کہتی ہوں میں کسی ایسی نیت یا ارادے سے آپ کے قریب نہیں ہوئی تھی جیسا آپ سمجھ بیٹھے ۔اتنے اوچھے ،سستے اور بے قیمت کردار کی مالک نہیں ہوں میں ۔ وہ تو بس حالات ایسے تھے کہ مجھ سے یہ غلطی سرزد ہوئی اور آپ نے مجھے بے توقیر کرنے ، میری عزت خاک میں ملانے اور مجھے اپنی نظروں سے گرانے میں ایک سیکنڈ کی دیر بھی نہ کی ۔“
میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی حساس ہو سکتی ہے ۔میں تو پلوشہ کا عادی تھا جسے شروع شروع میں میں کتنی بار ایسی باتوں پر نہ صرف زبان سے متنبہ کرتا رہا تھا بلکہ ہاتھوں سے پکڑ کر بھی دور دھکیل دیا کرتا تھا اور اس نے میری کسی بات کو مچھر کے پر جتنی بھی اہمیت نہیں دی تھی ۔بلکہ الٹا وہ مجھے مطعون کر دیا کرتی ۔حالانکہ وہ اس وقت میرے لیے مکمل غیر تھی اور میںجو کچھ کہتا تھا وہ بناوٹی نہیں حقیقت ہوا کرتا تھا ۔لیکن وہ الٹا مجھے ہی دھمکانے لگتی ۔یہاں میری ذرا سی غلطی پر گلگارے نے جانے کتنی گہرائی میں اسے محسوس کر لیا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اس کی جگہ اگر پلوشہ ہوتی اور اسے میں نے یونھی دور دھکیلا ہوتا تووہ ایک لحظہ ضائع کیے بغیر دوبارہ مجھ سے آلپٹی ہوتی ۔میرے اندر کہیں دور سے آواز اٹھی ....
”ہاں ،کیونکہ وہ تمھیں شروع دن سے چاہتی تھی اور اس کے قریب ہونے کا مقصد نزدیکیاں ختم کرنا ہی تھا ،گلگارے تو بے خیالی میں قریب ہوئی تھی ۔“
”اچھا روﺅ تو مت ۔“میں نے اس کا سرد ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلوں کے بیچ لیا اور خفت سے بولا ۔”بہ خدا میرا نہ تو یہ ارادہ تھا اور نہ یہ خیال ہی جیسا آپ سمجھے بیٹھی ہیں ۔جو کچھ ہوا نادانستگی اور عجلت میں ہوا ۔یقینا میں نے غلط بلکہ بہت ہی غلط کیا تھااور میرے ذہن کے کسی گوشے میں دور دور تک بھی یہ گمان نہیں کہ میں آپ کے کردار پر رائی برابر بھی شک کر سکوں ....حقیقت تو یہ ہے کہ مجھ سے حفظ ماتقدم کے طور پر وہ فعل سرزد ہوا تھا ۔بے شک میں نے آپ کو بہن کہہ کر پکارا ،لیکن اتنا تو آپ بھی جانتی ہیں کہ کسی لڑکی کو بہن کہنے یا سمجھنے سے وہ آپ کی محرم نہیں بن جاتی ۔اس کی حیثیت تب بھی غیر عورت جیسی ہی ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ بات بھی آپ جانتی ہوں گی کہ شیطان مردود انسان کے جسم میں خون کی طرح متحرک رہتا ہے ۔وہ کسی کے دماغ میں گندے اور غلیظ خیالات پیدا کرنے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں لگاتا ۔ آپ جیسی خوب صورت اور پیاری شکل اللہ پاک نے بہت کم لڑکیوں کو عنایت کی ہو گی ،جبکہ میں ایک گناہ گار اور سستے خیالات کا مالک عام سا جوان ہوں ۔آپ کے بارے میرے دل میں نہایت پاکیزہ، مقدس اور عقیدت مندانہ خیالات بھرے ہیں ۔اتنے زیادہ قریب ہونے پر خدا نخواستہ میرے دل میں کوئی ایسا خیال بھی پیدا ہو سکتا تھا جس پر میں ساری زندگی پشیمان رہتا ۔بس یہی سوچ کر میں عجلت میں کوئی صحیح فیصلہ نہ کر سکا ۔بجائے اس کے کہ میں خود پیچھے ہوجاتا اور آپ یہ سمجھتیں کہ میں آپ کو ہول میں جھانکنے کا موقع دے رہا ہوں ،میں نے آپ کو بازو سے پکڑ دور دھکیل دیا ۔میرا طریقہ اورانداز غلط نہیں بے ہودہ تھا،لیکن معاف کرنا اور نظر انداز کر دینا آپ کے بس میں ہے ۔مجھے اسی وقت احساس ہو گیا تھا ۔ اب تک شرمندگی محسوس کر رہا ہوں ۔آپ میری محسن ہیں ۔مجھے نئی زندگی عطا کرنے میں اللہ پاک نے آپ کو سبب بنا کر بھیجا ہے ....براہ مہربانی درگزر کرو،مجھے معاف کر دو ۔“
اپنے بائیں ہاتھ کی پشت کو اس نے آنکھوں پر پھیرا اور نیچے دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھنے لگی ۔ ”پلوشہ کو یہ بات بتاﺅ گے ؟“
”نہیں ۔مگر آپ کے بارے ضرور بتاﺅں گا ۔“
”چھوٹی بہنوں کو تو آپ کہہ کر نہیں پکارا جاتا ۔“بہ ظاہر تو نہیں ،مگر اس کے لہجے کی گہرائیوں میں ہلکے سے دکھ کی آمیزش شامل تھی ۔
میں مسکرایا۔”یہ تم نے بالکل صحیح کہا ۔“
”میں بھی معذرت خواہ ہوں ،کل آپ مجھے منانے کے لیے پورا دن رکے رہے مگر میں نے آپ کو بات کرنے کا موقع ہی نہ دیا ۔“
”تو تمھیں معلوم تھا کہ میں کیوں رکا ہوں ۔“
”بچی تو نہیں ہوں ۔“اس کے ہونٹوں پر پہلی بار مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔
”اتنی بڑی بھی نہیں ہو جتنا بننے کی کوشش کر رہی ہو ۔“
”آپ کی پلوشہ سے تو بڑی ہوں نا ۔“
”ہونہہ!....عمر میں کہہ سکتے ہیں ،ورنہ جو کام وہ کرتی ہے اس کے مقابل آپ بالکل چھوٹی بچی نظر آئیں گی ۔“
”ہاں ،وہ میری آئیڈیل ہے ۔میں نے اس کی بہت ساری کہانیاں سنی ہیں اور اسے ملنے کا مجھے بہت شوق ہے ۔“
”دعا کرو وہ مجھے جلدی مل جائے تاکہ میں اسے تمھارے گھر بھیج دوں ،پھر خوب گپ شپ کرنا ۔“
”اچھا دکھنے میں کیسی ہے ؟“گلگارے کی آنکھوں میں گہرا تجسس تھا ۔
میں نے پرس میں رکھی اس کی تصویر نکال کر گلگارے کی طرف بڑھا دی ۔”لو خود دیکھ لو ۔“یہ تصویر میں نے اس کی ماں سے لی تھی ۔تصویر میں ہونٹوں پر ملکوتی تبسم سجائے وہ کیمرے کی طرف متوجہ تھی۔
گلگارے اس کی تصویر کو انہماک سے دیکھتے ہوئے بولی ۔”واقعی اس کے بال تو بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں اور بالکل لڑکا ہی لگ رہی ہے ۔“
”شکل کیسی ہے ۔“
”جتنی پیاری ہے اتنی ہی خوش قسمت بھی ہے کہ ،جسے پیار کرتی ہے اسے بھی اس قدر محبوب ہے۔“
”جانتی ہو اس کے ملنے سے پہلے میری زندگی کتنی پھیکی بے رونق اور بے مزہ تھی ۔خاص کر عورت ذات تو میرے نزدیک بالکل اعتبار کے قابل نہیں تھی ۔اور اس دن میں نے تمھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ پلوشہ شروع میں مجھ سے کیسے ٹکرائی تھی ....“میں اس کے سامنے پلوشہ ایسی بہت سی باتیں دہراتا گیا جو میں پہلے نہیں بتا سکا تھا ۔
وہ انہماک ،دلچسپی اور مسکراتے ہوئے پلوشہ کی شوخیوں ،شرارتوں بھرے واقعات سنتی رہی ۔ اس دوران وہ گاہے گاہے اس کی تصویر پر بھی نظریں دوڑا لیتی ۔میری بات ختم ہوتے ہی وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔
”اللہ پاک کا شکر ہے کہ آپ دونوں ایک ہو گئے ہو ۔“
”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”پتا ہے میں نے دل میں ایک اور گلہ بھی چھپایا ہوا ہے ۔“پلوشہ کی تصویر میری جانب بڑھاتے ہوئے وہ شکوہ کناں ہوئی ۔
میں دلچسپی سے مستفسر ہوا ۔”بھلا وہ کون سا؟“
”ثمر خان کو آپ نے کلاشن کوف تحفے میں دی ،رنڑا کو بارہ بور ،ابوجان کو ایٹ ایم ایم ، میرے لیے کچھ بھی نہیں ....کم از کم اتنا ہی کہہ دیتے کہ یہ پستول گلگارے کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں ۔“
”تمھیں یہ سب کچھ کیسے معلوم ہوا ؟“
”میں دوسرے کمرے میں باباجان اور آپ کی تمام باتیں سن رہی تھی ،جونھی آپ نے باہر جانے کاارادہ کیامیںبھاگ کر باورچی خانے میں گھس گئی ۔“
میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کیا۔”چھپ کر باتیں سننا کوئی اچھی عادت تو نہیں ہے نا ۔“
”آپ میرے شکوے کو باتوں میں نہ آڑائیں ....بہ ہرحال آپ کے بتائے بغیر میں نے ایک پستول آپ کی نشانی کے طور پر رکھ لیا ہے ۔“اس نے کندھے سے لٹکے ہوئے کپڑے کے تھیلے سے تیس بور پستول نکال کر میری آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔وہ پشاور سے ملحق شہر درہ آدم خیل کا بنا ہوا مقامی ساخت کا پستول تھا ۔ درے میں اچھا اسلحہ بھی بنتا ہے اور ناقص بھی ۔وہ دونوں پستول میں نے دیکھے تھے ، بس گزارے لائق ہی تھے ۔
”پاگل ،یہ ہتھیار میرے نہیں ہیں ....یہ تو ان اچکوں کی نشانی ہیں ۔تمھارے لیے میرے پاس کچھ اور موجود ہے ....لیکن تم نے مجھے موقع ہی نہ دیا ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے نیفے میں اڑسا ہوا گلاک نائینٹین نکال کر اس کی جانب بڑھا دیا ۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ،یہ میں نہیں لے سکتی ....آپ کو آگے ضرورت پڑے گا ۔“
”میرے لیے یہ کافی ہے ۔“میں نے گود میں رکھی کلاشن کوف کا بٹ تھپتھپایا۔
پستول میرے ہاتھ سے لے کر الٹ پلٹ کرکے دیکھتے ہوئے وہ شرارتی لہجے میں بولی ۔ ”ویسے اتنا مہنگا تو نہیں لگ رہا ،اگر کبھی رقم کی ضرورت پڑے تو کیا اسے دس پندرہ ہزار میں بیچ سکتی ہوں۔“
میں نے سنجیدگی سے کہا ۔”دوسو سے کم ایک روپیا بھی نہ لینا ۔“
”مذاق تو نہ کریں ....“مجھے سنجیدہ دیکھ کر اس کے لہجے میں حقیقی حیرانی ابھر آئی تھی ۔”دوسو میں تو آ ج کل اچھا چاقو بھی نہیں ملتا ۔“
”سچ کہہ رہا ہوں ....دوسو ہزار سے ایک روپیا بھی کم نہ لینا ۔“
”دوسو ہزار ....“وہ اب تک میری بات نہیں سمجھی تھی ۔
”میرا مطلب ہے دو لاکھ ۔“
”کیا ....؟اتنا مہنگا ،میں نے نہیں رکھنا ۔“اس نے ایک دم پستول میری جانب واپس بڑھایا۔
”پاگل ۔“میں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔”اتنی پیاری بہن کے لیے تو اس سے کئی گنا قیمتی چیز بھی حقیر کہلائے گی ۔“
”آپ جب واپس آئیں گے تو پھر لوں گی ۔فی الحال یہ آپ کو وہاں کام آئے گا ۔“پستول میرے حوالے کرنے کے بہنانے اس نے میری واپسی کے رستے کا بھی تعین کردیاتھا۔
”میرے لیے یہ بہتر رہے گا ۔“میں نے اس کے ہاتھ سے تیس بور پستول لے کر نیفے میں اڑس لیا۔
”مگر ....“
”خاموش ۔“میں نے ہاتھ اٹھا کر اسے بات کرنے سے روکا اور سفری تھیلے سے گلاک کی گولیاں نکالنے لگا ۔سو کے قریب فالتو گولیاں میرے پاس موجود تھیں وہ تمام میں نے گلگارے کی جانب بڑھا دیں ۔
گولیاں میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے مسکرا کر پوچھا ۔”ویسے لالاجی کی لاڈلی بہن رنڑا بی بی نے آپ کو بتا یا تو ضرورہو گا کہ میں نے اس کے سامنے آپ کی کتنی برائیاں کی تھیں ۔“
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”ہاں کچھ ایسا کہہ تو رہی تھی ۔“
”کل کاسارا دن اور گزشتا رات ،آپ کی تعریفیں کر کر اس نے میرے دماغ کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔کم از کم پانچ چھے دفعہ تو بے عزت ہوئی ہوگی مگر باز پھر بھی نہ آئی ۔آپ نے غلطی سے شیشے کو کیا نشانہ بنا لیا اسے آپ سے بہتر نشانے بازپوری دنیا میں دکھائی نہیں دے رہا ۔کل رات جب آپ کے سونے کے بعد میں اپنے کمرے میں گئی وہ جاگ رہی تھی اور اس کے پاس ایک ہی موضوع تھا ،اس کا لالاجی ۔“
”حاسد کہیں کی ،میرے سامنے بھی اس نے اپنی باجی کی کافی تعریفیں کی تھیں ،مگر میں نے تو اسے نہیں ڈانٹا۔“
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔میں بھی مسکرا دیا تھا ۔
”اچھا وہ بڑی چٹان پر پڑا چھوٹا گول پتھر نظر آرہا ہے ۔“اس نے نالے میں پڑے ہوئے ایک بڑے پتھر کی طرف اشارہ کیا جس پر چھوٹا سا گول پتھر رکھا تھا ۔فاصلہ اڑھائی سو میٹر سے زیادہ ہی ہو گا ۔لگ یہی رہا تھا کہ اس نے آتے وقت اس چٹان پر خود ہی وہ پتھر رکھا تھا ۔
میں نے جواب دیے بغیر کلاشن کوف کو کندھے سے لگایا اور لبلبی دبا دی ۔چھوٹا پتھر نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔میں نے ہنستے ہوئے ۔”اب نظر نہیں آرہا ۔“
وہ شوخی سے بولی ۔”یہ بات میں رنڑا بی بی کو تو بالکل بھی نہیں بتاﺅں گی ۔“
میں نے مزاحیہ لہجے میں جواب دیا۔”سب جانتے ہیں کہ گلگارے بی بی کتنی حاسد ہے ۔“
وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔”اگر حاسد ہوتی تو کسی اور سے حسد کرتی ۔“
”اور کس سے ؟“میں نے بے خیالی میں پوچھ بیٹھا ۔
”کسی سے بھی ،ثمر خان ،باباجان یا پلوشہ وغیرہ سے ۔“بات کو گول مول کر کے بھی اس نے واضح کر دیا تھا ۔
”یقینا اب مجھے چلنا چاہیے ۔“میں اس لا ینحل بحث کو مزیدجاری نہیں رکھ سکتا تھا ۔
اس کے چہرے پر اداسی نمودار ہوئی مگر اس نے مجھے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔بغل میں لٹکائے جھولے سے کپڑے کی پوٹلی نکال کر اس نے میری جانب بڑھائی ۔
”آپ کے لیے دال کے پراٹھے بنائے ہیں ۔“
”ہاں اس کی تو بہت ضرورت تھی ۔“میں نے پوٹلی لے کر سفری تھیلے میں ڈال لی ۔ان کے گھر سے چلتے وقت بھی میرے دماغ میں یہ بات موجود تھی کہ رنڑا کو کہہ کر رستے کے لیے کوئی پراٹھے وغیرہ پکوا لوں ،مگر گلگارے کے جانے کی خبر سن کر میں رنڑا کو نہیں کہہ پایا تھا ۔
میں جانے کے ارادے سے کھڑا ہوا ۔وہ بھی اداس چہرہ لیے اٹھی ،ایک لمحہ مجھے گھورنے کے بعد وہ قدم بڑھا کر میرے نزدیک ہوئی اور میری چھاتی پر سر رکھ دیا ۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے اداس لہجے میں کہا ۔”بہنا دعاﺅں میں یاد رکھنا ۔“
”بھائیوں کو تب ایسا کہنا پڑتا ہے جب انھیں بہن کی محبت میں شبہ ہو ۔“یہ کہتے ہوئے وہ مجھ سے آہستگی سے علاحدہ ہو گئی ۔
”نہیں صرف یادہانی کرا رہا تھا ۔“
”پھر بھی مجھے برا لگا ۔“
”اچھا غلطی ہو گئی اور اب تم جاﺅ ۔“
”میں یا آپ ؟“پھیکی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہو گئی تھی ۔
میں نے دوٹوک انداز میں کہا ۔”تم ....“
”اللہ پاک آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے لالاجی !“یہ کہتے ہی وہ جھٹکے سے مڑی اور ٹیکری سے اترتی چلی گئی ۔نالے میں اتر کر اس نے ایک بار مڑ کر دیکھا اور پھر واپسی کے رستے پر گامزن ہو گئی ۔ پلوشہ کی طرح اس کے قدموں میں بھی بہت تیزی تھی ۔پہاڑی علاقے کے رہائشیوںکے لیے پہاڑوں پر چڑھنا اترنا معمول کی بات ہوتی ہے ۔میں وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔یہاں تک کہ وہ نالے کے موڑ پر پہنچ گئی ۔وہاں ایک بار پھر رک کر وہ چند لمحے میر ی جانب دیکھتی رہی ،پھر الوداعی انداز میں ہاتھ لہرا نے لگی ۔
میں نے بھی ہاتھ اٹھا کر زیر لب”خدا حافظ ۔“کہا ۔یقینا اس کی طرح میری آواز بھی اس تک نہیں پہنچی تھی مگر میری طرح اسے بھی یقین ہو گا کہ میں نے خدا حافظ کہا ہے ۔
لمحہ بھر ہاتھ لہرانے کے بعد وہ موڑ مڑتے ہوئے میری نظروں سے اوجھل ہو گئی ۔ایک اور قابلِ احترام اور معزز ہستی مجھ سے جدا ہو گئی تھی ۔نہ جانے وہ زندگی میں دوبارہ مل بھی پاتی یا ہمیشہ انھی مختصر گھڑیوں کی یاد کی صورت میں میری یاداشت میں زندہ رہتی۔
میں نے سفری تھیلا اپنی پیٹھ پر لادا ،کلاشن کوف کو دائیں کندھے سے لٹکایااور بوجھل قدموں سے اپنے رستے ہو لیا ۔میں نے کافی وقت گلگارے کے ساتھ گزار لیا تھا ۔سورج کے سامنے چھوٹی چھوٹی بدلیاں آنے لگی تھیں ۔ہاتھوں کو گرم کرنے کے لیے میں نے کوٹ کی جیب میں ڈالے،میرا داہناہاتھ کسی چیز سے ٹکرایااورمیں ایک دم حیرانی بھرے انداز میں رک گیا کہ شمریز خان کے مکان سے رخصت ہوتے وقت میں نے جیب میں کوئی چیز بھی نہیں ڈالی تھی ۔میں نے فوراََ ہاتھ باہر نکالا،وہ ہزار ہزار کے نوٹ تھے جنہیں گول لپیٹ کر ان پر دھاگا پھیرا گیا تھا ۔دھاگا کھولنے پر مجھے نوٹوں کے درمیان ایک چھوٹا سا رقعہ بھی نظر آگیا تھا جو پشتو میں تحریر کیا گیا تھا ۔ٹوٹی پھوٹے شکستہ الفاظ کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ لکھنے والا واجبی تعلیم رکھتا ہے ۔بلاشبہ وہ رقعہ اور پیسے میری جیب میں گلگارے نے ڈالے تھے ۔میری نظریں اس شکستہ تحریر پر پھسلنے لگیں ۔
سلام کے بعد لکھا تھا ۔بے ہوشی کے وقت آپ کے جسم سے میں نے ہی لباس علاحدہ کیا تھا ۔ لباس کی تلاشی لینے پر تین ہزار روپے کے بہ قدر رقم نظر آئی تھی ۔اور جہاں آپ جا رہے ہیں وہاں آپ کو کافی رقم کی ضرورت پڑے گی ۔یہ میرے اپنے پیسے ہیں ،میں جانتی ہوں کہ اگر میں نے براہ راست آپ کے حوالے کیے تو بڑے ہونے کا فائدہ اٹھا کر آپ مجھے ڈانٹ کر یہ پیسے واپس دے دیں گے ۔اسی لیے مجھے چوری آپ کی جیب میں ڈالنے پڑ رہے ہیں ۔گو یہ تھوڑی سی رقم ہے ،مگر یقین مانو میری ساری پونجی یہی ہے ۔ اگر بہت زیادہ پیسے بھی میرے پاس ہوتے توآپ کو دے دیے ہوتے ۔اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔میرے گزشتا دو روز کے رویے پرلازماََ آپ کا دل دکھا ہوگا ۔بہ خدا میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔بس اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی ۔معذرت خواہ ہوں ۔اللہ پاک آپ کو اور میری بہن پلوشہ کو ہمیشہ خوش رکھے ....اللہ حافظ۔“یہ ساری تحریر اس نے پہلے سے لکھ کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی ۔اس کا مطلب تھا کہ وہ صرف اپنا گلہ مجھ تک پہنچانے آئی تھی ورنہ ناراضی وہ پہلے سے ختم کر چکی تھی ۔
اس کا خلوص دیکھتے ہوئے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔میں نے رقم شما رکی ہزار ہزار کے پندرہ نوٹ تھے ،لیکن ان کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ شاید قارون کا خزانہ اٹھانے والے اونٹ بھی ان کے بوجھ تلے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتے ۔میں نے وہیں کھڑے کھڑے عہد کر لیا کہ اگر زندگی نے وفا کی تو ایک بار گلگارے کو ملنے ضرور لوٹوں گا ۔یقینا اس نے میری جیب میں نوٹ ڈالنے کے لیے ہی میری چھاتی پر سر رکھا تھا ۔میں پہلے ہی اس کا بہت زیادہ مقروض تھا اس نے مزید زیر بار کر دیا تھا ۔اس نیلی آنکھوں والی پاکیزہ خیالات لڑکی نے ہمیشہ میری یاد میں زندہ رہنا تھا ۔
”اللہ پاک تمھارا نصیب اچھا کرے اور تمھیں ڈھیروں خوشیاں نصیب ہوں میری پیاری بہنا!....“زیر لب بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھوں میں پیدا ہونے والی نمی خشک کی اور آگے بڑھ گیا ۔
ان اچکوں میں سے ایک کی جیب میں مجھے بیس پچیس ہزار کے قریب پاکستانی کرنسی ملی تھی مگر اس بارے میں اسے نہیں بتا سکا تھا ۔اسی وجہ سے اس مخلص لڑکی کو اپنی ساری پونجی میرے حوالے کرنا پڑ گئی تھی ۔میں مسلسل اترائی میں جا رہا تھا ،لیکن زیادہ دیر اترائی کا یہ سفر جاری نہ رہا ۔وہ نالہ شمال کی جانب مڑا اور فرلانگ بھر کے بعد اس کا رخ مشرق کی طرف ہوگیا ۔وہ علاقہ یوں بھی پہاڑ در پہاڑ ہے ۔نہ نالوں کا رخ متعین ہے اور نہ پہاڑی سلسلے کسی ایک سیدھائی میں ہیں ۔انجان آدمی کے لیے تو وہ پہاڑ بھول بھلیوں کی طرح ہیں ۔جو ایک بار ان بھول بھلیوں میں گھس جائے نکلنے کا رستا نہیں ڈھونڈپاتا ۔
میں نے مغرب کی سمت اپنا سفر جاری رکھا اور ایسا کرنے کے لیے مجھے اب اوپر چڑھنا پڑ رہا تھا ۔بلندی کے سفر میں آدمی کی رفتار خود بہ خود دھیمی پڑ جاتی ہے ۔زیادہ تیزی کی کوشش میں تھکن کے ساتھ انسان کا سانس بھی پھولنے لگتا ہے ۔اور میدانی علاقے سے آئے ہوئے آدمیوں کا سانس ،رہائشی لوگوں کی نسبت زیادہ پھولتا ہے ۔سورج کے گرد پھرنے والی آوارہ بدلیاں دھوپ کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔گو لگتا تو نہیں تھا کہ برف باری یا بارش ہو گی ،مگر اس بارے وثوق سے کچھ بھی نہیںکہا جاسکتا تھا ۔ یہاں کا موسم تو ایسا ہے کہ تیز دھوپ کی حکمرانی کو بادل چند لمحوں میں زیر کر کے جل تھل کر دیتے ہیں اور زمین پر بارش کا پانی ابھی تک بہہ رہا ہوتا ہے کہ سورج ایک بار پھر پوری آب و تاب سے چمکنا شروع ہو جاتاہے ۔
چڑھائی شروع شروع میں تو نارمل تھی مگر آہستہ آہستہ سخت ہو نا شروع ہو گئی ۔یہاں تک کہ میرے لیے سیدھا اوپر چڑھنا مشکل ہو گیا اور میں ترچھا آگے کا سفر طے کرنے لگا یوں کہ دس پندرہ قدموں کے بعد میں تین چار قدم بلند ہو پاتا ۔
سورج اپنا آدھے سے زیادہ سفر طے کر چکا تھا ۔میرے پاس موجود پانی کی دونوں بوتلیں خالی ہو گئی تھیں اور جس بلندی پر میں موجود تھا اتنی اونچائی پر عموماََ چشمے نہیں ہوتے ۔چشمے زیادہ تر نالوں کی تہہ سے بیس پچیس گز اوپر ہی پھوٹتے ہیں ۔اس پہاڑی کی ڈھلان تو اتنی سیدھی تھی کہ وہاں برف بھی نہیں ٹھہر پائی تھی ۔اب دوسری جانب اتر کر ہی مجھے کوئی چشمہ مل سکتا تھا ۔
اچھی خاصی بھوک محسوس ہو رہی تھی مگر پانی کی غیر موجودی میں مجھے کھانا کھانا مناسب نہ لگا ۔ یوں بھی بھوک پیاس برداشت کرنا ہم سنائپرز کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے ۔کئی کئی دن بھوکا پیاسا رہنے والوں کو چند گھنٹے کی بھوک کبھی نہیں ستاتی ۔گھنٹے بھر کی تگ و دو کے بعد میں بلندی پر پہنچ گیا تھا ۔اتنی سردی کے باوجود اس سخت چڑھائی پرمجھے اچھا خاصا پسینہ آگیا تھا ۔چوٹی پر بیٹھ کر میں سستانے لگا ۔اس کے ساتھ ہی میری نظریں سامنے کی جانب اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں رہیں ۔پیچھے رستے میں مجھے چند ویران گھرملے تھے ۔ایک چھوٹی سی آبادی سے بھی میں گزرا تھا ۔اب سامنے کافی دور ایک وادی جیسی نظر آرہی تھی جہاں کافی مکان دکھائی دے رہے تھے ۔شمریز خان کی معلومات کے مطابق جہاں تک میرا اندازہ تھا یہ خان کلے کی آبادی تھی ۔اس اونچی پہاڑی اور خان کلے کی آبادی کے درمیان کوئی خاص بڑی پہاڑی تو نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس کے باوجود میں جانتا تھا کہ وہاں تک پہنچنے ہوئے شام کا اندھیرا چھا جانا تھا ۔
چند لمحے سستا کر میں آگے بڑھ گیا ۔دوسری جانب اترائی کافی آسان تھی ۔نیچے اترتے ہوئے خود بہ خود میرے قدموں میں تیزی آگئی تھی ۔اس بلند پہاڑی پر چڑھتے ہوئے مجھے دو اڑھائی گھنٹے لگے تھے اور نیچے میں آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے کی تہہ میں پہنچنے سے پہلے ہی مجھے ایک چشمہ نظر آگیا تھا ۔وہیں پتھر کی ایک بڑی چٹان پر اپنا سفری تھیلا رکھ کر میں نے چشمے کے پانی سے وضو کیا ،خوب سیر ہو کر پانی پیا اور دو رکعت عصرکے (سفرکی وجہ سے)پڑھ کر کھانا کھانے بیٹھ گیا ۔ظہر کی نماز میں تیمم کر کے پیچھے ہی ادا کر چکا تھا ۔
گلگارے نے دال کے پراٹھوں کے درمیان تازہ مکھن ڈال دیا تھا ۔ٹھنڈے ہونے کے باوجود ان پراٹھوں سے اٹھنے والی دیسی مکھن اور خلوص کی مہک میرے رگ و پے میں اتر گئی تھی۔ گلگارے نے چار پراٹھے باندھے تھے ،مگر میں بہ مشکل دو ہی کھا سکا تھا ۔باقی دو میں نے رات کے لیے رکھ چھوڑے ۔کھانے کے بعد مجھے چاے کی طلب محسوس ہوئی ،برف پڑنے کی وجہ سے زمین پر بکھری ہوئی لکڑیاں تو گیلی ہو گئی تھیں ،مگر خشک درختوں کے ساتھ لگی ہوئی ٹہنیاں وغیرہ جلانے کے قابل تھیں ۔
ضرورت کے بہ قدر لکڑیاں توڑ کر میں نے آگ جلائی اور چاے بنانے لگا ۔ایک پیالی چاے بنانے میں اتنی دیر نہیں لگی تھی ۔پہلا گھونٹ بھرتے ہی میرے منھ میں بدمزگی سی پھیل گئی تھی ۔پچھلے چار پانچ دنوں سے میں مسلسل تازہ دودھ کی بنی ہوئی بہترین دودھ پتی پیتا رہا تھا اب ایک دم ملک پاﺅڈر کی بنی چاے نے اس اعلاچاے کا ذائقہ یاد دلا دیا تھا ۔ایک مخلص بہن کے ہاتھ کی بنی ہوئی چاے کا مقابلا بھلا وہ روکھی پھیکی اور بد مزہ چاے کہاں کر سکتی تھی ۔
چاے پی کر میں نے بوتلیں چشمے کے تازہ پانی سے بھریں اور تیار ہو کر آگے بڑھ گیا ۔ایک بار پھر نالے کا ہموار سفر شروع ہو گیا تھا ۔تھوڑا ساآگے بڑھتے ہی کلاشن کوف کی تڑتڑاہٹ میرے کانوں میں گونجی ۔کسی نے ٹریگرمکمل دبا کر ایک لمبا برسٹ فائر کیا تھا ۔فائر کی آواز سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ہوائی فائر کیا گیا ہے ۔اور ایسے ہوا میں کلاشن کوف کا برسٹ فائر کرنا یا تو کسی خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے جیسے ،عید وغیرہ کا چاند دیکھ کر فائر کرنا یا شادی وغیرہ میں شغل کرنا اور دوسری صورت میں کسی کو للکارنے کے لیے یوں ایک لمبا برسٹ ہوا میں پھونک دیا جاتا ہے ۔البتہ یہ بھی ممکن تھاکہ کسی احمق نے یونھی بہ طور شغل یہ حرکت کی ہوتی ،مگر ایسا ہونے کا امکان ذرا کم ہی تھا ۔
میں نے رفتار کم کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔تھوڑی دیر بعد ہی مجھے اپنا دوسرا اندازہ ٹھیک ہوتا دکھائی دیا کہ وہ برسٹ بہ طور اعلان جنگ تھا ۔پرانے زمانے میں جنگ کا اعلان نقار ہ بجا کر یا سینگ پھونک کر کیا جاتا تھا ،فی زمانہ کلاشن کوف کے برسٹ ہی نے اعلان جنگ کی جگہ سنبھال لی ہے ۔اچانک ہی ایک سے زیادہ ہتھیاروں کے دھانے کھل گئے تھے ۔وہ فائر دو تین کلومیٹر دور ہی ہورہاتھا ۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ میں اسی طرح چلتا رہا تو ان مقابلہ کرنے والوں میں جا پھنسوں گا ۔ اس سوچ نے مجھے قدم روکنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
مجھے زیادہ دیر سوچ میں مبتلا نہیں رہنا پڑاتھاکہ دو آدمی مجھے نالے موڑ سے نمودار ہو کر اپنی جانب آتے دکھائی دیے ۔دونوں خالی ہاتھ ہی لگ رہے تھے ۔اس کے باوجود میں نے کلاشن کوف کندھے سے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لی تھی ۔ان میں ایک ادھیڑ عمر اور دوسرا جواں سال لڑکا ہی تھا ۔شکلوں کی شابہت سے دونوں مجھے باپ بیٹا ہی لگ رہے تھے ۔باپ نظر آنے والے نے ۔”اسلام علیکم!....“ کہتے ہوئے پوچھا۔”ہلکا چرتہ زئے ،دلے مہ زہ ۔“(او لڑکے کہاں جا رہے ہو ،اس طرف مت جاﺅ ۔“
میں فوراََ پوچھا ۔”ولے سہ چل دے؟“(کیوں کیا ہوا ۔)
وہ میرے قریب رک کر اپنے چڑھے سانس درست کرتا ہوا بولا ۔”غزنی خیل اور شلوبر قبیلہ برسر پیکار ہیں ۔جوانب کے آدمی تمھیں مخالف قبیلے کا سمجھ کر قتل ہی نہ کر دیں ۔“وہ شاید بھاگ کر نالہ موڑ تک پہنچے تھے اوراب وہاں سے تیز قدموں سے چلتے ہوئے مجھ تک پہنچے تھے ۔
میں نے پوچھا ۔”یہ سامنے کون سا گاﺅں ہے ؟“
اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”اگر آپ کو اتنا نہیں معلوم تو ادھر کیوں جا رہے ہو ۔“
”میں نے تو خان کلے جانا تھا ۔“
”خان کلے تو اس جگہ سے آٹھ دس کلومیٹر دور شمال کی جانب پڑتاہے ۔“اس نے شمال کی جانب ہاتھ کا بھی اشارہ کیا تھا۔
میں نے دوبارہ پوچھا ۔”ویسے یہ گاﺅں ہے کون سا۔“
”شلوبر ....جن پر غزنی خیلوں نے چڑھائی کر دی ہے ۔“
”کیوں ؟“میں مستفسر ہوا ۔
”کسی لڑکی کا چکر ہے ،شلوبر قبیلے کا جوا ن ،غزنی خیل قبیلے کی ایک ایسی لڑکی کو بھگا لایا ہے۔ جس کے باپ نے اپنی بیٹی کا رشتا پشاور میں کسی دوست کے بیٹے سے طے کیا ہوا تھا۔غزنی خیل والوں کو معلوم ہو گیا کہ لڑکی کس کے ساتھ بھاگی ہے ۔اب شلوبر والے اس لڑکی کے بدلے منھ مانگی رقم دینے کو تیار ہیں مگر وہ اپنی لڑکی اور اسے بھگانے والے جوان کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔“
”مطلب دونوں کو قتل کرنے کے لیے ؟“میں نے اندازہ لگایا ۔
”جی جناب ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اب آپ بھی اس رستے کو نظر انداز کر دیں ، یہ نہ ہو خواہ مخواہ کسی اندھی گولی کا شکار بننا پڑ جائے ۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی ۔”ویسے کیا یہاں سے پاکستان میں بھی لڑکیوں کے رشتے کیے جاتے ہیں ۔“
اس نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”اللہ کے بندے ،آدھا افغانستان تو پاکستان میں موجود ہے۔باقی اپنے ہاں تو لڑکی کا سودا کیا جاتا ہے جس نے زیادہ رقم پھینکی وہ لے گیا ۔“
”تو شلوبر والے بھی تو رقم دے رہے ہیں ۔“
”پہلی بات یہ کہ دشمن قبیلے سے رشتے نہیں کیے جاتے اور دوسرا شلوبرکے جوان نے لڑکی کو بھگا کر پورے غزنی خیل کی عزت اچھالی ہے اور اس کا حل توایک ہی ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”آپ کہاں جا رہے ہیں ؟“
”یہاں سے قریباََ چارکلومیٹر جنوب کی جانب ہمارا گاﺅں ہے شنہ وُنّہ۔ہمارے ساتھ چلنا ہے تو آجاﺅ۔“
میں نے پہاڑوں کے پیچھے چھپتے ہوئے سورج کو دیکھا ،غروب آفتاب میں بیس پچیس منٹ ہی باقی تھے ،رات گزارنے کے لیے وہی جگہ مناسب تھی ،شنہ ونہ جا کر یونھی سفر کی طوالت میں اضافہ ہی ہونا تھا ۔رات کے کھانے کے لیے میرے پاس پراٹھے موجود تھے ،سونے کا بستر میں نے پیٹھ پر لادا ہوا تھا ، تو خواہ مخواہ آنے جانے کا آٹھ دس کلومیٹر فاصلہ کیوں طے کرتا ۔یوں بھی پہاڑی علاقوں میں ایک کلومیٹر فاصلہ طے کرتے ہوئے دانتوں پسینہ آجاتا ہے ۔
”آپ کا بہت شکریہ ۔“میں نے انھیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ۔اور وہ کندھے اچکاکر بیٹے کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔میں وہیں کھڑا انھیں دیکھتا رہا ۔وہ اسی اونچی پہاڑی پر چڑھ رہے تھے جہاں سے میں اترا تھا ۔
فائرنگ کی آواز میں دم بہ دم اضافہ ہو رہا تھا ۔ایک ساتھ کئی کلاشن کوفیں گرج رہی تھیں ۔اور پھر ان تمام آوازوں پر 12.7ایم ایم کی آواز بھاری پڑ گئی ۔جانے وہ تباہی پھیلانے والا ہتھیار کس کے پاس تھا ۔تھوڑی دیر بعد دو12.7ایم ایم گرجنے لگیں ۔معلوم یہی پڑتا تھا کہ دونوں جانب وہ ہیوی گن موجود تھی ۔یا کسی ایک قبیلے کے پاس دو گنیں موجود تھیں ۔اسی گن گرج میں راکٹ لانچر کے دھماکے بھی سنائی دینے لگے ۔لگتا تھا دو قبیلوں کے بجائے دو ممالک کی فوجیں سرحد پر برسرپیکار ہوں ۔میں وہیں دائیں بائیں گھوم کر شب بسری کے لیے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈنے لگا ۔جلد ہی ایک جھکی ہوئی چٹان کے نیچے مجھے مناسب جگہ نظر آگئی تھی ۔اندھیرا چھانے سے پہلے میں جگہ صاف کر کے رات کو جلانے کے لیے ایندھن اکٹھا کر چکا تھا ۔
