• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Life Story پچھتاوے کی قید ۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,724
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
اتنے سال نوکری کے پیچھے ناکام دوڑنے اور دھکے کھانے کے بعد، جو تھوڑی بہت جمع پونجی تھی، اس سے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ بھی پولیس والوں نے ہتھیا لیا۔ اب کیا کہوں؟ وہ گہری سانس لے کر بولا۔میرے ذہن میں ایک آئیڈیا ہے۔ تمہیں یاد ہے جہاں زیب؟ وقاص نے اپنے ایک دولت مند دوست کا ذکر چھیڑا۔ اس کی زمینوں کا کچھ جھگڑا چل رہا ہے۔ وہ بتا رہا تھا کہ اس کے والد کی کچھ زمینیں ہیں، مگر زیادہ حصہ اس کے چچا کے نام ہو گیا ہے۔ اب وہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے چچا سے وہ رقم نکلوائیں، جو دراصل ان کی ہی بنتی ہے۔تو تمہارا مطلب ہے کہ ہم ڈاکو بن جائیں؟ زوہیب نے حیرت سے کہا۔ نہ ہمارے پاس بندوق ہے، نہ اس کام کا تجربہ، اور اگر جیل چلے گئے تو؟او ہو، ڈاکو بننے کی بات کون کر رہا ہے؟ وقاص نے فوراً وضاحت دی۔تو پھر؟ شیر از نے بے ساختہ پوچھا۔ وہ تینوں میں سب سے زیادہ اصول پسند اور ایماندار لڑکا تھا، اور ایک طرح سے گروپ کا رہنما بھی تھا۔ اس کا یوں سوال کرنا وقاص کے لیے ایک اطمینان کی بات تھی — آخر وہ بھی اتنی دور آ پہنچا تھا۔جام شورو سے آدھے گھنٹے کی دوری پر ان کا گاؤں واقع تھا۔ وقاص کی تین بہنیں تھیں اور والد شدید بیمار، اس لیے گھر کی ساری ذمہ داری اس کے کندھوں پر تھی۔ زوہیب اکلوتا بیٹا تھا، مگر اس کے والد معمولی مزدور تھے، جنہوں نے بمشکل اسے پڑھایا لکھایا تھا۔ شیر از کے والد کا انتقال اس کے بچپن میں ہو گیا تھا، اور دو سال پہلے والدہ بھی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ تب سے وہ اکیلا رہ رہا تھا۔
***

کشف کے تایا کی کپڑوں کی دو بڑی دکانیں تھیں۔ وہ دیر سے دکان بند کر کے گھر لوٹتے تھے۔ میاں بیوی ساتھ کھانا کھاتے اور دن بھر کی باتیں بھی کرتے جاتے تھے۔کشف کے لیے جو رشتہ آیا تھا، ان لوگوں نے ہاں کر دی ہے، لیکن لڑکا اچھا ہے، بینک میں نوکری کرتا ہے، خاندان بھی چھوٹا ہے۔ میں تو منع کر دیتی ہوں، تائی نے کہا۔ٹھیک ہے، منع کر دو، رب نواز بولے۔ ظاہر ہے اس منحوس کو رخصت کرنے پر خرچہ اتنا ہو گا۔ شادی کی ساری رسمیں ہم کریں، لاکھوں کا جہیز بنائیں اور یہ مہارانی راج کرے۔ ہماری اپنی بچیاں نہیں ہیں کیا؟ اس کے ماں باپ تو کچھ چھوڑ کے نہیں گئے۔تائی کو بس بہانہ چاہیے ہوتا تھا کشف کو کوسنے کا۔ اوپر سے وہ ان کی تینوں بیٹیوں سے زیادہ حسین اور سلجھی ہوئی تھی۔ ان کی کوشش نہ کرنے کے باوجود بھی اس کے رشتے آ جاتے، اور تائی کو جلنے کا اور موقع مل جاتا۔