خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    20000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    8000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    5000
    تین ماہ کے لیے

Bold Story میں میری بیوی اور ہمارا راز

Nadia jmk

Member
Joined
Mar 23, 2026
Messages
3
Reaction score
13
Location
Lahore
Gender
Female
ہیلو دوستو میرا نام آتش خان ھے میں بہت ساری پرانی ویبسائٹس پر بہت سی اردو فونٹ اور رومن اردو میں سٹوریز لکھ چکا ہوں، آج دل کیا اپنی اس پسندیدہ ویبسائٹ پر بھی ایک طویل ناول لکھوں، اب آپکی حوصلہ افزائی رہی تو لگتا رہوں گا، آتش خان "

قسط نمبر 1: بارش کی بو اور سلگتی ہوئی آگ✍️

لاہور کی تنگ گلیوں میں بارش نے آج شام کو ایک گہری نمکی خوشبو بکھیر رکھی تھی۔ پرانی اینٹوں والے گھروں کی دیواروں سے بوندیں ٹپک رہی تھیں، ہوا میں ایک عجیب سی گرمی تھی جو جسم کو چھو کر گزر جاتی تھی۔ احمد اپنے بیڈروم کی کھڑکی کے پاس کھڑا باہر دیکھ رہا تھا، مگر اس کی آنکھیں بارش پر نہیں، اپنے اندر اٹھتے طوفان پر تھیں۔
وہ 34 سال کا تھا، باہر سے بالکل نارمل لگتا — اچھی نوکری، پیارا گھر۔ مگر اندر سے وہ ایک ایسے جنون میں جکڑا ہوا تھا جو ہر رات اسے بے چین کر دیتا تھا۔
"احمد... چائے تیار ہے۔"
میرا کی آواز باورچی خانے سے آئی۔ نرم، گہری، اور آج اس میں ایک انجان سی لرزش تھی جو احمد کے کانوں تک پہنچ کر اس کے جسم میں بجلی دوڑا گئی۔
احمد مڑا۔ میرا باورچی خانے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ 29 سال کی، گوری رنگت، لمبے سیاہ بال جو کمر تک لہراتے اور جسم کی ہر حرکت کے ساتھ جھوم اٹھتے۔ ہلکا سبز نائٹی اس کے جسم سے اتنا چمٹا ہوا تھا کہ اس کی بھری ہوئی چھاتیوں کی شکل، ان کی موٹائی، اور نیچے کی طرف جھکاؤ بالکل واضح تھا۔ جب وہ چلی تو اس کی موٹی، گول رانوں اور پھلی ہوئی گانڈ کی لچک دیکھ کر احمد کا سانس بھاری ہو گیا۔
احمد نے پیچھے سے اسے گلے لگایا۔ اس کے ہاتھ میرا کی کمر پر پھسلے اور آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھے۔
"تم آج بہت خطرناک لگ رہی ہو..."
میرا نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا، "خطرناک؟ تمہاری زبان آج بہت چل رہی ہے۔"
احمد نے اسے موڑا۔ اس کی آنکھیں میرا کی آنکھوں میں گھس گئیں۔ "میرا... مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے۔ بہت گہری بات۔"
میرا نے حیرت سے بھویں اٹھائیں۔ "کیا بات ہے؟"
احمد نے اسے صوفے پر بٹھایا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر جوش سے بھری ہوئی تھی۔ وہ لمبی لمبی سانسوں کے ساتھ اپنا راز کھولنے لگا — کس طرح وہ میرا کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ دیکھنے کا سوچ کر پاگل ہو جاتا ہے۔ کس طرح اسے جوش آتا ہے جب وہ تصور کرتا ہے کہ کوئی جوان، مضبوط لڑکا میرا کی بھری ہوئی چھاتیوں کو چھو رہا ہے، اس کی موٹی گانڈ کو تھام رہا ہے۔
میرا سنتی رہی۔ پہلے حیرت، پھر شرم، پھر شدید غصہ۔
"احمد! تم نے کیا سوچ رکھا ہے؟ میں تمہاری بیوی ہوں۔ تم مجھے کسی اور کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہو؟ یہ کتنا گندا خیال ہے!"
احمد نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ "جان، یہ صرف خیال ہے۔ میں تم پر زور نہیں ڈال رہا۔ مگر... اگر تم ایک بار کوشش کرو تو... واشنگ مشین والا بلال... صرف تھوڑا سا قریب آنے دو۔"
میرا اٹھ کھڑی ہوئی، اس کا چہرہ سرخ، سانس تیز۔ "بلال؟ وہ 22 سال کا لڑکا؟ تم پاگل ہو گئے ہو احمد! میں اسے صرف مشین ٹھیک کرنے بلاؤں گی۔ باقی کچھ نہیں۔"
وہ تیزی سے باورچی خانے میں چلی گئی۔ احمد پیچھے بیٹھا رہ گیا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
رات بھر دونوں کے درمیان خاموشی تھی، مگر وہ خاموشی بجلی کی طرح چنگھاڑ رہی تھی۔ میرا بستر پر لیٹی تھی، آنکھیں بند، مگر بلال کی مضبوط بازوؤں، اس کی شرمائی نظروں کا خیال بار بار اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ اس نے خود کو جھڑکا، "میرا، تم پاگل ہو رہی ہو؟" مگر جسم میں ایک عجیب سی گرمی پھیل رہی تھی۔
احمد اس کے پہلو میں لیٹا تھا، اس کا عضو سخت، مگر وہ چپ چاپ سوچ رہا تھا کہ میرا کب تک مزاحمت کرے گی۔
اگلے دن دوپہر ڈھائی بجے میرا نے فون اٹھایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"بلال... واشنگ مشین پھر خراب ہو گئی ہے۔ تم آ سکتے ہو؟"
بلال کی آواز میں جوش تھا۔ "جی بی بی، میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں۔"
میرا نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے جسم کو دیکھا۔ دل میں شدید کشمکش تھی۔ آخر کار اس نے وہ پیلا سوتی قمیض نکالا جو احمد نے پہلے کہا تھا۔ قمیض بہت نرم اور پرانا تھا۔ اس نے اسے گیلے ہاتھوں سے نم کیا۔ اوپر کے تین بٹن کھول دیے۔ اس کی بھری ہوئی چھاتیوں کا گہرا خلا، ان کی موٹائی، اور نپلز کے ہلکے نشان صاف جھلک رہے تھے۔ سفید پتلی شلوار پہنی — اندر کچھ نہیں۔ بال کھلے، ہونٹوں پر گلوس، آنکھوں میں ہلکا سرمہ۔
گھنٹی بجی۔
میرا نے دروازہ کھولا۔ بلال سامنے کھڑا تھا — سفید شرٹ میں اس کا مضبوط سینہ، نسوں والے بازو، تڑنگا جسم۔ اس کی نظر فوراً میرا کی چھاتیوں کے گہرے خلا پر جم گئی۔ وہ کچھ سیکنڈ تک حیران رہا۔
"آؤ اندر بلال..." میرا نے بہت نرم، تقریباً سسکی بھری آواز میں کہا۔
بلال اندر آیا۔ میرا نے جان بوجھ کر اس کے پیچھے چلتے ہوئے اپنی بھری ہوئی گانڈ اس کی رانوں سے ہلکی سی ٹکرائی۔ بلال کا جسم تناؤ میں آ گیا۔
واشنگ مشین کے پاس بلال جھکا تو میرا اس کے بالکل قریب کھڑی ہو گئی۔ جب بلال نے سر اٹھایا تو اس کی ناک میرا کی چھاتیوں سے صرف دو انچ دور تھی۔ گرم سانس چھاتیوں پر پڑ رہی تھی۔
"بلال... تمہارے ہاتھ بہت مضبوط لگتے ہیں۔" میرا نے دھیمی آواز میں کہا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔
بلال کا گلہ خشک ہو گیا۔ "بی بی... آپ آج... بہت... مختلف ہیں۔"
میرا نے مسکراتے ہوئے جھک کر پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔ قمیض اور نیچے سرکنے لگا۔ دونوں بھری ہوئی چھاتیوں کا تقریباً آدھا حصہ بلال کے سامنے تھا۔ بلال کی آنکھیں پھسل گئیں، سانس پھول گئی۔
وہ بار بار جھکتی، قریب آتی، اس کا بازو چھوتی، گانڈ اس کی طرف کر دیتی۔ قمیض گانڈ کی درمیانی لکیر میں پھنس جاتا۔ بلال کے ہاتھ کانپ رہے تھے، پیشانی پر پسینہ، پتلون میں واضح خیمہ بن گیا تھا۔
"بی بی... مجھے بہت... گرمی لگ رہی ہے۔" بلال نے بھری ہوئی آواز میں کہا۔
میرا نے اس کے کان کے قریب منہ لے جا کر دھیمی آواز میں کہا، "گرمی؟ تو پانی پی لو نا... یا کچھ اور چاہیے؟"
بلال نے ہمت کی، اس کا ہاتھ میرا کی ران پر رکھ دیا۔ میرا نے فوراً ہٹا لیا مگر بہت آہستہ، اور مسکراتے ہوئے بولی، "بلال... میں شادی شدہ عورت ہوں۔ تمہیں شرم نہیں آتی؟"
مگر اس کی آواز میں شرم کے ساتھ ایک چھپی ہوئی دعوت تھی۔ بلال پاگل ہو رہا تھا۔ وہ مشین ٹھیک کرتا رہا مگر اس کی نظریں ہر وقت میرا کے جسم پر تھیں۔
آخر میں جب بلال جانے لگا تو میرا نے دروازے تک اس کے ساتھ آ کر کہا، "اگلے ہفتے ضرور آنا... مشین اکثر خراب ہو جاتی ہے۔"
بلال نے مایوسی اور بھوک بھری نگاہوں سے دیکھا اور چلا گیا۔
بلال کے جانے کے فوراً بعد احمد بیڈروم سے باہر نکلا۔ اس کا چہرہ سرخ، سانس تیز۔
"تم نے اسے پاگل کر دیا تھا میرا... میں نے سب دیکھا۔"
میرا نے شرماتے ہوئے مگر جوش سے بھری آنکھوں سے کہا، "میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔ صرف ترسایا۔ اب وہ خود بار بار آئے گا... اور تمہیں انتظار کرنا پڑے گا کہ میں کب تک مزاحمت کرتی ہوں۔"
احمد نے اسے دیوار سے لگا کر سخت بوسہ دیا۔ "یہی تو جوش ہے... یہ انتظار... یہ آگ..."
