قسط_29″ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟” گاڑی کو جیولری شاپ کے آگے رکتے دیکھ شہرے نے ناسمجھی سے مامون کو دیکھاجو بنا اسکی بات کا جواب دئیے گاڑی سے اترتا اسکی جانب آیا تھا۔گاڑی کا ڈور کھول مامون نے اپنا ہاتھ شہرے کی جانب بڑھایا جو وہ آہستہ سے تھامے گاڑی سے اتری تھی۔”مامون۔۔ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟” اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا تھا۔۔۔”بہت جلد پتا چل جائے گا مائے ڈئیر اینجل” اسے کہتا وہ اندر جیولری شاپ میں آیا تھا اسے دیکھتے ہی وہاں موجود سبھی لوگ الرٹ ہوئے تھے۔۔”ہیلو سر ہاؤ مے آئی ہیلپ یو؟”سیلز گرل ہاتھ باندھے مامون کے سامنے آئی تھی۔۔”ویل آئی وانٹ ٹو سی سم ویڈنگ رنگز” ویڈنگ رنگز کی بات پر شہرے کے کان کھڑے ہوئے تھے۔۔”مامون۔۔ ویڈنگ رنگز کیوں؟””کیا مطلب کیوں یو آر مائے وائف۔۔ میں پہلے تمہیں کوئی گفٹ نہیں دے سکا تو اس سے اچھا گفٹ کوئی ہو ہی نہیں سکتا مائے لیڈی” اسکے گال سہلاتا وہ شہرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھا تھا۔۔شہرے کو عجیب سی خوشی ہوئی تھی۔”ایک منٹ میں کیوں اتنا خوش ہو رہی ہوں یہ ڈیول ہے شہرے مت بھول۔۔ لیکن یہ اتنا اچھا کیوں ہے” وہ خود سے جنگ لڑتے آگے قدم بڑھانا ہی بھول گئی تھی اپنی سوچوں سے وہ چونکی تب جب مامون نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا۔۔”,ہاں۔۔۔؟””کیا سوچ رہی ہو؟””نہیں کچھ نہیں””اوکے آو”اسے کہتا وہ وہاں کاؤنٹر پر آکر بیٹھا۔”مجھے سب سے اچھی ویڈنگ رنگز دیکھائیں۔۔”اسکے کہتے ہی سیلز گرل نے بہترین سے بہترین رنگز ان کے سامنے رکھی تھیں۔۔لیکن وہ حد سے زیادہ اسٹائلش تھیں۔”لٹل گرل کون سی پسند آئی ؟”مامون اسکی جانب متوجہ تھا جسے وہاں موجود کوئی بھی رنگز پسند ہی نہیں آرہی تھی کہ اچانک اسکی نگاہ ایک کارنر پر رکھی کپل رنگز پر پڑی تھی۔وائٹ گولڈ جس پر ڈائمنڈ لگا ہوا تھا۔”مامون کیا ہم وہ لے سکتے ہیں؟”اسکے اشارے پر مامون کے ساتھ سیلز گرل نے بھی اسی جانب دیکھا تھا۔”سر وہ اس اسٹور کی سب سے سستی رنگ ہے””بٹ مامون آئی لائک دس ون””اٹس اوکے میری لٹل گرل کو پسند ہے اور یہی میٹر کرتا ہے لے کر آئیں ” سیلز گرل کر کہتے اس نے شہرے کا ہاتھ تھاما تھا۔سیلز گرل نے وہ رنگز مامون کے آگے آکر رکھی ۔”اس طرح کی جتنی بھی رنگ ہے اسے یہاں سے ریمو کریں میں نہیں چاہتا کوئی اور ایسی رنگ لے””ڈونٹ وری سر یہ ایک ہی پیس تھا””ہمم” سر ہلاتے وہ شہرے کو لئے باہر بڑھا تھا مگر دروازہ کھولتے ہی سامنے میڈیا کے اتنے ہجوم کو دیکھ شہرے خوف سے کسی بچے کی طرح مامون کے پیچھے چھپی تھی۔۔اسکے یوں چھپنے پر مامون بے ساختہ مسکرایا۔۔”اٹس اوکے آئی ایم ہیئر””سر یہ لڑکی کون ہیں آپ یہاں کیوں ہیں کیا آپ شادی کر رہے ہیں؟” میڈیا کے لوگوں نے ایک ساتھ کئی سوالوں کی بوچھاڑ کی تھی۔۔مامون نے سکون سے ان کے سوالوں کو سنا اور پھر شہرے کا ہاتھ تھامے اسے اپنے پہلو میں کھڑا کرتا وہ اسکے گرد اپنے مضبوط بازوؤں کو حصار باندھ گیا۔۔”میں شادی کر نہیں رہا میں شادی کر چکا ہوں یہ میری وائف ہیں بہت جلد میں اپنی شادی کی خوشی میں پارٹی دینے والا ہوں اور آپ سب انوائیٹڈ ہونگے” میڈیا کو جواب دیتا وہ شہرے کا ہاتھ تھامے وہاں سے ہٹتا جلدی سے اسے گاڑی میں بیٹھاتا خود ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا ۔۔۔وہیں دوسری طرف اپنے لاؤنج میں بیٹھی اسٹیلا نے ٹی وی پر چلتی مامون کی شادی کی خبر سن ریموٹ زور سے زمین پر پھینکا تھا۔۔”نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ تم میرے ہو مامون شیرازی۔۔ مجھے تم سے شادی کرنی ہے مجھے اس انڈسٹری میں راج کرنا ہے میں اس لڑکی کو چھوڑوں گی نہیں” خود سے کہتے اس نے ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔”ہیلو میں تمہیں ایک تصویر بھیج رہی ہوں مار دو اسے۔۔۔ جلد از جلد مجھے اس لڑکی کے مرنے کی خبر چاہیے”اپنی بات کہتے وہ فون بند کرتی قہقہ لگا کر ہنسی تھی۔۔”بہت محبت کرنے لگے ہو نا اس لڑکی سے اب دیکھو میں کیا کرتی ہوں مامون شیرازی تم نے مجھ پر اس لڑکی کو اہمیت دی ہے اب یہ لڑکی اس دنیا سے ہی چلے جائے گی”اپنی بات کہہ کر اس نے مکروہ قہقہ لگایا تھا۔۔_________
شیشے کے سامنے کھڑے بال بناتے جاذب نے شیشے سے نظر آتی نورے کو دیکھا جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے خفا خفا سی بیٹھی تھی۔۔”ایسے منہ بنا کر بیٹھی ہوئی گلاب جامن لگ رہی ہیں آپ مسزز”اسکی بات پر نورے نے گھور کر اسے دیکھا۔”یا اللّٰہ اتنا غصہ؟ “”جاذب شاہ صبح صبح میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے”پھاڑ کھانے کے انداز میں کہتی وہ جازب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔”میں تو ابھی منہ لگنے کا سوچ ہی رہا تھا اور آپ نے پابندی لگا دی مسزز یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے””ہونہہ دو نمبری سیاستدان ” غصے سے کہتے اس نے آنکھیں گھمائیں جب وہ مسکراتا بیڈ پر اسکے پاس جگہ بنا کر بیٹھتے اپنا ہاتھ اسکے آگے کر گیا۔۔”کیا؟” نورے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔جس کی قمیض اور آستین کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔سر جھٹکتے وہ خاموشی سے اسکے آستین کے بٹن بند کر گئی تبھی جاذب نے دوسرا ساتھ اسکے سامنے کیا تھا۔۔”دشمنوں سے سارے بیوی والے کام کروا رہے ہیں آپ مسٹر جاذب شاہ” جل کر کہتے وہ اسکا گریبان تھام اسے قریب کرتے اسکی قمیض کے بٹن بند کرنے لگی۔۔”یہ کو گریبان سے پکڑا ہے نا ایسی جرات صرف آپ کرسکتی ہیں میڈم ورنہ اپنا گریبان پکڑنے والوں کا ہاتھ توڑ دیتا ہوں میں”اسکے چہرے کو نگاہوں میں بھرے کہتا وہ نورے کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا جسے اس نے بمشکل چھپایا تھا۔۔”دیکھ لو دشمن کی قید میں ہو کر بھی کتنی ہمت مجھ میں،” اسکے اترانے پر وہ آہستہ سے جھکتا اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا جاذب کے اس عمل کے نورے کو ساکت کیا تھا۔۔”میں کچھ دنوں کے لئے حویلی سے غائب ہونے والا ہوں گھر نہیں آ پاؤں گا آپ کو تنگ بھی نہیں کر سکوں گا اس لئے اپنا خیال رکھنا ہے”اسکی بات پر نورے کو لگا اسکا دل ڈوبا ہو۔۔”کیوں کہاں جا رہے ہو؟””الیکشن سر پر ہیں جیتنا ہے تو محنت کرنی پڑی گی اس لئے یہاں نہیں آ سکوں گا””واپس کس دن آؤ گے؟””کیوں ابھی سے مجھے مس کرنے لگ گئیں مسزز؟””ہونہہ مس کون کرے گا میں تو سوچ رہی کتنے دن سکون کے ملیں گے،”نگاہیں چرا کر کہتے وہ جاذب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئی۔۔۔”اگلے مہینے الیکشن ہیں ہوسکتا ہے بیچ میں آجاؤ لیکن نورے ایک بات یاد رکھنا کچھ بھی چاہیے ہو جلال سے رابطہ کرنا ہے باقی سب کو ہینڈل کرنا آپ کو اچھے سے آتا ہے” اسکی بات پر نورے نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔”ہونہہ اچھے سے سب آتا تو یہاں تمہاری قید میں نہیں ہوتی””یہ قید بڑی نعمت لگے گی آپ کو ایک دن ۔ فلحال میں چلتا ہوں چلتا ہوں خیال رکھنا ” اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ اٹھ تھا جب اچانک ناجانے کس احساس کے تحت نورے کا اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔۔اسکا یہ عمل اتنا اچانک تھا کہ جاذب نے چونک کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔اپنے ہاتھ کو اسکے ہاتھ کی قید میں دیکھ وہ بیڈ پر بیٹھتا اسکے بالوں میں ہاتھ پھنسائے اسکی سانسوں کو اپنی دسترس میں لے گیا تھا ۔جاذب شاہ کے نرم لمس پر نورے نے سکون سے آنکھیں موندی تھیں۔دل آج اس شخص کی قربت کا تمنائی تھا جس سے وہ نفرت کا اظہار کرتی تھی ۔اپنی گردن پر جاذب کا لمس محسوس کرتے اس نے آنکھیں کھول اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا۔۔”جاذب۔۔ جاؤ “”کچھ دیر لیٹ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا” اسکا سر تکیے پر منتقل کرتا وہ اسکی انگلیوں میں انگلیاں الجھاتا اسکی آنکھوں پر لب دھر گیا۔۔ایک سکون سا نورے کو خود سے سرائیت کرتا محسوس ہو رہا تھا۔دماغ چیخ رہا تھا کہ یہ غلط ہے مگر دل۔۔۔ دل اس دشمن جان جی قربت چاہتا تھا سکون چاہتا تھا اسکے دور جانے کا سن دل مچل گیا تھا بے چین ہوگیا تھا ایک یہی شخص تو اتنے لوگوں میں اپنا لگتا تھا وہ بھی نہیں ہوگا تو وہ کیا کرے گی ۔۔جاذب کی بڑھتی گستاخیوں پر اسکے گردن کی گرد بانہوں کا حصار باندھے وہ خود سپردگی کے انداز میں اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔جازب نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا چہرے پر بہار رنگ کھلے تھے نورے کے ماتھے پر لب رکھتا وہ کسی نازک آبگینے کی طرح سمیٹ گیا تھا۔۔۔___________
وہ صبح فجر کی اذان کے ساتھ ہی اٹھ گئی تھی نماز پڑھ کر وہ واپس کمرے میں آگئی کیونکہ امینہ بیگم نماز کے بعد واپس سو گئی تھیں جبکہ وہ پوری رات ایک کروٹ پر لیٹی رہی تھی اس وجہ سے اسکا بازو بری طرح دکھ رہا تھا کہ اس ایک ہاتھ سے اس سے کام بھی نہیں ہو رہا تھا۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے اپنے بالوں کو دیکھا جلال اندر نہا رہا تھا۔”یا اللّٰہ زر بالکل ہی چڑیل جیسے بال ہو رہے ہیں” خود سے بڑبڑاتے وہ اپنے بال کھولنے لگی۔”اہ۔۔” زرا سا ہاتھ کو اوپر کی جانب حرکت دینے سے اسکے بازو میں درد بڑھ رہا تھا۔۔”کیا ہوا زرمینے آپ ٹھیک ہیں؟” جلال کی آواز پر وہ گھبرا کر مڑی تھی جو شرٹ لیس اسکے سامنے کھڑا تھا اسے یوں دیکھ زرمینے فوراً سے مڑی تھی کہ اچانک پیر مڑا جلال کے آگے بڑھ فوراً سے اسے تھاما۔۔”آپ ٹھیک ہیں ؟” وہ اس پر جھکا پوچھ رہا تھا جو خود کو اسکے اتنے قریب دیکھ اپنی سانسیں تک روک گئی تھی۔۔”زرمینے ؟” اسے خود کو تکتا پاتے جلال نے ایک بار پھر اسے پکارا جو سانس روکے اسکے حصار میں موجود تھی۔”زرمینے سانس لیں”جلال نے اسکا گال تھپتھپاتے ایک بار پھر اسے کہا اس سے پہلے وہ جلال کی بات پر عمل کرتے سانس لیتی وہ ایک دم سے اسکے ہونٹوں پر جھکا تھا۔جلال کی گرم سانسوں کے لمس پر وہ ہوش کی دنیا میں آتے تڑپی تھی۔ایک جھٹکے سے جلال سے الگ ہوتے وہ گہرا سانس بھرتے بلا وجہ کھانسنے لگی۔”یہ آپ۔۔۔ آپ ؟” اس سے بولا نہیں جا رہا تھا وہ اتنی بری طرح بدحواس ہوئی تھی۔۔”سانس کیوں نہیں آرہا تھا آپ کو طبعیت ٹھیک ہے آپ کی ؟” وہ اسکی سوچوں سے انجان متفکر سا زرمینے سے پوچھ رہا تھا۔اب وہ اسے کیسے بتاتی کہ جلال کے قریب آنے پر وہ ٹرانس کی کیفیت میں چلے گئی تھی۔”وہ ۔۔۔ میں””مجھے لگا آپ کو سانس نہیں آرہا اس لئے میں نے آپ کو سانس دی”وہ اب اپنے عمل کی وضاحت کر رہا تھا اور یہ وضاحت زرمینے کا دل بری طرح توڑ گئی۔”تو آپ نے اس لئے یہ کیا؟” ناجانے کیسے سوال اسکی زبان سے پھسلا تھا۔جلال نے واضح طور پر مایوسی اسکے چہرے پر دیکھی تھی ۔”ہمم کیوں؟””نہیں کچھ نہیں” ساری خوش فہمیوں کی دیوار دھڑام سے زمین بوس ہوئی تھی۔۔”آئی ایم سوری اگر آپ کو برا لگا””نہیں مجھے کیوں برا” کہتے کہتے وہ ایک دم اپنی زبان کو بریک لگا گئی۔کہاں تو بلا ہی نہیں جاتا تھا اور اب بول رہی تھی تو وہ بھی الٹا سیدھا۔۔جلال نے اسکی حرکت پر بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔۔”اگر آپ کو اچھا لگا تو میں ویسے بھی پیار کر سکتا ہوں” جلال کی بات کا مطلب سمجھتے زرمینے کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا۔۔اپنے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھے وہ اپنی شرم کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھا۔۔۔”نہیں نہیں وہ””کیا مطلب آپ کو اچھا نہیں لگا ؟” جلال نے حیرت سے اسے دیکھا جو گھبرائے جا رہی تھی وہ اس سے بہت چھوٹی تھی اس کے ساتھ یوں فری ہوتے ہی وہ عمر کا فرق بھول گیا تھا مگر اب اسکے گھبرائے انداز جلال کو پریشان کر گئے تھے۔”ایسا کچھ نہیں ہے بس وہ اچانک سے” زرمینے کو سمجھ نہیں آیا وہ کیسے اسے کہے۔۔۔”اٹس اوکے ایسے گھبرائے نہیں ۔ “اسے کہتا وہ اپنی قمیض پہننے لگا جبکہ زرمینے کے لئے اپنے بال بنانا مشکل ہو رہا تھا ایک تو جلال کی موجودگی اوپر سے دکھتا ہاتھ۔”ہاتھ کو کیا ہوا ہے زرمینے ؟””جی۔۔ وہ کچھ نہیں بس رات ایک کروٹ پر سونے کی وجہ سے “”بیٹھیں ادھر” جلال نے بیڈ پر اشارہ کیا جس پر وہ خاموشی سے جا بیٹھی۔۔اسکے بیٹھتے ہی جلال نے اسکے ہاتھ سے کنگھا لیا اور خود اسکے بال سمیٹنے لگا۔جلال کی انگلیوں کا لمس گردن پر محسوس کرتے وہ خود میں سمٹ رہی تھی۔۔”اب سے ہم میاں بیوی ہیں ساتھ رہنا ساتھ سونا یہ سب میاں بیوی میں نارمل سی بات ہے اس لئے سکون سے سونا ہے آج کے بعد ورنہ یہ بازو تاعمر درد کرے گا” اسکے بال بناتے وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔۔”ہوگیا۔۔ اسکے چٹیا میں آخری بل ڈال اس نے زرمینے سے کہا جو اسکے اتنی نفاست سے بال بنانے پر حیران تھی۔۔”اب آرام کریں میں رات میں آؤ گا اپنا اور اماں کا خیال رکھنا” اسے کہتا وہ کمرے سے نکلا تھا۔۔
