- Moderator
- #1
رات بھر مجھے اپنی ماں کی ہدایتیں یاد آتی رہیں، اس لیے سر کے پھولوں سے بے نیاز کمرے میں شاہانہ بستر کے کنارے لگی ہوئے مجھے شاید آدھی سے زیادہ رات تو گزر ہی چکی تھی۔ کیا کہا تھا انہوں نے رخصت کرتے ہوئے، گلے سے لگاتے ہوئے؟ وہی سب جو ایک ماں ایسے وقت میں اپنی اولاد کو کہہ سکتی ہے۔ “ساس سسر بھی ماں باپ ہی ہوتے ہیں بیٹا! مانا تمہاری ساس ذرا سخت مزاج کی ہیں، مگر تم ان سے زبان درازی کبھی نہ کرنا۔ جو کہیں سر جھکا کر سن لینا۔ سسرال میں اب ہمارے خاندان کی عزت تمہاری نرم مزاجی پر منحصر ہے۔ کوئی شکایت نہ سنوں میں۔” یہاں تک کہتے کہتے امی کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اور میری بھی۔ اس کے بعد کیا ہوا کچھ یاد نہیں۔ کب گاڑی میں سوار ہوئے، کتنے وقت پر گھر پہنچے، کچھ بھی تو دماغ محفوظ نہ کر سکا۔ اس طرح کی کمزوری تو میں نے خود میں کبھی نہیں پائی تھی۔ ایسی مایوسی، ایسی ناکامی اور اتنی بزدلی کا احساس تو آج تک نہیں ہوا۔ کیوں میں خوش نہیں؟ کیوں مجھے اس ٹھنڈے مہکے کمرے میں تھکن کے باوجود نیند نہیں آ رہی؟ رات کی خاموشی میں مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ اپنی بزدلی پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا کہ سب کچھ میرے ہاتھ میں ہوتے ہوئے بھی میں نے اپنی زندگی کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ میں دے دیا؛ یہ میں نے کیا کر دیا؟ جو نہیں کرنا چاہتا تھا، وہی کر گیا۔ گھر داماد بن بیٹھا؟
میں نے برابر میں، چادر کمر تک اوڑھے سوتی ہوئی نازیہ کو دیکھا۔ وہ بے ترتیبی سے لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی، شاید وہ کسی ڈراؤنے خواب میں بھٹک رہی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے میں اس رات بھٹکا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر چادر درست کی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ چند ہی لمحوں میں اس کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر میں مسکرا دیا۔ حالات اس قدر بھی نہیں بگڑے کہ میں انہیں سنبھال نہ سکوں۔ اگر یہ ہاتھ میرے ہاتھ میں رہا، تو ہم مل کر کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔ آج دوسری بار میں نازیہ کے اتنا قریب تھا، جس طرح آخری سمسٹر کی آخری چھٹیوں کی آخری پہر میں پہلی بار قریب ہوا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم کئی بار ملے تھے۔ کمپیوٹر سائنس کی ماسٹرز کلاس کی صرف تین لڑکیوں میں سے ایک وہ بھی تھی۔ لڑکوں کی تعداد، لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، جو عموماً پہلی صف خالی چھوڑ کر پیچھے کی تمام نشستوں پر براجمان رہتے تھے۔ آہستہ آہستہ جب کلاس بھرنے لگی اور پہلے دن کا پہلا لیکچر شروع ہوا، تو پہلی صف میں صرف تین لڑکیاں بیٹھی تھیں اور یہی تین لڑکیاں کمپیوٹر سائنس کی ماسٹرز کلاس کا اثاثہ تھیں۔ ثروت اور سیما تو ایک دوسرے کی کزن تھیں، لہٰذا وہ ہمیشہ ایک ساتھ ہی رہتیں۔ میرے خیال میں انہوں نے نازیہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی بھی ہو گی، تو نازیہ نے اپنی تنک مزاجی اور لا ابالی پن سے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہو گا۔ نازیہ تھی ہی ایسی؛ پہاڑوں کی عاشق اور مہم جوئی کی شوقین۔
ہر چھٹی کے دن وہ کسی ایسی جگہ پہنچی ہوتی جہاں ایک عورت کا پہنچنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔ اس کے پاس ایک چھوٹی، ادھ کھلی شکاری جیپ تھی اور وہ ہر طرح کی گھریلو ذمہ داریوں سے آزاد محسوس ہوتی تھی۔ تھوڑے ہی دنوں بعد اس کی دلیری کے چرچے پوری کلاس میں ہونے لگے۔ لڑکے اس سے نت نئے ایڈونچر سے بھرپور جگہوں پر جانے کے لیے راستوں، سامان، موسم اور دیگر لوازمات کی تفصیلات معلوم کرتے نظر آتے، اور وہ کسی استاد کی طرح مدبرانہ انداز میں انہیں ایک ایک بات بتاتی۔ اس کو ایک دو بار لڑکوں کے گروپس نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا، جس پر اس نے سختی سے انکار کر دیا۔ وہ ہر جگہ اکیلی ہی جانے کی عادی تھی۔ میں نے چند دوستوں کے فیس بک پر اس کی ایسی ہی جگہوں پر تصاویر دیکھیں۔ اعلیٰ معیار کے مغربی کپڑوں میں، سر پر بڑی سی… تکونوں سے بنی ٹوپی پہنے وہ ہر تصویر میں ایک مضبوط اعصاب کی بہادر انسان نظر آتی۔ اس کے بال لمبے تھے مگر عام لڑکیوں کی طرح وہ جگہ جگہ بالوں میں کنگھی پھیرتی نظر نہیں آتی تھی۔ کپڑے مغربی ہوتے ہوئے بھی کبھی یہ تاثر نہ دیتے کہ وہ جسم کی نمائش کے لیے پہنے گئے ہیں۔ خوبصورتی اس کی یہ تھی کہ وہ ہر طرح کے میک اپ اور جیولری سے آزاد تھی، مگر اس کے ہاتھوں میں اکثر کلائیوں تک مہندی رچی رہتی جو اس کی شخصیت میں ایک انوکھا پن پیدا کر دیتی۔
چند ہی مہینوں بلکہ ہفتوں میں وہ کلاس اور یونیورسٹی میں مشہور ہو گئی؛ ایک دوست کی طرح سب سے مل کر بھی وہ الگ تھلگ ہی رہتی۔ اپنی دنیا اور اپنی زندگی پر پورا اختیار رکھتے ہوئے وہ کبھی کسی سے مدد مانگتی نظر نہیں آئی۔ دوسری طرف پوری کلاس مجھے بھی مختلف سمجھتی تھی کیونکہ میں نے بھی کبھی کسی کو اپنے بارے میں مکمل معلومات نہ دیں۔ نہ کبھی لڑکوں کے گروپ بنائے، نہ ہی کسی لڑکی سے دوستی کرنے کے بہانے ڈھونڈے، پھر بھی اساتذہ میرا نام جانتے تھے اور کلاس فیلوز ہمیشہ مجھ سے سنجیدہ گفتگو کرتے۔ پتا نہیں کیوں ان سب کو لگتا تھا کہ میں ایک بردبار، سمجھ دار اور نیک دل انسان ہوں۔ شرمیلا تو میں نہیں تھا پھر بھی میری ذرا سی ہچکچاہٹ کو بڑی اہمیت دی جاتی۔ مجھ سے نوٹس مانگتے ہوئے لڑکے بہت احتیاط برتتے اور مجھے نوٹس صحیح سلامت واپس کرنے کی بار بار یقین دہانی کرواتے۔ امتحانوں میں وہ ایک دوسرے سے ہر طرح کی چیٹنگ کے وعدے لیتے مگر مجھے پیپر کے دوران کوئی تنگ نہ کرتا۔ میری اس “لیے دیے” رہنے والی عادت اور خاموش مزاجی نے مجھے کلاس میں تھوڑا مغرور مشہور کر دیا تھا، جبکہ یہ بات صرف میں ہی جانتا تھا کہ دراصل میں ایک بزدل انسان تھا۔ میں ڈرتا تھا؛ میرے اس طرح خود کو الگ تھلگ رکھنے کے جتن کے پیچھے سب سے بڑی وجہ میری غربت تھی۔ میرا چہرہ اور میرا لباس میرا بھرم رکھ لیتے تھے، لیکن میں جانتا تھا کہ سب میں گھل مل کر میں اپنی اوقات کو کھولنے کا حوصلہ خود میں کبھی نہ پا سکا۔
میری اچھی شکل و صورت، باوقار لہجہ اور یہ بہترین لباس، یہ سب میری ماں کی انتھک محنت کا نتیجہ تھے۔ ان کو بڑا شوق تھا کہ میں ایک امیر آدمی نظر آؤں، جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک چلی جایا کرتی تھیں۔ اکثر وہ اپنے سگے امیر رشتہ داروں یا دوستوں سے مدد مانگنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتی تھیں۔ ان کی اپنی قلیل آمدنی سے تو بمشکل گھر کا خرچہ چلتا تھا، جبکہ میری اعلیٰ تعلیم اور یہ سارے لوازمات ہمیشہ مانگ تانگ کر ہی پورے کیے جاتے تھے۔ جسے میری کلاس میں “خودداری” کا نام دیا گیا، اصل میں وہ میری کم مائیگی کا احساس تھا۔ میرا احساسِ کمتری کہ میں کچھ بھی کر لوں، ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں آ سکوں گا؛ اور پھر میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے سے بھی ڈرتا تھا۔ لہٰذا خود کو دور رکھنے میں ہی عافیت سمجھتا تھا۔ کئی مہینے اسی مشکل سے گزر گئے، جہاں نازیہ مجھ سے لاپروا تھی وہیں میں بھی اس پر دھیان نہ دے سکا۔ مگر پڑھائی میں میرا اور نازیہ کا زبردست ٹاکرا رہتا۔ اکثر کلاس میں اس بات پر شرط لگی ہوتی کہ اس بار امتحانوں میں کس کے اچھے نمبر آئیں گے۔ ایسے میں بھی ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نظر بھر کر دیکھا تو صرف رقابت کے جذبے سے؛ ہم ایک دوسرے سے سیدھے منہ بات تک نہ کر سکے۔
ایک دو بار مجھے دبے لفظوں میں کلاس کی چہ میگوئیوں سے معلوم ہوا کہ نازیہ کے لیے کلاس کے چند امیر ترین لڑکوں نے رشتے بھیجے، مگر اس کی طرف سے منع کر دیا گیا۔ جس سے اندازہ ہوا کہ نازیہ اپنی عملی زندگی میں بھی خود ہی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ میں یوں تو اکلوتا تھا، مگر میری غربت مجھے کبھی امی سے پوچھے بغیر کوئی کام کرنے کی اجازت نہ دیتی۔ دوسری طرف نازیہ چھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہونے کے باوجود، صرف امیر ہونے کی وجہ سے خود مختار تھی۔ ہم دونوں اس شہر کے دو بہت ہی مختلف حصوں میں رہائش پذیر تھے۔ شاید نازیہ نے بھی مجھ سے شادی ہو جانے کا سوچا تک نہ ہو گا، مگر قسمت ہمیں ایک دوسرے کا اس آسانی سے کر دے گی، اس کا کبھی ہمیں احساس نہ ہوا تھا۔
آخری سمسٹر تھا۔ فائنل امتحان سے پہلے آخری دو ہفتوں کی چھٹیوں میں ہمیشہ کی طرح کلاس نے سیر و تفریح کا پروگرام بنایا۔ پہلی بار چھٹیوں کے ہر تفریحی پروگرام پر میں نے معذرت کر کے جان بچائی تھی، مگر اس بار کوئی بھی عذر قبول نہ ہوا بلکہ مجھ پر کچھ استادوں نے بھی جانے کے لیے زور ڈالا، اور میں نے بھی آخر کار ہامی بھر لی۔ ایک دن جب موسم قدرے خوش گوار تھا، تو ہم سب بس میں سوار شہر سے دور بنے ہوئے ایک فارم ہاؤس میں ایک دن اور ایک رات گزارنے آ گئے۔ میں آ تو گیا تھا، مگر کسی بھی طرح کسی سے بھی بہت زیادہ گھلنے ملنے کے بجائے اپنے ساتھ چند کتابیں لے آیا تھا تاکہ کسی کونے میں بیٹھ کر پڑھتے ہوئے وقت نکال لوں گا۔ فارم ہاؤس ایک پرفضا مقام تھا۔ کافی حد تک کسی گاؤں کا نمونہ لگ رہا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے آرام کے لیے الگ الگ ہال تھے، مگر دوپہر کا کھانا کھا کر اپنے ہال میں جانے کے بجائے سب کے سب مشترکہ میدان میں ادھر ادھر ٹولیوں میں بکھرے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن تھے۔
میدان کے ایک کونے پر جہاں گھنے نیم کے اونچے نیچے درخت سایہ دے رہے تھے، وہاں چند چار پائیاں بچھی تھیں۔ میں ان میں سے ایک چار پائی پر لیٹ کر کتاب پڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اچانک ایسی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں کہ مجھے نیند کے جھونکے آنے لگے۔ اسی سونے اور جاگنے کی کیفیت میں، میں نے کچھ سرگوشیاں سنیں۔ ان میں کچھ آوازیں تو صاف پہچانی جا رہی تھیں اور کچھ انجان یا شاید آہستہ بولنے کی وجہ سے بدلی ہوئی لگ رہی تھیں۔ مجھے ایک اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ہماری ہی کلاس کے لڑکوں کا وہ گروپ تھا جس میں ایڈونچر کے شوقین لڑکے شامل تھے۔ وہ سب مل کر کسی کو سبق سکھانے اور اس کے ساتھ کسی قسم کی شرارت کی تمام تر تفصیلات ایک دوسرے کو بتا رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “اس نے آتے ہی وہی جگہ منتخب کی ہے”۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “وہاں سے رات کے اندھیرے میں واپس آنا ممکن نہیں”؛ کیونکہ وہ گھنے جنگل کے درمیان کوئی ایسی کھائی تھی جس میں اگر ایک دفعہ کوئی اتر جائے، تو جب تک اوپر سے سہارا نہ ملے وہ باہر نہیں آ سکتا تھا۔ پھر وہ وقت کا حساب کتاب کرنے لگے کہ رات کا کھانا ہونے سے پہلے کب اور کس طرح “شکار” کو کھائی تک پہنچانا ہے اور پھر خود اسے وہیں چھوڑ کر بھاگ آنا ہے۔ میں پھنسنے والے شکار کے متعلق کچھ نہ سن سکا، مگر دل میں افسوس ہوا کہ ایسے لڑکوں کی نہ دوستی اچھی ہے اور نہ دشمنی۔ بہر حال، میں تھوڑی دیر ان لوگوں کو سنتا رہا اور پھر گہری نیند سو گیا۔ دوپہر ڈھلی اور کب رات ہوئی، پتا ہی نہ چلا۔ مجھے اٹھانے فارم ہاؤس کا چوکیدار آیا۔ میرے خیال میں انتظامیہ میں سے کسی نے مجھے درخت کے نیچے سوتے دیکھ کر میری چارپائی پر خاموشی سے مچھر دانی لگوا دی تھی، اسی لیے میں اب تک آرام سے سوتا رہا ورنہ اس کھلی جگہ پر تو مچھروں کی فوج موجود تھی۔
کھانا لگ چکا تھا اور رات کے وقت کھلے میدان میں بڑی سی آگ جلا کر سب اس کے گرد بیٹھے کھانے میں مصروف تھے۔ میں نے نہانے دھونے کے بعد کھانا کھانے کا ارادہ کیا اور چوکیدار جب جانے لگا تو اس سے “کھائی” کے بارے میں پوچھا۔ میری یادداشت میں جو باتیں محفوظ تھیں، ان سے کچھ نہ کچھ نتیجہ تو نکالا ہی جا سکتا تھا۔ چوکیدار نے مجھے کھائی کے بارے میں اچھے طریقے سے سمجھا دیا کہ وہ کوئی ایسی خطرناک جگہ نہیں کیونکہ یہ علاقہ درندوں سے پاک ہے، مگر ہاں! رات کے اندھیرے میں وہاں جانا اور اکیلے رات گزارنا جو کہ بڑے دل گردے کی بات تھی۔ میں سر ہلاتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا۔ واپس آکر میں بھی ایک پلیٹ میں کچھ کھانے کی چیزیں لے کر ایک کونے میں جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اب مجھے رات بھر کتاب پڑھ کر ہی وقت بتانا تھا کیونکہ نیند تو میں پہلے ہی پوری کر چکا تھا۔ میں سنی ہوئی باتوں کے زیرِ اثر اپنے اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔ وہ شرارتی گروہ جس کے منصوبے میں نے سنے تھے، وہ سب وہاں موجود تھے اور کھانے پینے میں مصروف نظر آ رہے تھے۔ ان کی باتوں سے کسی قسم کی ناکامی محسوس نہیں ہو رہی تھی، لہٰذا میں اور بھی دلچسپی سے تمام موجود لڑکوں کا جائزہ لینے لگا۔ میرے خیال میں شرارتی گروپ کی منصوبہ بندی میں یا تو کوئی تبدیلی ہوئی تھی یا پھر مخالف گروہ کو پہلے سے ہی علم ہو جانے کی وجہ سے ان کا شرارت پر مبنی منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔ ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سامنے سے ثروت اور سیما ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گزریں اور میں چونک گیا۔ میں نے دوبارہ شرارتی گروپ کی طرف دیکھا، ان میں ایک دو وہ لڑکے بھی شامل تھے جن کے ساتھ نازیہ کے گھر رشتہ بھیجنے والا واقعہ منسوب تھا۔ میں نے بے اختیار ادھر ادھر نازیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں، مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی۔ پھر سوچا کہ شاید میری ہی طرح وہ بھی آدم بیزار کہیں کسی کونے میں یا ایسی ہی کسی جگہ بیٹھی اپنے آپ کے ساتھ وقت گزار رہی ہو، اور میں بلاوجہ اسے کسی شرارت کا نشانہ بنتے ہوئے سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ گروہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ مگر پھر یہ خیال آیا کہ نازیہ صرف ایک لڑکی نہیں تھی، بلکہ ان لوگوں کی ہمت کو باقاعدہ للکارنے والی لڑکی تھی، اور ایسے میں یہ شرارتی گروہ اس سے بدلہ لینے پر کمر بستہ ہو بھی سکتا تھا۔
بے چین ہو کر میں نے کھانے کی پلیٹ ایک طرف رکھ دی اور آرام سے چلتا ہوا، میدان میں ایک طرف بیٹھے لڑکوں، اساتذہ اور ان کے ساتھ آئی ہوئی ان کی فیملیز کو کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا۔ اپنی بے چینی کو ختم کرنے کا اب ایک ہی حل تھا کہ کھائی پر جا کر دیکھا جائے۔ ہال میں جا کر اپنے سامان میں سے ٹارچ، جیکٹ اور فرسٹ ایڈ کا چھوٹا پیکٹ لے کر خراماں خراماں باہر نکلا۔ اگر واقعی وہاں کوئی تھا تو اسے وہاں پھنسے ہوئے اب تک کوئی تین سے چار گھنٹے ہو چکے تھے اور ایسے میں اس کا بہت زیادہ پیاسا ہونا بھی ممکن تھا۔ میں تمام ممکنات پر غور کر رہا تھا اور اس حساب سے خود کو مکمل طور پر تیار کر کے نکلنا چاہتا تھا۔ میں نے چند ایک مزید ضروری اشیاء اپنے چھوٹے سے کندھے کے بیگ میں بھر لیں اور کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کیے بغیر کھائی کی طرف چل پڑا۔ چوکیدار نے مجھے کھائی تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ سمجھا دیا تھا، لہٰذا میں سکون سے سفر کر رہا تھا۔ بس مشکل یہ تھی کہ ان گھنی اور قد آور جھاڑیوں کے درمیان سے خود کو کانٹوں سے بچا کر نکالنا دشوار تھا، جس کی وجہ سے دس پندرہ منٹ کے راستے نے میرا تقریباً پون گھنٹہ لے لیا۔ بہر حال، کھائی کے دہانے پر پہنچ کر میں نے ٹارچ روشن کی، کیونکہ اب تک تو چاند کی روشنی راستہ دکھانے کے لیے کافی تھی مگر کھائی کے اندر سب کچھ اندھے کنوئیں جیسا تاریک تھا۔ لڑکوں کے بیان کے برعکس کھائی کوئی اتنی زیادہ گہری نہیں تھی، مگر کچھ اس طرح چاروں طرف سے زمین کے اندر دھنسی ہوئی تھی کہ اس میں گر کر کوئی انسان خود باہر نہیں آ سکتا تھا۔ ٹارچ کی روشنی کھائی کی تہہ تک پہنچی اور پھر ادھر ادھر گھومنے لگی۔ میں آواز دینا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ابھی تک مجھے یقین نہیں تھا کہ یہاں کوئی ہو بھی سکتا ہے، مگر اچانک میری ٹارچ کی روشنی ایک ہیولے پر پڑی تو میں جم کر رہ گیا۔ اس کی پشت میری طرف تھی، مگر میں اچھی طرح پہچان گیا تھا کہ وہ نازیہ ہی تھی۔ اس کے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسے احتیاط سے آواز دی کہ کہیں وہ ڈر نہ جائے۔ اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور ٹارچ کی روشنی براہِ راست اس کی آنکھوں پر پڑی، جن سے صاف آنسو بہہ رہے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے فوراً رخ پھیر لیا۔ “نازیہ! اس طرف آؤ، میرا ہاتھ پکڑو، میں تمہیں باہر لے چلتا ہوں، شاباش اٹھو!”
میں نے خود پر قابو پا کر جلدی جلدی کہا۔ اس نے پہلے تو میری ہدایت کو سنا ان سنا کیا، پھر جھنجلا کر اپنے پیر کی طرف اشارہ کر کے کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ چپ ہو گئی۔ شاید اس کے پیر میں چوٹ لگی تھی یا موچ آ گئی تھی۔ میں نے اپنے بیگ کو اپنی پشت پر محسوس کیا جس میں پانی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا کچھ سامان تھا، اس کے علاوہ بیگ میں میرا موبائل بھی موجود تھا۔ مشکل یہ تھی کہ یہاں بمشکل سگنل ملتے تھے، حالانکہ لڑکے لڑکیاں صبح سے اساتذہ کی موبائل سے دور رہنے کی ہدایات کے باوجود ایک دوسرے سے فون پر رابطے کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ میں نے ایک بار پھر اپنے ارد گرد ٹارچ کی روشنی ڈال کر جائزہ لیا اور پھر کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ نازیہ اب حیرت سے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میرے نیچے قدم پڑتے ہی اس نے مجھ سے پوچھا: “یہ آپ نے کیا کیا؟” “میں نے سوچا اگر تم میرے پاس نہیں آ رہی ہو، تو میں ہی تمہارے پاس چلا جاؤں،” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اب ہم ایک دوسرے کو ہیولے کی صورت نظر آ رہے تھے۔ میں اندازہ کر کے اس کے قریب پہنچ گیا۔ کھائی کے اندر زمین بہت نا ہموار تھی، لہٰذا میں کئی بار گرتے گرتے سنبھلا۔ اندر ایک عجیب طرح کی خاموشی تھی اور شاید کہیں کوئی جانور مر جانے کی وجہ سے شدید قسم کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں وقت گزارنا مشکل ہی نہیں، بلکہ محال تھا۔ “یہ کیا بیوقوفی ہے؟ کسی اور کو مدد کے لیے لانے کے بجائے آپ خود بھی پھنسنے کے لیے اندر آگئے؟” نازیہ نے طنز کیا اور میں ہنس پڑا۔
اپنے ساتھ کسی اور انسان کو پا کر اس کی آواز میں ایک بار پھر اعتماد محسوس ہونے لگا تھا۔ میں نے اس کے پاس بیٹھ کر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اسے پکڑائی اور ایک لیمپ جلا کر اس کے قریب رکھ کر خود بھی بیٹھ گیا۔ پانی اس نے جلدی جلدی پی لیا، مگر سینڈوچ شکریہ کے ساتھ واپس بیگ میں رکھوا دیا۔ میں نے لیمپ کی دھیمی روشنی میں اسے اپنے پیروں کو سہلاتے دیکھا۔ “میں بلاوجہ پریشان ہو رہی تھی، تھوڑی بہت ہمت کر کے میں چل سکتی ہوں،” اس نے مجھے اپنے پیروں کو غور سے دیکھتے پا کر اطمینان دلانے کے لیے کہا، پھر ایک ہاتھ میرے منہ کے آگے نچاتی ہوئی کہنے لگی: “مگر آپ تو نیچے ہی اتر آئے، اوپر رہتے تو شاید مجھے کھینچ لیتے۔ اب کیا کریں گے؟” “اب تم میرے کندھے پر پیر رکھ کر باہر نکلو گی اور پھر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالو گی۔ میرے خیال میں اتنے سارے ایڈونچر کر لینے کے بعد تمہیں اتنا کچھ تو کرنا آتا ہی ہوگا؟” میں نے سر ہلاتے ہوئے اطمینان سے کہا تو اس نے پھر اپنی بات دہرائی: “اس سے بہتر یہ نہ تھا کہ آپ کسی کو مدد کے لیے بلا لاتے؟” میں نے نفی میں سر ہلایا۔ “مدد کے لیے کسی کو بلاؤں گا تو تمہیں چیلنج کرنے والا گروپ اس آزمائش میں ناکامی کا طعنہ دیتا رہے گا۔ کیا تم یہ برداشت کر لو گی؟” میری بات نے میری توقع کے مطابق اسے جوش دلا دیا اور وہ میرا سہارا لے کر کھڑی ہوگئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اوپر پہنچ گئے۔ چوکیدار نے ٹھیک ہی بتایا تھا کہ اندھیرے کے باعث…
کھائی جتنی اندھی اور خطرناک لگتی تھی، اتنی تھی نہیں۔ نازیہ اپنے ایک پیر پر زور دے کر میرے ایک کندھے پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ چلتی رہی اور میں اپنے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی گھنی جھاڑیوں میں راستہ بناتا رہا، ساتھ ہی اسے تمام روداد بھی سناتا رہا۔ راستے میں کئی جگہ اسے آرام دینے کی خاطر ہم رکے اور وہ زمین پر پالتی مار کر بیٹھ جاتی۔ وہ تھکی ہوئی تھی اور پیر میں چوٹ بھی تھی، پھر بھی میری وجہ سے ہمت سے کام لے رہی تھی اور میں بھی ہر لمحے اسے جوش دلاتا جاتا۔ میں اسے یاد دہانی کراتا کہ اسے یہ مہم جیت کر دکھانی ہے اور دشمن کا سر نیچا کرنا ہے۔ “ویسے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ… مطلب آپ ایسے نہیں لگتے۔ آج آپ نے مجھے حیران کر دیا ہے،” نازیہ نے ایک بار پھر آرام کے وقفے کے دوران پانی پیتے ہوئے مجھ سے کہا۔ “ہاں، ایسی ہمت میں نے بھی اپنے اندر پہلے کبھی نہیں پائی تھی۔ اتنی ہمت اپنی ذات میں مجھے بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ پتا نہیں، شاید ماحول کا اثر ہے یا پھر تمہارے ساتھ کا؟” میں نے بھی دبے لفظوں میں اقرار کیا۔
فارم ہاؤس کے قریب پہنچ کر میں اس سے الگ ہو گیا اور تیز رفتاری سے دوسری طرف سے ہوتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا تاکہ کسی کو بھی شک نہ ہو، جبکہ وہ سامنے کے دروازے سے ہی اندر گئی۔ کھانا کھا چکنے کے بعد اب آگ کے ارد گرد کچھ گٹار پر گا بجا رہے تھے اور کچھ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق میں لگے ہوئے تھے۔ بعد میں مجھے نازیہ کی زبانی پتا چلا کہ اسے (صحیح سلامت) دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے اور پھر شرارتی گروپ کی حرکت کے بارے میں جان کر نہ صرف دوستوں بلکہ استادوں کے ہاتھوں بھی ان کی خوب شامت آئی۔ بہر حال، میری نازیہ سے اگلی ملاقات دوسری صبح بس میں ہوئی…اور وہ پورے راستے میرے ساتھ ہی بیٹھی رہی۔ میں نے آج تک خود کو بھی اس قدر باتونی نہیں پایا تھا، میں مسلسل اس سے باتیں کرتا رہا۔ اور پھر ایک امانت کی طرح میں نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ میں کیا ہوں، کہاں رہتا ہوں اور آگے کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں؛ وہ میرے بارے میں جان کر کسی بھی قسم کی حیرانی ظاہر کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں بتاتی رہی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بظاہر بہت بہادر نظر آتی ہے، مگر اندر سے ایک معصوم سی بچی ہے جس کو دنیا سے الگ تھلگ رہنے میں ہی اپنی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے کئی باتیں کی تھیں، مگر شادی اور پھر شادی کے بعد مجھے “گھر داماد” بنانے کے موضوع پر ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ہاں، نازیہ نے رخصت ہوتے ہوئے مجھے کچھ یقین دہانیاں کروائی تھیں اور پھر جیسے ہی میں نے نوکری شروع کی، امی کو اس کے گھر بھیج دیا۔ اس وقت بھی میرا ارادہ یہی تھا کہ ابھی صرف بات چیت ہو جائے اور جب تک میں اپنا گھر نہ بنا لوں، نازیہ میرا انتظار کرے۔ مگر ہمیشہ کی طرح امی کو میری زیادہ فکر تھی؛ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میں اور نازیہ چار پانچ سال انتظار میں گزار دیں، اور شاید انہیں مجھ پر اتنا اعتبار بھی نہیں تھا کہ میں قلیل وقت میں وہ سب حاصل کر سکوں گا جس کی نازیہ کو اپنے گھر میں عادت تھی۔ لہٰذا ان کی نظر میں سب سے اچھا حل یہی تھا کہ نازیہ کے گھر والے مجھے گھر داماد بنا لیں۔ اتفاق سے نازیہ کے تمام بھائی بہن شادی کر کے الگ ہو چکے تھے، اس لیے اس کے ماں باپ بھی مجھے گھر داماد بنانے پر خوش دلی سے راضی ہو گئے۔ نازیہ اس سلسلے میں خاموش رہی؛ اس نے نہ کوئی شکایت کی، نہ ہی خوشی کا اظہار کیا، مگر میرا دل بجھ گیا تھا۔
