- Thread Author
- #1
بیوہ بہن بنی سہاگن
پینتیس سالہ اشرف بینکاک سے کپڑے اور الیکڑانک چیزیں لا کر لاہور پاکستان میں سیل کرتا ہے
اشرف کی فیملی لاہور سے دور ایک گاوں میں رہتی ہے اس لیے خرچہ بچانے کے لیے اشرف اپنی تیس سالہ بیوہ بہن اور اسکے بچے کے ساتھ لاہور ایرپورٹ واقع اس کے گھر میں رہتا ہے
زینت کا اپنا شوہر دوسال پہلے فوت ہو گیا تھا اس لیے اشرف ہی اب اپنی بہن اور اس کے بیٹا کا خرچ بھی پورا کرتا ہے
کچھ سال پہلے کی بات ہے جب ایک شام اشرف نہانے کے لیے اپنی بہن کے گھر میں بنے واحد باتھ روم میں گیا
جب وہ اپنے کپڑے اتار کر باتھ روم کی کھونٹی پر ٹانگنے لگا
تو اشرف کو باتھ روم کی کھونٹی پر اپنی بہن کی استمعال شدہ شلوار قمیض اور اس کا دیسی سٹائل کا کاٹن کا بریزر اور انڈرویر پڑا نظر ایا
جو کے زینت نے دوپہر کو نہانے کے بعد اتارے تھے اور دھونا بھول گی تھی
اشرف نے اپنی بہن کے کپڑوں پر نظر ڈالی تو اسے بہن کی شلوار قمیض کے ساتھ ساتھ اس کے بریزر اور چڈی کی خستہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کے یہ برا اور پینٹی زینت کو استمعال کرتے ہوے کافی وقت ہو چکا ہے
اشرف چونکہ بینکاک سے اور کافی چیزوں کی تجارت کے ساتھ لیڈیز کے امپورٹیڈ انڈ گارمنٹس بھی لا کر لاہور کے دوکان داروں کو سیل کرتا تھا
اس لیے اسے سٹکر دیکھے بنا ہی عورت کے مموں کے سائز کا اندازہ ہو جاتا تھا کے عورت کس سائز کا برزیر پہنتی ہے
اس لیے کھونٹی پر ٹنگے بہن کے بریزر کو پہلی بار دیکھ کر اشرف کو اندازہ ہوا کے اس کی بہن زینت کے ممے کافی بڑے ہیں اور ان کا سائز تقریبن چالیس ہو گا
اشرف کو اپنے گاوں گے اور اپنی بیوی کو چودے کافی دن ہو گے تھے اس اج پہلی بار اس طرح ننگی حالت میں باتھ روم میں کھڑے ہو کر بہن کے بریزر کو دیکھتے اور سگی بہن کے موٹے مموں کا سوچتے ہوے اشرف کا لوڑا ایک دم ہڑ گیا
تو اس نے سوچے سمجھے بنا پہلے اپنی بہن زینت کے بریزر کو کھونٹی سے اتار کا ہاتھ میں پکڑا اور بہن کے برا کے کپ میں جہاں اس کے اندازے کے مطابق زینت کے نپلز برا کے ساتھ ٹچ ہوتے تھے
اس جگہ کو اپنے منہ سے لگا کر بریزیر کے اس حصے پر اپنی زبان اس انداز میں پھیرنے لگا جیسے اس وقت اس کی بہن زینت اس کے سامنے ننگی لیٹی ہے اور وہ اپنی زبان سے اپنی بہن کے ممے اور نپلز چوس رہا ہے
ہاے زینت” بہن کے بریزر میں زبان پھیرتے اشرف نے لن کو اپنے ہاتھ سے مسلہ اور پھر برا کو ٹانگ کر بہن کی چڈی کو اٹھا کر اپنے منہ سے لگایا اور پہلی بار چڈی کے ذریعے بہن کی چوت کی خوشبو سونگی تو سگی بہن کی چوت کی مدھر خوشبو کو سونگتے ہی اشرف پاگل ہوگیا
اور” زینت او میری جان زینت ” کہتے ہوے زینت کی چڈی کو اپنے لن کے گرد لپیٹا اور زور سے مٹھ لگانے لگا اور پھر اپنے لن کا پانی بہن کی چڈی میں چھوڑ دیا
نہانے کے بعد اشرف کے لن کو تھوڑا سکون ملا تو کچھ دیر کے لیے اس کے ضمیر نے اسے ملامت کیا مگر پھر دوبارہ شیطان اس پر غالب ایا
