۔۔۔۔۔۔
(1)
فرخ ریل کی کھڑکی سے باہر تیز تیز دوڑتے ہوئے درخت، میدان، کھیت دیکھ رہا تھا۔ اس کا ریل سے یہ پہلا سفر تھا۔ دوڑتے بھاگتے منظر اسے بہت اچھے لگ رہے تھے۔
’’بھیا ! یہ پیلے پیلے کیا سرسوں کے کھیت ہیں ؟‘‘ اس نے پرویز سے پوچھا۔ پرویز اس کا بڑا بھائی کتاب پڑھنے میں اتنا مصروف تھا کہ اس نے کوئی...
”آپ نے کیا کہا… میرے ملک کے دارالحکومت کا اسٹیشن آپ ڈائنا مائٹ سے اڑا دینا چاہتے ہیں۔“
”جی ہاں! یہی بات ہے۔“
”آپ ہوش میں تو ہیں… میں اس ملک کا صدر ہوں۔“
”اور ہم اس ملک کے صدر ہی سے بات کرنے کے لیے آئے ہیں… صدرصاحب! آپ نے ابھی ہماری پوری بات نہیں سنی۔“ وفد کے سربراہ کے چہرے پر اب تک پرسکون...
احمد صدیقی اپنے آفس میں تھے کہ اُن کا موبائل فون بجنے لگا۔ وہ شہر کے مشہور ،مقبول اور مہنگے وکیل تھے، ہر کوئی اُنھیں ”اَفورڈ “ نہیں کر سکتا تھا۔ خاص طورپر مجرم تو بالکل بھی نہیں۔ وہ خود بھی کبھی کسی مجرم کی طرف داری نہیں کرتے تھے ،کیس شروع ہونے سے پہلے اور شروع ہونے کے دوران کسی ماہر جاسوس کی...
ولی محمد، جب تقی کو پہلی مرتبہ دفتر میں لایا تو اس نے مجھے قطعاً متاثر نہ کیا۔
لکھنو اور دلی کے جاہل اور خود سرکاتبوں سے میرا جی جلا ہوا تھا۔ ایک تھا، اس کو جاو بے جا پیش ڈالنے کی بری عادت تھی۔ موت کو مُوت اور سوت کو سُوت بنا دیتا تھا۔ میں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا۔ اس کو اپنے صاحب زبان...
بہت دنوں سے میں سوچ رہا تھا کہ اپنی زندگی کا وہ عجیب و غریب واقعہ لکھوں جس نے مجھے آج اس مقام پر پہنچایا جہاں میں ہوں۔ میں ایک بڑے کاروبار کا مالک ہوں۔ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں میرے مال کے خریدار ہیں۔ میرے اپنے جہاز ہیں جو میرا مال لے کر ان ملکوں کو جاتے ہیں۔ میری زندگی کا ایک اصول ہے’ دیانت...
طاہر خان ’’روایتی‘‘ پٹھانوں کی طرح بہادر تو تھا مگر اس قدر بھی نہیں کہ وہ اتنا مُشکل مشن سَر کرنے کی جرأت کرسکے۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے کچھ زیادہ سرور میں تھا شاید اُس کی وجہ یہ تھی کہ طاہر خان نے گزشتہ ایک مہینے سے فلسطین کے صحافتی دورے کی بات سب کو بتا دی تھی۔ وہ جس اخبار سے منسلک تھا وہ پہلے ہی...
یہ ایک اتفاق تھا کہ انسپکٹر ریحان سب سے پہلے فرد تھے جو اس ہفتہ کی صبح ”فن لینڈ پارک“ میں تفتیش کے لیے پہنچے تھے۔ وہ اپنی ذاتی گاڑی پر پولیس تھانے سے واپس آرہے تھے کہ انہوں نے پولیس ریڈیو پر خبر سنی کہ فن لینڈ پارک میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے۔ وہ پارک پہنچے اور گاڑی پارک کے دروازے پر روکی اور...
مستطیل چھت سے بنا ہرے رنگ کاگھر جس کے احاطے کو جنگلا لگا کر محفوظ کیا ہوا تھا، اس وقت مکمل طور پر خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ جب پولیس انسپکٹر نینسی وہاں پہنچی۔ نینسی جب ڈیوڑھی میں پہنچی تو پہلے سے موجود پولیس کے ایک افسر فرینک نے دروازہ کھول دیا۔ وہ تب سے نینسی کو جانتا تھا جب سے وہ پولیس کی مشہور...
نعیم میرے کمرے میں داخل ہوا اور خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ میں نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور اخبار کی آخری کاپی کے لیے جو مضمون لکھ رہا تھا اس کو جاری رکھنے ہی والا تھا کہ معًا مجھے نعیم کے چہرے پر ایک غیر معمولی تبدیلی کا احساس ہوا۔ میں نے چشمہ اتار کر اس کی طرف پھر دیکھا اور کہا،’’کیا...
جون کا مہینہ تھا۔ تیز دھوپ نکلی ہوئی تھی۔ سوئٹزر لینڈ کا پہاڑی علاقہ تھا۔ ایک جوان تن درست عورت پہاڑی راستے پر چڑھ رہی تھی۔ راستہ بہت زیادہ ڈھلواں اور اونچا نیچا تھا۔ یہ راستہ ایک چھوٹے سے خوب صورت قصبے مائن فیلڈ کے باہر سے گزرتا تھا۔ بڑی لطیف ہوا چل رہی تھی۔ یہ ہوا جنگلی پھولوں کی خوش بو سے مہک...
جیمز نے مکان کا مرکزی دروازہ کھولا اور اس کے ساتھ ہی سورج کی تیز شعاعیں ٹھنڈے کمرے کو گرم کر گئیں۔ اس نے بناکسی شور کے دروازے کو آہستہ سے بند کیا اور خاموشی سے گھرسے آنے والی آواز سننے لگا۔ گھر کے کسی کونے سے آنے والی ٹائپ رائٹر کی آواز وہ واضح طور پر سن سکتا تھا۔ اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک...
سردی شروع ہوتے ہی لندن میں جھکڑ چلنے لگے۔ چونکہ میری بیگم اپنے والدین کے پاس گئی ہوئی تھی، لہٰذا میں اپنے پرانے دوست شرلاک ہومز کے پاس چلا آیا۔ ہم رات کو اکٹھے کھانا کھاتے اور گپ شپ لگاتے۔
اس دن بھی شام کو تیز ہوا چلنے لگی۔ جلد ہی سیاہ بادل گھر آئے اور بارش ہونے لگی۔ میں اور ہومز موسم کا مزہ...
عجب بات ہے کہ جب بھی کسی لڑکی یا عورت نے مجھے خط لکھا بھائی سےمخاطب کیا اور بے ربط تحریر میں اس بات کا ضرور ذکر کیا کہ وہ شدید طور پر علیل ہے۔ میری تصانیف کی بہت تعریفیں کیں۔ زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے۔
میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ لڑکیاں اور عورتیں جو مجھے خط لکھتی ہیں بیمار کیوں ہوتی...