“عمائم جاؤ بیٹا اپنے ماموں کے پاس ” عابدہ بیگم نے کوئی چوتھی بار اسے کہا تھا۔شائستہ بیگم نے اسے ہائیر کر لیا تھا سیلری گو کہ زیادہ نہیں تھی مگر اتنی ضرور تھی کہ وہ آرام سے اپنی ضروریات پوری کر سکتی تھی وہ اس میں بھی مطمئن تھی کیونکہ کچھ نا ہونے سے ہونا زیادہ بہتر تھا۔۔”افف جاتی ہوں آپ تو بھیج کر ہی رہیں گیں””ہاں جاؤ اور اپنی زبان کو زرا قابو میں رکھنا”ان کی بات کر سر ہلاتے وہ چادر اوڑھتے گھر سے نکلی تھی۔۔ماموں کے گھر میں داخل ہوئی تو وہ اسے وہیں لاونج میں چائے پیتے نظر آئے انہیں سلام کرتے وہ ان کے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔”مل گئی فرصتِ آنے کی ؟” رابعہ ممانی کی طنز سے بھرپور آواز پر اس نے بمشکل چہرے پر مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھا۔ کچھ بھی کہنے سے البتہ گریز کیا تھا۔۔”ہاں تو تم نوکری کرنا چاہتی ہو؟””جی ماموں””ایسی کون سی ضرورت ہم تمہاری پوری نہیں کر رہے عمائم جو نوکری کرنے کی ضرورت پڑ گئی؟”افتخار ماموں کی بات پر اس نے ایک نظر رابعہ ممانی کو دیکھا وہ سمجھ گئی تھی ماموں کے منہ میں زبان کس کی ہے۔۔۔”کوئی کمی نہیں ماموں مگر اب میں اس قابل ہوگئی ہوں کہ خود کما سکوں آپ نے اتنے سالوں سے ہمیں کھلایا ہے اب مزید آپ کو تنگ کرنا اچھی بات تو نہیں نا؟””جو بھی ہے تم چھوڑو اس نوکری کے خیال کو””معذرت ماموں مگر نوکری مجھے مل گئی ہے گھر کے اندر کی نوکری ہے بے فکر رہیں آپ کی ساخت خراب نہیں ہوگی ” اپنی بات مکمل کرکے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔”امی گھر میں اکیلی ہیں میں چلتی ہوں” اس سے پہلے رابعہ ممانی اسے کچھ بھی کہتیں وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔__________کالج کی چھٹی ہوئی تو وہ سب لوگوں کے ساتھ باہر آئی نگاہ سامنے کھڑی گاڑی سے جا ٹکرائیں جہاں اجمل گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اسے دیکھ ایک دم سیدھا ہوا۔۔نور نے اسے مکمل نظر انداز کیا تھا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس شخص کے پاس جانے کا۔۔”میڈم پلیز گاڑی میں بیٹھ جائیں” وہ آگے بڑھنے لگی جب اجمل کی آواز پر اسکے قدم تھمے ۔”اور میں ایسا کیوں کروں؟” سینے پر ہاتھ باندھے وہ ماتھے پر تیوری چڑھائے اجمل کو دیکھ رہی تھی۔”دیکھیں میڈم سائیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں””اپنے ٹھرکی سائیں سے کہو مجھ سے دور رہے آئی سمجھ “”آپ سمجھ نہیں رہی ہیں میڈم “”کیا سمجھوں تم کیا چاہتے ہو میں شور مچا مچا کر لوگوں کو اکھٹا کرلوں؟”اسکی دھمکی پر اجمل نے ایک نظر اسے دیکھا۔”تو آپ میرے ساتھ نہیں آئیں گی؟””نہیں اب کیا لکھ کر دوں ؟”پھاڑ کھانے کے انداز میں کہتی وہ مڑی تھی۔۔”یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے آگے جو ہوگا اسکی زمہ دار بھی آپ خود ہونگی”اجمل کی بات پر اس کے گردن موڑ کر اسے دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ بھی سمجھتی پیچھے سے دو بھاری بھرکم عورتوں نے اسکے بازوؤں کو سختی سے پکڑا تھا۔۔”اے۔۔ اے کون ہو ہاتھ چھوڑو میرا” اس سے پہلے وہ شور مچاتی وہ دونوں عورتیں اسے اپنے پاس کھڑکی گاڑی میں دھکیلتی اسکے فرار کی راہیں مفقود کرتی گاڑی کا دروازہ بند کرگئی۔وہ چیخ رہی تھی خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر سب بے سود ۔۔۔
___________چہرے پر سیاہ نقاب لگائے وہ خاموشی سے اس گھر میں داخل ہوا تھا گھر کا کام اسکے ساتھ آیا شخص پہلے ہی توڑ چکا تھا۔آس پاس سناٹے کا راج تھا آنکھوں میں چمک لئے اس نے سیاہ جوتوں میں مقید اپنے پیر اس گھر کے اندر رکھے۔۔چھوٹا سا دو کمروں کا صاف ستھرا اپارٹمنٹ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑاتے اس نے کسی کو ڈھونڈا تھا۔۔”تم نے تو کہا تھا وہ یہی ہیں ؟”ماتھے پر بل ڈالے اس نے ناگواری سے اپنے ساتھ آئے شخص کو گھورا۔”سر وہ اندر ہی ہیں پکی خبر ہے””گاڑی تیار ہے؟” آس پاس دیکھتے اب اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا تھا جو اندر سے خالی تھا۔”,ہر چیز ریڈی ہے سر”اسکی بات پر سر ہلاتے اس نے دوسرے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر دیکھا تو بیزاری بھرا تاثر لئے آنکھیں ایک دم چمکیں۔کچھ فتح کرلینے کی چمک۔۔مسکراتی نظروں سے بیڈ پر بےخبر سوئی شہرے کو دیکھتے اس نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے آگے کیا جو اسکا مطلب سمجھتے فوراً سے جیب سے رومال نکال اسے تھما گیا۔”گاڑی بالکل ریڈی رکھنا۔۔ ” اسے جانے کا اشارہ کرتا وہ سیٹی پر اپنی من پسند دھن بجاتا اندر بیڈ کے قریب آکر رکا۔۔گھنٹوں کے بل بیڈ کے پاس بیٹھتے اس نے بغور اس نازک وجود کے ایک ایک نقش کو دیکھا تھا۔۔سوجی آنکھیں مڑی پلکیں، اسکا چہرہ بھی سرخ ہو رہا تھا چھوٹی سی ناک۔۔ وہ کسی کو بھی اپنے حسن سے متاثر کر سکتی تھی مگر سامنے مامون شیرازی تھی جو اس کے حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے نفرت کی وجہ سے یہاں موجود تھا۔سامنے موجود لڑکی کا انکار۔۔ اس کے لئے انا کا مسئلہ تھا۔۔”ہے لٹل گرل لک” اسکے چہرے پر آئے بالوں کو انگلی کی مدد سے پیچھے کرتے اس نے شہرے کے کان میں سرگوشی کی۔۔”ویک اپ لٹل گرل۔۔ لک آئی ایم ہئیر” وہ اسکے کان پر جھکا سرگوشیاں کر رہا تھا۔اپنے کان پر گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے وہ نیند میں کسمسائی۔۔”آنکھیں کھولو لٹل گرل۔۔ ایسے چپکے سے لے جانے میں مزہ نہیں آئے گا” اسکے گال پر انگلی رکھتا وہ اب گول دائرہ بنا رہا تھا اپنے گرم ہوتے چہرے پر ٹھنڈے ہاتھ کا لمس محسوس کر شہرے نے آنکھیں کھولیں۔خود پر جھکے مامون کو دیکھ اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا۔۔۔”تم۔۔۔””ششش۔۔۔شور نہیں” اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتا وہ اسے کچھ بھی کہنے سے روک گیا۔خوفزدہ نگاہوں سے شہرے نے مامون کو دیکھا۔ بڑی بڑی آنکھیں کھولے وہ مامون کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں بس اسکی آنکھیں نمایاں تھیں۔۔۔”پلیز”نم لہجہ نم آنکھیں اس نے بمشکل اتنا کہا تھا۔۔”ارادہ کچھ وقت کا تھا مگر تم نے مجھے مجبور کردیا لٹل گرل۔۔”اسکے ہونٹوں پر سے انگلی ہٹاتا وہ دھیمے سے مسکرایا۔”میرے ساتھ یہ مت کرو”وہ ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔ لڑنے کی ہمت ہی نہیں تھی اب اس میں۔۔”کہاں کچھ کر رہا ہوں بس تمہیں اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہوں “”کی۔۔ کیا۔۔مم۔۔۔مطلب” کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح اس نے مامون کو دیکھا۔مامون کو آج وہ بہت الگ لگی دو ملاقاتوں سے یکسر مختلف۔۔۔ ڈری سہمی سی۔۔ معصوم سی دل کو اپنی طرف مائل کر لینے والی۔۔۔”میری دنیا میں لے کر جا رہا ہوں تمہیں لٹل گرل” اسکی اداس آنکھوں میں دیکھ کر کہتا وہ اچانک ہی ہاتھ میں موجود رومال اسکی ناک پر رکھ گیا بنا اسے۔ سنبھلنے کی مہلت دئیے ۔۔پھیلی آنکھوں سے ہاتھ پیر چلاتے وہ اسکے آغوش میں کسی کٹی ڈال کی طرح گری تھی۔آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر بہا تھا۔۔مامون نے ایک نظر اس آنسو کو دیکھا اور پھر اسے بانہوں میں بھرے اس گھر سے نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔”سر کہا چلنا ہے؟”اسکے آدمی کے پوچھنے پر مامون نے بے خبر پڑی شہرے پر سے نگاہیں ہٹا کر اسے دیکھا جس کی گود میں شہرے کا بیگ پڑا تھا۔”ائیر پورٹ””سر میڈم کا پاسپورٹ نہیں ہے” اس آدمی نے آہستہ سے کہا ناجانے کب اسکے پاس کا موڈ خراب ہو جائے۔۔”پرائیویٹ جیٹ کا استعمال کرو رات ہونے سے پہلے ہمیں اس ملک کو خدا حافظ کہنا ہے” باہر نظر آتے نظاروں پر نگاہیں جمائے کہتا وہ واپس سے اپنے کندھے سے لگی بےہوش پڑی شہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔”اتنی معصوم ہو یا بس ایسے ہی لگ رہی ہو؟” اسکے چہرے کو دیکھتے اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھاتے اسکے چہرے پر پھیلے بال سمیٹ کر سائیڈ کئے۔”ظہیر تم میرے ساتھ آرہے ہو” ظہیر کو کہتے وہ سکون سے آنکھیں موند گیا چہرے پر فتح کی چمک تھی۔۔۔__________بیگ پر گرفت مضبوط کئے اس نے سامنے موجود گھر کو دیکھا کل کے مقابلے میں آج وہ ناجانے کیوں کنفیوز تھی۔۔۔”ارے عمائم بچے آگئی آپ ؟”شائستہ بیگم کی آواز پر ہولے سے مسکراتے وہ اندر داخل ہوئی۔”اسلام وعلیکم آنٹی””وعلیکم السلام عمائم یو لک پریٹی” جواب شائستہ بیگم کے بجائے زارون کی جانب سے آتا اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔”یور لکنگ ہینڈسم زارون” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اسکے گال پر پیار کر گئی۔”دادو آپ جائیں نا””آپ کہیں جا رہی تھیں آنٹی ؟” زراون کی بات پر اس کی شائستہ بیگم کو دیکھا۔”ہاں بس میں یہاں پاس میں ہی جا رہی بس تھوڑی دیر میں واپس آجاؤں گی”ان کے بتانے پر وہ سر ہلاتی زارون کے ہمراہ اسکے روم میں آگئی۔تھوڑی ہی دیر میں وہ دونوں کمفرٹیبل انداز میں بیٹھے ڈرائنگ کر رہے تھے۔۔
“زارون۔۔۔” مردانہ آواز پر عمائم نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا۔دروازہ کھلا اور ضوریز کا چہرہ نمودار ہوا تھا ۔۔نگاہوں کے تصادم پر ضوریز ٹھٹک کر رکا۔۔۔”آپ ۔۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟””آپ یہاں کیا کر رہے ہیں یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے””میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں آئی سمجھ ” عمائم کے پوچھنے پر اس نے تڑخ کر جواب دیا۔”تو میں بھی آپ کو جواب دہ نہیں ہوں مسٹر” سینے پر ہاتھ باندھے اس نے ناگواری سے ضوریز کو دیکھا۔”میرے ہی گھر میں کھڑی ہیں جواب تو دینا ہوگا آپ کو””آپ کے گھر؟” اب کے چونکنے کی باری عمائم کی تھی۔۔”بابا۔۔۔ آپ عمائم سے ایسے بات مت کریں ” زارون کی پکار پر عمائم کی آنکھیں پھیلیں۔شاکڈ سے پھیلی آنکھوں سے اس نے پہلے ضوریز کو دیکھا اور پھر زارون کو جو اب اپنے باپ کی گود میں چڑھ رہا تھا۔۔”عمائم؟””بابا شی از مائے ٹیوٹر آئی لائک ہر ویری مچ” آنکھیں پٹپٹاتے اس نے اپنے طریقے اسے ضوریز کو وارن کیا تھا کہ اسے کچھ نا کہا جائے۔۔گہرا سانس بھرتے ضوریز نے عمائم کو دیکھا اور پھر سر جھٹکتے وہ زارون کی جانب متوجہ ہو گیا۔۔عمائم نے بہت ضبط کے ساتھ اس شخص کو اپنے سامنے دیکھا تھا ہر بار کی طرح اس ملاقات میں بھی کوئی خوشگواریت نہیں تھی۔۔”آپ میرے ساتھ آئیں” زارون کو اتارتا وہ اسکے کہتا بنا اسکا انتظار کئے باہر بڑھ گیا۔اسکے اس اٹیٹیوڈ پر عمائم کھول کر رہ گئی مگر وہ یہاں نوکری کر رہی تھی اس لئے ضوریز کی بات ماننا بھی ضروری تھا اس لئے وہ خاموشی سے باہر آگئی۔۔”جی کہیے؟””کیا مقصد ہے آپ کا مس عمائم ؟ “”کیا مطلب میں سمجھی نہیں کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ؟””میں نے بہت صاف انداز میں کہا ہے پہلے میرے آفس اب میرے گھر کس مقصد کے تحت آئی ہیں آپ اس گھر میں “؟ اسکی بات پر عمائم کا منہ کھلا تھا وہ اسے سمجھ کیا رہا تھا؟””دیکھیں مسٹر میرا آپ سے کوئی مقصد نہیں یہاں میں کومل آپی کی وجہ سے آئی ہوں مجھے تو پتا بھی نہیں تھا اور اگر پتا ہوتا تو کبھی یہاں جاب نا کرتی “”اوو رئیلی۔۔۔؟””جی ہاں “”تو اب پتا چل گیا ہے نا تو اب آپ چھوڑ دیں یہ جاب ؟”وہ اسے نوکری سے نکال رہا تھا عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔”اور ایسا میں کیوں کروں؟””کیونکہ یہ میرا گھر ہے اور میں آپ کو جاب چھوڑنے کے لئے کہہ رہا ہوں””ٹھیک ہے آنٹی ابھی آتی ہونگی ان کے سامنے بات کرینگے اب”اسے کہتے وہ اسکے پہلو سے نکلی تھی جب گھبراتے ضوریز نے اسکا بازو تھام اسے روکا۔۔”