تو اشرف نے اپنے کمرے میں پڑے سویٹ کیس کو کھولا اور چالیس سائز کی میں کالے رنگ کی ایک امپورٹیڈ پش اپ بریزر ایک میڈیم سائز کی میچنگ چھوٹی سی پینٹی جو بہ مشکل پھدی کے لپس کور کرتی تھی ایک امپورٹنڈ پرفیوم اور بال صفا کریم ایک شاپر میں ڈال کر بہن کے باتھ روم میں لٹکے کپڑوں کے ساتھ کھونٹی پر ٹانگ ایا اور خود گھر سے باہر چلا گیا
اشرف کے گھر سے باہر جانے کے بعد زینت باتھ روم میں گندے کپڑے دھونے کے لیے لینے گی
تو کپڑوں کے ساتھ لٹکا شاپر دیکھ کر حیران ہوی جب اپنے کمرے میں ا کر شاپر لھولا تو اس میں سیکسی قسم کے امپورٹینڈ انڈر گارمنٹس اور بھائی کی رکھی ہوی بال صفا کریم دیکھ کر زینت کو حیرت اور پریشان ہوی
ابھی زینت اسی پریشانی میں مبتلا تھی کے اتنے میں اشرف کمرے میں ایا اور ایک اور شاپر اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوے بولا
“ زینت یہ کپڑے پہن کر تیار ہو جاوں راشد ( زینت کا تین سال کا بیٹا) کو اس کے دادا دادی اج رات کے لیے اپنے ساتھ لے گے ہیں اس لیے ہم دونوں اج رات کا کھانا باہر کھائیں گے “ یہ کہتے ہوے اشرف کمرے سے باہر نکل گیا
بھائی اشرف کے باہر نکلتے ہی زینت نے شاپر کھولا تو اس میں کالے رنگ کا ایک برینڈید شلوار قمیض سوٹ تھا
“ ہاے اج پتا نہی بھائ کو کیا ہو گیا ہے” اشرف کو یوں اسے کپڑے اور انڈر گارمنٹس کا تحفہ دیتے دیکھ کر زینت کو حیرت ہوی مگر اس کے ساتھ ہی اس کھانا کھانے کے لیے تیار ہونے کی خاط دروازے کو کنڈی لگا کر بھائی کا دیا ہوا بریزر اور پینٹی پہنی
تو سامنے لگے کمرے کے شیشے میں اپنے بڑے ممے بریزر اور تازہ شیوڈ چوت کے لپس چھلکتے دیکھ کر زینت کی چوت گرم ہونے لگی
“ ہاے میں تو ایسے تیار ہو رہی ہوں جیسے بھائی کے ساتھ نہی بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ سہاگ رات منانے جا رہی ہوں اج” اپنے بھائی کے دیے ہوے برا اور پینٹی میں اپنے نیم عریاں گداز جسم کو چمکتا دیکھ کر زینت کے دماغ میں خیال ایا تو اس کی بیوہ چوت اج کافی عرصے بعد جنسی گرمی کی وجہ سے پانی پانی ہونے لگی
اس کے بعد جب زینت نے بھائی کی دی ہوی شلوار قمیض پہنی تو پش اپ بریزر کی وجہ سے اس کے ممے قمیض کے کھلے گلے سے باہر چھلکتے نظر انے لگے
“ ہاے لگتا ہے بھائی نے مجھ بہن سمجھ کر نہی بلکہ معشوق سمجھ کر یہ سب چیزیں تحفے میں دی ہیں” یہ خیال اتے ہی زینت کی پہلے سے گرم چوت مزید گرم ہونے لگی
پھر زینت نے ہلکا سا میک اپ کیا اور جب وہ تیار ہو کر اپنے بھائی اشرف کے سامنے ائی
تو بہن کو اج اتنے عرصے بعد کالے لباس میں بنا سنورا دیکھ کر اشرف کا لن ہڑنےلگا اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
“ اج کالا جوڑا پاہ ساڈی فرماہش تے”
جسے سن کر زینت بھی مسکرانے لگی
اشرف موٹر سائیکل پر زینٹ کو بیٹھا کر کھانے کے لیے گیا راستے میں لگنے والے دھکوں کی وجہ سے پیچھے بیٹھی زینت کے موٹے سافٹ ممے اس کے بھای اشرف کی کمر سے ٹچ ہوتے رہے تو اس ٹیچ کی وجہ سے اشرف کالن اور زینت کی چوت دونوں گرم ہوتے رہے
