• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story جیسی کرنی ویسی بھری ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
933
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ہمارے آباؤ اجداد عرب سے ہجرت کر کے بلوچستان میں آ بسے۔ کچھ عرصہ وہیں قیام کے بعد ہم ایک دیہات میں مستقل طور پر آباد ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا گلہ بانی کا پیشہ ختم ہو گیا اور کھیتی باڑی ہمارا ذریعہ معاش بن گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کا شعور بھی پیدا ہوا۔ آنے والی نسلوں نے تعلیم حاصل کی اور بیشتر نے پولیس کے محکمے میں ملازمت اختیار کر لی۔ جب ہماری نسل پروان چڑھی، تب تک خاندان کے کئی افراد تعلیم یافتہ ہو چکے تھے، مگر اب بھی پرانے رسم و رواج کے پابند تھے۔ خاص طور پر، وہ برادری سے باہر لڑکیوں کے رشتے کرنے کو معیوب سمجھتے تھے۔میرے ایک چچا جو محکمہ جنگلات میں گارڈ تھے، ان کا دل اپنے بیلدار کی بیوی سائزہ پر آ گیا۔ انہوں نے اس عورت کے شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کیا اور پھر سائزہ سے شادی کر لی۔ وہ بیلدار اپنی بیوی سے بے حد محبت کرتا تھا، مگر ہمارے خاندان کے دباؤ میں آ کر اس نے طلاق دے دی۔ وہ طلاق کے بعد بہت غم زدہ رہنے لگا۔ وہ اپنے سابقہ بیوی اور میرے چچا کو بددعائیں دیتا رہتا کہ دولت کی خاطر اس کی بیوی نے بے وفائی کی۔جب سائزہ ہماری چچی بن گئیں، تو وہ نہایت خوش دکھائی دیتی تھیں، گویا دنیا کی تمام نعمتیں انہیں مل گئی ہوں۔ مگر وہ خانماں برباد بیلدار ہر وقت یہ کہتا رہتا تھا کہ خدا نے چاہا تو تم دونوں کی ایک بیٹی ہو گی، جس کی وجہ سے تم لوگ خون کے آنسو رو گے، اور وہ لڑکی بھی کبھی سکون سے نہ جی پائے گی، بلکہ در بدر کی ٹھوکریں کھائے گی۔لوگ اس کی باتوں پر افسوس کرتے، کچھ اسے دیوانے کی بڑ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔اللہ کی قدرت کہ چچا سے شادی کے ڈیڑھ سال بعد سائزہ کے بطن سے ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام فردوس رکھا گیا۔ وہ بچی بے حد خوبصورت تھی، کیونکہ اس کے والدین حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھے۔فردوس مجھ سے چھ برس بڑی تھی، اس لیے میں اسے فردوس باجی کہہ کر بلاتا۔ اس نے گاؤں کے اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ جب وہ بڑی ہوئی، تو خاندان میں اس کے ہم عمر کوئی مناسب رشتہ نہ تھا۔ تب دادی نے خاندان سے باہر دور کے رشتہ داروں میں اس کا رشتہ طے کر دیا۔لڑکے کا نام امجد تھا۔ وہ مڈل پاس تھا، مگر اکلوتا بیٹا ہونے کے باعث اسے ماں باپ کی ساری جائیداد ملنی تھی۔ اس کی صرف ایک بہن تھی، جو شادی شدہ تھی۔دوسری طرف، وقت گزرنے کے ساتھ چچا کی دولت کم ہو چکی تھی۔ سائزہ نے ان کی جائیداد فروخت کر کے یا اپنے نام کروا کے کافی کچھ اپنے قابو میں کر لیا تھا۔