- Banned
- #1
Cute
Well-known member
سب سے پہلے میں اپنا تعارف کرادوں، میرا نام شاہ ہے اور میں شادی شدہ اور ایک بیٹے کا باپ ہوں، کاروباری ہوں اس لئے اکثر کاروبار کے سلسلہ میں شہر یا ملک سے باہر رہتا ہوں۔ گھر میں ایک اچھی اور خوبصورت بیوی اور بیٹے سے نوازا ساتھ ہی گھر میں زندگی کی تمام ضروری آسائشیں بھی مہیا کیں۔ میری عمر اس وقت 33 سال ہے جبکہ میری بیوی مجھ سے پانچ سال چھوٹی ہے یعنی 28سال کی ہے۔
یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور گزشتہ سال 2024کے دسمبرکا ہے۔ جیسا کہ کراچی میں رہنے والے جانتے ہیں کہ دسمبر کے مہینے میں رات کو کراچی جیسا پر رونق شہر بھی سنسان جیسا ہوجاتا ہے، رات کا ایک بج رہا تھا جب میں پندرہ دن بعد اپنے کاروباری کام کو ختم کرکے گجرانوالہ سے کراچی پہنچا۔ گھر میں نے اطلاع نہیں دی کی کہ اچانک پہنچ کر حیران کردوں گا سہراب گوٹھ بس اڈے پر اترا، موسم میں خنکی برقرار تھی قریب کھڑے ایک رکشہ سے کرایہ طے کیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
کچھ دور میں نے رکشہ رکوایا اور کرایہ ادا کرکے پیدل گھر کی طرف چلا، عام طور پر میرے پاس گھر میں داخلے کی چابی ہوتی ہے تو میں نے بغیر آواز کئے مرکزی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔سب سے پہلے میں اپنے گھر کا بتادوں کہ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی چھوٹا سے صحن ہے جس کے بعد گھر میں داخل ہونے کا دروازہ ہے جو ایک راہداری سے ہوتا ہوا لاونج تک جاتا ہے جس کے ایک طرف ڈرائنگ روم جبکہ دوسری طرف کچن ہے اور سامنے ماسٹر بیڈ روم ہے۔ ڈرائینگ روم کے ساتھ ہی سیڑھیاں ہیں جو بالائی منزل تک جاتی ہیں۔بالائی منزل پر ایک لاونج اور سامنے دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میرا اور سونیا کا ہے اور دوسرا ہمارے بیٹے کا ہے۔گھر میں مکمل خاموشی تھی میں دالان سے گزر کر راہداری سے ہوتا ہوا اندر لاونج میں پہنچا، کچن، ڈرائینگ اور نیچے ایک بیڈ روم تھا جس میں کوئی موجود نہ تھا، میں نے سوچا میری بیوی اوپر بیٹے کے کمرے میں سورہی ہوگی، میں بغیر آواز پیدا کئے سیڑھیاں چڑھتا ہوا پہلی منزل پر پہنچا سامنے دو بیڈروم بنے ہوئے ہیں ایک ہمارا اور ایک ہمارے بیٹے کا، میں نے پہلے اپنے بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھولااندھیرا تھا اس لئے کچھ دیر لگی آنکھوں کو ماحول میں عادی ہونے میں، سامنے بیڈ پر میرا بیٹا اکیلا لیٹا سورہا تھا ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سونیا ہمارے بیڈ روم میں ہوگی کہ اس خاموشی میں مجھے ایک دبی دبی سسکی کی آواز آئی، ظاہر ہے یہ آواز میرے لئے مانوس تھی میں ان آوازوں سے گزشتہ چار سال سے عادی تھا۔
پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں پندرہ دن سے گھر نہیں ہوں تو ظاہر ہے وہ بھی انسان ہے اس کی بھی ضرورتیں ہیں ہوسکتا ہے وہ خود لذتی کررہی ہو، یہ سوچ کر میں نے دبے پاوں اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف قدم بڑھا دیئے، میری خوش قسمتی کہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی مگر اس پر پردہ لگا ہوا تھا۔ پورے گھر میں ایک سکوت طاری تھا اسی دوران ابھی میں کھڑکی کے قریب پہنچا ہی تھا کہ پھر سونیا کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی آرام سے ۔۔۔۔ افففف ۔۔۔۔
میرے دماغ کی گھنٹی بج گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، میں نے انتہائی آہستگی سے کمرے کا پردہ ایک کونے سے ہٹایا کہ اندر کے حالات معلوم ہوں کہ یہ کیا چل رہا ہےاندر مکمل اندھیرا تھا مگر واش روم کی لائیٹ جل رہی تھی اور واش روم کا دروازہ بند تھا جس سے کمرے میں اتنی روشنی تھی کہ اندر دیکھا جاسکتا تھا، میری پہلی نظر سامنے اپنے بیڈ پر گئی تو دیکھا میری بیوی سونیا مکمل ننگی بیڈ پر لیٹی تھی مگر ۔۔۔۔۔۔ وہ تنہا نہیں تھی ایک اور بھی ننگا وجود اس کی ٹانگوں کے درمیان نظر آیا جس کی پیٹھ میری جانب تھی مگر یہ ہے کون؟ مزید غور کیا تو وہ کوئی مرد تھا جو میری بیوی کی ٹانگوں کے درمیان اس کی چوت کو چاٹ رہا تھا جس کی وجہ سے سونیا مدہوشی کے عالم میں سر کو دائیں بائیں کررہی تھی، میرے اندر یہ نظر دیکھنے کے بعد ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہونے لگی، تجسس بڑھنے لگا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے دیکھنا چاہئے کہ وہ دوسرا وجود کون ہے؟ تقریبا دس منٹ اس نے سونیا کی چوت کو چاٹا اور اتنا چاٹا کہ سونیا اف اف کرتی فارغ ہوگئی۔ اس کے بعد وہ وجود جب سونیا کے برابر میں جاکر لیٹا تو اس کی شکل دیکھ کر میں دنگ رہ گیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ سونیا کی خالہ کا بڑا بیٹا مزمل تھا جو اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس کی ومر اس وقت اٹھارہ سال جبکہ قد پانچ فٹ نو انچ تھا۔ جسمانی ساخت اس کی اچھی تھی اور لگتا تھا وہ جم مستقل جاتا ہوگا۔ بظاہر وہ خاندان کا ایک شریف لڑکا تھا مگر یہ سب دیکھ کر اس کی شرافت پر سوالیہ نشان لگ چکا تھا کم سے کم میری نظر میں تو وہ اب شریف نہیں رہا تھا۔ اس کا کحڑا لنڈ ساٹے سات انچ کا تھا جس کی موٹائی تین انچ کے آس پاس تھی۔ اتنے میں سونیا اٹھی اور اس کے لنڈ کو اپنے گورے ہاتھوں میں لیکر اوپر نیچے ہاتھ پھیرنے لگی اور پھر مزمل کا لنڈ اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔ میں نے فورا اپنا موبائل نکال کر سائلنٹ کیا اور مووی بنانے لگا تاکہ ثبوت کے طور پر میرے پاس مھفوظ رہے۔ مجھے یہ جستجو ہونے لگی کہ آخر یہ کب سے چل رہا ہے؟
کیونکہ میرے آنے کا سونیا کو پتہ نہیں تھا اس لئے اسکے چہرے کا انتہائی اطمینان نظر آرہا تھا اور اس وقت وہ مزمل کا لنڈ پوری جوش سے اپنے منہ میں حلق تک اندر باہر کررہی تھی جس کی وجہ سے مزمل کا لنڈ اس اندھیرے میں بھی چمک رہا تھا اور سونیا کے منہ سے رال بہہ کر مزمل کے لنڈ کو مزید گیلا کررہی تھی۔ مزمل کی آنکھیں بند تھیں اور وہ مزے کی کئی منازل طے کررہا تھا کہ اتنے میں سونیا بیڈ پر کھڑی ہوگئی اور مزل کا لنڈ ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنی چوت پر سیٹ کرکے اس پر بیٹھتی چلی گئی۔اور انتہائی سست رفتار سے مزمل کے لنڈ کو اپنی چوت میں لینا شروع کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اپنے رفتار بڑھا دی اور اس وقت کمرے میں صرف مخصوص حالات کی سسکیوں اور دھپ دھپ کی آوازیں ہی آرہی تھیں۔میرا تجسس بڑھتا جارہا تھا کہ یہ دونوں آپس میں کوئی بھی بات نہیں کررہے تھے اور چونکہ اس کو میں سائیڈ سے دیکھ رہا تھا اس لئے میں ان کے چہروں کے تاثرات کا بغور جائزہ بھی لیتا جارہا تھا کہ دونوں آنکھیں بند کئے اپنے چہروں کا اطمینان سجائے اپنے کام میں مکمل مگن تھے۔یہ چدائی تقریباً پندرہ منٹ چلی اور مزمل اف اف کرتا سونیا کی چوت میں ہی فارغ ہوگیا اور ساتھ ہی سونیا نے بھی اپنے منزل پالی۔ اور مزل کے برابر میں ہی بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کو اتنی بھی فکر نہیں تھی کہ بیٹا دوسرے کمرے میں سورہا ہے اگراٹھ گیا تو روئے گا وہ بس اپنے جنسی تسکین حاصل کرنے میں مگن تھی، مگر میرا تجسس اب تک برقرار تھا۔ اتنے میں سونیا کی آواز آئی اور وہ مزمل سے پوچھ رہی تھی "مزمل مزہ آیا؟" مزمل نے اپنے آنکھیں کھول کر منہ سونیا کی طرف کیا اور بولا "بہت مزہ آیا باجی، اور آپ کے ساتھ تو یہ مزہ ختم ہی ہیں ہوتا" اس پر سونیا مسکرائی اور بولی "کیوں کسی اور سے بھی مزہ لیتے ہو کیا؟" مزمل بولا "باجی سچ بتاوں آپ اور علشباء ہی ہیں جن سے مزے لیتا ہوں" میں ایک دم چونگ گیا علشباء کا نام سن کر، علشبا میری بڑی سالی کا نام ہے جو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہے۔علشباء سونیا سے تین سال بڑی ہے یعنی مجھ سے دو سال چھوٹی ہےاور اس کا خاوند ساوتھ افریقہ میں بزنس کرتا ہے۔ یہ سب باتیں وڈیو کی صورت میں میرےموبائل میں مھفوظ ہورہی تھیں جو آگے چل کر میرے لئے مفید بن سکتی تھیں۔"سونیا نے مزمل سے اگلا سوال کیا کہ میں زیادہ گرم ہوں یا علشباء باجی؟" تو مزمل نے کہا "آپ دونوں ہی بہت گرم ہیں۔ میں نے علشباء باجی کو اس وقت چودا جب میں پندرہ سال کا تھا یعنی آج سے پانچ سال پہلے اور اب تک ان کی پیاس بجھارہا ہوں"سونیا نے کہا "ہاں مجھے معلوم ہے جب میں باجی کےگھر رہنے گئی تھی اور رات کو پیاس کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی تھی تو میں نے تم دووں کو ڈرائنگ روم میں سب کرتے ہوئے دیکھا تھا اسی لئے میں نے تم سے رابطہ کیا اور آہستہ آہستہ تم کو راضی کیا، تم کو پتہ ہے شایان ہمارا بیٹا ہے شاہ کا نہیں"یہ سنتے ہی میں حیرانی کے سمندر میں غوطے کحانے لگا کہ کیا واقعی شایان مزمل کی نشانی ہے؟مزمل کی کمرے سے پھر آواز گونجی "مجھے معلوم ہے سونیا باجی اسی لئے تو میں اس کے لئے کھلونے ساتھ لاتا ہوں۔یہ ہمارے پیار کی نشنی ہے" اب مجھے معلوم ہوا کہ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ چار سال پرانا معاشقہ ہے۔میں نے دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس وقت رات کے چار بج رہے تھے۔مزمل نے پوچھا"سونیا باجی ایک بات بتائیں" سونیا نے کہا"پوچھو" مزمل نے کہا "سونیا باجی میرے علاوہ کبحی سیکس انجوائے کیا کسی اور سے؟" سونیا مسکرائی اور کہا "تم کو کیا لگتا ہے کہ میں نے کسی اور سے کیا ہے یا نہیں" مزمل نے کہا "مجھے لگتاہے آپ نے کسی اور سے بھی سیکس کیا ہے" سونیا پھر مسکرائی اور کہا"ہاں کیا ہے بلکہ جب موقع ملتا ہے تو اب بھی کرتی ہوں جب شاہ کہیں گئے ہوتے ہیں" مزمل نے حیرانی کے علم میں کہا"کس سے، کون ہے وہ خوش نصیب جو آپ کے نشیب و فراز سے واقف ہے؟"سونیا نے قہقہ لگایا اور پوچھا کہ"کیا کرو گے جان کر اس کا نام" مزمل نے کہا" میں تو سوچتا تھا کہ میں ہی شاہ کے بعد وہ خوش نصیب ہوں جسے موقع ملا مگر مجھے آپ سے سننا ہے کہ وہ کون ہے" سونیا نے کہا "میری جان ایک تم ہو ایک شاہ جو میرا مجازی خدا ہے اور ایک میرے کرائےدار کا بیٹا ہے یاور" مزمل نے حیرانی سے پوچھا "یاور، وہ تو میرا کلاس فیلو ہے" سونیا نے کہا "ہاں مجھے معلوم ہے وہ تمہارا کلاس فیلو ہے" مزمل نے کہا "یہ بتائیں یاور سے کب سے سیکس کررہے ہیں اور وہ سیکس میں کیسا ہے؟" سونیا نے ایک لمبی سانس لی اور کہا "یاور سر چھ ماہ سے سیکس کررہ ہوں اور سیکس میں وہ تم سے تو کم وقت لیتا ہے بس گزار ا ہوجاتا ہے، اگر کبھی میں فارغ نہ ہوں تو وہ مجھے زبان سے فارغ کردیتا ہے۔ پہلے وہ بہانے بہانے سے اس وقت گھر آتا جب شاہ گھر نہ ہونے اور مجھے اس کی نظروں سے پتہ چل جاتا کہ وہ میری جسم کا ایکسرے کررہا ہوتا ہے۔ پھر اس سے وٹس ایپ پر بات ہونے لگی اور آہستہ آہستہ ہماری گفتگو سیکس تک آگئی جیسے تم سے شروع ہوا تھا۔ پھر اس نے مجھے ننگی مووی کلپ بھیجنے شروع کئے جسے دیکھ کر میں گرم ہوجاتی تھی، ایک دن میں نے اس سے فرمائش کی کہ مجھے اپنا لنڈ دیکھاو، اس نے تین چار تصویریں لیں اور مجھے سینڈ کردیں جسے دیکھ کر میں انتہائی گرم ہوگئی اور اس سے کہا اس وقت آسکتے ہو؟ اس نے کہا ابھی رات کے ایک بجے میں نے کہا ہاں تو اس نے کہا دروازہ کحولیں میں چپکے سے آتا ہوں بس اس رات ہم نے تین بار سیکس کیا جو اب تک ہوتا رہتا ہے"
یہ سن کر میرے تو جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی کہ میری بیوی سونیا جس کو میں اتنا شریف اور پارسا سمجھتا تھا وہ کس قدر شہوت سےبھری ہوئی ہے۔ہاں ایک چیز جو میرے لئے فائدہ مند تھی وہ یہ کہ میں اب اپنی بڑی سالی علشباء سے راہ و رسم مزید بڑھا کر سیکس کرسکتا ہوں اگر اس نے انکار کیا تو ثبوت کے طور پر یہ گفتگو میرے پاس ریکارڈ میں موجود ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ابھی میں ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اندر ایک اور ٹرپ کی تیاری شروع ہوگی یعنی سونیا نے مزمل کا لنڈ پکڑ کر ایک مرتبہ پھر مٹھ مارنے والے انداز سے ہلانا شروع کردیا تھا اور مزمل کے منہ سے تسکین اور جذبانی سسکیوں کی آوازیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔
جاری ہے
یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور گزشتہ سال 2024کے دسمبرکا ہے۔ جیسا کہ کراچی میں رہنے والے جانتے ہیں کہ دسمبر کے مہینے میں رات کو کراچی جیسا پر رونق شہر بھی سنسان جیسا ہوجاتا ہے، رات کا ایک بج رہا تھا جب میں پندرہ دن بعد اپنے کاروباری کام کو ختم کرکے گجرانوالہ سے کراچی پہنچا۔ گھر میں نے اطلاع نہیں دی کی کہ اچانک پہنچ کر حیران کردوں گا سہراب گوٹھ بس اڈے پر اترا، موسم میں خنکی برقرار تھی قریب کھڑے ایک رکشہ سے کرایہ طے کیا اور اپنے گھر کی طرف چل دیا۔
کچھ دور میں نے رکشہ رکوایا اور کرایہ ادا کرکے پیدل گھر کی طرف چلا، عام طور پر میرے پاس گھر میں داخلے کی چابی ہوتی ہے تو میں نے بغیر آواز کئے مرکزی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔سب سے پہلے میں اپنے گھر کا بتادوں کہ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی چھوٹا سے صحن ہے جس کے بعد گھر میں داخل ہونے کا دروازہ ہے جو ایک راہداری سے ہوتا ہوا لاونج تک جاتا ہے جس کے ایک طرف ڈرائنگ روم جبکہ دوسری طرف کچن ہے اور سامنے ماسٹر بیڈ روم ہے۔ ڈرائینگ روم کے ساتھ ہی سیڑھیاں ہیں جو بالائی منزل تک جاتی ہیں۔بالائی منزل پر ایک لاونج اور سامنے دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میرا اور سونیا کا ہے اور دوسرا ہمارے بیٹے کا ہے۔گھر میں مکمل خاموشی تھی میں دالان سے گزر کر راہداری سے ہوتا ہوا اندر لاونج میں پہنچا، کچن، ڈرائینگ اور نیچے ایک بیڈ روم تھا جس میں کوئی موجود نہ تھا، میں نے سوچا میری بیوی اوپر بیٹے کے کمرے میں سورہی ہوگی، میں بغیر آواز پیدا کئے سیڑھیاں چڑھتا ہوا پہلی منزل پر پہنچا سامنے دو بیڈروم بنے ہوئے ہیں ایک ہمارا اور ایک ہمارے بیٹے کا، میں نے پہلے اپنے بیٹے کے کمرے کا دروازہ کھولااندھیرا تھا اس لئے کچھ دیر لگی آنکھوں کو ماحول میں عادی ہونے میں، سامنے بیڈ پر میرا بیٹا اکیلا لیٹا سورہا تھا ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سونیا ہمارے بیڈ روم میں ہوگی کہ اس خاموشی میں مجھے ایک دبی دبی سسکی کی آواز آئی، ظاہر ہے یہ آواز میرے لئے مانوس تھی میں ان آوازوں سے گزشتہ چار سال سے عادی تھا۔
پھر میرے ذہن میں خیال آیا کہ میں پندرہ دن سے گھر نہیں ہوں تو ظاہر ہے وہ بھی انسان ہے اس کی بھی ضرورتیں ہیں ہوسکتا ہے وہ خود لذتی کررہی ہو، یہ سوچ کر میں نے دبے پاوں اپنے کمرے کی کھڑکی کی طرف قدم بڑھا دیئے، میری خوش قسمتی کہ کھڑکی کھلی ہوئی تھی مگر اس پر پردہ لگا ہوا تھا۔ پورے گھر میں ایک سکوت طاری تھا اسی دوران ابھی میں کھڑکی کے قریب پہنچا ہی تھا کہ پھر سونیا کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی آرام سے ۔۔۔۔ افففف ۔۔۔۔
میرے دماغ کی گھنٹی بج گئی کہ یہ کیا معاملہ ہے، میں نے انتہائی آہستگی سے کمرے کا پردہ ایک کونے سے ہٹایا کہ اندر کے حالات معلوم ہوں کہ یہ کیا چل رہا ہےاندر مکمل اندھیرا تھا مگر واش روم کی لائیٹ جل رہی تھی اور واش روم کا دروازہ بند تھا جس سے کمرے میں اتنی روشنی تھی کہ اندر دیکھا جاسکتا تھا، میری پہلی نظر سامنے اپنے بیڈ پر گئی تو دیکھا میری بیوی سونیا مکمل ننگی بیڈ پر لیٹی تھی مگر ۔۔۔۔۔۔ وہ تنہا نہیں تھی ایک اور بھی ننگا وجود اس کی ٹانگوں کے درمیان نظر آیا جس کی پیٹھ میری جانب تھی مگر یہ ہے کون؟ مزید غور کیا تو وہ کوئی مرد تھا جو میری بیوی کی ٹانگوں کے درمیان اس کی چوت کو چاٹ رہا تھا جس کی وجہ سے سونیا مدہوشی کے عالم میں سر کو دائیں بائیں کررہی تھی، میرے اندر یہ نظر دیکھنے کے بعد ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہونے لگی، تجسس بڑھنے لگا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے دیکھنا چاہئے کہ وہ دوسرا وجود کون ہے؟ تقریبا دس منٹ اس نے سونیا کی چوت کو چاٹا اور اتنا چاٹا کہ سونیا اف اف کرتی فارغ ہوگئی۔ اس کے بعد وہ وجود جب سونیا کے برابر میں جاکر لیٹا تو اس کی شکل دیکھ کر میں دنگ رہ گیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ سونیا کی خالہ کا بڑا بیٹا مزمل تھا جو اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس کی ومر اس وقت اٹھارہ سال جبکہ قد پانچ فٹ نو انچ تھا۔ جسمانی ساخت اس کی اچھی تھی اور لگتا تھا وہ جم مستقل جاتا ہوگا۔ بظاہر وہ خاندان کا ایک شریف لڑکا تھا مگر یہ سب دیکھ کر اس کی شرافت پر سوالیہ نشان لگ چکا تھا کم سے کم میری نظر میں تو وہ اب شریف نہیں رہا تھا۔ اس کا کحڑا لنڈ ساٹے سات انچ کا تھا جس کی موٹائی تین انچ کے آس پاس تھی۔ اتنے میں سونیا اٹھی اور اس کے لنڈ کو اپنے گورے ہاتھوں میں لیکر اوپر نیچے ہاتھ پھیرنے لگی اور پھر مزمل کا لنڈ اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔ میں نے فورا اپنا موبائل نکال کر سائلنٹ کیا اور مووی بنانے لگا تاکہ ثبوت کے طور پر میرے پاس مھفوظ رہے۔ مجھے یہ جستجو ہونے لگی کہ آخر یہ کب سے چل رہا ہے؟
کیونکہ میرے آنے کا سونیا کو پتہ نہیں تھا اس لئے اسکے چہرے کا انتہائی اطمینان نظر آرہا تھا اور اس وقت وہ مزمل کا لنڈ پوری جوش سے اپنے منہ میں حلق تک اندر باہر کررہی تھی جس کی وجہ سے مزمل کا لنڈ اس اندھیرے میں بھی چمک رہا تھا اور سونیا کے منہ سے رال بہہ کر مزمل کے لنڈ کو مزید گیلا کررہی تھی۔ مزمل کی آنکھیں بند تھیں اور وہ مزے کی کئی منازل طے کررہا تھا کہ اتنے میں سونیا بیڈ پر کھڑی ہوگئی اور مزل کا لنڈ ایک ہاتھ سے پکڑ کر اپنی چوت پر سیٹ کرکے اس پر بیٹھتی چلی گئی۔اور انتہائی سست رفتار سے مزمل کے لنڈ کو اپنی چوت میں لینا شروع کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اپنے رفتار بڑھا دی اور اس وقت کمرے میں صرف مخصوص حالات کی سسکیوں اور دھپ دھپ کی آوازیں ہی آرہی تھیں۔میرا تجسس بڑھتا جارہا تھا کہ یہ دونوں آپس میں کوئی بھی بات نہیں کررہے تھے اور چونکہ اس کو میں سائیڈ سے دیکھ رہا تھا اس لئے میں ان کے چہروں کے تاثرات کا بغور جائزہ بھی لیتا جارہا تھا کہ دونوں آنکھیں بند کئے اپنے چہروں کا اطمینان سجائے اپنے کام میں مکمل مگن تھے۔یہ چدائی تقریباً پندرہ منٹ چلی اور مزمل اف اف کرتا سونیا کی چوت میں ہی فارغ ہوگیا اور ساتھ ہی سونیا نے بھی اپنے منزل پالی۔ اور مزل کے برابر میں ہی بیڈ پر لیٹ گئی۔ اس کو اتنی بھی فکر نہیں تھی کہ بیٹا دوسرے کمرے میں سورہا ہے اگراٹھ گیا تو روئے گا وہ بس اپنے جنسی تسکین حاصل کرنے میں مگن تھی، مگر میرا تجسس اب تک برقرار تھا۔ اتنے میں سونیا کی آواز آئی اور وہ مزمل سے پوچھ رہی تھی "مزمل مزہ آیا؟" مزمل نے اپنے آنکھیں کھول کر منہ سونیا کی طرف کیا اور بولا "بہت مزہ آیا باجی، اور آپ کے ساتھ تو یہ مزہ ختم ہی ہیں ہوتا" اس پر سونیا مسکرائی اور بولی "کیوں کسی اور سے بھی مزہ لیتے ہو کیا؟" مزمل بولا "باجی سچ بتاوں آپ اور علشباء ہی ہیں جن سے مزے لیتا ہوں" میں ایک دم چونگ گیا علشباء کا نام سن کر، علشبا میری بڑی سالی کا نام ہے جو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں ہے۔علشباء سونیا سے تین سال بڑی ہے یعنی مجھ سے دو سال چھوٹی ہےاور اس کا خاوند ساوتھ افریقہ میں بزنس کرتا ہے۔ یہ سب باتیں وڈیو کی صورت میں میرےموبائل میں مھفوظ ہورہی تھیں جو آگے چل کر میرے لئے مفید بن سکتی تھیں۔"سونیا نے مزمل سے اگلا سوال کیا کہ میں زیادہ گرم ہوں یا علشباء باجی؟" تو مزمل نے کہا "آپ دونوں ہی بہت گرم ہیں۔ میں نے علشباء باجی کو اس وقت چودا جب میں پندرہ سال کا تھا یعنی آج سے پانچ سال پہلے اور اب تک ان کی پیاس بجھارہا ہوں"سونیا نے کہا "ہاں مجھے معلوم ہے جب میں باجی کےگھر رہنے گئی تھی اور رات کو پیاس کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی تھی تو میں نے تم دووں کو ڈرائنگ روم میں سب کرتے ہوئے دیکھا تھا اسی لئے میں نے تم سے رابطہ کیا اور آہستہ آہستہ تم کو راضی کیا، تم کو پتہ ہے شایان ہمارا بیٹا ہے شاہ کا نہیں"یہ سنتے ہی میں حیرانی کے سمندر میں غوطے کحانے لگا کہ کیا واقعی شایان مزمل کی نشانی ہے؟مزمل کی کمرے سے پھر آواز گونجی "مجھے معلوم ہے سونیا باجی اسی لئے تو میں اس کے لئے کھلونے ساتھ لاتا ہوں۔یہ ہمارے پیار کی نشنی ہے" اب مجھے معلوم ہوا کہ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ چار سال پرانا معاشقہ ہے۔میں نے دیوار پر لگی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس وقت رات کے چار بج رہے تھے۔مزمل نے پوچھا"سونیا باجی ایک بات بتائیں" سونیا نے کہا"پوچھو" مزمل نے کہا "سونیا باجی میرے علاوہ کبحی سیکس انجوائے کیا کسی اور سے؟" سونیا مسکرائی اور کہا "تم کو کیا لگتا ہے کہ میں نے کسی اور سے کیا ہے یا نہیں" مزمل نے کہا "مجھے لگتاہے آپ نے کسی اور سے بھی سیکس کیا ہے" سونیا پھر مسکرائی اور کہا"ہاں کیا ہے بلکہ جب موقع ملتا ہے تو اب بھی کرتی ہوں جب شاہ کہیں گئے ہوتے ہیں" مزمل نے حیرانی کے علم میں کہا"کس سے، کون ہے وہ خوش نصیب جو آپ کے نشیب و فراز سے واقف ہے؟"سونیا نے قہقہ لگایا اور پوچھا کہ"کیا کرو گے جان کر اس کا نام" مزمل نے کہا" میں تو سوچتا تھا کہ میں ہی شاہ کے بعد وہ خوش نصیب ہوں جسے موقع ملا مگر مجھے آپ سے سننا ہے کہ وہ کون ہے" سونیا نے کہا "میری جان ایک تم ہو ایک شاہ جو میرا مجازی خدا ہے اور ایک میرے کرائےدار کا بیٹا ہے یاور" مزمل نے حیرانی سے پوچھا "یاور، وہ تو میرا کلاس فیلو ہے" سونیا نے کہا "ہاں مجھے معلوم ہے وہ تمہارا کلاس فیلو ہے" مزمل نے کہا "یہ بتائیں یاور سے کب سے سیکس کررہے ہیں اور وہ سیکس میں کیسا ہے؟" سونیا نے ایک لمبی سانس لی اور کہا "یاور سر چھ ماہ سے سیکس کررہ ہوں اور سیکس میں وہ تم سے تو کم وقت لیتا ہے بس گزار ا ہوجاتا ہے، اگر کبھی میں فارغ نہ ہوں تو وہ مجھے زبان سے فارغ کردیتا ہے۔ پہلے وہ بہانے بہانے سے اس وقت گھر آتا جب شاہ گھر نہ ہونے اور مجھے اس کی نظروں سے پتہ چل جاتا کہ وہ میری جسم کا ایکسرے کررہا ہوتا ہے۔ پھر اس سے وٹس ایپ پر بات ہونے لگی اور آہستہ آہستہ ہماری گفتگو سیکس تک آگئی جیسے تم سے شروع ہوا تھا۔ پھر اس نے مجھے ننگی مووی کلپ بھیجنے شروع کئے جسے دیکھ کر میں گرم ہوجاتی تھی، ایک دن میں نے اس سے فرمائش کی کہ مجھے اپنا لنڈ دیکھاو، اس نے تین چار تصویریں لیں اور مجھے سینڈ کردیں جسے دیکھ کر میں انتہائی گرم ہوگئی اور اس سے کہا اس وقت آسکتے ہو؟ اس نے کہا ابھی رات کے ایک بجے میں نے کہا ہاں تو اس نے کہا دروازہ کحولیں میں چپکے سے آتا ہوں بس اس رات ہم نے تین بار سیکس کیا جو اب تک ہوتا رہتا ہے"
یہ سن کر میرے تو جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی کہ میری بیوی سونیا جس کو میں اتنا شریف اور پارسا سمجھتا تھا وہ کس قدر شہوت سےبھری ہوئی ہے۔ہاں ایک چیز جو میرے لئے فائدہ مند تھی وہ یہ کہ میں اب اپنی بڑی سالی علشباء سے راہ و رسم مزید بڑھا کر سیکس کرسکتا ہوں اگر اس نے انکار کیا تو ثبوت کے طور پر یہ گفتگو میرے پاس ریکارڈ میں موجود ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ابھی میں ان ہی سوچوں میں گم تھا کہ اندر ایک اور ٹرپ کی تیاری شروع ہوگی یعنی سونیا نے مزمل کا لنڈ پکڑ کر ایک مرتبہ پھر مٹھ مارنے والے انداز سے ہلانا شروع کردیا تھا اور مزمل کے منہ سے تسکین اور جذبانی سسکیوں کی آوازیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔
جاری ہے