مگر کہیں تو اس کی شادی کرنی ہے نا آخر۔ تم جو اس کے لیے آئے رشتے منع کرتی جا رہی ہو، تو کیا ساری زندگی گھر بٹھانا ہے اسے؟ رب نواز نے کھانا کھا لیا تھا۔ ہاتھ دھوتے ہوئے عام سے لہجے میں بیگم کا ارادہ پوچھا۔اللہ نہ کرے، میں کیوں اس مصیبت کو ساری زندگی بٹھاؤں، وہ چڑ کر بولیں۔ اپنا کوئی بیٹا بھی نہیں، ورنہ کشف کو بہو بنا لیتے۔اللہ نہ کرے، کیسی باتیں کرتے ہیں آپ! میرا بیٹا ہوتا، تو میں کیا اپنے شہزادے جیسے بیٹے کی شادی اس یتیم سے کرتی بھلا؟ کیا کمی ہے اس میں؟ اور کریم نواز کا گھر بیچ کر اس کے جہیز کے لیے رقم رکھی ہوئی ہے۔ اس کی ماں کے اچھے خاصے زیور بھی تو تمہارے پاس ہیں۔وہ تو ہیں، مگر اتنے سالوں سے جو ہم نے اس کو رکھا، پڑھایا، کھلایا… وہ کیا مفت میں جائے گا؟چلو ٹھیک ہے، انہوں نے ہمیشہ کی طرح بیوی کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ مگر غریب سے غریب لوگ بھی اس کے لیے ڈھونڈ کے لائیں، تو بھی کچھ نہ کچھ رقم تو خرچ ہو گی۔میں نے اس کے لیے رشتہ دیکھ لیا ہے۔ اس میں رقم بھی خرچ نہیں کرنی پڑے گی۔کون ہے لڑکا؟ انہوں نے پوچھا۔عامر بھائی، تائی نے خوشی سے چہکتے ہوئے اپنے بڑے بھائی کا نام لیا۔ میں بھائی سے کہتی ہوں کہ اوپر والے کمرے میں آ کر رہ لیں۔ بچوں کی شادیاں وہ کر چکے ہیں۔ اس طرح کشف ان کی اور ہماری خدمت کرتی رہے گی اور اسے مستقل یہ گھر رہنے کے لیے مل جائے گا۔ اور کیا چاہیے لڑکی کو؟ٹھیک ہے، تم کشف سے بات کر لو۔دوسرے کمرے میں کشف ان کے ارادوں سے بے خبر سو رہی تھی۔ اگلے دن اس کی دوست اور پڑوسن شمائلہ نے اس سے پوچھا کہ اس رشتے کا کیا بنا جو تم بتا رہی تھیں؟تائی نے آج صبح بتایا ہے کہ وہ لوگ منع کر گئے۔ ان لوگوں کو میں نہیں پسند آئی، وہ دکھ سے بولی۔حیرت ہے، ویسے ہر بار لڑکے والے تمہیں پسند کر کے جاتے ہیں، پھر یہ پیچھے سے انکار کیسے ہو جاتا ہے؟ یہ بات مجھے سمجھ نہیں آ رہی، شمائلہ نے کہا۔شاید میرا نصیب ہی خراب ہے۔ تائی اماں ٹھیک کہتی ہیں، وہ اداسی سے بولی۔کوئی خراب نہیں۔ دیکھ لینا، تمہاری تائی نے اپنی ہی بیٹیوں میں سے کسی کا رشتہ دے دینا ہے اس لڑکے کو، شمائلہ چڑ کر بولی۔وہ تینوں تو ابھی چھوٹی ہیں، ان کی شادی کی عمر نہیں، وہ آہستگی سے بولی۔یہی تو مسئلہ ہے۔ وہ تینوں عام سی شکل کی ہیں۔ تائی کو پتا ہے کہ ان کی بیٹیوں کو تو اچھے رشتے ملنے سے رہے، اس لیے تمہاری کہیں اچھی جگہ بات طے ہونے سے پہلے ہی وہ بگاڑ دیتی ہیں۔ شکر کرو، تمہارے تایا کا کوئی لنگڑا یا معذور بیٹا نہیں، ورنہ وہ اسی سے تمہیں بیاہ دیتیں۔اب ایسی بھی نہیں ہوں میں کہ کسی ایسے ہی سے شادی کر لوں۔ اس نے خفگی سے شمائلہ کو گھورا۔
