Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story مداوا۔۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,123
Reaction score
55,011
Location
Karachi
Gender
Male
میرے جڑواں بھائی، شعیب اور محب، ہو بہو ایک جیسی صورت کے تھے۔ والدہ نے بڑی دقتوں سے انہیں پروان چڑھایا تھا۔ انہوں نے ایک ہی کالج سے بی کام کیا تھا۔ دونوں جب بائیس سال کے ہوئے، تو والد صاحب نے انہیں اپنے کاروبار میں شریک کر لیا۔ بیٹے کس کو پیارے نہیں ہوتے! یہ دونوں والدین کی جان تھے، جنہیں وہ چاند سورج کی جوڑی کہا کرتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے بھائی بے حد پیارے تھے۔ وہ گھر کا اجالا اور ہماری ماں کی آنکھوں کا نور تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان میں سے ایک کسی دن ہم سے جدا ہو جائے گا، اور اپنے پیاروں کی جدائی ایسا کرب ہے جو دن رات کسی پل، کسی کروٹ چین نہیں لینے دیتا۔

کسے خبر تھی کہ ایک دن میرے بھائی سیر کے لیے دریا پر جائیں گے، تو ان میں سے ایک واپس نہیں آئے گا۔ حالانکہ دونوں ہی اچھے تیراک تھے، مگر جب اجل درپے ہو جاتی ہے، تو پانی کی ساکت لہروں میں بھی بھنور ابھرنے لگتے ہیں، جو بے آواز ہوتے ہیں مگر غلطی سے اپنی طرف آنے والوں کو کھینچ کر تہہ میں اتار دیتے ہیں۔ شعیب اور محب اکثر اپنے دوستوں کے ہمراہ کبھی نہر اور کبھی دریا میں نہانے جایا کرتے تھے۔ اس روز بھی وہ چند دوستوں کے ہمراہ پکنک منانے گئے تھے۔ وہاں کھانا پکانے کا انتظام کیا گیا تھا اور وہ ایک باورچی بھی ہمراہ لے گئے تھے۔ کنارے پر ایک طرف کھانا تیار ہو رہا تھا اور دوسری جانب دوست گپ شپ میں مصروف تھے۔

چند دوستوں کے جی میں آئی کہ ذرا دریا کے پانی میں ڈبکی لگائی جائے۔ دریا کا پاٹ اس جانب زیادہ چوڑا نہ تھا، تبھی تین دوستوں نے ایک ساتھ چھلانگ لگا دی۔ انہوں نے شرط باندھی تھی کہ دیکھیں، کون سب سے پہلے دوسرے کنارے کی طرف نکلتا ہے۔ محب تینوں میں سب سے اچھا تیراک تھا۔ امید تھی کہ وہی یہ شرط جیت جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پانسا اس روز پلٹ گیا۔ دونوں دوست دوسرے کنارے پر نکل آئے، مگر محب نے پانی سے سر نہیں نکالا۔ اس نے ایسی ڈبکی لگائی کہ پھر ابھرنے کا نام نہ لیا۔

جب وہ کچھ دیر تک باہر نہیں نکلا، تو شور مچ گیا۔ دوستوں نے اسے تلاش کرنے کی سعی کی، مگر وہ نہیں ملا۔ ناچار وہ محب کی تلاش ترک کر کے کنارے پر آ گئے، جہاں باقی ساتھی موجود تھے۔ کھانا تیار ہو چکا تھا۔ کھانے کو بھول کر انہوں نے محکمۂ انہار کو فون کیا۔ کچھ دیر بعد وہاں سے کچھ لوگ گاڑی میں آپہنچے، جن میں تربیت یافتہ غوطہ خور تھے۔ انہوں نے تلاشِ بسیار کے بعد بالآخر شام تک محب کو تلاش کر لیا۔ اس نے جب پانی میں ڈبکی لگائی تھی، تو اس کا سر ایک پتھر سے ٹکرا گیا تھا اور وہ فوری طور پر بے ہوش ہو کر تہہ میں چلا گیا تھا۔

محب بھائی کے ڈوب جانے کی اطلاع گھر پہنچی، تو کہرام مچ گیا۔ ہمارا سارا گھر ماتم کدے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ دکھ ایسا تھا کہ ابو کو ایک پل قرار نہ تھا۔ اگر انہیں تھوڑا سا چین ملتا، تو وہ قبرستان چلے جاتے اور دیر تک بیٹے کی قبر پر بیٹھ کر تلاوت کرتے رہتے۔ آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہ لیتے تھے۔ سب لوگ وہاں جا کر انہیں سمجھاتے اور بڑی مشکلوں سے گھر واپس لانے پر آمادہ کرتے تھے۔ وہ رات بڑی مشکل سے کاٹتے اور صبح پھر محب کی قبر پر جا کر بیٹھ جاتے تھے۔

حسبِ معمول ایک روز وہ وہاں تلاوت کر رہے تھے کہ ان کی نظر ایک نوجوان پر پڑی، جس کی عمر محب بھائی کے برابر ہو گی۔ وہ بائیس برس کا ایک خوش شکل نوجوان تھا، جو ایک تازہ قبر کے پاس بیٹھا رو رہا تھا۔ والد نے اسے زار و قطار روتے دیکھا، تو اپنا دکھ بھلا کر اس کے پاس چلے گئے اور پوچھا، “بیٹے! کیوں اس قدر نڈھال ہو رہے ہو؟ آخر یہ کس کی لحد ہے، جس پر تم کافی دیر سے سر رکھے گریاں کناں ہو؟”

“یہ میرے والد کی قبر ہے۔ گزشتہ جمعرات وہ ڈونگا لے کر مچھلیاں پکڑنے گئے تھے۔ نجانے کیسے دریا میں گر گئے اور پھر پانی کے اندر غائب ہو گئے۔ دو دن کی تلاش کے بعد ان کی لاش ملی۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، کیونکہ میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں۔ والدہ اس وقت وفات پا گئی تھیں، جب میری عمر ابھی صرف پانچ برس تھی۔ انہوں نے مجھے ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا اور اس ڈر سے دوسری شادی نہیں کی کہ کہیں سوتیلی ماں کے ہاتھوں دکھ نہ اٹھاؤں۔ اب میں والد کے بغیر جینے کا تصور نہیں کر سکتا۔ زندگی سے جی اکتا گیا ہے۔ جی چاہتا ہے، عمر بھر اسی طرح والد صاحب کی قبر پر بیٹھا رہوں اور یہیں بیٹھے بیٹھے میری جان نکل جائے۔”

نوجوان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی آبشار گرتے دیکھ کر والد اپنا دکھ بھول گئے اور انہوں نے اس بلکتے ہوئے لڑکے کو اپنے سینے سے لگا لیا، جو باپ کے غمِ جدائی سے نڈھال ہو رہا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ کہتے ہیں کہ جب درد مشترک ہو، تو دلوں میں ایک ان دیکھا رشتہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ والد نے اس نوجوان، آذر سے دل لگا لیا اور اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ انہیں لگا، جیسے اس میں محب کی روح حلول کر گئی ہے۔ آذر نے بھی ان کے پیار میں باپ کی شفقت محسوس کر کے ان کے پاس رہنا منظور کر لیا۔

اس نے بتایا کہ دریا کے قریبی بستی میں ان کا گھر ہے، جس میں وہ باپ بیٹا رہا کرتے تھے۔ اب والد کے بغیر اس کے لیے وہاں رہنا محال تھا، اسی لیے جب سے باپ کی تدفین ہوئی تھی، وہ رات دن ان کی قبر پر بسیرا کیے رہتا تھا۔ “تمہیں اب کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے تمہیں محب کی جگہ سمجھ لیا ہے۔ اب تم میرے پاس ہی رہو گے۔” والد نے کہا۔ “میری ایک بہن ہے جو شادی شدہ ہے، وہ بھی والد کی وفات سے بہت دل گرفتہ ہے۔ اگر میں اس کی طرف چکر نہیں لگاؤں گا تو وہ پریشان رہے گی، لہٰذا روز تھوڑی دیر کے لیے اپنی بہن سے ملنے جایا کروں گا۔” آذر نے جواب دیا۔ “ضرور جانا بیٹے! بہن سے ملنا تو بہت ضروری ہے، ورنہ وہ دل گرفتہ رہے گی۔” والد نے کہا۔

