- Moderator
- #1
آسیہ نے کتاب بند کر کے میز پر رکھی، ٹیبل لیمپ بند کیا اور لیٹنے ہی لگی تھی کہ اس کے فون کی میسج ٹون بج اٹھی۔ کمرے میں زیرو کا بلب جل رہا تھا، جس کی مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے چونک کر سائیڈ ٹیبل پر پڑے فون کو دیکھا۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس وقت رافع کا میسج ہوگا۔ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اسے گڈ نائٹ کا میسج ضرور کرتا تھا۔اس وقت سوا بارہ بج رہے تھے۔ آسیہ کی عادت تھی کہ وہ سونے سے پہلے کم از کم بیس پچیس منٹ کسی کتاب کا مطالعہ ضرور کرتی تھی۔ ان دنوں وہ ایک رومانوی ناول پڑھ رہی تھی، اتنا طویل اور دلچسپ تھا کہ آسیہ روزانہ اس کے پندرہ بیس صفحات ضرور پڑھتی تھی۔ چونکہ اسے صبح جلدی اٹھنا اور آفس جانا ہوتا تھا، اس لیے وہ رات گیارہ بجے سو جاتی تھی۔ بہرحال، اس نے میسج کا جواب دے کر سیل فون میز پر رکھ دیا۔ چند ہی لمحے گزرے تھے کہ میسج ٹون ایک بار پھر بج اٹھی۔لگتا ہے رافع صاحب کو نیند نہیں آ رہی، اسی لیے میسج پر میسج کیے جا رہے ہیں۔ آسیہ زیر لب بڑبڑائی اور فون دوبارہ اٹھا لیا، لیکن اس بار میسج رافع کی طرف سے نہیں، کسی انجان نمبر سے تھا، جس میں کوئی تصویر بھیجی گئی تھی۔آسیہ کو تجسس ہوا کہ وہ نمبر کس کا ہے۔ پہلے تو وہ نمبر پر غور کرتی رہی، گویا یاد کرنے کی کوشش کر رہی ہو، لیکن اس کی یادداشت میں وہ نمبر نہیں تھا۔ بالآخر اس نے میسج اوپن کر دیا اور اس میں موجود تصویر دیکھی تو اچھل کر بیٹھ گئی، جیسے پلنگ میں اسپرنگ لگے ہوں۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تصویر کو دیکھ رہی تھی۔ تصویر اس اور رافع کی تھی، جس میں وہ محبت بھری نظروں سے رافع کی طرف دیکھ رہی تھی، جبکہ رافع مسکرا رہا تھا۔
دونوں ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر کھانا رکھا ہوا تھا۔یہ تصویر کس نے بنا کر بھیجی ہے، آسیہ بڑبڑائی۔وہ چند لمحے کچھ سوچتی رہی، پھر اس نمبر پر لکھا، کون ہو تم اور یہ تصویر بھیجنے کا کیا مقصد ہے۔ لکھ کر ریپلائی کردیا اور بے تابی کے ساتھ جواب کا انتظار کرنے لگی۔ دو منٹ گزر گئے، لیکن انجان شخص نے اس کا میسج نہ دیکھا۔ تبھی اس نے ایک اور میسج بھیجا۔ پلیز بتاؤ، کون ہو تم، جواب دو۔لیکن اس بار بھی وہی صورت حال رہی۔ وہ فون بند کرنے ہی لگی تھی کہ انجان شخص کی طرف سے جوابی میسج موصول ہوا۔ تمہارا دوست۔ یہ پڑھ کر آسیہ کے چہرے پر غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات ابھر آئے۔ اس نے لکھا، کیا بکواس کر رہے ہو، تم میرے دوست کیسے ہو سکتے ہو۔ میں مردوں سے دوستی رکھنا پسند نہیں کرتی۔ اپنا نام اور یہ تصویر بھیجنے کا مقصد بتاؤ۔تو رافع تمہارا کیا لگتا ہے۔ وہ بھی تو تمہارا دوست ہی ہے ناں۔ میں بھی دوست بننا چاہتا ہوں۔آسیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ خیال ہی اس کے لیے سوہان روح تھا کہ کسی انجان شخص کو اس کی اور رافع کی دوستی کا علم تھا، حالانکہ اس نے اپنی طرف سے اس دوستی کو انتہائی خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اس کی وجہ اس کے گھر والے اور رشتے دار تھے۔ اس کے خاندان میں کسی بھی فرد کو اگر یہ پتا چل گیا کہ آسیہ کی کسی لڑکے سے دوستی ہے، تو اس کی بہت بدنامی ہوگی۔ رافع نہ صرف اس کا دوست بلکہ کولیگ بھی تھا۔آسیہ کمپیوٹر آپریٹر تھی، جب کہ رافع سپروائزر تھا۔ دونوں کی علیک سلیک آفس میں ہی ہوئی تھی اور بات ہوتے ہوتے دوستی تک پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں وہ رافع کو پسند کرنے لگی۔ اسے لگتا تھا کہ رافع بھی اسے پسند کرتا ہے لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی تاحال ایک دوسرے سے اظہار محبت نہیں کیا تھا۔