ہاتھ چھوڑیں میرا کیا بدتمیزی ہے ؟””امی کے سامنے آپ “”میں سب کہوں گیں۔۔ یہ آپ مجھے اس گھر سے نکال رہے ہیں اور میں واقعی جا رہی ہوں” ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالتے وہ غصے سے باہر نکلی تھی۔”عمائم۔۔۔ بیٹا کہاں جا رہی ہیں؟”اندر آتی شائستہ بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا۔”آپ کے بیٹے نے مجھے نوکری سے نکال دیا ہے آنٹی””کیا ؟ تم کہیں نہیں جا رہی ہو میرے ساتھ آؤ یہ کیا دماغ خراب ہوگیا ہے ضوریز کا” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسکے ناچاہنے کے باوجود اسے لئے اندر بڑھی تھیں۔۔۔____________”یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ” بری طرح چلاتے وہ خود کو ان عورتوں کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی جو کانوں کو لپیٹے بہری بنی ہوئی تھیں۔۔”چھوڑو میرا ہاتھ ۔۔۔ جانے دو مجھے” بنا اسکی کوئی بھی بات سنے وہ دونوں اسے زبردستی تھامے اس کمرے تک لائیں نور کو کمرے میں دھکیلتے انہوں نے پیچھے سے دروازہ لاک کیا تھا۔”دروازہ کھولو ۔۔۔ کوئی ہے سنو۔۔۔ دروازہ کھولو” وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہی تھی اسکے ہاتھ سرخ ہوگئے تھے مگر وہاں اسکی سننے والا کوئی نہیں تھا اس کمرے میں سوائے بیڈ اور ایک اٹیچڈ باتھ کے ایسا کوئی دروازہ یا کھڑکی نہیں تھی جہاں وہ فرار ہو سکتی۔۔”یا اللہ میری مدد کریں” بیڈ پر بیٹھتے اس نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا۔۔وہ رونا نہیں چاہتی تھی اسے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔”جازب شاہ یہ ہے تمہاری مردانگی چھپ کر پیٹھ پیچھے وار کرتے ہو ہمت ہے تو سامنے آؤ” وہ ایکدم غصے سے چلائی تھی بیڈ پر پڑے کشن اور چادر اس نے غصے سے زمین بوس کئے تھے۔۔۔فرار کی کوئی راہ نہیں تھی تھک کر وہ بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔بے دردی سے لب کچلتے اس نے خود کو رونے سے باز رکھا تھا۔۔کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا تھا نور نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا۔۔جہاں جازب شاہ اپنی بھرپور شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اسکے سامنے کھڑے تھے۔۔۔”تم۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے زبردستی یہاں بلانے کی ” وہ چیل کی طرح اس پر جھپٹی تھی اس سے پہلے وہ اسکا گریبان پکڑتی جازب شاہ نے اسکے دونوں ہاتھوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیتے اسکی کمر سے لگاتے ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا تھا۔۔۔اس انتہا کی قربت پر نورے اپنا سانس تک روک گئی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے مجبور نا کریں ؟” جازب شاہ کی نگاہیں اسکے چہرے کا طواف کررہی تھیں اور یہ نظریں نورے کو مضطرب کرنے کا باعث بنی تھیں ۔۔”چھوڑو مجھے ۔۔ میں نے کہا چھوڑو مجھے” اسکی گرفت میں مچلتے وہ غرائی۔۔جاذب شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ کھلی تھی۔”کیا میری مردانگی کا ثبوت نہیں دیکھنا چاہیں گیں؟” اسے مزید اپنے قریب کرتا وہ اسے سانس روکنے پر مجبور کر گیا۔جازب کی سلگتی سانسیں وہ اپنے چہرے پر پڑتی محسوس کر رہی تھی۔”میں نے کہا تھا نا مجھے اپنی کرنے پر مجبور نا کرنا کیوں ایک بات سمجھ نہیں آتی نور فاطمہ ؟””دور ہوکر بات کریں مجھ سے “رخ موڑے وہ بمشکل بولی تھی۔زندگی میں پہلی بار وہ کسی مرد کے قریب آئی تھی اتنی سی قربت نے ہی اسکا چہرہ لال سرخ کیا تھا۔۔”یہ قربت تو ابھی کچھ بھی نہیں ہے اتنی سی پر بس ہوگئی آپ کی؟” اسکے چہرے پر پھونک مارتا وہ زومعنی لہجے میں کہتا نورے کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھتے جاذب نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور کیا تھا۔۔”مجھے جانے دو پلیز””بیٹھو سامنے” اسکا انداز اتنا قطعی تھا کہ نورے بنا کچھ بھی کہے خاموشی سے بیڈ کی پائیتی پر ٹکی۔۔اپنی فتح پر مسکراتے جاذب نے دیوار سب ٹیک لگاتے سینے پر ہاتھ باندھے۔۔”مجھے کیوں بلایا ہے کیا صرف میری شکل دیکھنے کے لئے بلایا ہے؟” اسکے مسلسل دیکھنے پر وہ تڑخ کر بولی تھی یہ شخص اب اسکے حواس جھنجھلا رہا تھا۔۔”اپنی بیوی کو صرف شکل دیکھنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ” وہ پراسرار سا مسکرایا تھا جبکہ بیوی لفظ پر نور نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔جاری ہے
مجھے کیوں بلایا ہے کیا صرف میری شکل دیکھنے کے لئے بلایا ہے؟” اسکے مسلسل دیکھنے پر وہ تڑخ کر بولی تھی یہ شخص اب اسکے حواس جھنجھلا رہا تھا۔۔”اپنی بیوی کو صرف شکل دیکھنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ” وہ پراسرار سا مسکرایا تھا جبکہ بیوی لفظ پر نور نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔”کیا بکواس ہے یہ کون تمہاری بیوی؟””سب سے پہلے تو تمیز سے بات کرو ” جاذب کے چہرے پر ناگواری بھرا تاثر ابھرا تھا۔”مجھے جانے دو جاذب شاہ بہت ہوگیا ہے ورنہ” انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتی وہ اسکی نگاہوں کی تپش پر ایک دم سے چپ ہوئی تھی اگلے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔۔”ورنہ؟” ماتھے پر بل لئے وہ پورے قد کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔نور نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر اٹھی انگلی خود بخود نیچے ہوئی تھی۔۔”دیکھو مجھ سے دور رہو” اسکے بڑھتے قدموں پر وہ پیچھے ہوتی دھڑام سے بیڈ پر گری تھی اس سے پہلے وہ سنبھل کر اٹھتی۔۔جاذب نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے بیڈ پر پیچھے دھکیلتے اپنے دونوں ہاتھ اسکے دائیں بائیں ٹکاتے اسکی فرار کی راہیں مفقود کی تھیں۔۔۔”ورنہ کیا نور صاحبہ کیا کریں گی آپ میرے ساتھ” اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کئے وہ تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا جو اسکے اتنے قریب آنے پر اپنی سانسیں تک روک گئی تھی۔۔۔جاذب کے کلون کی خوشبو اسکے اپنے دماغ میں چڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔۔اپنے گال پر جاذب کی سانسوں کی تپش محسوس کر اس نے ہمت کر اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھ اسے خود سے دور دھکیلنا چاہا مگر وہ اس چٹانی وجود کو ایک انچ بھی نہیں ہلا سکی تھی۔”مجھ سے دور رہو ورنہ میں دنیا کو بتاؤ گی یہ شریف بنا انسان ایک نمبر کا گھٹیا آدمی ہے”اسکی بھاری وجود کا بوجھ خود پر محسوس کر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں مگر زبان اب بھی نہیں رکی تھی۔”تمہیں مجھ سے ڈرنا چاہیے نور فاطمہ یزدانی”اسکے نڈر انداز پر چوٹ کرتا وہ اپنا گال اسکے گال سے مس کرتا وہ اسے ساکت کر گیا۔۔”تم گھٹیا انسان دور رہو مجھ سے ” ہوش میں آتی وہ چلاتے اسے خود سے دور کرنے کی خاطر ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی جب اسکا ہاتھ جازب شاہ کی مضبوط گرفت میں آئے تھے اسکے دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھام اسکے سر پر لگاتے وہ اسکی بےبسی پر مسکرایا تھا ۔۔۔”بالکل ایسے ہی ۔۔۔ ہاں بالکل ایسے ہی تو دیکھنا چاہتا چاہتا ہوں میں تمہیں اور تمہارے خاندان کو تڑپتے ہوئے روتے ہوئے سسکتے ہوئے ۔۔۔ کہ تم مجھ سے اپنی آزادی کی بھیک مانگو اور میں تمہیں بتاؤں کہ قید آخر ہوتی کیسی ہے” وہ اسکے منہ پر غرایا خوف سے نورے کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔”میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا مجھے جانے دو خدا کے لئے” اسکے ارادے اور اسکی قربت۔۔وہ واقعی ڈر گئی تھی ساری بہادری پل میں ہوا ہوئی تھی۔۔”جانے دوں ؟ اب تو موت کے بعد ہی تم میری قید سے آزاد ہوسکتی ہو”اسکی بات پر نورے نے اسے دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا۔۔”موت ؟” اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔”ہاں موت۔۔۔ میری یا پھر تمہاری” اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ اسکی سانسیں روکنے پر تلا تھا۔”یو نو وائفی کتنا انتظار کروایا ہے مجھے؟””میں تمہاری بیوی نہیں ہوں سمجھ آئی دور رہو مجھ سے خدا کے لئے ” اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت کا فائدہ اٹھاتے نور ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلتے خود اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگی تھی جو لاک تھا۔۔جازب نے بیڈ پر پڑے پڑے زرا سی گردن ترچھی کر اسے دیکھا جو دروازہ زور زور سے پیٹ رہی تھی۔۔سیدھے ہو کر لیٹتا وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے بڑی فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جو بس یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی دوپٹہ ایک سائیڈ پڑا تھا بال بکھر رہے تھے۔۔۔چہرے پر وحشت تھی اسکی حالت دیکھ جاذب کے ہونٹ سختی سے بھینچے۔۔”بھاگنے سے پہلے سائیڈ والی دراز میں ہمارہ نکاح نامہ ہے اور اسکے ساتھ ہمارے نکاح کی تصویر ۔۔۔ایک نظر انہیں دیکھ لو”جازب کی بات پر دروازہ بجاتے اسکے ہاتھ تھمے۔۔”اور تمہیں لگتا ہے میں تم جیسے سائیکو آدمی پر یقین کروں گی؟”اسکے سوال پر جازب نے کندھے اچکائے تھے۔۔نور نے بے بسی سے اسے دیکھا کہاں پھنس گئی تھی وہ آخر۔۔۔۔۔”مجھے یہاں سے جانے دو پلیز میری امی میرا انتظار کر رہی ہونگی””وہی امی جو اصل میں تمہاری امی ہیں ہی نہیں؟”وہ اسکی بات پر چونکی نہیں تھی وہ بڑا آدمی تھا اسکے لئے یہ سب جاننا کوئی مشکل بات نہیں تھی۔۔۔”اوہو لگتا ہے تمہیں اپنی ماں کے بارے میں پتا ہے مگر کیا تمہیں یہ پتا ہے دس سال پہلے تمہارے گھر والوں نے تمہیں اس عورت کے حوالے کردیا تھا اور ہر مہینے تمہارے نام پر ڈھیروں رقم اسکے اکاؤنٹ میں دیتے رہے ہیں؟”اب کی بار وہ چونکی تھی بری طرح سے ۔۔اسکے گھر والے پیسے؟””کک۔۔۔کیا مطلب ہے اس بات کا؟”اب کی بار جازب شاہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔”تو میری جان آپ کو واقعی نہیں پتا کہ آپ کے گھر والے آج بھی اس عورت سے رابطے میں ہیں؟””تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔””اہاں۔۔۔ مجھے جھوٹ بول کر کیا ملے گا پورا گاؤں جانتا ہے تم میری ملکیت ہو میرے نکاح میں ہو اور تمہارے گھر والوں نے تم سے جان چھڑانے کے لئے تمہیں اس رات روڈ پر چھوڑ دیا تھا اور اپنی عورت بھیج دی تھی تاکہ وہ تمہیں لے جائے ۔۔۔ اور پھر وہ کہے گی تم اسے سڑک پر ملی تھیں تو اس بات کا یقین کرنا اتنا مشکل تو نہیں نا ؟”جاذب شاہ کی باتیں۔۔ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔”چلو ایک ڈیل کرتے ہیں” اسکی ذہنی کیفیت سے بے نیاز وہ اپنی ہی کہہ رہا تھا۔۔نورے نے نگاہیں اٹھائے اسے دیکھا۔۔”تم جاؤ اور اپنی ماں سے سچ پوچھو اگر میرا کہا سچ ثابت ہوا تو تم میرے ساتھ چلو گی اس نکاح کو قبول کرو گی””اور اگر تم جھوٹے نکلے تو؟”اسکی بات پر جاذب نے اسے دیکھا چہرے کے تاثرات پل میں تبدیل ہوئے تھے۔”جاذب شاہ جھوٹ نہیں بولتا اور جھوٹ بولنے والے کو کبھی نہیں چھوڑتا””مجھے تمہاری بات پر اب بھی یقین نہیں نا تمہارے دعوت پر یقین ہے””یہ تو شام ہونے سے پہلے پتا چل جائے گا جاؤ ابھی کے لئے آزاد ہو ایک آخری بار اپنی مرضی کی سانسیں لے لو”اپنی جگہ سے اٹھتے وہ قدم بہ قدم چلتا اسکے پاس آکر رکا ۔ہاتھ بڑھا کر اس نے کوڈ ڈائل کر دروازہ کھولا تھا۔۔”شام میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار رہنا””خوش فہمی ہے تمہاری تم ایک جھوٹے انسان ہو” ایک ایک لفظ چبا کر کہتی وہ تیزی سے اپنا سامان سمیٹتے وہاں سے نکلی تھی۔ اور وہ اسے جاتا دیکھتے رہا۔”آپ نے انہیں جانے کیوں دیا سائیں ؟””شکار کا کمزور ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اجمل اور اس وقت میرا شکار کچھ زیادہ ہی مضبوط ہے”اجمل کا کندھا تھپتھپاتے وہ آگے بڑھا مگر پھر وہ رکا تھا۔۔”گاؤں جانے کی تیاری کرو اب وقت آگیا ہے واپس جانے کا”گلاسس آنکھوں پر لگاتا وہ پوری شان سے وہاں سے نکلا تھا۔کسی فاتح کی طرح۔۔۔۔