یوں آذر کا زیادہ وقت ابو کے ساتھ ہمارے گھر گزرتا تھا، تاہم وہ ہفتے میں تین بار ضرور اپنی بہن کے گھر جاتا۔ اس نے اپنا ضروری سامان اور کپڑے وغیرہ بھی وہاں رکھوائے ہوئے تھے۔ رفتہ رفتہ غم مندمُل ہونے لگا، مگر جب ٹیس اٹھتی تو قرار چلا جاتا تھا۔ وہ ایسے میں ابو کو تسلیاں دیتا اور کہتا کہ “میں آپ کا بیٹا محب ہوں۔ ظالم دریا نے میرے والد اور آپ کے لختِ جگر کو ایک ساتھ برد کر دیا اور ہمیں اس المیے کے تناظر میں ملا دیا۔ اس کی مصلحت وہی جانے، مگر خدا کا شکر ہے کہ آپ مجھے مل گئے، ورنہ شاید اپنے ابا کی قبر پر اسی طرح گریہ زاری کرتے کرتے میری جان چلی جاتی۔”

“ہاں بیٹا! تم نے مجھے اور میں نے تمہیں سہارا دیا۔ تمہارا دل ٹوٹا ہے اور میری کمر محب کی جدائی نے توڑ کر رکھ دی ہے۔” ابو کہتے۔ امی کہتیں، “بیٹا! تیرا احسان ہم عمر بھر نہیں بھول سکتے۔ تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس فرشتہ بنا کر بھیجا ہے۔ تمہارے آنے سے ہمارا جی بہل گیا ہے۔” اب آذر کا یہ معمول ہو گیا کہ وہ دوسرے تیسرے روز آ جاتا اور پھر ایک دو دن کے لیے چلا جاتا۔

شعیب بھائی کو محب کا صدمہ لے بیٹھا تھا۔ وہ کہیں آتے جاتے تھے اور نہ دوستوں سے ملتے تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر آذر نے ان کا اس قدر خیال رکھا کہ محب کی کمی پوری کر دی۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے میرا افسردہ بھائی پھر سے زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ یوں آذر اور شعیب بھائی کی دوستی گہری ہوتی گئی۔

ابو نے محسوس کیا کہ آذر کو پیسوں کی ضرورت ہے۔ ایک روز انہوں نے اسے کچھ رقم دینا چاہی، تو اس نے یہ کہہ کر لوٹا دی کہ “ابو! ابھی مجھے رقم کی ضرورت نہیں ہے، جب ہو گی مانگ لوں گا۔ میں آپ سے ایک بیٹے کی طرح پیار کرتا ہوں اور اپنے پیار کو فروخت نہیں کرتا۔” مجھے اس کی بات عجیب لگی کہ جب صدقِ دل سے ابو نے اسے بیٹا بنا لیا ہے، تو پھر رقم لینے میں کیا حرج ہے؟ والدہ بولیں، “ہو سکتا ہے کہ اس کا باپ کافی رقم چھوڑ گیا ہو اور اسے واقعی روپوں کی حاجت نہ ہو۔ شریف خاندان کا لگتا ہے، لالچی ہوتا، تو ضرور بہانے بہانے سے کچھ نہ کچھ لیتا رہتا۔ اس کا دل دُکھا ہوا ہے، اسی وجہ سے ہم لوگوں کا پیار مل جانے سے وہ گھل مل گیا ہے۔”

ابو کو اب اپنے کاروبار کی فکر تھی۔ وہ کافی دنوں سے ادھر توجہ نہ دے سکے تھے۔ وہ کام پر جانے لگے، مگر شعیب ابھی ذہنی طور پر ان کے ہمراہ جانے پر تیار نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ محب کے ہمراہ جاتا تھا، تبھی والد نے سوچا کہ آذر کو اس کی جگہ دی ہے، تو کیوں نہ اسے کاروبار میں شامل کر لوں، تاکہ وہ شعیب کو آمادہ کر لے اور وہ کاروبار میں دلچسپی لینے لگے۔ بھائی کا غم اپنی جگہ، لیکن کام کیے بغیر تو انسان کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ آمدنی بند ہو جائے تو قارون کا خزانہ بھی خالی ہو جاتا ہے۔

آذر کو ابو نے اپنے ساتھ کاروبار میں شریک ہونے کی پیش کش کر دی۔ یہ بھی بتا دیا کہ اگر وہ شامل نہ ہوا، تو شعیب بھی کاروبار میں دلچسپی نہیں لے گا، پھر وہ بوڑھے آدمی اکیلے کس طرح بزنس سنبھال پائیں گے۔ پہلے زیادہ تر امور محب ہی سنبھال رہا تھا۔ آذر نے ابو کی مجبوری سمجھ کر ہامی بھر لی اور اب وہ روز والد کے ہمراہ کام پر جانے لگا۔ اس نے شعیب کو بھی راضی کیا کہ وہ اپنے گودام کے مال کو سنبھالے، جو لاکھوں کی ملکیت تھا اور نوکروں کے رحم و کرم پر پڑا ہوا تھا۔

ابو جو کام آذر کے ذمے لگاتے تھے، وہ اسے پوری ذمہ داری سے سر انجام دیتا تھا۔ وہ محنت اور دیانت داری سے کام کرتا تھا، جس کی وجہ سے کاروبار سنبھل گیا اور دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ ابو بزنس کے سلسلے میں بیرون ملک بھی جانے لگے۔ شوروم کے سبھی معاملات اب آذر کے ذمے تھے اور زیادہ تر بزنس وہی سنبھال رہا تھا۔

ایک روز وہ کھانا کھانے آفس سے گھر آیا، اس وقت مجھے اپنی سہیلی عابدہ کے ہاں جانا تھا۔ امی نے کہا، “بیٹا! گاڑی شعیب لے گیا ہے۔ تمہارے پاس گاڑی ہے، تو نشاط کو اس کی سہیلی کے گھر چھوڑ جانا۔” “ٹھیک ہے امی جان!” اس نے جواب دیا۔ میں نے راستے میں اس سے سوال کیا، “آذر! آپ نے کبھی اپنی فیملی کے بارے میں نہیں بتایا؟” “میری کوئی فیملی نہیں ہے۔ ابو کی ذات تھی، وہ نہیں رہے۔ بہن کے گھر کبھی کبھی چلا جاتا ہوں۔ گھر کو تالا لگا دیا ہے، اب میری فیملی آپ ہی لوگ ہیں۔” اس کا جواب سن کر مجھے دکھ بھی ہوا اور خوشی بھی کہ وہ ہم لوگوں کو اپنی فیملی سمجھتا ہے۔

تب میں نے کہا، “ان شاء اللہ آذر! ہم آپ کے اعتبار کو کبھی نہیں توڑیں گے۔ آپ خود کو ہماری فیملی کا ممبر سمجھتے ہیں، تو عمر بھر ہم بھی آپ کو اپنے خاندان کا فرد ہی سمجھیں گے۔” عابدہ کا گھر آ گیا، گیٹ کھولنے وہ خود آئی اور مجھے ایک نوجوان کی گاڑی سے اترتے دیکھ کر زیرِ لب مسکرائی۔ گھر میں داخل ہو کر پہلی بات اس کے لبوں سے نکلی، “آخر مل گیا نہ تجھے بھی تیرے خوابوں کا شہزادہ!” “کیا بکواس کر رہی ہو؟ جانتی ہو، محب بھائی کی وفات سے ابو کس قدر رنجیدہ رہتے تھے۔ انہوں نے آذر کو بیٹا بنا لیا ہے۔” “کیا یہ تمہارا رشتہ دار ہے؟ پہلے تو کبھی میں نے اسے نہیں دیکھا۔” عابدہ نے پوچھا۔ “بھئی، کوئی رشتے دار نہیں ہے، مگر اب یہ ابو کا بیٹا ہے اور شعیب کا بھائی۔” “تو پھر تمہارا بھی بھائی ہوا۔” عابدہ نے چھیڑا۔ “ایسا ہی ہے،” میں نے جواب دیا، “اب یہ ٹاپک بند کرو اور مجھے کچھ کھلا پلا دو، بھوک سے برا حال ہے۔”

