• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Love Story حسنِ نظر

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,724
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
امی مجھے آفس کے کام کے سلسلے میں لاہور جانا ہے۔ آپ بھی ساتھ چلیں حارث نے شہناز بیگم سے کہا۔ نہیں بیٹا! میں لاہور نہیں جا سکتی۔ وہاں بہت سردی ہوتی ہے اور اس عمر میں سفر کرنا بھی مشکل ہے۔ تم چلے جاؤامی، مجھے وہاں تقریباً ایک ہفتہ لگ جائے گا اور آپ کو یہاں اکیلا چھوڑ کر جانا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔ اگر آپ بھی ساتھ چلیں گی تو اچھا رہے گا۔ میں جہاز کا ٹکٹ لے لیتا ہوں۔کوئی بات نہیں، محلے والے بہت اچھے ہیں۔ کئی سالوں کا ساتھ ہے، سب خیال رکھتے ہیں۔او ہو امی… آپ تو اکثر اپنے لاہوری رشتے داروں، خاص طور پر تایا جان کی فیملی کو یاد کرتی ہیں۔ ان سے مل لیجیے گا۔ تھوڑا سا ماحول بدلے گا تو طبیعت بھی بہتر ہو جائے گی۔بیٹا، میں پھر کبھی چلی جاؤں گی۔ اور ہاں، یاد تو آتا ہے سب کا۔ سارا بچپن، جوانی لاہور میں گزری۔ پھر شادی ہوئی تو یہاں آ گئی۔ اب یہاں کے موسم کی عادت ہو گئی ہے۔ اس عمر میں سفر کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے۔ ویسے بھی موبائل فون ہے، اگر خدا نخواستہ کچھ ہوا تو فوراً تمہیں فون کر لوں گی۔ خیر، یہ بتاؤ کہ تم نے جانا کب ہے؟ایک ہفتہ ہے آپ کے پاس سوچنے کے لیے۔ مجھے اگلے ہفتے، آج ہی کے دن جانا ہے۔اس دفعہ تو نہیں، اگلی بار جب تم لاہور جاؤ گے، تب میں بھی ساتھ چلوں گی۔وعدہ کریں۔شہناز بیگم یہ سن کر ہنس پڑیں اور بولیںتم تو بچوں کی طرح وعدہ کروا رہے ہو۔ چلو، ٹھیک ہے… وعدہ! بلکہ پکا وعدہ۔اپنی بات پر قائم رہے گا۔چلو، اب بس بھی کرو۔ خیر سے جاؤ اور خیر سے واپس آؤ۔اگلے ہفتے جس رات حارث نے لاہور جانا تھا، اس دن صبح وہ اپنا بیگ پیک کر رہا تھا کہ شہناز بیگم کچھ تحفے اور مٹھائی کا ایک بڑا سا ڈبہ لیے اس کے پاس آئیں۔حارث، تم لاہور میں ذیشان کے گھر رکو گے۔ یہ کچھ تحفے اور مٹھائی ہے اُن لوگوں کے لیے۔ مانا کہ ہم ان لوگوں سے کافی عرصے سے نہیں ملے، مگر وہ تمہارے تایا کا گھر ہے۔ تایا اور تائی نے کیا ہی اچھی تربیت کی ہے اپنے بچوں کی۔ کتنی اپنائیت سے ملتے ہیں۔ سارے مل کر رہتے ہیں، میرا تو دل خوش ہو جاتا ہے۔ بہت دعائیں نکلتی ہیں اُن سب کے لیے۔ تمہارے تایا اور تائی تو ایک سال کے فرق سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔اگر وہ سب مل کر نہ رہتے، تو کیا آپ اُن کو دعائیں نہ دیتیں؟حارث کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔بیٹا، میں تب بھی دعائیں دیتی۔ اتنے اچھے ہیں سب۔ اور اگر اچھے نہ بھی ہوتے تو اُن کے لیے اور زیادہ دعائیں نکلتیں کہ وہ اچھے بن کر ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ اب یہ پکڑو، اور مٹھائی رکھ لو۔شہناز بیگم نے ساری چیزیں اس کی طرف بڑھائیں۔ارے امی، میں تو مذاق کر رہا تھا۔ اور ہاں، میں ذیشان بھائی کے گھر نہیں رکوں گا۔ اگر آپ ساتھ چلتیں تو وہاں رک جاتا، مگر اب میں اپنے دوست راشد کے دور کے رشتے دار کے گھر رکوں گا، کیونکہ جس جگہ مجھے کام کے سلسلے میں جانا ہے، وہ علاقہ اُن کے گھر کے قریب ہے۔ میرا مطلب ہے کہ شہر کے اندر زیادہ دور نہیں جانا پڑے گا، جبکہ ذیشان بھائی کا گھر اس علاقے سے کافی دور ہے۔ راشد اپنے ان رشتے داروں کی کافی تعریف کرتا ہے، کہ بہت مہمان نواز لوگ ہیں۔تو کیا تم ذیشان والوں سے نہیں ملو گے؟ اپنوں کے ہوتے ہوئے غیروں کے گھر کیوں رکو گے؟ملوں گا، مگر پہلے دفتر کا کام اہم ہے، وہ مکمل کر لوں، پھر وقت نکال کر ضرور آؤں گا۔اور امی! راشد کئی بار اپنے ان رشتے داروں کے گھر رک چکا ہے۔ اگر ان لوگوں نے مجھے اپنے گھر رکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ دکھائی، تو میں فوراً ذیشان بھائی کے گھر چلا جاؤں گا۔اچھا، یہ تحفے تو میں ذیشان بھائی کو دے آؤں گا، مگر مٹھائی؟ یہ مٹھائی تو تب تک خراب ہو جائے گی۔ اور آپ بھی اتنا بڑا سا ڈبہ لے آئی ہیں!ماشاءاللہ، تمہارے تایا کا خاندان بڑا ہے۔ سب ساتھ رہتے ہیں، اس لیے بڑا سا ڈبہ لائی ہوں۔ ویسے تم بھی صحیح کہہ رہے ہو، مٹھائی تب تک خراب ہو جائے گی۔ تم جن کے گھر رک رہے ہو، اُنہیں دے دینا۔اور تحفوں پر میں نے سب کے نام لکھ دیے ہیں۔ اس طرح تمہیں تحفے دینے میں آسانی ہوگی۔اور ہاں، جہاں تم رک رہے ہو، ان لوگوں کا نام، موبائل نمبر اور ایڈریس سب مجھے بتا کر جانا۔ان کا نام سلیمان کلیم ہے۔ باقی موبائل نمبر اور ایڈریس میں آپ کو میسج کر دیتا ہوں۔
