خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    20000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    5000
    تین ماہ کے لیے

Moral Story عزت کا محافظ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,051
Reaction score
52,902
Location
Karachi
Gender
Male
ان دنوں میں میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہوئی تھی جب میرے چچا زاد سے میری منگنی کی بات چل رہی تھی۔ مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کیونکہ میں اپنی “بوا جی” (پھوپھی) کے ساتھ شہر والی کوٹھی میں رہتی تھی۔ یہ کوٹھی ابو نے بوا جی کے نام کر دی تھی، جو بے اولاد تھیں اور جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھیں۔ جب میں چھٹیوں میں گاؤں گئی تو مجھے اس بات کا علم اپنی ایک ملازمہ سے ہوا۔

جب گل بی بی نے مجھ سے کہا، “چھوٹی مالکن! آپ کی منگنی آپ کے چچا زاد مقصود سے ہو رہی ہے،” تو مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے اچانک اندھے کنویں میں دھکا دے دیا ہو۔ مجھے بے حد غصہ آیا کہ کیا میں کوئی “مٹی کا مادھو” ہوں؟ مجھ سے پوچھا تک نہیں گیا اور یہ لوگ خود ہی میری زندگی کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ زندگی میں نے گزارنی ہے یا انہوں نے؟ ذرا دیر بعد کچھ سوچ کر میں نے اپنے غصے پر قابو پا لیا کیونکہ گل بی بی پر غصہ کرنا فضول تھا، اس معاملے میں اس کا کیا قصور تھا۔ میں نے کہا، “اچھا تم جاؤ اور اس بات کا تذکرہ کسی سے مت کرنا۔”

تھوڑی دیر میں اپنے بستر پر لیٹی سوچتی رہی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ میں شہر میں رہتی ہوں اور مقصود گاؤں میں رہ کر دیہاتی بن گیا ہے۔ اس نے زیادہ تعلیم بھی حاصل نہیں کی، صرف میٹرک پاس ہے۔ اسے نہ اچھے لباس کا سلیقہ ہے اور نہ ہی شوق، اور تو اور اسے تو بات کرنے کا ڈھنگ تک نہیں آتا، پھر بھلا میرا اور اس کا گزارہ کیسے ہوگا؟ یہ میرے ساتھ سراسر زیادتی تھی۔ میرے سگے ماں باپ تک مجھ سے نہیں پوچھ رہے تھے اور میرے مستقبل کا فیصلہ کر رہے تھے۔ آخر میری بھی کوئی مرضی ہوگی۔ میں میٹرک کر چکی تھی اور شہری ماحول کی پروردہ تھی۔ مجھے اس بات کا اتنا دکھ ہوا کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئے، یہ سوچ کر کہ میرے والدین میرے دشمن بن گئے ہیں اور جان بوجھ کر مجھے مقصود سے بیاہ کر گویا جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔

جب لڑکیاں کم سن ہوتی ہیں تو ان کی سوچ بھی محدود ہوتی ہے۔ وہ دور تک نہیں دیکھ سکتیں یا حالات کا صحیح جائزہ نہیں لے سکتیں۔ بس اوپری چمک دمک ہی ان کو متاثر کرتی ہے، جبکہ والدین کے پاس عمر بھر کا تجربہ اور گہری نظر ہوتی ہے۔ وہ حالات کا دور بینی سے جائزہ لے کر دور رس نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ یہی بات اس وقت میری سمجھ سے باہر تھی۔ کچھ پلے نہیں پڑ رہا تھا۔ میری مقصود سے نفرت کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔

ایک دن میں نے امی اور بابا جان کو رشتے کے بارے میں کچھ کہتے سنا۔ میں نے کہا، “امی جان! میں اب شہر بوا جی کے پاس جانا چاہتی ہوں۔” اس پر بابا جان نے کہا، “بیٹا! ابھی تمہارے جانے میں کچھ دن باقی ہیں، دو روز بعد چلی جانا۔ آج تو ڈرائیور بھی اپنے گھر چھٹی پر گیا ہوا ہے۔” امی نے کہا، “تمہیں دو چار روز اس لیے بھی یہاں رکنا ہے کہ ہم تمہاری منگنی مقصود کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔” اس پر میں بھڑک اٹھی اور صاف کہہ دیا کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گی۔ وہ کالج نہیں پڑھا، دیہاتی اور اجڈ سا ہے، مجھے وہ بالکل نہیں بھاتا۔ ابو نے غصے سے کہا، “میرے آگے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے یہ رشتہ ایک سال پہلے طے کر دیا تھا۔ شہر میں رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم لندن میں رہتی ہو اور ہم جو دیہات میں رہ رہے ہیں، جاہل ہیں؟”

امی نے کہا، “بیٹی! تم کو شہر میں بوا جی کے پاس اس لیے رکھا ہے تاکہ تم اچھی تعلیم حاصل کر لو، لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اپنوں کو ہی ٹھکرانے لگو۔” ابو نے غصے میں کہا، “اگر اس نے آئندہ ایسی کوئی بات کہی تو اس کا کالج جانا اور شہر رہنا بھی بند،” اور گھر سے نکل گئے۔ تب امی سمجھانے لگیں، “بیٹی! تو اپنے والد کے غصے کو نہیں جانتی، یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیٹیوں کو تعلیم اس لیے نہیں دی جاتی کہ وہ والدین کے سامنے بولیں۔ تمہاری شادی اگلے سال مقصود سے کر دی جائے گی۔” یہ سن کر میں خون کے آنسو پی کر رہ گئی، تاہم دل میں ٹھان لی کہ ایف اے کر لوں گی، تب کی تب دیکھی جائے گی۔

جمعرات کو میری واپسی تھی۔ جب میں کالج پہنچی تو میری سہیلی صائمہ نے پوچھا، “سناؤ، چھٹیاں کیسے گزریں؟” تب میں نے اپنا حالِ دل بیان کر کے جی کا بوجھ ہلکا کر لیا۔ صائمہ نے کہا، “اگر تم اپنے کزن کو پسند نہیں کرتیں تو امی ابو کے سامنے انکار کر دو۔” میں نے جواب دیا، “یہ بھی کر کے دیکھ لیا ہے مگر ابو نہیں مانتے۔ وہ اس وقت پورے ڈکٹیٹر بنے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی لڑکی کو مار دیں گے لیکن اس کی پسند قبول نہیں کریں گے۔” وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی، “ارے بابا! ایسی سختی؟ میری توبہ ہے! شکر ہے میں تمہارے گاؤں یا خاندان میں پیدا نہیں ہوئی، ورنہ میرا بھی یہی حشر ہوتا۔”

کالج کی چھٹی کا وقت تھا، جب میں گیٹ سے نکلی تو ڈرائیور میرا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ گاڑی ورکشاپ بننے گئی ہوئی ہے۔ میں نے کہا، “اچھا تم گھر جاؤ، میں نے اپنی سہیلی کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے۔” وہ چلا گیا تو میں صائمہ کے ساتھ بازار چلی گئی جہاں سے میں نے کچھ چیزیں لیں۔ صائمہ ایک دکان پر ٹھہری اور کہا کہ یہ میرے کزن کی دکان ہے۔ یہ کافی بڑا اسٹور تھا جہاں ہر شے ملتی تھی۔ وہاں سے میں نے ایک پرس اور ہیئر ڈرائر لیا۔ صائمہ نے میرا تعارف اپنے کزن سے کروایا جو اسٹور کے مالک کا بیٹا تھا، اس کا نام خیام تھا۔ خیام نے صائمہ کی وجہ سے بل میں کافی رعایت کر دی اور اپنے ڈرائیور کو کہہ کر ہمیں ڈراپ بھی کروا دیا۔ میں بے دھڑک اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی یہ سوچ کر کہ یہ میری دوست کا بھائی ہے۔