“زارون کو صبح اسکول جانا ہوتا ہے یہاں سوئے گا تو جاگتا رہے گا زارون بیٹا اپنے روم میں جاؤ” ضوریز نے عمائم کو گھور دانت کچکچاتے ایک ایک لفظ کہا تھا۔”نہیں بابا میں نہیں جاگتا مجھے نیند آتی ہے بہت زور سے دیکھیں” جمائی لیتے اس نے ضوریز کو اپنی نیند کا بتایا۔۔۔”بالکل میرا بیٹا اور ویسے بھی مما کے باس اتنے ہٹلر ہیں کہ انہیں صبح صبح اٹھنا ہوگا تو آپ کے لیٹ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”آئی برو آچکا کر ضوریز کو چڑاتے وہ مزے سے بیڈ پر لیٹتے زارون کو اپنے پاس کر گئی۔”عمائم۔۔ یاد رکھیں آپ کا باس کتنا ہٹلر ہے”وہ دبے لفظوں میں اسے دھمکی دے رہا تھا جس پر ہاتھ جھلاتے عمائم نے فرق نہیں پڑتا کا نعرہ لگایا۔۔”ٹھیک ہے ٹھیک ہے””بابا کیا ٹھیک ہے؟””کچھ نہیں سو جاؤ تم بیٹا” اسکے انداز پر عمائم کا دل کیا کھل کر ہنسے مگر یہ ضوریز صاحب کی سزا تھی اسکے ساتھ پنگا لینے کی۔۔کندھے اچکاتے عمائم زارون کو سلانے لگی جو اگلے دس منٹ میں ہی گہری نیند میں جا چکا تھا۔۔۔عمائم نے نیند سے بوجھل آنکھوں سے زارون کو دیکھا اور پھر خود بھی نیند میں گم ہوئی تھی۔۔صبح حسب معمول اسکی آنکھ کھلی تھی مگر عجیب سے احساس نے اسے چونکایا تھا اسکا سر تکیے پر نہیں تھا بلکہ ضوریز کے سینے پر تھا اور ضوریز نے اسکے گرد حصار باندھ اسے اپنے قریب کیا ہوا تھا بے حد قریب۔۔عمائم نے سب سے پہلے زارون کو دیکھا جو بیڈ کے ایک کنارے سو رہا تھا۔رات ضوریز زارون کو سائیڈ کرتے خود عمائم پر قبضہ جما چکا تھا۔۔”اففف ایک چھوٹا بچہ کافی ہے اب اس بڑے بچے کا کیا کروں میں” خود سے بڑبڑاتے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر ضوریز کی گرفت مضبوط تھی۔”ضوریز میں جانتی ہوں آپ جاگ رہے ہیں اس لئے برائے مہربانی مجھے اٹھنے دیں””یار ایسے کیسے ابھی تو مجھے سکون ملا ہے اہہ۔۔” بات مکمل کرتے کرتے اسکے آہ نکلی تھی کیونکہ اسکے گال پر دانت گاڑھ عمائم گرفت ڈھیلی پڑتے ہی پھرتی سے ضوریز کے حصار سے نکلی تھی۔۔”بہت غلط بات ہے یہ مسزز “”بالکل ٹھیک بات ہے اب اٹھیں ہمیں لیٹ ہو جائے گا” اسے منہ چڑاتے وہ واشروم میں بند ہوئی تھی جبکہ ضوریز بس گہرا سانس بھر کر رہ گئا۔۔جاری ہے
قسط_30کھڑکی میں کھڑی ہو یک ٹک سامنے دیکھ رہی تھی جہاں وہ دشمن جہاں موجود تھا۔اسے اپنی قربت کے رنگوں میں رنگے وہ اب اس سے دور جا رہا تھا ۔جاذب شاہ نے خود پر نگاہوں کی تپش محسوس کر سر اٹھائے کھڑکی کی جانب دیکھا تو وہ نورے سریت سے پیچھے ہوئی تھی۔۔وہ اس شخص پر اپنے جذبات عیاں کرنے کا فلحال کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔دل اسکے جانے پر اداس تھا مگر اس اداس کو مانے سے انکار کر رہا تھا۔جاذب نے ایک نظر خالی کھڑکی کو دیکھا اور پھر دروازہ کھول گاڑی میں بیٹھ گیا بند دروازے کی آواز پر نورے نے پردے کی اوٹ سے جھانک کر باہر دیکھا تھا۔وہ جا رہا تھا۔ اسے ایسے چوری چوری جھانکتے دیکھ جازب کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی نورے شاہ بھول جاتی تھی وہ جازب شاہ ہے اسکا دماغ آگے کا سوچتا تھا جیسے ابھی وہ سکون سے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگائے مرر اپنی کھڑکی کی جانب سیٹ کرتا اسکے اداس چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔”سائیں چلیں ؟” ڈرائیور کی آواز پر چونکتے وہ سیدھا کرکے بیٹھتا ایک آخری نظر کھڑکی پر ڈالتے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کر گیا۔۔۔گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی حویلی کی حدود سے نکلی تھی وہیں نورے کو لگا وہ شخص جاتے ساتھ اسکا دل بھی لے گیا ہو ۔آہستہ سے کھڑکی بند کرتے وہ واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھی۔۔۔بستر پر ہاتھ پھیر وہ اس شخص کی موجودگی محسوس کرتے ایک دم چونکی۔۔”نور بالکل پاگل ہوگئی ہو مت بھولو وہ شخص تم سے صرف اور صرف نفرت کرتا ہے”خود کو جھڑکتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی دل کو کسی پل قرار نہیں تھا دونوں ہاتھوں سے سر تھامے وہ خود کو اس شخص کے خیالوں سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو بری طرح اس پر اپنا قبضہ جما گیا تھا۔اسکے نفرت کے دعوے کہیں دور جا سوئے تھے ۔۔اسکی شخص کا لمس اسکی خوشبو اسکی سرگوشیاں۔۔ ہاں وہ رفتہ رفتہ نور کو اپنے رنگ میں رنگ گیا تھا اس طرح کے اسے خود بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔۔”بھابھی ؟”دروازے کے ناک ہونے پر نورے نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں انابیہ کھڑی تھی۔۔”میں آجاؤں ؟””ہممم آجاؤ”اسکے اجازت دیتے ہی انابیہ مسکراتے اسکے پاس آ بیٹھی۔”آپ بھائی کے جانے سے اداس ہیں؟””نہیں میں بھلا کیوں اداس ہونگی اور تمہارے بھائی کون سا ویسے سارا وقت یہاں ہوتے ہیں”وہ اور مان جائے ناممکن تھا۔۔”انابیہ ایک بات پوچھوں ؟””جی پوچھیں اگر مجھے پتا ہوئی تو بتاؤں گی””تمہیں پتا ہے میرا گھر کہاں ہیں میرے ماں باپ؟”اسکے سوال پر انابیہ لمحے کو سوچ میں پڑ گئی۔”ویسے تو مجھے نہیں پتا مگر اتنا ضرور پتا ہے کہ کافی وقت ہوگیا وہ اب منظر پر نہیں مطلب سیاست میں نہیں ہیں باقی آپ کے سارے سوالوں کے جواب میری امی دے سکتی ہیں””ہممم۔۔۔ “”آپ اپنی فیملی کو مس کر رہی ہیں؟”انابیہ کے سوال پر ایک اداس سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا۔۔”جن کے چہرے مجھے یاد نہیں انہیں کیسے یاد کر سکتی ہوں میں””بھابھی اگر آپ واقعی اپنی فیملی اور پاسٹ کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں تو آپ نسیم بوا سے معلوم کریں وہ یہاں کی پرانی ملازمہ ہیں انہیں سب پتا ہوگا””نسیم بوا۔۔۔ یہ کہاں ہوتی ہیں؟””حویلی کے پچھلے حصے میں جہاں سارے ملازمین کے کواٹر بنے ہیں” انابیہ نے اسے ایک نئی راہ دیکھائی تھی جاذب کی غیر موجودگی میں وہ اپنے ماضی کے بارے میں جاننا چاہتی تھی کیونکہ اب یہ ضروری ہوگیا تھا یہ بات دشمنی سے اب دل تک آگئی تھی وہ اپنے دل کو ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔__________
خان حویلی میں اس وقت الیکشن کی تیاریاں زوروں شوروں سے جاری تھیں۔۔آج ہونے والے اجلاس کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں جب خان حویلی کے سنہری جالی دار دروازے پر ایک آدمی آکر رکا تھا۔”ارے صاحب آپ یہاں ؟””مجھے سبطین خان سے ملنا ہے”ان کی بات پر ملازم سر ہلاتا اندر بڑھا تھا اور پھر واپس آیا تھا تو انہیں اندر لے جانے۔۔۔ملازم کی مدد سے وہ اندر اس خوبصورت کمرے میں آئے تھے صوفے پر بیٹھتے وہ سبطین خان کا انتظار کرنے لگے۔۔”ارے یزدانی صاحب خیریت ہے آج اتنے وقت بعد ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے ہیں””کیسی ہو سبطین خان ؟” سبطین خان کے گلے لگتے وہ آہستہ سے پوچھتے اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔”یہ گزرا وقت تو تم سے تمہارا سارا رعب و جلال چھین گیا انیس “”ایک ناکردہ گناہ کی سزا بھگت کر تھک گیا ہوں سبطین “”کیا ہوا ہے ؟” وہ فوراً سے معاملے کی تہہ تک پہنچے تھے۔۔”نور فاطمہ شاہ حویلی میں ہے جاذب شاہ کی بیوی کی حیثیت سے” انیس یزدانی کی بات پر سبطین خان کو جھٹکا لگا تھا ۔”کیا واقعی ؟””ہاں اور اسے حویلی آئے کافی وقت ہوچکا ہے میں یہاں نہیں تھا مجھے دیر سے خبر ہوئی اسکی ماں بیمار ہے بابا کے انتقال کے بعد سب ختم ہوگیا ہے سبطین۔۔۔” وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح سر جھکائے بیٹھے تھے سبطین خان کو ان کے لیے افسوس ہوا تھا۔۔”تم ہم سے کیا چاہتے ہو حکم کرو””خود کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنی بیٹی سے ملنا چاہتے ہیں “”ہو جائے گا”وہ ان کے دوست تھے وہ کیسے اپنے دوست کو تکلیف میں دیکھ سکتے تھے۔۔۔”بہت شکریہ میرے دوست” انہوں نے احساس تشکر کے ساتھ سبطین خان کا ہاتھ تھاما تھا۔۔____________”مے آئی کم ان سر ؟” دروازے سے سر نکالے عمائم نے ضوریز کو دیکھا جو اسکی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔”مس عمائم آپ لیٹ ہیں ؟””سر صرف پانچ منٹ” منہ بناتے وہ آفس میں داخل ہوئی تھی۔۔۔”آپ شاید میرے اصول بھول رہی ہیں مس عمائم”اسکی بات پر عمائم نے بیچارہ سا چہرہ بنایا تھا جس پر ضوریز نے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔”اوکے سوری سر دراصل میرے ہسبینڈ بہت ظالم ہیں آج صبح انہوں نے مجھے بہت الجھایا کہ میں لیٹ ہوگئی “”دیکھیں شوہر آپ کی زمہ داری ہیں جب آپ ان پر دھیان نہیں دینگی تو ایسا تو ہوگا نا” ضوریز کی بات پر عمائم نے آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھا۔”اووو اچھا سر؟””یس ابھی زرا یہ فائل مجھے دیں”پاس رکھی فائل کی جانب اشارہ کرتا وہ واپس لیپ ٹاپ پر مصروف ہوا تھا۔منہ بناتے عمائم فائل لئے اسکے پاس آتے فائل اسکی جانب بڑھائی تھی جب فائل کے ساتھ ضوریز نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچ کر خود پر گرایا تھا۔۔”ضوریز”اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی اسکے بالوں میں ہاتھ پھنساتے وہ اسے مکمل خود پر جھکاتے اسکی سانسوں پر قابض ہوا تھا۔۔عمائم نے خود کو سنبھالنے کی خاطر ضوریز کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑا تھا جو اپنی من مانی کرتا اس سے دور ہوا تھا۔عمائم کا چہرہ لال سرخ ہوگیا تھا۔”اب آپ پر ساری غلطیاں معاف” اسکے بالوں سے کھیلتا وہ نرمی سے اسکے بال سمیٹ گیا۔۔”ضوریز ہم آفس میں ہیں” اسکی بڑھتی قربت پر عمائم بوکھلائی تھی۔”گھر میں آپ نے زارون کو اپنے پاس رکھ لیا ہے نا میں کیا کروں؟”اسکے بیچارگی سے کہنے پر عمائم نے اسے گھور کر دیکھا۔”اسکا مطلب یہ نہیں ہے آپ کہیں بھی شروع ہو جائیں” اس پر سے اٹھنے کی کوشش کرتے وہ ضوریز کے کھینچنے پر واپس گری تھی۔۔”ابھی میں نے اتنا سا بھی کچھ نہیں کیا فضول میں الزام لگا رہی ہیں آپ مسزز””ضوریز کامران بھائی آجائیں گے پلیز “”نہیں آتا و..”اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا دروازہ ناک ہوا تھا عمائم تیزی سے ضوریز کی گرفت سے نکل کر سائیڈ ہوئی تھی دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بیتاب ہو رہا تھا۔۔”یار میٹنگ کا ٹائم اوو عمائم بھی یہی ہیں؟””اسلام وعلیکم بھائی “”وعلیکم السلام ۔۔۔ سب ٹھیک ؟” اسکے پوچھنے پر عمائم سر ہلا گئی۔۔”ضوریز میٹنگ کا ٹائم ہوگیا ہے آجا “”اوکے تم چلو میں آتا ہوں”فائلز اٹھائے جگہ سے اٹھتے اس نے عمائم کو دیکھا جو اسکے تاثرات دیکھتے مسکراہٹ چھپا گئی۔۔۔”چل اب کیا عمائم کو گھور رہا ہے؟”کامران کی بات پر ضوریز کے گھور کر کامران کو دیکھا تھا جو اسکے گھورنے پر قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔”چل نا اب” اسکا ہاتھ تھامے وہ زبردستی اسے وہاں سے لے کر نکلا تھا جبکہ اسکے جاتے ہی عمائم کھل کر ہنس پڑی۔۔یہ شخص دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکے دل پر قابض ہوتا جا رہا تھا۔۔____________
شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے زرمینہ دادی کے ساتھ ساتھ رہی تھی مگر اب امینہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں ۔”زری پتر وہاں اکیلے کیوں بیٹھی ہے ادھر آ” امینہ بیگم کے پکارنے پر وہ اندر ان کے پاس جا بیٹھی جب انہوں نے کچھ سامان اسے تھمایا تھا۔”یہ کیا ہے دادی؟””یہ سامان تیرے لئے منگوایا ہے میں نے کچھ جوڑے ہیں چوڑیاں ہیں اور دوسرا تیری ضرورت کا سامان” ان کی بات پر وہ اشتہار سے سارا سامان دیکھنے لگی۔۔”,یہ سب بہت خوبصورت ہے دادی””اسی بات پر جلدی سے پہن کر دیکھا۔۔ان کے بولنے پر وہ خوشی خوشی امینہ بیگم کا منگوایا ایک سوٹ لئے واشروم میں بند ہوئی تھی چینج کر کے واپس آتے اس نے امینہ بیگم کی دی گئی چوڑیوں سے دونوں ہاتھوں کی کلائیاں سجائی تھیں۔۔کانوں میں امینہ بیگم کے دئیے جھمکے پہنے وہ خوشی خوشی انہیں اپنی تیاری دیکھا رہی تھی ۔”پتر وہ بھی تو لگا دیکھ میں نے سرخی کاجل سب منگوایا ہے”وہ خوش تھیں اور ان کو خوش دیکھ وہ خوش تھی۔۔ان کے کہنے پر اس نے ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لبوں پر سجائی تھی آنکھوں میں کاجل اور مسکارا لگائے وہ انتہا کی حسین لگ رہی تھی۔امینہ بیگم نے بے اختیار ماشاءاللہ کہا تھا۔۔”دادی اب میں کپڑے بدل لوں یہ تو بہت دولہن جیسے لگ رہے “”ہاں تو تم دولہن ہی تو ہو” ان کی بات پر اسکے دل میں گدگدی سی ہوئی تھی ۔۔”اسلام وعلیکم” اس سے پہلے وہ امینہ بیگم کو کچھ کہتے جلال کی آواز پر اس نے جھٹکے سے گھوم کر اسے دیکھا وہ کو اپنے دھیان میں کمرے میں داخل ہوا تھا زرمینے کو دیکھ اپنی جگہ تھما تھا۔ڈیپ ریڈ کلر کے کامدار فراک پر ہلکا میک اپ جیولری اور چوڑیاں پہنے وہ اسے ساکت ہی تو کر گئی تھی مگر پھر وہ ایک دم سنبھلا تھا۔۔”یہ دیکھ جلال میں نے تیری دولہن کو کیسے سجایا بتا کیسی لگ رہی ہے ؟” امینہ بیگم جان کر اس سے پوچھ رہی تھیں جو اسکے معصوم حسن سے بمشکل نگاہیں چرا پایا تھا۔۔”اچھی لگ رہی ہے”اتنا کہتے وہ امینہ بیگم کی جانب متوجہ ہوگیا جبکہ اسکے اتنے سے لفظوں پر زرمینے کا دل اداس ہوا تھا۔خاموشی سے ان تینوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا تھا کھانے کے برتن صاف کرتے اسکا ارادہ امینہ بیگم کے کمرے میں جانے کا تھا مگر ان کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھ اس نے منہ بنایا ۔”دادی بھی جان کر ایسا کرتی ہیں” خود سے بڑبڑاتے وہ آہستہ سے چلتے جلال اور اپنے مشترکہ کمرے کے سامنے آکر رکی تھی۔۔۔گہرا سانس بھرتے اس نے کمرے میں قدم رکھا۔”کیا ہوا وہاں کیوں کھڑی ہیں؟” جلال جو بیڈ پر لیٹا ٹی وی پر نیوز دیکھ رہا تھا زرمینے کو یونہی دروازے کے درمیان کھڑے دیکھ پکار اٹھا۔”نہیں۔۔۔ کچھ” بے دردی سے انگلیاں باہم ملاتے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر کمرے میں آئی تھی۔”زرمینے دروازہ لاک کردیں””کک۔۔۔ کیوں ؟” ناجانے وہ وہ بری طرح ہکلائی۔۔”کیونکہ میں بول رہا ہوں ” اب اس سے آگے وہ کیا ہی جواب دیتی دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے کو لاک کرتے اس نے واشروم کی طرف قدم بڑھائے تھے تاکہ چینج کرسکے مگر اسے رکنا پڑا۔۔”زرمینے یہ ساری تیار میرے لئے کی ہے تو مجھے نہیں دیکھائیں گی؟””جی؟””ادھیر آئیں “جلال کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کہ زرمینے پوری جان سے کانپی تھی۔۔_____________
