• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story دل عشقم

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
10,743
Reaction score
344,370
Points
500
Location
pakistan
Gender
Male
گاؤں کے بیچ لوگوں کا ہجوم جمع تھا اور اسی ہجوم کے درمیان وہ آدمی کروفر سے براجمان تھا۔۔
“کیا فیصلہ چاہتے ہیں آپ ؟”
سناٹے کو چیرتی سر پنچ کی آواز پر اس آدمی نے ایک نظر اپنے سترہ سالہ بیٹے کو دیکھا۔۔
“ہمیں خون بہا میں انیس یزدانی کی سب سے چھوٹی بیٹی نور فاطمہ چاہیے” فیصلہ تھا کہ چابک جو سیدھا سامنے بیٹھے مرد کے دل میں لگا تھا۔۔
“سہیل شاہ۔۔۔ ” ایک جھٹکے سے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر چیخے۔
“خبردار جو میری پوتی کا نام اپنی زبان سے لیا”
“میں نے صرف نام نہیں لیا میں نے فیصلہ سنایا ہے” ان کے لہجے میں غرور تھا۔
“وہ ابھی محض ساتھ سال کی ہے ” ان کے لہجے میں اب بے بسی ہی بے بسی تھی۔
“ہم نے تو اپنا بیٹا کھویا ہے اب کے قربانی دینے کی باری تمہاری”
وہ اپنے فیصلے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے تھے ۔۔۔
“انیس یزدانی سہیل شاہ نے آپ کی پوتی کو خون بہا میں مانگا ہے اور یہی ان کا آخری فیصلہ ہے”
“ایک بار پھر سوچ لو سہیل شاہ۔۔ وہ معصوم بچی ہے”
“میرا بیٹا بھی معصوم تھا صابر یزدانی۔۔ جسے تمہارے بیٹے نے مار دیا اب اسکی بیٹی میرے پوتے کے نکاح میں آئے گی” وہ رحم نہیں کرنے والے تھے اتنا طے تھا۔۔
تھوڑی دیر بعد نکاح کی کاروائی عمل میں لائی گئی۔۔
سات سالہ نور کا نکاح سترہ سالہ جازب شاہ سے ہوگیا تھا۔۔


نکاح ہوتے ہی صابر یزدانی نے کسی کو اشارہ کیا تھا۔۔
اس روتی بلکتی بچی کو اندر اسکی ماں سے ملنے بھیجا گیا تھا باہر مردان خانے میں جمع مرد اس بچی کو ساتھ لے جانے کے لئے کھڑے تھے یہ جانے بغیر اس بچی تک رسائی اب ناممکن ہونے والی ہے۔

“وہ لڑکی کہاں ہے؟” صابر یزدانی کے سامنے کھڑا وہ خود پر ضبط کے پہرے بٹھائے ہوئے تھا۔۔
“ہم نہیں جانتے ہمیں کچھ نہیں پتا نا اسکی ماں یہاں ہے نا وہ”
“یہ ادکاری میرے سامنے مت کرنا یزدانی صاحب۔۔۔ میں وہ ہوں جو اسے زمین کی تہوں سے نکال لاؤں گا ” اسکی آنکھوں میں خون تھا اپنے باپ کا خون۔۔۔
“جازب ۔۔ میں نہیں جانتا “
“نہیں جانتے نا تو اب یاد رکھنا وہ خون بہا ہوئی لڑکی ہے۔۔ وہ میری ملکیت ہے۔۔ بتاؤ مجھے کہاں ہے وہ” وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہہ رہا تھا۔۔
“وہ حویلی میں نہیں ہے میں سچ کہہ رہا ہوں”
“سچ؟ ایک بات یاد رکھنا اسکا پیچھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا میں ڈھونڈ کر رہوں گا اسے چاہے پھر اسکے لئے مجھے اپنی پوری زندگی ہی کیوں نا لگانی پڑے۔۔۔” ایک ایک لفظ چبا کر کہتا وہ لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
اور اسکے جاتے ہی صابر یزدانی نے سر ہاتھوں میں گرایا تھا۔۔
ایک ہی بیٹا تھا ان کا جس کی جان بچانے کے لئے وہ کچھ بھی کرسکتے تھے مگر اپنی اکلوتی پوتی کی قربانی انہیں ہر گز منظور نہیں تھی۔۔
آج انہوں نے اپنے بیٹے اور ہوتی دونوں کو بچا لیا تھا ۔۔ مگر کیا واقعی وہ اپنی پوتی کو بچا سکے تھے؟
 
دس سال بعد۔۔
شہر کراچی اپنی رونقیں لئے کھڑا تھا کراچی کی سب سے مصروف شاہراہ پر اس وقت ٹریفک جام تھا۔۔
گرمی سے لوگوں کا برا حال تھا ایسے میں گاڑی میں بیٹھی اس سرمئی آنکھوں والی لڑکی نے زرا سا شیشہ نیچے کر باہر کی جانب دیکھا۔۔
“یا اللّٰہ جی کتنی گرمی ہو رہی ہے تھوڑا تو رحم کریں” اپنے کالج کے دوپٹے سے ہوا جھلتے اس نے ہوا کو اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔۔
گاڑی کے اندر چلتا اے سی بھی اسے گرم لگ رہا تھا۔۔
“نورے۔۔۔ کھڑکی بند کردو۔۔ یار “
“تم چاہتی ہو عصمت میرا دم گھٹ جائے اور میں مر جاؤں ؟”
“اللہ نا کرے” عصمت نے دہل کر اسے دیکھا۔
“تو بس اب چپ رہو۔۔ دیکھو گھر پہنچنے سے پہلے میں گرمی سے نہیں مرنا چاہتی ” اسکی سفید رنگت اب سرخ ہو رہی تھی۔
وہ مسلسل دعا کر رہی تھی اور پھر سکسی دعائیں قبول ہوئیں ٹریفک کھل گیا تھا اور راستے صاف تھے۔۔
اس نے شکر ادا کیا تھا۔۔
کھڑکی سے ایک بار پھر باہر جھانکتے وہ واپس سے کھڑکی بند کرگئی یہ جانے بغیر کے اسکے ساتھ والی گاڑی میں موجود وہ انجان شخص بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہا تھا۔۔

کراچی شہر سے میلو دور اس گاؤں میں آج رونق لگی ہوئی تھی گاؤں میں آج ایک اہم جلسہ ہونا تھا۔۔
اور اسی کی تیاریاں زوروں شوروں سے جاری تھی۔
اور ایسی ہی تیاریاں شاہ حویلی میں ہو رہی تھی۔۔
شاہ حویلی سہیل شاہ کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھی ان کے دو ہی بیٹے تھے عمر شاہ۔۔ اور سراج شاہ۔۔۔
عمر شاہ کے دو بچے تھے جازب اور اقصی
جبکہ سراج شاہ کی دو بیٹیاں تھیں ردابہ انانیہ اور بڑا بیٹا ارقم۔۔
“بڑی اماں جازب کہاں ہیں؟”
“کتنی بار کہا ہے بھائی بولا کرو سمجھ کیوں نہیں آتا تمہیں”؟ نجمہ بیگم کی بات پر اسکا منہ بنا۔۔۔
“اماں
“جانے دو نجمہ بچی ہے” سفید چادر اوڑھے بیٹھی سکینہ نے اپنی دیورانی کو نرمی سے کہا۔۔
“بچے جازب ابا جی کے کمرے کے میں ہے”
ان کی اطلاع پر وہ سر ہلاتے اوپر بڑھی۔۔

“میں نے آپ کو منع کیا تھا نا میں تب تک سیاست میں قدم نہیں رکھو گا جب تک اپنا مقصد پورا نا کرلوں ؟”
وہ غصے سے بھرا ان کے سامنے بیٹھا تھا۔
سہیل شاہ نے اسے دیکھا جو ہو بہو اپنے باپ جیسا تھا وہی غصہ وہی رعب دار شخصیت۔۔ شہد رنگ آنکھیں ۔۔ وہ وجاہت میں اپنے باپ سے بھی چار گناہ زیادہ وجہہ تھا۔۔
“دس سال گزر گئے ہیں ہم سب بھول گئے ہیں تم بھی بھول جاؤ بیٹا” بڑھتی عمر نے انہیں اب کمزور کر دیا تھا۔۔
“بھول جاؤں ؟ آپ چاہتے ہیں میں بھول جاؤں ؟”
“ہم دس سال سے اسے ڈھونڈ رہے ہیں کیا ابھی تک ملی؟”
“نہیں ملی مگر ملے گی ضرور۔۔ وہ جازب شاہ کی ملکیت ہے ۔۔ وہ میرے باپ کے قاتل کی بیٹی ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا”
وہ آج بھی اپنی بات پر قائم تھا۔۔
“تمہاری ماں تمہارے لئے پریشان رہتی ہے جازب٫”
ان کی بات پر اس نے سر اٹھائے انہیں دیکھا۔
“میں عمر شاہ کا بیٹا ہوں۔۔ جو میرا ہے اسے میں حاصل کر کے رہتا ہوں ” ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا اور اسکے نکلتے ہی دیوار کی اوٹ میں چھپی ردابہ باہر آئی۔۔
اس شخص کی محبت اسکے دل میں تھی مگر وہ شخص۔۔ وہ تو جیسے اسکی موجودگی سے بھی بےخبر تھا۔۔


کراچی کے اس چھوٹے سے محلے میں اس وقت سناٹا تھا تیز تیز قدم بڑھاتی وہ گھر کی طرف جا رہی تھی وین والے انکل آج مین روڈ پر ہی اسے اتار کر چلے گئے اور تب سے ہی اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی اسکے پیچھے آرہا ہو۔ ۔
بڑھتے قدموں سے چلتی وہ اچانک سامنے پڑے پتھر سے بری طرح سے ٹکرائی اس سے پہلے وہ منہ کے بل گرتی۔۔ کسی نے اسکا بازو پکڑ اسے گرنے سے بچایا۔۔
“میری جان دھیان سے۔۔” لفظ سن اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا سامنے اس گندے سے آدمی کو دیکھ نور کے چہرے کا رنگ فق ہوا ۔
“ہاتھ چھوڑو۔۔ میرا”
“ارے ایسے کیسے میری جان ابھی تو اس حسین صورت کو دیکھا بھی نہیں ہے،” اسے چھونے کو وہ ہاتھ بڑھا جسے پیچھے کرتے وہ چلانے لگی۔۔ مگر دوسری طرف ڈرنے کے بجائے وہ آدمی قہقے لگانے لگا۔۔
،”تجھے تو آج اپنے ساتھ لے جا کر رہوں گا ” اسکا بازو سختی سے دبوچے وہ اسے تقریباً اپنے ساتھ گھیسٹتے چلے جا رہا تھا۔۔۔ جب اچانک پاس پڑا پتھر اس آدمی کے سر پر مارتی وہ اپنا بازو اسکی گرفت سے نکالنے میں کامیاب ہوئی تھی۔
اس آدمی کے پیچھے ہوتے ہی وہ فل سپیڈ سے بھاگی۔۔
اسے بس یہاں سے نکلنا تھا کیسے بھی کر کے۔۔ اپنی جان و عزت بچانی تھی ۔۔
اپنے پیچھے آتی قدموں کی آواز پر اسکے قدم تیز ہوئے تھے وہ ابھی اپنے گھر جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتی تھی کسی خیال کے تحت وہ تیزی سے ایک گھر کے کھلے دروازے میں داخل ہوئی۔۔۔
گیٹ بند کرتے وہ گہرے سانس بھر رہی تھی دم تھا کہ نکلا جا رہا تھا۔۔
ایسا کچھ تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔
“یا اللّٰہ میری مدد کریں”
بند دروازے سے لگی وہ باہر جھانک رہی تھی ایک ڈر یہ بھی تھا کہ گھر والے نا آجائیں۔۔۔
آس پاس دیکھتے وہ ایک بار پھر تیزی سے اس گھر سے نکلتی اپنے گھر کے اندر داخل ہوئی تھی۔
“نور۔۔۔ کیا ہوگیا ہے ایسے چوروں کی طرح کیوں کھڑی ہو؟”
عائلہ بیگم کی آواز پر وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔۔
“کچھ نہیں امی۔۔” اپنا چہرہ صاف کرتے وہ بمشکل مسکرائی ورنہ دل تو دھاڑے مار مار کر رونے کو کر رہا تھا ۔۔
“اب ایسے مت کھڑے ہو جاؤ کپڑے تبدیل کرو میں کھانا لگاتی ہوں”
بھوک مر چکی تھی مگر پھر بھی سر ہلاتے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔
 
وہ فریش ہو کر بے دلی سے آکر بیٹھی بھوک تو ویسے بھی اڑ چکی تھی۔۔
“کھانا ٹھیک سے کھاؤ کیا ہوگیا ہے؟”
“کھا رہی ہوں ۔۔۔ ویسے شہرے کہاں ہے؟”
کھانے سے ہاتھ روکے اسے شہرینہ کا خیال آیا۔۔
“اپنی دوست کی طرف گئی ہے کہہ رہی تھی رات کو واپس آ جائے گی کوئی پراجیکٹ ملا ہے اسے”
“اوو اچھا ” سر ہلاتے وہ واپس سے کھانا کھانے لگی۔۔
“میں شام میں بوتیک جاؤں گی تو تم اچھے سے دروازہ بند کرلینا”
ان کے جانے کا سن منہ تک جاتا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا۔۔
“آپ آج جلدی کیوں جا رہی ہیں ؟”ان کے جانا کا سن کر ہی اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔
“تمہارے باپ نے جو قرضہ لیا ہے نا اسے اتارنا بھی ہے گھر میں نہیں بیٹھ سکتی میں تم جلدی سے کھاؤ کھانا پھر میں نکلوں گی” انکا موڈ لمحے میں خراب ہوا تھا۔۔
“اچھا آپ غصہ تو نا ہوں نا میری پڑھائی مکمل ہوتے ہی میں کوئی نوکری کرلوں گی “
“نور ابھی چپ کر کے کھانا کھاؤ میرا سر ویسے ہی درد کر رہا ہے ” ان کے جھڑکنے پر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔۔
ان کا رویہ عجیب سا ہی ہوتا تھا کبھی بہت اچھا تو کبھی بہت برا۔۔۔
لیکن وہ ان سے شکایت نہیں کرتی تھی وہ پریشان تھیں وہ انہیں تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
بجھے دل سے زہر مار چند نوالے کھاتے وہ کچن میں آگئی۔۔۔
اس نے کچن کی کھڑکی سے جھانک کر اپنی ماں کو دیکھا جو اب دوسرے کام کر رہی تھیں۔
اسکے بابا نشے کی لت میں خود کو بھول گئے تھے ۔ وہ اسکے سگے ماں باپ نہیں تھے ہاں وہ جانتی تھی یہ بات ۔۔
اسے بس اتنا پتا تھا عائلہ بیگم کو وہ سڑک کنارے پڑی ملی تھی۔۔۔
اس وقت ان کی گود میں شہرینہ تھی بیٹی کی پیدائش ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی تھی۔۔ انہوں نے دوسری شادی تنویر احمد صآحب سے کی تھی جن کا پہلے سے ایک بیٹا تھا جو اب ان کے ساتھ نہیں رہتا تھا
اس کے ساتھ تو وہ بھی اچھی تھیں مگر ناجانے کیوں وہ شہرینہ کے ساتھ زیادتی پر جاتی تھیں۔
اسکا دل دکھتا تھا شہرینہ کا سوچ کر۔۔
“کہاں ہو شہرے۔۔۔ جلدی گھر آجاؤ”
خود سے کہتے وہ اپنا باقی ماندہ کام سمیٹنے لگی۔۔۔

اپنے گھر سے دور وہ اس وقت عبیرہ کے گھر میں موجود تھی۔
جو اسکے سامنے بیٹھی اسکے جواب کی منتظر تھی۔۔
“بولو نا شہرے کیا تم واقعی یہ نوکری کرنا چاہتی ہو ؟”
“عبیرہ میں بس پیسے کمانا چاہتی ہوں تاکہ میری ماں میری وجہ سے پریشان نا ہو”بڑی بڑی غلافی آنکھوں میں اداسی لئے اس نے عبیرہ کو دیکھا۔۔
“وہاں ہر قسم کے لوگ آتے ہیں اچھے برے”
“عبیرہ میں پہلے بھی وہاں کام کر چکی ہوں نا تو اب کیا مسئلہ ہے؟
اسکی بات پر عبیرہ چپ رہ گئی۔ وہ اب اسے کیسے بتاتی کہ اصل مسئلہ آخر ہے کیا۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے آج رات تم چلو میرے ساتھ میں” آخر کار وہ ہار مان گئی تھی۔
“تھینک یو سو مچ عبیرہ” وہ خوشی سے بےاختیار عبیرہ کے گلے لگی یہ جانے بغیر کے آنے والا وقت اسکی زندگی میں کتنا بڑا طوفان لانے والا تھا۔۔۔


“اچھا امی میں جا رہی ہوں”
عابدہ بیگم کو کہتے وہ اپنے جوتے پہننے لگی۔۔
“عمائم دھیان سے جانا بیٹا ” انہیں اسکی فکر تھی۔
وہ بن باپ کی بچی تھی وہ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ لوگوں کی باتوں کا نشانہ بنے۔۔
“آپ فکر مت کریں میں جلدی آجاؤں گی”
انہیں کہتے وہ گھر سے نکلتے ہی وہ سیدھا روڈ پر آئی تھی جہاں معمول کے مطابق ٹریفک روا دواں تھا ..”پتہ نہیں کون سی راستے بند ہیں سب کچھ تو کھلا ہے۔۔۔”
آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ وہ بڑبڑائی تھی اور آنے والی پہلی بس میں سوار ہوئی۔۔
اسی ہر حال میں جاب چاہیے تھی وہ اس موقع کو گنوانے کی غلطی ہرگز نہیں کر سکتی تھی۔۔ بس ابھی آدھے راستے میں تھی جب اس کا موبائل بجا تھا اس نے فوراً سے پہلے موبائل چیک کیا جہاں آج کا انٹرویو کینسل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی میسج پر اس نے بے بسی سے لب کاٹے تھے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا وہ گھر سے بہت دور آگئی تھی۔۔
اس نے سوچا وہ یہیں اتر کر واپسی کی بس میں سوار ہو جائے مگر اس سے پہلے ہی بس رکی تھی اور پھر ایک دم بھگدڑ مچی تھی “ہنگامہ ہو رہا ہے جلدی سے اترو “بس کنڈکٹر کی آواز پر سب بد حواسی کے عالم میں بس سے اترے
تھے۔۔
” یا اللہ “
باہر مچی بھگدڑ دیکھ وہ ایک دم سے بوکھلائی تھی۔۔
ناجانے کیا ہوا تھا کہ ایک دم سے حالات اتنے خراب ہو گئے تھے۔۔
” اگے مت جانا گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں” کوئی چلایا تھا۔۔
ڈنڈا بردار کئی لڑکے اس پاس موجود گاڑیوں کے شیشے توڑ اب ان کی طرف بڑے تھے حالات اتنے خراب ہو جائیں گے ایسا تو اس نے سوچا نہیں تھا۔۔
سب بھاگ رہے تھے۔۔
اپنی جان و عزت بچانے کی خاطر پیچھے قدم لیتی وہ بھاگی تھی وہ نہیں جانتی تھی اس وقت وہ کہاں جائے گی مگر اسے خود کو بچانا تھا اس کی ماں گھر پر اکیلی منتظر تھی۔۔
وہ لڑکے اب ڈنڈوں سے لوگوں کو مار کر وحشت برپا کر رہے تھے وہ تیزی سے ایک گلی میں داخل ہوئی بیگ کو مضبوطی سے تھامے وہ اس رش سے نکلی تھی۔۔
تبھی اسے محسوس ہوا جسے اس کے پیچھے کوئی ہو گھبرا کر اس نے پیچھے دیکھا تو دو لڑکوں کو اپنی طرف دیکھتے پا کر اس کی جان نکلی تھی اس کے قدموں کی رفتار بڑھی پکڑ اس کو اس کی سپیڈ دیکھ ایک لڑکا چلایا تھا۔۔
” یا اللہ مدد” خود سے کہتے وہ بھاگی تھی گلی کی دائیں جانب مڑتے اسے سامنے روڈ نظر آیا تھا اسے کیسے بھی کر اس روڈ تک پہنچنا تھا
” پکڑو اسے کراچی “شہر کی ہنگاموں میں سب سے زیادہ فائدہ ایسے ہی لوگوں کا ہوتا تھا جو فسادات کی آڑ میں اپنا کام کر جاتے تھے۔۔
وہ جتنا تیز بھاگ سکتی تھی بھاگ رہی تھی وہ بالاخر روڈ پر آئی تھی تیزی سے روڈ کراس کرتے اس نے دوسری جانب جانا چاہا تھا مگر تبھی سامنے سے آتی کرولا سے وہ بری طرح ٹکرائی۔۔بند ہوتی آنکھوں سے اس نے کسی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا تھا۔۔۔

وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا نگاہیں لیپ ٹاپ پر تھیں مگر دھیان کہیں اور تھا جب دروازہ ناک ہوا اور تھوڑی دیر بعد اسکے اسسٹنٹ کا چہرہ نمودار ہوا۔۔
“شاہ صاحب؟”
“اگر کوئی بری خبر ہے تو مجھے مت بتانا اجمل۔۔۔”وہ اس وقت سخت بیزار تھا۔۔
“اچھی خبر ہے ان عورت کا پتا چل گیا ہے جس نے آپ کی منکوحہ کو غائب کیا تھا” منکوحہ لفظ پر اسکے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ ابھری ۔
“منکوحہ کیا ہوتا ہے بولا آپ کی ملکیت ۔۔۔ ونی کوئی لڑکیاں منکوحہ کب سے ہوگئیں؟”
“سائیں وہ ونی ہوئی لڑکی کا پتا اب وہ عورت ہی دے سکتی ہے”
“پھر دیر کس بات کی ہے اٹھاؤ اس عورت کو اور پوچھو اگر جواب نا دے تو نرمی مت کرنا۔۔۔”
“سائیں وہ” اجمل نے کچھ کہنا چاہا مگر جازب شاہ اسے ہاتھ کے اشارے سے روک گیا۔۔
“لوگوں کو پتا لگنا چاہیے اجمل جازب شاہ کی چیز چھیننے والے کے ساتھ وہ کرتا کیا ہے۔۔ “
“جیسا آپ کا حکم سائیں۔۔۔”
اس نے تابعداری سے سر ہلایا۔۔
“اور کچھ ؟”
“شاہ سائیں کراچی میں ایک کالج میں آپ کی دعوت ہے”
“تو چلو چلتے ہیں ویسے بھی کراچی والے میری ملکیت چھپائے بیٹھے ہیں وہاں کے لوگوں سے تو ہمارے پرانے حساب کتاب نکلتے ہیں” اسکا موڈ ایکدم سے اچھا ہوگیا تھا۔۔
اجمل بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا یہ وہ جازب شاہ نہیں تھا جسے وہ جانتا تھا صرف اس ایک معاملے میں وہ نرمی نہیں دیکھاتا تھا وہ اس ایک معاملے میں انتہا سے زیادہ جنونی ہوگیا تھا اور اجمل کو اس کے جنون سے اب خوف آتا تھا۔۔
“مامون کی کیا خبر ہے؟
اس اچانک جیسے کچھ یاد آیا تھا۔۔۔
“لندن میں ہیں وہ اسی ہفتے ایک بزنس میٹنگ ہے ان کی کراچی میں ” اجمل کو سب پتا ہوتا تھا۔۔
“ہمم جاؤ اب”
اسے اشارہ کرتا وہ کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوگیا اسکی آنکھوں میں اس وقت کوئی دیکھتا تو خوفزدہ ہوجاتا۔۔۔
 
اس شہر موجود کلب میں اس وقت شور مچا ہوا تھا۔
ڈانس فلور پر ناچتے لڑکے لڑکیاں پاگل ہو رہے تھے۔۔
ایسے میں وہ ایک کونے میں موجود صوفے پر بیٹھا خاموش نگاہوں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔
“کیا بات ہے آج مامون صاحب کسی لڑکی کے پاس نہیں گئے ؟”
پاس بیٹھ ایسٹر نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جسے جھٹکتے وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔
“مامون کے پیچھے لوگ آتے ہیں مامون ہمیشہ آگے رہتا ہے اور ان جیسی لڑکیوں میں اب میرا انٹرسٹ ختم ہوگیا ہے”
سیگریٹ کا گہرا کش لیتے دھواں ہوا میں اڑاتا وہ اپنا موبائل دیکھنے لگا۔۔
“تو تو واقعی پاکستان جا رہا ہے؟”
“ہاں کچھ دیسی ٹرائے کرنے کا موڈ ہے میرا” آنکھ ونک کر کے کہتا وہ ایسٹر کو قہقہ لگانے پر مجبور کرگیا۔۔
“ویسے ایک بات ماننی پڑے گی تو ہے برا مضبوط”
“کیا مطلب ؟ ” مامون نے بغور اسے دیکھا۔
“حسین سے حسین لڑکیاں تجھ پر مرتی ہیں تیرے آگے جان دینے کو تیار اور تو ہے کہ انہیں گھانس تک نہیں ڈالتا۔۔۔”
اسکی بات پر وہ مسکرایا۔۔
“تجھے لگتا ہے کہ خود کو مردوں کے اوپر پھینکنے والی لڑکیاں میرے ٹائپ کی ہیں ؟”
“نہیں۔۔ ویسے مامون کیا تجھے کبھی محبت نہیں ہوئی؟”
ایسٹر کے سوال پر وہ ہنسا تھا اور ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ مامون کو کوئی مسکراتے دیکھ لے یہاں تو وہ ہنس رہا تھا۔۔
“محبت اور مامون؟ مامون صرف نفرت کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے وہ ساری زندگی نفرت ہی کرے گا محبت نہیں” ایک ایک لفظ پر زور دیتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“کہاں جا رہا ہے؟”
“یہاں میرے ٹیسٹ کی ایک بھی لڑکی نہیں اب کوئی ایشین ہی دیکھنی پڑے گی” خباثت سے کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ اسکی آنکھوں میں ایک بار پھر نفرت تھی کس کے لئے کون جانے۔۔۔۔

“شہرے اتنا لیٹ آئیں؟”
وہ گھر میں داخل ہوئی تو صحن میں نور کو بیٹھے پایا۔۔
“ابھی تک جاگ رہی ہو؟”
“تم باہر تھیں مجھے نیند کیسے آتی ؟” نرمی سے کہتے نور نے اسکا ہاتھ تھام اسے اپنے پاس بٹھایا۔۔
“امی کو بھی تو آجاتی ہے۔۔ تم بھی سو جایا کرو” تلخی سے کہتے وہ اپنی ہتھیلی دیکھنے لگی۔۔
“ایسے نہیں سوچو نا”
“کل سے میں جاب پر جاؤں گی۔۔ رات میں روز اسی وقت آیا کروں گی “
“شہرے خود کو مت تھکاو “
“تو کیا کروں نور؟ مجھے پڑھنا ہے آگے بڑھنا ہے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتی سمپل ٹیوشنز سے میرا گزارا نہیں ہو رہا ہے امی کو بھی پیسے چاہیے ہوتے ہیں وہ بھلے مجھ سے محبت نا کریں مگر میں ان سے محبت کرتی ہوں۔۔۔
میں انہیں اپنی وجہ سے پریشان نہیں کرنا چاہتی”
اداسی سے کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
“میں سونے جا رہی ہوں تم بھی سو جاؤ “
“ہمم “
“ویسے تمہارے کالج میں فنکشن کب ہے نور ؟” شہرینہ کا جیسے اچانک یاد آیا تھا۔۔
“اسی ہفتے ہے میں نے بھی حصہ لیا ہے”
“یہ تو بہت اچھی بات ہے ” وہ مسکرائی تھی۔۔
“ہاں میں نے اور فائق نے حصہ لیا ہے”
نور اس شہر کے اچھے کالج میں پڑھتی تھی جبکہ شہرے۔۔ اسکا داخلہ گورنمنٹ کالج میں ہوا تھا اسے اپنے ایگزیم اور ٹیوشن فیس خود دینی پڑتی تھی اس گھر میں اسکا وجود بس ایک بوجھ تھا۔۔
کبھی کبھی اسے لگتا وہ اپنی ماں کی سوتیلی بیٹی ہے باپ کی تو تھی مگر ماں ایسا کرے گی یہ سوچ کر ہی اسکا دل ٹوٹ جاتا تھا۔
اگر اسکے سگے باپ نے اسکی ماں کو چھوڑا تو اس سب میں اسکا تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔ وہ بھی تو بے گھر ہوئی تھی اسے تو آج سترہ سال ہونے والے تھے نا ماں کا پیار ملا تھا نا باپ کا۔۔۔
آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتے وہ سونے لیٹ گئی۔۔۔


بھاری ہوتے پپوٹے اور بھاری سر لیے اس نے انکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی مگر تکلیف حد سے زیادہ تھی بہت دقت سے اس نے ذرا سی انکھیں کھولی تھی اسے اپنے گرد بھینی بھینی سی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔۔
” تو کیا میں مر گئی ہوں” یہ پہلا سوال تھا جو اس نے خود سے کیا تھا ذرا سی آنکھیں کھول اس نے ارد گرد دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی تھیں۔۔
خود کو اس شاہی بستر پر لیٹے دیکھ وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔ سر میں درد سے ٹیس سے اٹھی تھی بھاری ہوتے سر کو اس نے دونوں ہاتھوں سے تھاما۔
وہ لگژری بیڈ روم دیکھ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
آخری بات جو اسے یاد تھی وہ تھا اس کا کسی گاڑی کے سامنے آنا وہ سوچو کہ گرداب میں الجھی ہوئی تھی جب کھٹکے کی آواز اواز پر وہ خود میں سمٹی تھی آنے والے سے پہلے اس کی خوشبو ائی تھی محصور کر دینے والی خوشبو۔۔۔
اس طرح کی خوشبو اس نے پہلی بار سونگھی تھی بھاری قدموں کی آواز پر اس نے دوپٹہ سر پر سختی سے جمایا۔
“تو کیا وہ کڈنیپ ہو گئی ہے” یہ دوسرا سوال تھا جو اس نے خود سے کیا تھا۔۔
تبھی دروازے کا ناب گھوما اور کوئی اندر داخل ہوا تھا کمرے میں آتی سرمئی روشنی نے اس عکس کو دھندلا کیا تھا۔۔
اس نے بغور آنے والے شخص کو دیکھا تھا اس کا قد لمبا تھا چورے ورزشی شانے کلف لگے جینز ٹی شرٹ پہنے، اسکے ہاتھ میں موجود گھڑی اپنی قیمت چیخ چیخ کر بتا رہی تھی عنابی لبوں کو گہری کالی مونچھوں نے ڈھانپ رکھا تھا ہلکی شیو لائٹ براؤن آنکھیں وہ اپنی شخصیت سے کسی کو بھی تسخیر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔
” ۔۔کون ہو تم اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو مجھے میرے گھر جانا ہے “اس کے سحر سے آزاد ہوتے وہ غصے سے بولی تو سامنے والے کے ماتھے پر شکنوں کا جال بونا تھا۔۔
“میری گاڑی کے سامنے آپ خود آئی تھی محترمہ کیا آپ کی یادداشت چلے گئی؟”
” مجھے سب یاد ہے آپ مجھے ہاسپٹل لے جاتے مگر نہیں آپ کو اب مجھے یہاں کیوں لائے ہیں آپ کو مجھے یہاں لانے کی ضرورت نہیں تھی”
غصے سے کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئی تو سر ایک بار پھر چکرایا تھا بے دردی سے لب کاٹتے اس نے بیڈ کا کارنر تھاما۔
“میں یہاں لے آیا یہی بہت نہیں ہے ورنہ روڈ پر پائی لڑکی کو کون پوچھتا؟”
اس کے طنز پر وہ کھول کر رہ گئی تھی۔
” یہاں کا سسٹم ہی ایسا ہوگا تو اب ہر لڑکی کے ساتھ اس طرح ہوگا کوئی دو روپے کا آدمی آئے گا اور اس مہاراج کے لیے ہم جیسے عام لوگوں کو خواری اٹھانی پڑے گی کسی دن ہماری زندگی گزار کر دیکھیں تو لگ پتہ جائے گا اور میرے ساتھ جو ہوا وہ بھی اس ڈیش انسان کی وجہ سے ہوا ہے نہ وہ آتا نہ روڈ بلاک ہوتے” غصے سے پیروں میں شوز پہنتے اسے دل کی بھڑاس نکالی تھی۔
” تمہیں کیسے پتہ کہ وہ اچھا انسان نہیں ہے؟” ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگاتے اس نے ہر سینے پر باندھے تھے۔۔
” بس مجھے پتہ ہے”
” تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا” اس کے بے خوف انداز پر وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکا تھا “نہیں اور نہ میں کسی سے ڈرتی ہوں”
” ہاں جبھی روڈ پر بھاگ رہی تھی نا واؤ “وہ صاف اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔۔
” مجھے تمہارے منہ نہیں لگنا مجھے میرے گھر جانا ہے” اسے نظر انداز کرتے سے بولی تو وہ سیدھا ہوا تھا.
” اکیلے جانا ٹھیک نہیں ہے میں ڈرائیور کو بول دیتا ہوں وہ تو میں چھوڑ دے گا”
” اس کی ضرورت نہیں ہے,”
” حالات ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ تو میں تمہارے گھر نہیں پہنچا سکے گی” اس کی بات پر وہ شش وپنج کا شکار ہوئی تھی اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی جو دن کے دو بجا رہی تھی اسے گھر سے نکلے ہوئے کافی وقت ہو گیا تھا عابدہ بیگم کا سوچ وہ پریشانی سے اٹھی تھی
” ٹھیک ہے مجھے چھڑوا دو”
” اوکے تم ریڈی ہو جاؤ” اسے کہتا وہ باہر کی جانب بڑھا کہا اپنا سامان سمیٹتی وہ اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔

جاری ہے
 
اس نے سر اٹھا کر اس بڑی سی بلڈنگ کو دیکھا۔۔
اس جگہ کام کرنے کی خواہش اسے یہاں لے کر آئی تھی۔۔
“ریلکس عمائم۔۔۔ ریلکس” گہرا سانس بھر کر خود کو ریلکس کرتے اس نے سر پر جما دوپٹہ ایک بار پھر ٹھیک کیا اور خود اندر داخل ہوئی۔۔
شاہ انٹر پرائز اینڈ کمپنی بورڈ پر نظر پڑتے ہی وہ مسکرائی۔۔
ریسپششن پر بیٹھی لڑکی سے بات کر وہ تھرڈ فلور پر آگئی جہاں کچھ دیر بعد اسکا انٹرویو کیا جانا تھا۔۔
اسکے علاؤہ بھی اور لوگ وہاں موجود تھے۔۔
ہچکچاتے وہ اپنی جگہ پر جا بیٹھی۔۔
اسکے پاس تعلیم تھی وہ قابل تھی نہیں تھا تو بس تجربہ۔۔
وہاں بیٹھے لوگوں کے تجربات معلوم کر اسے اپنا یہاں بیٹھنا فضول لگا تھا اس سے پہلے وہ یہاں سے اٹھ کر جانے کا ارادہ کرتی اپنی نام کی پکار پر اس نے چونک کر اس لڑکی کو دیکھا۔
“مس عمائم انٹرویو کے لئے آجائیں۔۔”
“یا اللّٰہ”
دل میں دعاؤں کا ورد کرتے وہ اس شاندار شیشوں سے بنی لابی سے گزرتے آفس کے سامنے آکر رکی جس کے اوپر نیم پلیٹ پر بڑا بڑا یہاں کے سی ای او کا نام درج تھا
“حاکم ضوریز شاہ”اتنا رعب دار نام پڑھتے ہی وہ ابھی خاصی مرعوب ہوگئی تھی۔۔
ڈور ناک کرتے اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔
“کم ان” گھمبیر بھاری مردانہ آواز۔
خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے وہ بنا سامنے دیکھے اندر آئی۔
سیٹ کر بیٹھے شخص نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“بیٹھیں”
اجازت ملتے ہی وہ اسکے سامنے بیٹھی اور اپنی فائل اسکی جانب بڑھائی۔
“آپ کا انٹرویو کینسل ہوگیا تھا ؟” وہ بہت فارملی اس سے پوچھ رہا تھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے ایک بار بھی سامنے بیٹھے شخص کی جانب دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
“یس۔۔ سوری ٹو سے سر مگر آپ کی ٹیم کو چاہیے ٹائم پر انفارم کردیں تاکہ دوسرا انسان پریشان نا ہو ۔۔ آپ کو شاید اندازہ نہیں جس ملک میں کیسے کیسے ٹھرکی لوگ ہیں جو اکیلے لڑکی اور خراب حالات کا فائدہ اٹھاتے” تیز تیز کہتے اس نے نگاہیں اٹھائے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا اسکی چلتی زبان کو بریک لگے تھے۔۔
مقابل بڑی فرصت سے ٹھوڑی تلے ہاتھ جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“کہیں چپ کیوں ہوگئیں ؟”
“نہیں وہ۔۔۔” بری طرح گھبراتے وہ ہکلائی۔۔
“کون ٹھرکی آپ کو تنگ کر رہا تھا اس دن؟ آپ نے بتایا نہیں ؟” عمائم کو گہری نظروں سے دیکھ کر کہتا وہ اسے ٹھیک ٹھاک شرمندہ کر گیا تھا ۔۔۔
“آئی ایم سوری” وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
“کس بات کے لئے مجھے ٹھرکی کہنے کے لئے یا غلطی سے یہاں آنے کے لئے؟”
“دیکھیں میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ مجھے اس گھر میں لے گئے تو۔۔۔’
“تو آپ مجھے ٹھرکی سمجھ بیٹھیں ایسا کیا کیا تھا میں نے آپ کے ساتھ؟”
اسکی نگاہیں اور بات۔۔ عمائم زمین کے اندر دھنس گئی۔۔ نوکری ہاتھوں سے جاتی نظر آئی تھی۔۔


“کچھ نہیں “
“کچھ نا کرکے میں ٹھرکی ؟ کچھ کرتا تو؟”
زرا سے آگے ہوئے ضوریز نے باقاعدہ اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا اسکی نگاہوں کے تصادم پر عمائم کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سرد لہر سی محسوس ہوئی۔۔
ان کے گرد عجیب سا سرد دائرہ بن گیا تھا۔۔
اسکا سر شرمندگی سے جھک گیا۔۔
“آپ جا سکتی ہیں”
سختی سے کہتا وہ لیپ ٹاپ کی جانب متوجہ ہوگیا جس کا مطلب تھا آپ یہاں سے دفع ہو جائیں۔۔۔
شرمندگی سے اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں ٹھیک کہتی تھی امی زبان کو قابو کرنا لازمی ہوتا ہے۔۔
اپنی فائل اٹھائے وہ مرے قدموں سے آفس سے نکلی تھی۔۔۔۔


اس وقت وہ اس ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی کل جو کچھ ہوا اسکے بعد بھی۔۔ اسے پیسوں کی ضرورت تھی اور وہ ضرورت نوکری کر کے ہی پوری ہوسکتی تھی۔۔
کل جو ہوا اس نے شہرے کو خوفزدہ کردیا تھا مگر آج اسے امید تھی ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔
گہرا سانس بھرتے وہ اندر داخل ہوئی۔۔
ہوٹل میں معمول کے مطابق ہلچل تھی۔
عبیرہ کو ملتی وہ ڈریسنگ روم میں آگئی۔
آج ہوٹل میں کوئی بڑی پارٹی تھی میوزک کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی چینج کرکے وہ واپس اپنی پوزیشن سنبھال چکی تھی۔۔
“تمہیں کیا ہوا چہرہ مرجھایا ہوا کیوں لگ رہا ہے؟”
“نہیں ایسا تو کچھ نہیں” بمشکل مسکراتے اس نے عبیرہ کو جواب دیتے سامنے دیکھا ۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ اسکی سانسیں اٹکی تھیں۔۔
ہاں وہ وہی تھا مامون شیرازی ۔۔ جو آنکھوں میں تپش لئے اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے زندہ سالم نگل جائے گا۔۔
شہرے نے فوراً سے اپنا رخ تبدیل کیا۔
“میں کاؤنٹر پر جا رہی ہوں” اپنی کمر پر نگاہوں کی تپش محسوس کرتے اس نے وہاں سے ہٹنا ہی ٹھیک سمجھا۔
اسکی ہتھیلیاں بار بار پسینے سے تر ہو رہی تھیں۔
دوسری طرف اسے گھبراتے دیکھ وہ پراسرار سا مسکراتے عظیم کے آفس میں آیا۔
“مامون کہاں تھا ؟
“یہی تھا ہوٹل دیکھ رہا تھا “
“او اچھا “
“میرا روم ریڈی ہے؟”
اسکے سوال پر عظیم نے اسے ایسے دیکھا جیسے کوئی التجا کر رہا ہو۔۔
“ہاں ریڈی ہے”
“ایسے شکل مت بنا۔۔ جب تک میں اس لڑکی کو حاصل نہیں کروں گا مجھے سکون نہیں ملے گا”
“مامون وہ ایسی لڑکی نہیں ہے شریف لڑکی ہے مجبوری میں یہاں نوکری کر رہی ہے تجھے آخر لڑکیوں کی کمی ہے کیا؟”
“اس نے مجھے ریجکیٹ کیا ہے مامون شیرازی کو۔۔ کیا اتنی آسانی سے چھوڑ دوں اسے؟”
اس نے ایکدم ہی ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔
عظیم نے اسے دیکھا جو غصے سے پاگل ہوا تھا۔۔
“مامون اس نے ریجکیٹ”
“میں اسے تباہ کردوں گا عظیم وہ نہیں جانتی اس نے اپنے لئے کیا عذاب چن لیا ہے”
اسکی آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے شہرینہ کا انکار اسکی انا پر لگا تھا۔۔
“مامون”
“نہیں کرتا کچھ ریلکس” پیچھے ہوتے وہ مسکرایا تھا عظیم نے سکھ کا سانس لیا تھا مگر ابھی وہ مامون شیرازی سے ابھی واقف کہاں تھا۔۔


