میں نے اکثر خواب میں دیکھا
محسن نقوی
146
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
خوف تراشے کہساروں کی گود میں جیسے
اک پتھریلی قبر بنی ہے
قبر کی اجلی پیشانی پر
دھندلے میلے شیشے کی تختی کے پیچھے
تیرا نام لکھا ہے
تیرا میرا نام کہ جس میں
شیشے پتھر جیسی کوئی...
مری اداسی کا زرد موسم
محسن نقوی
مری اداسی کا زرد موسم
اگر کسی دن
مری بجھی آنکھ کے کنارے
بھگو بھگو کر
انا کے پاتال کی کسی تہہ میں
ایک پل کو ٹھہر گیا تو
مجھے یقیں ہے
کہ ٹوٹتے دل میں خواہشوں کا
کوئی چھناکا
مرا بدن بھی نہ سن لے
مرا ہونا نہ ہونا
محسن نقوی
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
لفظ کی تشکیل کرتا ہے
وہ اک نقطہ سمٹ جائے تو
ہونے کا ہر اک امکاں
نہ ہونے تک کا سارا فاصلہ
پل بھر میں طے کر لے
وہی نقطہ...
اے ہجر زدہ شب
امجد اسلام امجد
اے ہجر زدہ شب
آ تو ہی مرے سینے سے لگ جا کہ بٹے غم
احساس کو تنہائی کی منزل سے ملے رہ
آواز کی گمنام زمینوں کو ملے نم
آ کچھ تو گھٹے غم
اس ساعت مہجور کی فریاد ہو مدھم
کیوں نوحہ بہ لب پھرتی ہے محروم مخاطب
اے ہجر زدہ شب...
یوں تو اس دنیا کی ہر اک چیز نیاری ہے
امجد اسلام امجد
یوں تو اس دنیا کی ہر اک چیز نیاری ہے
لیکن اپنے دیس کی دھرتی سب سے پیاری ہے
چندا ماموں نیل گگن میں اچھے لگتے ہیں
روشن روشن تارے کیسے پیارے لگتے ہیں
نیل گگن نے اپنی محفل خوب سنواری ہے
کھیت سنہرے بادل...
ہم زاد
امجد اسلام امجد
کچھ کیا جائے نہ سوچا جائے
مڑ کے دیکھوں تو نہ دیکھا جائے
میری تنہائی کی وحشت سے ہراساں ہو کر
میرا سایہ میرے قدموں میں سمٹ آیا ہے
کون ہے پھر جو مرے ساتھ چلا آتا ہے
میرا سایہ تو نہیں!!
کس کی آہٹ کا گماں
یوں مرے پاؤں...
آواز کے پتھر
امجد اسلام امجد
کون آئے گا!
شب بھر گرتے پتوں کی آوازیں مجھ سے کہتی ہیں
کون آئے گا!
کس کی آہٹ پر مٹی کے کان لگے ہیں!
خوشبو کس کو ڈھونڈ رہی ہے!
شبنم کا آشوب سمجھ
اور دیکھ کہ ان پھولوں کی آنکھیں
کس کا رستہ دیکھ رہی ہیں...
چمکو چمکو پیارے تارو
امجد اسلام امجد
چمکو چمکو پیارے تارو
رنگوں اور امیدوں والے
آنکھوں میں پھر خواب اتارو
چمکو چمکو پیارے تارو
رات بہت ہے کالی کالی
گلیاں ہیں سب خالی خالی
ہوا چلے تو ڈر لگتا ہے
سونا سونا گھر لگتا ہے
روشن سارے منظر...
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
امجد اسلام امجد
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
زمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیں
اور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیے
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
نعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیں
صاف پانی ہوا بارشیں چاندنی
یہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر...
کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے
احمد فراز
کہا تھا کس نے کہ عہد وفا کرو اس سے
جو یوں کیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اس سے
نصیب پھر کوئی تقریب قرب ہو کہ نہ ہو
جو دل میں ہوں وہی باتیں کہا کرو اس سے
یہ اہل بزم تنک حوصلہ سہی پھر بھی
ذرا فسانۂ دل ابتدا کرو...
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
احمد فراز
یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیں
یہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیں
خزاں میں چاک گریباں تھا میں بہار میں تو
مگر یہ فصل ستم آشنا کسی کی نہیں
سب اپنے اپنے فسانے سناتے جاتے ہیں
نگاہ یار مگر ہم نوا کسی کی...
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
احمد فراز
خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا
جو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھا
میری طرح تو نے شب ہجراں نہیں کاٹی
میری طرح اس تیغ پہ کٹ کر نہیں دیکھا
تو دشنۂ نفرت ہی کو لہراتا رہا ہے
تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر...
سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
احمد فراز
سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
شاید آ جائیں کبھی چشم خریدار میں ہم
جان و دل بیچ میں بازار کے رکھ دیتے ہیں
تاکہ طعنہ نہ ملے ہم کو تنک ظرفی کا
ہم قدح سامنے اغیار...
تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوں
احمد فراز
تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوں
میں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوں
ترے بدن میں دھڑکنے لگا ہوں دل کی طرح
یہ اور بات کہ اب بھی تجھے سنائی نہ دوں
خود اپنے آپ کو پرکھا تو یہ ندامت ہے
کہ اب...
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
احمد فراز
جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
تنہائی میں روتے ہیں کہ یوں دل کو سکوں ہو
یہ چوٹ کسی صاحب محفل سے لگی تھی
اے دل ترے آشوب نے پھر حشر جگایا
بے درد ابھی آنکھ بھی مشکل سے...
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
احمد فراز
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
تجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیں
دل سے کل محو تکلم تھے تو معلوم ہوا
کوئی کاکل کوئی لب کوئی دہن یاد نہیں
عقل کے شہر میں آیا ہے تو یوں گم ہے جنوں
لب گویا کو...
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
احمد فراز
کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں
شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں
نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے
ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں
یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں
تجھ...
فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہوا
احمد فراز
فقیہ شہر کی مجلس سے کچھ بھلا نہ ہوا
کہ اس سے مل کے مزاج اور کافرانہ ہوا
ابھی ابھی وہ ملا تھا ہزار باتیں کیں
ابھی ابھی وہ گیا ہے مگر زمانہ ہوا
وہ رات بھول چکو وہ سخن نہ دہراؤ
وہ رات خواب ہوئی وہ سخن فسانہ...
دل بدن کا شریک حال کہاں
احمد فراز
دل بدن کا شریک حال کہاں
ہجر پھر ہجر ہے وصال کہاں
عشق ہے نام انتہاؤں کا
اس سمندر میں اعتدال کہاں
ایسا نشہ تو زہر میں بھی نہ تھا
اے غم دل تری مثال کہاں
ہم کو بھی اپنی پائمالی کا
ہے مگر اس قدر ملال کہاں...
وہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں
امجد اسلام امجد
کس سے پوچھوں وہ کیا
شخص ہے جو مری
آرزو کے جھروکوں میں ٹھہرے ہوئے
سارے چہروں میں بکھرا ہوا ہے مگر
خود ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں
کس سے پوچھوں وہ کیا
نام ہے جو مری
دھڑکنوں کے مقدر میں...