• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Moral Story گمشدہ گڑیا۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
934
Reaction score
48,752
Points
93
Location
Karachi
Gender
Male
حضرات! ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں: ایک بچی گم ہوگئی ہے جس کی عمر تقریباً تین سال ہے۔ اُس نے گلابی رنگ کی قمیض اور سفید شلوار پہن رکھی ہے۔ جس صاحب کو وہ بچی ملے، برائے مہربانی اُسے سبحان اللہ مسجد کے پاس پہنچا دیں۔ اللہ خیر کرے! پتا نہیں کس کے دل کا ٹکڑا ہوگا۔ بے چاری ماں کا کیا حال ہو رہا ہوگا۔ سعیدہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ امی امی دادی! وہ آیان اور ذیشان ہیں نا، ان کی بہن گم ہوگئی ہے۔ دادی حیرانی سے بولیں کہ کیا؟ ہے؟ کون؟ بچے نے بتایا کہ وہی بلاول انکل کی بیٹی، گڑیا، وہ گم ہوگئی ہے۔ سارے بچے گڑیا کو ڈھونڈنے جا رہے ہیں، میں بھی جا رہا ہوں۔ پتا ہے؟ سارا محلہ ان کے گھر جا رہا ہے، غزل آنٹی بہت زیادہ رو رہی ہیں۔زین نے کسی نیوز کاسٹر کی طرح پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ خبر نشر کی اور جیسے بھاگتا ہوا آیا تھا، ویسے ہی واپس بھاگ گیا۔ ماں نے فکر مندی سے پکارا، خیال کرنا زین! کہیں بہت دور مت نکل جانا۔ پھر ساس کی طرف دیکھ کر بولی، غزل کی ایک ہی بیٹی ہے، تین بیٹوں کے بعد پیدا ہوئی تھی، بہت لاڈلی ہے اور غزل تو اس کا بہت خیال رکھتی ہے۔ پھر کیسے بچی کھو گئی؟ اللہ جانتا ہے کیسے کھو گئی، وہیں جا کر پتا چلے گا۔ محلے داری ہے، ہمیں بھی جانا چاہیے، تم ایسا کرو میری چادر بھی لے آؤ۔ نازیہ جلدی سے الماری سے چادر نکال کر لے آئی۔ ایک چادر ساس کو دی، دوسری خود اوڑھی اور ساس کے ساتھ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
☆☆☆

غزل کے گھر کے اندر عورتوں کا ہجوم تھا۔ سامنے چارپائی پر غزل بیٹھی تھی، حال سے بے حال! اندیشوں سے گھری گلابی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں، متورم چہرہ ایسا کہ وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔ آس پاس چارپائیوں پر عورتیں بیٹھی تھیں۔ دوسری چارپائی پر غزل کی ساس بیٹھی تھیں۔ سعدیہ نے جا کر غزل کے سر پر ہاتھ رکھا اور دلاسا دیا کہ پریشان مت ہو، ان شاء اللہ تمہاری بیٹی مل جائے گی۔ غزل کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے۔ سعدیہ جا کر غزل کی ساس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ نازیہ بھی جا کر عورتوں کے بیچ جگہ بنا کر بیٹھ گئی۔ ایک عورت نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ اللہ معاف کرے، آج کل تو اتنے بچے گم ہو رہے ہیں کہ ڈر ہی کم نہیں ہوتا۔ میرا میاں بتا رہا تھا کہ یہ کوئی گروہ آیا ہوا ہے، جو بچوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے، ان کے گردے نکال کر بیچ دیتا ہے اور پھر بچوں کو مار کر پھینک دیتا ہے۔دوسری عورت نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے، بچوں کو تو چھوڑو، وہ قیام تھاتا، ارے وہ دیوانہ سا لڑکا جو گلیوں میں پھرتا تھا، اللہ لوگ تھاوہ، اسے بھی کسی نے نہیں چھوڑا۔ ایک مہینہ پہلے وہ بھی گم ہوگیا تھا۔ گھر والے اسے ڈھونڈتے رہے، مگر کہیں نہیں ملا۔ ابھی کچھ دن پہلے کسی نے ان کو اطلاع دی کہ خیام کو جناح اسپتال میں دیکھا گیا ہے۔ جب گھر والوں نے جا کر دیکھا، تو وہ واقعی وہی تھا اور اس کے گردے بھی کسی نے نکال لیے تھے۔ایک کمزور دل کی عورت بے ساختہ بول پڑی کہ ہائے میں مر گئی، اس دیوانے کو بھی کسی نے نہ چھوڑا تو بچوں کو کون چھوڑے گا؟ ایک اور عورت نے افسوس بھرے لہجے میں کہا کہ بہن، سچ تو یہ ہے کہ گم ہوئے بچے پھر ملتے ہی نہیں اور پھر اگر لڑکی ہو، تو بات اور بھی سنگین ہو جاتی ہے۔ اس عورت نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو تو اٹھاتے ہی اس لیے ہیں کہ ان کو کوٹھوں پر بٹھا کر غلط کام کروایا جائے، ان سے پیسہ کمایا جائے۔ وہ عورت سرگوشی کے انداز میں بول رہی تھی، مگر اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ غزل کے کانوں تک با آسانی پہنچ گئی۔ غزل کی دبی دبی سسکیاں ہچکیوں میں بدل گئیں۔ایک اور عورت بولی کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات ہے، لڑکوں کو اٹھاتے ہیں تو ان کے ہاتھ پاؤں توڑ کر ان سے بھیک منگواتے ہیں، اور لڑکیوں کو اللہ معاف کرے، بیچ دیا جاتا ہے۔ پیسہ کمایا جاتا ہے، پیسہ!ہمارے پہلے محلے میں میری پڑوسن کی بیٹی کو جھگی والے لوگ اٹھا کر لے گئے تھے۔ وہ خانہ بدوش لوگ ہوتے ہیں نا۔ آٹھ سال ہو گئے، آج تک بچی کا کچھ پتا نہیں چلا۔ اس کی ماں آج بھی بچی کے کپڑے سینے سے لگا کر روتی رہتی ہے، ایک اور عورت نے کہا۔ غزل کی ہچکیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ یقینا عورتوں کی باتوں سے اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ سعدیہ نے غزل کو پریشانی سے دیکھتے ہوئے کہا، آپ لوگ چپ ہو جائیں، آپ کی باتیں اسے پریشان کر رہی ہیں۔ اس کی حالت پہلے ہی خراب ہے۔ ایک ماں کا دل تو ویسے بھی اولاد کے معاملے میں چڑیا کے دل جیسا نازک ہوتا ہے، اور یہ عورتیں، بجائے تسلی دینے کے، ان بے چاری مصیبت کی ماری ساس بہو کو اور پریشان کر رہی ہیں، بلکہ ان کا دل دہلا رہی ہیں۔ ایک عورت تنک کر بولی، ہاں تو ہم کون سا غلط کہہ رہے ہیں؟ سچ ہی تو کہہ رہے ہیں، یہی سب کچھ ہو رہا ہے دنیا میں۔مجھے پتا ہے کہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، مگر یہ وقت ان باتوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ آپ دعا کریں کہ بچی مل جائے، دل میں اللہ کا ذکر کریں، “حسبنا اللہ و نعم الوکیل” کا ورد کریں یا درود شریف پڑھیں۔ ایک عورت جس کے ہاتھ میں ڈیجیٹل تسبیح تھی، اور مسلسل باتوں میں مصروف تھی، جلدی سے بولی، ہم دل میں اللہ کا ذکر کر رہے ہیں، اور اس کی انگلیاں تسبیح پر تیزی سے چلتی جا رہی تھیں۔سعدیہ نے نرمی سے کہا، غزل بیٹا! تم اندر کمرے میں جاؤ، نفل پڑھ کر اللہ سے دعا کرو، وہ ضرور قبول کرے گا۔ نازیہ، بہن کو اندر لے جاؤ۔ غزل نے ممنون نظروں سے سعدیہ کو دیکھا۔ نازیہ جلدی سے اٹھی اور بولی، جائے نماز کہاں ہے؟ غزل پریشان تھی، اسے اپنے ہی گھر میں جائے نمازیں نہیں مل رہی تھیں۔ نازیہ نے جلدی سے ایک طرف پڑی ہوئی جائے نماز اٹھا کر غزل کو دی۔غزل جیسے ہی نیت باندھنے لگی، نازیہ نے روک کر کہا، بات سنو غزل! تم تو اپنی بچی کا بہت خیال رکھتی ہو، پھر گڑیا کیسے کھو گئی؟ غزل نے آہستگی سے جواب دیا، اصل میں میرے سر میں صبح سے بہت درد تھا، آرام نہیں آ رہا تھا۔ خالہ نے مجھے دوا دی اور کہا کہ آرام کرو۔ میں دوا لے کر لیٹ گئی۔ گڑیا اس وقت صحن میں بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ ارسلان، انوشہ، شانی اور آئزہ تو اس وقت ظاہر ہے ٹیوشن پڑھنے گئے ہوتے ہیں۔ میں بار بار دروازے پر جا کر گڑیا کو دیکھتی رہی، مگر آج دوا لے کر لیٹی تو نیند آ گئی۔ خالہ بھی عصر کی نماز پڑھ کر قرآن پاک پڑھنے بیٹھ گئیں۔ اتنے میں بلاول آ گئے، انہوں نے گڑیا کے بارے میں پوچھا تو خالہ نے کہا کہ وہ صحن میں کھیل رہی ہے۔کہنے لگے، نہیں، تو کوئی نہیں ہے، گلی خالی ہے۔ اسی وقت بلاول نکل گئے گڑیا کو ڈھونڈنے کے لیے۔ غزل کا لہجہ گلوگیر ہو گیا۔ پتا نہیں، کہاں ہوگی میری بچی، کس حال میں ہوگی، کتنا رو رہی ہوگی۔ دعا کرو نازیہ، میری بچی مل جائے۔ یہ عورتیں جیسی باتیں کر رہی ہیں، میرا دل دہل رہا ہے۔ اگر میری بچی نہ ملی، اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں کیسے جیوں گی؟ اپنی بچی، اپنی گڑیا کے بغیر میں مر جاؤں گی، میں تو جی نہیں پاؤں گی۔ غزل روتے روتے نازیہ کے گلے لگ گئی۔ رو مت غزل، کیا ہو گیا ہے آپ کو! نازیہ نے اس کا شانہ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ آپ تو پڑھی لکھی اور سمجھ دار ہیں، چھوڑیں ان انپڑھ، بے وقوف عورتوں کی باتوں کو۔ مایوسی گناہ ہے، کفر ہے۔ اللہ سے اچھی امید رکھیں، کچھ نہیں ہوگا گڑیا کو، ان شاء اللہ وہ صحیح سلامت آپ کو ملے گی۔ ان شاء اللہ… ان شاء اللہ… غزل نے دھیمی آواز میں کہا اور نازیہ سے الگ ہو کر نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی۔
☆☆☆

رات سر پر آ گئی تھی اور ابھی تک بچی کا کوئی اتا پتا نہیں آیا تھا۔ ایک عورت نے افسوس سے کہا، ہے تو عجیب بات، جو بچہ دن کی روشنی میں نہ ملا، وہ رات کے اندھیرے میں کیا ملے گا؟ اتنے میں محلے میں شور سا اٹھا، بھاگتے ہوئے بچے گھر میں داخل ہوئے۔ گڑیا مل گئی، گڑیا مل گئی! ان کے پیچھے بلاول بھی گھر میں داخل ہوا۔ کہی ہوئی بچی باپ سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ غزل بھاگتی ہوئی آئی اور بچی کو سینے سے لگا لیا۔میری بچی، میری جان، میں صدقے جاؤں۔ وہ دیوانہ وار بچی کو چوم رہی تھی، اس کا سر، اس کے ہاتھ، ہر چیز کو جیسے آنکھوں سے لگا رہی ہو۔ شکر ہے اللہ کا، میری بچی مل گئی، ورنہ میں تو جی ہی نہ پاتی۔ وہ بول بھی رہی تھی اور شاید رو بھی رہی تھی۔ غزل کی ساس نے بٹوے میں ہاتھ ڈالا اور جتنے پیسے ہاتھ آئے، ارسلان کو دیتے ہوئے کہا، یہ جا کر بچوں میں بانٹ دو۔ پھر آگے بڑھ کر گڑیا کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔مبارک ہو بلاول بھائی، آپ کی گڑیا مل گئی۔ ایک عورت نے خوشی سے کہا۔ بہت شکریہ! بلاول نے ممنون نظروں سے عورتوں کی طرف دیکھا۔ آپ لوگوں نے حوصلہ دیا، ساتھ دیا، یہاں آئیں، ورنہ میری بیوی اور ماں تو رو رو کر پاگل ہو جاتیں۔ ایک تلخ مسکراہٹ نازیہ کے ہونٹوں پر آ گئی۔ ہاں، ہم تو یہی کہہ رہے تھے کہ بچے اگر کھو بھی جائیں تو اکثر مل بھی جاتے ہیں، وہ فلائی تو نہیں ہو جاتے! اب وہ عورت بچوں کے کھو کر دوبارہ ملنے کے واقعات سنا رہی تھی۔کچھ عورتیں جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ سعدیہ نے بھی نازیہ کو اشارہ کیا، دونوں ساس بہو آگے پیچھے گھر سے باہر نکل گئیں۔ سعدیہ نے افسوس سے کہا، ان عورتوں کی جہالت کا علاج نہ کسی حکیم کے پاس ہے نہ کسی ڈاکٹر کے۔ نازیہ نے تاسف سے سر ہلایا اور بوجھل دل کے ساتھ اپنے گھر کی طرف قدم بڑھا دیے۔
☆☆☆
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top