Woodman
Well-known member
قارئین کو آداب عرض ۔
ایک نئی کہانی کے ساتھ پیش خدمت ہوا ہوں۔ امید ہے ۔آپ کومنٹس کے زریعے سراہیں گے ۔
صبا کی سہاگ رات ۔
میں سیج کے اندر بیڈ پر بیٹھی ہوں، سرخ جوڑے کی بھاری
زرڈوزی میرے کندھوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، جیسے کوئی بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں۔ کمرے کی دیواریں گلابی رنگ کی ہیں، پھولوں کی مالائیں لٹک رہی ہیں، اور ہوا میں گلاب، چنبیلی اور موتیا کی مخلوط خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔ شمعیں چاروں طرف جل رہی ہیں، ان کی لو ہلکی سی چمک میں میرا سایہ دیوار پر ناچ رہا ہے، جیسے کوئی خوفزدہ پرندہ اڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میرے ہاتھوں میں مہندی ابھی تک تازہ ہے، اس کی گہری بھوری رنگت اور خوشبو ناک میں چڑھ رہی ہے۔ انگلیوں پر لکھا ہوا اس کا نام، "احمد"، ہر بار جب میں ہاتھ ہلاتی ہوں، چمکتا ہے۔ کانوں میں سونے کے جھمکے ہل رہے ہیں، ہر سانس کے ساتھ ہلکی سی آواز کرتے ہیں۔ گلے میں منگلسوتر کی بھاری زنجیر میرے سینے پر دباؤ ڈال رہی ہے، اس کی ٹھنڈک ابھی تک محسوس ہو رہی ہے۔
میں بیڈ کے کنارے پر بیٹھی ہوں، گھٹنے جوڑ کر، ہاتھ گود میں رکھے۔ سیج کے اندر پھولوں کی پنکھڑیاں بکھری ہوئی ہیں—سرخ گلاب، سفید چنبیلی، ہلکے گلابی موتیا—سب مل کر ایک خواب نما ماحول بنا رہے ہیں۔ بیڈ کی چادر سرخ مخمل کی ہے، سنہری دھاگوں سے زرڈوزی کی گئی، اس پر سفید نیٹ کا پردہ لٹک رہا ہے، جو سیج کو ایک الگ دنیا بنا دیتا ہے۔ میرے ننگے پاؤں چادر پر رکھے ہیں، ایڑیاں مخمل کی ٹھنڈک کو چھو رہی ہیں۔ پاؤں میں چاندی کی پائل ابھی تک ہلکی سی جھنکار پیدا کر رہی ہے، جب میں ہلکی سی حرکت کرتی ہوں۔
کمرے میں خاموشی ہے، صرف میری سانسوں کی آواز اور باہر سے دور کہیں سے آنے والی مدھم موسیقی۔ شادی کی رسومات ختم ہو چکی ہیں، سب لوگ چلے گئے ہیں، اب صرف میں اور وہ۔ میرا دل دھڑک رہا ہے، جیسے کوئی ڈرم بج رہا ہو۔ پیٹ خالی ہے، صبح سے کچھ نہیں کھایا، لیکن بھوک نہیں لگ رہی۔ بس ایک گہری گھبراہٹ ہے، جو گلے تک چڑھ رہی ہے۔ میں نے ہاتھوں کو آپس میں ملا لیا، انگلیاں الجھ گئیں۔ مہندی کی خوشبو اب میری سانسوں میں شامل ہو گئی ہے۔
میری سوچ مجھے زمانہ ماضی میں لے گئی
میں صبا ہوں، جب میں تیرہ سال کی تھی، چھوٹی سی چوت والی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں چھت میری راز کی دنیا تھی۔ شام کو جب ماں نیچے کھانا پکاتی، میں چپکے سے اوپر چڑھ جاتی۔ وہاں کاشف ملتا، چودہ سال کا، جس کا لنڈ چھوٹا تھا مگر کھڑا ہوتے ہی پتھر جیسا سخت۔
ایک شام ہم چھت کے کونے میں بیٹھے۔ ہوا گرم، میرے چھوٹے چھاتی کے دانے پسینے سے چپکے۔ کاشف نے میرا ہاتھ پکڑا، بولا، "صبا، آج فورپلے کرتے ہیں، بس ہاتھ اور رگڑنا۔" میں شرمائی مگر ہنس دی۔ اس نے میری قمیض اوپر کی، چھوٹے چھاتی کے دانے دبائے، چٹکیاں کٹیں، چھاتی پر ہاتھ پھیرا۔ "آہ، کاشف، اچھا لگ رہا ہے!" میں بولی۔ پھر اس نے میری شلوار نیچے کی، میری چوت پر انگلیاں پھیریں، رگڑیں، چوت کے دانے کو چٹکی کٹی۔ "تیری چوت بالکل گنجی ہے، کتنی تنگ!" وہ بولا۔
میں نے بھی اس کی پتلون کھولی، لنڈ باہر نکالا۔ ہاتھ سے ہلایا، لنڈ کے سر کو دبایا، رگڑا۔ وہ سسکارنے لگا، "صبا، میری رانی، ہاتھ سے ہی چود دے!" ہم دونوں سیکس کے نشے میں ڈوب گئے، ہاتھ، چھاتی، چوت، لنڈ، سب کچھ رگڑا، دبایا، چٹکی کٹی،
پھر کاشف نے مجھے لٹایا، ٹانگیں پھیلائیں۔ لنڈ کا سر میری چوت پر رگڑا، دھکیلنے لگا۔ "کاشف، درد ہو رہا ہے!" میں چیخی۔ وہ کوشش کرتا رہا، مگر میری چوت بہت تنگ تھی۔ لنڈ کا سر بھی اندر نہ گیا، بس چوت پر رگڑتا رہا۔ آخر وہ مایوس ہوا، لنڈ ہاتھ سے ہلایا اور میری چوت پر ہی جھڑ گیا۔ خون نہ نکلا، بس منی اور پسینہ۔
اچانک ماں کی آواز، "صبا!" دروازہ کھلا، ماں چھت پر۔ کاشف کا لنڈ باہر، میری چوت پر منی لگی ہوئی۔ وہ بھاگا، میں وہیں بیٹھ گئی۔
ماں نے بالوں سے پکڑا، کمرے میں گھسیٹا۔ "حرامزادی! چوت رگڑ رہی تھی؟ پردہ بکارت زائل ہو گیا تو سہاگ رات کو دلہے کا لنڈ کیسے لے گی؟ تیری عزت، میری ناک سب خاک میں!" وہ روئی، مجھے تھپڑ مارے۔ میں خاموش، چوت میں جلن، خوف۔
رات بھر سو نہ سکی۔ چھت کا کونہ، کاشف کا لنڈ، میری چوت پر منی – سب یاد آتا رہا۔ میں تیرہ سال کی ہوں، مگر میری چوت نے سیکس کا مزہ لے لیا، چاہے لنڈ اندر نہ گیا ہو۔
اور اب وہ وقت آ گیا تھا جس کے لیے ماں نے خبردار کیا تھا
میرے ذہن میں ماں کی نئی باتیں گونج رہی ہیں۔ کل رات، جب سب سو گئے تھے، ماں میرے کمرے میں آئی تھیں۔ وہ میرے پاس بیڈ پر بیٹھیں، ان کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا گلاس دودھ کا تھا۔ انہوں نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، ان کی ہتھیلیاں گرم تھیں، لیکن آواز میں ایک نرم سی تسلی۔ "صبا، بیٹی، کل تیری سہاگ رات ہے۔ یہ رات تیری زندگی کی سب سے خوبصورت رات ہو سکتی ہے۔" میں نے سر جھکا لیا، شرم سے۔ ماں نے آگے کہا، "سنو، جب وہ آئے گا، شرما نا، لیکن ڈرنا بھی مت۔ وہ تیرا شوہر ہے، تیرا ساتھی ہے۔ اسے اپنا بنا لینا۔"
ماں نے دودھ کا گلاس مجھے دیا، "یہ پی لو، یہ بادام والا دودھ ہے۔ رات بھر طاقت دے گا۔" میں نے گلاس لیا، ہلکی سی گھونٹ لی۔ ماں نے مسکرا کر کہا، "دیکھ، خون کا دباؤ مت لینا۔ آج کل کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہر لڑکی کو خون نہیں نکلتا۔ کبھی کبھی پردہ بکارت لچکدار ہوتا ہے، کبھی پہلے سے ہی پھٹ چکا ہوتا ہے—سائیکلنگ، کھیل، یا پیدائش سے۔ یہ تیری پاکیزگی کا ثبوت نہیں۔ تیری عزت تیری آنکھوں میں ہے، تیرے دل میں ہے۔"
