• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story نامکمل خوشی ۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
938
Reaction score
48,868
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
والد صاحب کی آمدنی اچھی تھی، مگر ایک روز لالچ میں آ کر انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی ایک کاروبار میں لگا دی، جو ناکام ہو گیا۔ یوں سب کچھ گنوا کر وہ گھر بیٹھ گئے۔ ان دنوں میرا بڑا بھائی، احساس، مڈل کلاس کا طالب علم تھا۔ وہ واقعی اپنے نام کی طرح حساس انسان ہے، جو ہر کسی کا دکھ اپنے دل پر محسوس کرتا ہے۔ گھر کے بگڑتے حالات کا سب سے زیادہ احساس بھی اسی کو ہوا۔ اگرچہ وہ ہم سب سے بڑا تھا، مگر عمر میں اتنا بڑا نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس نے حالات کو سنبھالنا اپنی ذمہ داری سمجھا۔

انٹر کے بعد اس نے تعلیم ترک کر کے مزدوری شروع کر دی۔ وہ دن رات کام کرتا، انتھک محنت سے گھر کا چولہا روشن رکھا۔ بھائی کی قربانیوں کے باعث ہم چھوٹے بہن بھائی اپنی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور گریجویٹ ہو گئے۔ ہم ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ جب حالات تھوڑے بہتر ہوئے، تو ہم بہنوں نے بھائی کا بوجھ بانٹنے کا فیصلہ کیا اور محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانی شروع کر دی۔ اس آمدنی سے ہم نے اپنے ذاتی اخراجات خود سنبھال لیے، اور بھائی پر سے بوجھ کم ہو گیا۔ اس نے مزدوری چھوڑ کر ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کر دیا۔ وہ صبح سے شام تک سائیکل پر شہر کے مختلف الیکٹرانکس اسٹورز سے واٹر کولر پرزے خریدتا اور شام کو مارکیٹ میں فروخت کرتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کاروبار میں اچھی بچت ہونے لگی اور ہمارے حالات سنبھلنے لگے۔

جب تھوڑا سکون آیا، تو بھائی نے ایک چھوٹا سا پلاٹ خرید لیا تاکہ اس پر اپنا گھر تعمیر کیا جا سکے۔ ان ہی دنوں ہمارے آصف ماموں، جو اکثر امی سے ملنے آتے تھے، ایک دن ایک صاحب کو ساتھ لائے اور امی سے کہا کہ ان کی اچھی خاطر تواضع کریں، کیونکہ وہ رشتہ لے کر آئے ہیں۔ وہ صاحب اکرم نامی شخص تھے اور اپنی بیٹی ذکیہ کا رشتہ لائے تھے۔ ان کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ جب انہوں نے بھائی کو دیکھا تو فوراً رشتہ منظور کر لیا، حالانکہ ہمارا ماحول ان کے معیار کا نہیں تھا۔ اگلے دن بھائی ماموں کے گھر گئے اور ان سے پوچھا کہ وہ ان لوگوں کو ہمارے گھر کیوں لائے تھے؟ وہ حیران تھے کہ اتنے خوشحال لوگ ہماری غربت کے باوجود رشتہ کیسے پسند کر سکتے ہیں۔ ماموں نے کہا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں، تمہیں دیکھ کر تم سے محبت کر بیٹھے ہیں۔ دولت تو آنی جانی چیز ہے، اصل شے شرافت ہوتی ہے۔ تم فکر نہ کرو، اللہ سب بہتر کرے گا۔

ذکیہ رات دیر تک بھائی احساس سے باتیں کرتی، وہ ہماری غربت سے بے خبر، خوابوں کے محل تعمیر کر رہی تھی۔ مگر جلد ہی اس کے والدین نے ہمیں چھوڑنے کے بہانے ڈھونڈنے شروع کر دیے۔ ان کا رویہ بدل چکا تھا۔ عید آئی، تو ابو عیدی لے کر ان کے گھر گئے، مگر ان کے ساتھ بہت روکھا سلوک کیا گیا۔ ابو کو یہ سب بہت دکھ پہنچا۔ عید کے بعد بھائی خود ان کے گھر گئے اور اکرم صاحب سے بات کی۔ انہیں یقین دلایا کہ حالات وقتی ہیں، جلد سنبھل جائیں گے۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، مگر آپ میرا ہاتھ تھامے رکھیں۔ ہم نے بہت منت سماجت کی، مگر وہ بدل چکے تھے۔ انہیں صرف خوشحالی میں ساتھ دینا آتا تھا، مصیبت کے دنوں کے وہ ساتھی نہ تھے۔

پہلے یہ لوگ ہم سے اور احساس بھائی سے اس قدر محبت جتلاتے تھے کہ ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ ان سے زیادہ مخلص اور چاہنے والے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتے۔ لیکن وقت بدلا تو رویّے بھی بدل گئے۔ اب یہ عالم تھا کہ اگر کہیں سامنا ہو جائے تو منہ پھیر لیتے۔ خاص طور پر جب ذکیہ نے بھی فون کرنا بند کر دیا، تب بھائی کو اصل دکھ کا احساس ہوا۔ وہ راتوں کو فون پر گھنٹوں باتیں یاد کرتے اور نیند نہ آتی۔ رات بھر جاگتے رہتے، کمرے میں چپ چاپ ٹہلتے اور سوچتے کہ آخر کیا ہوا؟ اتنا پیار، اتنی چاہت دے کر آخر انہوں نے ہمیں کیوں چھوڑ دیا؟ کہاں گئی وہ محبت، وہ وعدے، وہ دعوے کہ جان تک نثار کر دیں گے۔

بھائی کہا کرتے تھے: کیا میں نے نشہ شروع کر دیا؟ چوری یا جوا کھیلنا شروع کر دیا؟ جو ان کو اب میرا وجود ناگوار گزرنے لگا ہے؟ ان کے مطابق کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی، سوائے اس کے کہ ہم وقتی طور پر معاشی مشکلات کا شکار تھے، اور حالات تو ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ پھر وہ دن بھی آیا جب ہمیں خبر ملی کہ ذکیہ کی شادی ہو گئی ہے، اور ہمارے ماموں اس تقریب میں پیش پیش تھے۔ بھائی کو اس صدمے نے گھن کی طرح چاٹ لیا۔ وہ بیمار پڑ گئے۔ ایسا لگتا تھا جیسے زندگی کی کوئی خواہش ہی باقی نہ رہی ہو۔ دل جیسے مردہ ہو چکا تھا۔ دن چڑھتا اور ختم ہو جاتا، مگر وہ کسی دنیاوی شے میں دل نہ لگا پاتے۔ ان کی طبیعت بگڑتی گئی، ہر دوا اُلٹا اثر کرتی، اور آخر ایک غلط دوا کے نتیجے میں یرقان ہو گیا۔ وہ پھر کبھی سنبھل نہ سکے۔ یہی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور بھائی ہم سب کو روتا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔

وہ بھائی، جس کا نام ماں باپ نے “احساس” رکھا تھا کہ وہ دوسروں کا احساس کرے گا، وہ واقعی انسانیت کا درد رکھنے والا شخص تھا۔ ہم سب کو سہارے دے کر، خود اندر سے ٹوٹ کر چلا گیا۔ وہ لاکھوں میں ایک تھا: محنتی، ذمہ دار، اطاعت گزار اور وفا دار۔ نجانے کیوں وہ ہم سے روٹھ گیا یا شاید وقت ہی روٹھ گیا تھا۔ خدا کی مصلحتوں کو ہم نہیں سمجھ سکتے، مگر بعض اوقات ایک موت پورے خاندان کی کمر توڑ دیتی ہے۔ بھائی کی وفات کے بعد امی اور ابو جیسے ٹوٹ کر رہ گئے۔ ہم بہنوں پر گھر کی ذمہ داریاں آن پڑیں اور ہمیں روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلنا پڑا۔

اس واقعے کو کئی برس بیت چکے ہیں۔ آج ہمارے حالات کچھ بہتر ضرور ہیں، مگر ہم آج بھی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، کیونکہ جو گھر زیر تعمیر تھا، وہ قرض چکانے کے لیے اونے پونے بیچنا پڑا۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ہم مڈل کلاس لوگ کتنے بد نصیب ہوتے ہیں، جو ساری زندگی محنت کرتے ہیں، مگر ایک چھت بھی مستقل نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارا سماجی نظام اتنا ظالمانہ ہو چکا ہے کہ امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور غریب، غریب تر ہو کر سسک سسک کر زندگی گزار دیتا ہے۔

آج بھی جب بھائی یاد آتا ہے تو دنیا اندھیر لگنے لگتی ہے۔ میری سب سے بڑی استدعا یہی ہے کہ کبھی وسائل سے بڑھ کر نہ جئیں۔ قرض لے کر سکون خریدنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ قرض صرف تنگی نہیں لاتا، بلکہ سود انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ سر جھکا کر کرائے کے مکان میں رہ لینا بہتر ہے، مگر قرض کے بوجھ تلے دب کر جینا خودکشی کے مترادف ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top