فردوس باجی کی شادی ہوئی تو سسرال والوں نے پچاس تولے سونا دیا اور دوسرے گاؤں میں ایک بہترین پختہ مکان بھی بنا دیا۔ امجد نہایت شریف اور نمازی انسان تھا۔ اس نے اور اس کے والدین نے فردوس کو خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کی، مگر وہ شاید اپنی ماں کی فطرت پر گئی تھی۔اس کا دل سسرال میں کم ہی لگتا تھا، حالانکہ وہاں کوئی تنگی نہ تھی۔ ساس سسر خوش اخلاق، نند شادی شدہ، اور شوہر محبت کرنے والا انسان تھا۔ اس کے باوجود وہ اکثر میکے میں رہتی اور چوری چھپے ماں کو پیسے بھی دیتی۔چچا کے انتقال کے بعد سائزہ نے اپنی بیٹی پر انحصار بڑھا دیا۔ چونکہ چچا کی پہلی بیوی کے بچے بھی موجود تھے، اس لیے سائزہ کو وہاں رہنے میں مشکل پیش آتی، یوں وہ فردوس کے گھر مستقل آ گئی۔سائزہ ایک فضول خرچ عورت تھی اور روپے پیسے کو پانی کی طرح بہاتی تھی۔ فردوس کا شوہر مالی طور پر آسودہ تھا، اس لیے سائزہ کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ تھا، مگر امجد کے خاندان کو فردوس اور اس کی ماں کے طور اطوار پسند نہ تھے۔وقت گزرتا گیا۔ فردوس کو اللہ نے ایک بیٹی اور ایک بیٹے سے نوازا، مگر وہ بچوں کی تعلیم و تربیت سے غافل رہی۔ زیادہ تر وقت سستی، آرام طلبی اور سوشل میل جول میں گزرنے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا بیٹا حاصل خان مڈل کے بعد آگے نہ پڑھ سکا اور بری صحبت میں پڑ گیا۔

فردوس باجی کو کبھی اس بات کا احساس نہ ہوا کہ ان کا اکلوتا بیٹا کس راہ پر گامزن ہے، مگر امجد خان اپنے بیٹے کے بگڑتے رویّے سے دل گرفتہ رہنے لگا۔ جب حاصل نے نشے کی لت میں حد سے بڑھنا شروع کیا، تو یہ غم اس کے باپ کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹنے لگا۔ امجد اسے بار بار سمجھاتا، نصیحت کرتا، مگر حاصل گستاخی سے پیش آتا۔ایک روز خبر آئی کہ حاصل نے کسی سے شدید جھگڑا کیا اور پستول نکال کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ یہ خبر امجد خان کے لیے بجلی بن کر گری۔ صدمے کے مارے اسے فالج کا حملہ ہو گیا۔ چند روز اسپتال میں رہنے کے بعد وہ تو گھر آ گیا، مگر اب نہ ذہنی حالت پہلے جیسی رہی اور نہ جسمانی۔ دایاں بازو مفلوج ہو چکا تھا، اور باتوں کا ربط بھی بگڑ گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب امجد کو بیوی کی توجہ اور تیمار داری کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، مگر فردوس کے مزاج میں صبر و تحمل نام کو نہ تھا۔ چند روز خدمت کی، پھر تنگ آ کر شوہر کو اس کی بہن کے گھر چھوڑ آئی اور صاف کہہ دیا کہ اب تم اسے سنبھالو، میں تھک گئی ہوں۔سائزہ نے بیٹی کو مشورہ دیا کہ تمہارا شوہر معذور ہو چکا ہے۔ اگر رشتہ داروں نے موقع پا لیا تو جائیداد پر قبضہ کر لیں گے۔ تمہارا بیٹا جوان ہے، اس کے ذریعے آہستہ آہستہ زمینیں فروخت کرواتی رہو اور جو روپیہ ہاتھ آئے، اسے تم دونوں اپنی تحویل میں لے لو، تاکہ کل کو جب شوہر نہ رہے، تو تمہیں کوئی مالی کمی نہ ستائے۔ادھر امجد کی بہن بے چاری بھائی کی خدمت میں مصروف رہی، ادھر فردوس اور حاصل جائیدادیں بیچ کر اسے کنگال کرتے رہے۔ دولت عیش و عشرت میں لٹائی جاتی رہی۔ اس ظلم و بے وفائی کے بوجھ تلے دبے امجد پر ایک اور فالج کا حملہ ہوا، جو جان لیوا ثابت ہوا۔ وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔اب فردوس اور اس کا بیٹا مکمل آزاد تھے۔ حاصل خان نے نشے کے ساتھ ساتھ بدچلن لوگوں کی صحبت بھی اختیار کر لی۔ ایک مرتبہ گانے والی کے کوٹھے پر دو افراد سے جھگڑا ہو گیا، اور نشے کی حالت میں اس نے چاقو سے دونوں کو زخمی کر دیا، جو بعد میں چل بسے۔ پولیس نے حاصل کو گرفتار کر لیا، مگر دولت اور ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے دوست کے ذریعے اسے سزا سے بچا لیا گیا۔قانون سے تو بچ نکلا، مگر مقتولین کے ورثاء کی طرف سے انتقامی خطرہ لاحق رہنے لگا۔ اپنی حفاظت کے لیے اس نے رائفل بردار باڈی گارڈ رکھ لیے، اور ساتھ ساتھ باپ کی زمینیں بھی بیچتا گیا۔ شادی کا کبھی ارادہ نہ کیا۔ حتیٰ کہ اپنے باپ کا رہائشی مکان بھی فروخت کر دیا۔ ماں بیٹا شہر میں ایک کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے۔فردوس کی بیٹی حنا اب جوان ہو چکی تھی۔ ماں اپنے شوہر کا سارا اثاثہ گنوا چکی تھی، بیٹا اوباش نکلا، تو اس نے اب بیٹی سے امیدیں وابستہ کر لیں۔ وہ چاہتی تھی کہ بیٹی کی شادی ایسی جگہ ہو جہاں پیسے کی ریل پیل ہو۔ اس کی نظر اپنے ایک سسرالی رشتہ دار ارباب حسان پر تھی، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل، چالیس برس کا، شادی شدہ اور تین بیٹوں کا باپ تھا۔ اس کی بیوی شہر بانو بہت خوبصورت تھی، اور ارباب نے اس کے لیے شہر میں نیا گھر بھی بنوایا تھا۔فردوس کا ارباب کے گھر آنا جانا اس وقت شروع ہوا جب حاصل ایک قتل کے کیس میں پھنسا تھا۔ وکیل ارباب نے ان کی مدد کی اور حاصل سزا سے بچ نکلا۔ چونکہ وہ برادری کے لوگ تھے، اس لیے ارباب نے تعلق داری نبھائی۔اسی دوران حنا نے شہر بانو سے دوستی گانٹھ لی۔ روز شام کو بن سنور کر ارباب کے گھر پہنچ جاتی، اور شہر بانو کو بہن کہہ کر گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتی۔ اس چالاکی سے اس نے سیدھی سادی شہر بانو کا اعتماد جیت لیا۔ بانو اپنی تین بیٹیوں کی پرورش میں اتنی مصروف رہتی کہ اردگرد کی باتوں پر دھیان نہ دے پاتی، یہاں تک کہ شوہر کو بھی بھرپور وقت نہ دے سکتی۔اب وکیل صاحب کے کئی ذاتی کام حنا کے ذمہ لگنے لگے، مثلاً ان کی کتابیں ترتیب دینا، الماری میں کپڑے رکھنا، اور استری وغیرہ کرنا۔ حنا کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ دراصل، فردوس اور اس کی بیٹی کو ارباب خان جیسے بااثر وکیل کا تحفظ درکار تھا۔

ستم یہ تھا کہ جہاں آنے والے برے دنوں کے خدشات فردوس باجی کو اندر ہی اندر کھائے جا رہے تھے، وہیں ان کی ماں، یعنی ہماری چچی سائرہ، بھی ان پر ایک مستقل بوجھ بن چکی تھیں۔ ہڈیوں کی بیماری کے سبب وہ ایک گٹھری سی بن گئی تھیں، چلنے پھرنے سے معذور۔ یہ وہی عورت تھی جسے اس کا سابق شوہر، بیلدار، بے وفائی کے صدمے میں بددعائیں دیا کرتا تھا۔اب یہ عورت خود سے پانی پی سکتی تھی نہ گلاس تھام سکتی تھی۔ ہاتھوں کی انگلیاں ہتھیلیوں کی طرف مڑ کر جم گئی تھیں۔ جس عورت نے اپنے شوہر کی تیمار داری نہ کی، آج اسی کو رات دن معذور ماں کی دیکھ بھال کرنا پڑ رہی تھی۔ماں کی لاچاری کے سبب فردوس باجی سخت پریشان رہتی تھیں۔ ایسے میں ان کی دعائیں رنگ لائیں۔ وکیل صاحب، ارباب حنان، حنا کی خوبصورتی اور اداؤں کے اسیر ہو گئے، اور آخرکار فردوس اپنی بیٹی کی شادی ارباب سے کروانے میں کامیاب ہو گئیں۔ارباب خان نے پہلے شہر میں ایک کرائے کا مکان لیا، جہاں فردوس باجی، ان کی معذور والدہ سائرہ، حنا اور جنا کو رکھا۔ کچھ عرصے بعد فردوس کا بیٹا حاصل بھی وہاں آ کر بس گیا۔ یوں بیوی کا پورا خاندان ہی ارباب کے زیرِ سایہ آ گیا۔امجد خان کی بیوہ بہن کے حصے میں آنے والی دو مربع اراضی بھی حاصل کے ہاتھ نہ لگنی چاہیے تھی، مگر جب وہ پھوپھی بیمار ہوئیں تو حاصل نے خوشامد اور خدمت کے ذریعے وہ زمین بھی اپنے نام کروا لی۔ وہ آخری پونجی بھی شراب و کباب کی محفلوں میں اڑا دی گئی۔ارباب حنان کی پہلی بیوی، شہر بانو، کے بھائی اثر و رسوخ والے لوگ تھے۔ جب انہیں حقیقت کا علم ہوا تو انہوں نے بہنوئی سے جھگڑا کیا۔ بات اتنی بڑھی کہ ارباب نے شہر بانو کو طلاق تو نہ دی، مگر اسے اس کے میکے بھیج دیا۔ وہ روتی دھوتی اپنے بیٹوں سمیت بھائیوں کے گھر جا پہنچی۔جاتے وقت وہ بھی بلک بلک کر فردوس اور حنا کو ویسی ہی بددعائیں دے گئی جیسی کبھی بیلدار نے دی تھیں۔شہر بانو کا میکہ دیہات میں تھا۔ بھرا پرا گھر چھوڑ کر وہ وہیں جا بسی۔ چونکہ اس کا خاندان صاحبِ حیثیت تھا، انہوں نے بیٹی اور نواسوں کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ارباب سے ہر قسم کا تعلق ختم کر دیا۔ ارباب اب اپنے بیٹوں سے بھی نہ مل پاتا۔ البتہ وہ ان کے تعلیمی اخراجات اور بیوی کا خرچ بھیجتا رہا۔شہر بانو اکثر پچھتاتی تھی کہ اس نے حنا پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کیوں کیا۔ وہی حنا اب اس کے شوہر اور گھر کی مالک بن بیٹھی تھی۔ وہ خوبصورت بنگلہ جو اس نے بیٹوں کی تعلیم کے لیے بنوایا تھا، اس پر بھی حنا اور اس کے میکے والے قابض ہو چکے تھے۔ بخت، عیش، شوہر کی محبت، نوکر، چاکر، گاڑیاں—سب کچھ حنا کے حصے میں آ گیا تھا۔ فردوس کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں۔ حنا، اپنی خوبصورتی اور نو عمری کے باعث وکیل صاحب کے دل پر راج کر رہی تھی۔ اللہ نے اسے اولاد کی نعمت سے بھی نوازا۔ پہلے بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام **لالہ رخ** رکھا، پھر دو بیٹے ہوئے۔ خاندان میں خوبصورتی جیسے وراثت میں چلی آتی تھی، لالہ رخ بھی بے حد حسین تھی۔ جو دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔لیکن شاید اسے کسی کی نظر لگ گئی۔ آٹھ سال کی عمر میں ایک حادثے کے دوران چوٹ لگنے سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ماں اور بیٹی کو تب بھی کچھ شعور نہ آیا کہ کسی کی دنیا برباد کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ مکافاتِ عمل کا پہلا شکار لالہ رخ بنی۔ہمارے خاندان میں ایک فوتگی پر فردوس باجی اور حنا ہماری والدہ سے ملنے آئیں۔ تبھی حنا مجھے کمزور سی لگی۔ وہ پہلے بہت تندرست تھی، چہرہ چاند کی طرح دمکتا تھا۔ اماں نے پوچھا، فردوس، تمہاری بیٹی کو کیا ہوا؟ کیا وہ اپنے گھر میں خوش نہیں؟ فردوس بولی، بچی کی بیماری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ایک دن صحن میں پانی پڑا ہوا تھا، پھسل کر گر گئی۔ تب سے کمر میں درد رہنے لگا۔ نشتر اسپتال لے گئے، ایکسرے وغیرہ ہوئے۔ علاج چل رہا ہے مگر روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں اعصابی کمزوری ہے۔ دعا کریں اللہ شفا دے۔ میری نواسی لالہ رخ بھی اسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہی۔ کچھ دن بعد خبر ملی کہ حنا کی طبیعت بہت بگڑ چکی ہے اور وہ نشتر اسپتال میں داخل ہے۔ ایک ہفتے بعد اطلاع آئ کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔ بتایا گیا کہ صبح دس بجے جنازہ ہوگا۔ہم بھی وہاں گئے۔ فردوس باجی غم سے نڈھال تھیں۔جنازے میں ارباب کی پہلی بیوی، شہر بانو، بھی موجود تھی۔ حالات کی ستم ظریفی یہ کہ وہی عورت جس کے عیش و آرام کو حنا نے چھین کر اسے اس کے ہی گھر سے نکالا تھا، آج اس کی میت پر بیٹھی تھی۔ اور اپنی سوتن کی ماں کو غم سے بے ہوش ہوتا دیکھ رہی تھی-

شہر بانو کے بیٹے اب جوان ہو چکے تھے۔ بڑا بیٹا، صفدر، باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وکیل بن چکا تھا۔ ایک دن جب وہ بیٹے باپ سے ملنے آئے، تو ارباب خان نے ان سب کو گلے سے لگا لیا۔ یہ وہی بیٹے تھے جو کبھی اپنی ماں کے ساتھ روتے ہوئے اس گھر سے نکلے تھے۔ اس گھر سے، جہاں سے ان کا بچپن، ان کا باپ اور ان کا عیش و آرام صرف ایک عورت کی وجہ سے چھن گیا تھا۔ آج وہ عورت، یعنی حنا، صرف پینتیس برس کی عمر میں قبر کی مٹی تلے سو چکی تھی۔کچھ عرصہ تک فردوس باجی ارباب خان کے گھر میں، اپنی نواسی لالہ رخ اور نواسوں کے ساتھ رہتی رہیں۔ مگر پھر رفتہ رفتہ ان کا دل گھٹنے لگا، کیونکہ شہر بانو کے بیٹوں نے باپ کے گھر آنا جانا شروع کر دیا تھا۔ اور آخر وہ انہی کا گھر تھا—باپ کا گھر، ان کی پرورش کی جگہ۔ بھلا کون انہیں روک سکتا تھا؟دوسرے لفظوں میں، فردوس، اس کی معذور ماں سائرہ اور بیٹا حاصل، اس گھر میں اب بن بلائے مہمانوں کی طرح تھے۔ایک روز تینوں بیٹوں نے باپ سے کہا، اب تو آپ کی دوسری بیوی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس گھر کو دوبارہ امی کی ضرورت ہے۔ آپ انہیں واپس لے آئیں۔ ارباب خان، جوان بیٹوں کی بات ٹال نہ سکے۔ انہوں نے شہر بانو کے بھائیوں سے معافی مانگی اور صلح کی درخواست کی۔ لڑکوں نے بھی اپنے ماموؤں سے بات کی، اور یوں شہر بانو اس گھر میں واپس آ گئیں—اسی گھر میں، جہاں کی وہ اصل مالکہ تھیں۔شہر بانو کی واپسی کے بعد گھر کی کایا پلٹ گئی ۔ بدبختی کے دن گزر چکے تھے، اب خوش نصیبی کی صبح طلوع ہو چکی تھی۔ وہ پھر سے گھر کی حاکم بن گئی تھیں۔ اور فردوس باجی مکمل طور پر پسِ منظر میں چلی گئیں۔یہ بات فردوس باجی کے لیے ناقابلِ برداشت تھی کہ وہ عورت، جسے کبھی اس گھر سے نکال باہر کیا گیا تھا ، آج دوبارہ ہر شے پر قابض ہو چکی تھی ۔ اب گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا، نہ کھانا پکتا، نہ نوکروں کو حکم دیا جاتا۔ سب کچھ شہر بانو کی مرضی اور پسند سے ہوتا۔ان تمام حالات کا سب سے زیادہ اثر لالہ رخ پر پڑا۔ نانی یعنی فردوس اسے سوتیلی ماں کے خلاف بھڑکاتی رہتی، اور وہ شہر بانو سے بدتمیزی کرنے لگتی۔ جب باپ سمجھاتا، تو اس کی بھی ایک نہ سنتی۔شہر بانو، سب کچھ برداشت کرتی رہیں۔ وہ اس لڑکی کو شوہر کی بیٹی سمجھ کر صبر سے کام لیتیں، لیکن دل میں تکلیف ضرور سمیٹتی رہیں۔آخرکار، ارباب خان نے حقیقت جان لی۔ انہیں اندازہ ہوا کہ گھر میں فساد کی اصل جڑ فردوس باجی ہی ہیں ۔چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب فردوس، اس کی بیمار ماں، اور نکمے بیٹے کو گھر سے رخصت کر دیا جائے ۔ یوں وہ تمام لوگ، جو کبھی شہر بانو کے گھر پر قابض ہو گئے تھے، آج اسی گھر سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔

اب ان لوگوں کے رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا تھا۔ وہ زمینیں، جو کبھی مربوں میں تھیں، حاصل ہڑپ کر گیا۔ اس کی ماں، فردوس، نے بھی اپنی بے تدبیری اور ناسمجھی میں یہاں تک نہ سوچا کہ کم از کم اپنے رہنے کے لیے ایک گھر ہی بچا لے۔حاصل، اپنے جیسے ہی ایک عیاش دوست کے ہاں عارضی قیام پر چلا گیا، اور فردوس باجی اپنی معذور ماں سائرہ کے ساتھ تنہا رہ گئیں۔چند دن میری والدہ نے ان پر ترس کھا کر انہیں اپنے گھر میں پناہ دی، لیکن ان کی عادات میں وہ خاندانی شائستگی نہ تھی جس کی توقع کی جاتی تھی۔ انہوں نے اور ان کی ماں نے مل کر گھر میں میری بھابھیوں کے لیے طرح طرح کی پریشانیاں پیدا کرنا شروع کر دیں۔آخرکار ایک روز میرے بڑے بھائی نے صاف الفاظ میں کہا:باجی، آپ والدہ کو لے کر کسی اور گھر چلی جائیں۔ ہم کرایہ دے دیں گے، لیکن آپ ہمارے گھر میں مزید نہیں رہ سکتیں۔چنانچہ وہ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئیں۔ادھر حاصل کی قسمت بھی دم توڑ چکی تھی۔ جب وہ ارباب خان کے تحفظ سے محروم ہوا، تو مقتولین کے ورثا، جو مدت سے موقع کی تاک میں تھے، اس پر ٹوٹ پڑے۔ ایک دن، انہوں نے گولی مار کر اسے قتل کر دیا۔فردوس باجی پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ بیٹی کا دکھ ابھی تازہ تھا، کہ اب بیٹے کی موت کا صدمہ بھی سہنا پڑا۔ وہ صدمے سے نڈھال ہو گئیں۔ اب ان سے نہ اپنی معذور ماں کی دیکھ بھال ہو پاتی تھی، نہ ہی خود کو سنبھال پاتی تھیں۔یہ خبر جب بیلدار کے ان بیٹوں کو ملی، جو اس کی دوسری بیوی سے تھے، تو انہوں نے ترس کھا کر اپنے باپ کی مطلقہ بیوی، یعنی فردوس کی ماں سائرہ بچی کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اب ایسی حالت میں تھیں کہ پیشاب و پاخانہ میں لتھڑی رہتی تھیں، اور فردوس باجی کو ماں کی اس حالت کا ہوش نہ تھا، وہ تو اپنے غم میں غرق تھیں۔ایک دن ایسا آیا جب فردوس باجی، بھری دنیا میں بالکل تنہا رہ گئیں۔حنا کے بچے اب باپ کے پاس تھے۔ ان کی سوتیلی ماں شہر بانو نے ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلوک کیا، ان کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ وہ باپ کے گھر میں رہنے لگے اور انہوں نے نانی کو بالکل فراموش کر دیا، حالانکہ یہی بچے کبھی فردوس کی آنکھوں کے تارے تھے۔انہوں نے بھی آخرکار وفا نہ کی۔پھر ایک دن ایک اجنبی دروازے پر آیا اور دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا۔اس نے کہا، میں فردوس کا پڑوسی ہوں۔ وہ کئی دنوں سے بیمار ہیں اور اکیلی پڑی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ آپ لوگ ان کے رشتہ دار ہیں، برائے مہربانی جا کر انہیں لے جائیں۔ وہ اب تنہا رہنے کے قابل نہیں رہیں۔ بڑے بھائی ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ ہم فردوس باجی کو دوبارہ اپنے گھر لائیں، مگر والدہ کو رحم آ گیا۔ انہوں نے بھائی کو سمجھایا اور مجھے ساتھ لے کر فردوس باجی کے پاس گئیں۔بے شک، ان کی والدہ یعنی سائرہ نہایت سخت مزاج اور خودغرض عورت تھیں، اور ہمارے خاندان میں انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ لیکن فردوس باجی تو ہماری چچا زاد تھیں۔ ہم کیسے انہیں ایسے بے سہارے حال میں چھوڑ سکتے تھے؟بالآخر میں اور امی انہیں لینے گئے۔جب ہم ان کے کرائے کے مکان پہنچے، وہ بستر پر پڑی تھیں۔ خود سے اٹھنے کی طاقت نہ تھی۔ بیماری، بڑھاپے، تنہائی اور بھوک پیاس نے انہیں کھوکھلا کر دیا تھا۔ وہ محض ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکی تھیں، اور ان کے جسم سے بدبو آ رہی تھی۔امی نے انہیں صاف ستھرا کیا، کپڑے بدلوائے اور اسپتال لے گئیں۔ مگر ان کی زندگی کی شام ڈھل چکی تھی۔ وہ اسپتال سے زندہ واپس نہ لوٹ سکیں۔پندرہ دن تک زندگی کی آخری جنگ لڑنے کے بعد، وہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔بیلدار کی بددعا سائرہ چچی کو تو لگی ہی، لیکن ہماری بے قصور کزن فردوس باجی بھی اس بددعا کی لپیٹ میں آ گئیں۔ شاید ان پر شہر بانو کی آہیں بھی اثر کر گئیں۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

بے شک، کسی کا دل دکھانا، اس کے حق میں ظلم کرنا یا کسی کا سکھ چھین لینا — یہ سب لوٹ کر آتا ہے۔ کیونکہ اللہ ہر دل میں بستا ہے، اور دل توڑنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top