شبانہ روتے ہوئے اسٹور روم کی طرف گئی، دھیرے سے اس نے اسٹور روم کا دروازہ کھولا، گنیش سویا ہوا تھا۔ دروازے کی آواز سے وہ اٹھا نہیں، سویا ہوا تھا۔
شبانہ اسی زہر کی بوتل کے پاس جاتی ہے جو گنیش نے پینے کا ناٹک کیا تھا۔ وہ اسٹور روم کی ایک ٹوٹی ہوئی الماری (Cupboard) کھول کر وہ بوتل نکالتی ہے، الماری...