꧁۞sʜᴀᴍɪ۞꧂
Pro
تپش
قسط نمبر 1
سلام دوستوں!
میں ہ… وہ ر جو رات کی خاموشی میں سلگتے جذبات کو لفظوں کا لباس پہناتا ہے۔
اندھیری رات، بند کمرہ اور اوپر تنی ہوئی چادر… مگر چادر کے نیچے ایک طوفان چھپا ہوتا ہے۔ بدن کا ہر گوشہ بےچین، سانسیں تیز، اور کپڑوں کے اندر سلگتی وہ آگ جسے بجھانے والا کوئی نہیں۔ ایسے لمحوں میں اکثر اپنے ہی بدن کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کو ساختہ مسل دیتا ہوں… جیسے اپنے ہی لمس میں سکون تلاش کرتا ہوں۔
انسسٹ کہانیاں ہمیشہ میرے دل کو چھوتی رہیں۔ پڑھتے پڑھتے کئی بار چاہا کہ کاش یہ صرف لفظ نہ ہوں بلکہ میرا سچ ہوں۔ اور پھر ایک دن ایسا ہوا کہ اپنے اردگرد کی نوک جھونک، ان کی ہنسی اور ان کی نظریں میرے اندر کے راز کو جگانے لگیں۔ عام سی باتیں… مگر میرے جسم میں بجلیاں دوڑانے کے لیے کافی تھیں۔
یقین مانیے… یہ محض کہانی نہیں۔ یہ میرے اندر کی وہ دبی ہوئی آگ ہے جسے اب چھپانا ممکن نہیں۔ ہر لفظ، ہر سطر… میرے اپنے لمس اور خواہش کی گواہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو چلے شروع کرتے ہیں
زریان کی زبانی
میرا نام آپ پڑھ چکے ۔۔۔میرا تعلق رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے گاوں سے ہے ۔۔ابا جی عالم کمال اور دو بہنیں بڑی بہن عفت اور چھوٹی بہن رانی جس کے ساتھ آگے چل کر مکالمے میں لکھے جائے گے اور آپ بیتی مطلب تپش اس کی زبانی بھی لکھی جائے گی ۔۔۔۔بڑی بہن کی شادی ہوچکی اور چھوٹی بہن رانی جو ابھی غیر شادی شدہ ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے رحیم یارخان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا ابا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنے ذاتی دس ایکڑ اراضی تھی اور ابا جان کے بھائی مطلب چچا جان کے بھی حصہ میں دس ایکڑ اراضی تھی جو پر دو بھائی مل کر کاشت کاری کرتے تھے جس سے ہمارے گھر کا نظام چل رہا تھا اور جب میرے کالج کا آخری سال چل رہا تھا تو میرے چچا عاصم کمال نے میرے ابا جی کو کہا کہ میں زمین بیچ کر لاہور شہر جانا چاہتا ہوں اور اپنی بیٹیوں کو بھی شہر میں رہ کر پڑھانا چاہتا ہوں میرے چاچے کی صرف دو ہی بیٹیاں تھی اس لئے وہ اپنے حصہ کی زمین بیچنا چاہتا ہے میرے ابا جی نے بہت سمجھایا کہ یہاں ہی رہو یہاں شہر میں بھی اچھی تعلیم ہے لیکن چچا بضد تھے مجھے زمین بیچنی ہے اور بیس ایکڑ اکٹھی بیچے گے تو اچھی قیمت مل جائے گی
قصہ مختصر آخر چچا زمین بیچ کر لاہور میں شفٹ ہوگئے اور ہمارے حصہ کے آدھے پیسے بنک جمع کروا دیئے ۔۔۔۔۔۔کچھ پیسوں سے ابا جی نے عفت باجی کی شادی کر دی اور کچھ پیسوں سے ابا جی نے مجھے روزگار کے لئے دبئی بھیج دیا اور میں کالج سے فارغ ہوتے ہی چھوٹی عمر میں روزگار کے چکر میں دبئی آگیا ۔۔۔۔۔۔
پہلے پہل تو ایک سال تک مجھے سمجھ ہی نہیں آیا میں کیا کروں
پھر ڈرائیوری سیکھ کر کفیل کی مدد سے ٹیکسی ڈرائیو شروع کر دی
شروع میں تو مجھے ٹیکسی ڈرائیو کے بارے اتنا علم نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ سب پتہ چلتا گیا اور پھر مشین کی طرح بارہ بارہ سولہ سولہ گھنٹے ٹیکسی چلاتا رہا اور خوب محنت کر کے گھر پیسے بھیجتا رہا جس سے گھر کے حالات میں کچھ بہتری آنا شروع ہوگئی تقریبا چار سے پانچ سال میں بس دو بار ہی پاکستان جاسکا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس محنت اور گھر سے دوری کی وجہ سے میرے گھر کے حالات کافی بہتر ہو چکے تھے میرے بھیجے ہوئے پیسوں سے ابا جی نے گھر کو کافی اچھا اور خوبصورت بنا لیا تھا ہمارا گھر 10مرلہ کا تھا پہلے تو وہ گاوں کے عام گھروں کی طرح ایک حویلی نما گھر تھا اس میں 3 کمرے کچن اور باتھ روم ہی تھا ۔۔۔پھر میری محنت اور ابا جی کی بدولت اب وہ حویلی نما گھر ڈبل سٹوری گھر بن چکا تھا پہلی سٹوری پر تین کمرے اور دوسری اسٹوری پر دو کمرے اٹیچ باتھ اور کچن بنا لیے تھے۔۔۔۔۔ مجھے عمان میں کام کرتے ہوئے کوئی چھ سال ہو چکے تھے اس وقت میری عمر اٹھائیس سال تھی تو میرے ابا جی نے میری شادی کا سوچا اور مجھے پاکستان بلا کر اپنے چھوٹے بھائی یعنی چچا عاصم کمال کی بڑی بیٹی عاشی سے میری شادی کر دی۔۔۔۔۔۔ عاشی کی عمر پچیس سال تھی وہ میری چھوٹی بہن رانی کی ہم عمر تھی ۔۔۔۔۔ شہر میں رہ کر شہر کے ماحول زیادہ پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔۔ اِس لیے میں جب عمان چلا جاتا تھا تو وہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر لاہور میں ہی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جب میں پاکستان شادی کے لیے آیا تو ابا جی نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور میں بھی خوش تھا مجھے عاشی شروع سے ہی پسند تھی وہ خوبصورت بھی تھی اور بھرپور سیکسی جسم کی مالک تھی۔۔۔۔۔ اس کا قد کاٹھ جسامت بھی ٹھیک تھا اور گورا چٹا دودھ جیسے رنگت کی مالک تھی۔۔۔۔۔ شادی کی رات سہاگ رات کو میں بہت خوش تھا کیونکہ آج سے ساری زندگی عاشی کے جسم سے مزہ لینا تھا برات والے دن سب کام ختم ہو کر میں جب رات کو اپنے کمرے میں گیا تو عاشی دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور پھر دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس سے کافی باتیں اور قسمیں وعدے لئے اور دیئے اور پھر میں نے شادی کی اس رات کو عاش کو صبح چار بجے تک جم کر تین بار چودا۔۔۔۔۔۔ میں ویسے بھی زمیندار کا بیٹا تھا گاؤں کے ماحول میں ہی زیادہ تر رہا تھا خالص چیزیں کھانے کا شوقین تھا میرا جسم بھی ٹھیک ٹھاک تھا اور میرا ہتھیار بھی کافی مضبوط اور لمبا تھا جس کی وجہ سے میں نے عاشی کو شادی پہلی ہی رات میں جم کر چودا تھا جس کا اس کو بھی ٹھیک ٹھا ک پتہ لگا تھا۔۔۔۔ کیونکہ صبح کو اس کی کمر میں درد ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جس کو میری چھوٹی بہن رانی نے محسوس کر لیا تھا کیونکہ وہ عاشی کی سہیلی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب میں صبح سو کر اٹھا تو عاشی میرے سے پہلے اٹھ چکی تھی اور وہ اندر باتھ روم میں نہا رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے جب بیڈ کی شیٹ پر نظر ماری تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ بیڈ کی سفید چادر بالکل صاف تھی اس پر عاشی کی پھدی کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا اور جہاں تک مجھے پتہ تھا یہ عاشی کی زندگی کی پہلی چدائی تھی اور اس میں تو اس کا میرے کافی اچھے اور مضبوط لن سے اس کی پھدی کی سیل ٹوٹنی چاہیے تھی اور خون بھی نکلنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔ بس اس ہی سوال نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا. اگلے دن ولیمہ تھا اور میں سارا دن بس یہ سوچ میں تھا کے کیا عاشی کی پھدی سیل نہیں تھی۔۔۔۔۔ کیا وہ پہلے بھی کسی سے کروا چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر لاہور میں اس کا کوئی یار ہے جس سے وہ اپنی پھدی مروا چکی ہے ۔۔۔۔۔بس یہ ہی میرے دماغ میں چل رہے تھا۔۔۔۔ یوں ہی ولیمہ والا دن بھی گزر گیا اور رات ہو گئی اور اس رات بھی میں نے دو دفعہ جم کر عاشی کی پھدی ماری لیکن سیل پھدی والی بات میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں حیران تھا کے عاشی دو دن سے دل وجان سے مجھ سے چودوا رہی ہے اور کھل کر میرا ساتھ دے رہی ہے اور ہنسی خوشی میرے ساتھ بات بھی کر رہی لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دماغ بس عاشی کی سیل پھدی والی بات پے ہی اٹک گیا تھا اور میں نے اپنے دل و دماغ میں ہی وہم پال لیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے اس کی ہونے والی بیوی صاف اور پاکباز ہو اور سیل پیک ہو لیکن میرے ساتھ تو شاید دھوکہ ہی ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ولیمہ والی رات بھی گزر گئی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کروں تو کیا کروں اور کس سے اپنے دل کی بات کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگلی صبح عاشی کے گھر والے آ گئے اور عاشی اس دن دوپہر کو اپنے ماں باپ کے ساتھ لاہور اپنے گھر چلی گئی ۔۔۔۔۔ عاشی کے چلے جانے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں ہی پڑا رہا بس اپنے وہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا میری بڑی باجی عفت بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر ہی آئی ہوئی تھی شادی کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گئی تھی۔۔۔۔۔ میں شام تک اپنے کمرے میں ہی تھا تو چھ بجے کا وقت ہو گا جب عفت باجی میرے کمرے میں آئی اور لائٹ آن کر کے میرے بیڈ کے پاس آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت جاگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ باجی میرے پاس آ کر بولی زریان کیا ہوا ہے یوں کمرے میں اکیلے کیوں بیٹھے ہو باہر سب ابا جی تمھارا پوچھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا باجی بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ باجی میرے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
اور میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا مجھے بخار تو نہیں تھا باجی بولی تمہیں بخار بھی نہیں ہے پھر طبیعت کیوں خراب ہے۔۔۔۔۔۔میں نے کہا ویسے ہی باجی تھکاوٹ سی ہو گئی تھی تو جسم میں درد تھی۔۔۔۔۔۔ باجی نے کہا چل ٹھیک ہے لیٹ جا میں تجھے دبا دیتی ہوں۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں باجی میں بالکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی تھکن کی وجہ سے ہے آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باجی سے بولا چلو باجی باہر ہی چلتے ہیں تو باجی اور میں باہر آ گئے باہر صحن میں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔۔۔۔
میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا پھر یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگا۔۔۔۔ گھر میں شاید رانی ہی تھی جو میری ہر پریشانی اور بات کو سمجھ جایا کرتی تھی وہ باجی کے چلے جانے کے بعد بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی گھر کی سا ری ذمہ داری اس پر تھی ابا جی کا خیال گھر کے کام سب وہ اکیلی کرتی تھی میں وہاں کافی دیر تک بیٹھا رہا باجی اور رانی اٹھ کر کچن میں رات کا كھانا بنانے چلی گئی۔۔۔۔۔ اور میں وہاں سے اٹھ کر سیدھا چھت پر چلا گیا اور وہاں چار پائی رکھی تھی اس پر لیٹ گیا اور دوباہ پھر سے عاشی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔ تقریبا ایک گھنٹے بعد رانی چھت پر آئی اور آ کر بولی زریان بھائی كھانا تیار ہو گیا ہے نیچے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں وہ یہ کہہ کر نیچے چلی گئی اور میں بھی وہاں سے اٹھ کر نیچے آ گیا اور سب کے ساتھ مل بیٹھ کر كھانا کھانے لگا کھانے کے دوران بھی میں بس خاموش ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
قسط نمبر 1
سلام دوستوں!
میں ہ… وہ ر جو رات کی خاموشی میں سلگتے جذبات کو لفظوں کا لباس پہناتا ہے۔
اندھیری رات، بند کمرہ اور اوپر تنی ہوئی چادر… مگر چادر کے نیچے ایک طوفان چھپا ہوتا ہے۔ بدن کا ہر گوشہ بےچین، سانسیں تیز، اور کپڑوں کے اندر سلگتی وہ آگ جسے بجھانے والا کوئی نہیں۔ ایسے لمحوں میں اکثر اپنے ہی بدن کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کو ساختہ مسل دیتا ہوں… جیسے اپنے ہی لمس میں سکون تلاش کرتا ہوں۔
انسسٹ کہانیاں ہمیشہ میرے دل کو چھوتی رہیں۔ پڑھتے پڑھتے کئی بار چاہا کہ کاش یہ صرف لفظ نہ ہوں بلکہ میرا سچ ہوں۔ اور پھر ایک دن ایسا ہوا کہ اپنے اردگرد کی نوک جھونک، ان کی ہنسی اور ان کی نظریں میرے اندر کے راز کو جگانے لگیں۔ عام سی باتیں… مگر میرے جسم میں بجلیاں دوڑانے کے لیے کافی تھیں۔
یقین مانیے… یہ محض کہانی نہیں۔ یہ میرے اندر کی وہ دبی ہوئی آگ ہے جسے اب چھپانا ممکن نہیں۔ ہر لفظ، ہر سطر… میرے اپنے لمس اور خواہش کی گواہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو چلے شروع کرتے ہیں
زریان کی زبانی
میرا نام آپ پڑھ چکے ۔۔۔میرا تعلق رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے گاوں سے ہے ۔۔ابا جی عالم کمال اور دو بہنیں بڑی بہن عفت اور چھوٹی بہن رانی جس کے ساتھ آگے چل کر مکالمے میں لکھے جائے گے اور آپ بیتی مطلب تپش اس کی زبانی بھی لکھی جائے گی ۔۔۔۔بڑی بہن کی شادی ہوچکی اور چھوٹی بہن رانی جو ابھی غیر شادی شدہ ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کر کے فارغ ہوا تھا اور آگے پڑھنے رحیم یارخان شہر کے ایک کالج میں جاتا تھا ابا جی ایک زمیندار تھے ہمارے پاس اپنے ذاتی دس ایکڑ اراضی تھی اور ابا جان کے بھائی مطلب چچا جان کے بھی حصہ میں دس ایکڑ اراضی تھی جو پر دو بھائی مل کر کاشت کاری کرتے تھے جس سے ہمارے گھر کا نظام چل رہا تھا اور جب میرے کالج کا آخری سال چل رہا تھا تو میرے چچا عاصم کمال نے میرے ابا جی کو کہا کہ میں زمین بیچ کر لاہور شہر جانا چاہتا ہوں اور اپنی بیٹیوں کو بھی شہر میں رہ کر پڑھانا چاہتا ہوں میرے چاچے کی صرف دو ہی بیٹیاں تھی اس لئے وہ اپنے حصہ کی زمین بیچنا چاہتا ہے میرے ابا جی نے بہت سمجھایا کہ یہاں ہی رہو یہاں شہر میں بھی اچھی تعلیم ہے لیکن چچا بضد تھے مجھے زمین بیچنی ہے اور بیس ایکڑ اکٹھی بیچے گے تو اچھی قیمت مل جائے گی
قصہ مختصر آخر چچا زمین بیچ کر لاہور میں شفٹ ہوگئے اور ہمارے حصہ کے آدھے پیسے بنک جمع کروا دیئے ۔۔۔۔۔۔کچھ پیسوں سے ابا جی نے عفت باجی کی شادی کر دی اور کچھ پیسوں سے ابا جی نے مجھے روزگار کے لئے دبئی بھیج دیا اور میں کالج سے فارغ ہوتے ہی چھوٹی عمر میں روزگار کے چکر میں دبئی آگیا ۔۔۔۔۔۔
پہلے پہل تو ایک سال تک مجھے سمجھ ہی نہیں آیا میں کیا کروں
پھر ڈرائیوری سیکھ کر کفیل کی مدد سے ٹیکسی ڈرائیو شروع کر دی
شروع میں تو مجھے ٹیکسی ڈرائیو کے بارے اتنا علم نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ سب پتہ چلتا گیا اور پھر مشین کی طرح بارہ بارہ سولہ سولہ گھنٹے ٹیکسی چلاتا رہا اور خوب محنت کر کے گھر پیسے بھیجتا رہا جس سے گھر کے حالات میں کچھ بہتری آنا شروع ہوگئی تقریبا چار سے پانچ سال میں بس دو بار ہی پاکستان جاسکا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس محنت اور گھر سے دوری کی وجہ سے میرے گھر کے حالات کافی بہتر ہو چکے تھے میرے بھیجے ہوئے پیسوں سے ابا جی نے گھر کو کافی اچھا اور خوبصورت بنا لیا تھا ہمارا گھر 10مرلہ کا تھا پہلے تو وہ گاوں کے عام گھروں کی طرح ایک حویلی نما گھر تھا اس میں 3 کمرے کچن اور باتھ روم ہی تھا ۔۔۔