میں حیران رہ گئی۔ "لیکن ماں، ساس، نند، وہ تو چادر مانگیں گی؟" ماں نے میرا سر اپنے کندھے پر رکھا، "بیٹی، اگر وہ چادر مانگیں، تو دے دینا۔ لیکن اگر خون نہ ہو، تو شرمانا مت۔ سیدھا ان کی آنکھوں میں دیکھنا اور کہنا، ‘میں پاک ہوں، میرا شوہر گواہ ہے۔’ احمد اگر تجھ سے محبت کرتا ہے، تو وہ تیری بات مانے گا۔ اور اگر وہ شک کرے، تو وہ تیرا شوہر نہیں، تیرا دشمن ہے۔"
ماں نے اپنی الماری سے ایک چھوٹا سا تیل کا شیشہ نکالا، "یہ دیکھ، یہ ناریل کا تیل ہے، چند قطرے لگا لینا۔ درد کم ہو گا، اور اگر خون نہ نکلے، تو کوئی بات نہیں۔" ماں نے مزید کہا، "جب وہ آئے، تو اس سے بات کرنا۔ اسے اپنی پسند بتانا۔ اگر تو تیار نہیں، تو کہہ دینا۔ یہ رات تم دونوں کی ہے، صرف اس کی نہیں۔"
ماں نے میرے جوڑے کو چھوا، "یہ جوڑا تیری خوبصورتی کے لیے ہے، تیری عزت کے لیے نہیں۔ تیری عزت تیرے اندر ہے۔ اگر وہ تجھے سمجھے، تو خون کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ صرف ثبوت مانگے، تو وہ تیرے لائق نہیں۔" ماں کی آواز میں ایک نئی طاقت تھی۔ "اور ہاں، اگر درد ہو، تو آواز نکالنا۔ شرمانا مت۔ وہ تیرا درد سمجھے، تو وہ تیرا ساتھی ہے۔"
ماں نے آخری بات کی، "اگر وہ پوچھے کہ تو پہلی بار ہے، تو مسکرا کر کہنا، ‘ہاں، اور تم میرے پہلے اور آخری ہو۔’ الفاظ سے زیادہ، تیری آنکھیں بولیں گی۔" ماں نے مجھے گلے لگایا، "صبا، تیری ماں تیری طاقت ہے۔ ڈرنا مت، جینا سیکھو۔"
ماں کی نئی باتیں میرے دل میں اتر رہی ہیں۔ میں نے اپنے جوڑے کے دامن کو چھوا، اب یہ بھاری نہیں لگ رہا۔ میں نے آہستہ سے دامن اٹھایا، اپنے پاؤں دیکھے—ننگی ایڑیاں، چاندی کی پائل، سرخ جوڑے کا کنارہ۔ ماں نے کہا تھا، "تیری پائل کی آواز تیری آزادی کی آواز ہے۔" اب یہ آواز مجھے طاقت دے رہی ہے۔
کمرے کے کونے میں آئینہ ہے، اس میں میرا عکس نظر آ رہا ہے۔ سرخ جوڑے میں ایک نئی دلہن، آنکھوں میں خوف کم، امید زیادہ۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، "صبا، کیا تو ماں کے نئے مشوروں پر عمل کرے گی؟" کیا میں اپنی عزت اپنے دل سے ثابت کروں گی؟ کیا میں احمد کو اپنا بنا لوں گی؟ میں نے آنکھیں بند کیں، ماں کی آواز پھر گونجی، "تیری عزت تیرے اندر ہے۔"
شمعیں ہلکی سی جھلملہ رہی ہیں، ہوا کا جھونکا ان کی لو کو ہلا رہا ہے۔ میں نے اپنے بالوں کو چھوا، چند لٹیں کھل گئی ہیں۔ میں نے آہستہ سے انہیں درست کیا۔ کانوں میں جھمکوں کی آواز اب تیز ہو گئی ہے، جیسے میرا دل ان کے ساتھ تال ملا رہا ہو۔ میں نے سوچا، "وہ کب آئے گا؟" لیکن اب خوف نہیں، ایک نئی امید ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