معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں یہ رانجھا بھی اور انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے
جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائ ہے
اس شہر سے دور اک کٹیا اپنی بسائ ہے
اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے
سب چلتی پھرتی چھایا ہے