کھانے کے بعد گھر واپس اتے ہوے اشرف نے اپنی بہن کے ہاتھوں اور بالوں کے لیے گجرے لیے تو زینت کا اپنے بھائی اشرف کا اسے یوں ایک معشوق کی طرح ٹریٹ کرنا اچھا لگا تو اس کی چوت جانے انجانے بھائ کے لن کے لیے مچلنے لگی
گھر واپس اتے ہی زینت موٹر سائیکل سے اتر کر کمرے میں گی تو تھوڑی دیر بعد اشرف بھی بہن کے پیچھے اس کے کمرے میں داخل ہوا تو زینت دوپٹے کے بیغیر شیشے کے سامنے اپنی لپ اسٹک ٹھیک کر رہی ہے
اشرف شیشے کے سامنے کھڑی اپنی بہن کے بھاری مموں کا اس قمیض میں سے چھلکتا دیکھ کر پاگل ہو گیا
ابھی اشرف کھڑا اپنی بہن کا حسن دیکھنے میں مصروف تھا
کے زینت اہستہ سے چلتی ہوی بھای کے پاس ائی اور اشرف کے گلے میں باہیں ڈال کر اپنے بھای کو گلے لگایا
اور اس کے گال پر ہلکی سی چمی دیتے ہوے بولی
“ اپ کے سب تحفوں اور ڈنر کا بہت شکریہ ، اپ کا مجھے اس طرح ٹریٹ کرنا بہت پسند ایا، اب مجھ سمجھ نہی ا رہی کے میں کس طرح اپ کا شکریہ ادا کروں بھائ”
زینت کے اس طرح اشرف سے گلے ملنے کے دوران زینت کے گداز بھاری ممے اوپر سےاشرف کی چھاتی سے ٹچ ہوے
تو نیچے سے اشرف کا سخت لوڑا اپنی بہن کی شلوار کے اوپر سے اس کی چوت سے ملاپ کرنے لگا
بہن بھائ کے لن اور پھدی کا یوں ملاپ ہوتے ہی اشرف نے پاگل ہو کراپنے ہونٹوں کو اپنی بہن کے ہونٹوں سے جوڑا اور بہن کے لبوں کو چوستے ہوے اپنے لن کو زینت کی شلوار سے ڈھکی پھدی سے رگڑنے لگا
“ او نہ کریں بھائی” کہتے ہوے زینٹ نے ایک دفعہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کی
مگر اشرف نے دوسرے لمحے ایک ہاتھ سے اپنی بہن کا ایک گداز مما پکڑ کر دبانا شروع کیا اور کسنگ کے دوران دوسرے ہاتھ سےاپنی بہن کی چوت کا شلوار کے اوپر سے مسلتے ہوے بولا” زینت مت روکو مجھے اج ، کیونکہ تمھارے اس گرم بدن نے پاگل کر دیا ہے مجھے، اس لیے تمھیں چود کر اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں اج میری جان”
بھائی کے ہاتھوں کی حرکات اور اس کے منہ سے کہے گے الفاظ سنتے کی زینت بھی مست ہو کر بولی “ ہاے اپ تو پہلے سے ہی ایک شوہر کی طرح میرے گھر کا خرچہ پورا کر رہے ہو، اس لیے مجھے بھی اپ سے اپنی چوت چدوا کر اپ کی اصل بیوی بننے میں کوی حرج نہی بھائی”
چونکہ اشرف کے لن کی طرح زینت کی چوت بھی اج پورے دن کے سب واقعات کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کے لن کے لیے پہلے سے ہی مچل رہی تھی
اس لیے چند ہی لمحوں بعد دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے کپڑے اپنے ہاتھوں سے اتار کر ایک دوسرے کو ننگا کیا تو اس کے بعد اشرف اپنی بہن زینت کے بھاری مموں پر پاگلوں کی طرح ٹوٹ پڑا اوربہن کے گداز منوں کو چوم چوم کر پاگل ہو گیا
اس کے بعد دونوں بہن بھائی بستر پر لیٹے اور پھر 69 پوزیشن میں ایک دوسرے لے لن اور پھدی کو چومنے چاٹنے لگے
