• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story اجنبی راہیں ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,752
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
گلی کے نکڑ پر برگد کا وہی پرانا درخت کھڑا تھا، جس کی جڑوں میں بچپن کے کتنے کھیل چھپے ہوئے تھے۔ دوڑتے ہوئے پاؤں، کھنکھناتی بانسری، آنکھ مچولی کی صدائیں—سب اس مٹی میں تحلیل ہو چکے تھے۔ ثریا نے برسوں بعد ان گلیوں کا رُخ کیا تو قدم خود بخود رک گئے۔ اس نے وہیں ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں تو بچپن کی دنیا آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ چھپ جا، جلدی چھپ جا، سلمان کی شرارت بھری آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی، اور پھر وہی منظر جب وہ دونوں درخت کے تنے کے پیچھے چھپ کر ہنستے تھے۔ مگر یہ سب صرف یادیں تھیں۔ وقت نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ آج اسی برگد کے سائے تلے خاموشی اور ہوا میں اداسی گھل گئی تھی۔ ثریا کا دل ایک عجیب سے بوجھل پن کا شکار ہو گیا۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا وہ سلمان کو پہچان بھی پائے گی؟ وہی سلمان، جو کبھی اس کا ہمسایہ، اس کا رازدار، اس کا سب سے قریبی ساتھی تھا۔خالہ زبیدہ کے گھر پہنچتے ہی وہ تھکن سے صوفے پر گر گئی۔ خالہ نے پیار سے ماتھا چوما اور بولیں کہ بیٹی تجھے دیکھ کر دل کو سکون مل گیا۔ کتنے برس ہو گئے، تو اس گلی میں نہیں آئی۔ خالہ، کبھی دل ہی نہیں چاہا، پرانے زخم پھر ہرے ہو جاتے تھے، مگر اب لگا کہ شاید لوٹ آنا چاہیے۔ ثریا نے آہستہ سے جواب دیا تو خالہ زبیدہ نے چائے کا کپ تھماتے ہوئے آہ بھری اور کہا کہ تو نے ٹھیک کیا بیٹی، مگر یہاں کی فضا بھی وہ نہیں رہی۔ وہ بچپن کا شور کہاں، اب تو ہر طرف خاموشی ہے اور لوگ، لوگ بھی بدل گئے ہیں۔ کیا سلمان بھی بدل گیا ہے خالہ، ثریا نے سنجیدگی سے پوچھا۔ یہ سوال سنتے ہی خالہ کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا۔ خالہ نے آہستہ سے کہا کہ بیٹی وہ بہت بدل گیا ہے، زندگی نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا۔ اس کی مسکراہٹ کہیں کھو گئی ہے۔ میں تجھے پہلے ہی بتا دوں، تو اسے دیکھے گی تو شاید پہچان نہ پائے۔ثریا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ اسی سلمان کو یاد کر رہی تھی جس کے ساتھ گلیوں میں دوڑتی تھی، جس سے ضد کر کے گڑیا منگواتی تھی، جو اسکول جاتے ہوئے اس کا بستہ اٹھا لیتا تھا۔ تو کیا وہ سب ختم ہو گیا؟ دروازے پر دستک ہوئی تو خالہ اٹھ کر باہر چلی گئیں اور ثریا کے دل کی دھڑکن جیسے کانوں میں سنائی دینے لگی۔ چند لمحوں بعد ایک قدآور، سنجیدہ چہرہ کمرے میں داخل ہوا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس، چہرے پر تھکن کے اثرات، آنکھوں میں اجنبیت لیے۔ ثریا نے ایک لمحے کو اسے پہچاننے کی کوشش کی۔ دل نے کہا کہ یہ سلمان ہے۔ اس کے ہونٹ کپکپائے اور آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ اس نے دھیمے لہجے میں سلام کیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ ثریا نے جواب دیا مگر آواز جیسے گلے میں اٹک گئی۔ کمرے کی فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا۔ وہ سلمان جو کبھی اپنی خوشنما باتوں سے خاموشی توڑ دیا کرتا تھا، آج اجنبی سا بنا بیٹھا تھا۔ تبھی خالہ زبیدہ نے بات کا آغاز کیا اور کہا کہ بیٹا دیکھ، کون آیا ہے۔ سلمان نے لمحہ بھر کے لیے ثریا کو دیکھا، پھر نظریں پھیر لیں اور بولا کہ جی، پہچان گیا۔ یہ جملہ ثریا کے دل پر جیسے چوٹ کی طرح لگا۔ بس پہچان گیا؟ برسوں کی یادیں، بچپن کی دوستی—سب صرف پہچاننے تک محدود رہ گیا؟ سلمان نے رسمی لہجے میں پوچھا کہ کیسی ہیں آپ، تو ثریا نے آہستہ سے جواب دیا کہ ٹھیک ہوں۔ چند لمحے یوں ہی گزر گئے، پھر سلمان بولا کہ یہ شہر بدل گیا ہے، لوگ بھی بدل گئے ہیں، کچھ یادیں اب یاد نہیں رہتیں۔ یہ سن کر ثریا کا دل جیسے چھلنی ہو گیا۔ کیا واقعی اس کے لیے ان یادوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی؟ تب خالہ نے بات کا رُخ موڑنے کی کوشش کی اور کہا کہ بیٹا، آج کل کیا کرتے ہو۔ سلمان نے نظریں جھکا لیں۔بس زندگی کا بوجھ اٹھا رہا ہوں، کچھ چھوٹے موٹے کام کر لیتا ہوں، گھر چل رہا ہے۔ اس کی آواز میں چھپی تھکن اور تلخی جھلکنے لگی تھی۔سلمان، اتنے برسوں میں تم نے کبھی رابطہ کیوں نہیں کیا؟ ثریا نے ہمت کر کے پوچھا۔ وہ لمحہ بھر خاموش رہا، پھر آہستہ سے کہنے لگا کہ کچھ سوالوں کے جواب وقت دیتا ہے، اور وقت کے دیے گئے جواب اکثر سخت ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ثریا نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔ وجود پر جیسے کوئی بوجھ تھا، جیسے ماضی کی ساری یادیں اب بھی اس پر لدی ہوں۔ دروازہ بند ہوتے ہی ثریا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کے دل میں ایک ہی سوال بار بار گونج رہا تھا—آخر ایسا کیا ہوا جو سلمان کو اتنا بدل گیا؟