“شہرینہ اوپر والے پورشن میں چلے جاؤ وہاں کام ہے”
وہ اپنے کام میں مصروف تھی جب ساتھی ورکر کی پکار پر وہ عبیرہ کو آنے کا کہتی خود اوپر بڑھی تھی۔
پارٹی نیچے پورشن میں تھی جبکہ اوپری حصے میں رومز بنے ہوئے تھے۔۔
“یہاں تو سب صاف ہے مجھے تو کوئی کام نہیں دیکھ رہا یہاں” خود سے کہتے وہ آگے بڑھنے لگی سارے کمرے بند تھے وہاں کوئی زی روح موجود نہیں تھا۔۔
آخری سرے پر پہنچ کر بھی اسے اوپر کوئی کام نظر نہیں آیا تھا۔
سر جھٹکتے وہ واپس نیچے کے لئے بڑھی جب اچانک کسی نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں قید کیا تھا اسکی چیخ کا گلا گھونٹتے وہ شخص اسے کندھے پر اٹھاتا ایک کمرے میں داخل ہوا تھا۔
شاکڈ سے شہرے کی آنکھیں پھٹی تھیں۔
مامون نے اسے بیڈ پر پٹختا اور خود اس پر حاوی ہوا تھا۔۔
“چھوڑو۔۔۔ چھوڑو مجھے دور رہو مجھ سے”
ہوش میں آتے ہی ہو چلائی تھی۔
“دور رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب میں تمہیں بتاؤں گا مامون کو انکار کرنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے”
اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑ کر اسنے شہرے کے سر کے اوپر لگائے۔
“خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ پلیز” وہ رو رہی تھی گڑگڑا رہی تھی۔۔
“آج تمہیں پتا چلے گا مجھے انکار کرنے والوں کے ساتھ میں کیا کرتا ہوں”
اسکا منہ دبوچے وہ اسکے منہ پر غرایا تھا۔
شہرے کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گر رہے تھے تھا ہی کیا اسکے پاس سوائے عزت کے اور آج وہ بھی۔
یہ خیال آتے ہی اس نے پوری قوت سے خود کو مامون کے شکنجے سے آزاد کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“آج رہائی ممکن نہیں ہے” اسکے آنسوؤں سے نظریں چراتا وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا شہرے کے ہاتھوں پر اسکی گرفت کمزور پڑی اور اسی کا فائدہ اٹھاتے وہ پوری قوت سے اسے پیچھے دھکیلتی اسکے منہ پر تھپڑ مار گئی
اسکا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔
“جانور ہو تم ڈیول ہے پاس مت آنا میرے” پاس پڑا واس اٹھاتے وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔
مامون نے خون آشام نظروں سے اسے دیکھا جو اب بالکل دروازے تک پہنچ چکی تھی۔
“میرے قریب آئے تو میں خود کو جان سے مار لوں گی ” کپکاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولتے وہ ایک جھٹکے سے واس زمین پر پھینکتے وہاں سے بھاگی تھی۔۔
اسے بس نکلنا تھا یہاں سے اس انسان کی پہنچ سے اسکی نظروں سے۔۔
ڈریسنگ روم کے واشروم میں بند ہوتی وہ زمین پر بیٹھتی چلے گئی ۔۔
ہونٹوں پر ہاتھ رکھے وہ اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی۔۔۔۔
“شہرے۔۔ کیا ہوا ہے؟” عبیرہ کی آواز پر اس نے چہرہ ہاتھوں میں چھپایا۔
یہاں کوئی اس پر یقین نہیں کرنے والا تھا۔
“عبیرہ میں آتی ہوں پلیز تم دیکھنا سب”
بمشکل کہتے وہ واش بیسن کے سامنے کھڑی ہوئی آنسو اسکے گال بھگو رہے تھے اسکی کلائیوں پر مامون کی انگلیوں کے نشان ثبت تھے۔۔
عزت بچانا اتنا مشکل کیوں تھا آخر۔۔۔


دھاڑ سے دروازہ بند کرتا وہ اندر داخل ہوا۔۔
اسکے ماتھے کی رگیں ابھری ہوئی تھیں غصے سے مٹھایں بھینچے وہ کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔
اجمل نے تاسف سے اسے دیکھا جو اس وقت طوفان بنا ہوا تھا۔۔
پاس پڑے واس کو زمین بوس کرتے وہ مزید تباہی مچانے کے در پر تھا۔۔
“سائیں بس کریں آپ کے لگ جائے گی”
“لگ جائے گی ؟ آگ لگ رہی ہے میرے اندر اجمل آگ اور یہ آگ مجھے جھلسا رہی ہے”
“سائیں وہ انجان لڑکی “
“انجان؟” غصے سے کھولتے اس نے اجمل کو دیکھا۔
“نام سنا تھا تم نے اسکا؟”
اسکا سوال عجیب تھا ۔
“نور فاطمہ یزدانی ۔۔۔۔۔”
جازب نے اسکے سر پر دھماکہ کیا تھا۔۔
“نور فاطمہ ؟
“تمہیں کیا لگتا ہے تم لوگوں پر کام چھوڑ کر میں جھگ مارتا پھر رہا ہوں؟”
اسکے غصے سے کہنے پر اجمل کی آنکھیں پھیلیں۔۔
“آپ کو وہ مل گئی ہیں تو آپ نے انہیں چھوڑا کیوں؟”
“مجھے اس کے بارے میں ایک ایک ڈیٹیل چاہیے اجمل تمہارے پاس بس آج کا دن ہے” اسے سوال کو نظر انداز کرتا وہ اپنی ہی کہے گیا۔
اسکی آنکھوں سے وہ منظر نہیں ہٹ رہا تھا ۔
“تمہیں تو میں ٹھیک سے بتاؤں گا کہ آخر میں ہوں کون اور تمہارے ساتھ کیا کیا کرسکتا ہوں”
سیگریٹ سلگاتے وہ کھڑکی میں آ کھڑا ہوا اندر کی وحشت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔

“تم جانتی ہو اسے؟”
فائزہ نے اس سے پوچھا جو ابھی تک شاکڈ میں تھی۔
“میری شکل سے ایسا لگ رہا ہے کہ میں اسے جانتی ہونگی ؟ عجیب سائیکو آدمی تھا” اپنی کلائی پر موجود اسکی انگلیوں کے نشان دیکھ وہ اریٹیٹ ہوئی تھی۔۔
“اچھا خاصا تماشا بن گیا لوگ باتیں بنا رہے ہیں”
“ان لوگوں کو آتا بھی کیا ہے جب وہ آدمی مجھے لے جا رہا تھا تب تو کوئی ایک بھی آگے نہیں آیا میری مدد کرنے ؟”
“اچھا نا غصہ نہیں ہو نا”
“میں غصہ کیسے نا ہوں عجیب سائیکو آدمی تھا مجھے دھمکا کر گیا ہے”
“وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے سیاستدان ہے جو ایسے ہی تمہارا ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا تھا ضرور کوئی مسئلہ ہوگا “
فائق کی بات پر نورے نے اسے گھور کر دیکھا۔
“فائق منہ بند کرو اور نورے تم ابھی گھر جاؤ پہلے ہی لیٹ ہوگیا ہے ہم کل بات کریں گے”
“ہممم”
“چلو میں تمہیں ڈراپ کردوں ” فائق نے اسے اگر کی”
“رہنے دو فائق میں خود جا سکتی ہوں آج کل مصیبتوں نے میرا راستہ دیکھ لیا ہے اللّٰہ جانے آگے میرے ساتھ کیا کیا ہونا باقی ہے”
“اللہ نا کرے اچھا اچھا سوچو نا ابھی تو شہرے کے لئے بھی بہت کچھ کرنا ہے تم نے”
فائزہ نے محبت سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔
“پتا نہیں میں کبھی اس کے لئے کچھ کرسکوں گی بھی یا نہیں”
“یار مجھے نا تمہاری امی کی سمجھ نہیں آتی ایک بیٹی سے اتنی محبت اور ایک سے اتنی نفرت”
“شہرے کے پیدا ہونے کے بعد شہرے کے بابا نے امی کو چھوڑ دیا تھا وہ اپنی بربادی کی وجہ آج بھی شہرے کو سمجھتی ہیں میں زیادہ کچھ نہیں کرسکتی کیونکہ امی بات تک کرنا نہیں پسند کرتیں اس معاملے میں “وہ شہرے محبت کرتی تھی مگر اسکے لئے وہ کچھ نہیں کرسکی تھی۔۔۔۔


“یہ لڑکی وہی تھی نا جس کو بچایا تھا اس دن یہ یہاں کیا کر رہی؟”
اسکے روم میں آتے کامران نے حیرت سے ضوریز سے پوچھا جس کا موڈ پہلے ہی خراب تھا۔
“دماغ خراب کرنے آئی تھیں میڈم میرا”
“اللہ خیر اتنا غصہ ہوا کیا ہے؟”.
“کچھ نہیں ہوا میں گھر جا رہا ہوں ” اپنی کیز اٹھاتا وہ باہر کی جانب بڑھا ماتھے پر پڑی سلوٹیں زرا کم نہیں ہوئی تھیں۔۔
“رک تو ضوریز آخر ہوا کیا ہے کچھ بتائے گا”
“میرے ہی آفس میں آکر مجھے ہی ٹھرکی بول کر گئیں ہیں محترمہ لائک سیرسیلی اگر تو اس دن مجھے فورس نا کرتا تو میں بھی اسکی مدد نہیں کرتا ” جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول وہ اندر بیٹھ گیا۔۔
پورے راستے اسکا موڈ ایسے ہی آف رہا تھا۔۔
گاڑی عالیشان گھر کے سامنے رکی گارڈ نے اسے دیکھتے ہی بڑا سا دروازہ کھولا تھا۔
گاڑی پورچ میں روکتے وہ چابی کامران کے حوالے کرتا خود لمبے ڈاگ بھرتے اندر بڑھا تھا مگر اس ایک آواز پر اسے رکنا پڑا۔۔۔
“بابا۔۔ آئی ایم ہئیر”
ضوریز نے گردن موڑے دیکھا جہاں وہ صوفے کے پیچھے کھڑا معصومیت سے اسے دیکھ رہا تھا ضوریز کے چہرے پر مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔۔
“ہے چپ ۔۔۔ مائے بچہ کم ہئیر” ساری خلفت لمحوں میں ختم ہوئی تھی۔۔۔
گھٹنوں کے بل بیٹھتے ضوریز نے اپنی بانہیں پھیلائیں۔۔
زارون بھاگ کر ان بازوؤں میں سمایا تھا۔۔۔
“آئی مسڈ یو سو مچ بابا”
“بابا مسڈ یو ٹو بچے” اسکے ماتھے پر بکھرے بال سنوارے وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔۔
“اگر باپ بیٹے کا پیار ہوگیا ہو تو زرا ماں کو بھی مل لو”
“امی” زارون کو گود میں بھرے وہ اپنی ماں کو حصار میں لے کر صوفے پر بیٹھا۔
“چاچو سے بھی مل لے یار” کامران کی آواز پر زارون بھاگ کر اسکے سینے سے لگا تھا اور اب وہ دونوں اپنی ہی باتوں میں مگن تھے۔۔
“زیادہ تنگ تو نہیں کیا نا زارون نے؟”
“تنگ؟؟ نئی گورنس کو بھگا دیا یے۔۔ ضوریز اسے ماں کی ضرورت ہے بیٹا “
“خالہ میں نے کومل سے بات کی ہے وہ ضرور کوئی اچھی سی ٹیوٹر زارون کے لئے ڈھونڈ دے گی آپ بے فکر رہیں ” وہ واقعی سچا دوست تھا ضوریز نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“چلیں میں چینج کرتا ہوں آپ بائے بنوا دیں زاروں کم ود می” سیڑھیاں چڑھتے اس نے زارون کو پکارا جو فوراً باپ کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔
ان کے جاتے ہی کامران شائستہ بیگم کے پاس آکر بیٹھا۔
“آپ جانتی ہیں نا وہ آپ کی بات نہیں مانے گا “
“تو کیا ساری زندگی اسے اکیلا رہنے دوں ؟”
“صحیح وقت کا انتظار کریں مجھے یقین ہے ایک وقت ایسا آئے گا جب ضوریز کی زندگی میں بھی کوئی ایسی آئے گی جس سے وہ شادی کرنا چاہے گا خود کو ہلکان مت کیا کریں خالہ” وہ واقعی ان کے لئے فکر مند تھا وہ بس سر ہلا کر رہ گئیں۔۔


آسمان آج ستاروں سے بھرا ہوا تھا یہ اسکا من پسند نظارہ ہوتا تھا مگر آج یہ نظارہ بھی اسے خوش نہیں کر سکا تھا۔
صحن میں چبھے تخت پر بیٹھی وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔
نور اور امی دونوں اندر تھیں اس نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھا۔
پہلے وہ شکوے نہیں کرتی تھی مگر اب زندگی سے شکوے بڑھتے جا رہے تھے۔۔
“,کیا بات ہے آج جاگ رہی میرے انتظار میں ” عقب سے آتی نشے میں ڈوبی آواز پر وہ جھٹکے سے اٹھی تھی۔
آہ وہ کیسے بھول سکتی تھی اس شخص کی یہاں موجودگی۔
چہرے پر خوف کے سائے لہرائے۔۔
“نہیں وہ۔۔” اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا فوراً سے وہ اسکے پاس سے نکلتے اندر بڑھی تھی جب اسکی کلائی مقابل کی سخت گرفت میں آئی۔
“اکیلے چھوڑ کر جا رہی مجھے”
“عدنان بھائی میرا ہاتھ چھوڑیں”
“بھائی ۔۔۔ کون سا بھائی نا ہمارا باپ ایک نا ماں ایک” اسے کہتے وہ خباثت سے ہنستا چلا گیا۔
شہرے کو اسکی گرفت میں اپنا ہاتھ جلتا محسوس ہوا تھا۔۔
“پلیز مجھے جانے دیں۔” آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔
“جانے دیتا ہوں مگر ان کے بعد میری بات نہیں مانی تو یاد رکھنا ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والوں کے ساتھ ہم کیا کرتے ہیں
وہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا ولن تھا۔۔۔
ایک جھٹکے سے اسکی قید سے اپنی کلائی آزاد کرواتے وہ اندر بڑھی جب سامنے ہی اپنی ماں کو کھڑے پایا ۔۔۔
“امی” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی عائلہ بیگم کا ہاتھ اٹھا تھا اور اسکے بال پر نشان چھوڑ گیا۔۔
عدنان نے جیبوں میں ہاتھ ڈال بڑی فرصت سے اسے دیکھا۔۔
“شرم نہیں آتی تجھے صحیح کرتی ہوں تیرے ساتھ میں دفع ہوجا اپنی شکل لے کر” نفرت آمیز لہجے میں کہتے انہوں نے اسے اندر دھکا دیا۔
وہ لڑکھڑائی تھی
کیا وہ واقعی اسکی سگی ماں تھیں۔۔۔
“عدنان بیٹا جاؤ اپنے کمرے میں ” ان کی آواز اسکی سماعت میں کسی ہتھوڑے کی طرح لگی تھی۔۔
وہ یونہی زمین پر بیٹھتی چلے
گئی۔۔
آنسو ایک دم سوکھے تھے ویران آنکھوں سے وہ اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
جاری ہے
 
http://twitter.com/share?url=https:...fn-episode-5/&text=Dil Ishqam by FN Episode 5

“اسلام وعلیکم امی” گھر میں داخل ہوتے اس نے چادر اتار کر ہاتھ پر رکھتے صحن میں بیٹھیں عابدہ بیگم کو سلام کیا۔۔
“وعلیکم السلام کیسا رہا انٹرویو ؟”
سامان سمیٹ کر اٹھتے ساتھ انہوں نے اس سے سوال بھی کیا۔۔۔
“میری شکل سے آپ کو کیا لگ رہا ہے؟” صوفے پر بیٹھتے اس نے عابدہ بیگم کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا۔۔
“کیوں خود کو تھکا رہی ہو عمائم۔۔ تمہارے ماموں ممانی ناراض ہو رہے تھے کہ کیا ضرورت ہے تمہیں اتنی خواری اٹھانے کی جب وہ کفالت کر رہے ہیں” ان کی بات پر اس کے ماتھے پر بل پڑے ۔
“امی وہ کفالت تو کر رہے ہیں مگر مفت میں نہیں۔۔۔ آپ سے سارے کام لیتے ہیں اور مجھ سے اپنے اپنی بچی اور پوتی کو مفت کی ٹیوشنز دلاتی ہیں کہیں باہر جائیں گی تو پانچ ہزار تو لازمی بنیں گے”
گلاس ٹیبل پر رکھتے وہ سچ بولنے سے باز نہیں آئی تھی عابدہ بیگم نے گھور کر اسے دیکھا ۔
“اس سے زیادہ کیا ہے انہوں نے ہمارے لئے “
“ہاں کیا ہے نا آپ کو ممانی جان اپنے کپڑے دیتی تھیں اور مجھے اپنی بہو تو کبھی بیٹی کے۔۔ آپ کو یاد ہے آخری بار انہوں نے اپنے پیسوں سے کب نیا سوٹ دیا تھا آپ کو”؟
اپنی ماں کو ان کی حمایت میں بولتا دیکھ اسکے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
“خدا کا خوف کرو عمائم بھابھی بالکل نئے جوڑے دیتی ہیں بس ایک یا دو بار ہی پہنے ہوتے ہیں انہوں نے اور اب بس فضول ہی بحث بند کرو”
اسے کچھ کہنے کو منہ کھولتا دیکھ وہ اسے فوراً سے ٹوک گئیں۔۔ جس پر اس نے منہ بنایا۔۔
“شام اپنے ماموں کے پاس ہو آنا یاد کر رہے تھے تمہیں”
“ان سے میں رات میں مل لوں گی شام میں کہیں اور بھی جانا ہے مجھے “
“کیا مطلب کہاں جانا ہے؟”
“جب تک اچھی نوکری نہیں ملتی تب تک ہوم ٹیوشنز لوں گی اور آپ پلیز اب کچھ اعتراض مت کیجئے گا ” انہیں کہتے ساتھ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی۔۔
اسکی دوست نے اسے ایک ہوم ٹیوٹشن کا بتایا تھا اور آج اسے اسی سلسلے میں اس جگہ جانا تھا۔
اس نے کمرے میں آتے ہی اپنی اور عابدہ بیگم کی مشترکہ الماری کھولی۔۔ پچھلی عید اس نے ٹیوشن کی فیس سے اپنے اور عابدہ بیگم کے لئے سوٹ بنایا تھا اپنی کمائی سے حاصل ہوئی چیز کو دیکھ ایک سکون سا اسکے دل میں اترا تھا۔
سوٹ نکال کر بیڈ پر رکھتے وہ سدرہ کو کال کرنے لگی۔
“ہیلو سدرہ؟”
“ہاں عمائم؟ تم آ رہی ہو نا شام میں ؟” جو بات وہ خود کرنا چاہ رہی تھی سدرہ نے خود ہی کر دی۔۔
“ہاں ہاں میں پانچ بجے تک آجاؤں گی”
“ٹھیک ہے ایک کام کرنا سیدھا اپیا کے گھر جانا وہ تمہیں اپنے ساتھ وہاں لے جائیں گی اچھے لوگ ہیں بہت میرے بہنوئی کی فیملی میں سے ہیں مجھے پورا یقین ہے تمہیں وہاں اچھا لگے گا “
“اچھا نا بھی لگے سدرہ مجھے بس جاب چاہیے پیسے کمانے ہیں “
“سب ہو جائے گا میری جان ڈونٹ وری۔۔ کچھ بھی پرابلم ہو فوراً کال کرنا ٹھیک ہے ؟”
سدرہ اسکی کالج فرینڈ تھی ان دونوں نے کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر ایک ساتھ طے کیا تھا سدرہ نے ریگولر اور اس نے پرائیویٹ ۔۔۔
مختصر سی بات کے بعد وہ کال بند کرچکی تھی اب اسے شام کی تیاری کرنی تھی۔۔


“شہرے۔۔ میری جان تم ٹھیک ہو نا؟” نور فکر مند سی اسکے سرہانے بیٹھی تھی جس کا پورا وجود اس وقت بخار کی شدت سے جل رہا تھا۔
مندی آنکھیں کھول اس نے خود پر جھکی پریشان سی نور کو دیکھا۔۔
“میں ٹھیک ہوں” بمشکل اٹھتے اسکے ہاتھ کپکائے۔۔
“لیٹی رہو۔۔ آرام کرو”
“تم کالج نہیں گئیں؟”
“آج ایوننگ کلاسز ہیں میں بس جا ہی رہی تھی”
“میں ٹھیک ہوں نورے تم جاؤ تمہیں کالج کے لئے لیٹ ہو رہا ہے” اٹھ کر بیٹھتے اس نے دیوار سے ٹیک لگائی۔۔
“ہونے دو لیٹ تم بیٹھو میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں پھر دوا کھانا۔۔
“نورے۔۔ مجھے اتنی توجہ کی عادت نہیں ہے تم جاؤ میں ٹھیک ہوں بس اب اٹھوں گی”
اسکا انداز بہت سادہ سا تھا مگر نورے کو اسے ایسے دیکھ دکھ ہوا تھا وہ خود اپنے ماں کے پیسے پر اپنی تعلیم مکمل کر رہی تھی اسکے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ شہرے کو دے سکتی وہ بہن ہو کر بھی اسکی کوئی مدد نہیں کرسکتی تھی۔۔
“میں امی سے بات کروں گی وہ کم از کم تمہارے ایڈمیشن کی فیس تو دے سکتی ہیں نا”
“بالکل بھی نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گی ۔۔ وہ پہلے ہی بہت محنت کر رہی ہیں تاکہ تم اچھی جگہ پڑھ سکو نورے۔۔ میں ان پر اپنا بوجھ نہیں ڈال سکتی میں ٹھیک ہوں بالکل “
نور کا ہاتھ تھام وہ نرمی سے بولتے واپس سے آنکھیں موند گئی جس کا مطلب تھا وہ اب مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔
“اچھا تم اب گھر میں رہو باہر جانے کی ضرورت نہیں امی جا چکی ہیں میں بھی جا رہی ہوں” اسکے چہرے پر پڑے بال سنوارے وہ محبت سے کہتی اٹھی تھی۔۔
“ہمم” وہ محض اتنا ہی کہہ سکی اسکے دل میں ایک طوفان مچا ہوا تھا آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے۔۔
نور نے ایک اداس نظر اس پر ڈالی اور پھر اپنا بیگ اٹھائے وہ کمرے سے نکلتی گھر سے بھی نکلتی چلے گئی۔۔
اسکے جاتے ہی کوئی شخص خاموشی سے ان کے گھر کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا تھا۔
خاموش چاپ۔۔ چوروں جیسی۔۔
 