پاؤں پر پاؤں چڑھائے سینے پر ہاتھ باندھے وہ صوفے پر بیٹھا تھا اسکا ایک پاؤں میں مسلسل حرکت میں تھا وہ خونخوار نظروں سے شائستہ بیگم کے ساتھ بیٹھی عمائم کو دیکھ رہا تھا جو اسکی نظروں سے انکنفرٹیبل ہو رہی تھی۔۔”کیا میں پوچھ سکتی ہوں ضوریز تم نے عمائم سے بدتمیزی کیوں کی؟””میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی “”ہاں بس بچی کو پہلے دن ہی نوکری سے نکال دیا ہے نا؟” ان کا بس نہیں چل رہا تھا کیا کرے اس انسان کا۔۔اتنی مشکل سے کوئی ٹیوٹر زارون کو پسند آئی تھی۔۔”آنٹی انہوں نے پہلے مجھے اپنے آفس میں جاب نہیں دی اور اب یہاں سے نکال دیا ہے آئی ایم سوری مگر میری بھی کوئی سیلف ریسپیکٹ ہے “”یہ تو اچھی بات ہے اس لئے کل سے آپ یہاں کام پر نہیں آرہی ہیں نا ؟”.”ضوریز ” اسکی بات پر شائستہ بیگم نے اسے گھور کر دیکھا جو بس گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔”عمائم ضوریز کی جگہ میں معافی مانگتی ہوں بیٹا پلیز یہ جاب مت چھوڑنا””آپ معافی تو مت مانگیں آنٹی “ان کا ہاتھ تھامے وہ نرمی سے بولی تھی اسکا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ان سے معافی منگوانے کا۔۔۔اسکے نرم لہجے پر ضوریز نے ناگواری سے اسے دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔”کہاں جا رہے ہو؟””آفس” ایک لفظی جواب دیتے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا شائستہ بیگم نے تاسف سے اسے جاتے دیکھا۔۔”,بیٹا برا مت ماننا اسکی باتوں کا بس وقت اور حالات نے اسے ایسے ہی کردیا ہے۔۔۔ “اب وہ کیا بولتی برا تو اسے لگا تھا مگر یہ واحد نوکری بھی چلی جاتی تو وہ کیا کرتی۔۔۔یہ نوکری چھوڑنا وہ کسی صورت افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔”آپ فکر مت کریں میں یہ جاب نہیں چھوڑ رہی ہیں “”شکریہ بیٹا اب تم جاؤ زارون کے پاس کچھ بھجواتی ہوں کھانے کے لئے” اسکے منع کرنے کے باوجود انہوں نے اسکے لئے اچھے خاصے لوازمات بنوا کر بھیجے تھے زارون اپنا ہوم ورک کر رہا تھا اور وہ مکمل توجہ سے اسکا کام دیکھتے گاہے بگاہے اسکے کمرے پر بھی نظر ڈال لیتی۔کمرے کا جائزہ لیتے اسکی نگاہیں بیڈ کے سامنے زارون اور ضوریز کے انلارج پوٹرے کی جانب بڑھی۔اس نے پہلی بار اس شخص کو مسکراتے دیکھا تھا۔۔۔”ہونہہ بدتمیز انسان” منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے وہ واپس زارون کی جانب متوجہ ہوگئی۔۔”وائے آر یو آپ سیٹ عمائم؟” زارون نے کاپی کر سے سر اٹھائے اسے دیکھا جو فوراً سے سیدھی ہوئی۔”آئی ایم ناٹ اپ سیٹ زارون” اسکے گال پر پیار کرتے وہ ہولے سے مسکرائی ۔۔۔”بابا بہت اچھے ہیں میرے عمائم۔۔۔” آنکھیں پٹپٹاتے وہ اسکے سامنے اپنے بابا کی تعریف کر رہا تھا ۔۔اسکا انداز ایسا تھا کہ عمائم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔___________
“کیا ضرورت تھی تم اس بچی سے ایسے بات کرنے کی ؟”شائستہ بیگم کی بات پر کھانے سے ہاتھ روک وہ انہیں دیکھنے لگا۔۔”ضوریز۔۔۔ اتنی مشکل سے زارون نے کسی کو قبول کیا ہے اب مزید کوئی مسئلہ نہیں کرو بیٹا” ان کی بات پر اس نے گہری سانس بھری تھی۔۔”آئی ایم سوری امی۔۔۔””بات سوری کی نہیں ہے ضوریز ۔۔۔ زارون کو ایک ماں کی ضرورت ہے مگر تم اسکی وجہ ضرورت پوری نہیں کرسکتے اب کم از کم اگر وہ ایک ٹیوٹر کی وجہ سے خوش ہے تو بیٹا کیوں اسے اداس کرنا؟”ان کی بات کر وہ سر ہلا گیا۔۔کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔”مجھے کچھ کام ہے ” ادھورا کھانا چھوڑے وہ وہاں سے اٹھ گیا شائستہ بیگم نے دکھ سے اسے جاتے دیکھا تھا۔وہ سیدھا اپنے اسٹڈی میں آیا تھا۔۔کھڑکی کھول اس نے اپنے اندر کی گھٹن کم کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام ہوا تھا۔سیگریٹ سلگاتے اس نے گہرا کش بھرا تھا ۔۔۔”آپ کیوں نہیں سمجھتیں امی۔۔۔ کوئی کیوں نہیں سمجھتا مجھے” اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھولتے اس نے اپنی گھٹن کم کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔۔اسکی آنکھوں کے کنارے سرخ پڑ رہے تھے۔”بابا” زارون کی پکار پر اس نے مڑ کر دیکھا۔جو آہستہ سے چلتا اسکے پاس آیا ۔۔ضوریز نے اسے جھک کر اپنی گود میں بھرا تھا۔۔”بابا آر یو اپ سیٹ ؟””نو ” اسکے بال سنوارتے وہ اسے لئے صوفے پر جا بیٹھا زارون نے اسکے گرد اپنے ننھے ہاتھوں کی گرفت مضبوط کی تھی ۔۔”بابا آئی لو یو” اسکے گال پر پیار کرتے وہ ضوریز کو چونکا گیا۔۔اسے ہمیشہ ضوریز کی شیو چبھتی تھی مگر آج ۔۔”بابا زارون لو یو سو مچ” اپنے ننھے ہاتھ ضوریز کے چہرے کے اطراف رکھے۔۔۔ضوریز اس بار کھل کر مسکرایا تھا۔۔”بابا بالکل بھی اپ سیٹ نہیں ہیں میری جان” اسکے ماتھے پر لب رکھتے ضوریز نے اسے خود میں بھینچا تھا۔۔۔”بابا عمائم بھی بہت اچھی ہے آئی لائک ہر” اب کی بار ضوریز نے زارون کو دیکھا۔۔”آئی نو””آپ انہیں ڈانٹنا نہیں نا پلیز شی از مائے فرینڈ””نہیں ڈانٹتا میں آپ کی عمائم کو یہ بتائیں آج پورا دن کیا کیا میرے بیٹے نے؟””میں نے؟” ضوریز کے سوال پر ایکسائٹڈ ہوتا وہ اب پورے دن کی ڈیٹیلز اسے دے رہا تھا اور وہ مسکراتی نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا وہ اسکی زندگی تھا اسکی خوشی کے لئے تو ضوریز کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔__________
اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو انجانی جگہ پر پایا۔ نرم بستر پر ہاتھ پھیرتے اس نے اچنبھے سے اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھا۔خوبصورت آرائش والا یہ کمرہ بہت بڑا تھا بلیک اور وائٹ کنٹراسٹ نے کمرے کی خوبصورتی میں اضافہ کیا تھا۔۔انجانی جگہ انجانا ماحول خوفزدہ ہو کر اس نے آس پاس نظریں دوڑائے کسی کو دیکھنا چاہا مگر سوائے اسکے وہاں کوئی نہیں تھا۔۔”عبیرہ۔۔۔۔” نقاہت کی وجہ سے اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔سر کو تھامے وہ بمشکل پیر لٹکائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔”ہے لٹل گرل ؟” عقب سے آتی آواز کر خوفزدہ ہوکر اُچھلتے اس نے پیچھے کی جانب دیکھا جہاں وہ بالکونی کے دروازے سے ٹیک لگائے بڑی فرصت سے کھڑا مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔اسے اپنے سامنے دیکھ شہرے کو کچھ برا ہونے کا احساس ہوا تھا کچھ بہت برا۔۔خوف سے آنکھیں پھیلائے اس نے مامون کو دیکھا جس کی آنکھوں میں انوکھی سے چمک تھی۔”تم۔۔۔ تم یہاں۔۔ مجھے” وہ ہکلائی لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر اسکے لبوں سے ادا ہوئے تھے۔”کم ان بے بی گرل۔۔ اس دن اتنی ہمت کی اور تھپڑ مار دیا اب ڈر رہی ویری بیڈ” سیگریٹ کا گہرا کش بھرتے اس نے دھواں اسکی جانب اڑایا تھا۔۔”آئی ایم سوری۔۔۔ مم۔۔ مجھے گھر”بیڈ سے اٹھتے وہ رو دینے کو ہوئی تھی۔”گھر ؟ کون سے گھر جس گھر سے تمہاری اپنی ماں نے نکال دیا تھا؟” چہرے پر معصومیت لئے وہ افسوس سے پوچھ رہا تھا۔۔”مجھے گھر جانے دو مجھے جانا ہے پلیز ” مامون کے قریب آنے پر وہ گھبرا کر پیچھے ہوتے اس سے التجا کر رہی تھی ۔۔”گھر جانا ہے ؟” اسکے پوچھنے پر شہرے نے تیزی سے اثبات میں سر ہلایا۔۔”اوکے چلی جانا مگر اس سے پہلے تمہیں میرے ساتھ ایک کانٹریکٹ سائن کرنا ہوگا””کانٹریکٹ ؟” اس نے ناسمجھی سے مامون کو دیکھا جو اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔۔”بالکل۔۔۔ بس میں تمہیں جہاں کہوں گا تمہیں وہاں سائن کرنا ہوگا اسکے بعد جہاں تم جانا چاہو”وہ اتنی جلدی راضی ہوگیا تھا شہرے کو یقین نہیں آیا تھا۔۔”اوکے پھر اچھے سے فریش ہوجاؤ میں ابھی باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں واپس آؤ گا اوکے؟””مجھے گھر جانا ہے پلیز “شہرے کی آواز پر اسکے باہر کی جانب بڑھتے قدم تھمے۔۔”میں نے کہا نا میں آتا ہوں فریش ہوجاؤ کپڑے اندر ہیں” اب کی بار اسکے لہجے میں نرمی مفقود تھی۔۔شہرے نے ڈر کے سر ہلایا اور اسکے جاتے ہی وہ واشروم میں بند ہوئی تھی جہاں پہلے سے کپڑے موجود تھے۔۔اسے بس کیسے بھی کر کے یہاں سے نکلنا تھا اس کے کئے اسے چاہے مامون کی کوئی بھی بات ماننی پڑے۔۔فریش ہو کر اسنے سرخ رنگ کی سلک کی فراک زیب تن کی تھی جو اس کے گھٹنوں تک آرہی تھی ۔۔گیلے بال کمر پر پڑے تھے۔۔اس نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے خود کو دیکھا اسکی آنکھیں مسلسل رونے سے سرخ ہونے کے ساتھ سوجی ہوئی بھی تھیں۔۔”میم؟”ملازمہ کی پکار پر اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔”آپ تیار ہیں؟””وہ کہاں ہیں؟””وہ کون؟” ملازمہ نے اسکی شکل دیکھی۔۔”تمہارے باس انہیں کہو مجھے میرے چھوڑ کر آئیں” آنکھیں ایک بار پھر بھر آئی تھیں ملازمہ نے حیرت سے اسے دیکھا کیا۔”
میم نیچے میرج رجسٹرار آگئے ہیں میں آپ کو لینے آئی ہوں”ملازمہ کی بات ہر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا میرج رجسٹرار ؟””جی کچھ دیر میں آپ کی سر کے ساتھ شادی “ملازمہ نے اسکے چہرے پر پھیلے شاکڈ کے تاثرات دیکھ پریشانی سے اسے دیکھا کیا اسے کچھ دیر بعد ہونے والی شادی کا پتا نہیں تھا؟””مجھے نہیں کرنی کوئی شادی نکلو یہاں سے دفع ہوجاؤ مجھے میرے گھر جانا ہے ” وہ ایک دم سے پینک ہوئی تھی دل بری طرح گھبرایا تھا۔۔اسکا ری ایکشن اتنا شدید تھا کہ ملازمہ بیچارہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی جس نے پاس پڑا واس زمین بوس کیا تھا۔”مجھے نکالوں یہاں سے مجھے میرے گھر جانا ہے””کیا ہو رہا ہے یہاں؟” شور کی آواز سن مامون تیزی سے اوپر آیا تھا ۔”تم نے کہا تھا نا کہ تم چھوڑ دو گے یہ بول رہی تم شادی کر رہے ہوں مجھے شادی نہیں کرنی مجھے گھر جانا ہے تک ڈیول ہو تم جھوٹے ہو” مامون کے سینے پر ہاتھ مارے وہ رو رہی تھی اس نے قہر بار نظروں سے ملازمہ کو گھورا جو بیچاری خوفزدہ ہوتی سر جھکا گئی اسے اپنی نوکری جاتی ہوئی نظر آرہی تھی۔”لٹل گرل ایسے رونے سے کیا فائدہ مل رہا ہے؟” اسکے روتے وجود کو دیکھتے مامون نے ملازمہ کو جانے کا اشارہ کیا۔۔”مجھے گھر جانا ہے””تم گھر پر ہی ہو””یہ میرا گھر نہیں ہے مجھے میرے گھر جانا ہے”بار بار کی ایک ہی تکرار ۔۔مامون کے بیزاری سے اسے دیکھا۔۔”یہ میرا گھر ہے میری دنیا یہاں سے میری مرضی کے بغیر کوئی نہیں جاتا لٹل گرل۔۔۔ اگر تم چاہتی ہو میں تمہاری ماں کو کوئی نقصان نا پہنچاؤ تو چلو میرے ساتھ نیچے “اسکے چہرے پر آئے بال سمیٹتے وہ نرمی سے کہتا اسے ڈرا رہا تھا یہ اسکا انداز نہیں تھا مامون شیرازی اور نرمی؟؟کیا بات کرتے ہیں کوئی دیکھے تو مارے حیرت بے ہوش نا ہو جائے۔۔”مجھے نہیں کرنی شادی تم سے تم ایک ڈیول ہو۔۔۔””اور تم ایک فیری جو میری قید میں ہے میں تمہیں دو آپشن دیتا ہوں ابھی مجھ سے شادی یا اپنی ماں کی موت۔۔۔ دو منٹ ہیں تمہارے پاس اگر میرے نیچے پہنچنے سے پہلے تم باہر آگئیں تو ٹھیک ورنہ اپنی ماں کی لاش تمہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی” اسکے چہرے پر آئے آنسو پوروں کر چنتا وہ کمرے سے نکلا تھا۔۔۔سیٹی بجاتے وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا آخری سیڑھی پر پہنچتے اس نے موبائل پاکٹ سے نکالا جب اپنے پیچھے قدموں کی آواز پر اسکے چہرے پر کسی فاتح کی طرح مسکراہٹ آئی تھی۔مامون شیرازی ایک بار پھر جیت گیا تھا۔۔لڑکھڑاتے قدموں سے وہ اسکے پاس آکر کھڑی ہوئی تھی مامون نے ایک نظر اسکے جھکے سر کو دیکھا وہ اسکے کندھے سے بھی نیچے آتی تھی اسے دیکھنے کے لئے مامون کو سر جھکانے کی ضرورت تھی مگر بھلا اس نے کبھی سر جھکایا تھا؟”پروسیس شروع کریں” اسکے ایک حکم پر میرج رجسٹرار نے ان دونوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور پھر چند لمحوں اور دستخط کے بعد وہ مکمل مامون شیرازی کی ملکیت بن گئی تھی ۔۔۔۔مامون شیرازی نے جو چاہا تھا وہ اسے حاصل ہوگیا تھا مگر کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟؟”جاری ہے
بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ گھٹنوں میں منہ دئیے بیٹھی سسک رہی تھی۔۔۔کچھ دیر پہلے ہی وہ خود کو اس انسان کے حوالے کرگئی تھی جس نے اسکی زندگی کو مشکل ترین کر دیا تھا۔۔قدموں کی چاپ پر اسکا دل خوف سے سکڑا۔۔ بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑے وہ خوفزدہ نگاہوں سے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور دو سیاہ بوٹ اسکی نگاہوں کی زد میں آئے تھے۔۔پیچھے کو ہوتے وہ بس دیوار میں غائب ہو جانا چاہتی تھی۔۔مامون اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا کسی فاتح کی طرح مسکرا رہا تھا۔۔”ہے لٹل گرل”اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پر پھینکتے وہ آستین کو کہنیوں تک فولڈ کرنے لگا۔۔شہرے نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا۔”سو فائنلی یور مائن” شرٹ کے اوپر بٹن کھولتا وہ اپنے پیروں کو جوتوں سے آزاد کر گیا۔۔وہ کام تو اپنا کر رہا تھا مگر نگاہیں شہرے کے خوفزدہ زرد پڑتے چہرے پر تھیں۔”کیا ہوا کیا زیادہ ہینڈسم لگ رہا ہوں؟”اسکے مسلسل دیکھنے پر آنکھ ونک کرتا وہ ایسے ظاہر کر رہا تھا کیسے یہ ایک نارمل شادی ہو۔۔”آپ کا بدلہ پورا ہوگیا ہے نا آپ مجھے جانے دیں پلیز”شہرے کی بات پر بٹن کھولتا اسکا ہاتھ تھما۔۔نگاہیں اٹھائے اس نے شہرے کی جانب دیکھا اس نے اسکی نگاہوں کی تپش پر سر جھکائے تھوک نگلا۔۔قدم بہ قدم چلتے وہ بیڈ کے پاس آکر رکا تھا۔”ابھی کہاں پورا ہوا ہے میرا بدلہ”؟ اسکے بالوں کو چھوتا وہ وہیں بیڈ کے کنارے پر ٹکتا اسکے دونوں اطراف ہاتھ جماتے اسکے فرار کی راہیں مفقود کر گیا۔۔۔”کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔ مطلب؟” شہرے نے کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح نگاہیں اٹھائے اسے دیکھا۔اسکی آنکھوں میں خوف دیکھ مامون نے چہرے آگے کئے ہولے سے اسکی ناک سے اپنی ناک مس کی تھی۔اسکے اتنے قریب آنے پر سختی سے آنکھیں میچتے وہ بیڈ شیٹ مٹھیوں میں جکڑ گئی۔۔”یہ خوشبو۔۔۔۔” شہرے کے بالوں کو ہاتھ میں لئے اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔”پلیز۔۔۔ میرے ساتھ یہ سب مت کریں ” ایک امید کے تحت اس نے مامون سے التجا کی تھی جس نے اسکے بالوں سے چہرہ ہٹائے اسے دیکھا جس کا چہرہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا سرخ لب کپکاتے مامون شیرازی کو بے بس کر رہی تھے۔۔”اب کچھ مت کہنا ورنہ پھر میں جو کروں گا وہ آپ سہہ نہیں پائیں گی مائے لٹل گرل” اپنے ہاتھ کی پشت سے اسکا سال سہلاتا وہ خود کو کچھ بھی کرنے سے روک رہا تھا۔۔”مگر میں” اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی اسکی گردن کے گرد ہاتھ ڈالتے مامون نے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب کرتے اسکا ماتھا اپنے ماتھے سے ٹکایا۔۔۔مامون کی سانسوں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کرتی سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔”میں نے کہا تھا نا مزید کچھ مت کہنا کیوں اپنی جان مشکل میں ڈالنی ہے لٹل گرل ؟”زومعنی لہجے میں کہتا وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا ۔
“پلیز” اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے ہونٹوں پر محسوس کر اس نے ایک آخری بار خود کو بچانے کی کوشش کی تھی مگر اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی اسکے چہرے پر جھکتا وہ اسکی سانسوں کو خود میں قید کرگیا۔۔اسکے شدت بھرے لمس پر شہرے کی آنکھیں پھیلیں۔۔سانسوں پر مامون کی دسترس محسوس کر اس نے تڑپتے اسکے کندھے پر مکے مارتے اسے خود سے دور کرنا چاہا جو اسکی سانسوں کو پیتے اسے کمر سے تھام اپنے مزید قریب کرگیا۔۔وہ پیچھے ہٹنا بھول گیا تھا وہ اسکے نرم لبوں کے لمس کو محسوس کرتا مکمل ہوش گئے اپنی سانسوں میں اسکی سانسیں منتقل کرتا شہرے کی سانسوں کی روانی بت ترتیب کرگیا تھا۔اس سے پہلے شہرے اپنے حواس کھوتی مامون نے اسکی سانسوں کو آزادی دیتے اسکی گردن کو نشانہ بنایا تھا۔۔اسکی آنکھیں نم تھیں گہرے سانس بھرتے وہ اپنی سانسوں کو ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھی جب ایک بار پھر اسکا چہرہ تھامے مامون نے اسکے ہونٹوں کو اپنی نرم گرفت میں لیا۔۔شہرے نے گھبرا کر اسکے کالر کو مٹھیوں میں جکڑا۔۔۔تو کیا وہ اب اس سے بدلہ لے گا ۔؟” یہ سوچ آتے ہی آنسو ٹوٹ کر اسکے عارض بہے تھے۔۔مامون کا لمس نرمی لئے ہوئے تھا ایسے جیسے وہ کوئی نازک سی گڑیا ہو۔۔ایک بار پھر سانسوں کی روانی مدہم پڑنے پر مامون نے اسکی سانسوں کو اپنی قید سے رہائی دیتے اسکا چہرہ دیکھا جو آنسوؤں سے تر تھا۔۔۔”ہے لٹل گرل ؟”اسکے چہرہ تھامے وہ اسکے آنسوؤں کو دیکھ رہا تھا۔”آپ ڈیول ہو آئی ہیٹ یو” بے دردی سے اپنے ہونٹ صاف کرتے وہ مامون کو مسکرانے پر مجبور کرگئی۔۔”یس آئی ایم مائے لٹل فیری”اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا وہ آہستہ سے اسکے چہرے پر پڑے بال پیچھے سمیٹتے اپنی جگہ سے اٹھا تھا۔۔”جانے کا دل تو بالکل بھی نہیں مگر یہاں کچھ چیزیں ہیں جنہیں دیکھنا ضروری ہے اس لئے اپنا خیال رکھنا جلد واپس آؤں گا”جھک کر اسکے گال پر پیار کرتا وہ پیچھے ہوا تھا جب غصے سے شہرے نے پاس پڑا کشن اسکی جانب اچھالا کسے وہ بآسانی کیچ کرگیا۔”آئی ہیٹ یو ڈیول۔۔۔۔ میں بھاگ جاؤں گی یہاں سے تم دیکھنا ڈیول۔۔۔ ” سسکیوں سے روتے وہ مامون کے ماتھے پر بل لانے کا باعث بنے تھی۔ساری نرمی بھولے اس نے ایک جھٹکے سے شہرے کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا ۔۔”ڈونٹ یو ڈئیر۔۔۔ سوچنا بھی مت شہرے مامون۔۔۔ مجھ سے رہائی اب ممکن نہیں تم پر تمہاری روح پر صرف مامون کا حق ہے” اسے اپنے بے حد قریب کرتے وہ ایک بار پھر اسکے سانسوں پر قابض ہوا تھا مگر اب کی بار نرمی مفقود تھی اس بار وہ پوری شدت سے اسے اپنے لمس سے روشناس کرواتا کپکپانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔”آج کے بعد یہاں سے جانے کی بات مت کرنا لٹل فیری۔۔۔ تمہارے لئے میرا یہ روپ ہی بہتر ہے اگر اصل روپ دیکھایا تو تم برداشت نہیں کرسکوں گی” اسکی کمر پر دباؤ بڑھاتے وہ اسے نئے سرے سے خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔”یہاں سے فرار کی کوشش مت کرنا آتا ہوں میں جلد” اسکا گال تھپتھپاتے وہ اسے یونہی بیڈ پر بیٹھاتا کمرے سے نکلتا چلے گیا۔۔۔_____________
شکستہ قدموں سے چلتی وہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ہی عائلہ بیگم بیٹھی نظر آئیں۔۔”نور میری جان کہاں تھیں بیٹا میں کب سے انتظار کر رہی ہوں” اسے دیکھ فوراً سے جگہ سے اٹھتے وہ اسکے پاس آئیں اس سے پہلے وہ اسے ہاتھ لگاتیں وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔”نور۔۔۔؟””میرے ماں باپ کہاں ہیں امی؟”سوال اتنا اچانک تھا کہ عائلہ بیگم نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔”عائلہ میں ہوں تمہارا امی کیا ہوگیا ہے بیٹا” بدقت مسکرانے کی کوشش کرتے انہوں نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری۔۔”آپ نے کہا تھا میں آپ کو سڑک کنارے ملی تھی میں لاوارث تھی۔۔۔۔ ہیں نا؟””ہاں میری جان “”کیا واقعی میرے ماں باپ زندہ نہیں ؟”اسکے سوال پر عائلہ بیگم نے پریشان نظروں سے اسے دیکھا”آپ مجھے اپنا فون دیں میں اس آدمی سے بات کرنا چاہتی ہوں جو میری تعلیم کے لئے آپ کو اتنی خطیر رقم دیتا ہے” اب کی بار عائلہ بیگم سچ میں پریشان ہوئی تھیں آخر وہ کیا جانتی تھی اس طرح اچانک کیسے۔۔۔۔”نور بیٹا کیا ہوگیا ہے ؟ ادھر بیٹھو میری بات سنو””بات کیا سنی جو مانگ رہی ہیں وہ دے دیں ںا عائلہ بیگم ” جازب شاہ کی آواز پر عائلہ بیگم نے جھٹکے سے دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ دروازے کے پاس کھڑا تھا۔سیاہ لباس پر سیاہ کوٹ پہنے آنکھوں پر گلاسس لگائے ۔ ۔”تم۔۔۔ تم کون ہو یہاں کیسے اندر آئے!”.؟”جازب شاہ ہوں نام تو پتا ہی ہوگا میرا یا آپ کے مالکوں نے میرا نام نہیں بتایا آپ کو؟”تمسخر سے کہتے وہ اس جگہ رکھی واحد کرسی پر پوری شان سے براجمان ہوا تھا نورے نے ناگواری سے اسے دیکھا۔”نورے میری جان یہ جھوٹا آدمی ہے اسکی بات پر”جھوٹے لفظ پر نور نے سہم کر جازب شاہ ہو دیکھا جس کے چہرے پر عجیب سا تاثر ابھرا تھا۔۔”اپنی بیوی کو لے جانے آیا ہوں میں “”تم ایسا نہیں کرو گے سمجھ آئی یہ تمہاری بیوی نہیں ہے” عائلہ بیگم فوراً سے نورے کے سامنے آئیں۔۔۔۔”تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے خلاف پولیس میں جاؤں ؟ انہیں بتاؤں گے آپ کے سوتیلے بیٹے نے آپ کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی اور اپنے سوتیلے بیٹے کو بچانے کے لئے آپ نے اپنی بیٹی کو گھر سے دھکے مار کر نکال دیا کیونکہ آپ کا سوتیلا بیٹا آپ کے سارے راز سے واقف ہوگیا ہے””یہ کیا بکواس ہے ایسا کچھ نہیں ہے جازب شاہ اپنی زبان سنبھال کر بات کرو””امی شہرے کہاں ہے؟”نور کو اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔”نورے اسکی بات پر دھیان مت دو بیٹا یہ جھوٹا ہے اس کا پورا خاندان جھوٹا ہے تم میری بات””شہرے کہاں ہے امی کیا کیا ہے آپ کے میری بہن کے ساتھ” وہ حلق کے بل چلائی۔جازب نے متاثر ہونے والے انداز میں اسے دیکھا جو اب اپنی ماں کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔۔”نور۔۔۔ تم اپنی ماں پر چیخ رہی ہو۔۔۔؟ “”کیا آپ واقعی میری ماں ہیں؟””ہاں ٹھیک ہے نہیں ہوں میں تمہاری ماں مگر میں نے ماں بن کر پالا ہے تمہیں “.”صرف پیسوں کے لئے ” جازب نے اضافہ کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔عائلہ بیگم نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا اسکی یہاں موجودگی ان کی سالوں کی محنت برباد کرنے والی تھی۔۔”دیکھو جازب شاہ۔۔۔”اس سے پہلے وہ کچھ کہتیں جازب نے ایک کاغذ ان کی جانب بڑھایا۔۔ناسمجھی سے اس کاغذ کو دیکھتے انہوں نے ایک نظر جاذب کو دیکھا اور پھر اس کاغذ کو ۔ ۔جیسے جیسے وہ کاغذ پر لکھی تحریر پڑھتی جا رہی تھیں ان کی آنکھیں مارے حیرت کے پھیلتی جا رہی تھیں آنکھوں میں خوف لئے انہوں نے جازب شاہ کو دیکھا۔۔جس کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی۔۔ جبکہ نورے اچنبھے سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔”نور یہ تمہارا شوہر ہے جاذب شاہ کئی سال پہلے تمہارے باپ نے قتل کیا تھا جس کے بدلے تمہارا نکاح جاذب شاہ سے ہوا تھا ”