☆☆☆

رات کا سناٹا پھیل چکا تھا۔ محلے کے مکان اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، صرف کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ثریا اپنے کمرے میں بیٹھی جاگ رہی تھی۔ بستر پر لیٹنے کے باوجود نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ سلمان کی آنکھوں کی اجنبیت اور اس کے الفاظ کانوں میں گونجتے رہے—کچھ سوالوں کے جواب وقت دیتا ہے، اور وقت کے دیے گئے جواب اکثر سخت ہوتے ہیں۔ یہ جملہ جیسے ایک گہرا راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ثریا کے دل میں کرب کی ایک لہر اٹھی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیا سلمان کے دل میں اس کے لیے کوئی شکوہ ہے، یا پھر زندگی کی سختیوں نے اسے بدل ڈالا ہے؟ تبھی خالہ زبیدہ نے دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ابھی تک سوئی نہیں بیٹی؟نیند نہیں آ رہی خالہ… ثریا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر آنکھوں کی نمی چھپ نہ سکی۔ خالہ اس کے پاس بیٹھ گئیں۔میں جانتی ہوں، سلمان کی اجنبیت نے تجھے دکھ دیا ہے، مگر بیٹی، وہ بہت مشکلوں سے گزرا ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا بوجھ اس پر آن پڑا۔ نہ تعلیم مکمل کر سکا، نہ کوئی ڈھنگ کا روزگار۔ وہ لڑکا، جو کبھی بڑے بڑے خواب دیکھتا تھا، آج بس زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ثریا کی آنکھوں میں حیرت تیر گئی۔مگر خالہ، اتنے برسوں میں اس نے ایک خط بھی نہ بھیجا؟ ایک سلام تک نہ کیا؟خالہ نے طویل سانس کھینچی۔ شاید اس میں ہمت نہ تھی، یا پھر حالات نے اسے اتنا سخت کر دیا کہ پرانی باتوں کو یاد کرنے کی فرصت ہی نہ ملی۔ثریا کے دل پر ایک اور بوجھ سا آ گیا۔ وہ سوچنے لگی، محبت اگر سچی ہو تو کیا وقت اور حالات اسے مٹا سکتے ہیں؟اگلے دن صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی گلی میں چہل پہل شروع ہو گئی۔ بچے اسکول جا رہے تھے، مزدور کام پر نکلے تھے۔ ثریا کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی، جب اس کی نظر سلمان پر پڑی۔ وہ ایک پرانی موٹر سائیکل پر بوجھ لاد رہا تھا۔ اس کے کپڑے گرد آلود تھے، اور ہاتھوں پر سختی اور مشقت کے نشانات۔ ثریا کے دل نے کہا کہ یہی وہ لڑکا ہے، جس کے ساتھ بچپن کے خواب بانٹے تھے، مگر آج حالات نے اسے کتنا بدل ڈالا ہے۔وہ دروازے کے قریب گئی، مگر قدم جیسے رک گئے۔ سلمان نے ایک لمحے کو نظریں اٹھائیں، شاید اس نے ثریا کو دیکھ بھی لیا تھا، مگر فوراً چہرہ پھیر لیا۔ ثریا کا دل مزید زخمی ہو گیا۔اسی دن دوپہر کو خالہ زبیدہ کے ہاں محلے کی ایک پرانی خاتون آ گئیں۔ ان سے ثریا کو سلمان کے حالات جاننے کا موقع ملا۔ خاتون نے بتایا کہ یہ لڑکا بہت جفاکش ہے، اپنی ماں بہن کا سہارا بنا ہوا ہے۔ مگر پتا نہیں کیوں وہ کسی سے گھلتا ملتا نہیں، اپنے دکھ اپنے سینے میں چھپا کر رکھتا ہے۔کیا وہ شادی نہیں کر پایا؟ ثریا بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔ خاتون نے نفی میں سر ہلایا اور کہا، نہیں بیٹی، اس نے کبھی کسی کا رشتہ قبول نہیں کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی پرانی محبت ہے، جو آج بھی اس کے دل میں زندہ ہے۔یہ سنتے ہی ثریا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ کیا وہ محبت وہی تھی جس کا تعلق اس کی ذات سے تھا؟ یا پھر سلمان کی زندگی میں کوئی اور کہانی چھپی ہوئی تھی؟رات کو چاندنی پھیلی ہوئی تھی، جب ثریا نے ہمت کر کے فیصلہ کیا کہ وہ سلمان سے سیدھی بات کرے گی۔ وہ پرانی مسجد کے قریب گئی، جہاں بچپن میں دونوں شام ڈھلے کھیلنے آیا کرتے تھے۔ آج بھی وہی مسجد تھی، مگر ویران۔ اس کے صحن میں سلمان ایک پرانی کتاب کھولے بیٹھا تھا۔سلمان! ثریا نے پکارا تو وہ چونک اٹھا، اور نظریں اٹھائیں تو لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی۔تم… تم یہاں کیوں آئیں؟ اس کے لہجے میں حیرت اور سرد مہری تھی۔میں جواب لینے آئی ہوں، تم مجھے یوں اجنبی کیوں سمجھتے ہو؟سلمان کی آنکھوں میں کرب کی لکیریں ابھر آئیں۔اجنبی سمجھنا مجبوری ہے، ثریا! ورنہ دل تو اب بھی وہی ہے، جو بچپن میں تمہارے ساتھ دھڑکتا تھا۔ثریا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔پھر یہ فاصلے کیوں، سلمان؟سلمان نے کتاب بند کر دی اور بولا، اس کہانی میں ایسے موڑ آئے ہیں، جن کا بوجھ میں تم پر نہیں ڈالنا چاہتا۔ میرے حالات، میرا وجود—یہ سب تمہیں صرف دکھ دیں گے۔کیا محبت دکھ سے ڈرتی ہے؟ ثریا نے دل تھام کر کہا۔سلمان نے جواب نہ دیا۔ اس کے لب کانپے مگر الفاظ نہ نکل سکے۔ وہ لمحہ دونوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔خاموشی کے بوجھ نے جیسے صحن کی دیواروں کو بھی گرا دیا تھا۔ثریا دھیرے سے پلٹ گئی، مگر جاتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ وہ اس راز کو ضرور کھولے گی۔ وہ جان کر رہے گی کہ کون سا زخم ہے، جس نے سلمان کو اس قدر اجنبی بنا دیا۔

