• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story سزا جو انعام بن گئی ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,724
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
قیصرہ کم سنی سے ہی اپنی ماں کے ساتھ ہمارے گھر میں کام کرتی تھی۔ وہ ایک غریب محنت کش ماں کی بیٹی تھی۔ چودہ برس کی نادان بچی، جو زمانے کی اونچ نیچ سے ناواقف تھی۔ دنیا کو اپنے سادہ اور معصوم جذبوں کے آئینے میں دیکھتی تھی، تبھی یہ دنیا اسے بڑی بھلی لگتی تھی۔ پہلے یہ کھاتے پیتے لوگ تھے۔ قیصرہ کے باپ کی ذاتی دکان تھی۔ وہ فروٹ فروش تھا، تبھی خالہ ذکیہ نے اچھا وقت دیکھا تھا۔ ایک روز فروٹ کے ایک آڑھتی سے اللہ دت کا جھگڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا لین دین پر ہوا تھا۔ کچھ دن بعد ان کی دشمنی اس حد تک بڑھی کہ آڑھتی کے آدمیوں نے بازار میں آ کر دکان پر بیٹھے اللہ دتا کو سر میں گولی مار دی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔اللہ دتا کے قتل کے بعد ذکیہ خالہ کے گھر بدحالی کا اندھیرا چھا گیا۔ حالات یہاں تک پہنچے کہ گھر میں اناج کا ایک دانہ تک نہ بچا، لیکن بچی قیصرہ نے اب بھی زندگی کی تلخی کو محسوس نہ کیا۔ حالانکہ غربت کے سائے جاڑے کے بادلوں کی طرح ان کے سروں پر منڈلا رہے تھے۔ابھی قیصرہ ایک بچی تھی۔ اس کی آرزوؤں کی دنیا میں ہلچل نہ مچی تھی۔ اسے خود کو سنبھال کر چلنے کا شعور نہیں آیا تھا۔ روکھی سوکھی جو مل جاتی کھا لیتی۔ اوڑھنی سنبھالنے کا بھی ہوش نہیں تھا۔ماں گھر گھر کام کرتی، اور قیصرہ آنگن میں ادھر اُدھر پھرتی۔ کبھی کھڑکی سے جھانکتی، کبھی چھت پر چڑھ جاتی۔ تنہائی کاٹنے لگتی تھی، کہیں جی نہ لگتا۔ تب دل گھر سے باہر جانے کو مچلتا۔ ماں اسے ساتھ لے جانے سے کتراتی، اور قیصرہ چاہتی کہ کسی طرح ماں کے ساتھ لگی رہے۔ اسے دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے بڑی دلچسپی تھی۔ جہاں مزے مزے کی باتیں سننے کو ملتیں، اور کبھی تو ایسی بھول بھلیوں جیسی باتیں کہ اس کے کان سنسنانے لگتے اور وہ چہرہ اوڑھنی سے ڈھانپ لیتی۔تبھی ماں اسے گھور کر کہتی: ایک تو میرے پیچھے لگی چلی آتی ہے، اوپر سے بڑوں میں گھس کر باتیں سنتی ہے، کیا یہ باتیں لڑکیوں کے سننے کی ہیں؟خالہ ذکیہ کی تین بیٹیاں تھیں، جن کی خاطر وہ ہمارے گھر کے علاوہ دو اور گھروں میں بھی کام کرتی تھی۔ اسے بیٹیاں بیاہنے کی فکر تھی، جو جوان ہو چلی تھیں لیکن ابھی تک ان کے رشتے کہیں طے نہ ہوئے تھے۔ایک دن ماں نے قیصرہ کو سمجھایا: جب تیری بہنوں کو رشتہ دیکھنے کے لیے عورتیں آئیں تو ان کے سامنے مت آنا۔ آج کل کی عورتیں بڑی لڑکیوں کو چھوڑ کر چھوٹی پر نظریں نکال لیتی ہیں، لہٰذا تم ان سے چھپ جانا۔ایک روز خالہ ذکیہ کچھ عورتوں کے ساتھ آئی۔ ماں کام پر گئی ہوئی تھی، قیصرہ ہی نے دروازہ کھولا۔ اس وقت وہ نہا کر نکلی تھی اور بال سنوار کر ان میں کلپ لگا رہی تھی۔ خالہ نے جب اس کا اجلا، چمکتا ہوا چہرہ دیکھا تو بولی: ارے قیصرہ، تُو تو بڑی ہو گئی ہے، کیا رنگ روپ نکالا ہے! اچھا جا، ماں کو بلا لا، کہنا خاص مہمان آئے ہیں، ضروری کام ہے۔قیصرہ نادان ضرور تھی مگر ایسی باتیں فوراً سمجھ جاتی تھی۔ سمجھ گئی کہ یہ عورتیں اس کی بہنوں کا رشتہ دیکھنے آئی ہیں۔ یہ خیال آتے ہی وہ کھل اٹھی۔ بولی: خالہ، آپ بیٹھیں، میں ابھی ماں کو لے آتی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ دوڑتی ہوئی فہیم صاحب کے گھر گئی، بیل دی۔ سیٹھ فہیم کا بیٹا باہر آیا۔وجاہت بھائی! کیا میری ماں اندر ہے؟ہاں ہے تو، اُس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ آ جاؤ۔ وہ سامنے سے ہٹ گیا۔قیصرہ سیدھی غسل خانے کی طرف گئی، جہاں اس کی ماں اکثر کپڑے دھوتی تھی، مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ پلٹی تو سامنے وجاہت کو کھڑا پایا۔ بولی: ماں تو یہاں نہیں ہے، شاید اندر ہو گی۔وجاہت نے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ قیصرہ سمجھی کہ ماں جھاڑ پونچھ میں لگی ہے، مگر وہاں بھی نہ تھی۔ تب اس نے پورے گھر کے کمرے دیکھ ڈالے، مگر نہ ماں تھی، نہ کوئی ذی روح۔سارا گھر سنسان پڑا تھا۔ وہ حیران و پریشان وجاہت کی طرف بڑھی، جو برآمدے میں کرسی پر بیٹھا اخبار دیکھ رہا تھا۔ وہ باہر جانے لگی تو وجاہت اس کے راستے میں آ گیا۔کہاں جا رہی ہو؟ ایک کام تو کرتی جاؤ۔کیا کام ہے؟ مجھے باہر جانے دو۔ قیصرہ نے گھبرا کر کہا۔تم تو خواہ مخواہ ہی ڈر رہی ہو، میں تمہیں کھا تو نہیں جاؤں گا۔ وہ قیصرہ کو پُر معنی نظروں سے گھورنے لگا۔ہٹ جاؤ صاحب جی، گھر میں مہمان آئے ہیں، دیر ہو رہی ہے۔ اماں کو اگلے گھر سے بلانا ہے۔ایک شرط پر جانے دوں گا، میرے سر میں درد ہے، ذرا سا دبا دو…قیصرہ سمجھ گئی کہ یہ شرط اتنی سادہ نہیں۔ پھر بھی چھٹکارے کی خاطر بولی: اچھا، کرسی پر بیٹھ جاؤ، میں دبا دیتی ہوں، مگر مجھے جلدی جانا ہے، خالہ میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔

قیصرہ اُس کے ساتھ بیٹھ کر دبا رہی تھی اور وہ مزے سے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔ بس، اب میں جاؤں؟ دیر ہو رہی ہے۔ نہیں! اچھا، گیٹ کھول دیتی ہوں۔ کیوں؟ کیا مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟ ہاں! یہ کہہ کر وہ گیٹ کی طرف بڑھی اور لاک کا بٹن دبا دیا۔ خبردار! گیٹ مت کھولنا! چلو، اب ادھر آ جاؤ۔ شاباش! تھوڑا سا اور دبا دو۔ ناچار وہ پھر سے اس کی کنپٹیاں دبانے لگی۔ اب وہ رو بھی رہی تھی، لیکن وجاہت پر اس کے رونے کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ الٹا اس کے رونے کا لطف لینے لگا۔ اچھا، آنسو بہانا چھوڑ دے… آنسو تو بس آج کے دن ہیں۔ کل دیکھ لینا، تجھے کل نہ پڑے آئے بغیر، خود بخود دوڑی چلی آئے گی۔ اس کی باتوں سے قیصرہ کا دل اور زیادہ جل اٹھا۔ وہ دل ہی دل میں اسے بددعائیں دینے لگی۔ اتنے میں گیٹ کھلا اور دفعتاً اس کے والد، سیٹھ فہیم برآمد ہوئے۔ وہ شہر سے باہر گئے ہوئے تھے اور اچانک اس وقت واپس آ گئے تھے۔ گیٹ کی دوسری چابی ان کے پاس تھی۔ انہوں نے جو منظر دیکھا، ان کی آنکھیں حیرت اور غصے سے پھیل گئیں۔ ان کا بیٹا ایک ملازمہ کی بیٹی کو پکڑے ہوئے تھا اور وہ رو رہی تھی۔ باپ کو سامنے دیکھ کر وجاہت پر جیسے آسمان گر پڑا۔ سیٹھ فہیم کو دیکھ کر قیصرہ کی جان میں جان آئی۔ وہ ان کے پاس جا کر لپٹ گئی اور بلک بلک کر رونے لگی۔ بابا جان! اُس لمحے اُسے اپنے مرحوم باپ کا خیال آیا، کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو شاید وہ اور اس کی ماں یوں دربدر نہ ہوتیں۔ سیٹھ صاحب بھی سٹپٹا گئے۔ بچی کو اپنے آپ سے الگ کیا اور رونے کا سبب پوچھا۔ وہ کیا بتاتی! اس کا بکھرا ہوا حلیہ ہی سب کچھ کہہ رہا تھا۔ تم بتاؤ، وجاہت، کیا ہوا ہے اسے؟ کیا تم نے کچھ کہا ہے؟ وہ کیا جواب دیتا، اس کا رنگ اُڑ چکا تھا۔ سیٹھ صاحب نے قیصرہ کے گال پر سرخ نشان دیکھا تو ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔ کیا تم نے اسے تکلیف پہنچائی ہے، وجاہت؟ باپ نے گرج کر سوال کیا۔ وجاہت تیزی سے اپنے کمرے میں جا کر چھپ گیا۔ قیصرہ نے روتے روتے سارا احوال سیٹھ صاحب کو سنا دیا۔ وہ بے حد غصے میں آ گئے اور اسی وقت ایک بڑا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے فوراً اپنی بیوی کو فون کیا کہ فوراً گھر پہنچیں۔ وہ اس وقت اپنے بھتیجے کی شادی میں گئی ہوئی تھیں۔ پریشانی میں انہوں نے ڈرائیور سے کہا: کار تیز چلاؤ، خدا جانے کیا آفت آن پڑی ہے جو مجھے شادی کے گھر سے بلایا گیا ہے۔جب بیگم فہیم آئیں تو سیٹھ صاحب نے ڈرائیور کو بھیج کر قیصرہ کی ماں کو بھی بلا لیا اور دونوں خواتین کے سامنے فیصلہ سنایا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہاری بیٹی کو اپنی بہو بنائیں گے۔ تمہیں اس پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ اگر ہے تو ابھی بتا دو۔ ہم آج شام کو ہی تمہاری بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں۔ فہیم صاحب کی بیوی اور قیصرہ کی ماں دونوں دنگ رہ گئیں۔ ارے بھئی، حیران کیوں ہو رہی ہیں آپ لوگ؟ جب میں نے گھر میں قدم رکھا، جو منظر دیکھا، اُسے دیکھ کر سمجھ گیا کہ ہمارا بیٹا قیصرہ کو بہت پسند کرتا ہے۔ اب ہم وجاہت کی پسند کا احترام کرتے ہوئے اس کا نکاح قیصرہ سے کرنا چاہتے ہیں۔ اگر کسی کو اس پر اعتراض نہیں تو ہمیں ہمارے بیٹے کی دلی خواہش پوری کرنے دیجئے۔ سب سے زیادہ اعتراض تو خود وجاہت کو تھا، جو ایف ایس سی کے بعد انجینئرنگ میں داخلہ لینے کی تیاری کر رہا تھا۔ ارے میاں، پڑھائی بعد میں ہوتی رہے گی۔ اور ہم کب رخصتی کر رہے ہیں؟ رخصتی تو دو سال بعد ہو گی، نکاح ابھی ہو گا۔ سیٹھ صاحب کے سامنے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ تھی، حتیٰ کہ ان کی بیوی اور بیٹے کو بھی نہیں۔ وہ پیسے والے تھے، ان کا رعب و دبدبہ بھی کچھ کم نہ تھا۔ قیصرہ کی ماں خاموش رہی۔ صرف اتنا کہا کہ سیٹھ جی، فیصلہ تو آپ نے کیا ہے، تو اس کا نباہ بھی آپ ہی کو کرنا ہو گا۔ یہ میری بیٹی کی زندگی کا سوال ہے۔ تم فکر نہ کرو ذکیہ بہن، آج سے میں اس بچی کا سرپرست ہوں۔ قیصرہ کا بال بھی بیگانہ نہیں ہو گا۔ بس تم ہاں کہہ دو، اور قیصرہ سے بھی ہاں سننا چاہتا ہوں۔ کس کی مجال تھی کہ ہاں نہ کہے؟ ذکیہ خالہ کی تو لاٹری نکل آئی تھی، اور قیصرہ کے خواب ایک اونچے گھرانے سے وابستہ ہو گئے۔ البتہ وہ اور اس کی والدہ مہر بلب تھیں۔ اسی عالم میں بازار سے نکاح کے لیے لڑکی کا جوڑا اور لڑکے کے لیے شیروانی و کلاہ خریدا گیا۔ رات آٹھ بجے مولوی صاحب نکاح پڑھانے تشریف لے آئے۔ قیصرہ کو سیٹھ صاحب کے گھر ہی نکاح کا جوڑا پہنا دیا گیا، ہلکا پھلکا میک اپ کر دیا گیا، اور سیٹھ فہیم نے زیورات کا ایک سیٹ بھی دے دیا کہ بچی کو پہنا دو۔

تمام کام اللہ کی مرضی سے جھٹ پٹ ہو گئے۔ بعد نکاح دو چار قریبی لوگوں کی موجودگی میں کھانا ٹیبل پر سجا دیا گیا۔ مٹھائی کا ایک ایک ڈبا مہمانوں کی نذر کیا گیا۔ وہ کھانا تناول فرما کر چلے گئے تو سیٹھ صاحب قیصرہ اور اس کی والدہ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ان کے گھر چھوڑنے آئے۔ ذکیہ سے کہا۔ بہن اب آپ کی لڑکی ہماری امانت ہے۔ اسے میں گھر سے باہر گھومتا پھرتا نہ دیکھوں اور آپ بھی اب گھروں میں کام کرنے نہ جائیں گی، جب تک آپ کی بڑی بیٹیوں کے رشتے نہیں ہو جائیں اور یہ اپنے گھر کی نہ ہو جائیں آپ کا خرچہ ہمارے ذمے۔ بعد میں آپ بھی ہمارے گھر آجائیں گی کیونکہ اب آپ کا رہن سہن ہماری عزت سے وابستہ ہے۔بزرگ بچوں کی غلطیوں کی سزا کئی طرح سے دیتے ہیں لیکن سیٹھ فہیم صاحب نے جو سزا تجویز کی وہ انوکھی سزا ان کے بیٹے کے لئے ایک سبق بنی تو ایک غریب کی بیٹی کی زندگی بھی سنور گئی
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top