وہ کسی روبوٹ کی طرح بول رہی تھیں جبکہ نگاہیں نفرت سے جاذب شاہ کو دیکھ رہی تھیں۔۔”آپ جھوٹ بول رہی تھیں اس شخص نے آپ کو””مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے نورے۔۔ تم چاہو تو میں تمہیں سب ثبوت دے سکتی ہوں” ان بات پر وہ ساکت ہوئی تھی کیا وہ واقعی جاذب شاہ کی ملکیت تھی یہ سوچ آتے ہی اسکی ریڈھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی تھی۔۔”تو ثابت ہوا میں سچ بول رہا تھا اس لئے چلو میرے ساتھ”قمیض چھاڑ کر اٹھتا وہ آگے بڑھا مگر نور کے لفظوں نے اسکے بڑھتے قدم روکے تھے ۔”میں کیسے مان لوں کہ تم نے انہیں پیسے دے کر اپنی مرضی کی بات کہنے پر مجبور نہیں کیا؟”اسکے سوال پر جاذب نے بیزاری سے اسے دیکھا تھا۔۔۔”میں حرام نہیں کماتا نورے بی بی جو ان لوگوں کو دیتا پھروں میرا پیسہ اور وقت بڑا قیمتی ہے جو میں تم لوگوں پر پہلے ہی ضائع کر چکا ہوں” نخوت سے کہتے اس واپس پلٹنا چاہا مگر اسے ایک بار پھر رکنا پڑا۔”مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ۔۔۔ کہیں نہیں جاؤں گی آئی سنجھ “”ہماری شرط””بھاڑ میں گئے تم اور تمہاری شرط ” اسکی بات کاٹتے وہ دھاڑی۔۔”زبان سنبھال کر بات کرو ورنہ یہ زبان گدی سے کھینچ لوں گا ” وہ اس سے ڈبل آواز میں دھاڑا تھا عائلہ بیگم نے ان دونوں کو خوف سے دیکھا وہ دونوں ہی اس وقت آگ بنے ہوئے تھے۔۔”کھینچ کر دیکھاؤ میں ہاتھ توڑ دوں گی بہت ہوگیا۔۔ نہیں ہے مجھے یقین کسی بھی بات پر اور اگر واقعی یہ نکاح ہوا ہے تو میں ایسے نکاح جو نہیں مانتی طلاق لے ” اسے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی جاذب چیل کی طرح اس پر جھپٹتا اسکا منہ مٹھی میں دبوچ گیا۔۔”ایک بار اور یہ لفظ ادا ہوا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم ایک زندہ انسان ہو” اسکے سرد لہجے میں کہی بات پر نورے نے سسکی بھری۔جبڑہ جاذب کی گرفت میں تھا جسے جھٹکے سے چھوڑتے وہ اسکا بازو دبوچے دروازے کی جانب بڑھا۔۔”جازب شاہ۔۔۔ چھوڑو مجھے مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ امی۔۔۔ کہہ دیں اس سے یہ سب جھوٹ ہے” اسکے ساتھ گھسیٹتی وہ عائلہ بیگم کو مدد کے لئے پکار رہی تھی چیخ رہی تھی مگر وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی تھیں وہ چاہ کر بھی اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھیں اسکی مدد کرنا مطلب خود کو برباد کرنا تھا اور ایسا وہ کسی صورت نہیں ہونے دے سکتی تھیں۔۔”چھوڑو مجھے میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔۔۔ خدا تمہیں غارت کرے جاذب شاہ ہاتھ چھوڑو میرا” درد سے تڑپتے وہ چلا رہی تھی مگر باہر ہر سو سناٹا چھایا ہوا تھا ساری امیدیں ختم ہو رہی تھیں۔۔ اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر دھکیلتے وہ خود اندر بیٹھا تھا۔۔وہ غصے سے بے قابو ہو رہی تھی۔”گاؤں چلو اجمل” ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اجمل کو حکم دیتا وہ نورے کو سختی سے اپنی گرفت میں دبوچے اسکی مخصوص رگ کو نشانہ بناتے اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر گیا ۔۔جاذب کی انگلیوں کو اپنی گردن پر محسوس کر وہ ساکت ہوئی تھی بالکل ساکت جیسے کوئی مجسمہ۔۔۔ آنکھیں بوجھل ہوتے ہوتے بند ہوئیں اور وہ جازب شاہ کے سینے پر گری تھی۔۔گہرا سانس بھرتے جاذب نے سوئی شیرنی کو دیکھا۔۔۔اپنے ہاتھ پر اسکے ناخنوں کے نشان کو ناگواری سے دیکھتے وہ اجمل کو نیا حکم دینے لگا۔۔”جو حکم سرکار””اجمل؟””جی سائیں ؟””نام کب تبدیل کر رہے ہو؟”اسکی بات پر اجمل چونکا تھا۔۔ ۔”گاؤں واپس جانے کے بعد” آہستہ سے کہتا وہ اپنا سارا دھیان ڈرائیونگ پر لگا گیا۔۔۔____________”کیا ہوا موڈ کیوں خراب لگ رہا ہے؟” کامران کی آواز پر لیپ ٹاپ پر چلتی ضوریز کی انگلیاں تھمی تھیں مگر محض لمحے کو وہ واپس سے اپنے کام میں مصروف ہوچکا تھا۔۔”اففف خدایا اتنا غصہ ؟؟””میرے منہ مت لگ” اس نے دانت کچکچاتے کامران کو وارن کیا تھا جو قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔”یار میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی تو ایک ٹیوٹر سے جیلس ہو رہا ہے چند گھنٹے کے لئے آتی ہے وہ بیچاری اور پھر واپس چلی جاتی””صرف واپس نہیں جاتی اس نے زارون پر جادو کردیا ہے اسکے علاؤہ وہ کوئی بات ہی نہیں کرتا۔۔”عمائم کو اسکے گھر آتے آتے مہینہ ہوگیا تھا اور اس دوران زارون اس سے حد سے زیادہ اٹیچیڈ ہوگیا تھا اور اسکی یہی اٹیچمنٹ ضوریز کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔”یار۔۔۔ پہلے تیری خواہش تھی زارون لوگوں سے بات کریں اٹیچیڈ ہو اب جب وہ ہو رہا ہے تو””ضروری ہے کہ وہ اس عمائم سے ہی اٹیچیڈ ہو؟ اس سے پہلے اتنی ٹیوٹر گورنس تھیں ان سے بھی تو ہوسکتا تھا۔۔”ریلکس نا یار۔۔۔ اب عمائم اسے پیار کرتی ہے اس لئے زارون صرف جاب نہیں ہے””میں گھر جا رہا ہوں” وہ مزید کچھ نہیں سننا چاہتا تھا اس لئے لیپ ٹاپ بند کرتا وہ گاڑی کی چابیاں اٹھائے باہر بڑھا تھا کامران بس گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔________
“زارون” عمائم نے کوئی تیسری بار اسے وارننگ دی تھی جو اب کی بار بھی ٹوٹے دانتوں کی نمائش کرتا اسے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا مگر اس بار عمائم نے اپنی مسکراہٹ بمشکل چھپائی تھی۔۔”عمائم۔۔۔؟”وہ اسے مس نہیں کہتا تھا نا کچھ اور بس وہ اسے عمائم کہتا تھا ۔۔ وہ زراون کی عمائم تھی۔۔۔”جی بچے؟””میرا دل کرتا آپ میرے ساتھ اسی گھر میں رہو”اسکی فرمائش پر عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔”میں آپ کے پاس روز آتی ہوں””آئی جو بٹ ۔۔۔””اچھا لیسن۔۔ میں ابھی گھر جا رہی ہوں کل ملیں گے ہم اوکے نا” ؟ اسکے گال پر پیار کرتے وہ اپنا سامان سمیٹنے لگی۔۔ناجانے کیوں مگر اس سے دلی انسیت محسوس ہوتی تھی۔۔اسکی ماں نہیں تھی اور کیوں نہیں تھی نا کسی نے اسے بتایا نا اس نے جاننے کی کوشش کی۔۔۔زارون کی شائستہ بیگم کے حوالے کرتے وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتے عجلت میں باہر کی جانب بڑھی تھی جب اچانک سامنے سے ضوریز اندر داخل ہوا تھا اچانک تصادم پر اس سے پہلے وہ گرتی ضوریز نے اسکی کمر کے قید بازو باندھ اسے گرنے سے روکا تھا۔عمائم نے سختی سے ضوریز کے کالر کو مٹھیوں میں جکڑا تھا۔۔اسکا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تھا۔۔”آر یو اوکے مس عمائم؟”ضوریز کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں آتی ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی تھی مگر اس بار اسکے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔ضوریز نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھام اسے گرنے سے بچایا تھا۔عمائم نے سر اٹھائے اس وجہہ انسان جو دیکھا جو اسکے بے حد قریب کھڑا اسکی دھڑکنیں منتشر کرنے کا باعث بن رہا تھا۔۔۔”آپ ٹھیک ہیں ؟” اسے خود کو تکتا پاتے ضوریز نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا تو وہ جیسے چونکی۔۔۔”ہاں ؟۔ اوو سوری میں نے آپ کو نہیں دیکھا تھا آئی “”اٹس اوکے آپ کے لگی تو نہیں ؟” وہ فکر مندی سے اسکے پیروں کی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکے کلون کی خوشبو عمائم کو اپنے حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔”میں ٹھیک ہوں” سر سے ڈھلکی ہوئی چادر سر پر اچھے سے اوڑھتی وہ خوامخواہ ہی شرمندہ ہوئی تھی۔۔”آئی ایم سوری” ناجانے کیوں ضوریز کے سامنے وہ پہلی بار اتنا نروس ہو رہی تھی ۔۔۔”آئی سیڈ اٹس اوکے” اسکے جھکے سر کو دیکھتے وہ اندر بڑھا تھا مگر شائستہ بیگم نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔۔”ضوریز دیکھو رات ہونے والی ہے بیٹا زرا عمائم کو اسکے گھر ڈراپ کردو””نہیں آنٹی پلیز آپ انہیں پریشان مت کریں میں خود جا سکتی ہوں” اس سے پہلے ضوریز انکار کرتا اس نے خود ہی انکار کیا تو ضوریز نے سکھ کا سانس بھرا۔۔”بالکل بھی نہیں بیٹا دیکھو باہر ایسے اکیلے جانا ٹھیک نہیں ڈرائیور میرے کام سے گیا ہے ورنہ میں اسے کہہ دیتی جاؤ شاباش ضوریز”وہ منع کرنا چاہتا تھا مگر پھر گہرا سانس بھرتے سر ہلایا۔۔”دادو میں بھی جاؤں گا””ہاں ہاں جاؤ” شائستہ بیگم کو اور کیا چاہیے تھا۔۔”آجائیں ” عمائم کو آنے کا کہتا وہ واپس مڑا تھا جب زارون نے عمائم کا ہاتھ تھاما اور باہر ضوریز کے پیچھے بڑھا۔۔اب وہ عمائم کے لئے ڈور اوپن کر رہا تھا۔شائستہ بیگم نے مسکرا کر اس منظر کو دیکھا تھا۔۔”کاش تم واپس سے زندگی کی طرف لوٹ آؤ ضوریز۔۔ زارون کو اسکی ماں مل جائے”انہوں نے دل سے دعا کی تھی۔سامنے کا منظر اتنا مکمل تھا کہ وہ نظریں نہیں ہٹا پا رہی تھیں۔۔جاری ہے
گاڑی اپنے مخصوص راستوں سے گزر رہی تھی ۔اجمل پورے دھیان سے گاڑی ڈرائیور کر رہا تھا۔جبکہ پچھلے سیٹ پر بیٹھا جاذب شاہ اس وقت مضطرب سا بیٹھا کھڑکی کے پار دیکھ رہا تھا۔آخر کار اس نے خود سے کیا وعدہ پورا کیا تھا ایک نظر سیٹ پر پڑی نورے جو دیکھتے اس نے رخ پھیر لیا۔۔وہ کبھی بھی ہوش میں آ سکتی تھی۔۔ اس کے بعد وہ اچھے سے جانتا تھا وہ چپ بالکل نہیں بیٹھے گی اور پھر ہوا بھی یہی۔ہوش میں آتے ہی اس نے خود کو گاڑی میں پایا۔۔ہر منظر جیسے کسی فلم کی طرح آنکھوں میں چلنے لگا تھا۔۔”امی۔۔” سیدھی ہونے کی کوشش کرتی وہ زرا سی اٹھی تو نگاہیں سیدھا جاذب شاہ سے جا ٹکرائیں جو ہنوز باہر دیکھ رہا تھا۔۔”تم۔۔۔ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہوں گاڑی روکو”وہ چیخی تھی اور اس چیخ پر جاذب شاہ کے ماتھے پر بلوں کا جال بنا تھا۔۔۔”اجمل گاڑی کی اسپیڈ تیز کردو” بنا اسکی طرف دھیان دئیے اس نے اجمل کو حکم دیا۔۔”میری بات سنو جاذب شاہ ۔۔۔ مجھے میرے گھر چھوڑ آؤ دیکھو۔۔ میں کچھ نہیں جانتی سالوں پہلے کیا ہوا میرا کوئی قصور نہیں مجھے کیوں لے کر جا رہے ہو” اسکا بازو تھامے وہ مسلسل اسکی توجہ اپنی جانب کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو اس وقت بہرہ بنا بیٹھا تھا۔۔۔”جاذب شاہ میں تم سے بات کر رہی ہوں کیا چہرے ہوگئے ہو؟؟”اسکی بات پر جاذب کے چہرے پر ناگواری بھرا تاثر ابھرا تھا اس نے گردن گھما کر سخت نظروں سے نورے کو دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا اسے یوں کمزور پڑتے دیکھ جازب کے چہرے پر بری دلکش سی مسکراہٹ کھلی تھی۔نورے نے حیرت سے اسے مسکراتے دیکھا۔۔”تمہیں پتا ہے اس وقت تم مجھے کتنا سکون دے رہی ہو؟””ک۔۔کیا۔۔۔ مطلب ” وہ سمجھی نہیں تھا مگر کچھ تھا ایسا جو اسے خوفزدہ کر رہا تھا۔۔”یہ آنسو یہ ان آنکھوں میں خوف اپنوں سے بچھڑنے کا خوف۔۔ اتنے سال لگے مجھے دل سے خوش ہونے میں” وہ عام سے لہجے میں بول رہا تھا مگر اسکی نگاہوں کی تپش۔۔نورے کو اپنا آپ جھلستا محسوس ہو رہا تھا۔۔”میرا کیا قصور ہے خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو””تمہارا قصور یہ ہے کہ تم انیس یزدانی کی بیٹی ہو۔۔۔”،”میں کسی انیس یزدانی کی بیٹی نہیں ہوں سمجھ آئی “اسکی بات پر جاذب کے چہرے پر تمسخر پھیلا۔۔”تو کیوں اتنی شان سے اسکا نام اپنے نام کے ساتھ لگا کر گھومتی ہو،؟’ اسکے گہرے طنز پر نورے نے اسے دیکھا۔عائلہ بیگم نے اسے کہا تھا اسکے ماں باپ نہیں جنہوں نے اسکا خرچہ اٹھایا وہ اسے اپنا نام دینا چاہتے تھے تو کیا۔۔۔وہ لمحے کو ٹھٹکی تھی۔۔جاذب بغور اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ رہا تھا۔۔”یزدانی؟”اس نے زیر لب یہ نام دہرایا۔۔۔یا خدا یہ کیا تھا کیا سچ تھا کیا جھوٹ۔۔۔”کیا ہوا ؟ اب آیا میری بات پر یقین ؟””تمہاری بات پر تو میں مر کر بھی یقین نہیں کروں گی جازب شاہ۔۔ تم جیسے نامرد” اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی جازب نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسکے اپنے قریب کھینچتے اسکی کمر کے گرد اپنے ہاتھ کا دباؤ انتہا کی حد تک بڑھایا تھا ۔”گاڑی رکو۔۔ ” اسکے حکم پر گاڑی فوراً رکی تھی۔۔”اجمل پانی کا بندوست کرو” وہ دیکھ نورے کو رہا تھا مگر بول اجمل کو رہا تھا جو سر ہلاتے گاڑی سے اتر گیا۔۔”کیا کہا تم نے مجھے نامرد؟”اسکی کمر پر اپنا دباؤ بڑھاتا وہ اپنا چہرہ نورے کے چہرے کے قریب کیا انتہا کی حد تک قریب۔۔۔”تم مجھے سے دور” اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کر سکتی جاذب نے اسکے لبوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا۔۔۔وہ اسکے لمس پر مچلی تھی۔۔ کتنا تکلیف دہ احساس تھا یہ۔۔دونوں ہاتھوں کو جازب کے سینے پر مار پر وہ اپنا سانس رکنے پر مچل رہی تھی جو اسکے ہونٹوں کی نرماہٹ کو محسوس کرتا اپنا شدت بھرا لمس اسکے ہونٹوں پر لٹاتے اسے تکلیف سے دوچار کر رہا تھا ۔نورے کو لگا اگر اب اسکی سانسوں کو رہائی نا ملی تو ہو یہی اسی وقت مر جائے گی۔۔مگر وہ بے رحم تھا اور آج یہ بات ثابت کر رہا تھا۔اسکے ہونٹوں پر اپنی شدت لٹاتے اس نے اسکے لبوں کو رہائی دی مگر اس سے دور اب بھی نہیں ہوا تھا۔۔”اتنا مردانگی کا ثبوت کافی ہے یا؟” اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی نورے کا سر نفی میں زوروں سے ہلا تھا۔گہرا سانس بھرتی وہ اپنی نم آنکھیں سختی سے میچ گئی ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر بہا تھا جسے جاذب شاہ نے اپنے لبوں سے چنا۔۔”آئندہ لفظوں کا چناؤ کرتے ہوئے سو بار سوچنا میں جاذب شاہ ہوں میری ڈکشنری میں رحم نام کا لفظ نہیں ہے”اسکی بات پر نورے نے آنکھوں میں نفرت بھرے اسے دیکھا تھا۔۔آخر کوئی شخص اتنا ظالم کیسے ہوسکتا تھا اتنا ظالم بے رحم۔۔۔جاذب نے اسکی آنکھوں نہیں جھانکا جہاں خوف نہیں تھا اور یہی چیز اسے آگ لگانے کے لئے کافی تھی وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لئے خوف دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ جو نورے یزدانی کی آنکھوں میں زیادہ دیر تک نہیں پاتا تھا۔۔”اجمل ” اسکی پکار پر اجمل واپس سے گاڑی آ بیٹھا۔نورے نے ایک نظر اجمل کو دیکھا ۔۔اسکی کمر تیس سال تھی صاف رکھتے کھڑے نقوش۔۔ چہرے پر موجود ہلکی شیو اور گھنی مونچھیں ۔۔وہ دیکھنے میں کہیں سے ڈرائیور یا ملازم نہیں لگتا تھا کچھ تھا جو اسے الگ بناتا تھا۔مگر کیا۔۔وہ خود کو آنے والے وقت کے لئے تیار کر رہی تھی اگر جاذب شاہ کو اسکی آنکھوں میں خوف پسند تھا تو اس نے سوچ لیا تھا وہ کبھی جازب شاہ کو خوش نہیں ہونے دے گی____________
سنہری دھوپ کی کرنیں شاہ حویلی کو روشن کئے ہوئے تھیں۔۔۔شاہ حویلی کے احاطے میں حسب معمول ملازموں کی چہل پہل شروع ہوچکی تھی۔۔۔ایسے میں حویلی کے پچھلے باغیچے میں اس وقت سہیل شاہ ملازم کی مدد سے چہل قدمی کر رہے تھے پاس ہی ان کا وفادار ملازم خدا بخش انہوں کچھ بتا رہا تھا جسے سن ان کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔”میں اس لڑکی کا وجود اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گا خدا بخش”ان کی آواز آج بھی ویسے ہی رعب دار تھی جیسے سالوں پہلےعمر شاہ کے مرنے کے بعد ان کے کندھے ضرور جھکے تھے مگر وہ آج بھی ان کی شخصیت ویسی ہی تھی جیسے سالوں پہلے۔۔۔عمر شاہ اس دنیا سے چلے گئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کو جاذب شاہ میں ڈھونڈ لیا تھا جاذب شاہ کو تو ان کا خون بھی معاف تھا ۔۔۔اور رہی اقصی عمر شاہ تو اسکی شادی انہوں نے کچھ وقت پہلے ہی اپنے پوتے ارقم سراج شاہ سے کردی تھی جو اپنے کام کے سلسلے میں شہد میں مقیم تھا۔۔اس وقت حویلی میں عمر شاہ کی بیوہ نجمہ شاہسراج شاہ اور ان کی بیوی سکینہ اور ان کی دو بیٹیاں ردابہ عنایہ تھیں عنایہ اپنے ماموں زاد سے منسوب تھی جبکہ ردابہ جازب کو پسند کرتی تھی۔۔۔۔۔”سرکار آپ تو چھوٹے مالک کو اچھے سے جانتے ہیں انہوں نے بس حکم دیا تھا کہ آپ تک پیغام پہنچا دیا جائے۔۔خدا بخش کی بات پر سہیل شاہ نے محض سر ہلانے کر اکتفا کیا تھا۔۔۔،”ناصر جاؤ حویلی کے پیچھے والا کمرہ کھول دو ” ان کے حکم پر ناصر تیزی سے وہاں سے نکلا تھا جبکہ وہ خود خدا بخش کا ہاتھ تھامے حویلی کے اندر داخل ہوئے جہاں آنگن میں ہی سکینہ بیگم مرچیں سکھا رہی تھیں جبکہ نجمہ بیگم تلاوت کرنے میں مصروف تھیں۔”اسلام وعلیکم ابا جی””وعلیکم السلام جیتی رہو۔۔۔ نجمہ۔۔۔ ؟””جی ابا جی؟” سہیل شاہ کی پکار پر انہوں نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔”تمہارا بیٹا کامیاب ہوگیا ہے اپنی ملکیت حاصل کرنے میں کچھ ہی دیر میں وہ لوگ یہاں ہونگے ۔۔ وقت آگیا ہے بدلہ لینے کا۔۔۔ اس لڑکی کو پتا چلنا چاہیے کہ اسکے باپ نے جو کیا اس کی سزا اب اسے ساری عمر بھگتنی ہے”ان کی بات پر نجمہ بیگم کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔۔۔سکینہ بیگم نے افسوس سے سہیل شاہ کو دیکھا۔۔جو اب ملازم کا ہاتھ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے۔”بھابھی” سکینہ بیگم نے پاس آکر ان کا ہاتھ تھاما۔۔”یہ سب ایسے کیوں ہو رہا ہے سکینہ جب ہماری زندگیاں نارمل ہوئی ہیں تو پھر اب یہ سب کیوں؟””وہ سب وقتی تھی ہم سب جانتے تھے جو نفرت کا زہر جازب کو دیا گیا ہے اسکے بعد کسی ایک کا تو برباد ہونا لازم ہے””تو میری ہی اولاد کیوں سکینہ۔۔۔ “”آپ پریشان مت ہوں۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا” انہیں نرمی سے کہتے انہوں نے سیڑھیوں پر رکھی ردابہ کو دیکھا جس کے چہرے کا رنگ بتا رہا تھا کہ وہ سب سن چکی ہے۔۔گہرا سانس بھرتے انہوں نے اپنا دھیان۔ نجمہ بیگم کی طرف کیا تھا۔۔_________
آج کی صبح عمائم کے لئے بہت خاص تھی۔۔ آج اسکے بابا کی سالگرہ تھی ان کے انتقال سے لے کر اب تک وہ ہمیشہ ان کے لئے نیا سوٹ خریدتی اور پھر اسے کسی غریب کو دے دیتی۔۔۔آج بھی وہ جلدی اٹھ گئی تھی کیونکہ آج ٹیوشن جلدی جانا تھا۔۔،”ہفتے پہلے تم کس کے ساتھ آئی تھیں عمائم؟”وہ اپنا کمرہ صاف کر رہی تھی جب عابدہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ان سے سوال کیا۔اس نے اچنبھے سے انہیں دیکھا ہفتے پہلے والی بات وہ اب کیوں کر رہی تھیں۔۔”کیوں خیریت امی؟””مجھے تم بتاؤ اس دن کس کے ساتھ آئی تھیں تم عمائم؟”ان کا لہجہ سخت ہوا تھا عمائم نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔”ضوریز صاحب کے ساتھ آئی تھی ساتھ زارون بھی تھا “”کیا ضرورت تھی تمہیں اس انسان کے ساتھ آنے کی؟””امی آخر ہوا کیا ہے آپ مجھے بتائیں گی آپ کو کس بات پر غصہ آرہا ہے اس دن لیٹ آنے پر یا ضوریز صاحب کے ساتھ آنے پر ؟””تم جانتی ہو نا عمائم۔۔ تمہارے ماموں بالکل بھی راضی نہیں تھے اس نوکری کے لئے۔۔ “”ایک منٹ۔۔۔ آپ سے ماموں اور ممانی نے کچھ کہا ہے ؟” وہ اب بات کی تہہ تک پہنچی تھی ۔”عمائم۔ انہوں نے کچھ نہیں “”امی پلیز ۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے میں کوئی چھوٹی بچی ہوں جسے کچھ سمجھ نہیں آتا ؟ ہاں میں اس ضوریز صاحب کے ساتھ آئی تھی کیونکہ شائستہ آنٹی مجھے اکیلے بھیجنا نہیں چاہ رہی تھیں پھر میں زارون ہمارے ساتھ آیا اور اس بات پر ماموں ممانی کو آخر مسئلہ کیا ہے؟ ان لوگوں کو میرے علاؤہ کوئی نہیں دیکھتا ؟””بڑے ہیں وہ تمہارے فکر کرتے ہیں وہ تمہاری “”انہیں کہیں وہ اپنی اولاد کی فکر کرلیں ” تنک کر کہتے اس نے ہاتھ میں موجود کپڑے بیڈ پر پھینکے۔۔۔”ٹھیک کہتی ہیں بھابی تم احسان فراموش ہوتی جا رہی ہو ان لوگوں نے اتنا کچھ کیا اور تم”ان نے دانستہ بات ادھوری چھوڑی۔”کیا کیا آج تک انہوں ہاں اب آپ بول رہی ہیں تو بتائیں نا امی آخر کیا کیا ہے ان لوگوں نے؟”.”تمہیں پڑھایا لکھایا اور””امی امی امی۔۔۔۔” اس نے افسوس سے عابدہ بیگم کو دیکھا۔۔”جو انہوں نے مجھ پر خرق کیا وہ میرا تھا انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا مجھ پر ۔۔۔ میرے بابا کا کامیاب بزنس ملا تھا انہیں۔۔۔ جس پر انہوں نے اپنا قبضہ جمایا۔۔۔””عمائم” انہوں نے اسے روکنا چاہا مگر وہ انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک گئی۔”نہیں امی روکیں مت مجھے۔۔۔ آج تک جو بھی ان لوگوں نے مجھ پر خرچ کیا وہ میرے باپ کی جمع شدہ رقم تھی کچھ نہیں کیا ان لوگوں نے میرے لئے تو بالکل بھی نہیں”غصے سے کہتے وہ اپنا بیگ اٹھائے چادر اوڑھنے لگی۔۔۔دل تھا کہ پھٹنے کو تھا۔۔”عمائم۔۔۔ احسان فراموش مت بنو ۔۔””کوئی احسان نہیں کیا انہوں نے میرے باپ کو مرنے چھوڑ دیا تھا اور آپ اپنے بھائی کی محبت میں سب بھول گئیں۔۔ کیا آپ نے ایک بار بھی میرے باپ کے بارے میں سوچا آپ کا بھائی ہی میرے باپ کی موت کا زمہ دار ہے امی” وہ مزید بولتی اگر عابدہ بیگم کا ہاتھ اسکے گال پر نا پڑتا۔۔۔”بس بہت بول لیا بہت۔۔۔ تم بھی اپنے باپ کی طرح ہو عمائم۔۔ اسی کی طرح ضدی خود سر۔۔ اور خود غرض” عمائم نے پھٹی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا ۔جو غصے سے کانپ رہی تھیں۔۔”عمائم” اس سے پہلے وہ کچھ کہتیں وہ اپنا بیگ اور چادر اٹھائے وہاں سے نکلتی چلے گئی۔۔_________”آج کے بعد یہاں سے جانے کی بات مت کرنا لٹل فیری۔۔۔ تمہارے لئے میرا یہ روپ ہی بہتر ہے اگر اصل روپ دیکھایا تو تم برداشت نہیں کرسکوں گی” اسکی کمر پر دباؤ بڑھاتے وہ اسے نئے سرے سے خوفزدہ کرگیا تھا۔۔۔”یہاں سے فرار کی کوشش مت کرنا آتا ہوں میں جلد” اسکا گال تھپتھپاتے وہ اسے یونہی بیڈ پر بیٹھاتا کمرے سے نکلتا چلے گیا۔۔۔وہ جا چکا تھا اور شہرے کو اب بھی وجود آگ میں لپٹا محسوس ہو رہا تھا ہاتھ کی پشت سے اپنے ہونٹ رگڑتے وہ بے بسی سے رو دی۔۔ہچکیوں سے روتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی اسکا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔واشروم کا دروازہ کھول وہ اندر داخل ہوئی۔شاور کھولتے وہ وہیں بیٹھتی چلے گئی۔۔ٹھنڈا ٹھار پانی اسکے جسم پر سب گزرتا اسکے وجود پر کپکپی سے طاری کر رہا تھا مگر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا اسکی تکلیف اس ٹھنڈ کے آگے کچھ نہیں تھی ۔۔گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھے وہ رو رہی تھی۔ساری باتیں یاد کے اسکا دل ایک بار پھر دکھا تھا اسکی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔مگر یہاں اسکے پاس کوئی نہیں تھا کوئی بھی نہیں۔۔۔________وہ اس وقت میٹنگ سے فارغ ہوا تھا اور اب لیپ ٹاپ اسٹیو کو تھماتے اس نے اپنے آفس کا رخ کیا تھا۔اسکی پرسنالٹی ایسی تھی کہ لوگ رک کر اسے ضرور دیکھتے تھے مگر وہ کسی کو ایک بار پلٹ کر نہیں دیکھتا تھا ۔۔وہ اپنے آفس میں داخل ہوا تھا ۔۔اسکا آفس اسکی پسند کے مطابق بنایا گیا تھا۔وہ اسٹیو کو نیو پراجیکٹ کے حوالے سے پوائنٹس بتاتا اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا جب اچانک اسکے آفس کا ڈور اوپن ہوا تھا اور اندر آنے والی شخصیت کو دیکھ مامون کے ماتھے پر بل پڑے چہرے پر ناگواری چھائی تھی۔۔”ہے ڈارلنگ”دلکش نسوانی آواز۔۔مامون نے جبڑے بھینچے اسٹیلا کو دیکھا جو اسکے ایک اہم کلائنٹ کی بیٹی تھی۔۔وہ اس وقت گھٹنوں تک آتے منی ڈریس میں تھی بلونڈ بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو جاؤ یہاں سے مجھے مون سے کچھ پرسنل بات کرنی ہے” مون کہنے پر اسٹیو نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر مامون کو جس کے اشارہ کرنے پر وہ وہاں سے نکلا تھا۔۔”اوو مون آئی مس “”,گیٹ آؤٹ” اس سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتی مامون کی آواز پر اس نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔۔”واٹ ؟”اسٹیلا نے ایسے ظاہر کیا تھا جیسے ظاہر کیا جیسے اس نے سنا ہی نا ہو ۔۔۔”آئی سیڈ گیٹ آؤٹ اسٹیلا وائم۔۔۔ ” ایک ایک لفظ چبا کر کہتا وہ اسٹیلا کا چہرہ مارے ہتک کے سرخ کر گیا۔۔”تم مجھے جانے کے لئے کہہ رہے ہو مون؟” حیرت میں ڈوبی آواز اوپر سے اسکا مون کہنا مامون کو اس لفظ سے الجھن سی ہوئی تھی۔”