اپنی بزدلی کا احساس بڑھ گیا تھا۔ ایک ہی خیال بار بار آتا کہ کسی بھی دن نازیہ مجھے ایک بزدل اور ناکام انسان سمجھ کر دھتکار سکتی ہے۔ میری اپنی نظروں میں میری عزت کمی آ سکتی ہے اور اب تک میں جو اپنی ماں کی زبردستی کی سرپرستی کی وجہ سے خود کو بے بس محسوس کرتا رہا تھا، اب نازیہ کے سامنے خود کو ایک مضبوط اور بہادر انسان کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔ میں ایک پراعتماد اور کامیاب مرد بن کر دکھانا چاہتا تھا، اور مجھے یقین تھا کہ اگر میں کہوں گا تو نازیہ میری بات مان بھی لے گی۔ اسی لمحے نازیہ نے کروٹ لی، آنکھ کھولی اور مجھے اپنی طرف دیکھتے پا کر مسکرا کر بیٹھ گئی۔ “میں نے ایک بار پھر صرف تمہاری خاطر اس کھائی میں چھلانگ لگائی ہے نازیہ! تاکہ پہلے میں تمہیں باہر نکالوں اور پھر تم مجھے باہر نکلنے میں مدد دو۔ بولو، تیار ہو؟” میں نے مسکرا کر اس کے بکھرے بالوں کی ایک لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا۔ “اس گھنے جنگل میں اکیلے پھنسے رہنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنوں کی مدد لے لیں؟” نازیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ میں مسکرا دیا۔ ایڈونچر کی شوقین، زندگی سے خوفزدہ تھی۔
“مگر پھر لوگ ہمیں بزدلی کا طعنہ دیں گے۔ ہم کامیاب ہو بھی گئے تو منزل پر پہنچ کر بھی ہماری کامیابی صرف ہماری نہیں کہلائے گی۔ کیا تم ساری عمر کے یہ طعنے برداشت کر لو گی؟” اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا اور پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔ “آپ نے مجھے ایک بار پھر بہت حیران کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ راستہ ڈھونڈ ہی لیں گے اور مجھے باحفاظت منزل تک پہنچا دیں گے۔ چلیں! میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔”
میں نے برابر میں، چادر کمر تک اوڑھے سوتی ہوئی نازیہ کو دیکھا۔ وہ بے ترتیبی سے لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی، شاید وہ کسی ڈراؤنے خواب میں بھٹک رہی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے میں اس رات بھٹکا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر چادر درست کی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ چند ہی لمحوں میں اس کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر میں مسکرا دیا۔ حالات اس قدر بھی نہیں بگڑے کہ میں انہیں سنبھال نہ سکوں۔ اگر یہ ہاتھ میرے ہاتھ میں رہا، تو ہم مل کر کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔ آج دوسری بار میں نازیہ کے اتنا قریب تھا، جس طرح آخری سمسٹر کی آخری چھٹیوں کی آخری پہر میں پہلی بار قریب ہوا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے ہم کئی بار ملے تھے۔ کمپیوٹر سائنس کی ماسٹرز کلاس کی صرف تین لڑکیوں میں سے ایک وہ بھی تھی۔ لڑکوں کی تعداد، لڑکیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی، جو عموماً پہلی صف خالی چھوڑ کر پیچھے کی تمام نشستوں پر براجمان رہتے تھے۔ آہستہ آہستہ جب کلاس بھرنے لگی اور پہلے دن کا پہلا لیکچر شروع ہوا، تو پہلی صف میں صرف تین لڑکیاں بیٹھی تھیں اور یہی تین لڑکیاں کمپیوٹر سائنس کی ماسٹرز کلاس کا اثاثہ تھیں۔ ثروت اور سیما تو ایک دوسرے کی کزن تھیں، لہٰذا وہ ہمیشہ ایک ساتھ ہی رہتیں۔ میرے خیال میں انہوں نے نازیہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی بھی ہو گی، تو نازیہ نے اپنی تنک مزاجی اور لا ابالی پن سے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہو گا۔ نازیہ تھی ہی ایسی؛ پہاڑوں کی عاشق اور مہم جوئی کی شوقین۔
ہر چھٹی کے دن وہ کسی ایسی جگہ پہنچی ہوتی جہاں ایک عورت کا پہنچنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔ اس کے پاس ایک چھوٹی، ادھ کھلی شکاری جیپ تھی اور وہ ہر طرح کی گھریلو ذمہ داریوں سے آزاد محسوس ہوتی تھی۔ تھوڑے ہی دنوں بعد اس کی دلیری کے چرچے پوری کلاس میں ہونے لگے۔ لڑکے اس سے نت نئے ایڈونچر سے بھرپور جگہوں پر جانے کے لیے راستوں، سامان، موسم اور دیگر لوازمات کی تفصیلات معلوم کرتے نظر آتے، اور وہ کسی استاد کی طرح مدبرانہ انداز میں انہیں ایک ایک بات بتاتی۔ اس کو ایک دو بار لڑکوں کے گروپس نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا، جس پر اس نے سختی سے انکار کر دیا۔ وہ ہر جگہ اکیلی ہی جانے کی عادی تھی۔ میں نے چند دوستوں کے فیس بک پر اس کی ایسی ہی جگہوں پر تصاویر دیکھیں۔ اعلیٰ معیار کے مغربی کپڑوں میں، سر پر بڑی سی… تکونوں سے بنی ٹوپی پہنے وہ ہر تصویر میں ایک مضبوط اعصاب کی بہادر انسان نظر آتی۔ اس کے بال لمبے تھے مگر عام لڑکیوں کی طرح وہ جگہ جگہ بالوں میں کنگھی پھیرتی نظر نہیں آتی تھی۔ کپڑے مغربی ہوتے ہوئے بھی کبھی یہ تاثر نہ دیتے کہ وہ جسم کی نمائش کے لیے پہنے گئے ہیں۔ خوبصورتی اس کی یہ تھی کہ وہ ہر طرح کے میک اپ اور جیولری سے آزاد تھی، مگر اس کے ہاتھوں میں اکثر کلائیوں تک مہندی رچی رہتی جو اس کی شخصیت میں ایک انوکھا پن پیدا کر دیتی۔
چند ہی مہینوں بلکہ ہفتوں میں وہ کلاس اور یونیورسٹی میں مشہور ہو گئی؛ ایک دوست کی طرح سب سے مل کر بھی وہ الگ تھلگ ہی رہتی۔ اپنی دنیا اور اپنی زندگی پر پورا اختیار رکھتے ہوئے وہ کبھی کسی سے مدد مانگتی نظر نہیں آئی۔ دوسری طرف پوری کلاس مجھے بھی مختلف سمجھتی تھی کیونکہ میں نے بھی کبھی کسی کو اپنے بارے میں مکمل معلومات نہ دیں۔ نہ کبھی لڑکوں کے گروپ بنائے، نہ ہی کسی لڑکی سے دوستی کرنے کے بہانے ڈھونڈے، پھر بھی اساتذہ میرا نام جانتے تھے اور کلاس فیلوز ہمیشہ مجھ سے سنجیدہ گفتگو کرتے۔ پتا نہیں کیوں ان سب کو لگتا تھا کہ میں ایک بردبار، سمجھ دار اور نیک دل انسان ہوں۔ شرمیلا تو میں نہیں تھا پھر بھی میری ذرا سی ہچکچاہٹ کو بڑی اہمیت دی جاتی۔ مجھ سے نوٹس مانگتے ہوئے لڑکے بہت احتیاط برتتے اور مجھے نوٹس صحیح سلامت واپس کرنے کی بار بار یقین دہانی کرواتے۔ امتحانوں میں وہ ایک دوسرے سے ہر طرح کی چیٹنگ کے وعدے لیتے مگر مجھے پیپر کے دوران کوئی تنگ نہ کرتا۔ میری اس “لیے دیے” رہنے والی عادت اور خاموش مزاجی نے مجھے کلاس میں تھوڑا مغرور مشہور کر دیا تھا، جبکہ یہ بات صرف میں ہی جانتا تھا کہ دراصل میں ایک بزدل انسان تھا۔ میں ڈرتا تھا؛ میرے اس طرح خود کو الگ تھلگ رکھنے کے جتن کے پیچھے سب سے بڑی وجہ میری غربت تھی۔ میرا چہرہ اور میرا لباس میرا بھرم رکھ لیتے تھے، لیکن میں جانتا تھا کہ سب میں گھل مل کر میں اپنی اوقات کو کھولنے کا حوصلہ خود میں کبھی نہ پا سکا۔
میری اچھی شکل و صورت، باوقار لہجہ اور یہ بہترین لباس، یہ سب میری ماں کی انتھک محنت کا نتیجہ تھے۔ ان کو بڑا شوق تھا کہ میں ایک امیر آدمی نظر آؤں، جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک چلی جایا کرتی تھیں۔ اکثر وہ اپنے سگے امیر رشتہ داروں یا دوستوں سے مدد مانگنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتی تھیں۔ ان کی اپنی قلیل آمدنی سے تو بمشکل گھر کا خرچہ چلتا تھا، جبکہ میری اعلیٰ تعلیم اور یہ سارے لوازمات ہمیشہ مانگ تانگ کر ہی پورے کیے جاتے تھے۔ جسے میری کلاس میں “خودداری” کا نام دیا گیا، اصل میں وہ میری کم مائیگی کا احساس تھا۔ میرا احساسِ کمتری کہ میں کچھ بھی کر لوں، ان لوگوں کے برابر کبھی نہیں آ سکوں گا؛ اور پھر میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرنے سے بھی ڈرتا تھا۔ لہٰذا خود کو دور رکھنے میں ہی عافیت سمجھتا تھا۔ کئی مہینے اسی مشکل سے گزر گئے، جہاں نازیہ مجھ سے لاپروا تھی وہیں میں بھی اس پر دھیان نہ دے سکا۔ مگر پڑھائی میں میرا اور نازیہ کا زبردست ٹاکرا رہتا۔ اکثر کلاس میں اس بات پر شرط لگی ہوتی کہ اس بار امتحانوں میں کس کے اچھے نمبر آئیں گے۔ ایسے میں بھی ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نظر بھر کر دیکھا تو صرف رقابت کے جذبے سے؛ ہم ایک دوسرے سے سیدھے منہ بات تک نہ کر سکے۔
ایک دو بار مجھے دبے لفظوں میں کلاس کی چہ میگوئیوں سے معلوم ہوا کہ نازیہ کے لیے کلاس کے چند امیر ترین لڑکوں نے رشتے بھیجے، مگر اس کی طرف سے منع کر دیا گیا۔ جس سے اندازہ ہوا کہ نازیہ اپنی عملی زندگی میں بھی خود ہی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ میں یوں تو اکلوتا تھا، مگر میری غربت مجھے کبھی امی سے پوچھے بغیر کوئی کام کرنے کی اجازت نہ دیتی۔ دوسری طرف نازیہ چھ بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہونے کے باوجود، صرف امیر ہونے کی وجہ سے خود مختار تھی۔ ہم دونوں اس شہر کے دو بہت ہی مختلف حصوں میں رہائش پذیر تھے۔ شاید نازیہ نے بھی مجھ سے شادی ہو جانے کا سوچا تک نہ ہو گا، مگر قسمت ہمیں ایک دوسرے کا اس آسانی سے کر دے گی، اس کا کبھی ہمیں احساس نہ ہوا تھا۔
آخری سمسٹر تھا۔ فائنل امتحان سے پہلے آخری دو ہفتوں کی چھٹیوں میں ہمیشہ کی طرح کلاس نے سیر و تفریح کا پروگرام بنایا۔ پہلی بار چھٹیوں کے ہر تفریحی پروگرام پر میں نے معذرت کر کے جان بچائی تھی، مگر اس بار کوئی بھی عذر قبول نہ ہوا بلکہ مجھ پر کچھ استادوں نے بھی جانے کے لیے زور ڈالا، اور میں نے بھی آخر کار ہامی بھر لی۔ ایک دن جب موسم قدرے خوش گوار تھا، تو ہم سب بس میں سوار شہر سے دور بنے ہوئے ایک فارم ہاؤس میں ایک دن اور ایک رات گزارنے آ گئے۔ میں آ تو گیا تھا، مگر کسی بھی طرح کسی سے بھی بہت زیادہ گھلنے ملنے کے بجائے اپنے ساتھ چند کتابیں لے آیا تھا تاکہ کسی کونے میں بیٹھ کر پڑھتے ہوئے وقت نکال لوں گا۔ فارم ہاؤس ایک پرفضا مقام تھا۔ کافی حد تک کسی گاؤں کا نمونہ لگ رہا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے آرام کے لیے الگ الگ ہال تھے، مگر دوپہر کا کھانا کھا کر اپنے ہال میں جانے کے بجائے سب کے سب مشترکہ میدان میں ادھر ادھر ٹولیوں میں بکھرے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیوں میں مگن تھے۔
میدان کے ایک کونے پر جہاں گھنے نیم کے اونچے نیچے درخت سایہ دے رہے تھے، وہاں چند چار پائیاں بچھی تھیں۔ میں ان میں سے ایک چار پائی پر لیٹ کر کتاب پڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اچانک ایسی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں کہ مجھے نیند کے جھونکے آنے لگے۔ اسی سونے اور جاگنے کی کیفیت میں، میں نے کچھ سرگوشیاں سنیں۔ ان میں کچھ آوازیں تو صاف پہچانی جا رہی تھیں اور کچھ انجان یا شاید آہستہ بولنے کی وجہ سے بدلی ہوئی لگ رہی تھیں۔ مجھے ایک اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ہماری ہی کلاس کے لڑکوں کا وہ گروپ تھا جس میں ایڈونچر کے شوقین لڑکے شامل تھے۔ وہ سب مل کر کسی کو سبق سکھانے اور اس کے ساتھ کسی قسم کی شرارت کی تمام تر تفصیلات ایک دوسرے کو بتا رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “اس نے آتے ہی وہی جگہ منتخب کی ہے”۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ “وہاں سے رات کے اندھیرے میں واپس آنا ممکن نہیں”؛ کیونکہ وہ گھنے جنگل کے درمیان کوئی ایسی کھائی تھی جس میں اگر ایک دفعہ کوئی اتر جائے، تو جب تک اوپر سے سہارا نہ ملے وہ باہر نہیں آ سکتا تھا۔ پھر وہ وقت کا حساب کتاب کرنے لگے کہ رات کا کھانا ہونے سے پہلے کب اور کس طرح “شکار” کو کھائی تک پہنچانا ہے اور پھر خود اسے وہیں چھوڑ کر بھاگ آنا ہے۔ میں پھنسنے والے شکار کے متعلق کچھ نہ سن سکا، مگر دل میں افسوس ہوا کہ ایسے لڑکوں کی نہ دوستی اچھی ہے اور نہ دشمنی۔ بہر حال، میں تھوڑی دیر ان لوگوں کو سنتا رہا اور پھر گہری نیند سو گیا۔ دوپہر ڈھلی اور کب رات ہوئی، پتا ہی نہ چلا۔ مجھے اٹھانے فارم ہاؤس کا چوکیدار آیا۔ میرے خیال میں انتظامیہ میں سے کسی نے مجھے درخت کے نیچے سوتے دیکھ کر میری چارپائی پر خاموشی سے مچھر دانی لگوا دی تھی، اسی لیے میں اب تک آرام سے سوتا رہا ورنہ اس کھلی جگہ پر تو مچھروں کی فوج موجود تھی۔