عابدہ کھانا لینے کچن میں چلی گئی اور میں سوچنے لگی کہ دنیا بھی کیا شے ہے! جو بات ہمارے ذہن میں نہیں ہوتی، وہ دوسرے لوگ سوچ لیتے ہیں۔ پہلی بار عابدہ نے ہی میرے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ آذر کو انکل نے بیٹا بنایا ہے، لیکن داماد بھی تو بیٹے ہی ہوتے ہیں۔ شاید آگے چل کر داماد بنا لیں۔ اور میں نے خود سے کہا تھا، “عابدہ! منہ بند رکھو، اتنی دور کی کوڑی لانے کی ضرورت نہیں۔” اس دن کے بعد سے میں آذر کے بارے میں کچھ اور انداز سے سوچنے لگی، مگر کسی سے کچھ نہ کہا۔

ایک روز امی نے والد صاحب سے کہا، “آذر اچھا لڑکا ہے، اس کا کوئی نہیں ہے۔ وہ ہمیں اپنا سمجھتا ہے، محنتی ہے اور دیانت دار بھی۔ اسے کوئی لالچ بھی نہیں ہے، ہمارے گھر بن بیاہی لڑکی موجود ہے، جس کی شادی کرنا ہے۔ کیا آپ نے اس بارے میں سوچا ہے؟” والد صاحب مدعا سمجھ کر بولے، “میں نے اس نظریے سے اسے گلے نہیں لگایا تھا، کیا خبر اس کا اپنی شادی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مجھے تو یہ بات مناسب نہیں لگتی کہ میں بیٹی کا باپ ہو کر خود اس سے ایسی بات کروں۔ کبھی مناسب موقع ملے تو تم ذکر کر دینا، دیکھیں کیا جواب دیتا ہے۔ اچھا لڑکا ہے، خود میں اسے گنوانا نہیں چاہتا۔ وہ اپنی بہن سے نہیں ملواتا، کئی بار میں نے کہا، مگر ٹال گیا۔ اگر اس کی بہن سے ملاقات ہو جاتی تو ہم عورتوں میں رشتے ناتے کی بات کرنا آسان ہو جاتا۔” یوں میں نے جان لیا کہ جو خیال میرے ماں باپ کے ذہنوں میں ہے، وہی سوچ میرے دل میں بھی ہے۔

کافی دن گزر گئے، اس موضوع پر پھر کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ میں منتظر تھی کہ جو سوال ہم سب کو پریشان کر رہا ہے، اس کا جواب مل جائے، لیکن جواب کیسے ملتا؟ کوئی آذر کا دل ٹٹولتا تو ہی جواب مل سکتا تھا نا۔ انتظار جب تکلیف دہ ہو گیا، تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں خود اس سے بات کروں گی۔