کھانا میں نے عشاءکی نماز پڑھ کر ہی گرم کرنا شروع کیا ۔دن کاکھانا دیر سے کھانے کی وجہ سے مجھے کوئی خاص بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی ،لیکن پراٹھوں کو گرم کرنے پر وہ مجھے اتنے لذیز لگے کہ میں دونوں ٹھونس گیا ۔اس طرف برف باری نہ ہونے کے برابر ہوئی تھی ۔پیچھے جو بڑی پہاڑی میں عبور کر کے آیا تھا برف باری کا زور وہاں تک ہی رہا تھا ۔یقینا اس طرف بلندی کم تھی اس وجہ سے برف نہیں ہوئی تھی۔سردی البتہ کافی زیادہ تھی ۔دسمبر لگنے والا تھا اور سردی نے مزید بڑھنا تھا ۔میدانی علاقوں میں لوگ سردی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور یہاں سردی نہ صرف تکلیف و اذیت کا باعث بنتی ہے بلکہ کاروبار زندگی بھی معطل کر دیتی ہے ۔یوں بھی جب یہاں کی گرمی میدانی علاقے کی سردی کے برابر ہوتی ہے تو سردی کا اندازہ خود کر لیں ۔
آگ پر اچھی طرح لکڑیاں ڈال کر میں سلپنگ بیگ میں گھس گیا ۔وہ سلپنگ اچھا خاصا گرم تھا مگر اس سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے بیرونی امداد کی بھی ضرورت تھی ،اس لیے سلپنگ بیگ میں گھستے وقت میں نے گرم کوٹ پہنے رکھا تھا ۔اس کے ساتھ آگ نے بھی اس چھوٹی سی پناہ گاہ کو اچھا خاصا گرم کر دیا تھا ۔مجھے نیند آتے دیر نہ لگی ۔حالانکہ کسی نئی جگہ پر نیند بہت مشکل سے آتی ہے ۔مجھے آج تک یاد ہے کہ جب میں بھرتی ہو کر ٹریننگ سنٹر پہنچا تھاتو ساری رات جاگتا رہا تھا ۔پھر آہستہ آہستہ ایسا عادی ہوا کہ اب جنگل ،بیابان ،صحرا، پہاڑ، پرائے دیس اور بیگانے علاقوں میں مجھے سونے میں کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا تھا ۔اس وقت بھی اس چٹان کے نیچے میں یوں سو گیا جیسے عام لوگ اپنی خواب گاہ میں بے فکر ہو کرسوتے ہیں ۔حالانکہ جن حالات اور جیسے علاقے میں میں محو سفر تھا وہاں کچھ ہوتے دیر نہیں لگتی اور ہوا بھی وہی ۔
میں صبح تک کا ارادہ لے کر سویا تھا ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ہی چھاپہ پڑ گیا۔
ان کی تعداد پانچ تھی ۔تمام مسلح تھے ۔آنکھیں کھلتے ہی مجھے پانچ کلاشن کوفیں اپنی جانب تنی نظر آئی تھیں ۔
”جی ،آپ لوگ کون ہو اور کیا چاہیے ؟“گو میں گہری نیند سے جاگا تھا ،مگر میری تربیت اس نہج پر کی گئی تھی کہ آنکھ کھلتے ہی مجھے ماحول کا ادراک ہو جاتا تھا ۔مجھے ایک سیکنڈ کے لیے بھی یہ یاد کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ میں کہاں ہوںاور مجھ سے دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر موجوددو قبائل برسرپیکار ہیں۔
ان میں سے ایک طنزیہ لہجے میں بولا ۔”ہم وہی ہیں جن کا شکار کرنے تم آئے تھے اور اب خود ہمارے شکنجے میں آ گئے ہو ۔“
”میں مسافر ہوں جناب اور کسی کا شکار کرنے نہیں آیا ہوں ۔“
”جھوٹ مت بولو ۔“اس مرتبہ بھی وہی آدمی بولا تھا ۔
”محترم مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ،میں خان کلے جا رہا تھا رستا بھول کر اس طرف آنکلا،سہ پہر ڈھلے یہاں پہنچا تو تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی ۔یہاں سے گزرنے والے ایک شریف آدمی نے بتا دیا کہ دو قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی ہے اور یہ کہ خان کلے اس جانب واقع نہیں ہے ،پس مجھے آگے جانا مناسب نہ لگا یوں بھی میں دن بھر کا تھکا ہوا تھا سوچا رات کو آرام کر لوں صبح خان کلے کی راہ ناپوں گا ۔“
”کہانی اچھی ہے ،مگر تمھارا فیصلہ مشر کرے گا ۔“
”بھائی جان، براہ مہربانی مجھے بے آرام نہ کرو ،مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کس قبیلے کے ہیں ۔“
”بھولے بادشاہ ،ہم اسی قبیلے کے ہیں جس کی تاک میں تم یہاں گھات لگا کر رات گہری ہونے کا انتظار کر رہے ہو.... شلوبر قبیلے کے کسی حلیف کو یوں باتیں نہیں بنانا چاہئیں۔پچھلی لڑائی میں تمھارے دو تین آدمیوں نے چھاپہ مار کر ہمارا کافی نقصان کیا تھا ،اس مرتبہ ہم ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے ۔ کیونکہ ہم سارے رستوں کی نگرانی کر رہے ہیں ۔“اس کی بات سنتے ہی مجھے ساری کہانی پتا چل گئی تھی ۔وہ غزنی خیل قبیلے کے لوگ تھے اور رات کے وقت پہاڑی نالوں اور ایسے رستوں پر گشت کر رہے تھے جہاں سے شلوبر قبیلے کے لوگ چھپ کر ان کے پڑاﺅ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے انھیں کوئی نقصان پہنچا سکتے تھے ۔اور ایسا غالباََ ان کی پچھلی لڑائی میں بھی ہوا تھا ،جس کا حوالہ مجھ سے بات کرنے والا آدمی دے چکا تھا ۔
”ایسا کچھ نہیں ہے ۔“میں نے نرمی سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی ۔
”ٹھیک ہے ،ہمارے مشر کو مل لو پھر اس کی مرضی جو فیصلہ وہ کرے گا ۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا ۔”وہ بھی تو آپ کا مشر ہے ۔“
”زیادہ باتوں کی ضرورت نہیں ،تم ہمارے پڑاﺅ سے کلومیٹر بھر کے فاصلے پر مسلح حالت میں موجود ہومیں تم پر اعتبار نہیں کر سکتا ۔“
میں نے زچ ہو کر کہا ۔”میرا لہجہ ،زبان اور شکل یہ واضح نہیںکر رہے ہیں کہ میں یہاں پر بالکل اجنبی ہوں ۔“
”تو ....؟“اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے ۔
”تو یہ کہ مجھے بے آرام نہ کرو جناب۔“
”کہہ دیا نا کہ اس کا فیصلہ مشر کرے گا اور بے آرمی کیسی تھوڑا سا تو فاصلہ ہے تم وہاں ہمارے پڑاﺅ میں بقیہ رات گزار لینا صبح ناشتا کر وا کر ہم خان کلے کی جانب تمھاری رہنمائی کر دیں گے۔“
میں جھلاتے ہوئے سلپنگ بیگ سے باہرنکلا اور اپنا سامان سمیٹنے لگا ۔ان سے متھا مارنا، وقت کا ضیاع ہی تھا ۔یقیناوہ سردار کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے مجھے اس کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا ۔ میرے سامان سمیٹنے کے دوران وہ ٹارچ روشن کر کے میری کارروائی کا جائزہ لیتے رہے ۔میری کلاشن کوف البتہ انھوں نے اپنے قبضے میں کر لی تھی ۔سفری تھیلا تیار کر کے میں نے پیٹھ پر لادا اور ان کی معیت میں چل پڑا ۔ایک آدمی میرے آگے اور باقی پیچھے چلنے لگے ۔گو میرے پاس تیس بور پستول موجود تھا اورجس بے پروائی سے وہ چل رہے تھے میں چاہتا تو ان پانچوں کو لاشوں میںتبدیل کر سکتا تھا ،مگر کسی بے گناہ کو قتل کرنا مجھے گوارا نہیں تھا ۔وہ غلط فہمی میں مبتلا تھے اورمجھے قوی امیدتھی کہ ان کا سردار مجھ سے بات کرنے والے کی طرح احمق نہیں ہو گا ۔
کچھ دیر نالے میں چلنے کے بعد وہ ترچھا ہوکر نالے کے دائیں جانب موجود ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔پانچوں بے فکر ہو کر گپ شپ کرتے جا رہے تھے ۔ان کے انداز سے بھی یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ دل ہی دل میں وہ بھی مجھے غیر متعلق شخص سمجھ رہے ہیں ۔ہمارا سفر بتدریج اوپر کی جانب جاری رہا ۔ ادھ پون گھنٹے میں ہم بلندی پر پہنچ کر نسبتاََ ہموار رستے پر چلنے لگے ۔اس دوران ان کے مورچے شروع ہو گئے تھے ۔لوگوں کے باتیں کرنے کی آواز سے پتا چل رہا تھا کہ وہ چوکنا تھے ۔سردی سے مقابلے کے لیے انھوں نے جا بہ جا چھوٹے چھوٹے آلاﺅ روشن کیے ہوئے تھے ۔ایک دو آدمی نے قریب آکر ان سے حال بھی پوچھا تھا ۔اور ان کی آپس کی بات چیت سے مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے وہاں لانے پر اصرار کرنے والے کا نام روشن خان ہے ۔اس سے پہلے بھی ایک روشن خان مجھے ٹکرا چکا تھا جو قبیل خان کا کمانڈر تھا ۔
جلد ہی ہم غزنی خیل کے مشر کے سامنے موجود تھے ۔وہ جس جگہ بیٹھا تھا اس کے تین اطرف میں پتھروں کی دو اڑھائی فٹ دیواریں اٹھائی گئی تھیں ،صرف شمال کی جانب آنے جانے کا رستا رکھا گیا تھا ۔شلوبر قبیلہ اس جگہ سے جنوب مغرب کی طرف موجود تھا ۔
غزنی خیل کے سردار کا نام سیلاب خان تھا ۔اس کی عمر چالیس سے پینتالیس سال کے درمیان دکھائی دے رہی تھی ۔اس کے مورچے میں بھی آگ کا بڑا سا الاﺅ روشن تھا اور اس کے ہمراہ پانچ چھے اور آدمی بھی موجود تھے ۔روشن خان کی بات سننے سے پہلے اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ایک آدمی کو قہوہ لانے کا کہا ۔
میں نے الاﺅ کے گرد پڑے ہوئے ایک پتھر پر نشست سنبھالتے ہوئے ۔”شکریہ ۔“کہا اور خود ہی تفصیل بتلانا شروع کر دی ۔میری کہانی میں کوئی ایسا جھول نہیں تھا کہ مجھ پر شک کیا جاسکتا ۔ سردار سیلاب خان نے میری بات غور سے سنی اور اختتام پر معذرت کرتے ہوئے بولا ۔
”اپنے آدمیوں کی طرف سے میں معافی چاہتا ہوں کہ غلط فہمی کی وجہ سے آپ کو اتنی زحمت اٹھانا پڑ گئی ۔بہ ہرحال جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا ،اب آپ یہیں آرام کریں ،صبح ہم خان کلے کی جانب آپ کی رہنمائی کر دیں گے ۔“یہ کہہ کر وہ روشن خان کی طرف متوجہ ہوا۔
”روشن خان !....تم اتنے بچے تو نہیں ہو کہ دشمن کو نہ پہچان سکو ۔ہم پر حملہ کرنے والانہ تو اکیلا ہوگا اورنہ اپنے ساتھ بستر اور ضرورت کا سامان پھرا رہا ہوگا۔تمھاری اس حرکت سے ایک شریف آدمی کو اتنی زیادہ تکلیف اٹھانا پڑی ۔اب جاﺅ اور دوبارہ کسی ایسے آدمی پر ہاتھ نہ ڈالنا ۔“
”جی سردار ۔“وہ دھیمے لہجے میں کہتا ہوا مورچے سے باہر نکل گیا ۔میرے بات کرنے کے دوران ہی ایک آدمی میرے لیے قہوہ لے آیا تھا ۔اورانھی باتوں کے درمیان ہی قہوے کی پیالی خالی کر کے میں نے نیچے رکھ دی تھی ۔
روشن خان کے جانے کے بعد سردار نے مجھ سے کھانے کی بابت دریافت کیا اور میرے انکار کرنے پر مجھے اسی مورچے میں آرام کرنے مشورہ دیتے ہوئے کہا ۔
”باقی گپ شپ صبح کریں گے ۔“
میں نے ممنونیت بھرے انداز میں سرہلایااور اپنے سفری تھیلے سے سلپنگ بیگ نکالنے لگا ۔ آگ کی وجہ سے وہاں خوشگوار حدت پھیلی ہوئی تھی ۔ایک آدمی ہر چند منٹ بعد آلاﺅ پر اور لکڑیاں ڈال کر آگ کو بجھنے نہیں دے رہا تھا ۔
بستر میں گھس کر میں سونے کی کوشش کرنے لگا ،مگر شاید سونا میری قسمت میں نہیں تھا ۔مجھے لیٹے ہوئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی مورچے میں داخل ہوا ۔اس کے پھولے سانسوں سے مجھے سلپنگ بیگ کے اندر پڑے ہوئے اندازہ ہوگیا کہ وہ وہاں تک دوڑتا ہوا پہنچا تھا ۔
”خیر تو ہے ضمیر خان ۔“اس کے سانسوں پر قابو پانے تک سردار سیلاب خان اس سے استفسار کر چکا تھا ۔
”سردار !....ہمیں گھیر لیا گیا ہے ۔میں نے ابھی مخابرے پر ان کی بات چیت سنی ہے ۔“
”گھیر لیا گیا ہے ۔“سیلاب خان نے حیرانی سے کہا ۔”اکبر خان دماغ جگہ پر ہے ،شلوبر گاﺅں کی افرادی قوت اتنی تو نہیں ہے کہ وہ ہمیں چاروں طرف سے گھیر سکیں ۔“
اکبر خان وثوق سے بولا۔”میام خیل قبیلے کے چنگیزی ان کے ساتھ ہیں سردار!.... چنگیزیوں نے شمالی اور مشرقی جانب سے گھیرا ڈالا ہے ،جنوب اور مغرب میں شلوبر قبیلہ ہے ۔ان کے علاوہ چنگیزی سردار نے کچھ ازبک اور تاجک دوستوں کو بھی ساتھ ملا لیا ہے ۔“
”جھوٹ بول رہے ہوں گے ۔“سردار سیلاب کے لہجے میں شامل اندیشے اس کے اعتماد کی عمارت کے زمین بوس ہونے کا مژدہ سنا رہے تھے ۔
اسی وقت سیلاب خان کو کسی نے ریڈیو سیٹ پر آواز دی ۔”سردار ہمیں شمال کی طرف کچھ حرکت نظر آرہی ہے ،کیا اپنے آدھے آدمیوں کو اس طرف بٹھا دیں ۔“
”ہاں بٹھا دو ۔“سیلاب خان نے مزید استفسار کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔
”سردار ،مشرقی جانب بھی حرکت دیکھی جا رہی ہے ۔“یہ کوئی دوسرا آدمی تھا ۔
سیلاب خان کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک دم تیز فائر کھل گیا تھا۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی آوازچاروں طرف سے آ رہی تھی ،گویا اکبر خان کی بات مبنی بر حقیقت تھی ۔مجھے غزنی خیل قبیلے سے کوئی ہمدردی نہیں تھی مگر میں مفت میں گھیرے میں آگیا تھا ۔اب شلوبر یا چنگیزیوں کو یہ باور کرانا کہ میں ان کا ساتھی نہیں ہوں ناممکنات میں سے تھا ۔کیونکہ میں ان کے ساتھ ایسی جگہ موجود تھا جہاں وہ شلوبر قبیلے سے مقابلہ کرنے اکٹھے ہوئے تھے ۔اور یوں بھی بات چیت کی نوبت آنے سے پہلے ہی کوئی گولی میرا پتا پوچھ سکتی تھی ۔جنگ کے دوران استفسارنہیں کیا جاتا اور نہ صفائیاں سنی جاتی ہیں ۔روشن خان میرے لیے نہایت منحوس ثابت ہوا تھا ۔اس کی بے وقوفی مجھے اس حال تک لے آئی تھی کہ جان کے لالے پڑتے دکھائی دے رہے تھے ۔میں سلپنگ بیگ سے باہر نکل آیا کہ اب لیٹے رہنے کی کوئی ضرورت اور گنجائش باقی نہیں بچی تھی ۔اپنا سامان دوبارہ سفری تھیلے میں ٹھونس کر میں اس خطرناک صورت حال سے جان چھڑانے کی تجویز سوچنے لگا ۔افغانستان کی زمین میرے لیے کچھ زیادہ ہی بھاری ثابت ہورہی تھی ۔
جاری ہے ۔
 

سردار سیلاب خان ریڈیو سیٹ پر اپنے آدمیوں سے رابطے کررہا تھا ۔وہاںبیٹھے باقی آدمی فائرنگ کے شروع ہوتے ہی اپنے اپنے مورچے میں چلے گئے تھے ۔
”سردار!....فائرنگ ہو رہی ہے بیٹھ کر بات کرلو ۔“وہ بات کرتے ہوئے بے چینی سے ٹہل رہا تھا ۔میری بات سنتے ہی ،اس نے بے دھیانی میں سرہلایا اور آگ کے قریب بیٹھ گیا ۔مختلف اطراف سے اسے مسلسل خبریں مل رہی تھیں ۔
”سردار! وہ قریب نہیں آرہے ،بس دور دور سے فائر کر رہے ہیں ۔“
سیلاب خان نے کہا۔”ٹھیک ہے ،جب تک قریب نہیں آتے ،اپنی گولیاں ضائع نہ کرو بس اکا دکا گولی چلا کر ان کے قریب آنے کا انتظار کرو ۔“
فائرنگ کا یہ سلسلہ گھنٹا بھر جاری رہا تھا ،اس کے بعد ایک دم خاموشی چھا گئی تھی ۔لگ رہا تھا جیسے شلوبر اور ان کے حلیفوں نے بس غزنی خیل قبیلے کو یہ یقین دلانے کے لیے فائرنگ شروع کی تھی کہ وہ گھیرے میں آگئے ہیں ۔
فائرنگ کے رکتے ہی ماحول میں عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی ،ایک ایسی خاموشی جس کی تہہ میں کئی قسم کے طوفان پوشیدہ تھے ۔رات کی تاریکی میں بغیر نشانہ لیے فائر کرنے والے دن کو انھیں چن چن کر نشانہ بناسکتے تھے کہ وہ چاروں طرف سے گھیرے میں تھے ۔اور اس گھیرے سے ان کا کوئی بندہ باہر نہیں نکل سکتا تھا ۔البتہ اس پہاڑی کی دفاعی صورت حال کا اندازہ میں روشنی ہونے پر ہی کر سکتا تھا۔
”جوان ،میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں آپ کو روشن خان کی وجہ سے اتنی زحمت اٹھانا پڑی ،بلکہ اب تو آپ بھی ہمارے ساتھ پھنس ہی گئے ہیں ۔“مجھے سوچوں میں گم پا کر سیلاب خان معذرت کرنے لگا۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کسی کو کوسنے سے تو مسئلہ حل نہیں ہو سکتا نا ۔“
”یہی تو دکھ ہے کہ اس کا ازالہ اب نہیں ہو سکتا ،ہمارے دو دشمن قبیلے یکجا ہو گئے ہیں ان کے ساتھ کچھ ازبک اور تاجک دہشت گرد بھی مل گئے ہیں ،یقینا ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا ۔“
”سردار !....اگر میں ابھی یہاں سے نکل جاﺅں ۔“میں نے مشورہ مانگا ۔
”یقینا ہمارے ساتھ رہنے میں آپ کی جان کو خطرہ ہے اوراس وقت یہاں سے جانے کا مطلب خودکشی کرنا ہی ہوگا۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”خودکشی ہویا لڑائی ، انجام دونوں کا موت ہی ہوتا ہے ۔“
”جنگ میں تمام ہارنے والے مر نہیں جایا کرتے ۔“
میں نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”دشمن کے آگے گھٹنے ٹیک کر جسم کو مردہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے روح کو نہیں ۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”مہلت کے حصول کے لیے گھٹنے ٹیکنا مصلحت کہلاتا ہے روحانی موت نہیں ۔“
”اگر میں پکڑا گیا تو یقینا انھیں مطمئن کر لوں گا ۔“فلسفیانہ گفتگو کو چھوڑ کر میں اصل موضوع کی جانب پلٹا۔
”ہمارے ساتھ کچھ پشاور کے مہمان بھی موجود ہیں ،جن کی بابت ہمارے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں ۔“
”کیا مطلب ؟“اس کا واضح جواب سن کر بھی میں جلدی میں پوچھ بیٹھا تھا ۔
وہ اطمینان سے بولا۔”مطلب یہ کہ وہ آپ کو بھی ہمارا دوست سمجھیں گے ،جبکہ آپ کا لہجہ اور زبان اس بات کی تصدیق کرے گا ۔“
میں بے بسی سے سر ہلا کر رہ گیا تھا ۔
”اچھا اپنی جان بچانے کے لیے کوئی فائر وغیرہ کر لو گے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”کسی بے گناہ کی جان لینا مجھے گوارا نہیں ہے ۔ان میں سے کوئی بھی میرا دشمن نہیں ہے ۔بلکہ دیکھا جائے تو ان سے زیادہ میرے دشمن غزنی خیل کے وہ افراد ہیں جن کی وجہ سے مجھے اس جان لیوا صورت حال میں پھنسنا پڑا ۔“
سیلاب نے مدافعانہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا ۔”آپ کچھ زیادہ ہی غلط سوچنے لگے ہیں ۔“
”آپ کامیری سوچ کو غلط قرار دینا ظاہر کر رہا ہے کہ آپ نہایت ہی سیدھے سادھے آدمی ہیں اور اتنے سیدھے آدمی کوسرداری نہیں جچتی۔“
وہ جھینپتے ہوئے بولا۔”طنز اچھا کر لیتے ہو ۔“
”ایسی صورت حا ل میں طنز کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے ۔“
”میرا خیال میں ہم نے آپ کو جان بوجھ کر نہیں پھانسا ۔یہ صورت حال تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی ۔“
اس کے مسلسل معذرتی رویے نے میرے دل سے کدورت دور کر دی تھی ۔میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”جانتا ہوں ،یہ خورای مقدر میں لکھی تھی ،روشن خان غریب تو بہانہ ہی بن گیا ۔“
”یہ روشن خان کی پارٹی اب تک واپس کیوں نہیں لوٹی ....“میرے منھ سے روشن خان کا نام سنتے ہی اسے اپنی گشت کرنے والی پارٹی کا خیال آیا ۔خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ ریڈیو سیٹ پر انھیں پکارنے لگا ۔مگر کافی دیر پکارنے کے بعد بھی اسے جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
میں نے کہا ۔”آپ نے دیر کر دی سردار!....دشمنوں کے گھیراﺅ کی خبر ملتے ہی انھیں بلا لینا چاہیے تھا۔“
وہ پریشانی کے عالم میں بولا۔”میرے دھیان ہی میں نہیں رہا تھا ۔“
”میدان جنگ میں سرداروں کو ایسی بے دھیانیاں راس نہیں آیا کرتیں ۔“
”جوان آپ اپنی عمر سے بہت بڑی باتیں کر رہے ہیں ۔“اس کے لہجے میں طنز یا غصے کے بجائے حیرانی تھی ۔
”حکمت عمر نہیں تجربے سے آتی ہے سردار۔“
”ہونہہ۔“اس نے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا ۔”کافی تجربے کار دکھتے ہو۔“
اچانک ریڈیو سیٹ بول اٹھا کسی نے ہیجان خیز لہجے میں سردار کو پکارتے ہوئے انکشاف کیا ۔ ”سردار!....روشن خان اور صغیر واپس لوٹ آئے ہیں ....دونوں شدید زخمی ہیں ۔اور روشن خان نے بتایا ہے کہ ان کے تین ساتھی باقی نہیں رہے ۔“
”دونوں کی مرہم پٹی کرو میں وہیں آرہا ہو ں۔“یہ کہتے ہوئے وہ محتاط انداز میں چلتا ہوا مورچے سے باہر نکل گیا ۔جبکہ میں نے پاﺅں پسارتے ہوئے اپنی کلاشن کوف گود میں لی اور سفری تھیلے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔غزنی خیل والے کافی گھمبیر صورت حال کا شکار ہو چکے تھے ۔ان کے مقابلے میں دو حلیف قبیلے اور خاصی تعداد میں ازبک تاجک دہشت گرد اکٹھے ہوچکے تھے ۔اور ان تمام کے ساتھ تنہا مقابلہ کرناان کے بس سے باہر تھا ۔ یقینا اس گندم کے ساتھ میں نے بھی گھن کی شکل میں پس جانا تھا اور ان سوکھی لکڑیوں کے ساتھ میں نے گیلا ہوکر بھی جل جانا تھا ۔سیلاب خان کے لوٹنے تک میں ان حالات سے جان چھڑانے کی کوئی معقول تجویز سوچتا رہا ۔کوئی ایسا طریقہ جس سے سانپ مار کر بھی میں لاٹھی بچا لیتا ،کوئی ایسی ترکیب کہ آسمان سے چھلانگ لگاتے وقت میں کھجور میں نہ اٹکتا ،کوئی ایسا حل کہ وہ زبردستی کی بلا میرے سر سے ٹل جاتی ،کوئی ایسا ٹوٹکاکہ طویلے کی بلا، بندرکے سر نہ پڑتی ۔
میری سوچوں میں سیلاب خان مخل ہوا تھا ۔اس کے ہمراہ چار آدمی اور بھی تھے ۔مورچے میں جلتا ہوا الاﺅ بجھ چکا تھا بس تھوڑے بہت انگارے دمک رہے تھے ۔فائرنگ ہونے کے بعد کوئی اس پر مزید لکڑیاں نہیں ڈال سکا تھا ۔سردار کے ساتھ آنے والے آدمیوں میں سے ایک نے سردار کے کہے بغیر کافی ساری خشک لکڑیاں اٹھا کر بجھتے ہوئے انگاروں پر پھینکیں ۔اور آگ بھڑکانے لگا ۔
سردار باقیوں کے ساتھ محو گفتگو ہو گیا ۔وہ تمام قبیلے کے مشر تھے ۔ان کی گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ روشن خان کے ساتھ گشت پر جانے والوں میں تین آدمی مارے گئے تھے ۔روشن خان اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مشکل سے جان بچا کر وہاں تک پہنچا تھااوراب اس کی اپنی حالت کافی تشویش ناک تھی ۔اس کے علاوہ ایک اور آدمی بھی معمولی سا زخمی ہوا تھا ۔بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اب ان کی رسد کی راہیں بند ہو گئی تھیں ۔نہ تو وہ مزید ایمونیشن منگوا سکتے تھے اور نہ کھانے پینے کا سامان ان تک پہنچ سکتا تھا ۔صلح کی گنجائش بھی ختم ہو گئی تھی ایسے حالات میں شلوبر قبیلے کے افراد ایسی کڑی اور شرمندہ کر دینے والی شرائط پیش کرتے جو، ان کے لیے کبھی بھی قابل قبول نہ ہوتیں ۔
وہ اس صورت حال سے نمٹنے کے منصوبے بناتے رہے ۔میں خاموش بیٹھا ان کی گفتگو سنتا رہا۔نہ انھوں نے مجھے مخاطب کیا اور نہ میں نے بیچ میں مخل ہونے کی کوشش کی ۔
مشرقی جانب قدرے فاصلے پر چند گولیاں فائر ہوئیں جن سے متصل مغربی جانب سے ایک لمبا برسٹ فائر ہوا ،شمال و جنوب کی طرف سے بھی چند مرتبہ” ٹخ ٹخ۔ “ہوئی اور پھر خاموشی چھا گئی ۔وقفے وقفے سے پہلے بھی گولیاں چلتی رہی تھیں ۔غزنی خیل والوں پر نفسیاتی دباﺅ ڈالنے کے لیے گھیراﺅ کرنے والے انھیں چاروں طرف اپنی موجودی کا احساس دلا رہے تھے۔
ایک آدمی قہوے کی بھری کیتلی کے ساتھ مورچے میں وارد ہوا اور تمام کو گرما گرم قہوے کی پیالی پکڑا دی ۔رات ڈھلنے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہاتھا ۔قہوہ پی کر میں ایک بار پھر اپنا سلپنگ بیگ تھیلے سے باہر نکالنے لگا ۔ان کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کے پاس ان حالات سے نمٹنے کی بس یہی تجویز بچی تھی کہ فی الحال مورچوں میں بیٹھ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے ،بلکہ اسے مقابلے کے بجائے دفاع کہنا زیادہ مناسب رہے گا ۔اس طرح ایک دو دن گزار کر اندازہ ہو پائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ان بے وقوفوں کوکافی دیر سے بیٹھا ہوا اونٹ ابھی تک کھڑانظر آرہا تھا ۔
ایک سنائپر کی نیند پر ماحول اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔میں بھی گاہے گاہے اٹھنے والی فائرنگ کی ”ٹخ ٹخ ۔“سے بے نیاز سو گیا تھا ۔صبح کے ناشتے کا انتظام ان لوگوں کے پاس نہیں تھا ۔میرے پاس البتہ کچھ چنے اور بسکٹ پڑے تھے جو ظاہر ہے غزنی خیل کے پورے لشکر کی داڑھ بھی گیلی نہیں کر سکتے تھے ۔ اور اکیلے کھانا مجھے بھی گوارا نہ تھا کہ میرے ہمراہ موجود لوگ بھوکے ہوتے اور میں کھانے کو جڑا ہوتا۔قہوہ بنانے کا سامان البتہ ان کے پاس موجود تھا اور میں نے بھی اسی قہوے ہی پر گزارا کیا تھا ۔دن کی روشنی میں فائرنگ کے سلسلے میں تیزی آگئی تھی ۔جوانب میں ایک دوسرے کے آدمی نظر آنے پر ہتھیار کی لبلبی دبانا مجبوری بن جاتی ہے ۔
انھیں گھیرنے والے اگر چاروں جانب سے حملہ کر دیتے تو شاید کامیاب بھی ہو جاتے مگر ایسی صورت میںانھیں بھی کافی جانی نقصان اٹھانا پڑتا ۔کیونکہ غزنی خیل والے جس بلندی پر پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھے وہاں تک پہنچنے کے لیے مخالفین کو چڑھائی چڑھنا پڑتی ۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ جگہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے زیادہ بلند تھی ،بلکہ اس کی وجہ اس پہاڑی کے چاروں اطراف میں موجود نالہ تھا جو اسے تمام پہاڑیوں سے جدا کر رہا تھا ۔
اطراف میں فائرنگ کا شور و غل زیادہ ہوا مجھ سے چپ نہ رہا گیا ۔”سردار !....اپنے آدمیوں کوکہو حتی الوسع گولی چلانے سے پرہیز کریں ،آپ لوگوں کے پاس ایک گولی بھی ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ۔ یوں ہوا میں ایمونیشن پھونک دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ “
”صحیح کہہ رہے ہو ۔“اثبات میں سر ہلا کر وہ ریڈیو سیٹ کی طرف متوجہ ہوا ۔میں نے فوراََ اسے ٹوکتے ہوئے کہا ۔
”دشمن بھی سن رہے ہیں ،ایسی باتیں مخابرے پر نہیںکیا کرتے ۔“
وہ حیرانی سے بولا ۔”تو سنتے رہیں ۔کیا فرق پڑے گا ۔“
”بہت فرق پڑے گا ۔آپ کی کمزوری دشمن کے ہاتھ آجائے گی وہ آپ کا ایمونیشن ختم کرنے کے لیے جھوٹ موٹ کی پیش قدمی کر سکتا ہے ۔اور یقینا ان کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے آپ کے آدمیوں کو بے دریغ فائر کرنا پڑے گا ۔“
”یہ بات انھیں یوں بھی معلوم ہے کہ ہم ان کے گھیرے میں ہیں ۔“
”انھیں کیا پتا کہ آپ کے پاس ایمونیشن کا کتنا ذخیرہ ہے ۔اور یاد رکھنا کسی کی کمزوری معلوم ہوجانے کے بعد ہی حکمت عملی کام میں لائی جاتی ہے ۔“
”ہمارے مسلسل فائر نہ کرنے پر بھی تو وہ یہ بات سمجھ سکتے ہیں ۔“
”آپ پر جو شمال کی جانب سے فائر ہوگا ،وہ جنوب والوں کو آپ کا فائر بھی لگ سکتا ہے ۔باقی یہ کس نے کہا کہ آپ کے آدمی بالکل بھی فائر نہ کریں۔جب کسی کو نشانہ بنانا ممکن ہو توبے شک وہ فائر کر سکتے ہیں۔“
وہ مسکرایا ۔”ویسے میں اتنی جلدی قائل نہیں ہوا کرتا ۔“
”تو جلدی کہاں ہوئے ہیں ،اتنی دیر سے تو تکرار کیے جا رہے ہیں ۔“
”پھر بھی ہو تو گیا ۔“اس کا انداز شکست کا احساس لیے ہوئے تھا ۔
”کم رتبہ سے اتفاق کرنا شکست نہیں عقل مندی کی دلیل ہوتی ہے ۔باقی مسلمانوں کو ہر کام مشورے سے کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔اور اس بارے سرداروں اور عوام میں کوئی تخصیص نہیں رکھی گئی۔“
”آپ کی باتیں ،آپ کے بارے جاننے کے تجسس کو ہوا دے رہی ہیں ۔“
”کسی کو جاننے کا تجسس تعلق رکھنے کے فیصلے کے بعد ہی کیا جاتا ہے ۔اور ہمارے درمیان ایسی کوئی گنجائش نہیں ۔میں جس رستے کا مسافر ہوں وہ آپ کے پڑاﺅ سے بہت دور گزرتا ہے ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا۔”گزرتا تھا جناب!....اب تو آپ کومقدرکی آندھی نے میرے پڑاﺅ کے قریب نہیں اندر لا پھینکا ہے ۔“اس کی بات پر مجھے بھی ہنسی آ گئی تھی ۔
وہ کسی ضامن خان کو آواز دینے لگا ۔قریب کے مورچے سے ایک جوان وہا ں آگیا اور سیلاب خان اسے فائرنگ کے بارے ضروری ہدایات دینے لگا جو اسے چاروں اطراف میں موجودغزنی خیل لشکر کمانڈروں تک پہنچانا تھیں ۔
سورج کے سامنے کافی دیر سے بدلیاں اکٹھی ہو گئی تھیں ۔ دھوپ کے غائب ہونے نے خوشگوار حدت کا خاتمہ کر دیا جبکہ دھیمی دھیمی ہوا بھی سردی میں اضافے کا باعث بن رہی تھی ۔مسلسل بیٹھنے کی وجہ سے گرم کوٹ نے سردی کے مقابلے میں ناکامی کا اعتراف کیااورمجھے گرم چادر نکال کر لپیٹنا پڑی۔سردار سیلاب خان نے بجھی ہوئی راکھ کو کرید کر چند انگارے ڈھونڈے اور ان پر چھوٹی چھوٹی لکڑیاں رکھ کر آگ دہکانے لگا ۔اپنی پھونکوں سے راکھ اڑانے کے ساتھ ساتھ اس نے انگاروں کی آنچ کو خشک لکڑیوں میں منتقل کر دیا تھا ۔ہلکا سا دھواں اٹھا اور آگ نمودار ہو گئی ۔سیلاب خان ان لکڑیوں کو مزید لکڑیوں سے ڈھانپنے لگا ۔جلد ہی آگ بھڑک اٹھی میں بھی اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔سیلاب خان کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا میں نے بھی اس کے خیالات میں مخل ہونے کی کوشش نہ کی اور اسی شغل میں لگ گیا ۔ایسی لڑائی سے ایک بار پہلے بھی میرا پالا پڑ چکا تھا ،لیکن اس وقت پلوشہ میرے ساتھ تھی اور ہم اتنے برے حالات کا شکا ر بھی نہیں ہوئے تھے ۔
اچانک فائرنگ کی رفتار تیز ہوئی ۔اور یہ فائرنگ سیلاب خان کے آدمی کر رہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی کسی نے ریڈیو سیٹ پر سیلاب خان کو اطلاع دی کہ ضامن خان دشمن کی گولی کا شکار ہو گیا تھا ۔
سیلاب خان کے آدمیوں کی تیز فائرنگ کے جواب میں دشمن کی طرف سے گولیوں کی بوچھا ڑ آنے لگی ۔جنوب مغربی کونے سے 12.7ایم ایم کی گرج سنائی دے رہی تھی ۔
”آپ کے پاس 12.7ایم ایم موجود نہیں ہے ۔“میں نے خاموش بیٹھے سیلاب خان کو متوجہ کیا ۔
”اس کی گولیاں ختم ہو گئی ہیں ۔“
اسی وقت ریڈیو سیٹ پر ایک اور بری اطلاع ملنے لگی ۔مغربی کونے میں دو آدمیوں کو چھاتی میں 12.7ایم یم کی گولی لگی تھی ۔اور 12.7ایم ایم کی چھاتی میں لگنے والی گولی سامنے سے گھس کر پشت سے نکلتے ہوئے سانس کو ساتھ لیتی جاتی ہے ۔
وہ تمام کو مورچوں کی آڑ میں رہنے کا حکم دینے لگا ۔مشرقی جانب سے بھی ایک دم تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔ ریڈو سیٹ پر پاس ہوا کہ اس جانب سے کچھ لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ فائرنگ کی پرشور آواز گھنٹا بھر بعد ہی دھیمی ہو پائی تھی اور اس دوران تین چار آدمی اور زخمی ہو گئے تھے ۔ دشمن کے بھی چار آدمی انھوں نے مار گرائے تھے ۔سیلا ب خان کے حکم کے بعد تمام لوگ گولی چلانے میں احتیاط سے کام لے رہے تھے اور اس احتیاط کے نتیجے میں دشمن کے حوصلوں کو بڑھاوا مل رہا تھا ۔لیکن زیادہ گولیاں چلا کر غزنی خیل والوں نے جلد ہی بے دست و پا ہو جانا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ وہ اپنی دفاعی قوت کو زیادہ سے زیادہ سنبھال کر رکھتے ۔اور ساتھ ساتھ دشمن کا نقصان بھی کرتے رہتے ۔ورنہ زمینی حقائق کے مطابق تو وہ جنگ ہار چکے تھے کہ چند دن کے گھیراﺅ کے بعد انھوں نے بھوک سے گھبرا کر ہی ہتھیار ڈال دینے تھے ۔