☆☆☆

بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گلی کی مٹی کو بھگو رہی تھیں۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی، مگر ثریا کے دل کی بےچینی اور بڑھ گئی تھی۔ سلمان کے الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے — میرا دل اب بھی وہی ہے، مگر حقیقتیں بہت تلخ ہیں۔ اس ایک جملے نے جیسے ثریا کی راتوں کی نیند چھین لی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی نہیں بنے گی۔ محبت اگر زندہ ہے، تو اسے کسی انجام تک پہنچانا ہو گا، چاہے راستے کانٹوں سے بھرے ہوں یا خواب حقیقتوں سے ڈرتے ہوں۔اگلے دن وہ خالہ زبیدہ کے ساتھ بازار گئی۔ اتفاق سے وہاں سلمان ایک پرانی کتابوں کے اسٹال پر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تاریخ کی کوئی کتاب تھی، مگر چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں فکر کی پرچھائیاں تھیں۔ ثریا کا دل بےاختیار اس کی طرف کھنچا، مگر قدم رک گئے۔ تبھی خالہ زبیدہ نے سرگوشی کی — بیٹی، یہ لڑکا دن بھر مزدوری کرتا ہے اور شام کو کتابیں خرید لیتا ہے۔ لوگوں کو یہ پاگل پن لگتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تعلیم ادھوری رہ جانے کا دکھ دل میں لیے پھرتا ہے۔ثریا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ وہ سوچنے لگی کہ یہ وہی سلمان ہے جو بچپن میں انجینئر بننے کے خواب دیکھتا تھا، اور آج زندگی کی سختیوں نے اسے مزدور بنا دیا تھا۔اسی شام ثریا نے ایک جرأت بھرا قدم اٹھایا۔ وہ براہِ راست سلمان کے گھر جا پہنچی۔ دروازہ اس کی چھوٹی بہن سوہا نے کھولا — ایک کمزور سی لڑکی، جس کے چہرے پر معصومیت اور محرومی کا امتزاج تھا۔سوہا نے پہچان لیا اور کہا کہ آپ ثریا آپی ہیں نا۔ بھائی نے بتایا تھا، مگر وہ خوش نہیں ہوں گے آپ کو یہاں دیکھ کر۔یہ سن کر ثریا چونک گئی۔ اس نے پوچھا، کیوں؟ کیا میں اجنبی ہوں اس کے لیے؟سوہا نے نظریں جھکا لیں اور آہستہ سے بولی کہ بھائی کا دل بہت زخمی ہے، مگر آپ کا نام اب بھی کبھی کبھی ان کی نوکِ زباں پر آ جاتا ہے۔یہ سن کر ثریا کے دل میں جیسے کوئی چراغ جل اٹھا اور وہ اندر چلی گئی۔ کمرے میں سلمان ایک پرانی میز پر جھکا کچھ لکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے ثریا کو دیکھا، چونک کر کھڑا ہو گیا۔اس نے کہا، یہ کیا حرکت ہے ثریا؟ اس کے لہجے میں غصہ بھی تھا اور لرزش بھی۔ثریا نے بےساختہ جواب دیا کہ یہ حرکت نہیں، میرا حق ہے سلمان۔ کیا تم مجھے ہمیشہ یوں ہی اجنبی سمجھتے رہو گے؟ حالانکہ میں کبھی تمہاری سب سے زیادہ اپنی تھی، تمہارے خوابوں کی ساتھی، تمہارے خیالوں کی ہمراہی۔ ہم نے خواب بانٹے تھے اور آنسوؤں میں شریک بنے تھے۔ ہمارا کچھ بھی اس قدر اجنبی نہیں تھا، جتنا تم اتنے برسوں بعد بنائے بیٹھے ہو۔ زندگی سے گلے شکوے سب کو ہوتے ہیں، مگر کوئی زندگی سے روٹھ نہیں جاتا۔اس کی آواز اندرونی کرب سے بھیگ گئی۔ سلمان کے چہرے پر بھی درد کی گہری لکیریں ابھر آئیں اور وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔وہ بولا کہ حق تو حالات نے چھین لیا، ثریا۔ جب باپ کا سایہ اٹھ گیا، ماں بیمار پڑی، چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آ گئی، تب میں نے خوابوں کو دفن کر دیا۔ میں کیسے تمہیں اپنے غموں میں گھسیٹ لیتا؟ تمہارے خوابوں کو اپنے آنسوؤں کے ساتھ چھپائے رکھتا اور تمہاری محبت کو دل میں بسائے رکھتا۔ثریا کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے کہا کہ تو کیا محبت صرف خوشیوں میں بانٹی جاتی ہے؟ کیا دکھوں میں ساتھ دینا محبت کا حصہ نہیں؟سلمان نے سر جھکا لیا اور بولا کہ میں تمہیں اپنے دکھ دینا نہیں چاہتا تھا، میں تمہیں خوش دیکھنا چاہتا تھا۔ثریا نے کہا کہ مگر میری خوشی تم سے جڑی ہے، سلمان۔ اگر تم بوجھ اٹھا رہے ہو، تو آدھا مجھے دے دو۔ میں تمہارے دکھ درد کی بھی ساتھی بننا چاہتی ہوں، صرف خوشیوں کی نہیں۔اس کی آواز شدتِ غم سے ٹوٹنے لگی تھی۔ لمحہ بھر کو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ باہر بارش کی ٹپ ٹپ سنائی دیتی رہی۔ سلمان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر ہونٹ اب بھی منجمد تھے۔تب ثریا نے آہستہ سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور بولی کہ اگر تم مجھے اجنبی سمجھتے ہو، تو یہ دل کی دھڑکنیں کیوں آج بھی وہی پرانا راگ الاپ رہی ہیں؟سلمان نے دھیرے سے آنکھیں اٹھائیں اور بولا کہ ثریا، کچھ سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں۔ میرے ماضی میں ایک ایسا راز چھپا ہے جو تمہیں بہت دکھ دے گا، اور میں چاہتا ہوں کہ تم اس آگ سے دور رہو۔ راز … كيسا راز؟‘ثریا کے لبوں سے بے اختیار نکلا ۔ سلمان نے جواب دینے کے بجائے کھڑکی کے باہر دیکھنا شروع کر دیا، جیسے الفاظ اس کے گلے میں اٹک گئے ہوں۔ ثریا نے شدت سے محسوس کیا کہ یہ راز ہی ان کے درمیان سب سے بڑی دیوار ہے۔ اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ یہ اجنبی راہیں، جتنی بھی کٹھن کیوں نہ ہوں، وہ اس راز سے ضرور پرده اٹها کر رہے گی کیونکہ اس راز کے بغیر اس کی محبت کا سفر ادھورا تھا۔