کھانا لگ چکا تھا اور رات کے وقت کھلے میدان میں بڑی سی آگ جلا کر سب اس کے گرد بیٹھے کھانے میں مصروف تھے۔ میں نے نہانے دھونے کے بعد کھانا کھانے کا ارادہ کیا اور چوکیدار جب جانے لگا تو اس سے “کھائی” کے بارے میں پوچھا۔ میری یادداشت میں جو باتیں محفوظ تھیں، ان سے کچھ نہ کچھ نتیجہ تو نکالا ہی جا سکتا تھا۔ چوکیدار نے مجھے کھائی کے بارے میں اچھے طریقے سے سمجھا دیا کہ وہ کوئی ایسی خطرناک جگہ نہیں کیونکہ یہ علاقہ درندوں سے پاک ہے، مگر ہاں! رات کے اندھیرے میں وہاں جانا اور اکیلے رات گزارنا جو کہ بڑے دل گردے کی بات تھی۔ میں سر ہلاتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا۔ واپس آکر میں بھی ایک پلیٹ میں کچھ کھانے کی چیزیں لے کر ایک کونے میں جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اب مجھے رات بھر کتاب پڑھ کر ہی وقت بتانا تھا کیونکہ نیند تو میں پہلے ہی پوری کر چکا تھا۔ میں سنی ہوئی باتوں کے زیرِ اثر اپنے اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔ وہ شرارتی گروہ جس کے منصوبے میں نے سنے تھے، وہ سب وہاں موجود تھے اور کھانے پینے میں مصروف نظر آ رہے تھے۔ ان کی باتوں سے کسی قسم کی ناکامی محسوس نہیں ہو رہی تھی، لہٰذا میں اور بھی دلچسپی سے تمام موجود لڑکوں کا جائزہ لینے لگا۔ میرے خیال میں شرارتی گروپ کی منصوبہ بندی میں یا تو کوئی تبدیلی ہوئی تھی یا پھر مخالف گروہ کو پہلے سے ہی علم ہو جانے کی وجہ سے ان کا شرارت پر مبنی منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔ ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سامنے سے ثروت اور سیما ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گزریں اور میں چونک گیا۔ میں نے دوبارہ شرارتی گروپ کی طرف دیکھا، ان میں ایک دو وہ لڑکے بھی شامل تھے جن کے ساتھ نازیہ کے گھر رشتہ بھیجنے والا واقعہ منسوب تھا۔ میں نے بے اختیار ادھر ادھر نازیہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں، مگر وہ کہیں نظر نہیں آئی۔ پھر سوچا کہ شاید میری ہی طرح وہ بھی آدم بیزار کہیں کسی کونے میں یا ایسی ہی کسی جگہ بیٹھی اپنے آپ کے ساتھ وقت گزار رہی ہو، اور میں بلاوجہ اسے کسی شرارت کا نشانہ بنتے ہوئے سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ گروہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ مگر پھر یہ خیال آیا کہ نازیہ صرف ایک لڑکی نہیں تھی، بلکہ ان لوگوں کی ہمت کو باقاعدہ للکارنے والی لڑکی تھی، اور ایسے میں یہ شرارتی گروہ اس سے بدلہ لینے پر کمر بستہ ہو بھی سکتا تھا۔
بے چین ہو کر میں نے کھانے کی پلیٹ ایک طرف رکھ دی اور آرام سے چلتا ہوا، میدان میں ایک طرف بیٹھے لڑکوں، اساتذہ اور ان کے ساتھ آئی ہوئی ان کی فیملیز کو کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا۔ اپنی بے چینی کو ختم کرنے کا اب ایک ہی حل تھا کہ کھائی پر جا کر دیکھا جائے۔ ہال میں جا کر اپنے سامان میں سے ٹارچ، جیکٹ اور فرسٹ ایڈ کا چھوٹا پیکٹ لے کر خراماں خراماں باہر نکلا۔ اگر واقعی وہاں کوئی تھا تو اسے وہاں پھنسے ہوئے اب تک کوئی تین سے چار گھنٹے ہو چکے تھے اور ایسے میں اس کا بہت زیادہ پیاسا ہونا بھی ممکن تھا۔ میں تمام ممکنات پر غور کر رہا تھا اور اس حساب سے خود کو مکمل طور پر تیار کر کے نکلنا چاہتا تھا۔ میں نے چند ایک مزید ضروری اشیاء اپنے چھوٹے سے کندھے کے بیگ میں بھر لیں اور کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کیے بغیر کھائی کی طرف چل پڑا۔ چوکیدار نے مجھے کھائی تک پہنچنے کا مختصر ترین راستہ سمجھا دیا تھا، لہٰذا میں سکون سے سفر کر رہا تھا۔ بس مشکل یہ تھی کہ ان گھنی اور قد آور جھاڑیوں کے درمیان سے خود کو کانٹوں سے بچا کر نکالنا دشوار تھا، جس کی وجہ سے دس پندرہ منٹ کے راستے نے میرا تقریباً پون گھنٹہ لے لیا۔ بہر حال، کھائی کے دہانے پر پہنچ کر میں نے ٹارچ روشن کی، کیونکہ اب تک تو چاند کی روشنی راستہ دکھانے کے لیے کافی تھی مگر کھائی کے اندر سب کچھ اندھے کنوئیں جیسا تاریک تھا۔ لڑکوں کے بیان کے برعکس کھائی کوئی اتنی زیادہ گہری نہیں تھی، مگر کچھ اس طرح چاروں طرف سے زمین کے اندر دھنسی ہوئی تھی کہ اس میں گر کر کوئی انسان خود باہر نہیں آ سکتا تھا۔ ٹارچ کی روشنی کھائی کی تہہ تک پہنچی اور پھر ادھر ادھر گھومنے لگی۔ میں آواز دینا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ابھی تک مجھے یقین نہیں تھا کہ یہاں کوئی ہو بھی سکتا ہے، مگر اچانک میری ٹارچ کی روشنی ایک ہیولے پر پڑی تو میں جم کر رہ گیا۔ اس کی پشت میری طرف تھی، مگر میں اچھی طرح پہچان گیا تھا کہ وہ نازیہ ہی تھی۔ اس کے بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسے احتیاط سے آواز دی کہ کہیں وہ ڈر نہ جائے۔ اس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا اور ٹارچ کی روشنی براہِ راست اس کی آنکھوں پر پڑی، جن سے صاف آنسو بہہ رہے تھے۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے فوراً رخ پھیر لیا۔ “نازیہ! اس طرف آؤ، میرا ہاتھ پکڑو، میں تمہیں باہر لے چلتا ہوں، شاباش اٹھو!”
میں نے خود پر قابو پا کر جلدی جلدی کہا۔ اس نے پہلے تو میری ہدایت کو سنا ان سنا کیا، پھر جھنجلا کر اپنے پیر کی طرف اشارہ کر کے کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ چپ ہو گئی۔ شاید اس کے پیر میں چوٹ لگی تھی یا موچ آ گئی تھی۔ میں نے اپنے بیگ کو اپنی پشت پر محسوس کیا جس میں پانی کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کا کچھ سامان تھا، اس کے علاوہ بیگ میں میرا موبائل بھی موجود تھا۔ مشکل یہ تھی کہ یہاں بمشکل سگنل ملتے تھے، حالانکہ لڑکے لڑکیاں صبح سے اساتذہ کی موبائل سے دور رہنے کی ہدایات کے باوجود ایک دوسرے سے فون پر رابطے کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ میں نے ایک بار پھر اپنے ارد گرد ٹارچ کی روشنی ڈال کر جائزہ لیا اور پھر کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ نازیہ اب حیرت سے مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ میرے نیچے قدم پڑتے ہی اس نے مجھ سے پوچھا: “یہ آپ نے کیا کیا؟” “میں نے سوچا اگر تم میرے پاس نہیں آ رہی ہو، تو میں ہی تمہارے پاس چلا جاؤں،” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اب ہم ایک دوسرے کو ہیولے کی صورت نظر آ رہے تھے۔ میں اندازہ کر کے اس کے قریب پہنچ گیا۔ کھائی کے اندر زمین بہت نا ہموار تھی، لہٰذا میں کئی بار گرتے گرتے سنبھلا۔ اندر ایک عجیب طرح کی خاموشی تھی اور شاید کہیں کوئی جانور مر جانے کی وجہ سے شدید قسم کی بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں وقت گزارنا مشکل ہی نہیں، بلکہ محال تھا۔ “یہ کیا بیوقوفی ہے؟ کسی اور کو مدد کے لیے لانے کے بجائے آپ خود بھی پھنسنے کے لیے اندر آگئے؟” نازیہ نے طنز کیا اور میں ہنس پڑا۔