خاموشی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ پائی تھی اور اس دفعہ ہونے والی فائرنگ ایک نئی افتاد لے کے آئی تھی ۔پانی کا چشمہ جنوب کی سمت میں اس پہاڑی کے تقریباََ نصف بلندی سے بھی تھوڑا نیچے نالے کی طرف تھا ۔وہاں پر غزنی خیل والوں نے اپنا ایک مورچہ بنایا ہوا تھا جس کی حفاظت کے لیے چارافراد بھی موجود تھے ۔شلوبر والوں کوکسی طرح چشمے کی اس جگہ کا اندازہ ہو گیا تھا ۔انھوں نے 12.7ایم ایم کو جنوب مغربی کونے سے اٹھا کر جنوب کی سمت میں پانی کے چشمے پر لے کردیا ،اس طاقتور گن کے اتنی قریب سے مسلسل فائر نے مورچے کے عارضی رکھے ہوئے پتھروں کو بکھیر دیا تھا ۔دو آدمی ہی جان بچا کر واپس لوٹ پائے تھے ۔کھانے کے ساتھ پانی کی سہولت بھی چھن گئی تھی ۔اکادکا آدمیوں کے پاس پلاسٹک کی بھری ہوئی بوتلیں موجود تھیں مگر وہ چند گھنٹوں سے زیادہ کام نہیں دے سکتی تھیں ۔خود میرے پاس ڈیڑھ بوتل پانی موجود تھا ،مگر یہ ڈیڑھ بوتل بھی جانے کب تک ساتھ دے پاتی ۔
شام تک فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے شروع رہا ۔غزنی خیل کے آٹھ آدمی زندگی کی جنگ ہار گئے تھے جبکہ چھے زخمی تھے ۔اور ان زخمیوں میں دو کی حالت تشویش ناک تھی ۔سیلاب خان کو لگا رات کو دشمن کی طرف سے حملے کا خطرہ زیادہ ہے اس لیے سر شام ہی اس نے اپنے کمانڈروں کو اکٹھا کر لیا تھا ۔گزشتا رات اپنی حوصلوں سے دشمن کو ناکوں چنے چبوانے والے کمانڈر ز اس وقت کافی پریشان اور بجھے بجھے سے تھے ۔چوبیس گھنٹے سے انھیں کھانا بھی نہیں ملا تھا۔ کمانڈروں کی شکلیں دیکھ کر باقی جوانوں کی حالت کا اندازہ لگانا دشوار نہیں تھا ۔
ساری صورت حال ان کے سامنے تھی سیلاب خان نے حالات پر روشنی ڈالے بغیر بس اتنا پوچھا تھا کہ ....”آج حملے کا خطرہ زیادہ ہے ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے ؟“اور اس کا جواب اسے ایک طویل خاموشی کی صورت میں ملا تھا ۔
چند لمحے انتظار کے بعد اس نے گہرا سانس لیا اور میری جانب رخ کرتا ہوا بولا ۔
”سلیم شاہ !....آپ اس معاملے میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ۔“میرے پاس جو شناختی کارڈ موجود تھا اس پر میرا نام سیلم شاہ درج تھا اور عموماََ مجھے یہی نام بتانا پڑتا۔گلگارے وغیرہ کو البتہ میں نے اپنا اصل نام بتایا تھا ۔
ایک لمحہ سوچ کر میں نے مناسب الفاظ کو ذہن میں ترتیب دیا اور پھر گلا کھنکار کر گفتگو کی ابتداءکی ۔”محترم سرادر!....آپ ،بلکہ ہم لوگ جس صورت حال میں پھنسے ہیں بہ ظاہر اس سے نکلنے کا کوئی رستا نظر نہیں آرہا ،لیکن اگر صحیح حکمت عملی اپنائی جائے تو ناممکن کو ممکن میں ڈھالنا مشکل نہیں ہوتا ۔“میں نے ایک لحظہ خاموش ہو کر ان کے چہروں پر سرسری نظر دوڑائی جو آگ کی لپٹوں میں عجیب قسم کی تشویش ، پریشانی اور بیزاری سے بھرے نظر آرہے تھے ۔انھیں میری بات کسی فضول فلسفے سے بڑھ کر اہم نہیں لگی تھی۔لیکن اپنی بات پوری کیے بغیر میں چپ نہیں ہو سکتا تھا ۔آلاﺅ پر اپنی نظریں گاڑ کر میں نے بات آگے بڑھائی ۔”سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ دشمن آج کسی بھی صورت حملہ نہیں کرے گا ،بلکہ اس وقت تک حملہ نہیں کرے گا جب تک اسے یقین نہیں ہوجاتا کہ آپ لوگ مزاحمت کے قابل نہیں رہے ۔ان کی جگہ اگر آپ ہوتے تو یقینا یہی کرتے ،کیونکہ خواہ مخواہ اپنے آدمیوں کی قیمتی جانیں گنوانے کے بہ جائے وہ ایک دو دن صبر کرنا پسند کریں گے ۔اب یہ طے کرنے کے بعد کہ دشمن فی الحال حملہ نہیں کرے گا ہم اپنی کمزوریوں پر نظر دوڑاتے ہیں ....ہمارے پاس کھانے کے لیے روٹی اور پینے کے لیے پانی موجود نہیں ہے ۔جلانے کے لیے لکڑیاں بھی شاید کل تک ختم ہو جائیں تب بھوک پیاس کے ساتھ سردی کا عذاب جھیلنا بھی ہمارا نصیب ہو جائے گا ۔مسلسل استعمال کے بعد ایمونیشن نے بھی ختم ہو جانا ہے ،تب ہماری حالت تر نوالے کی سی ہو جائے گی جسے نگلنے کے لیے دشمن کو ذرا سی بھی تگ و دو نہیں کرنا پڑے گی ........“
”ہمیں صورت حال کا ادراک ہے سلیم شاہ ۔“سیلاب خان نے نرم لہجے میں کہا ۔”آپ یہ مشورہ دیں کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے ۔“
”میں اسی طرف آرہا ہوں ....کل کا دن ہمیں دشمن کو یہ احساس دلانا ہے کہ ہمارے پاس کھانا بھی موجود ہے اور ہم مقابلے سے دستبردار ہونے کو بھی تیار نہیں ۔کھانے کا جھانسا تو ہم مخابرے پر ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے دے سکتے ہیں اور مقابلے کی دھونس جمانے کے لیے ہمیں ایسے اچھے نشانہ بازوں کی ضرورت پڑے گی جو ان کی آزادنہ حرکت میں رکاوٹ بن سکیں ۔“
”اچھے نشانہ باز تو پہلے بھی اپنی کوشش کر رہے تھے ،کیا تیر مارلیا ۔“اس مرتبہ کمانڈر مشر خان بولا تھا۔
”اس کی وجہ ہے دشمن کا دور ہونا ۔کلاشن کوف کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے اور دشمن زیادہ فاصلے پر موجود ہے ۔فاصلہ کم کرنے کے لیے ہمارے نشانہ بازوں کودشمن سے اڑھائی تین سو میٹر دور درختوں پر مچان بنانا پڑے گی ۔اور دن کی روشنی میں وہاں سے فائر کرنا پڑے گا ۔“
”پہلی گولی فائر کرتے ہی ،دشمن انھیں بھون ڈالیں گے ، فاصلہ نزدیک ہونے کی وجہ سے وہ بھی تو رینج میں ہوں گے ۔“کمانڈر رشید جان نے رائے دی ۔تمام کا بات چیت میں حصہ لینا یہ ثابت کر رہا تھا کہ وہ میری باتوں کو غور سے سن رہے تھے ۔
”اچھا سوال ہے ۔اور جواب ہے کہ وہ چھپ کر بیٹھے ہوں گے اور اس وقت فائر کریں گے جب دونوں طرف سے مسلسل فائر ہو رہا ہوگا ۔اس پرشور آواز میں کون اندازہ کرسکے گا کہ ان کے قریب کے درختوں سے بھی فائر ہو رہا ہے ۔“
”ہم دور مار رائفل سے بھی تو انھیں نشانہ بنا سکتے ہیں ۔کل نوشاد گل نے اپنی رائفل سے ان کے چار آدمیوں کو نشانہ بنایا تھا ۔“کمانڈرالفت بادشاہ نے زبان کھولی ۔
”نوشاد گل کے پاس کون سی رائفل ہے ؟“میرے لہجے میں اشتیاق بھرا تھا ۔
”نام کا تو پتا نہیں ہے ۔“الفت خان نے نفی میں سرہلایا۔
”اچھا وہ بعد میں دیکھ لیتے ہیں پہلے یہ بتائیں میری تجویز سے متفق ہو کہ نہیں ۔“
مشر خان بولا۔” ہم اتفاق کر لیتے ہیں اور اس طریقے کو بروے کار لا کر ہم دشمن کے چند بندے زخمی یا ہلاک بھی کر دیتے ہیں تب کیا ہوگا۔پندرہ بیس آدمیوں کے ہلاک ہونے سے پانچ چھے سو کے لشکر کا کیا نقصان ہو گا۔“
”شاید میں بتا چکا ہوں کہ ہمارا مقصد انھیں یہ یقین دلانا ہے کہ ہم لڑائی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔“
”چلو یقین دلادیا کہ ہم لڑائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹ رہے اور ہمارے پاس خوراک بھی موجود ہے ،اس کے بعد کیا ہوگا ۔ہمیں کتنا عرصہ بھوکا پیاسا رہ کر انھیں اپنے پیٹ کے بھرے ہونے کا یقین دلانا پڑے گا ۔“مشر خان اس انداز سے بولا تھا گویا قبیلے کا سردار میں ہی ہوں ۔لیکن میں اس کی باتوں کا برا منائے بغیر بولا۔
”بس کل کا دن ،آنے والی رات کو ہم ان پر حملہ کریں گے ۔“
کافی دیر سے خاموش بیٹھے کمانڈر امید علی خان نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔ ” پہلے جو مشورے آپ نے دیے ایسی صورت حال میں اس سے اچھا سوچا بھی نہیں جا سکتا ،مگر اب آخر میں آکر آپ نے جو پھلجڑی چھوڑی ہے اس سے پہلے والی باتوں کا مز ہ بھی کرکرا ہو گیا ہے ۔“
میں متبسم ہوا ۔”میری بات مکمل نہیں ہوئی ۔“
امید علی نے بیزاری سے کہا ۔”اگر حملے کی بات کرنا ہے تو نامکمل ہی رہنے دیں ۔“
”امید علی خان!....اگر خود کچھ نہیں سوچ سکتے تو دوسرے کی سن لو ،سلیم شاہ حکم نہیں دے رہا مشورہ دے رہا ہے ۔“یقیناسیلاب خان کو امید علی کی بات پسند نہیں آئی تھی ۔
امید علی سرعت سے بولا۔”معذرت خواہ ہوں سردار ،میرا مقصد سلیم شاہ کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔“
میں مخل ہوتے ہوئے بولا۔”نہیں اپنی سمجھ کے مطابق کمانڈر امید علی نے صحیح کہا ہے ۔البتہ میری بات مکمل ہونے کے بعد انھیں رائے دینا چاہیے تھی ۔“
”آپ جاری رکھیں ۔“سیلاب خان نے مجھے بات مکمل کرنے کو کہا۔
میں سرہلا کر مستفسر ہوا ۔”ہماری تعداد کتنی ہو گی ؟“
سیلاب نے جواب دیا ۔”قریباََ اڑھائی سو ۔“
”ٹھیک ہے ان اڑھائی سو میں سے ستر آدمی کل رات بارہ بجے جنوب مغرب کی جانب زور دار حملہ کریں گے اور............“میں اپنا منصوبہ ان کے سامنے دہرانے لگا ۔ابتداءمیں میری باتوں پر ان کے چہرے پر بیزاری کے آثار نمودار ہوئے لیکن جوں جوں میری بات مکمل ہوتی گئی ان کے چہروں پر دبا دبا جوش ابھر آیا تھا ۔میری بات کے اختتام پر تمام میرے ساتھ متفق ہو گئے تھے ۔
”ویسے مجھ لگ رہا ہے آپ مجاہدین کے کوئی بڑے کمانڈر ہو ۔“سیلاب خان تحسین آمیز لہجے میں بولا ۔”اتنا شاندار منصوبہ کوئی منجھا ہوا کمانڈر ہی بنا سکتا ہے ۔“
میں نے مسکراتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی داڑھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”میری داڑھی آپ کو مجاہدین جیسی لگ رہی ہے ۔“
”شاید حلیہ تبدیل کیا ہوا ہو ۔“وہ اپنا اندازہ منوانے پر مصر تھا ۔
”نہیں ،میں وہ نہیں ہوں جو آپ سمجھ رہے ہیں ۔“اس کے ساتھ ہی میں موضوع تبدیل کرتا ہوا بولا۔”آپ کسی نوشاد گل کے پاس دور مار رائفل کی موجودی کا ذکر کر رہے تھے ۔“
سیلاب نے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ہاں ....لیکن آپ نے رائفل کا کیا کرنا ہے ۔“
میں مصر ہوا ۔”آپ نوشاد گل کو تو بلوائیں ۔“
سیلاب خان نے ریڈیو سیٹ پر نوشاد گل کومع ہتھیار وہاں آنے کا حکم دیا ۔اس کے آنے تک وہ میرے منصوبے پر بات کرتے رہے اور اس میں جو بہتری لائی جا سکتی تھی اس پر بھی گفتگو ہوتی رہی ۔ نوشاد پندرہ بیس منٹ بعد ہی وہاں پہنچ پایا تھا ۔اس کے ہاتھ میں کلاشن کوف دیکھ کر مجھے مایوسی ہوئی تھی ۔
”تمھاری اپنی رائفل کہاں ہے ۔“اس کے سلام کا جواب دیتے ہی سیلاب خان مستفسر ہوا ۔
”مورچے میں ہے ۔“وہ سیلاب خان کے سوال پر پریشان نظر آنے لگا تھا۔
سیلاب خان نے کہا ۔”جاﺅ لے آﺅ۔“
”جی سردار!“ کہہ کر وہ واپس مڑ گیا ۔باقی کمانڈر مشاورت میں مگن تھے ۔
اس کے مورچے سے نکلتے ہی سیلاب خان نے کہا ۔”ہمارے ایک آدمی گل ریز کے پاس جی تھری رائفل بھی موجود ہے ۔“
”جی تھری ....؟“اب حیران ہونے کی میری باری تھی ۔
”ہاں ۔“سیلاب خان نے اثبات میں سرہلایا۔”اصل میں نوشاد گل اور گل ریز اس سے پہلے انگور اڈے میں ایک بڑے اسمگلر کے ساتھ کام کرتے تھے ۔اسمگلنگ کے ساتھ وہ سردار دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی ملوث تھا ابھی تھوڑاہی عرصہ ہوا ہے کہ وہ سردار کسی دشمن کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کا لشکر قریباََ بکھر گیا ہے۔میرے قبیلے کے بھی چار پانچ آدمی اس کے پاس کام کرتے تھے ۔تین آدمی تو کسی دوسرے سردار کے پاس چلے گئے یہ دونوں گھر واپس آگئے،شاید کچھ عرصہ آرام کرنا چاہتے تھے ۔“
”کس سردار کے پاس کام کرتے تھے ؟“میرا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔
” صنوبر خان ۔“سیلاب خان سے پہلے مشر خان نے جواب دیا ۔وہ تمام اپنی گفتگو ختم کرکے ہماری طرف متوجہ ہو گئے تھے ۔
صنوبر خان کے نام نے مجھے چونکا دیا تھا ۔اس کا مطلب تھا کہ سیلاب خان کے دو آدمی مجھے پہچانتے تھے ۔لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے خیا ل آیا کہ نوشاد گل نے ابھی مجھے دیکھ کربھی کسی قسم کی شناسائی کا اظہار نہیں کیا تھا ۔حالانکہ میں آلاﺅ کے بالکل قریب بیٹھا تھا اوربھڑکتی آگ کی وجہ سے وہاں اچھی خاصی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ آپس میں مصروفِ گفتگو ہو گئے تھے ۔
نوشاد کی واپسی تک میں خیالات میں کھویا رہا ۔اس بار اس نے ہاتھ میں سٹائر سنائپر رائفل پکڑی ہوئی تھی ۔سٹائر ایک عمدہ اور بہترین رائفل ہے ۔آسٹریا کی بنی ہوئی یہ رائفل پاک آرمی کے سنائپرز میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔میں نے اپنی ابتدائی تربیت اسی رائفل سے مکمل کی تھی ۔ اور اگر قارئین کو یاد ہو تو اپنے پہلے مشن کی تکمیل کے وقت بھی یہی رائفل میرے ہاتھ میں تھی ۔اور ناول کے ابتدائی صفحات میں میں نے اس رائفل کے متعلق ضروری معلومات لکھی تھیں ۔
میں نے نوشاد گل کے ہاتھ سے رائفل لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔اس دوران میں اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا ،مگر اس کے چہرے پر چھائے اجنبیت کے گہرے تاثرات مجھے مطمئن کر گئے تھے ۔اس نے بغیر کچھ کہے میری جانب رائفل بڑھا دی
”اس کی کتنی گولیاں ہیں آپ کے پاس ؟“
”سو تھیں ،تقریباََ آدھی فائر کر بیٹھا ہوں ۔“بہ ظاہر اس نے عام سے لہجے میں جواب دیا تھا مگر کہیں گہرائی میں ناگواری کی بو مجھے محسوس ہو رہی تھی ۔شاید میرا استفسار کرنا اسے پسند نہیں آیا تھا ۔
اس کی کیفیات کو نظر انداز کیے میرے سوالا ت جاری رہے ۔”کمانڈر مشر خان بتا رہے تھے کہ اس کی مدد سے آپ نے دشمن کے چار آدمیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے ۔“
”بے شک ۔“اس نے تحسین آمیز انداز میں سرہلایا۔
”پچاس گولیوں کے بدلے چار آدمی ....“میں نے پر خیال انداز میں سرہلایا۔
”برا سودا نہیں ہے ۔“کمانڈر رشید نے لقمہ دیا ۔میرا طنز تمام کے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا ۔ اگر استاد ِمحترم راﺅ تصورصاحب کو معلوم ہوجاتا کہ ایک شخص سٹائر کی پچاس گولیاں چلا کرفقط چار آدمیوں کو نشانہ بنا پایا ہے تو انھیں اپنے ہوش و حواس کھو کر کومے میں چلے جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا تھا اور اگر وہ کومے میں جانے سے بچ جاتے تو مذکورہ فائرر کا بچنا ناممکن تھا، یقینااسی سٹائررائفل سے مذکورہ شخص پر ایک گولی ضائع کر کے وہ اکیاون گولیوں پر مرنے والوں کی تعدادپانچ کر دیتے ۔
انھیں اپنے احساسات سے بے خبر رکھتے ہوئے میں نے اپنا ارادہ ان تک پہنچایا ۔”ایسا ہے کل میں اس رائفل سے فائر کروں گا ....لیکن ابھی سے بتادوں ،کسی آدمی کو ہلاک نہیں کروں گا ،بس زخمی کروں گا ۔“
نوشاد گل نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”ہاںآپ ایس ایس ہو نا کہ پچاس گولیوں پر پچاس آدمی مار گراﺅ گے ۔“
”نوشاد گل ....“سیلاب خان نے اسے تنبیہی نظروں سے گھورا ۔
وہ منھ بنا کر کہنے لگا ۔”سردار !....میں نے صرف مذاق کیا ہے ۔“
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے انجان بن کر پوچھا ۔”ویسے یہ ایس ایس کس بلا کا نام ہے ۔“
الفت بادشاہ نے قہقہہ لگاکر انکشاف کیا ۔”ایس ایس ،نوشاد گل کے سردار کو مارنے والی بلا کا نام ہے ....اسی کی وجہ سے نوشاد گل غریب کی نوکری چھوٹی ۔“
”ہونہہ!....“میں نے اثبات میں ہلاتے کہا ۔”بہ ہر حال اس کی ساری گولیاں مجھے دے دو امید ہے چار سے زیادہ آدمیوں کو نشانہ بنا لوں گا ۔“
اس نے بغل سے لٹکی گولیوں والی تھیلی میرے سامنے پھینکی ۔”اگر چار سے زیادہ آدمیوں کو نشانہ بنا لیا تو یہ رائفل واپس نہیں مانگوں گا ۔“
میں متبسم ہوا ۔”یہ نہ ہو بعد میں مکر جاﺅ ۔“
”اور نہ بنا پائے پھر ؟“یقینا یک طرفہ شرط میں سراسر اسی کا نقصان تھا ۔اور یہ بات اسے فوراََ یاد آگئی تھی ۔
”تو میرا خیال ہے اس سے بہتر کلاشن کوف ،غزنی خیل میں کسی کے پاس نہیں ہوگی ۔“میں نے گود میں رکھی کلاشن کوف کو تھپتھپایا۔
”نوشاد گل ،یہ شرطیں وغیرہ رہنے دو ،سلیم بھائی ہمارے مہمان ہیں ۔“
”نہیں سردار !....منھ سے نکلی بات اوربندوق سے نکلی گولی واپس نہیں آسکتی ۔جو طے ہو گیا سو ہو گیا ....بس اس میں اتنی ترمیم کر لیں کہ اگر ہر دوگولیوں پر میں نے ایک آدمی کو نشانہ نہ بنایاتب بھی نوشاد گل جیتا ہوا تصور کیا جائے گا ۔“گو میں ہرچلنے والی گولی پر بھی یہ دعوا کر سکتا تھا لیکن اس طرح انھیں مجھ پر شک بھی ہو سکتا تھا ۔
”یارسلیم !....کس بچپنے میں پڑ گئے ہو،چھوڑو ان شرطوں کو ۔“سیلاب خان میری بات پر خوش نہیں تھا ۔
”کبھی کبھی شغل میلہ بھی ہونا چاہیے سردار!۔“میں اس کی درخواست ہنسی میں اڑا گیا تھا ۔
نوشاد گل کی آنکھیں البتہ چمکنے لگی تھیں ۔اس بے وقوف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ سٹائر رائفل کیا چیز تھی ۔مجھے پورا یقین تھا کہ اس کے فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ سٹائر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کو کیسے صفر کیا جاتا ہے ۔ اور کسی سنائپر رائفل کو صفر کیے بغیر اس سے درست نشانہ لگالینا ،اندھے کے پاﺅں تلے بٹیراآنے کے مترادف ہے ۔
”اچھا اب تمام اپنی اپنی جگہ لوٹ جاﺅ اور احتیاط سے رات گزارنا ہے ۔ہر تین آدمیوں میں سے ایک آدمی آرام کرنے لیٹے، اس کے ساتھ اپنے سامنے کے علاقے میںہر کمانڈر درختوں پر ایسی جگہ بنوا لے جہاں سے کل صبح فائر کیا جائے گا ۔“سیلاب خان نے مزید تکرار سے گریز کرتے ہوئے تمام کمانڈروں کوحتمی احکام بتا کر جانے کی اجاز ت دے دی ۔اور نوشاد گل کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔”نوشاد گل تم وقتی طورضامن خان کی کلاشن کوف استعمال کر لینا ۔“ضامن خان کل دوپہر ہی کو دشمن کی گولی کا نشانہ بنا تھا ۔ابھی تک اس جوان کی صورت میری نگاہوں میں پھر رہی تھی ۔اسے میرے سامنے ہی سیلاب خان نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجا تھا۔موت بھی عجیب بے حس اور بے نیازہوتی ہے کہ،نہ تو کسی کے بچپنے پر ترس کھاتی ہے اور نہ کسی کی جوانی پر رحم کرنے کو تیار ہوتی ہے ۔
”جی سردار ۔“کہہ کر نوشاد گل نے اثبات میں سرہلایا اور مورچے سے باہر نکل گیا ۔باقی لوگ اس سے پہلے روانہ ہو گئے تھے ۔
٭٭٭
وہ رات بھی میں نے آرام کرتے گزاری تھی ۔میرے اندازے کے مطابق دشمن نے حملہ کرنے کی حماقت نہیں کی تھی ۔جو فتح وہ بغیر کوئی نقصان اٹھا ئے حاصل کر سکتے تھے ،اس کے لیے جانوں کی قربانی دینا بے وقوفی ہی تو تھی ۔البتہ دو تین مرتبہ پرشور فائرنگ سے انھوں نے غزنی خیل قبیلے کے سونے والوں کی نیند کو ضرور حرام کیا تھا ۔اور ان سونے والوں میں بدقسمتی سے میں بھی شامل تھا ۔
صبح منھ اندھیرے اٹھتے ہی میں نے تھوڑے سے بھنے ہوئے چنے چبائے ۔اور دو تین گھونٹ پانی پی کر سارے دن کے لیے تیار ہو گیا ۔سردار سیلاب خان اونگھ رہا تھا ۔تیمم کر کے میں نے نماز ادا کی اور آگ کو تازہ کرنے لگا ۔اتنی دیر میں سردار سیلاب خان بھی اٹھا بیٹھا تھا ۔
روشنی ہوتے ہی اکادکا فائر کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔میں نے سٹائر کی میگزین میں گولیاں بھریں اور اندازے سے سو گز دور پڑے ہوئے چھوٹے سے پتھر پر نشانہ سادھنے لگا ۔وہ پتھر ایک چوڑے تنے کے درخت کی جڑ میں پڑا تھا ۔گولی پتھر تو کیا درخت کے تنے میں بھی نہیں لگی تھی ۔مجھے بس ذرا سا اندازہ ہوا تھا کہ گولی تنے کے دائیں جانب نکلی ہے ۔
کسی بھی ہتھیار یا ٹیلی سکوپ سائیٹ کو صفر کرنے کے لیے دو ہی غلطیاں دور کرنا پڑتی ہیں ۔ اوپر نیچے کی یا دائیں بائیں کی ۔اب پہلی گولی چلا کر ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ رائفل کافی دائیں مار رہی تھی ۔ٹیلی سکوپ سائیٹ میں مناسب تبدیلی کر کے میں نے اگلی گولی چلائی ۔گولی پتھر کے بائیں کنارے کے ساتھ ہی لگی تھی ۔میں دوبارہ سائیٹ میں تبدیلی کرنے لگا ۔اور اسی طرح پانچ گولیاں چلا کر میں نے سائیٹ کو اپنی مرضی کے مطابق صفر کر لیا تھا ۔
میری ساری کارروائی سیلاب خان بھی دلچسپی سے دیکھتا رہا تھا ۔لیکن اس دوران اس نے مجھے مخاطب ہونے کی کوشش نہیں کی تھی ۔
رائفل کی صفرنگ سے مطمئن ہو کر میں نے کہا ۔”سردار !میں کسی دوسرے مورچے کا رخ کرتا ہوں آپ کا مورچہ فائر کرنے کے مناسب نہیں ہے ۔“
” میں بھی چلتا ہوں ۔“اپنی کلاشن کوف تھامتے ہوئے وہ بھی میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔
”اس کی کیا ضرورت ہے ۔“میں نے اسے روکنے کی رسمی کوشش کی ۔
”یہاں بھی کیا کروں گا ....بس مخابرے پر بات چیت ہی کرنا ہے تو وہ وہاں سے بھی ہو جائے گی ۔“
”چلیں ۔“اپنا تھیلا اور کلاشن کوف میں نے وہیں چھوڑ دی تھی ۔
باقی اطراف کی نسبت دشمن کے شمالی مورچے ہم سے زیادہ قریب تھے اور اس جانب چنگیزی قبیلے کے افراد ڈیرا جمائے ہوئے تھے ۔
”اس طرف ۔“مورچے سے باہر نکل کر اسے اپنی جانب سوالیہ نظروں سے گھورتے دیکھ کر میں نے شمال کی جانب اشارہ کیا ۔وہ سر ہلاتے ہوئے میرے ساتھ چل پڑا ۔وہ پہاڑی شمالاََ جنوباََ لمبائی میں پھیلی ہوئی تھی ۔شرقاََ غرباََ اس کی چوڑئی تھی۔اس کے آدمیوں نے پتھر کی بڑی چٹانوں کے عقب میں مورچے بنائے ہوئے تھے کہیں پر گڑھا وغیرہ تھا تو اسے چھپنے کے لیے استعمال کیا تھااور اگر کچھ بھی نہیں تھا تو انھوں نے پتھر کی دیواریں کھڑی کر کے مورچے کی شکل دے تھی ۔رستے میں سیلاب خان نے جوش بھرے انداز میں مجھے یہ بتایا تھا کہ چاروں اطراف میں اس کا ایک ایک اچھا نشانے باز درختوں میں چھپا ہوا تیز فائرنگ کا منتظر تھا ۔چاروں آدمی انھوں نے رات ہی کو مطلوبہ جگہ پہنچا دیے تھے ۔
”ویسے لوگوں کو بھوک تو کافی لگی ہو گی ۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”بھوک توواقعی میں لگی ہوئی ہے ،لیکن یہ بھی سنا ہے بھوکا بٹیرا زیادہ اچھا لڑتا ہے ۔“
میں فراخ دلی سے آفر کر تے ہوئے کہا ۔”ویسے میرے تھیلے میں کچھ چنے اور تھوڑے بہت بسکٹ موجود ہیں جو چند آدمیوں کی بھوک مٹا سکتے ہیں ۔“
”باقی کیا کریں گے ۔“اس نے ایک سردار کی طرح سوچا تھا ۔جس کے جواب میں میں کندھے اچکانے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
پہاڑی کے انتہائی شمالی کونے میں جا کر میں نے اپنے لیے ایک مورچہ پسند کیا اور اس میں موجود افراد کو دوسرے مورچوں میں بھیج دیا ۔ابھی ہم پوری طرح مورچے میں بیٹھ نہیں پائے تھے کہ نوشاد گل وہاں پہنچ گیا ۔آتے ساتھ اس نے رات والی بات چیت پر معذرت چاہی ۔مجھے اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات پھیلے ہوئے نظر آرہے تھے ۔
”کوئی بات نہیں نوشاد گل ہو جاتا ہے ایسا ۔“مجھے لگ رہا تھا شاید کسی کمانڈر یا سیلاب خان نے اسے معذرت کرنے کا کہا ہے اسی لیے اس کا لہجہ کچھ عجیب سا ہو رہا تھا ۔
وہ ہچکچاتے ہوئے بولا۔”سلیم بھائی !....میں نے شرط وغیرہ کی بھی بکواس کی تھی ....“
میں نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”چھوڑو شرط کو یار!....میں نے بھی یونھی شیخی بگھاری تھی ۔“
اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے اس نے سیلاب خان کو کہا ۔”سردار !.... یقینا آپ کو یہاں میری مدد کی ضرورت پڑے گی ۔“
”شاید سلیم بھائی کو پڑے ۔“سیلاب خان نے اس کے وہاں بیٹھنے پر اعتراض نہیں کیا تھا ۔
میں نے کہا ۔”خالی بیٹھنے کے بجائے ،دوربین لے لو اور دشمن کے وہ آدمی تلاش کرو جو مورچوں سے باہر ہوں ۔“
”ٹھیک ہے باس ۔“مزاحیہ انداز میں کہہ کر وہ سردار سیلاب خان کے ہاتھ سے دوربین لے کر جائزہ لینے لگا ۔یہی کام میں سٹائر کی ٹیلی سکوپ سے کر رہا تھا ۔اچانک مجھے چھے سو میٹر کے فاصلے پر دشمن کے ایک آدمی کی جھلک نظر آئی ۔موچرے کی دیوار سے اس کا بالائی دھڑ جھلک رہا تھا ۔اس کے فاصلے کے بارے میں نے اندازہ لگایا تھا اور یہ ایک سنائپر کااندازہ تھا ۔
ایلی ویشن ناب پر چھے سو میٹر رینج لگا کر میں نے مذکورہ شخص کے دائیں کندھے کا نشانہ لیا ، کیونکہ میں اسے جان سے نہیں مارنا چاہتا تھا ۔گو کسی کو زخمی کرنا بھی اسے نقصان پہنچانے کے زمرے میں آتاہے مگر یہ جان کے ضیاع سے بہت کم تھا ۔اور پھر مجھے اپنی جان بچانے کے لیے کوئی نہ کوئی حرکت تو کرنا تھی یونھی ۔پادری بنے بیٹھے رہنے سے تو کام نہیں چلنے والا تھا ۔
جاری ہے
 

اس کے کلاشن کوف سیدھی کرتے ہی میں نے حرکت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اس کے تیوردیکھ کر واضح لگ رہا تھا کہ وہ جو کہہ رہا تھا ویسا ہی کرنا چاہتا تھا ۔
میں نے ہاتھ سر سے بلند کرتے ہوئے کہا ۔”اچھا میری آخری بات سن لو اس کے بعد جو مرضی آئے کرنا ۔“
”سناﺅ ۔“میری بے بسی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے کلاشن کوف کی بیرل زمین کی طرف جھکائی۔
اس وقت تک میں ایک سرسری نظر تینوں پر ڈال چکا تھا ۔وہ تمام اس کے عقب میں کھڑے تھے اور وہ سب سے آگے کھڑا تمسخرانہ نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا ۔ہمارے درمیان بس دو تین قدموں کا فاصلہ تھا ۔باقی تینوں اس سے چند قدم دور تھے ان تمام کے انداز میں بے پروائی تھی۔
اس کی کلاشن کوف کا رخ نیچے کی طرف ہوتے ہی میں زقند بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اس سے پہلے کہ میرا ارادہ اس پر ظاہر ہوتا میں نے کلاشن کوف کی بیرل کو پکڑ کر اس کے دھانے کا رخ خود سے موڑتے ہوئے اپنے گھٹنے کو زوردار انداز میں اس کی ٹانگوں کے درمیان اٹھا دیا ۔
”اوغ ۔“کی آواز کے ساتھ وہ نیچے جھکا اور میں نے ایک جھٹکے سے کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔یہ سب کچھ اس سرعت سے ہوا تھا کہ وہ تینوں ہکا بکا کھڑے رہ گئے تھے ۔ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ اس علاقے میں اکثریت ایسے لڑاکوں کی تھی جو صرف ہتھیار کا استعمال ہی جانتے تھے ۔جسمانی داﺅ پیچ سے وہ لوگ نا بلد تھے ۔البتہ مجاہدین کے کیمپوں میں خالی ہاتھ لڑنے کی بھی تربیت دی جاتی ہے ۔دہشت گردوں میں بھی اکا دکا ایسے آدمی مل جاتے ہیں جو ہاتھ پیر کا استعمال جانتے ہوں،مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد ہی میں مجھے ٹکرائے تھے۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے اس کا بٹ زوردار انداز میں گھٹنوں کے بل جھکے آدمی کے سر میں مارا،وہ منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔ا س کے ساتھ ہی میں نے بیرل کا رخ ان تینوں کی طرف موڑ دیا ۔ وہ تینوں بھی ابتدائی جھٹکے سے سنبھل کر حواسوں میں آئے ،لیکن انھوں نے ذرا سی دیر کر دی تھی وہ جب تک کلاشن کوف کا رخ میری طرف کرتے میں ٹریگر دبا چکا تھا ۔
دو بندے ٹانگوں میں گولی کھا کر چیختے ہوئے نیچے گرگئے ،تیسرے آدمی نے ٹریگر دبانے کے ساتھ ہی پیچھے کی جانب چھلانگ لگا دی تھی ۔اس نے کلاشن کوف برسٹ پر سیٹ کی ہوئی تھی ۔اگر وہ تیزی میں درستی نہ بھول جاتا تو یقینا آج میں کہانی سنانے کے لیے زندہ نہ ہوتا ۔ٹریگر دباتے ہی چونکہ اس نے پتھر کی جانب چھلانگ لگائی تھی اس لیے بیرل کا رخ مجھ سے بائیں طرف ہو گیا تھا ۔اس کے باوجود مجھے بائیں بازو میں شدید جلن کا احساس ہوا ،اس کے جلد بازی میں فائر کیے گئے برسٹ میں سے ایک بھولی بھٹکی گولی میرے بازو کا مزاج پوچھ چکی تھی ۔
اچانک ڈھلان کی طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی ۔گولیاں میرے دائیں بائیں لگی تھیں۔ اگر میرے سامنے ان کا ایک آدمی بے ہوش نہ پڑا ہوتا تو ان گولیوں کا نشانہ میرے جسم نے بننا تھا۔میں نے فوراََ خود کو زمین پر گرایا اور قریبی پتھر کے پیچھے رینگ گیا ۔میرے بائیں بازو میں جلن تو ہو رہی تھی مگر بازو ٹھیک ٹھاک کام کر رہا تھا ،اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ گولی میرے بازو کو چھوتے ہوئے گزر گئی تھی ۔
اب اسی پتھر کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جس کے پیچھے میں چھپا تھا ۔اوپر والوں سے زیادہ مجھے اس آدمی سے خطرہ تھا جو نالے ہی میں چھپا تھا ۔آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف نظر دوڑانے پر مجھے ایک کلاشن کوف کی بیرل اپنی جانب اٹھی نظر آئی، اس کا باقی جسم پتھر کے پیچھے غائب تھا ۔ایک دو چھوٹے چھوٹے برسٹ چلا کر وہ مجھے اپنے ساتھ الجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔
اس کا جسم تو نظر نہیں آرہا تھا فقط کلاشن کوف پتھر کے پیچھے سے جھلک رہی تھی ۔کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر میں نے کلاشن کوف کے اوپر نشانہ سادھتے ہوئے ٹریگر دبایا۔اس فاصلے سے نشانہ چوکنے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا ۔گولی کلاشن کوف کے فرنٹ ہینڈ گارڈ پر لگی تھی ۔کلاشن کوف اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا پڑی ۔