☆☆☆

رات کا سناٹا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ آسمان پر بادلوں کی ٹکڑیاں تیر رہی تھیں اور کبھی کبھار بجلی اندھیروں کو چیر کر لمحہ بھر کے لیے منظر کو اجال دیتی۔ ثریا کے دل میں بھی ایسا ہی اندھیرا چھایا ہوا تھا، جس کے بیچ سلمان کے الفاظ گونج رہے تھے۔ وہ کروٹیں بدلتی رہی، لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ آخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گی۔ اگر محبت کو پانا ہے تو اس راز سے پردہ اٹھانا ہی ہوگا۔اگلی صبح معمول کے برعکس وہ بہت سنجیدہ تھی۔ خالہ زبیدہ نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے پر ایک انجانی اداسی چھائی ہوئی ہے۔خالہ نے پوچھا کہ کیا بات ہے بیٹی؟ رات کو خواب میں کچھ دیکھا یا دل پر کوئی بوجھ ہے؟ثریا نے مسکرا کر بات ٹال دی، مگر وہ جانتی تھی کہ اب اسے کسی راستے پر نکلنا ہی ہوگا۔گاؤں کی فضا میں خنکی اور نمی رچی ہوئی تھی۔ کھیتوں میں ہل چل رہا تھا، کسان بیلوں کو ہانکتے جا رہے تھے۔ زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر ثریا کی سوچیں ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی تھیں — سلمان اور اس کا چھپایا ہوا راز۔اسی شام وہ پھر سلمان کے گھر گئی۔ اس بار خود سلمان نے دروازہ کھولا۔ اس کے چہرے پر حیرت کے ساتھ ہلکی سی جھنجھلاہٹ بھی ابھری۔وہ بولا، تم پھر آ گئی ہو؟ثریا نے مضبوط لہجے میں جواب دیا کہ ہاں، میں پھر آ گئی ہوں، اور جب تک تم وہ راز نہیں بتاتے، میں بار بار آتی رہوں گی۔سلمان کے ہونٹ بھنچ گئے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا، تم نہیں جانتیں ثریا، کچھ حقیقتوں سے انسان اگر بے خبر رہے تو زیادہ بہتر رہتا ہے۔ حقیقتوں کے ناگ جب ڈسنے پر آتے ہیں، تو روح کا ہر ریشہ زہریلا کر دیتے ہیں۔ یہ مارتے نہیں، مرنے کے قریب کر دیتے ہیں۔ثریا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ محبت اندھیروں میں نہیں چل سکتی، سلمان۔ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے ہیں تو پھر یہ راز بھی میرا ہونا چاہیے۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ سلمان نے گہری سانس لی اور لمحہ بھر کے لیے آنکھیں موند لیں، پھر بولا، ٹھیک ہے، لیکن سن لو، یہ کہانی تمہارے دل کو چیر دے گی۔ثریا نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس نے کہا کہ میرا دل پہلے ہی بوجھل ہے، تم سچ کہہ دو، شاید بوجھ ہلکا ہو جائے۔سلمان ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ تاہم اس کی نظریں کھڑکی کے باہر ہی جمی رہیں، جیسے ماضی کی کوئی دھندلی تصویر وہاں ابھرنے لگی ہو۔وہ بولا، یہ آج سے پانچ سال پہلے کی بات ہے۔ ابو حیات تھے مگر بیماری نے کمر توڑ دی تھی۔ میں شہر جا کر پڑھنا چاہتا تھا مگر حالات نے اجازت نہیں دی۔ تب میں نے مزدوری شروع کر دی۔ انہی دنوں میں نے ایک غلطی کی — ایسی غلطی جس کا بوجھ آج تک میرے دل پر ہے۔ثریا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اس نے پوچھا، کیسی غلطی؟سلمان نے کہا، میرا ایک دوست تھا، ساجد۔ ہم نے کچھ پیسے اکٹھے کیے اور سوچا کہ شہر میں کاروبار کریں گے، مگر ساجد نے مجھے دھوکہ دیا۔ وہ سارا سرمایہ لے کر بھاگ گیا۔ ابو کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ صدمے سے بیمار پڑ گئے۔ میں نے انہیں اصل بات نہیں بتائی۔ میں نے جھوٹ بولا کہ پیسے میں نے ضائع کر دیے ہیں۔ اسی دکھ میں وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ثریا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ بولی، لیکن سلمان، یہ تو تمہاری غلطی نہیں تھی۔ دھوکہ دینے والا تو ساجد تھا۔سلمان نے دکھ سے سر جھٹکا اور بولا، نہیں ثریا، غلطی میری تھی۔ میں نے ابو کو سچ کیوں نہ بتایا؟ وہ شاید یہ صدمہ برداشت کر لیتے، مگر بیٹے کے جھوٹ کا زخم ان کے دل پر لگا اور وہ ٹوٹ گئے۔ تب سے میں خود کو قاتل سمجھتا ہوں۔ اسی لیے میں نے خود کو یہ سزا دی کہ میں زندگی کی خوشی کا کوئی حق دار نہیں ہوں۔ثریا کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے آہستگی سے کہا، سلمان، یہ بوجھ تو محبت سے ہلکا ہو سکتا ہے۔ تم نے خود کو قید کر رکھا ہے۔ کیا تمہارے ابو یہ چاہتے تھے کہ تم یوں اپنی زندگی تباہ کر دو؟سلمان نے گہری سانس لی۔ وہ بولا، یہ سوال میں نے خود سے ہزار بار کیا، مگر جواب نہیں ملا۔ثریا قریب آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی، میں جواب دے رہی ہوں سلمان — ابو چاہتے تھے کہ تم اپنے خواب جیو، اپنے دل کو آزاد کرو اور محبت کو گلے لگاؤ۔سلمان کے ہونٹ کپکپائے مگر وہ کچھ نہ کہہ سکا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔ اسی لمحے دروازہ زور سے بجا۔ ثریا چونک گئی۔ سلمان اٹھ کر باہر گیا تو دیکھا، دروازے پر ایک اجنبی کھڑا ہے — لمبا قد، دبلا جسم اور چہرے پر عجب سختی۔ اسے دیکھتے ہی سلمان کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ وہ چہرہ جو برسوں سے یادوں میں زہر بن کر اٹکا ہوا تھا، آج حقیقت کی صورت میں سامنے آ گیا تھا۔