ولی محمد، جب تقی کو پہلی مرتبہ دفتر میں لایا تو اس نے مجھے قطعاً متاثر نہ کیا۔
لکھنو اور دلی کے جاہل اور خود سرکاتبوں سے میرا جی جلا ہوا تھا۔ ایک تھا، اس کو جاو بے جا پیش ڈالنے کی بری عادت تھی۔ موت کو مُوت اور سوت کو سُوت بنا دیتا تھا۔ میں نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ سمجھا۔ اس کو اپنے صاحب زبان...