***

میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ… وقاص نے رک کر دونوں کی شکل دیکھی۔ شیری کا گھر کچھ کچے علاقے میں ہے اور اس کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر اسٹور روم سا کچھ بنا ہوا ہے۔اسٹور نہیں ہے وہ۔ ابا جب تک زندہ تھے، یہ ہماری دکان ہوتی تھی مگر چلی نہیں، اس لیے بند پڑی ہے۔ شیر از نے وضاحت کی۔تو تمہارے خیال میں کیا ہمیں وہاں دکان کھولنی چاہیے؟ زوہیب کو بیچ میں بولنے کی عادت تھی۔ارے یار بات تو سن لو۔ وقاص زچ ہو کر بولا۔ دیکھو! جہاں زیب چاہتا ہے کہ اس کے چچا کو کسی طرح اغوا کر کے دو چار دن کے لیے بھاری تاوان کے بدلے صحیح سلامت چھوڑ دیا جائے۔ وہ اس کام میں مدد کرنے والوں کو اچھا خاصا حصہ دے گا۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ جگہ تو ہمارے پاس ہے ہی، کیوں نہ ہم یہ کام کر دیں؟ بس کچھ دنوں تک بندے کو چھپا کے رکھنا ہو گا۔ جیسے ہی رقم ملے گی، اس کو چھوڑ دیں گے۔نہیں، نہیں، اس کام میں خطرہ ہے اور اسلحہ بھی چاہیے ہو گا۔ زوہیب فوراً بولا۔او ہو، اسلحہ وغیرہ کی فکر مت کرو۔ میں نے بتایا نا کہ جہاں زیب خود سب کرے گا۔ وہ اپنے آدمیوں کے ذریعے اپنے چچا کو اغوا کروا کر ہمارے ڈیرے پر چھوڑ جائے گا۔ ہم نے صرف تین چار دن اس کو دھمکا کے رکھنا ہے، کھانا پانی دینا ہے، پھر جیسے ہی اوپر سے آرڈر آئے، ہم اسے چھوڑ دیں گے۔پیسے کتنے ملیں گے؟ شیر از نے پوچھا۔پانچ، دس لاکھ تو ہم لیں گے۔ وقاص نے کہا۔ اور کام میں مہارت ہو جائے، تو پھر اس سے بھی زیادہ ملیں گے۔مان لیا کہ اس کے آدمی بندہ اغوا کر کے ہمارے پاس چھوڑ جائیں گے، مگر اسے ڈرانے دھمکانے کے لیے ایک آدھ بندوق تو ہونی چاہیے ہمارے پاس۔ زوہیب نے کہا۔میں ابھی جہاں زیب کے ساتھ معاملات طے کرتا ہوں۔ سوچو، اگر ہمارا یہ دھندا چل پڑا، تو ہم لاکھوں میں کھیلیں گے وقاص نے خوشی خوشی جیب سے موبائل نکالا۔اور جب پکڑے گئے، تو جیل کی ہوا بھی کھائیں گے۔ زوہیب ہنس کر بولا۔یاد رہے، اغوا کرنے والے کے سامنے ہمیشہ آدھا منہ ڈھانپ کے رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو نام سے نہ بلائیں گے۔ شیر از نے ہدایت کی۔ٹھیک ہے، نمبر رکھ لیتے ہیں ایک دوسرے کے۔ زوہیب بولا۔جہاں زیب سے بات کرنے کے بعد وہ تینوں اسٹور کا معائنہ کرنے اور اسے رہنے کے قابل بنانے میں لگ گئے۔ دو دن کی محنت کے بعد انہوں نے اسٹور کو ٹھیک کر لیا تھا۔لگتا ہے یہ کمرہ بنا ہی ایسے کاموں کے لیے ہے، کھڑکی سے دور دور تک میدان نظر آتے ہیں۔یہ کھڑکیاں ہم نے سختی سے بند رکھنی ہیں، کہیں بندہ بھاگ نہ جائے۔ شیر از نے صفائی کرتے ہوئے کہا۔وقاص کسی جاننے والے سے ایک پستول بھی لے آیا تھا، جس میں گولیاں نہیں تھیں، مگر وہ اصلی تھی۔ کچھ پیسے آ جائیں، پھر اپنا اصل اسلحہ بھی لے لیں گے۔نام کیا طے ہوئے؟ زوہیب نے پوچھا۔میں نے سوچ لیے ہیں۔ وقاص نے کہا۔ شیر از کو ہم “شیر” بلائیں گے، کیونکہ وہ ہے ہی ہمارا شیر۔اور تمہیں؟ زوہیب نے پوچھا۔نہیں یار، وہ تو لوگ مجھے یوں بھی کہتے ہیں۔ میں اپنا نام “چیتا” رکھ لیتا ہوں۔ وقاص نے سوچتے ہوئے کہا۔واہ! تم شیر، یہ چیتا، زوہیب نے کہا۔ اور میں؟ظاہر ہے اس حساب سے تمہارا ایک ہی نام بنتا ہے۔وہ کیا؟ زوہیب نے تیزی سے پوچھا۔گدھا۔ وقاص نے کہا اور شیر از زور سے ہنس پڑا۔
***

اغوا بھی ہمارے لوگ کریں، واپس بھی ہم لے کر جائیں۔ تم لوگ صرف دو چار دن چپ کو چھپانے کے دس لاکھ کچھ زیادہ نہیں مانگ رہے؟ جہاں زیب فون پر ان سے کہہ رہا تھا۔جان کا خطرہ بھی تو ہے۔ پولیس ہمیں ہی پہلے پکڑے گی، تم لوگوں کو کچھ نہ ہوگا۔ قانون سب سے پہلے غریبوں پر ہی وار کرتا ہے۔ شیر از نے کہا، مگر میں تین لاکھ سے زیادہ نہ دوں گا۔ کامران نے کہا۔کچھ بحث کے بعد انہوں نے پانچ لاکھ میں بات طے کر لی۔ جہاں زیب نے اسی رات اپنے آدمیوں کی مدد سے چپ کو اغوا کر کے ان کے ڈیرے پر پہنچا دیا۔ اگلے روز تاوان کی رقم لاکھوں میں مانگی گئی۔شیر از کی رہائش تو ڈیرے کے پاس ہی تھی، مگر باقی دونوں کے بھی باری باری پہرے مقرر کیے گئے تھے۔
***

سچ بتاؤ، تم لوگ کون ہو؟ مجھے پورا یقین ہے کہ میرے بھتیجے نے ہی یہ حرکت کی ہے کیونکہ میں اپنی زمین کا مقدمہ جیت گیا ہوں۔ جہاں زیب کا چچا جہانگیر بار بار پوچھ رہا تھا۔زیادہ فضول سوال مت کرو، ہم کسی بھتیجے کو نہیں جانتے۔ شیر نے کرخت آواز میں کہا۔ ہم تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، اگر تم فضول بکواس سے گریز کرو اور اپنے گھر والوں کو کہو کہ جلد سے جلد رقم دے کر تمہیں چھڑا لیںوہ تو چھڑا ہی لیں گے، وہ بولے۔ مگر مجھے بس یہ بتا دو کہ تم لوگ کون ہو؟ کیا تم نے میرے ہی کسی عزیز کے کہنے پر مجھے اغوا کیا ہے یا…زیادہ بکواس نہ کر بڑھے۔ زوہیب کا ایک گھونسہ پڑتے ہی وہ فرش پر جا گرا۔شیری نے زوہیب کو اس پر نظر رکھنے کو کہا اور وقاص کو وہاں سے لے گیا۔دو دن بعد جہاں زیب کا فون آیا کہ رقم مل گئی ہے، اس کے چچا کو چھوڑ دیا جائے۔ یوں انہوں نے باحفاظت مغوی کو اس کے گھر کے قریب اتار دیا اور انہیں رقم بھی مل گئی۔