پھر میری محنت اور ابا جی کی بدولت اب وہ حویلی نما گھر ڈبل سٹوری گھر بن چکا تھا پہلی سٹوری پر تین کمرے اور دوسری اسٹوری پر دو کمرے اٹیچ باتھ اور کچن بنا لیے تھے۔۔۔۔۔ مجھے عمان میں کام کرتے ہوئے کوئی چھ سال ہو چکے تھے اس وقت میری عمر اٹھائیس سال تھی تو میرے ابا جی نے میری شادی کا سوچا اور مجھے پاکستان بلا کر اپنے چھوٹے بھائی یعنی چچا عاصم کمال کی بڑی بیٹی عاشی سے میری شادی کر دی۔۔۔۔۔۔ عاشی کی عمر پچیس سال تھی وہ میری چھوٹی بہن رانی کی ہم عمر تھی ۔۔۔۔۔ شہر میں رہ کر شہر کے ماحول زیادہ پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔۔ اِس لیے میں جب عمان چلا جاتا تھا تو وہ زیادہ تر اپنے ماں باپ کے گھر لاہور میں ہی رہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ جب میں پاکستان شادی کے لیے آیا تو ابا جی نے میری شادی بڑی دھوم دھام سے کی اور میں بھی خوش تھا مجھے عاشی شروع سے ہی پسند تھی وہ خوبصورت بھی تھی اور بھرپور سیکسی جسم کی مالک تھی۔۔۔۔۔ اس کا قد کاٹھ جسامت بھی ٹھیک تھا اور گورا چٹا دودھ جیسے رنگت کی مالک تھی۔۔۔۔۔ شادی کی رات سہاگ رات کو میں بہت خوش تھا کیونکہ آج سے ساری زندگی عاشی کے جسم سے مزہ لینا تھا برات والے دن سب کام ختم ہو کر میں جب رات کو اپنے کمرے میں گیا تو عاشی دلہن بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور پھر دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی اس سے کافی باتیں اور قسمیں وعدے لئے اور دیئے اور پھر میں نے شادی کی اس رات کو عاش کو صبح چار بجے تک جم کر تین بار چودا۔۔۔۔۔۔ میں ویسے بھی زمیندار کا بیٹا تھا گاؤں کے ماحول میں ہی زیادہ تر رہا تھا خالص چیزیں کھانے کا شوقین تھا میرا جسم بھی ٹھیک ٹھاک تھا اور میرا ہتھیار بھی کافی مضبوط اور لمبا تھا جس کی وجہ سے میں نے عاشی کو شادی پہلی ہی رات میں جم کر چودا تھا جس کا اس کو بھی ٹھیک ٹھا ک پتہ لگا تھا۔۔۔۔ کیونکہ صبح کو اس کی کمر میں درد ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جس کو میری چھوٹی بہن رانی نے محسوس کر لیا تھا کیونکہ وہ عاشی کی سہیلی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن جب میں صبح سو کر اٹھا تو عاشی میرے سے پہلے اٹھ چکی تھی اور وہ اندر باتھ روم میں نہا رہی تھی ۔۔۔۔۔ میں نے جب بیڈ کی شیٹ پر نظر ماری تو مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ بیڈ کی سفید چادر بالکل صاف تھی اس پر عاشی کی پھدی کے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا اور جہاں تک مجھے پتہ تھا یہ عاشی کی زندگی کی پہلی چدائی تھی اور اس میں تو اس کا میرے کافی اچھے اور مضبوط لن سے اس کی پھدی کی سیل ٹوٹنی چاہیے تھی اور خون بھی نکلنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔ بس اس ہی سوال نے میرا دماغ خراب کر دیا تھا. اگلے دن ولیمہ تھا اور میں سارا دن بس یہ سوچ میں تھا کے کیا عاشی کی پھدی سیل نہیں تھی۔۔۔۔۔ کیا وہ پہلے بھی کسی سے کروا چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر لاہور میں اس کا کوئی یار ہے جس سے وہ اپنی پھدی مروا چکی ہے ۔۔۔۔۔بس یہ ہی میرے دماغ میں چل رہے تھا۔۔۔۔ یوں ہی ولیمہ والا دن بھی گزر گیا اور رات ہو گئی اور اس رات بھی میں نے دو دفعہ جم کر عاشی کی پھدی ماری لیکن سیل پھدی والی بات میرے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں حیران تھا کے عاشی دو دن سے دل وجان سے مجھ سے چودوا رہی ہے اور کھل کر میرا ساتھ دے رہی ہے اور ہنسی خوشی میرے ساتھ بات بھی کر رہی لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دماغ بس عاشی کی سیل پھدی والی بات پے ہی اٹک گیا تھا اور میں نے اپنے دل و دماغ میں ہی وہم پال لیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے اس کی ہونے والی بیوی صاف اور پاکباز ہو اور سیل پیک ہو لیکن میرے ساتھ تو شاید دھوکہ ہی ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ولیمہ والی رات بھی گزر گئی اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی میں کروں تو کیا کروں اور کس سے اپنے دل کی بات کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگلی صبح عاشی کے گھر والے آ گئے اور عاشی اس دن دوپہر کو اپنے ماں باپ کے ساتھ لاہور اپنے گھر چلی گئی ۔۔۔۔۔ عاشی کے چلے جانے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں ہی پڑا رہا بس اپنے وہم کے بارے میں ہی سوچتا رہا میری بڑی باجی عفت بھی اپنے بچوں کے ساتھ گھر ہی آئی ہوئی تھی شادی کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گئی تھی۔۔۔۔۔ میں شام تک اپنے کمرے میں ہی تھا تو چھ بجے کا وقت ہو گا جب عفت باجی میرے کمرے میں آئی اور لائٹ آن کر کے میرے بیڈ کے پاس آ گئی ۔۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت جاگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ باجی میرے پاس آ کر بولی زریان کیا ہوا ہے یوں کمرے میں اکیلے کیوں بیٹھے ہو باہر سب ابا جی تمھارا پوچھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا باجی بس ویسے ہی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لئے لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ باجی میرے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
اور میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا مجھے بخار تو نہیں تھا باجی بولی تمہیں بخار بھی نہیں ہے پھر طبیعت کیوں خراب ہے۔۔۔۔۔۔میں نے کہا ویسے ہی باجی تھکاوٹ سی ہو گئی تھی تو جسم میں درد تھی۔۔۔۔۔۔ باجی نے کہا چل ٹھیک ہے لیٹ جا میں تجھے دبا دیتی ہوں۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں باجی میں بالکل ٹھیک ہوں بس تھوڑی سی تھکن کی وجہ سے ہے آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ میں بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور باجی سے بولا چلو باجی باہر ہی چلتے ہیں تو باجی اور میں باہر آ گئے باہر صحن میں سب بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔۔۔۔۔
میں بھی وہاں بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا پھر یہاں وہاں کی باتیں کرنے لگا۔۔۔۔ گھر میں شاید رانی ہی تھی جو میری ہر پریشانی اور بات کو سمجھ جایا کرتی تھی وہ باجی کے چلے جانے کے بعد بھی میرا بہت خیال رکھتی تھی گھر کی سا ری ذمہ داری اس پر تھی ابا جی کا خیال گھر کے کام سب وہ اکیلی کرتی تھی میں وہاں کافی دیر تک بیٹھا رہا باجی اور رانی اٹھ کر کچن میں رات کا كھانا بنانے چلی گئی۔۔۔۔۔ اور میں وہاں سے اٹھ کر سیدھا چھت پر چلا گیا اور وہاں چار پائی رکھی تھی اس پر لیٹ گیا اور دوباہ پھر سے عاشی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔۔۔ تقریبا ایک گھنٹے بعد رانی چھت پر آئی اور آ کر بولی زریان بھائی كھانا تیار ہو گیا ہے نیچے آ جاؤ سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں نے کہا ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں وہ یہ کہہ کر نیچے چلی گئی اور میں بھی وہاں سے اٹھ کر نیچے آ گیا اور سب کے ساتھ مل بیٹھ کر كھانا کھانے لگا کھانے کے دوران بھی میں بس خاموش ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے