ہمارے آباؤ اجداد عرب سے ہجرت کر کے بلوچستان میں آ بسے۔ کچھ عرصہ وہیں قیام کے بعد ہم ایک دیہات میں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا گلہ بانی کا پیشہ ختم ہو گیا اور کھیتی باڑی ہمارا ذریعہ معاش بن گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کا شعور بھی پیدا ہوا۔ آنے والی نسلوں نے تعلیم حاصل کی...
پریم چند کی کہانی کا ’’ہوری‘‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولے کھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں۔
اس اثنا میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک گنگا میں نہا رہا تھا کہ ڈوب گیا اور دوسرا پولیس مقابلے...
زاہدہ بیگم نہایت شریف النفس خاتون تھیں۔ وہ کچھ عرصہ قبل ہمارے محلے میں آئی تھیں۔ چند ہی دنوں بعد ان کی شرافت کی سب ہی گواہی دینے لگے، کیونکہ بری عورت کی طرح اچھی عورت بھی جلد پہچانی جاتی ہے۔ شروع میں کوئی بھی انہیں مکان دینے پر تیار نہ تھا کہ تنہا عورت اپنی دو سالہ بچی کے ہمراہ کس طرح رہے گی اور...
شام کا وقت تھا۔ ڈاکٹر چڈھا گولف کھیلنے کے لئے تیار ہورہے تھے۔ موٹر دروازہ کے سامنے کھڑی تھی۔ کہ دو کہار ڈولی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔ عقب میں ایک بوڑھا لاٹھی ٹیکتا آرہا تھا۔ ڈولی مطب کے سامنے آکر رک گئی۔ بوڑھے نے دھیرے دھیرے آکر دروازہ پر پڑی ہوئی چک میں سے جھانکا۔ ایسی صاف ستھری زمین پر پاؤں...
میں جس عورت کو ماں پکارتی تھی، وہ میری ماں نہیں تھی۔ کسی نے مجھے بہاولپور کے قریبی ایک گاؤں سے اغوا کیا تھا۔ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ چولستان سے میلہ دیکھنے اس گاؤں آئی تھی۔ میری ماں کی آواز بہت اچھی تھی۔ جب وہ صحرائی گیت گاتی تو خشک سالی میں بھی بادل گھر آ جاتے تھے۔ مجھے بھی سریلی آواز ملی تھی۔...
ماں نے بڑی مشکل سے عرفان بھائی کو پڑھایا تھا۔ ہماری ساری اُمیدیں اُسی سے وابستہ تھیں۔ وہی ہمارے گھر کی کشتی کا کھیون ہار تھا۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا جب میرے بھائی نے اچھے نمبروں سے گریجویشن مکمل کر لی۔ اب اگلا مرحلہ ملازمت کی تلاش کا تھا۔ دفتر دفتر خاک چھان ماری، مگر کوئی روزگار نہ ملا۔ بالآخر...
پچھلے سال، ایک روز شام کے وقت دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں باہر گئی۔ ایک لمبا تڑنگا یورپین لڑکا کینوس کا تھیلہ کندھے پر اٹھائے سامنے کھڑا تھا۔ دوسرا بنڈل اس نے ہاتھ میں سنبھال رکھا تھا اور پیروں میں خاک آلود پشاوری چپل تھے۔ مجھے دیکھ کر اس نے اپنی دونوں ایڑیاں ذرا سی جوڑ کر سرخم کیا۔ میرا نام پوچھا...
میرے والد کے دو بھائی تھے۔ ابا کو ان سے بہت محبت تھی۔ غرض کہ یہ تینوں ہی یک جان تین قالب تھے۔ تایا اور چچا مالی طور پر خوشحال تھے جبکہ ہمارے حالات ذرا پتلے تھے۔ والد نے سوچا، کیوں نہ دیارِ غیر جاؤں؟ وہاں کی کمائی سے میرے بچے بھی خوشحالی اور سکھ دیکھ لیں گے۔ان دنوں میں سات برس کی اور بھیا راحت نو...
نور، دیکھنا تو، دروازے پر کون ہے؟ لگتا ہے آج گھنٹی ہی توڑ دے گا بجا بجا کر! رضیہ صوفے پر مونگ پھلی کے دانے منہ میں ڈالتی، ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہی تھیں۔ اس میں کافی دیر سے آتی گھنٹی کی آواز مخل ہو رہی تھی۔ سو انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بہو کو آواز دی۔ آواز پر...
ٹکٹ بابو نے گیٹ پر گھسیٹے کو روک کر کہا،
’’ٹکٹ!‘‘
گھسیٹے نے گھگھیا کر بابو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ماں کی گالی دے کر اسے پھاٹک کے باہر ڈھکیل دیا۔ ایسے بھک منگوں کے ساتھ جب وہ بلا ٹکٹ سفر کریں اور کیا ہی کیا جا سکتا ہے؟
گھسیٹے نے اسٹیشن سے باہر نکل کر اطمینان کی سانس لی کہ خدا خدا کر کے سفر ختم...
پہلے تو امی کو کوئی رشتہ پسند نہ آتا تھا۔ باجی چھبیس برس کی ہو گئیں، ہر کسی نے احساس دلایا کہ تم کسی من پسند رشتے کے انتظار میں ہو۔ اگر طیبہ کی عمر اور زیادہ ہو گئی تو مناسب رشتہ ڈھونڈتی رہ جاؤ گی، اور ہاتھ ملتی رہ جاؤ گی۔اب جو رشتہ ان کو پسند آیا، وہ ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ لڑکا پڑھا لکھا، خوبرو،...
والد ایک ہوائی کمپنی میں آفیسر تھے۔ میں اکثر ان کے ساتھ ایئرپورٹ جاتی تو ایئر ہوسٹسز مجھے بہت اہمیت دیتیں، محبت سے ملتیں اور میرا خاص خیال رکھتیں۔ ان کی وردی مجھے بے حد پسند تھی۔ میں نے بچپن ہی سے تصور میں خود کو ان ہی کی طرح ایک فضائی میزبان کے روپ میں دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ہم ایک خوشحال...
لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا (لالائن) نے بال کٹوا دئیے اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔
پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہےگی۔
لالہ جی سے خود مایا دیوی نے پوچھا تھا ’’بہو کہہ رہی ہے دلی چلنے کے لیے، جاؤں؟‘‘...
ان دنوں ہمارے گھر میں بہت پریشانی تھی۔ والد کو ایسی بیماری لاحق تھی کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چلے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں جلد اپنے گھر کی ہو جاؤں، تاکہ ان کی زندگی کا ایک بڑا بوجھ ہلکا ہو جائے۔گھر میں پریشانی اس قدر بڑھ چکی تھی کہ والد صاحب کی نہ صحت باقی رہی تھی اور نہ جمع پونجی۔ جو کچھ بھی...
بیٹی جوان ہو جائے تو ماں باپ کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ ایک روز خالو اور ابا جان دونوں باتوں میں مصروف تھے کہ حسنہ کا ذکر چل نکلا۔ خالو نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا کہ کیا بتاؤں بھائی سلیم، جب تک حسنہ کی شادی نہیں ہو جاتی، مجھے سکون کی نیند نہیں آئے گی۔ابا جان نے کہا کہ ارے، یہ کون سی پریشانی کی بات ہے؟...
یہ کہانی ایک کان کن کی ہے جو اپنی زندگی کا ایک خوفناک واقعہ بیان کرتا ہے
میں ایک کان کن ہوں۔ میں اپنی روزی کمانے کے لیے گڑھے کھودتا ہوں۔ 'کھودنا' ایک سخاوت کا لفظ ہے، سچ پوچھیں۔ میں چیزوں کو دھماکے سے اڑاتا ہوں تاکہ ہم مزید گہرائی میں جا سکیں۔ ڈرل کرو، چارج کرو، دھماکا کرو، پھر اسے باہر نکالو۔...
اردو کی کلاس جاری تھی۔ پہلی قطار میں پانچ دمینتی روپ لڑکیاں اور باقی کرسیوں پر چھبیس جگت رنگ لڑکے بیٹھے تھے۔ پروفیسر صمدانی نے دیوانِ غالب میں بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت نشانی کے طور پر پھنسائی اور گرج دار آواز میں بولا، ’’مس سرتاج سبک سرکے کیا معنی ہیں؟‘‘ جب سے سرتاج نے بی ایس سی میں داخلہ لیا...
وہ بڑبڑا کر نیند سے جاگ اٹھی۔ اس کا سارا وجود پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے پانی کا گلاس لبوں سے لگایا اور ایک ہی سانس میں پی گئی۔ گہری سانس بھرنے کے بعد حواس قابو میں آئے تو وہ موبائل اٹھائے باہر نکل آئی ۔ کافی دیر سوچ بچار کے بعد اس نے میسج لکھا اور بھیج دیا۔ اب اسے جواب کا انتظار تھا۔
☆☆☆...
گھر میں کافی دن سے کشیدگی چل رہی تھی۔ صائمہ بارہا اپنی ماں کے گھر جانے کی دھمکی دی چکی تھی ۔ میاں بیوی کی روز روز کی تکرار سے بچے الگ پریشان اور سہمے ہوئے رہتے تھے اور محلے والے دونوں میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی کروانے کی کوشش کرتے کرتے تھک ہار کر اب تماشا دیکھنے کے لیے ایک طرف ہو گئے تھے۔ آج...
سب کے چہرے فق تھے گھر میں کھانا بھی نہ پکا تھا۔ آج چھٹا روز تھا۔ بچے اسکول چھوڑے گھروں میں بیٹھے اپنی اور سارے گھر والوں کی زندگی وبال کیے دے رہے تھے۔ وہی مارکٹائی، دھول دھپا، وہی اودھم اور قلابازیاں جیسے ۱۵اگست آیا ہی نہ ہو۔ کمبختوں کو یہ بھی خیال نہیں کہ انگریز چلے گیے اور چلتے چلتے ایسا گہرا...