میں نے فوراََ کلاشن کوف کا رخ ڈھلان کی طرف کرتے ہوئے سیفٹی لیور کو برسٹ پر سیٹ کیا اور ٹریگر دبا دیا ۔دو تین گولیوں کے بعد ۔”ٹرنچ ۔“کی آواز نے مجھے کلاشن کوف کے خالی ہونے کی بری خبر سنائی ۔یقینا کلاشن کوف کی میگزین بھری ہوئی نہیں تھی ،کیونکہ میں تو چند گولیاں ہی فائر کر سکا تھا ۔میری اپنی کلاشن ذرا فاصلے پر پڑی تھی ۔وہاں تک جانے کے لیے مجھے دشمن کے سامنے ظاہر ہونا پڑتا جس کا نتیجہ موت کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا تھا ۔
ٹانگوں پر گولیاں کھانے والے کراہتے ہوئے اپنی جگہ پر تڑپ رہے تھے ۔یقینا انھیں طبی امداد کی ضرورت تھی ورنہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے انھیں جان کے لالے پڑ سکتے تھے ۔
اسی وقت نالے موڑ سے ہونے والی فائرنگ کی آواز نے مجھ پر یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ وہاں پر دشمن کی کافی پارٹیاں موجود تھیں ۔وہاں مزید لیٹنا بھی موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لینا تھا ۔اور ایک بار اگر میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتا تو میری زندگی کی ضمانت ضبط ہوتے دیر نہ لگتی ۔
اس پتھر سے بیس پچیس گز دور جھاڑیوں کا جھنڈ تھا، وہاں تک پہنچ کر میں اپنے فرار میں آسانی پیدا کر سکتا تھا ۔جھاڑیوں تک پہنچنے کے لیے مجھے جلدی کرنا تھی ورنہ دشمن کے نزدیک پہنچنے کے بعد یہ ممکن نہ رہتا ۔دشمن اس لیے بھی دور دور تھے کہ ان کے خیال کے مطابق میں مسلح تھا ۔جبکہ میں بغیر ایمونیشن کے بالکل بے دست و پا ہو گیاتھا ۔
میں ابھی اس صورت حال سے نکلنے کی ذہنی ورزش ہی کر رہا تھا کہ بے ہوش پڑے آدمی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سر جھٹکتے ہوئے اٹھ بیٹھا ،میری کلاشن کوف اس سے دو تین قدم ہی دور پڑی تھی ۔میں نے نیفے میں اڑسا تیس بور نکال کر کاک کر تے ہوئے ہاتھ میں پکڑ لیاتھا ۔
ہوش میں آتے ہی وہ چند لمحے کنپٹی مسلنے کے بعد زمین پر ہاتھ ٹیکتے ہوئے اٹھنے لگا۔اسی وقت خطرہ مول لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے میں زقند بھر کر پتھر کے پیچھے سے نکلا اور اس سے پہلے کہ وہ مکمل کھڑا ہو پاتا ،اس کا دایاں بازو مروڑتے ہوئے میں نے اس کی پیٹھ اپنی چھاتی سے لگالی تھی۔
پتھر کے عقب میں چھپا وہ آدمی جس کی کلاشن کوف کو میں نے نشانہ بنایا تھا ۔مجھے اپنے ساتھی کے ساتھ مصروف دیکھ کر اس نے پتھر کے پیچھے سے نکل کر اپنی کلاشن کوف اٹھانا چاہی ۔
بائیں ہاتھ سے اپنے اسیر کی کلائی تھامتے ہوئے میں نے دائیں ہاتھ میں پکڑا تیس بور کلاشن کوف کی طرف بڑھنے والے شخص کی طرف سیدھا کیا اور ٹریگر دبادیا ،مگر گولی فائر نہیں ہوئی تھی ۔اس طرح کے مقامی اسلحے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے رک جاتا ہے ۔اس وقت مجھے گلگارے کو تحفہ دیے ہوئے گلاک کی سخت کمی محسوس ہوئی تھی ۔اس بے چاری نے تو اصرار بھی کیا تھا کہ میں پستول اپنے ساتھ لے جاﺅں ۔مگر اس وقت مجھے کسی ایسی صورت حال میں پھنسنے کا گمان نہیں تھا ۔
پستول کو نیچے پھینک کر میں نے اسی لمبے آدمی کو ڈھال کی طرح اپنے سامنے پکڑ لیا ۔اس کے ساتھیوں نے چند ہوائی فائر کیے مجھے نشانہ بنانے کی صورت ان کے اپنے آدمی کو پہلے گولی لگتی ۔پتھر کے چھپے آدمی نے بھی کلاشن کوف اٹھا کر میری جانب تان لی تھی لیکن میرے سامنے ان کا ساتھی ڈھال کی صورت میں موجود تھا ۔
ایک ہاتھ سے اس کا مروڑا ہوا بازو پکڑکر دوسرا بازو میں نے اس کی گردن میں ڈالا اور اسے زبردستی اپنے ساتھ کھینچتا ہوا کلاشن کوف کے قریب پہنچ گیا۔نیچے جھک کلاشن کوف اٹھانے کی صورت میں وہ میری گرفت سے نکل جاتا ۔میں نے ایک پاﺅں سلنگ میں ڈال کر کلاشن کوف کو دھیرے سے زمین سے اٹھایا۔اس دوران اس نے مچل کر میری گرفت سے نکلنا چاہا ۔
اس کے گلے میں ڈالے ہوئے بازو کے پھندے کو مزید کستے ہوئے میں نے اسے خاموش دھمکی دی ۔کسی اکھڑ سے اکھڑ آدمی کو بھی سمجھانے کے لیے زبان سے زیادہ عملی دھمکی کام آتی ہے ۔اسے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ حرکت کرنا اس کی گردن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا ۔جسم ڈھیلا چھوڑتے ہوئے اس نے تعاون کا اعلان کرتے دیر نہیں کی تھی ۔
کلاشن کوف ہاتھ میں آتے ہی میں نے بیرل اس کی پیٹھ سے لگائی اور اس کے گلے سے بازو نکال لیا ۔کلاشن کوف کی سرد بیرل گردن میں پڑے ہوئے بازو سے بھی زیادہ ڈرانے والی تھی ۔وہ میرے سامنے بے حس و حرکت کھڑا رہا ۔اس کا دوسرا ساتھی مجھے دھمکیاں دینے لگا ۔
”اگر ایک منٹ کے اندر اندر تم غائب نہ ہوئے تو ان دونوں کے ساتھ لیٹے نظر آﺅ گے ۔“ میں نے زمین پر پڑے زخمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی ۔اس نے فوراََ ایک بڑے پتھر کے عقب میں آڑ لے لی تھی۔
میرے پاس وقت کم تھا ،دیر ہونے کی صورت ان کے مزید ساتھی پہنچ جاتے اور میرا پکڑا جانا یقینی ہو جاتا۔اس لمبے آدمی کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھ کر میں الٹے قدم پیچھے ہٹنے لگا ۔اس کے ساتھیوں کو میری حکمت علی سمجھ میں آ گئی تھی ۔انھوں نے مجھے دھمکانے کے لیے تیز فائرنگ شروع کر دی ، لیکن ان کی کوئی بھی گولی ان کے ساتھی سے اتصال کیے بغیر مجھ تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔
درختوں کے جھنڈ میں گھستے ہی میں دشمن کی تمام پارٹیوں کی نظر سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اپنے قیدی کو میں نے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کو کہا ۔
بغیر کسی لیت و لعل کے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کے بٹ سے اس کے سر کی مضبوطی کا اندازہ لگانے کی کوشش کی۔وہ ایک بار پھر منھ کے بل نیچے گر گیا تھا ۔میں مڑ کر بھاگ پڑا ۔ان کے تعاقب سے پہلے میں وہاں سے دور نکل جانا چاہتا تھا ۔وہ گھنی جھاڑیاں میری کافی مددگار ثابت ہو رہی تھیں ۔
دس پندرہ منٹ بعد ہی میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔یقینا انھوں نے اپنے بے ہوش ساتھی کوتلاش کر لیا تھا ۔
غزنی خیل والی لڑائی کے بعداس جھڑپ کے دوران بھی میں نے پوری کوشش کی تھی کہ شلوبر کے کسی آدمی کو جان سے نہ ماروں ۔کیونکہ میں حتی الوسع کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتا تھا ۔ اور اس کوشش میں مجھے خاطر خواہ کامیابی ہوئی تھی ۔گزشتا روز سے لے کر اب تک شلوبر کا کوئی آدمی میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوا تھا ۔البتہ زخمی ہونے والوں کی تعداد دو درجن کے قریب پہنچ گئی تھی ۔
نالے کے درمیان میں درخت موجود نہیں تھے ۔جھاڑیوں کے جھنڈ چونکہ ڈھلان پر تھے اس لیے مجھے ڈھلان پر ترچھا بھاگنا پڑ رہا تھا ۔فرلانگ بھر دور مجھے ان کے چیخنے ،چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں نہ جانے وہ کیا حکمت علی تیار کر رہے تھے ۔ان آوازوں پر کان دھرے بغیر میں جھاڑیوں کے درمیان آگے بڑھتا جا رہا تھا ۔آکسیجن لیول کم ہونے کی وجہ سے میرا سانس دھونکنی کی مانند چل رہا تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میری نظر نالے کے درمیان میں پڑی ۔ان کے نو دس آدمی نالے کے بیچوں بیچ دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ان کا ارادہ مجھ سے آگے بڑھ کر ان جھاڑیوں کے جنگل کو گھیرنے کا تھا ۔اگر ایسا ہو جاتا تو میں نے چوہے دان میں پھنس جانا تھا ۔
ایک دم رک کر میں نے ایسی جگہ پر پوزیشن سنبھالی جہاں سے پورا نالہ میری نظروں کے سامنے تھا ،اس کے ساتھ ہی کلاشن کوف کو سنگل راﺅنڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے سب سے آگے والوں کی ٹانگوں پر شست لے کر مسلسل تین بار ٹریگر دبا دیا ۔
دو آدمی منھ کے بل گر کر تڑپنے لگے ۔باقی ایک دم بکھر کے دائیں بائیں پڑے پتھروں کی آڑ میں ہو گئے تھے ۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے اندازے سے جوابی فائرنگ شروع کر دی ۔دو تین مزید گولیاں ضائع کر کے میں کروٹ تبدیل کرتا ہوا ایک جھاڑی کی آڑ میں پہنچا اور جھکے جھکے وہاں سے آگے بڑھنے لگا ۔انھیں ابھی تک پتھروں کی آڑ سے نکلنے کی جرّات نہیں ہوئی تھی ۔
تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میں کھڑے ہو کر دوڑ پڑا ۔کلومیٹر بھر آگے نالہ دو حصوں میں تقسیم ہو رہا تھا اور ان کے وہاں تک پہنچنے سے پہلے مجھے اگلے نالے میں پہنچنا تھا ۔کیونکہ جلد ہی انھیں یقین ہو جانا تھا کہ میں آگے بڑھ گیا ہوں اور اس کے بعد وہ تیز رفتاری سے نالہ موڑ تک پہنچ سکتے تھے ۔
میرے بائیں بازو میں ہلکی ہلکی جلن اور اچھا خاصا درد ہو رہا تھا ۔یقینا گولی نے کافی گہری خراش ڈالی تھی ۔اپنے بازو کی جلد پر مجھے خون کی نمی بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ رک کر بازو پر پٹی وغیرہ لپیٹ سکتا ۔بس اطمینان تھا تو اتنا کہ گولی بازو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی تھی اور رگڑ کھاتے ہوئے نکل گئی تھی ۔
نالے موڑ کے قریب پہنچنے تک میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا ۔کلومیٹر بھر کا فاصلہ جو میدانی علاقے میں دس بارہ منٹ میں آسانی سے طے ہو جاتا ہے اور تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی ،پہاڑی علاقے میں اس سے دگنا وقت لگا کر بھی اتنافاصلہ بہ مشکل طے ہو پایا تھا ۔اور اس کے ساتھ میراسانس یوں پھولا ہوا تھا جیسے میلوں کی مسافت طے کر کے آرہا ہوں ۔
اس جگہ پرتین نالے آکر اس چوڑے نالے میں مل رہے تھے ۔ایک نالہ دائیں طرف سے ، دوسرا بائیں اور ایک نالہ سیدھا آکر اس چوڑے نالے میں مل رہا تھا ۔کیندار نامی گاﺅں کو دایاں نالہ جاتا تھا، لیکن دائیں نالے میں جانے کے لیے مجھے وہ چوڑا نالہ عبور کر نا پڑتا جبکہ دشمن نالے میں موجود تھا اور تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا ۔سیدھا جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ،کہ ایک تو اس نالے میں جھاڑیاں کم نظر آرہی تھیں دوسرا اس نالے میں جاتے ہوئے میں دشمن کو دور سے نظر آسکتا تھا ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں بائیں طرف کے نالے میں گھس گیا کہ اس وقت میری پہلی ترجیح اپنی جان کو بچانا تھا۔ کیندارگاﺅں کو بعد میں بھی ڈھونڈ اجاسکتا تھا ۔
بائیں نالے میں مڑتے ہی میں نالے کے دائیں کنارے کے ساتھ آگے بڑھنے لگا ۔ایک خاص فرق یہ پڑا تھا کہ اس جگہ سے چڑھائی شروع ہو رہی تھی حالانکہ پہلے میں اترائی میں بھاگتا ہوا آرہا تھا ۔چڑھائی میں دوڑنا ناممکن تھا ،میں تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگا ۔جھاڑیوں کے جھنڈ بتدریج اونچائی کی طرف چلے گئے تھے ۔میں بھی نالے میں سیدھاچلنے کے بجائے ترچھا ہو کر اوپر کی طرف چلنے لگا۔ فرلانگ بھر چلنے کے بعد ہی مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔لیکن فائرنگ کا رخ متعین نہیں تھا ۔ اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ وہ میرے جانے کی سمت سے آگاہ نہیں تھے اور اندازے ہی سے فائر کر رہے تھے ۔اس نالے کے دونوں کناروں پر گھنی جھاڑیوں کے جھنڈ موجود تھے ،جبکہ سیدھے نالے میں بھی جھاڑیاں موجود تھیں ۔اور وہی جھاڑیاں مجھے چھپنے میں مدددے رہی تھیں ۔
میں نے قدم روکتے ہوئے ایک جھاڑی کی اوٹ سے نالہ موڑ کی جانب نگاہ دوڑائی ،وہاں پندرہ بیس کے قریب مسلح افراد دکھائی دے رہے تھے ۔یقینا وہ میرے جانے کی سمت کا تعین کر رہے تھے۔ گو وہاں سے مجھے ان کے تیور تو نظر نہیں آ رہے تھے البتہ میرا اندازہ یہی تھا کہ وہ سخت غصے میں تھے ۔ وہ مجھے ناکارہ کرنے آئے تھے ،اس کے بجائے اپنے تین چار آدمی زخمی کرا بیٹھے تھے ۔اور اتنے آدمیوں کے گھیرے سے ایک بندے کا یوں آرام سے نکل جانا انھیں ہضم نہیں ہو ریا تھا ۔وہ لمبا آدمی جسے میں نے دو مرتبہ کلاشن کوف کا بٹ مار کر بے ہوش کیا تھا وہ مجھے نمایاں نظر آرہا تھا ۔مجھے یقین تھا کہ اگر میں اب ان کے قابو میں آجاتا تو اس لمبے نے تو مجھے بغیر وضاحت سنے ہی گولی مار دینا تھی ۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو پارٹیوں میں تقسیم ہوئے آدھے سیدھے جانے والے نالے میں گھس گئے جبکہ بقایا اس نالے میں آگئے جس میں میں موجود تھا ۔البتہ دائیں مڑنے والے نالے کو انھوں نے نظر انداز کر دیا تھا ۔
اسی وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ نیچے ہی نیچے چلتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو مجھے وہیں چھپے ہوئے ان کے آگے نکل جانے کا انتظار کرنا چاہیے ،اس کے بعدمیں واپس جا کر کیندار جانے والے نالے میں گھس کر خود کو محفوظ کر سکتا تھا ۔اس طرح ان کے تعاقب سے بھی میری جان چھوٹ جاتی اور میری منزل بھی کھوٹی نہ ہوتی ۔
لیکن جب میں نے اس پارٹی کومزیدتین حصوں میں منقسم ہوتے دیکھا تو مجھے اپنے منصوبے میں ترمیم کرنا پڑی ۔ان میں سے چا رآدمی نالے کے بائیں کنارے کی طرف بڑھے اور پھیل کر ڈھلان پر چڑھنے لگے ۔چار آدمی دائیں ڈھلان پر چڑھنے لگے کہ جس جانب میں چھپا ہواتھا ۔جبکہ باقی نالے کی تہہ میں آگے بڑھنے لگے ۔
اس کے ساتھ دوسری پارٹی کے آدمی جو سیدھے نالے میں گھسے تھے انھوں نے اپنے تین آدمی نالہ موڑ ہی پر چھوڑ دیے تھے۔گویا میں کسی طرح اپنی تلاش میں آنے والوں کی نظر میں آنے سے بچ بھی جاتا تب بھی واپس نہیں جا سکتا تھا ۔
اپنے منصوبے پر مٹی ڈالتے ہوئے میں جھاڑیوں کی آڑ میں آگے بڑھنے لگا ۔ان کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے مجھے اپنی رفتار کم کرنا پڑی تھی ۔اب آگے بڑھنے کے بجائے میں اوپر چڑھنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا ۔پچاس ساٹھ گز چلنے کے بعد ایک دم چلغوزے کے درختوں کا سلسلہ شروع ہو گیا،ان درختوں کی وجہ سے میں زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا تھا،کیونکہ اب کھڑا ہونے کے باوجود میں دور سے نظر نہیں آ سکتا تھا ۔
اس پہاڑی کی بلندی اتنی زیادہ نہیں تھی جلد ہی میں چوٹی کے قریب پہنچ گیا تھا ۔چوٹی سے پچاس ساٹھ گز نیچے ہی درختوں کا سلسلہ ختم ہو رہا تھا ۔پہلے تو میں نے خطرے سے بچنے کا سوچا اور انھی درختوں کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ،مگر پھر مجھے خیال آیا کہ دشمن کے بلندی پر پہنچنے کی صورت میں میں دونوں جانب سے گھیرے میں آ جاتا اور اس وقت کسی کی بھی نظر مجھ پر پڑ جاتی تو میرا وہاں سے بچ نکلنا مشکل ہو جاتا ۔یہ خیال آتے ہی میں نے محتاط انداز میں بلندی کی طرف قدم بڑھا دیے۔چھدری چھدری جھاڑیوں اور اکادکا پتھریلی چٹانوں کی آڑ لیتا ہوا میں حتی الوسع کوشش کر رہا تھا کہ کسی کی نظر مجھ پر نہ پڑ جائے ۔بد قسمتی یہ تھی کہ صبح سویرے ہی مجھے دشمن کا سامنا کر نا پڑ گیا تھا اس وجہ سے دن گزرنے ہی میں نہیں آرہا تھا ۔اگر اندھیرا چھا جاتا تو مجھے مزید سہولت مل جانا تھی ۔پھر میں دور سے کسی کو نظر نہ آتا اور اس اندھیرے میںپہاڑی علاقے میں ایک آدمی کو تلاش کرنا کسی بڑے اتفاق ہی کے مرہون منت ہو سکتا تھا ۔اورعموماََ ایسے اتفاقات ظہور پذیر نہیں ہوا کرتے ۔
لیکن اندھیرا چھانے میں ابھی آدھے دن سے زیادہ وقت پڑا تھا ۔اور اتنی دیر ان موذیوں کی نظروں سے بچ کر حرکت کرنا نہایت دشوار تھا ۔سب سے بڑھ کروہ یہاں کے مقامی تھے سارا علاقہ ان کا دیکھا بھالا تھا ۔وہ مجھ سے زیادہ تیزی سے ان پہاڑوں میں سفر کر سکتے تھے اورانھیں سانس کا مسئلہ بھی میدانی علاقوں کے لوگوں کی نسبت کم پیش آتا تھا۔
میں اپنا سفری تھیلابھی پیچھے ہی پھینک آیا تھا ۔اب میرے پاس جیبوں میں موجود نقدی،پنڈلی سے بندھے خنجر اور کلاشن کوف کے علاوہ ضرورت کاکوئی سامان باقی نہیں بچا تھا ۔کلاشن کا ایمونیشن بھی تھیلے ہی میں رہ گیا تھا۔شلوبرقبیلے سے فائرنگ کا تبادلہ ہونے کی صورت میں میں چند گولیوں سے کب تک ان کی پیش قدمی روک پاتا۔
وہ کافی طویل پہاڑی تھی ۔اور اوپر پہنچ کر میں کافی تیزی سے حرکت کر کے کسی مناسب نالے یا دوسری پہاڑی کا رخ کر سکتا تھا ۔اورجتنا زیادہ میں دور ہوتا جاتا میری تلاش میں آنے والوں کاایک دوسرے سے فاصلہ بڑھتا جاتا ۔اس فائدہ یہ ہوتا کہ اگر اتفاقاََ کوئی پارٹی مجھ سے ٹکرابھی جاتی تو دوسرے اس کی مدد کو بر وقت نہیں پہنچ سکتے تھے ۔اور اتنا موم کا پتلا میں بھی نہیں تھا کہ تین چار آدمیوں کے قابو میں آجاتا ۔
میں محتاط انداز میں حرکت کرتا ہوا دھیرے دھیرے سے چوٹی کے قریب پہنچتا جا رہا تھا ۔ایک گھنی جھاڑی کے قریب پہنچ کر میں لمحہ بھر سانس لینے کو رکا ،وہاں سے چوٹی تک پندرہ بیس قدم کا فاصلہ باقی تھا لیکن رستے میں کوئی نظری آڑ میسر نہیں تھی جس کا سہارا لے کر میں اوپر پہنچ سکتا ۔لیکن بلندی پر پہنچنا بھی ضروری تھا اس لیے خطرہ مول لیے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا ۔نالے کی طرف نظر دوڑانے پر مجھے کوئی نظر نہ آیا کہ وہاں سے نہ تو نالے کی تہہ نظر آتی تھی اور نہ نالے میں موجود کوئی شخص اس جگہ کو دیکھ سکتا تھا ۔البتہ میرے پیچھے ڈھلان چڑھنے والے افراد مجھے دیکھ سکتے تھے ،اسی طرف نالے کے دوسرے کنارے پر ڈھلان چڑھنے والوں کی نظر بھی اس جانب اٹھ جاتی تو انھیں میں نظر آسکتا تھا ،کیونکہ نالے کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں تھی ۔دل ہی دل میں خدا کو یاد کرتے ہوئے میں نے اوپر کی طرف قدم بڑھا دیے ۔وہ تھوڑا سا فاصلہ میں نے دوڑ کر طے کرنے کی کوشش کی تھی ۔گو بلندی پر دوڑنا قریباََ ناممکن ہوتا ہے کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس پھولنے تو کیا اکھڑنے لگتا ہے ،لیکن چند قدم لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تھا ۔اور پھر میں اوپر پہنچ کر ایک پتھر کی آڑ لینے ہی والا تھا کہ مخالف پہاڑی کی طرف سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھری اور بلا شک و شبہ اس فائرنگ کا نشانہ میری ذات تھی ۔بالکل آخری لمحات میں میں دیکھ لیا گیا تھا بہ قول شاعر ....
قسمت کی خوبی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
گولی چلانے والا کا نشانہ خطا جانے کے باوجود میرا مقصد پورا نہیں پایا تھا ۔نظر آکر میں نے ایک بار پھر انھیں ہدف مہیا کر کے اپنے گرد گھیرا ڈالنے کا موقع دے دیا تھا ۔بہ ہر حال میرے پاس سوگ منانے یا سر پیٹنے کا وقت نہیں تھا ۔دوسری جانب اترنے کے بجائے میں نے بلندی پر ہی آگے بڑھنا شروع کر دیا ۔وہ پہاڑی پانچ چھے سو گز طویل تھی ۔اس کا رخ قریباََجنوب مغرب بن رہا تھا ۔فائرنگ کی آواز تواتر سے آنا شروع ہو گئی تھی ۔گو اب میں ان کی نظروں سے اوجھل تھا لیکن ان کی فائرنگ کے باعث دائیں بائیں پھرنے والی تمام پارٹیاں اس جانب متوجہ ہو گئی تھیں ۔اس کے ساتھ لازمی بات ہے انھوں نے یہ بات مخابرے پر بھی دوسری پارٹیوں کو بتا دی ہو گی ۔تھکن محسوس کرنے کے باوجود میری ٹانگوں میں بجلی بھرگئی تھی اور میں جلد از جلد وہاں سے دور ہو کر کسی ایسی جگہ پہنچنا چاہتا تھا جہاں میری تلاش کے لیے انھیں دوبارہ منتشر ہونا پڑ جاتا ۔ بائیں جانب موجود نالا اس پہاڑی کے ساتھ ساتھ جنوب مغرب کی جانب مڑ رہا تھا ،یقینا نالے کی تہہ میں موجود آدمیوں نے سامنے کی طرف آکر مجھے پکڑنے کی کوشش کرنا تھی ۔البتہ اس پہاڑی کے دائیں جانب جو دو تین نالے لگ رہے تھے میں ان میں سے کسی نالے میں اتر سکتا تھا اور میںنے ایسا ہی کیا ۔ایک نالا چھوڑ کر دوسرے کے نظر آتے ہی میں ڈھلان اترنے لگا۔ اب میرے قدموں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی تھی ۔میں بہ مشکل ایک تہائی ڈھلان اتر پایا تھا کہ مجھے عقب میں فائرنگ کی آواز سنائی دی ۔وہ چاروں آدمی جو میرے پیچھے پیچھے اس ڈھلان پر چڑھ رہے تھے یہ معلوم ہوتے ہی کہ میں بلندی پر ہوں انھیں نے اوپر پہنچتے ہوئے دیر نہیں لگائی تھی ۔بہ ہر حال ابھی تک وہ مجھ سے دور تھے اور اتنے فاصلے سے وہ مجھے نشانہ نہیں بنا سکتے تھے ۔اپنے قدموں میں مزید تیزی لاتے ہوئے میں حتی الوسع کسی آڑ کو اپنے عقب میں رکھ کر آگے بڑھتا گیا ۔نالے میں اترنے کے بعد ہی میں اگلی چڑھائی چڑھ سکتا تھا ۔
جونھی میں نالے میں اترا ایک مرتبہ پھر عقب میں فائر کی آواز سنائی دینے لگی ۔وہ مجھے اپنی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو نے دے رہے تھے ۔سامنے کی پہاڑی پر زیادہ درخت نہیں تھے لیکن اس پر چڑھنے کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ کار نہیں تھا ۔نیچے اترتے وقت ایک اور پریشان کن بات میرے مشاہدے میں آئی تھی ،کہ جس نالے میں میں اترا تھا وہ اس سیدھے نالے سے ٹکرا رہا تھا جہاں شلوبر قبیلے والوں کی دوسری پارٹی میری تلاش میں گئی تھی ۔اس لیے بجائے نالے میں آگے بڑھنے کے میرا بلندی پر پہنچنا ضروری تھا ۔
دوڑتے دوڑتے میں یہ سب کچھ طے کر چکا تھا ،اس لیے نالے میں رکنے کے بہ بجائے میں نے بلندی کا سفر شروع کر دیا تھا ۔ایک بار پھر میرا سانس پھولنے لگا تھا لیکن وہ وقت سانس بحال کرنے کا نہیں تھا ۔غزنی خیل قبیلے کے ساتھ ہمدردی کرنا مجھے کچھ زیادہ ہی مہنگا پڑ رہا تھا ۔شلوبر قبیلے والے غزنی خیلوں پر آیا ہوا غصہ مجھ پر نکال رہے تھے ۔یا شاید ان کی نگاہ میں میرا قصور ناقابل معافی تھا ۔حالانکہ اپنے تیئں میں نے ان کے کسی آدمی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا ،ورنہ بازو یا ٹانگ پر لگنے والی گولی کو سر میں مارنا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔
میری کوشش یہ تھی کہ کسی چٹان ،جھاڑی یا درخت وغیرہ کی آڑ لے کر چلوں ۔ان کے نالے میں اترنے تک میں کلاشن کوف کی کارگر رینج سے دور نکل جانا چاہتا تھا ورنہ نالے میں کھڑے ہو کر وہ مجھے آسانی سے نشانہ بنا لیتے ۔
(ویسے ایک بات میں قارئین کی معلومات کے لیے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ اونچائی اور نشیب میں فائر کرتے وقت کسی بھی ہتھیار کی کارگر رینج بڑھ جایا کرتی ہے ،لیکن یہ سنائپروں کا طریقہ کار ہے اور یہ حساب ایک کلیے کے تحت کیا جاتا ہے ، عام آدمی اس بات سے واقف نہیں ہوتا ہے )
پوری کوشش کے باوجود میں مطلوبہ بلندی تک نہیں پہنچ پایا تھا کہ وہ بھاگتے ہوئے نیچے آرہے تھے ۔میں بہ مشکل دو سو میٹراوپر پہنچا ہوں گا کہ انھوں نے نالے میں پہنچ کر فائرنگ شروع کر دی ۔
فائر کی آواز کانوں میں پڑتے ہی میں فوراََ نیچے لیٹا اور ایک قریب پتھر کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کے لیے تیار ہو گیا ۔وہ چاروں بغیر کسی آڑ کا سہارا لیے نالے درمیان میں کھڑے تھے ۔میری کلاشن کوف کا سیفٹی لیورسنگل راﺅندپرسیٹ تھا ۔مطلوبہ رینج لگا کر میں نے شست لے کر درمیانی آدمی کی ٹانگوں کو نشانہ بنانے لگا۔یوں بھی ان کے رکے ہونے کی وجہ سے وہ آسان ہدف کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔لبلبی دباتے ہی مذکورہ آدمی نیچے گر گیا تھا ۔اس کے ساتھ ہی باقی آڑ کی تلاش میں پہاڑی کی جڑ کی طرف بھاگے ۔ان کے چھپنے کا تماشا دیکھنے کے بجائے میں بلندی پر چڑھنے لگا ۔پہاڑی کی جڑ میں چھپنے کی وجہ سے میں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا ۔اور جلد ہی انھیں اس بات کا احساس ہوجانا تھا ۔ اور میرے گمان کے مطابق تھوڑی دیر بعد ہی ان کی طرف سے فائرنگ شروع ہو گئی ۔وہ نالے کے دوسرے کنارے پر جا کر کسی پتھر وغیرہ کی آڑ لے کر فائرنگ کر رہے تھے ۔اتنی دیر میں میں مزید دور ہو گیا تھا ۔دائیں بائیں پڑے پتھروں سے ٹکرانے والی گولیوں نے مجھے فوراََ ہی یہ باور کر ادیا تھا کہ میں اب تک ان کی رینج ہی میں تھا ۔
ایک مرتبہ پھر مناسب آڑ کے پیچھے لیٹ کر میں ان کی طرف متوجہ ہو گیا ۔زخمی آدمی اب تک اسی جگہ پر موجود تھا ۔زمین پر بیٹھ کر وہ اپنی ٹانگ پر کپڑا لپیٹ رہا تھا کیونکہ خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے یہ کام نہایت ضروری تھا ۔ میں اگر چاہتا تو آسانی سے اس کا عدم آباد کا ٹکٹ کٹوا سکتا تھا ،لیکن اب تک میں انھیں جان سے مارنے سے گریز کر رہا تھا ۔
میں نے فائر کرنے والوں کی پوزیشنوں کا جائزہ لیا دو آدمی آڑ کے اوپر سے فائر کر رہے تھے اور ان کے سر میں گولی مارنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔تیسرا آدمی پتھر کی آڑ کی دائیں جانب سے فائر پر شروع تھا۔ میں نے اسی کے کندھے پر نشانہ سادھ کر فائر کر دیا ۔اس کی چیخ سنتے ہی باقی دونوں مکمل طور پر پتھر کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔
میں وقت ضائع کیے بغیر دوبارہ اوپر چڑھنے لگا ۔اس مرتبہ مجھے نشانہ بنانے کے بجائے وہ اپنے ساتھیوں کو سنبھالنے لگے ۔اس دوران میں ان کی رینج سے نکل گیا تھا ۔بلندی پر پہنچتے ہی میں نے دو تین منٹ رک کر سانس سیدھا کیا اور پھر ایک طرف کوبڑھ گیا ۔
دشمن نے اوپر چڑھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔چار میں سے دو زخمی ہو گئے تھے اور زخمی ساتھیوں کو اکیلا چھوڑ کر انھوں نے میرا تعاقب کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ انھوں نے ریڈیو سیٹ کے ذریعے اپنے دوسرے ساتھیوں کو وہاں بلا لیا ہو۔میری بلا سے کوئی وجہ بھی تھی مجھے جلد از جلد وہاں سے دور نکلنا تھا ۔بیٹھے بٹھائے مفت کی مصیبت گلے پڑ گئی تھی ۔نہ روشن خان مجھے اس دن سیلاب خان کے پاس لے جاتا اور نہ میرا سفر کھوٹا ہوتا ۔اس ہنگامے میں پھنسنے پر اگر میرا کوئی فائدہ ہوا تھا توبس اتنا کہ نوشاد گل کے ذریعے مجھے تھوڑی بہت معلومات مل گئی تھی ۔وہ بھی ادھوری سی کہ وہ ٹریسی اور البرٹ بروک کے ساتھ ایک بار غزنی خیل گیا تھا ۔اب نامعلوم وہ مستقل وہیں رہتے تھے یا ایک بار ہی کسی وجہ سے وہاں گئے تھے ۔خیر کچھ بھی تھا اب مجھے ایک بار تو غزنی تک جانا تھا ۔اگر البرٹ مجھے وہاں نہ بھی ملتا تب بھی شاید اس کے بارے کوئی ہلکا سا سراغ مل جاتا ۔البرٹ سے بھی بڑھ کر مجھے میجر جینیفر ہنڈسلے کو تلاش کرنا تھا ۔ قوی امید تھی کہ اس معاملے میں وہ میری مددضرور کرتی ۔گو اس بارے وہ گزشتا ملاقات میں سرسری سی معذرت کر چکی تھی ،مگر اس وقت میں نے اس پر اتنا زور بھی نہیں دیا تھا ۔یہ بھی ممکن تھا کہ وہ واپس لوٹ چکی ہوتی ۔بہ ہر حال یہ بعد کی باتیں تھیں اس وقت تو مجھے جان بچانے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا ۔ شلوبر قبیلے کے لوگ پیر تسمہ پا کی طرح میرے پیچھے پڑے تھے ۔میرے تعاقب میں آنے والے گو اس پہاڑی کے نیچے ہی رک گئے تھے مگر ابھی تک میں خطرے کی حدود سے نہیں نکلا تھا ۔
پہاڑی آگے جا کر ایک دوسرے بلند پہاڑ سے مل رہی تھی ،درمیان میں کوئی نالہ وغیرہ بھی نہیں تھا ۔دوسری پہاڑی کی انتہائی بلندی پر مجھے برف کی سفیدی نظر آ رہی تھی ۔میرے پاﺅں میں اس وقت سپورٹس شوز تھے،گلگارے کے والد شمریز خان کے بوٹ میرے سفری تھیلے ہی میں رہ گئے تھے ۔ایک بار تو میں نے اوپر نہ چڑھنے کا سوچا ،کیونکہ برف کی وجہ سے اپنے ساتھ پیش آنے والا حادثہ مجھے بھولا نہیں تھا ،لیکن پھر یہ سوچ کر کہ ۔”میں نے کون سا وہاں رہنا ہے ،اس بلندی کو عبور کر کے آگے گزر جاﺅں گا ۔“
یہ سوچتے ہی میرے قدم ایک بار پھر بلندی کی جانب بڑھ گئے ۔کافی مشکل چڑھائی تھی ۔ مجھے صبح سے مسلسل کبھی دوڑنا پڑ رہا تھا اور کبھی چڑھائیاں چڑھنا پڑ رہا تھا ۔ایسی صورت میں تھکن ہونا اچنبھے کی بات نہیں تھی ۔البتہ میں ایسے حالات میں جینا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ابھی تک مجھ میں کافی جان موجود تھی اور میں اتنا نہیں تھکا تھا کہ گر پڑتا ۔
وہاں نصف بلندی تک درخت موجود تھے ۔ جوں جوں میں بلند ہوتا گیا تیز ہوا کے ساتھ سردی بھی بڑھتی گئی ۔گو چڑھائی چڑھتے ہوئے زیادہ مشقت کی وجہ سے پسینہ آجاتا ہے اور سردی کم ہی لگتی ہے ،مگر انسان کو سردی کے بڑھ جانے کا احساس ضرور ہو جاتا ہے ۔
گھڑی دیکھنے پر سوئیاں ایک کا ہندسہ عبور کرتی نظر آئیں۔مجھے دوڑتے، بھاگتے ،نشیب و فراز عبور کرتے قریباََ ساڑھے پانچ گھنٹے ہورہے تھے ۔کیونکہ غزنی خیل سے میں صبح آٹھ بجے کے قریب روانہ ہوا تھا ۔
مزید آدھے گھنٹے بعد میں اوپر پہنچ گیا تھا ۔چند لمحے میں سستانے بیٹھا لیکن ٹھنڈی ہوا میرا مزاج پوچھنے لگی تھی ۔آرام کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں کھڑا ہو گیا ۔دوسری جانب نیچے اترنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑ کر نگاہ دوڑائی ،حد نگاہ تک پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے ۔میرے پاس دوربین موجود نہیں تھی ورنہ میں اپنے دوستوں کی حرکت دیکھنے کی کوشش ضرور کرتا ۔
نیچے اترتے وقت میری رفتار کافی تیز تھی ۔بیس پچیس منٹ میں میں دوسری جانب موجود نالے میں پہنچ گیا تھا ۔نالے میں بہتا پانی دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ صبح سے میں پانی نہیں پی سکا تھا ۔ہاتھوں کا اوک بنا کر میں چھوٹے بڑے پتھروں کے درمیان جاری شفاف پانی سے لطف اندوز ہونے لگا ۔خوب سیر ہو کر ٹھنڈا پانی پینے کے بعد میں نالے ہی نالے میں آگے بڑھ گیا ۔بلندی پر چلنے والی تیز ہوا وہاں بالکل ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی ۔اس نالے کا رخ جنوب مغرب کی طرف تھا ۔نالے کے بائیں کنارے پر جھاڑیوں کا گھنا جھنڈ تھا جو بلندی کی طرف بتدریج چھدرا چھدرا ہوتا گیا تھا ۔البتہ دائیں جانب اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔اپنے جسم کو آرام پہنچانے کے لیے میں مناسب رفتار سے چل رہا تھا ۔لیکن سکون شایدمیری قسمت میں نہیں تھا ۔میں نالے موڑ سے سو ڈیڑھ سو گز ہی دور تھا کہ مجھے چھے سات آدمی موڑ مڑ کر اس جانب آتے دکھائی دیے ۔ٹھٹک کر رکتے ہوئے میں نے فوراََ قریبی جھاڑی کی آڑ لی ،مگر میری تیزی کسی کام نہیں آئی تھی ۔انھوں نے مجھے دیکھ لیا تھا اور بغیر سیکنڈ ضائع کیے انھوں نے کلاشن کوفوں کا رخ میری جانب کرتے ہوئے فائر کھول دیا ۔
ایک بار پھر میری دوڑ شروع ہو گئی تھی ۔چڑھائیاں سر کرنا اس دن میرے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔کندھے سے لٹکی ہوئی کلاشن کوف میں نے ہاتھوں میں پکڑ لی تھی ۔اگر وہ اسی طرح دوڑتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے تو مجھے جلد ہی آلیتے ۔یہ سوچتے ہی میں نے رکتے ہوئے ان کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالنے کی خاطر تین چار گولیاں فائر کر دیں ۔اپنے زخمی ساتھی انھیں بھولے نہیں تھے ۔وہ فوراََ پتھروں کی آڑ لے کر جوابی فائرنگ کرنے لگے ۔میرے پاس ایمونیشن نہ ہونے کے برابر تھا ،میں ان کے ہر فائر کا جواب نہیں دے سکتا تھا ۔اس لیے مزید گولیوں کی بچت کرتے ہوئے میں نے فائر بند کیا اور جھاڑیوں کی آڑ لے کر اوپر چڑھنے لگا ۔
جیسے ہی ان کی طرف سے فائرنگ رکی میں جھاڑیوں کی آڑ سے نکل کر ایک پتھر پیچھے لیٹا اور نالے کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگے تھے ۔انھیں چند قدم لینے دینے کے بعد میں نے ایک گولی فائر کی لیکن جس جگہ سے میں فائر کر رہا تھا وہاں سے لیٹ کر انھیں نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا۔ البتہ گولی چلنے کی آواز نے انھیں بدحواس ہو کر لیٹنے پر ضرور مجبور کر دیا تھا ۔امید تھی کہ وہ اتنی جلدی اٹھنے کی ہمت نہ کرتے ۔البتہ لیٹے لیٹے انھوں نے فائر ضرور کھول دیا تھا ۔
میں نے رینگتے ہوئے قریبی جھاڑی کی آڑ لی اور اور ایک بار پھر اوپر چڑھنے لگا ۔یہ ایک طویل اور لمبی ڈھلان تھی جو بتدریج اوپر کو اٹھتی گئی تھی ۔نقشہ بینی کی اصطلاحات میں ایسی ڈھلان کو پہاڑ کا بازو کہتے ہیں یعنی پہاڑ کی وہ شاخ جس کی بلندی بتدریج کم ہو کر زمین سے مل جائے ۔
بیس پچیس قدم اوپر جاتے ہی مڑ کر دیکھنے پر وہ مجھے حرکت کرتے نظر آئے ،مگر اب وہ جھاڑیوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور میرے گولی فائر کرنے پر وہ زمین پر لیٹ کر آڑ لینے کے بجائے جھاڑیوں کی آڑ لینے کی کوشش کرتے ۔میں نے گولی ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا اور قدموں میں تیزی پیدا کر دی ۔یقینا جھاڑیوں کی آڑ لیتے ہی انھوں نے بھی اپنی رفتار تیز کردینا تھی ۔مقامی ہونے کی وجہ سے وہ مجھ سے زیادہ تیز رفتاری سے پہاڑی چڑھ سکتے تھے ۔مگر میری مثال اس وقت ایسے ہرن کی سی ہو گئی تھی جو جان بچانے کے خوف میں وہ چوڑی کھائی بھی پھلانگ جاتا ہے جسے اس کا تعاقب کرنے والا طاقتور شیر عبور نہیں کر سکتا ۔
اکادکا فائر کی میرے کانوں میں تسلسل سے آرہی تھی ۔یقینا وہ گھنی جھاڑیوں کو فائر کے ذریعے چھان رہے تھے ۔کسی جھاڑی میں چھپنے کی تجویز بھی میرے زیر غور تھی لیکن ان کے گھنی جھاڑیوں پر فائر کرنے نے مجھے اس تجویز پر عمل کرنے سے باز رکھا تھا ۔
مختلف مقامات سے اٹھنے والی فائر وں کی آواز سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دقت پیش نہ آئی کہ وہ پھیل کر آگے بڑھ رہے تھے ۔جھاڑیوں کا جھنڈ زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں نبھا سکتا تھا ۔میں اسی صورت میں بچ سکتا تھا کہ ان کے جھاڑیوں کے جنگل سے نکلنے سے پہلے بلندی پر پہنچ جاتا ۔
جلدہی میں ایسی جگہ پہنچ گیا تھا جہاں سے آگے اکا دکا جھاڑیاں ہی نظر آرہی تھیں ۔میں نے رفتار مزید تیز کر دی،مگر میں زیادہ دیر اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پایا تھا ۔میرا دل جیسے حلق کے رستے باہر آنے کو تیار ہو گیا تھا ۔مجبورا مجھے بھاگنا ترک کرنا پڑا ۔لمحہ بھر رک کر میں نے اپنے سانس بحال کیے اور پھر تیز قدموں سے اوپر چڑھنے لگا ۔
میں بہ مشکل سو ایک سو بیس گز ہی اوپر پہنچا ہوں گا کہ ایک مرتبہ پھر تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔ چند قدم کے فاصلے پر ایک بڑا پتھر پڑا تھا ۔اس کی آڑ لینے کے لیے میں نے رفتار بڑھائی مگر اس سے پہلے ہی مجھے یوں لگا جیسے میری دائیں ران میں کوئی گرم انگارہ گھس گیا ہو۔میں منھ کے بل نیچے گرا ۔اپنے ہاتھ سامنے ٹیکتے ہوئے میں نے خود کو زیادہ زخمی ہونے سے بچالیاتھا ۔وہاں سے رینگتے ہوئے پتھر تک جانا ناممکن تھا ۔کوشش کر کے میں سیدھا ہوا اورجھک کر پتھر کی جانب بڑھا ۔میری دائیں ٹانگ سے بڑی تیزی سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا ۔پتھر کے قریب پہنچنے تک مجھے ایک اور جھٹکا لگا ،اس مرتبہ گولی میری دائیں پنڈلی کا گوشت پھاڑتی ہوئی نکل گئی تھی ۔بائیں پاﺅں پر زور دیتے ہوئے میں نے ایک جھٹکا لیا اور پتھر کے پیچھے پہنچ گیا ۔
آڑ میں جاتے ہی میں نے بغیر وقت ضائع کیے گلے سے لپٹا مفلر کھول کر اپنی ران پر لپیٹنے لگا۔ گولی ران کے اندر ہی رہ گئی تھی ۔مگر اس وقت گولی نکالنے سے زیادہ خون کے بہاﺅ کو روکنا ضروری تھا۔ران پر کس کر مفلر لپیٹنے کے بعد میں نے خنجر نکال کر اپنی قمیص کا دامن پھاڑا اور اسے دو ٹکڑوں میں بانٹ کر پٹی کی شکل دیتے ہوئے پنڈلی پر لپیٹنے لگا ۔
پہلے پہل گولی کا زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم میں درد اور جلن بڑھتی جاتی ہے ۔خاص کر جس زخم میں گولی اندر ہی رہ جائے وہ زیادہ تکلیف دیتا ہے ۔
دونوں زخموں پر پٹی باندھنے کے بعد میں نیچے کی طرف متوجہ ہوا ۔یقینا دشمن کو معلوم ہو گیا تھا کہ مجھے گولی لگ چکی ہے ۔تین آدمی بڑی تیز رفتاری سے اوپر کی جانب بڑھتے نظر آئے ۔سب سے آگے والے کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں سانس روکا اور ٹریگر دبا دیا ....بس بہت رعایت ہو گئی تھی ۔میری جان چھوڑنے پر وہ یوں بھی آمادہ نہیں ہورہے تھے ،یہاں تک کہ اب تو سچ مچ مجھے جان کے لالے پڑ گئے تھے ۔وہ اچھل کر پیچھے کو الٹا اور نیچے لڑھکنے لگا ۔اس ساتھ آنے والے فوراََ نیچے لیٹ گئے اس کے ساتھ انھوں نے موسلا دھار فائر کھول دیا ۔میں اس پتھر کے پیچھے محفوظ تھا ۔البتہ ان کی گولیوں سے بچنے کے لیے مجھے اپنا سر بھی آڑ کے پیچھے کرنا پڑ گیا تھا ۔دونوں نے پوری پوری میگزین ہی خالی کر دی تھی ۔جوں ہی ان کا فائر رکا میں نے اس پتھر کے دائیں جانب سے کلاشن کوف کا دہانہ نکال کر شست سادھ لی ۔ایک آدمی کو تو پتھر کی آڑ مل گئی تھی دوسرا یوں ہی لیٹ گیا تھا ۔اس کے ساتھ اس نے یہ بے وقوفی بھی کی تھی کہ کہنیاں ٹیک کر درست فائر کرنے کے لیے اپنا سر زمین سے بلند کیا ہوا تھا ۔ان کی دو میگزینوں کے جواب میں میں نے ایک اور گولی فائر کر دی ۔ہدف نے اٹھا ہوا سر اپنی کلاشن کوف پر ٹیک دیا۔ماتھے میں پیوست ہونے والی گولی نے اسے زیادہ تڑپنے کا موقع نہیں دیا تھا ۔
اتنی دیر میں پتھر کے پیچھے آڑ لیے ہوئے آدمی نے میگزین تبدیل کرلی تھی ۔اپنے ساتھی کا انجام دیکھتے ہی بدحواسی میں اس نے ایک بار پھر ٹریگر یوں دبایا کہ انگلی اٹھانا اسے بھول گیا تھا ۔میگزین زیادہ دیر تک گولیاں فراہم نہیں کر سکی تھی ۔برسٹ کی صورت فائر ہونے والی تیس گولیاں ختم ہونے میں وقت ہی کتنا صرف ہوتا ہے ۔زیادہ تر گولیاں اس پتھر سے ٹکرائی تھیں جو مجھے آڑ مہیا کیے ہوئے تھا ۔کچھ دائیں بائیں زمین میں لگ کر گرد اڑانے کا سبب بنی تھیں ۔
میں اس کے فائر کے رکنے کا منتظر رہا ۔جونھی اس کا فائر رکا میں ایک بار پھر پتھر کی آڑ کے دائیں جانب سے اس طرف جھانکنے لگا ۔(قارئین یہ بات یاد رکھیں کہ دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے فائرر کے لیے کسی بھی آڑ کی دائیں طرف کا استعمال ہی مناسب رہتا ہے ،کیونکہ آڑ کی بائیں جانب کا استعمال کرنے کی صورت میں اس کا زیادہ جسم دشمن کو نظر آسکتا ہے )
وہ پتھر کے عقب میں بے حس لیٹا تھا ۔میرے خیال میں وہ میگزین تبدیل کر رہا تھا ۔مگر منٹ بھر بعد بھی جب اس کی جانب سے فائر نہ ہوا تو مجھے شک ہونے لگا کہ اس کے پاس گولیاں ختم ہو چکی ہیں۔
اسی وقت مجھے درختوں کے جھنڈ سے ان کے باقی چارساتھی آگے بڑھتے نظر آئے ۔یقینا وہ اپنے ساتھیوں کے انجام سے بے خبر تھے تبھی تو یوں بے فکری سے آگے بڑھ رہے تھے ۔وہ بھی چونکہ میری طرف متوجہ تھا اس لیے اسے بھی اپنے ساتھی نظر نہیں آئے تھے ورنہ وہ انھیں ضرور متنبہ کرتا ۔میں نے فوراََ کلاشن کوف کی بیرل کا رخ آنے والوں کی طرف موڑا ،میرا ارادہ کم از کم دو آدمیوں کو نشانہ بنانے کا تھا ۔ درمیان والے آدمی کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی، اپنے پہلے ساتھی کی طرح وہ اچھل کر پیچھے گرا تھا ۔باقی تینوں نے فوراََ آڑ لینے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں میں ایک اور بار ٹریگر دبا چکا تھا ۔ان کا چوتھا آدمی بھی مجھے مارنے کی حسرت لیے پہلے والے تین کے پاس پہنچ چکا تھا ۔کلاشن کوف کے آٹومیٹک ہونے نے میرے کام کو آسان بنا دیا تھا ۔
بچنے والے دونوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ان کے اضطراری فائر سے گھبرا کر ان کے آگے لیٹے ہوا ساتھی گھبرا کربا آواز بلند انھیں فائر سے منع کرنے لگا ۔کیونکہ وہ ان کے اور میرے درمیان میں لیٹا ہوا تھا ۔انھیں منع کرتے کرتے وہ اس پتھر کی اونچائی کا حساب نہیں رکھ پایا تھا جس کے پیچھے وہ چھپا ہوا تھا ۔اس کی کھوپڑی کا عقبی حصہ پتھر کے اوپر سے جھلکا اور مجھے بس اتنا ہی ہدف درکار تھا ۔سو گز سے چلائی ہوئی کلاشن کوف کی طاقتور گولی نے کھوپڑی کے عقب سے گھس کر اسے دنیا کی ہر فکر اور اندیشے سے دور کر دیا تھا ۔
مرنے سے پہلے اس نے بچنے والوں دونوں ساتھیو ں کو مرنے والوں کے انجام سے با خبر کر دیا تھا ۔بلکہ ان دونوں نے بھی دیکھ لیا تھا ٹانگوں اور بازوﺅں میں لگنے والی گولیاں اب سر اور ماتھے میں پیوست ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔
اچانک ان میں سے ایک آدمی نے اٹھ کر نیچے کی طرف بھاگنا شروع کر دیا ۔یقینا وہ خوفزدہ ہوگیا تھا ۔لیکن اب چاہے وہ خوفزدہ ہو کر ، چاہے کسی مقصد سے بھاگتے میں انھیں رعایت دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔وہ بہ مشکل تین قدم ہی لے پایا تھا ۔اس سے آگے گولی نے اسے جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔اس کے تڑپتے ہوئے جسم کو ایک بڑے پتھر نے نیچے لڑھکنے سے روکا تھا ۔
اب ہم دو بچ گئے تھے ۔ممکن تھا کہ اسے مزید ساتھیوں کی کمک مل جاتی ،مگر فی الحال وہ بھی اکیلا تھا ۔اپنے آخری ساتھی کے ہلاک ہوتے ہی اس نے بھی اپنی کلاشن کو ف کو برسٹ پر سیٹ کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برسٹ میری جانب فائر کرنے لگا ۔مجبورا مجھے پتھر کے پیچھے سر چھپانا پڑا ۔
اچانک اس کے فائر سے مجھے محسوس ہوا جیسے وہ کھڑا ہو گیا ہو ۔اس کے ساتھ ہی اس کا فائر آہستہ آہستہ دور ہٹنے لگا ۔یقینا وہ بھاگنے کی کوشش میں تھا ۔اور اس مقصد کے لیے وہ مجھے سر اٹھانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔وہ ہر برسٹ تین چار گولیوں کا فائر کر رہا تھا ۔میں اس کے فائر ہونے والے برسٹ گننے لگا۔ساتویں اٹھویں برسٹ پر میں نے رسک لیتے ہوئے پتھر سے جھانکا ۔وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹیکے نئی میگزین لگا رہا تھا ۔اگر مجھے پتھر سے جھانکنے میں دو سیکنڈ کی بھی دیر ہوجاتی تووہ دوبارہ فائر شروع کر چکا ہوتا۔جب میں نے جھانکا اس وقت وہ کلاشن کوف کو کاک کر رہا تھا ۔جبکہ میری کلاشن کوف پہلے سے کاک تھی اور یقینا وہ مجھ سے تیز رفتا ر فائر نہیں تھا ۔نئی میگزین سے گولی چلانے کی حسرت دل میں لیے وہ اپنے ساتھیوں سے جا ملا تھا ۔
آخری دشمن کے مرتے ہی میں نے اپنا سر پتھر پر ٹیک دیا تھا ۔ایک دم مجھے اپنے زخموں میں ہونے والی تکلیف کا احساس ہونے لگا ۔مجھے نہایت ناگفتہ بہ صورت حال کا سامنا تھا ۔میری دائیں ٹانگ میں دو گولیاں لگی تھیں ۔پٹی باندھنے کے باوجود خون رس رہا تھا ۔اور پوری ٹانگ جیسے پھوڑا بنی ہوئی تھی۔ایسی حالت میں پہاڑی پر چڑھنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔البتہ بہت زیادہ ہمت کر کے نیچے اترنے کی کوشش کی جا سکتی تھی ۔
کلاشن کوف کی میگزین اتار کر دیکھنے پر مجھے فقط دو گولیاں نظر آئیں ۔میگزین لگا کر میں نے سیفٹی لگائی اور کلاشن کوف کا بٹ ڈنڈے کی طرح نیچے ٹیک کر اس کے سہارے کھڑا ہوگیا ۔میری ٹانگ میں اتنا شدید درد اٹھا تھا کہ کراہیں روکنے کے لیے مجھے سختی سے ہونٹ بھینچنے پڑ گئے تھے ۔
لمحہ بھر درد کو سہارنے کے بعد میں نے اترائی میں قدم بڑھا دیے ۔چند قدم لینے کے بعد ہی میں بے دم ہو کر بیٹھ گیا ۔درد بہت زیادہ بڑھ گیا تھا ۔دائیں ٹانگ جیسے مفلوج ہوتی جا رہی تھی ۔میں دائیں ٹانگ کونیچے لگانے کے بجائے بائیں ٹانگ پر کودتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔اچانک مجھے عقب میں آہٹ سنائی دی میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،چار مسلح افراد ڈھلان سے نیچے آتے دکھائی دیے ۔
میری کلاشن کوف میں فقط دو گولیاں باقی تھیں ۔میرے اندازے کے مطابق جو آدمی سب سے پہلے میری گولی کا نشانہ بنا تھا ،اس کی میگزین میں گولیاں موجود ہونی چاہیے تھیں ۔وہ وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر پڑا تھا ۔میں اس قابل نہیں تھا کہ تیزی سے حرکت کرتا ۔لیکن اب زندگی ،موت کا مسئلہ بن گیا تھا ۔میں نے تیزی سے حرکت کرنے کی کوشش کی اور دو تین قدم لیتے ہی میرا بایاں پاﺅں ایک چھوٹے سے پتھر کے اوپر آکر پھسلا ، میں منھ کے بل گر ااوراس کے ساتھ ہی لڑھکتے ہوئے نیچے جانے لگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے میری دائیں ٹانگ پر کوئی ہتھوڑے مار رہاہو۔ کوشش کے باوجود میں خود کوروک نہیں پارہا تھا ۔شاید میری مشکل ایک پتھر کی چٹان نے حل کی تھی ۔شاید میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت تک میں اپنے حواس کھو چکا تھا ۔اور ایسے وقت میں جب دشمن سر پر پہنچ چکا ہو بے ہوش جانے کا مطلب زندگی سے ہاتھ دھو لینا تھا ۔میری ساری کوششیں اور تگ و دو رایگاں گئی تھیں ۔بہ قول شاعر
زندگی تم نے کب وفا کی ہے
اپنی خوش فہمی ہی بلا کی ہے
جاری ہے
 

آنکھ کھلتے ہی میں چند لمحے بے دھیانی میں پڑا رہا ۔گو ایک سنائپر کا دماغ ہر وقت چوکنا ہی رہتا ہے اور نیند سے اٹھتے ہی اسے ماحول اور صورت حال کا اچھی طرح ادراک ہوتا ہے ۔مگر اس وقت میں نیند سے نہیں جاگا تھا بلکہ طویل بے ہوشی سے اٹھا تھا ۔
آہستہ آہستہ میرا شعور بیدار ہوا اور مجھے یاد آگیا کہ میں کہاں ہوں ۔مجھے حیرانی اس بات پر تھی کہ ابھی تک میں زندہ کیسے ہوں۔شلوبر قبیلے کے آدمیوں کو تو مجھے بغیر کسی تاخیر کے ہلاک کر دینا چاہیے تھا۔مگر میں نہ صرف زندہ تھا بلکہ ٹانگ، پنڈلی اور بازو پر بندھی ہوئی سفید پٹیاں بھی مجھے یہ باور کر ا رہی تھیں کہ بے ہوشی کے دوران ہی میرا آپریشن وغیرہ ہو چکا تھا ۔میں نے دائیں بائیں نظریں گھمائیں وہ جگہ مجھے کسی غار کی طرح لگی ،کیونکہ کمرے کی دیواریں اتنی کھردری اور بے ترتیب نہیں ہو سکتی تھیں ۔میں فرش پر بچھے ایک نرم گدے پر لیٹا تھا ۔سرہانے کی طرف دیوار میں گڑی کیل کے ساتھ ایک ڈرپ لٹکی تھی جس کا ایک سرا سوئی کے ساتھ میری کلائی سے جڑا تھا ۔میرے پاﺅں کی طرف ایک بیٹری پڑی تھی جس سے منسلک تار چھت میں لگے ایک ڈی سی بلب کو روشن کیے ہوئے تھی ۔دروازے کی جگہ ایک کالے رنگ کا کمبل لٹکا ہوا نظر آرہا تھا ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے عقب میں دروازہ موجود بھی تھا یا نہیں ۔ اندر جلنے والے بلب کی وجہ سے رات دن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔
نہ جانے بے ہوشی کے دوران کتنا وقت گزر گیا تھا ۔میری کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی غائب تھی۔ اسی طرح میرا لباس بھی تبدیل کردیا گیا تھا ۔جس طرح میری دیکھ بھال کی گئی تھی ،میرے ساتھ ایسا برتاﺅ شلوبر قبیلے والے تو کسی صورت میں بھی نہیں کر سکتے تھے ۔میں ذہنی ورزش میں مشغول ہو گیا ،لیکن کافی دیر اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بعد بھی میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا تھا ۔اور پھر میں انھی سوچوں میں غرق تھا کہ پردہ ہٹا کر کوئی اندر داخل ہوا ۔
آنے والے کے چہرے پر نظر پڑتے ہی میرا دل خوش گوار انداز میں دھڑکنے لگا تھا ۔وہ کمانڈر عبدالحق تھا ۔اسی کی وجہ سے میرا تعارف پہلی بار مجاہدین سے ہوا تھا اور اس کے بعد مجاہدین میرے کافی کام آئے تھے ۔
”آپ کو ہوش آگیا ہے۔“محبت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ قریب آ کر بیٹھ گیا ۔
میں مسکرایا ۔”ہوش تو آگیا ہے مگر سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔“
”جن مسلح آدمیوں کو دیکھ کر آپ بھاگنے کی ناکام کوشش میں بے ہوش ہوئے تھے وہ آپ کے دشمن نہیں مجاہدین تھے ۔“
میں نے سمجھ جانے والے انداز میں سر ہلایا۔”اس کا مطلب ہے میرا بے ہوش ہو جانا فائدہ مند رہا ،ورنہ میں نے مقابلے سے باز نہیں آنا تھا ۔“
کمانڈر عبدالحق نے قہقہہ لگایا ۔”یقینا ہمارے مجاہدین کے چند سانس بقایا تھے ۔“
میں خفیف ہوتا ہوا بولا۔”خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں ۔“
”کسر نفسی ہے آپ کی ،ورنہ وہاں کافی لاشیں بکھری ہوئی نظر آئی ہیں اور تمام کے سر میں گولی لگی تھی ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے پوچھا ۔”ویسے آپ کسی افغانی قبیلے سے کیسے ٹکرا گئے ۔یہ لوگ تو پاک آرمی کے دشمن نہیں ہیں ۔“
”لمبی کہانی ہے ۔“
وہ مسکرایا ۔”ایسی حالت میں کہانیاں سنانے کے علاوہ آپ کے پاس کوئی کام نہیں بچا ۔“
”پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ مجاہدین وہاں کیسے آگئے اور انھوں نے مجھے پہچانا کیسے ۔“
”پہچانا کہاں ہے ،وہاں آپ اکیلے ہی زندہ بچے تھے اس لیے آپ کو لے آئے ۔یہاں خوش قسمتی سے میں خود موجود تھا ۔بس سب سے پہلے تو آپ کو طبی امدا د دی ،ٹانگ میں پھنسی گولی نکالی ،مرہم پٹی کی اور پھر کمزوری کی وجہ سے ڈرپ لگا دی ۔یہ پانچویں ڈرپ ختم ہوئی ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے میری کلائی سے سوئی نکال کر وہاں روئی رکھ کر دبا دی ۔
”گویا مجھے بے ہوش ہوئے دوسرا دن ہے ۔“
”کل شام کو آپ کو یہاں لایا گیا تھا ۔اور ابھی رات کے بارہ بجنے کو ہیں ۔“
”آپ سوئے نہیں ۔“
”ڈرپ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا ۔“
میں نے پوچھا ۔”یہ جگہ غار کی طرح لگ رہی ہے ۔“
”یہ غار ہی ہے ۔جس جگہ آپ کا دشمنوں سے مقابلہ ہوا ہے اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہمارا یہ ٹھکانہ موجود ہے ۔“
”یعنی میں نے بے دھیانی میں صحیح سمت اختیار کیے رکھی ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا ۔”اوراب آپ تفصیل بھی بتا دیں کہ یہ لوگ کیوں آپ کے پیچھے پڑے تھے ۔“
جواباََ میں نے غزنی خیل اور شلوبر کی آپس کی لڑائی میں اپنے غلطی سے پھنس جانے کے متعلق بتانے لگا ۔ساری تفصیل سنتے ہی اس نے پوچھا ۔
”آپ نے افغانستان آنے کی وجہ نہیں بتائی ۔“
اس مرتبہ میں نے البرٹ بروک کے ہاتھوں بلیک میل ہونے اور اپنی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈنے کے متعلق ضروری تفصیل دہرا دی ۔پلوشہ کے ساتھ میری شادی کی خبر سن کر وہ خوش ہو گیا تھا ۔
”سب سے پہلے تو شادی کی مبارک ہو ۔“
”خیر مبارک بھائی !....مگر اب نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی ۔“میں افسردہ ہو گیا تھا ۔
”پلوخان کسی سے مار کھانے والا نہیں ۔وہ میرا بہت لاڈلا شاگرد تھا۔تمام استادوں سے میں نے اس کی تعریف ہی سنی ہے ۔ایک مشن میں تو وہ میرے ساتھ بھی کام کر چکا ہے ،یقین مانو دل خوش ہو جاتا ہے اس کی کارکردگی دیکھ کر ۔“
”ہاں ،مگر اس وقت وہ پلو خان تھی اور ابھی پلوشہ ہے ۔“
وہ بے تکلفی سے بولا ۔”نام کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہوتا یار !“
”بات نام کی نہیں جنس کی تبدیلی کی ہے بھائی !....ایک جوان لڑکی کو دشمنوں کے ہتھے چڑھنے کے بعد کیا مشکلات درپیش آسکتی ہیں اس بارے یقینا آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے ۔“
”یہ تو صحیح کہا ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”مگر آپ خواہ مخواہ برے گمان نہ پالیں اللہ پاک بہتر کرے گا ۔“
”ایک اسی ذات کا سہارا ہے ۔“میں نے امید ظاہر کی ۔
”تو اب آپ غزنی جائیں گے ۔“
میں نے کہا۔”ارادہ تو یہی ہے ۔“
”آپ کے زخم ٹھیک ہوتے کچھ وقت تو لگے گا اور میرا نہیں خیال کہ اس وقت تک البرٹ بروک وغیرہ آپ کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے ۔“
”مجھے اپنا ہتھیار نظر نہیں آرہا ۔“دائیں بائیں نظریں دوڑاتے ہوئے میں نے موضوع تبدیل کیا ۔
”ساتھی وہاں پڑے سارے ہتھیار ہی سمیٹ لائے تھے اوران میں موجودکمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی خاص کلاشن کوف پہچاننے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔“
میں نے تحسین آمیز لہجے میں کہا ۔”بڑی تیز نظر ہے آپ کی ۔“
”وہ میرے استاد ہیں اور میں نے ان کے ہمراہ ان گنت معرکوں میں حصہ لیا ہے ۔ان کی کلاشن کوف اس لیے بھی خصوصی ہے کہ انھوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ کلاشن کوف وہ ایسے شخص کو تحفہ میں دیں گے جو ان کی نظر میں اس کا صحیح حق دار ہوگا۔اورمیرا خیال ہے انھوں نے ایسا آدمی تلاش کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”یقینا آپ مذاق اچھا کر لیتے ہیں ۔“
”اچھا آپ سچ سچ بتائیں کہ استاد محترم نے یہ کلاشن کوف آپ کے حوالے کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟“
مجھے نصراللہ خوجل خیل کی باتیں اچھی طرح یاد تھیں ۔انھوں نے بھی کمانڈر عبدالحق اے ملتی جلتی ہی باتیں کی تھیں ۔یوں بھی مجاہدین کے درمیان میری نشانہ بازی کا کافی چرچا تھا ۔اور اس کی وجہ یہی تھی کہ کچھ تو مجھ میں قدرتی طور پر نشانے بازی کی صلاحیت موجود تھی اور کچھ یار لوگوں کی مبالغہ آرائی نے مجھے شہرت دے دی تھی ۔میں جواب سے پہلو تہی کرتے ہوئے بے پروائی سے بولا۔ ”یہ بعد کا مسئلہ ہے فی الحال تو مجھے بھوک لگی ہے ۔“
”اوہ مجھے خیال ہی نہیں رہا تھا ۔میں آپ کے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔“خفت بھرے انداز میں کہتے ہوئے وہ غار سے باہر نکل گیا ۔
٭٭٭
افغانستان کے مختلف پہاڑوں میں مجاہدین نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ۔وہ بھی مجاہدین کا ایک محفوظ ٹھکانہ تھا ۔اور میری خوش نصیبی کہ جس جگہ میرا شلوبر قبیلے سے آخری ٹاکرا ہوا یہ ٹھکانہ وہاں سے قریب ہی تھا ۔اس کی حیثیت رستے میں آنے والی ایک چوکی کی سی تھی کہ پاکستانی سرحد عبور کرنے والے مجاہدین وہاں ایک دن گزار کر آگے بڑھ جاتے تھے ۔وہاں مجاہدین کی محدود تعداد ہی رہتی تھی ،اس کے باوجود اس ٹھکانے کے دائیں بائیں ہونے والی کسی بھی کارروائی کو وہ نظر انداز نہیں کر سکتے تھے ۔
اس دن بھی جب میرا شلوبروں سے فائرنگ کا تبادلہ ہورہا تھا انھیں بھی وہ فائرنگ سنائی دے گئی تھی ۔وہاں کمانڈر عبدالحق ہی امیر تھے ۔انھوں نے چار آدمی صورت حال کا جائزہ لینے بھیجے ۔اوران چاروں کو زندہ حالت میں صرف میں ہی ملا تھا ،اس لیے وہ مجھے اٹھا لائے ۔کمانڈر عبدالحق نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔میری ٹانگ کاآپریشن انھوں نے خود ہی کیا تھا ۔کچھ بے ہوشی کے ٹیکے اور کچھ کمزوری کی وجہ سے مجھے انتیس ، تیس گھنٹوں بعد ہی ہوش آ سکا تھا ۔
میرے ہوش میں آنے کے اگلے دن شلوبر قبیلے کا ایک وفد وہاں پہنچ گیا تھا ۔اپنی لاشیں وہ ایک دن پہلے ہی اٹھا کر لے گئے تھے ۔لیکن اب ان کی آمد کا مقصد اپنے ہتھیاروں کی واپسی اور مجھے تحویل میں لینا تھا ۔کمانڈر عبدالحق کو ساری تفصیل معلوم تھی ۔ان کے ہتھیار واپس کر تے ہوئے کمانڈر عبدالحق نے الٹا انھیں مطعون کیا کہ ان کی وجہ سے ایک مجاہد زخمی ہواہے ۔چونکہ اس ساری کارروائی میں شلوبر قبیلے کی غلطی زیادہ تھی اس لیے جلد ہی انھیں مجھے تحویل میں لینے کے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑا۔ میرا غزنی خیل قبیلے کا ساتھ دینا اپنی جان بچانے کی وجہ سے تھا ۔اور جب تک شلوبروں نے مجھے مجبور نہیں کیا ،تب تک میں نے ان کے کسی آدمی کو جان سے بھی نہیں مارا تھا ۔البتہ آخری معرکے میں مجبور ہو کر مجھے انتہائی اقدام اٹھانا پڑا تھا۔اسی بات کو کمانڈر عبدالحق نے نہایت وضاحت سے انھیں سمجھا دیا ،کہ اگر میں چاہتا تو جتنے آدمی زخمی کیے تھے ان تمام کو جان سے بھی مار سکتا تھا ۔اور یہ بات تو انھیں بھی تسلیم تھی کہ میری فائر کی ہوئی گولیوں سے ان کا کوئی بھی آدمی جان سے نہیں گیا تھا سوائے ان سات آدمیوں کے جنھیں مارنا میرے لیے ناگزیر ہو گیا تھا ۔شلوبر وں کو اس لیے بھی خاموش ہونا پڑا کہ کسی قبیلے سے تو وہ دشمنی پال سکتے تھے ، مجاہدین کے لشکر ساتھ ٹکر لینا ان کے لیے ممکن نہیں تھا ۔اس کے ساتھ غزنی خیل قبیلے سے بھی ان کی لڑائی عروج پر تھی اس لیے یہ محاذ انھیں بند کرنا ہی مناسب لگا اورہتھیاروں کی واپسی ہی کو غنیمت سمجھتے ہوئے وہ واپس چلے گئے تھے ۔
ان کے جانے کے بعد کمانڈر عبدالحق نے مجھے ساری تفصیل کہہ سنائی تھی ۔ایک خواہ مخواہ کی مصیبت سے جان چھوٹنے کا سن کر میں نے سکھ بھرا سانس لیا تھا ۔ان سے کوئی بعید نہ تھا کہ کبھی دوبارہ میرے سامنے آنے پر میری جان کے درپے ہو جاتے ۔اب کمانڈر عبدالحق کے سمجھانے کی وجہ سے یقینا میرے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وہ سو بار سوچتے ۔
کمانڈر عبدالحق کی بات ختم ہوتے ہی میں نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا ۔”ویسے آپ نے جھوٹ کیوں بولا کہ میں آپ کا ساتھی ہوں اور مجاہد ہوں ۔“
وہ سنجیدہ لہجے میں بولا ۔”آپ کے مجاہد ہونے میں مجھے تو کوئی شبہ نہیں پھر یہ جھوٹ کیسے ہو گیا۔اسی طرح ساتھی صرف اس کو نہیں کہتے جو آپ کے شانہ بہ شانہ لڑے ،بلکہ وہ آدمی بھی ہمارا ساتھی ہی کہلاتا ہے جو لڑ تو کسی دوسرے محاذ پر رہا ہو لیکن اس کا اور ہمارا مقصد مشترک ہو ۔“
”گویا آپ کے نزدیک میرا اور آپ کا مقصد مشترک ہے ۔“
”بالکل مشترک ہے ،آپ بھی کفر سے برسرِ پیکار ہیں ہم بھی یہی مقصد لیے میدان میں اترے ہوئے ہیں ،بس طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے ۔بلکہ آپ نے تو کئی بار اسلحے کی صورت میں مجاہدین کی کھلم کھلا مدد بھی کی ہے ۔اور ایسا کوئی ساتھی ہی کیا کرتا ہے غیر نہیں ۔“
میں مسکرایا ۔”ٹھیک ہے جی میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔“
کمانڈر عبدالحق میری ہنسی میں شامل ہوتا ہوا بولا ۔”غلط الفاظ واپس لینے ہی میں بھلائی ہوتی ہے ۔“
٭٭٭
زندگی میں ایک دم ٹھہراﺅ آگیا تھا ۔اس سے پہلے بھی میں ایک بار زخمی ہو کر کمانڈر نصراللہ خوجل خیل کی بیٹھک میں صاحب فراش رہ چکا تھا ۔جب میری تیمار دار ،میری جانِ حیات پلوشہ تھی ۔گو اس وقت تک اس سے اقرار الفت تو نہیں ہو پایا تھا اس کے باوجود وہ وقت ایک خوشگوار یاد کی صورت میرے دل میں مقید تھا ۔پلوشہ نے جس طرح میری خدمت کی تھی اور جیسے میرا خیال رکھا تھا ایسا کوئی نہایت ہی محبت کرنے والا ہی رکھ سکتا ہے ۔اور اب وہ پلوشہ جانے کہاں چلی گئی تھی ۔لگتا تھا شاید اسے دیکھے صدیاں بیت گئی ہوں ۔اپنے آرام و سکون کو ٹھوکر مار کر وہ میری بے گناہی کے ثبوت حاصل کرنے گئی تھی ۔اس کے ساتھ میرا یار سردار خان بھی تھا ۔نہ جانے وہ بہن بھائی کہاں بھٹکتے پھر رہے تھے ۔
میرے دن رات نہایت بے کیف گزر رہے تھے ۔عضو معطل بن کر میں کسی کا م کا نہیں رہا تھا ۔ بس آنے جانے والے مجاہدین کی باتین سن کر میں جی کو بہلاتا رہتا ۔اکیلا بیٹھنے کی صورت میں تو پلوشہ فوراََ آدھمکتی تھی ۔بہ قول مومن ....