اپنے ساتھ کسی اور انسان کو پا کر اس کی آواز میں ایک بار پھر اعتماد محسوس ہونے لگا تھا۔ میں نے اس کے پاس بیٹھ کر بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر اسے پکڑائی اور ایک لیمپ جلا کر اس کے قریب رکھ کر خود بھی بیٹھ گیا۔ پانی اس نے جلدی جلدی پی لیا، مگر سینڈوچ شکریہ کے ساتھ واپس بیگ میں رکھوا دیا۔ میں نے لیمپ کی دھیمی روشنی میں اسے اپنے پیروں کو سہلاتے دیکھا۔ “میں بلاوجہ پریشان ہو رہی تھی، تھوڑی بہت ہمت کر کے میں چل سکتی ہوں،” اس نے مجھے اپنے پیروں کو غور سے دیکھتے پا کر اطمینان دلانے کے لیے کہا، پھر ایک ہاتھ میرے منہ کے آگے نچاتی ہوئی کہنے لگی: “مگر آپ تو نیچے ہی اتر آئے، اوپر رہتے تو شاید مجھے کھینچ لیتے۔ اب کیا کریں گے؟” “اب تم میرے کندھے پر پیر رکھ کر باہر نکلو گی اور پھر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالو گی۔ میرے خیال میں اتنے سارے ایڈونچر کر لینے کے بعد تمہیں اتنا کچھ تو کرنا آتا ہی ہوگا؟” میں نے سر ہلاتے ہوئے اطمینان سے کہا تو اس نے پھر اپنی بات دہرائی: “اس سے بہتر یہ نہ تھا کہ آپ کسی کو مدد کے لیے بلا لاتے؟” میں نے نفی میں سر ہلایا۔ “مدد کے لیے کسی کو بلاؤں گا تو تمہیں چیلنج کرنے والا گروپ اس آزمائش میں ناکامی کا طعنہ دیتا رہے گا۔ کیا تم یہ برداشت کر لو گی؟” میری بات نے میری توقع کے مطابق اسے جوش دلا دیا اور وہ میرا سہارا لے کر کھڑی ہوگئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے اوپر پہنچ گئے۔ چوکیدار نے ٹھیک ہی بتایا تھا کہ اندھیرے کے باعث…
کھائی جتنی اندھی اور خطرناک لگتی تھی، اتنی تھی نہیں۔ نازیہ اپنے ایک پیر پر زور دے کر میرے ایک کندھے پر ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ چلتی رہی اور میں اپنے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی گھنی جھاڑیوں میں راستہ بناتا رہا، ساتھ ہی اسے تمام روداد بھی سناتا رہا۔ راستے میں کئی جگہ اسے آرام دینے کی خاطر ہم رکے اور وہ زمین پر پالتی مار کر بیٹھ جاتی۔ وہ تھکی ہوئی تھی اور پیر میں چوٹ بھی تھی، پھر بھی میری وجہ سے ہمت سے کام لے رہی تھی اور میں بھی ہر لمحے اسے جوش دلاتا جاتا۔ میں اسے یاد دہانی کراتا کہ اسے یہ مہم جیت کر دکھانی ہے اور دشمن کا سر نیچا کرنا ہے۔ “ویسے میں تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ… مطلب آپ ایسے نہیں لگتے۔ آج آپ نے مجھے حیران کر دیا ہے،” نازیہ نے ایک بار پھر آرام کے وقفے کے دوران پانی پیتے ہوئے مجھ سے کہا۔ “ہاں، ایسی ہمت میں نے بھی اپنے اندر پہلے کبھی نہیں پائی تھی۔ اتنی ہمت اپنی ذات میں مجھے بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ پتا نہیں، شاید ماحول کا اثر ہے یا پھر تمہارے ساتھ کا؟” میں نے بھی دبے لفظوں میں اقرار کیا۔
فارم ہاؤس کے قریب پہنچ کر میں اس سے الگ ہو گیا اور تیز رفتاری سے دوسری طرف سے ہوتا ہوا ہال کی طرف بڑھ گیا تاکہ کسی کو بھی شک نہ ہو، جبکہ وہ سامنے کے دروازے سے ہی اندر گئی۔ کھانا کھا چکنے کے بعد اب آگ کے ارد گرد کچھ گٹار پر گا بجا رہے تھے اور کچھ ایک دوسرے سے ہنسی مذاق میں لگے ہوئے تھے۔ بعد میں مجھے نازیہ کی زبانی پتا چلا کہ اسے (صحیح سلامت) دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے اور پھر شرارتی گروپ کی حرکت کے بارے میں جان کر نہ صرف دوستوں بلکہ استادوں کے ہاتھوں بھی ان کی خوب شامت آئی۔ بہر حال، میری نازیہ سے اگلی ملاقات دوسری صبح بس میں ہوئی…اور وہ پورے راستے میرے ساتھ ہی بیٹھی رہی۔ میں نے آج تک خود کو بھی اس قدر باتونی نہیں پایا تھا، میں مسلسل اس سے باتیں کرتا رہا۔ اور پھر ایک امانت کی طرح میں نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ میں کیا ہوں، کہاں رہتا ہوں اور آگے کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں؛ وہ میرے بارے میں جان کر کسی بھی قسم کی حیرانی ظاہر کرنے کے بجائے اپنے مستقبل کے خوابوں کے بارے میں بتاتی رہی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بظاہر بہت بہادر نظر آتی ہے، مگر اندر سے ایک معصوم سی بچی ہے جس کو دنیا سے الگ تھلگ رہنے میں ہی اپنی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے سے کئی باتیں کی تھیں، مگر شادی اور پھر شادی کے بعد مجھے “گھر داماد” بنانے کے موضوع پر ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ہاں، نازیہ نے رخصت ہوتے ہوئے مجھے کچھ یقین دہانیاں کروائی تھیں اور پھر جیسے ہی میں نے نوکری شروع کی، امی کو اس کے گھر بھیج دیا۔ اس وقت بھی میرا ارادہ یہی تھا کہ ابھی صرف بات چیت ہو جائے اور جب تک میں اپنا گھر نہ بنا لوں، نازیہ میرا انتظار کرے۔ مگر ہمیشہ کی طرح امی کو میری زیادہ فکر تھی؛ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میں اور نازیہ چار پانچ سال انتظار میں گزار دیں، اور شاید انہیں مجھ پر اتنا اعتبار بھی نہیں تھا کہ میں قلیل وقت میں وہ سب حاصل کر سکوں گا جس کی نازیہ کو اپنے گھر میں عادت تھی۔ لہٰذا ان کی نظر میں سب سے اچھا حل یہی تھا کہ نازیہ کے گھر والے مجھے گھر داماد بنا لیں۔ اتفاق سے نازیہ کے تمام بھائی بہن شادی کر کے الگ ہو چکے تھے، اس لیے اس کے ماں باپ بھی مجھے گھر داماد بنانے پر خوش دلی سے راضی ہو گئے۔ نازیہ اس سلسلے میں خاموش رہی؛ اس نے نہ کوئی شکایت کی، نہ ہی خوشی کا اظہار کیا، مگر میرا دل بجھ گیا تھا۔
اپنی بزدلی کا احساس بڑھ گیا تھا۔ ایک ہی خیال بار بار آتا کہ کسی بھی دن نازیہ مجھے ایک بزدل اور ناکام انسان سمجھ کر دھتکار سکتی ہے۔ میری اپنی نظروں میں میری عزت کمی آ سکتی ہے اور اب تک میں جو اپنی ماں کی زبردستی کی سرپرستی کی وجہ سے خود کو بے بس محسوس کرتا رہا تھا، اب نازیہ کے سامنے خود کو ایک مضبوط اور بہادر انسان کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔ میں ایک پراعتماد اور کامیاب مرد بن کر دکھانا چاہتا تھا، اور مجھے یقین تھا کہ اگر میں کہوں گا تو نازیہ میری بات مان بھی لے گی۔ اسی لمحے نازیہ نے کروٹ لی، آنکھ کھولی اور مجھے اپنی طرف دیکھتے پا کر مسکرا کر بیٹھ گئی۔ “میں نے ایک بار پھر صرف تمہاری خاطر اس کھائی میں چھلانگ لگائی ہے نازیہ! تاکہ پہلے میں تمہیں باہر نکالوں اور پھر تم مجھے باہر نکلنے میں مدد دو۔ بولو، تیار ہو؟” میں نے مسکرا کر اس کے بکھرے بالوں کی ایک لٹ کو اس کے کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا۔ “اس گھنے جنگل میں اکیلے پھنسے رہنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم اپنوں کی مدد لے لیں؟” نازیہ نے مسکرا کر جواب دیا۔ میں مسکرا دیا۔ ایڈونچر کی شوقین، زندگی سے خوفزدہ تھی۔
“مگر پھر لوگ ہمیں بزدلی کا طعنہ دیں گے۔ ہم کامیاب ہو بھی گئے تو منزل پر پہنچ کر بھی ہماری کامیابی صرف ہماری نہیں کہلائے گی۔ کیا تم ساری عمر کے یہ طعنے برداشت کر لو گی؟” اس نے فوراً نفی میں سر ہلایا اور پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا دی۔ “آپ نے مجھے ایک بار پھر بہت حیران کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ راستہ ڈھونڈ ہی لیں گے اور مجھے باحفاظت منزل تک پہنچا دیں گے۔ چلیں! میں آپ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔”