خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • If you are unable to access the site, please try accessing it via a VPN.
    Try these VPN apps — CLICK HERE
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Family انوکھا شاہی حکم

pajal20

Well-known member
Joined
Jan 5, 2023
Messages
28
Reaction score
616
Location
Pakistan
انوکھا شاہی حکم

ریاست بہاولپور کے عظیم محلات کی سنگ مرمر کی دیواروں پر سونے کے قندیلوں کی روشنی پھیل رہی تھی۔ ولی عہد شہزادہ عمیر، جو اب باقاعدہ نواب بہاولپور بن چکے تھے، اپنے والد کی موت کے چالیسویں دن تخت نشین ہوئے تھے۔ ان کا چہرہ سخت، آنکھیں تیز، اور آواز میں وہ شاہی وقار تھا جو صرف حقیقی حکمرانوں میں ہوتا ہے۔

دربارِ عام میں امرا، وزراء اور علما سب کھڑے تھے۔ عمیر نے اپنے شاہی لباس میں تخت پر بیٹھتے ہوئے ایک لمحہ خاموشی سے سب کو دیکھا، پھر بلند آواز میں حکم سنایا:

«آج سے ریاست بہاولپور میں میری چھوٹی سگی بہن، شہزادی زینب، میری شاہی زوجہ قرار دی جاتی ہے۔ وہ میری ملکہ ہوں گی۔»

دربار میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ امرا کے چہرے سفید پڑ گئے، کچھ نے سر جھکا لیا۔ لیکن کوئی بولنے کی جرات نہ کر سکا۔ نواب عمیر کی آنکھوں میں جو آگ تھی، وہ سب نے دیکھ لی تھی۔

زینب اس وقت محل کے اندرونی حصے میں تھی۔ اس کی عمر ابھی اکیس برس تھی، عمیر سے پانچ سال چھوٹی۔ وہ اپنے بھائی کی آواز سن کر کانپ گئی۔ وہ جانتی تھی کہ عمیر اسے بچپن سے ہی اس نظر سے دیکھتا ہے جو بھائی نہیں دیکھتا۔ ان کی ماں کی موت کے بعد سے عمیر نے اسے ہمیشہ قریب رکھا تھا—راتوں کو اس کے کمرے میں آ کر بیٹھنا، اس کے بالوں کو چھونا، اور کبھی کبھی اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا بوسہ دے کر چلا جانا۔

اب وہ حکم آ چکا تھا۔

رات کے پہلے پہر میں زینب کو شاہی لباس پہنا کر عمیر کے نجی محل میں لایا گیا۔ سونے کا تاج اس کے سر پر تھا، سرخ ریشمی لباس جسم پر چمٹ رہا تھا، اور اس کے گلے میں وہ ہار تھا جو کبھی ان کی ماں کا تھا۔

عمیر کمرے میں اکیلے کھڑے تھے۔ جب دروازہ بند ہوا تو انہوں نے زینب کی طرف دیکھا۔

«آ جاؤ، میری ملکہ۔»

زینب کے پاؤں کانپ رہے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ قریب گئی۔ عمیر نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر دیکھا۔

«تم میری بہن ہو… اور اب میری بیوی بھی۔ آج سے کوئی تمہیں مجھ سے الگ نہیں کر سکتا۔»

اس نے زینب کے ہونٹوں پر بوسہ دیا—پہلے ہلکا، پھر گہرا، بھوکا سا۔ زینب کی سانس رک گئی۔ اس کے جسم میں شرم اور ایک عجیب سی گرمی ایک ساتھ دوڑنے لگی۔ عمیر کے ہاتھ اس کے کمر پر آ گئے، پھر نیچے سرکتے ہوئے اس کی رانوں کو تھام لیا۔

«تمہیں یاد ہے؟» عمیر نے سرگوشی کی، «جب تم چھوٹی تھیں اور میں تمہیں گود میں بٹھا کر کہانیاں سناتا تھا… تم میری گود میں بیٹھی رہتی تھیں۔ آج بھی تم میری گود میں بیٹھو گی… لیکن اب فرق ہے۔»

اس نے زینب کو اٹھا کر بڑے شاہی بستر پر لٹا دیا۔ ریشمی لباس کو آہستہ آہستہ کھولا۔ زینب کی آنکھیں بند تھیں، لیکن اس کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔

عمیر نے زینب کے ریشمی لباس کے آخری بٹن کھولے اور اسے مکمل ننگی کر دیا۔ سونے کا تاج اب بھی اس کے سر پر تھا، لیکن باقی سب کچھ اتار دیا گیا تھا۔ زینب کا جسم شاہی بستر پر چمک رہا تھا—گورا، نرم، اور ابھی تک کنوارہ۔ اس کے سینے ابھی مکمل طور پر نہیں پھولے تھے، لیکن گول اور سخت تھے۔ ناف کے نیچے سیاہ بالوں کا ہلکا سا جھنڈ، اور اس کے نیچے وہ جگہ جو اب تک صرف اس کی اپنی تھی۔

عمیر نے اپنے کپڑے اتارے۔ اس کا جسم مضبوط تھا، سینے پر بال، اور نیچے اس کا عضو پہلے ہی سخت اور بھاری ہو چکا تھا۔ زینب نے آنکھیں بند کر لیں، لیکن عمیر نے اس کا ٹھوڑی پکڑ کر سر اٹھایا۔

«دیکھو۔ یہ تمہارا بھائی ہے۔ یہ تمہارا شوہر ہے۔»

اس نے زینب کے ٹانگوں کو الگ کیا۔ انگلی سے اس کی گیلے پن کو چھوا—شرم کے باوجود جسم نے دھوکہ دے دیا تھا۔ عمیر نے اپنی انگلی اندر داخل کی، آہستہ آہستہ۔ زینب کی کمر اٹھی، ایک دبی ہوئی آہ نکل گئی۔

«اتنا تنگ…» عمیر نے سرگوشی کی۔ «آج رات میں اسے اپنے لیے کھولوں گا۔»

اس نے اپنے عضو کو زینب کی چوتڑوں کے درمیان رکھ کر رگڑا۔ سرے سے اس کی بھیگی ہوئی جگہ کو چھوا، دبایا، پھر ایک بار زور سے اندر دھکیل دیا۔

زینب کی چیخ نکل گئی۔ درد تیز تھا—کنوارے پن کا پردہ پھٹ گیا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔ عمیر رک گیا، لیکن باہر نہیں نکلا۔ اس نے زینب کے بالوں کو چھوا، اس کے پیشانی پر بوسہ دیا۔

«سہ لو، میری بہن… سہ لو۔ اب تم میری ہو۔»

پھر وہ ہلنا شروع ہوا۔ پہلے آہستہ، گہرائی تک، پھر تیزی سے۔ ہر دھکا زینب کے جسم کو بستر پر دھکیلتا۔ اس کی چیخیں پہلے درد کی تھیں، پھر آہستہ آہستہ ایک عجیب سی آواز میں بدل گئیں—شرم، خوف، اور کچھ ایسا جو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

عمیر نے اس کے ایک سینے کو منہ میں لے کر چوسا، دانتوں سے ہلکا سا کاٹا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کی کلیٹورس کو رگڑنے لگا۔ زینب کی ٹانگیں بے اختیار اس کے کمر کے گرد لپٹ گئیں۔

«عمیر… بھائی… رک جاؤ… میں… میں کچھ محسوس کر رہی ہوں…»

«درد برداشت کرو،» عمیر نے دانت پیس کر کہا۔ «یہ تمہاری قسمت ہے۔ میرے اندر آنے والا بیج تمہارے رحم میں جائے گا۔ ہمارا خون ایک ہو جائے گا۔»

اس نے زینب کو پلٹ کر اپنے اوپر بٹھا دیا۔ زینب کی آنکھیں کھلی تھیں اب—شرم سے سرخ، لیکن جسم خود بخود ہل رہا تھا۔ عمیر نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ زینب کی چھاتیاں اس کے چہرے کے سامنے ہل رہی تھیں۔ عمیر نے دونوں کو منہ میں بھر لیا۔

زینب کی سانس تیز ہو گئی۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا—شرم کی دیوار۔ ہر بار جب عمیر کا بھاری عضو اس کے اندر گہرائی تک جاتا، ایک لہر اس کے پیٹ میں دوڑتی۔ آخرکار وہ چیخی:

«بھائی… میں… آ رہی ہوں…»

اس کا جسم کانپ اٹھا۔ اندرونی عضلات عمیر کے عضو کو مضبوطی سے دبانے لگے۔ عمیر نے بھی کنٹرول کھو دیا۔ ایک گہری گرنج کے ساتھ اس نے اپنا بیج زینب کے رحم میں انڈیل دیا—گرم، گاڑھا، اور بہت زیادہ۔