سلمان کے لبوں سے بےاختیار نکلا، ساجد۔ساجد کی آنکھوں میں گھمنڈ اور ندامت کی ملی جلی جھلک تھی۔ وہ بولا، ہاں، میں ہی ہوں۔ برسوں بعد لوٹا ہوں، اور مجھے معلوم ہے کہ تم میرے بارے میں کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے۔ثریا حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگی۔ اس کے دل میں سوالوں کا طوفان اٹھنے لگا۔ کیا یہی وہ شخص تھا جس نے سلمان کو برباد کیا، جس کے دھوکے کی سزا وہ آج تک کاٹ رہا ہے؟سلمان نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔ وہ چیخا، تجھے واپس آنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ تجھے خبر بھی ہے کہ تیرے دھوکے نے میرا سب کچھ چھین لیا؟ساجد بولا، میں مانتا ہوں کہ میں نے غلطی کی۔ لالچ نے آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تھا۔ میں دولت کے پیچھے بھاگا اور دوستی، بھروسہ سب روند ڈالا۔ مگر آج لوٹا ہوں، یہ سب کچھ واپس کرنے کے لیے۔ یہ کہہ کر اس نے جیب سے ایک لفافہ نکالا۔ اس میں موٹی موٹی نوٹوں کی گڈیاں تھیں۔ وہ بولا، یہ لو، یہ وہی سرمایہ ہے جو میں لے گیا تھا۔ میں برسوں کمانے کے بعد لوٹا ہوں تاکہ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کر سکوں۔سلمان نے نفرت سے لفافہ زمین پر پھینک دیا۔ وہ بولا، یہ نوٹ کیا میرے ابو کو واپس لا سکتے ہیں؟ کیا یہ میرا اعتماد، میرا سکون واپس لا سکتے ہیں؟ساجد نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔ وہ بولا، نہیں، میں جانتا ہوں کہ کچھ بھی واپس نہیں لا سکتا۔ مگر کم از کم تمہیں یہ سکون تو مل سکتا ہے کہ میں نے اپنی غلطی مان لی۔تب ثریا آگے بڑھی اور نرمی سے بولی، سلمان، کبھی کبھی معاف کر دینے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔ تمہارے ابو تو جا چکے ہیں، مگر تم زندہ ہو۔ خود کو مزید کب تک سزا دیتے رہو گے؟سلمان خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک جنگ برپا تھی — ایک طرف برسوں کی نفرت اور دکھ، اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ ساجد اب بدل چکا ہے۔ساجد آہستگی سے بولا، اگر تم چاہو تو میں ہمیشہ کے لیے یہ گاؤں چھوڑ دوں گا، مگر مرنے سے پہلے اتنا ضرور چاہوں گا کہ تم مجھے معاف کر دو۔یہ جملہ سلمان کے دل کو چیر گیا۔ وہ لمحہ بھر خاموش رہا، پھر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور بولا، جاؤ، میں تمہیں معاف کرتا ہوں، مگر میں خود کو ابھی تک معاف نہیں کر سکا۔ساجد کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے سلمان کے قدموں کو چھونا چاہا، مگر سلمان نے اسے روک دیا۔ وہ بولا، جاؤ اور اپنی زندگی سیدھی راہوں پر گزارو۔ میں نے اجنبی راہیں چن لی ہیں، جن پر شاید واپسی ممکن نہیں۔ساجد نے ثریا کی طرف دیکھا، جیسے وہ سلمان کے لیے امید کی آخری کرن ہو۔ وہ بولا، اس کا خیال رکھنا، یہ بہت ٹوٹا ہوا ہے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہو گیا۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ بارش کی ہلکی بوندیں کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ تبھی ثریا سلمان کے قریب آئی اور بولی، تم نے ساجد کو معاف کر دیا، تو خود کو بھی معاف کر دو، سلمان۔سلمان بولا، میں اندر سے اب بھی خود کو مجرم سمجھتا ہوں۔ ابو کی آنکھوں کا وہ آخری تاثر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے خفا ہو کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہوں۔ثریا نے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ وہ بولی، سلمان، محبت کا سب سے پہلا اصول یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے زخم سہلائیں۔ اگر تم اپنے دل کو قید رکھو گے تو ہماری محبت بھی قید ہو جائے گی۔ مجھے تمہیں آزاد کرنا ہے۔سلمان نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان آنکھوں میں وہی روشنی تھی جو برسوں پہلے اسے جینے کا حوصلہ دیتی تھی۔ ایک پل کے لیے اسے لگا جیسے واقعی بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ لیکن اگلے ہی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔اس بار گاؤں کا ایک شخص اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔ وہ بولا، سلمان بیٹا، یہ خط شہر سے آیا ہے تمہارے لیے۔سلمان نے خط کھولا اور تحریر دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ثریا کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی۔ وہ بولی، کیا ہوا سلمان، کس کا خط ہے؟سلمان کی آواز لرز رہی تھی۔ وہ بولا، یہ… یہ میرے ابو کے پرانے دوست کا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ابو کی وفات سے پہلے وہ مجھے کچھ بتانا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایک امانت میرے لیے چھوڑی تھی، جو اب میرے حوالے کی جا رہی ہے۔ثریا چونک گئی۔ اس نے پوچھا، کیسی امانت؟سلمان کی آنکھوں میں حیرت اور خوف جھلکنے لگے۔ وہ بولا، شاید یہ وہ سچ ہے جو ابو میرے سامنے لانا چاہتے تھے… وہ سچ جو اب تک مجھ سے چھپا رہا ہے۔