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
کھانے پینے کا سامان اور روزمرہ ضروریات کا دوسرا سامان وہ پکتیکا سے لے کر آتے تھے ۔
مجھے وہاں ہفتے سے زیادہ ہو نے کو تھا ۔اس دن بھی چار مجاہد آئے ہوئے تھے ۔وہ چھٹی جا رہے تھے ۔ میں بھی کمانڈر عبدالحق کے ساتھ بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا ۔وہ چاروں قرہ باغ سے آئے تھے۔
کمانڈر عبدالحق اسلام نامی مجاہد کو مخاطب ہوا ۔”اسلام بھائی !....اس مرتبہ کچھ دیر سے چھٹی جا رہے ہو۔“
اسلام نے جواب دیا ۔”یوں تو میرا ارادہ پچھلے ماہ ہی چھٹی جانے کا تھا مگرکام کچھ بڑھ گیا تھا مجبور اََ مہینا بھر مزید گزارنا پڑا ۔“
”تو ان کی چھٹی بھی موّخر کرنا تھی نا ۔“کمانڈر عبدالحق نے مزاحیہ انداز میںباقی تینوں کی طرف اشارہ کیا ۔
اسلام ہنسا۔”کیوں مجھے مروانے کے چکروں میں ہو یار!....ایک تو دشمن نے ہماری حرکت کو محدود کیا ہوا ہے اور تم چاہتے ہو اندرونِ خانہ بھی دشمن کھڑے ہو جائیں ۔“
”یہ تو خیر کمانڈر زیادتی کر رہا ہے ۔“شفیق نامی مجاہد صفائی پیش کرتے ہوئے بولا ۔”انھوں نے خود ہی ہمیں چھٹی کے لیے زور دیا ہے ۔“
عبدالحق پوچھنے لگا ۔”ویسے دشمن کی بات میرے سر پر سے گزر گئی ہے ۔“
اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا آپ تک یہ خبر نہیں پہنچی ؟“
”کون سی ۔“کمانڈر عبدالحق ہمہ تن گوش ہو گیا ۔میرے کان بھی کھڑے ہو گئے تھے ۔
اسلام تفصیل بتلاتے ہوئے بولا ۔”ایک برطانوی نشانے باز نے حقیقت میں اپنی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔قریباََبیس بائیس مجاہد اس کی گولی کا شکار ہو چکے ہیں ۔ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے سے بھی کم بخت کی گولی سر ہی میں لگتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ہماری حرکت کافی محدود ہو گئی ہے ۔اندھیرے کے تیر کی طرح نہ جانے کس کونے سے نکلتا ہے اور ہمارے دوتین ساتھیوں کو شہید کر کے غائب ہو جاتا ہے ۔ اپنے مخبروں سے ہمیں یہی معلوم ہوا ہے کہ اس کا نام نک سٹیورٹ ہے برطانوی آرمی سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی مدد گار بھی کوئی برطانوی لڑکی ہی ہے وہ بھی اچھی خاصی ماہرنشانہ باز ہے ۔ ہم اپنی پوری کوشش کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے ہیں ۔“
عبدالحق گہرا سانس لیتے ہوئے بولا ۔”عجیب بات سنا رہے ہو ۔“
اسلام نے کہا ۔”ہونہہ،عجیب سہی مگر حقیقت ہے ۔“
میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا ۔”آپ لوگوں کے پاس دور مار ہتھیار نہیں ہے کیا ؟“
اسلام میری طرف متوجہ ہوا ۔”کیوں نہیں ہے ۔چند ماہ پہلے ہی ہمارے ہاتھ تین ہیوی رائفلیں لگی ہیں ۔کمانڈر صدیق بتا رہا تھا کہ وہ رینج ماسٹر ہیں ۔اور دو کلو میٹر تک کسی بھی آدمی کو ان سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ان کا ایمونیشن بھی موجود ہے لیکن دو کلومیٹر تو کیا ہم میں سے کوئی دو تین سو میٹر کے فاصلے پر بھی اس رائفل سے نشانہ نہیں بنا سکتا ۔ہمیں تو بے کار وزن ہی محسوس ہورہی ہیں ۔“
وہ رینج ماسٹر کو بے کار وزن کہہ رہا تھا ۔یقینا ان میں سے کوئی رینج ماسٹر کی افادیت سے واقف نہیں تھا ۔ورنہ وہ کبھی بھی ایسا نہ کہتے ۔میں نے پوچھا ۔”کمانڈر صدیق بھی اس سے فائر نہیں کر سکتا ۔“
”کمانڈر صدیق نے ان رائفلوں کے اندر موجود کتابچے سے ان کانام ہمیں بتایا ہے ۔باقی اس رائفل کے بارے وہ بھی کچھ زیادہ نہیں جانتا ۔“
”صحیح ہے ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں خاموش ہو گیا ۔
کمانڈر عبدالحق بڑے غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا ۔مگر میں جان بوجھ کر انجان بنا بیٹھا رہا ۔
اسلام ،عبدالحق کی طرف متوجہ ہوا ۔”ویسے آپ نے ذیشان بھائی کا مکمل تعارف نہیں کرایا ۔“
”ذیشان بھائی کا تعلق پاک آرمی سے ہے اور انھوں نے کافی بار ہماری مدد کی ہے ۔اب کسی کام کے سلسلے میں افغانستان آنا ہوا ،رستے میں غلط فہمی میں ایک قبیلے سے ٹاکرا ہو گیا ،انھی سے لڑتے ہوئے زخمی ہو گئے ہیں ۔خوش قسمتی سے ہمارے ٹھکانے کے نزدیک ہی یہ لڑائی ہوئی تھی ،بس ہم بھائی کو یہاں لے آئے ۔ہفتہ ڈیڑھ ہی ہوا ہے تب سے یہیں پر ہیں ۔اور جب تک مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتے میں انھیں کہیں جانے کی اجازت بھی نہیں دوں گا ۔“
اسلام فوراََ شاکی ہوا ۔”کس قبیلے سے لڑائی ہوئی تھی ،کم از کم آپ کو ان سے گلہ تو کرنا چاہیے تھا۔ جو شخص ہمارا مددگار رہ چکا ہو وہ ہمارا ساتھی ہی ہے اور ہمارے ساتھیوں کو کوئی یوں زخمی کرے اس کی اجازت ہم نہیں دے سکتے ۔“
کمانڈرعبدالحق ہنسا۔”صحیح کہہ رہے ہیں آپ ،گلہ کرنا تو ہمارا بنتا تھا لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا اس لیے مجھے خاموش ہونا پڑا ۔“
”کیسا مسئلہ ؟“اسلام نے حیرانی سے پوچھا ۔
کمانڈرعبدالحق اطمینان سے بولا ۔”یہی کہ اس قبیلے کے دودرجن افراد زخمی ہوئے اس کے علاوہ انھیں سات لاشیں بھی اٹھانا پڑیں ۔“
”کک....کیا مطلب ؟“اسلام ششدر ہی تو رہ گیا تھا ۔اس کے باقی تین ساتھی بھی حیرانی سے مجھے گھورنے لگے تھے ۔
کمانڈرعبدالحق نے منھ بنایا ۔ ”میں نے عبرانی تو نہیں بولی ،سادہ پشتو ہی میں بات کی ہے ۔“
”مگر اکیلا آدمی ....؟“
کمانڈرعبدالحق تحسین امیز لہجے میں بولا۔ ”جی اکیلا آدمی اگر ایس ایس ہو تو بہت کچھ کر سکتا ہے ۔“
”ایس ایس ....“اسلام نے مجھے گھورتے ہوئے کہا ۔”گویا آپ کا مطلب ہے ذیشان بھائی ہی ایس ایس ہے ۔وہی پلو خان ،میرا مطلب پلوشہ کا ساتھی ۔“
”ساتھی نہیں شوہر کہو ....اب محتر م نے پلوشہ بیٹی کے ساتھ شادی کر لی ہے ۔“
”مبارک ہو ذیشان بھائی ۔“اسلام نے فوراََ ہی پر خلوص لہجے میں کہا ۔
”شکریہ دوست ۔“میں نے انکساری سے کہا ۔
اس کے بعد ہم کافی دیر وہاں بیٹھے رہے ،موضوع ِ گفتگو میری ذات ہی بنا رہا ۔اسلام اور اس کے ساتھیوں نے ساری گپ شپ کو پسِ پشت ڈال کر میری کہانی میری زبانی سننے پر اصرار کیا تھا ۔گو میری زیادہ تر باتیں تو ان تک پہنچی ہوئی تھیں مگر کسی اور زبانی پہنچی ہوئی باتوں میں جھوٹ اور مبالغے کی ملاوٹ ضرور ہوتی ہے ۔میں ان کے اصرار کے سامنے زیادہ دیر نہیں ٹک پایا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر اسلام اور اس کے تینوں ساتھی جانے سے پہلے الوداعی ملاقات کے لیے آ گئے تھے ۔میں نے ان سے جانے کے رستے کی بابت دریافت کیا ۔
اسلام نے جو رستا بتلایا وہ خواگا اوبو سے گزر کر ہی جاتا تھا ۔خواگا اوبو گلگارے کا گاﺅں تھا ۔
”خواگا اوبو تو آپ لوگوں نے دیکھا ہے اس کے جنوبی جانب ایک اکیلی حویلی ہے شمریز خان کی ، کبھی ان سے واسطہ پڑا ہے ۔“
اسلام اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا ۔”بالکل دیکھی ہوئی ہے ،البتہ کبھی ان سے ملنے کی نوبت نہیں آسکی ۔“
اسلام کا ساتھی عبدالصمد بولا ۔”میں نے ان کی بیٹھک میں ایک رات گزاری تھی ۔“
”بس جاتے ہوئے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں کو میرے بہت سے سلام و دعا پہنچا دینا اور انھیں کہہ دینا کہ میں بالکل خیریت سے ہوں ۔“
اسلام نے پوچھا ۔”اور کچھ ۔“
”بس اللہ پاک آپ کو خیر سے لے جائے ۔“میں نے معانقے کے لیے ہاتھ پھیلا دیے ۔
انھیں رخصت کرنے میں غار سے باہر تک گیا تھا ۔اب بیساکھی کے سہارے میں اچھا بھلا چل لیتا تھا ۔میرا زخم پہلے سے کافی بہتر ہو گیا تھا ۔بازو کے زخم کا تو کھرنڈ بن کر بھی اتر چکا تھا ۔لیکن پنڈلی اور ران کا زخم اتنی جلدی مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا تھا ۔
اس دن دوپہر کو کھانا کھاتے ہوئے کمانڈر عبدالحق مستفسر ہوا ۔”ذیشان بھائی!.... ایک بات پوچھوں ؟“
میں خفیف ہوتے ہوئے بولا ۔”اس میں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے ۔“
”شکریہ ۔“کہہ کر اس نے پوچھا ۔”کل آپ اسلام بھائی سے دورماررائفل کے استعمال کے بارے کیوں پوچھ رہے تھے ،کیا آپ اس رائفل کو استعمال کرنا جانتے ہیں ؟“
ایک لمحہ سوچ کر میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔”جانتا ہوں ۔“
”اگر میںکہوں کہ آپ ہمارے کسی ساتھی کو اس رائفل کا استعمال سکھا دیں تو کیا یہ درخواست منظورہو جائے گی ۔“
میں نے بھرپور قہقہہ لگایا ۔”درخواست اور منظوری ،عبدالحق بھائی !....کچھ زیادہ ہی میٹھا نہیں ڈال دیا ۔“
عبدالحق نفی میں سرہلاتے ہوئے بولا ۔”کسی سے بھی کام لینے کے دو طریقے ہیں حکم دینا یادرخواست کرنا اور ہم آپ سے درخواست ہی کر سکتے ہیں ۔“
”اپنوں کو نہ تو حکم دیا جاتا ہے اور نہ درخواست کی جاتی ہے ۔بس ان تک اپنی خواہش پہنچا دی جاتی ہے ۔“
وہ فوراََ اپنی سابقہ بات سے رجوع کرتا ہوا بولا ۔”تو بس سمجھ لیں کہ میں نے اپنی خواہش آپ تک پہنچا دی ہے ۔“
میں صاف گوئی سے بولا ۔”عبدالحق بھائی !....آپ کی خواہش کو پورا کرنا ،میرے لیے نہایت ہی دشوار اور مشکل ہوتا ۔ لیکن اس حالت میں میں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہوں اس لیے آپ رائفل اور سیکھنے والے دو تین آدمی یہیں پر بلوا لیں میں انھیں تربیت دے دوں گا ۔“
عبدالحق نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کہنا تو نہیں چاہیے مگر آپ کازخمی ہونا ہمارے لیے فائدہ مند ہی رہا ہے ۔“
اس کی بات نے مجھے بھی ہنسنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
٭٭٭
دودن بعد چار آدمی رینج ماسٹر کے دو بکس لے کر پہنچ گئے تھے ۔اس کے ساتھ وہ رینج ماسٹر کی دو سو گولیاں بھی لائے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے گزشتا دن میرا عندیہ لیتے ہی وائرلیس بیس پر اپنے قرہ باغ کیمپ میں موجود کمانڈر سے بات کر لی تھی ۔اور کوڈ ورڈ میں انھیں رائفلیں ،ایمونیشن اور آدمی بھیجنے کا بتا دیا تھا ۔ اس دعوت کو غنیمت جانتے ہوئے انھوں نے بغیر کسی تاخیر کے چار آدمی اس جانب روانہ کر دیے تھے ۔
ان دنوں میں مجھے وقت گزارنا مشکل ہو جایا کرتا تھا ۔حالانکہ جب پلوشہ زخمی تھی اس وقت ہم نے دو ماہ کے قریب عرصہ یونھی کوئی کام کیے بغیر گزار دیا تھا ۔مگر وہ دوماہ میری زندگی کے سب سے زیادہ تیز گزرنے والے دن تھے ۔رات ،دن لمحوں میں بیت جایا کرتے تھے ۔ اور اب وہی شب روز مہینوں پر محیط ہو گئے تھے ۔
قرہ باغ کیمپ سے آنے والے چاروں جواں سال مجاہد تھے ۔ان میں سے دو تو میرے ہم عمر تھے جن کا نام صغیراور احسان تھا ۔ اسلم مجھ سے سال دو سال بڑا ہو گا جبکہ مبین بہ مشکل اٹھارہ انیس سال کا لڑکا تھا ۔
رات ہی کو میں نے رینج ماسٹر کے دونوں بکس کھول کر سامان کا جائزہ لے لیا تھا ۔سارا سامان مکمل دیکھ کر میں نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا ۔ سردار اور میںنے امریکہ میں سنائپرکورس کے دوران اس رائفل کے متعلق بہت تفصیل سے پڑھا تھا ۔اور یہ وہ رائفل جس سے میں سب سے زیادہ فائر کیا ہے ۔ (اس رائفل بارے کہانی کی شروعات میں میں کافی کچھ لکھ چکا ہوں اس لیے اگر کسی کو رینج ماسٹر کے بارے جاننے کا شوق ہو تو انھی صفحات کو دوبارہ پڑھ لے )
”صبح نماز کے بعد تیار رہنا ۔“میں نے چاروں سیکھنے والوں کو تربیت کا وقت بتایا اور وہ سرہلاتے ہوئے چلے گئے ۔
کمانڈر عبدالحق کچھ دیر مزید میرے ساتھ بیٹھا رہا ۔اس کے جانے کے بعد میں سونے کے لیے لیٹ گیا کہ صبح آرام کا موقع نہ ملتا ۔
صبح کی نماز کے بعد ناشتے وغیرہ سے فارغ ہو کر چاروں جوان پہنچ گئے تھے ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی ان کے ہمراہ بیٹھ کر سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی ۔
میں نے تمہیدی بات چیت میں رینج ماسٹر کی خوبیوں پر روشنی ڈالی اور انھیں باور کرایا کہ ایک تربیت یافتہ آدمی اس رائفل سے کتنا فائدہ اٹھا سکتا تھا ۔اس کے بعد میں انھیں رائفل کے پرزوں وغیرہ کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا کہ کس طرح وہ اس رائفل کو ٹکڑوں میں کھول سکتے تھے ۔وہ سارا دن میں انھیں رائفل کے متعلق ہی پڑھاتا رہا اس کے ساتھ انھیں بھی موقع دیا کہ وہ بار رائفل کو کھولیں جوڑیں ۔ اس کے ساتھ میں انھیں اس رائفل سے مختلف پوزیشنوں سے فائر کرنے کے طریقے بھی بتلاتا رہا ۔وہ سارا کام چونکہ ہم بند کمرے میں بھی کر سکتے تھے اس لیے غار کے اندر بیٹھ کر ہی سکھلائی کرتے رہے ۔
اگلے دن میں میں انھیں غار سے باہر لے گیا تھا ۔سنائپر رائفل میں سب سے زیادہ کام چونکہ ٹیلی سکوپ سائیٹ کا ہوتا ہے اس لیے اس کے بارے جاننا ایک سنائپر کے لیے بہت زیادہ ضرری ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کہ وہ سنائپر بننے نہیں آئے تھے لیکن انھیں اچھا نشانے باز تو بننا تھا ۔لیوپولڈ سائیٹ کے بارے ہم سنائپر ہونے کے باوجود پورا ہفتہ پڑھتے رہے تھے ۔میں انھیں وہ سب کچھ تو اس لیے بھی نہیں پڑھا سکتا تھا کہ اس کام میں کافی وقت صرف ہوجاتا ۔میں بس انھیں ضروری اور کام کی باتیں بتاتا رہا ۔لیوپولڈ سائیٹ پر تو عام آدمی صحیح طریقے سے رینج بھی نہیں لگا سکتا ۔ہر فاصلے کے لیے ایلیویشن ڈرم پر مخصوص کلک لگانے پڑتے ہیں ۔تمام کلکس کی ترتیب میں نے انھیں لکھ کر دے دی تاکہ وہ اسے زبانی طور پر یاد رکھیں ۔وہ پورا دن میں انھیں لیوپولڈ سائیٹ ہی متعلق پڑھاتا رہا ۔کمانڈر عبدالحق بھی سیکھنے میں بہت دلچسپی لے رہا تھا ۔رات کو وہ اپنے غار میں کافی دیر تک دن کی سکھلائی کو دہراتے رہے تھے ۔ مجاہدین کا وہ ٹھکانہ غار در غار بنا ہوا تھا ۔یوں جیسے کسی مکان میں کئی کمرے بنے ہوتے ہیں ۔
تیسرے دن میں انھیں فائر کروانے لگا ۔رائفل کے صفر ہونے کے بعدوہ چھے سات سو میٹر کے فاصلے پر آسانی سے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا رہے تھے ۔عملی طور پر رینج ماسٹر کی کارکردگی دیکھ کر انھیں بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا ۔کمانڈر عبدالحق نے بھی درجن بھر گولیاں چلا کر اپنا نشانہ آزمایا تھا ۔ اگلے دو ہفتوں میں میں انھیں مختلف فاصلوں سے فائر کرواتا رہا ۔ان میں سب سے اچھا فائرر مبین تھا جو عمر میں تمام سے چھوٹا تھا ۔وہ پندرہ سو میٹر دور کے ہدف کو نشانہ بنا لیتا تھا ۔چونکہ ان کے پاس گولیوں کی محدود تعداد تھی اس لیے ہر آدمی روزانہ تین چار گولیاں ہی فائر کر پاتا ۔اس سارے تربیتی عرصے کے دوران انھوں نے چند بار میرا فائر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر زخمی ہونے کا بہانہ کر کے میں نے معذرت کر لی تھی ۔البتہ آخری دن جب ان کے پاس فقط دو گولیاں باقی بچی تھیں ،کمانڈر عبدالحق نے اصرار کیا کہ وہ دونوں گولیاں میں فائر کروں ۔
اس کی حکم نما التجا پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے میں نے دونوں گولیوں سے انیس سو میٹر دور دو چھوٹے چھوٹے پتھروں کو نشانہ بنا کر رینج ماسٹر پر ان کا اعتماد مزید پختہ کر دیا تھا ۔
اگلے دن ان چاروں نے واپس جانا تھا ۔کیونکہ قرہ باغ کیمپ میں بڑی بے چینی سے ان کا انتظار ہو رہا تھا ۔رات کو انھیں اپنے کمرے میں بٹھا کر میں نے سنائپنگ کے متعلق اہم باتیں دہرائیں ،کچھ نئے نکتے ان کے گوش گزار کیے تاکہ وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں ۔
صبح سویرے واپس جاتے ہوئے چاروں بڑی عقیدت سے مجھے ملے تھے ۔میرے دن پھر بے زاری سے گزرنے لگے ۔پنڈلی کا زخم تو قریباََ ٹھیک ہی ہو گیا تھا لیکن ران کا زخم ابھی تک اتنا ٹھیک نہیں ہوا تھا کہ میں آگے بڑھ سکتا ۔سردی کی وجہ سے زخم یوں بھی ٹھیک ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے ۔ اب میں کمانڈر عبدالحق کے ساتھ اپنے ٹھکانے سے پانچ چھے سو میٹر دور چلا جاتا تھا ۔
ایک دن ہم سہ پہر کو لوٹے تو یہ روح فرسا خبر سننے کو ملی کہ صغیربرطانوی سنائپر نک سٹیورٹ کی گولی کا شکار ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا ۔جبکہ اسلم شدید زخمی تھا ۔گولی اس کے سر سے رگڑ کھاتے ہوئے گہرا زخم چھوڑکرنکل گئی تھی۔وہ بڑی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمپ تک واپس پہنچا تھا ۔بعد میں صغیر کی لاش اٹھانے کے لیے جانے والے پانچ آدمیوں میں سے دو آدمی بھی نک سٹیورٹ یا اس کی ساتھی کی گولی کا نشانہ بن گئے تھے ۔یوں لاش اٹھانے کے لیے انھیں رات کا انتظار کرنا پڑ گیا تھا ۔اس بات کو دو دن گزر گئے تھے ۔ اب شہداءکے گھروں تک یہ خبر پہنچانے کے لیے جو دو آدمی جا رہے تھے ان کی زبانی ہم تک بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی ۔
اسلم اورصغیردونوں میرے شاگرد تھے ۔تین ہفتے تک ہم دن رات مسلسل ساتھ رہے تھے ۔ اب ایک دم ان کی موت کا سن کرمیرا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ہفتہ بھر پہلے ہی وہ ایک امید لے کر یہاں سے واپس لوٹے تھے ۔برطانوی سنائپرز کو انجام تک پہنچانے کے لیے وہ پر عزم تھے ۔گو ان سنائپرز کی جو کہانیاں مجھ تک پہنچ چکی تھیں اس کے بعد ان چاروں سے مجھے اتنی زیادہ امید تو نہیں تھی کہ وہ ،انھیں ختم کر سکیں گے ۔لیکن یہ تو میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ خود ان کا نشانہ بن جائیں گے ۔حالانکہ میں نے ا نھیں سنائپرز کے حربوں اور چالاکیوں سے اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا ۔یقینا وہ میری ہدایات پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کر سکے تھے ۔اور یہی وجہ تھی کہ اپنے ساتھی کی لاش اٹھانے کے لیے وہ یوں منھ اٹھا کر بھاگتے چلے گئے تھے ۔حالانکہ میں انھیں اچھی طرح بتلا چکا تھا کہ ایک سنائپرز مخالف کی نفسیات سے کھیلتا ہے ۔ اور اپنے ہدف کا انتظار کرنے کے لیے وہ گھنٹوں نہیں دنوں انتظار کر سکتا ہے ۔گو تمام آدمی یہ بات نہیں جانتے تھے مگر میرے دو اور شاگرد،مبین اور احسان تو وہاں موجود تھے وہ انھیں اس خطرے سے آگاہ کر سکتے تھے ۔اب یہ معلوم نہیں تھا کہ احسان وغیرہ نے انھیں خبردار نہیں کیا تھا یا انھوں نے خود ہی بے پروائی برتی تھی ۔
صغیر ایک ہنس مکھ اور بہادر جوان تھا ۔اس کا تعلق مانسہرہ جیسے خوب صورت علاقے سے تھا ۔ اس کے دل میں اسلام اور پاکستان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔رینج ماسٹر سے فائر کرتے ہوئے وہ اکثر کہتا تھا ....
”استاد ذیشان !....امید کرتا ہوں ان دونوں کی موت میری ہی گولی سے لکھی ہو۔“
جب میں نے انیس سو میٹر سے پتھر کو نشانہ بنایا تھا ،تب اس نے بے ساختہ کہا تھا ۔ ”اگر ان کافروں کو پتا چل گیا کہ ہمارے استاد ایس ایس کا نشانہ کیسا ہے ،یقینا وہ بھاگنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔“
کمانڈر عبدالحق نے ہنستے ہوئے پوچھاتھا ۔”بیٹا !....استاد کو چھوڑو ،اپنی سناﺅ ۔“
وہ عزم سے بولا ۔”میں تو انھیں بھاگنے بھی نہیں دوں گا ۔“
آنے والے وقت سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا ۔اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس نے انھی سنائپرز کا نشانہ بننا ہے تو شاید ایسے دعوے نہ کرتا ۔اس کی شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا ۔محاذ پر آنے سے پہلے اس کی بیوی امید سے تھی ۔اس نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ وہ نو ماہ گزارنے کے بعد ہی گھر جائے گا تاکہ اپنی بیوی اور بچے سے ملنے کی دہری خوشی سے لطف اندوز ہو سکے ۔اسے چھٹی سے آئے آٹھ ماہ ہو چکے تھے اور اب ایک مہینا گزار کر اس نے گھر جانا تھا ۔لیکن اجل نے اسے موقع ہی نہیں دیا تھا ۔اپنے محبوب کی آمد کے لیے چشم براہ بیوی کو اس کی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوا تھا ۔
کمانڈر عبدالحق میری غار میں داخل ہوا ۔”ذیشان بھائی! ....آپ تو رو رہے ہیں ۔“اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔
مجھے معلوم ہی نہیں ہوا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔”پتا نہیں یار ۔“آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔
”اگر موت کے بعد فنا ہو جانا ہوتا تو کافی گھاٹے کا سودا تھا ۔“ اس نے مجھے سمجھایا تھا یا شاید تسلی دی تھی ۔
”جانتا ہوں ۔“میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ۔”لیکن دکھ اورغم کا احساس قدرتی ہوتا ہے ۔“
”اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ ہی بستر پر بیٹھ گیا ۔
دوسرے دن مخابرے پر اسلم کی حالت کے بارے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ بچ نہیں سکا تھا ۔ یقینا علاج کی بہتر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکا تھا ۔
٭٭٭
اگلے تین چار ہفتے بھی میں کمانڈر عبدالحق کا مہمان بنا رہا ۔مجھے وہاں رکے ہوئے دو ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا تھا ۔لیکن بغیر تندرست ہوئے میں اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا تھا اس لیے جب تک میں مکمل صحت یا ب نہ ہو گیا میں نے وہاں سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔اسی اثناءمیں کمانڈر عبدالحق اپنے ایک ساتھی کے ساتھ چھٹی کاٹ کر لوٹ آیا تھا ۔اس کے ہمراہ گئے ہوئے باقی دو ساتھی کسی وجہ سے واپس نہیں لوٹ سکے تھے ۔مجھے ابھی تک وہیں موجود پا کر کمانڈر اسلام خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔
”شکر ہے ذیشان بھائی آپ یہیں مل گئے ،ورنہ آپ کی تلاش میں کہاں کہاں پھرنا پڑتا۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا ۔”میرا خیال ہے میں نے آپ سے قرض وغیرہ تو نہیں لیا تھا ۔“
”آپ کی ایک امانت ساتھ پھرا رہا ہوں یا ر !“اسلام نے سفری تھیلے سے ایک شاپر نکال کر میری طرف بڑھایا۔
”یہ کیا ہے ؟“میں سچ مچ حیران رہ گیا تھا ۔
”بھول گئے ،آپ نے جاتے وقت مجھے کوئی پیغام دیا تھا ۔“
”چچا شمریز نے بھیجا ہے یہ ۔“میرے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا ۔”میرے حوالے تو اسی نے کیا ہے ،اب بھیجنے والا کون ہے یہ معلوم نہیں ۔“
”بہت اچھا گھرانا ہے ۔اللہ پاک انھیں اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔“
”آمین ۔“اسلام کے ساتھ کمانڈر عبدالحق کے منھ سے بھی دعائیہ کلمہ اداہوا ۔اسلام کی بات جاری رہی ۔”ویسے آپ کا نام لیتے ہی ہماری جو پذیرائی ہوئی اس کا تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔ہمیں تو لگ رہا تھا کہ شمریز آپ کا سگا چچا ہے ۔اور پھر اس کے دونوں چھوٹے بچوں نے ہم سے اتنے سوال کیے کہ بیان سے باہر ہے ۔اپنے لالاجان کے زخمی ہونے کا سن کر تو وہ رونے لگے تھے ۔ جب انھیں ساری کہانی سنائی تب انھیں افاقہ ہوا ، کہ ان کے لالاجان نے زخمی ہونے سے پہلے کتنوں کو زندگی کی قید سے آزادی دلائی ہے ۔کوئی پردے کے پیچھے سے بھی ہماری گفتگو سنتا رہا ہے ۔اور میرا خیال ہے یہ سامان اسی نے بھجوایا ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”ہاں وہ بھی میری منھ بولی بہن ہے ۔لیکن آپ کو کیسے معلوم کہ کوئی پردے کے پیچھے بھی موجود ہے ۔“
”جب میں آپ کے بارے تفصیل سنا رہا تھا تو اس نے وہیں سے بے ساختہ دو تین سوال پوچھے تھے ۔اور جب اگلی صبح ہم جانے لگے تو شمریز چچا نے بااصرار ہمیں اسی رستے سے واپس لوٹنے کی درخواست کی تھی ۔کل صبح جب وہاں سے نکلے تو یہ سامان تو چچا شمریز نے ہمارے حوالے کیا لیکن یہ سامان آپ تک پہنچانے کی ہدایات پردے کے پیچھے سے موصول ہوئی تھیں ۔“
میں نے کہا ۔”میں شاید دو دن پہلے رخصت ہو گیا ہوتا ،مگر عبدالحق بھائی نے ایک دن اور ایک دن اور کی رٹ لگا کے مجھے زبردستی روکا ہوا تھا ۔“
عبدالحق نے فوراََ کہا ۔”دیکھ لیں ،بڑوں کی بات ماننے میں کتنے فائدے ہوتے ہیں ۔“
”آپ کی وجہ سے بس اسلام بھائی کی مشقت میں کمی ہوئی ہے کہ انھیں امانت سے جان چھڑانے کا موقع مل گیا ۔ورنہ میں جہا ںبھی جاتا اسلام بھائی یہ مجھ تک ضرور پہنچا دیتے ۔کیوں اسلام بھائی ۔“میں نے تصدیق چاہنے کے انداز میں اسلام کی طرف دیکھا ۔
”بلا شک و شبہ ۔“اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
رات کافی ہو گئی تھی ،کچھ دیر مزید بیٹھ کر وہ رخصت ہو گئے ۔میں نے اگلی صبح آگے جانے کا بتادیا تھا ۔اس ضمن میں کمانڈر عبدالحق سے رہنمائی مانگی تو اس نے یہ کہہ کر خاموش کرادیا کہ مجھے رستے کے لیے ایک رہنما مل جائے گا ۔مجھے اس کے علاوہ کیا چاہیے تھا ۔
ان کے جانے کے بعد میں کالے رنگ کے شاپر کو کھولنے لگا ۔اس میں ایک خوب صور ت سوئیٹر،ایک گرم ٹوپی اور ہلکے بھورے رنگ کا کپڑوں کا سلا ہوا سوٹ بند تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک رقعہ بھی موجود تھا ۔گلگارے کی لکھائی پہچانتے ہوئے مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی تھی ۔سلام و دعا کے بعد لکھا تھا ۔
”امید کرتی ہوں کہ یہ سامان جلد ہی آپ تک پہنچ جائے گا ۔آپ نے اسلام چچا کے ذریعے اپنی خیریت کا احوال بھیجا سن کر دل تشکر سے بھر گیا کہ آپ نے ابھی تک ہمیں یاد رکھا ہے۔اوریہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ہم اس قابل ہیں کہ اب تک آپ کو نہیں بھولے ۔آپ کے زخمی ہونے کا سنا بہت افسوس ہوا۔ اگر ابوجان اجازت دیتے تو یقینا میں آپ کو ملنے وہیں پہنچ جاتی لیکن انھوں نے منع کر دیا ۔ آپ کی گڑیا بہن رنڑا بھی بہت پریشان ہوئی ،مگر جب اسے معلوم ہوا کہ آپ کتنوں کو مار کر زخمی ہوئے تب اسے افاقہ ہوا ۔اور یہ بتانے کی ضرورت تو غالباََ نہیں ہو گی کہ اسلام چچا کی آمد کے بعد سے اب تک روزانہ آپ کا تازہ کارنامہ سننا پڑتا ہے ۔آپ کے معاملے میں نہ تو وہ میرے ڈانٹنے کی پروا کرتی ہے اور نہ مجھ سے ڈرتی ہے ۔آپ کا دیا ہوا پستول اس نے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا ۔پہلے پہل تواس نے مجھ پر الزام دھرا کہ میں نے آپ سے چرایا ہے ۔بعد میں بڑی مشکل سے اسے یقین دلایا کہ آپ ہی نے میرے حوالے کیا ہے ۔ثمر خان آپ جیسا نشانہ باز بننے کے لیے روزانہ مشق کرتا ہے ۔دونوں اب پہلے کی طرح مجھ سے نہیں ڈرتے ۔ہر وقت آپ کی واپسی کی دھمکی دیتے رہتے ہیں ۔انھیں تنگ کرنے کے لیے مجھے آپ کی کافی ساری برائیاں کرنا پڑتی ہیں جواباََ وہ لڑنے سے بھی باز نہیں آتے ۔یہ کپڑے میں نے ماموں جان کے ساتھ خان کلے جا کر خریدے ہیں اور سلائی بھی خود کیے ہیں ۔اگر سلائی اچھی نہ لگے تب بھی آپ نے پہننے ضرور ہیں ۔آپ کی گڑیا بہن کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پتا چلا ہے کہ میں آپ کے لیے کپڑوں کا جوڑا اور سوئیٹر بھیج رہی ہوں ، چونکہ صبح چچا اسلام نے آگے جانا ہے اس لیے بے چاری کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ کچھ خرید سکتی۔ لگی منتیں کرنے کہ میں یہ سوئیٹر اس کانام لے کر آپ کے پاس بھجوادوں ۔لیکن آپ کو تو معلوم ہے کہ آپ دونوں بہن بھائیوں کی چاہت مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی اس لیے میں نے سختی سے انکار کر دیا ۔بس ساری رات اسی تگ و دو میں رہی کہ آپ کو کیا تحفہ بھیجے ۔ثمر خان کے لیے ماموں جان شہر سے گرم ٹوپی اور رنڑا کے لیے گرم شال لے کر آئے تھے۔گرم شال تو صرف لڑکیاں ہی اوڑھ سکتی تھیں ۔بے چاری نے ثمر خان کی منتیں کر کے اس سے گرم ٹوپی اس شرط پر مستعار لی کہ ماموں جان سے ٹوپی کی قیمت معلوم کر کے وہ اسے اتنی ہی رقم دے گی ۔اور وہی ٹوپی آپ کو بھجوا دی ۔باقی ابوجان بھی خیریت سے ہیں ۔ان کا زخم بالکل ٹھیک ہو گیا ہے ۔تمام آپ کو ڈھیروں سلام و دعا کہہ رہے ہیں ۔پلوشہ بہن سے جونھی ملاقات ہوتی ہے اسے فوراََ ہمارے بارے تفصیل سے بتلانا اور اسی رستے سے واپس بھیجنا۔ ان سے ملنے کو میرا بہت دل کرتا ہے ۔اور ہاں میں آپ کو بتایا تھا نا کہ نصیر خان نے اپنے بیٹے سے میرا رشتا کرنے کے لیے دس لاکھ کی آفر کی تھی اور ابوجان نے پندرہ لاکھ مانگے تھے ۔اب وہ پندرہ لاکھ دینے کو تیار ہو گیا ہے ۔لیکن ابو جان نے سال ڈیڑھ کی مہلت مانگ لی ہے وہ فی الحال میری شادی نہیں کرنا چاہتے ،شاید میں بھی یہی چاہتی ہوں ۔اجازت چاہوں گی اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔میری پیاری بہن پلوشہ کو جلد از جلد ڈھونڈنا ۔اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو .... از طرف گلگارے شمریز خان ۔“
خط کے ہر لفظ سے محبت خلوص اور اپنائیت ٹپک رہی تھی ۔رنڑا گڑیا کی بھیجی ہوئی ٹوپی تو میں نے اسی وقت سر پر اوڑھ لی ۔ خلوص اور اپنائیت کی چاشنی نے ان تحائف کو بہت قیمتی بنا دیا تھا ۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد،گلگارے کے بھیجے ہوئے کپڑے اور سوئیٹر پہن کر میں آگے جانے کے تیار تھا ۔کپڑے بالکل میرے ناپ کے مطابق تھے ۔کمانڈر عبدالحق کو اپنے ساتھ جانے پر آمادہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا ۔
”میرا خیال ہے آپ کی یہاں زیادہ ضرورت ہے۔“
”صحیح کہا ،مگر میرے علاوہ غزنی تک جانے کا مختصر رستا کسی کو بھی معلوم نہیں ہے اور یوں بھی کمانڈر اسلام میری واپسی تک یہیں رہے گا ۔“
”چلیں پھر بسم اللہ پڑھیں ۔“میں نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔اور وہ سرہلاتے ہوئے آگے ہو گیا ۔
غزنی تک ہم نے پیدل ہی جانا تھا ۔میں نے رستے میں کافی وقت ضائع کر دیا تھا ،نامعلوم البرٹ بروک وغیرہ اب تک غزنی میں تھے یا کہیں اور منتقل ہو گئے تھے ۔لیکن میرے پاس ان کے بارے یہی آخری معلومات تھی اس لیے مجھے ایک بار تو وہاں ضرور جانا پڑتا ۔وہاں جانے کے بعد ہی میں اپنی اگلی منزل کا تعین کرسکتا تھا ۔
جاری ہے
 

تھوڑا سا آگے آتے ہی میں نے پوچھا ۔”یہاں سے ہم مرناہ گرجائیں گے ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا۔”ہم مرناہ گر ،پکتیکا اور زرغون شہر وغیرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے پہاڑیوں کے بیچوں بیچ مختصر رستوں سے آگے بڑھیں گے ۔“
میں نے کہا۔”گردیز کیمپ بھی تو رستے ہی میں آتا ہے نا ۔“
”نہیں وہ دوسری جانب ہے ،اس سے کم وقت تو غزنی پہنچنے میں لگے گا۔“
”وہاں سے صغیر شہید پارٹی تو دو دونوں میں ہم تک پہنچ گئے تھے ۔“
وہ گردیز سے ارگون اور ساروبی تک گاڑیوں میں آئے تھے ۔وہاں سے مختصر رستے پر مرناہ گر پہنچ گئے ۔“
میں نے پوچھا ۔”اس کا مطلب گردیز سے میران شاہ والا رستا انھیں قریب پڑتا ہو گا ۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔”بہت قریب پڑتا ہے اور گاڑی کا رستا ہے ،مگر وہ رستا ہمارے لیے محفوظ نہیں اس لیے چکر کاٹ کر اس طرف سے آنا پڑتا ہے ۔“
”ہونہہ!“کرکے میں خاموش ہو گیا۔
اس نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ۔”ویسے پکتیکا کے مضافات میں موبائل فون کے سگنل بھی شروع ہو جاتے ہیں ۔“
”اس کا مطلب آگے شہروں میں موبائل فون کے سگنل آتے ہیں ۔“
”بالکل آتے ہیں ۔AWCC یعنی افغانستان وائرلیس کمونیکیشن،روشن،ADIA وغیرہ۔“
”پھر تو رابطوں میں سہولت رہتی ہو گی ۔“
”بہت زیادہ ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اور اب کام شروع ہے ان شاءاللہ جلد ہی سرحدی پہاڑوں پر بھی سگنل آنے شروع ہو جائیں گے ۔“
میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا ۔”گویا اس بہانے چچا شمریز اور ان کے گھر والوں سے بات چیت ہو جایا کرے گی۔“
کمانڈر عبدالحق ہنسا ۔”لگتا ہے بات کافی بڑھ گئی ہے ۔“
”ہاں بھائی ،بہت مخلص گھرانا ہے ۔اس کے ساتھ انھوں نے میری زندگی بھی بچائی ہے ۔“ میں اسے اپنے برف باری میں پھنسنے کی تفصیلات بتانے لگا ۔
عبدالحق نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔”یہ تو اللہ پاک کا نظام ہے ،انسان کو وہاں سے دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا ۔“
”بے شک ۔“میں نے تائیدی انداز میں سرہلادیا ۔
عبدالحق ان رستوں کا شناورتھا۔اور پھر کافی عرصے سے اس کا واسطہ پہاڑوں سے پڑ رہا تھا تبھی وہ ڈھلان پر کافی تیزی سے حرکت کرتا تھا ۔دوپہر ڈھلے ہم ایک چشمے کے کنارے دن کا کھانا کھا رہے تھے ۔
کھانے کے بعد گرم قہوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں نے پوچھا ۔ ”ویسے بہتر ہوتا کہ آپ مجھے نقشہ بنا کر دے دیتے ۔“
”دراصل میں غزنی کے علاقے میں مصروف عمل مجاہدوں سے آپ کا رابطہ بھی کرانا چاہتا تھا۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیا مطلب وہ کوئی اور مجاہد ہیں ؟“
وہ مجھے سمجھاتا ہوا بولا ۔”بالکل ،افغانستان میں مختلف گروپ کفر سے برسرپیکار ہیں اور ہر گروپ کا علاحدہ کمانڈر ہے ۔آپ کو تو بس ہمارے گروپ کے کچھ لوگ جانتے ہیں ،باقی گروپس کے لیے آپ بالکل ہی انجان اور لاتعلق شخص ہوں گے ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا افغانستان میں کام کرنے والے تمام گروپس آپ کو جانتے ہیں ۔“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سر ہلایا ۔”لیکن میں انھیں اپنی پہچان کراسکتا ہوں ،تمام چھوٹے کمانڈروں کے پاس بھی مختلف پاس ورڈز اور خفیہ معلومات ہوتی ہیں جن میں میں آپ کو حصہ دار نہیں بنا سکتا اسی وجہ سے مجھے خود آپ کے ساتھ سفر طے کرنا پڑا ۔“
”ویسے افغانستان میں کتنے گروپ کام کر رہے ہیں ۔“قہوہ پی کر ہم آگے چل پڑے تھے ۔
”کافی زیادہ گروپ ہیں ........“وہ ان گروپوں کی تفصیل بتانے لگا ۔شام تک ہم ایک چھوٹی سی آبادی کے قریب پہنچ گئے تھے ۔دونوں نے مشورے سے وہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ایک بھلے آدمی کے گھر سے ہمیں کھانا اور ٹھکانہ مل گیا تھا ۔صبح سویرے نماز پڑھ کر ہم نے ناشتا کیا اور اللہ پاک کا نام لے کر چل پڑے ۔اگلے دودن ہم نے آرام سے سفر کرتے ہوئے رستے ہی میں گزارے تھے ۔اس دوران ہمیں دریائے غزنی بھی عبور کرنا پڑا ۔ہم دن کو سفر کرتے اور رات کو کسی کے مہمان بن جاتے ۔ تیسرے دن سہ پہر ڈھلے ہم مجاہدین کے ایک خفیہ ٹھکانے تک پہنچ گئے تھے ۔ کمانڈر عبدالحق نے اپنی پہچان کروائی ،فوراََ ہمیں خوش آمدید کہا گیا ۔
رات کے کھانے پر کمانڈر بسم اللہ جان ہماری آمد کی غایت پوچھ رہا تھا ۔
”ایک ذاتی کام ہی سمجھ لو ۔“عبدالحق نے تفصیل بتانے سے گریز کیا تھا ۔شاید میری مرضی معلوم کیے بغیر وہ کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا ۔
بسم اللہ جان نے تفصیل جاننے میں دلچسپی ظاہر کیے بغیر کہا ۔”بس یہ بتا دیں کہ ہم کیا مدد کر سکتے ہیں ۔“
عبدالحق نے کہا۔”فی الحال تو کوئی نہیں البتہ جب بھی کسی مدد کی ضرورت ہوئی آپ کوضرور تکلیف دیں گے ۔“
بسم اللہ جان خوش دلی سے بولا۔”خوش آمدید۔“
رات کو جب ہم بستر پر لیٹے تو میں کمانڈر عبدالحق کو مخاطب ہوا ۔”میرا خیال ہے اب آپ کی ذمہ داری بھی ختم ہو گئی ہے ۔“
”نہیں یار !....آپ جس دشمن کے خلاف کام کر رہے ہیں وہ میرا بھی اتنا ہی دشمن ہے ۔“
”ویسے یہاں تک میں پہنچ تو گیاہوں مگر کوئی لائحہ عمل ذہن میں نہیں آرہا ۔“میں نے اس موضوع پر مزید بات نہ کر کے گویا اس کی بات مان لی تھی ۔
عبدالحق اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔”پہلے ان کے کیمپ کا جائزہ لے لیں پھر منصوبہ بھی بنا لیں گے ۔“
٭٭٭
اگلے دن ہم نے اپنے ہتھیار مجاہدین کے ٹھکانے پر چھوڑے اور ایک رہنما کو ساتھ لے کر غزنی شہر کی طرف چل پڑے۔ امریکن آرمی کا کیمپ شہر کے مضافات میں تھا ۔ کیمپ کیا پورا قلعہ تھا۔ سیکیورٹی کے اتنے سخت انتظامات کہ حقیقتاََ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا ۔امریکنز کی رہائش تک چار پانچ حفاظتی حصار بنے ہوئے تھے ۔اتنی فول پروف سیکیورٹی دیکھ کر میرے دماغ میں کیمپ کے اندر گھسنے کا خیال بھک سے اڑ گیا تھا ۔
”میرا خیال میں اندر گھسنے کی کوشش کرنا نری خود کشی ہی ہو گی ۔“میں نے آنکھوں سے لگی دوربین کمانڈرعبدالحق کی طرف بڑھائی۔
میرے ہاتھوں سے دوربین لے کر اس نے آنکھوں سے لگانے کی زحمت کیے بغیر کہا ۔” مجھے پہلے سے معلوم تھا ،مگر میں چاہتا تھا کہ ایک مرتبہ آپ خود جائزہ لے لیں ۔“
میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”آپ پہلے یہ کیمپ دیکھ چکے ہیں ؟“
”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”اگر دیکھ چکا ہوتا تو اپنے ساتھ کسی رہنما کو کیوں لاتا ،مگر ان کے تمام کیمپ اسی طرح سے فول پروف بنائے گئے ہیں اور یہ بھی باقی کیمپوں کی طرح ہی ہے ۔ امریکن بس اپنی فلموں ہی میں دلیری دکھا سکتے ہیں ،حقیقتاََ اتنے بزدل ہیں کہ میں بتا نہیں سکتا ۔“
”کیا یہ کیمپ سے باہر نہیں نکلتے ۔“
”نکلتے ہیں ،مگر بہت کم اور خاطر خواہ انتظام کے بعد ایک قافلے کی صورت باہر آتے ہیں ۔ سب سے آگے ایک خصوصی گاڑی چلتی ہے جس میں جیمر نصب ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی ٹائم بم یا آئی ڈی وغیرہ چال نہیں کر سکتی ۔اور اگر اتفاق سے آئی ای ڈی پھٹ بھی جائے تب بھی آگے والی گاڑی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔عقب میں چلنے والی گاڑیوں میں بھی کئی افغان اور امریکن ہتھیار بردار تیاری حالت میں بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہیلی کاپٹر بھی عموماََقافلے کے ساتھ ہی چلتا ہے ۔“
میں نے پوچھا ۔”پاکستان میں تو البرٹ بروک وغیرہ اتنا اہتمام نہیں کرتے تھے ۔“
”کیونکہ وہاں وہ امریکنوں کی حیثیت سے سفر نہیں کرتے ۔وہاں وہ دہشت گردوں کی گاڑیوں میں چھپ کر حرکت کرتے ہیں اور کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان گاڑیوں میں کوئی امریکی جا رہا ہے ۔“
اس دن ہم امریکن کیمپ کا چاروں اطراف سے جائزہ لے کر واپس آگئے ۔واپس پہنچتے ہوئے شام ہو گئی تھی ۔صبح ناشتے کے بعد سے ہم کچھ نہیں کھا سکے تھے ،کیمپ پہنچتے ہی ہم نے سب سے پہلے کھانا کھانا پسند کیا ۔رات کو سونے سے پہلے ہم ایک مناسب لائحہ عمل ترتیب دے رہے تھے ۔
میں نے کہا ۔”بھائی مجھے اس کا ایک ہی حل نظر آرہا ہے کہ ان کا کوئی اہم آدمی اپنے قبضے میں کریں اور پھر مذاکرات کے ذریعے اپنی شرائط منوا لیں ۔“
”صحیح کہا۔“عبدالحق نے میری تائید میں سر ہلایا۔”مگر اصل مسئلہ ہی کسی اہم آدمی کو پکڑنے کا ہے ۔ان بزدلوں کے ہوٹل اور تفریح کے دوسرے انتظامات حفاظتی حصار کے اندر ہی کیے گئے ہیں ۔اس طرح نہ انھیں باہر نکلنا پڑتا ہے اور نہ انھیں کوئی خطرہ ہوتا ہے ۔“
”ان کے کیمپ پر تو حملہ کیا جا سکتا ہے نا ۔“
”شاید ،مگر اس طرح ہم انھیں جانی نقصان تو پہنچا سکتے ہیں کسی کو پکڑ نہیں سکتے ۔کیونکہ یہ حملہ دور سے راکٹ وغیرہ پھینک کر ہی کیا جا سکے گا ۔ورنہ کیمپ کے حفاظتی انتظامات تو آپ نے خود دیکھ ہی لیے ہیں ۔“
”شہر میں خریداری وغیرہ کے لیے تو جاتے ہوں گے ۔“
”ضرورت کا سامان انھیں کیمپ کے اندر ہی پہنچا دیا جاتا ہے ۔اور سامان لانے والے مخصوص افراد ہوتے ہیں جنھیں شناخت کے کئی مراحل سے گزر نا پڑتا ہے ۔“
”اب یہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان کے کسی قافلے پر گھات لگائی جائے ۔“
”ہاں ،لیکن وہ تب ہی ممکن ہے کہ ہمیں پہلے سے ان کے قافلے کے جانے کے وقت اور سمت کے بارے معلو م ہو جائے ۔اس صورت میں بھی ہمیں کمانڈر بسم اللہ جان کی مدد کی ضرورت پڑے گی ۔“
میں نے پوچھا ۔”تو کیا کمانڈر ہماری مدد نہیں کرے گا ؟“
”کیوں نہیں ۔“
”بہتر تو یہی ہو گا کہ انھیں ساری بات بتا کر مشورہ مانگا جائے ،شاید وہ کسی دوسری تجویز کی طرف رہنمائی کر دیں ۔“
”ٹھیک ہے کل ان سے بات کر یں گے ۔“کمانڈر عبدالحق میرے ساتھ متفق ہو گیا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر بسم اللہ جان صبح سویرے ہی کہیں نکل گیا تھا ۔ان کی واپسی کہیں رات گئے ہوئے تھی ۔یوں ایک دن بعد ہی ان سے بات ہو سکی۔ ساری بات سن کر وہ گہری سوچ میں کھوگیا تھا۔چند لمحوں بعد اس نے زبان کھولی ۔
”ان کے قافلے تو پندرہ بیس دن بعد حرکت کر ہی لیتے ہیں ،لیکن ایک تو ضروری نہیں کہ ہر قافلے میں کوئی اہم شخصیت موجود ہو ۔اور دوسرا قافلے کی حفاظت کے لیے عموماََ ہیلی کاپٹر بھی ساتھ چلتا ہے ۔ایسی صورت میں قافلے پر حملہ تو کیا جا سکتا ہے کسی کو گرفتار کرنا مشکل ہو تا ہے ۔“
میں پھیکے انداز میں بولا ۔”گویا ہمارا منصوبہ کسی کام کا نہیں ۔“
کمانڈر بسم اللہ جان نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”ایک طریقہ توہے ،لیکن اس میں زیادہ محنت کرنا پڑے گی ۔“
ہم نے بیک زبان پوچھا ۔”وہ کیا ؟“
”غیرملکی میڈیا کے کافی نمائندے افغانستان کے بڑے شہروں میں موجود ہیں ،اسی طرح ان شہروں میں کچھ دوسرے مقاصد سے آئے ہوئے امریکی شہری بھی موجود ہوتے ہیں ........“
”مگر ہمیں میڈیا کے نمائندوں یا عام امریکنز سے کیا مطلب ۔“میں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔
کمانڈر بسم اللہ نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔”میرا خیال ہے میری بات درمیان ہی میں ہے ۔“
میں نے جلدی سے کہا ۔”معذرت خواہ ہوں ۔“
”تو میں کہہ رہا تھا کہ ان میں امریکن سی آئی اے کے کچھ ایجنٹ بھی چھپے ہوتے ہیں ۔اب ان سیکرٹ ایجنٹس کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے اس بارے میں بس اتنی ہی رہنمائی کر سکتا ہوں کہ اس کے لیے ایسے افراد کی نگرانی کرنا پڑے گی اور یہ کافی تھکا دینے والا کام ہے ۔“
”گویا اب مجھے جاسوس بننا پڑے گا ۔“
”جی ۔“کمانڈربسم اللہ جان نے اثبات میں سر ہلایا۔”اور شہر میں رہنے کے لیے آپ کے پاس اپنی شناخت موجود ہونا چاہیے یہ نہ ہو دوسروں کو پکڑتے ہوئے اپنی جان پھنسا بیٹھیں ۔“
میں نے کہا ۔”اب کام تھوڑا مشکل ہو گیا ہے ۔“
”نہیں اس کا بھی کوئی نہ کوئی بندوبست کر لیں گے ۔“عبدالحق نے مجھے تسلی دی ۔
میں نے پوچھا ۔”وہ کیسے ؟“بسم اللہ جان بھی اس کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔
عبدالحق نے کہا ۔”افغانستان میں کافی کنسٹریکشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں پاکستانی مزدور اور انجینئر وغیرہ کام کر رہے ہیں ۔“
”تو ۔“میں نے مزید وضاحت چاہی ۔
”آپ کسی بھی کمپنی میں بہ طور مزدور وغیرہ شامل ہو کر اپنے پاکستانی شناختی کارڈ پر آسانی سے گھوم سکتے ہیں ۔“
میں نے کہا ۔”ویزا وغیرہ بھی تو بنانا ہو گا نا ؟“
”ویسے سردیوں میں تو کنسٹریکشن کمپنیوں کا کام ٹھپ ہو جاتا ہے ۔“اس سے پہلے کہ عبدالحق میرے سوال کا جواب دیتا بسم اللہ جان نے ایک اور نکتہ اٹھایا ۔
”یہ امریکہ نہیں ہے کہ یہاں ویزوں کی اتنی جانچ پڑتال ہو اور نقلی ویزہ بنانا اتنا مشکل نہیں ہے ۔باقی کنسٹریکشن کمپنیاں سائیٹوں کا کام سردی کی وجہ سے روک دیتی ہیں لیکن تھوڑا بہت دفتری سٹاف موجود رہتا ہے ۔“عبدالحق نے ایک ہی سانس میں ہم دونوں کا اعتراض ختم کر دیا تھا ۔
اس کے بعد ہم باقی تفصیلا ت طے کرنے لگے ۔اگلے دن عبدالحق نے وہاں سے کابل جانا تھا کیونکہ اس کی واقفیت جس کنسٹریکشن کمپنی میں تھی وہ کابل کے مضافات میں کام کر رہی تھی ۔وہیں پر اس نے میرے لیے ویزہ وغیرہ بھی بنوانا تھا ۔میں نے بھی اس کے ساتھ چلنے پر اصرار کیا تھا لیکن اس نے منع کر دیا کیونکہ میرا سڑک کے ذریعے کابل جانا کسی طور مناسب نہیں تھا ۔خود عبدالحق کے پاس افغانستان کی شناخت موجودتھی ۔
٭٭٭
اگلے دن کمانڈر عبدالحق مجھ سے اجازت لے کر رخصت ہو گیا ۔ جاتے ہوئے اس نے ایک کیمرے والے موبائل فون میں میری چند تصاویرکھینچ لی تھیں ۔ایک مجاہد کو میں نے اپنے ذاتی کام میں گھسیٹ لیا تھا ۔گو ان مجاہدین کی زندگی کا مقصد ہی کفر کے خلاف برسر پیکار رہنا ہے ،لیکن ان کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے ۔
اس کے جانے کے بعد ایک بار پھر میں فارغ تھا ۔فروری کے وسط میں سردی کا زور ٹوٹنے لگتا ہے مگر یہاں ابھی تک سخت سردی پڑ رہی تھی ۔کمانڈر عبدالحق نے یہی کہا تھا کہ اسے میرے کام میں ہفتے سے زیادہ وقت لگ جائے گا ۔ اب اسے ڈیڑھ ہفتہ بھی لگ سکتا تھا اور دو سے تین ہفتے بھی ۔اس کی واپسی تک مجھے کوئی کام نہیں تھا ۔خود کو مصروف رکھنے کے لیے میں فارغ اوقات میں مختلف ورزشیں کر کے وقت گزارتا رہتا ۔اس طرح پلوشہ کی یادوں سے بھی کچھ افاقہ ہو جاتا اور کسرت بھی ہو جاتی ۔
کمانڈر عبدالحق کو گئے ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا جب ایک رات کمانڈر بسم اللہ جان میرے پاس آگیا۔میں سونے کے لیے لیٹ چکا تھا ۔
”آپ غالباََ سو رہے ہیں ۔“مجھے رضائی میں گھسا دیکھ کر وہ واپس مڑنے لگا ۔
میں نے جلدی سے کہا ۔”ارے نہیں بھائی آئیں بیٹھیں،فارغ آدمی کو اتنی جلدی کہاں نیند آتی ہے ۔“
”اچھا ۔“کر کے وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
”آپ کام میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے آپ کے پاس نہیں بیٹھتا ورنہ میرا دل چاہتا ہے کہ رات گئے تک آپ کے ساتھ گپ شپ کروں ۔“
”گویا فراغت آپ کو راس نہیں آرہی ۔“اس نے بہ ظاہر ہنستے ہوئے پوچھا ۔نامعلوم کیوں مجھے اس کا لہجہ معنی خیز لگا تھا ۔
”آپ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں ،مجھے مسلسل فارغ رہنا پڑ رہا ہے اور یہ بے کاری نرا سر درد ہی تو ہے ۔“
”ویسے ایک کام تو ہے اس بہانے ہماری بھی مدد ہو جائے گی اور آپ کو بھی ہلنے جلنے کا موقع مل جائے گا ۔“اس کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ صرف اسی خاطر ہی میرے پاس آیا تھا ۔ اور گفتگو کا رخ اتفاقاََ ایسے موضوع کی جانب مڑ گیا کہ اسے اپنی بات کرنے میں آسانی ہو گئی تھی ۔
میں خوش دلی سے بولا ۔”کمانڈر آپ بے جھجک کام بتائیں ،اگر میرے بس میں ہوا تو انکار نہیں سنو گے ۔“
”عبدالحق بھائی کہہ رہے تھے کہ آپ کا نشانہ بہت اچھا ہے ۔“کام بتانے سے پہلے اس نے تصدیق کرنا ضروری سمجھا تھا ۔
میں نے انکساری سے کہا ۔”لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں ۔“
اس نے متبسم ہو کر کہا ۔”تو لوگوں کے سمجھنے کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا نا وہ کیا کہتے ہیں ....
برا کہے جسے دنیا اسے برا کہیے
زبان خلق کو نقارہ خدا کہیے
میں نے مزاحیہ انداز میں کہا۔”گویا آپ کے نزدیک اچھا نشانہ باز ہونا برائی کی علامت ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا ۔”بالکل ،مخالفین کو ایسا آدمی بہت برا لگتا ہے ۔“
”غالباََ آپ یہی چاہتے ہیں کہ وہ مجھے برا ہی سمجھتے رہیں ۔“میں نے جوابی وار کیا ۔
”پرسوں ایک خصوصی تقریب منائی جا رہی ہے ،محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق اگلے تین چار دن موسم صاف رہے گا ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ محفل ایک کھلی جگہ منعقد ہو گی ۔ ایک بڑا سا کیک کاٹا جائے گا اور اس دوران آپ ہمیں یقین دلا سکتے ہیں کہ دشمن آپ کو یونھی برا نہیں سمجھتے۔“آخری فقرہ اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا ۔
”یہ پکی اطلاع ہے ۔“میں ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا ۔
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”لیکن اس دن میں نے کمانڈر عبدالحق کے ساتھ کیمپ کا جائزہ لیا تھا۔ مجھے تو کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آئی جہاں سے ہم کیمپ کے اندر موجود کسی شخص کو نشانہ بنا سکیں ،کیونکہ کیمپ کے نزدیک جو دو ٹیکریاں ہیں وہاں افغان آرمی تعینات ہے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”جنوبی ٹیکری پر کل رات ہمارا قبضہ ہو جائے گا ،سارا منصوبہ بنا لیا گیا ہے ۔اور میرا خیال ہے کہ جنوبی ٹیکری سے کیمپ کے اندر مناسب طریقے سے فائر کیا جا سکے گا ۔“
”شاید اس ٹیکری پر بغیر شور شرابہ کیے قبضہ نہ کیا جا سکے ۔“میں نے اندیشہ ظاہر کیا ۔”ایک بھی گولی چل گئی تو بھانڈا پھوٹ جائے گا ۔اور ہم نے وہاں کافی وقت گزارنا ہے ۔“
وہ تیقّن سے بولا ۔”ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا ۔اس ٹیکری پر جو لوگ تعینات ہیں ان میں ہمارا ایک آدمی موجود ہے۔ کل رات کو تمام کے کھانے میں زود اثر بے ہوشی کی دوا شامل ہو جائے گی اور اس کے بعد یقینا کوئی مزاحمت کے قابل نہیں رہے گا ۔“
”یہ سارا منصوبہ آپ نے میری نشانہ بازی کی وجہ سے بنا یا ہے یا کوئی اور وجہ ہے ۔“
”ایسے منصوبے ہم وقتاََ فوقتاََ بناتے رہتے ہیں ،کیونکہ ہم دشمن کو آرام سے رہنے نہیں دے سکتے ۔ ویسے یہ منصوبہ پچیس دسمبر کے لیے ترتیب دیا گیا تھا ،لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے جو تقریب کھلے میدان میں ہونا تھی وہ بند سٹیڈیم میں منائی گئی ۔بس ہم نے اپنا جو آدمی وہاں تک پہنچایا تھا اسے کہہ دیا کہ وہ کسی مناسب موقع کی آمد تک وہیں ٹکا رہے ۔اور اب وہ مناسب موقع آگیا ہے ۔ہم نے جو منصوبہ پہلے بنایا تھا اس کے مطابق ہم وہاں راکٹ فائر کرتے ہیں گو وہ تمام راکٹ اندازے سے فائر کیے جا تے ہیں اور کبھی کبھار ہی کوئی راکٹ نشانے پر لگتا ہے لیکن ہمارا اصل مقصد افراتفری پھیلانا اور انھیں یہ باور کراتے رہنا ہے کہ ہم موجود ہیں ۔“
”تو یہ کام آپ کسی بھی وقت کر سکتے ہیں یوں کسی تقریب کا انتظار کرنے کا کیا مطلب ؟“
”کیونکہ تقریب کے وقت تمام اکھٹے ہوتے ہیں اور ایک بھی راکٹ نشانے پر لگ جائے تو کافی تباہی پھیلا سکتا ہے ،دوسرا ان کے جشن کے موقع پر ایسی کارروائی ان میں زیادہ مایوسی پھیلاتی ہے ۔“
”میرے گولی چلانے سے تو ایک دم افراتفری پھیل جائے گی اور اس صورت میں میں تین چار سے زیادہ افراد کو نشانہ نہیں بناپاﺅں گا ۔شاید آپ کے راکٹوں کو بھی ضائع کرنے کا باعث بن جاﺅں۔“
”ہمارے پاس ایسے موقعوں کے لیے ون او سیون راکٹ ہیں جن کا لانچر نہیں ہوتابس راکٹ ہی کو سیدھائی دے کر ہم مطلوبہ سمت میں ان کا رخ کر کے رکھ دیتے ہیں ۔یوں کبھی کبھار تو ایک آدمی کا بھی نقصان نہیں ہوتا اور کبھی چند افرادہلاک ہو جاتے ہیں ،جبکہ آپ کے فائر سے دو تین تو مردار ہو ہی جائیں گے ۔خاص کر بڑے آدمیوں کی موت سے ان کے مورال پر کافی اثر پڑے گا ۔“
”جب تک میں تقریب کی جگہ کا فاصلہ ناپ نہیں لیتا تب تک یہ کہنا قبل از وقت ہو گا،کہ میں کتنوں کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔اس ضمن میں مجھے کچھ سامان بھی درکار ہو گا ۔“اس کا سارا منصوبہ سمجھ میں آتے ہی میں نے اسے اپنی ضروریات سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا ۔
”آپ اپنی ضروریات کے بارے بتائیں ۔“
”سب سے پہلے تو ایک دور مار رائفل چاہیے ہوگی ،اس کے ساتھ دوربین ،ونڈ میٹر ،لیزر رینج فائینڈر ........“میں اسے مطلوبہ سامان کے بارے تفصیل سے بتلانے لگا ۔
وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔”چلیں میں آپ کو اپنے پاس موجود سامان دکھا دیتا ہوں جو چیز کم ہوگی اس کا بندوبست ان شاءاللہ کل ہو جائے گا ۔“
میں سر ہلاتا ہوا بستر سے نکل کر اس کے ہمراہ ہو لیا ۔تھوڑی دیر بعد ہم ایک تہہ خانے میں موجود تھے ۔وہاں ہتھیاروں کے درمیان ڈریگنوو اور گلیل سنائپر رائفل کے علاوہ رینج ماسٹر بھی موجود تھی ۔ اور رینج ماسٹر کی موجودی میں دوسری رائفلوں سے مجھے کیا مطلب ہو سکتا تھا ۔یہ تمام امریکن اور افغان فوجیوں سے چھینا گیا سامان تھا ۔سوائے ونڈ میٹر کے مجھے اپنے مطلب کی ہر چیز مل گئی تھی ۔یہاں تک کہ ایک اچھی کوالٹی کا سائیلنسر بھی موجود تھا ۔
”سامان تو قریباََ مکمل ہی ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلایا۔
کمانڈر بسم اللہ جان خوش ہوتے ہوئے بولا ۔”ویسے ان میں سے کافی چیزیں ایسی ہیں جن کے استعمال کے بارے ہم نہیں جانتے تھے ۔ہمارے نزدیک وہ بالکل فالتو تھیں پھر بھی میں نے یہ سوچ کر رکھ چھوڑی تھیں کہ شاید کبھی کام آجائیں ۔آج لگتا ہے میرا یہ فیصلہ مفید ثابت ہوا ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”اب سب سے اہم کام یعنی فاصلہ ناپنا رہ گیا ہے کہ اس ٹیکری سے تقریب کی جگہ کا فاصلہ کتنا ہو گا ۔“
”ویسے آپ کتنے فاصلے سے کسی آدمی کو نشانہ بنا لیں گے ۔“
”دو کلومیٹر ۔“میں نے رینج ماسٹر کی رینج کے مطابق کہا ۔
”مطلب کمانڈر عبدالحق کی آپ کے بارے بتلائی گئی بات حقیقت ہے ۔“
”اب میں کمانڈر عبدالحق کو جھوٹا تو نہیں کہہ سکتا نا ۔“میں نے لطیف انداز میں چوٹ کی اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
مجھے بستر تک پہنچا کر اس نے اجازت لی اور رخصت ہو گیا ۔
٭٭٭
اگلے دن میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر رائفل کو صفر کر لیا تھا ۔سائیلنسر کی موجودی میں مجھے فائر کرتے ہوئے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا ۔ رینج ماسٹر رائفل کی تو بور سائیٹنگ بھی ہو جاتی ہے ۔لیکن جب فائر کرنے کی سہولت موجود ہو تو بور سائیٹنگ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔(بورسائیٹنگ بغیر گولی چلائے رائفل کو صفر کرنے کا طریقہ ہے )
رات کو کمانڈر بسم اللہ جان اپنے کچھ آدمیوں کے ساتھ مذکورہ ٹیکری پر پہنچ گیا تھا ۔انھیں سارے افغان فوجی بے ہوش ہی ملے تھے ۔پوری پوسٹ قبضے میں لیتے ہی اس نے موبائل فون پر کال کر کے اپنے ساتھیوں کو مطلع کر دیا ۔اس کے ایک ساتھی نے مجھ تک بھی یہ اطلاع پہنچا دی تھی ۔
میں نے صبح سویر ے وہاں پہنچنا تھا ۔طلوع آفتاب کے ساتھ ہی میں ایک ڈبل کیبن میں بیٹھا اس ٹیکری کی طرف روانہ تھا جہاں مجاہدین کا قبضہ ہو چکا تھا ۔
ہم نے بہ مشکل آدھا رستا طے کیا تھا کہ کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آ گئی ۔اس نے میرے ساتھ بات کرنا چاہی ۔اور میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے موبائل فون میری جانب بڑھا دیا ۔
وہ سلام وغیرہ کے بعد بولا ۔”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے یہاں آپ کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔“
”کیوں ؟“میں نے حیرانی کے اظہار میں دیر نہیں لگائی تھی ۔
وہ مایوس کن لہجے میں بولا ۔”میں نے اس جگہ کا فاصلہ ناپا ہے دو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ بن رہا ہے ۔“
”یہ طے کرنا میرا کام ہے ۔“ٹیکری کی بلندی ذہن میں لاتے ہوئے میں نے اس سے اتفاق نہیں کیا تھا ۔
”جیسے آپ کی مرضی ۔“اس نے میری آمد کو میری صواب دید پر چھوڑ دیا تھا ۔
ڈرائیوربے خوف وخطر ،گاڑی کو اس ٹیکری کے عقب میں لے گیا تھا ۔پہلے والی تین گاڑیاں بھی وہیں چھپا کر کھڑی کی گئی تھیں ۔ہماری رہنمائی کے لیے دو آدمی ٹیکری سے نیچے آئے ہوئے تھے ۔ان کی ہدایات پر ڈرائیور نے گاڑی پہلے والی گاڑیوں کے ساتھ کھڑی کی اور ہم ان کی رہنمائی میں اوپر چڑھنے لگے ۔ٹیکری کے اوپر پہنچتے ہی کمانڈر بسم اللہ جان ہمیں اپنا منتظر نظر آیا ۔اس کے چہرے پر چھائے تاثرات یقینا میرے منھ سے کوئی امید بھری خبر سننے کے خواہاں تھے ۔میں نے بھی اس سے مصافحہ کرتے ہی فاصلہ ناپنے والے آلے (لیزر رینج فائینڈر )کے متعلق دریافت کیا ۔
”آئیں میرے ساتھ ۔“وہ مجھے ساتھ لے کر پوسٹ کی شمالی جانب لے گیا ۔امریکن کیمپ بالکل ہی میرے سامنے تھا ۔ایک وسیع میدان کے بیچوں بیچ تقریب کے لیے جگہ بنائی گئی تھی ۔دھوپ سے لطف اندوز ہونے کی خاطر شامیانے وغیرہ نہیں لگائے گئے تھے ۔یو کی شکل میں صوفہ سیٹ اور کرسیاں ترتیب سے لگائی گئی تھیں ۔ایک جانب چند چوڑی میزیں جوڑ کر کھانا وغیرہ رکھنے کی جگہ بنائی گئی تھی ۔میں نے فاصلہ ناپنے والا آلہ تھامتے ہی ترتیب سے رکھے صوفوں کا فاصلہ ناپا ۔وہ بائیس سو میٹر تھا ۔جبکہ رینج ماسٹر کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔
”کتنا فاصلہ ہے ۔“فاصلہ ناپتے ہی میں نے کمانڈر بسم اللہ جان سے تصدیق چاہی ۔
اس نے مایوسی بھرے انداز میں کہا ۔”بائیس سو ۔“
اطمینان بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے میں نے اپ ہل ،ڈاﺅن ہل پروٹیکٹر کے ذریعے ہدف کا زوایہ معلوم کیا ۔وہ جگہ ہماری ٹیکری سے تیس ڈگری نشیب میں تھی ۔کوسائن فیکٹر کو استعمال کرتے ہوئے میں نے رائفل پر لگانے والی رینج معلوم کی جو کہ انیس سو پانچ میٹر بن رہی تھی ۔
(اس سے پہلے غالباََ میں بتا چکا ہوں کہ جب بھی کوئی سنائپر نیچے سے بلندی کی طرف یا بلند مقام سے نیچے کی طرف فائر کرتا ہے تو وہ ہدف کی براہ راست پڑھی جانے والی رینج نہیں لگاتا بلکہ افقی رینج لگاتا ہے ۔اس مقصد کے لیے اسے ہدف چاہے وہ نیچے ہو یا اوپر اس کا زاویہ درکار ہوتا ہے کہ سنائپر سے ہدف کی بلندی یا گہرائی کا کتنا زاویہ بن رہا ہے ۔اور پھر اس زاویے اور فاصلے کو ایک مخصوص تناسب سے جمع تفریق کرنے سے مطلوبہ رینج معلوم ہوجاتی ہے ۔قبیل خان کے جانشین سردارجہانداد خان کو میں نے اسی فارمولے کو بروے کار لاتے ہوئے بلندی کی طرف فائر کر کے کیفر کردار تک پہنچایا تھا ۔)
”میرا خیال ہے فائر کرنے کے لیے یہ جگہ مناسب رہے گی ۔“ایک ہموار سطح دیکھ کر میں نے کمانڈر بسم اللہ جان کو کہا ۔”یہاں ایک کمبل وغیرہ بچھوا دیں تاکہ میں آرادم دہ حالت میں لیٹ کر فائر کر سکوں ۔“
اس نے الجھن آمیز لہجے میں پوچھا ۔”کیا فاصلہ ناپنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہے ؟“
”نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”فاصلہ بائیس سو میٹر ہی بن رہا ہے ۔لیکن نشیب میں ہونے کی وجہ سے رائفل پر رینج انیس سو میٹر لگے گی ۔“
”وہ کیوں ؟“اس کی حیرانی برقرار تھی ۔
”اس کیوں کو کھوجنے کے لیے آپ کو میری شاگردی اختیا ر کرنا پڑے گی ۔“ہنستے ہوئے میں رائفل کی میگزین بھرنے لگا ۔
”اس کا فیصلہ آپ کے فائر کے بعد ہی کر سکوں گا ۔“میرے پر اعتماد لہجے نے اسے خوش کر دیا تھا ۔
میں نے برجستہ کہا۔”فائر کے بعد شاید میری پیش کش برقرار نہ رہے ۔“
اس نے قہقہہ لگایا۔”یہ بھی ممکن ہے فائر کے بعد مجھے ہی اپنے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑے ۔“
میں نے منھ بناتے ہوئے کہا ۔”ا ب اتنے بھی برے دن نہیں آئے۔“
”چلو دیکھ لیں گے ۔“
دو میگزینیں بھر کر میں نے رائفل کے ساتھ رکھیں ۔اتنی دیر میں میری بتائی ہوئی جگہ پر ایک آدمی نے نرم کورین کمبل بچھا دیا تھا ۔رائفل پر ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر میں نے صوفوں کی جانب سیدھائی دی ۔ایلی ویشن ڈرم پرمطلوبہ رینج لگائی اوررائفل کو کاک کر کے سیفٹی لگادی ۔اب بس ان کے آنے کی دیر تھی ۔دھوپ خوب روشن تھی تقریب کی جگہ پر ہلکی پھلکی چہل پہل نظر آنے لگی تھی ۔ملازم کھانے کی میز پر برتن وغیرہ لگا رہے تھے ۔کچھ صوفوں اور ان کے سامنے پڑی شیشوں کی میزوں کو صاف کر رہے تھے ۔
رائفل کو وہیں چھوڑ کر میں کھڑا ہو گیا ۔”سادہ کپڑے کی چھوٹی سی جھنڈی درکار ہو گی ۔“
”جھنڈی ....؟“بسم اللہ جان کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں ۔“میں وضاحت کرتا ہوا بولا ۔”ونڈ میٹر نہیں ہے نا تو ہوا کی رفتار ناپنے کے لیے ایک جھنڈی سامنے لگوا دو ۔“
”اب جھنڈے سے کیسے ہوا ناپی جائے گی؟“کمانڈر بسم اللہ جان کی سمجھ میں میری بات نہیں آرہی تھی ۔اور آ بھی کیسے سکتی تھی ،یہ تو سنائپرز کے اپنے تجربات ہوتے ہیں اور وہ کوئی سنائپر تو نہیں تھا ۔
میں اسے سمجھاتے ہوئے بولا ۔”ہوا کی وجہ سے جھنڈے کا کپڑا اس کے ڈنڈے کے ساتھ ایک مخصوص زاویہ بناتا ہوا لہراتا ہے ۔ہوا جتنی تیز ہوتی ہے کپڑا اتنا ہی سیدھا اڑتا ہے ۔اس زاویے کو ناپ کر ہم سنائپر ز اندازہ لگالیتے ہیں کہ ہوا کی رفتار کیا ہے اور پھر رفتار معلوم کر کے ہم دائیں بائیں فرق ڈالنے والی ناب کے ذریعے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر مناسب رینج لگا سکتے ہیں ،اس طرح کہ ہوا گولی پر اثر انداز نہ ہو سکے ۔“
”اتنے بکھیڑے ،مجھ سے تو نہیں پالے جائیں گے ۔“
میں نے کہا ۔”کامیاب فائر کرنے کے لیے ایسے بکھیڑے پالنا پڑتے ہیں کمانڈر جی ۔“کہتے ہوئے میں رہائشی بینکر کی طرف بڑھ گیا ۔ وہ جلدی سے بولا ۔”اپنے چہرے پر کپڑا لپیٹ لو ، ہم نے افغان فوجیوں کو قتل نہیں کرنا ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلا کر چہرے پر مفلر لپیٹ لیا ۔اندر موجود مجاہدوں نے بھی اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے ۔اس پوسٹ پر بیس کے قریب افغان فوجی موجود تھے ۔تمام کو انھوں نے باندھ دیا تھا۔ بسم اللہ جان کے دومسلح ساتھی ان کی نگرانی کر رہے تھے اور باقی افغان فوجیوں کا اسلحہ ، ایمونیشن اور دوسری کام کی چیزیں نیچے لے جا کر اپنی گاڑی میں لوڈ کررہے تھے ۔
اندر کا جائزہ لے کر ہم باہر نکل آئے ۔ایک طرف پلاسٹک کی کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ ان پر بیٹھ ہم وقت گزارنے لگے ۔تھوڑی دیر تک مجاہدین ایمونیشن اور ہتھیاروں وغیرہ کو دو گاڑیوں میں لوڈ کر چکے تھے ۔آدھے افراد کو کمانڈر بسم اللہ جان نے واپس جانے کا حکم دیا کیونکہ فائر ہونے کے بعد ہم نے وہاں سے فرار ہونا تھا اور مناسب یہی تھا کہ اس سے پہلے سامان والی گاڑیاں اپنے ٹھکانے کی طرف بھیج دی جاتیں ۔
تقریب والی جگہ پر لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی ۔رائفل کے پیچھے لیٹ کر میں لیوپولڈ سائیٹ کے سے تقریب والی جگہ کا جائزہ لینے لگا ۔رینج ماسٹر کی ٹیلی سکوپ سائیٹ عام انسانی آنکھ سے پچیس گنا زیادہ طاقتور ہے ۔اس میں پورا منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔آنے والے گورے سائیٹ کے اندر صاف نظر آرہے تھے ۔زیادہ تر تو صوفوں پر بیٹھ گئے تھے البتہ اکادکا دائیں بائیں جوڑیوں میں کھڑے ہو کر بات چیت کر رہے تھے ۔باوردی بیرے انھیں مشروبات پیش کر رہے تھے ۔ غالباََ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ وہ کون سا مشروب تھا ۔افغان فوج کے چندآفیسر بھی مجھے صوفوں پر بیٹھے ہوئے نظر آئے تھے۔ان کی پہچان مجھے فوجی وردی کی وجہ سے ہو پائی تھی۔اکادکا خواتین بھی نظر آرہی تھیں ۔
میری نظریں پھسلتی ہوئی ایک لڑکی پر مرکوز ہوئیں اور میں چونک گیا ۔الگ تھلگ بیٹھی ہاتھ میں پکڑے جام سے ہلکی ہلکی چسکیاں لے رہی تھی ۔وہ میجر جینیفر ہنڈسلے تھی ۔لیکن اس وقت بھی وہ ٹریسی والکر کا روپ دھارے ہوئے تھی ۔
تمام کے انداز سے یہی لگ رہا تھا کہ انھیں کسی کا انتظار ہے ۔درمیان میں پڑاٹو سیٹر صوفہ سیٹ خالی پڑا تھا اس کے ساتھ پڑے ہوئے سنگل سیٹ صوفوں پر دو آدمی بیٹھے تھے ۔باقی تمام کرسیاں اور صوفے بھی تقریباََ بھر چکے تھے ۔