کچھ دن بعد ہیئر ڈرائر خراب ہو گیا تو مجھے بڑی پریشانی ہوئی۔ میں دوبارہ خیام کی دکان پر گئی۔ اس نے کہا، “کوئی بات نہیں، میں بدل دیتا ہوں۔” اس نے وہ رکھ کر نیا پیس مجھے دے دیا۔ میں اس کی عنایت سے بہت خوش تھی کہ اگر کسی دوسری جگہ سے لیا ہوتا تو وہ کبھی تبدیل نہ کرتے۔ اس دن بھی خیام نے آفر کی کہ “آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں”۔ میں نے کہا، “شکر ہے آپ نے یہ مشکل حل کر دی، ورنہ اس وقت سواری کہاں ملتی۔” جب میں اسٹور سے باہر آئی تو خیام خود میرے پیچھے آیا اور اپنی گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ میں سمجھی تھی کہ ڈرائیور موجود ہوگا، مگر اس کی اس عنایت پر حیران ہو کر میں نے کہا، “آپ خود؟” اس نے جواب دیا، “ہاں، ڈرائیور اس وقت کسی کام سے گیا ہوا ہے، میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔” میں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

اب وہ مجھے بہت اچھا لگنے لگا تھا۔ راستے میں ہم باتیں کرتے جا رہے تھے۔ گھر کے دروازے پر پہنچ کر وہ افسردہ ہو گیا اور کہنے لگا، “کتنی جلدی آپ کی منزل آگئی؟ پھر نہ جانے کبھی ملاقات ہو یا نہ ہو۔” میں نے کہا، “ایسی کیا بات ہے، میں آپ کے اسٹور سے آئندہ بھی چیزیں خریدنے آتی رہوں گی۔” اس نے جواب دیا، “بات ایسی ہی ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ سے میری شادی ہو۔ آپ مجھے بہت اچھی لگی ہیں۔” اس کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں کسی اور دنیا میں پہنچ گئی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اچانک ایسی بات کہہ دے گا۔ اس نے پوچھا، “اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے گھر والوں کو آپ کے گھر رشتے کے لیے بھیج دوں؟” اس پر میں نے بتایا کہ بابا جان میری شادی اپنے بھتیجے (چچا زاد) سے کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے پوچھا، “کیا آپ بھی اس کزن سے شادی کرنا چاہتی ہیں؟” میں نے شدت سے جواب دیا، “ہرگز نہیں! میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی، وہ گاؤں کا گنوار ہے۔”

نہ جانے اس دن میں نے کیوں یہ فیصلہ کر لیا کہ میں خیام سے ہی شادی کروں گی۔ میں اس کے ساتھ شہر کی سڑکوں پر گھومتی اور وہ مجھے ہوٹلوں میں لے جا کر کھانا کھلاتا۔ اب ہم اتنے قریب آگئے تھے کہ میں کسی اور سے شادی کے لائق نہیں رہی تھی۔ میں خیام سے کہتی کہ اب تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے، تو وہ کہتا، “ایف اے کا امتحان دے لو، ایسا نہ ہو تمہارے والدین رشتے کی بات پر اتنے برہم ہوں کہ تمہیں کالج سے ہٹا کر گاؤں لے جائیں۔ یہاں کم از کم ہم مل تو سکتے ہیں۔ تمہارے امتحانوں کے بعد کوئی حل سوچیں گے۔” میرے خیام سے تعلق کا صائمہ کو بالکل علم نہیں تھا کیونکہ خیام نے مجھے منع کیا تھا کہ اسے مت بتانا۔

امتحانات قریب تھے، اب میں خیام سے کم ملتی تھی۔ وہ بے چین رہتا کہ میں دن میں ایک بار آدھے گھنٹے کے لیے ہی سہی، ضرور ملوں۔ ایک ہفتہ امتحان میں رہتا تھا کہ میں رول نمبر سلپ لینے کالج آئی تو وہ گاڑی لیے گیٹ پر منتظر تھا۔ اس دن وہ مجھے دور اپنے دوست کی خالی کوٹھی میں لے گیا۔ اس نے کہا، “اتنے دنوں کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔” میں نے جواب دیا، “مجھ سے بھی نہیں۔” میں نے اسے یہ بھی بتایا کہ اب میری طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں کسی مصیبت میں گرفتار ہو گئی ہوں۔ یہ بات سن کر وہ پریشان ہو گیا اور مجھے ایک لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے گیا، جس نے میرے خدشے کی تصدیق کر دی۔

