میرے سِوا سرِ مقتل مقام کس کا ہے
کہو کہ اب لبِ قاتل پہ نام کس کا ہے
یہ تخت و تاج و قبا سب انہیں مبارک ہوں
مگر بہ نوکِ سِناں احترام کس کا ہے
تمہاری بات نہیں تم تو چارہ گر تھے مگر
یہ جشنِ فتح، پسِ قتلِ عام کس کا ہے
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو...