" ماما یہ اِنا بڑا کس کا گھر ہے ۔۔ ؟"
دعا ، حُرّہ کا چہرہ اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں لیے شوق سے پوچھ رہی تھی یقیناً رات کو نیند کی وجہ سے بہت سے سوال وہ اپنی ماں سے نہیں کر پائی تھی وہ دعا کی انہیں چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے باعث نیند سے بیدار ہوئی تھی بوجھل آنکھیں کھول کر دیکھا تو خود کو...
" کیا ہوا احمد تم نے اتنی جلدی میں بلایا مجھے ۔۔ ؟؟ سب خیریت تھی ۔۔ ؟"
پولیس ٹیشن میں داخل ہونے کے بعد احمد اسے سامنے ہی نظر آیا عباس کے پکارنے پر احمد نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے لیے اپنے کیبن میں آیا
" عباس میری بات غور سے سننا ۔۔ ! "
احمد نے تمہید باندھی عباس ماتھے پر بل ڈالے اسے...
ارے یہ تم دلہن بن کر کہاں کی تیاری کر رہی ہو؟ کہی یہاں سے بھا گنے کا ارادہ تو نہی کر لیا ؟
اپنے ایسے نصیب کہاں ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے مقدر میں تو اس کو ٹھے کی چار دیواری لکھی گئی ہے جس سے میں چاہوں بھی تو دور نہی بھاگ سکتی۔
بھاگ کر جاوگی بھی کہاں روشنی ؟
وہ اپنے لیے گھنے سیاہ بال کندھے سے کمر پے جھٹکتی...
" میں جانتا ہوں عباس تم اس وقت بھابھی اور دعا کی وجہ سے بہت پریشان ہو مگر مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔ پہلے ہی بہت دیر کر چکا ہوں میں ۔۔ مزید دیر کرکے اپنا سب کچھ نہیں کھونا چاہتا ۔۔ !"
وہ دونوں اس وقت عباس کے آفس میں بیٹھے تھے عالیان نے بات کا آغاز کیا تو عباس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا...
" لل لیکن اگر سردار کے آنے سے پہلے دوبارہ سردار بی بی نے کوئی سازش کی تو ۔۔ ؟"
منہ میں بڑبڑاتی وہ حویلی کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی
سردار بی بی نے اس سے اس کی چھت بھی چھین لی تھی وہ جانتی تھی اب وہ اسے کسی صورت پناہ نہیں دیں گی اسے سب سے زیادہ فکر اپنی آبرو کی تھی جو کہ اب یہاں محفوظ نہیں تھی سردار...
" کیوں آپ لوگ اس قصے کو ختم نہیں کر دیتے ۔۔ مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔ "
نورے کی آواز میں جھنجھلاہٹ کے ساتھ اذیت بھی تھی جو اس سے مخاطب اس کی ماں نے خوب محسوس کی
" مت مارو اندر سے خود کو بیٹا ۔۔ دیکھنا تم کتنی خوشیاں ملتیں ہیں تمہیں ۔۔ بس ایک بار عباس کے ساتھ نکاح ہو جائے تمہارا پھر تو راج کرو گی تم...
" دیکھ لیا انجام اپنے غصے کا ۔۔ ؟؟ کہا تھا نا تمہیں کہ کچھ عرصہ صبر کر لو ۔۔ لیکن تمہیں بس دشمنی نبھانی تھی ۔۔ اب چلا گیا ہمارا بیٹا ۔۔ "
عباس اور حُرّہ کے جاتے ہی سردار شیر دل سردار بی بی پر دھاڑے تھے یہ بات ان سب کے لیے ناقابل یقین تھی کہ عباس اپنی بیوی کو لے جا چکا تھا
" مم میرا بیٹا ۔۔ !"...
صبر و ضبط کی انتہا کو چھوتا وہ بولا زندگی میں پہلی بار اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر سر دار بی بی بے چین ہو ئیں یقیناً وہ اپنے بہت نرم دل اور صابر بیٹے کو اپنے الفاظ سے توڑ رہیں تھیں جن کا انہیں
احساس بھی تھا
" عباس میرے شیر ۔ ۔ کیا حماقت ہے یہ ؟؟ اب یہ معمولی لڑکی ہماری نسل آگے بڑھائے گی
اس...
" چلیں بولیں ۔۔!"
بمشکل اپنے ابھرتے جذبات کو قابو کرتے ہوئے حُرہ سے جدا ہوتے ہوئے عباس نے اب اس کے شرم وحیا کے باعث ہوئے سرخ چہرے اور لرزتے وجود کو دلچسپی سے دیکھتے ہوئے دوبارہ بات کو
وہیں سے شروع کیا
لک کیا ۔ ۔ ؟"
حُرہ کا تنفس جب بہتر ہوا تو اس نے مدھم آواز میں پوچھا
"کچھ بھی ۔۔؟"
عباس نے...
Yeh meri dusri story hai. I hope u all will like it interested women/girls can mail me back. I'm 25 yrs old.
Meri samne bali bhabhi ka naam rashmi hai.unki umar 27 hai.woh gori moti gand wali aurat hain.unki height karib 5.4 hai.mere bhaiya hamesha kaam mein busy rehtain hain.woh bhabhi per...
بولو ۔ ۔ ؟؟؟
خاموشی میں ارتعاش عباس کی دھاڑتی آواز نے پیدا کیا جبکہ حویلی کے در و دیوار اس کی دھاڑ پر کانپ گئی ۔
س سر کاروہ ۔ ناہید نگاہیں سردار بی بی کی جانب کرتے ہوئے کا نپتی آواز میں بولی تو عباس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچھ بھی بولنے سے روک دیا اور خاموش کھڑیں سر دار بی بی کو دیکھا
مجھے اس...
وازہ کھل کر کیپٹن شکیل اور وہ شخص اندر گیا۔
اندر ایک لمبی چوڑی میز کے پیچھے ایک بھاری بھر کم شخص بیٹھا تھا میز پر شراب کی بوتل کھلی پڑی تھی۔ اس شخص کی آنکھیں سرخ تھیں۔ کیا بات ہے بوٹو یہ کون ہے ؟ اس بھاری بھر کم آواز نے پوچھا کیپٹن شکیل نے اس سردار کو دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا کیوں کہ وہ پہچان...
Hi dosto, mera name Ajay hai. Mai Haryana ka rehne wala hu. Mujhe unsatisfied girls ko satisfaction dena bahut pasand hai. Mai 20 saal ka hu aur mera lund bahut mota aur lamba hai. Mere lund ko jo bhi leta hai, usko bahut maza aata hai.mera aik aunty ka sath 2 saal se relation hai . mujhe asal...
اس عورت کی دی ہوئی دوا کھانے کے بعد حُرہ کی طبیعت کچھ سنبھلی تو اپنے ذمے کے کام نبٹانے لگی مگر یہ خبر جب سے اس نے سنی تھی تب سے اس کے آنسو جیسے تھم گئے تھے یا شاید اپنے وجود میں اس ننھی جان کا تصور کرتے اب حرہ کو صبر آگیا تھا مگر پریشانی تو اس کی مزید بڑھ گئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ خبر حویلی...
ایک گھنٹے کے بعد طیارہ نیویارک ائر پورٹ پر لینڈ کر رہا تھا لیکن صفدر وغیرہ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ ائیر پورٹ پر ہر طرف پولیس ہی پولیس نظر آرہی تھی صفر سمجھ گیا کہ پائلٹ نے اس واقعے کی اطلاع ائیر پورٹ پر دے دی ہے اب سوالات اور تفتیش کا ایسا چکر چلتا نظر آتا تھا کہ جان چھڑانی مشکل ہو جاتی۔ اس...