☆☆☆

سلمان کے ہاتھ میں تھما ہوا خط اس کے لیے کسی طوفان سے کم نہ تھا۔ وہ بار بار اس کے الفاظ پڑھتا اور پھر اپنی آنکھیں بند کر لیتا، جیسے یقین نہ آ رہا ہو۔ ثریا اس کی کیفیت دیکھ کر گھبرا گئی۔کیا لکھا ہے خط میں؟ تم خاموش کیوں ہو؟سلمان نے بمشکل لب کھولے۔ابو نے مرتے وقت اپنے دوست کو ایک سچ بتایا تھا، اور وہ سچ یہ ہے کہ میں… میں ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔ثریا کے لبوں سے دبی چیخ نکل گئی۔کیا؟ یہ کیسی بات کر رہے ہو سلمان؟خط میں لکھا ہے کہ ابو نے مجھے یتیم خانے سے گود لیا تھا۔ انہوں نے اصل حقیقت مجھ سے ہمیشہ چھپائی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں وقت آنے پر جان سکوں، مگر وہ خود یہ بات نہ کہہ سکے۔ اس لیے اپنے دوست کے سپرد کر گئے، اور اب… اب یہ خط سب کچھ کھول رہا ہے۔کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ باہر آسمان پر بادل گرجنے لگے، جیسے فطرت بھی اس راز کے بوجھ کو سن کر لرز گئی ہو۔ثریا نے تھرتھراتے لہجے میں کہا:سلمان! خون کا رشتہ ہو یا نہ ہو، باپ وہی ہوتا ہے جو پالتا ہے، سنبھالتا ہے۔ تمہارے ابو نے تمہیں اپنا بیٹا سمجھا تھا، یہی اصل حقیقت ہے۔لیکن ثریا! اب میں سوچ رہا ہوں کہ کیا میری زندگی اجنبی راہوں کی ایک لمبی کہانی نہیں ہے؟ پہلے ساجد کا دھوکہ، پھر ابو کی موت، اور اب یہ راز… مجھے لگتا ہے کہ میرا وجود سوالوں میں گھرا ہوا ہے۔سلمان نے دکھ سے سر جھکا لیا۔ ثریا نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔وجود سوالوں سے نہیں، جوابوں سے بنتا ہے سلمان! اور میں تمہارے ہر سوال کا جواب ہوں۔ یہ محبت ہی ہے جو ان اجنبی راہوں کو پہچان بخشے گی۔سلمان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ وہ بولا:مگر ثریا! اگر یہ راز سب کو معلوم ہو گیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ کیا تم ان طعنوں کے ساتھ جی سکو گی؟محبت کسی طعنے کی محتاج نہیں ہوتی۔ لوگ تو کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہیں گے، مگر ہم اپنی سچائی کے ساتھ جئیں گے۔ثریا نے مضبوط لہجے میں کہا۔اسی لمحے سوہا آگئی۔ اس کی آنکھوں میں بھی حیرت اور خوف کی جھلک تھی۔بھائی! یہ سب کیا ہے؟ کیا واقعی ہم بہن بھائی نہیں ہیں؟سلمان کا دل مزید بوجھل ہو گیا۔ وہ اپنی بہن کو کیا جواب دیتا؟ مگر ثریا نے آگے بڑھ کر سوہا کو گلے سے لگایا اور بولی:رشتے خون سے نہیں، دل سے بنتے ہیں۔ تم اور سلمان ہمیشہ بہن بھائی رہو گے۔ یہ راز تمہارے پیار کو نہیں بدل سکتا۔سوہا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر ثریا کے الفاظ نے جیسے اس کے دل کو سہارا دے دیا۔رات بھر وہ تینوں خاموش بیٹھے رہے۔ ایک طرف ساجد کی واپسی کا زخم، دوسری طرف ابو کے راز کا طوفان… لیکن صبح کی روشنی کے ساتھ ایک نیا حوصلہ بھی جاگا۔سلمان نے آہستہ سے کہا:ثریا! شاید یہ سب امتحان تھے، مگر اب میں بھاگنا نہیں چاہتا۔ ان اجنبی راہوں پر تمہارے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔یہ سن کر ثریا کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں۔ یہی میں چاہتی تھی سلمان! ہم ایک ساتھ ان راہوں کو اپنی پہچان دیں گے۔اسی وقت گاؤں کے کچھ بزرگ سلمان کے گھر آپہنچے۔ ان کے ساتھ ساجد بھی تھا۔ سب کی نظریں سلمان پر تھیں۔ اس خط کے راز کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی تھی۔پھر ایک بزرگ نے سنجیدگی سے کہا:بیٹا سلمان! ہم جانتے ہیں کہ یہ راز تمہارے لیے کتنا بڑا صدمہ ہے، مگر یاد رکھو، رشتے خون سے نہیں بلکہ کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ تم اس گاؤں کے بیٹے ہو، اور یہ گاؤں ہی تمہارا خاندان ہے۔تبھی ساجد آگے بڑھا اور بولا:سلمان! میں نے تمہیں دھوکہ دیا تھا، مگر آج میں تمہیں دیکھ کر شرمندہ ہوں۔ تم سچے انسان ہو۔ مجھے معاف کر دو اور اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرو۔سلمان نے ایک گہری سانس لی اور بولا:شاید اب وقت آگیا ہے کہ میں خود کو بھی معاف کر دوںیہ سن کر ثریا نے خوشی سے آنکھیں بند کر لیں، اور اس کے دل سے دعا نکلی:اے خدا! ان اجنبی راہوں کو نئی منزل بخش دے۔

☆☆☆

گاؤں کی فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے بر درخت، بر دیوار اس راز کے بوجھ کو سن کر خاموش ہو گئی ہو، مگر سلمان کے دل میں ایک نیا عزم جاگ اٹھا تھا۔ رات کے اندھیرے میں وہ چھت پر بیٹھا آسمان پر جھلملاتے تاروں کو دیکھ رہا تھا، تبھی ثریا آہستگی سے اس کے پاس آئی۔تم سوئے نہیں ابھی تک؟سلمان نے مسکراتے ہوئے کہا:نیند کیسے آئے، ثریا؟ اجنبی راہوں کی منزل اب سامنے ہے۔پھر کیا سوچا ہے؟ ثریا نے سوالیہ نظر اس پر ڈالی۔سوچا ہے کہ اب میں اپنی پہچان دوسروں کے طعنوں یا رازوں پر نہیں چھوڑوں گا۔ میں اپنی پہچان خود بناؤں گا۔ گاؤں والوں نے میرا ساتھ دیا ہے، مگر مجھے اپنے باپ کے نام کو مزید روشن کرنا ہے۔سلمان نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔اور میں تمہارے ساتھ ہوں سلمان، ہر قدم پر اور ہر فیصلے میں۔ثریا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے جیسے اسے یقین دلایا۔اسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازے پر ساجد کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر پشیمانی کی لکیریں تھیں۔سلمان…! وہ آہستگی سے بولا۔میں جانتا ہوں کہ میرے کیے کا کوئی کفارہ نہیں، مگر ایک بات بتانے آیا ہوں۔سلمان کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔اب کیا بات ہے؟ساجد نے کانپتی آواز میں کہا:تم یتیم خانے سے گود ضرور لیا گیا تھا، مگر تمہارے والد اصل میں میرے باپ کے قریبی دوست تھے۔ وہ تمہاری ماں کی آخری خواہش پر تمہیں اپنے گھر لائے، تمہیں کبھی یتیم نہ محسوس ہونے دیا۔ یہ راز وہ تم سے چھپانا چاہتے تھے تاکہ تمہاری عزت اور وقار قائم رہے۔سلمان کے دل پر جیسے بوجھ ہلکا ہو گیا۔تو یہ سب… ابو نے محبت میں چھپایا تھا، شرمندگی میں نہیں؟ہاں سلمان، اور مجھے شرمندگی ہے کہ میں نے تمہیں بدنام کرنے کی کوشش کی۔ساجد نے سر جھکا لیا۔ سلمان نے گہری سانس لی اور آگے بڑھ کر ساجد کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:انسان کی اصل پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے پس منظر سے۔ میں تمہیں معاف کرتا ہوں، مگر یہ چاہتا ہوں کہ اب خاندانی پس منظر سے تم بھی اپنی زندگی کو بہتر بناؤ۔کاش یہ بات میں پہلے سمجھ لیتا…ساجد کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ پلٹ گیا، جیسے نئی زندگی کی تلاش میں نکل رہا ہو۔

☆☆☆

چند دنوں بعد گاؤں کے چوک میں ایک بڑا اجتماع ہوا، جس میں گاؤں کے سب لوگ جمع تھے۔ بزرگوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے سلمان کو اس کی ایمانداری، ہمت اور کردار کی وجہ سے گاؤں کی کمیٹی کا سربراہ چن لیا ہے۔ یہ سن کر وہ حیران رہ گیا۔میں اس لائق نہیں ہوں… وہ گھبرا کر بولا۔ایک بزرگ مسکرائے اور بولے:لائق بننے کے لیے خون کا نہیں، کردار کا وزن چاہیے۔ اور تم نے یہ وزن ثابت کیا ہے۔ثریا فخر سے آنسو چھپاتی رہی۔ اس لمحے اسے لگا، جیسے اس کی ساری قربانیاں رنگ لے آئی ہوں۔شام کو جب سب لوگ رخصت ہوئے تو اس نے سلمان کا ہاتھ تھاما اور بولی: دیکھا سلمان، اجنبی راہیں بھی منزل دکھا دیتی ہیں، اگر حوصلہ ہو تو…سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا اور یوں بولا، جیسے اپنے والد کی روح سے مخاطب ہو:ابو! آپ کا بیٹا اپنی پہچان پا گیا ہے…ہوا میں خنکی گھل گئی تھی، جیسے کائنات نے بھی اس کی قبولیت پر مہر ثبت کر دی ہو۔

☆☆☆

رات کے آخری پہر، جب کمرے کی خاموشی میں صرف گھڑیال کی ٹک ٹک باقی رہ گئی تھی، سلمان بستر پر بیٹھا کھڑکی کے باہر جھانک رہا تھا۔ گاؤں کے اندھیروں کے درمیان گہری خاموشیوں کے دریا بہتے محسوس ہوتے تھے۔وہ سوچ رہا تھا کہ انسان کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک منزل پر پہنچنے کے بعد دوسری منزل اس کے انتظار میں کھڑی ملتی ہے۔سوئے نہیں ابھی تک…؟ ثریا نے آہستہ سے پوچھا۔سلمان مسکرا دیا۔ نیند تو آ رہی ہے، مگر دل نہیں چاہ رہا۔ لگتا ہے میں یہ لمحے ضائع نہ کر دوں، یہ خاموشی… یہ سکون… یہ احساس کہ میں نے خود کو پا لیا ہے۔یہی لمحے اصل خزانہ ہیں، سلمان! جو شخص انہیں سنبھال لے، وہ کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا، ثریا نے قریب آ کر کہا۔ان دونوں کے درمیان ایک طویل خاموشی رہی، مگر یہ خاموشی بوجھ نہیں تھی۔ یہ وہ سکوت تھا، جس میں روحیں ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتی ہیں۔اگلی صبح، سورج کی پہلی کرن نے جب گاؤں کو سنہری رنگ میں ڈبو دیا تو سلمان نے صحن میں کھڑے ہو کر گہری سانس لی۔ تازہ ہوا کے جھونکوں نے اس کے وجود کو جیسے تازہ کر دیا۔ باہر گلیوں میں زندگی اپنی ڈگر پر رواں دواں ہو چکی تھی۔ کچھ چہروں پر تھکن تھی تو کچھ پر امید… سلمان کو یوں لگا، جیسے ہر کوئی اپنی اجنبی راہوں پر گامزن ہے۔تبھی ثریا بھی ساتھ آ کھڑی ہوئی اور مسکراتے ہوئے بولی: یہ لمحے کتنے مضبوط لگتے ہیں ناں…! کاش انسان بھی اتنا مضبوط ہو سکے۔انسان مضبوطی میں پہاڑ سے بڑھ سکتا ہے اگر وہ اپنے اندر کے خوف کو شکست دے دے، سلمان نے جواب دیا۔ اس کے الفاظ میں وہ یقین تھا، جو رات بھر جاگنے کے بعد جنم لیتا ہے۔دن گزرتے رہے۔ بستی کے لوگ اب سلمان کو صرف ایک مسافر نہیں سمجھتے تھے، وہ ان کے محلے میں رچ بس گیا تھا۔ایک دن ایک بزرگ نے اس سے کہا: بیٹا! راہیں اجنبی ہوں یا اپنائی ہوئی… اصل مسافر وہی ہے، جو دل سے چلتا ہے۔ باقی سب تو بھٹک جاتے ہیں۔یہ بات سلمان کے دل میں اتر گئی۔ وہ جان گیا تھا کہ یہاں کا ہر شخص اپنی زبان میں اسی فلسفے کو دوہرا رہا ہے، جسے اس کے والد نے خط میں لکھا تھا۔رات کو جب وہ دونوں چاندنی میں بیٹھے تو ثریا نے ہولے سے کہا: کیا کبھی سوچا تھا کہ یہ سفر ہمیں کہاں لا کھڑا کرے گا…؟نہیں… لیکن یقین ہے کہ یہیں سے اصل سفر شروع ہوتا ہے کیونکہ تم میرے ساتھ ہو۔ تم نے مجھے مایوسی کے اندھیروں سے نکالا اور روشنی کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔ تم ایسی روشنی ہو، جو انسان کو اپنے آپ سے ملوا دیتی ہے، اسے اس کی پہچان کرا دیتی ہے، سلمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔پھر اس نے اپنی ڈائری کھولی، جو آج ہی ثریا اس کے لیے خرید کر لائی تھی۔ یہ اس کی محبت کا پہلا تحفہ تھا۔ اس نے قلم اٹھایا اور پہلی بار کھلے دل سے لکھنا شروع کیا:میں نے جانا کہ اجنبی راہیں اندھیرا نہیں ہوتیں۔ یہ وہ چراغ ہیں، جو ہمیں اپنی حقیقت تک لے جاتے ہیں۔ جو حوصلہ کرے، وہی منزل تک پہنچتا ہے۔ثریا نے وہ لفظ پڑھے اور مسکرا دی: یہ صرف تمہاری کہانی نہیں، سلمان! یہ ہر اس انسان کی کہانی ہے جو اجنبی راہوں پر چلنے سے ڈرتا ہے۔ پھر ہم یہ کہانی دوسروں تک ضرور پہنچائیں گے، تاکہ وہ جان سکیں کہ اجنبی راستے بھی منزل دکھا سکتے ہیں، سلمان نے قلم رکھتے ہوئے کہا۔ان کے کچے گھر کے اوپر آسمان صاف تھا، ستارے جھلملا رہے تھے اور ہوا میں ایک عجیب طرح کا یقین گھل چکا تھا، جیسے کائنات ایک بار پھر سلمان اور ثریا کے عزم پر مہر لگا رہی ہو۔

☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top