ہاں کیوں ؟ تم کوئی حسن کی دیوی ہو جو میں تمہیں یہاں سے دفع ہونے کے لئے نہیں کہہ سکتا؟”دونوں ہاتھوں کی کہنیاں ٹیبل پر ٹکاتے اس نے اپنے ہاتھ ٹھوڑی پر رکھے۔۔”تم جانتے ہو نا میں کون ہوں؟””ہاں تم میرے کلائنٹ کی وہ بیٹی جسے وہ اپنی بیٹی نہیں مانتا یو نو یور کلچر؟” مزے سے کہتا وہ اسٹیلا کے آگ لگا گیا۔۔”یو۔۔۔۔””,ڈونٹ یو ڈئیر ۔۔ نکلو یہاں سے ورنہ گارڈز تھکے مار کر نکالتے ہوئے بالکل بھی اچھے نہیں لگیں گے” اپنی جگہ سے اٹھتا وہ اسکے روبرو آیا جو آنکھیں میں غصہ لئے اس کے وجہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی اتنی بے عزتی کے بعد بھی وہ یہاں موجود تھی تو اسکی وجہ مامون شیرازی تھا جسے حاصل کرنے کی ایک ضد سی ہوگئی تھی اسے۔۔۔”کرلو کتنا نخرہ کرنا کیونکہ بہت جلد اس آفس ،تمہارے گھر اور تم پر میرا حق ہوگا اور وہ بھی تمہاری مرضی سے ۔۔۔ ڈالنگ میں تم پر آسانی سے گیو اپ نہیں کروں گی”سکون سے کہتے اس نے مامون کے چہرے کو چھونے کے ہاتھ ہاتھ بڑھایا جب اسکا ہاتھ مامون کی سخت گرفت میں آیا تھا اسکا ہاتھ تھام اس نے اچانک تیزی سے مڑوڑتے اسٹیلا کی کمر سے لگایا کہ تکلیف سے اسکی چیخ نکلی تھی۔۔۔”آئندہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا اسٹیلا ورنہ تمہارے باپ کو اس ہاتھ کے ٹکڑے ڈھونڈنے میں بڑا وقت لگ جائے گا” اسکے کان کے قریب غراتا وہ اسے خود کپکپاتے پر مجبور کرگیا تھا۔۔”گارڈز” وہ اتنی تیزی سے دھاڑا تھا کہ اسٹیلا نے فوراً سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کان پر رکھے۔،”میں جا رہی ہوں مامون،” اسے کہتے وہ گارڈز کے آنے سے پہلے ہی تیزی سے وہاں سے نکلی تھی اور اسکے جاتے ہی وہ خود بھی اپنے گھر آیا تھا۔گاڑی اپنے گھر کے پورچ میں پارک کرتا وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا۔کمرے کے دروازہ کھولتے ہی وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا تھا زمین پر شہرے کو دیکھ اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا۔بنا لمحے کی دیری کئے وہ اسکے تک پہنچا تھا۔۔”ہے ۔۔۔ لٹل گرل۔۔۔۔؟’ اسکا چہرہ چھوتے اسے دھچکا لگا شہرے کا پورا وجود اس وقت جھلس رہا تھا اسکے کپڑے بال سب گیلے تھے۔۔”شہرے واٹ ہیپنڈ آنکھیں کھولو” اسکے ہاتھ مسلتے وہ اسکے چہرے پر پھونک مار رہا تھا ۔۔”اسٹیو گاڑی نکالو”وہ چیخا تھا جب کے ہاتھ اب بھی شہرے ہے کے ہاتھوں کو گرمائش پہنچا رہے تھے۔۔”میں تمہیں اس حرکت کے لئے چھوڑو گا نہیں” غصے سے کہتا وہ اسے بانہوں میں بھرے وہاں سے نکلا تھا ۔۔________شہرے کا وجود اس وقت شدید تپ رہا تھا۔مامون نے بے چینی سے اپنا ماتھا مسلا۔۔”ڈاکٹر از شی اوکے؟”ڈاکٹر شہرے کو چیک اپ کر رہی تھی ۔۔”زیادہ دیر شاور کے نیچے رہنے سے ان کا بخار بہت زیادہ بڑھ گیا تھا اسی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئی ہیں میں نے انجیکشن دے دیا ہے صبح تک انہیں ہوش آ جائے گا” ڈاکٹر کی بات پر اس نے ایک نظر بیڈ پر پڑی شہرے کو دیکھا تھا جس کے چہرے کا رنگ زرد پڑا ہوا تھا۔۔”تو تم میرے ساتھ ایسے کھیلوں گی ۔۔ یو نو لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر اور تم۔۔۔ تم اپنے اس سوتیلے بھائی ہونہہ” ناگواری سے کہتے اس نے اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں چلائیں ۔۔آج اس وقت اس سے زیادہ بیزار انسان کوئی نہیں تھا۔۔کچھ دیر بعد اس نے اسٹیو سے شہرے کے لئے کپڑے منگوائے اور انہیں نرس کے حوالے کیا۔۔”دھیان رکھنا جا رہا ہوں میں” اسٹیو کو کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا اسکا ارادہ اپنے چند خاص لوگوں کے ساتھ پارٹی کرنے کا تھا۔اسپتال کے بیڈ پر پڑی شہرے بخار میں تپ رہی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو اسکا خیال رکھتا اسٹیو تھا مگر وہ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا۔۔کیا واقعی اسکی زندگی میں کوئی اسکا اپنا نہین تھا؟
قسط_10سورج کی سنہری کرنیں کھڑکی کے راستے سے اسپتال کے کمرے میں داخل ہوتیں شہرے کی نیند میں خلل پیدا کرنے کا باعث بنی تھی۔۔مندی آنکھوں کھولے اس نے آس پاس کے ماحول کو سمجھنے کی کوشش کی تھی ۔۔بخار اسکا اتر چکا تھا اور اب وہ خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی۔۔”آپ اٹھ گئیں ؟ اب طبعیت کیسی ہے ؟”نرس اسکے روم میں آئی تو اسے جگا پایا۔۔”میں یہاں ۔۔۔ میرا مطلب مجھے یہاں کون لایا ہے؟””آپ کے ہسبنڈ لائے تھے کل آپ کو یہاں آپ بخار میں تپ رہی تھیں ۔”ہسبنڈ لفظ پر شہرے کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔۔”آپ فریش ہو جائیں ڈاکٹر آنے والے ہیں پھر چیک اپ کے بعد آپ کا ڈسچارج مل جائے گا” وہ نرس عادتاً کافی اچھی تھی شہرے کا دل کیا اسے مدد کے لئے کہے مگر وہ اپنی وجہ سے اس بیچاری نرس کی زندگی مشکل نہیں کرسکتی تھی جو شخص پاکستان سے اسے یہاں لا سکتا ہے اس کے لئے کچھ بھی کرنا مشکل نہیں تھا۔۔گہرا سانس بھرتے وہ بیڈ سے اٹھ کر روم کے اندر بنے واشروم گئی تھی۔بخار اتر جانے کے باوجود اسے کمزوری ہو رہی تھی۔وہ فریش ہو کر باہر آئی سب کو آزادی سے گھومتے دیکھ اسے اپنی آزادی یاد آنے لگی تھیں۔ڈاکٹر آئیں اسکا چیک اپ کیا اور پھر اسے ضروری ہدایت دیتی وہ واپس چلے گئیں۔۔”چلیں ؟” مامون کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔بلیک جینس پر ہاف سلیوز شرٹ پہنے وہ اس وقت کافی فریش لگ رہا تھا۔ہاف سلیوز سے جھانکتے اسکے بازو۔۔ شہرے کے فوراً سے اپنی نگاہیں اس پر سے ہٹائی تھیں۔۔”اسٹیو میڈم کا سامان گاڑی میں رکھو” اپنے اسسٹنٹ کو کہتا وہ آگے بڑھا ۔شہرے کے دل میں خوف نے اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔وہ شخص اتنا خاموش کیوں تھا وہ کچھ بول کیوں نہیں رہا تھا۔اسٹیو نے اسکے لئے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔۔ اسکے بیٹھتے ہی مامون اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا۔۔پورا سفر خاموشی سے گزرا ۔گاڑی پورچ میں آکر رکی اس سے پہلے شہرے خود کو باہر نکلتی مامون گاڑی سے اترتا اسکی سائیڈ پر آیا تھا۔شہرے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو گاڑی کا ڈور کھولے کھڑا تھا۔شہرے نے جھجھکتے باہر کی جانب بڑھنا چاہا جب بنا اسے کوئی بھی موقع دئیے مامون نے اسے بانہوں میں بھرا۔۔”چھو۔۔۔ چھوڑیں مجھے نیچے اتاریں” اسٹیو اور دوسرے ملازم کی موجودگی میں مامون کی اس حرکت پر شہرے کا کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔مامون نے دلچسپی سے اسکے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھا تھا۔۔پیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھول کر اندر آتے مامون نے اسے احتیاط سے بیڈ پر بیٹھایا اور خود اسکے پاس بیٹھا اسکے قریب بے حد قریب۔۔شہرے نے غیر محسوس طریقے سے اپنے اور مامون کے درمیان فاصلہ بنانا چاہا جب مامون نے کمر سے تھام اسے قریب کرتے اسکی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔۔شہرے کے کندھے پر پڑے بالوں کو پیچھے کرتے مامون نے اسکی گردن پر اپنی ناک مس کی۔۔”آئندہ کبھی ایسی حرکت مت کرنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا لٹل گرل۔۔۔ اگر آئندہ تم نے ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو میں تمہاری زندگی جہنم کردوں گا ” اسکے بالوں کی خوشبو کو سانسو میں اتارتے وہ مزید شہرے کے قریب ہوا تھا کہ اب ان کے درمیان انچ بھر کا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔”دور ہو مجھ سے مجھے نفرت ہے تم سے ڈیول” اسکے سینے پر ہاتھ مارتے شہرے اسکے حصار میں مچلی تھی ۔۔”تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھے اس طرح مار کر کوئی نقصان پہنچا سکتی ہو؟”وہ جیسے اسکا مذاق اڑا رہا تھا شہرے کا نازک وجود اسکے توانا وجود کے آگے چھپ سا گیا تھا۔۔۔”میں تمہاری جان کے سکتی ہوں ڈیول” غصے سے کہتے شہرے نے اسکے بازو میں ناخن چبھوئے تھے وہ اپنے ناخنوں سے اسکے ہاتھ پر زخم کرگئی تھی۔مگر اس دیو پر تو زرا سا بھی اثر نہیں ہوا تھا البتہ اس نے گہری نظروں سے شہرے کو دیکھا جس کا خون اسکی نگاہوں کی تپش سے ہی خشک ہوا تھا۔۔۔”میں بتاؤں سامنے والے کو بے بس کرنا کسے کہتے ہیں” ؟سوال اور پھر اسکی آنکھوں کی سرد مہریشہرے کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا تھا۔”نو لٹل گرل یو آر لیٹ” کہتے ساتھ شہرے کی گردن اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیتا وہ اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لے گیا ۔اسکے لبوں کو اپنی لبوں کی گرفت میں لیتے وہ اپنی گرفت سخت سے سخت کرتا جا رہا تھا۔۔شہرے کی سانسیں تھمنے لگی تھیں وہ ابھی اتنی مضبوط نہیں تھی کہ مقابل کی شدتیں برداشت کر پاتی۔۔اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑے دوسرا ہاتھ اسکے سینے پر رکھے وہ اپنی سانسوں کو رہائی دلانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی مگر مقابل اسکے لبوں کی نرماہٹ محسوس کرتا ہوش بھلا گیا تھا۔وہ مدہوش سا اسکے لبوں کا جام پینے میں مصروف تھا شہرے کی کمر پر دباؤ بڑھاتے وہ جیسے اسے اسی کے کہے لفظوں کی سزا دے رہا تھا ۔۔منتشر ہوتی سانسوں کے ساتھ وہ اسکی شرٹ کو دبوچے مسلسل اسکے سینے پر ہاتھ مارتے اپنی آزادی کے کئے کوشش کر رہی تھی اور پھر طویل لمحے بعد مامون نے اسکے لبوں کو آزادی دیتے نرمی سے اسکے نچلے لب کو اپنے لمس سے مہکاتا شہرے کے چہرے پر خون چھلکا گیا۔۔۔”اب پتا چلا بے بسی کسے کہتے ہیں ؟”آنکھ ونک کرتے کہتا وہ شہرے کو آگ لگا گیا۔۔۔بے دردی سے اپنے لب صاف کرتے اس نے غصے سر رخ پھیرا۔۔”میں ابھی افس جا رہا ہوں شام تک آجاؤں گا اپنا خیال رکھنا ہے اور دوا لینی ہے ۔۔۔ پھر میرے واپس آنے کے بعد ہم کہیں باہر چلیں گے” اسکے بال سنوارتے وہ عادت کے برخلاف کافی نرمی سے کہہ رہا تھا۔۔”میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی ڈیول۔۔۔ آئی ہیٹ یو جانے دو مجھے”وہ پوری طاقت لگا کر چیخی تھی۔مامون نے منہ بناتے اپنے دونوں ہاتھ کان پر رکھے۔۔”سنو نا ڈیول مجھے نہیں رہنا یہاں” اسے اٹھتے دیکھ وہ واپس سے چیخی تھی مگر وہ ان سنا کرتا سیٹی بجاتا کمرے سے باہر آگیا۔ملازمہ کو شہرے کا خیال رکھنے کا کہتا وہ وہاں سے نکلا تھا۔آج اسکی ایک بہت اہم میٹنگ تھی اس لئے اسے وقت سے پہلے وہاں پہنچنا تھا۔۔گاڑی میں بیٹھتے اس نے ڈرائیور کو چلنے کا کہا اور خود باہر کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
گاڑی گاؤں کی حدود میں داخل ہوئی تھی پتھریلے راستوں سے ہوتے وہ لوگ موڑ کاٹتے سر سبز کھیتوں سے بھرے اس گاؤں میں داخل ہوئے تھے۔۔نورے نے حیرت سے لہلہاتے کھیتوں کو دیکھا وہ زندگی میں پہلی بار یہ سب قریب سے دیکھ رہی تھی۔۔گیلی مٹی کی خوشبو سانسوں میں بس رہی تھی وہ لمحے کو سب کچھ بھولے گہرا سانس بھرتے خود کو پرسکون کرنے لگی۔۔اب اسکی زندگی کا سب سے برا دور شروع ہونے والا تھا اور وہ یہ بات اچھے سے جانتی تھی۔۔دور سے ہی اسے شاہ حویلی نظر آنے والی ۔۔سفید سنگ مرمر سے بنی وہ حویلی اس گاؤں میں بڑی شان سے کھڑی تھی۔۔۔نورے کو ایسا لگا جیسے یہ راستے جانے پہچانے سے ہوں ۔۔۔گاڑی دیکھتے ہی چوکیدار نے سریت سے اپنی جگہ سے اٹھتے سنہری جالیوں والا دروازہ کھولا ۔۔۔گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی تھی۔۔”تو میری ازادی کا وقت اب ختم ہوا” خود سے بڑبڑاتے اس نے اپنے پہلو میں بیٹھے جاذب شاہ کو دیکھا جو کروفر سے اب گاڑی سے نکال رہا تھا جبکہ اجمل ابھی تک گاڑی میں موجود تھا حیرت انگیز۔۔”باہر آؤ” جاذب کی آواز پر اس نے ناگواری سے اسے دیکھا حویلی کے پورچ میں موجود ملازم حیرت سے گاڑی میں بیٹھی اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس کا دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا بال کیچر میں مقید تھے۔۔”باہر آؤ کیا میری آواز نہیں آئی” دبے لہجے میں غراتا وہ اسکا بازو دبوچے ایک جھٹکے سے اسے گاڑی سے نکال کر باہر کھڑا کر چکا تھا۔