***

رات کا کھانا جلدی کھا کر، حارث اپنی ماں سے ڈھیر ساری دعائیں لے کر لاہور کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں پہنچا تو سلیمان اُسے خود اسٹیشن پر لینے آیا ہوا تھا۔ اس نے بڑی گرمجوشی سے حارث سے مصافحہ کیا اور لاہور آنے پر خوش آمدید کہا۔ حارث یہ سن کر مسکرا دیا۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے اسٹیشن سے باہر نکلے اور رکشے میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔سلیمان نے پوچھا کہ کیا یہ اس کی لاہور کی پہلی آمد ہے۔ حارث نے بتایا کہ نہیں، یہ اس کے دادا اور نانا کا شہر ہے۔ وہ اکثر اپنے والدین کے ساتھ لاہور آیا کرتا تھا، مگر اب چونکہ ملازمت میں مصروف ہے، اس لیے کافی عرصے بعد یہاں آنا ہوا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ نانا کی طرف کے رشتے دار تو یہاں اب نہیں رہے، سب لوگ مختلف شہروں اور ملکوں میں جا بسے ہیں۔ بس ایک تایا کا گھرانہ ہے اور چند دوسرے رشتہ دار۔ ان سے بھی ملاقات کا ارادہ ہے۔ تاہم، چونکہ وہ لوگ لاہور کے دوسرے کنارے پر رہتے ہیں اور جس علاقے میں حارث کا کام ہے وہ سلیمان کے گھر کے قریب ہے، اس لیے یہاں رہائش رکھی ہے۔سلیمان نے بتایا کہ راشد نے اُسے فون پر سب کچھ بتا دیا تھا۔ اتنے میں ان کا گھر آ گیا۔ سلیمان نے رکشے کا کرایہ ادا کیا اور دروازے کی گھنٹی بجائی۔ دروازہ اس کے چھوٹے بھائی سلیم نے کھولا۔ وہ گیٹ سے باہر آیا اور حارث سے بڑی اپنائیت سے ملا، جیسے برسوں کا یارانہ ہو۔ پھر وہ اس کا سامان اٹھا کر اندر لے گیا۔ ان کا گھر بہت چھوٹا سا تھا، مگر دونوں بھائیوں کے اخلاق بہت بڑے لگ رہے تھے۔ جس اپنائیت اور خوش مزاجی سے وہ دونوں حارث سے ملے، اُس سے وہ مطمئن ہو گیا اور دل ہی دل میں اپنے دوست راشد کا شکریہ ادا کرنے لگا کہ کتنے اچھے لوگوں سے ملوایا ہے۔ ورنہ آج کل تو لوگ اپنے سگوں کو بھی نہیں پوچھتے۔سلیم نے اسے صحن سے سائیڈ سے اندر آنے کو کہا۔ حارث “اچھا” کہہ کر اس کے پیچھے ہو لیا۔ ابھی وہ صحن سے گزر رہے تھے کہ تار پر ٹنگے کچھ دوپٹے حارث کے چہرے سے ٹکرائے۔ اُس نے ایک جھٹکے سے انہیں ایک طرف کیا۔ سلیم نے کپڑوں کو یوں ہٹاتے دیکھ کر کچھ خفگی محسوس کی اور کہا کہ ذرا آرام سے، یہ ہینڈ پینٹ کپڑے ہیں، کہیں خراب نہ ہو جائیں، ورنہ صبح ابا جی… سلیم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔حارث نے ان کپڑوں پر گہری نظر ڈالی۔ ان پر کی گئی پینٹنگ اسے بہت پسند آئی۔ دراصل، اسے پینٹنگ کا جنون کی حد تک شوق تھا اور وہ فنکاروں کی دل سے قدر کرتا تھا۔ وہ ایک طرف سے ہوتا ہوا عقب میں بنے آخری کمرے تک پہنچا۔ سلیم نے اس کا سامان کمرے میں ایک طرف رکھا۔ سلیمان نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا اور دونوں بھائی کمرے سے نکل گئے۔کمرے سے نکلتے ہی سلیم نے باہر کسی کو آواز دی کہ یہ کپڑے ہٹا لیں، اگر خراب ہو گئے تو ہمیں قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ حارث نے یہ سنا تو شرمندہ ہو گیا اور دل میں سوچنے لگا کہ کسی نے کتنی محنت سے وہ پینٹنگ کی ہو گی اور اس نے غصے میں کپڑے ایک طرف کر دیے۔ وہ شرمندہ سا بیٹھا تھا کہ سلیم پانی کا گلاس لے کر آیا اور اسے دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو اُسے آواز دے دینا، اس کا نام سلیم ہے اور وہ سلیمان بھائی کا چھوٹا بھائی ہے۔حارث نے شرمندگی سے سلیم کو مخاطب کیا اور کہا کہ وہ اپنی اُس حرکت پر معذرت خواہ ہے جو اس سے سرزد ہوئی۔ سلیم نے حیران ہو کر پوچھا کہ کون سی حرکت؟ حارث نے جواب دیا کہ باہر جو پینٹ والے کپڑے تار پر ٹنگے ہوئے تھے، وہ اُس نے غصے سے ایک طرف کر دیے تھے۔سلیم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ اوہ، اچھا… دراصل اس گھر میں پینٹنگ والے کپڑوں کو لے کر کوئی بہت زیادہ حساس ہے۔ آئندہ بس تھوڑی احتیاط کر لیجیے گا۔ سلیم کو اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اپنی بہن کا ذکر کسی غیر مرد کے سامنے کرے، اس لیے وہ بات کو مزید آگے نہ بڑھا سکا، حالانکہ اس کے منہ سے پہلے ہی بے ساختہ کچھ نکل چکا تھا۔ابھی وہ کچھ اور بات کرتے کہ سلیم کی امی نے آواز دے دی۔ وہ جانے کے لیے مڑا ہی تھا کہ حارث نے اُسے آواز دی اور بیگ میں سے مٹھائی کا ڈبہ نکال کر دیا۔ سلیم شکریہ کہتا ہوا جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔حارث نے کمرے کا جائزہ لیا، جو سلیقے سے سجا ہوا تھا۔ وہ سفر کی تھکن کی وجہ سے تھوڑی دیر آرام کرنے کی غرض سے بستر پر لیٹ گیا۔ ابھی اُسے لیٹے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سلیمان اور سلیم کھانے کی ٹرے لے آئے۔ تینوں نے ایک ساتھ کھانا کھایا اور ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔اگلے دن صبح حارث ناشتہ کرتے ہی اپنے دفتری کام کے سلسلے میں روانہ ہو گیا۔ سارا دن وہ کام میں مصروف رہا۔ رات کا کھانا اس نے باہر ہی کھا لیا تھا اور سلیم کو فون کر کے بتا بھی دیا تھا۔ رات وہ تھوڑی دیر سے گھر واپس آیا۔ اسی طرح وہ اپنے دفتری کاموں کے سلسلے میں تین چار دن مصروف رہا۔ ایک دن وہ شام کو کچھ جلدی گھر واپس آ گیا۔ دروازہ سلیمان نے کھولا۔ ابھی وہ دونوں صحن سے گزر رہے تھے کہ حارث کو صحن میں پینٹ کیے ہوئے کپڑے تار پر ٹنگے نظر آئے۔ ایک دو دوپٹے تو اُسے بہت ہی پسند آئے۔ ان کا کلر کمبینیشن اسے بےحد زبردست لگا۔ اس کے منہ سے بے ساختہ “واہ” نکلتے نکلتے رہ گیا۔ اس کا دل اُن ہاتھوں کو دیکھنے کے لیے مچلنے لگا جنہوں نے یہ شاہکار تخلیق کیے تھے، تاہم وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ اس دفعہ کپڑے ایک طرف ٹنگے ہوئے تھے۔ وہ سب بہت دیدہ زیب اور خوبصورت لگ رہے تھے۔ اگلے دن اسے اپنے رشتے داروں سے ملنے جانا تھا اور اس سے اگلے دن کراچی واپسی تھی، اس لیے وہ کمرے میں آ کر اپنا سامان پیک کرنے لگا۔اگلی صبح اس نے سلیمان اور سلیم کا شکریہ ادا کیا اور اپنے رشتے داروں کی طرف چلا گیا۔ سب سے مل کر وہ وہیں سے ٹرین میں کراچی کے لیے روانہ ہو گیا۔ راستے بھر وہ سلیمان اور اس کے گھر والوں کی مہمان نوازی، اور خاص طور پر سویرا اور اس کی فیبرک پینٹنگ کے بارے میں سوچتا رہا۔ وہ تصورات میں خود ہی سویرا کے بارے میں ایک خاکہ بنانے لگا کہ وہ ہاتھ کتنے خوبصورت ہوں گے جنہوں نے اتنی مہارت سے پینٹنگ کر کے ان کپڑوں کو بیش قیمت بنا دیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ راشد سے اس متعلق ضرور پوچھے گا۔ یہ سوچتے ہوئے اس کے دل میں ایک خوشگوار سا احساس پیدا ہوا۔کراچی پہنچنے کے اگلے روز اس نے راشد کو فون کیا۔ اُس سے سلیم اور سلیمان کے گھر والوں کی مہمان نوازی کی بہت تعریف کی اور جب رہا نہ گیا تو اپنے ذہن کی الجھن بھی پوچھ ہی لی۔ راشد! کیا اُس گھر میں کوئی لڑکی، میرا مطلب ہے، سویرا نام کی لڑکی، فیبرک پینٹنگ کرتی ہے؟فیبرک پینٹنگ؟ راشد نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔ کون سویرا؟ اور کیسی فیبرک پینٹنگ؟ اور تُو کیوں اس بارے میں معلومات لے رہا ہے؟ خیریت تو ہے؟ تیرا کیا لینا دینا اُس کی پینٹنگ سے؟ مانا کہ میں ان کی طرف جاتا رہتا ہوں، مگر میں تو اپنے کام سے کام رکھتا ہوں۔ ان کے گھر میں کوئی لڑکی یا خاتون سلائی کرتی ہوں، کڑھائی یا پینٹنگ؟ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔تب حارث نے اُسے اُن پینٹ شدہ کپڑوں کے بارے میں بتا دیا۔ راشد ہنستے ہوئے بولا، یار حارث! مجھے تو تیری بات سن کر بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر تُو ان پینٹنگ والے کپڑوں میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ کیا آنٹی کے کپڑے پینٹ کروانے ہیں یا اپنے؟ اب وہ حارث کی باتوں سے محظوظ ہو رہا تھا۔میں مذاق نہیں کر رہا، سنجیدگی سے پوچھ رہا ہوں۔اوہ، تو تُو تو بہت ہی سیریس ہو گیا ہے۔ مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے۔ بات کچھ اور ہی ہے…کہیں اس سے پہلے کہ راشد کچھ اور کہتا، حارث نے اس کی بات کاٹی۔تو میرا دوست نہیں، بھائی کی طرح ہے۔ مجھے معلوم کر کے بتا کہ وہاں پینٹنگ کون کرتا ہے؟ اور سویرا باجی ان کی کون ہیں؟ ساتھ ہی ان لوگوں کی مہمان نوازی کا بھی شکریہ ادا کر دینا کہ انہوں نے میرا بہت خیال رکھا۔ تو ان کا رشتے دار ہے، میں تو غیر ہوں۔ بہت شکریہ کہنا ان سب سے۔ راشد نے جواب دیا کہ میں تیرا دوست ہوں اور بھائی بھی، مگر شکریہ اگر تیرے گھر سے ادا ہو تو زیادہ بہتر ہوگا۔ حارث نے پوچھا کہ کیا مطلب؟ راشد نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ تُو آنٹی سے کہہ کہ وہ تیری طرف سے ان کا شکریہ ادا کر دیں اور باتوں باتوں میں سویرا باجی، میرا مطلب ہے سویرا، کے بارے میں معلومات بھی لے لیں۔ خواتین گھریلو معلومات حاصل کرنے میں ماہر ہوتی ہیں۔ میں پوچھتا اچھا نہیں لگوں گا۔ یہ کوئی مہذب طریقہ تو نہیں ہے کہ لڑکے گھر کی خواتین کے بارے میں معلومات حاصل کرتے پھریں۔ اور تجھے اندازہ تو ہو گیا ہو گا کہ وہ شریف اور خاندانی لوگ ہیں۔ میرے اس طرح پوچھنے پر کہیں برا نہ مان جائیں اور آئندہ مجھے اپنے گھر میں گھسنے بھی نہ دیں۔ راشد نے اسے راہ دکھائی۔ حارث کو اس کی بات بالکل صحیح لگی۔ وہ فون بند کر کے کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اپنے کمرے سے نکل کر امی کے پاس چلا گیا، جو تخت پر بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں۔ وہ بھی تخت پر ان کے پاس جا بیٹھا اور انہیں محبت سے دیکھنے لگا۔ شہناز بیگم نے اسے یوں قریب بیٹھے اور ٹکٹکی باندھے دیکھا تو پوچھا، کیا بات ہے بیٹا؟ کوئی بات کرنی ہے؟ حارث نے کہا کہ امی، آپ سے کچھ کہنا ہے۔ اور مجھے کیسے پتا چلا کہ تمہیں کچھ کہنا ہے؟ اور کیا معلوم کروانا ہے، اور کس کا شکریہ ادا کروانا ہے؟ ذرا کھل کر بات کرو۔ حارث نے کہا، امی وہ آپ سے لاہور فون کروانا ہے، سلیمان کے گھر۔ وہ لوگ اتنے اچھے اخلاق کے مالک ہیں، انہوں نے میری اتنی اچھی مہمان نوازی کی کہ میرے پاس الفاظ نہیں ان کی تعریف کے لیے۔ آپ ان کا شکریہ ادا کر دیں۔ اور… امی، وہاں ایک سویر انام کی لڑکی رہتی ہے، جو فیبرک پینٹنگ کرتی ہے۔ آپ نے بس اتنا معلوم کرنا ہے کہ وہ ان لوگوں کی کیا لگتی ہے؟ آخر وہ ہے کون، جو اتنی زبردست پینٹنگ کرتی ہے؟ شہناز بیگم نے آنکھیں سکیڑیں اور حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے بولیں، جب سے تم لاہور سے آئے ہو، تب سے اٹھتے بیٹھتے اُن کی تعریف کیے جا رہے ہو۔ ٹھیک ہے، میں ان کا شکریہ ادا کر دوں گی، مگر یہ سویرا کون ہے؟ اور یہ پینٹنگ… یہ کیا چکر ہے؟ حارث نے کہا یہی تو معلوم کرنا ہے، کہ وہ لڑکی کون ہے، جو اتنی خوبصورت پینٹنگ کرتی ہے۔ آپ پلیز، میرا یہ کام کر دیں۔ شہناز بیگم نے کہا دیکھو بیٹا، میں کوئی انٹیلیجنس ایجنسی تو ہوں نہیں کہ جا کر معلومات کرتی پھروں۔ اور تمہیں یہ کیسے پتا چلا کہ اس گھر میں سویر انام کی لڑکی بھی رہتی ہے؟ مجھے پوری بات سچ سچ بتاؤ۔ تب حارث نے سارا معاملہ ان کے گوش گزار کر دیا۔ ساری بات سن کر بھی مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر تمہیں اس پینٹنگ کرنے والی میں اتنی دلچسپی کیوں ہو رہی ہے؟ خیریت تو ہے بیٹا جی؟ اور کیا تم نے پوری بات بتا دی ہے؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ تم نے اس لڑکی کو پینٹنگ کرتے دیکھا ہو اور مجھ سے اور راشد سے جھوٹ بول رہے ہو؟ کہیں تم لڑکی تو پسند کر کے نہیں آگئے؟ اف بیٹا، انہوں نے تم پر اعتبار کیا اور تم نے ان کے گھر کی لڑکی پر نظر جما دی؟ کیا میں نے تمہاری یہ تربیت کی ہے؟ تم نے ہماری عزت خاک میں ملا دی۔ اور کہیں وہ لڑکی، میرا مطلب ہے سویرا، وہ بھی تو تمہیں پسند کرنے نہ لگی ہو؟ آگ دونوں طرف تو نہیں لگی ہوئی؟ حارث نے کہا، امی آگ دونوں طرف نہیں لگی، بلکہ صرف ایک طرف، یعنی میری طرف لگی ہے۔ اور میں نے آپ لوگوں کی کوئی عزت خاک میں نہیں ملائی۔ بلکہ جو بات میں نے آپ اور راشد کو بتائی ہے، وہ بالکل سچ ہے۔ میں نے سویرا کا صرف کام دیکھا ہے، اسے یا اس گھر کی کسی خاتون کو نہیں دیکھا۔ میری بات کا یقین کریں۔ مجھے صرف سویرا کا نام اور کام پتا ہے، یہ نہیں معلوم کہ وہ دکھنے میں کیسی ہے، کس طرح بات کرتی ہے۔ کہتے ہیں نا کہ آرٹسٹ کی انگلیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ اور آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن میں جب بھی مجھے کوئی کاغذ ملتا، اخبار یا سالنامہ، میں جگہ جگہ ڈرائنگ کرتا تھا۔ میں بڑا ہو کر آرٹسٹ بننا چاہتا تھا، مگر آپ اور ابو نے مجھے آرٹس کا سبجیکٹ نہیں لینے دیا، اور ایم بی اے کروا دیا۔ قصہ مختصر، میں اس لڑکی، میرا مطلب ہے سویرا، سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں ہمیشہ سے کسی آرٹسٹ کو شریکِ حیات بنانا چاہتا تھا۔ شہناز بیگم نے حیرت سے کہا، ہیں؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں تو یہ بات پہلی مرتبہ سن رہی ہوں کہ تم کسی آرٹسٹ سے شادی کرنا چاہتے ہو! اور وہ بھی اسے دیکھے بغیر؟ اگر ایسا ہی ہے تو ساتھ والی حالہ شمیم کی نواسی ہے، وہ جب بھی ان کے گھر رکنے آتی تھی، سارے گھر کی دیواروں پر پنسل سے نقش و نگار بنا جاتی تھی۔ سارے گھر والے محبت میں کچھ نہ کہتے، مگر اس کے واپس جانے کے بعد دیواریں صاف کرواتے۔ اگر کہو تو اُس سے بات چلاؤں تمہاری شادی کی؟ دیکھے بھالے لوگ ہیں۔ حارث نے کہا، امی کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ وہ تو بہت چھوٹی ہے مجھ سے۔ شہناز بیگم بولیں، کیا ہو گیا تمہیں؟ انٹر میں پڑھتی ہے، بچی نہیں رہی۔ اور تم جو بغیر دیکھے لڑکی پسند کر آئے ہو، وہ بھی اگر ننھی سی نکلی تو پھر کیا کرو گے؟ یا بہت عمر کی نکلی یا شادی شدہ؟ پھر اس کا پیچھا چھوڑ دو گے یا تب بھی اُس سے شادی کے خواب دیکھتے رہو گے؟ حارث نے جواب دیا، امی یہ سب کہہ کر میری خوشی پر اوس نہ ڈالیں کہ شادی شدہ ہو گی یا بڑی عمر کی… اور آپ سے یہی تو معلوم کروانا ہے۔ میں ابھی سلیمان کو فون ملا رہا ہوں، آپ ان کی امی سے بات کریں۔بیٹا، یہ شادی بیاہ کے معاملات بڑے نازک ہوتے ہیں۔ صرف لڑکے یا لڑکی کا نام یا کام نہیں دیکھا جاتا، بلکہ پورے خاندان کے بارے میں چھان بین کرنی پڑتی ہے۔ حارث نے ان کی بات کاٹی، امی، آپ نے میری شادی کہیں نہ کہیں تو کرنی ہے، تو یہیں کروا دیں۔ وہ راشد کے رشتے دار ہیں، وہ جانتا ہے اُنہیں۔ شہناز بیگم بولیں، میں تو تمہیں بڑا سمجھ دار انسان سمجھتی تھی، مگر تم تو بہت ہی نادان نکلے۔ محض اس قیاس پر کہ آرٹسٹ کی انگلیاں خوبصورت ہوتی ہیں، تو اس کی انگلیاں بھی خوبصورت ہوں گی، تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟ کوئی سنے گا تو تمہاری بات پر ہنسے گا اور حیرت بھی کرے گا، جیسے میں ہو رہی ہوں۔ حارث بولا، امی، میں فون ملا رہا ہوں، آپ بات کریں۔ پھر حارث نے سلیمان کو فون ملایا۔ کچھ دیر بعد دونوں کی مائیں آپس میں بات کرنے لگیں۔ خیریت دریافت کرنے کے بعد شہناز بیگم نے ان کا بہت شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے حارث کی اتنی اچھی مہمان نوازی کی، اور یہ بھی کہا کہ جب بھی ان کا کراچی آنے کا پروگرام بنے، تو ضرور ان کے گھر آئیں، بلکہ وہیں آ کر ٹھہریں۔ پھر انہوں نے سب بچوں کے متعلق پوچھا، تب پتا چلا کہ ان کی ایک بیٹی بھی ہے جس کا نام سویرا ہے۔ یہ جان کر شہناز بیگم کو بہت خوشی ہوئی کہ سویرا کی نہ تو کہیں منگنی ہوئی ہے اور نہ شادی۔ وہ ایک اسکول ٹیچر ہے۔ ابھی فون بند ہی کیا تھا کہ حارث خوشی سے بول اٹھا، شکر ہے، سویرا غیر شادی شدہ ہے! شہناز بیگم بولیں، ارے! کیسے ایک غیر لڑکی کا نام اپنے منہ سے لیے چلے جا رہے ہو؟ حارث نے کہا، امی، آپ نے پینٹنگ کے بارے میں تو پوچھا ہی نہیں! بولیں، ایک دم سے یہ کیسے پوچھتی؟ اگر وہ مجھ سے یہ پوچھ لیتیں کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میری بیٹی پینٹنگ کرتی ہے، تو میں کیا جواب دیتی؟ یہ کہ میرے بیٹے نے آپ کے گھر پینٹ کیے ہوئے کپڑے دیکھے تھے؟ اب تم چپ کر کے بیٹھو اور دعا کرو، اگر سویرا تمہارے نصیب میں لکھی ہو گی تو تمہیں مل جائے گی۔ ادھر حسنہ بیگم شہناز بیگم کی باتوں سے شک میں پڑ گئیں کہ آخر وہ سویرا میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہی تھیں؟ کیا اُن کے بیٹے نے سویرا کو دیکھ لیا ہے؟ مگر حارث نے سویرا کو دیکھا ہی کب تھا؟ شاید سلیم کے ساتھ اسکول آتے جاتے دیکھ لیا ہو؟ وہ تو اسی علاقے میں کام کے سلسلے میں آیا تھا۔ بڑا ہی چالاک لڑکا نکلا۔ ویسے سلیمان اور سلیم تو اس کی بہت تعریف کر رہے تھے۔ اللہ جو کرے بہتر کرے۔دو دن گزر چکے تھے۔ شہناز بیگم اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھیں کہ حارث نے ایک بار پھر سویرا سے شادی کی بات چھیڑ دی۔ شہناز بیگم بولیں، دیکھو بیٹا! اگر تم سنجیدہ ہو اور واقعی وہیں شادی کرنا چاہتے ہو تو پہلے میں اپنی تسلی کروں گی۔ مجھے راشد کی امی سے پہلے اس بارے میں بات کر لینے دو۔ وہ ان کے رشتے دار ہیں، چاہے دور کے ہی سہی، اور بقول تمہارے راشد ان کے گھر آتا جاتا بھی ہے۔ تو پہلے میں ان سے کچھ پوچھ لوں، پھر ہی آگے کوئی بات ہوگی۔ حارث بولا، یہ کیا بات ہوئی امی؟ آپ پہلے پوچھ کچھ کروائیں گی؟ کچھ لوگ ان کی تعریف کریں گے، کچھ برائی… امی، یہ آج کل کا دور ہے، یہاں جب کسی کو کوئی پسند آ جائے تو فوراً رشتہ بھیج دیا جاتا ہے اور شادی کر لی جاتی ہے۔ شہناز بیگم نے کہا، ملنے تو دو مجھے ان لوگوں سے، ان سے ملوں گی، پرکھوں گی، تب ہی کوئی فیصلہ کروں گی۔ تم تو ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہو۔ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو، میں تمہیں غلط لوگوں میں نہیں دے سکتی۔ مجھے تو یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ تمہیں اچانک شادی کی اتنی جلدی کیوں ہو گئی ہے؟ پہلے تو تمہیں کبھی اتنا شوق نہ تھا، اب بنا دیکھے ہی مرے جا رہے ہو؟ بیٹا! ایسے معاملات میں دھوکے بھی ہو جاتے ہیں، بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ تم ابھی نہیں سمجھو گے ان باتوں کو۔ حارث بولا، ہاں، اکلوتا ہوں، تو سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے گا، ورنہ اگر دس بہن بھائی ہوتے تو جہاں دل چاہتا بیاہ دیتے۔ میں تو اکلوتا ہو کر پھنس گیا۔ شہناز بیگم نے کہا، تم میری بات کا غلط مطلب لے رہے ہو۔ تم میرے اکلوتے بیٹے ہو تو تمہاری شادی سوچ سمجھ کر ہی کروں گی۔ اگر میرے دس بچے بھی ہوتے تو بھی ہر ایک کی شادی احتیاط سے ہی کرتی۔ اور میں نے کب تمہاری وہاں شادی سے انکار کیا ہے؟ بس اتنا کہا ہے کہ مجھے اپنی تسلی کر لینے دو۔ حارث بولا، تو پھر آپ اپنی تسلی کے لیے ویڈیو کال کر لیں۔ بولیں، بالکل نہیں۔ میں خود لاہور جاؤں گی اور اپنی تسلی کر کے آؤں گی۔ اب تم مجھے کام کرنے دو۔ ویسے بھی تمہاری باتوں میں لگ کر کھانے پکانے میں دیر ہو گئی ہے۔دوسرے دن شہناز بیگم نے راشد کی امی کو فون کیا اور حسنہ بیگم کے خاندان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگیں۔ بہن! ہیں تو وہ ہمارے رشتے دار، مگر لاہور میں رہنے اور اپنی مصروفیات کی وجہ سے ہمارا ان سے ملنا جلنا کم ہی ہوتا ہے۔ بس راشد ہی کام کے سلسلے میں لاہور جا کر ان کے ہاں رہا ہے۔ وہ بھی ایک دفعہ تقریباً دو سال پہلے حسنہ بہن کے علاقے میں کسی کام کے سلسلے میں گیا تھا تو سلیمان کے اصرار پر اُن کے گھر چلا گیا اور وہیں رک گیا۔ اس کے بعد سے راشد جب بھی لاہور جاتا ہے، تو زیادہ تر وہیں ٹھہرتا ہے۔ ویسے بہت شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ ہیں۔شہناز بیگم نے پوچھا، آپ کے پاس ان کی بیٹی سویرا کی کوئی تصویر موجود ہے؟ جواب میں راشد کی والدہ بولیں، میرے پاس تو نہیں ہے۔ میں کوئی چار پانچ سال پہلے لاہور گئی تھی۔ تب ایک رشتے دار کے ہاں ان لوگوں سے ملاقات ہوئی تھی، جب سویرا کالج میں پڑھتی تھی۔ بڑی پیاری بچی ہے۔ میری تو بس اس سے سرسری ملاقات ہوئی تھی۔ان باتوں سے شہناز بیگم کو کچھ اطمینان ہوا، ورنہ وہ بہت گھبرا رہی تھیں کہ نہ جانے حارث نے لڑکی کو بن دیکھے، صرف اس کی پینٹنگ دیکھ کر پسند کر لیا ہے۔ جب یہ ساری بات راشد تک پہنچی، تو اس نے فوراً حارث کو فون کر لیا اور چھیڑنے لگا، واہ، کیا بات ہے تیری! جہاں دو دن کے لیے بھیجا، وہاں صاحب لڑکی پسند کر آئے۔ مجھے تو تب ہی شک ہو گیا تھا، جب تو سویرا کی پینٹنگ کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اسی لیے کہا تھا کہ آنٹی کو بتا دوں۔ اب سچ سچ بتا دے، سویرا کو کہاں دیکھا تھا؟ ویسے ماننا پڑے گا، بہت اچھے اور شریف لوگ پسند کیے ہیں تُو نے، انکل، سلیمان اور سلیم تینوں ہی سیدھے سادے لوگ ہیں۔حارث نے جواب دیا، میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے سویرا کو بالکل نہیں دیکھا۔ تم میری بات پر یقین کیوں نہیں کر رہے؟ البتہ وہ پینٹ کیا ہوا دوپٹہ… واہ واہ، کیا کہنے! کیا زبردست کلر کنٹراسٹ تھا! میں تو فین ہو گیا ہوں اس کی پینٹنگ کا راشد ہنستے ہوئے بولا، فین نہیں، عاشق ہو گیا ہے تُو اُس کی پینٹنگ کا! بقول تیرے، تُو نے اسے دیکھا بھی نہیں، چلو تھوڑی دیر کو مان لیتے ہیں۔ میرے مجنوں دوست! تُو تو دیوانہ ہو گیا ہے اس کے آرٹ ورک کا۔حارث بولا، چل یار، اب فون بند کرتا ہوں۔ کل رات کی فلائٹ ہے، امی کے ساتھ لاہور جا رہا ہوں، تھوڑی سی پیکنگ باقی ہے۔راشد حیرت سے بولا، اتنی جلدی! کل ہی تو آنٹی کا فون آیا تھا تمہاری امی کے پاس اور آج روانگی؟ہاں، امی پہلے ان لوگوں سے مل کر تسلی کرنا چاہتی تھیں، پھر کوئی بات آگے بڑھے گی۔راشد بولا، ٹھیک ہے، وش یو گڈ لک۔اگلے دن صبح سے ہی شہناز بیگم کا بلڈ پریشر بہت ہائی تھا۔ جب شام تک بھی قابو میں نہ آیا، تو حارث نے جہاز کی سیٹیں کینسل کروا دیں۔ وہ بہت پریشان تھا اور اداس بھی۔ پریشان اپنی ماں کی طبیعت کی وجہ سے، اور اداس اس لیے کہ من پسند جگہ رشتے کی بات شروع نہ ہو سکی تھی۔ شہناز بیگم اس کی حالت کو سمجھ رہی تھیں۔دو دن بعد جب ان کی طبیعت بہتر ہوئی، تو انہوں نے فون پر ہی حسنہ بیگم سے سویرا کا رشتہ مانگ لیا اور ساتھ ہی اس کی تصویر بھی مانگی تاکہ وہ دیکھ سکیں۔ انہوں نے حسنہ بیگم کو بتا دیا تھا کہ وہ رشتہ مانگنے لاہور آنا چاہتی تھیں، مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے نہ آ سکیں۔اسی وقت سویرا اسکول سے واپس آئی تھی۔ اس کے کان میں ماں کی باتیں پڑیں تو اسے تجسس ہوا کہ آخر وہ کس سے اور کس بارے میں بات کر رہی ہیں؟ جب فون بند ہوا، تو اس نے پوچھا، امی، کس کا فون تھا اور آپ میری تصویر کس کو بھیجنا چاہ رہی ہیں؟تب حسنہ بیگم نے اُسے ساری بات تفصیل سے بتا دی۔سویرا حیرت سے بولی، یہ کیسا رشتہ ہے! نہ اُس لڑکے نے مجھے دیکھا، نہ میں اُس کے سامنے آئی، اور اس نے رشتہ بھیج دیا؟حسنہ بیگم بولیں، بیٹی، مجھے لگتا ہے کہ اُس نے تمہیں اسکول آتے جاتے دیکھ لیا ہو گا۔ صبح سویرے تو وہ کام پر نکل جاتا تھا اور وہ اسی علاقے میں کام کے سلسلے میں آیا ہوا تھا۔ ویسے اُس کی امی پہلے بھی فون کر چکی تھیں اور اس بار بھی ہماری مہمان نوازی اور اخلاق کی بہت تعریف کر رہی تھیں۔ ورنہ آج کل کون یوں شکریہ ادا کرتا ہے؟ لوگ تو کھا پی کر بھول جاتے ہیں۔ اچھا، تم اپنی کوئی اچھی سی تصویر مجھے موبائل پر بھیج دو، میں حارث کی امی کو بھیج دوں گی۔ وہ تو خود رشتہ لے کر لاہور آنا چاہتی تھیں، مگر طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے نہ آ سکیں۔سویرا نے کچھ تذبذب سے کہا، مگر امی، یوں تصویر بھیجنا… اس کا جملہ ابھی ادھورا ہی تھا کہ حسنہ بیگم بول اٹھیں، اس میں برائی کیا ہے؟ اب تو سوشل میڈیا پر سب کی تصویریں لگی ہوتی ہیں۔ ویسے بھی تمہارے دونوں بھائی اور ابو بھی حارث کی بہت تعریف کر رہے تھے کہ وہ بڑا بااخلاق اور باادب لڑکا ہے۔واہ امی آپ کے بھی کیا کہنے، وہ مجھے اسکول آتے جاتے دیکھتا رہا اور آپ اس کی تعریفیں کر رہی ہیں۔شہناز بیگم نے مسکرا کر کہا کہ یہ تو میں اپنی طرف سے کہہ رہی ہوں کہ اس نے تمہیں آتے جاتے دیکھ لیا ہوگا۔ وہ بہت شریف لڑکا ہے، پسند کر کے رشتہ بھیج دیا۔ اب ایسی باتیں کرنا شروع نہ کرو۔سویرا نے ہنس کر جواب دیا کہ ہاں، کہہ تو آپ صحیح رہی ہیں۔ لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں، راہ چلتی خواتین کو دیکھنے والے۔ اس میں ویسے برائی بھی کوئی نہیں کہ پسند کر کے شرافت سے رشتہ بھیج دیا۔ میں آپ کو اپنی تصویر بھیجتی ہوں۔شہناز بیگم نے ابھی فون رکھا ہی تھا کہ حارث کا فون آ گیا اور پوچھا کہ امی آپ نے بات کی؟شہناز بیگم نے کہا کہ ہاں، کر لی ہے بات، اور تم اپنے کام پہ دھیان دو۔ صبح سے کتنی بار فون کر چکے ہو؟ ویسے میں نے سویرا کی تصویر بھی مانگی ہے۔حارث نے خوش ہو کر کہا کہ اوہ، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔شہناز بیگم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آج کل کے دور میں بھی اس طرح سے شادیاں ہوتی ہیں کہ لڑکی کو دیکھا تک نہیں جاتا، بس اس کا کام پسند کر کے کوئی مجنوں بن جاتا ہے۔ خیر، وہ اپنے شوہر سے مشورہ کر کے ہی کوئی جواب دیں گے۔ مجھے لگ رہا ہے وہاں سے مثبت جواب آئے گا۔ ہم بس دعا ہی کر سکتے ہیں۔ اب میں فون رکھتی ہوں۔ تم اپنے کام پر توجہ دو، باقی شادی کی بات اللہ پر چھوڑ دو۔حارث نے کہا کہ ٹھیک ہے امی، جیسے ہی آنٹی تصویر بھیجیں، آپ فوراً مجھے فارورڈ کر دیں۔ شہناز بیگم نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
☆☆☆

جب تک حسنہ بیگم نے تصویر بھیجی، اس وقت تک حارث آفس سے گھر آ چکا تھا۔ شہناز بیگم نے اسی وقت تصویر اسے فارورڈ کر دی۔ سویرا ملتے ہی وہ اپنے کمرے سے اٹھ کر ماں کے پاس تصویر لے آیا۔امی، آپ کو سویرا کیسی لگی؟
بہت پیاری، تم بتاؤ تمہیں کیسی لگی؟بالکل ویسی ہی جیسی آپ کو لگی، پیاری، بلکہ بہت پیاری۔بس اب وہاں سے ہاں میں جواب آجائے تو میں شادی کی تیاریاں شروع کر دوں گا۔ میں اب زیادہ دیر نہیں لگاؤں گا تمہاری شادی میں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ وہاں سے ہاں میں جواب آئے گا کیونکہ میرا بیٹا ہے ہی اتنا اچھا اور ویسے بھی ان لوگوں نے ضرور کچھ سوچا ہوگا، تبھی تو تصویر بھیجی ہے۔بات سن کر حارث خوش ہو گیا۔ سویرا کی تصویر دیکھ کر دونوں کو تسلی ہو گئی۔ جیسا انہوں نے سوچا تھا، سویرا اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔ اب شہناز بیگم دعا کر رہی تھیں کہ وہ عادات و اخلاق کی بھی اچھی نکلے۔
☆☆☆

دوست ہے اور کراچی سے اکیلا آ کر رہا ہے۔ دیکھنے میں تو شریف سا لگ رہا تھا۔ میری اس لڑکے سے اتنی ملاقات اور بات چیت نہیں ہوئی، اس لیے میں اپنی پوری چھان بین اور تسلی کر کے ہی کوئی فیصلہ کروں گا۔سلیم اور سلیمان دونوں اس کی بہت تعریف کر رہے تھے کہ اچھا سیدھا سا لڑکا ہے۔ اس کا ننھیال اور ددھیال یہیں لاہور سے ہے۔ حیح ہے، ہم چھان بین کروالیتے ہیں۔ میں آج ہی راشد کی امی… میرا مطلب سعیدہ کو کراچی فون کر کے حارث کے بارے میں کچھ پوچھ لیتی ہوں۔یوں اپنی تلی تشفی کے بعد ایک دن حسنہ بیگم نے رشتے کے لیے ہاں کر دی۔ ابھی اس بات کو ہوئے دو ہی دن تھے کہ حسنہ بیگم نے خوشی خوشی شہناز بیگم کو فون کیا اور کہا کہ ہمارے سلیمان کا سعودیہ کا ویزا لگ گیا ہے۔ اسے ایک مہینے کے اندر وہاں جوائن کرنا ہے۔ وہ کب سے اس کمپنی میں ملازمت کے لیے اپلائی کر رہا تھا اور اب اچانک وہاں سے کال آ گئی۔ لگتا ہے یہ رشتہ ہمارے لیے خوش قسمت ثابت ہوا ہے۔ اب بتائیں، آپ کا کیا ارادہ ہے؟ آپ شادی کے لیے تین مہینے بعد کی تاریخ رکھنے کا کہہ رہی تھیں۔ میں تو کہتی ہوں کہ ہم اسی مہینے نکاح کر دیتے ہیں، پھر جب سلیمان چھٹیوں پر پاکستان آئے گا تو رخصتی کر لیں گے۔ میری ایک ہی بیٹی ہے اور وہ اپنے دونوں بھائیوں کی لاڈلی بھی ہے۔ سلیمان چاہ رہا ہے کہ اپنی بہن کی ساری تقریبات میں شرکت کرے۔شہناز بیگم نے کہا بہت بہت مبارک ہو بہن آپ کو۔ سلیمان بیٹا ابھی گیا ہے تو اسے ایک ڈیڑھ سال لگ جائیں گے واپس آنے میں۔ہاں، اتنا عرصہ تو لگے گا، اسی لیے میں بھی صرف نکاح کی بات کر رہی ہوں۔ آپ میری مانیں تو نکاح کے بجائے شادی ہی کر دیں۔ اب پتہ نہیں کب سلیمان کو چھٹی ملے۔ ہمیں جہیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے گھر اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ آپ کلیم بھائی سے مشورہ کر کے مجھے بتا دیجئے گا۔ٹھیک ہے۔پھر دونوں خاندانوں کی باہمی رضا مندی سے اسی مہینے شادی رکھ لی گئی اور دونوں طرف تیاریاں شروع ہو گئیں۔ شادی سے دو دن پہلے حارث نے شہناز بیگم کو خوشی خوشی آئے ہیرے کی انگوٹھی دکھائی۔امی، یہ دیکھیں! میں نے اپنے سنار دوست سے بہت خوبصورت انگوٹھی بنوائی ہے، آرٹسٹ سویرا کے لیے بہت پیاری ہوگی اس کی انگلی میں۔اب بس بھی کردو آرٹسٹ سویرا کہنا۔ کیا تم نے اپنے کپڑوں پر اس سے پینٹنگ کروانی ہے یا وار رنگوانے ہیں؟