• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

مجھ اکیلے کو دعوت قبول نہیں

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
10,743
Reaction score
344,337
Points
500
Location
pakistan
Gender
Male
نمارق کی لڑائی، جس کا ذکر پیچھے آ چکا ہے، اس میں ایرانیوں نے شکست کھائی تو ایرانی حکومت نے اس شکست کا بدلہ لینے کے لیے شہزادہ نرسی کو ایک اور زبردست فوج دے کر مسلمانوں پر حملہ کے لیے بھیجا۔ اس فوج اور اسلامی فوج کے درمیان سقاطیہ کے مقام پر گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ ایرانیوں نے اسلامی فوج پر بار بار زور دار حملے کیے لیکن مسلمانوں کے تیز وتند جوابی حملوں کے سامنے ان کی کچھ پیش نہ چلی اور وہ بری طرح شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس لڑائی میں بے شمار مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ اس میں کھانے پینے کی چیز یں بہت بڑی مقدار میں تھیں، ان میں کھجور کی ایک قسم ”نرسیان“ بھی تھی۔ یہ بہت ہی مزیدارتھی اور اس میں دل کو لبھانے والی خوشبوتھی۔ ایرانی فوج کے بڑے افسروں کے سوا یہ اور کسی کونہیں دی جاتی تھی لیکن جب یہ کئی من کی مقدار میں مسلمانوں کے ہاتھ آئی تو اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت ابوعبید ثقفی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کھجور یں اپنی فوج کے سارے سپاہیوں میں تقسیم کیں بلکہ عراق کے جن علاقوں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ وہاں کے غریب کسانوں کو بھی کھلائیں اور ان کا پانچواں حصہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے لیے اپنے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی بھیجا۔
ایرانیوں کو شکست دینے کے بعد اسلامی فوج کچھ دن کے لیے سقاطیہ ہی میں ٹھہر گئی۔ وہاں سے حضرت ابوعبید نے فوج کے چھوٹے چھوٹے دستے بھیج کر اردگرد کے سارے علاقے کو بھی فتح کر لیا۔ اس علاقے میں بے شمار گاؤں تھے۔ان میں سے بعض گاؤں کے مالک بڑے بڑے زمیندار یا رئیس تھے۔ ایک دن دو بڑے رئیسوں نے نہایت عمد ہ عمدہ کھانے پکوائے اور انہیں لے کر حضرت ابوعبید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت ابو عبید نے ان سے پوچھا:”یہ کھانے کیسے ہیں؟“
رئیسوں نے عرض کیا:”جناب یہ ہماری طرف سے آپ کی دعوت ہے۔“
حضرت ابوعبید نے فرمایا:”کیا آپ نے ہماری ساری فوج کے لیے ایسے کھانے پکوائے ہیں؟“
انہوں نے عرض کیا:”نہیں جناب! یہ صرف آپ کے لیے ہیں، جلدی میں ہم ساری فوج کے لیے کھانے نہیں پکوا سکے۔“
یہ سن کر حضرت ابوعبید نے ان کی دعوت قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا:
”ہم سب مسلمان برابر ہیں، کوئی ایک مسلمان اپنے کو دوسرے کسی مسلمان سے بڑا نہیں سمجھتا۔ افسوس ہے ابوعبید پر کہ وہ اکیلے اکیلے مزیدار کھانے کھائے اور دوسرے مسلمانوں کو نہ پوچھے خدا کی قسم جب تک سارے مسلمانوں کے لیے ایسے کھانے مہیا نہ ہوں گے میں ان کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔“
ان رئیسوں نے کہا:”ہمیں تھوڑ ا ساوقت چاہیے، ہم ساری فوج کے لیے کھانے پکوائے دیتے ہیں۔“
یہ کہہ کر وہ واپس گئے اور ساری فوج کے لیے کھانے پکوا کر حضرت ابوعبید کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اب انہوں نے ان کی دعوت قبول کر لی اور جب تک ساری فوج ان کھانوں سے شکم سیر نہ ہوگئی انہوں نے ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top