• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

کچھ خاص

Joined
Jan 2, 2023
Messages
2,844
Reaction score
48,813
Points
113
Location
Pakistan
Gender
Male
دوستو شاعر تو کچھ مشہور نہ ہے۔۔۔۔۔لیکن اس کا خیال مجھے اچھا لگا سو اسے پوسٹ کر رہا ہوں
عشق
کہنے لگی کہ عشق مجھے آپ سے ہُوا
مَیں نے کہا کہ لائقِ اُلفت نہیں ہُوں مَیں
تاہم تمہارے پیچھے کھڑا شخص خوب ہے
مُڑ کر وُہ اپنے پیچھے اُسے دیکھنے لگی
پھر بولی میرے پیچھے تو کوئی نہیں کھڑا
مَیں نے کہا کہ تم کو اگر مجھ سے عشق تھا
سوچا بھی کیسے تُم نے کہ دیکھو کسی کو تُم
مُڑ کر تھا جسکو دیکھا کرو عشق اُسی سے تُم

رفیع رضا​​
 
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮫ ﭘﺮﻧﻢ ﮨﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﺯﺑﺎﮞ ﭘﺮ ﻗﺼﮧِ ﻏﻢ ﮨﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻭﻧﺎ ، ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻨﺲ ﮨﻨﺲ ﮐﮧ ﺭﻭ ﺩﯾﻨﺎ
ﻋﺠﺐ ﺩﻝ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﺎ ، ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍِﮎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭﯼ ﮨﮯ
ﻧﮧ ﻏﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺍِﮎ ﻏﻢ ﮨﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﺎ ﮐﺮ ، ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺳﺎ ﺗﺒﺴﻢ ﮨﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ
ﺟﮩﺎﮞ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺭﺍﮨﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ، ﺟﮩﺎﮞ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ
ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﮨﮯ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮨﻮﮔﯽ​
 
اے محبت تیری قسمت تجھے بن مول ملے
ہم سے انمول جو ہیروں میں تلا کرتے تھے
ہم جو سو بات کی اک بات کیا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے
اور اب تیری عنایت کی گھنی چھاوں تلے
خلقت شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے
جتنے بہتان تھے مقسوم ہمارا ٹھہرے
اے محبت زرا انداز بدل لے اپنا
تجھ کو آئندہ بھی عشاق کا خوں پینا ہے
ہم تو مر جائیں گے
تجھ کو تو مگر جینا ہے
 
اے محبت تیری قسمت تجھے بن مول ملے
ہم سے انمول جو ہیروں میں تلا کرتے تھے
ہم جو سو بات کی اک بات کیا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے
اور اب تیری عنایت کی گھنی چھاوں تلے
خلقت شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے
جتنے بہتان تھے مقسوم ہمارا ٹھہرے
اے محبت زرا انداز بدل لے اپنا
تجھ کو آئندہ بھی عشاق کا خوں پینا ہے
ہم تو مر جائیں گے
تجھ کو تو مگر جینا ہے

واہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
کہانی آپ الجھی ہے یا الجھائ گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
تماشا کرنے والوں کو خبر کر دی گئی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا
افتخار عارف
 
اے محبت تیری قسمت تجھے بن مول ملے
ہم سے انمول جو ہیروں میں تلا کرتے تھے
ہم جو سو بات کی اک بات کیا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے
اور اب تیری عنایت کی گھنی چھاوں تلے
خلقت شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے
جتنے بہتان تھے مقسوم ہمارا ٹھہرے
اے محبت زرا انداز بدل لے اپنا
تجھ کو آئندہ بھی عشاق کا خوں پینا ہے
ہم تو مر جائیں گے
تجھ کو تو مگر جینا ہے

واہ بہت کمال
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top