باہر بارش تیز ہو گئی تھی۔ گھر کے اندر تینوں کے جسموں میں الگ الگ آگ سلگ رہی تھی — احمد کی، میرا کی، اور بلال کی۔
بلال کے جانے کے بعد گھر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی۔ بارش اب بھی تیز تھی، مگر میرا کے جسم کے اندر جو آگ سلگ رہی تھی، وہ بارش سے کہیں زیادہ گرم تھی۔ وہ بیڈروم میں آ کر بستر پر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔ قمیض کے اوپر والے بٹن اب بھی کھلے تھے، چھاتیوں کا گہرا خلا نظر آ رہا تھا۔
احمد نے آہستہ سے اس کے پیچھے سے گلے لگایا۔ اس کی سانس میرا کے کان پر گرم پڑ رہی تھی۔
"تم نے دیکھا؟ اس کی آنکھیں کتنی بھوک سے بھری ہوئی تھیں؟ وہ تمہاری چھاتیوں کو دیکھ کر پاگل ہو رہا تھا۔"
میرا نے شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔ "احمد... تم مجھے مجبور کر رہے ہو۔ میں نے تو بس... تھوڑا سا..."
احمد نے اسے موڑا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "تھوڑا سا؟ تم نے اس کی رانوں سے اپنی گانڈ ٹکرائی، جھک جھک کر پانی دیا، اس کے کان میں سسکی بھری آواز میں بات کی۔ میں نے سب دیکھا ہے۔ تمہیں بھی مزہ آ رہا تھا نا؟"
میرا نے کچھ دیر خاموش رہ کر جواب دیا۔ "مجھے... مجھے عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس کی نظریں جب میری چھاتیوں پر جم جاتی تھیں تو جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ جاتا تھا۔ مگر میں نے اسے کچھ نہیں دیا۔"
احمد کا عضو سخت ہو چکا تھا۔ اس نے میرا کو بستر پر لٹا دیا اور اس کے اوپر آ گیا۔ "اگلے ہفتے وہ پھر آئے گا۔ اور تم اسے اور قریب آنے دو گی۔"
میرا نے احمد کو دھکا دیا۔ "اتنی جلدی نہیں۔ میں ابھی تیار نہیں۔"
مگر احمد جانتا تھا کہ میرا کی مزاحمت اب کمزور ہو رہی تھی۔
تین دن بعد بلال کا فون آیا۔
"بی بی... واشنگ مشین کا کام ٹھیک ہوا تھا نا؟ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتا دیں۔"
میرا نے فون ہاتھ میں تھام کر کچھ دیر سوچا۔ پھر نرم آواز میں بولی، "ہاں بلال... مشین میں پھر کچھ خرابی آ گئی ہے۔ تم آ سکتے ہو؟"
بلال فوراً تیار ہو گیا۔ "جی بی بی، میں آ رہا ہوں۔"
اس بار میرا نے اور زیادہ سوچ سمجھ کر تیاری کی۔ اس نے وہی پیلا قمیض پہنا مگر اس بار اوپر کے چار بٹن کھول دیے۔ قمیض کی پتلی دھار اس کی بھری ہوئی چھاتیوں پر اتنی تناؤ سے چمٹ رہی تھی کہ نپلز کے نشان بالکل واضح تھے۔ شلوار اور بھی پتلی تھی۔ وہ آئینے میں دیکھ کر خود شرما رہی تھی۔ "کیا کر رہی ہوں میں؟"
بلال جب آیا تو میرا نے دروازہ کھولتے ہی مسکرا کر کہا، "آج جلدی آ گئے تم۔"
بلال کی آنکھیں میرا کے جسم پر جم گئیں۔ اس بار قمیض دیکھ کر اس کا منہ کھلا رہ گیا۔ "بی بی... آپ..."
میرا نے اسے اندر بلایا۔ اس بار وہ براہ راست اس کے بہت قریب تھی۔ بلال مشین کے پاس بیٹھا تو میرا اس کے سامنے جھک کر بیٹھ گئی۔ اس کی دونوں چھاتیوں کا تقریباً پورا اوپری حصہ بلال کے سامنے تھا۔ گرم سانس بلال کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
"بلال... آج تمہارے ہاتھ اور بھی مضبوط لگ رہے ہیں۔" میرا نے آہستہ سے کہا۔
بلال کا گلہ خشک ہو گیا۔ وہ مشین دیکھنے کی بجائے بار بار میرا کی چھاتیوں اور گانڈ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرا نے جان بوجھ کر اس کا بازو پکڑا اور اپنی ران پر رکھ دیا۔ بلال نے ہمت کر کے آہستہ آہستہ ہاتھ اوپر کی طرف سرکایا۔
میرا نے ہلکا سا سسکی بھری آواز میں کہا، "بلال... دھیرے... میں شادی شدہ ہوں۔"
مگر اس نے ہاتھ نہیں ہٹایا۔ بلال کی انگلیاں میرا کی ران کی اندرونی طرف پھسل رہی تھیں۔ میرا کا جسم کانپ رہا تھا۔ وہ احمد کی طرف دیکھ رہی تھی جو کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے سب دیکھ رہا تھا۔
احمد کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ بلال نے میرا کی ران پر ہاتھ پھیرا، پھر آہستہ سے قمیض کے نیچے ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔ میرا نے ہاتھ روک لیا مگر اسے مکمل طور پر ہٹایا نہیں۔
"بلال... بس... آج نہیں۔" میرا نے سسکی بھری آواز میں کہا مگر اس کی آنکھوں میں بھوک تھی۔
بلال نے میرا کی گردن پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ میرا نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا سانس بھاری ہو گیا۔ بلال نے ہمت کی اور قمیض کا ایک اور بٹن کھول دیا۔ اب میرا کی بائیں چھاتی کا بڑا حصہ باہر جھانک رہا تھا۔ بلال نے اسے دیکھا تو اس کا عضو پتلون میں سخت تناؤ پر تھا۔
میرا نے بلال کا ہاتھ پکڑ کر اپنی چھاتی کے قریب لے گئی مگر آخری لمحے روک لیا۔ "نہیں بلال... ابھی نہیں۔ تمہیں انتظار کرنا پڑے گا۔"
بلال پاگل ہو رہا تھا۔ "بی بی... آپ مجھے تڑپا رہی ہیں۔"
میرا نے مسکراتے ہوئے کہا، "تڑپنا اچھا ہے نا؟ اگلے ہفتے پھر آنا۔ تب تک سوچ لو کہ تم مجھے کیا دینا چاہتے ہو۔"
بلال مایوسی اور شدید بھوک کے ساتھ چلا گیا۔ اس کی چال بھی لڑکھڑا رہی تھی۔
بلال کے جانے کے بعد احمد باہر نکلا۔ وہ میرا کو دیوار سے لگا کر کھڑا ہو گیا۔
"تم نے اس بار اسے اور قریب آنے دیا۔ اس نے تمہاری ران چھوئی، گردن چومی۔"
میرا نے شرماتے ہوئے احمد کی آنکھوں میں دیکھا۔ "ہاں... مگر میں نے اسے مکمل نہیں دیا۔ تمہیں یہ دیکھ کر جوش آ رہا ہے نا؟"
احمد نے میرا کے قمیض کے باقی بٹن بھی کھول دیے۔ اس کی بھری ہوئی چھاتیوں کو باہر نکالا اور زور زور سے چوسنے لگا۔ میرا نے احمد کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور آہستہ آہستہ moan کیا۔
"احمد... بلال کا ہاتھ... بہت گرم تھا۔"
احمد پاگل ہو گیا۔ اس نے میرا کو بستر پر لٹا دیا اور اس رات بہت دیر تک اسے چودا۔ مگر دونوں کے ذہن میں بلال ہی تھا۔
رات کو میرا سوچ رہی تھی، "اب کب تک روک پاؤں گی؟"
احمد سوچ رہا تھا، "اب بلال اگلے ہفتے اور بھی پاگل ہو کر آئے گا۔"
باہر بارش تھم چکی تھی مگر گھر کے اندر تینوں کی آگ روز بروز بڑھ رہی تھی۔
قسط کا اختتام
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Back
Top