“اہہہ جنگلی انسان۔۔۔۔اپنے بازو پر اسکی انگلیاں کھب رہی تھیں درد سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے وہ ایک جھٹکے سے اسکے مزید قریب ہوئی تھی ۔۔”ابھی تو بہت کچھ سہنا ہے نورے بی بی اتنی نزاکت ؟” وہ اسکا مذاق اڑا رہا تھا نورے نے نفرت سے اس سائیکو کو دیکھا تھا۔۔”سلام سرکار “”سب کہاں ہیں؟””اندر آپ کا انتظار کر رہے ہیں”ملازم کے بتانے پر ایک جھٹکے سے نورے کا ہاتھ چھوڑ اسے خود سے دور دھکیلتا وہ اندر بڑھا تھا۔احساس ہتک سے نورے کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔،”چلیں اندر” ملازمہ کو شاید پہلے ہی اسکے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔۔ جبھی اسکا بازو تھامے وہ اسے آگے چلنے کو کہہ رہی تھی نورے نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اسکی گرفت سے نکالا۔”ہاتھ دور رکھو مجھ سے اندھی نہیں ہوں میں چل سکتی ہوں،”غصے سے کہتی وہ تن فن کرتے اس جانب بڑھی تھی جہاں کچھ لمحے پہلے جازب گیا تھا۔اندرونی حصے کی دہلیز پر قدم رکھتے وہ رکی تھی۔اندر کا منظر کسی محل سے کم نہیں تھا اتنی عالیشان حویلی۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ یقیناً اس حویلی کی شان میں قصیدے پڑھتی مگر یہ حویلی اسکے لئے بہت جلد جیل بننے والی تھی۔۔”میرا بیٹا میرا شہزادہ” نسوانی آواز پر سوچوں نے نکلتے اس نے سامنے دیکھا۔جہاں کوئی عورت جاذب شاہ کو سینے سے لگائے سے کھڑی تھی جبکہ اس عورت کے پاس ایک عورت اور دو لڑکیاں بھی موجود تھیں جبکہ جھولے پر بیٹھی تیسری عورت جو شکل سے ہی کافی خرانٹ قسم کی تھی آنکھوں میں سرد سا تاثر لئے اس عورت اور جاذب شاہ کو دیکھ رہی تھی۔۔”کیا بڑوں کو سلام کرنے کی روایت ختم ہوگئی ہے جاذب شاہ ؟”اسکے چہرے کی طرح اسکا لہجہ بھی کرخت تھا ۔ نورے کو آنے والے وقت کی فکر ستائی تھی۔۔اسکا دل کیا یہی سے واپس لوٹ جائے بھاگ جائے۔۔۔”آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟” جاذب کے لہجے کی ناگواری نورے نے اچھے سے محسوس کی تھی ماحول میں عجیب سا تناؤ در آیا تھا۔۔۔”میرے بھائی کی قاتل سے ملنے آئی ہوں لائے نہیں اسے اپنے ساتھ؟””بھائی کی قاتل۔۔۔” کیا وہ اسے مارنے آئی تھی ڈر کے مارے نورے نے دو قدم پیچھے لئے تھا اس نے بھاگنے کا ارادہ کرلیا تھا۔”بتاؤ جاذب شاہ۔۔۔ کہاں ہے وہ بدبخت”بد بخت کہے جانے پر نورے نے ماتھے پر شکنیں ڈالے اس عورت کو دیکھا وہ عورت اسے جانتی تک نہیں تھی پھر بھی اسے بدبخت کہہ رہی تھی۔اس سے پہلے جاذب کوئی جواب دیتا اس عورت کی نظر دروازے کی جانب اٹھی تھی جہاں کھڑی نورے کو دیکھ اسکے چہرے پر ناگواری بھرا تاثر ابھرا۔۔”تو یہ ہے اس انیس یزدانی کی بیٹی” اس عورت کے لہجے میں نورے کے لئے صرف اور صرف حقارت تھی ۔۔”ادھر آ لڑکی”ان کے پکارنے پر نورے نے ایک نظر جاذب شاہ کو دیکھا جو ایک نظر اسے دیکھا اپنی ماں کو لئے صوفے پر جا بیٹھا۔۔تو وہ اسے اس عورت کے حوالے کر چکا تھا۔۔۔”کیا مردہ قدم ہیں جان نہیں ہے قدموں میں تیزی سے ادھر آ”ہتک آمیز لہجے پر نورے کا دل کیا نا سنے ان کی مگر اسکے علاؤہ بھلا کوئی راستہ تھا اسکے پاس۔۔آہستہ قدموں سے چلتی وہ جھولے اور صوفوں کے درمیان آ ٹھری۔۔اسکی دائیں جانب بڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے جاذب شاہ بیٹھا تھا جبکہ بائیں جانب فاصلے پر بنے جھولے پر کشور ۔۔۔۔”آنکھیں نیچے کر لڑکی سر جھکا۔۔۔” اسے سر اٹھائے کھڑا دیکھ وہ اس پر چیخیں۔وہ اچانک تیز آواز پر چونکی ضرور تھی مگر اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا۔کہانیوں میں پڑھیں ظلم کی داستانیں ۔۔ مظلوم ہیروئن ۔۔ اسے ان جیسا نہیں بننا تھا۔۔”می۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ مجھے سر جھکانا پڑے” ہمت کرتے بالآخر اس نے بول دیا تھا ۔۔جاذب نے آئی برو اچکاتے اسکی ہمت کو داد دی تھی جبکہ اسکا جواب کشور بیگم کے آگ لگا گیا تھا۔۔”بہت زبان ہے سب سے پہلے اس زبان کو ہی کاٹوں گی ” اپنی جگہ سے اٹھتے وہ اسکی جانب بڑھیں ۔۔ نورے نے غیر محسوس طریقے سے اپنے قدم پیچھے لئے تھے۔”جاذب”نجمہ بیگم نے بے چینی سے جاذب کو دیکھا۔”تماشا دیکھیں امی۔۔ دو ایک جیسے دماغ کی عورتیں آمنے سامنے کھڑی ہیں”مزے سے کہتا وہ اب کچھ دیر بعد ہونے والا تماشہ دیکھنے کے لئے بالکل تیار تھا ۔۔نجمہ بیگم ہونق بنی اسکا چہرہ دیکھنے لگیں۔۔۔__________
سورج کی تپتی کرنیں ہر ذی روح کو چھاؤں میں جانے پر مجبور کر رہی تھیں ایسے میں وہ واحد تھی جو تپتی دھوپ میں چلتی جا رہی تھی اسکی آنکھیں نم تھیں۔۔ایک جگہ رک اس نے سر اٹھا کر سامنے موجود اس عالیشان گھر کو دیکھا۔۔چہرے پر آئے آنسو صاف کرتے گہری سانس فضا کے سپرد کرتے وہ اندر داخل ہوئی تھی معمول سے ہٹ کر آج گھر میں عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا ورنہ تو عموماً شائستہ بیگم لاونج میں کچھ نا کچھ کر رہی ہوتی تھیں ان کے اردگرد زارون اور ملازمہ موجود ہوتی تھی۔۔”سلام عمائم بی بی””وعلیکم اسلام مونا۔۔ شائستہ آنٹی کہاں ہیں اور زارون ؟””وہ جی بڑی بڑی جی کی طبعیت نہیں ٹھیک ہے اس لئے وہ اپنے کمرے میں ہیں زارون بابا بھی وہیں ہیں””سب خیریت ہے نا؟” عمائم کو فکر ہوئی تھی ۔”نا جی مجھے تو نہیں لگتا کچھ خیریت ہے صبح بڑے وکیل آئے تھے بڑی بی بی جی کے پاس تب سے ہی وہ کمرے میں بند ہیں “اس کی بات پر عمائم کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کرے واپس چلی جائے یا اندر جائے””میں بتا دیتی ہوں بڑی بی بی کو” اس سے پہلے عمائم اسے روکتی ہوا کے جھونکے کی طرح اسکی نظروں سے اوجھل ہوئی تھی۔گہرا سانس بھرتے عمائم وہیں صوفے پر ٹک گئی۔۔تھوڑی دیر بعد مونا شائستہ بیگم کا پیغام لئے باہر آئی تھی شائستہ بیگم نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا سر ہلاتے وہ مونا کے پیچھے چلتی شائستہ بیگم کے کمرے میں آئی تھی جہاں وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں آج وہ عمائم اچانک ہی بہت بڑھی لگی تھیں۔چہرے پر تفکرات کے سائے تھے آنکھوں میں اداسی زارون وہیں اس سے لپٹ کر لیٹا ہوا تھا۔۔”اسلام وعلیکم””وعلیکم السلام بچے آجاؤ آجاؤ””کیا ہوگیا ہے آپ آنٹی کل تو آپ بالکل ٹھیک تھیں ایسے کیسے آپ بیمار ہوگئیں ؟””بس بچے ” اتنا کہتے انہوں نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا تھا۔”نہیں آپ لیٹی رہیں آپ کو آرام کی ضرورت ہے””آرام تو میری زندگی میں لکھا ہی نہیں ہے ” وہ مایوسی سے کہتے عمائم کو چونکا گئیں۔۔”آنٹی سب ٹھیک ہے نا؟”.”عمائم۔۔۔ دادو کب سے رو رہی ہیں چپ ہی نہیں ہو رہی تھیں” زارون کی بات پر عمائم نے پریشانی سے انہیں دیکھا”ارے کچھ نہیں بیٹا زارون میں کب روئی بچے” “عمائم آپ دادو کو بولوں نا روئیں نہیں زارون ان کے پاس سے کہیں نہیں جائے گا”زارون کی بات پر وہ بری طرح چونک اٹھی۔تو کیا زارون کہیں جا رہا تھا۔۔”زارون جاؤں بیٹا اپنی بکس لے آؤ شاباش اٹھو” انہوں نے زارون کو وہاں سے ہٹانا چاہا ۔جو سر ہلاتے فوراً کمرے سے نکل گیا۔۔”کیا ہوا آنٹی ؟ کوئی پریشانی ہے؟ آپ چاہیں تو مجھ سے شئیر کرسکت ہیں””شئیر کرکے بھی میں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال سکوں گی عمائم۔۔۔ سب میری وجہ ہو رہا ہے”ان کے لہجے میں اداسیاں گھلی تھیں۔۔عمائم کے دل کو کچھ ہوا تھا یہ عورت اس تمام عرصے میں ہمیشہ اسے موٹیویٹ کرتی آئیں تھیں۔۔”دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا آپ کا “”عمائم۔۔۔ زارون””کیا ہوا ہے زارون کو؟”اسے اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔”مجھے ڈر ہے اسکی ماں زارون کو ہم سے چھین کر لے جائے گی”اب کی بار پر وہ چونکی تھی۔”کیا مطلب “زارون کی پیدائش کے بعد اسکی ماں اسے چھوڑ کر چلے گئی تھی اسے زارون نہیں چاہیے تھا وہ وقت ہمارے لئے بہت مشکل تھا حد سے زیادہ مشکل ۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا ضوریز کو سنبھالوں یا پھر ننھے زارون کو۔۔۔ ہماری زندگیاں بہت مشکل سے نارمل ہوئی ہیں اور اب ۔۔۔””اب کیا ؟؟””وکیل صاحب آئے تھے انہیں ڈر ہے کہ زارون کی ماں زارون کی کسٹڈی کے لئے واپس سے رابطہ کرسکتی ہے وہ کیا دائر کر سکتی ہے وہ زارون کو ہم سے چھین کر لے جائے گی عمائم” ان کا دل ایک بار پھر سے دکھا تھا آنکھیں بھر آئی تھیں۔۔”ایسے کیسے وہ کر سکتی ہیں جب وہ چھوڑ چکی ہیں؟””وہ کچھ بھی کرسکتی ہے “”تو اسکا کوئی حل نہیں ہے ؟”اسکے سوال پر شائستہ بیگم نے اسے دیکھا ۔۔”ہے ایک حل مگر “،”مگر؟ کیا حل ہے آنٹی ؟”
“ضوریز کی شادی “”تو اس میں مسئلہ کیا ہے آپ ضوریز صاحب کو کہیں وہ شادی کرلیں گے””صرف ضوریز کا شادی کرنا ضروری نہیں اس لڑکی کا زارون کو قبول کرنا بھی ضروری ہے اور دوسرا زارون۔۔ وہ بہت کم کسی کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے””لیکن کچھ تو کرنا ہوگا نا آپ زارون کو ایسے تو اس عورت کے حوالے نہیں کر سکتیں نا ۔۔ جو ایک بار اپنے بچے کو چھوڑ سکتی ہے وہ کیسے اسکی ماں کا کردار ادا کرے گی ؟”عمائم کا بس نہیں چل رہا تھا کیا کر جائے اگر وہ عورت ابھی اسکے سامنے ہوتی تو عمائم اسے اچھا خاصا سنا دیتی۔۔زارون اسے بہت عزیز ہوگیا تھا۔۔”میں ایسی لڑکی کہاں سے لاؤں جو زارون کی ماں بن سکے””دادو۔۔۔۔ عمائم میری مما ہے نا” شائستہ بیگم کی بات کا جواب زارون نے دیا تھا۔ان دونوں نے بیک وقت گردن موڑ دروازے کی جانب دیکھا تھا جہاں وہ اپنا بیگ سنبھالے اندر آرہا تھا ۔اس نے شاید شائستہ بیگم کی بات کا آخری حصہ ہی سنا تھا”عمائم ۔۔۔ میری مما ہیں نا آپ ؟”بیگ سائیڈ رکھتے اس نے آکر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں عمائم کا ہاتھ تھاما تھا۔”زارون میں آپ کی ٹیچر یوں فرینڈ ہوں بچے””بٹ آپ میری مما بن جائیں نا عمائم ۔۔۔ آئی لو یو سو مچ” معصومیت سے کہتا وہ عمائم کو مشکل میں ڈال گیا۔۔زارون۔۔۔” شائستہ بیگم نے اسے تنبہہ کی مگر وہ منہ بنا گیا۔۔”اچھا ابھی آپ بکس نکال کر بیٹھیں چلیں اس سب کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی اب”بات بدلتے وہ زارون کو پڑھانے لگی۔۔”چلو زارون بچے سامان سمیٹیں “زارون کی بکس بیگ میں رکھتے اس نے مسکراتے شائستہ بیگم کو دیکھا جو اب باہر اسکے پاس آکر بیٹھی تھیں ۔۔”زارون میرے روم سے تسبیح لاؤ بیٹا” انہوں نے زارون کو منظر سے ہٹایا تھا۔۔”عمائم۔۔ بیٹا مجھے کچھ بات کرنی ہے””جی جی کہیں نا”وہ ہمہ تن گوش تھی۔۔”بیٹا کیا کو زارون نے کہا وہ ہو سکتا ہے؟”ان کے سوال پر اس نے اچنبھے سے شائستہ بیگم کو دیکھا۔”کیا مطلب آنٹی کون سی بات ؟””کیا تم میرے ضوریز سے شادی کرسکتی ہو بیٹا یہ واحد حل ہے میرے زارون کو اپنے پاس رکھنے کا پلیز”انہوں نے اچانک ہی اسکے سر پر دھماکہ کیا تھا۔۔”آنٹی” اسے اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔”بیٹا کوئی جلدی نہیں ہے تم سوچ لو سمجھ لو۔۔۔ میں ابھی جواب نہیں مانگ رہی میں بس تم سے پوچھ رہی ہوں ہوئی زبردستی نہیں ہے”اس سے پہلے وہ انہیں انکار کرتی ہو خود ہی بول اٹھیں۔۔جبکہ عمائم اسکے پاس ابھی کوئی جواب نہیں تھا اسے تو ان کی بات ہضم نہیں ہو رہی تھی جواب کیسے دیتی۔۔بنا لمحے کو بھی وہاں رکے وہ اپنے گھر کے لئے نکلی تھی ۔۔۔۔جاری ہے