گاڑی میں مدہم سا میوزک چل رہا تھا۔۔شہرے نے مسکراتی نگاہوں سے مامون کو دیکھا آج یہ شخص ضرورت سے زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا تھا۔”کیا ہوا لٹل گرل کچھ زیادہ پیار آرہا ہے تو آپ مجھے کس کرسکتی ہیں””ایسا کچھ نہیں ہے” مامون کی بےباک بات پر بوکھلاتے وہ اپنا رخ بدل گئی جس پر مامون کا قہقہ گونجا تھا۔”ہم کہاں جا رہے ہیں؟””شاپنگ لیکن مجھے لگتا ہے اس سے پہلے ہمیں کچھ کھا لینا چاہیے میں نے دیکھا تھا تم نے ٹھیک سے کچھ نہیں کھایا تھا”مامون کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔”ویسے یہاں پاکستانی کھانے کی زیادہ ورائٹی تو نہیں مگر میں تمہیں کچھ اچھا کھلانا چاہتا ہوں بتاؤ کیا کھاؤ گی؟””کچھ بہت مزے کا بہت بھوک لگ رہی ہے” اسکے انداز پر وہ ہولے سے مسکراتے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لئے لبوں سے لگا گیا ۔آج مامون شیرازی کا انداز ہی الگ تھا۔۔وہ اسی کسی شہزادی کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا شہرے کو یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا۔۔وہ اسے لئے ایک شاندار سے ریسٹورنٹ آیا تھا گاڑی سے اترتے وہ شہرے کی جانب آیا اسکے سامنے ہاتھ پھیلائے وہ شہرے کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا جب مسکراتے شہرے نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیا تھا۔۔کاش وہ ہمیشہ ایسے ہی رہے شہرے کے دل نے دعا کی تھی۔اسکا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لئے وہ اندر آیا تھا اور ان دونوں کے لئے سب سے بہترین سیٹ کا انتخاب کیا۔”جی تو مسزز مامون کیا کھائیں گی آپ ؟” اسکی جانب منیو کارڈ دیتے وہ اپنا کارڈ دیکھنے لگا۔۔اس سے پہلے شہرے کچھ کہتی مامون کو موبائل رنگ ہوا تھا۔۔”شہرے آرڈر کرو میں بس یہ کال سن لوں””اوکے” سر ہلاتے وہ کارڈ دیکھنے لگی اپنا آرڈر ڈیسائیڈ کرتے وہ مامون کو دیکھنے لگی جو اسے اپنی جانب آتا دیکھائی دے رہا تھا۔۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی نگاہوں کے تصادم پر وہ کھل کر مسکراتا شہرے کی جانب بڑھا تھا جب اچانک شہرے کو لگا کوئی تیز چیز اسکے جسم میں پیوست ہوئی ہے ایک جھٹکا اسکے جسم کو لگا تھا۔گہرا سانس بھرتے اس نے ٹیبل کو تھام کر اٹھنا چاہا جب ایک بار پھر اسکا پورا وجود درد میں مبتلا ہوا تھا۔۔ بیلنس کھوتے وہ پیچھے کی جانب گری تھی۔۔”شہرے” اسے گرتے دیکھ مامون پوری اسپیڈ سے بھاگ کر اس تک پہنچا تھا چاروں طرف افراتفری مچی تھی شہرے کا پورا وجود لال سیال میں نہا گیا تھا۔”شہرے شہرے کیا ہوا شہرے” اسکا سر اپنی گود میں رکھتے وہ اسے پکار رہا تھا جو اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی۔۔اسکے کپڑے لال محلول میں بھیگے ہوئے تھے۔مامون بری طرح پینک کر رہا تھا ابھی وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔”شہرے پلیز اٹھو نا “”پلیز کال دا ایمبولینس “کوئی چلاتے اسے ہوش میں دلا رہا تھا ایک دم ہوش میں آتے وہ شہرے کو بازوؤں میں بھرے تیزی سے باہر نکلا تھا۔۔۔اسے فوراً اسپتال پہنچایا گیا تھاایمبولنس سے شہرے کے بےہوش وجود کو اسٹریچر پر ڈالے اندر کے جایا گیا تھا مامون اندر جانا چاہتا تھا مگر ڈاکٹر اسے وہیں باہر روک گئے وہ ٹھیک نہیں تھی۔۔”سر۔۔۔” اسٹیو خبر ملتے ہی اس تک پہنچا تھا۔۔”اسٹیو مجھے وہ انسان چاہیے جس نے میری لٹل گرل کو تکلیف دی ہے میں اسے چھوڑوں گا نہیں مجھے وہ چاہیے اسٹیو ” وہ پاگلوں کی طرح چلایا تھا۔۔”سر پلیز آپ سنبھالیں خود کو میں اس انسان کو آپ کے سامنے لا کر رہوں گا” اسٹیو اسے یقین دہانی کرواتا وہاں سے نکلا تھا جبکہ مامون خود وہیں باہر بیچ پر کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھا تھا۔۔اسکی لٹل گرل اندر زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی اور وہ باہر بے بس بیٹھا تھا اسکے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا کچھ بھی کہیں۔۔”یا اللّٰہ پلیز میری لٹل گرل کو کچھ نا ہو پلیز اللہ اسے مجھ سے مت چھنیئے گا میں مر جاؤں گا ” چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ سسکا تھا دل کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی اسکے ساتھ شہرے کے خون سے رنگے تھے ۔۔۔اندر وہ آپریشن تھیٹر میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی۔۔ڈاکٹر مایوس تھے اسکے بچنے کے چانسس بہت کم تھے یہ خبر مامون شیرازی پر پہاڑ کی طرح گری تھی جاری ہے
قسط_31اسپتال کے یخ بستہ کاریڈور میں ٹہلتے اسکے پیر شل ہونے لگے تھے مگر ڈاکٹرز کی جانب سے کوئی خبر نہیں تھی۔اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا آنکھیں وحشت سے لال ہو رہی تھی جب ایک طویل صبر آزما انتظار کے بعد ڈاکٹر آپریشن روم سے باہر آیا تھا۔”ڈاکٹر وہ کیسی ہے ڈاکٹر ؟””ریلکس مسٹر مامون۔۔۔ آپ دعا کریں ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے خون بہت زیادہ بہہ چکا ہے زخم بھی گہرا ہے آپریشن کر دیا گیا مگر اب ان کی حالت ان کے ہوش میں آنے پر منحصر ہے اگر انہیں اڑتالیس گھنٹے میں ہوش آگیا تو ٹھیک ورنہ وہ کومہ میں جا سکتی ہیں” ڈاکٹر کی بات اسکے سر پر پہاڑ بن کر گری تھی۔۔”ڈاکٹر اسے بچا لیں پلیز” وہ مامون شیرازی جو کسی کے آگے جھکتا تک نہیں تھا وہ آج ایک لڑکی کے لئے گڑگڑا رہا تھا۔۔”آپ دعا کریں ان کے لئے” ڈاکٹر اور کچھ نہیں کرسکتا تھا جتنا اسکے بس میں تھا اس نے کیا تھا۔۔۔وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بینچ پر بیٹھا تھا جب اسکا موبائل رنگ ہوا اسٹیو کی کال تھی شہرے کو مارنے والا اسکے ساتھ تھے۔۔”جسٹ ویٹ میں آ رہا ہوں” کہتے ساتھ وہ فون بند کرتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا رش ڈرائیو کرتے وہ اپنی منزل پر پہنچا تھا ۔۔تیزی سے وہ اوپر اس کمرے میں آیا جہاں وہ شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا چہرے پر زخم کے نشان تھے اسٹیو اسے مارتا رہا تھا ۔۔”باس یہ زبان نہیں کھول رہا “”اسے زبان کھولنے پڑے گی” کہتے ساتھ مامون نے کئی تھپڑ اس آدمی کے چہرے پر مارے۔۔”میں سچ کہہ رہا ہوں میں کچھ نہیں جانتا مجھے نہیں پتا مجھے بس حکم ملا تھا”وہ آدمی کچھ بھی بتانے سے انکاری تھا۔۔مامون اسے مارتا گیا مگر وہ شخص کچھ نہیں جانتا تھا۔”پولیس کو کہنا یہ زندہ باہر نہیں آنا چاہیے” اسکی آنکھوں میں اس وقت وحشت سی وحشت تھی کوئی دیکھتا تو اسے مامون سے خوف محسوس ہوتا۔۔۔اسکے جاتے ہی چند لوگ اس کمرے میں داخل ہوئے تھے اور تھوڑی دیر بعد ہی فائرنگ کی آواز آئی تھی۔۔اس جگہ سے نکلتا وہ واپس ہاسپٹل آیا تھا شہرے بے ہوش تھی وہ خاموشی سے اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا۔۔اسکی نگاہیں بس شہرے پر ٹکی تھیں۔”لٹل گرل ایسے کرو گی میرے ساتھ دیکھو میں کتنا درد میں ہوں اٹھ جاؤ نا” اسکا ہاتھ تھامے وہ نم آنکھوں سے اسکے زخمی وجود کو دیکھ رہا تھا وہ بند آنکھوں کے ساتھ بھی اسے پری لگ رہی تھی جو کسی جادو کے حصار میں آتے گہری نیند میں چلے گئی۔۔”آئی لو یو شہرے یو نو آئی جسٹ لو یو ابھی تو میں نے اپنے دل کی بات بھی نہیں کی تم سے ایسے مت کرو اپنے ڈیول کے ساتھ میں مر جاؤں گا”اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے وہ بے آواز رو رہا تھا۔شہرے کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا وہ بس اسے دیکھتے رہنا چاہتا تھا یونہی اگر اسے ساری عمر بھی یونہی بیٹھنا پڑتا تو وہ بیٹھ سکتا تھا۔۔رات ڈھل کر دن میں تبدیل ہوئی تھی چوبیس گھنٹے کب کے گزر چکے تھے مگر شہرے کی حالت میں کوئی بہتری نہیں تھی۔۔”باس آپ اٹھیں خود کو سنبھالیں میڈم ٹھیک ہو جائیں گی” اسٹیو اسے گھر بھیجنا چاہتا تھا وہ دو دن سے یہی تھا نا کچھ کھا رہا تھا نا پانی پی رہا تھا وہ بس شہرے کے پاس رہنا چاہتا تھا۔اڑتالیس گھنٹے گزر گئے تھے اور شہرے اس نے نا اٹھنے کی قسم کھا لی تھی۔”ڈاکٹر میری لٹل گرل کو اٹھائیں پلیز اسے بتائیں کے میں اداس ہوں مجھے اسکی یاد آرہی ہے” وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔ڈاکٹر نے شہرے کا چیک اپ کیا تو اسکے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے تھے ۔۔”کیا۔۔۔ کیا ہوا ہے ڈاکٹر ؟””آئی ایم سوری مسٹر شیرازی” اسکے سوری پر مامون کو لگا کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔۔”سو۔۔۔ سوری کیوں کیا ہوا ہے؟””آپ کی مسزز کومہ میں جا چکی ہیں ” ڈاکٹر نے اسکے سر پر دھماکہ کیا تھا ڈاکٹر کو تھاما ہاتھ اسکے پہلو میں گرا تھا۔۔”باس ۔۔”اسٹیو نے اسکو سنبھالنا چاہا ۔”کب ہوش آئے گا؟” مامون کو اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔ ۔”کچھ نہیں کہہ سکتے دن ہفتے مہینے سال۔۔۔۔ آپ بس دعا کریں” ڈاکٹر جا چکا تھا اور مامون شیرازی پورے قد کے ساتھ زمین بوس ہوا تھا ۔۔”باس سنبھالیں خود کو۔۔۔””اسٹیو مجھے وہ قاتل چاہیے میں اسے مار ڈالوں گا “وہ غصے سے پاگل ہوا تھا۔”باس””ڈاکٹر سے بات کرو مجھے شہرے کو اپنے گھر لے کر جانا ہے وہ یہاں نہیں رہے گی وہ میرے ساتھ گھر جائے گی”وہ ٹوٹ چکا تھا مگر اسکا دماغ اس میں کیا چل رہا تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔________________
مامون نے ڈاکٹرز سے بات کی تھی وہ بس شہرے کو اپنے ساتھ گھر لے جانا چاہتا تھا۔”اسٹیو ٹیم گھر آرہی ہے شہرے کے لئے سارے ارینجمنٹس دیکھو اور ایک بات۔۔۔” وہ رکا تھا۔۔”یس باس؟””لوگوں کو یہ نہیں پتا چلنا چاہیے کہ شہرے کومہ ہے ان لوگوں کو یہ خبر دو کہ شہرے اب نہیں رہی” یہ کہتے اسکے دل کے ہزار ٹکڑے ہوئے تھے..”واٹ۔۔۔ کیا مطلب سر؟””اگر ہمیں شہرے کے قاتل کو پکڑنا ہے تو ہمیں اسکے مرنے کی خبر آگے کرنی ہوگی ورنہ وہ شہرے کو ایک بار پھر نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا””بٹ سر “”اسٹیو۔۔۔ مجھے اس شخص کو اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارنا ہے وہ شخص جب تک زندہ رہے گا میرے سینے میں موجود کو دل ہے نا یہ گھٹن زدہ رہے گا “”اوکے باس”اسٹیو اسکی حالت اچھے سے سمجھ رہا تھا ۔۔شہرے کو بہت رازداری سے مامون کے گھر میں شفٹ کیا گیا تھا دنیا کی نظروں میں شہرے مر چکی تھی۔۔سارے انتظامات کرکے مامون کمرے میں آیا تو وہ کسی بت کی طرح بستر پر لیٹی تھی۔۔آہستہ سے چلتے وہ اسکے پاس آ بیٹھا۔کھلا گریبان بکھرے بال۔۔۔ ان چند دنوں میں اسکی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے آگئے تھے۔ٹوٹا بکھرا سا وہ شہرے کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں قید کرگیا۔۔”ہے لٹل گرل واک اپ نا پلیز آئی پرامس میں اب بالکل تنگ نہیں کروں گا پلیز اٹھ جاؤ” اسکے ہاتھ پر لب رکھتا وہ تڑپ رہا تھا۔”دیکھو تمہارا ڈیول کیسے ٹوٹ رہا ہے پلیز ٹھیک ہوجاؤ میں وعدہ کرتا ہوں ہم یہاں نہیں رہیں گے ہم پاکستان چلے جائینگے ایک نئی زندگی شروع کرینگے پلیز ٹھیک ہوجاؤ” اسکے ہاتھ پر سر رکھے وہ بے آواز رو رہا تھا دنیا جس مامون شیرازی کو توڑنے کی کوشش میں تھی آج وہ ایک لڑکی کے آگے ٹوٹ گیا تھا۔۔۔____________اس نے ایک نظر آس پاس دیکھا اور پھر آہستہ سے باہر کی جانب نکلتے وہ حویلی کی پچھلی جانب بنے کمروں میں سے ایک کمرے کے آگے آکر رکی تھی۔اندر سے کسی کے کھانسنے کی آواز آرہی تھی آہستہ سے دروازہ بجاتے اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی جو اسے فوراً ملی تھی۔۔”کون ؟””میں نور فاطمہ یزدانی” اندر داخل ہوتے اس نے سامنے رکھے پلنگ کو دیکھا۔۔جہاں نسیم بوا تکیے کے سہارے بیٹھی پانی پی رہی تھیں۔”اسلام وعلیکم بوا۔۔۔””وعلیکم السلام بچی کون ؟””میں جاذب شاہ کی بیوی ہوں””انیس یزدانی کی بیٹی؟”وہ شاید اسکی یہاں آمد سے ابھی تک بے خبر تھیں۔۔”ہمم کیا میں آپ سے بات کر سکتی ہوں ؟””ہاں ہاں آؤ آؤ” انہوں نے اسکے لئے اپنے پاس جگہ بنائی تو وہ آہستہ سے ان کے پاس جا ٹکی۔”مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے کیا آپ میری مدد کریں گی””کیسی مدد “؟وہ چونکی تھیں۔۔”میں اپنے ماضی کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں میں اس وجہ کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں جس کی وجہ سے آج میں یہاں ہوں کیا آپ مجھے بتائیں گی؟”وہ ایک آس سے انہیں دیکھ رہی تھی نسیم بوا نے گہرا سانس بھرا۔۔”بچے جو ہوا وہ ماضی تھا گزر گیا۔۔””نہیں گزرا بوا وہ ماضی آج بھی میری زندگی کو تباہ کر رہا ہے میرا سچ جاننا ضروری ہے بے حد ضروری” وہ باضد ہوئی تھی۔۔”میں زرمینے کا سچ بھی جاننا چاہتی ہوں”اس کی بات پر انہوں نے بلاآخر اسے سچ بتانے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا۔۔۔۔_________
ماضیعمر شاہ سہیل شاہ کے سب سے لاڈلے بیٹے تھے اگر کہا جائے کہ انہیں سہیل شاہ کا خون بھی معاف تھا تو کچھ غلط نا ہوگا۔۔اسی لاڈ پیار نے انہیں بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔۔ وہ ہر طرح سے ایک کامیاب انسان تھے مگر ان کا دل ایک طوائف زادی ارسلہ پر آگیا۔۔لیکن سہیل شاہ کو یہ بات منظور نہیں تھی انہوں نے زبردستی عمر شاہ کی شادی نجمہ بیگم سے کردی۔۔۔ اور ارسلہ کو غائب کروا دیا ۔وہ کہا گئی کسی کو نہیں پتا چلا۔۔۔عمر شاہ بالکل خاموش ہوگئے تھے انہوں نے اپنی زندگی کو بس کام کی حد تک محدود کرلیا۔۔وقت گزرنے لگا خدا نے انہیں جاذب شاہ سے نوازہ تو دل کا درد کم ہونے لگا وہ خوش تھے مگر پھر ایک دن انہوں نے ارسلہ کو دیکھا ۔اسے کسی اور کوٹھے پر بھیج دیا تھا اسکے ساتھ ظلم کے پہاڑ توڑے جانے لگے تھے۔عمر شاہ اسکی حالت دیکھ کر بلبلا اٹھے مگر یہ جان کر کہ ارسلہ کو غائب کروانے میں انیس یزدانی کا ہاتھ تھا وہ غصے سے پاگل ہوگئے۔۔۔ارسلہ نے جیسے تیسے انہیں روک دیا مگر عمر شاہ کا دل ایک انجانی آگ میں جھلسنے لگا انہوں نے ارسلہ کو اس جگہ سے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ارسلہ وہاں سے نکلنا چاہتی تھی اس لئے انجام کی پرواہ کئے بغیر وہ عمر شاہ کے ساتھ ان کی زندگی میں شامل ہوگئیں۔۔وہیں دوسری طرف ارسلہ کی غیر موجودگی کی خبر انیس یزدانی تک گئی تھی انہوں نے زمین کے بدلے سہیل شاہ سے ہاتھ ملایا تھا۔”انیس تم نے کہا تھا کہ وہ کبھی اس طوائف تک نہیں پہنچ سکے گا ” سہیل شاہ کا غصے سے برا حال تھا۔۔۔”میں اس میں کچھ نہیں کرسکتا میں نے اسے پندرہ سال عمر کی زندگی سے دور رکھا ہے اب اور نہیں کر سکتا۔۔”ایسا ہے تو تمہیں زمین بھی نہیں ملے گی ہم اپنی زمین واپس لے رہے ہیں،””آپ ایسا کچھ نہیں کرسکتے شاہ صاحب آپ نے وعدہ کیا تھا اگر میں آپ کی مدد کروں گا تو میری ماں کی زمین میری ہو گی””تمہاری ماں میری بہن بھی تھی مت بھولو۔۔۔”سہیل شاہ بھڑکے تھے”وہ میری ماں کی زمین ہے میں اس پر اب سودا نہیں کروں گا “”تو ٹھیک ہے بھول جاؤ اس زمین کے ٹکڑے کو” وہ اپنی ضد کے کتنے پکے تھے انیس یزدانی اچھے سے واقف تھے اگر صابر یزدانی کو اس بارے میں خبر ہو جاتی تو کیا انجام ہوتا وہ اچھے سے جانتے تھے۔۔۔انیس یزدانی وہاں سے نکل آئے مگر ان کا دل جل رہا تھا سگے ماموں ہو کر بھی وہ ان کی ماں کا حصہ کھا کر بیٹھے تھے انہوں نے سب کو صرف اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا تھا چاہے وہ ان کا سگا بیٹا کیوں نا ہو ۔۔انیس یزدانی نے سوچ لیا تھا وہ انہیں اب آرام سے کچھ نہیں کہیں گے ۔دوسری طرف عمر شاہ کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی ۔۔۔ارسلہ اسپتال میں تھیں جب سہیل شاہ کو عمر شاہ کی دوسری شادی اور بچی کی خبر ملی وہ غصے سے پاگل ہوگئے تھے۔۔۔اور اس بات پر بھی انہوں نے انیس یزدانی کو سارا الزام دے دیا کیونکہ وہ ارسلہ کو غائب کرنے میں ناکام رہے تھے۔۔عمر شاہ جو اپنے باپ سے بات کرنے ان کے پاس آئے تھے ان پر یہ خبر پہاڑ بن کر گری تھی کہ ان کے اپنے ہی دوست نے ان کی محبت کو اتنے سال ان سے دور رکھا۔غصے کی شدید لہر انہیں اپنے پورے وجود میں محسوس ہوئی تھی۔وہ وہاں سے نکل کر اسپتال آئے مگر وہاں ارسلہ غائب تھی صرف ان کی بیٹی وہاں موجود تھے ارسلہ کو لے جانے والے نے اس بچی کو وہاں سے لے جانے کی ضرورت محسوس نہیں تھی۔۔عمر شاہ کو پورا یقین تھا کہ یہ حرکت بھی انیس یزدانی کی ہے اس لئے وہ اپنی رائفل لئے غصے سے انیس یزدانی کے ڈیرے پر پہنچے تھے۔”ارسلہ کہاں ہیں انیس ؟”جاتے ہی انہوں نے انیس یزدانی کا گریبان مٹھی میں دبوچا تھا۔۔۔”میں نہیں جانتا عمر “”جھوٹ مت بولو” عمر شاہ نے انیس یزدانی کے سر پر بندوق تانی تھی۔۔”عمر پاگل مت بنو میں سچ میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے” اکیس یزدانی انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔۔۔بات زبانی کلامی سے ہاتھا پائی تک جا پہنچی آس پاس کے لوگ ان کی لڑائی پر متوجہ ہوئے تھے مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی انجانے میں یا جان بوجھ کر مگر گولی چلی تھی اور عمر شاہ کے سینے کو چھلنی کرگئی تھی ۔۔پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا تھا عمر شاہ مر چکے تھے۔۔۔گاؤں میں عمر شاہ کی موت کا جرگہ بیٹھایا گیا تھا۔۔____________”ہمیں خون بہا میں انیس یزدانی کی سب سے چھوٹی بیٹی نور فاطمہ چاہیے” فیصلہ تھا کہ چابک جو سیدھا سامنے بیٹھے مرد کے دل میں لگا تھا۔۔”سہیل شاہ۔۔۔ ” ایک جھٹکے سے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر چیخے۔”خبردار جو میری پوتی کا نام اپنی زبان سے لیا””میں نے صرف نام نہیں لیا میں نے فیصلہ سنایا ہے” ان کے لہجے میں غرور تھا۔”وہ ابھی محض ساتھ سال کی ہے ” ان کے لہجے میں اب بے بسی ہی بے بسی تھی۔”ہم نے تو اپنا بیٹا کھویا ہے اب کے قربانی دینے کی باری تمہاری”وہ اپنے فیصلے سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے تھے ۔۔۔”انیس یزدانی سہیل شاہ نے آپ کی پوتی کو خون بہا میں مانگا ہے اور یہی ان کا آخری فیصلہ ہے””ایک بار پھر سوچ لو سہیل شاہ۔۔ وہ معصوم بچی ہے””میرا بیٹا بھی معصوم تھا صابر یزدانی۔۔ جسے تمہارے بیٹے نے مار دیا اب اسکی بیٹی میرے پوتے کے نکاح میں آئے گی” وہ رحم نہیں کرنے والے تھے اتنا طے تھا۔۔تھوڑی دیر بعد نکاح کی کاروائی عمل میں لائی گئی۔۔سات سالہ نور کا نکاح سترہ سالہ جازب شاہ سے ہوگیا تھا۔۔____________
نورے دم سادھے ان کی بات سن رہی تھی۔۔”تو اسکا مطلب ارسلہ کو میرے بابا نے غائب کروایا تھا؟””ایسا ہوا تھا یا نہیں اتنا نہیں پتا مگر عمر شاہ کا قتل انیس یزدانی کے ہاتھوں ہوا تھا۔۔۔ اس سب میں سب سے زیادہ نقصان جاذب شاہ کی ماں کا ہوا تھا۔۔۔”اور یہ کشور پھپھو کی کوئی کہانی ہے؟””انہیں کہانی کی کیا ضرورت ارسلہ کی کہانی کھلنے کے بعد ان کی شادی ٹوٹ گئی تھی لڑکے والے نام نہاد عزت والے تھے ارسلہ کا عمر شاہ کی زندگی میں آنا انہیں ناگوار گزرا تھا اس دن سے کشور صاحبہ کو زرمینے سے نفرت ہے۔۔ اپنی شادی ہونے کے بعد بھی ان کی نفرت میں کمی نہیں آئی تھییہ تو جاذب شاہ کی رحم دلی تھی کہ انہوں نے زرمینے کو اپنی بہن مانا اسے حویلی میں جگہ دلائی مگر دلوں میں محبت ڈالنا جاذب شاہ کے بس میں نہیں تھا۔۔”ہمم۔۔۔تو ارسلہ کا ابھی تک نہیں پتا چلا جازب نے انہیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی؟””نہیں کیونکہ کوئی بھی نہیں جانتا وہ کیسے دیکھتی تھیں۔۔۔ کوئی کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔۔””شکریہ نسیم بوا””ارے کوئی بات نہیں بچے ” ان سے بات کر وہ واپس حویلی میں آگئی دل میں عجیب سی پکڑ دھکڑ مچی ہوئی تھی ۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا واقعی اسکے باپ نے ایسا کیا تھا وہ ان سے آج تک نہیں ملی تھی مگر تھا تو خون کا رشتہ ہی۔۔اس سب میں اسے سب سے زیادہ دکھ جاذب اور زرمینے کے لئے لگا تھا ۔۔اور ان دونوں سے زیادہ نجمہ بیگم کے لئے وہ تو بے ضر سی تھیں نا شوہر کی مکمل محبت ملی نا ساتھ ۔۔۔”کہاں سے آ رہی ہیں مہارانی ؟”وہ جو اپنے دھیان میں تھی کشور بیگم کی کرخت آواز پر خالی نگاہوں سے ان کا چہرہ دیکھنے لگی کیسی عورت تھیں وہ جو کسی اور کی غلطی کی سزا اس معصوم بچی کو دیتی آئی تھیں۔۔”ایسے کیا منہ تک رہی ہے کیا آواز نہیں آرہی میری؟””آپ کو جواب دینا میں ضروری نہیں سمجھتی ” انہیں کہتے وہ وہاں سے جانا چاہتی تھی مگر اسکا بازو کشور بیگم کی سخت گرفت میں آیا اس سے پہلے وہ اسے مارتی کیا کچھ کرتیں نورے نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو ان کی گرفت سے چھڑایا۔”خبردار کشور بیگم آپ نے مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔ میں زرمینے شاہ نہیں ہوں جو بلا وجہ آپ کی مار کھاؤں گی” اسکی دھاڑ پر کشور بیگم کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔”کس کے بل پر اتنا اترا رہی ہے جاذب کے بل پر اترا رہی ہے تو ایک بات یاد رکھ وہ واپس آکر وہ ردابہ سے شادی کرے گا اور تو بس دیکھتی رہ جائے گی ” ان کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی۔۔”,تجھے کیا لگا تھا اگر وہ تجھے اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہے تو بیوی بنا کر رکھے گا ارے مرد ذات ہے اپنی ضرورت کے وقت تو طوائف کو بھی منہ لگا لیتا ہے تو تو پھر۔۔۔” دانستہ اپنی بات ادھوری چھوڑی وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑیں۔۔جبکہ ان کی بات پر نورے کو اپنے دل میں کچھ چبھتا محسوس ہوا۔۔۔”آپ اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے جو بولنا چاہتی ہیں بولیں” اپنے دل کی حالت سے ہٹ کر وہ مضبوط لہجے میں کہتے کشور بیگم کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی وہ اپنا وار کر چکی تھیں۔۔”تو ابھی جانتی نہیں ہے لڑکی وہ عمر شاہ کا بیٹا ہے پہلی محبت اتنی آسانی سے نہیں بھولے گا ردابہ اسکی پہلی محبت ہے اور تو۔ ایک رسم کے چلتے گلے میں ڈالا گیا طوق””مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ کسی سے بھی شادی کرے “”چلو یہ تو اچھی بات ہے تمہیں اپنی اوقات اچھے سے پتا ہے اس لئے اب اپنی اوقات کے مطابق کام کرو اس گھر کے مہارانی بننے کی ضرورت نہیں” حقارت سے کہتے وہ اسکے پہلو سے نکلتے چلے گئیں۔۔۔
قسط_32″امی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں ؟”عمائم ابھی ابھی کچن میں ساری تیاریاں چیک کر کے آئی تھی جب اسکی نگاہ شائستہ بیگم پر پڑی۔۔”ارے بیٹا بس جا رہی تھی فون آیا تھا وہی سننے آئی تھی مگر کوئی بولا ہی نہیں۔۔۔””اچھا آپ جلدی سے تیار ہو جائیں مہمانوں کے آنے سے پہلے آپ کو تیار ہونا ہے””میں تو ہوجاؤں گی تیار مگر برتھ ڈے بوائے کی مما کو بھی تو تیار ہونا چاہیے نا ” ان کی بات پر وہ مسکرا اٹھی۔۔آج زارون کی برتھ ڈے تھی پچھلے تین مہینے اسکے لئے کافی مشکل رہے تھے گھر کے ساتھ آفس مینج کرنا۔۔شائستہ بیگم چاہتی تھیں وہ کام سیکھے اپنا مگر وہ اپنی زمہ داریوں کو چھوڑ نہیں سکتی تھی وہ زارون کی ماں تھی اسکی ساری زمہ داری بنا کسی کے کہے ہی وہ اپنے ہاتھوں میں لے چکی تھی۔اس نے کم وقت میں کافی کچھ سیکھ لیا تھا اور اسکا کریڈٹ صرف اور صرف ضوریز کو جاتا تھا۔وہ اسکی شکر گزار تو تھی مگر ساتھ ہی وہ اسکی حرکتوں سے زچ ہوجایا کرتی تھی۔۔ضوریز کی بڑھتی قربتیں اسکے حواس جھنجھلا کر رکھ دیتی تھیں۔ان تین مہینوں میں وہ ضوریز کے کافی قریب آگئی تھی۔۔وہ شخص کب اسکے دل کی مسند پر براجمان ہوا اسے بالکل بھی احساس نہیں تھا مگر اب اس شخص کے بغیر گزارا ناممکن سا لگتا تھا۔ان دونوں کے بیچ بھلے ہی اظہار محبت نہیں ہوا تھا مگر وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے اپنی فیلنگز سے واقف تھے۔۔ساری تیاریوں کو ایک نظر دیکھ وہ اپنے کمرے میں آگئی سامنے ہی نیوی بلو کلر کی فراک رکھی تھی۔۔جلدی سے شاور لے کر وہ تیار ہونے لگے۔۔ڈریس کے حساب سے لائٹس سا میک اپ کئے اس نے سلور کلر کی جھمکیوں کو کانوں کی زینت بنایا تھا وہ آج زارون کی تیاری سے بے فکر تھی کیونکہ اسکا بابا اور کامران نے اسے تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی تھی۔۔اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیتے وہ بالوں کو کرل کر رہی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھاعمائم نے یونہی گردن موڑ کر دیکھا جہاں ضوریز کھڑا مہبوت سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسکی نگاہوں کی تپش پر عمائم کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی محسوس ہوئی تھیں ۔۔”آپ لیٹ ہو جائیں گے جلدی سے تیار ہو جائیں” ماحول میں چھائی معنی خیز سی خاموشی کو توڑ کر کہتے وہ جلدی سے اپنے بال سیٹ کرنے لگی جبھی ضوریز آہستہ سے چلتا اسکے پیچھے آ رکا۔”