تبھی وہ یکدم بدل گیا اور کہنے لگا، “یہ میری وجہ سے نہیں ہوا ہے، کیونکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ تم صرف مجھ سے ہی ملتی ہو، کیا پتا کسی اور سے بھی ملتی ہو؟” یہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ میں نے ہاتھ جوڑے کہ “مصیبت کے ان لمحات میں ایسا نہ سوچو، بلکہ یہ سوچو کہ اب تمہیں ہی مجھ سے شادی کرنی ہے اور میرا ہاتھ تھامنا ہے، کیونکہ اب میں نہ تو گھر واپس جانے کے قابل رہی ہوں اور نہ کسی کو منہ دکھانے کے”۔ اس نے بے دردی سے جواب دیا، “میرا نکاح میری کزن سے ہو چکا ہے، میں اسے طلاق نہیں دے سکتا اور نہ تم سے شادی کر سکتا ہوں۔ میں مجبور ہوں، میرے والدین کبھی نہیں مانیں گے۔” میں نے روتے ہوئے پوچھا، “آخر اس کا حل کیا ہے؟” تو اس نے کہا، “حل یہ ہے کہ ابھی چند ہی دن گزرے ہیں، اگر تمہاری شادی فوراً مقصود سے ہو جائے تو تمہارے گناہ پر پردہ پڑ سکتا ہے اور تم عزت کی زندگی گزار سکتی ہو۔” یہ کہہ کر وہ مجھے میرے گھر کے قریب اتار کر چلا گیا۔

پہلے دو تین دن میری کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ میں رات کو روتی تھی اور دن کو پرچے دیتی تھی۔ جوں توں کر کے امتحانات دیے اور فوراً اپنے والدین کے پاس گاؤں چلی گئی۔ وہاں پہنچی تو میری شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ والدین سمجھ رہے تھے کہ میں شادی سے انکار کروں گی، لیکن میں نے بالکل چپ سادھ لی۔ وہ خوش ہو گئے کہ اس بار ہماری بیٹی سمجھدار اور فرمانبردار ہو کر آئی ہے۔ خیر، اللہ نے میری اور میرے والدین کی لاج رکھ لی۔ شہر سے آنے کے ایک ہفتے بعد ہی میں مقصود کی دلہن بنا دی گئی۔ مقصود ایک بھولا بھالا، معصوم اور سادہ انسان تھا، اس نے بخوشی مجھے قبول کر لیا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اپنی متاعِ حیات لٹا چکی ہوں۔

اللہ مجھ پر مہربان تھا، اس نے میرا پردہ رکھ لیا اور میرے راز کو طشت ازبام کرنے یا رسوائی سے ہمکنار کرنے کے بجائے مجھے عزت کی زندگی بخش دی۔ اور مجھے یہ عزت دینے والا کون تھا؟ میرا وہی دیہاتی اجڈ کزن جسے میں اپنے لائق نہیں سمجھتی تھی۔ آج پتا چلا کہ وہ نہیں بلکہ میں اس کے لائق نہیں تھی۔ وہ تو ایک بہت مہربان اور عظیم شخص ہے۔ وہ لوگ جو سیدھے سادے ہوتے ہیں، فریبی نہیں ہوتے، ہم انہیں اجڈ اور بے وقوف سمجھتے ہیں حالانکہ وہ مخلص اور ہم سے کہیں اونچے کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ ہم ان کی قدر کریں نہ کریں، وہ ہماری قدر کرتے ہیں حالانکہ ہم ان کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں۔

آج میں تین بچوں کی ماں ہوں۔ مقصود نے مجھے قبول کیا اور وہ مجھے بہت خوش رکھتے ہیں۔ جس شخص کو میں ہمیشہ گاؤں کا گنوار کہتی تھی، آج وہی میرا قدردان ہے۔ تمام لڑکیوں کو میری نصیحت ہے کہ شادی اپنے والدین کی مرضی سے کریں، کیونکہ جو فیصلہ والدین کرتے ہیں وہی صحیح اور اولاد کی بہتری کے لیے ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ محبت کرنا جرم نہیں، لیکن میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہتی ہوں کہ اس میں خطرہ ہے؛ آپ کی ذرا سی بھول آپ کی پوری زندگی برباد کر سکتی ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top