کچھ دیر بعد اشرف نے زینت کو بستر پر سیدھا لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو کندھے پر رکھ کر اپنے لن کو ایک ہی جھٹکے میں بہن کی چوت کی تہہ میں جڑ تک اتار کر بہن کی بیوہ چوت کو پھر سے سہاگن کر دیا
“ اف کیا تندور جیسی گرم چوت ہے میری بہن کی “ اشرف کا لوڑا جوں ہی اپنی سگی بہن کی پھدی میں پہلی بار گیا تو بہن کی چوت کی گرمائش کو محسوس کر کے اشرف سسکارتے ہو بولا
دو سال سے میری بیوہ چوت لن کے لیے مچل رہی ہےاسلیے اپ کی بہن کی پھدی میں بہت گرمی ہے میری چوت میں بھائی” اپنی چوت میں دو سال بعد کسی عام مرد نہی بلکہ سگے بھائی کے لن کو اپنی چوت میں جاتا محسوس کر کے زینت بھی مزے سے چلا اٹھی
تم فکر نہ کرو اج سے تمھاری چوت بھائ کی بیوی بن کر پھر سے سہاگن ہو گی ہے اب تمھاری پھدی لن کے لیے نہی ترسے گی میری جان” اشرف نے بہن کی بات کا جواب دیتے ہوے اپنی بہن کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور زینت کے گداز ممے کو اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوے اپنی سگی بہن جو بینکاک کی رنڈی سمجھ کر زور اور جوش سے چودنے لگا
اس رات اشرف نے اپنی بہن زینت کی چوت کو چار دفعہ مختلف انداز میں چود چود کر سگی بہن کی پھدی کو اپنے لن کے پانی سے بھر کر اپنی دوسری بیوی بنا لیا
اس دن کے بعد دنیا کی نظر میں تو یہ دونوں بہن بھائی ہیں
مگر گھر کے بند دروازے کے ہیچھے زینت اب اپنے بھائی اشرف کی دوسری بیوی بن کر روزانہ اپنے بھائی کے ساتھ سوتی اوراس کے لن سے چدوا کر اپنی گرم چوت اور بھائی کے لن کی پیاس بھجاتی ہے
دی اینڈ
پینتیس سالہ اشرف بینکاک سے کپڑے اور الیکڑانک چیزیں لا کر لاہور پاکستان میں سیل کرتا ہے
اشرف کی فیملی لاہور سے دور ایک گاوں میں رہتی ہے اس لیے خرچہ بچانے کے لیے اشرف اپنی تیس سالہ بیوہ بہن اور اسکے بچے کے ساتھ لاہور ایرپورٹ واقع اس کے گھر میں رہتا ہے
زینت کا اپنا شوہر دوسال پہلے فوت ہو گیا تھا اس لیے اشرف ہی اب اپنی بہن اور اس کے بیٹا کا خرچ بھی پورا کرتا ہے
کچھ سال پہلے کی بات ہے جب ایک شام اشرف نہانے کے لیے اپنی بہن کے گھر میں بنے واحد باتھ روم میں گیا
جب وہ اپنے کپڑے اتار کر باتھ روم کی کھونٹی پر ٹانگنے لگا
تو اشرف کو باتھ روم کی کھونٹی پر اپنی بہن کی استمعال شدہ شلوار قمیض اور اس کا دیسی سٹائل کا کاٹن کا بریزر اور انڈرویر پڑا نظر ایا
جو کے زینت نے دوپہر کو نہانے کے بعد اتارے تھے اور دھونا بھول گی تھی
اشرف نے اپنی بہن کے کپڑوں پر نظر ڈالی تو اسے بہن کی شلوار قمیض کے ساتھ ساتھ اس کے بریزر اور چڈی کی خستہ حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کے یہ برا اور پینٹی زینت کو استمعال کرتے ہوے کافی وقت ہو چکا ہے
اشرف چونکہ بینکاک سے اور کافی چیزوں کی تجارت کے ساتھ لیڈیز کے امپورٹیڈ انڈ گارمنٹس بھی لا کر لاہور کے دوکان داروں کو سیل کرتا تھا
اس لیے اسے سٹکر دیکھے بنا ہی عورت کے مموں کے سائز کا اندازہ ہو جاتا تھا کے عورت کس سائز کا برزیر پہنتی ہے
اس لیے کھونٹی پر ٹنگے بہن کے بریزر کو پہلی بار دیکھ کر اشرف کو اندازہ ہوا کے اس کی بہن زینت کے ممے کافی بڑے ہیں اور ان کا سائز تقریبن چالیس ہو گا
اشرف کو اپنے گاوں گے اور اپنی بیوی کو چودے کافی دن ہو گے تھے اس اج پہلی بار اس طرح ننگی حالت میں باتھ روم میں کھڑے ہو کر بہن کے بریزر کو دیکھتے اور سگی بہن کے موٹے مموں کا سوچتے ہوے اشرف کا لوڑا ایک دم ہڑ گیا
تو اس نے سوچے سمجھے بنا پہلے اپنی بہن زینت کے بریزر کو کھونٹی سے اتار کا ہاتھ میں پکڑا اور بہن کے برا کے کپ میں جہاں اس کے اندازے کے مطابق زینت کے نپلز برا کے ساتھ ٹچ ہوتے تھے
اس جگہ کو اپنے منہ سے لگا کر بریزیر کے اس حصے پر اپنی زبان اس انداز میں پھیرنے لگا جیسے اس وقت اس کی بہن زینت اس کے سامنے ننگی لیٹی ہے اور وہ اپنی زبان سے اپنی بہن کے ممے اور نپلز چوس رہا ہے
ہاے زینت” بہن کے بریزر میں زبان پھیرتے اشرف نے لن کو اپنے ہاتھ سے مسلہ اور پھر برا کو ٹانگ کر بہن کی چڈی کو اٹھا کر اپنے منہ سے لگایا اور پہلی بار چڈی کے ذریعے بہن کی چوت کی خوشبو سونگی تو سگی بہن کی چوت کی مدھر خوشبو کو سونگتے ہی اشرف پاگل ہوگیا
اور” زینت او میری جان زینت ” کہتے ہوے زینت کی چڈی کو اپنے لن کے گرد لپیٹا اور زور سے مٹھ لگانے لگا اور پھر اپنے لن کا پانی بہن کی چڈی میں چھوڑ دیا
نہانے کے بعد اشرف کے لن کو تھوڑا سکون ملا تو کچھ دیر کے لیے اس کے ضمیر نے اسے ملامت کیا مگر پھر دوبارہ شیطان اس پر غالب ایا
تو اشرف نے اپنے کمرے میں پڑے سویٹ کیس کو کھولا اور چالیس سائز کی میں کالے رنگ کی ایک امپورٹیڈ پش اپ بریزر ایک میڈیم سائز کی میچنگ چھوٹی سی پینٹی جو بہ مشکل پھدی کے لپس کور کرتی تھی ایک امپورٹنڈ پرفیوم اور بال صفا کریم ایک شاپر میں ڈال کر بہن کے باتھ روم میں لٹکے کپڑوں کے ساتھ کھونٹی پر ٹانگ ایا اور خود گھر سے باہر چلا گیا
اشرف کے گھر سے باہر جانے کے بعد زینت باتھ روم میں گندے کپڑے دھونے کے لیے لینے گی
تو کپڑوں کے ساتھ لٹکا شاپر دیکھ کر حیران ہوی جب اپنے کمرے میں ا کر شاپر لھولا تو اس میں سیکسی قسم کے امپورٹینڈ انڈر گارمنٹس اور بھائی کی رکھی ہوی بال صفا کریم دیکھ کر زینت کو حیرت اور پریشان ہوی
ابھی زینت اسی پریشانی میں مبتلا تھی کے اتنے میں اشرف کمرے میں ایا اور ایک اور شاپر اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوے بولا
“ زینت یہ کپڑے پہن کر تیار ہو جاوں راشد ( زینت کا تین سال کا بیٹا) کو اس کے دادا دادی اج رات کے لیے اپنے ساتھ لے گے ہیں اس لیے ہم دونوں اج رات کا کھانا باہر کھائیں گے “ یہ کہتے ہوے اشرف کمرے سے باہر نکل گیا
بھائی اشرف کے باہر نکلتے ہی زینت نے شاپر کھولا تو اس میں کالے رنگ کا ایک برینڈید شلوار قمیض سوٹ تھا
“ ہاے اج پتا نہی بھائ کو کیا ہو گیا ہے” اشرف کو یوں اسے کپڑے اور انڈر گارمنٹس کا تحفہ دیتے دیکھ کر زینت کو حیرت ہوی مگر اس کے ساتھ ہی اس کھانا کھانے کے لیے تیار ہونے کی خاط دروازے کو کنڈی لگا کر بھائی کا دیا ہوا بریزر اور پینٹی پہنی
تو سامنے لگے کمرے کے شیشے میں اپنے بڑے ممے بریزر اور تازہ شیوڈ چوت کے لپس چھلکتے دیکھ کر زینت کی چوت گرم ہونے لگی
“ ہاے میں تو ایسے تیار ہو رہی ہوں جیسے بھائی کے ساتھ نہی بلکہ اپنے شوہر کے ساتھ سہاگ رات منانے جا رہی ہوں اج” اپنے بھائی کے دیے ہوے برا اور پینٹی میں اپنے نیم عریاں گداز جسم کو چمکتا دیکھ کر زینت کے دماغ میں خیال ایا تو اس کی بیوہ چوت اج کافی عرصے بعد جنسی گرمی کی وجہ سے پانی پانی ہونے لگی
اس کے بعد جب زینت نے بھائی کی دی ہوی شلوار قمیض پہنی تو پش اپ بریزر کی وجہ سے اس کے ممے قمیض کے کھلے گلے سے باہر چھلکتے نظر انے لگے
“ ہاے لگتا ہے بھائی نے مجھ بہن سمجھ کر نہی بلکہ معشوق سمجھ کر یہ سب چیزیں تحفے میں دی ہیں” یہ خیال اتے ہی زینت کی پہلے سے گرم چوت مزید گرم ہونے لگی
پھر زینت نے ہلکا سا میک اپ کیا اور جب وہ تیار ہو کر اپنے بھائی اشرف کے سامنے ائی
تو بہن کو اج اتنے عرصے بعد کالے لباس میں بنا سنورا دیکھ کر اشرف کا لن ہڑنےلگا اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا
“ اج کالا جوڑا پاہ ساڈی فرماہش تے”
جسے سن کر زینت بھی مسکرانے لگی
اشرف موٹر سائیکل پر زینٹ کو بیٹھا کر کھانے کے لیے گیا راستے میں لگنے والے دھکوں کی وجہ سے پیچھے بیٹھی زینت کے موٹے سافٹ ممے اس کے بھای اشرف کی کمر سے ٹچ ہوتے رہے تو اس ٹیچ کی وجہ سے اشرف کالن اور زینت کی چوت دونوں گرم ہوتے رہے
کھانے کے بعد گھر واپس اتے ہوے اشرف نے اپنی بہن کے ہاتھوں اور بالوں کے لیے گجرے لیے تو زینت کا اپنے بھائی اشرف کا اسے یوں ایک معشوق کی طرح ٹریٹ کرنا اچھا لگا تو اس کی چوت جانے انجانے بھائ کے لن کے لیے مچلنے لگی
گھر واپس اتے ہی زینت موٹر سائیکل سے اتر کر کمرے میں گی تو تھوڑی دیر بعد اشرف بھی بہن کے پیچھے اس کے کمرے میں داخل ہوا تو زینت دوپٹے کے بیغیر شیشے کے سامنے اپنی لپ اسٹک ٹھیک کر رہی ہے
اشرف شیشے کے سامنے کھڑی اپنی بہن کے بھاری مموں کا اس قمیض میں سے چھلکتا دیکھ کر پاگل ہو گیا
ابھی اشرف کھڑا اپنی بہن کا حسن دیکھنے میں مصروف تھا
کے زینت اہستہ سے چلتی ہوی بھای کے پاس ائی اور اشرف کے گلے میں باہیں ڈال کر اپنے بھای کو گلے لگایا
اور اس کے گال پر ہلکی سی چمی دیتے ہوے بولی
“ اپ کے سب تحفوں اور ڈنر کا بہت شکریہ ، اپ کا مجھے اس طرح ٹریٹ کرنا بہت پسند ایا، اب مجھ سمجھ نہی ا رہی کے میں کس طرح اپ کا شکریہ ادا کروں بھائ”
زینت کے اس طرح اشرف سے گلے ملنے کے دوران زینت کے گداز بھاری ممے اوپر سےاشرف کی چھاتی سے ٹچ ہوے
تو نیچے سے اشرف کا سخت لوڑا اپنی بہن کی شلوار کے اوپر سے اس کی چوت سے ملاپ کرنے لگا
بہن بھائ کے لن اور پھدی کا یوں ملاپ ہوتے ہی اشرف نے پاگل ہو کراپنے ہونٹوں کو اپنی بہن کے ہونٹوں سے جوڑا اور بہن کے لبوں کو چوستے ہوے اپنے لن کو زینت کی شلوار سے ڈھکی پھدی سے رگڑنے لگا
