خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
محسن نقوی
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا
تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو
کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا
عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں
کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن...