• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story شک کا انجام۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
933
Reaction score
48,717
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
ہمارے گاؤں کے ایک گھرانے میں دو ایسے بھی بھائی تھے جن کی ماں اپنے بیٹوں کی شادی دو بہنوں سے کرانا چاہتی تھی، کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ اگر دونوں بہوئیں آپس میں سگی نہ بھی ہوں تو محبت اور صلح صفائی سے رہیں گی اور ہمارا گھر ان کے اتفاق کی برکت سے جڑا رہے گا۔ وہ بدلے میں اپنی لڑکی کا رشتہ بھی دینا چاہتی تھی۔ یہ دوسرے گاؤں کے لوگ تھے اور کھاتا پیتا گھرانہ تھا، جسے میری ماں نے پسند کر لیا۔ بڑے بھائی کبیر سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ رشتہ کر لیں تو ہماری دونوں لڑکیوں کی شادیاں ہو جائیں گی اور بدلے میں اگر ان کی لڑکی مل گئی تو ہمارا بھی گھر آباد ہو جائے گا، بشرطیکہ لوگ شریف ہوں تاکہ کل کو جگ ہنسائی نہ ہو۔ ماں نے پرلے گاؤں کے منظور حسین کے گھر آنا جانا شروع کر دیا، جہاں سرپرست فوت ہو چکا تھا اور دو لڑکے اور ایک لڑکی غیر شادی شدہ تھے، جبکہ بڑی لڑکی شاداب کی شادی ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی ہونے والی بھابی عذرا کو دیکھا، جو بڑی تیز طرار، بنی ٹھنی اور خوبصورت تھی، جس کی بات چیت اور میٹھی زبان دل جیت لیتی تھی۔ تعلیم اور وضع قطع میں وہ شہری لڑکیوں جیسی تھی۔ میں نے اس کی جھلک کبیر بھائی کو دکھائی، وہ بھی کہنے لگے کہ چھوٹی زیادہ خوبصورت ہے، بس یہی رشتہ کر دو۔ ماں نے وہاں کے چند شناسا گھرانوں سے پوچھا، جنہوں نے رائے دی کہ یہاں رشتہ سوچ سمجھ کر کرنا کیونکہ لوگ اچھے نہیں۔ لیکن بھائی نے کہا کہ رشتوں کے معاملے میں بہت کم لوگ مخلص ہوتے ہیں اور رشتہ ہو جائے تو دونوں لڑکیوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ بالآخر رشتہ طے پا گیا اور عذرا ہماری بہو بن کر ہمارے گھر آگئی جبکہ ہم دونوں بہنیں ان کے بھائیوں کی دلہنیں بن گئیں۔ چند دن خوشی سے گزرے اور سال بعد اللہ نے ہمیں بیٹے اور عذرا کو بیٹی دی۔ مگر بہو اکثر اپنی بڑی بہن کے گھر جاتی رہتی تھی، جس پر اماں کو اعتراض تھا کہ ہماری لڑکیاں تو مہینوں بعد میکے آتی ہیں مگر بہو ہفتے میں دو بار اپنی بڑی بہن کے گھر جاتی ہے۔ بھائی کبیر کو معلوم ہوا کہ وہاں محکمہ میں خالی اسامی ہے، تو انہوں نے اپنے دوست سے رابطہ کر کے تبادلہ پرلے گاؤں کروا لیا۔ اب بھائی کبیر روز موٹر سائیکل پر شادو کے گاؤں آتے جاتے اور بھابی کا بہن کے گھر آنا جانا معمول بن گیا۔ عذرا پہلے پندرہ روز بعد جاتی تھی، اب ہفتے میں دو بار جاتی تھی، جس سے اماں کو تکلیف ہوتی کہ ہماری لڑکیاں کم آتی ہیں اور بہو روز آتی جاتی ہے، اور گھر کے کام بھی اکیلے کرنے پڑتے ہیں۔ گاؤں کی دوری تیرہ چودہ میل تھی، جس کی وجہ سے عذرا کو وہاں جانے میں آسانی ہوتی۔ بھائی کا تبادلہ محکمہ انہار کے ایک ذیلی دفتر میں ہوا تھا جہاں کام کم تھا اور ملازمین اکثر وقت گزاری کرتے تھے۔ ایک دن ان کی گپ شپ میں عذرا اور شادو کا ذکر آیا، جو بھائی کے کانوں پر پڑا کیونکہ ہماری بھابی کا نام بھی عذرا اور اس کی بڑی بہن کا شادو تھا۔ اس بات پر بھائی کے کان کھڑے ہو گئے اور وہ تجسس میں مبتلا ہو گئے کہ کون سی شادو ہے۔بھائی نے سوال کیا، ارے وہی جس کا گھر کمیٹی چوک کے پاس ہے، منظور مرحوم کی بیٹی ہے۔ وہ خود تو بھلا مانس تھا لیکن اس کے مرتے ہی لڑکیوں نے پر پرزے نکال لیے۔ گویا وہ بھابی اور اس کی ہمشیرہ محترمہ کا ذکر کر رہے تھے۔ بھائی کے کان سنسنانے لگے اور بیوی کے یوں جلد جلد اپنی ہمشیرہ کے گھر دوڑ کر جانے کا مطلب سمجھ میں آنے لگا۔ اس روز وہ وہاں سے اٹھ کر گھر آ گئے، لیکن دل میں ایک تیر سا پیوست تھا کہ جس کو نکالے بغیر چین سے سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ دوسرے روز بھائی نے کیلے میں اس آدمی سے کہا کہ شادو کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتاؤ، کیونکہ میں تو جانتا ہوں کہ وہ ایک شریف آدمی کی بیوی ہے۔ اس نے کہا، رہنے دے یار، مت شرافت پر تہمت لگا۔ اگر یقین نہیں آتا تو کل ہی بلواؤں دیتا ہوں۔ جانے کیا سوچ کر بھائی نے رقم اس آدمی کے ہاتھ پر رکھ دی کہ بس صرف ایک جھلک، بس دیدار کرنا ہے۔وہ دن بہت بےچینی سے گزرا۔ کبیر نے دعا مانگی کہ خدا کرے وہ شادو ان کی بیوی کی بہن یعنی ان کی سالی نہ ہو۔ بھائی نہ تو اپنے گھر کی بربادی چاہتے تھے اور نہ ہم دونوں بہنوں کو اجاڑ کر گھر واپس لا بیٹھنا چاہتے تھے۔ بھائی عذرا سے بڑا پیار کرتے تھے اور تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ انہیں طلاق دے دیں گے۔ لیکن اب تو شیر کے منہ میں سر دے دیا تھا اور جو کہتے ہیں کہ اوکھلی میں سر دیا تو موسل سے کیا ڈرنا، سو موسل کو خود دعوت دے بیٹھے۔شام کو اسی شخص کے ڈیرے پر گئے اور رات ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ دل دھڑک رہا تھا، حلق خشک تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی کچھ دیر میں صور پھونکا جائے گا۔ رات کے ساڑھے دس بجے تھے کہ ایک شخص ایک برقع پوش عورت کو لے کر آگیا۔ لالٹین کی روشنی میں کبیر بھائی نے اسے دیکھا، وہ شادو تھی، ان کی سالی، جس کی عزت وہ بہنوں کی طرح کرتے تھے، ان کی پیاری بیوی کی بہن تھی۔ اس کا گورا گورا چہرہ کالے برقع میں چمک رہا تھا۔ جب اس کی نظر بھائی پر پڑی تو چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔اچھا تم ہو وہ شادو جس کے سارے گاؤں کے آوارہ مزاج مردوں کی زبان پر چرچے ہیں؟ یہ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئے اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گھر آ گئے۔

رات قیامت جیسی گزری اور اگلی صبح ماں کو یہ مژدہ سنایا کہ عذرا کو طلاق دے دی ہے۔ ماں نے بہت منع کیا اور روکتی رہیں کہ بیٹا وہ شادو تھی، عذرا تو نہیں تھی۔ تم بس بیوی پر روک لگا دو کہ ادھر کا رخ کرے اور ان سے واسطہ نہ رکھے، اپنا اور اپنی بہنوں کا گھر کیوں برباد کرتے ہو؟ مگر مرد ذات کی فطرت میں شک بسارہتا ہے اور جب معاملہ بیوی کا ہو تو اس کے گھر والوں کی نیک چلنی کی ضمانت بھی چاہیے ہوتی ہے۔اگلے دن عذرا میکے پہنچادی گئی، جس کے جواب میں ہم دونوں معصوم و بےقصور بہنوں کو بھی شوہروں نے طلاق دے دی کیونکہ ان کی بہن کو شک کی بنا پر ہمارے بھائی نے طلاق دے دی تھی۔ ہمارے دونوں بیٹے ان کے پاس اور بھابی کی لڑکی دادی کے پاس تھیں۔ بچے بھی اجڑے اور ہم بھی۔اب ہم بہنیں روتی تھیں کہ بھائی تم نے تو ہم پر قیامت ڈھائی، ہم اچھی بھلی اپنے گھروں میں آباد تھیں، ہمارا کیا قصور تھا کہ ہمارے گھر اور بچے ہم سے ناحق چھن گئے۔گاؤں کا دستور تھا کہ اگر ایک عورت کو شوہر طلاق دے دے تو اس کے بدلے کی بیاہی عورت کو بھی طلاق مل جاتی ہے اور دونوں طرف کے گھرانے اجڑ جاتے ہیں۔ یہاں تو تین گھر اور نو نفوس برباد ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد کبیر بھائی کو احساس ہوا کہ انہوں نے اپنی غیرت کو بچایا مگر ہم بہنوں کی خوشیوں کا بھی ناحق خون کیا۔ ہمارے شوہر ہم کو ہرگز طلاق نہ دینا چاہتے تھے، وہ ہم سے خوش تھے اور ہم بہنیں اپنے شوہروں سے راضی تھیں۔ ہمارے بچے بھی اتنے چھوٹے تھے کہ ابھی بولنا نہ سیکھے تھے کہ اپنی تکلیف کسی کو بتا سکتے۔اماں الگ غم سے نڈھال تھیں کہ ہمارے سروں پر باپ کا سایہ بھی موجود نہ تھا۔ اب وہ اٹھتے بیٹھتے کبیر بھائی کو کوسنے لگیں۔ تبھی ایک روز میرے ناشاد دل بھائی کے کیا جی میں سمائی کہ جا کر دریا میں چھلانگ لگا دی اور یوں زندگی کے عذاب سے چھٹکارا پالیا۔ بچپن ہے جس دریا کی موجوں سے انہیں ڈر لگتا تھا اور تیراکی نہ سیکھ پائی تھی، اس نے بانہوں میں اپنا آپ سپرد کر کے زندگی کے جھنجھٹوں سے نجات پائی۔ مگر ہم بہنوں اور بیو جہاں کو غم کے ایسے سمندر میں دھکیل دیا کہ جس سے نکلنا اب ہمارے بس کی بات نہ تھی۔ ہماری تو برادری والوں نے دوسری جگہ شادیاں کروادیں، مگر اماں جب تک جیتی رہیں، بیٹے کی یاد میں آنسو بہاتی رہیں۔ بالآخر آنکھوں کا نور کھو کر قبر میں جا سوئیں۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top