ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں دن کی تپش کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں عمائم نے سر اٹھائے سامنے قبرستان کی دیوار کو دیکھا۔کتنا مشکل تھا کسی اپنے پیارے کو ایسی جگہ آکر ملنا۔وہیں دیوار کے سہارے کھڑے ہوتے وہ سڑک پار موجود قبرستان کو دیکھ رہی تھی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں تھا۔۔”بابا آپ کیوں چلے گئے ؟ امی بہت بدل گئی ہیں وہ سب جانتی ہیں مگر وہ پھر بھی ماموں کا ساتھ دیتی ہیں وہ بھول گئی ہیں کہ ان لوگوں نے آپ کے ساتھ کیا کیا تھا۔۔”اتنا کہتے وہ سسکی تھی۔۔آسمان اب آہستہ آہستہ سیاہ ہونے لگا تھا وہ وہیں آہستہ سے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی اسے نہیں پرواہ تھی کہ لوگ کیا کہتے ہیں اسے بس اپنے بابا سے باتیں کرنی تھیں وہ اندر نہیں جا سکتی تھی اس نے پھول والے سے کہہ کر اپنے بابا کی قبر پر پھول ڈلوائے تھے۔۔ان کے لئے فاتحہ خوانی کی تھی اور اب وہ بس دور سے نظر آتے ان کی قبر کو دیکھ رہی تھی۔”میں ترس گئی ہوں بابا آپ کو دیکھنے کے لئے آپ کو چھونے کے لئے اور یہ ترسنا اب قیامت تک رہے گا بابا جب ہم ایک ساتھ ہونگے” اسکے گال آنسوؤں سے بھیگتے جا رہے تھے۔۔نگاہوں کی تپش پر اس نے چونک کر اس پاس دیکھا تھا وہاں اکا دکا لوگوں کے علاؤہ سٹرک پر چلتی گاڑیاں تھیں۔۔گھڑی شام کے سات بجا رہی تھی۔گہرا سانس بھر اس نے اپنے اندر کی خلفت کو باہر کا راستہ دیکھایا اور پھر واپس سے پھول والے بچے کو چند پیسے دیتے اپنے بابا کو روز پھول دینے کا اس سے وعدہ لیا تھا۔اور انہیں بتانا چاہتی تھی کہ دنیا بھلے بھول جائے مگر وہ انہیں کبھی نہیں بھولے گی۔۔۔____________
وہیں دوسری طرف سڑک کنارے گاڑی روکے ضوریز کامران کا انتطار کر رہا تھا جب غیر ارادہ ہی اسکی نظریں ایک منظر پر جا ٹکی تھیں اور پھر کئی لمحے وہ اس منظر سے نظریں نہیں ہٹا سکا۔۔ہاں وہ عمائم تھی۔۔”چل چلیں” کامران کے گاڑی میں بیٹھنے پر وہ چونکا تھا جب کامران نے اسکی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا۔”ضوریز یہ تو عمائم ہے نا زارون کی ٹیوٹر ؟””ہممم ” وہ اب بھی وہیں دیکھ رہا تھا جہاں اپنے آنسو صاف کرتے عمائم اب قبرستان کو دیکھ کر ہولے سے مسکرائی تھی۔۔اور پھر اس نے پھول والے بچے کو کچھ دیا تھا۔۔”یہ اس وقت روڈ پر کیوں بیٹھی تھی ؟””مجھے کیا پتا میں تھوڑی نا وہاں اسکے پاس تھا” کامران کے سوال پر زچ ہوتے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔۔ایک آخری بار اس نے مرر کی مدد سے عمائم کو دیکھا جو اب بس میں بیٹھ رہی تھی۔۔۔”تو بات کرنا چاہتا تو اس سے جا کر بات کرلے۔۔”کامران کی بات پر اسنے کامران کو خشمگیں نگاہوں سے گھورا جو دونوں ہاتھ اٹھائے سرینڈر کر گیا۔۔”نہیں بولتا کچھ چل اب گھر چلیں زارون ویٹ کر رہا ہوگا”۔۔کامران کی بات پر سر ہلاتے اس نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی جس کی منزل اب ان کا گھر تھا۔۔۔جہاں ضوریز کے لئے ایک نیا دھماکہ منتظر تھا۔۔___________
میٹنگ روم میں اس وقت نیلے رنگ کی روشنی جگمگا رہی تھی۔پرسکون خاموشی کو چیرتی مامون شیرازی کی جان دار آواز اور اس پر متضاد اسکا انداز۔۔وہ اپنی پریزینٹیشن دے رہا تھا۔۔وہاں موجود سبھی نفوس خاموشی سے اس کو سن رہے تھے پورے ماحول پر اسکی شخصیت نے جادو سا کردیا تھا۔اسٹیلا اپنے باپ کے برابر میں بیٹھی بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھتی جا رہی تھی ۔اس دن کی بے عزتی کے بعد سے وہ مامون کے آفس نہیں آئی تھی مگر آج یہ میٹنگ دوسری جگہ تھی تو وہ ضد کر کے یہاں آئی وہ اس مغرور انسان کی ایک جھلک دیکھنا چاہتی تھی بس ایک جھلک وہ دور سے دیکھ کر ہی خوش تھی مگر دل میں اسے پانے کی خواہش شدت پکڑتی جا رہی تھی۔۔اپنی پریزینٹیشن دے کر وہ واپس اپنی جگہ پر آ بیٹھا نگاہیں اپنے موبائل پر پڑی جو بار بار بلنک کر رہا تھا ۔۔کال اسکے گھر سے تھی اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا کال ریسیو کرنے کا مگر پھر شہرے کا خیال آتے اس نے کال ریسیو کرتے موبائل کان سے لگایا۔۔”ہیلو ؟””ہیلو سر۔۔۔ سر میڈم نا کچھ کھا رہی ہیں نا میڈیسن لے رہی ہیں ان کی طبعیت بہت خراب ہو رہی ہے وہ کسی کی نہیں سن رہی ہم سب نے کوشش کرلی اور””آرہا ہوں میں” اس سے پہلے کئیر ٹیکر کچھ اور کہتی وہ اسے کہتا فون بند کرگیا۔۔”اسٹیو کو اشارہ کرتے وہ اپنی میٹنگ چھوڑ تیزی سے آفس سے باہر آیا تھا۔اسٹیلا نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا تھا۔۔اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا رش ڈرائیو کرتے وہ اپنے گھر پہنچا گاڑی سے اترتے وہ سیدھا اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا جہاں شہرے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔۔”تو تم مرنا چاہتی ہو؟ میرے ساتھ کھیل کھیلنا چاہتی ہو لٹل گرل تو پھر کھیلتے ہیں گیم۔۔۔ میں ابھی تمہارے گھر والوں کو برباد کردیتا ہوں تمہارے باپ نے جو قرضہ لیا ہے ان لوگوں تمہاری ماں کی واحد پراپرٹی کا پتا دیتا ہوں باقی کام وہ خود کرلیں گے تمہارے گھر والے روڈ پر آجائیں گے برباد ہو جائیں گے یہی چاہتی ہو نا تو ایسا ہی سہی”اسے بانہوں نے جکڑے وہ اسکے منہ پر غرایا تھا۔شہرے نے خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔بھلے عائلہ بیگم کا رویہ اسکے ساتھ برا رہا ہو مگر وہ اسکی ماں تھیں وہ ان سے بہت محبت کرتی تھی ان کی بربادی کا تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔۔”نہیں نہیں پلیز میں ایسا کچھ نہیں کروں گی آئندہ پلیز انہیں کچھ مت کہنا تم جو کہو گے میں کروں گی” آنسو بھری آنکھوں سے کہتے اس نے سر جھکایا تھا۔مامون اچھے سے اسکی کمزوری جانتا تھا شہرے کی کمزوری اسکی ماں تھی۔چہرے پر تمسخر بھری مسکراہٹ سجائے مامون نے شہرے کے جھکے سر کو دیکھا۔۔۔”ٹھیک ہے اپنا کھانا کھاؤ میڈیسن لو اور تھوڑا آرام کرو۔۔۔ یاد رکھنا شہرے اگر تم نے اب کچھ بھی کیا تو میں تمہاری ماں کے ساتھ وہ کروں گا جو تم نے خواب میں بھی سوچا نہیں ہوگا نہیں””نہیں میں پرامس کرتی ہوں میں اب تنگ نہیں کروں گی ” اسکا ہاتھ تھامے وہ مامون کو یقین دلا رہی تھی۔مامون نے ایک نظر اسکے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا۔”گڈ گرل۔۔۔۔۔ ہیو یور فوڈ اینڈ میڈیسن” اسے کہتا وہ ملازمہ کو کھانے کا آرڈر دیتا خود فریش ہونے چلے گیا ۔فریش ہوکر وہ واپس آیا تو شہرے بیڈ پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی یا یوں کہنا بہتر ہوگا کھا کم رہی تھی گھور زیادہ رہی تھی۔۔”آر یو اوکے لٹل گرل ؟ ایٹ مور۔۔۔ مجھ سے لڑنے کے لئے بہت ہمت کی ضرورت ہے تمہیں”اسکی بات پر شہرے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو شرٹ لیس تھا شہرے نے شرم سے فوراً آنکھیں بند کیں۔۔”یہ کیا بدتمیزی ہے آپ پلیز شرٹ پہنو”اسکی حرکت پر بنا کچھ بولے وہ شرت پہنتا اسکے قریب آ بیٹھا۔”اوکے فائن ایٹ یور فوڈ ۔۔۔ ” اسکے ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتا وہ اسکے پہلو میں دراز ہوا تھا۔۔اسکی نگاہیں شہرے کو ان کمفرٹیبل کر رہی تھیں۔۔۔”کھانا کھاؤ لٹل گرل یا میں خود اپنے ہاتھوں کھلاؤں ؟” اسکی دھمکی پر شہرے کے ہاتھوں میں تیزی آئی تھی مامون اپنی بات کا اثر ہوتے دیکھ فخریہ مسکرایا۔۔اس کے کھانا کھاتے ہی ملازمہ نے آکر اسے میڈیسنز دی جنہیں وہ چپ چاپ کھا گئی۔اپنے پیچھے بیٹھے شیر سے ابھی پنگا لینے کا اسکا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔ملازمہ کے جاتے ہی مامون اپنی جگہ سے اٹھا تھا کھڑکیاں بند کر اس نے پردے برابر کئے تھے۔شہرے کی سانیںس تب سینے میں اٹکیں جب مامون نے دروازے لاک کیا۔۔اسکے بیڈ کی جانب بڑھتے قدم شہرے کی دھڑکنوں میں ارتعاش سا پیدا کر رہے تھے۔۔اسے اپنے برابر میں لیٹتے دیکھ شہرے نامحسوس طریقے سے اس سے دور ہونے لگی جب مامون نے اسکا بازو تھام اسے اپنے قریب کرتے بیڈ کر لٹایا تھا۔۔شرم سے اسکا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا۔۔مامون نے ایک نظر اسکے سرخ چہرے کو دیکھا کمرے میں چھائی ہلکی روشنی ماحول کو رومانیت کا احساس بخش رہی تھی۔بہت آہستہ سچ جھکتے مامون نے شہرے کے نچلے لب کو اپنی دسترس میں لیا۔۔اسکے لبوں کی نرمی محسوس کرتا وہ مقابل کی حالت خراب کرنے کا باعث بن رہا تھا جو ہر بار اسکے لمس پر ساکت ہوجاتی تھی۔۔اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی نرم گرفت میں لئے وہ اپنی سانسیں اسکی سانسوں میں اتارتا مدہوش ہو رہا تھا۔”آئی لائک یور اسمیل لٹل گرل” اسکے بالوں میں چہرہ چھپائے اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔جبکہ ہاتھ آہستہ سے شہرے کے گال کو سہلا رہے تھے۔۔۔”سوجاؤ اب پھر باہر چلیں گے” اسکے سر کے نیچے سے ہاتھ گزار اسکا سر اپنے سینے پر رکھتا وہ اسکی کمر پکڑ اسے جھٹکے سے اپنے قریب کرگیا تھا کہ مامون کی سانسوں کی تپش شہرے کا اپنے شہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔۔وہ چاہ کر بھی اسے خود سے دور نہیں کر سکتی تھی۔اپنے بالوں میں نرم انگلیوں کا لمس محسوس کر اس نے گہرا سانس بھرتے آنکھیں موندی تھیں۔۔کچھ دیر بعد ہی وہ دونوں گہری نیند میں تھے ایک دوسرے کے بے حد قریب۔۔۔۔___________
حویلی کے ملازمین مالکوں سمیت خاموش تماشائی بنے کشور بیگم کو دیکھ رہے تھے جو ناگواری سے نورے کو دیکھ رہی تھیں”بہت زبان ہے سب سے پہلے اس زبان کو ہی کاٹوں گی ” اپنی جگہ سے اٹھتے وہ اسکی جانب بڑھیں ۔۔ نورے نے غیر محسوس طریقے سے اپنے قدم پیچھے لئے تھے۔”کیا کہا تو نے کچھ نہیں کیا تو نے میرے باپ جیسے بھائی کی””میں نے کہا نا میں نے آپ کے باپ جیسے بھائی کو کچھ نہیں کیا اس لئے مجھے کچھ نہیں کہہ سکتیں آپ ” ناجانے اتنی ہمت وہ کہاں سے لائی تھی۔۔”بالکل اپنے باپ جیسی ہے وہی غرور۔۔۔۔ کیسے توڑا تھا سالوں پہلے اسکا غرور۔۔۔ قدموں میں گرایا تھا اسے تجھے بھی اسی طرح قدموں میں گرانا ہے”ان کی بات پر نجمہ بیگم نے سختی سے مٹھیاں بھینچی تھیں ایک بار پھر وہی سب ہونے والا تھا کشور بیگم کو کوئی نہیں روک سکتا تھا وہ ایک بار پھر زہر اگلنے کے لئے یہاں موجود تھیں۔۔جاذب نے ان کی بند مٹھی کو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیا تھا۔۔۔”اتنی بڑی بڑی باتیں مت کریں آنٹی کہ ایک دن آپ خود ہی منہ کے بل گر جائیں” ان کی بات اسے سخت ناگوار گزری تھی ۔۔”زبان سنبھال کر بات کر ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گی “اسکا بازو دبوچے وہ غرائیں۔۔۔نورے نے درد ہوتے بازو کو ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے آزاد کروایا۔”خبردار جو آپ نے مجھے ہاتھ لگایا۔۔۔ ” یہ کہتے اسکی آواز کانپی تھی۔۔ساری جمع ہوئی ہمت ختم ہونے لگی تھی وہ اب بس رونا چاہتی تھی۔”تو بدکردار لڑکی تو نے میرا ہاتھ جھٹکا” غصے سے چیختے کشور بیگم نے ہاتھ اٹھا کر اسے مارنا چاہا تھا مگر ان کا ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گیا۔نورے کو ان کا اٹھا ہاتھ دیکھ سختی سے آنکھ بند کرگئی تھی جھٹکے سے آنکھ کھولے اس نے کشور بیگم کو دیکھا جن کا ہاتھ جاذب شاہ کی مضبوط گرفت میں تھا۔۔نورے کو جھٹکا لگا تھا اور یہی جھٹکا وہاں موجود سبھی نفوس کو لگا تھا۔۔۔”عورت پر ہاتھ اٹھانا کسی زمانے میں ٹھیک نہیں رہا پھپھو بیگم۔۔۔۔ اس لئے میرے سامنے اس ہاتھا پائی سے گریز کریں”ان کا ہاتھ چھوڑتا وہ دو قدم پیچھے ہوا تھا۔۔کشور بیگم نے دانت کچکچاتے اسے دیکھا۔”تم۔۔۔ جاذب شاہ تم اپنے باپ کا قتل بھول گئے اپنے ماں کی تکلیف بھول گئے تم بھول گئے اس لڑکی کے باپ کی وجہ سے آغا جان زرمینہ کو اپنی پوتی نہیں مانتے تم سب بھول گئے؟”وہ چیخ چیخ کر ماضی رگید رہی تھیں۔جاذب شاہ نے مٹھیاں بھینچے انہیں دیکھا جو زہر اگل رہی تھیں۔۔”اس کے باپ کی وجہ سے سب ہوا ہے اور تم نے اسے بچایا”وہ اب بھی ںے یقین تھیں۔”میرا اس گاؤں میں نام ہے کیا چاہتی ہیں آپ کی اس حرکت سے اپنی بنی بنائی عزت کو مٹی میں ملا دوں ؟” وہ ان کی طرح چلایا نہیں تھا مگر اسکا لہجہ برف سے زیادہ سرد تھا نورے کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سنساہٹ سی محسوس ہوئی۔۔غصے سے زیادہ تو وہ خاموش سرد انداز میں خطرناک لگا تھا اسے۔۔دو قدم پیچھے ہوتے وہ جازب شاہ کے پیچھے ہوئی تھی۔۔” یہ تمہارے باپ کے قاتل کی بیٹی ہے تم سے دور بھاگ گئی تھی یہ تم””کچھ نہیں بھولا ہوں میں بار بار مجھے اس بات کو بتانے کی ضرورت نہیں آپ سے زیادہ یاد ہے مجھے ہر چیز کشور پھپھو ” ایک ایک لفظ پر زور دیتا اس نے ان کا نام لیا تھا۔۔”تو اس ونی ہوئی لڑکی کے ساتھ “”جو کرنا ہے کریں مگر ۔۔۔۔ ہاتھ مت اٹھائیے گا اسی سزا دینے کا حق صرف مجھے اور میری ماں کو ہے کیونکہ نقصان ہمارا ہوا تھا۔۔۔ اس پر ہاتھ اٹھانے سے گریز کیجئے گا۔۔۔ انابیہ “انہیں جواب دیتے اس نے انابیہ کو پکارا جو اسکی پکار پر فوراً سے الرٹ ہوئی تھی۔۔”جی بھائی””آغا جان کہاں ہیں؟””آپ کا انتظار کر رہے ہیں روم میں ” اسکے بتانے پر وہ سر ہلاتا وہاں سے اوپر کی جانب بڑھا تھا جبکہ اسکے جانے پر نورے کو لگا اب یہ عورت اسے زندہ نگل جائے گی۔۔۔کشور بیگم نے حقارت سے اسے دیکھا تھا۔”ردابہ۔۔۔ زرا اس لڑکی کو اسکے اصل ٹھکانے پر تو لے جاؤ اسے بھی تو پتا چلے کہ اسکی اصل میں اوقات کیا ہے”ان کی بات پر ردابہ نے آگے بڑھ کر اسکا بازو دبوچا۔”میں چل رہی ہوں ہاتھ چھوڑیں میرا” درد سے اس نے اپنا ہاتھ ردابہ کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا مگر ہاتھ چھوڑنے کے بجائے وہ اسکے بازو پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرتی اسے تقریباً گھیسٹتے حویلی کے پچھلے حصے کی جانب آئی تھی جہاں عجیب سی خاموشی تھی پراسرار سے دل دہلاتی۔۔ردابہ نے سب سے کونے میں بنے کمرے کا دروازہ کھولتے اسے اندر دھکیلا تھا کہ بیلنس کھوتی وہ نورے سیدھا زمین پر گری تھی۔۔۔”یہ ہے تیری اوقات” حقارت سے کہتے ردابہ خود گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھی تھی۔۔اسکی آنکھوں سے نکلتے شعلے نورے کو جھلسانے کی خواہش میں تھے۔۔”میری بات سنو تم ۔۔۔ تمہارے باپ نے کیا کیا اور کیا نہیں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں بس اتنا یاد رکھنا کہ جاذب شاہ سے دور رہنا جتنا تک اس سے دور رہو گی اتنا ہی اس گھر میں تمہاری تکلیفیں کم ہونگی”اسکا بازو دبوچے وہ اسے دھمکا رہی تھی نورے نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔”مجھے جاذب شاہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے “”ہونی بھی نہیں چاہیے۔۔۔ وہ چاہے تب بھی نہیں تم اس گھر میں ونی کی حیثیت سے آئی ہو نور فاطمہ یزدانی تمہارے باپ کی وجہ سے تم یہاں ہو کاش ہو””آخر اس گھر میں سب میرے باپ سے اتنا ابسسیس کیوں ہیں آخر ؟ ” اسکی بات پر مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ تڑخ کر بولی۔۔جس باپ کو اس نے دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔اس باپ کی وجہ سے اسکی زندگی یہاں جہنم ہونے والی تھی۔۔۔”کیونکہ ان کی وجہ سے سب کچھ ہوا سب کچھ””کیا مطلب ہے آخر کیا کیا ہے انہوں نے” وہ تڑخی تھی یہ آدھی ادھوری کہانیاں۔۔”وقت آنے پر بتا چل جائے گا یہاں تمہاری قید کی مدت کافی طویل ہے “اسے کہتے وہ دروازہ لاک کرتے وہاں سے نکلتی چلے گئی اور اسکے جاتے ہی نورے بھاگ کر دروازے تک آئی تھی۔۔”کھولو اس دروازے کو میرا دم گھٹ جائے گا یہاں۔۔۔ دروازہ کھولو” بند کمرے میں اسکا دل گھبرایا تھا دروازہ بجاتے وہ کسی کو دروازہ کھولنے کو بول رہی تھی مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو اسکی فریاد سنتا ۔۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا ۔۔۔ ایسی بند جگہوں پر اسکا رہنا مشکل تھا۔۔وہ دروازہ بجانے لگی جتنی اسکی طاقت تھی اتنا تیز۔۔۔_________
کمرے کا دروازہ کھول وہ اندر داخل ہوا تھا پورے کمرے میں دھیمی روشنی چھائی ہوئی تھی۔۔آغا جان کھڑکی کے پاس بیٹھے تسبیح پڑھ رہے تھے قدموں کی آہٹ پر انہوں نے تسبیح دراز میں رکھتے گردن موڑ کر انہیں دیکھا ۔”کیا آگئے تم دشمن کی بیٹی کو لے کر”؟”ہممم”اس نے محض اتنا کہنے پر اکتفا کیا ۔”آخر کار سالوں کی تلاش کے بعد تمہاری ملکیت تمہیں مل گئی اب کیا کروگے اسکے ساتھ مارو گے اسے؟”ان کے سوال پر جاذب چونکا۔۔”آپ جانتے ہیں میں عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔”تو اسے سزا کیسے دوگے جاذب شاہ؟”ان کے سوال پر وہ ہولے سے مسکراتا ان کے سامنے رکھی چئیر پر بیٹھا تھا۔”سزا دینے کے بہت سے طریقے ہیں سہیل شاہ اور آپ تو اس طرح کی سزا دینے میں کافی ماہر ہیں”اس کی بات کے پیچھے چھپا مفہوم وہ اچھے سے سمجھتے تھے۔۔”ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے تم””جانتا ہوں ۔۔۔ کرنا بھی نہیں چاہتا “”اچھی بات ہے “سر ہلاتے انہوں نے اتفاق کیا تھا اسکی بات سے ۔”کشور پھپھو کو آپ نے یہاں بلایا ہے؟”وہ اب سیدھا اپنے مطلب کی بات پر آیا تھا آغا جان جانتے تھے وہ اب یہ بات لازمی کرے گا۔۔۔”وہ اپنی مرضی سے آئی ہے””بات وہ کریں جس پر مجھے یقین آئے آپ کے علاؤہ کسی کو نہیں پتا تھا کہ میں نور کو یہاں لا رہا ہوں اور جس طرح کا ان کا رویہ تھا صاف لگ رہا تھا کہ انہیں اسی مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔۔”وہ جاذب شاہ تھا وہ چار قدم آگے کا سوچتا تھا۔۔”ان سے کہیں اگر آگئی ہیں تو آج کے بارے میں سوچیں گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے “”کچھ کہا ہے اس نے؟””اس لڑکی کا ذکر کیا ہے جس کا ذکر آپ کو اپنے سامنے پسند نہیں”اسکی بات پر سہیل شاہ نے جبڑے بھینچے۔۔۔۔”اس طرح تاثرات کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اسکی چھٹیاں پڑنے والی ہیں اس لئے بہتر ہے آپ خود کو ابھی سے ذہنی طور پر تیار کرلیں””جلال کہاں ہے؟”بات بدلتے انہوں نے جلال کا پوچھا جاذب نے ایک نظر انہیں دیکھا۔۔”آپ جانتے ہیں وہ اپنا اصل نام استعمال نہیں کرتا اسے اجمل کہا کریں””وہ میرے لئے جلال تھا اور جلال ہی رہے گا” ان کی ضد پر وہ آنکھیں گھما کر رہ گیا۔۔”اپنے ساتھ اسے مت خوار کرو جاذب شاہ اس نے ایک بہت قیمتی رشتہ کھویا ہے “”وہ میرا یار ہے میرا ساتھی اسکے لئے کیا بہتر ہے وہ خود جان سکتا ہے میں اسکے ساتھ زبردستی نہیں کرتا آپ جانتے ہیں یہ بات “اسکی بات پر سہیل شاہ نے گہرا سانس بھرا ۔۔”چلتا ہوں الیکشن سر پر ہیں ہوسکتا ہے اب کل ملاقات ہو” ان کے ماتھے پر پیار کرتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا یہ جانے بغیر اسکے پیچھے ایک قیمتی جان اپنی سانسیں کھو رہی تھی۔۔۔جاری ہے
#قسط_12ڈائننگ ٹیبل پر اس وقت سوائے برتنوں کے کوئی دوسری آواز نہیں تھی۔شائستہ بیگم نے ایک نظر ضوریز کو دیکھا اور پھر کامران اور کومل کو اپنے ڈنر کے لئے آج یہیں موجود تھے اور وجہ بہت خاص تھی۔۔”امی کچھ ہوا ہے؟”خود پر پڑتی شائستہ بیگم کی نظریں محسوس کر ضوریز نے سر اُٹھائے انہیں دیکھا۔”نہیں کچھ نہیں بچے تم کھانا کھاؤ”اسے کہتیں وہ خود کھانے کی جانب متوجہ ہوگئیں۔انہیں نے کامران کے اتے ہی اسے سب بتا دیا تھا ۔اور اب سارا معاملہ کامران نے سنبھالنا تھا ۔”میں اسٹڈی میں ڈنر ختم کر کے وہیں آجانا” کھانے سے فارغ ہوتے ضوریز اسے کہتا اوپر اپنی اسٹڈی کی جانب بڑھ گیا جبکہ کامران نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا اور پھر تسلی کرتے وہ ان کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔”خالہ ۔۔ ابھی اس بارے میں ضوریز سے بات نہیں کیجئے گا آپ جب تک عمائم جواب نہیں دے دیتی””کامران کیا جواب ہوگا عمائم کا؟”وہ متفکر تھیں۔۔”خالہ میں منفی نہیں سوچ رہی مگر آپ عمائم کی جانب سے خود کو تیار رکھیں کیونکہ جو بھی ہو ضوریز بھائی ایک بچے کے باپ ہیں کیا عمائم کے گھر والے اس شادی پر راضی ہونگے “کومل اپنی جگہ ٹھیک تھی آخر کو کیوں کوئی اپنی کنواری بیٹی ایک بچے کے باپ سے کرنے لگا۔”ہمارے ضوریز کو لڑکیوں کی کمی نہیں ہے کومل” کامران کی بات پر کومل ہولے سے مسکرا اٹھی۔”یہ بات تو میں بھی جانتی ہوں میں یہاں عمائم کی بات کر رہی ہوں کامران جہاں تک مجھے پتا ہے اسکے سرپرست اسکے ماموں ہیں آخر وہ کیوں اپنی بھانجی کی شادی ایسے کرینگے””کومل صحیح بول رہی ہے مجھے عمائم کو نہیں بولنا چاہیے تھا” شائستہ بیگم اب پریشان ہوئی تھیں۔انہوں نے جذبات میں بہہ کر عمائم کو آفر تو کردی تھی مگر اب کومل نے جو کہا انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا تھا۔۔”ابھی سے نیگیٹو کیوں سوچنا بس آپ خود سے ضوریز سے بات نہیں کرینگی میں خود سب دیکھ لوں گا اگر عمائم نہیں تو کوئی اور ۔۔۔ ضوریز مان جائے تو سب ٹھیک ہوگا”انہیں تسلی دیتے کامران وہاں سے اٹھ کر اوپر اسٹڈی روم میں آگیا جہاں ضوریز حسب عادت لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا۔۔سفید شرٹ کی آستین کہنیوں تک فولڈ تھیں چہرے پر تفکرات کے سائے تھے۔”تو جانتا تھا یہ سب ؟”کامران کی موجودگی محسوس کر اس نے بنا اسے دیکھے سوال کیا تھا۔”کس بارے میں؟” کامران فوراً سے انجان بنا تھا۔”تو اچھے سے جانتا ہے میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں کامران ۔ امی نے مجھے نہیں بتایا ٹھیک ہے میں سمجھتا ہوں میں تو”تو اسے خود سے پتا چل گیا تھا کامران نے گہرا سانس بھرا اور خود اسکے پاس آ بیٹھا جو اب ناراضی بھرا تاثر چہرے پر سجائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔”تجھے بتا کر کیا کرتا ۔۔ پہلے ہی تجھ پر کام کا اتنا لوڈ ہے “”کام کا لوڈ ایک طرف میں زارون کر کمپرومائز نہیں کروں گا وہ میرے پاس ہی رہے گا ” اسکا انداز قطعی تھا۔۔”ہاں تو رکھ تو زارون کو اپنے پاس مگر کوٹ میں کوئی جواز تو پیش کرنا ہوگا نا “”تم لوگ پہلے سے کیوں یہ سب سوچ رہے ہو ؟ وہ ابھی یہاں نہیں ہے “”ابھی نہیں تو بعد میں یہ سب ہوگا ضوریز “”کامران۔۔ وہ عورت کو اپنے نوزائدہ بچے کو چھوڑ سکتی ہے وہ اب کیوں اسے واپس چاہے گی کیا سب پاگل ہوگئے ہیں ” اسکا موڈ خراب ہوچکا تھا اور اب اس موڈ کو ٹھیک ہونے میں دو سے تین دن تو لگنے والے تھے۔۔”جو بھی تو بس اب اپنے قدم مضبوط کر ضوریز میں جانتا ہوں تو شادی نہیں کرنا چاہتا مگر زارون کو ماں کی ضرورت ہے جب زارون ہی تیرے پاس رہنا چاہے گا تو کوئی اسے تجھ سے چھین نہیں سکتا””تم لوگ کیا چاہتے ہو میں اپنے بیٹے پر سوتیلی ماں لے آؤں ؟ کامران اس دنیا میں کوئی عورت کسی دوسرے کے بچے کو پیار نہیں کرتی””ایسا ضروری تو نہیں آج بھی ںے لوث محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔۔””میں نہیں مانتا “”اگر ایسی لڑکی میں نے ڈھونڈ دی تو کیا تو شادی کرے گا؟” کامران فوراً سے اپنے مطلب کی بات پر آیا تھا۔۔”جس دن ایسی لڑکی مل جائے نا جو میرے پیسے کے پیچھے نا ہو تب بات کرنا””تو پہلے وعدہ کر۔۔ تو لازمی شادی کرے گا اگر میں ایسی لڑکی ڈھونڈ لایا۔۔”کامران پرجوش سا آگے ہوا تھا۔۔ضوریز نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھا جس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔۔”میں نے شادی کی حامی نہیں بھری ہے جو چہرہ چمک رہا” آنکھیں گھماتے ضوریز نے سر جھٹکا جبکہ کامران کے ماتھے پر بل پڑے۔۔”ضوریز۔۔۔ میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں””میں بھی نہیں کر رہا “”زارون کی سیفٹی کے لئے یہ ضروری ہے “”میں کسی پر بھی ٹرسٹ نہیں کرسکتا زارون کے معاملے میں تو بالکل بھی نہیں”اسکا انداز قطعی تھا کامران نے اسے دیکھا اور پھر جھٹکے سے اسکا لیپ ٹاپ بند کر اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا۔۔ضوریز نے ناگواری سے اسے دیکھا۔”کیا مصیبت ہے؟””تم شادی کر رہے ہو اور میں خالہ کو بول کر لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔”اسکی بات پر ضوریز نے کوفت سے ہاتھ جھلایا۔۔جیسے کہہ رہا ہو جو کرنا ہے کرو۔۔”میں سیریس ہوں””جب لڑکی مل جائے تب آنا کرلوں گا نکاح””,تو وعدہ کر مکرے گا نہیں””مجھے کام کرنا ہے کامران کہہ دیا نا ” وہ سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوا تھا۔۔کامران نے سکون سے اسے دیکھا اور پھر مسکرادیا۔۔اتنا مشکل بھی نہیں تھا یہ کام۔۔۔__________ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی وہ اپنے باندھ رہی تھی مامون نیچے گیا تھا کچھ دیر بعد انہوں نے باہر نکلنا تھا۔اسکا بالکل بھی دل نہیں تھا ہر چیز اسے ٹریگر کر رہی تھی خاموشی سے تیار ہوکر وہ باہر آئی تو مامون کو لاؤنج میں بیٹھا پایا۔۔وہ شاید اسکی کا منتظر تھا۔۔”ریڈی لٹل گرل ؟”افف اسکا انداز تخاطب ۔۔ شہرے نے آنکھیں گھمائیں۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو اس شخص پر فدا ہوجاتی مگر یہ شخص اسکا دشمن تھا۔۔۔اور اس سے جان چھڑانے کی خاطر وہ کچھ بھی کرسکتی تھی ۔۔اپنی سوچوں سے وہ چونکی تب جب مامون نے اسکا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیا۔۔وہ اسکا ہاتھ تھامے باہر آیا اور اسے گاڑی میں بیٹھاتے خود اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا جبکہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر اسٹیو براجمان تھا۔وہ اسے لئے ایک بہت بڑے شاپنگ مال آیا تھا۔”کم شہرے” اس سے پہلے وہ خود گاڑی سے اترتی مامون گاڑی سے اترتا اسکی جانب آیا۔شہرے نے حیرت سے اسے دیکھا اور حیرت تو اسٹیو کو بھی ہوئی تھی۔۔آخر کو اس نے اتنے سالوں میں کبھی مامون شیرازی کو کسی کے لئے ایسا کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔ جو ایک بار پھر اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔۔وہ اسے لئے اس بڑے سے مال میں داخل ہوا تھا اتنا بڑا اور خوبصورت مال اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔حیرت تو اسے تب ہوئی جب کچھ شاپ کے اونر آکر مامون کو کام کی ڈیٹیلز دینے لگے۔۔”یہ مال اب آپ کے حوالے لٹل برڈ ۔ جو شاپنگ کرنی ہے کرلو””مجھے کچھ ” اسے سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتی مامون کی گھوری پر اس نے خشک لبوں پر زبان پھیرتے شاپنگ اسٹارٹ کی۔۔اسکا بالکل بھی دل نہیں تھا وہ بس خاموشی سے مامون کو دیکھ رہی تھی جو اسکے لئے ناجانے کیا کیا لے رہا تھا۔۔شہرے نے بس ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسکے دماغ میں کوندا سا لپکا تھا۔۔”اگر میں ہی زندہ نہیں رہوں گی تو زیادہ اچھا ہوگا” خود سے کہتے وہ اس نے ایک فیصلہ لیا تھا ایسا فیصلہ جو عام حالات میں وہ شاید کبھی نا لیتی۔۔۔۔ناجانے کتنے گھنٹوں کی شاپنگ کے بعد مامون اسکا ہاتھ تھامے پارکنگ میں آیا اسکا ارادہ شہرے کے ساتھ اچھا سا ڈنر کرنے کا تھا ۔۔۔گاڑی میں سامان رکھتے وہ واپس تو شہرے پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔۔اسے مسکراتی نظروں سے دیکھتے وہ اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔۔۔ اسکے بیٹھنے پر دروازے کے لاک پر شہرے کے ہاتھ کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کوئی تھی۔۔گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور پھر لمحے بعد گاڑی روڈ کر رواں دواں تھیں شہرے نے ایک نظر مامون کو دیکھا جو موبائل میں مصروف تھا اور پھر بنا لمحہ ضائع کئے وہ گاڑی کا دروازہ کھولتی گاڑی سے باہر چھلانگ لگا چکی تھی۔۔۔یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ مامون کو کچھ سمجھ نہیں آیا اور پھر جب سمجھ آیا وہ بری طرح بوکھلایا۔۔”اسٹاپ دا کار ” اسکی چیخ پر اسٹیو نے فوراً سے بریک لگائے۔۔ گاڑی کے ٹائر چرچرائے۔۔گاڑی سے اترتے وہ تیزی سے پیچھے کی جانب بھاگا تھا جب لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔۔”شہرے۔۔۔۔ شہرے” اسکو پکارتے وہ تیزی سے ہجوم کو چیرتا آگے بڑھا تھا جہاں زمین پر وہ خون میں لت پت پڑی تھی۔۔”شہرے۔۔۔۔ اسٹیو۔۔۔ گاڑی لاؤ” بنا کسی کی پرواہ کئے وہ اسے بانہوں میں بھرے وہاں سے نکلا تھا مامون کو ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں بھینچ لیا ہوا۔۔اسے بانہوں میں بھرے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے وہ مسلسل اسے پکار رہا تھا جو ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی۔۔۔___________
اسپتال کے خاموش یخ بستہ کاریڈور میں اچانک ہی آوازیں گونجی تھیں۔۔”لٹل گرل پلیز واک اپ ۔۔ شہرے ۔۔۔ ” مامون کی آواز اسکے قدموں کے ساتھ تیز ہوئی تھی۔۔ڈاکٹرز نے فوراً سے شہرے کو ایمرجنسی روم میں شفٹ کیا تھا۔۔”ڈاکٹر سیو ہر۔۔ مجھے وہ بالکل ٹھیک چاہیے جو کرنا ہے کریں جتنا پیسہ چاہیے میں دوں گا مگر اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے ورنہ میں اس اسپتال کو آگ لگا دوں گا ” اسکی بات پر ڈاکٹر نے حیرت سے اسے دیکھا وہ یہاں کا سب سے مغرور اور بے رحم بزنس مین سمجھا جاتا تھا لوگوں کے لئے اسکا یہ روپ سب کے لئے نیا تھا انہوں نے آج تک مامون شیرازی کو کسی لڑکی کے لئے اتنا پریشان ہوتے نہیں دیکھا تھا۔۔ہر چیز سے انجان وہ بس کبھی ادھر ٹہل رہا تھا کبھی ادھر ۔۔ اسٹیو نے پریشانی سے اسے دیکھا۔۔شہرے کا خون کافی زیادہ بہہ گیا تھا۔۔ڈاکٹر اسکے لئے بلڈ ارینج کر رہے تھے۔مامون نے روم کی واحد گلاس ونڈو سے شہرے کو دیکھا تھا جس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا اسکا سر پر پٹی باندھی گئی تھی شہرے کو اس حالت میں دیکھ مامون ٹوٹ رہا تھا۔۔مامون نے اپنا بلڈ شہرے کو دیا تھا ڈاکٹر اسکا علاج کر رہے تھے اور وہ بے بس سا باہر ہاتھوں میں سر گرائے بیٹھا تھا۔۔۔____________کالج کا آف ہوتے ہی سفید یونیفارم پہنے ایک ساتھ کئی لڑکیاں کالج سے باہر نکلی تھیں کچھ کے گھر سے کوئی لینے آیا تھا تو کوئی خود اپنے گھر کی طرف بڑھی تھیں ایسے میں صرف چند ایسی تھیں جو یہاں پاس کے ہی ہاسٹل میں رہتی تھیں اور انہیں لڑکیوں میں سے ایک وہ بھی تھی۔۔”زرمینے عمر شاہ”جو سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتی کالج سے نکل رہی تھی۔ سیاہ بیگ ایک کاندھے پر لٹک رہا تھا ہاتھوں میں کتابیں تھیں۔۔”زری۔۔ ہم لوگ پاس میں لسی پینے جا رہے ہیں چل رہی ہے؟” تابندہ کی بات پر اس کا سر نفی میں ہلا تھا۔۔”یار ۔۔۔””مجھے پڑھنا ہے میں ہاسٹل جا رہی تم ہو آؤ تابہ” نرمی لئے دلسوز سا لہجہ۔۔۔۔تابندہ نے اسے دیکھا جس کی رنگت دھوپ کی تیزی کی وجہ سے سرخ ہو پڑ رہی تھی گال پر تل اسکی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگاتا تھا۔۔۔وہ سراپا حسن تھی مگر یہ حسن بھلا اسکے کس کام کا۔۔۔۔”کیا ہوا ؟””نہیں کچھ نہیں چلو ہاسٹل چلیں””کیوں تم نہیں جا رہیں ؟” بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھتے سوال کیا گیا تھا ۔”میرا بھی دل نہیں میں بس آرام کرنا چاہتی ہوں تم بس دو منٹ رکو میں انہیں منع کر کے آئی”تابندہ کے آتے ہی وہ دونوں اپنے ہاسٹل کے روم میں آئی تھیں۔روم میں آتے ہی زرمینے نے اپنی چادر اور دوپٹہ اتار کر سائیڈ رکھا تو کمر کو چھوتی چوٹی واضح ہوئی۔۔”تو تم اپنے گھر جا رہی ہو ؟”تابندہ کی بات پر اس نے آہستہ سے سر ہلایا۔”ایسے برے چہرے کے ساتھ کیوں ہاں کر رہیں ؟””میرا دل نہیں کرتا وہاں جانے کا تابی””میں سمجھ سکتی ہوں مگر تمہارے بھائی تو اچھے ہیں نا ؟””صرف وہی تو اچھے ہیں اور انہی کی وجہ سے مجھے جانا پڑ رہا ہے کاش میں اس حویلی کا حصہ نا بنتی” اداسی سے کہتے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی۔حسین چہرے پر اداسیاں گھلی تھیں۔۔”اچھا اپنا موڈ ریلکس کرو آج شام نہیں چلتے ہیں پھر کل تم نے واپس چلے جانا ہے””میرا دل نہیں ہے تابی””بھئی انکار مت کرنا زری۔ حویلی میں جا کر تم چار دیواری میں مقید ہوجاؤ گی اس لئے تم میرے ساتھ شام میں چل رہی ہو۔۔۔”تابی کی زد پر گہرا سانس بھرتے اس نے سر ہلایا تھا۔۔____________
“جلسے کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں اجمل؟”سیاہ کلف لگے کاٹن کے سوٹ پر سیاہ کی کوٹ پہنے وہ آنکھوں پر گلاسس لگائے اپنے آفس میں داخل ہوا تھا۔۔”سائیں ساری تیاریاں ہوگئی ہیں مگر “وہ رکا تھا جاذب نے گردن ترچھی کر اسے دیکھا ۔۔”مگر ؟؟””خانوں کا سب سے بڑا بیٹا بھی اپنے باپ کے ساتھ الیکشن میں کھڑا ہے اس بار””تو ؟” جاذب یہ بات پہلے سے جانتا تھا۔۔”وہ آپ کا جلسہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اپنے جلسے انہیں تاریخوں میں کر رہے ہیں جب آپ کے جلسے ہیں”اسکی بات پر جاذب مسکرایا تھا۔۔”کرنے دو انہیں جو کرنا ہے جتنے ہاتھ پیر مارنے ہیں مارنے دو۔۔۔ جیت تو ہماری ہی ہوگی اور کہ تو طے ہے”وہ پریقین تھا۔۔۔”سائیں یہ نورے بی بی کی میڈیکل رپورٹس۔۔۔” جمال نے ایک فائل اسکے آگے کی۔۔”ان کی رپورٹس میں ایسا کچھ خاص نہیں ہے البتہ انہیں کلسٹروفوبیا ہے بند جگہوں پر ان کا دم گھٹتا ہے” اس کی بات پر جاذب چونکا۔۔”ابھی نورے کہاں ہے؟””وہ ردابہ””شٹ”ٹیبل پر ہاتھ مارتے وہ ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا جلال اجمل نے پریشانی سے اسے دیکھا جو اپنا موبائل اٹھائے تیزی سے باہر نکلا تھا۔۔”سائیں کیا ہوا ہے ؟” اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ جاذب کے ہمقدم ہوا تھا جو بنا اسکی بات کا جواب دئیے تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھا جبکہ جلال اجمل نے اس سے زیادہ تیزی سے بھاگتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی۔۔”حویلی چلو اجمل” وہ سخت مضطرب تھا بنا کوئی سوال کیا جلال اجمل نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی ۔۔۔ اور پھر وہ کتنی تیزی سے گاڑی چلاسکتا ،تھا اس کے چلائی تھی۔۔۔یہاں سے حویلی تقریباً بھی آدھے گھنٹے کی دوری پر تھی اور یہ آدھا گھنٹہ جاذب شاہ کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا انجانے سے خود نے اسکا وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔۔۔۔__________”کہاں ہے وہ لڑکی؟”کشور بیگم نے پان منہ میں رکھتے ردابہ کو دیکھا جو ان کے سوال پر مسکرائی تھی۔۔”اپنے اصل ٹھکانے پر ہے””اسکا اصل ٹھکانہ تو اس حویلی سے باہر ہے اس حویلی کے اندر نہیں””آپ کیوں فکر کرتی ہیں پھپھو۔۔ آپ کے ہوتے ہوئے وہ بہت جلد اس حویلی سے بھی نکل جائے گی”اسکی بات پر مسکراتے کشور بیگم کچھ کہنے لگیں جب گاڑی کی آواز پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔پھر ایک ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا اور جاذب شاہ کا چہرہ نمودار ہوا۔۔”نورے کہاں ہے ؟’وہ سیدھا ردابہ کے سر پر آیا تھا۔۔”کیا؟” دو قدم پیچھے ہوتے اس نے جاذب شاہ کے چہرے کو دیکھا”نورے کہاں ہے ردابہ؟؟””اپنی اصل جگہ پر ہے کیوں کیا ہوا ہے””میں نے پوچھا نورے کہاں ہے ررابہ؟’ اب کی بات اپنا ضبط کھوتا وہ ردابہ پر چلایا تھا جو خوف سے اپنی جگہ سے اچھلتی پیچھے ہوئی تھی۔۔”وہ حویلی کے پیچھے کمرے” اسکی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب جاذب ایک جھٹکے سے مڑتے گیٹ عبور کرتا حویلی کے پچھلے حصے کی جانب بڑھا تھا اسکا ہر قدم اسکے دل پر پڑ رہا تھا انجانے خوف نے اسے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔۔۔کمرے کے باہر آکر اسکے قدم رکے کمرہ باہر سے بند تھا دھڑکتے دل سے اس نے دروازہ کھولا اور پھر اسے لگا اسکا دل دھڑکنا بھول گیا ہو۔۔نورے زمین پر پڑی تھی بند ہوتی آنکھیں ناہموار دھڑکنیں ۔۔”نورے۔۔۔۔ نورے” اس تک پہنچتے جاذب نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔”نورے۔۔ آنکھیں کھولو ۔۔۔۔نورے””جلال گاڑی نکالوں”جلال کو کہتے اس نے نورے کو بانہوں میں بھرا اور تیزی سے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔”نورے آنکھیں کھولو ۔۔۔ نورے” اسے مسلسل جگانے کی کوشش کرتا وہ گاڑی میں بیٹھا تھا۔اسپتال پہنچتے نورے کو فوراً اندر لے جایا گیا تھا جبکہ باہر وہ مضطرب سا بیٹھا تھا۔۔”سائیں وہ ٹھیک ہو جائیں گی””بہتر ہے ٹھیک ہو جائے جلال ۔۔۔ ورنہ میں حویلی والوں کی دنیا ہلا کر رکھ دوں گا” وہ ایک بار پھر اپنے جنونی انداز میں لوٹ آیا تھا۔”تم جاؤ تمہیں زری کو لینے جانا ہے””مگر”اس نے کچھ کہنا چاہا مگر جاذب نے اسے بیچ میں روک دیا۔۔”میں ٹھیک ہوں اور تم جاؤ میں اسکے معاملے میں تمہارے علاؤہ کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتا” اسکی بات پر جلال آہستہ سے سر ہلاتے وہاں سے نکلا تھا مگر نکلنے سے پہلے اسے سہیل شاہ سے ملنا تھا جنہوں نے اسے ملنے کے لئے بلایا تھا________
دروازے پر ہونے والی دستک پر ہاتھ میں موجود تسبیح کے گرتے دانے تھمے تھے۔عینک کے پیچھے چھپی آنکھوں کو اٹھائے انہوں نے گھڑی کی جانب دیکھا اور پھر دستک دینے والے کو اندر آنے کی اجازت دی۔۔”اسلام وعلیکم بڑے سائیں ۔۔۔ ” دونوں ہاتھ باندھے سر جھکائے وہ ان کے سامنے کھڑا تھا۔۔”کیسے ہو جلال اجمل؟” وہ ہمیشہ اسے پورے نام سے پکارتے تھے یہ جانے بغیر وہ خود بھی اپنا نام نہیں لیتا تھا۔۔”میں ٹھیک ہوں بڑے سرکار آپ کیسے ہیں؟””تمہارے سامنے ہی ہیں ۔۔۔ خیر تمہاری بیوی کے مرنے کا بڑا دکھ ہوا ہے ہمیں”ان کی بات پر اسکے جبڑے سختی سے بھینچے تھے اسکا سر جھکا تھا اس لئے سہیل شاہ اسکے چہرے پر چھائی کرختگی دیکھ نہیں سکے۔۔”اس بات کو اب عرصہ ہوگیا ہے بڑے سرکار””جانتا ہوں اسی لئے چاہتا ہوں تم اپنی نئی زندگی کی شروعات کرو۔۔۔ ” ان کی بات پر اسکا سر جھٹکے سے اٹھا تھا مگر لمحے کو وہ واپس سے اپنا سر جھکا گیا اس شخص کے اس پر اور اسکے خاندان پر بڑے احسان تھے۔۔”میں نئی شروعات کرچکا ہوں میں آگے بڑھ گیا ہوں بڑے سرکار۔۔۔””جانتا ہوں مگر مرد کی زندگی میں عورت کی بہت اہمیت ہے اور “”بات کاٹنے کے لئے معذرت بڑے سرکار مگر مجھے اپنی زندگی میں عورت کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی۔۔۔ “”ایسا تمہیں لگتا ہے اب تک تم جاذب کے ساتھ تھے مگر اب وہ اس لڑکی کو واپس لے آیا ہے اسکی زندگی میں بھی لڑکی آگئی ہے کچھ سالوں بعد وہ آگے بڑھ جائے گا مرتے وقت تمہارے باپ نے ہم سے وعدہ لیا تھا تمہیں ہمارے سپرد کیا تھا اس لئے تم آگے بڑھنے کے بارے میں سوچو اگر کوئی لڑکی اچھی لگتی ہے تو ہمیں بتاؤں “ان کی بات پر جلال اجمل نے بس سر ہلایا تھا”میں چلتا ہوں اب””کہاں جانا ہے اس وقت؟” سہیل شاہ نے حیرت سے اس سے پوچھا ۔۔ان کی بات پر جلال نے انہیں دیکھا۔۔”زرمینہ بی بی کو لینے” اس ایک نام کو سنتے سہیل شاہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا تھا سختی جبڑے بھینچتے انہوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا تھا ۔۔۔جاری ہے
قسط_13اسپتال کے کاریڈور میں وہ مضطرب و بے چین سا بیٹھا تھا ایک طویل صبر آزما انتظار کے بعد ڈاکٹر نے شہرے کے ٹھیک ہونے کی خبر سنائی تھی۔۔اسٹیو نے اسے گھر جانے کا کہا مگر وہ راضی نہیں تھا وہ پوری رات اس نے شہرے کمرے کے باہر گزاری آدھی رات وہ خاموشی سے اسکے وارڈ میں داخل ہوا جہاں وہ گہری نیند میں تھی مامون اسے بس یک ٹک دیکھے گیا۔۔۔وہ خاموشی سے اسکا ہاتھ تھامے وہیں اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔وہ ٹھیک تھی خطرے سے باہر تھی مامون نے شکر کا سانس لیا تھا۔۔ وہ یونہی شہرے کے پاس صبح تک بیٹھا رہا تھا سورج کی روشنی ان دونوں کے چہرے پر پڑ رہی تھی مامون نے سر اٹھا کر شہرے کو دیکھا جس کا چہرہ سورج کی زرد کرنیں پڑنے سے چمک رہا تھااسکے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی مامون بس اسی دیکھے گیا۔۔اسٹیو کی آمد نے اسکی نگاہوں کو منظر بدلنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔وہ کل سے انہیں کپڑوں میں تھا جن پر شہرے کا خون لگا تھا اسٹیو نے زبردستی کر اسے گھر بھیجا تاکہ وہ اپنی حالت درست کرسکے۔۔چینج کرنے کے بعد وہ آرام کرنے کے بجائے واپس آفس آیا تھا اسٹیو کے لئے اسکا یہ انداز شاکنگ تھا۔۔۔اس نے کبھی مامون کو ایسے نہیں دیکھا تھا۔۔”اسٹیو تم آفس جاؤ میں ہوں یہاں”اسٹیو جانا نہیں چاہتا تھا مگر یہ مامون کا آرڈر تھا اور وہ اسکی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا۔۔اسٹیو کو آفس بھیج وہ خود شہرے کے پاس آکر بیٹھ گیا جو سوتے ہوئے معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔اسکے جاتے ہی شہرے کو ہوش آگیا تھا اور اب وہ گہری نیند میں تھی۔۔”لٹل گرل کیوں اتنی معصوم لگتی ہو حالانکہ ہو تو بالکل نہیں”اسکی پلکوں کو چھوتے وہ ہولے سے ہنسا تھا۔۔اور پھر بے اختیار وہ اسکے ماتھے پر جھکتا اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ گیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب شہرے نے زرا سی آنکھیں کھولیں خود پر جھکے مامون کو دیکھ اسکی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں بنا کچھ سوچے مامون کے سینے پر ہاتھ رکھ اس نے مامون کو پیچھے دھکیلا۔۔۔”تم۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی””شہرے ایزی “”ایزی؟؟؟ کیوں بچایا تم نے مجھے کیوں ۔۔ مرنا چاہتی تھی میں چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجھے تم۔۔۔ ” وہ بری طرح چلا رہی تھی مامون شاکڈ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔”شہرے””میرا نام مت لو تمہاری وجہ سے میں اپنے گھر سے دور ہوں تم ۔۔ تمہیں شرم بھی نہیں زرا سی مرنے دیتے مجھے ۔۔۔۔ نفرت کرتی ہوں میں تم سے سمجھ کیوں نہیں آتا تمہیں ؟” تیز بولنے سے اسکے سر میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں مگر مامون کو اپنے قریب دیکھ اسکا دماغ بری طرح خراب ہوا تھا۔۔اس سے پہلے مامون کو جواب دیتا ڈاکٹر کی آمد نے ان دونوں کو چپ رہنے پر مجبور کیا تھا۔۔شہرے ٹھیک تھی کوئی خطرے کی بات نہیں تھی مگر پھر بھی ڈاکٹرز اسے ایک ہفتے یہاں روکنا چاہتے تھے تاکہ اسکے زخم بھر جائیں مگر مامون اس پر راضی نہیں تھا۔۔۔مامون سے لاکھ نفرت سہی مگر ہاسپٹل میں رہنے کا سوچ ہی شہرے کو کوفت سی ہوئی تھی اسے دوائیوں کی اسمیل اپنے دماغ چڑھتی محسوس ہو رہی تھی۔۔مامون نے بذات خود ڈاکٹر سے بات کی ۔۔”ڈاکٹر وہ میری وائف ہے میں اسکا بہت اچھے سے خیال رکھ سکتا ہوں میں اپنا کام گھر پر رہ کر کرسکتا ہوں ” اس نے ڈاکٹر کو کہا تھا جو مشکل سے ہی سہی قائل ہوگیا تھا ۔اور اب ناچاہتے ہوئے بھی شہرے کو اس انسان کے ساتھ جانا پڑ رہا تھا۔۔۔_______________
وہ گھر آئی تو عابدہ بیگم گھر میں نہیں تھیں ۔۔اپنی شال اتار کر سائیڈ رکھتے وہ بیڈ لیٹ گئی۔شائستہ بیگم کی بات نے اسے شاکڈ دیا تھا وہ کیسے ۔۔”میں صاف منع کردوں گی۔۔۔ زارون سے محبت ایک جگہ مگر میں ضوریز صاحب سے کبھی شادی نہیں کر سکتی نا وہ مجھے پسند کرتے ہیں نا میں انہیں بات ختم” مسلسل کشمکشِ کے بعد وہ فائنلی ایک فیصلے پر پہنچی تھی۔۔۔اور فیصلہ کرنے کے بعد وہ مطمئن سی کچن میں آگئی موڈ اچھا تھا اس لئے اپنے لئے نوڈلز بناتے وہ کمرے میں آتے ٹی وی پر اپنی پسند کی فلم لگا کر بیٹھ گئی۔۔وہ ابھی نوڈلز ختم کرکے اٹھی ہی تھی جب عابدہ بیگم اسے گھر میں داخل ہوتی نظر آئیں ۔۔صبح کی بحث کے بعد سے وہ اب انہیں دیکھ رہی تھی۔”کمرے میں آؤ عمائم کچھ بات کرنی ہے” ان کا انداز بہت سنجیدہ تھا۔۔ برتن کچن میں رکھتے وہ خاموشی سے ان کے سامنے آ بیٹھی۔وہ بہت سنجیدہ لگ رہی تھیں۔”آج تمہارے ماموں نے مجھے بلایا تھا۔۔””اچھا””انہوں نے ایک بات کہی مجھ سے اور میں نے مان لی”ان کی بات پر اب عمائم کے کان کھڑے ہوئے تھے۔۔”کیسی بات””راحیل کے لئے تمہارا رشتہ مانگا تھا اور میں نے ہاں کردی ہے””امی” اسے شاکڈ لگا تھا۔”کیا امی ایک نا ایک دن تو تمہاری شادی کرنی ہے تو””میں راحیل سے شادی نہیں کروں گی آپ ماموں کو صاف منع کردیں””کیوں نہیں کرنی کوئی خاص وجہ؟”ماتھے پر تیوری لئے انہوں نے غصے سے اسے دیکھا ۔”مجھے وہ شخص نہیں پسند ۔۔ آخر آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی ہے امی” وہ تنگ آگئی تھی اس بحث سے جتنا وہ اپنے ماموں اور ان کی فیملی سے دور رہنا چاہتی تھی اتنا ہی اسکی امی اسکے لئے مشکلات کھڑی کر رہی تھیں۔۔”دیکھو عمائم میں بھائی کو زبان دے چکی ہوں””کیا آپ نے مجھ سے پوچھا تھا امی؟ آپ جانتی ہیں میں کبھی ان لوگوں کو پسند نہیں کرتی تھی نا کبھی کروں گی تو کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔۔ آپ ان لوگوں کو لے کر میری ناپسندیدگی سے بہے اچھے سے واقف ہیں
“میں فضول باتوں کو جواز بنا کر اتنا اچھا نہیں ٹھکرا سکتی ۔۔۔ پتا ہے عمائم مجھے لگتا تھا تم میرے جیسی ہو۔۔ مگر نہیں تم بالکل اپنے باپ جیسی ہو”ان کی یہ بات کسی چابک کی طرح اسکے دل پر لگی تھی آخر وہ کیوں اسکے باپ سے اتنی بدگمان تھیں کیوں وہ اپنے بھائی کی حرکت نہیں دیکھتی تھیں۔۔،”آپ کو لگتا ہے میں ان کے جیسی ہوں ٹھیک لگتا ہے کیونکہ میں ان کی طرح خودار ہوں مجھ میں عزت نفس ہے مری نہیں ہے””یہی خودداری اور عزت تمہارے باپ کو قبر میں لے گئی””قبر میں آپ کے بھائی “”عمائم” اسکی ادھوری بات پر وہ اتنی تیز چیخیں کے بے ساختہ عمائم ہلی تھی۔۔”بہت ہوگیا اب ایک لفظ مزید بکواس نہیں ۔۔۔ “”میں فیصلہ کرچکی ہوں میں راحیل سے شادی نہیں کروں گی”وہ باضد تھی عابدہ بیگم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ۔۔۔وہ بولیں تو ان کا لہجہ سخت تھا۔۔”اگلے مہینے میں بڑے بھیا کے پاس قطر جا رہی ہوں اور جانے سے پہلے تمہاری شادی کرنی ہے اس لئے “”اس لئے آپ اپنے اس بھتیجے کے سر مجھے تھوپنا چاہتی ہیں؟”اسکا دل ٹوٹا تھا آخر کیوں اسکی ماں بدل گئی تھی وہ کبھی ایسی تو نہیں تھیں۔۔”جو سمجھنا ہے سمجھو تمہارے باپ کی وجہ سے پہلے ہی ہماری زندگی اتنی خراب ہوگئی ہے اس لئے””اس لئے ماموں چاہتے ہیں میں راحیل سے شادی کروں تاکہ میرے نام جو شئیرز ہیں جو کہ مجھے شادی کے بعد ملیں گے وہ راحیل کے ہو جائیں ” انہیں کیا لگتا تھا وہ بیوقوف ہے؟””عمائم تم اپنے ماموں کو غلط سمجھ رہی ہو””میں انہیں ہمیشہ سے ٹھیک سمجھتی آئی ہوں امی۔۔۔ اور رہی بات میری شادی کی تو آج شائستہ آنٹی نے مجھے اپنے بیٹے کا پروپوزل دیا ہے ۔۔۔ میں ان کے بیٹے ضوریز سے شادی کروں گی تاکہ آپ آرام سے قطر جا سکیں””دماغ خراب ہے تمہارا ایک بچے کے باپ سے شادی کرو گی میں ایسا سوچنا بھی مت””راحیل سے شادی میں کبھی نہیں کروں گی امی اور رہی ایک بچے کے باپ سے شادی تو کوئی مسئلہ نہیں مجھے “”اتنی ہڈدھرم کب سے ہوگئی تم؟””میں تو ہمیشہ سے ہوں امی آپ ہی تو کہتی ہیں میں اپنے باپ پر گئی ہوں” انہیں کہتے وہ رکی نہیں اگر رکتی تو بہہ جاتی اور اپنی ماں کے سامنے وہ کمزور نہیں پڑ سکتی تھی کمرے میں آتے دروازہ بند کرتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔”بابا امی نہیں سمجھتی وہ کیوں نہیں سمجھتیں وہ کیوں آپ کے دشمنوں پر اندھا بھروسہ کرتی ہیں میں کہاں سے لاؤں ثبوت ” چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اسکا دل آج تکلیف میں تھا مگر اسکے بابا آج بھی اسکے پاس نہیں تھے ۔۔اتنے سالوں بعد بھی اسکے زخم پہلے سے زیادہ گہرے تھے اپنے باپ سے نفرت کرنے والوں کے درمیان رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ کوئی اس سے پوچھتا ۔وہ فیصلہ کر چکی تھی اسے کیا کرنا وہ اب خود کو وقت کے دھارے پر نہیں چھوڑنے والی تھی اسے اٹھنا تھا خود کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں چلانے تھے ۔۔اور اسے ضوریز سے شادی کرنی تھی۔۔۔___________
“ڈاکٹر وہ کیسی ہے اب؟””ٹھیک ہیں اب خطرے کی کوئی بات نہیں ہے” ڈاکٹر نے اسے تسلی دی تھی جس پر سر ہلاتے وہ اسکے وارڈ کی جانب بڑھا جہاں وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی جاذب کو اپنی جانب آتے دیکھ اسکے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ آئی تھی۔۔”میں نے سنا ہے میری حالت دیکھ کوئی بہت ڈر گیا تھا”جوس کا سپ لیتے اس نے مزے سے کہتے جاذب کا مذاق اڑایا تھا۔۔۔”ظاہر ہے اپنے شکار کو ایسے ہی تو نہیں جانے دے سکتا تھا نا” کندھے آچکا کر کہتا وہ اسکے سامنے موجود صوفے پر بیٹھتے پاؤں پر پاؤں چڑھا گیا۔۔نورے نے اسے دیکھ آنکھیں گھمائیں ۔۔”دیکھو جاذب شاہ اگر تم میری فکر میں مبتلا ہوگئے ہو اور تمہیں مجھ سے محبت ہونے لگی ہے تو میں بتا دوں میں تم سے بے انتہا نفرت کرتی ہوں اور ۔۔۔ ” اس نے لمحے کا وقفہ لیا۔۔۔”تم اس دنیا کے آخری مرد بھی ہوئے نا تب بھی میں تم سے محبت تو ہر گز نہیں کروں گی “اسکی بات پر اسپتال کے کمرے میں جاذب شاہ کا زندگی سے بھرپور قہقہ گونجا۔۔”خوش فہمیاں اچھی پال رکھی ہیں مگر ۔۔ جاذب شاہ کا معیار ابھی اتنا نہیں گرا کہ وہ تم سے محبت کرے”اسکے لفظوں نے پل میں نورے کا چہرہ سرخ کیا تھا۔۔”ظاہر ہے جتنا گرا ہوا تمہارا معیار ہے مجھ سے رسائی ویسے بھی ناممکن ہے”ایک سیر تھا تو دوسرا سواسیر۔۔۔۔”اس شکل پر ایسی بات بالکل اچھی نہیں لگتی اور رہی تمہیں بچانے کی بات تو اتنی آسان موت میرے دشمنوں کو نصیب ہو نا نا تمہیں تو تل تل پڑپتا دیکھنا چاہتا ہوں میں “”اور اسکے لئے تمہیں ساری زندگی انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ میں نورے یزدانی ہوں ” اسکی آنکھوں میں چمک تھی وہ ڈرتی نہیں تھی اور یہی بات جاذب شاہ کو آگ لگا دیتی تھی۔۔۔وہی نورے جس کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے”آپ کی اٹیک تھورا پرسنل تھا نورے کھول کر رہ گئی۔”کرتے رہو بکواس”جوس سائیڈ رکھتے اس نے تکیہ پر سر رکھ چہرہ دوپٹے سے چھپایا۔۔۔”اتنی جلدی ہار مان گئیں ابھی تو بہت کچھ برداشت کرنا ہے تم نے””دور رہنا مجھ سے ورنہ میں زندگی عذاب کردوں گی جاذب شاہ””دور رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا زندگی تنگ کردوں گا میں تم پر نور صاحبہ “اسکی دھمکی پر نورے نے ایسے ہاتھ جھلایا جیسے کہہ رہی ہو جو کرنا ہے کرو فرق نہیں پڑتا۔۔”تمہیں تو میں دیکھ لوں گا” غصے سے بڑبڑاتے وہ اپنی جگہ سے اٹھتا باہر بڑھا اور اسکے جاتے ہی نورے نے دوپٹے سے چہرہ نکال اسے دیکھا ۔۔۔”یا اللّٰہ مجھے کمزور مت پڑنے دینا مجھے ایک بڑی لمبی جنگ لڑنی ہے اپنے گھر والوں سے ملنا ہے اور ان لوگوں کے ظلم سے خود کو بچانا ہے مجھے کمزور نا پڑنے دینا میں کمزور پڑ گئی تو یہ لوگ شیر ہو جائیں گے” دل ہی دل میں دعا کرتی وہ واپس سے آنکھیں موند گئی۔۔۔جاری ہے
قسط_14وہ ڈاکٹر سے مل کر اسکے پاس آیا تھا اسے ڈسچارج مل گیا تھا۔۔”چلو آزادی کا پروانہ لایا ہوں تمہارا بہت آرام ہوگیا ” اسے بیڈ پر لیٹے دیکھ کہتے ساتھ اس نے طنز کیا جس پر نورے نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔”آزادی کا نہیں واپس سے ایک قید میں جانے کا وقت ہوگیا ہے”غصے سے بڑبڑاتے وہ بیڈ پر بیٹھ کر اپنی سلیپرز دیکھنے لگی جو وہاں کہیں نہیں تھیں۔”میری چپل کہاں ہیں ؟””تمہیں کیا لگتا ہے نورے یزدانی میں یہاں تمہیں پکنک پر لایا تھا جو تمہارے سامان کو بھی ساتھ لاتا؟” آئی برو اچکاتے اس نے سینے پر ہاتھ باندھ سوال کیا تھا۔۔”تو کیا مطلب میں ننگے پیر جاؤں گی باہر تک؟”اسکی بات کو نظر انداز کر اس نے اپنے مطلب کا سوال کیا تھا۔۔”نہیں بالکل نہیں مہارانی صاحبہ آپ کے لئے ابھی مخملی قالین بچھایا جائے گا اور “”کیا واقعی؟” اس کی بات پر نورے نے حیرت سے اسے دیکھا۔”بالکل بھی نہیں اٹھو اور خود اپنے ان پیروں پر چل کر آؤ بھولو مت تم میرے باپ کے قتل کے بدلے خون بہا میں آئی ہو نرمی کی امید مت رکھنا مجھ سے” اسے کہتا وہ دوائیوں کا شاپر لئے اسکے روم سے نکل گیا جبکہ اسکے جاتے ہی نورے نے کڑوا سا منہ بنایا تھا۔حویلی میں واپس جانے کا خیال ہی اسکا حلق کڑوا کر گئے تھے ۔۔”کیا ضرورت تھی آج کے آج ڈسچارج کرنے کی دو سے تین تو روکنا تھا نا۔۔۔”وہ ڈاکٹر کے فیصلے سے بالکل بھی خوش نہیں تھی۔۔ اسکی طبعیت عجیب سی ہو رہی تھی کمزوری حد سے زیادہ لگ رہی تھی۔۔ اٹھنے کا سوچ کر ہی وہ کوفت زدہ ہوئی تھی ۔۔”چلو نورے بیگم ۔۔۔ واپس سے اس قید میں” بیڈ کا کارنر پکڑے وہ بمشکل کھڑی ہوئی تھی کہ اسکا سر بری طرح چکرایا تھا اگر وہ بروقت بیڈ کو نا تھامتی تو اب تک گر چکی ہوتی۔۔۔”آپ ٹھیک ہیں؟ کیا میں آپ کی مدد کروں؟” کمرے میں آتی نرس اسے لڑکھڑاتے دیکھ بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی۔۔”آپ ٹھیک ہیں نا؟””میرا سر گھوم رہا ہے””دوائیوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے آپ بھرپور نیند لیں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔” نرس کی بات پر اس نے گہرا سانس بھرا جس جگہ وہ جا رہی تھی اسے دیکھ لگ نہیں رہا تھا وہ سکون کا سانس بھی لے سکے گی سونا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔”کیا ہوا۔۔ اگر آپ کو مدد چاہیے تو میں آپ کو باہر گاڑی تک چھوڑ دیتی ہوں”نرس کی آفر اسے اس وقت غنیمت لگی تھی جاذب سے وہ کسی اچھائی کی امید نہیں رکھتی تھی۔۔”آپ ننگے پیر کیوں ہیں ؟ “نرس نے حیرت سے اسے ننگے پیر دیکھا تو پوچھے بغیر نہیں رہ سکی۔۔”جو مجھے یہاں لے کر آئے تھے ان کے ہاتھوں میں درد تھا اس لئے وہ میری چپل نہیں اٹھا کر لائے اور ہاسپٹل کی جانب سے دی گئی چپل ناجانے کہاں چلے گئی” اسکے منہ بسور کر کہنے پر نرس ہولے سے مسکرائی۔”ایسی کوئی ٹینشن کی بات نہیں ہے میں آپ کو نیو چپل دے دیتی ہوں”اسے کہتے وہ باہر بڑھی تھی جبکہ نورے دو اس نرس کے اتنے اچھے رویے پر حیران تھی ورنہ وہ نرس ڈیوٹی پر تھی اتنی خرانٹ تھی کہ نورے نے اسے فیمل جاذب شاہ کا خطاب دے دیا تھا ۔۔۔کچھ منٹوں بعد وہ نرس واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں چپل تھی۔نورے اسکی مشکور ہوئی تھی جو اب اسے سہارا دئیے باہر تک لائی جہاں سامنے جاذب شاہ کی گاڑی موجود تھی ۔۔”آپ کا بہت بہت شکریہ” وہ واقعی نرس کی شکر گزار تھی ورنہ دو منزل کیسے وہ خود سے اتر کر آتی۔۔”یہ تو میرا فرض تھا” جاذب شاہ کی جانب مسکراتی نظروں سے دیکھتے وہ نرمی سے کہتے نورے کو عجیب سے احساس سے دوچار کرگئی۔۔نرس کا بار بار جاذب شاہ کو دیکھنا اسکی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔”بیٹھو بھی اب کیا پیروں میں گلو لگ گئی ہے!” جاذب کی ناگواری سے بھرپور آواز پر نورے کے ماتھے پر بل پڑے۔۔”میرا تو بتا نہیں خود اپنے منہ میں ایندھن لئے گھومتا ہے یہ انسان”غصے سے بڑبڑاتے وہ گاڑی کھول کر پیچھے بیٹھی جب اچانک تیز بجتے ہارن نے اسے بری طرح خوفزدہ کیا تھا۔۔۔”یا خدا۔۔۔۔ جاذب شاہ ۔۔ تم پاگل ہو کیا بھنگ پی کر بیٹھے ہو””زبان سنبھال کر بات کرو لڑکی اور آگے آ کر بیٹھو ڈرائیور نہیں ہوں تمہارا میں” وہ اس سے زیادہ گندے لہجے میں بولا تھا۔”تو یہ بات تم تمیز سے بھی کہہ سکتے تھے “گاڑی سے نکلتے اس نے پوری طاقت سے دروازہبند کرتے اپنے لئے آگے کا دروازہ کھولا تھا۔۔اس وقت اسکا بحث کرنے کا بالکل بھی موڈ نہیں تھا وہ بس سونا چاہتی تھی۔۔اسکے بیٹھتے ہی ایک جھٹکے سے گاڑی اسٹارٹ ہوئی تھی اور جس طرح جاذب شاہ نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی ہوئی تھی نورے کو واپس حویلی زندہ پہنچنا مشکل لگا تھا۔۔”گاڑی سلو کرو جاذب شاہ ۔۔۔ “”میں ایسے ہی گاڑی چلاتا ہوں ” ایک نظر اسے دیکھ وہ مسکرایا جو دروازے سے بالکل چپک کر بیٹھی تھی۔۔”ہاں تو چلاؤ مگر مجھے یہاں اتار دو مجھے مرنے کا شوق نہیں اور تمہارے ہاتھوں مرنے کا تو بالکل بھی نہیں”اس کی بات پر جاذب نے گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر گاڑی ایک جھٹکے سے مڑی۔۔۔ اسپیڈ اتنی تیز تھی کہ نورے اپنی جگہ سے اچھلتے جاذب کی طرف گری تھی۔۔”جاذب ” اسکا بازو دبوچے اس نے کو گرنے سے بچایا تھا۔ ۔”بچ گئیں آج شاید موت نہیں لکھی تمہاری” چہرے پر مسکراہٹ سجائے کہتا وہ نورے کو آگ لگا گیا۔”جب بھی لکھی ہے مگر تمہارے ہاتھوں نہیں لکھی تمہارے ہاتھوں سے مرنے سے بہتر ہے میں زہر کھا کر مر جاؤں ” اسکا بازو چھوڑتے وہ واپس سے پیچھے ہو کر بیٹھی تھی۔۔اس شخص نے اسکی حالت کا بھی خیال نہیں کیا تھا۔۔چہرہ غصے سے شدت سے لال سرخ ہو رہا تھا جسے چھپانے کی خاطر نورے نے کھڑکی کی جانب اپنا منہ کیا۔۔______________
گاڑی پورچ میں روکتے ہی مامون تیزی سے گاڑی سے اترتے اسکی جانب آیا اور اسے گاڑی سے اترنے میں مدد کرنے لگا ۔۔شہرے نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا یہ شخص کچھ دن پہلے تک اس کی جان کا دشمن بنا ہوا تھا اور اب اچانک اتنا اچھا ۔۔شہرے کو سمجھ نہیں آرہا تھا اسکے کون سے روپ پر یقین کرے۔۔۔”دھیان سے لٹل گرل” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے اندر لایا ۔۔شہرے نے ایک نظر سامنے دیکھا اور پھر اچانک اسکا وجود ہوا میں تھا۔”ڈیول۔۔۔۔” مضبوطی سے مامون کا کالر پکڑے وہ چلائی کیونکہ وہ اس وقت مامون کی بانہوں میں تھیں۔سارے ملازموں کی موجودگی میں مامون کی حرکت پر اسکا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا۔۔۔”آر یو بلشنگ لٹل گرل؟”مامون نے اشتیاق سے اسکے چہرے کے بدلتے رنگ کو دیکھا تھا۔”مجھے نیچے اتارو ڈیول میں گر جاؤں گی””میں نہیں گرنے دوں گا یار” اسکو مزید مضبوط گرفت میں لیتا وہ پیر کی ٹھوکر سے دروازہ کھول اندر اپنے کمرے میں داخل ہوا اور اسے لے جا کر بیڈ پر لٹایا۔۔”تھوڑا ریسٹ کرو پھر میں کچھ کھانے کو بھیجتا ہوں” اسکے اوپر بلینکٹ ٹھیک کرتا وہ جانے کو مڑا تھا جب اسکے قدم شہرے کی آواز نے روکے۔۔”مجھ سے بدلہ لینے کے لئے اغوا کیا تھا نا تو اب سزا دو اور مجھے جانے دو ڈیول۔۔۔””آرام کرو لٹل گرل زیادہ بولنا صحت کے لئے ٹھیک نہیں ہے ” چہرے کے تاثرات بالکل نارمل تھے مگر اسکے لفظوں کی سختی ۔۔ شہرے نے بلینکٹ مٹھیوں میں جکڑا ۔اسے بس یہاں سے جانا تھا کہاں وہ نہیں جانتی تھی مگر مامون کے ساتھ وہ اس ایک گھر اور ایک کمرے میں رہنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔”نہیں شہرے۔۔ یہ اس انسان کی ٹرک ہے اچھا بننے کی ایکٹنگ ہے اس کی ایکٹنگ میں نہیں آنا ہے یہ دشمن ہے شہرے ” وہ بار بار خود کو باور کروا رہی تھی۔۔کچھ دیر بعد ملازمہ کھانا لے کر آئی جسے اس نے بے دلی سے کھایا تھا نہیں کھاتی تو مامون با ذات خود یہاں موجود ہوتا ۔”سنو؟” ملازمہ جو واپس پلٹ رہی تھی شہرے کی پکار رکی۔ ۔”یس میم ؟””مامون کہاں ہیں؟””سر اسٹڈی میں ہیں ان کی میٹنگ چل رہی ہے”شہرے کی وجہ سے وہ گھر میں ہی رہ کر سارے کام کر رہا تھا۔۔سارے ملازمین جا چکے تھے جو ایک دو تھے وہ بھی اپنے کواٹر میں جانے والے تھے ۔۔راستہ صاف تھا یہ سوچتے ہی وہ مسکرائی تھی۔۔سب سے اہم یہاں سے بھاگنا تھا۔اپنے زخموں کی پرواہ کئے بغیر وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور پاس رکھی ہڈی پہنی۔۔آس پاس نظریں دوڑائے اس نے دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔۔ جہاں کوئی نہیں تھا راستہ کلئیر تھا سکون کا سانس لیتے اس نے کمرے سے نکلتے سیڑھیوں کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔وہ ایک ایک قدم بھی بہت دھیان سے رکھ رہی تھی زرا سی غلطی اور آزادی کی راہیں بند ۔زخم میں درد ہونے کے باوجود وہ ریلنگ تھامے سیڑھیاں اترتے نیچے آئی اب بس اسے سامنے موجود گیٹ عبور کرنا تھا اور وہ آزاد۔۔آزادی کا سوچتے ہی وہ کھل کر مسکرائی۔۔۔آہستہ سے قدم بڑھاتے اس نے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا تھا۔۔”کہاں جا رہی ہو لٹل گرل” ڈور ناب پر رکھا اسکا ہاتھ ساکت ہوا تھا اور وہ خود بھی۔۔۔”کہاں جانے کی تیاری ہو رہی یے؟” ایک اور سوال شہرے نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا ڈر تھا کہ پیچھے مڑ کر دیکھے گی تو پتھر کی ہو جائے گی۔۔”میں کیا کہا تھا ۔۔۔؟ مجھ سے چالاکی مت کرنا مگر””ہاں کی میں نے چلاکی مجھے جانا ہے یہاں سے ڈیول مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ تم اچھے نہیں ہو ” غصے سے اسکی جانب مڑتے وہ چلائی ۔۔مامون کے ماتھے کر بل پڑے تھے جبکہ چہرے پر ناگواری بھرا تاثر ابھرا۔۔”بالکل ٹھیک کہا ہوں میں ایک ڈیول۔۔ اور جانتی ہو ڈیول کیا کرتے ہیں ؟ ” اسکا بازو تھامے مامون نے اسے جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔۔۔شہرے کی آنکھیں خوف سے پھیلی تھیں۔۔”میں بتاتا ہوں ڈیول کیا کرتے ہیں میں نے کہا تھا نا میرے ساتھ گیم مت کرنا ورنہ سزا تمہاری ماں کو ملے گی؟””نہیں ڈیول نہیں امی کو نہیں ” اسکے باقی کے لفظ مامون نے اپنے ہاتھوں سے روکے تھے۔اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے وہ اب ایک نمبر ملاتے فون کان سے لگا گیا۔”ہیلو اسٹیو۔۔۔ شہرے کی مدر کی شاہ تباہ کروا دو اور ہاں جتنے قرض دار ہیں انہیں میڈم عائلہ کے پیچھے چھوڑ دو اور ہاں ان پر اتنے جھوٹے کیسزز کرو کے وہ ساری عمر عدالت کے چکر کاٹتی رہ جائیں”جیسے جیسے مامون کہتا جا رہا تھا ویسے ویسے شہرے کی آنکھیں حیرت و خوف سے پھیل رہی تھیں گردن جو نا میں حرکت دیتے وہ مامون کو روکنا چاہتی تھی۔۔”کچھ کہنا چاہتی ہو ؟” اسکے پوچھنے پر شہرے کا سر فوراً سے ہاں میں ہلا ۔۔”ایک منٹ اسٹیو” فون کان سے ہٹاتے اس نے اپنا ہاتھ شہرے کے ہونٹوں پر سے ہٹایا۔۔”ڈیول پلیز ڈونٹ ڈو دس۔ آئی پرامس میں اب بالکل بھی کچھ نہیں کروں گی تم جو کہو گے میں کروں گی۔۔ میں یہاں سے بھاگوں گی بھی نہیں پلیز میری فیملی کو کچھ مت کرنا””یہ سب میں پہلے بھی سن چکا ہوں لٹل برڈ “وہ جیسے بور ہوا تھا اسکے لفظوں سے۔۔شہرے نے گہرا سانس بھر کر اسے دیکھا ساری زندگی اس نے اپنی ماں کو اپنی وجہ سے روتے دیکھا تھا اب اور انہیں اپنی وجہ سے پریشان کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی”آئی پرامس ڈیول۔۔۔ میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی “”میں کیسے مان لوں””اب اگر ایسا کروں تو جو مرضی کرنا اور مجھے بھی سزا دینا بس میری فیملی کو کچھ مت کرنا پلیز ” اسکا بازو تھامے وہ ریکوسٹ کر رہی تھی۔۔مامون نے ایک نظر بس ایک نظر اسے دیکھا۔۔”سوچ لو لٹل گرل ۔۔۔ میری قید میں آنے کے بعد موت کی صورت رہائی ملے گی””مجھے منظور ہے ” وہ ہر چیز پر راضی تھی بس اسکی ماں محفوظ رہنی چاہئے تھی۔۔مامون نے تاسف سے اس لڑکی کو دیکھا جو ایک ایسی عورت کے لئے رو رہی تھی کچھ بھی کرنے کو تیار تھی جو اسکی زندگی کا سب سے بڑا سچ اس سے چھپائے اسے آج تک اذیت دیتی رہی تھی۔۔۔”ٹھیک ہے مگر یہ لاسٹ چانس” اسے کہتا وہ اسٹیو کو منع کرتے موبائل جیب میں ڈالتا اسکا ہاتھ تھامے واپساوپر کی جانب بڑھا۔۔۔آج شہرے نے مامون شیرازی سے ایک وعدہ کیا تھا اور یہ وعدہ اسے ہر حال میں نبھانا تھا۔۔____________
مضطرب سی بیٹھی وہ اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی کل اس نے شائستہ بیگم کو ضوریز سے شادی کے لئے ہاں کہا تھا اور کل رات کی ضوریز کا اسے میسج موصول ہوا تھا وہ اس سے ملنا چاہتا تھا ۔وہ جانتی تھی وہ شخص اسے پسند نہیں کرتا مگر راحیل سے شادی کرنے سے بہتر تھا وہ کسی سے بھی شادی کرلیتی ۔۔۔ اگر اسکے پاس کوئی دوسرا آپشن ہوتا اسکے پاس صرف ضوریز کا ہی آپشن تھا ۔۔۔اور اس نے وہی کیا جو اسے ٹھیک لگا ۔”مس آپ کو سر اندر بلا رہے ہیں”ریسپششنسٹ کے بتانے پر وہ گہرا سانس بھر خود کو ریلکس کرتے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔اندر جانے سے پہلے اس نے سارے سوچے ہوئے لفظوں کو ایک بار پھر سے دماغ میں دھرایا۔۔۔”عمائم۔۔۔ بی بریو” خود کو کہتے اس نے ایک آخری بار گہرا سانس بھرا اور پھر ہولے سے دروازہ ناک کیا ۔۔ پہلی ہی ناک کے بعد اسے ضوریز کی آواز آئی۔۔چہرے پر آیا نادیدہ پسینہ صاف کرتے اس نے آفس کے اندر قدم رکھا ۔اے سی ٹھنڈک بھی اس پر اثر نہیں کر رہی تھی۔۔ضوریز نے سر اٹھائے اسے دیکھا جو اس وقت پرنٹڈ لان کی سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی جس پر رنگ برنگے پھول موجود تھے اس کے ساتھ ہی سفید شلوار اور پھولوں کے ہمرنگ دوپٹہ سر پر اوڑھے میک سے پاک چہرہ لئے وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔”بیٹھیں”اجازت ملتے ہی وہ آہستہ سے ضوریز کے سامنے والی چئیر پر ٹکی تھی۔۔اسے اپنی ساری بدتمیزیاں ایک ساتھ یاد آئیں تو زندگی میں پہلی بار اسے اپنے منہ پھٹ ہونے پر افسوس ہوا تھا ۔”کیا لیں گی چائے کافی یا کچھ ٹھنڈا؟” وہ اتنا پرسکون کیسے تھا۔۔۔؟ عمائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔”کچھ نہیں””کچھ لے لیں مس عمائم۔۔ آپ کو ضرورت لگ رہی ہے۔۔ ویسے انسان کو ایسے فیصلے نہیں کرنے چاہیے جو چہرے کی رنگت ہی اڑا دیں۔” اسکی اڑی رنگت پر چوٹ کرتا وہ اسے پہلو بدلنے پر مجبور کرگیا۔۔”آپ نے مجھے جس وجہ سے بلایا ہے کیا ہم اس پر بات کریں ؟”ضوریز کی بات کو نظر انداز کرتے وہ سیدھا مطلب کی بات کر آئی۔۔”لگتا ہے آپ کو بہت جلدی ہے”ایک اور طنز۔”دیکھیں ضوریز صاحب طنز کرنے سے بہتر ہے آپ کام کی بات کریں “”کیوں شادی کرنا چاہتی ہیں آپ مجھ سے ؟ میری دولت” اسے پہلے وہ کچھ کہتا ہاتھ اٹھاتے عمائم اسے کچھ بھی کہنے سے روک گئی۔۔۔ضوریز نے ناگواری سے اسے دیکھا یوں ٹوکے جانا اسے پسند نہیں آیا تھا۔۔”میں کچھ باتیں کلئیر کردوں۔۔ پہلی بات مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے دوسری بات مجھے آپ کی دولت سے کوئی غرض نہیں ہے اور تیسری بات۔۔ میرا آپ کے گھر اور آپ کے بیٹے پر کو قبضے میں لینے کا کوئی شوق نہیں ہے اس لئے مطلب کا سوال کیجئے گا””جب اتنا بتا دیا ہے تو شادی کرنے کا جواز بھی بتا دیں””شائستہ آنٹی نے مجھے ایک آفر کی جسے میں انکار کرنے والی تھی مگر میری امی میری شادی میرے کزن سے کرنا چاہتی ہیں جس کی نظریں میرے نام ہوئی جائداد پر ہے جو شادی کے بعد میرے نام ٹرانسفر ہوگی ۔۔ میں اسکے علاؤہ کسی سے بھی شادی کرسکتی ہوں مگر مجبوری یہ ہے کہ میں ابھی کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتی “”تو آپ مجھ پر بھروسہ کرتی ہیں؟”.اتنی طویل بات پر اس نے اپنی پسند کا جملہ پکڑا تھا ۔۔عمائم نے منہ سڑا کر اسے دیکھا۔۔”میں شائستہ آنٹی پر بھروسہ کرتی ہوں ۔۔ اور رہی بات شادی کی تو آپ چاہیں تو اسے کانٹریکٹ میرج سمجھ سکتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں””کتنے ناول پڑھیں ہیں ؟ کانٹریکٹ میرج کے بارے میں کتنا جانتی ہیں؟”اسکے سوال پر عمائم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔”دیکھیں مس عمائم۔۔۔ میں ایک کھرا انسان ہوں رشتوں کو کاغذوں پر نہیں تولتا۔۔ آپ کی مجبوری ہے مجھ سے شادی کرنا کیونکہ آپ اپنے کزن سے شادی نہیں کرنا چاہتیں اور میری مجبوری ہے میرا بیٹا اور میری ماں۔۔۔۔۔ میں کانٹریکٹ میرج کرکے اپنی ماں کو خود سے ناراض نہیں کرسکتا ۔۔ شادی شرعی طریقے سے ہوگی ہاں البتہ ہمارے درمیان بس زارون کے ماں باپ جتنا رشتہ ہوگا اور اگر آپ چاہیں تو”.”مجھے منظور ہے ” اسکی اگلی بات سنے بغیر وہ فٹ سے بولی تھی۔۔ضوریز نے سمجھ کر سر ہلایا۔۔”ضوریز صاحب”اچانک کچھ یاد آنے پر اس نے ضوریز کو پکارا۔۔”ہمم؟””کیا میں آپ سے ایک ریکوسٹ کر سکتی ہوں ؟”اسکی بات پر ضوریز نے ناسمجھی سے اسے دیکھ کر سر ہلایا جو اب اسے ناجانے کیا کہہ رہی تھی جسے سن ضوریز کے تاثرات سخت ہوتے جا رہے تھے۔۔___________
خود کو چادر سے کور کئے وہ دونوں اس پیزا ہٹ کے سب سے آخری سرے پر بیٹھی تھیں۔۔”افف زری۔۔ اتنا پردہ کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے؟””میں پردہ نہیں کر رہی مگر وہ سامنے سیٹ پر بیٹھا شخص مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا ۔۔”اسکی بات پر تابندہ نے بہانے سے گردن موڑ کر اس جانب تھا جہاں موجود اس لڑکی کی نگاہوں کا مرکز زرمینہ تھی اور وہ شخص اتنا ڈھیٹ تھا کہ تابندہ کے دیکھنے پر بھی اس نے نگاہوں کا زاویہ نہیں بدلا تھا۔۔”تابی مجھے وحشت سی ہو رہی ہے پلیز یہاں سے چلتے ہیں میں کوئی تماشہ نہیں چاہتی ۔۔۔ ” تابندہ کا ہاتھ تھامے وہ پریشانی سے کہہ رہی تھی تابندہ کا دل کیا اس لڑکے کا منہ توڑ دے مگر اس وقت زری خوفزدہ سی تھی اسکا ہونا بنتا بھی تھا۔۔خاموشی سے بل دئیے وہ دونوں وہاں سے نکلی تھیں اور ان کے جاتے ہی وہ لڑکا مسکراتے فون کان سے لگا گیا۔۔”شاہوں کو خفیہ خزانہ مل گیا ہے آگے کا کیا حکم ہے ؟”خباثت سے کہتا وہ اب دوسری جانب دئیے جانے کا حکم سن رہا تھا۔۔”ہو جائے گا کام”کہتے ساتھ وہ فون بند کرکے باہر کی جانب بڑھا تھا مگر باہر آتے ہی اسے وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔۔_______”ایسے ڈر ڈر کر رہو گی تو کیسے چلے گا زری؟”تابندہ نے تاسف سے اسے دیکھا جو اپنا بیگ پیک کر رہی تھی۔۔”مجھے بہادر نہیں بننا تابی میں ایسے ہی ٹھیک ہوں””پاگل ہو تم۔۔ تمہارے اسی ڈرنے کی وجہ سے باقی سب تم پر حاوی ہوگئے ہیں قصوروار نا ہو کر بھی تمہیں قصوروار کہتے ہیں اور تم چپ رہتی ہو” تابندہ ایک بار پھر شروع ہوگئی تھی۔۔”میں ایسی ہی ہوں تابی۔۔ میری وکالت کرنے کے لئے نا میرا باپ زندہ ہے اور نا ۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔۔ وجہ اسکا موبائل تھا جاذب کا میسج تھا۔۔وہ اسے جلال کے آنے کی خبر دے رہا تھا۔۔”کل صبح میں یہاں سے چلی جاؤں گی اپنا خیال رکھنا ” تابندہ کے گلے وہ ایموشنل ہو رہی تھی اگر وہ نا ہوتی تو کیسے وہ اکیلے یہاں گزارہ کرتی۔۔”اچھا اب رونا مت” خود سے الگ کرتے تابندہ مسکرائی۔۔ہولے سے مسکراتے وہ خود بھی اپنا کام کرنے لگی یہ جانے بغیر کے آنے والا وقت اپنے اندر کتنے طوفان سمیٹے ہوئے ہے۔۔۔جاری ہے
گاڑی حویلی کے احاطے میں رکی تھی۔۔گاڑی سے اترتے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ وہ خود گاڑی سے اترتے باہر آئی۔۔”چلو اب کیا الگ سے دعوت نامہ دوں ؟”دل تو تھا کوئی کرارہ سا جواب دیتی مگر ابھی ہمت نہیں تھی۔۔آہستہ سے قدم اٹھاتے وہ جاذب تک پہنچی تھی۔۔”زبان جتنی تیز چلتی ہے اتنی تیزی قدموں میں لے آؤ تو زیادہ اچھا ۔” افف یہ شخص اور اسکی زبان۔نورے نے بڑی مشکل سے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا تھا۔اسے لئے وہ اندر آیا جہاں سب لاونج میں موجود تھے ۔”جاذب سب خیریت ہے ؟” نجمہ بیگم سب سے پہلے ان تک پہنچی تھیں۔۔لیکن سوال اسکے بجائے جاذب سے کیا۔۔”سب ٹھیک ہے آپ پریشان مت ہوں ۔ ۔ انابیہ اسے میرے کمرے میں لے کر جاؤ”جاذب کے انابیہ کو بولنے پر سب سے پہلے کشور بیگم اور ردابہ کے کان کھڑے ہوئے تھے۔۔”کون سی نئی روایات قائم کرنا چاہتے ہیں جاذب صاحب؟ کیا آپ بھول گئے ہیں خون بہا میں آئی لڑکیوں کا ٹھکانہ کہاں ہوتا ہے؟”نورے نے ترچھی نگاہوں سے کشور بیگم کو دیکھا جو صبح سے اسکی دشمن بنی بیٹھی تھیں۔۔”آپ کیوں مجھے بار بار چیزیں باور کرواتی ہیں کیا آپ کو لگتا ہے میں بیوقوف ہوں؟””لگتا کیا ہے ہو “منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے نورے نے جازب کو دیکھا جو ناگواری سے اپنی پھپھو کو دیکھ رہا تھا۔”تم یہاں کیوں کھڑی ہو کیا کم سنائی دیتا ہے جاؤ اوپر ” اچانک ہی اسکا رخ کشور بیگم کی جانب سے ہٹ کر اسکی جانب ہوا تھا احساس توہین سے نورے کا چہرہ سرخ ہوا اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں جاذب کا انداز اسے بری طرح ہرٹ کر گیا تھا۔۔”جا رہی ہوں مجھے بھی کوئی شوق نہیں تمہارے اس فیملی ڈرامے کا حصہ بننے میں” تڑخ کر جواب دیتی وہ اوپر بڑھی تھی”کمرے کا پتا ہے جو خود سے نکل گئی ہو سیر پر؟”سب کے سامنے اسکا بدتمیز انداز جاذب شاہ کو کھولا کر رکھ گیا تھا۔۔”یہ گھر میرے لئے قید ہے اور جہنم جیسا ہے کہیں بھی جا کر مر جاؤں گی کیا فرق پڑتا ہے”وہ جوابی حملے کے لئے تیار تھی مگر اس سے پہلے ہی انابیہ تیزی سے اسکے پاس آتی اسکا ہاتھ تھام گئی۔۔”میں چلتی ہوں نا آپ کے ساتھ بھائی نے مجھے بولا تھا” اس سے پہلے وہ کچھ کہتی انابیہ نے سختی سے اسکا ہاتھ تھام اوپر کا رخ کیا تھا۔جاذب نے گہری نظروں سے اسے اوپر جاتے دیکھا۔”یہ دیکھو تمہاری نرمی کی وجہ سے کیسی قینچی جیسی زبان چل رہی ہے اس لڑکی کی اور تم اسی اس حویلی میں رکھنا چاہتے ہو ؟””آپا جازب ابھی آیا ہے اسے آرام کرنے دیں پہلے” نجمہ بیگم کی بات پر کشور بیگم نے اپنا رخ ان کی جانب کیا۔۔”یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے نجمہ ۔۔۔
تمہاری نرمی نے ہر چیز برباد کردی اب خدا کے لئے دشمنوں کی بیٹی سے نرمی پر برتنا””اور آپ کون ہوتی ہیں میری ماں کو یہ بات کہنے والی “؟ماتھے پر ناگواری بھری شکنیں لئے وہ نجمہ بیگم کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا۔۔”دیکھو جاذب میں یہاں کوئی تماشہ کرنے نہیں آئی ہوں میں یہاں اپنے بھائی کی برسی کے لئے آئی ہوں تم لوگ شاید بھول گئے ہو میں کچھ نہیں بھولی میں اپنے بھائی کی قاتل کی وجہ بننے والوں کو بھی کبھی معاف نہیں کروں گی”ان کا اشارہ کس طرف تھا وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا ۔”آپ””بس کرو جاذب۔۔ ابھی باہر سے آئے ہو بیٹا جاؤ روم میں فریش ہوجاؤں پھر سب کھانا کھاتے ہیں”سکینہ بیگم کے ٹوکنے پر وہ سر ہلاتا اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔______________انابیہ اسے چھوڑ کر جانے سے پہلے اپنا ایک سوٹ اسے دے کر گئی تھی۔پورے دن کے بعد اب وہ تھوڑا سکون میں آتی سب سے پہلے شاور لینے گئی تھی۔۔ٹھنڈے پانی سے شاور نے اسکو سکون پہنچایا تھا۔انابیہ کے کپڑے اسکے بالکل ٹھیک آئے تھے۔اسکا ارادہ اب نیند لینے کا تھا جو خواری اسکے نصیب میں لکھی تھی اسکے لئے اسے ہمت چاہیے تھی۔۔اس سے پہلے وہ اپنے ارادے پر عمل کرتی کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور جاذب شاہ کا چہرہ نمودار ہوا تھا۔کمرے میں آتے جاذب کے قدم اسے دیکھ تھمے تھے۔۔سیاہ لباس میں وہ بنا دوپٹے کے گیلے کھلے بالوں کے ساتھ اسکے سامنے کھڑی تھی ۔کہ اس پر سے نگاہیں ہٹانا مشکل تھا۔۔”یہ کیا طریقہ ہے آنے کا انسان ناک بھی کرسکتا ہے” اسکی نگاہوں کی تپش سے پگھلتے نورے نے جھٹ سے پاس پڑا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھا۔۔اسکی یہ حرکت جاذب شاہ کو ناگوار گزری تھی۔۔”یہ میرا کمرہ ہے میری مرضی میں کیسے بھی آؤں””مگر میں بھی اب اس کمرے میں موجود ہوں تو ” اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی جاذب ایک جست میں اس تک پہنچتا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کر گیا۔۔اس اچانک قربت پر نورے نے جاذب کے سینے پر ہاتھ رکھ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی جسے وہ ناکام بناتا اسکے ہونٹوں کو نشانہ بنا گیا تھا۔۔۔پھیلی آنکھوں کے ساتھ وہ جاذب کے سینے کر ہاتھ مارتے اسے خود سے دور کرنی کی کوشش کر رہی تھی مگر جتنا وہ اس سے دور جانا چاہتی تھی اتنا ہی وہ اسکی کوشش ناکام بناتا اپنے لمس میں شدت لاتا جا رہا تھا۔۔اسکے شدت بھرے لمس سے نورے کی آنکھیں بھیگی تھیں۔۔جب جاذب کا لگا وہ اب مزید سانس نہیں لے سکے گی تب اس نے نورے کی سانسوں کو رہائی بخشی۔۔اسکی قید سے آزاد ہوتے ہی اسکے قدم لڑکھڑائے تھے۔۔”اتنے سے میں ہی بس ہوگئی ؟” تمسخر سے کہتا وہ نورے کو اس وقت زہر سے بھی برا لگا تھا۔۔اسکے سینے پر ہاتھ مار اسے پیچھے دھکیلتے وہ بھاگ کر ڈریسنگ روم میں بند ہوئی تھی۔۔اپنے ہونٹوں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑتے وہ زمین پر بیٹھتی چلے گئی تھی ۔______________
رات کی سیاہی چاروں سو پھیلنے لگی تھی جب جلال اجمل کی گاڑی کی شہر کی حدود میں داخل ہوئی تھی۔گھڑی شام کے سات بجا رہی تھی مگر سیاہی آسمان پر چھا چکی تھی ۔طویل سفر کے بعد بالآخر وہ ہاسٹل کے باہر کھڑا تھا۔انہیں واپس نکلنا تھا اسے کل جلسے کی تیاریاں دیکھنی تھی اس لئے گاڑی سے اتر کر وہ سیدھا ہاسٹل کے اندر آیا تھا تاکہ زرمینہ کو بلا سکے۔۔وہ چھ سال بعد یہاں آیا تھا۔۔ اس دوران اس نے ایک بار بھی زرمینہ کو نہیں دیکھا تھا۔۔ویٹنگ روم کے صوفے پر بیٹھا وہ موبائل پر ساری چیزیں چیک کر رہا تھا جب دروازہ کھلا اور ایک نازک وجود اندر آیا۔۔”اسلام وعلیکم جلال بھائی”سلام پر جلال نے سر اٹھائے اسے دیکھا جو چادر سے خود کو کور کئے ہاتھ میں بریف کیس اور بیگ لئے کھڑی تھی۔۔”وعلیکم السلام ۔۔۔ چلیں؟” اپنی جگہ سے اٹھتا وہ بہت فارمل انداز میں کہتا اسکا بیگ لینے لگا۔۔۔زرمینہ کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔ وہ بچپن میں اسکے ساتھ اچھا تھا مگر اب جب ملا تو اسکا رویہ کتنا سرد تھا۔۔بنا کچھ کہے وہ اسکے پیچھے چلتی گاڑی میں آ بیٹھی۔۔۔جلال نے اسکے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور وہ بنا کچھ بولے خاموشی سے بیٹھ بھی گئی تھی۔۔”بھائی کیسے ہیں جلال بھائی ؟””ٹھیک ہیں””اور آپ ؟” کتنے وقت بات شناسا چہرہ دیکھنے کو ملا تھا اسکا دل کیا وہ بات کرے۔”ٹھیک” ایک لفظی جواب دیتے وہ گاڑی اسٹارٹ کرگیا۔۔”کیا آپ “”مجھے ڈرائیونگ کرنے دیں زرمینہ بی بی” اچانک ہی جلال کی سرد آواز پر زرمینہ سے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچے۔۔۔ وہ کیسے بھول جاتی تھی اپنی حیثیت احساس توہین سے لال چہرہ لئے اس نے کھڑکی کی جانب رکھ کرلیا۔۔”طویل سفر ہے یہاں آگے ہوٹل ہے کچھ چاہیے ؟” ناجانے کتنے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی میں جلال کی آواز گونجی ۔۔”نہیں” ایک لفظی جواب دیتے وہ واپس سے اپنے پرانے مشغلے میں مصروف ہوئی تھی۔۔حویلی واپس جانا اسکے لئے ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا مگر وہ خواب اب حقیقت بن کر اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔سالوں پہلے جب وہ حویلی سے نکلی تھی تب اسکا دل ٹوٹا ہوا تھا روح تک زخمی تھی اسے وہاں کے لوگوں کے رویے نے توڑ کر رکھ دیا تھا اور اب وہ ایک بار پھر خود کو توڑنے جا رہی تھی۔۔وہ جانتی تھی وہ سونے کی بھی بنی ہوتی تب بھی حویلی والے کبھی اسے قبول نہیں کرتے وجہ یہ نہیں تھی اسکے ساتھ لگا عمر شاہ کا نام بھی اسکے دامن پر لگے اس ایک دھبے کو صاف کرنے میں ناکام رہا تھا ۔_____________
ٹھنڈی ہوا اسے سکون سا بخش رہی تھی اس پورے عرصے کے دوران پہلی بار وہ خود کو ریلکس فیل کر رہی تھی۔۔اسکے زخم اب بھرنے لگے تھے اس دن کے بعد سے اس نے فرار کی ساری کوششیں ختم کردی تھیں۔۔وہ جانتی تھی وہ کبھی مامون شیرازی کی اس قید سے نہیں رہا ہوسکتی ۔۔وہ شخص اسے خود سے دور جانے ہی نہیں دینے چاہتا تھا نا وہ اس سے بدلہ لے رہا تھا نا وہ اسے کوئی سزا دے رہا تھا بلکہ اسکا رویہ آج کل حد سے زیادہ ہی اچھا ہوگیا تھا۔۔”فروٹس کھاؤ تاکہ طاقت آئے لٹل گرل ” مامون کی آواز پر شہرے نے سامنے منظر سے نظریں ہٹائے اسکو دیکھا جو فروٹ ٹیبل پر رکھتا ایسے پاس بیٹھتے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں قید کرگیا۔۔”کیوں اتنا اچھا بن رہے ہو ڈیول؟”اسکی نگاہیں مامون کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔”میں نے ایسی کوشش کب کی مسزز ڈیول؟”دایاں آئی برو اوپر کو اٹھائے اس نے اسٹرابیری اٹھا کر منہ میں ڈالی۔۔”دیکھو ڈیول” تھورا سا آگے ہوتے شہرے نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔۔”میں دیکھ رہا ہوں” اسکے حسین چہرے کو نگاہوں میں بھرے وہ مخمور لہجے میں کہتا شہرے کو بلش کرنے پر مجبور کر گیا ۔”دیکھو ڈیول۔۔ تم نے مجھے اغوا کیا تھا بدلہ لینے کے لئے ۔۔۔ پھر یہ شادی اور اب اتنے اچھے بننا۔۔ دیکھو مجھے ڈائریکٹ زہر دے دو میں کھا لوں گی مگر گڑ میں زہر ملا کر اسکا ذائقہ نا برباد کرو”اسکی مثال پر خاموش فضا میں مامون شیرازی کا قہقہ گونجا۔۔وہ ہنسا اور پھر ہنستا چلا گیا۔۔شہرے نے مہبوت سے انداز میں اسے دیکھا جو سر پیچھے کئے ہنس رہا تھا شہرے کو آج سے پہلے کوئی ہنسی اتنی اچھی نہیں لگی تھی۔”انسان بن شہرے” خود کو جھڑکتے اس نے بمشکل اپنی نگاہیں مامون پر سے ہٹائیں۔۔”یو نو اسکے پیچھے ایک بہت بڑا راز ہے” اپنی ہنسی روکتے وہ مسکراتی نگاہوں سے اسکے چہرے کا طواف کرتے رازداری سے کہتا شہرے کو الجھا گیا۔۔”کیسا راز۔۔۔؟ کون سے راز کی بات کر رہے ہو؟””سب بتا دوں ؟ سیکرٹ نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے “اسکی بات پر اسے مامون کا کچھ دن پہلے کہے جانے والا جملہ یاد آیا تھا وہ کچھ جانتا تھا مگر کیا۔”دیکھو ڈیول۔۔۔ تم جو جانتے ہو مجھے بتاؤ”وہ باضد ہوئی تھی۔۔”سوری ڈارلنگ ” اسکے ہونٹوں کو چھوتے وہ ایک بار پھر اسے بلش کرنے پر مجبور کرگیا ۔شہرے نے فوراً سے اپنا چہرہ اس سے دور کیا تھا۔”اٹھو اب سونے کا ٹائم ہوگیا ہے””مجھے نیند نہیں آرہی””بیڈ پر لیٹنے کے بعد آ جائے گی” بنا اسکی سنے مامون نے اسے بانہوں میں بھرا اور کمرے میں لا کر بیڈ پر لٹایا۔۔”ڈیول مجھے نیند نہیں آرہی” منہ بسور کر کہتے اس نے اٹھنا چاہا مگر دوسری جانب اپنی جگہ بناتے مامون نے اسے اپنے سخت حصار میں لیتے اسکا سر اپنے سینے پر رکھا تھا ۔”مجھے نیند آرہی ہے اور میں چاہتا ہوں میرے سونے سے پہلے لٹل گرل سوجائے تاکہ میں ریلکس ہو سکوں” اپنے بہکتے جذبات کو بمشکل کنٹرول کرتے اس نے شہرے کو خود میں قید کیا اور خود سے سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔مامون کی سانسوں کی تپش شہرے کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی اسکے کلون کی خوشبو ایک سکون سا شہرے کو دے رہی تھی اپنے وجود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے وہ آنکھیں موندے کب نیند کی وادیوں میں اتری اسے پتا نہیں چل سکا۔۔۔___________صبح مامون کی نیند سورج کی روشنی کی وجہ سے کھلی تھی اس نے اپنے سینے پر سر رکھے سوئی شہرے کو دیکھا جو اس وقت گہری نیند میں گم تھی۔۔اسکا سر تکیے پر رکھتے اس نے آہستہ سے جھکتے اسکے ماتھے کو لبوں سے چھوا۔۔اسکے اوپر بلینکٹ برابر کرتا وہ اپنے کپڑے لئے واشروم میں بند ہوا تھا۔۔تھوڑی دیر بعد ہی شہرے کی آنکھ کھلی تھی وہ آج خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔بیڈ کے سہارے سے اٹھتے اس نے کھڑے ہونا چاہا مگر پیر کی چوٹ نے اسے درد سے لڑکھڑانے پر مجبور کیا تھا۔تکلیف سے چیختے وہ واپس بیڈ پر بیٹھی۔۔درد سے برا حال ہوا تھا وہ غلطی سے اپنے زخمی پیر پر دباؤ دے چکی تھی۔۔”شہرے تم ٹھیک ہو کیا ہوا ہے؟” اچانک باتھ روم کا دروازہ کھلا تھا اور مامون تیزی سے اس تک آیا۔”آر یو اوکے؟”اسکا ہاتھ اور چہرہ ٹٹولتے وہ پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا جو ہونق بنی بیٹھی تھی۔۔”میں ٹھیک ہوں””تو چیخی کیوں؟””وہ میرے زخم” اسے کہتے کہتے اچانک شہرے کی زبان کو بریک لگے تھے ۔۔مامون کو شرٹ لیس اپنے سامنے دیکھ اس نے فوراً سے آنکھوں پر ہاتھ رکھا۔۔”شرم نہیں آتی ایسے کسی لڑکی کے سامنے آگئے”؟شہرے کی بات پر مامون نے الجھ کر اسے دیکھا اور پھر اپنے بغیر شرٹ کے وجود کو دیکھ وہ شرارت سے مسکرایا۔۔”ہاں تو تم ایسے چیخیں میں خود کو روک ہی نہیں سکا شکر کرو میں نے صرف شرٹ نہیں پہنی””تم۔۔۔ کتنے چھچھورے ہو ڈیول۔۔۔ تمہیں شرم آنی چاہیے ” آنکھوں پر ہاتھ رکھے اس نے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔”کم آن یار ہم ہسبینڈ وائف ہیں شرما کیوں رہی ہو ریلکس نا یار” اسکا ہاتھ آنکھوں سے ہٹانے کی کوشش کرتا وہ مسلسل مسکرا رہا تھا شیطانی مسکراہٹ۔۔”نہیں تم جاؤ پہلے چینج کرو ۔۔ بالکل شرم نہیں” منہ بسور کر کہتے اس نے اپنا چہرہ تکیے میں چھپایا۔۔”یو آر ٹو مچ لٹل گرل” اسکے بال بکھیرتے وہ ہنستا واپس واشروم کی جانب بڑھا تھا مگر جانے سے پہلے وہ ڈاکٹر کو کال کرنا ہر گز نہیں بھولا تھا۔۔۔__________
کمرے کی فضا اس وقت عجیب سی ہو رہی تھی صوفے پر بیٹھے ضوریز نے ایک طائرانہ نگاہ پورے کمرے پر ڈالی اور پھر سامنے بیٹھے افتخار ماموں کو دیکھا۔۔جو چہرے پر کرخت تاثرات لئے اسکے سامنے بیٹھے تھے ۔۔”بھائی صاحب ہم عمائم کا رشتہ لے کر آئے ہیں تو” اس سے پہلے شائستہ بیگم اپنی بات مکمل کرتیں افتخار ماموں نے ہاتھ اٹھاتے انہیں کچھ بھی بولنے سے روک دیا۔۔ضوریز نے ماتھے پر تیوری چڑھائے ان کا یہ انداز دیکھا۔۔”شاید عابدہ نے آپ کو بتایا نہیں عمائم کا رشتہ میرے بیٹے سے طے ہو چکا ہے اور اسی ہفتے ان دونوں کا نکاح ہے” رابعہ بیگم کی بات پر شائستہ بیگم نے پریشانی سے ضوریز کو دیکھا جو رابعہ بیگم کی بات پر سر ہلا گیا۔۔عابدہ بیگم نے پریشانی سے ان لوگوں کو دیکھا۔۔عمائم اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی کہ اسے راحیل سے شادی نہیں کرنی اور وہ جانتی تھیں وہ کبھی ہاں نہیں کرے گی۔۔اس لیے انہوں نے افتخار صاحب کے حوالے یہ فیصلہ کیا تھا۔۔”لیکن عمائم کے لئے راحیل سے بہتر ضوریز صاحب ہیں اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں عمائم کا رشتہ ضوریز صاحب سے کرنے کے لئے تیار ہوں” افتخار صاحب کی بات پر سب نے جھٹکے سے انہیں دیکھا تھا ہاں انہیں جھٹکا ہی تو لگا تھا صبح تک تو وہ راضی نہیں تھے اور اب اچانک ۔۔”یہ آپ کیا بول رہے ہیں؟””کیا آپ کو کم سنائی دیتا ہے ؟” رابعہ بیگم کو تبیہی نگاہوں سے دیکھتے انہوں نے عابدہ بیگم کو دیکھا کو شاکڈ تھیں۔۔ایسا کچھ تو ان کے بھائی نے نہیں کہا تھا۔۔شائستہ بیگم کو ان کے فیصلے سے خوشگوار سی حیرت ہوئی تھی۔۔”بہت شکریہ بھائی صاحب۔۔۔””ہمم۔۔۔ نکاح کی تاریخ ایک ہفتے بعد کی رکھ لیتے ہیں کیا خیال ہے”وہ اب نکاح کی تاریخ رکھ رہے تھے ان کے بدلے انداز وہاں سب کے لئے شاکڈ کا باعث بنے تھے سوائے ایک کے جو مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھا موبائل پر کسی کو شکریہ کا میسج بھیج رہا تھا۔۔۔_____________”آپ کو اچانک کیا ہوا صبح تک آپ اس رشتے کے خلاف تھے اب اچانک کیسے راضی ہوگئے ؟”رابعہ بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔”میں نے جو فیصلہ لیا ہے بالکل ٹھیک ہے””کیا مطلب ہے کیا کچھ ہوا آپ مجھے بتائیں نا””ابا ۔۔ شروع سے طے تھا عمائم سے میری شادی ہوگی ابا مجھے آپ کا فیصلہ نا منظور ہے”.راحیل کی بات پر افتخار صاحب نے ناگواری سے اسے دیکھا۔”صبح وکیل کی کال آئی تھی وہ سب ضائع ہوگئی ہے””کیا مطلب ؟” وہاں بیٹھے باقی دونوں نفوس کو ان کی بات پر جھٹکا لگا تھا۔۔”مجھے نہیں پتا بس اتنا سمجھو اب عمائم کے پاس ایک پھوٹی کوڑی نہیں ہے خالی ہے بالکل””ایسا کیسے ہوسکتا ہے اس باپ””ہاں اسکا باپ اسکے نام الگ سے کچھ جائداد کرکے مرا ہے مجھے بھی یہی لگا تھا مگر میں غلط تھا آج ہی وکیل سے بات ہوئی ہے میری “”پھر تو آپ نے بالکل ٹھیک کیا ہمارے راحیل کو لڑکیوں کی کمی ہے کیا ؟”انہوں نے بھی فوراً پلٹا کھایا تھا۔۔راحیل نے بے بسی سے اپنے ماں باپ کو دیکھا۔۔اب وہ چاہے کتنا بھی کچھ کرلیتا ان دونوں کو راضی کرنا ناممکن تھا۔افتخار صاحب کے باہر جاتے ہی وہ اٹھ کر رابعہ بیگم کے سامنے آکر بیٹھا۔”امی۔۔۔ میں کسی اور سے شادی نہیں کروں گا مجھے عمائم سے شادی کرنی ہے””دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا آخر ہے کیا اب اسکے پاس “”جو بھی ہے آپ بابا سے بات کریں میں سوائے اسکے کسی سے شادی نہیں کروں گی۔۔”اپنی بات کہتے وہ رکا نہیں تھا اسے جاتے دیکھ رابعہ بیگم نے سر جھٹکا۔۔جاری ہے
قسط_16کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی عابدہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں جبکہ وہ ٹیبل پر رکھے اپنے نکاح کے جوڑے کو دیکھ رہی تھی۔یہ سارا سامان کچھ دیر پہلے شائستہ بیگم آکر دے گئی تھیں۔۔عابدہ بیگم کا رویہ سرد سا تھا مگر وہ پھر بھی مسکراتی رہیں۔۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناً برا مان جاتا۔۔سارا سامان اٹھا کر ایک طرف کرتے وہ اپنے کمرے میں آگئی۔۔”بابا آج آپ کی کمی بہت محسوس ہو رہی ہے کل میرا نکاح ہے اور آپ نہیں۔۔ امی ناراض ہیں مگر وہ ابھی کچھ نہیں سمجھتیں ان کی آنکھوں پر بھائی کی محبت کی پٹی بندھی ہے ۔۔ لیکن ایک بات آپ کو مزے کی بتاؤ ؟”ان کی تصویر تھامے بیٹھی وہ اچانک آگے پیچھے دیکھتی آہستہ سے تصوی پر جھکی۔”بہت جلد میں آپ کا سب کچھ واپس حاصل کرنے والی ہوں مجھے پورا یقین ہے میں آپ سے کیا وعدہ جلد پورا کروں گی۔۔۔”وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔آنکھوں میں نمی تھی۔اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے اپنے باپ کے جنازے کے سامنے بیٹھ کر ان سے وعدہ کر رہی تھی۔۔”عمائم۔۔۔ تمہارا باپ جھوٹا تھا ناجانے کیسے فراڈ سے اتنا پیسہ کمایا اور جب سچائی سامنے آئی تو مر گیا دیکھو بیٹا تمہارے باپ کی وجہ سے ہماری بہت بدنامی ہوگئی ہے اس لئے فضول کی ضد چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلو” افتخار ماموں اسکے سامنے بیٹھے چند دن پہلے مرے اسکے باپ کی برائی کرتے اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔۔”مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا” وہ باضد تھی جب اچانک عابدہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے سامنے آئی تھیں۔۔”کیوں نہیں جانا ہاں کیوں نہیں جانا۔۔۔ یہ تمہارے باپ کے گناہوں کا گڑھ ہے ناجانے کیسی حرام کمائی سے بنایا تھا یہ ہمیں راس نہیں آیا لے گیا تمہارے باپ کو۔۔ وہ شخص خود تو مر گیا مگر ہمیں ساری زندگی کے لئے رسوا ہونے کو چھوڑ گیا عدالت میں کیس دائر ہوا ہے اسکے خلاف” وہ چیخ رہی تھیں اس لمحے وہ تیرہ سالہ عمائم خوفزدہ ہوگئی تھی یہ اسکی ماں تو نہیں تھی۔۔وہ اپنی عمر کے بچوں سے زیادہ سمجھدار اور ذہین تھی ۔”عابدہ بچی ہے مجھے بات کرلینے دو ۔””نہیں بھائی۔۔ مجھے بتانے دیں کے اس کا باپ ایک جھوٹا اور چور انسان تھا اور یہ ساری دولت اس نے دو نمبر طریقے سے کمائی تھی جب پکڑا گیا تو شرم سے مر گیا اور ہمیں یوں بیچ منجھدار میں چھوڑ گیا۔۔” اسکی ماں اپنے ہی مرحوم شوہر کے خلاف زہر اگل رہی تھی وہ شوہر جس نے ہمیشہ ان کے قدموں میں ساری دنیا کی خوشیاں ڈھیر کی تھیں انہیں عرش پر بٹھایا تھا ان کے بھائیوں کی کفالت کی تھی۔ اور ان کے بھائی اپنے ہی محسن کو اب چور بول رہے تھے مگر اسی چور کا پیسہ وہ آج تک استعمال کرتے آئے تھے۔۔”یہ گھر عدالت کے پاس چلا جائے گا جلد اس لئے چلو “اور پھر اسکی ضد رونا دھونا کچھ کام نہیں آیا تھا اسکی ماں زبردستی اسے اپنے باپ کے گھر سے اس چھوٹے سے گھر میں لے آئی جہاں اسکی ماں کی حیثیت ایک ملازم کے جیسی تھی مگر آج تک وہ بات نا سمجھیں نا اسکے سمجھانے پر مانیں۔۔۔اور اسکے ماموں آج بھی اسکے باپ کے بزنس پر قابض بیٹھے تھے ان کے مطابق یہ بزنس انہوں نے آگے بڑھایا تھا بابا تو برباد کرگئے تھے جو حقیقت تھی وہ بس وہی جانتی تھی اور سالوں سے اس حقیقت کو سینے میں دفن کئے روز خود ایک وعدہ کرتی تھی اور اب اسے ایک امید کی کرن نظر آئی تھی جس کے چلتے وہ بہت جلد اپنا سب کچھ واپس لینے والی تھی۔۔۔___________”بابا””ہمم؟” وہ جو لیپ ٹاپ پر مصروف تھا زارون کے پکارنے پر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔”بابا ایک بات پوچھوں؟”آج ضوریز گھر میں تھا اور صبح سے زارون اسے سے ایک ہی سوال کر رہا تھا اور اب بھی وہ اچھے سے جانتا تھا اسکا سوال کیا ہونے والا ہے۔۔”ہمم؟” سر کو ہلاتے اس نے اجازت دی تھی۔۔”عمائم میری مما ؟””آپ صبح سے ایک ہی سوال کیوں کر رہے زارون” لیپ ٹاپ سائیڈ رکھتے اس نے زارون کو اپنی گود میں بٹھایا۔”وہ دادو نے بولا آپ یہ بات بھول نا جائیں تو ؟””کیا بات بھول نا جاؤں میں؟””یہی کہ آپ عمائم سے شادی کر رہے ہیں نا ” آنکھیں پٹپٹاتے وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا ضوریز نے جھک کر اسکے گال چومے۔۔۔”بابا کل عمائم ہمارے پاس آ جائے گیں نا؟”وہ چاہ کر بھی عمائم کے آگے کچھ نہیں لگا سکا تھا اسی عمائم کہنا ہی اچھا لگتا تھا۔۔”ہممم ابھی آپ جاؤ بابا کام کر رہے ہیں””بابا تو ہر وقت کام کرتے ہیں” اس بار کمرے میں داخل ہوتی شائستہ بیگم نے جواب دیا جس پر اس نے نفی میں سر ہلاتے انہیں دیکھا۔”امی زارون کے سامنے ایسی باتیں مت کیا کریں..””دیکھو بھئی لڑکے میں اکیلی عورت اب بچے سے بھی بات نا کرو؟ کل میری بہو آ جائے گی تو نہیں کیا کروں گی بات” ان کے ہر انداز میں خوشی تھی لفظوں میں شرارت تھی وہ آج ناجانے کتنے وقت بعد اپنی ماں کو خوش دیکھ رہا تھا ۔۔”کل نکاح ہے پلیز اس آفس کا تماشہ نا کرنا “”اففف جیسا آپ کا حکم ملکہ عالیہ ” سر کو خم دیتا وہ انہیں ہنسنے پر مجبور کرگیا۔ ۔”اچھا سنیں ؟””ہممم؟” ااس کے سنجیدگی سے پکارنے پر وہ پوری طرح اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔اس سے پہلے وہ جواب دیتا اچانک ہونے والے شور نے ان دونوں کو متوجہ کیا تھا وہ دونوں اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر بڑھے جہاں لاؤنج میں تیز آواز میں میوزک بج رہا تھا اور لاؤنج کے بیچ و بیچ زارون کامران اور صفیر( کامران کا چھوٹا بھائی) خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے تھے۔۔”یہ سب کیا ہے کامران ؟” وہ وہیں اوپر سے تیز آواز میں بولا شائستہ بیگم تو جلدی سے نیچے جا کر ان کے شامل ہوئی تھیں۔”کل میرا یار کی شادی ہے جشن تو بنتا ہے نا ؟” بھنگڑے ڈال کر کہتا وہ زارون کو گود میں اٹھائے ڈانس کرنے لگا جبکہ ان سب کو ایسے ڈانس کرتے دیکھ ضوریز گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔۔___________
مامون اس وقت دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا جبکہ ڈاکٹر شہرے کا چیک اپ کر رہا تھا۔اسکے زخم اب کافی حد تک ٹھیک ہو گئے تھے۔۔”ان کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے مگر اچھی ڈائٹ اور میڈیسنز یوز کرتے ہیں اور جتنا ہو سکے ریسٹ کریں” ڈاکٹر اسے کہتا وہاں سے چلا گیا جبکہ مامون سے اپنی بانہوں میں بھرے نیچے بڑھا تھا۔۔”میں خود جا سکتی ہوں نا””شش۔۔۔ پیروں میں لگی ہے اس لئے بالکل چپ” اسے لئے وہ نیچے ڈائننگ ٹیبل پر آیا تھا۔اسے چئیر پر بیٹھاتے مامون نے ملازمہ کو کھانا لانے کا کہا کھانا سرو ہوتے ہی شہرے نے جلدی سے کھانا شروع کیا۔وہ کسی بچے کی طرح کھانا کھا رہی تھی جبکہ مامون حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔جو اسپیڈ سے کھانا کھا رہی تھی۔”کتنے دن سے کھانا نہیں کھایا میڈم” اسکے ہونٹوں کے کنارے صاف کرتا وہ شرارت سے گویا ہوا۔۔”بالکل بچوں کی طرح کھا رہیں کھانا کھانا نہیں آتا بالکل بھی”اس سے پہلے شہرے اسے کوئی جواب دیتی کھانا اوکے گلے میں اٹکا تھا بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھتے وہ بری طرح کھانسی تھی ۔”آرام سے شہرے۔۔۔ ” وہ ایک دم سے گھبراتے اٹھا تھا اسکی کمر سہلاتے مامون نے فوراً سے پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا جس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔۔۔”بالکل ہی چھوٹی سی بچی ہو یار لٹل گرل ڈرا دیا مجھے” اسکا چہرہ صاف کرتے وہ وہیں اسکے پاس بیٹھ کر اسکی طرف اسپون بڑھایا ۔سرخ چہرہ لئے شہرے نے آہستہ سے اسپون منہ میں لیا۔۔اور پھر مامون نے اسے پورا کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلایا تھا جبکہ شہرے شرم سے سرخ چہرہ لئے خاموشی سے کھا رہی تھی۔۔کھانا کھاتے ہی وہ سیدھا اوپر آئی تھی جبکہ مامون اپنے کام کی وجہ سے اسٹڈی میں جا چکا تھا۔۔کچھ دیر بعد وہ شاور لے کر باہر آئی تو مامون کو سامنے بیڈ پر بیٹھا پایا۔۔۔اسے دیکھ شہرے کے قدم تھمے تھے ۔مامون نے نگاہیں اٹھائے اسے دیکھا جو اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی شہرے کے دوپٹے سے بے نیاز وجود کو دیکھ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھتے مامون نے اسے اپنے قریب کیا۔۔۔”ڈیول”اسکے اپنے بالوں میں چہرہ چھپائے دیکھ شہرے کی جان ہوا ہوئی تھی اس شخص کی زرا سی قربت بھی جان لیوا تھی۔۔”ہممم” اسکی گردن پر اپنی ناک سہلاتا وہ مخمور لہجے میں کہتا اسکی کمر پر دباؤ بڑھا گیا۔۔۔”پلیز” اپنی ٹھوڑی پر مامون کے لمس پر وہ تڑپی اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کرتی اسکی سانسوں کو قید کرتے مامون اسکی سانسیں روک گیا۔۔اپنے شدت بھرے لمس سے وہ اسکی آنکھوں میں آنسو لانے کا سبب بنا تھا جو سانسوں کی کمی پر تڑپ اٹھی تھی مامون کے سینے پر ہاتھ مار وہ خود کو اس کی قید سے نکالنے کےلئے پھڑپھڑا رہی تھی جب اچانک ہوش کی دنیا میں آتے مامون نے اسے آزادی بخشی ۔”آئی ہیٹ یو آئی ہیٹ یو ڈیول” اپنے چہرہ صاف کرتے وہ چیخی تھی اسکے سرخ ہوتے لبوں کو دیکھ مامون کو گہری شرمندگی نے آن گھیرا۔۔۔”آئی ایم سوری شہرے میں آئندہ سے ایسا نہیں کروں گا پلیز ڈونٹ کرائے” شہرے کے بہتے آنسو اسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے وہ تڑپ اٹھا تھا اسے روتے دیکھ۔۔”چھوڑ دو مجھے دور ہوجاؤں مجھ سے تم بہت برے ہو ڈیول””لٹل گرل آئی ایم سوری۔۔۔ آئی پرامس میں اب ہرٹ نہیں کروں گا۔۔۔ بنا پرمیشن کے ٹچ بھی نہیں کروں گا”اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگائے وہ نرمی سے بولا تھا۔۔”تم ہمیشہ ایسے کرتے ہو تم مجھے یونہی ہرٹ کرتے ہو جاؤ یہاں سے” اسکے سینے پر چہرہ رگڑتے وہ غصے سے اسے الگ ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔مامون نے گہرا سانس بھر اسے خود سے دور کیا اس سے پہلے وہ کچھ کہتا اسکا موبائل رنگ ہوا اسٹیو کی کال تھی اٹھانا ضروری تھا۔۔”اچھا پلیز اپنا خیال رکھنا میں جا رہا شام تک آجاؤں گا” نرمی سے اسکے بال سہلاتے وہ فوراً وہاں سے نکلا تھا۔۔۔___________
گاڑی حویلی کی حدود میں داخل ہوئی تو اسکا دل زوروں سے دھڑکا تھا۔گاڑی رکتے ہی جلال باہر نکلا تھا جبکہ وہ ویسے ہی بیٹھی خود کو تیار کر رہی تھی۔۔جلال گاڑی سے اسکا سامان نکال رہا تھا جب گہرا سانس بھرتے وہ گاڑی سے باہر نکل آئی۔۔جلال نے اسے ایسے ہی کھڑے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں تھا۔۔گہرا سانس ہوا کے سپرد کر اس نے اپنے قدم اندر بڑھائے جہاں لاؤنج میں سے آتی آوازیں اسے مزید خوفزدہ کر رہی تھیں۔گھر کی دہلیز پر کھڑے ہوتے اس نے سامنے دیکھا۔”ناجانے کس کی گندگی بھائی اٹھا لائے ہیں” سالوں پرانی باتیں ۔۔۔ وہ لمحے۔۔”ہم اسے اپنا خون نہیں مان سکتے یہ سوائے گندگی کے اور کچھ نہیں” سختی سے اپنی قمیض مٹھیوں میں جکڑے کھڑی تھی۔”زرمینے وہاں کیوں کھڑی ہو اندر آؤ۔۔۔۔” جاذب شاہ کی آواز پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنے بھائی کو دیکھا جو سیڑھیاں اترتے نیچے آرہا تھا۔۔زرمینے کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ کھلی تھی۔۔”اسلام وعلیکم بھائی” جاذب کے قریب آنے پر اس نے سلام کیا جو اسے جواب دیتے اپنے ساتھ لگا گیا جبکہ اس کمزور کو لاونج میں بیٹھی تین عورتوں نے الگ الگ نظروں سے دیکھا تھا۔ایک نے اداسی سے ایک نے بنا کسی تاثر کے اور کسی نے آگ اگلتی نگاہوں سے۔۔۔”چلو آؤ اندر ایسے کیوں کھڑی تھی” اسکا ہاتھ تھامے وہ اسے لئے اندر لایا تھا۔۔زرمینے نے بآواز بلند بنا کسی کو مخاطب کئے سوال کیا تھااس کے قریب آتے ہی کشور بیگم ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر اندر بڑھ گئیں۔۔ان کے جانے پر زرمینے کا سر جھکا تھا۔۔اس نے صوفے پر بیٹھی نجمہ بیگم اور سکینہ بیگم کو دیکھا جو ایسے مصروف ہوگئی تھی جیسے اسکی یہاں موجودگی سے یکسر انجان ہوں۔۔”جاؤ زومینے اپنے کمرے میں جاؤ سامان بھجواتا ہوں میں” اسکے سر پر ہاتھ رکھتے جاذب نے اسے جانے کو کہا تو وہ محض سر ہلاتے وہاں سے اوپر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔اور اسکے جاتے ہی وہ اپنی ماں کے پاس آکر بیٹھا تھا۔۔”اتنے سال ہوگئے ہیں امی ۔۔۔ وہ بھی اتنی ہی بے گناہ ہے جتنی آپ اور میں۔۔۔ ایسے مت کریں اسکے ساتھ””جاذب ۔ اپنی امی کو تنگ مت کرو” سکینہ بیگم نے فوراً اسے ٹوکا تھا۔۔”چچی۔۔۔ امی کو سمجھانے کے بجائے آپ سب ایک غلط چیز کر رہے ہیں اتنا کسی کے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے کہ اسکے دل سے آہ نکلے “”اگر ایسا ہے تو تم کیوں اس لڑکی کو یہاں لوئے ہو چھوڑ دیتے نا اسے ” سکینہ بیگم کی بات پر استہزایہ مسکراہٹ اسکے لبوں پر بکھری تھی۔۔”چھوڑ دیتا اگر وہ میری بیوی نا ہوتی۔۔ میرے نکاح میں ہے وہ کیسے چھوڑ دوں اسے؟”اس کی بات پر سکینہ بیگم چپ ہوئی تھیں ۔”میں ڈیرے پر جا رہا ہوں آنے میں دیر ہو جائے گی آپ وقت پر دوائی لے کر سو جائیے گا۔ ” ان کے ہاتھ چومتا وہ اپنی جگہ سے اٹھتے حویلی سے نکلتا چلا گیا۔۔۔__________حویلی سے نکلتے وہ سیدھا ڈیرے پر آیا تھا الیکشن کی تیاریاں اپنے عروج میں تھیں ۔۔ وہ اندر اپنے لئے خاص بنائے گئے کمرے میں موجود تھا جب دروازہ ناک ہوا اور جلال کا چہرہ نمودار ہوا۔۔”تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”.”آپ کے پاس آیا ہوں””لمبے سفر سے آئے ہو آرام کرو جا کر “”وہ مجھ سے نہیں ہوتا آپ جانتے ہیں” اس کی بات پر جاذب نے ناراضگی سے اسے دیکھا آغا جان ٹھیک ہی تو کہتے تھے۔۔۔”تم اگر نہیں چاہ رہے کہ میں تمہیں نوکری سے فارغ کردوں تو بہتر ہے تم گھر جا کر آرام کرو””اور آپ کو لگتا ہے آپ مجھے نوکری سے نکال دینگے تو میں چلا جاؤں گا؟” وہ ڈھیٹ تھا اپنی بات کہتے وہ جاذب کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ کر جاذب کا خون جلا گیا تھا۔۔اس شخص کو آرام کرنے سے اتنا مسئلہ کیوں تھا۔۔”جلال۔۔””مجھے گھر جانے کا مت کہیے گا وحشت ہوتی ہے اس گھر میں مجھے” اس کی بات کاٹتے وہ بے ساختہ کہہ اٹھا۔۔اسکی بیوی کچھ وقت پہلے ہی اس دنیا سے جا چکی تھی ڈیلیوری کے دوران ہونے والی پیچیدگیاں اسے اور اسکے بچے کو ہمیشہ کے لئے اس سے دور کر گئی تھیں۔۔اور ایسے وقت میں وہ اسکے پاس نہیں تھا وہ اپنے کام کے سلسلے میں دوسرے شہر میں تھا ۔۔یہ پچھتاوا کہیں نا کہیں اسکے دل میں تھا کہ جب اسکی بیوی کو اسکی ضرورت تھی وہ اسکے ساتھ نہیں تھا۔۔۔”جلال۔۔۔””خانوں کا ایک بندہ زرمینے بی بی کے ہاسٹل کے باہر دیکھا گیا ہے۔۔ اس نے پاس موجود ہوٹل تک ان کا پیچھا کیا ہے ،”خاموشی کو چیرتی جلال کی آواز پر جاذب نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔”انہیں زری کے بارے میں کیسے پتا چلا کہ وہ ہاسٹل میں ہے”,”وہ اس بار آپ کو جیتنے نہیں دیں گے”جلال کی بات پر وہ مسکرایا۔”اور تم کیا کرو گے”؟”میں انہیں ان کی ہر کوشش میں ناکام کرنے کی کوشش”وہ اسکا وفادار تھا اسکا دوست تھا ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا نہیں تھا۔۔۔__________.
اس نے حویلی میں قدم رکھا تو احساس ہوا اسے آنے میں کافی دیر ہوچکی تھی کیونکہ پوری حویلی اس وقت اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔اپنی قمیض کے اوپر بٹن کھولتے وہ سیڑھیاں چڑھتے اوپر اپنے کمرے میں آیا تھا مگر کمرے میں داخل ہوتی ہی پہلی نظر بیڈ پر پڑنے پر وہ ٹھٹکا۔سامنے ہی بیڈ پر وہ سکڑی سمٹی سی گہری نیند میں گم تھی۔۔نورے کو دیکھ اسے کچھ وقت پہلے والی اپنی حرکت یاد آئی تو چہرے پر چھائی بیزاری لمحے میں ختم ہوتی مسکراہٹ میں تبدیل ہوئی تھی۔۔آستین کہنیوں تک فولڈ کرتے وہ آہستہ سے چلتا بیڈ پر آ کر بیٹھا نگاہیں بیڈ پر بے خبر سوئی نورے پر تھیں۔۔”کاش اتنی معصومیت جاگتے ہوئے بھی ہوتی تمہارے چہرے پر ” زرا سا اسکے چہرے پر جھکتے وہ مسکرایا اور پھر اگلے ہی لمحے نورے کی چیخ کمرے کی خاموش فضا میں ارتعاش کا باعث بنی تھی۔۔لمحے کو اسے سمجھ نہیں آیا کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔ ہونق بنی وہ بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھے جاذب شاہ کو دیکھ رہی تھی اور پھر اس نے خود کو زمین پر گرا پایا۔۔”یہ۔۔۔ تم۔۔۔ تم جاہل انسان” غصہ اور رونا ایک ساتھ آیا تھا تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھتے اس نے جاذب کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا جو اسکی نیند خراب کرگیا تھا اتنی مشکلوں سے سب بھول کر وہ سوئی تھی اور یہ انسان پھر آگیا تھا۔۔”کچھ کہا تم نے؟” سینے پر ہاتھ باندھے وہ مزے سے اس سے پوچھ رہا تھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے جان سے مار دے۔۔”میں نے اپنی زندگی میں تم سے بڑا بدتمیز اور جاہل انسان نہیں دیکھا جاذب شاہ””اب تم روز دیکھو گی جتنی خوش قسمتی کی بات ہے نا؟” وہ مزے سے کہتا اسے سر تا پیر سلگھا گیا۔۔۔”خوش قسمتی نہیں بدقسمتی ۔۔۔ میرا نصیب خراب ہے تم خدا تمہیں پوچھے جاذب شاہ” موٹے موٹے آنسو اسکی آنکھوں میں بھرنے لگے تھے کتنی کچی تھی وہ نیند کی یہ صرف وہی جانتی تھی ایک بار آنکھ کھل جاتی تو پھر اسے گھنٹوں لگتے تھے نیند میں جانے میں ۔۔اسے اتنا ایموشنل ہوتے دیکھ وہ ایک دم سے سیدھا ہوا تھا۔۔جس کے گال آنسوؤں سے بھیگ رہے تھے۔۔”ابھی سے اتنے آنسو بہا رہی ہو میں تو تمہیں اچھا خاصا مضبوط سمجھا تھا”اپنی خفت مٹانے کو وہ واپس سے پرانی ٹون میں واپس آیا تھا۔۔نورے نے اس بار اسے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ بلکہ وہ رخ موڑتے کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی۔۔سر میں درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔”میری بات سنو تم۔۔ اس بستر پر صرف بیویاں سوتی ہیں اور تم۔۔۔ خون بہا میں آئی لڑکی کو اپنی حیثیت مت بھولا کرو” اسکے خود کو اگنور کئے جانے پر وہ لہجے میں تلخی بھرے اس پر زہر میں بجھے لفظوں سے وار کر رہا تھا۔۔نورے نے ایک نظر پلٹ کر اسے دیکھا اس بار چہرے پر آنسوؤں کا شائبہ تک نہیں تھا ۔۔”تمہیں شوہر مانتا بھی کون ہے تم اس قابل ہو کہ تمہیں شوہر مانا جائے؟”اسکا وار اتنا تیز تھا کہ جاذب کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا۔۔”لگتا ہے شام کی روز کم پڑ گئی ہے کیا دوبارہ ڈوز چاہیے تاکہ تمہیں یاد رکھے میں کون ہوں” اسکی بات کا مفہوم سمجھتے نور کا چہرہ سرخ ہوا تھا ۔”خبردار جو تم میرے قریب بھی آئے میں منہ توڑ دوں گی مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا”انگلی اٹھا کر وارن کرتی وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی کیونکہ جازب شاہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکی جانب آرہا تھا۔۔”تم۔۔ جاہل انسان وہی رہو” پیچھے کھڑکی تھی اور فرار کی راہیں مفقود تھیں ۔۔”بس ڈر گئیں اتنے سے میں ہی؟”اسکے قریب آکر دائیں بائیں کھڑکی پر ہاتھ جماتا وہ اسے قید کر گیا تھا۔”تم سے میری جوتی بھی نہیں ڈرتی””لیکن تم ڈرتی ہو دیکھو زرا میرے لمس سے میری قربت سے میرے ہونٹوں””منہ بند رکھو جاذب شاہ اور دور رہو مت بھولو میرے باپ نے تمہارے باپ کو مارا تھا” اسے جو سمجھ آیا وہ بولتی گئی۔۔یہ جانے بغیر کے اسکی بات پر جاذب نے سختی سے اپنے ہونٹ بھینچے تھے۔۔”میں بھولا نہیں ہوں اور نا کبھی بھولوں گا ” اچانک ہی اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا وہ اسکے ہونٹوں پر بے رحمی سے جھکتا اسے کپکپانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔جاری ہے
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا تھا۔۔مامون کمرے میں کہیں نہیں تھا۔شہرے آٹھ کر فریش ہوئی اور پھر نیچے چلی آئی۔۔”کیا کر رہی ہیں ؟” وہ کچن میں داخل ہوئی جہاں ہیڈ شیف کھانے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔۔”آپ کے اور سر کے ڈنر کی تیاری””میں کچھ ہیلپ کروں میں بور ہو رہی ہوں میرے پاس کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے” اس کی بات پر شیف نے اسے دیکھا۔”آپ ڈیول سے مت ڈریں میں انہیں بول دوں گی آپ کو کچھ نہیں بولیں گے وہ” وہ اتنی معصومیت سے بولی کہ شیف بےاختیار مسکراتے سر ہلا گئیں۔۔وہ خود کو نارمل کرنا چاہتی تھی اسے جب مامون کے ساتھ رہنا ہی تھا تو اس نے سوچا تھا وہ نارمل ہونے کی کوشش کرے گی کیونکہ ضد غصے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ شخص وہی کرتا تھا جو اسکا دل کرتا تھا۔۔شام رات میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی ڈنر ریڈی کروا کر وہ اوپر آئی اچھے سے فریش ہو کر وہ مامون کا انتظار کرنے لگی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ٹی وی دیکھ دیکھ کر وہ بور ہوگئی تھی اس لئے نیچے چلی آئی ملازم سارے کواٹر میں جا چکے تھے کچن اسٹاف کو اس نے بھیج دیا تھا کیونکہ مامون ناجانے کب واپس آتا ۔۔وہ مامون کا انتظار کرتے ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی ٹیبل پر ہاتھ رکھے اس نے ہاتھ پر سر ٹکایا ۔۔نیند سے آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں نیند میں جاتے جاتے وہ کھٹکے کی آواز پر بے اختیار چونک کر اٹھی تھی۔۔”لگتا ہے ڈیول آگئے”اس سے پہلے وہ اٹھتی قدموں کی آواز پر اسکا دل اچانک خوف سے سمٹا کچھ غلط ہونے کا احساس شدت سے محسوس ہوا تھا جب اندھیرے میں کھڑا وہ شخص اس کے سامنے آیا تھا۔۔”ہے ڈارلنگ اپنے ہسبینڈ کا انتظار کر رہی ہو ؟”وہ کوئی انگریز تھا جس کی گردن ہاتھ ہر جگہ ہر ٹیٹوز بنے ہوئے تھے۔۔۔”تم۔۔۔ تم کون ہو ؟” خوف سے شہرے کا چہرہ سفید پڑا تھا۔۔”ویسے مجھے پتا نہیں تھا مامون شیرازی اتنا خوبصورت اور نایاب تحفہ چھپا کر رکھے ہوئے کیوں نا اسکا مزہ تھوڑا ہم بھی لیں” خباثت سے کہتا وہ شہرے کے قریب ہوا تھا۔”دور رہو مجھ سے ذلیل انسان خبردار جو تم میرے قریب آئے” اسے وارن کرتے وہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی فرار کی راہیں مفقود تھیں اسکا دل آنے والے لمحوں سے خوفزدہ تھا۔۔”ڈیول۔۔۔۔۔”اس نے آج زندگی میں پہلی بار اس شخص کو دل سے پکارا تھا۔۔۔”اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا بہت چالاک سمجھتا ہے نا وہ خود کو اسکے گھر سے اسکی بیوی کو لے کر جاؤں گا اور وہ کچھ نہیں کر سکے گا” ایک جھٹکے سے شہرے تک پہنچ کر اسے اپنی گرفت میں جکڑتا وہ اسکا منہ بند کرگیا۔۔اور شہرے اسکی سخت گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئی۔۔”آج کوئی نہیں بچا سکے گا ” اسکے بالوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا وہ شخص شہرے کو رونے پر مجبور کرگیا تھا آنسو تیزی سے اسکے بال بھگو رہے تھے وہ بری طرح اس شخص کی سخت گرفت میں تھی ۔۔اسکی مزاحمت بیکار گئی تھی جب وہ آدمی اسکے منہ پر رومال رکھتا اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر گیا۔”مامون تجھے اب پتا چلے گا ڈیوڈ سے الجھنے کا انجام کیا ہوتا ہے” شہرے کے بے ہوش وجود کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتا وہ اسے کندھے پر ڈالے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا ۔۔۔____________
اسکے کمرے میں اس کی دونوں دوستیں موجود اسے تیار کر رہی تھیں جبکہ وہ نروس سی بیٹھی تھی۔سوچنے میں سب بہت آسان لگ رہا تھا مگر اب سب حقیقت میں ہو رہا تھا تو اسکا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔۔”ریلکس عمائم کیا ہوگیا ہے،” عاتکہ کی بات پر اس نے بے بسی سے اسے دیکھا۔”کچھ نہیں ہوگا اتنی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ضوریز بھائی اور ان کی فیملی بہت اچھی ہے” یہ سدرہ تھی اسکی بیسٹ فرینڈان دونوں کی تسلی پر وہ محض سر ہلا کر رہ گئی۔۔تھوڑی دیر بعد باہر مہمانوں کی آمد کا شور اٹھا تھا۔۔اور وہیں اسکا دل ہتھیلی میں دھڑکا تھا جو قدم اس نے اٹھایا تھا اسکے بعد وہ پہلے ہی اپنی ماں کی ناراضگی برداشت کر رہی تھی مگر اس ناراضگی سے زیادہ اہم کچھ اور تھا۔۔۔”عمائم کو لے آؤ نکاح کا وقت ہوگیا ہے” عابدہ بیگم کہتے کہتے رکی تھیں ان کی نگاہیں سامنے عمائم پر تھمی تھیں ۔جو ڈیپ ریڈ کلر کے غرارے میں دولہن بنی ان کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔”امی؟”اس نے اداسی سے انہیں پکارا مگر جواب ندارد۔۔عمائم کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔سدرہ نے آگے بڑھ اسکے سر پر گھونگھٹ ڈالا تھا۔۔سدرہ اور عاتکہ کا ہاتھ تھامے وہ باہر لاؤنج میں آئی جہاں سب لوگ موجود تھے ضوریز کی طرف سے بس کامران کی فیملی اور اسکے ایک دو دوست شامل تھے جبکہ اسکی طرف سے ماموں کی فیملی تھی۔۔۔”عمائم واؤ ۔۔” زارون فوراً سے اسکے پاس آکر اس سے چپک کر بیٹھا تو ساری اداسی لمحے میں دور ہوئی تھی ۔”عمائم واووو۔۔۔۔” وہ بار بار اسکے کان میں ایک ہی بات کرتا اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گیا۔ناجانے یہ نیا لفظ کہاں سے سیکھا تھا اس نے۔۔”مولوی صاحب نکاح کی کاروائی شروع کریں” کامران کے کہنے پر نکاح کی رسم کا آغاز ہوا تھاعمائم کے ایجاب و قبول کے بعد اب مولوی صاحب ضوریز سے اسکی رضا مندی پوچھ رہے تھے۔اس نے ایک نظر عمائم سے چپک کر بیٹھے زارون کو دیکھا۔۔اسے اپنے فیصلے کے صحیح ہونے کا ایک بار پھر یقین ہوا تھا سر جھٹکتے اس نے اپنی رضامندی دیتے عمائم منصور کو اپنے نکاح میں قبول کیا تھا۔۔شائستہ بیگم کا دل جو صبح سے پریشان تھا ایک دم پرسکون ہوا تھا ۔۔مبارک سلامت کا شور اٹھا تھا ۔۔عابدہ بیگم نے نم آنکھوں سے عمائم کے سر پر ہاتھ رکھا وہ اسکی دشمن نہیں تھیں مگر اسکی ضد ۔۔ وہ تنگ آگئی تھیں۔۔اس نے ان کے خلاف جا کر ایک فیصلہ لیا تھا مگر اب اتنا اہم موقعے پر وہ اسے دور نہیں کر سکتی تھیں اسکا باپ نہیں تھا اب ماں بھی نا رہتی تو وہ ٹوٹ جاتی ۔ان کا ہاتھ سر پر ہاتھ وہ ان کے گلے بے اختیار رو دی۔۔۔”بابا نے قصور تھے امی۔۔۔ اور میں یہ بات ثابت کر کے رہوں گی” اسکی سرگوشی میں کہی بات پر عابدہ بیگم کو جھٹکا لگا تھا۔۔انہوں نے اسے خود سے الگ کرتے اسکا چہرہ دیکھا ۔۔”تم کبھی اس انسان کو سچا ثابت نہیں کر سکو گی کیونکہ وہ جھوٹا تھا ” اب کے وہ بولیں تو ان کا لہجہ سخت تھا۔عمائم نے دکھ سے نفی میں سر ہلایا۔۔،”کاش آپ بابا کو سمجھ سکتیں” انہیں کہتے وہ رکی نہیں تھی کیونکہ زارون اسکا ہاتھ تھامے آگے صوفے پر جا بیٹھا تھا تھوڑی دیر بعد ہی رخصتی کا شور اٹھا تھا اور پھر عمائم منصور عمائم ضوریز بنے اس گھر کی دہلیز پار کر گئی تھی۔۔۔۔____________نگاہیں اٹھائے اس نے اس کمرے کا طائرانہ جائزہ لیا پورا کمرہ سفید اور گرے رنگ کے امتراج سے مزین تھا جگہ جگہ گلاب کے بکے رکھے تھے کمرے کو بہت سادگی سے سجایا گیا تھا۔۔شائستہ بیگم کچھ دیر پہلے ہی گئی تھیں ۔۔۔”عمائم میں آجاؤں ؟” آواز پر عمائم نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں زارون چہرہ نکالے اندر جھانک رہا تھا۔”آجاؤں بچے” اجازت ملتے ہی وہ خوشی سے اچھلتا عمائم کے پاس آکر ٹکا تو عمائم نے اسکے لئے اپنی گود میں جگہ بنائی تھی۔”ویلکم ہوم عمائم””تھینک یو گڈے مگر اب تو مما بولیں نا آپ” عمائم کی بات پر زارون کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔۔۔”کیا میں مما بول سکتا ہوں؟””بالکل بول سکتے ہیں کیونکہ میں آپ کی مما ہوں””تھینک یو مما ” بےاختیار عمائم کے گلے لگے اس نے مما کہا تو عمائم کے دل کو کچھ ہوا تھا ایک سکون سا ملا تھا اس نے زارون کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی اور یہ منظر کمرے کی دہلیز پر کھڑے ضوریز نے اچھے سے دیکھا تھا ۔”بابا دیکھیں میری مما” زارون کے پکارنے پر جہاں وہ ایک دم سٹپٹایا تھا وہیں عمائم سیدھی ہو کر بیٹھی ۔۔”ہممم” ہولے سے سر کو جنبش دیتے وہ اندر داخل ہوا عجیب اکورڈ سی صورتحال تھی وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے کھینچے کھینچے تھے۔۔”بابا میں آپ کے پاس سوؤں گا اور مما کے پاس بھی”زارون کی فرمائش پر عمائم نے سکون کا سانس بھرا تھا ایک بڑی مشکل تو حل ہوئی تھی۔۔”اوکے بچے لیکن پہلے چینج کر کے آئیں فوراً” اسکے بال سنوارتے عمائم نرمی سے بولی تو وہ فوراً سے باہر بھاگا تھا۔۔”آپ چینج کرلیں کافی تھک گئی ہونگی””ضوریز” اسکے ڈریسنگ کی طرف بڑھنے پر عمائم نے بے ساختہ اسے پکارا۔۔ضوریز نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا”کیا آپ نے آنٹی سے بات کی،؟”اسکے سوال کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا”فلحال نہیں پیپر ورک ہونے کے بعد ہی میں امی سے بات کروں گا آپ بے فکر رہیں” اسکی تسلی پر وہ سر ہلا گئی۔۔۔_____________ا
چانک ہی اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا وہ اسکے ہونٹوں پر بے رحمی سے جھکتا اسے کپکپانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔اسکے لمس میں شدت تھی وہ رفتہ رفتہ اسکی سانسوں کو خود میں گھول رہا تھا وہ اسے اپنے لمس کی شدت سے بے بس کرتا اسکی کمر پر دباؤ ڈال اسے خود کے قریب کر گیا تھا بے حد قریب۔۔۔جاذب کی مضبوط گرفت میں مچلتی وہ اپنی ساری طاقت کھوتے خود کو اس بے رحم شخص کے حوالے کر گئی تھی جاذب کی قمیض کو مٹھیوں میں جکڑے وہ اسی ستمگر کے سہارے کھڑی تھی۔۔اپنے چہرے پر آنسوؤں کی نمی محسوس کر جاذب نے اسکے لبوں کو آزادی دیتے اس کے چہرے کو دیکھا جو آنسوؤں سے تر تھا۔وہ گہرے سانس بھرتی اپنی سانسیں ہموار کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی جب جاذب نے نرمی سے اسکی کمر سہلاتے اسے پرسکون کرنا چاہا۔۔”میں نے کہا تھا نا میرے آگے سوچ سمجھ کر بولا کرو”اسکی بات پر نورے نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔”میں نفرت کرتی ہوں تم سے””مگر پھر بھی میری سانسوں میں سانس لے رہی تھیں یہ تو بہت غلط بات ہے نا” اسکے چہرے پر پھونک مارتے جاذب نے کچھ دیر پہلے اسکی حرکت کا حوالہ دیا جس پر نورے کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔”تم””نورے شاہ۔۔ آخر میرے آگے اتنی زبان کیوں چلتی ہے میں تو تمہارے ساتھ نرمی رکھنا چاہتا ہوں مگر تم اپنے لفظوں کے تیر سے مجھے مجبور کر دیتی ہو کہ میں تم پر اپنی شدتیں لٹاوں تمہیں اپنے لمس سے مہکاؤں کہیں ایسا تم جان کر تو نہیں کرتیں ؟”اسکی بات پر نورے نے تڑپ کر اسے دیکھا۔،”ایسا کرنے سے بہتر ہے میں مر جاؤں” اپنی خفت مٹانے کو اس نے رخ پھیرا تھا سچ تو یہ تھا وہ واقعی اسکی شخص کے لمس سے پگھل گئی تھی اتنی جلدی ۔۔۔ اسے خود پر غصہ آیا تھا۔۔۔”اس میں شرمانے کی کوئی بات نہیں ہے میں شوہر ہوں اور “”شوہر نہیں ہو مت بھولو میں خون بہا میں آئی ہوں ” پھر وہی بات جازب نے گہرا سانس بھرا۔آخر کیوں اس لڑکی کو اپنی جان پیاری نہیں تھی۔۔”اچھا تو خون بہا میں آئی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ تو پتا ہوگا نا تمہیں،؟””انہیں قتل کردیا جاتا ہے تو جاؤں لاؤ پستول اور مار دو مجھے یا میرا گلا دبا دو ” اسکا ہاتھ گردن پر رکھتے وہ نڈر انداز میں کہتی اسے متاثر کر گئی تھی۔۔۔”نا ڈارلنگ ۔۔۔ میری جان ایسے خنجر یا گلا دبانے میں وہ مزہ نہیں جانتی ہو مزہ کس میں ہے” اسکی گردن کے گرد گرفت مضبوط کرتا وہ ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کر گیا۔۔۔”تمہیں اپنی سانسوں کے قریب رکھنے میں جب تم میرے وجود کو اپنے قریب پاؤں گی اور بے بس رہو گی تب مزہ آئے گا بدلے گا۔۔۔ قربت کے لمحات میں میرے نام کی سرگوشی میری جیت ہوگی ” نے باکی سے کہتا وہ نورے کو شرم سے پانی پانی کر گیا تھا وہ اتنا بے شرم کیسے ہوسکتا تھا ۔۔”کچھ کہو گی نہیں میری جان” اسکی گردن کو اپنے لمس سے سلگاتے وہ ہنسا تھا اور یہی ہنسی نورے کو زہر لگی تھی۔۔۔جازب کے سینے پر ہاتھ رکھتے وہ ایک جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔۔”ایک نمبر کے چھچھورے اور واہیات انسان ہو تم۔۔۔ ناجانے کون سی سستی عاشقی کی کتاب پڑھ کر آئے ہو ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے” اسے وارن کرتے وہ اسکے پاس سے گزرتے کمرے سے نکلی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی اسے کہاں جانا ہے مگر کمرے میں تو اب جانا ممنوع ہوگیا تھا سیڑھیاں اترتے وہ نیچے لاؤنج میں ہی آئی تھی جب اچانک کوئی اسکے راستے میں آیا تھا۔اس نے فوراً سے اپنے پیروں کو بریک لگایا جب نگاہیں سیدھا سامنے آنے والی ردابہ پر پڑیں۔۔۔جو شاید کچن سے نکلی تھی ۔”کہاں بھاگ رہی ہو ؟ ” اسکی بات پر نور نے خود کو ریلکس کیا ابھی وہ ایک انسان سے جان چھڑا کر آئی تھی اب اس سے متھا ماری۔۔بنا جواب دئیے نور نے سائیڈ سے نکلنا چاہا جب اسکا ہاتھ ردابہ کی گرفت میں آیا تھا۔۔”تمہاری اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ مجھے اگنور کر کے جا رہی ہو؟””دیکھو میرا موڈ اس وقت بہت خراب ہے مجھے تمہارے منہ نہیں لگنا اس لئے میرے منہ مت لگو”اس نے ردابہ کو صاف لفظوں میں کہا تھا مگر شاید اسے اپنی عزت راس نہیں تھی۔۔۔”زبان کو سنبھالوں ورنہ قینچی سے کاٹ دوں گی” اسکے بازو پر دباؤ بڑھاتے وہ اسے تکلیف دے گئی تھی اور بس یہی نورے کا دماغ اڑا تھا۔۔”ہاتھ چھوڑ میرا””کیا؟””ہاتھ چھوڑ میرا سنائی نہیں دیتا ہاتھ چھوڑ اس سے پہلے میں تیرا یہی ہاتھ توڑ دوں ” وہ اتنے بری طرح سے غرائی تھی کہ ردابہ نے فوراً سے اسکا ہاتھ چھوڑا۔۔”اپنے یہ گندے ہاتھ مجھ سے دور رکھنا ورنہ ان ہاتھوں کو توڑ کر اس حویلی کے باہر لٹکا دوں گی آئی سمجھ ۔۔۔۔ “”تم۔۔۔ تم دو ٹکے کی،””تو خود ہے دو ٹکے کی آئی سمجھ ۔۔۔” اسکی بات کاٹ نورے اتنی بدتمیزی سے بولی تھی کہ سیڑھیوں پر کھڑے جاذب شاہ کو ردابہ کا چہرہ دیکھ ہنسی آئی تھی۔”اور ہاں کیا کہا تھا جاذب شاہ سے دور رہوں؟ جا نہیں رہتی بلکہ ابھی بھی اسی کے پاس تھی اسکی بانہوں میں ۔۔۔ کیا کرنا ہے میرا ؟” اسکی اتنی بے باکی پر جاذب کی آئی برو داد دینے کے انداز میں اٹھی تھیں۔۔۔ جس سے نورے یکسر انجان تھی۔۔”خون بہا میں آنے والی کے ساتھ وقت گزاری کر رہا ہے جاذب شاہ خوش فہم مت ہونا” اس کی بات پر جہاں نورے استہزایہ انداز میں ہنسی وہیں جاذب کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔”خون بہا میں ہی سہی اسکے ساتھ تو ہوں اور تمہاری کیا حیثیت ہے وہ تو تمہیں منہ بھی نہیں لگاتا بیچاری توجہ کی ماری ” اچھے سے ردابہ کا دل جلاتی وہ واپس پلٹی تھی جب نگاہیں سیدھا جاذب شاہ پر جا ٹہری اور اسی لمحے نورے کا دل کیا تھا زمین پھٹے اور وہ اندر سما جائے۔۔۔
دعا مانگ کر اس نے جائے نماز سمیٹ کر سائیڈ رکھتے وہ بیڈ پر آ بیٹھی۔کچھ دیر پہلے جب وہ باہر نکلی تھی کشور بیگم کی چبھتی نگاہیں اسے اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہوئیں اسکے قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہوئے تو وہ یونہی واپس کمرے میں آگئی۔۔اسکا اس گھر میں آنا اسکا قصور نہیں تھا نا اسکے باپ کا۔۔۔اسے بھوک لگ رہی تھی مگر باہر جانے کا سوچتے ہی اسکا دل خوفزدہ تھا۔ہمت کر کے وہ دوپٹہ سر پر اوڑھتے باہر نکلی سیڑھیاں اترتے وہ نیچے آئی جب اچانک اسکے قدم تھمے تھے۔۔”اے لڑکی۔۔۔ یہاں کیا کر رہی ہو اپنی اوقات بھول گئی ہو ؟”کشور بیگم کی آواز پر اسکے قدم تھمے تھے چہرے پر خوف آیا۔۔”وہ۔۔۔””اپنی اوقات یاد رکھ ایک گند کی پوٹلی کو اس گھر میں جگہ دے دی بہت ہے اپنے کمرے سے باہر آنے کی ضرورت نہیں ہے” ان کے لہجے میں اسکے لئے ہتک ہی ہتک تھی۔۔۔آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں پر بہہ نکلے۔۔۔”دفع کر اپنی شکل” وہ اتنی زور سے بولی تھیں کہ گھر کی دہلیز پر کھڑے جلال نے تاسف سے کشور بیگم کو دیکھا اور پھر زرمینے جو جو فوراً وہاں سے ہٹتی اوپر بھاگی تھی۔۔کمرے میں آتے بند دروازے سے ٹیک لگاتے وہ زمین پر بیٹھتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔”کاش آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے بابا۔۔۔ کاش آپ مجھے یہاں نا لاتے میں جہاں رہتی وہاں کم از کم اپنی ذلت پر مجھے رونا تو نہیں پڑتا وہاں کوئی بار بار مجھے یہ تو باور نا کرواتا کہ میری ماں عزت دار نہیں ہے میری ماں ایک ۔۔” کچھ کہتے اس نے اپنے لب سختی سے بھینچے تھے۔۔۔دروازہ ناک ہونے پر اپنے آنسو صاف کرتے وہ اٹھی تھی جب ملازمہ نے اسے کھانے کی ٹرے تھمائی۔۔اس نے حیرت سے کھانے کی ٹرے کو دیکھا اس گھر میں کوئی اس پر اتنا مہربان نہیں رہا تھا کہ اسکے لئے کھانا بھجوایا جائے مگر اب کھانا آ چکا تھا کھانا دیکھ اسے رونا آیا تھا اسکی ہاسٹل کی زندگی زیادہ اچھی تھی وہاں کم از کم وہ کھل کر سانس تو لیتی تھی۔۔گہرا سانس لیتے وہ کھانا کھانے لگی کیونکہ اسکا تو آج پہلا دن تھا ابھی تو بہت ہونا باقی تھا۔۔۔۔۔___________رات کی سیاہی رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی تھی جب اسکی گاڑی اپنے گھر کے پورچ میں آکر رکی ۔پوری رات وہ اپنے دوست کے ساتھ ہاسپٹل میں تھا اس بیچارے جا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور ایسے میں مامون اسے اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تھا۔پوری رات وہاں گزارنے کے بعد وہ اب گھر آیا تو پورا گھر سناٹوں کی زد میں تھا اس نے حیرت سے بنا واچ مین کے گیٹ کو دیکھا۔اندر آتے وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا مگر جھٹکا تو تب لگا جب شہرے کو غائب پایا۔۔”لٹل گرل ؟”واشروم کا دروازہ ناک کرتے اس نے شہرے کو پکارا مگر وہ وہاں ہوتی تو ملتی ۔۔۔”لٹل گرل کہاں ہو؟” پورے کمرے میں اسے دھونڈتے وہ باہر آیا اور پھر اس نے اپنا پورا گھر چھان مارا تھا مگر وہ وہاں کہیں نہیں تھی۔۔”ڈیم لٹل گرل” اس سے پہلے وہ کوئی ایکشن لیتا اسکا موبائل رنگ ہوا تھا۔۔”ہیلو؟””کیا ہوا شیرازی صاحب کیسے ہیں؟””ڈیوڈ؟””ارے پہچان گئے کیا بات ہے””اپنا منہ بند رکھو اور آئندہ مجھے فون مت کرنا کیا اتنی ذلت کافی نہیں تھی جو پھر ذلیل ہونے آگئے ؟””اس بار ذلیل ہونے کی باری تمہاری ہے کیونکہ تمہاری پیاری بیوی میرے قبضے میں ہے جو کچھ دیر میں میری ہونے والی ہے بچا سکتے ہو تو بچا لو “خباثت سے کہتا وہ کھڑاک سے فون بند کرگیا۔۔”ہیلو۔۔۔ ہیلو؟؟”مامون نے غصے سے موبائل صوفے پر پھینکا تھا اسکی زرا سی لاپرواہی دشمن کو وار کرنے کا وقت دے گئی تھی۔۔جاری ہے