• 📚 لوو اسٹوری فورم ممبرشپ

    بنیادی ڈیل

    وی آئی پی

    5000
    تین ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    وی آئی پی پلس

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    ٹاپ پیکیج
    👑

    پریمیم

    20000
    چھ ماہ کے لیے

Poetry بیسٹ آف پروین شاکر

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی

چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی

اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے

جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی

شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا

موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی​
 


کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی



 
بہت رویا وہ ہم کو یاد کر کے

ہماری زندگی برباد کر کے

پلٹ کر پھر یہیں آ جائیں گے ہم

وہ دیکھے تو ہمیں آزاد کر کے

رہائی کی کوئی صورت نہیں ہے

مگر ہاں منت صیاد کر کے

بدن میرا چھوا تھا اس نے لیکن

گیا ہے روح کو آباد کر کے

ہر آمر طول دینا چاہتا ہے

مقرر ظلم کی میعاد کر کے​
 


کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی

بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی

وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی

اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی

وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی

بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی

سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی

جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی




بہت شاندار غزل
شکریہ آپکا
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top