یو لک یو پریٹی” اسکے گرد حصار باندھتے ضوریز نے اپنی ٹھوڑی عمائم کے کندھے پر ٹکائی۔۔۔”ضوریز پلیز میرا میک اپ خراب مت کیجئے گا” عمائم کے کہنے پر وہ ہنس پڑا اور پھر ضوریز نے اپنی پاکٹ سے کچھ نکالا تھا۔۔”آنکھیں بند کریں””نہیں “”عمائم آپ بند کر رہی ہیں آنکھیں یا میں اپنے طریقے سے کرواؤں ؟” ضوریز کی دھمکی پر عمائم نے فوراً سے آنکھیں بند کیں اس انسان کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اسکا اچھا خاصا میک اپ خراب کر دیتا۔۔کچھ لمحے بعد اسے اپنی گردن پر ضوریز کی انگلیوں کے لمس کے ساتھ کچھ سرکتا محسوس ہوا تھا۔”اب کھولیں آنکھیں” ضوریز کے کہتے ہی عمائم نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا جہاں اسکی گردن میں جگمگاتا موتی چمک رہا تھا۔”ضوریز””میں نے منہ دیکھائی پہلے ہی دے دی تاکہ آگے ہمارا وقت ضائع نا ہو” آنکھ ونک کر کے کہتا وہ عمائم کو شرم سے لال کر گیا۔۔۔اسکی بات کے پیچھے چھپے مطلب کو وہ اچھے سے سمجھ گئی تھی۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ضوریز نے اسکا رخ اپنی جانب کر اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپایا تھا۔۔”ضوریز پلیز سب آنے والے ہیں””جانتا ہوں بس تھوڑی دیر”یونہی اسے حصار میں لئے وہ خاموشی سے کھڑا تھا”ضوریز””ریچارج ہونے دیں تھک گیا ہوں بہت”اسکے بالوں سے اٹھتی دلفریب خوشبو ضوریز کے جذبوں میں طغیانی لانے کا سبب بنی تھی اس سے پہلے وہ کوئی گستاخی کرتا کمرے کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا۔۔”مما۔۔۔۔” زارون کی آواز پر عمائم نے فوراً سے اپنے قدم پیچھے لئے وہیں ضوریز نے گھور کر اپنے دشمن کو دیکھا تھا۔۔”ماشاءاللہ مائے پرنس” زارون کو بلیک پینٹ کوٹ میں دیکھ عمائم نے فوراً سے دعا پڑھتے اس پر دم کیا تھا۔”ایسا دم ہم پر بھی کردیں ” ضوریز کے کہنے پر وہ ایک دم ہنس دی ۔”آپ پہلے تیار ہو کر آئیں جلدی سے” زارون کو بیڈ پر بیٹھاتے وہ ضوریز کو کپڑے دیتے زبردستی واشروم کی جانب دھکیل گئی۔”مما میں اچھا لگ رہا ہوں نا؟””یس بالکل ہیرو جیسے” اسکے کان کے پیچھے کاجل کا ٹیکا لگائے وہ محبت سے اسے دیکھنے لگی تبھی واشروم کا دروازہ کھلا تھا اور ضوریز صاحب باہر آئے تھے جلدی سے تیار ہوتے عمائم نے ان تینوں کو ایک ساتھ آئینے میں دیکھا۔”میری تعریف نہیں کرینگی بیگم؟؟””کروں گی نا سکون سے ابھی چلیں مہمان آگئے ہیں”وہ جانتی تھی تعریف کرنے کا مطلب ضوریز کو بے لگام چھوڑ دینا فلحال وہ اسکے قریب جانے کا رسک نہیں لے سکتی تھی عمائم کی چالاکی سمجھتے ضوریز نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔”آنا میرے پاس ہی ہے آج بخشش بھی نہیں ہوگی” اسکی بات پر عمائم شرم سے گلنار ہوتے زراون کو ہاتھ تھامے کمرے سے نکلی تو ضوریز نے بھی ان کے پیچھے ہی اپنے قدم بڑھائے تھے۔۔لان کو خوبصورت طریقوں سے سجایا گیا تھا جب شائستہ بیگم کی نظر ان تینوں کی جانب اٹھی ۔وہ تینوں ساتھ اتنے مکمل لگ رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے تو پلٹ کر انہیں دیکھا تھا۔شائستہ بیگم نے جلدی سے دعا پڑھ کر ان تینوں پر دم کیا تھا۔۔”اللہ ہر بری بلا سے بچائے” انہوں نے صدق دل سے دعا کی تھی۔۔مگر کون جانے یہ دعا قبول ہوئی بھی تھی کہ نہیں۔۔۔۔
جلال کی جانب بڑھتے زرمینے کے قدم کئی بار لڑکھڑائے تھے۔وہ بہت خاموشی سے سینے پر ہاتھ باندھے اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ رہا تھا جس کی رفتار کچوے سے بھی کم تھی۔۔۔”زرمینے کیا آپ آج میرے پاس آجائیں گی!””آ تو رہی ہیں” وہ ہولے سے منمنائی۔۔۔جلال نے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائے ایک جھٹکے سے اسکی کلائی تھام اسے اپنے قریب کھینچا تھا وہ جو ڈھیلے ڈھالے انداز میں کھڑے تھی سیدھا جلال کے کشادہ سینے سے جا ٹکرائی۔۔”یہ۔۔۔” اسکے سینے پر ہاتھ رکھے زرمینے نے ان دونوں کے درمیان فاصلہ بنانا چاہا مگر جلال اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی کمر کے پیچھے لے جاتا اسکی کوشش ناکام بناتے زرمینے کا چہرہ شرم سے لال کرگیا۔۔”اچھی لگ رہیں ہیں””وہ دادی نے بولا تھا تو” وہ ناجانے کیوں ہکلائی تھی۔”تو یہ ساری تیاری دادی کے لئے میرے لئے نہیں؟”اسکے لہجے میں مایوسی سمٹ آئی زرمینے نے فوراً سے سر نفی میں ہلایا۔۔”ایسا تو نہیں کہا وہ۔۔۔” اسے سمجھ نہیں آیا وہ کیا کہے سامنے والے کی نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں۔۔”پھر کیسا ہے زرا بتائیں مجھے” اسے مزید اپنے قریب کرتا وہ اسکے ہاتھ پیر ٹھنڈے کر رہا تھا۔۔”آپ بھی دیکھ لیں مجھے تیار تو ہوں میں” مارے بندھے کہتی وہ جلال کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔ناجانے کتنے عرصے بعد وہ یوں دل سے مسکرایا تھا۔۔”اچھی لگ رہی ہیں” اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے جلال نے اسکے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا تھا ۔اسکے لمس پر زرمینے پوری شدت سے کانپی۔۔جو اسکے بالوں کو چھوتے اسکے چہرے پر جھکتا حیا کے رنگ اسکے چہرے پر کھلاتا اس پر قابض ہوا تھا۔۔۔”جلال آپ” زرمینے نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ اسکے چہرے پر جھکتا اسکے چہرے پر کئی رنگ کھلا گیا۔۔اسکا سر تکیے پر منتقل کرتا وہ اسکے ماتھے کو لبوں سے چھوتے اسے اپنے حصار میں قید کر گیا تھا۔۔۔۔___________دن تیزی سے گزرنے لگے تھے نورے کو اپنی طبیعت میں عجیب سا بوجھل پن محسوس ہو رہا تھا۔اس گھر میں رہنا اس کے لئے بغیر جاذب کے مشکل ترین ہوتا جا رہا تھا کشور بیگم نے اس پر سخت پہرے بٹھائے ہوئے تھے۔جب سے سچ پتا چلا تھا وہ بالکل خاموش ہوگئی تھی جازب پچھلے دو ماہ سے گھر نہیں آیا تھا اور آج اسکی الجھن بڑھتی جا رہی تھی وہ اس حویلی سے نکلنا چاہتی تھی اس لئے کچھ سوچتے اس نے بڑی سے چادر اپنے گرد لپیٹی اور سب کی نظروں سے بچتے وہ بمشکل حویلی سے نکل آئی۔۔۔دل ڈر بھی رہا تھا مگر اسے اس وقت کھلی فضا میں سانس لینا تھا۔۔باہر آکر اسے اپنے اندر کی گھٹن کئی گنا کم لگی تھی۔وہ اپنی بگڑتی طبیعت سے پریشان تھی جاذب شاہ پر غصہ بھی تھا جو ایسا گیا کہ اتنے وقت بعد اپنی شکل بھی نہیں دیکھائی۔۔۔”ہونہہ وہ کیوں مجھے اپنی شکل دیکھائے گے اب مطلب تو پورا ہوگیا نا مجھ سے اور ویسے بھی میں کونسا خاندانی بیوی ہوں ” خود سے بڑبڑاتے وہ اچانک رکی تھی وجہ ۔۔ وجہ سامنے کھڑی سیاہ گاڑی تھی جس میں سے ایک ادھیڑ عمر کا شخص نکلتا اس کے پاس آیا تھا ۔”کہاں جا رہی ہو نور اس وقت؟”اس انسان کے منہ سے اپنا نام سن اسے جھٹکا لگا تھا۔۔”آپ ۔۔ آپ کون؟””میں سبطین خان انیس یزدانی یعنی تمہارے بابا کا دوست””میں کیسے مان لوں کے آپ سچ بول رہے ہیں؟” دو قدم پیچھے لیتے وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی جب اسکا سر بری طرح چکرایا۔۔آنکھوں کے سامنے آئے اندھیرے کو جھٹکنے کی کوشش کرتے وہ اپنے پیروں کو زمین پر مضبوطی سے جمانے کی کوشش کرنے لگی۔۔”آپ ٹھیک ہو بیٹا؟”سبطین خان پریشان نظروں سے اسے دیکھنے لگے جو بار بار سر جھٹک رہی تھی ۔”نور” انہوں نے کچھ کہنا چاہا اچانک نور پورے قد کے ساتھ زمین بوس ہوئی تھی ۔سبطین شاہ بری طرح گھبرائے تھے۔۔”بچے اٹھو کیا ہوا ہے” ان کی آواز پر گارڈ تیزی سے ان تک آئے تھے۔۔___________
آج اسکا جلسہ تھا جو کہ اسکی سوچ سے زیادہ کامیاب ہوا تھا۔۔۔وہ ابھی اپنے کیمپ میں آکر بیٹھا تھا کہ اسکا موبائل رنگ ہونے لگا۔۔۔حویلی سے کال کی اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ ایسا بہت کم ہی ہوتا تھا کہ کوئی حویلی سے اسے کال کرے۔”ہیلو؟”کال ریسیو کرتے اس نے موبائل کان سے لگایا ۔۔”ہیلو بھائی ۔۔۔”انابیہ کی گھبرائی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی وہ فوراً سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔۔”کیا ہوا ہے انابیہ سب ٹھیک ہے نا؟””بھابھی حویلی میں کہیں نہیں ہیں ہم نے پوری حویلی میں ڈھونڈ لیا آس پاس بھی دیکھ لیا وہ کہیں نہیں ہیں” انابیہ کے الفاظ اسکے سر پر دھماکہ کر گئے۔۔”کیا مطلب حویلی میں نہیں ہیں وہیں ہو گی نا” اسکا دل انجانے خوف سے دھڑکا تھا۔۔”نہیں بھائی وہ حویلی میں نہیں ہیں انہیں دوپہر سے کسی نے نہیں دیکھا۔۔” وہ بری طرح سے گھبرا رہی تھی۔”میں آرہا ہوں ” اسے کہتے وہ فون بند کرتے جلال کو کال کرنے لگا۔۔۔”جلال نورے حویلی سے غائب ہے بندوں کو انہیں ڈھونڈنے پر لگاؤ” تیزی سے گاڑی میں بیٹھتے اس نے جلال کو کہتے ساتھ ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا تھا۔۔الیکشن کی وجہ سے اسے سیکورٹی اور ڈرائیور رکھنے پڑ رہے تھے۔۔پورے سفر وہ مضطرب رہا تھا جلال اس سے مسلسل رابطے میں تھا مگر ابھی تک کوئی خبر نہیں ملی تھی دو گھنٹے کا سفر تھا جو وہ لمحوں میں طے کرنا چاہتا تھا ۔۔۔بالآخر سفر ختم ہوا تھا اور وہ تیزی سے گاڑی سے نکل کر اندر بڑھا تھا جہاں سب لاونج میں پہلے سے موجود تھے۔۔”جلال کیا ہوا ہے کچھ پتا چلا نورے کا؟””پتا ان کا چلتا ہے جازب جو غائب ہوئے ہوں اپنی مرضی سے جانے والے سراغ نہیں چھوڑ کر جاتے۔۔۔” کشور بیگم کی طنز میں ڈوبی آواز پر جاذب نے بہت ضبط سے ان کی بات برداشت کی تھی۔”جلال میرے ساتھ آؤ”جلال کو کہتے وہ آگے بڑھا تھا جبکہ کشور بیگم نے ہنکار بھرا۔۔”میں تو پہلے ہی بول رہی ہوں نہیں آنے والی وہ لڑکی واپس پتا نہیں لوگوں کو کیوں یقین نہیں آتا بھاگ گئی ہے وہ اس گھر سے””بس کردیں آپا بس کریں آخر آپ کو کیا مل رہا ہے کسی کے بارے میں کچھ بولنے سے رحم کردیں ہم پر” نجمہ بیگم کی آواز پر ان سب کے حیرت سے انہیں دیکھا تھا جو آج بولی تھیں۔”تم مجھے””ہاں آپ کو۔۔۔ آپ کو بول رہی ہوں آپ نے اس لڑکی کی زندگی جہنم کر دی شوہر میرا مرا تھا باپ جاذب کا مرا تھا مگر دشمنی ہم دونوں سے زیادہ آپ نے نبھائی اور اب جب وہ یہاں نہیں ٹب بھی آپ باز نہیں آرہی ہیں رحم کھائیں ہم پر خدارا” غصے سے کہتے وہ وہاں سے نکلی تھیں جبکہ وہاں موجود ہر شخص آج حیراں رہ گیا تھا۔۔۔________شہرے کو گھر شفٹ کردیا گیا تھا مامون بذات خود اسکا خیال رکھ رہا تھا اس نے آفس کا کام گھر سے کرنا شروع کیا تھا۔۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا مگر شہرے کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی تھی جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مامون کا رویہ عجیب ہوتا جا رہا تھا نا وہ کسی سے بات کرتا تھا نا مسکراتا تھا اس نے خود کو ایک خول میں بند کرلیا تھا۔۔اسٹیلا کو لگا تھا شہرے کے بعد وہ اسکا ہوگا مگر وہ غلط تھا مامون اسے ایک نظر تک نہیں دیکھتا تھا اپنے کام کے بعد وہ ہوتا تھا اور شہرے۔وہ گھنٹوں اسکے پاس بیٹھا رہتا خاموشی سے اسے دیکھتا رہتا اس سے بات کرتا رہتا وہ اسکے عشق میں مبتلا ہوگیا تھا اسکی خاموشی بھی اسے نعمت لگتی تھی کم از کم وہ سانس تو لے رہی تھی مامون کو لگتا تھا جس دن یہ سانیںس رکی وہ مر جائے گا۔۔۔۔۔آج شہرے کا برتھ ڈے تھا مامون اپنی میٹنگ اٹینڈ کرنے جلدی سے واپس شہرے کے پاس آیا تھا جو پچھلے تین سے چار ماہ سے یونہی خاموش تھی۔۔مامون کے ہاتھ میں ڈھیر سارے غبارے تھے۔۔”شہرے۔۔۔ دیکھو میں کیا لایا ہوں ۔۔۔ تم اٹھو نا دیکھو “”شہرے یہ زندگی بہت بری ہے میرے پاس کوئی بات کرنے والا بھی نہیں ہے میں کس سے بات کروں کسے تنگ کروں بتاؤ نا مجھے دیکھو میں کتنا اداس رہتا ہوں زندگی کا بالکل بھی مزہ نہیں زندگی میں رونق تم سے تھی اٹھ جاؤ نا لٹل برڈ” وہ کہتے ساتھ رو رہا تھا بے آواز آنسو شہرے کے گال پر پڑ رہے تھے۔جب اچانک شہرے کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔مامون بری طرح چونکتے سیدھا ہوا تھا۔۔”شہرے۔۔۔ شہرے تم سن رہی ہو نا مجھے” اتنے مہینے بعد شہرے نے رسپانس کیا تھا مامون فوراً سے اٹھا تھا تاکہ ڈاکٹر کو بلا سکے۔۔۔کال کر اس کے ڈاکٹر کو چلایا اور خود شہرے کے پاس آکر بیٹھا اسکے ماتھے کو چومتے اسکا ہاتھ تھام گیا ۔کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر آگئے تھے انہوں نے شہرے کا اچھے سے چیک اپ کیا تھا۔”ڈاکٹر ؟””دیکھیں اگر انہوں نے ریسپانس کیا ہے تو یہ بہت اچھا ہے آپ بس اسی طرح ان کا خیال رکھیں سب ٹھیک ہوگا۔۔” ڈاکٹر اسے تسلی دیتے باہر آیا تھا مامون انہیں چھوڑنے باہر تک آیا تھا۔ڈاکٹر نے جاتے ہی وہ اندر بڑھا تھا جب سامنے درخت کی اوٹ میں چھپی اسٹیلا باہر آئی تھی۔۔۔وہ مامون سے ملنے یہاں آئی تھی کیونکہ مامون آفس میں اسے لفٹ نہیں کرواتا تھا مگر یہاں ڈاکٹر کو دیکھ وہ الجھ گئی تھی ۔۔۔____________
شام ایک بار پھر شہرے کی آنکھوں میں حرکت ہوئی تھی مامون نے فوراً سے ڈاکٹر کو بلایا۔۔اسٹیلا کو مامون پر نظر رکھوائے ہوئے تھی فوراً سے مامون کے گھر آئی تھی اس نے خاموشی سے پچھلی جانب بنی کھڑکی کی جانب سے اندر قدم رکھا تھا ملازمہ کچن میں کام رہی تھی اسٹیلا کو حیرت ہوئی تھی اگر مامون اور ملازمہ ٹھیک تھے تو بیمار کون تھا۔۔ملازمہ سے نگاہیں بچاتے وہ آگے بڑھ رہی تھی اسے اچھے سے پتا تھا مامون کے گھر میں کیمرے سیٹ ہیں مگر پچھلی جانب کیمرہ بند تھا اور یہ کام اس نے خود کروایا تھا۔۔آہستہ سے بچتے وہ مامون کے کمرے کی جانب آئی جہاں سے اسے مامون اور ڈاکٹر نظر آرہے تھے۔”شہرے کی آنکھیں ریسپانس کررہی ہیں وہ اب دیکھ سکتی ہیں ری ایکٹ کر سکتی ہیں اور یہ ایک اچھی خبر ہے”ڈاکٹر کی بات پر مامون خوشی سے پاگل ہوا تھا جبکہ شہرے کا نام سن اسٹیلا کے سر پر پہاڑ ٹوٹا تھا۔”شہرے زندہ ہے؟” وہ خود سے بڑبڑائی تھی۔۔مامون اور ڈاکٹر کی آواز پر وہ تیزی سے چھپی تھی ان کے سائیڈ ہوتے ہی اندر کا منظر واضح ہوا تھا وہ اب شہرے کو دیکھ سکتی تھی جو بیڈ پر لیٹی تھی۔اس سے پہلے وہ پکڑی جاتی اسٹیلا فوراً سے باہر نکلی تھی اسکا چہرہ ناقابل حد تک سرخ ہو رہا تھا مٹھیاں بھینچی ہوئی تھیں۔۔”تو اس لئے مامون مجھے اگنور کر رہا تھا کیونکہ یہ زندہ تھی مگر ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ زندہ کیسے ہو سکتی ہے” اسٹیلا کو کچھ نہیں سمجھ آرہا تھا۔۔”تو تم نے اسکی موت کا جھوٹ بولا مامون شیرازی مگر تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو میں اس لڑکی کے ساتھ کیا کر سکتی ہوں تمہیں اس جھوٹ کی سزا مل کر رہے گی۔اس لڑکی کو مرنا ہوگا کیونکہ تم صرف اور صرف میرے ہو مامون۔۔۔۔” اسکے گھر کی جانب دیکھتے وہ نفرت سے کہہ رہی تھی جہاں اب مامون ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا اسکے چہرے پر انوکھی سی چمک تھی جو اسٹیلا کے اندر تک آگ لگا گئی تھی۔۔”ہو لو جتنا خوش ہونا ہے ہو لو مامون کیونکہ بہت جلد تم رو گے اور میرے پاس آؤ گے کیونکہ تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے”خود سے کہتے وہ وہاں سے نکلی تھی۔گاڑی ڈرائیو کرتے اس کے ایک نمبر ڈائل کیا تھا۔”ہیلو مجھے ایک گن چاہیے جو سامنے والے کو سیدھا مار دے بچپنے کا کوئی چانس نہیں ہونا چاہیے””مل جائے گی جب چاہیے ؟”.”میں آرہی ہوں ” اسے کہتے وہ کال کٹ کر اپنی منزل پر پہنچی تھی۔گن ہاتھ میں لئے وہ خباثت سے مسکرائی”اب کی بار وہ مرے گی کیونکہ اسے میں ماروں گی”گن دیکھتے وہ ہولے سے مسکرائی
جاری ہے
قسط_33ہوش کی دنیا میں آتے ہی اسے اپنے اردگرد عجیب سی آوازیں سنائی دی تھیں کسی عورت کی پھر کسی مرد کی۔۔بمشکل آنکھیں کھولے اس نے آس پاس کے ماحول سے مانوس ہونا چاہا جب نگاہیں سیدھا خود پر جھکی اس سفید لباس اور سیاہ دوپٹے والی عورت سے ٹکرائیں جس کے ہاتھ میں سوئی تھی جو کچھ دیر بعد اسے اپنی نبض میں چبھتیمحسوس ہوئی تھی۔”اہ۔۔۔” زرا سی تکلیف بھی اسے زیادہ لگی تھی۔۔”انہیں ہوش آگیا ہے ” ڈاکٹر کی آواز پر ایک طرف کھڑی پلوشہ خان اس کی جانب بڑھیں۔انجان چہرے انجان جگہ ۔۔نورے ایک دم سے خوفزدہ ہوئی تھی ۔۔”میں کہاں ؟””بچے وہ خان حویلی میں ہو ڈرو مت” پلوشہ بیگم کی نرم آواز پر وہ ان کا چہرہ دیکھنے لگی ایک نرمی سی تھی جو ان کے چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔۔”ڈاکٹر یہ اب کیسی ہیں؟””دیکھیں بس تھوڑی کمزوری ہے ایسی حالت میں ہوجاتا ہے ایسا”ڈاکٹر کی بات پر وہ الجھ کر انہیں دیکھنے لگی۔۔”ایسی حالت مطلب ؟’اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرتے وہ ہلکان ہوئی تو پلوشہ خان نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دے کر بٹھایا۔”آپ ماں بننے والی ہیں کیا آپ کو اس بات کا علم نہیں؟””ہاں ؟” ایک جھٹکا تھا کو اسے لگا تھا ہونق بنی ڈاکٹر کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔”جی آپ ون منتھ پریگننٹ ہیں” ڈاکٹر کی بات پر اسکے کان سائیں سائیں کر رہے تھے بے یقینی سی بے یقینی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خوش ہو یا اداس ہو ۔۔۔”آپ ان کا خیال رکھئے گا اس ڈرپ کو ختم ہونے میں ایک گھنٹہ لگے گا ایک گھنٹے بعد نرس آکر اسے ہٹا دے گی”اسکی سوچوں تو انجان ڈاکٹر پلوشہ خان سے کہتے سن کے ہمراہ باہر بڑھ گئی جبکہ اسکا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔۔۔گھڑی رات نو بجا رہی تھی وہ دوپہر سے حویلی سے نکلی تھی۔۔”یا اللّٰہ حویلی میں کسی کو پتا چلا تو میں کیا کروں گی” ایکدم ہی خوف چہرے پر سمٹ آیا تھا۔”مجھے جانا ہوگا”،”ارے نورے یہ کیا کر رہی ہیں بیٹا” اسے ڈرپ نکالتے دیکھتے پلوشہ خان نے فوراً سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔”مجھے واپس حویلی جانا ہے آنٹی””بچے رات بہت ہوگئی ہے حویلی میں فلحال کوئی نہیں جو آپ کو چھوڑ کر آ سکے اس لئے آپ یہاں سکون سے رہو””نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتی میں ۔۔۔ حویلی ” وہ بری طرح گھبرا رہی تھی۔”میری جان آپ تھوڑا صبر کریں ابھی تھوڑی دیر میں خان آپ کے بابا کو یہاں لا رہے ہیں کیا آپ اپنے بابا سے نہیں ملنا چاہیں گیں ؟”اپنے بابا کے لفظ پر چونکتے وہ پلوشہ خان کا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔”میرے بابا؟””ہاں آپ کے بابا خان میرا مطلب میرے شوہر انہیں لینے گئے ہیں””دادو ۔۔۔ یہ کون ہیں ؟”اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی کمرے کی اوٹ سے ایک چہرہ اندر جھانکتا نظر آیا تھا وہ سبز آنکھوں والا خوبصورت سا بچہ۔۔۔”ارے ولی سکندر آجائیں بچے”اجازت ملتے ہی وہ اپنی دادی کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا جس کی عمر شاید نو یا دس سال تھی۔۔۔۔”دادی یہ کون ہیں؟””شہزادے یہ یہاں مہمان ہیں “”اسلام وعلیکم مہمان ” اسکا سلام کرنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ نور اتنی ٹینشن میں بھی مسکرا اٹھی۔۔”وعلیکم السلام پیارے شہزادے””دادو ڈاکٹر آنٹی بول رہی تھی نا ان کے بے بی ہے کہاں ہے بے بی میں بے بی دیکھنے آیا ہوں” ولی سکندر کی بات پر نورے کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا وہیں پلوشہ خان بےاختیار ہنس دیں۔۔۔”ابھی بے بی نہین آیا ہے جب آئے گا تب آپ ملنا اس سے ابھی آپ دیکھو آغا جان کہاں ہیں؟”ان کی بات پر سر ہلاتے وہ فوراً سے وہاں سے باہر نکلا تھا جبکہ اسکے جانے کے کچھ لمحے بعد ہی سبطین خان اور انیس یزدانی کے آنے کی خبر ملی تھی۔۔ناجانے کتنے سالوں بعد وہ اپنے باپ سے ملنے والی تھی دل عجیب خالی سا تھا کچھ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا۔۔۔”مجھے ان سے نہیں ملنا” دھڑکتے دل کے ساتھ کہتے وہ پلوشہ خان کو چونکا گئی۔۔”اتنے سال تڑپے ہیں وہ نورے آپ کی ایک جھلک کے لئے کیا اتنا بھی انکا حق نہیں کہ وہ آپ کو دیکھ سکیں،؟””انہوں نے مجھے خود سے دور کردیا تھا ۔۔””انہوں نے نہیں کیا تھا وہ بے قصور ہیں نورے ایک بار بس ایک بار اپنے بابا کو موقع تو دیں”وہ اس سے درخواست کر رہی تھی نورے کا سر آہستہ سے اثبات میں ہلا تھا۔۔۔__________وہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے نورے کو پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا مگر اسکا کوئی پتا نہیں تھا۔ تھک کر وہ حویلی آیا تھا جہاں سب لاؤنج میں ہی موجود تھے۔،”دیکھ جازب تجھے میری بات بری لگتی ہے مگر مجھے یہی لگتا ہے وہ لڑکی اپنی مرضی سے یہاں سے گئی ہے ویسے بھی تو وہ اس حویلی سے جانا چاہتی تھی جان چھڑانا چاہتی تھی” اسکے پاس بیٹھتے کشور بیگم نے کہا وہ کہاں باز آنے والی تھیں اپنی فطرت سے۔۔۔”پھپھو پلیز””دیکھ جاذب تیرے پلیز کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی مجھے تو لگتا ہے وہ ضروراپنے باپ سے ملنے گئی ہوگی کیونکہ کل انیس یزدانی کو حویلی کے آس پاس دیکھا گیا تھا۔۔ان کی بات پر جازب بری طرح چونکا۔”ایسا کچھ نہیں وہ کبھی میرے خلاف جا کر ان سے نہیں ملے گی مجھے بتائے بغیر تو بالکل بھی نہیں”اسکا دل کہہ رہا تھا وہ اسے دھوکہ نہیں دے گی اسے ملنا بھی تھا تو وہ جاذب شاہ کو بتائے گی ضرور وہ پیٹھ پیچھے کام کرنے والوں میں سے نہیں تھی ۔”چل ٹھیک یے اگر وہ ایسی نہیں ہوئی تو میں اسی وقت یہ حویلی چھوڑ کر چلی جاؤں گی اور اگر وہ واقعی اپنے باپ سے ملی تو” انہوں نے دانستہ اپنی بات ادھوری چھوڑی۔۔”تو ؟””تو تجھے ردابہ سے شادی کرنی ہوگی اس لڑکی کو بتانا ہوگا کہ دھوکہ دینے والوں کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے،”ان کی شرط عجیب تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا جبکہ اسکے جاتے ہی کشور بیگم مسکرائی تھیں ۔۔۔”سائیں سائیں ؟” وہ جو باہر نکلا تھا جلال کو تیزی سے اپنی جانب آتے دیکھ چونکا”کیا ہوا جلال؟””نورے بی بی کا پتا چل گیا ہے””کہاں ہے وہ ٹھیک تو ہے نا؟” اسکا روم روم کان بن گیا تھا اس لڑکی نے چند گھنٹوں میں جاذب شاہ کی جان نکال دی تھی اسے احساس دلایا تھا کہ نفرت تو اسکے لئے کہیں تھی نہیں اگر کوئی جذبہ تھا تو صرف اور صرف محبت کا۔۔اسکا دل دعا کر رہا تھا کہ وہ ٹھیک ہو۔۔”خان حویلی میں ہیں۔۔۔ سبطین خان اور انیس یزدانی کے ساتھ” جلال کی اگلی بات پر اسکے سر پر پہاڑ گرا تھا۔۔بے یقینی سے وہ جلال کا چہرہ دیکھنے لگا۔تو کیا اسکی محبت کی مدت اتنی تھی اسے دھوکہ ملنا تھا؟؟؟______________
سالگرہ کی تقریب بہت اچھے سے ہوگئی تھی۔۔۔زارون بے حد خوش تھا آخر کو اتنے سال بعد فائنلی اسکی مما اسکے ساتھ تھیں اسکے سارے دوست انوائٹڈ تھے۔۔۔”مما یو آئی ایم سو ہیپی” عمائم کے گلے میں بانہیں ڈالے وہ اسکے گال پر پیار کرتا مسکراتے ہوئے بولا تھا اور اسکے یوں لاڈ کرنے پر عمائم نے محبت سے اسکے گالوں کو چھوا۔۔”آئی نو میری جان””مما میرے فرینڈز تو اتنے شاکڈ تھے کہ واؤ زارون یور مما لک لائک پرنسس” اسکی ایسے تعریف پر عمائم بے ساختہ جھینپتے ہنس پڑی۔۔”اتنی باتیں کیسے کر سکتے ہیں آپ لوگ اتنی سی ایج میں” اسکے گال کھینچتے وہ ہنستے ہوئے بولی جس پر زارون کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔”یو نو مما۔۔۔ میری فرینڈ کی ایک سسٹر بھی ہے بالکل اسکی مما جیسی اگر میری سسٹر آئی تو وہ بھی آپ کے جیسی ہوگی نا؟” عمائم جو بہت دھیان سے اسے سن رہی تھی زارون کی بات پر جہاں گڑبڑائی وہیں کمرے میں داخل ہوتے ضوریز کا قہقہ بلند ہوا تھا۔۔”یس مائے ڈارلنگ سن۔۔۔ مما جیسے پریٹی کیوٹ ہوگی” عمائم کے پاس زبردستی جگہ بنا کر بیٹھتے وہ اسے اپنے حصار میں لیتا زارون کو اپنی گود میں بٹھا گیا۔۔۔”اچھا بس اب زراون چلیں آجائیں سوتے ہیں””نو مما آج میں دادو کے روم میں سوؤں گا” زارون کی بات پر عمائم کا سر فوراً نفی میں ہلا۔۔”مما کے پاس سو نا زارون””مما آج نہیں آج دادو سے پرامس کیا ہے میں نے ہیں نا بابا”؟ اسکے ضوریز سے تائید مانگنے پر وہ فوراً سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔”اچھا دادو سے پرامس کیا ہے تو بالکل جائیں””اوکے گڈ نائٹ مما بابا “دونوں کو پیار کر وہ عمائم کے روکنے کے باجود رکا نہیں تھا اور جاتے جاتے دروازہ اچھے سے بند کرنا بھی ہر گز نہیں بھولا تھا ۔۔”آپ نے اسے کچھ کہا نا؟” کمر پر ہاتھ رکھے عمائم نے گھور کر اسے دیکھا جو اچانک ہی ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھامتے اسے اپنے پاس بیٹھا گیا۔۔۔”میرا بیٹا سمجھدار ہے اسے پتا ہے مما اور بابا کو بھی پرائیویسی کی ضرورت ہوتی ہے” اسکے گرد حصار باندھتے ضوریز نے اسکے کندھے پر ٹھوڑی ٹکائی۔۔۔”ضوریز”اسکے یوں قریب ہونے پر وہ شرم سے سر جھکا گئی جس پر مسکراتے اسکا رخ اپنی جانب کرتا وہ آہستہ سے اسکے ماتھے پر مہر محبت ثبت کرگیا۔۔”ایک بچے کی اماں ہوکر بھی آپ مجھ سے شرما رہی ہیں یہ تو غلط بات ہے نا؟””ایک بچے کے ابا ہو کر آپ اتنے بے شرم ہیں یہ بھی تو غلط بات ہے نا؟”اس نے بھی فوراً حساب برابر کرگیا تھا جس پر ضوریز نے آہستہ سے اسکی ناک پر چٹکی بھری۔۔۔”ابھی بے شرموں والے کوئی کام میں نے کئے نہیں ہیں ویسے ایویں بدنام کر رہی ہیں آپ مجھے مسزز عمائم ضوریز”