امی سویرا کو آنے تو دیں، پھر دیکھیے گا، ہم دونوں ہر وقت پینٹنگ کے مقابلے کریں گے اور آپ حج ہوں گی۔ہٹو بھی، یہ کیا بچپنا ہے؟ کیا آفس نہیں جاؤ گے؟وہ تو جاؤں گا، مگر آپ نہیں سمجھیں گی۔میں نے سمجھنا بھی نہیں ہے۔ مجھے سو کام پڑے ہیں کرنے کو، کل رات بارات لے کر جانا ہے لاہور اور تم مجھے باتوں میں لگائے بیٹھے ہو۔سویرا کے گھر والوں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ تقریب ختم ہوئی تو حارث اپنے کمرے میں داخل ہوا جہاں سویرا ادلہن بنی بیٹھی تھی۔ حارث نے اپنی جیب سے انگوٹھی نکالتے ہوئے سویرا سے کہا کہ اپنا ہاتھ آگے کرو، میں تمہارے خوبصورت ہاتھ کی انگلی میں انگوٹھی پہناؤں۔ وہ کہتے ہیں نا کہ آرٹسٹ کی انگلیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں، تو واقعی آپ کی انگلیاں بہت خوبصورت ہیں۔ حسنہ بیگم نے اپنے شوہر کلیم صاحب کو حارث کے رشتے کا بتا کر اس کے متعلق بات کی تو وہ بولے کہ وہ لڑکا راشد کا ہے۔آرٹسٹ سویرا نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ ہاں، آرٹسٹ میں تو آپ کی فیبرک پینٹنگ کا اسی وقت مین ہو گیا تھا جب آپ کے صحن میں پینٹ شدہ دوپٹے دیکھے تھے۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ میں کسی ایسی لڑکی کو شریک حیات بناؤں جو آرٹسٹ ہو کیونکہ میں خود بھی بچپن…اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ کہتا، سویرا ایک دم بول پڑی کہ مگر میں تو فیبرک پینٹنگ نہیں کرتی اور نہ ہی میں آرٹسٹ ہوں۔ مجھے تو پینٹنگ آتی بھی نہیں۔ میں تو اسکول کے زمانے میں رو دھو کر ڈرائنگ کیا کرتی تھی۔ آپ کو یہ اتنی بڑی غلطی کب اور کیسے ہوئی؟ آپ نے مجھے کب پینٹنگ کرتے دیکھ لیا؟تب حارث نے اسے بتایا کہ کس طرح اس نے ان کے صحن میں پینٹ کیے گئے کپڑوں کو ہوا میں لہراتے دیکھا تھا۔سویرا نے کہا کہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ وہ کپڑے تو برابر میں رہنے والی آیا اور ان کے شاگردوں نے پینٹ کیے تھے۔ انہوں نے اپنے گھر میں لڑکیوں کے لیے سینٹر کھول رکھا تھا جہاں وہ بہت سے کورسز کرواتی ہیں۔ ان کے گھر میں کچھ کنسٹرکشن ہو رہی تھی، تب وہ ہمارے گھر کے سامنے فلیٹ میں کچھ عرصے کے لیے عارضی طور پر شفٹ ہو گئی تھیں اور پینٹنگ کرنے کے بعد ہمارے گھر آ کر اپنے اور اسٹوڈنٹس کے پینٹ کیے ہوئے کپڑوں کی تصویریں کھینچتی تھیں کیونکہ وہ فلیٹ چھوٹا سا تھا۔ پھر وہ ان تصویروں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں لگاتی تھیں۔ اس دن بھی آئی اور میں باہر تار پہ کپڑے ٹانگ کر تصویریں کھینچ رہی تھی، پھر آپ کے آنے پر ہم اندر چلی گئیں۔ سورج کی روشنی میں کپڑوں کی تصویریں بہت اچھی آتی ہیں اور آپ پتا نہیں خیالوں خیالوں میں کیا سمجھ بیٹھے! میں اور امی تو سمجھے تھے کہ آپ نے مجھے اسکول آتے جاتے دیکھ لیا ہوگا، اسی لیے مجھے پسند کر کے رشتہ بھیج دیا۔ پھر ہماری شادی اتنی جلدی میں ہوئی کہ میرا مطلب ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور بات کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔حارث کا سر چکرا سا گیا تھا۔ تھوڑی دیر تک تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔ وہ خاموش بیٹھا رہا، پھر اس نے نظر اٹھائی اور سویرا کے مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ اسے اس کی انگلیاں بہت نازک اور خوبصورت لگیں، تب اس کے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا کہ آپ کی انگلیاں تو بہت خوبصورت ہیں، گو کہ آپ آرٹسٹ نہیں ہیں۔سویرا نے کہا کہ حارث، حسن تو انسان کی نگاہ، کردار اور اس کی تربیت میں ہوتا ہے۔ یہ بات کہ آرٹسٹ کی انگلیاں خوبصورت ہوتی ہیں، یہ کتابی باتیں ہیں جو کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی آرٹسٹوں کی انگلیوں کو غور سے دیکھا ہے؟ جو رنگ کرتے کرتے بے رنگ اور ٹیڑھی میڑھی ہو جاتی ہیں۔ ان کے ہاتھ کبھی کسی حادثے میں کٹ جاتے ہیں تو کبھی جل بھی جاتے ہیں، پھر نہ وہ ہاتھ خوبصورت رہتے ہیں اور نہ انگلیاں۔ یہ سب قسمت کی باتیں ہیں۔ اللہ کو ہمیں ایسے ہی ملوانا تھا۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔ اب ہم یہ غلط فہمی کو بھول کر کہ میں کیا تھی اور میرا پروفیشن کیا تھا، کیا اپنی نئی زندگی کا آغاز کر سکتے ہیں؟حارث نے سوچا کہ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے۔ اللہ نے ہمیں ایسے ہی ملوانا تھا۔ اصل حسن تو انسان کی نظر میں ہوتا ہے۔ وہ بولا کہ آپ صحیح کہہ رہی ہیں، شاید ہمارے مقدر میں ایسے ہی ملنا لکھا تھا، مقام سویرا! بلکہ مسز سویرا احارث۔یہ سن کر وہ مسکرا دی، تب حارث نے اس کی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی پہنا دی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top