وہ کالج میں داخل ہوئی۔ عجیب سے احساس نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا تھا اسکا ارادہ سیدھا کلاس میں جانے کا تھا مگر سامنے سے آتے پیون کے اشارے پر اسے رکنا پڑا۔۔
“نور فاطمہ آپ کو میڈم بلا رہی ہیں”
“مجھے ؟” سینے پر ہاتھ رکھ اس نے جیسے تصدیق چاہی تھی۔۔
“ہاں” وہ اپنی پیون اپنی بات کہہ کر رکا نہیں تھا جبکہ وہ تذبذب کا شکار ہوتے اپنے بیگ سنبھالے پرنسپل آفس کی جانب بڑھی۔۔
“مے آئی کم ان ؟”
اجازت ملنے پر وہ دروازہ کھول اندر داخل ہوئی جہاں پرنسپل میڈم اسکے سامنے ہی بیٹھی تھیں۔۔
“آجائیں نور بیٹا بیٹھیں” اتنا میٹھا شہد لہجہ نور کو بالکل بھی ہضم نہیں ہوا تھا۔۔
“جی میم آپ نے بلایا ؟”چئیر پر بیٹھتے اس نے آہستہ سے پرنسپل سے پوچھا۔
“بیٹا آپ نے کبھی بتایا نہیں کہ جازب شاہ سے آپ کے خاص ٹرم ہیں؟”
انہوں نے خصوصاً خاص ٹرم پر زور دیا تھا۔
نور نے سختی سے مٹھیاں بھینچیں۔۔ آخر کیوں کوئی اسکا یقین نہیں کر رہا تھا۔
“دیکھیں میم۔۔ میرا جازب شاہ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے “
ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ ان پر بہت کچھ باور کروانا چاہتی تھی مگر شاید وہ اس بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔۔۔
“بیٹا اس طرح وہ محفل آپ پر حق جتا رہے تھے تو”
“میم وہ ایک سائیکو آدمی ہے میں نا انہیں جانتی ہوں نا میرا ان سے کوئی تعلق ہے “
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر کیسے خود کو سچا ثابت کرے۔۔۔
“اگر ایسا ہے تو کیوں یہاں آئے تھے مجھ سے خاص بات کرنے ؟”ان کی بات پر وہ بری طرح چونکی۔۔
“کیا مطلب میم؟”
“وہ یہاں آئے تھے انہوں نے خاص تاکید کی ہے کہ آپ کا خیال رکھا جائے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے افیکٹ وہ اس کالج کے ٹرسٹی بھی بننے کو تیار ہیں صرف آپ کی وجہ سے”
ان کی بات پر شاکڈ ہوئی تھی کون تھا آخر یہ شخص کیوں اس کے ساتھ یہ سب کر رہا تھا۔
“کیا آپ مجھے ان کا نمبر دے سکتی ہیں” بہت ضبط کرتے اس نے نمبر مانگا تھا۔۔
میڈم نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں نمبر تو ہوگا ہی تمہارے پاس۔۔۔
“میم میرا اس انسان سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ اس طرح کر کے مجھے ہراس کر رہے ہیں آپ مجھے ان کا نمبر دے دیں تاکہ میں خود ان سے بات کرسکوں”
“اسکی ضرورت نہیں ہے ہمارے درمیان ہوئی ساری بات انہوں نے سنی ہے ان کے پاس آپ کا نمبر ہوگا وہ خود آپ سے رابطہ کرلیں گے” پرنسپل کی بات پر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا۔۔
“آپ جا سکتی ہیں” وہاں رکنا بھی کون چاہتا تھا ماؤف ہوتے سر کے ساتھ وہ آفس سے باہر آئی آخر تھا کون یہ شخص سوچ سوچ کر اسکا دماغ گھوم رہا تھا غصے سے برا حال تھا اس شخص نے اسکی زندگی کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔
اس سے پہلے وہ کچھ بھی سوچتی اسکا موبایل رنگ ہوا تھا انجانا نمبر تھا کچھ سوچتے اس نے کال ریسیو کر سیل کان سے لگایا۔
“مجھ سے ملنا چاہتی ہو ؟”
بھاری گھمبیر مردانہ آواز نور کے ہاتھ لمحے کو کانپے۔۔
“آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ ؟” سائیڈ ہوتے وہ دبا دبا چلائی تھی۔
اسکے سوال پر مقابل کا دلکش قہقہ اسکی سماعت سے ٹکرایا۔۔
“ایک ملاقات میں ہی آواز پہچان گئیں میری ؟ ویسے اتنی دلکش آواز تو ہے میری بندہ ایک ملاقات کے بات ہمیشہ یاد رکھتا ہے” نورے نے موبائل کان سے ہٹا کر ایسے گھورا جیسے وہ سامنے کھڑا ہو۔۔۔
خوش فہمیوں کی واقعی کوئی حد نہیں ہوتی۔۔۔
“کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ آخر کیوں میری زندگی تنگ کر رہے ہیں؟”
“دوسروں کو تنگ کرنے والے یہ سوال پوچھتے کچھ اچھے نہیں لگتے “
“کیا مطلب ہے اب اس بات کا”
“کالج کی چھٹی کے بعد مجھ سے ملنا آنا ہے آپ کو گاڑی بھیج دوں گا”
“اور کی۔ کیوں آؤں گی آپ سے ملنے مسٹر جازب شاہ؟”
“آپ کو آنا پڑے گا نور فاطمہ یزدانی ورنہ اگر میں خود آگیا تو آپ کی جان مشکل میں پڑ جائے گی” پراسرار سا مسکراتے اس نے اسکرین پر نظر آتے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے۔
جو اسکی بات کر غصے سے لال ہوئی تھی۔۔۔
“میری جان کا پیچھا چھوڑ دیں آپ آئی سمجھ”
“وہ تو اب ملنے کے بعد ہی فیصلہ ہوگا سیدھی طرح آپ آجانا ورنہ میں کتنا ٹیڑھا ہوں اس بات کا اندازہ ابھی آپ کو ایک فیصد بھی نہیں “
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی فون کٹ چکا تھا۔۔
“ہونہہ تم سے ملتی ہے میری جوتی ” باآواز بلند بڑبڑاتے وہ کلاس کی جانب بڑھ گئی۔
جبکہ اسکرین کے دوسری طرف اس نے بہت سکون سے اسکی بات سنی تھی۔۔۔۔
“جوتی بھی ملے گی مجھ س مگر فرق اتنا ہوگا کہ وہ جوتی آپ کے پیروں میں ہوگی”


اپنی بات پر مسکراتا وہ اسکرین آف کرگیا۔۔

گاڑی اس عالیشان گھر کے سامنے آکر رکی تھی عمائم نے سر اٹھائے اپنے سامنے کھڑے اس خوبصورت گھر کو دیکھا اس گھر میں سے اسکے گھر کے تین حصے بن سکتے تھے۔۔
“یہ میری خالہ ساس کا گھر ہے”
“اوو۔۔”عمائم نے سمجھتے سر ہلایا تھا۔۔
کومل نے اسے ساری ڈیٹیلز بتائی تھیں۔۔
“کیا یہ جاب مجھے مل جائے گی؟” عمائم نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
“اسکا فیصلہ زارون پر ہے۔۔ یو نو اسے بہت کم لوگ پسند آتے ہیں جو لوگ پسند آجاتے ہیں انہیں وہ جانے نہیں دیتا اور جو لوگ نہیں پسند آتے وہ ایک لمحہ بھی اسکے ساتھ نہیں رہ سکتے”
کومل کی بات پر وہ ہولے سے مسکرا دی جیسے کچھ یاد آیا ہو۔۔
“تم مسکرا رہی ہو؟”
“مجھے اپنا آپ یاد آگیا امی کہتی ہیں میں بھی بالکل ایسی ہی تھی یا ابھی بھی ایسی ہی ہوں مجھے ناپسند لوگ بالکل بھی اپنے پاس برداشت نہیں ہوتے چاہے وہ کتنے بھی اچھے کیوں نا ہوں” منہ بسورے اس نے جیسے اپنی خامی کومل کو بتائی جس پر وہ ہنس پڑیں۔
“پھر تو خوب جمے گی تم دونوں کی”
کومل کی بات پر اس نے مسکراتے سامنے دیکھا اسکی نگاہ غیر ارادہ طور پر اوپر کی جانب اٹھی تھی جہاں بالکونی میں بیٹھا بچہ اسکی ساری توجہ کھینچ گیا۔۔
وہ شاید کچھ لکھ رہا تھا یا ناجانے کیا مگر وہ اس لمحے میں جکڑ سی گئی تھی۔۔زارون نے سر اٹھایا تو نگاہیں عمائم سے جا ٹکرائیں نگاہوں کے تصادم پر عمائم ہولے سے مسکراتے اندر بڑھ گئی
اندر جا کر وہ شائستہ بیگم سے ملی تھیں ۔۔
اسے بچے سنبھالنے کا تجربہ نہیں تھا یہ جان کر وہ تھوڑی مایوس ہوئی تھیں اور یہ مایوسی عمائم سے چھپی نہیں رہی تھی۔۔
“ہیلو آپ میری نیو ٹیوٹر ہیں؟”زارون کی آواز پر شائستہ بیگم نے جھٹکے سے گردن گھما کر اسے دیکھا جو اب سیڑھیاں اترتے نیچے آرہا تھا اسکے ہاتھ میں اسکی ٹوائے کار تھی۔۔ اسکی فیورٹ ٹوائے کار۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم زارون٫” عمائم کے سلام پر وہ ہولے سے مسکراتا اپنا ننھا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دے گیا۔
“وعلیکم السلام یو نو مائے نیم ؟”
“یس۔۔ آئی نو یور نیم” زارون کو دیکھ ایک انجانی سی خوشی ہوئی تھی۔۔
“عمائم”
“واؤ سو پریٹی نیم” پورے دانتوں کی نمائش کرتا وہ مسکرایا۔۔
شائستہ بیگم تو حیرت سے اپنے پوتے کے انداز دیکھ رہی تھیں۔ وہ لوگوں انجان لوگوں سے بات تک نہیں کرتا تھا کجا کر مسکرانا۔۔
“دادو۔۔ آئی لائک ہر شی از پریٹی نا؟” آنکھ ونک کرتے اس نے شائستہ بیگم سے پوچھا جو اب اسکا مطلب سمجھتے کھل کر مسکرائی تھیں۔۔
ہاں بھئی وہ عقل مند تھا اپنی دادو پر جو گیا تھا۔
“عمائم آپ کل سے آ سکتی ہیں لیکن اس سے پہلے کچھ ڈاکیومنٹس آپ مجھے دے دیجیئے گا”
“دادو میں عمائم کو اپنا روم دیکھا دوں ” زاروں تو ہتھیلی پر سرسوں جمانے پر تلا تھا۔
“بھئی اب زراون کو آپ پسند آگئیں ہیں عمائم۔۔ جائیں آپ زارون کے ساتھ چلی جائیں” ان کی بات پر تھوڑا ہچکچاتے وہ زارون کے ساتھ اوپر کی جانب بڑھ گئی۔
“خالہ؟”
کومل کی پکار پر وہ ہنس پڑیں۔۔
“آپ ہنس رہی ہیں آپ نے دیکھا نہیں عمائم کو دیکھ کیسے کیا اس نے مجھے تو کچھ خطرہ لگ رہا ہے”
“کچھ خطرہ نہیں اسے عمائم اچھی لگی ہے بس ویسے عمائم منگنی شدہ ہے کیا؟”
“نہیں ایسا تو نہیں “
کومل کے جواب نے انہیں زرا پرسکون کیا تھا۔۔
 