“ابھی تو میں نے آپ کو کچھ بولا ہی نہیں ہے ایسے الزام تو نا لگائیں مسٹر ضوریز ” اسکے گردن کے گرد بانہوں کا حصار باندھتے اسکی ٹھوڑی سے ماتھا ٹکایا تھا اور اسکی اس ادا پر ضوریز فدا ہوا تھا۔۔”کیا بات ہے آج کچھ اداس ہیں؟””اداس تو نہیں ہوں بلکہ بہت خوش ہوں اور اس خوشی کی وجہ صرف اور صرف آپ ہیں ضوریز” اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ ایک جذب سے بولی تھی۔۔”ہر چیز ناممکن لگتی تھی مجھے لگتا تھا میں ساری زندگی ماموں کے ٹکڑوں پر پلتی رہوں گی ان سے طعنے سنتی رہوں گی مگر پھر آپ میری زندگی میں آئے جب میں نے آپ سے اپنے حصے اور آفس کی بات کی آپ نے روایتی مردوں کی طرح مجھے منع نہیں کیا آپ نے مجھے کبھی خود سے کم تر نہیں سمجھا آفس میں آپ نے مجھے کام سیکھایا آپ چاہتے تو مجھے کم کام کرنے کے لئے دیتے آپ کا اس میں فائدہ تھا نا نقصان ۔۔ مگر آپ نے مجھے کام کرنا سیکھایا چیزوں کو ہینڈل کرنا بہت جلد میں ایک پارٹنر کی حیثیت سے آپ کے ساتھ کام کروں گی اور یہ حوصلہ آپ نے مجھے دیا ہے میں آپ کی مشکور ہوں اور تا عمر رہوں گی کیونکہ آپ اللہ کا انعام ہیں میرے لئے”وہ حد سے زیادہ جذباتی ہو رہی تھی نم آنکھوں سے اپنی بات مکمل کرتے اس نے سر جھکانا چاہا مگر اسکی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ اسکا سر اوپر کرتا وہ جھک کر اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا۔۔۔”مجھے یہ سر ہمیشہ اٹھا ہوا چاہیے مسزز ضوریز” اسے سینے سے لگاتے وہ اسکے بالوں پر لب رکھ گیا۔۔۔”میں آپ کو اڑتے دیکھنا چاہتا ہوں کامیابیوں کی اونچائی پر ۔۔۔ میں آپ کو پر دینا چاہتا ہوں تاکہ یہ اونچی اڑان بھریں مگر میرے پاس واپس ضرور آئیں” سنجیدگی سے کہتے وہ آخر میں شرارت سے کہتا عمائم کو ہنسنے پر مجبور کر گیا۔۔”آپ کبھی سیریس ہو سکتے ہیں ضوریز؟”ناک سکیڑ کر کہتے وہ اسے اس دنیا سے زیادہ پیاری لگی تھی۔۔”آپ کے معاملے میں بہت سیریس ہوں جانو۔۔۔۔ بس سوچا نہیں تھا کبھی محبت کرسکوں گا کسی پر یقین کر سکوں گا ایک بار ایسا سبق دیا تھا زندگی نے کہ خود پر سے اعتبار اٹھ گیا تھا میں رشتوں میں ہمیشہ مخلص رہا ہوں عمائم ۔۔ کبھی کسی غلط کام میں نہیں پڑا امی جہاں چاہتی تھیں وہاں شادی کی مگر اسے مجھ میں انٹرسٹ نہیں تھا اس نے مجھ سے شادی تو کرلی مگر وہ نبھا نہیں سکی۔۔ وہ زارون کو بھی چھوڑ گئی۔۔۔ قصور اسکا بھی نہیں وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ اپنا کرئیر بنانا چاہتی تھی اسے یہ حق تھا مگر اس نے مجھ سے اس بارے میں بات نہیں کی میں اسے کبھی نہیں روکتا مگر شاید اسکا جانا ہی ٹھیک تھا کیونکہ آپ کو مجھے ملنا تھا”اسکے اپنے حصار میں لیتے وہ جھک کر ٹھوڑی پر لب رکھ گیا۔۔بار حیا سے عمائم کی پلکیں جھکیں۔۔۔”میں آپ کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں محبت سے بھری زندگی”اسکے ایک ایک نقوش کو چھوتے وہ اسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا۔۔۔”میں اس زندگی میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ضوریز کیونکہ میرا دل صرف ایک انسان کے لئے دھڑکتا ہے اور وہ آپ ہیں” اس خوبصورت سے اظہار کے بعد اور کچھ بچا ہی نہیں تھا۔اسکی سانسوں میں اپنی سانسوں میں الجھاتا وہ اسے خود میں گم کرتا چلا گیا۔۔۔کھڑکی سے جھانکتا چاند شرما کر بادل کی بدلیوں میں گم ہوا تھا۔۔۔اسکے سینے میں چہرہ چھپائے عمائم نے خود سپردگی کا مان اسے بخشا تھا جو اسے اپنی نرم آغوش میں سمیٹتا چلا گیا ۔۔_____________
مامون شہرے کے پاس بیٹھا تھا جب اسکا موبائل رنگ ہوا انجان نمبر دیکھ اس نے پہلے اٹھانے کا ارادہ ملتوی کیا مگر کچھ سوچتے وہ کال ریسیو کر گیا۔۔”ہیلو؟””ہیلو مامون۔۔۔ میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے پلیز ہیلپ می” اسٹیلا کی آواز پر اس کے ماتھے پر بل پڑے۔۔”مجھے تمہاری کوئی مدد نہیں کرنی “”مامون پلیز دیکھو پلیز ایک آخری بار میری مدد کردو میری گاڑی تباہ ہوگئی ہے میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے””مجھ””مامون پلیز منع مت کرنا آج کے بعد میں کبھی تم سے رابطہ نہیں کروں گی” مامون کچھ بولتا اس سے پہلے وہ خود کہتی اسے چپ کروا گئی۔مامون کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے پھر کچھ سوچتے اس نے اسٹیلا کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔۔”ٹھیک ہے مجھے لوکیشن بھیجو میں آرہا ہوں”مامون کی بات پر اسٹیلا مسکرائی تھی۔کال کٹ کر اس نے مامون کو لوکیشن سینڈ کی اور خود اسکے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔مامون کے گھر کے باہر اور اندر اب سیکورٹی نا ہونے کے برابر رہ گئی تھی وجہ اسکا سب پر سے بھروسہ اٹھ جانا تھا ۔۔۔وہ جلدی سے وہاں سے نکلا تھا تاکہ جلدی واپس آ سکے اور اسکے جاتے ہی اسٹیلا درخت کی اوٹ سے باہر نکلی تھی اس نے ہر چیز سوچ کر کی تھی اس وقت گھر کے ملازم اپنے کواٹر میں جا چکے تھے اب صرف شہرے تھی اور وہ آسانی سے گھر میں داخل ہوسکتی تھی۔۔گھر میں داخل ہوتے وہ آہستہ سے نظریں بچاتے شہرے کے کمرے میں داخل ہوا تھی جہاں شہرے سامنے ہی بیڈ پر لیٹی تھی۔آہستہ سے چل کر بیڈ کے پاس آتے اس نے شہرے کو پکارا ۔اپنے نام کی مسلسل پکار پر شہرے نے زرا سی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنا چاہا جب اسٹیلا نے اسکے ماتھے پر گن رکھی۔۔خوف سے شہرے کی آنکھیں پھیلیں ۔۔ ۔”یو بچ کیسے بچ گئیں اس دن مگر کوئی بات نہیں آج میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے ماروں گی”اسکی بات پر شہرے خوفزدہ ہوگئی تھی وہ خود کو حرکت دینے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسکے ہاتھ پیر کام کرنے سے قاصر تھی نا وہ چیخ پا رہی تھی اسے ایسے دیکھ اسٹیلا نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔”بہت خوشی ہو رہی ہے تجھے ایسے بے بس دیکھ کر” بات مکمل کرتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے شہرے کو بیڈ سے نیچے زمین پر پھینکا۔۔۔اور اس پر گن تانی۔۔۔”تیرا وقت پورا ہوا اب مامون بس میرا ہے بس میرا کوئی اسے مجھ سے چھین نہیں سکتا”شہرے غیر محسوس سے طریقے سے اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی اس نے محسوس کیا تھا اس کے پیر زرا سے حرکت میں آئے ہیں کہ وہ رینگنے کی کوشش میں تھی جب شہرے نے اسکے پیر پر اپنا پیر رکھا۔۔وہ کوئی درد محسوس نہیں پا رہی تھی۔”مجھ سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہے تو؟ ایسا میں کبھی نہیں ہونے دوں گی” اسے کہتے اسٹیلا نے بے دردی سے اسکے پیروں پر ٹھوکر پر ٹھوکر مارنا شروع کی۔۔۔اسے درد نہیں ہو رہا تھا مگر اچانک ایک شدید درد کی لہر اسکے وجود میں دوڑی تھی۔۔۔اسٹیلا نے اسکا منہ مٹھیوں میں دبوچا۔۔۔”تیرا وقت ختم ہوا پہلے والی غلطی اب نہیں ہوگی اب تو مرے گی اور مامون میرا ہوگا” سیدھے ہوتے اس نے پسٹل شہرے پر تانا۔۔۔فائر کی آواز پر جیسے سب ساکت ہوا تھا۔۔۔۔______________مامون گھر سے نکلا تھا جب کچھ دور جاتے ہی اسکے موبائل میں لگا سیکورٹی سسٹم ایکٹو ہوا ۔اس نے پورے گھر میں فلحال کوئی سکیورٹی نہیں رکھی تھی مگر اس کے کمرے میں اسپیشل سکیورٹی سسٹم تھا جیسے ہی کوئی اسکے کمرے میں انٹر ہوتا تھا سی سی ٹی وی جو اسکے موبائل سے کنیکٹ تھا ایکٹو ہوجاتا تھا۔۔۔۔مامون نے چونک کر اپنا موبائل دیکھا کوئی اسکے کمرے میں انٹر ہوا تھا اور پھر اسٹیلا کا چہرہ نمودار ہوا تھا اس کے ہاتھ میں گن تھی اب مامون کو سب سمجھ آیا تھا۔۔”یو بچ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں” غصے سے کہتے اس نے فوراً واپس گاڑی موڑی تھی وہ کتنی تیزی سے گاڑی چلا سکتا تھا چلا رہا تھا رش ڈرائیو کرتے وہ گھر پہنچتے فوراً اوپر آیا تھا اس سے پہلے اسٹیلا گولی چلاتی مامون نے گولی چلاتے اسکے ہاتھ کو زخمی کیا تھا ۔۔۔۔”تم۔۔۔ تم نے میری لٹل گرل کو مارا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں ” گن اس پر تانے وہ غرایا تھا۔۔”نہیں پلیز مامون پلیز اسے مت مارنا آپ نہیں قاتل نہیں” وہ جس کا سارا دھیان اسٹیلا پر تھا شہرے کی آواز پر بری طرح چونک کر مڑا تھا جو اپنے پیروں پر گھڑی خوفزدہ تھی اسے دیکھ رہی تھی مامون کا دھیان زرا سا ہٹا وہیں اسٹیلا نے اس پر گن تانی تھی اس سے پہلے وہ ٹریگر دباتی فائر کی آواز کے ساتھ ہی اسٹیلا کا وجود ٹھنڈا ہوا تھا۔۔شہرے نے خوف سے اسٹیلا کے مردہ وجود کو دیکھا اور پھر کمرے میں آتے انسپکٹر کو ۔۔۔”مامون،”شہرے کی پکار پر وہ بھاگ کر اس تک پہنچتا اسے بانہوں کے حصار میں جکڑ گیا ۔”آئی ایم سوری میری جان آئی ایم سوری۔۔ ” اسکے چہرے کو والہانہ انداز میں پیار کرتے وہ دیوانہ ہو رہا تھا۔۔۔شہرے بس آنکھیں موندے اسکا لمس محسوس کر رہی تھی ۔جاری ہے
قسط_34اس کی نگاہیں سامنے دروازے پر ٹکی تھیں جہاں موجود شخص نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔اسے تو ان کا چہرہ بھی یاد نہیں تھا ٹھیک سے ۔۔”نور میری بچی” فرطِ جذبات سے ان کی آنکھیں نم ہوئی تھی آہستہ سے چلتے وہ اسکے پاس آ بیٹھے ۔۔”میری پیاری بیٹی”اس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ رو دئیے تھے اور اتنے سالوں بعد باپ کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس کر اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں ہوا تھا۔۔۔وہ بے اختیار اپنے بابا کے سینے سے لگی تھی۔۔۔”میں بہت تڑپا ہوں بہت ڈھونڈا میں نے ۔۔۔۔ میں آنا چاہتا تھا ملنا چاہتا تھا مجھے معاف کردو میری بچی” وہ اس سے معافی مانگ رہے تھے مگر نورے کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اسکا دل پھٹ رہا تھا اپنے باپ کا لمس محسوس کر وہ روئے جا رہی تھی اور ان دونوں کو دیکھ پلوشہ خان کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھیں۔۔ان دونوں کو پرائیویسی دینے کی خاطر وہ کمرے سے خاموشی سے نکل گئیں۔”اپنے بابا کو معاف کردو میری وجہ سے میری غلطی کی وجہ سے ان لوگوں نے تمہیں مجھ سے چھین لیا۔۔۔””بابا آپ معافی مت مانگیں”ان کے جڑے ہاتھ دیکھ وہ تڑپی۔۔۔”میری غلطی ہے سب میں نے غلط کیا تھا لیکن میں نے جان کر اسے نہیں مارا تھا سب غلطی سے ہوا تھا۔۔۔””بابا کیا آپ مجھے سب سچ بتائیں گے؟ مجھے جتنا سچ پتا ہے وہ آدھا ادھورا ہے “اس کی بات پر انیس یزدانی نے اسے دیکھا اور پھر گہرا سانس بھرتے انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔اب وقت آگیا تھا کندھوں پر پڑے اس بوجھ کو اتارنے کا۔۔۔انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسے سب بتاتے چلے گئے۔۔۔۔جسے سن نورے کا پورا وجود تھما تھا وہ بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی۔۔۔”کہیں نا کہیں ہم سب تم لوگوں کے گناہگار ہیں مجھے معاف کردو نورے””بابا اتنا بڑا سچ ؟ آپ کیسے سب سے چھپا سکتے ہیں آپ جانتے ہیں نا اگر کسی کو پتا چلا تو کیا قیامت آ سکتی ہے؟”اسے شاکڈ لگا تھا اتنا بڑا سچ سب سے چھپا ہوا تھا۔۔۔”میں نے یہ سب جان کر نہیں کیا تھا میں بس مداوا کرنا چاہتا تھا۔۔۔”ایسے کیا آپ نے مداوا آپ جانتے ہیں اس معصوم بچی نے کتنی تکلیفیں برداشت کی ہیں اپنی ماں باپ دونوں کی محبت کو ترسی ہے؟” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا جیسے اپنے جذبات کو لفظوں کا روپ دے۔۔یہ ایسا سچ تھا جس نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔”آپ نے یہ بہت غلط کیا بابا آپ کا ایک فیصلہ دو دو لوگوں کو برباد کرگیا۔۔۔”آپ جانتے بھی ہیں اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ ساری زندگی وہ محبت کے لئے ترسی تھی مجھے پہلے سمجھ نہیں آتا تھا مگر اب ہر وجہ سمجھ میں آ رہی ہے”اسکی بات پر انیس یزدانی کا سر شرم سے جھکا تھا ۔۔”آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا بابا میں آپ کی بیٹی ہوں میں آپ کو معاف کر سکتی ہوں مگر ۔۔۔” وہ رکی تھی۔”آپ جانتے ہیں یہ سچ کتنے لوگوں کی زندگی میں طوفان لے آئے گا؟””ہممم۔۔۔” ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔”مجھے واپس حویلی جانا ہے ” انہیں کہتے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔”میں چھوڑ دیتا ہوں” وہ فوراً سے اٹھے تھے جب وہ چادر اوڑھے باہر نکلی پلوشہ خان اور ولی سکندر سے ملنے کے بعد وہ خان حویلی سے اپنے باپ کے ہمراہ باہر نکلی ہی تھی جب اچانک ان کے سامنے ایک گاڑی جھٹکے سے آکر رکی اور پھر اس گاڑی سے نکلتا جاذب شاہ نور ہے اوسان خطا کر گیا۔۔۔۔”جاذب””گاڑی میں بیٹھیں نورے یزدانی”وہ جو اسکی طرف سے ڈانٹ کی منتظر تھی اسکے ان پانچ لفظوں کے جملے پر چونکی۔۔۔”جاذب میری بات سنو””نورے کیا آپ کو میری آواز سنائی نہیں دی بیٹھیں گاڑی میں”وہ اتنا تیز بولا تھا کہ نورے فوراً سے انیس یزدانی کا ہاتھ چھوڑتے گاڑی کی جانب بڑھی تھی ۔”تم میری بیٹی سے ایسے بات نہیں کر سکتے جاذب””آپ مجھے مت سیکھائیں کہ مجھے میری بیوی سے کیسے بات کرنی ہے اور کیسے نہیں۔۔””دیکھو جاذب میں جانتا ہوں جو ہوا غلط تھا مگر”,”مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی آئندہ میری بیوی سے دور رہیئے گا”اسکی بات پر نور کے ماتھے پر بل پڑے تھے آخر وہ ہوتا کون تھا اسکے بابا سے ایسے بات کرنے والا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتی جاذب وہاں سے ہٹتا گاڑی میں آکر بیٹھا تھا اسکے جبڑے بھینچے ہوئے تھے ہاتھ کی نسیں نمایاں تھی۔لمحے کو نور کو اسکی خاموشی سے خوف محسوس ہوا تھا۔۔۔گاڑی حویلی کے احاطے میں ایک جھٹکے سے رکی تھی۔گاڑی سے اتر کر اسکی جانب آتا وہ اسکا بازو دبوچے اسے تقریباً گھیسٹتے اندر کی طرف بڑھا۔”جاذب میرا ہاتھ چھوڑو مجھے درد ہو ہو رہا ہے” اپنا ہاتھ چھڑانے کی خاطر اس نے مزاحمت کی تھی مگر وہ بنا اسکی سنتا اسے لئے سیدھا کمرے میں لایا اور ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا تھا۔نورے نے بےاختیار دیوار کا سہارا لیا نا لیتی تو بری طرح زمین پر کرتی اسکا دل خوف سے سمٹا تھا اگر وہ گر جاتی تو اس کے بے بی”اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہیں گیا۔۔”کیوں گئی تھیں اپنے باپ سے ملنے ہاں ۔۔۔ اگر میں نے تمہیں آزادی دی تو کیوں دھوکہ دیا مجھے نورے؟”وہ چیخا تھا۔۔”میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا آئی سمجھ اور کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے ہمت کیسے ہوئی مجھے دھکا دینے کی میں گر سکتی تھی نا؟” وہ اس سے ڈبل آواز میں دھاڑی تھی ۔”تو گر جاتی مجھے فرق نہیں پڑتا کسی بات سے”جاذب کی بات پر اسکا دل ٹوٹا تھا چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس نے دو قدم پیچھے لئے۔”جانتی ہوں تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تمہارے لئے میں ایک خون بہا میں آئی لڑکی ہوں جو مرے یا جئے تمہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا وہ اس کمرے میں گھٹ کر مر جائے تب بھی تمہیں فرق نہیں پڑنا تھا میں بیوقوف تھی جو تم جیسے انسان سے اچھے کی امید رکھ رہی تھی۔وہ رو رہی تھی طبعیت کا بوجھل پن اور اوپر سے جاذب کی باتیں اسکا رویہ۔۔۔”ہاں ٹھیک کہا تم نے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے میں ردابہ سے شادی کر رہا ہوں بہت جلد تم اپنی اصل جگہ پر ہونگی اور میری بیوی اس کمرے میں”اسکی بات کسی تیز دھار آلے کی طرح اسکا دل چیر گئی تھی۔وہ یک ٹک اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ جو اپنی بات کہہ چکا تھا اسے یوں خود کو دیکھنے پر الجھا تھا جو عجیب خالی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔”انتظار کروں گی تمہاری شادی کا ” بہت دیر بعد وہ بولی بھی تو کیا ۔۔اس سے پہلے جازب کچھ کہتا وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل ہوتے واشروم میں بند ہوئی تھی۔۔۔جبکہ اسکے یوں جانے پر غصے سے مٹھیاں بھینچتے اس نے اپنا ہاتھ دیوار پر مارا تھا۔۔۔۔______________”زارون اٹھو اور اپنے روم میں جاؤ” ضوریز نے کوئی تیسری بار اسے پکارا تھا۔عمائم نے بمشکل اپنی ہنسی چھپائے ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھا۔زارون صاحب صبح ان کے کمرے میں آگئے تھے اور اب سو بھی چکے تھے۔۔”ضوریز سونے دیں نا””ہونہہ”اسکے ہونہہ کہنے پر عمائم ہنس پڑی۔۔”اچھا اب بس کریں نا اٹھیں آفس بھی جانا ہے” اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کندھے پر سر رکھتے وہ لاڈ سے کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔”ایک کس پلیز” اپنا گال آگے کر اس نے اشارہ کیا جس پر عمائم نے اسے گھور کر دیکھا۔۔”آپ کچھ زیادہ ہی بدتمیز ہوگئے ہیں اٹھیں اب””عمائم” اسکی ضد پر عمائم نے آہستہ سے اسکے گال پر لب رکھے۔۔”صرف یہ””ضوریز” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ضوریز اسکے چہرے پر جھکتے اسکی بولتی بند کرگیا ۔۔اس سے پہلے وہ مزید گستاخیاں کرتا ضوریز کے فون بجنے پر وہ بدمزہ ہوتا اسے خود سے آزادی دے گیا۔۔۔عمائم نے گھور کر اسے دیکھا اور فوراً سے اس سے دور ہوتی ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی اسے جاتے دیکھ وہ مسکراتا کال ریسیو کرتے فون کان سے لگا گیا۔۔۔”میں آرہا ہوں”دوسری جانب سے بات سنتے وہ فوراً سے بیڈ سے اٹھتے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہوا تھا۔۔۔عمائم باہر آئی تو وہ تیار ہو رہا تھا۔۔”کہاں جا رہے ہیں ضوریز ؟””ایک ضروری کام کے سلسلے میں جا رہا ہوں جلدی واپس آجاؤں گا میں نے کامران کو بول دیا ہے آج ایک میٹنگ ہے عمائم وہ میٹنگ آپ کامران کے ساتھ اٹینڈ کریں گی” اسے کہتے عمائم کے ماتھے پر پیار کرتے وہ عجلت میں وہاں سے نکلا تھا۔عمائم کو اسکا یوں جلدی جلدی بنا ناشتے کے جانا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا مگر ضرور کوئی اہم کام تھا جس کی وجہ سے وہ یوں نکلا تھا۔۔اسکے جانے کے بعد اپنے کچھ ضروری کام نبٹاتے وہ خود بھی افس کے لئے نکلی تھی۔۔۔_____________
وہ گھر سے نکلتے سیدھے اپنے وکیل کے آفس آیا تھا جہاں وہ ضوریز کے ہی منتظر تھے۔۔”ارے ضوریز آجاؤ آجاؤ””کیا ہوا ہے کیا نوٹس آیا ہے؟”وہ پریشان سا ان کے سامنے جا بیٹھا۔۔”ریلکس ضوریز سکون سے بیٹھو ” اسے بے چین دیکھ کر کہتے وہ دراز سے ایک انولپ نکال کر اسکے سامنے رکھ گئے۔”تمہاری ایکس مسزز نے زارون کی کسٹڈی کے لئے کیس کیا ہے اور ساتھ ہی اسکے خرچے کا مطالبہ بھی۔۔۔ انہیں زارون چاہئے “”اسے آٹھ سال بعد زارون کی نہیں بلکہ زارون کے ساتھ جڑیں میری دولت کی ضرورت پڑ گئی ہے”تلخی سے کہتے اس نے سر جھٹکا تھا۔۔”تو پھر کیا سوچا ہے”وکیل صاحب اسکا چہرہ دیکھنے لگے جو پہلے سے کئی زیادہ سنجیدہ تھا۔۔”میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں فیس ٹو فیس کیا آپ میری میٹنگ فکس کروا سکتے ہیں؟”اسکی بات پر وکیل صاحب چونکے تھے۔۔”کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ؟””ایسا کچھ خاص نہیں بس میں اب اس عورت سے فیس ٹو فیس بات کرنا چاہتا ہوں””مجھے علم ہونا ضروری ہے ضوریز ہے تم دونوں کے درمیان کیا بات ہوگی””میں آپکے سامنے ہی اس سے بات کروں گا بے فکر رہیں بس اتنا بتائیں اگر میں زارون سے دستبردار ہو کر اسے اپنی جائیداد سے عاق کردوں تو کیا تب بھی اسے پیسہ دینا پڑے گا؟””وہ تمہارا بیٹا ہے تمہاری زمہ داری ہے ضوریز “”اوکے ٹھیک ہے سمجھ گیا “”کیا سمجھ گئے آخر کیا سوچ رہے ہو تم؟””مجھے کچھ پیپرز ریڈی کروانے ہیں کیا کل شام تک مل جائیں گے؟””کون سے پیپیرز ۔۔؟” وکیل نے الجھ کر اسے دیکھا جو اس تمام عرصے میں پہلی بار مسکرا رہا تھا۔۔”بتاتا ہوں٫” زرا سا آگے ہو کر رازداری سے کہتے وہ انہیں حیران کر گیا تھا۔۔۔____________”کامران بھائی وہ صبح کے نکلے ہوئے ہیں آخر اب تک آ کیوں نہیں رہے؟”میٹنگ سے فارغ ہوکر وہ دونوں ہی ایک ساتھ ضوریز کے آفس میں آئے تھے مگر ضوریز ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔”اسے کال تھی میں نے اس نے یہی کہا کہ تمہیں لے کر آفس میں ویٹ کروں اسکا”اس سے پہلے وہ جواب دیتی ڈور اوپن ہوا اور ضوریز کا چہرہ نمودار ہوا تھا۔۔۔”ضوریز کہاں چلے گئے تھے آپ ؟””وکیل سے ملنے گیا تھا””کیوں ؟” کامران نے حیرت سے اسے دیکھا۔”ایک بہت ضروری بات کرنی ہے آپ دونوں سے اس لیے بیٹھ کر سکون سے میری بات سنیں خاص کر عمائم آپ””آپ ڈرا کیوں رہے ہیں ضوریز؟” خطرے کی گھنٹیاں اسے اپنے اردگرد بجتی محسوس ہوئی تھی ناجانے اب کیا ہونے والا تھا۔۔”زارون کی ماں یعنی دریہ نے زارون کی کسٹڈی کے لئے لیٹر بھیجا ہے کورٹ سے” ضوریز کی بات پر عمائم کو لگا کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑا ہو۔٫”ضوریز””تو نے کیا سوچا؟””سوچنا کیا ہے وہ اسکی ماں ہے ہم چاہیں بھی تو زارون کو اپنے پاس نہیں روک سکتے عدالت لازماً زارون کی کسٹڈی اسے ہی دے گی اس لئے میں نے ایک فیصلہ کیا ہے” ان دونوں کو کہتے وہ عمائم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام گیا۔۔”میں نے فیصلہ کیا ہے بنا کورٹ میں جائے ہم زارون کو اسکی ماں کو دے دیں””آپ کا دماغ خراب ہوگیا ہے ضوریز میں ایسا نہیں کرنے دوں گی آپ کو آئی سمجھ ” ایک دم ہی غصے سے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے نکلتے وہ چٹخی تھی۔۔”عمائم میری بات سنیں””مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی ضوریز۔۔۔ کچھ بھی کریں مگر زارون کو ہمارے پاس رکھیں میں اسے کسی کے پاس نہیں جانے دوں گی””عمائم وہ ماں ہے اسکی “”تو میں کیا ہوں ہاں میں اسکی ماں نہیں ہوں ؟؟ بولیں کیا میں اسکی کچھ نہیں ہوں” اسکا دل زارون سے الگ ہونے کا سوچتے ہی بیٹھا جا رہا تھا نم آنکھوں سے وہ ضوریز کے سامنے کھڑی تھی۔ضوریز کے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔”عمائم ” اسے بیٹھاتے وہ خود اسکے قدموں میں بیٹھا تھا۔”کامران بھائی انہیں کہہ دیں میں زارون کو کسی کو نہیں دوں گی” وہ اسے ناراض ہوگئی تھی وہ سوچ بھی کیسے سکتا تھا زارون کو اس سے الگ کرنے کے بارے میں؟””عمائم مجھے سنیں گی پلیز ایک بار میری بات تو سنیں “”کہیں”دل پر پتھر رکھتے اس نے ضوریز کی بات سننے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔_____________
گاڑی ڈرائیو کرتے وہ گاہے بگاہے اپنے پاس بیٹھی شہرے پر بھی نظر ڈال لیتا تھا جو بری طرح خوفزدہ ہو چکی تھی اسکا ہاتھ مامون کی گرفت میں تھا۔اس نے سب سے پہلے شہرے کو وہاں سے نکالا تھا اور اب اسکا رخ اپنی منزل کی جانب تھا۔گاڑی ایک بڑے سے گھر کے آگے رکی تھی گاڑی سے اترتے وہ شہرے کی جانب آیا اور اسے گاڑی سے نکلتے اسکا ہاتھ تھام اندر بڑھا تھا۔”ڈیول میں چل سکتی ہوں” وہ اسے اٹھانے کے لئے رکا تھا مگر شہرے اسے روک گئیوہ اسے اندر لایا اندر کی سجاوٹ دیکھ شہرے کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔۔اندر کا انٹئیر بے حد خوبصورت تھا۔”مامون یہ کس کا گھر ہے؟””ہمارا “اسے لئے وہ ایک بیڈ روم میں آیا اور اسے بیڈ پر بٹھایا ۔۔”شہرے ٹیل میں کہیں درد تو نہیں ہو رہا نا ؟””نہیں “”اوکے لسن۔۔۔ مجھے ابھی واپس گھر جانا ہے وہاں پولیس کو میری ضرورت ہے اسٹیو یہاں نیچے ہے ڈاکٹر بھی آنے والے ہیں بالکل ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں یور آر سیو ناؤ “”ہممم” وہ مامون کو ابھی تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی۔شہرے کو آرام کرنے کا کہتے وہ نیچے آیا تھا جہاں اسٹیو موجود تھا۔۔”اسٹیو میرے اور شہرے کے پاکستان جانے کی تیاریاں کروں بزنس کا جو بھی پراسس ہے اسے فائنلاز کرو “
“کیا آپ مستقل پاکستان شفٹ ہونا چاہتے ہیں؟” اسٹیو نے حیرت سے اسے دیکھا۔”مستقبل کا نہیں پتا مگر فلحال میں اسے یہاں سے لے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ یہ سب بری باتیں بھول جائے”اسٹیو کو سارا کام بتاتا وہ واپس اپنے پرانے اپارٹمنٹ آیا تھا اسٹیلا کی لاش کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا پولیس کو ضروری باتیں بتا کر وہ اپنا بیان اور روم کی فوٹیج انہیں دیتا تقریباً دو سے تین گھنٹے میں وہاں سے نکلا تھا۔۔ڈاکٹر سے اسکی بات ہو چکی تھی شہرے بالکل فٹ تھی کوئی پریشانی کی بات نہیں تھی ۔۔یہ سن کر اس نے سکون کا سانس لیتے شکر ادا کیا تھا۔۔۔رات گئے وہ واپس اپنے اپارٹمنٹ واپس آیا تھا وہ روم ہیں آیا تو شہرے کو اپنے انتظار میں پایا۔۔”ہے لٹل گرل ۔۔۔ سوئی کیوں نہیں ؟”،”مجھے آپ کے ساتھ سونا تھا ” اسکے منہ سے اپنے لئے آپ لفظ سن وہ کھل کر مسکراتے اپنی شرٹ اتار کر سائیڈ پر رکھتا اسکے پہلو میں دراز ہوا۔۔۔”فریش ہو جاؤں پہلے”؟اسکے اجازت مانگنے پر شہرے ہولے سے سر ہلاتے اسے اجازت دے گئی۔اسکے ماتھے پر بوسہ دیتا وہ اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوا تھا۔اسکے جاتے ہی شہرے اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔وہاں اسکی ضرورت کا کر سامان موجود تھا کبھی کبھی مامون اسے جادوگر لگتا تھا جو چٹکیوں میں ہر چیز ارینج کر دیتا۔۔اس نے ڈاکٹر سے بات کی تھی اور اب اسکا ارادہ مامون سے اظہارِ محبت کرنے کا تھا وہ پہلے ہی اس شخص کا امتحان لے چکی تھی اب مزید نہیں۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب مامون فریش ہو کر باہر آیا تو اسے اپنا منتظر پایا۔۔”سوئے کیوں نہیں لٹل گرل ؟””مامون میں ایک بات سوچ رہی تھی””کیا؟” شیشے کے سامنے کھڑے بال خشک کرتے اس نے مرر سے اسکا عکس دیکھا۔”ڈو یو لو می؟ آپ نے کبھی اظہار نہیں کیا”اسکی بات پر وہ چونکا تھا اور پھر رخ موڑ اسکا چہرہ دیکھنے لگا۔”ا۔۔۔۔ممممم۔””واٹ امممم؟ انسر پلیز ڈو یو لو می اور ناٹ ؟”اسکے ری ایکشن پر مسکراتا وہ آہستہ سے چلتا اسکے قدموں میں بیٹھا اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام گیا۔۔”,یسں آئی دو مائے لو ۔۔ آئی لو یو۔۔۔ آئی رئیلی لو یو۔۔۔ یور آر مائے لائف مائے سن شائن” اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرے اس نے شہرے کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔۔۔”یو نو واد آؤٹ یو آئی ایم نتھنگ۔۔۔ ڈو یو لو می مائے لٹل اینجل؟””یو آئی ڈو ڈیول” اسکے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے وہ اظہار محبت کرگئی تھی۔مامون نے بےاختیار اسکی سانسوں پر اپنا تسلط جمایا تھا۔۔۔اسکی سانسوں کو رہائی دیتا وہ اسے اپنے حصار میں قید کرگیا۔۔۔۔۔”آئی وانٹ یو ڈیول” اسے پیچھے ہوتے دیکھ وہ اسکے کالر پر اپنی گرفت جماتے کہتے ساتھ اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔۔مامون نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر مسکراتے اسکے خود میں قید کرتا اسکا سر تکیے پر منتقل کرتا خود اس پر حاوی ہوتے اسکی سانسوں پر اپنی گرفت جماتے اسے نرمی سے خود میں سمیٹ گیا۔۔۔اسکے حصار میں سانس لیتی وہ اسے اپنی سانسوں سے قریب محسوس کرتے مسکرائی تھی۔وہ شخص اسکا تھا اس شخص نے صرف شہرے کی خاطر خود کو بدل لیا تھا وہ اسکا ہوگیا تھا اور اب آج وہ اسکی ہوگئی تھی۔۔آج اس شخص نے اسے ایک مان بخشا تھا۔۔۔اسکے حصار ہیں قید وہ تھک کر اسکے سینے پر سر ٹکائے آنکھیں موند گئی یہ تھکن ان گزرے دنوں کی تھی جب وہ خود سے لڑ لڑ کر تھک گئی تھی اور اب بلآخر سکون میسر تھا۔۔۔