ایک دوست : یار، میں جب کسی شادی کی تقریب میں جاتا ہوں تو اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ" کھانا کھول دو "،
کیا کھانے کو کسی نے باندھ رکھا ہوتا ہے ؟
دوسرا دوست : ارے نہیں ۔۔۔۔۔
کھانا وہیں پر رہتا ہے ۔۔۔۔
بندے کھول دیئے جاتے ہیں ۔۔۔
آخری قسط
یہ منصوبہ اسی صورت کامیاب ہو سکتا تھا جب خاندان کے 18 افراد دیت پر راضی ہو جاتے ۔ اسی لئے آئی ایس آئی کے لوگوں نے وکیل کی مدد سے خاندان کے ہر فرد پر حسب ضرورت دباو ڈالا لیکن ان میں سے کئی افراد نے مزاحمت کی ۔ان میں سے ایک مقتول کا بھائی تھا جس پر مذہبی سیاسی راہنماؤں نے انصاف لینے...
قسط نمبر 13
جنرل شجاع پاشا کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے کے دو ماہ بعد ہی ممبئی حملہ ہو گیا تھا ۔ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے درمیان برسوں سے چلتی کشیدگی میں میرے واقعہ کے بعد مزید اضافہ ہو گیا ۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ جان کیری کے 15 فروری کو پاکستان آنے سے پہلے جنرل شجاع امریکا گئے تھے اور...
قسط نمبر 12
’’میں سی آئی اے کا ایجنٹ تھا‘‘ ۔ یہ ان جھوٹوں میں سے ایک تھا جو میڈیا نے میرے بارے میں پھیلا رہا تھا ۔ پاکستانی میڈیا خاص طور پر اس حوالے سے سخت کردار ادا کر رہا تھا ۔اس نے ہر طرح کے پاگل پن پر مبنی کہانیاں شائع کیں ۔ جیسے کہ کہا گیا کہ میری ذاتی افغان آرمی تھی اور میں طالبان کے...
قسط نمبر 11
اپنے بیان میں انہوں (شاہ محمود قریشی ) نے کہا کہ ویانا کنوینشن 1961 اور 1963 کے تحت امریکی سفارت خانے کے اندھے استثنی کا مطالبہ کسی بھی صورت درست نہیں ہے ۔ یکم ستمبر کو کانگریس کے وفد نے بھی صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔ ان ملاقاتوں میں...
قسط نمبر 10
ایک اور پولیس افسر نے بھی مجھ سے تفتیش کی ۔ وہ بے تکلفی سے کمرے میں بیٹھ گیا اور اس نے مجھے بتایا کہ اسے امریکی ایف بی آئی نے تربیت دی ہے ۔ وہ سفید پینٹ شرٹ اور ٹائی میں پولیس افسر کی بجائے بینکر لگتا تھا ۔ اس کا انداز عام پولیس والوں سے بہت مختلف تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں...
قسط نمبر 9
پولیس نے مجھے عدالت سے کینال روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر منتقل کر دیا ۔ یہاں درجنوں اہلکار حفاظت پر مامور تھے جو کلاشنکوف سے مسلح تھے ۔مجھے یہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا ، کئی گھنٹوں بعد ایک پولیس اہلکار نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے’’ انٹرویو ‘‘کا لفظ بولا ۔ مجھے لگا کہ اب مجھ...
قسط نمبر 8
اس وقت صورت حال انتہائی گھمبیر ہو چکی تھی ۔ مشتعل ہجوم نے مجھے کار سے کھینچ کر باہر نکال لیا تھا ۔ اتنے میں وہاں ایک پولیس اہلکار بھی پہنچ گیا ۔ اسے دیکھ کر مجھے امید کی کرن نظر آنے لگی۔وہ پولیس اہلکار مجھے مشتعل لوگوں سے بچانے کی کوشش کرنے لگا ۔ لوگوں نے اسے اردو میں کچھ بتایا تو...
قسط نمبر 7
مجھے مارنے کے لئے محمد فہیم کو بھی صرف ایک گولی چلانی تھی ۔ اگر وہ اپنے کام میں ماہر ہوتا تو شاید سیکنڈز کے ہزارویں حصہ میں یہ کام کر سکتا تھا لیکن وہ خود مارا گیا ۔ میں نے تصاویر بنانے کے بعد اپنا کیمرہ واپس گاڑی میں رکھ دیا ۔ اتنی دیر میں وہاں ٹریفک پولیس کا اہلکار بھی آ گیا۔ وہ...
قسط نمبر 6
مجھے اپنی پستول نکالنے میں زیادہ وقت نہیں لگا ۔ میں نے ایک سیکنڈ میں اپنی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال کر پستول باہر نکال لی۔آپ کو حیرت ہو گی کہ ایسا کیسے ہوا لیکن میرے لئے یہ معمول کی تربیت تھی ۔ میں نے اپنی ساری زندگی اسلحہ چلانے میں ہی بسر کی ہے۔ نجی زندگی سے لے کر فوج تک اسلحہ سے میرا...
قسط نمبر 5
عام طور پر پاکستانی شہری یوں اپنے پاس ہتھیار رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انہیں کسی سے خطرہ ہو یا وہ کسی کے لئے خطرے کا باعث بنیں ۔اس کے باوجود اگر کوئی مصروف شاہراہ پر آپ پر پستول تانے کھڑا ہو تو پھر ایسی تمام توقعات ختم ہو جاتی ہیں اور وہ شخص آپ کے لئے سنگین خطرہ بن...