دیوار سے ٹیک لگائے وہ گھُٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھی تھی جب باہر سے آتی آہٹ پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔۔
“کون ہے” سر کو تھامے وہ دیوار کا سہارا لئے کھڑی ہوئی تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور جو چہرہ اسے دیکھنے کو ملا تھا وہ اسکی سانسیں تک روک گیا۔۔۔
“سنا ہے کوئی بیمار ہے” شوخی بھری آواز پر شہرے کے دل کی دھڑکن ساکن ہوئی تھی وہ خوفزدہ نگاہوں سے اپنے سامنے کھڑے عدنان کو دیکھ رہی تھی۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو یار میں ہوں تمہارا عدنان” محبت پاش لہجے میں کہتا وہ قدم بہ قدم چلتا اسکے قریب آرہا تھا۔۔
نفی میں سر ہلاتے شہرے نے اپنے قدم پیچھے لئے اسکے پیچھے دیوار تھی۔ فرار کی ساری راہیں مفقود تھیں۔۔۔
“نا نا بھاگنے کی کوشش نا کرنا کیونکہ آج تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا” خباثت سے مسکراتے اس نے اپنے قدم شہرے کی جانب بڑھائے ہاتھ بڑھا کر اسکا دوپٹہ گلے سے کھینچ کر دور پھینکتے وہ ہنسا تھا وہیں شہرے کے رونے میں اضافہ ہوا تھا وہ اتنی کمزور تھی کہ خود کی حفاظت کرنے کی بھی ہمت نہیں کر پا رہی تھی وہ بس پتھر بنی کھڑی تھی۔۔
اسے بت بنے کھڑے دیکھ عدنان اپنی کامیابی پر مسکراتے مزید اسکے قریب ہوا تھا تھا جب اچانک ہی پاس پڑی بوتل پر گرفت جماتے شہرے نے اسکے سر پر ماری تھی۔۔
“اہہ۔۔۔” تکلیف سے پیچھے ہوتے اس نے شہرے کو گالی دی جو اسکے پیچھے ہوتے ہی تیزی سے کمرے سے نکلنے لگی تھی مگر اسکے بال پیچھے سے عدنان کے مضبوط ہاتھوں کی سخت گرفت میں آئے تھے ایک چیخ خاموش کمرے میں گونجی۔۔ اگلے ہی لمحے شہرے پورے قد کے ساتھ زمین پر تھی۔
“تو مجھے مارے گی اب دیکھ میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں” نفرت سے کہتا وہ شہرے کا منہ تھپڑوں سے لال کرتا چلا گیا۔۔۔
جو مزاحمت کرتی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے اس سے پٹ رہی تھی۔
“میں نے کہا تھا نا ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والوں کے ساتھ ہم کیا کرتے ہیں سمجھ نہیں آیا تھا؟” اسکا منہ مٹھی میں دبوچے وہ اسکے چہرے پر غرایا۔۔
عدنان کا چہرہ ایسے چہرے کے بے حد قریب تھا اس سے پہلے وہ کوئی غلیظ حرکت کرتا پیچھے سے سر پر لگنے والی ضرب نے اسے بلبلا کر رکھ دیا تھا۔۔
اسکے پیچھے عبیرہ کھڑی تھی اسکے ہاتھ میں موٹا ڈنڈا تھا۔
“شہرے۔۔۔۔”
“عبیرہ” عبیرہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔
“تم بے غیرت انسان “
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”عائلہ بیگم کی کرخت آواز پر عدنان ایک جھٹکے سے اٹھا تھا۔
“امی۔۔ اس نے مجھے بلایا اور میرے ساتھ یہ سب کرنے کی کوشش کی اور دیکھیں اسکی دوست” عدنان ناجانے کیا کیا بول رہا تھا مگر شہرے بس اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ایک آس سے ایک امید سے کہ شاید اب اسکی ماں اسے سمجھے گی۔
اس کے پاس آتے انہوں نے شہرے کا ہاتھ تھاما۔
“امی”
“نکل جاؤ اس گھر سے تم۔۔۔ کاش تمہیں پیدا ہوتے ہی مار دیتی میں شہرینہ کاش” وہ اپنے لفظوں سے اسکے کانوں میں صور پھونک رہی تھیں۔
عدنان نے مسکراتے اسے دیکھا وہ سب کچھ کر کے بھی جیت گیا تھا۔۔
“امی میں نے” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر اسکے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے اسکے لفظوں کو روک دیا تھا۔۔
“پاگل ہوگئی ہیں آپ کیوں مارا آپ نے اسے اس گھٹیا ذلیل انسان کو ماریں جس نے آپ کے ساتھ یہ سب کیا ہے کیوں اس معصوم بچی پر ظلم کر رہی ہیں آپ ؟” اسے اپنے پیچھے چھپاتے عبیرہ چلائی تھی۔
“دفع ہوجاؤ تم دونوں یہاں سے میں تم لوگوں کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی” شہرے کا بازو دبوچے وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتی باہر لائی اور اسے گیٹ کی جانب دھکا دیا عبیرہ اسے بروقت نا سنبھالتی تو وہ منہ کے بل گرتی۔۔
“گند کی پوٹ ہو تم شہرینہ۔۔۔ نکل جاؤ اس گھر سے میرے گھر کو اس غلاظت سے پاک کرو” لفظ تھے کے نشتر کو شہرے کے دل میں پیوست ہوئے تھے۔
یہ ماں تھی کیا مائیں ایسی ہوتیں ہیں؟” وہ سکتے میں گھی عبیرہ نے اسے اٹھایا وہ اب اسے لئے باہر نکل رہی تھی جبکہ وہ سن تھی اسے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ ہر چیز اندھیرے میں ڈوبی محسوس ہوئی تھی۔۔۔


جاری ہے
 
6قسط_


عبیرہ اسے اپنے گھر لے کر آئی تھی۔۔عبیرہ نے اسے بتایا کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔۔۔۔۔”مجھے وہاں جانا ہے عبیرہ وہ لوگ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے میں اس حال پر پہنچی ہوں “وہ پینک ہو رہی تھی عبیرہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔”آئی ایم سوری میری جان مجھے تمہیں وہاں نہیں لے کر جانا چاہیے تھا””میں وہاں جاؤں گی مجھے ابھی جانا ہے “”شہرے ” اسے کھڑا ہوتے دیکھ عبیرہ نے اسے پکارا جو اس وقت کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔شال اپنے گرد اچھے سے لپیٹے وہ وہاں سے نکلی تھی عبیرہ اسکے ساتھ جانا چاہتی تھی مگر وہ اسے منع کرگئی۔۔وہ اپنی وجہ سے عبیرہ کی نوکری خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔وہ خود ٹوٹ چکی تھی مگر نوکری جانے کی خبر نے اسکے اندر آگ سی بھر دی تھی۔۔وہ کس طرح اس ہوٹل تک پہنچی تھی صرف وہ جانتی تھی۔اس وقت وہ اس ہوٹل کے منیجر کے سامنے کھڑی تھی۔۔”آپ کیسے کر سکتے ہیں میں نے ایسا کیا کیا ہے؟””دیکھو شہرینہ””کیا دیکھوں سر۔۔۔ کیا دیکھوں ۔؟ میں یہاں مجبوری کے تحت آئی تھی آپ سب نے کیا کیا میرے ساتھ میری مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش اور اب مجھے بنا کسی جواز کے نوکری سے نکال دیا کہاں غلط تھی میں آخر کہاں؟” وہ رو رہی تھی بے حد بے تحاشہ سارے غم اکھٹے ہوگئے تھے۔۔”شہرینہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں کہا جاتا ہے کرنے کے لئے””چاہے پھر کسی کی عزت چلی جائے یا کسی کی جان؟” اسکی بات پر مینجر نے نگاہیں چرائیں۔۔افسوس سے انہیں۔دیکھتے وہ وہاں سے نکل آئی تھی اس دنیا میں اسکے لئے کوئی نہیں تھا کوئی ایک بھی اپنا نہیں ۔۔۔عبیرہ کے گھر آکر وہ بستر پر گری تھی اب اور ہمت نہیں بچی تھی خود سے لڑنے کی وہ بس اب سکون چاہتی تھی۔۔۔___________ہوٹل کے روم میں وہ بڑی شان سے صوفے پر بیٹھا اپنے سامنے رکھی فائل کو دیکھ رہا تھا۔سامنے ہی ہاتھ باندھے کھڑا ظہیر اسے اب آگے کی ڈیٹیلز دے رہا تھا اسٹیو کو اس نے اپنے آفیشل کام کے لئے رکھا تھا جبکہ ظہیر اسکا بہت خاص آدمی تھا۔”سر انہیں ان کی ماں نے گھر سے نکال دیا تھا وجہ ان کا سوتیلا بھائی تھا۔وہ اب اسے پوری ڈیٹیلز دینے لگا۔۔”دیکھا تم نے معصوم بنی گھومتی لڑکیاں بالکل بھی معصوم نہیں ہوتیں بلکہ یہ عورتیں معصوم ہوتی ہی نہیں ہیں اس لئے نفرت کرتا ہوں میں ان عورتوں سے”فائل ٹیبل پر پھینکتے وہ اٹھ کر کھڑکی تک آگیا۔۔”ابھی کہا ہے وہ؟””سر وہ ابھی اپنی دوست کے گھر پر ہیں””تیاریاں کرو ظہیر آج رات ہم واپس جا رہے ہیں””اوکے سر””اور ہاں جانے سے پہلے میں اس لڑکی سے مل کر جانا چاہتا ہوں گاڑی تیار رکھوانا”اسکی بات پر ظہیر چونکا تھا۔۔”اوکے سر” اس نے کیوں کیا کیسے جیسے سوال نہیں کئے تھے کیونکہ مامون شیرازی کو ایسے سوال پسند نہیں تھے۔۔_________
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top