زینب اس کے سینے پر گر گئی، سانس پھولے ہوئے۔ عمیر نے اس کے بالوں کو سہلایا۔

«اب تم میری ملکہ ہو، زینب۔ کل دربار میں سب تمہیں میری بیوی کے طور پر سلام کریں گے۔ اور رات کو… میں پھر آؤں گا۔»

اس نے اب بھی اپنے عضو کو اندر رکھے ہوئے زینب کو اپنے سینے سے لگایا۔ دونوں پسینے سے شرابور تھے۔ بستر پر خون کے چند قطرے تھے—زینب کے کنوارے پن کے۔

عمیر نے سرگوشی کی:

«میں تمہیں حاملہ کروں گا۔ ہمارا بیٹا تخت کا وارث بنے گا۔ اور کوئی نہیں جانے گا کہ وہ میری بہن کا ہے… یا سب جانیں گے، اور پھر بھی خاموش رہیں گے۔ کیونکہ میں بادشاہ ہوں۔»

زینب نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف اپنے بھائی—اب اپنے شوہر—کے سینے پر سر رکھ دیا۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے، لیکن اس کے ہونٹ عمیر کے سینے پر ایک ہلکا سا بوسہ دے چکے تھے۔

باہر محل کے گنبد پر چاند چمک رہا تھا۔ بہاولپور کی نئی ملکہ اپنی سگی بہن کی حیثیت کھو چکی تھی… اور کچھ اور بن چکی تھی۔

1. اگلی صبح —

صبح کی پہلی روشنی جب سنگ مرمر کی کھڑکیوں سے اندر آئی تو زینب نے آنکھیں کھولیں۔ جسم ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے اسے اندر سے توڑ دیا ہو۔ رانوں کے درمیان شدید درد تھا، اور بستر پر خشک خون کے دھبے اب بھی نظر آ رہے تھے۔ اس کے پیٹ کے نیچے ایک عجیب بھاری پن تھا—عمیر کا بیج جو رات بھر اس کے رحم میں رہا تھا۔

وہ ہلکی سی کراہ اٹھی۔ عمیر اس کے پہلو میں ننگا لیٹا ہوا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولتے ہی زینب کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔

«درد ہو رہا ہے؟»

زینب نے سر ہلایا، آنسو آنکھوں میں بھر آئے۔ عمیر نے اس کے ٹانگوں کو آہستہ سے الگ کیا اور دیکھا۔ زینب کی شرمگاہ ابھی بھی سوجی ہوئی تھی، سرخ، اور اندر سے ہلکا خون بہہ رہا تھا۔ عمیر نے انگلی سے چھوا تو زینب کانپ گئی۔

«ابھی تک تنگ ہے…» اس نے سرگوشی کی۔ «لیکن آج میں زیادہ نرمی سے لوں گا۔»

اس نے زینب کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔ زینب نے مزاحمت کی، «بھائی… درد ہو رہا ہے… رک جاؤ…»

لیکن عمیر نے اس کے کولہوں کو پکڑ کر اپنے سخت عضو پر بٹھا دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی زینب کی دبی ہوئی چیخ نکل گئی۔ درد تیز تھا، لیکن عمیر نے رکنا نہیں۔ اس نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے کرنا شروع کیا۔ ہر حرکت پر زینب کے ناخن اس کے سینے میں پیوست ہو جاتے۔

«دیکھو… تمہارا جسم مجھے پہچان رہا ہے،» عمیر نے دانت پیس کر کہا۔ «رات کو تم نے میرے بیج کو قبول کر لیا۔ آج پھر قبول کرو۔»

زینب کی آنکھیں بند تھیں۔ شرم، درد، اور اس کے نیچے ایک عجیب سی لہر جو آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ عمیر نے اس کے سینے کو منہ میں لے کر چوسا، دانتوں سے کاٹا۔ جب اس نے آخرکار اپنا بیج دوبارہ اندر انڈیلا تو زینب نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا، سانس پھولے ہوئے۔

عمیر نے اس کے بالوں کو سہلایا۔

«اب اٹھو۔ آج دربار میں تم میری ملکہ کے طور پر بیٹھو گی۔»

2. دربار میں ملکہ کے طور پر پہلا ظہور

دوپہر کو دربارِ عام سجا ہوا تھا۔ امرا، علما، اور ریاست کے بڑے بڑے سردار کھڑے تھے۔ عمیر تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے دائیں جانب ایک خالی سونے کا تخت رکھا گیا تھا۔

جب زینب اندر داخل ہوئی تو دربار میں سناٹا چھا گیا۔ وہ سرخ مخمل کے شاہی لباس میں تھی، سر پر چھوٹا سا تاج، گلے میں موتیوں کا ہار۔ لیکن اس کے چہرے پر شرم کی سرخی واضح تھی۔ ہر قدم پر اس کی رانوں میں درد ہو رہا تھا—صبح کی وہ حرکت اب بھی یاد دلا رہی تھی۔

عمیر نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس بلایا۔

«آج سے یہ شہزادی زینب میری زوجہ اور ریاست بہاولپور کی ملکہ ہیں۔ سب ان کے سامنے سر جھکائیں۔»

سب نے مجبوراً سر جھکایا۔ زینب تخت پر بیٹھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ دربار کے بہت سے لوگ حقیقت جانتے ہیں—وہ سگی بہن ہے۔ کچھ نگاہیں ترس بھری تھیں، کچھ نفرت بھری، کچھ محض خوف۔

عمیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سب کے سامنے بوسہ دیا۔

«جو کوئی میری ملکہ کی بے عزتی کرے گا، اس کی زبان کاٹ دی جائے گی۔»

زینب نے سر جھکا لیا۔ شرم اس کے جسم میں آگ کی طرح دوڑ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ سب جانتے ہیں کہ رات کو اور صبح کو اس کے بھائی نے اسے کیسے لیا تھا۔ اور اب وہ سب کے سامنے ملکہ بن کر بیٹھی ہے۔

دربار ختم ہونے کے بعد عمیر نے اسے اپنے نجی کمرے میں لے جا کر دیوار کے ساتھ دبا دیا اور کپڑے اٹھا کر ایک بار پھر اندر گھس گیا—اس بار تیزی سے، غصے اور ملکیت کے جذبے سے۔ زینب نے منہ دبا کر چیخ کو روکا۔

«اب سب جان گئے… تم میری ہو۔»

3. چند دن بعد — حاملہ ہونے کی علامات اور عمیر کا ردعمل

تقریباً دو ہفتے گزر چکے تھے۔ زینب کی صبح کی الٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ اس نے نوکرانیوں سے چھپانے کی کوشش کی، لیکن ایک دن عمیر نے خود دیکھا۔

وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا تو زینب بستر کے کنارے بیٹھی الٹی کر رہی تھی۔ اس کا چہرہ زرد تھا، ہونٹ کانپ رہے تھے۔

عمیر خاموشی سے قریب آیا۔ اس نے زینب کے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔

«تم حاملہ ہو۔»

زینب نے سر اٹھا کر دیکھا۔ آنسو بہہ نکلے۔

«بھائی… یہ… یہ ہمارا…؟»

عمیر کی آنکھوں میں ایک عجیب سی فتح کی روشنی تھی۔ اس نے زینب کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔

«ہاں۔ میرا بیج تمہارے رحم میں جم گیا ہے۔ ہمارا خون ایک ہو گیا۔»

اس نے زینب کے کپڑے اتارے اور اسے بستر پر لٹا دیا۔ اس بار اس نے بہت نرمی سے لیا—پیٹ کے خیال سے۔ لیکن ہر دھکے کے ساتھ وہ سرگوشی کرتا رہا:

«یہ بچہ میرا ہے… تمہارا ہے… ہمارا ہے۔ میں اسے تخت کا وارث بناؤں گا۔ اور تم… تم میری ملکہ رہو گی جب تک میں چاہوں گا۔»

زینب کی آنکھیں بند تھیں۔ اس کے اندر شرم اور ایک عجیب سی تسلی ایک ساتھ رہ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب واپسی ممکن نہیں۔ اس کا جسم اس کے بھائی کا ہو چکا تھا، اور اب اس کا رحم بھی۔

عمیر نے آخر میں اس کے پیٹ پر بوسہ دیا۔


«اب آرام کرو، میری بہن… میری بیوی۔ جلد ہی تم میرے بیٹے کی ماں بنو گی۔»

دی اینڈ
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top