***

کشف کو اندازہ تھا کہ تائی اس کا بھلا نہیں چاہتیں، مگر وہ اس حد تک حامد اور منفی سوچ رکھتی ہیں، اسے اندازہ بھی نہ تھا۔ وہ اپنے جس بھائی کے ساتھ اس کی شادی کروانا چاہتی تھیں، وہ عمر میں تایا جتنے ہی ہوں گے۔کیا برائی ہے میرے بھائی میں، لڑکے کی عمر نہیں دیکھی جاتی۔ اس کے صاف انکار پر تائی نے زمین آسمان ایک کر دیا۔میں کچھ عرصے کے لیے اپنے ماموں کے پاس جانا چاہتی ہوں، وہ مجھے کب سے بلا رہے ہیں۔ کشف کو یہی بہانہ ٹھیک لگا۔شمائلہ نے اسے مشورہ دیا تھا کہ اسے اپنے کسی نالی رشتے دار کے پاس چلے جانا چاہیے۔ اس وقت تم چلی جاؤ، ان کو بتا دینا کہ تائی کے ارادے کیا ہیں۔ کم از کم کچھ تو کریں گے وہ۔شام کو تایا آئیں گے، تو کہوں گی۔ اس نے شمائلہ سے کہا، پھر ڈرتے ڈرتے رات کو تایا سے ماموں کے گھر جانے کی اجازت لی، تو خلافِ توقع انہوں نے سکون سے دے دی، پھر بیوی کو دیکھا۔چلی جائے، بھلے جتنا مرضی رہے وہاں، ہم نے تو کبھی نہ روکا۔ وہ لوگ ہی سنجیدگی سے کبھی تمہیں لے جانے کے ارادے سے نہ آئے۔ انہوں نے حسبِ عادت طنز کیا۔ ساری زندگی تو ہم نے تجھے برداشت کیا، اب وہ صاحب اپنی خدمتیں کروائیں گے۔ اگر انہوں نے کہیں اس کی شادی کروا دی تو؟تائی سے اس کا وجود برداشت نہ ہوتا، اور شادی کی صورت میں جہیز وغیرہ کا بندوبست کرنا بھی انہیں منظور نہ تھا۔ اگر کوئی رشتے دار اس کی شادی کروا دیتا، تب بھی کشف کے پیسے اور زیور تو انہیں واپس کرنے ہی پڑتے۔ اس وجہ سے وہ اسے اپنے ہاتھوں سے نکلنے نہ دیتی تھیں۔
***

ہلی واردات کو پانچ ماہ گزر چکے تھے۔ ابھی تک وہ پکڑے نہ گئے تھے۔ سب ٹھیک جا رہا تھا۔ اب تو انہیں اس کام میں مہارت بھی ہو گئی تھی۔صبح تایا دکان پر جانے کے لیے جلدی نکل گئے، تو وہ تائی کے منع کرنے کے باوجود بیگ لے کر راکیلی ہی جانے کو نکلی۔ ویسے بھی ماموں کے گھر کا پتا اسے اچھی طرح معلوم تھا۔ سڑک پر وہ کسی رکشہ کو ہاتھ دینے ہی والی تھی کہ بالکل اس کے سامنے ایک سوزوکی آ رکی اور تیزی سے ایک آدمی نے اتر کر اس کے منہ پر رومال رکھ دیا۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ کشف کو کچھ سمجھنے کا موقع نہ ملا اور دوسرے ہی لمحے اس کا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک بند کمرے میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ چکراتے سر کو تھامتے ہوئے اس نے اٹھنے کی کوشش کی، تو یاد آیا کہ ماموں کے ہاں جاتے ہوئے اسے راستے میں اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس نے بوکھلا کر چاروں طرف نگاہ کی، پھر تیزی سے اٹھ کر ایک بند کھڑکی کھولنے کی کوشش کی۔ وہ کھڑکی کو پورا زور لگا کر کھولنے کی کوشش کر رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور تین افراد اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں بندوقیں تھیں۔مجھے جانے دو، پلیز! مجھے واپس جانے دو۔ وہ ہسٹیریائی انداز میں چیخنے لگی۔اے لڑکی، خاموش ہو جاؤ۔ زیادہ شور نہ مچاؤ۔ وقاص نے گرج کر کہا۔خبردار، میرے قریب مت آنا، ورنہ میں خود کو مار دوں گی۔ مجھے جانے دو، بچاؤ، کوئی ہے؟لڑکی، چپ ہو جاؤ۔ شیر از نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کرنا چاہا۔ اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر کشف نے پاس پڑی چھوٹی ٹیبل اٹھا کر اس پر دے ماری۔ شیر از نے آگے بڑھ کر اسے ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔چپ ہو جاؤ، ورنہ یہیں زمین میں گاڑ دوں گا۔کشف نے گال پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا اور ہاتھ جوڑ کر بولی۔ خدا کے لیے جانے دو مجھے، تمہاری بھی بہنیں ہوں گی۔یہ سن کر شیر از کا دل جیسے مٹھی میں آ گیا۔کچھ نہیں کر رہے ہم تمہیں، ہمیں صرف تمہارے گھر والوں سے رقم چاہیے۔ اس کے لہجے میں نرمی آ گئی، جو کہ نہیں آنی چاہیے تھی، مگر آ گئی۔ پیچھے کھڑے زوہیب اور وقاص نے یہ نوٹ کیا تھا۔بیٹھ جاؤ اور یہ چیخنا چلانا بند کر دو، پلیز۔کشف ڈرے ڈرے انداز میں چارپائی کے کونے پر ٹک گئی۔مم… مجھے کچھ مت کرنا، خدا کے لیے۔ کشف نے ہاتھ جوڑے۔اسے پانی وانی پلاؤ، یار۔ وہ مڑ کر زوہیب سے بولا اور باہر نکل گیا۔ زوہیب نے پانی کی بوتل لا کر کشف کے سامنے رکھی۔ دیکھو، آواز نہ نکالو اور زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش نہ کرنا، ورنہ ہماری ایک گولی تمہارے دل کے آر پار ہو گی۔ یہاں سے نکلو گی بھی، تو آگے دور دور تک سنسان علاقہ ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم جیسا بولیں، ویسا ہی کرو۔وہ… مجھے گھر جانے دو، پلیز۔ کشف نے اس کی منت کی۔فی الحال تم خاموش ہی رہو، اگر اپنی عزت اور زندگی محفوظ رکھنا چاہتی ہو۔وہ دونوں دروازہ بند کر کے باہر آئے، تو شیر از چپ چاپ سوچوں میں کھڑا تھا۔لڑکی بہت حسین ہے۔ وقاص نے مسکرا کے کہا۔حسین ہے! زوہیب نے اسے آنکھیں دکھائیں۔ آفت ہے پوری۔ آج تک جتنے بھی لوگ اغوا کیے، سب کی سٹی گم ہو جاتی تھی، اور یہ محترمہ چلا چلا کر سارا کام خراب کرنے کے چکر میں ہیں۔ میں تو کہتا ہوں شیری، یہ لڑکیاں اغوا کرنے کی غلطی دوبارہ نہیں کریں گے بھائی۔آج رات پہرہ دینے کی باری تمہاری ہے۔ شیر از نے ان کی گفتگو نظر انداز کرتے ہوئے زوہیب سے کہا۔میں کر لیتا ہوں آج۔ وقاص نے فوراً کہا۔شیر از نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
***

شیر از کی کال آتے ہی عامر نے فوراً کال ریسیو کی۔ہاں، کیا ہوا؟کام ہو گیا۔ لڑکی ہمارے پاس با حفاظت ہے۔ شیر از نے اطلاع دی۔ٹھیک ہے، دو دن رکھو۔ تیسرے دن صبح ایک پتا بتاؤں گا، وہاں سویرے اسے چھوڑ دینا۔اور پیسے؟ شیر از نے پوچھا۔پیسے کل ہی تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں گے، فکر نہ کرو۔کیا ہمیں لڑکی کے گھر والوں کو دھمکانا نہیں ہے؟
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top