“ او نہ کریں بھائی” کہتے ہوے زینٹ نے ایک دفعہ پیچھے ہٹنے کی کوشش کی
مگر اشرف نے دوسرے لمحے ایک ہاتھ سے اپنی بہن کا ایک گداز مما پکڑ کر دبانا شروع کیا اور کسنگ کے دوران دوسرے ہاتھ سےاپنی بہن کی چوت کا شلوار کے اوپر سے مسلتے ہوے بولا” زینت مت روکو مجھے اج ، کیونکہ تمھارے اس گرم بدن نے پاگل کر دیا ہے مجھے، اس لیے تمھیں چود کر اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں اج میری جان”
بھائی کے ہاتھوں کی حرکات اور اس کے منہ سے کہے گے الفاظ سنتے کی زینت بھی مست ہو کر بولی “ ہاے اپ تو پہلے سے ہی ایک شوہر کی طرح میرے گھر کا خرچہ پورا کر رہے ہو، اس لیے مجھے بھی اپ سے اپنی چوت چدوا کر اپ کی اصل بیوی بننے میں کوی حرج نہی بھائی”
چونکہ اشرف کے لن کی طرح زینت کی چوت بھی اج پورے دن کے سب واقعات کی وجہ سے اپنے سگے بھائی کے لن کے لیے پہلے سے ہی مچل رہی تھی
اس لیے چند ہی لمحوں بعد دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے کپڑے اپنے ہاتھوں سے اتار کر ایک دوسرے کو ننگا کیا تو اس کے بعد اشرف اپنی بہن زینت کے بھاری مموں پر پاگلوں کی طرح ٹوٹ پڑا اوربہن کے گداز منوں کو چوم چوم کر پاگل ہو گیا
اس کے بعد دونوں بہن بھائی بستر پر لیٹے اور پھر 69 پوزیشن میں ایک دوسرے لے لن اور پھدی کو چومنے چاٹنے لگے
کچھ دیر بعد اشرف نے زینت کو بستر پر سیدھا لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو کندھے پر رکھ کر اپنے لن کو ایک ہی جھٹکے میں بہن کی چوت کی تہہ میں جڑ تک اتار کر بہن کی بیوہ چوت کو پھر سے سہاگن کر دیا
“ اف کیا تندور جیسی گرم چوت ہے میری بہن کی “ اشرف کا لوڑا جوں ہی اپنی سگی بہن کی پھدی میں پہلی بار گیا تو بہن کی چوت کی گرمائش کو محسوس کر کے اشرف سسکارتے ہو بولا
دو سال سے میری بیوہ چوت لن کے لیے مچل رہی ہےاسلیے اپ کی بہن کی پھدی میں بہت گرمی ہے میری چوت میں بھائی” اپنی چوت میں دو سال بعد کسی عام مرد نہی بلکہ سگے بھائی کے لن کو اپنی چوت میں جاتا محسوس کر کے زینت بھی مزے سے چلا اٹھی
تم فکر نہ کرو اج سے تمھاری چوت بھائ کی بیوی بن کر پھر سے سہاگن ہو گی ہے اب تمھاری پھدی لن کے لیے نہی ترسے گی میری جان” اشرف نے بہن کی بات کا جواب دیتے ہوے اپنی بہن کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور زینت کے گداز ممے کو اپنے ہاتھ سے مسلتے ہوے اپنی سگی بہن جو بینکاک کی رنڈی سمجھ کر زور اور جوش سے چودنے لگا
اس رات اشرف نے اپنی بہن زینت کی چوت کو چار دفعہ مختلف انداز میں چود چود کر سگی بہن کی پھدی کو اپنے لن کے پانی سے بھر کر اپنی دوسری بیوی بنا لیا
اس دن کے بعد دنیا کی نظر میں تو یہ دونوں بہن بھائی ہیں
مگر گھر کے بند دروازے کے ہیچھے زینت اب اپنے بھائی اشرف کی دوسری بیوی بن کر روزانہ اپنے بھائی کے ساتھ سوتی اوراس کے لن سے چدوا کر اپنی گرم چوت اور بھائی کے لن کی پیاس بھجاتی ہے
دی اینڈ