• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story سازشی مہرے ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
933
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
شام یوں اُتر آئی تھی جیسے کسی نوجوان بیوہ کے دل میں اُداسی اُتر آتی ہے۔ وہ نیم تاریک حوالات میں آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔ باہر خاموشی تھی، دور کسی مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہو رہی تھی اور اُس کے دماغ میں قیامت کا شور برپا تھا۔ خیالات کی جنگ جاری تھی۔ پولیس انسپکٹر نے جس طرح اُس کے اعتماد کا خون کیا تھا، وہ جسمانی تکلیف سے کہیں بڑھ کر اذیت دہ تھا۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر، کراہتے ہوئے بڑی مشکل سے اٹھا اور لڑکھڑاتے قدموں سے چلتا ہوا سلاخوں کے پاس آ گیا۔ اُس کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا۔ پولیس والوں نے اُس کی اتنی پٹائی کی تھی کہ وہ زندہ تو تھا، مگر موت کی سختی جھیل رہا تھا۔ اُس نے سلاخیں تھام کر باہر دیکھا۔ دور برآمدے میں، ایک میز کے پاس تھانے کا محرر کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ اُس نے زور سے آواز دی۔ محرر نے اُس کی طرف دیکھا، پھر اُس کے پاس آ کر غصے سے پوچھا کہ کیا بات ہے، شور کیوں مچا رہے ہو۔ وہ بولا شور نہیں مچا رہا، غور کر رہا ہوں کہ جب اچھے کام کی طرف بلایا جائے تو اُسے کرنا چاہیے یا نہیں۔ محرر نے کہا نیک کام ہر کوئی نہیں کرتا، جسے توفیق ملے، وہی کرتا ہے۔ وہ عاجزی سے بولا مؤذن عبادت کی طرف بلا رہا ہے اور تم اپنا کام کر رہے ہو، مجھے باہر نکالو، دونوں نماز پڑھیں گے۔ محرر نے طنز کرتے ہوئے کہا تھانے میں آ کر خدا یاد آ گیا؟ باہر شیطان بنے پھرتے ہو، اور دو دن حوالات میں گزار کر فرشتہ بن جاتے ہو؟ وہ دُکھ سے بولا تھانے میں زیادہ تر مجرم ہی آتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ہر آنے والا مجرم ہو۔ میں صرف ملزم ہوں۔ پلیز، مجھے نماز پڑھنے دو۔ محرر نے ڈانٹ کر کہا بس بس، اندر جا کر لیٹ جا، زیادہ نیکی کا بخار نہ چڑھا۔ اور اپنی میز کی طرف واپس چلا گیا۔ وہ دوبارہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک طرف دیوار کے ساتھ فرش پر جا بیٹھا اور دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرنے لگا۔وہ دوبارہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک طرف دیوار کے ساتھ فرش پر جا بیٹھا اور دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرنے لگا۔ صبح ہوئی تو ایک سپاہی سلاخوں کے پاس آیا اور تالا کھولتے ہوئے بولا، اوئے باہر آؤ، تھانیدار صاحب نے بلایا ہے۔ وہ سپاہی کے ساتھ تھانیدار کے کمرے میں آیا۔ انسپکٹر اس کی بری حالت دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا، لگتا ہے میرے جوانوں نے کچھ زیادہ ہی تیری خاطر تواضع کی ہے، لیکن یہ ضروری تھی۔ تیرے جیسے نمک حرام کے دماغ کو آسمان سے زمین پر لانے کے لیے اس کے علاوہ چارہ نہیں تھا۔ وہ بولا، انسپکٹر صاحب! آسمان پر دماغ نہیں، انسان کے اعمال جاتے ہیں۔ میں زمین پر ہی تھا، بس آپ زمینی حقائق سے منہ پھیر رہے تھے۔ یہ سنتے ہی انسپکٹر نے اسے الٹے ہاتھ کا طمانچہ مارا، پھر چیخ کر کہا، الو کے پٹھے! اتنی مار کھا کے بھی دماغ سے گرمی نہیں اتری، ابھی تک وہی کتے کی دم ہو۔ وہ بولا، تھانیدار صاحب! اس معاشرے میں غریب اور بے کس اسی طرح مار کھاتے ہیں۔ مجھے دکھ اس طرح مار کھانے کا نہیں، اس بات کا ہے کہ غریب اور لاچار سچ بھی بولیں تو جھوٹ ہوتا ہے۔ انسپکٹر نے گالی دے کر کہا، زیادہ ڈائیلاگ مت بولو، سیدھی طرح بتاؤ کہ دماغ ٹھکانے آیا ہے کہ نہیں؟ چوہدری احتشام کے خلاف جو بیان دیا تھا، کہو وہ جھوٹ ہے، ان پر بہتان ہے۔ وہ مستحکم لہجے میں بولا، میں نے چوہدری احتشام پر بہتان نہیں لگایا، ٹھوس حقائق کی روشنی میں بیان دیا ہے۔ میں خود ان کی غلط کاریوں میں شریک رہا ہوں، بس اس معاملے میں میری قومی غیرت آڑے آگئی اور میں باغی بن گیا۔ انسپکٹر زہر خند لہجے میں بولا، بہت بڑی غلطی کر رہے ہو تم، اس طرح تم چوہدری صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے، بس اپنی ہی مٹی پلید کرو گے، کیونکہ تم ایک حقیر کیڑے ہو۔ ان کے پاس سب کچھ ہے، دولت، طاقت، اختیار۔ اسے پھر سے حوالات کی تاریکی میں دھکیل دیا گیا اور وہ جسمانی و ذہنی کرب برداشت کرتا ہوا ننگے فرش پر لیٹ گیا۔ ادھر تنہائی تھی، تاریکی تھی اور اس سے بڑھ کر ہولناک ماضی کی یادیں تھیں۔ وہ ان یادوں کی چھن سہتا ہوا ماضی کے تاریک زندان میں جا اُترا۔بابر کا باپ ترک تھا۔ ایماندار تھا، اس لیے بہت تنگی سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ تین بہنیں اور وہ اکیلا بھائی تھا۔ بہت ذہین تھا، ہر کلاس میں اول آتا۔ ہر شخص کی طرح اس کے باپ کی بھی خواہش تھی کہ وہ پڑھ لکھ کر بڑا افسر بنے، اس لیے میٹرک کے بعد اسے مزید تعلیم کے لیے بڑے شہر بھیج دیا۔ اس نے والدین کی لاج رکھی اور جی لگا کر محنت کرنے لگا۔ وہ فرسٹ ایئر میں تھا کہ اس کا باپ ریٹائر ہو گیا۔ پنشن وغیرہ ملا کر جو رقم ملی، اس سے اس کے والد نے ایک دکان کھول لی۔ اس طرح گھر کے ساتھ ساتھ بیٹے کے تعلیمی اخراجات بھی پورے ہونے لگے۔ وقت سکون سے گزر رہا تھا کہ ایک دم گردشِ حالات نے انہیں آ گھیر لیا۔ وہ ایم ایس سی فائنل میں تھا کہ ایک دن اس کے باپ کی دکان میں ڈاکہ پڑا۔ چوروں نے ساری دکان کا صفایا کر دیا۔ اس کا باپ ہر در پر گیا، علاقے کے ایم این اے سے اپنائیت سے فریاد کی، مگر چور نہ پکڑے گئے۔ دکان آمدنی کا واحد ذریعہ تھی، اس کی ساری پنشن اسی میں لگی ہوئی تھی۔ یہ بہت بڑا دھچکا تھا۔ ان کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ جب بابر کو پتا چلا تو اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ یہ اس کا ایم ایس سی کا آخری سال تھا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ محنت مزدوری کر کے تعلیمی اخراجات پورے کیے اور جیسے تیسے امتحان دے کر گھر چلا آیا۔ گھر کے حالات انتہائی خراب تھے۔ وہ نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرنے لگا۔ دن بھر دفتروں میں جوتے گھساتا رہا، مگر گوہرِ مقصود نہ ملا۔ اس دوران ایم ایس سی کا رزلٹ آ گیا۔ وہ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوا تھا۔
☆☆☆

انہی دنوں اس نے اخبار میں ایک اشتہار دیکھا، جس میں ایک دفتر میں چند آسامیاں پر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اس نے بھی درخواست جمع کرا دی۔ پانچ آسامیاں تھیں اور امیدوار پانچ سو سے زیادہ۔ ٹیسٹ کے بعد بیس امیدواروں کو شارٹ لسٹ کر کے انٹرویو کے لیے بلایا گیا، جن میں اس کا دوسرا نمبر تھا۔ وہ بڑی امیدوں سے انٹرویو میں شریک ہوا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ضرور منتخب ہو گا۔ شدت سے انتظار کے بعد جب آخری پانچ امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہوا تو اسے حیرت اور صدمے کا شدید جھٹکا لگا، کیونکہ وہ اُن میں شامل نہیں تھا۔ جن لڑکوں کا انتخاب کیا گیا تھا، وہ ان کو جانتا تھا اور شرط لگا کر کہہ سکتا تھا کہ وہ کامیاب نہیں ہوئے، بلکہ کامیاب کرائے گئے تھے۔ وہ سب اس ملازمت کے اہل نہیں تھے، بس کسی سیاسی رہنما یا کسی سرکاری افسر کے طفیلی تھے یا پھر لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ نوکری حاصل کی تھی۔ اس نے چند اور نوجوانوں کو ساتھ ملا کر احتجاج کیا، سوشل میڈیا پر آواز بلند کی، اپنے جاننے والے صحافیوں کے ذریعے اخبارات میں اس ناانصافی کی خبر بھی لگوائی، مگر اوپر سے نیچے تک بے ایمانوں کا ٹولہ ایسا بااثر اور مضبوط تھا کہ اس کا احتجاج اور غم و غصہ صدا بہ صحرا ثابت ہوا۔ وہ غریب تھا، بے کس تھا، اس لیے غم و غصے کی آگ میں خود ہی جلتا رہا اور ملازمت کے حصول کے لیے دھکے کھاتا رہا۔ بہت دنوں بعد پھر ایک جگہ نوکری کا موقع نظر آیا۔ وہ ٹیسٹ میں بیٹھ گیا۔ یہ نوکری اگرچہ اس کی تعلیم کے برابر نہیں تھی، مگر گھر کی ابتر حالت کے باعث وہ ملازمت کے نام پر کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔ ٹیسٹ ایک بڑے سے ہال میں لیا جا رہا تھا۔ یہاں بھی ایک ایک آسامی کے لیے سینکڑوں امیدوار موجود تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ امیدوار اس طرح پاس پاس بیٹھے ہوئے تھے، جیسے کسی کلاس روم میں ہوں۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ کر پرچہ حل کر رہے تھے۔ کسی کو بھی احساس نہیں تھا کہ وہ بے ایمانی اور بے اصولی کر رہا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ ٹیسٹ کے نگران بھی سب کچھ دیکھتے ہوئے انجان بنے ہوئے تھے۔ بابر حیرانی سے یہ سب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا قابلیت اس طرح پرکھی جاتی ہے؟اس سے رہا نہ گیا تو وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور نگران سے بولا کہ سر! ٹیسٹ ایسے تو نہیں لیا جاتا۔ اس طرح خاک کسی کی قابلیت کا پتا چلے گا؟ آپ پلیز پیپر رکوائیں اور مناسب طریقے سے بٹھائیں۔ نگران چند ثانیے گھور کر اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر ترشی سے بولا، خاموشی سے ٹیسٹ حل کرو، تمہیں اس سے کیا مطلب کہ کس طرح بیٹھایا گیا ہے؟ کیا تمہیں کسی نے روکا ہے؟ ان کی طرح تم بھی پرچہ حل کر لو۔ وہ حیرت سے گنگ اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر سارے ہال پر نظر دوڑائی۔ سب کھلے عام نقل میں مصروف تھے۔ اس نے اپنا جوابی پرچہ اٹھایا، ٹکڑے ٹکڑے کیا اور ہوا میں اچھال دیا، پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ہال سے باہر نکل گیا۔ ہال کے باہر کچھ اور نوجوان بھی موجود تھے، جو ٹیسٹ کے طریقۂ کار اور بے قاعدگی پر شدید غصے میں تھے۔ وہ سب کہہ رہے تھے کہ اوپر والوں نے رشوت اور سفارش کے ذریعے اپنے خاص بندوں کو پہلے ہی منتخب کر لیا ہے، اب عوام کو دکھانے کے لیے صرف ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ بابر ان لڑکوں کو لے کر بازار کی طرف آیا اور مرکزی چوک کے قریب احتجاجی مظاہرہ کرنے لگا۔ بہت سے لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ بابر کے سینے میں غصے کی آگ لگی ہوئی تھی۔ گھر کی خستہ حالی، اپنی بے چارگی اور پھر شدید قسم کی اندھیر نگری کے باعث اس کے دل میں دبی ہوئی چنگاری ایک آتش فشاں بن کر بھڑک اٹھی۔ وہ ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہو گیا اور مظلوم بے روزگاروں کی آواز بن کر مرکزی چوک میں گونجنے لگا۔ اُس نے کہا، ہر تاریک رات کے بعد سحر طلوع ہوتی ہے، لیکن ہم کیسے بدنصیب ہیں! ہماری سحر بھی ان ظالم اور بدعنوان حاکموں اور ان کے چیلے چانٹوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ کیسی اندھیر نگری ہے؟ اسلام اور انصاف کے نام پر بنائے گئے اس ملک میں غریب اور بے کس کی کوئی حیثیت نہیں، ان کی قابلیت اور اہلیت کی کوئی قدر نہیں۔ ہر طرف رشوت اور سفارش کا بازار گرم ہے۔ یہ اونچی اونچی کرسیوں پر بیٹھنے والے سیاست کار اور بیوروکریٹ ہمیں انسان نہیں، بلکہ اپنے آگے پیچھے دم ہلاتا ہوا کتا سمجھتے ہیں۔ وہاں موجود لوگ اس کی باتوں میں چھپے کرب سے متاثر ہو رہے تھے۔ بابر کی باتیں ان سب کے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھیں۔ وہ سب اندر سے ٹوٹے پھوٹے تھے۔ سسٹم کے نام پر پھیلتی ہوئی بدعنوانی سے تنگ آ چکے تھے۔ دنیا ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں آگے نکل چکی تھی، مگر اس ملک کے عوام سات دہائیوں بعد بھی اس اندھیرے نظام کے باعث ترقی معکوس کا شکار تھے۔ اس اندھیر نگری کے خلاف بغاوت اور نفرت ان کی نس نس میں بھری ہوئی تھی، مگر وہ سب بے بس تھے، کیونکہ ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے۔ اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے انہیں ایک ہونے نہیں دے رہے تھے۔ پارٹی بازی، ذات پات، مسلک اور زبان کے خانوں میں بانٹ کر ان کے روشن مستقبل کا تیا پانچہ کیا جا رہا تھا اور بابر ان ساری محرومیوں اور مایوسیوں کے خلاف زہر اگل رہا تھا۔اسی دوران مرکزی چوک کے قریب ایک بڑی سی لینڈ کروزر آ کر رکی۔ کھڑکی کا شیشہ نیچے سرکا اور ایک بارعب شخص کا چہرہ نمودار ہوا۔ وہ بڑے غور اور پسندیدہ نظروں سے بابر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بابر کی نظر بھی اس پر پڑی۔ وہ اسے پہچانتا تھا، وہ علاقے کا معروف سیاسی رہنما چوہدری احتشام تھا۔ کچھ دیر وہ بابر کی جذباتی تقریر سنتا رہا، پھر خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔یہ تین دن بعد کی بات ہے۔ بابر کو چوہدری احتشام کی طرف سے اس کے دفتر میں بلایا گیا۔ وہاں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ چائے پلانے کے بعد چوہدری احتشام نے اس سے پوچھا، برخوردار! اس روز تمہاری تقریر مجھے بہت اچھی لگی۔ تم کیا کرتے ہو؟بابر نے دل گرفتہ انداز میں جواب دیا، کچھ نہیں کرتا۔ غریبوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور اس اندھیر نگری پر بس اپنا خون جلاتا ہوں۔ چوہدری احتشام مسکرا کر بولا، بیٹے، اپنا خون جلانے سے انصاف نہیں ملتا۔ یاد رکھو، ابتر اور ناہموار معاشرے میں انصاف مانگا نہیں جاتا، جھپٹ کر حاصل کیا جاتا ہے۔ اور تم جیسے کمزور اور بے کس نوجوان، جو صرف چیخنے چلانے پر یقین رکھتے ہیں، وہ کبھی انصاف حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ تمہیں جھپٹنا نہیں آتا۔ تم ابھی ناسمجھ ہو۔ چوک پر کھڑے ہو کر آواز بلند کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر کسی پختہ کار اور جہاندیدہ شخص کی انگلی تھام لو، تو تمہیں ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حساب لینے کا ڈھنگ آ جائے گا۔ بابر نے کچھ دیر سوچا، پھر دھیمی آواز میں کہا، میں جانتا ہوں کہ صرف چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ملتا، بس اندر کا غصہ کچھ کم ہو جاتا ہے۔ ویسے آپ کی بات غور طلب ہے۔ خود کو کندن بنانے کے لیے واقعی کسی تجربہ کار راہنما کی بھٹی میں جلنا ضروری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میں کس رہنما کا انتخاب کروں؟ چوہدری احتشام کے چہرے پر اطمینان سا چھا گیا۔ وہ بولا، مجھے خوشی ہوئی کہ میری بات تمہاری سمجھ میں آئی۔ جہاں تک رہنما کی بات ہے، تو میں حاضر ہوں۔ مجھے ایک ذہین اور مستعد سیکرٹری کی ضرورت ہے۔ اگر تم میرے ساتھ رہو گے، تو نہ صرف اچھا خاصا معاوضہ پاؤ گے، بلکہ سیاست، دنیا داری اور نظام کو سمجھنے کا ہنر بھی سیکھ لو گے۔ بابر معاشرتی ناہمواریوں، اربابِ اختیار کی ناانصافیوں اور اپنی بے بسی سے اس قدر عاجز آ چکا تھا کہ اس کے خیالات میں بغاوت سرایت کرنے لگی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اسی اندھیر نگری میں نہ جانے کتنے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان جرم کی راہوں پر چل نکلتے ہیں اور اپنے مستقبل کو برباد کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک الجھن سی برپا تھی، مگر چوہدری صاحب کی پیشکش نے اس کے سوچنے کا رخ بدل دیا۔ کچھ دیر کے غور و فکر کے بعد وہ پیشکش رد نہ کر سکا اور اپنی رضا مندی دے دی۔ اس نے چوہدری احتشام کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ بابر ذہین اور تعلیم یافتہ تھا، اس لیے کچھ ہی عرصے میں سیاست اور دنیا داری کے تمام داؤ پیچ سیکھ گیا۔چوہدری احتشام، کہنے کو تو ایک سیاست دان تھا، مگر درپردہ ہر وہ کام کرتا تھا جس سے دولت حاصل ہو۔ وہ اپنے نام، اختیارات اور سیاسی حیثیت کو ذاتی فائدے اور اپنے طفیلیوں کو نوازنے کے لیے بھرپور استعمال کرتا تھا۔ چونکہ مرکز میں اس کی پارٹی برسرِ اقتدار تھی، اس لیے وہ دھونس دھمکی کے ذریعے ذمہ دار افسران کو خاموش کروا لیتا اور بیرونِ ملک سے قیمتی اشیاء ناجائز ذرائع سے منگوا کر ملکی منڈیوں میں بیچ دیتا، یوں بے پناہ منافع کماتا۔ شہر کے مختلف محکموں کے اہم افسران کو بھی اس نے شاطرانہ طریقوں سے اپنے قابو میں کر رکھا تھا۔ اپنے صوابدیدی اختیارات اور سرکاری فنڈز کی بندر بانٹ بھی جاری تھی۔بابر آہستہ آہستہ ان تمام سرگرمیوں سے واقف ہوتا جا رہا تھا۔ وہ سیاست دانوں کی شعبدہ بازیوں اور سرکاری مشینری پر ان کی اثراندازیوں کا قریب سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ کل تک وہ ایک بے بس، غریب نوجوان تھا، لیکن اب اس کے پاس پیسہ تھا، ایک مقام تھا اور چوہدری احتشام جیسے بااثر شخص کا سیکرٹری ہونے کا بھرم بھی۔ چونکہ اسے بھی اس نظام سے فائدہ پہنچ رہا تھا، اس لیے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی خاموش تھا۔البتہ ایک بات اسے ہمیشہ کھٹکتی تھی: چوہدری احتشام کے پاس وقتاً فوقتاً کچھ پراسرار غیر ملکی یا اجنبی لوگ آتے تھے، جن سے وہ مکمل تنہائی میں ملاقات کرتا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ بابر کسی ضروری کام سے کمرے میں چلا گیا، مگر چوہدری اسے دیکھ کر فوراً چپ ہو جاتا۔ اگرچہ بابر کو ان ملاقاتوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، مگر تجسس ضرور پیدا ہوتا۔ کافی عرصہ گزر گیا، لیکن وہ یہ راز نہ سمجھ سکا کہ وہ لوگ کون تھے اور ان کی چوہدری احتشام سے کیا نوعیت تھی۔ادھر ملک کے سیاسی اور معاشی حالات شدید ابتری کا شکار تھے۔ بدامنی، مہنگائی، ناانصافی اور سیاسی اشرافیہ کی بے حسی سے عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی۔ ہر روز جلسے، جلوس، احتجاج اور ہڑتالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ پورے ملک میں بے چینی، اضطراب اور انارکی کا ماحول پھیل چکا تھا۔ ایسے نازک وقت میں مرکزی حکومت نے اس صوبے میں ایک ایسا قانون نافذ کر دیا، جسے صوبے کی اکثریت ناجائز اور ظالمانہ سمجھتی تھی۔ اس موقع کو اپوزیشن جماعتوں نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا، اور پھر کیا تھا—پورا صوبہ سراپا احتجاج بن گیا۔تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مل کر ایک مشترکہ تنظیم بنائی، جس کا نام “تحفظِ معاہداتِ باہمی پارٹی” رکھا گیا۔ انہوں نے متفقہ طور پر ایک دن طے کیا اور فیصلہ کیا کہ مرکزی چوک میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا تاکہ حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کی جا سکے۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس تحریک میں سرگرم ہو گئیں۔
☆☆☆

چوہدری احتشام نے بھی کھل کر عوامی حقوق کی حمایت کا اعلان کیا۔ جلسے سے دو روز قبل، حسبِ معمول، وہی پراسرار اجنبی اس کے پاس دوبارہ آئے۔ اس وقت بابر بھی چوہدری احتشام کے ساتھ کمرے میں موجود تھا۔ چوہدری نے ایک اشارے سے اسے باہر جانے کو کہا۔ بابر خاموشی سے کمرے سے نکل آیا۔ وہ اجنبی کافی دیر تک اندر موجود رہے۔ ان کے جانے کے بعد چوہدری نے بابر کو بلایا اور کہا، بابر! پرسوں عوامی جلسہ ہو رہا ہے، شاید تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔جی ہاں، چوہدری صاحب! تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ یہاں کے لوگ کسی بڑے مقصد کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس جلسے کے بعد اس خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ بابر کے پُرامید لہجے پر چوہدری احتشام نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور بولا، بہت خوب! میرے ساتھ رہتے ہوئے تمہیں بھی سیاسی ڈائیلاگ بولنے آ گئے ہیں، مگر یاد رکھو، سیاست کو سمجھنا اتنا آسان نہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھا، آہستہ آہستہ چلتا ہوا کھڑکی کی طرف گیا جو لان کی سمت کھلتی تھی۔ باہر نظر دوڑاتے ہوئے، اس نے دھیرے لہجے میں کہا، تم کہہ رہے ہو کہ کل کا جلسہ کامیاب ہوگا، لوگ متحد ہو کر اپنا مقصد حاصل کریں گے، مگر… میں نہیں چاہتا کہ یہ جلسہ کامیاب ہو، نہ ہی یہ کہ لوگ متحد ہوں۔ بابر بری طرح چونک گیا۔ اس نے حیرانی سے پوچھا، کیا مطلب سر؟ آپ ایسا کیوں نہیں چاہتے؟ چوہدری نے قیمتی نیلے رنگ کی سگریٹ نکالی، سلگائی اور گہرا کش لے کر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا، بابر، تم ابھی سیاست کی دنیا میں کچے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں کہ یہاں کی سیاست میں کیسی کیسی شعبدہ بازیاں ہوتی ہیں۔ بظاہر ہم جیسے سیاست دان بولتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں، مگر پسِ پردہ کچھ ایسے طاقتور، بااختیار اور خفیہ ہاتھ ہوتے ہیں جو اصل کھیل چلا رہے ہوتے ہیں۔ ہماری ڈوریاں انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ اس نے ایک لمحے کو توقف کیا، پھر دھواں خارج کرتے ہوئے گویا ہوا، ایسے ہی ایک خفیہ ہاتھ نے اشارہ کیا ہے کہ یہ جلسہ کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ قوم ہمیشہ کی طرح منتشر، الجھی اور منقسم رہے تاکہ وہ خفیہ قوتیں اپنے مفادات حاصل کرتی رہیں۔ اور یہ ’ٹاسک‘ مجھے سونپا گیا ہے۔ بابر خاموشی سے سنتا رہا، مگر وہ بچہ نہیں تھا۔ وسیع مطالعے اور مشاہدے نے اسے اتنی سمجھ دے دی تھی کہ وہ جانتا تھا تیسری دنیا کے اکثر ممالک عالمی سیاست کے شاطر کھلاڑیوں کے ہاتھوں مہرے بنے ہوتے ہیں۔ یہ طاقتیں سامنے نہیں آتیں، ان کا وجود خفیہ رہتا ہے، مگر ان کی موجودگی اور اثرات ہر جگہ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ مخالفت کی صورت میں کسی کا طیارہ “حادثاتی” طور پر گر جاتا ہے، کسی کو جلا وطن کر دیا جاتا ہے، اور کوئی عدالتی فیصلوں کے ذریعے نااہل قرار پاتا ہے۔اس کے علاوہ، ان ممالک کے اکثر حکمران خود بھی بدعنوان، مفاد پرست اور اقتدار کے بھوکے ہوتے ہیں۔ جب تک وہ بڑی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں، انہیں اقتدار کا راتب ملتا رہتا ہے۔ یوں یہ ممالک، یہ حکمران، اور ان کے عوام سب ان خفیہ ہاتھوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔بابر نے گہری نظروں سے چوہدری کو دیکھا اور محتاط لہجے میں پوچھا، ہمیں کیا کرنا ہو گا سر؟ آپ کے ذہن میں کوئی منصوبہ ہے؟ چوہدری احتشام آہستگی سے پلٹا، اس کے سامنے آ کر کھڑا ہوا، ایک اور کش لیا اور دھوئیں کے مرغولے فضا میں چھوڑتے ہوئے بولا، پرسوں کا جلسہ اس علاقے میں اتفاق و اتحاد کا زبردست مظاہرہ ہوگا۔ اور ہم نے یہ اتحاد توڑنا ہے۔ اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکا دی جائے، تاکہ جلسہ منعقد ہونے کی نوبت ہی نہ آئے۔ ایسا ہی ہوگا، چوہدری صاحب! آپ حکم کریں، ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ بابر نے بغیر کسی تذبذب کے جواب دیا۔چوہدری احتشام مسکرا کر بولا، آج رات تم کچھ نوجوانوں کو ساتھ لے کر شہر کی مختلف دیواروں پر ایسے پوسٹرز لگا دو، جن میں مخالف فرقے کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں پر اعتراضات ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ شوشہ بھی چھوڑنا ہے کہ حکومت، شہر کے اکثریتی فرقے کے مفادات کا استحصال کر رہی ہے اور بیرونی دباؤ کے تحت اُس فرقے کو نوازا جا رہا ہے جس کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیاں ابتدا سے ہی مشکوک رہی ہیں—اور جن کا کردار، قوم و ملک کے وسیع تر مفادات سے سراسر متصادم ہے۔ وہ تھوڑا سا جھکا، میز پر رکھے نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، کل جمعہ ہے۔ تم جانتے ہو، یہ دن مذہبی جماعتوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، ایک ایسا دن جب ان کا خطیبانہ لہجہ عوام کے جذبات کو چنگاری بنا دیتا ہے۔ اسی دن ہماری دوسری ٹیم مخالف فرقے کے سرکردہ افراد کے پاس جائے گی اور انہی پوسٹرز کا حوالہ دے کر ان کے جذبات کو بھڑکائے گی۔ ان کا مذہبی جنون ہمارے کام آئے گا۔ اس نے سگریٹ کا ایک اور کش لیا، دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے، ٹھہرے ہوئے مگر خطرناک لہجے میں بولا، پھر جمعے کی نماز کے بعد، وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ پوسٹر لگانے والوں کی آڑ میں مخالف فرقے پر حملے ہوں گے، اشتعال پھیلے گا، دکانیں جلیں گی، پتھراؤ ہوگا، اور یوں جلسے کی فضا مکمل طور پر خراب ہو جائے گی۔ نہ صرف جلسہ رُک جائے گا، بلکہ اگلے کئی ہفتے خوف، انتشار اور افراتفری میں گزریں گے۔ بابر خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک اور دل میں ایک انجانی ہلچل تھی۔ اب وہ اس نظام کا حصہ بن چکا تھا، جو پچھلے دنوں تک اسے دیمک کی طرح کھا رہا تھا۔ اب وہ خود اسی دیمک کی ایک شاخ بنتا جا رہا تھا۔ایک طرح سے دونوں طرف سے ماحول گرم ہو جائے گا۔ ہم اسی آتش‌ناک ماحول میں اپنی سازش کے تانے بانے بُنتے جائیں گے۔ جمعے کی رات تم میرے چند خاص کارندوں کو لے کر مخالف مسلک کے ایک بڑے عالم کو قتل کرو گے۔ دونوں فرقے والے ویسے بھی ایک دوسرے کو الزام لگانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا کے ماہرین اس قتل کو فوری طور پر مخالف فرقے کے کھاتے میں ڈال دیں گے، اور یوں ایک آدھ دن میں پورا شہر میدان جنگ بن جائے گا۔ دونوں آپس میں الجھ پڑیں گے، شہر میں قتل و غارت گری کی وارداتیں ہوں گی اور ہمارا منصوبہ کامیاب ہو جائے گا۔ پلان کے مطابق کام ہوا تو دونوں ٹیموں کو پچاس پچاس لاکھ روپے ملیں گے۔ بابر کے دماغ میں طوفان اٹھنے لگے۔ چوہدری کے فتنے بھرے دماغ کی منصوبہ بندی اسے کانپنے پر مجبور کر رہی تھی، مگر اس نے خود کو قابو میں رکھتے ہوئے توجہ سے باتیں سننا جاری رکھا۔ چوہدری نے اپنے خاص کارندوں کو بھی بلا لیا تھا اور اب سب مل کر اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے نہیں بلکہ نو پروف بنانے پر غور کر رہے تھے۔ یہ میٹنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔چوہدری کی اس سازش کی تفصیلات سن کر بابر تو بظاہر میٹنگ میں شامل رہا اور ان کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملاتا رہا، مگر اندرونِ دل ایک اور جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ یہ جنگ اس کے ضمیر اور دولت کے لالچ کے درمیان جاری تھی۔ اس کا ضمیر ملک و قوم کے خلاف اس بھیانک سازش پر سراپا احتجاج تھا، جبکہ دوسری طرف پیسوں کی چمک دمک اس کے ارادوں کو ڈگمگا رہی تھی۔کئی دیر تک سوچ بچار کے بعد اس نے ایک اہم فیصلہ کیا اور وہ فوری طور پر وہاں سے باہر نکل آیا۔ بازار میں گھومتے ہوئے وہ ہر طرف محتاط نگاہوں سے دیکھتا رہا کہ کہیں چوہدری کے لوگ اس کا پیچھا تو نہیں کر رہے، پھر مطمئن ہو کر وہ تیزی سے ایک طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ شہر کے پولیس اسٹیشن پہنچا اور تھانہ انچارج سے تنہائی میں ملاقات کی درخواست کی۔جب وہ انچارج کے سامنے اپنی بات رکھ رہا تھا، تو ہانیدار بڑی سنجیدگی سے اس کی بات سن رہا تھا، گہری اور متجسس نظروں سے بابر کو دیکھتا رہا۔ جب بابر نے بات ختم کی تو انچارج اٹھ کر کمرے سے باہر گیا۔ بابر نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو انچارج موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا، کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا، تم نے یہ بات کسی اور کو نہیں بتائی نا؟ نہیں، میں سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں، بابر نے جواب دیا، “میں دولت حاصل کرنے کی خاطر غلط راستے پر چل پڑا تھا، مگر اتنا بے غیرت نہیں کہ اپنی قوم اور وطن سے غداری کروں۔ انسپکٹر نے کہا، تمہارے جذبے پر مجھے فخر ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ایسے ہی ہونا چاہیے۔ ابھی میں نے اپنے بڑوں کو بلا لیا ہے، یہ معاملہ وہی سنبھالیں گے۔ تب تک تم چائے پی لو۔
☆☆☆

باہر ابھی چائے پی کر فارغ ہوا تھا کہ تھانے کے باہر گاڑیوں کے رکنے اور قدموں کی آوازیں سنائی دیں، وہ متجسس نظروں سے آنے والوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک حیرت اور خوف سے اچھل پڑا کیونکہ اسے چوہدری احتشام نظر آیا جس کے چہرے پر غصے کی سرخی تھی، اس کے دائیں بائیں بہت سے جوان ہتھیار بدست کھڑے تھے، چوہدری احتشام آندھی طوفان کی طرح تھانیدار کے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے خاص کارندے بھی کمرے میں آ گئے، تب انسپکٹر نے دروازہ بند کر دیا، بابر متوحش نظروں سے اسے اور تھانیدار کو دیکھ رہا تھا، چوہدری احتشام غصے سے لرزتے ہوئے بولا کہ کمینے نمک حرام، تجھے پہچاننے میں مجھے شدید غلط فہمی ہوئی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم آستین کا سانپ ہو گے، اگر انسپکٹر صاحب کے بجائے کوئی اور یہاں کا ہانیدار ہوتا تو میرا کباڑا ہو گیا ہوتا، بابر نے چونک کر بے یقینی سے انسپکٹر کی طرف دیکھا جو بڑے زہریلے انداز میں مسکرا رہا تھا، بابر کو سمجھنے میں دشواری نہ ہوئی کہ انسپکٹر بھی دولت کے پجاریوں اور موت کے سوداگروں کا آلہ کار تھا، اس نے زہرخند لہجے میں کہا کہ تمہیں ڈوب مرنا چاہیے، یہ جو تم نے وردی پہن رکھی ہے، عوام کے جان و مال کی حفاظت کی جو قسم کھائی ہے اس کے بعد ان موت کے سوداگروں اور وطن دشمن عناصر کا ساتھ دیتے ہوئے تمہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی، تھانیدار نے قہقہہ لگایا اور بولا فلمی ڈائیلاگ مت بولو، تم جیسے احمق اپنی جذباتی سوچ کے ساتھ ہر دور میں مارے جاتے ہیں، تم بھی اپنے انجام کو پہنچ جاؤ گے، چوہدری احتشام گرج کر بولا کہ انسپکٹر، اس کمینے کے ساتھ جو بھی سلوک کرنا ہے وہ تم بعد میں کرنا، پہلے مجھے اپنی بھڑاس نکالنے دو، میرا ہی کہتا تھا مجھ پر ہی بھونکنے لگا تھا، اسے تھوڑی سزا میں بھی دے دیتا ہوں، چوہدری کے اشارے پر اس کے دو خاص کارندوں نے اسے باہر کو پکڑا، پھر چوہدری نے بیلٹ لے کر اسے مارنا شروع کیا، باہر درد کی شدت سے چیختے ہوئے وہ مچل مچل کر ان کی گرفت سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا مگر کامیابی نہ ہوئی، کچھ دیر بعد چوہدری نے تھک کر مارنا بند کیا، تب تک بابر بے ہوش ہو گیا تھا، انسپکٹر نے کہا کہ یہ کتا اب ہمارے لیے خطرناک ہو گیا ہے اور کتا جب باؤلا ہو جائے تو اس کا علاج صرف موت ہے، اس کا بھی قصہ صاف کر دو اور ہاں یہ بات یہاں سے باہر نہیں جانی چاہیے، چوہدری احتشام ہانپتے ہوئے بولا، انسپکٹر نے کہا کہ مجھے معاملے کی نزاکت کا احساس ہے، چوہدری صاحب آپ بے فکر ہو کر جائیں، تھانے میں آ کر بڑے بڑے تیس مار خاں سیدھے ہو جاتے ہیں، یہ کیا چیز ہے، پہلے میں اس سے کچھ پوچھ گچھ کر لوں، کہیں اتنی اہم بات کسی اور کے آگے نہ بک دی ہو، اس کے بعد وہی ہو گا جو آپ کا حکم ہے، اب اس کا انجام موت ہی ہے، چوہدری اپنے خاص کارندوں کے ساتھ چلا گیا، انسپکٹر نے اپنے ہم راز چند اہلکاروں کو بلایا، وہ اس کے حکم پر بابر کو تفتیشی کمرے میں لے گئے اور مخصوص تفتیشی طریقے سے تشدد کرنے لگے، انسپکٹر اس سے پوچھتا رہا کہ چوہدری احتشام نے جو منصوبہ بتایا تھا کیا اسے کسی اور کو بتایا ہے، بابر چیختا چلاتا رہا، درد کی شدت سے بار بار بے ہوش ہوتا رہا، بڑی دیر بعد جب وہ تقریباً ادھ موا ہو چکا تھا تب اسے پھر سے گھسیٹ کر ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں پھینک دیا گیا۔رات نہ جانے کتنی بیت گئی تھی۔ وہ ماضی کے زندان میں بھٹک بھٹک کر پھر حال کے اندھیرے میں آیا تھا۔ کال کوٹھری میں درد سے بے حال وہ سوچ رہا تھا کہ ایک اندھیرا دھوپ ڈھلنے کے بعد ہوتا ہے اور ایک اندھیرا نظام کا ہوتا ہے، یعنی اندھیر نگری شب کے اندھیرے میں انسان آرام کرتا ہے، لیکن اندھیر نگری میں آرام نہیں، کہرام مچ جاتا ہے۔ شب کے اندھیرے میں ایک نئی صبح کی امید روشن ہو جاتی ہے جبکہ اندھیر نگری میں امیدیں مر جاتی ہیں۔ وہ کال کوٹھری کے گھپ اندھیرے میں اسی طرح لیٹا، آگے کے بارے میں سوچتا رہا۔ یہ سوچ کر بھی وہ اندر سے لرز جاتا کہ چوہدری نے اپنے آقاؤں سے مل کر فرقہ وارانہ فسادات کا جو زہریلا منصوبہ بنایا تھا، اگر وہ کامیاب ہوا تو نہ جانے شہر کے حالات کیا ہوں گے۔ یہ قوم تو ویسے بھی بھری ہوئی ہے، بغض، تعصب، ضد اور بدگمانی سے۔ اگر چوہدری احتشام نے اپنے منصوبے کے مطابق مذہبی رہنماؤں کا خون کروایا ہے تو معلوم نہیں اس کے ردعمل میں کتنے معصوم اور بے گناہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہوں گے۔ اچانک وہ چونک اٹھا، کال کوٹھری کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ آنے والے سیاہ پوش تھے، انہوں نے اسے گھسیٹتے ہوئے انسپکٹر کے سامنے لے آئے، جہاں ایک پر اسرار اجنبی بھی موجود تھا۔ بابر کو دیوار کے ساتھ کھڑا کیا گیا، وہ اتنی کمزوری محسوس کر رہا تھا کہ کھڑا رہنا ممکن نہ تھا، لڑکھڑایا اور فرش پر گر گیا مگر کوئی اسے اٹھانے نہ آیا۔ پھر اسے انسپکٹر کی آواز سنائی دی کہ ہم نے اس پر زبردست تشدد کیا ہے، اتنی مار کھا کے بھی اگر زبان بند نہ رکھی تو اس کا آخری علاج انکاؤنٹر ہے۔ معاملہ بہت حساس ہے، ذرا سی غفلت بھی خطرناک ہو سکتی ہے، بات باہر جانے کا خدشہ ہے اس لیے ہم اسے خود ٹھکانے لگا دیں گے۔ باہر کانوں میں پر اسرار اجنبی کی آواز پڑی، پھر اس نے اپنے بیگ سے ایک سرنج نکالی اور شیشی سے سرخ محلول بھر کر بابر کے بازو میں لگا دیا۔ بابر خوف زدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا، وہ سمجھا کہ بس یہی اس کا آخری وقت ہے، آنکھیں بند کر کے اللہ کو یاد کرنے لگا۔ دو کارندوں نے اسے پکڑا ہوا تھا، بابر مزاحمت کرنے لگا مگر کمزوری کی وجہ سے طاقت نہ تھی۔ اچانک بازو میں سوئی چبھنے کی تکلیف ہوئی، وہ بے دم سا ہو کر فرش پر گر گیا۔ کچھ ہی دیر میں اس پر غنودگی چھانے لگی، پھر اس کا احساس ختم ہو گیا اور شاید وہ مر بھی گیا تھا-شہر کی فضاؤں میں اچانک تلخیاں گھل گئی تھیں، جیسے پر سکون جھیل میں اچانک پتھر گر گیا ہو۔ ایک پرسکون ماحول میں آناً فاناً خوف، وہراس، بے یقینی اور بدگمانیوں کے اندھیرے چھا گئے تھے۔ شہر کے لوگ بڑے جوش و خروش سے اُس جلسے کے منتظر تھے جس میں ساری سیاسی اور علاقائی تنظیمیں اپنے حقوق کے لیے اکٹھی ہو کر آواز بلند کرنے والی تھیں، لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پس پردہ کچھ سازشوں کے تانے بانے بن رہے تھے۔ ان کے اتحاد و اتفاق کے مظاہرے کو سبوتاژ کرنے کے لیے چالیں چلائی جا رہی تھیں۔ ہوا یوں کہ جمعے سے ایک دن پہلے والی رات شہر کے مخصوص محلوں میں کچھ پمفلٹ تقسیم کیے گئے، دیواروں پر پوسٹرز لگائے گئے اور سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی گئی۔ ان سب کا مفہوم یہ تھا کہ صوبائی حکومت مخالف فرقے کو بے جا نواز رہی ہے، حکومت کے سارے اقدامات ان کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے لیے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ مخالف فرقے کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیاں غیرت مند مسلمانوں کے لیے غم و غصے کا باعث رہی ہیں۔ ان کے مذہبی اجتماعات سے ہمارے دینی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ حکومت اس جماعت کی سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگائے، انہیں علاقے کی اکثریتی آبادی کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے، ورنہ ہم خود اس باطل جماعت کی سرگرمیوں کو اپنی ایمانی غیرت کی طاقت سے روک دیں گے۔اگلے دن جمعے کے اجتماعات سے پہلے ان پوسٹروں اور پمفلٹوں کی عبارت اور فتنہ انگیزی کے اثرات پھیلنا شروع ہو گئے۔ گلی کوچوں، سڑکوں، بازاروں اور دفتروں میں ان پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا تھا۔ کہیں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں خوف اور اندیشے کا ماحول بنا ہوا تھا۔ حسب توقع جمعے کی نماز کے وقت مخالف فرقے کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب نے اپنی تقریر میں دھواں دار جواب دیا۔ ان کی شعلہ بیانی سے اہل ایمان کا خون گرم ہو گیا۔ انہوں نے بلا تکلف ان پوسٹروں کو مخالف فرقے کے کھاتے میں ڈال دیا اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، محرومیوں اور مخالف فرقے کی زیادتیوں کو ایسے پُر جوش انداز میں بیان کیا کہ سادہ دل اور جذباتی نمازیوں نے مسجد کے پاکیزہ ماحول کو گویا سیاسی جلسہ گاہ بنا دیا۔ نماز کے فوراً بعد ہزاروں افراد بڑی سڑک پر احتجاج کے لیے جمع ہو گئے۔ ان میں سے اکثر کو صحیح طور پر علم بھی نہ تھا کہ اس احتجاجی جلسے اور دھرنے کا مقصد کیا تھا، بس اتنا جانتے تھے کہ ان کے مذہبی لیڈر نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ جس عالم نے ان کا لہو گرم کیا تھا، وہ درحقیقت ایمانی غیرت اور مجاہدانہ جرات کا ڈھول پیٹتے ہوئے بھی کسی اور کا کٹھ پتلی تھا۔ اس نے جو ذمہ داری ملی تھی، وہ نبھائی تھی اور اب ہمیشہ کے لیے سادہ لوح اور بے خبر عوام ہنگامہ آرائی، انتشار، قتل و غارت، نعرے بازی اور نفرت کے ماحول کا حصہ بن گئے تھے۔اسی رات شہر کی ایک سنسان اور تاریک سڑک پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ مخالف فرقے کی ایک مذہبی جماعت کا سرگرم رہنما موٹر سائیکل پر شہر کی سنسان سڑک سے گزر رہا تھا کہ اندھیری رات میں چھپے کچھ بے شناخت دہشت گردوں نے اس پر فائرنگ کی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ واردات کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر شدید ہنگامہ مچ گیا۔ مقتول کے حامیوں اور ہم مسلکوں نے اسے دن کے احتجاجی دھرنے سے جوڑ دیا اور چوبیس گھنٹوں کے اندر قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، ورنہ خود انتقام لینے کی دھمکیاں دی گئیں۔ شہر کی پرسکون فضا اچانک مسموم ہو گئی، بدامنی، خوف اور عدم تحفظ نے پورے شہر کو گھیر لیا تھا۔
☆☆☆

چوہدری احتشام اپنے شاہانہ کمرے میں ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر بے قیمتی سگار تھا اور وہ گہرے گہرے کش لیتا ہوا دھویں کے مرغولے چھوڑتے ہوئے روشن کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں کھڑکی کے باہر کھلے لان کی پھولوں والی جگہ پر جمی تھیں، مگر اس کا دماغ کسی شیطانی چالبازی میں الجھا ہوا تھا۔ اچانک اس نے سامنے رکھی چھوٹی سی میز پر رکھا موبائل اٹھایا، ایک نمبر ڈائل کیا اور جب رابطہ ہوا تو مبھیر آواز میں کہا کہ جناب عالی بساط جم گئی ہے، ہم نے اپنے مہرے چلا دیے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آپ کے مہرے بھی کام میں لائے جائیں گے۔ دوسری طرف خفیہ ہاتھ کا خاص نمائندہ بولا کہ بہت خوب! ہمیں آپ سے ایسی ہی امید تھی چوہدری صاحب۔ چوہدری نے جواب دیا کہ جناب عالی، میں آپ کی ہدایات کے مطابق مہرے چلا رہا ہوں، مگر مجھے اندیشہ ہے کہ حالات اس طرح نہ بگڑ جائیں کہ بساط ہی لپیٹ دی جائے۔ ہماری منشا کے مطابق حالات نے کروٹ نہ بدلی تو حکمت عملی کیا ہوگی؟ نمائندے نے کہا کہ پہلے بھی بتایا ہے، آئندہ کے بارے میں ٹینشن نہ لیں، ہم نے ساری پلاننگ کرلی ہے، آپ سے جو کہا جا رہا ہے وہی کریں، خراب حالات کو اپنی حق میں کرنے کی حکمت عملی ہم خوب جانتے ہیں۔ چوہدری نے پھر کہا کہ جناب عالی، مجھے تسلی کرائیں، آگے کیا ہوگا؟ قتل و خون کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ جواب ملا کہ فی الحال امن کو بھول جائیں چوہدری صاحب، ابھی تو آتش فشاں پھٹے گا، ابھی تو کہرام بچے گا، ابھی تو شہر کے لوگ مذہبی جنون اور بدلے کے خون میں لت پت رہیں گے، ابھی تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی اور بے چارگی کے تماشے ہوں گے، ابھی کچھ عرصے کے لیے سیاست اور مذہب کے خداؤں کی فرعونی سازشوں کی قیامت خیزی ہو گی۔شہر کی فضا بڑی کشیدہ ہو گئی تھی۔ جلسے جلوس اور دھرنوں سے گزر کر قتل و خون تک نوبت پہنچ گئی تھی۔ ایک فرقے کا نوجوان مذہبی رہنما رات کی تاریکی میں قتل ہو گیا۔ مقتول کے لواحقین اور حامیوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، ورنہ سخت اقدام کرنے کی دھمکی دے دی۔ اسی رات خونی کھیل کا دوسرا پہلو سامنے آیا۔ مخالف فرقے کے دو نوجوانوں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ اس کے بعد حالات سخت خراب ہو گئے۔ کئی جگہوں پر فائرنگ کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے ہوئے اور راہ چلتے بے گناہ لوگ اس کی لپیٹ میں آگئے۔ تین چار دن تک شہر میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ پولیس اور رینجرز اس سارے کشت و خون کو روکنے میں سراسر ناکام رہے۔ چند دن پہلے جو عوام اکٹھے ہو کر اپنے حقوق کی بات کر رہے تھے اور بڑے جلسے کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کا خواب دیکھ رہے تھے، اب وہ ایک دوسرے کے جان و مال کے دشمن بن چکے تھے۔ جب حالات قابو سے باہر ہوئے تو کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی بھاری تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شر پسند عناصر کو پکڑنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا۔ جلد ہی ایسے فتنہ انگیز عناصر گرفت میں آئے کہ دیکھنے اور سننے والے ششدر رہ گئے۔وہ مرا نہیں، زندہ تھا۔ جب اسے ہوش آیا تو خود کو ایک چھوٹے سے کمرے کے پکے فرش پر پایا۔ چند لمحوں تک اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے؟ پھر دھیرے دھیرے دماغ کی اسکرین روشن ہوئی اور گزرے ہوئے حالات یاد آنے لگے۔ اس نے سر گھما کر ادھر ادھر دیکھا، یہ اس کمرے کا دروازہ نہیں تھا۔ دائیں طرف چند سیڑھیاں اوپر کی طرف جارہی تھیں جن کے اختتام پر ایک چھوٹی سی کھڑکی بنی ہوئی تھی۔ بابر سمجھ گیا کہ وہ کسی تہ خانے میں تھا۔ چھت سے زیر و پاور کا بلب لٹک رہا تھا۔ وہ اس نیم روشن کمرے میں اپنے حالات کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس کے ماں باپ، بھائی بہنیں سب اس کے بارے میں پریشان ہوں گے۔ خدا جانے اب کبھی انہیں دیکھ بھی سکے گا کہ نہیں؟ بہت دیر بعد تہ خانے کی وہ کھڑکی کھلنے کی آواز آئی۔ اس نے کمزور روشنی میں دیکھا تو کھڑکی کے پاس زمین پر اسے ایک شخص دکھائی دیا، جس کے ایک ہاتھ میں رائفل اور دوسرے میں کھانا تھا۔ وہ نزدیک آ کر خاموشی سے کھانا بابر کے سامنے رکھ گیا۔ بابر نے پوچھا، میں کہاں ہوں؟ کیا تم چوہدری صاحب سے میری بات کروا سکتے ہو؟ وہ شخص سپاٹ لہجے میں بولا، چوہدری صاحب دارالحکومت گئے ہیں، ملک کے سیاسی حالات ٹھیک نہیں، فی الحال ان سے بات کرنا ممکن نہیں۔ اب یہ تہ خانہ ہی تمہارا مقدر ہے، یہی تمہاری دنیا ہے۔ جب تمہیں گولی مارنے کا حکم ہو گا تبھی یہاں سے نکل سکو گے۔ بابر نے فریادی لہجے میں کہا، خدا کے لیے اتنا بتا دو کہ شہر کے حالات کیسے ہیں؟ وہ شخص طنز سے بولا، حالات کا کیا ہے؟ ابھی ٹھیک ہیں تو خراب ہونے میں کیا دیر لگتی ہے؟ تم کیا سمجھتے ہو اگر ساتھ نہیں دو گے تو اور بندے نہیں ملیں گے؟ باہر وہی ہو رہا ہے جس کی پلاننگ کی گئی تھی۔ بےوقوف! تم عدالت کر کے بری طرح پھنس گئے ہو، ہاتھ آیا پیسہ بھی گیا اور اب جان سے بھی جاؤ گے۔ یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا۔ اب باہر کے شب و روز تہ خانے میں بسر ہونے لگے۔ دن گزرتے رہے، ہتھیار بردار محافظ اسے کھانا لا کر دیتے۔ وہ شہر کے حالات جاننے کے لیے بےتاب تھا مگر وہ لوگ اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیتے تھے۔ یوں ہی کئی دن گزر گئے۔ ایک رات اسے کسی گڑ بڑ کا احساس ہوا۔ تہ خانے کی چھت بہت سے قدموں کی دھمک سے لرز رہی تھی۔ وہ کچھ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوا ایک طرف ڈیک کر بیٹھ گیا۔ یکایک کہیں سے گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ کچھ دیر بعد تہ خانے کی کھڑکی زور زور سے بجنے لگی، کوئی ٹھوکریں مار رہا تھا، پھر پر شور دھماکے سے کھڑکی کھل گئی۔بابر نے سہمی سہمی نظروں سے دیکھا، پھر اچانک اچھل پڑا۔ وہ پولیس اور رینجرز کے جوان تھے جو کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہو رہے تھے۔ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگے، پھر پکڑ کر تہ خانے سے اوپر لے گئے۔ اوپر پہنچ کر بابر کو معلوم ہوا کہ وہ چوہدری احتشام کی شہر سے باہر والی کوٹھی میں تھا۔ وہ پہلے بھی یہاں کئی بار آ چکا تھا۔ وہاں زبردست افرا تفری تھی، پولیس اور رینجرز کے جوان مختلف جگہوں پر چوکس کھڑے تھے۔ اسے ایک بڑے پولیس افسر کے سامنے پیش کیا گیا۔ بابر کی حالت بہت خراب تھی، سر اور داڑھی کے بال بے تحاشا بڑھ چکے تھے ۔ پولیس افسر نے اسے پانی پلایا اور پوچھنے پر بابر نے بتایا کہ وہ کون ہے اور کن حالات کا شکار ہو کر اس تہ خانے میں پڑا تھا۔ پولیس افسر نے اس کی بات سن کر کچھ دیر بے یقینی اور گھورتے ہوئے دیکھا، پھر اپنے جوانوں کو حکم دیا کہ اسے پولیس انویسٹی گیشن سینٹر لے جایا جائے جہاں اس سے تفصیلی پوچھ گچھ ہوگی۔پولیس انویسٹی گیشن سینٹر میں بابر نے سینئر افسروں کے سامنے پوری تفصیل بیان کی۔ وہاں آرمی اور انٹیلی جنس کے افسران بھی موجود تھے جنہوں نے کئی سوالات کیے۔ بابر نے کچھ بھی چھپایا نہیں، اپنا ماضی، چوہدری احتشام کا سیکریٹری بن کر جائز و ناجائز کام کرنا اور پھر ملک دشمن سازش کے خلاف بغاوت کرنا، سب کچھ کھل کر بتایا۔ وہاں اسے معلوم ہوا کہ باہر کیا ہوا تھا۔ چوہدری احتشام نے فرقہ وارانہ فسادات کا جو ناپاک منصوبہ بنایا تھا، کسی حد تک وہ کامیاب بھی ہوا تھا، مگر فوج، رینجرز اور پولیس نے شہر کے حالات کو بڑی حد تک قابو میں کر لیا تھا۔ بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں۔ خوش قسمتی سے گرفتار لوگوں میں سے ایک نے دوران تفتیش اعتراف جرم کیا اور جب سخت پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے چوہدری احتشام کے بارے میں ہولناک انکشافات کیے۔ سیکیورٹی اداروں کے سامنے وہ پہلے ہی مشکوک تھا، اب اس کی ملک دشمن سرگرمیوں کے بارے میں بھی اہم ثبوت سامنے آئے تھے۔ چونکہ وہ سیاست کے گندے تالاب کی بڑی مچھلیوں میں شمار ہوتا تھا، اس لیے اس کے خلاف اور بھی ثبوت اکٹھے کیے گئے۔ حساس اداروں نے بھی سیکیورٹی اداروں کا ساتھ دیا۔ چوہدری احتشام کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی گئی، سارے ثبوت اور گواہوں کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے بڑے ہاتھ پاؤں مارے، بڑے تعلقات کا دھونس جمایا، خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں، پھر دھیرے دھیرے اس کا مزاج زمین پر آ گیا۔ اس کے کئی کارندے پکڑے گئے۔ شہر کے مضافات والی کوٹھی اس کی بد اعمالیوں کا مرکز تھی۔ وہاں بھی چھاپہ مارا گیا اور اسی تہ خانے سے بابر برآمد ہوا۔تفتیشی سینٹر میں بابر نے پولیس انسپکٹر کے بارے میں بھی بتایا جو چوہدری احتشام کا گڑھ تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ وہ پہلے ہی مشکوک افراد میں شامل تھا اور اسے بھی گرفتار کیا جا چکا تھا۔ بڑی دیر بعد بابر کو کہا گیا کہ اب آرام کرے، کچھ مزید تحقیقات اور تفتیش کے بعد اس کی رہائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ دن گزر گیا، رات بھی گزر گئی، اگلی صبح اسے کچھ کاغذات پر دستخط کروائے گئے اور گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔وہ تفتیشی سینٹر سے باہر نکلا تو ہر طرف اجلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی، ہلکی ہلکی ہوا محو حرام تھی۔ اس نے طمانیت بھری چند گہری گہری سانسیں لیں۔ آزاد فضا نے اسے کئی دنوں کی گھٹن سے نجات دلائی۔ وہ خوش تھا، بہت خوش تھا، لیکن یہ خوشی اس بات کی نہیں تھی کہ اسے رہائی ملی تھی اور وہ موت کی دہلیز سے لوٹ آیا تھا۔ وہ اس لیے خوش تھا کہ قوم کو راہنما کے بہروپ میں ایک راہزن سے چھٹکارا ملا تھا۔ عوام کو قوم و ملک کے وسیع تر مفاد کی رٹ لگا کر جڑوں کو کھوکھلا کرنے والوں میں سے ایک کی منافقت سے نجات مل گئی تھی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top