قسط نمبر34
ریاض عاقب کوہلر
اطراف کا جائزہ لیتا ہوامیں دھیرے دھیرے ایک الاﺅ کے قریب ہوتا گیا،یہاں تک کہ وہاں موجود پہرے داروں کی گفتگو سنائی دینے لگی تھی۔انھوں نے سیاست کا موضوع چھیڑا ہوا تھااور اپنے اپنے قائد کی خوبیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ دوسروں کی غلطیوں اور بے ایمانیوں کا تذکرہ بھی زور و...
قسط نمبر33
ریاض عاقب کوہلر
وہ کھسیاتے ہوئے بولا۔”باس!تم جھوٹ بھی اس صفائی سے بولتے ہوکہ مخاطب کو سچ ہی لگتا ہے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”جس بندے سے خدا عقل چھین لے اس کا ویسے بھی کچھ نہیں ہو سکتا۔“
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتا ہوا بولا۔”ایک ہندو کا بہروپ بھر کر مسلسل خدا کی یاد میں لگے ہواور مجھ سے...
قسط نمبر32
ریاض عاقب کوہلر
رشید مزاحیہ انداز میں بولا۔”باس !لاشوں سے گفتگو کا فن ہمیں بھی سکھا دو۔“
میں ہنسا۔”صرف شکریہ ادا کیا ہے یار!....وہ کیا ہے کہ مجھے ہتھیاروں سے خصوصی لگاﺅ ہے اور اس نے اتنا بہترین پستول ترکے میں چھوڑ ا ہے۔“
اس نے کہا۔”لاشوں کو پڑا رہنے دیتے ہیں۔“
میں نے کہا۔”تم نہیں...
قسط نمبر31
ریاض عاقب کوہلر
میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔”بہت اچھی خبر ہے،لگتا ہے وہ پہلی روشنی میں ہمیں گھیرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ایسے وقت انسان عموماََ غافل ہوتا ہے۔“
اس نے تشویش زدہ انداز میں پوچھا۔”اب کیا کریں گے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”تمھارے کرنے کو کچھ نہیں ہے،بس خود کو سردی سے بچاﺅ،دشمن...
قسط نمبر30
ریاض عاقب کوہلر
گزشتہ رات کی بے آرامی کے باوجود اگلے دن ہم طلوع آفتاب کے ساتھ اٹھ گئے تھے۔ پرتکلف ناشتا کر کے ہوٹل سے نکل آئے اورکسی مناسب مقام کی تلاش میں ہم پالی شہر کے مضافاتی دیہاتوں کا جائزہ لینے لگے۔دور تک فائر کرنے کے لیے چونکہ مجھے اونچائی دستیاب تھی اس لیے میں نے ایسی جگہوں...
قسط نمبر29
ریاض عاقب کوہلر
میں نے تسلی دی۔”گھر کے اندر ہی رہو،ہم سنبھال لیں گے۔“
”ویر جی !سچی بات تو یہ ہے،بہت ڈر لگ رہا ہے،دونوں مشٹنڈے بہت تگڑے ہیں،لگتا ہے آپ کو ایک ہاتھ سے اٹھا کر دور پھینک دیں گے۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”فکر مت کرو،یہ ہماری ذمہ داری ہے ۔“
اس نے کہا۔”ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ۔“...
قسط نمبر28
ریاض عاقب کوہلر
مجھے خشمگیں نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے آبادی کی طرف قدم بڑھائے جو سڑک سے فرلانگ بھر دور تھی اور وہاں تک ایک پختہ راستہ بنا ہوا تھا۔”تمھارا اندازہ ٹھیک ہے مگر انداز غلط ہے اور رشو بھٹلا کی بیوی نہیں بہن خاصی خوب صورت ہے ۔پہلے وہ شری ناتھ کے معتقد تھے۔ پورا گھرانا اس کا...
قسط نمبر27
ریاض عاقب کوہلر
اس نے اگلا سوال کیا۔”تم سنائپر ہو؟“
میں نے اس بار بھی کچھ بولے بغیر اثبات میں سرہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
”تمھارے بارے انصاری کو میں نے ہی کہا تھااور ایک مشن کو پورا کرنے کے بعد تمھیں دوسرے مشن کے لیے رکنا پڑا۔معذرت، مگر مجبوری تھی اور یہ کام کوئی اچھا سنائپر ہی سرانجام...
قسط نمبر26
ریاض عاقب کوہلر
وہاں دیواروں کے ساتھ مختلف ہتھیار ٹنگے تھے اور کوت کے بیچوں بیچ بھی لکڑی کی میزیں رکھ کر ہتھیار سجائے گئے تھے۔قریباََ ساری سنائپر رائفلیں میزوں پر رکھی گئی تھیں کیوں کہ سنائپر رائفل کے ساتھ عموماََ دو پائی جڑی ہوتی ہے اور ٹیلی اسکوپ سائیٹ کا رائفل پر لگا ہونا تو لازم...
قسط37
آخری قسط
وہ بے یقینی سے نورے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔”نورے””میں سچ بول رہی ہوں جازب اس دن بابا نے جب مجھے یہ سچ بتایا میں شاکڈ تھی۔۔” وہ اپنا بتا رہی تھی جبکہ ابھی یہی حال جاذب کا تھا۔۔”ابھی اور کتنے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے٫؟؟””جاذب میرے بابا کو معاف کردیں وہ مکمل طور پر آپ کے گناہگار نہیں...
قسط نمبر25
ریاض عاقب کوہلر
گھٹنا اس کے بائیں پہلو سے ٹکرایا،بے چاری کے منہ سے زور دار ۔”اوغ۔“نکلی تھی۔ ساتھ ہی احساس ہوا کہ جلد بازی میں اپنی شناسا کو اچھی خاصی چوٹ پہنچا چکا ہوں۔ وہ بملا تھی۔ ہتھیار کے نام پر اس نے بالوں والے برش کا دستہ میری پیٹھ پر ٹیکا ہوا تھا۔جس کا دباﺅ بالکل پستول کی نال...
قسط نمبر24
ریاض عاقب کوہلر
اگلے چند دن ہم نے وہیں گزارے۔ اس دوران میں سورج داس سے بھی کال پر بات ہوئی، اپنے دونوں جاسوس اس کے پاس پہنچ گئے تھے۔میرا کام وہاں ختم ہو چکا تھا۔ممتا دیدی نے دلجیت سنگھ کے ساتھ چند نشستوں میں انھیں تفصیل سے ضروری معلومات دے دی تھیں۔ممتا دیدی کو باہر بھیجنے کی ذمہ داری...
قسط نمبر23
ریاض عاقب کوہلر
قافلے کے بارے ہمیں پل پل کی خبر پہنچ رہی تھی۔آخر وہ لمحہ آپہنچا جب ہماری” سگنل پارٹی“ (گھات میں دشمن کے قافلے کی آمد کی پیشگی اطلاع دینے والی پارٹی )نے قافلے کی آمد کا اعلان کر دیا۔ ہم تمام محدود حیطہ عمل (کم رینج والے )کے وائرلیس سیٹوں پر ملاپ میں تھے۔
جلد ہی مجھے...
قسط نمبر22
ریاض عاقب کوہلر
دس بج کر چار پانچ منٹ ہوئے تھے جب میں بملا عرف پشپا کے فلیٹ کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ گھنٹی کے جواب میں فوراََ ہی دروازہ کھل گیا،یقینا وہ میری منتظر تھی۔گہرے آسمانی رنگ کی بنیان اورچست جینز میں کسی منجھی ہوئی اتھلیٹ کی طرح لگ رہی تھی۔سنہرے بال پونی میں قیدہونے کی وجہ سے...
قسط نمبر21
ریاض عاقب کوہلر
اس نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔اگلے ہی لمحے ہم گھتم گھتا ہو گئے تھے۔اس وقت میرے انگ انگ میں غصے ،نفرت اور بدلے کی آگ بھری تھی۔اس کے ممتا دیدی کے ساتھ ناروا سلوک نے میرے تن بدن میں وہ آگ لگائی تھی کہ میری صلاحیتیں عام روزمرہ سے بھی کچھ بڑھ گئی تھیں۔وہ بھی بہترین...
قسط_36سورج کی روشنی چاروں اور پھیلتے اندھیروں کو سمیٹتے جا رہی تھی۔۔۔جاذب نے کسلمندی سے کروٹ لیتے اپنا ہاتھ پھیلایا جب خالی پہلو دیکھ اسکی نیند اڑی تھی۔اٹھ کر بیٹھتے اس نے نورے کو ڈھونڈنا چاہا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔۔کل کے بعد سے وہ اس سے بری طرح خفا ہوئی تھی دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا۔اپنی شرٹ...
قسط_35امینہ بیگم دوائی کھلا کر وہ خود اپنے باہر صحن میں آ بیٹھی۔۔۔موسم کافی خوشگوار ہوگیا تھا۔پچھلے چند مہینوں میں یہ اسکی عادت ہوگئی تھی کہ پورا دن امینہ بیگم کے ساتھ گزارتی اور رات یونہی صحن میں بیٹھی رہتی۔۔اس رات کے بعد سے جلال بمشکل ہی گھر آتا تھا اگر آتا بھی تو دن کے وقت ۔۔ تھوڑی دیر امینہ...
قسط نمبر20
ریاض عاقب کوہلر
کرن چاولہ مڑتے ہوئے غنڈوں کی ٹولی کی طرف متوجہ ہوا۔”تمھیں شرم آنا چاہیے کہ بیس مسٹنڈے ایک شخص کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے ہو۔“
ان کا سرغنہ قدرے ندامت سے بولا۔”سر!ہمیں اس کی تلاش میں بکھرنا پڑا تبھی اسے مزاحمت کا موقع مل گیا۔“
کرن چاولہ بگڑ کر بولا۔”اور کس الو کے پٹھے...
قسط نمبر19
ریاض عاقب کوہلر
میں نے تصدیق چاہی ۔”اور اس دوران میں تم سامنے والی کھڑکی کے بلائنڈز بھی کھولتی ہو۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے الجھن آمیز لہجے میں بولی۔”ہاں ،مگر آپ کو کیسے پتا؟“
میں اس کا استفسار نظر انداز کرتا ہوامدعے پر آیا۔”کل جب تم کھڑکی کے بلائنڈز کھولو اس وقت درمیان والے شیشے کو...
قسط نمبر18
ریاض عاقب کوہلر
وشواس سنگھ کی واپسی شام کو ہوئی تھی۔تازہ دم ہو کر وہ میرے کمرے میں آگیا۔میں مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تھا،نشست سنبھالتے ہوئے اس نے گفتگو کا آغاز کیا۔
”تمھارے دوست کی مصروفیات کا اوقات نامہ تو لے آیا ہوں،مگر کام مشکل نظر آرہا ہے۔“
میں وسعت قلبی سے بولا۔”چچا غالب نے...