پھر ایک لمبے تڑنگے سفید سوٹ والے آدمی کی آمد پر تمام نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر اسے تعظیم دی تھی ۔درمیان والے صوفے پر نشست سنبھالتے ہوئے اس نے تمام کو بیٹھنے کا اشارے کیا اور سب نے اپنی جگہ پرنشست سنبھال لی ۔میں نے نظر بھر کر سامنے لگے جھنڈے کو دیکھا جو بالکل ہلکے انداز میں ہل کر واضح کر رہا تھا کہ ہوا کی رفتار اتنی زیادہ نہیں تھی کہ گولی کو ہدف سے دائیں بائیں کر سکتی ۔مطمئن ہو کر میں دوبارہ سائیٹ میں دیکھنے لگا ۔جبکہ میرے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے نے سیفٹی ہٹا دی تھی ۔
”ذیشان بھائی !....میرا خیال ہے مزید انتظار فضول ہوگا ۔“میرے ساتھ لیٹے بسم اللہ جان نے بھی فائر کرنے کا عندیہ دیا ۔
میں نے درمیانی صوفے پر پھیل کر بیٹھے آدمی کے چہرے پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ۔”میرا بھی یہی خیال ہے ۔بس مہمان خصوصی کا انتظار تھا ۔“یہ کہتے ہی میں نے سانس روکا اور ایک جھٹکے سے ٹریگر دبا دیا ۔اس وقت وہ گلاس کو منہ کی طرف لے جا رہا تھا لیکن اس کے مقدر کا رزق یقینا پورا ہو چکا تھا تبھی گلاس کے ہونٹوں تک پہنچنے سے پہلے رینج ماسٹر کی گولی اس کے ماتھے تک کا سفر طے کر چکی تھی ۔ طاقت ور گولی نے اس کی کھوپڑی کا دایاں حصہ ہی اڑادیا تھا ۔
”وہ مارا ۔“بسم اللہ جان نے پر جوش انداز میں نعرہ لگایا ۔مگر میں نے اس کی بات پر دھیان دیے بغیر رائفل کو دوبارہ کاک کر کے دائیں جانب بیٹھے ہوئے آدمی کی طرف بیرل کا رخ موڑا تمام لوگ ایک لمحے کے لیے سن ہو گئے تھے ۔میرے فائر کرنے سے پہلے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دونوں آدمی صوفے پر تڑپنے والے کو مدد دینے کے لیے اس کے قریب ہوئے ،مگر وہ ہر قسم کی مدد سے دور جا چکا تھا ۔ دائیں جانب والے آدمی کے ساکت ہوتے ہی میں نے دوبارہ ٹریگر دبایا اور وہ آدمی بھی اپنی کھوپڑی کے چوتھائی حصے سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔رینج ماسٹر کی گولی اس کی کھوپڑی سے گزرکر بائیں طرف موجود آدمی کے کندھے کو بھی زخمی کر گئی تھی ۔ایک نے جان سے ہاتھ دھوئے جبکہ دوسرا زخمی ہو کر تڑپنے لگا تھا ۔صوفے سے نیچے گرنے کی وجہ سے مجھے اس کا صحیح نشانہ نہیں مل رہا تھا ۔اس پر وقت ضائع کیے بغیر میں دوسروں کو نشانہ بنانے لگا ۔سرعت سے میں نے میگزین میں موجود باقی تین گولیاں فائرکیں ۔میرا نشانہ زیادہ تر وہ بنے جو شاک کی سی کیفیت میں اپنی جگہ پر ہکا بکا بیٹھے یا کھڑے رہ گئے تھے ۔
میگزین خالی ہوتے ہی میں نے نئی میگیزین لگائی اور رائفل کاک کر کے اپنا اگلا شکار ڈھونڈنے لگا ۔وہاں چیخ و پکار مچ گئی تھی ۔کچھ لوگ صوفوں کے عقب میں پناہ لے رہے تھے ۔کچھ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔اور کچھ ہمدردی دکھاتے ہوئے تڑپنے والوں کی مددکی کوشش کررہے تھے ۔میری انگلی نے دو مرتبہ ٹریگر دبا کر مزید دوکو ان کے انجام تک پہنچایا ۔اسی دوران مجھے وہ زخمی ہمت کر کے اٹھتا ہوا نظر آیا ۔اس کے کندھے میں تواتفاق سے گولی لگی تھی البتہ اس کے سر میں میں جان بوجھ کر گولی اتارنا چاہتا تھا ۔اس کے سیدھا ہوتے ہی میری بیرل کا رخ اس کی جانب گھوما اسی وقت کوئی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ۔یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا تھا کہ وہ جینیفر تھی ۔زخمی کو اپنے جسم کے پیچھے چھپاتے ہوئے اس کی نظریں اسی جانب اٹھی تھیں جہاں ہم موجود تھے ۔وہ زبردست سنائپر تھی اور اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کس جگہ سے فائر کیا جا رہا ہے ۔مگر پھر بھی اس کا یوں بے وقوفوں کے انداز میں کسی کو بچانے کے لیے اپنے جسم کی آڑ مہیا کرنا میری سمجھ سے بالاتر تھا ۔
اچانک ایک خیال میرے ذہن میں لہرایا اور میں چونک گیا ۔”کیا اس نے پہچان لیا تھا کہ فائر کرنے والا میں ہوں اور اسی وجہ سے یوں دلیرانہ انداز میں میرے کھڑی ہو گئی تھی ۔“
اسی وقت ایک دوسرا آدمی ان کے قریب پہنچا ۔یقینا وہ جینیفر کی وجہ سے ہمت کر کے قریب آیا تھا ۔اوریہ بہادری اسے مہنگی پڑی ۔جونھی جینیفر کی نظر اس پر پڑی اس نے چیخ کر اسے واپس جانے کو کہا ۔ گو اس کے الفاظ تو میرے کانوں تک نہیں پہنچے تھے مگر اس کے ہاتھوں کے اشارے اور انداز سے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی تھی ۔مگر اس کی یہ نصیحت یا مشورہ بے سود رہا تھا ۔جب تک دوسرے کی سمجھ میں جینیفر کی بات آتی ،رینج ماسٹر کی گولی اسے سمجھا چکی تھی ۔اس کے بائیں کان کے ساتھ لگنے والی گولی نے اسے دائیں جانب اچھال دیا تھا ۔اس کا آدھا جسم صوفے پر اور آدھا نیچے تھااس حالت میں تڑپتے ہوئے وہ کافی مضحکہ خیز نظر آرہا تھا
میں نے دوبارہ رائفل کاک کی لیکن جینیفر وہاں سے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آرہی تھی ۔میرے ہمراہ لیٹے ہوئے کمانڈر بسم اللہ جان نے کہا ۔”ذیشان بھائی !....دوران جنگ ، لڑائی میں شامل عورتوں مردوں کی تخصیص ختم ہو جایا کرتی ہے ۔“یقینا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں جینیفر کے عورت ہونے کی وجہ سے اس پر گولی نہیں چلا پا رہا ۔اس کی بات سن کر مجھے لگا کہ میں جینیفر پر گولی نہ چلا کر کچھ غلط کر رہا ہوں ۔ اس وقت میں اس سے ہونے والی آخری ملاقات کو سوچ رہا تھا جب میں نے اسے بتایا تھا کہ اس کے سامنے آنے کی صورت میں میں اس پر گولی چلانے سے خود کو نہیں روک پاﺅں گا ۔اور اب اپنے الفاظ پر عمل کرنے کا وقت آگیا تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں ”الوداع جینی !“ کہا اور میری انگلی کا دباﺅ ٹریگر پر بڑھنے لگا۔
جاری ہے
 

میں بری طرح پھنس گیا تھا ۔ان کی نظروں میں آئے بغیر میں ہوٹل سے نکل نہیں سکتا تھا ۔ البتہ یہ ممکن تھا کہ وہ صرف میری نگرانی کر رہے ہوتے اور میں باہر نکل کر انھیں جل دے کر بھاگ جاتا لیکن اس کے بعد کرس کارٹر میرے ہاتھ سے نکل جاتا ۔یقینا میرے غائب ہونے کے بعد وہ بھی منظر عام سے ہٹ جاتا بہتر یہی تھا کہ میں اسے یرغمال بنا کر ہوٹل سے اڑن چھو ہونے کی کوشش کرتا ۔ایک نتیجے پر پہنچ کر میں نے پستول کی نال پر سائیلنسر چڑھایا اورجسم پر چادر لپیٹ کر باہر نکل آیا ۔گیلری سنسان پڑی تھی۔ کمرہ نمبر بتیس اے تک میں دبے قدموں چلتا ہوا پہنچا ۔دائیں بائیں دیکھ کر میں نے گیلری کے خالی ہونے کا یقین کیا اور سائیلنسر کو لاک کے ساتھ لگا کر ٹریگر دبا دیا ۔
”ٹھک ۔“کی آواز ابھرتے ہی میں دروازے کو دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔وہ دونوں ایسی حالت میں نہیں تھے کہ کمرے سے باہر ہونے والی۔” ٹھک ۔“انھیں متوجہ کر سکتی ۔یقینا کرس کارٹر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسی جرات کا مظاہرہ کروں گا ۔میرے آندھی و طوفان کی طرح اندر گھسنے پر وہ ہڑبڑا گئے تھے ۔لڑکی کے منھ سے سریلی چیخ برآمد ہوئی مگر اس وقت تک میں دروازہ بھیڑ چکا تھا ۔
”تولیہ لپیٹ لو ۔“میں نے ہکا بکا بیٹھی لڑکی کو اس کی بے لباسی کی طرف متوجہ کیا ۔
اس نے ہڑبڑاتے ہوئے تولیہ اٹھا کر لپیٹ لیا تھا ۔
”تم اسی طرح کھڑے ہو جاﺅ۔“کرس کارٹر کو میں انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔
”یقینا تمھیں اپنی جان عزیز نہیں ہے ۔“کینہ توز نظروں سے مجھے گھورتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا تھا ۔
میں ہنسا ۔”یہ کسی صحافی کا لہجہ تو نہیں ہے ۔“
میری بات پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا ۔
اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں نے کہا ۔”گھوم جاﺅ ۔“وہ آہستہ سے گھوم گیا ۔
”اپنے ہاتھ پیچھے باندھ لو ۔“میں نے اگلا حکم دیا ۔یہ کہتے ہوئے میں اس کے قریب پہنچ گیا تھا ۔
ہاتھ پیچھے لاتے ہوئے وہ ایک دم میری طرف مڑکر پستول پر جھپٹا۔مجھے اس سے اسی قسم کی کارروائی کی توقع تھی ۔ پستول والا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے میں نے پستول کو اس کی دست برد سے بچایا اس کے ساتھ ہی میرا بایاں مکا نیم دائرہ بناتا ہوا اس کی ٹھوڑی کی طرف بڑھا ۔اس کی سمجھ میں کچھ آنے سے پہلے حواس اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔وہ لہراتا ہوا منھ کے بل نیچے گرگیا ۔اگر فرش پر دبیز قالین موجود نہ ہوتا تو یقینا اس کا تھوبڑا ٹیڑھا ہو گیا ہوتا ۔
”کھڑی ہو جاﺅ۔“میں نے پستول کی نال سے لڑکی کو اٹھنے کا اشارہ کیا ۔اسے میں پشتو میں مخاطب کر رہا تھا ۔
وہ لرزتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔ایسی لڑکیوں کی بزدلی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔
”اس طرف۔“میں نے پستول کی نال سے اسے غسل خانے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا ۔
”مم ....مجھے جانے دو میں کسی کو کچھ نہیں بتاﺅں گی ۔“وہ باقاعدہ کانپنے لگ گئی تھی ۔
”تعاون کرو گی تو یقینا جان بچ جائے گی ۔“
وہ پرجوش لہجے میں بولی ۔”میں ہر قسم کے تعاون پر تیار ہوں ۔“میری بات کا اس نے الٹا مطلب لیا تھا ۔
”ہر قسم کا تعاون چھوڑو ،بس تھوڑی دیر غسل خانے میں گزار لو ۔“اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے میں نے غسل کا دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور مطمئن ہوتے ہوئے اسے اندر دھکیل دیا ۔
کرس کارٹر کسی بھی وقت ہوش میں آسکتا تھا ۔لڑکی سے بے فکر ہوتے ہی میں نے کرس کارٹر کی ٹائی اٹھا کر اس کے ہاتھ پشت پر باندھے تاکہ ہوش میں آنے پر وہ کوئی غلط حرکت نہ کر سکے اور لباس کی تلاشی لینے لگا ۔اس کا پرس اور موبائل فون میں نے اپنی جیب میں منتقل کر دیا ۔تکیے کے نیچے پڑے بریٹا نے مجھے خوش کر دیا تھا ۔گلاک کی طرح یہ بھی اعلا کوالٹی کا پستول تھا ۔جلدی جلدی باقی کمرے کی تلاشی لے کر میں کمانڈر بسم اللہ جان کو کال کرنے لگا ۔
”ہاں ذیشان !“کال وصول کرتے ہی اس نے بے صبری سے پوچھا ۔”کیا آپ کسی محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں ؟“
”میں اسی کے کمرے میں ہوں اور اب اسے کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہوگا۔“
”کیا مطلب۔“وہ حیرانی سے چیخ پڑا تھا ۔
میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔”مطلب یہ کہ میں نے اسے بے ہوش کر دیا ہے اور اسی سے احمد کے بارے بھی معلوم ہو جائے گا ۔“
”ہوٹل سے باہر کیسے نکالیں گے ؟“
”آپ دو تین ساتھیوں کو گاڑی دے کر ہوٹل کی جانب بھیجیں میں اسے باہر نکالنے کی سعی کرتا ہوں ۔“
”مطلب ٹاکرا ہو کر رہے گا ۔“اس نے خوش دلی سے قہقہہ لگایا ۔
”اس کے بغیر چارہ بھی نہیں ہے ۔“
”ٹھیک ہے ،میری کال کا انتظار کرنا ۔“اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اسی اثناءمیں کرس کارٹر کسمساکر اٹھ بیٹھا تھا ۔
میں نے لڑکی کو غسل خانے سے باہر نکال کر کپڑے پہننے کو کہا ۔وہ ابھی تک سخت خوفزدہ تھی ۔ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے کپڑے پہن لیے ۔
”اب اسے بھی پتلون پہنا دو ۔“میں کرس کارٹرکی طرف اشارہ کیا ۔
سر ہلاتے ہوئے وہ کرس کا انڈر ویئر اور پتلون اٹھا کر اس کی طرف بڑھ گئی ۔
کرس نے بے چوں و چراں پتلون پہن لی تھی ۔وہ بار بار منھ کھول کر اپنے جبڑے کو ہلا رہا تھا۔ یقینا میرے دائروی مکے نے اس کے جبڑے کو ہلا دیا تھا ۔
”یہ کوٹ بھی اسے اوڑھا دو ۔“میں نے گرم اوورکوٹ اس کی طرف بڑھایا۔وہ کوٹ کافی کھلا تھا ۔لڑکی نے اس کے کندھوں پر کوٹ ڈال کر سامنے سے بٹن بند کر دیے ۔اب محسوس ہی نہیں ہورہا تھا کہ اس کے ہاتھ پشت پر بندھے ہیں ۔
کرس کارٹر کے نزدیک جا کر میں نے پستول جیب میں ڈالااور کہا ۔
”اپنا منھ بند کرو۔“اسے معلوم ہو گیا تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں اس نے منھ بند کر لیا ۔میں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اس کے جبڑوں کے دائیں بائیں رکھ کر اندر کی طرف ٹھوکر لگائی ۔اس کے جبڑوں کی ہڈیاں اپنے جوڑوں میں بیٹھ گئی تھیں ۔
”چلو ۔“انھیں آگے بڑھنے کا اشارہ کر کے میں اپنے کمرے میں لے آیا ۔خوش قسمتی سے گیلری اس وقت بھی خالی پڑی تھی ۔اگر کوئی موجود بھی ہوتا تب بھی اسے کچھ معلوم نہ ہو پاتا ۔
”بیٹھ جاﺅ ۔“اپنے کمرے داخل ہوتے ہی میں نے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔میں نے خود بیڈ پر نشست سنبھال لی تھی تھوڑی دیر بعد ہی کمانڈر بسم اللہ جان کی کال آنے لگی تھی ۔
”اسلام علیکم !“میں کال وصول کی ۔
”پانچ منٹ میں دو گاڑیاں ہوٹل کے سامنے پہنچ جائیں گی ۔ہر گاڑی میں تین آدمی سوار ہیں۔“
”ٹھیک ہے ہم بھی باہر آ رہے ہیں ۔“مختصراََ کہتے ہوئے میں نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
”انگلش سمجھتی ہو ؟“میں نے لڑکی سے پوچھا اور اس نے اثبات میں سر ہلادیا ۔
”یہاں سے تم دونوں اکھٹے باہر نکلو گے۔لڑکی !....تم کرس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے ساتھ چپک کر چلو گی ۔میں تم سے ایک قدم پیچھے چلوں گا ۔اگر ذرا بھی گڑ بڑ کی کوشش کی تو مسٹر کرس!....یادرکھنا وہ تمھاری زندگی کی آخری بے وقوفی ہو گی ۔استقبالیہ پر جا کر بتاﺅ گے کہ تم ایک دن کے لیے کہیں جا رہے ہو ۔ میں اپنے کمرے کی چابی استقبالین کو واپس کرکے اپنا حساب بے باق کروں گا۔اس دوران تم وہیں ٹھہر کر میرے منتظر رہو گے ۔میں جانتا ہوں کہ نیچے ہال میں تمھاراایک یا اس سے زیادہ ساتھی موجود ہیں ،مگر وہ عمر گھٹانے کے علاوہ تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔“
وہ ہونٹ بھینچے خاموش بیٹھا رہا ۔
”اب اٹھو اور چل پڑو،چہرے پر بھی ذرا خوش گواری لاﺅ ۔بالکل ویسا ہی موڈ جیسا میری آمد سے پہلے بنایا ہوا تھا ۔“یہ کہتے ہوئے میں اپنے جسم پر چادر لپیٹ لی تھی تاکہ پستول نظر نہ آئے ۔
سیڑھیاں اتر کر ہم ہال میں پہنچے ۔اتنی رات گزرنے کے بعد بھی ہال مکمل خالی نہیں ہوا تھا ۔اکا دکا میز پر اب بھی گاہک بیٹھے نظر آرہے تھے ۔میرے حکم کے مطابق وہ دونوں استقبالیہ کی طرف بڑھنے لگے میں ان کے قریب ہی چل رہا تھا ۔
”ہم کہیں جا رہے ہیں کل تک لوٹ آئیں گے اگر کوئی میرا پوچھنے آئے تو بتا دینا کہ کل شام تک واپس پہنچ جاﺅں گا ۔“کرس کارٹر نے رٹا رٹایا فقرہ دہراتے ہوئے کمرے کی چابی استقبالین کی طرف بڑھا دی ۔
”ٹھیک ہے سر ۔“استقبالین نے کاروباری مسکراہٹ چہرے پر بکھیری ۔
”میں کمرہ چھوڑ رہا ہوں ،بل بنادیں۔“استقبالین سے مخاطب ہوتے ہوئے بھی میرا رخ ان دونوں کی جانب تھا ۔وہ استقبالیہ کاﺅنٹر کے ساتھ کھڑے ہو کر ہال کا جائزہ لے رہے تھے ۔
استقبالین نے پوچھا ۔”سر کمرہ نمبر پلیز ۔“
کمرہ نمبر بتا کر میں نے کمرے کی چابی بھی اس کی جانب بڑھا دی ۔
حساب کتاب کر کے اس نے بل اور میرا پاسپورٹ میری جانب بڑھا دیا ۔بل ادا کر کے میں نے کہا ۔
”ایک منٹ ذرا رجسٹر دکھانا ۔“
”یہ لیں سر ۔“اس نے رجسٹر میری جانب گھمایا۔ایک نظر صفحے پر گھماتے ہوئے میں نے تیزی سے وہ صفحہ پھاڑ کر اپنے ساتھ رکھ لیا ۔
”کک....کیا ....“اس نے کچھ کہنا چاہا مگر پستول کی جھلک دیکھتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔
اسی دوران ایک لمحے کے لیے میں کرس کارٹر سے غافل ہوا ۔اس نے کندھے سے لڑکی کو میری جانب دھکا دیا اور بیرونی دروازے کی طرف بھاگا ۔
لڑکی کو کو واپس دھکیل کر میں اس کے پیچھے بھاگ پڑا۔اسی وقت مختلف کونوں سے تین افراد کھڑے ہوئے ۔میں نے فوراََ گھٹنا نیچے ٹیک کر کرس کی پنڈلی پر فائر کر دیا ۔وہ بھاگ رہا تھا لیکن اس کا مجھ سے فاصلہ چند قدموں سے زیادہ نہیں تھا ۔گولی ضائع ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
وہ اوندھے منھ نیچے گرا ۔تین آدمی پستول نکال کر ہماری طرف بڑھے تینوں مقامی ہی تھے۔ دائیں بائیں میزوں پر بیٹھے گاہکوں کو بھی گڑبڑ کا پتا چل گیا تھا ۔چند نسوانی چیخیں بلند ہوئیں ۔کوئی پولیس کو بلانے کا مشورہ دینے لگا ۔تین چار آدمی دروازوں کی طرف بھاگے کچھ کونوں میں سمٹ گئے تھے ۔
میں بھاگ کر کرس کے قریب پہنچا۔وہ کراہتے ہوئے اٹھ بیٹھا تھا ۔اس کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر میں نے زبردستی کھڑا کر دیا۔
اس کے ساتھی بھی قریب پہنچ گئے تھے ۔تینوں کے تیور خاصے بگڑے ہوئے تھے ۔
”اگر کسی نے ہوشیاری کی کوشش کی تو یہ جان سے جائے گا ۔“کرس کی کنپٹی سے پستول لگاتے ہوئے میں نے انھیں دھمکایا۔
”بچے گا تو بھی نہیں ۔“ ایک نے جوابی دھمکی دی ۔
صورت حال کافی بگڑ چکی تھی ۔اگر مزید وقت گزرتا تو پولیس بھی وہاں آجاتی ۔انھوں ایک خاص بے وقوفی کی تھی کہ وہ ایک جانب اکٹھے ہوگئے تھے۔اگر وہ میرے چاروں جانب کھڑے ہو گئے ہوتے تو میں زیادہ خطرے میں ہوتا ۔سرعت سے سوچتے ہوئے میں نے خطرہ مول لینے کا فیصلہ کیا ۔اور کرس کو اپنے سامنے ڈھال کی طرح پکڑتے ہوئے کہا ۔
”میرے تین گننے تک اگر تم لوگوں نے پستول نیچے نہ پھینکے تو یہ جان سے جائے گا۔ ایک....“
انھوں نے میرے گنتی شروع کرتے ہی ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اسی لمحے میں کام کر گزرا ۔بغیر لمحہ ضائع کیے میں نے پستول سیدھا کیا اور ٹریگر کومسلسل دباتا گیا ۔تینوں کے ماتھے میں گولیاں لگی تھیں ۔اتنی تیزی سے پستول سے فائر کر کے کسی کے سر میں گولی مارنا ایک فن ہی تھا ۔مگر وہاں مجھے سراہنے کے بجائے تیز نسوانی چیخیں ابھرنا شروع ہو گئی تھیں ۔
”چلو ۔“میں نے کرس کو دھکیلا ۔
وہ کراہتے ،لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا ۔ہوٹل کے داخلی دروازے کے باہر کھڑے دو ہتھیار بردار دربان یقینا میرے لیے مسئلہ پیدا کردیتے ،مگر اسی وقت دروازے سے چار کلاشن کوفوں والے اندر گھسے ۔ ان میں سے دو کو میں پہچانتا تھا ۔وہ کمانڈر بسم اللہ جان کے ساتھی تھے ۔ایک نے دربانوں پر کلاشن کوف پکڑ کر انھیں ایک طرف ہونے کا اشارہ کیا ۔باقی تینوں میرے قریب آگئے ۔
”کیا حکم ہے ۔“
” وقت نہیں ہے اسے اٹھا کر لے جانا پڑے گا ۔“
اس نے سرہلاتے ہوئے کلاشن کوف ساتھی کے حوالے کی اور کرس کو کندھے پر اٹھا کر واپس مڑ گیا ۔ دروازے کے سامنے ہی دو ڈبل کیبن کھڑی تھیں ۔بیٹھتے ہوئے میں نے ایک آدمی کو احمد کی موٹر سائیکل کی چابی پکڑائی اور پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکل کی جانب اشارہ کر کے کہا۔
”آپ احمد بھائی کی موٹر سائیکل لے آئیں ۔“
وہ سر ہلاتا ہوا نیچے اتر گیا ۔دونوں ڈبل کیبن آگے پیچھے حرکت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئیں ۔ میں چادر سے پٹی پھاڑ کرکرس کی پنڈلی سے باندھ دی تھی ورنہ زیادہ خون بہہ جانے سے اس کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا تھا ۔تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم ہوٹل سے دور ہوتے گئے ۔میں کرس کے ہمراہ آگے والی گاڑی میں تھا ۔ تھوڑی دورآتے ہی دوسری گاڑی ہم سے علاحدہ ہو گئی تھی ۔پندرہ بیس منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد ہم ایک درمیانے مکان کے سامنے رک گئے ۔ہارن سن کر ایک شخص نے باہر جھانکا اور گاڑی کو پہچانتے ہی دروازہ کھول دیا ۔
وہ ایک درمیانہ سا مکان تھا ۔گاڑی صحن میں کھڑی کر کے ہم نیچے اترے اور مکان میں موجود آدمی کی رہنمائی میں چلتے ہوئے ایک خفیہ کمرے میں پہنچے ۔گو وہ کمرہ دوسرے کمروں کے درمیان ہی میں تھا مگر اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ یہاں کمرہ موجود ہے ۔
اندر گھستے ہی ہم نے فی الفور کرس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ۔
”احمد کہاں ہے ؟“میں نے پہلا سوال ہی اپنے گمشدہ ساتھی کے متعلق پوچھا تھا ۔
”کون احمد ۔“اس نے بے پروائی سے کہتے ہوئے خود کو نڈر ظاہر کرنا چاہا۔
”دیکھو مسٹر کرس !....احمد کے بارے تمھیں زبان تو کھولنا پڑے گی ۔آرام سے یا تکلیف برداشت کر کے ۔“
وہ اطمینان سے بولا ۔”اگر خواہ مخواہ تشدد کرنے کا شوق ہے تو آگے بڑھو ۔“
”آری مل جائے گی ۔“میں نے میزبان سے پوچھا ۔
”جی ۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے وہ باہر نکل گیا ۔
اس کی واپسی تک میں نے اس کی پتلون کا پائنچہ موڑ کر زخمی پنڈلی کو ننگا کر دیا تھا ۔وہ ہونٹ بھینچے میری کارروائی دیکھتا رہا ۔دو تین منٹ بعد میزبان آری لیے نمودار ہوا ۔
”اس کی ٹانگ یہاں گھٹنے سے پکڑو۔“میں نے میزبان ہی کو کہا۔اور اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کے گھٹنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا ۔
”تت....تم کیا کر رہے ہو ۔“میرا اطمینان بھرا انداز اسے خوفزدہ کر گیا تھا ۔
”زخمی پنڈلی کا کاٹ کر علاحدہ کر دیتا ہوں ،یہ تو اب یوں بھی بے کار ہے ۔“یہ کہتے ہوئے میں نے زخم سے انچ بھر اوپر آری رکھی ۔
”ایک منٹ ....“وہ لرزتے ہوئے ایک پتا دہرانے لگا ۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا اور انھوں نے اوپر نیچے سر ہلا کر سمجھ جانے کا اشارہ کر دیا ۔
”تیار ہو جاﺅ ۔“کرس کارٹر کو میزبان کے حوالے کر کے میں باقیوں کے ساتھ باہر نکل آیا ۔
انھوں نے کال کر کے دوسری گاڑی کو بھی بلا لیا تھا ۔رستے ہی میں ہمیں دوسری گاڑی نے مل جانا تھا ۔
”کیا ابھی جانا ضروری ہے ۔“بسم اللہ جان کے ایک ساتھی نے پوچھا جس کا نام مجھے بعد میں حیدر معلوم ہواتھا ۔
میں نے کہا ۔”ہاں دیر کرنے سے وہ اسے کسی دوسری جگہ بھی منتقل کر سکتے ہیں ۔“
”ہونہہ۔“حیدر نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔حیدر کے علاوہ میرے ساتھ شمال خان اور میر قلم خان بیٹھے ہوئے تھے ۔باقی افراد دوسری گاڑی میں تھے۔ایک چوک پر دوسری گاڑی ہماری منتظر کھڑی تھی ۔ہمارے آگے بڑھتے ہی وہ پیچھے پیچھے چل پڑے ۔
مطلوبہ مکان گنجان آبادی میں تھا ۔وہاں تک ہمیں آدھا گھنٹا لگا تھا ۔ایک چوک پر گاڑی روکتے ہوئے حیدر نے کہا ۔”سامنے پہلی گلی میں دوسرا مکان وہی ہے ۔“
”آپ لوگ یہیں رکو میں جائزہ لیتا ہوں ۔“میں نے نیچے اترنے کے لیے درواز کھولا ۔
”میں جاتا ہوں ۔“میر قلم نے اپنی خدمات پیش کیں ۔
”آپ بس تیاری حالت میں رہنا ۔“میں نے مفلر چہرے کے گرد لپیٹا اورنیچے اتر گیا ۔
”میں بھی ساتھ چلتا ہوں ۔“میر قلم بھی میرے ساتھ ہو لیا تھا ۔
رات ختم ہونے کو تھی ۔سڑکوں پر آمدو رفت نہ ہونے کے برابر تھی ۔دونوں گاڑیاں چوک سے تھوڑا آگے لا کر انھوں نے سڑک کے ایک جانب کھڑی کر دیں ۔میں اور میر قلم چہل قدمی کے انداز میں آگے بڑھنے لگے ۔گو نہ تو صبح کی نماز کا وقت ہوا تھا اور نہ مٹر گشت کا وقت تھا ۔ہماری حرکت شکوک کے دائرے میں آرہی تھی ۔لیکن ہم احتیاط کو نظر انداز کیے آگے بڑھتے گئے ۔گلی کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے مطلوبہ گھر کے دروازے سے روشنی چھلکتی ہوئی نظر آئی ۔واضح نظر آرہا تھا کہ گھر دروازہ کھلا ہوا ہے ۔
”مجھے لگتا ہے وہ نکل گئے ہیں ۔“آگے جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے میں گلی میں مڑ گیا ۔
”صحیح کہہ رہے ہو ۔کھلے دروازے کو دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دشمن افراتفری میں بھاگ گئے ہیں ۔“میر قلم نے میری تائید میں سر ہلادیا ۔
مطلوبہ مکان کے سامنے پہنچتے ہی مجھے اپنا اندازہ صحیح ہوتا نظر آیا ۔نہ صرف داخلی دروازہ کھلا تھا بلکہ اندر کمروں کے دروازے بھی کھلے ہوئے نظر آرہے تھے ۔وہ روشنی کو جلتا اور دروازوں کو کھلا چھوڑ کر بھاگے تھے ۔
”میرا خیال ہے اندر چل کر جائزہ لے لیتے ہیں ۔“میرقلم نے مشورہ دیتے ہوئے آگے قدم بڑھا دیے ۔میں سر ہلاتا ہوا اس کے پیچھے ہو لیا ۔
مختصر صحن کے بعد برآمدہ نظر آرہاتھا جس کے بعد کمروں کے دروازے تھے ۔میر قلم مجھ سے دو قدم آگے تھا جونھی وہ برآمدے کے قریب پہنچا اچانک ہی مجھے اس کی گردن کے نیچے ایک سرخ نقطہ نظر آیا۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں مجھے خطرے کا احساس ہو گیا تھا ۔یقیناوہ لیزر پوائنٹ کا نشان تھا ۔کسی نے ہم پر نشانہ سادھا ہوا تھا ۔
”نیچے لیٹ جاﺅ ۔“خود کو زمین پر گراتے ہوئے میں چیخا ۔لیکن میر قلم کو دیر ہو گئی تھی ۔میرے الفاظ جب تک اس کی سمجھ میں آتے اس کی گردن میں گولی پیوست ہو گئی تھی ۔میری طرح وہ بھی اوندھے منھ ہی گرا تھا لیکن اس کے گرنے میں اس کی مرضی شامل نہیں تھی ۔
نیچے گرنے کے ساتھ میں ساکت نہیں ہوا تھا بلکہ زقند بھر کر میں نے برآمدے کے ستون کے ساتھ آڑ ڈھونڈ لی ۔انھوں نے مکان کے دروازے کھلے چھوڑ کر ہمارے لیے چارہ ڈالا تھا اور ہم بغیر سوچے سمجھے ان کی چال میں آگے تھے ۔گو اس مکان میں گھستے وقت میرے دماغ میں ہلکی سی کھٹک موجود تھی لیکن میں احتیاط نہیں برت سکا تھا ۔
ستون کی آڑ میں آکر میں نے جیب سے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ،مگر فائر کرنے والے مخالف مکان کی چھت پر تھے اور پستول کی رینج سے دور تھے۔
میرے سامنے ایک کمرے کا دروازہ تھا ۔ستون کی آڑ میں بہ ہرحال تھوڑا بہت خطرہ موجود تھا۔چھت پر لیٹے فائرر نے مجھے نشانہ بنانے کے لیے چند اور فائر کیے تمام گولیاں ستون میں لگی تھیں ۔ اسی وقت کلاشن کوف کے فائر کی آواز میرے کانوں میں گونجی ۔ اندازے کے مطابق وہ میرے ساتھیوں کا جوابی فائر تھا ۔میرے لیے واپس درواے تک پہنچنا ممکن نہیں تھا ۔میں نے کمرے میں داخل ہونا مناسب سمجھا ۔اور کلاشن کوف کا دوسرابرسٹ فائر ہوتے ہی میں چھلانگ لگا کر کمرے میں داخل ہوا، مگر میری بدقسمتی کہ کمرہ خالی نہیں تھا ۔
”ہاتھ اوپر ۔“انگریزی میں پکارا گیا تھا ۔وہ دو نقاب پوش تھے ایک کے ہاتھ میں پستول تھا ۔ اس کے منھ سے الفاظ کی ادائی ہونے تک میں فائر کر چکا تھا .مجھے ہینڈز اپ کرانے کی حسرت دل میں لیے وہ سر میں گولی کھا کر مردہ چھپکلی کی طرح نیچے گرا،اس کا ساتھی زیادہ چست ثابت ہوا تھا ۔میرے دوبارہ ٹریگر دبانے سے پہلے اس نے بائیں پاﺅں پر گھومتے ہوئے اپنے دائیں پاﺅں سے میرے پستول والے ہاتھ کو نشانہ بنا لیا تھا ۔اس کی ٹھوکر سے پستول میرے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا ۔اس کے بعد بھی اس کی حرکت رکی نہیں تھی ۔دوسرا پاﺅں زمین پر رکھتے ہوئے وہ دوبارہ گھوما اور اس کی دوسری ٹانگ میری چھاتی میں لگی ۔میں دیوار سے ٹکرا گیا تھا ۔اس کے حملوں میں بڑی تیزی تھی ۔میرے جوابی حملے سے پہلے سیدھے ہو کر اس نے اپنا گھٹنا میری ناف میں مارنے کے لیے اوپر اٹھایا ،لیکن اس وقت تک میں سنبھل چکا تھا ۔اس کا وار میں نے اپنے ہاتھوں پر سہا اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے سر کی زوردار ٹکر اس کی چھاتی میں رسید کی اور فوراََ ہی مجھے پتا چلا کہ وہ مرد نہیں کوئی عورت تھی ۔میری ٹکر کھا کر وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور ایک دم اپنے بائیں پاﺅں پر گھومی ۔اس کا دایاں پاﺅں میرے چہرے کی طرف بڑھا ۔
سر کو ذرا سا نیچے جھکاتے ہوئے میں نے اس کا وار خطا کیا ۔دایاں پاﺅں نیچے لگاتے ہوئے اس نے دوسرا پاﺅں اٹھا کر حملہ کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی میری زبردست ٹھوکر اس کی پیٹھ پر پڑ چکی تھی ۔
وہ منھ کے بل نیچے گری لیکن اپنے ہاتھوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نے چہرے کو زمین پر لگنے سے بچا لیا تھا ۔اور پھر اسی طرح پڑے رہنے کے بجائے وہ کروٹ تبدیل کرتی ہوئی میری اگلی ٹھوکر کی زد سے دور ہو گئی ۔دو تین کروٹیں لے کر وہ اچھل کر کھڑی ہو گئی ۔اس کے تیز حملے اور قدو قامت مجھے کسی شک میں مبتلا کر رہا تھا ۔شک دور کرنے کے لیے میں نے اگلے حملے سے پہلے چہرے پر لپٹا مفلر کھولا ۔وہ حملے کے لیے پر تول رہی تھی ،میرا چہرہ دیکھتے ہی ٹھٹک کر رک گئی ۔
”ذی تم ؟“میرے کانوں میں جینیفر کی سریلی آواز گونجی ۔میرا اندازہ ٹھیک نکلا تھا وہ جینی ہی تھی ۔میرے جواب دینے سے پہلے تین ہتھیار بردار اندر گھستے چلے آئے تھے ۔چاروں نے نقاب اوڑھے ہوئے تھے ۔
”ہاتھ اوپر ۔“ان میں سے ایک پشتو میں بولا تھا ۔
میں نے فوراََ ہاتھ اٹھا لیے ۔باہر اب تک فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا ۔
”ٹریسی جانا ہوگا ۔“ایک دوسرا آدمی جینیفر کو انگریزی میں مخاطب ہوا تھا ۔اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ جینفر سے سینئر یا اس کا ہم رینک تھا ۔
”باہر والوں کو بھی اندر بلا لو اوردو آدمی چند منٹ تک یہیں کمرے کے اندر سے فائر کا جواب دیتے رہو ۔“اس کے ساتھ وہ بولا ۔”ایک آدمی اس کے ہاتھ باندھ دو ۔“
”جی سر !“ایک آدمی نے اثبات میں سر ہلادیا۔ جبکہ دوسرے نے اس کے اشارے پر میرے ہاتھ پشت پر باندھے اور میری تلاشی لے کر جیبوں میں موجود سامان نکال لیا ۔
مجھے حراست میں لے کر وہ کمرے میں موجود اندرونی دروازے کی طرف بڑھے ۔دوسرے کمرے کے کونے میں سیڑھیاں نیچے جا رہی تھیں ۔سیڑھیاں اتر کر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی شمالی دیوار میں تنگ سی سرنگ نظر آرہی تھی ۔جینیفر آگے ہو گئی اس کے پیچھے میں تھا ۔میرے عقب میں باقی آرہے تھے ۔کافی طویل سرنگ تھی ۔اس کے اختتام پر سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں ۔ہم پہلے والے مکان سے قریباََ پانچ چھے مکان دور آگئے تھے ۔
اس دوران میرا دماغ اسی ادھیڑ بن میں مصروف رہا کہ کیا کرنا چاہیے ۔نہ جانے جینی میری کچھ مدد کر پاتی یا نہیں ۔آخر وہ خود امریکن سرکار کی ملازم ہی تو تھی اور جب اس سے ایک سینئر آدمی موجود تھا تو اس کا کیا بس چلتا ۔اگر وہ دھوکے سے مجھے فرار کر دیتی تب بھی اس پر بات تو آسکتی تھی ۔پہلی دفعہ میرا نام لینے کے بعد اس نے دوبارہ مجھے مخاطب کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔اور اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ وہ میرے ساتھ شناسائی ظاہر نہیںکرنا چاہتی تھی ۔
دوسرے مکان کے صحن میں آتے ہی میرے کانوں میں ایک بار پھر فائر نگ کی آواز آنے لگی تھی ۔صحن میں دو گاڑیاں تیاری حالت میں کھڑی تھیں ۔میرے چہرے پر کالا کپڑا چڑھا کر انھوں نے ایک گاڑی کی عقبی نشست پر دھکیلااور اس مکان سے باہر نکل آئے ۔ان کی بات چیت سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ جینی اور دوسرا امریکن اسی گاڑی میں تھے ۔اس کا نام الیگزینڈر تھا اور وہ جینی سے سینئر لگ رہا تھا ۔ موضوعِ گفتگو مجاہدین کا خفیہ ٹھکانہ تلاش کرنے کی جستجو تھی ۔یقینا احمد سے انھیں کچھ معلوم نہیں ہو پایا تھا ۔
گاڑی آدھا پون گھنٹا چلتی رہی ۔رکنے پر ایک آدمی نے مجھے بازو سے پکڑ کر باہر گھسیٹ لیا ۔
تھوڑی دیر بعد میں ایک کرسی پر بندھا ہوا بیٹھا تھا ۔میرے سر پر چڑھا کپڑا انھوں نے اتار دیا تھا ۔الیگزینڈر نے مجھے باندھنے والوں کو کہا ۔
”مجھے غزنی میں موجود دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کی تفصیل چاہیے ۔اوت تفتیش کرتے ہوئے بس اتنا خیال کرنا کہ اسے مرنا نہیں چاہیے باقی ہاتھ پاﺅں کاٹتے ہو یا ناک کان اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔“
”فکر نہ کریں سر !“دونوں نے اطمینان بھرے انداز میں سر ہلادیا ۔جینی ٹریسی والکر کے روپ میں وہاں کھڑی مجھے گہری نظروں سے گھور رہی تھی ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top