جمعے کی شام، میں حسب معمول امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر کھڑا میکسیکو سے آنے والی ٹریفک کی نگرانی کررہا تھا۔ گاڑیاں میرے قریب آکر رک جاتیں اور میں ان میں سوار مسافروں سے حسب معمول چند سوال کرتا۔ مثال کے طور پر ”آپ کہاں سے آرہے ہیں؟ کیا آپ اپنے ساتھ کوئی ایسی چیز لائے ہیں، جس پر کسٹم ڈیوٹی لگتی...
میں اس وقت جزائر ”سینٹ میری“ کے مضافات میں اپنی کشتی کے فرش پر خون میں لت پت پڑا تھا۔ انجن ساکت تھا اور کشتی دھیرے دھیرے سے سطح آب پر ہچکولے کھارہی تھی۔میں جنگلے کا سہارا لے کراٹھا، گرتا پڑتا کبین تک پہنچا اور وہاں پڑی ادویہ کی مدد سے اپنی مرہم پٹی کر لی۔ بعد ازاں شدید تکلیف کے باوجود انجن چالو...
ہیتھرو ایئرپورٹ کے لاؤنج میں ایک آدمی بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے۔ اسے ہوائی اڈے پسند نہیں کیونکہ وہاں لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ ویسے بھی ہوائی سفر کے دوران اسے گھبراہٹ آلیتی ہے۔ وہ بے صبری سے گھڑی پر نگاہ ڈالتا ہے۔ اتنے میں اسے برٹش ایئرویز کی طرف سے ایک اعلان سنائی دیتا ہے:
”ہماری پرواز نمبر بی ای ۰۵۷...
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے پالتو جانوروں کو بھی اتنی عقل دی ہے کہ وہ اپنے مالکوں کو یا جس گھر میں رہتے ہوں اس گھر کے رہنے والے سب لوگوں کو پہچان جاتے ہیں اور ان کے اشاروں پر یا ان کی مرضی کے مطابق ایسے کام کرتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ان جانوروں میں چھوٹے بڑے...
مقبوضہ کشمیر کے دوسرے بڑے شہر اسلام آباد میں داخل ہوں تو مغرب کی طرف جاتی شرپیاں روڑ پر پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک انتہائی دلکش اور خوبصورت گاؤں آتا ہے۔
پہلے پہل لوگ اسے ’’تاری گام‘‘ کہتے تھے اب لوگ اسے ’’اقبال آباد‘‘ کہتے ہیں۔ یہ نام اسی گاؤں کے ایک عظیم سپوت اقبال شہید کے نام پر رکھا گیا...
صبح کا وقت تھا، میں حسب معمول اپنے دوست سراغ رساں ہرکیول پائرو کو اخبار پڑھ کر سنا رہا تھا۔ کچھ سنسنی خیز خبریں بھی تھیں۔ مثلاً ”بنک کا ایک کلرک، ڈیوڈ پچاس ہزار پونڈ لے کر فرار ہو گیا۔“
”زندگی سے تنگ آکر آدمی نے لیمپ کے تار سے خودکشی کر لی۔“
”ایڈنا فیلڈ کی پراسرار گمشدگی۔“
یہ خبریں سنانے کے بعد...
ایک شام کی بات ہے، میں اپنے عزیز دوست اور فرانس کے مشہور سراغ رساں ”آگئے دوپن“ کے پاس بیٹھا تھا۔ہم اس پراسرار چوری کے بارے میں باتیں کر رہے تھے جو چند روز قبل(فرانس کے دارالحکومت) پیرس کے ایک بارونق بازار میں ہوئی تھی اور جس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور...
میں اسکردو کے اس چھوٹے سے گاؤں میں اپنے بابا، امی اور دو چھوٹے بھائیوں اور ایک پیاری سی گڑیا جیسی بہن کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزاررہاتھا۔ پہاڑوں کے دامن میں بکھری ہوئی وہ چھوٹی سی سرسبز وادی ہے، جس کے چپے چپے پر میرے اور میرے دوست ثمر گل کے قدموں کے نشان بکھرے ہوئے تھے۔
میرے بابا ایک پورٹر ہیں۔...
پاکستان کے قیام سے پہلے کے ملک ہندوستان کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ چودھویں اور پندرھویں صدی عیسوی میں ہندوستان کے ایک بہت بڑے علاقے پر بہمن خاندان کے مسلمان بادشاہوں کی حکومت تھی۔ یہ بادشاہ دلی کے تغلق، سید اور لودھی خاندانوں کے بادشاہوں کے ماتحت نہیں تھے بلکہ بالکل آزاد اور...
ا۔۔۔۔۔۔۔ ہر شے کا پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ تک نہیں ہل سکتا۔ وہ چاہے تو ممکن کو ناممکن کر دے اور چاہے تو ناممکن کوممکن کر دے۔ بعض اوقات اس کی قدرت کا کوئی ایسا کرشمہ نظر آ جاتا ہے کہ انسان اسے دیکھ کر ششدر ہو جا تا ہے۔ کرشمہ کسی انوکھی یا انہونی بات کو کہتے ہیں۔...
صفدر،منصور اور ذیشان آپس میں گہرے دوست ہیں۔لاہور جانے کے لئے وہ کراچی اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوئے۔دورانِ سفر ایک پرسرار شخص جس نے نیلا کوٹ زیب تن کیا ہوا تھا،ان سے باتیں کرنے لگا۔دروانِ گفتگو منصور کے ہاتھ میں ذیشان نے ایک پرچی تھمائی جس پر کوڈورڈ کا ایک جملہ تحریر تھا۔باتھ روم جاکر منصور نے...
”پانچ ہزار پاؤنڈ ز کا انعام!“
”یہ اعلان حکومت کی جانب سے جیک بولٹن نامی مجرم کی گرفتاری کے بارے میں ہے جو قتل کی کئی وارداتوں میں مطلوب ہے۔ مذکورہ بالا انعام اُس شخص کو دیا جائے گا جو جیک کی گرفتاری سے متعلق کارآمد معلومات فراہم کر سکے گا۔ جیک بولٹن کا سرکاری خاکہ درج ذیل ہے:
عمر 45 سال، قد...
جہاز کی تباہی
میرا نام رابنسن کروسو ہے اور میں یارک شائر برطانیہ کا رہنے والا ہوں۔میرے والد مجھے ہمیشہ سمندری سفر سے منع کرتے تھے جبکہ مجھے سمندری سفر کا جنون تھا۔ اٹھارہ برس کی عمر ہوگی کہ جب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اپنی روزی کمانے کے لئے سمندری سفر کو وسیلہ بنانا چاہیے۔ والد کے لاکھ منع کرنے...
بہت دن گزرے۔ جب ہمارے اور آپ کے دادا ننھے منے بچے تھے۔ بُستان پور میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا۔ اس کا نام تھا ’واجبی‘۔ وہ اپنے پیشے میں بہت ماہر تھا۔ بستان پور کے سب چھوٹے بڑے اور امیر و غریب اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ جب کبھی وہ کسی گلی کوچے سے گزرتا لوگ آداب عرض کرتے۔ ہر کو ئی کہتا، دیکھو وہ جارہے...
پرانے زمانے میں جب بندوقیں، تو پیں وغیرہ ایجاد نہیں ہوئی تھیں، اسی شخص کو پہلوان کیا جا تا تھا جو بہت طاقتور ہو اور تلوارا، نیزہ اور تیر وغیرہ جیسے ہتھیار خوب چلا سکتا ہو۔ جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور تیر، تلوار نیزہ وغیرہ کی جگہ بندوق،توپ، بم وغیرہ نے لے لی، پہلوان صرف اسی شخص کو کہا جانے لگا جو...
’’میں آؤں؟ ۔۔۔ میں آؤں؟ ۔۔۔ میں آؤں؟‘‘
مانو بلی نے منو میاں کو مصروف دیکھا تو کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اخلاقاً پوچھ لیا:’’میں آؤں؟‘‘
منومیاں نے کچھ لکھتے لکھتے اپنی کاپی سے سر اُٹھایا اورمانو کی طرف دیکھ کر بولے:’’ضرور ۔۔۔ ضرور ۔۔۔ بڑی خوشی سے!‘‘
مگربی مانو کوشاید اب بھی کچھ جھجک سی محسوس ہو رہی...
احمد ندیم قاسمی
۔۔۔۔۔۔۔
صفدر نے گرمیوں کی چھٹیاں اپنے چچا کے پاس جوہر آباد میں گزاریں۔واپس لاہور آکر اس نے محلے کے سب ہمجو لیوں کو اپنے سفر کا حال یوں سنایا جیسے وہ جو ہر آباد نہیں گیا تھا،چاند پرگیا تھا اور بس میں بیٹھ کر نہیں گیا تھا راکٹ میں بیٹھ کر گیا تھا۔وجہ یہ تھی کہ اس کے ہمجولی...
جون صاحب ایک عظیم اور منفرد شاعر تھے ، ان کی شاعری میں برجستگی اور عام انسان کے جذبات کی روانی انہیں اپنےمعاصر سے ممتاز کردیتی ہے ،ماریہ میڈم ان کی خوبصورتی شاعری کو زیب فورم بنانے کےلیے آپ کا مشکور ہوں ، خوش رہیں