ایک روز آذر آیا تو میں نے کہا کہ عابدہ بیمار ہے، اس کے گھر جانا ہے، ڈراپ کر دو گے؟ وہ بولا، “کیوں نہیں! جب تک تم تیار ہو، میں کھانا کھا لیتا ہوں۔” امی نے اسے کھانا دیا۔ میں جلدی سے تیار ہو گئی۔ جب ہم گاڑی میں عابدہ کے گھر کی طرف چلے، تو راستے میں میں نے اسے اپنے دل کی بات سے آگاہ کر دیا، مبادا پھر موقع کب ملے۔ میں نے کہا، “تم میرے والدین کے بیٹے بن گئے ہو، کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری شادی ہو جائے۔ تب تو ہمارا اور تمہارا بندھن اٹوٹ ہو جائے گا۔ ممکن ہے امی ابو بھی ایسا سوچتے ہوں۔” “وہ ایسا نہیں سوچتے۔ انہوں نے مجھے محب کی جگہ دی ہے، اس ناتے تم میری بہن ہو۔ میں نے دل سے تمہیں بہن سمجھا ہے اور عمر بھر اس رشتے کے تقدس کا خیال رکھوں گا۔ تمہیں اپنی بہن ہی سمجھوں گا۔ آئندہ کوئی ایسی بات مجھ سے مت کرنا۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

عابدہ کا گھر آ گیا اور میں گاڑی سے اتر گئی، مگر ہارے ہوئے جواری کی طرح پچھتانے لگی۔ اے کاش! میں براہِ راست اس سے یہ بات نہ کرتی۔ کسی اور کے ذریعے کہلواتی، تو یہ شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی، مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ منہ سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔ عابدہ نے میرا چہرہ دیکھ کر پوچھا، “کیا بات ہے، کیوں بجھی بجھی ہو؟” میں نے اسے بتایا کہ آذر سے شادی کی بات کی تھی، اس نے یہ جواب دیا ہے، تبھی شرمندگی محسوس کر رہی ہوں۔ “یا اللہ! اس میں شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے۔ روبرو اس نے ایسا ہی جواب دینا تھا۔ مایوس نہ ہو، بلکہ اسے خط لکھ کر یہ بات کرو کہ ہاں یا ناں میں صاف صاف جواب دے۔”

یہ ایک احمقانہ مشورہ تھا، مگر کہتے ہیں کہ آدمی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت سی احمقانہ حرکتیں کر جاتا ہے۔ مجھ سے بھی غلطی ہو گئی۔ جس مسئلے کو بزرگوں نے حل کرنا تھا، اسے میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور آذر کو ایک محبت بھرا خط لکھ دیا، جس میں درخواست کی کہ اگر اس نے مجھ سے شادی نہ کی، تو میں عمر بھر کے لیے تباہ حال ہو جاؤں گی۔ یہ خط میں نے اس کے کوٹ کی جیب میں ڈال دیا۔

اس نے خط پڑھا، یقیناً پڑھا تھا، تبھی اس کے بعد وہ اچانک غائب ہو گیا اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ ابو اور شعیب سبھی اسے ڈھونڈتے رہ گئے۔ جو پتا اس نے دیا تھا، وہاں بھی والد گئے، مگر وہاں ہمیشہ تلا لگا ملتا۔ پاس پڑوس والوں کو بھی اس کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں چلا گیا ہے۔ والدہ بھی بہت پریشان تھیں اور ابو بھی بہت اداس تھے کہ ایک ہیرے جیسا لڑکا ملا تھا، نہ جانے کون اسے اچک لے گیا۔ ایک بیٹا پہلے گنوا چکے تھے، اس کا غم ابھی تازہ تھا کہ ایک اور غم لگ گیا۔ آذر بھی بیٹے سے کم نہیں تھا۔ وہ اس امید پر قبرستان جاتے کہ شاید وہاں وہ اپنے والد کی قبر پر آتا ہو، مگر اس کا پھر بھی نام و نشان نہیں مل سکا۔ جیسے وہ اچانک ملا تھا، ویسے ہی اچانک غائب ہو گیا۔

مجھے اپنی حماقت کا احساس تھا اور اس بات کا دکھ ابھی تک ہے کہ میرے والدین کو اس کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا اور شعیب بھی اکیلا ہو گیا۔ اے کاش! میں عابدہ کا مشورہ نہ مانتی، تو آج آذر ہمارے ساتھ ہوتا۔ سچ ہے، حماقت انسان کو ایسے دُکھ دیتی ہے جن کا کوئی مداوا نہیں ہوتا۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top