آسیہ سمجھتی تھی کہ اسے جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ در حقیقت وہ چاہتی تھی کہ رافع خود اظہار محبت کرے اور بات آگے بڑھے۔ آفس میں کام کرنے والوں کے ساتھ رافع کا رویہ بہت اچھا تھا۔ سب لوگ اس کی تعریف کرتے دکھائی دیتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آسیہ کو بھی اس میں کوئی خامی نہیں دکھائی دی تھی۔آج رافع نے اسے ڈنر کی دعوت دی، تو وہ انکار نہ کر سکی اور اس کی دعوت قبول کر لی۔ اس نے گھر والوں کو فون کر کے کہہ دیا تھا کہ آج آفس میں کام زیادہ ہے، اس لیے وہ تھوڑی دیر سے آئے گی۔ اس کا خیال تھا کہ رافع آج اس سے نہ صرف اظہار محبت کرے گا بلکہ ممکن ہے اسے شادی کے لیے بھی پرپوز کرے۔جب وہ ریسٹورنٹ پہنچی، جس کی لوکیشن رافع نے شام میں ہی بھیج دی تھی، رافع ایک ٹیبل پر بیٹھا اس کا منتظر تھا۔ سب کچھ اس کی توقع کے عین مطابق ہوا۔ ڈنر کرنے کے بعد رافع نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ آسیہ یہ سن کر پھولے نہیں سمائی اور شرماتے ہوئے سر جھکا لیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی شادی پر راضی ہے۔ عین اسی لمحے رافع کو ایک ایمرجنسی فون آ گیا، جس کی وجہ سے اسے فوراً وہاں سے جانا پڑا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی خاموشی سے ان کی تصویر بنا لے گا۔کیا سوچ رہی ہیں میڈم، آسیہ سوچوں میں غلطاں تھی کہ انجان شخص کا نیا میسج آ گیا۔ میں سوری مسٹر، میں نے کہا تھا کہ میں مردوں سے دوستی نہیں کرتی۔ رہی رافع کی بات، تو وہ میرا کولیگ ہے اور کچھ نہیں۔ اب مجھے میسج نہ کرنا، میں فون بند کر رہی ہوں، آسیہ نے میسج بھیجا اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کے وجود میں سنسناہٹ دوڑ رہی تھی اور دل خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک بار پھر میسج ٹون بج اٹھی۔ وہ میسج دیکھنا نہیں چاہتی تھی، لیکن دیکھنا پڑا۔اب کی بار انجان آدمی نے لکھا تھا، ٹھیک ہے، تم مجھ سے دوستی بے شک نہ کرو، لیکن تمہیں میری ڈیمانڈ پوری کرنا ہوگی۔ اور اگر تم نے میری ڈیمانڈ پوری نہ کی تو میں یہ تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دوں گا۔ آسیہ کا دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ سوشل میڈیا پر تصویر پوسٹ کرنے کا مطلب اس کی بدنامی تھا۔ اس کا تعلق متوسط، مگر ایک معزز گھرانے سے تھا۔ وہ اُن لڑکیوں میں سے ہرگز نہیں تھی، جنہیں اپنی عزت کی پروا نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں اگر اس کے بھائی عادل نے اس کی تصویر دیکھ لی تو وہ آپے سے باہر ہو جائے گا، یہاں تک کہ وہ رافع اور اسے قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔
وہ چار بہن بھائی تھے۔ سب سے بڑا عادل، اس سے چھوٹا عدیل، پھر آسیہ اور سب سے چھوٹی نادیہ تھی۔ دونوں بھائی شادی شدہ تھے جبکہ وہ اور نادیہ غیر شادی شدہ تھیں۔ وہ جاب کرتی تھی، جب کہ نادیہ ابھی فرسٹ ایئر میں تھی۔ دونوں بہنوں کا کمرہ مشترکہ تھا۔ چونکہ ان دنوں نادیہ ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی، اس لیے وہ اپنے کمرے میں اکیلی تھی۔مجھے اس سلسلے میں رافع سے بات کرنی چاہیے، دفعتاً اس کو خیال آیا، تو اس نے رافع کو فون کر دیا۔ دوسری طرف مسلسل گھنٹی بجتی رہی، لیکن رافع نے فون نہ اٹھایا۔ شاید وہ سو چکا تھا۔ آسیہ نے جھنجلا کر موبائل میز پر رکھ دیا اور ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر سوچنے لگی کہ اب کیا کرے۔چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک بار پھر میسج آ گیا۔جی میڈم، تم نے جواب نہیں دیا۔کیا جواب دوں، آسیہ نے غصے میں لکھا۔ عین اسی وقت میسج دیکھ لیا گیا اور چند لمحوں کے بعد ہی جواب بھی آ گیا۔ میں جانتا ہوں کہ تم اس وقت پریشان ہو۔ چلو، کوئی بات نہیں۔ تم اب سو جاؤ، ہم کل بات کریں گے۔ میں تمہیں کل اپنی ڈیمانڈ بتاؤں گا۔ ہاں، یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی کہ میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تم سے دوستی نہیں کرنا چاہتا، بس تم میری ڈیمانڈ پوری کر دو، پھر میں ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی سے دور چلا جاؤں گا۔ڈیمانڈ، آسیہ بڑبڑائی، پھر اس نے میسج ٹائپ کیا، کیسی ڈیمانڈ، کیا چاہتے ہو تم؟ لیکن دوسری طرف سے جواب نہ آیا کیونکہ اجنبی آف لائن ہو گیا تھا۔ آسیہ نے ایک لمبی سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور کافی دیر تک اس صورت حال کے بارے میں سوچتی رہی۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی نیند ختم ہو چکی تھی۔ وہ کروٹوں پر کروٹیں بدلتی اور انجان شخص کے بارے میں سوچتی رہی کہ وہ اس سے کیا چاہتا ہے۔
سوچتے سوچتے بالآخر وہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔آسیہ بیدار ہوئی تو صبح کے سوا سات بج رہے تھے۔ وہ چونکہ رات کو دیر سے سوئی تھی، اس لیے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ یکدم انجان نمبر سے بھیجی گئی تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی، تو اس کا دل یکبارگی دھڑک اٹھا۔ وہ اپنے سیل فون کو گھورتی رہی کہ اسی اثناء میں اس کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔آسیہ، کیا آج تم نے آفس نہیں جانا، امی نے پوچھا۔ رکشے والا آچکا ہے۔جانا ہے امی، آسیہ نے جواب دیا۔ اس کے لہجے پر وہ ٹھٹکیں اور قریب بیٹھتے ہوئے بولیں، کیا بات ہے آسیہ، مجھے تم پریشان دکھائی دے رہی ہو، کیا کچھ ہوا ہے؟نہیں امی، کیا ہونا ہے اور میں کیوں پریشان ہوں گی، آسیہ نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا۔ وہ پریشان تو تھی، لیکن کمال مہارت سے اپنی پریشانی پر قابو پا لیا تھا۔اچھا ٹھیک ہے، تم تیار ہو کر آ جاؤ، امی نے اٹھتے ہوئے کہا، میں نے تمہارے لیے ناشتا بنا لیا ہے۔مجھے بھوک نہیں ہے، میں ناشتہ نہیں کروں گی، آسیہ بولی۔ یہ سچ تھا کہ اس کی بھوک مر چکی تھی۔تو کیا خالی پیٹ آفس جاؤ گی، امی نے پوچھا۔مجھے بھوک لگی، تو باہر سے کچھ منگوا کر کھا لوں گی، آسیہ نے کہا۔اچھا، چائے تو پیتی جاؤ، امی بولیں۔ جی اچها امی چلی گئیں تو آسیہ اٹھی، الماری سے استری کیا ہوا لباس نکالا اور واش روم میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ تیار ہو کر باورچی خانے میں پہنچی تو امی اس کا انتظار کرتی ہوئی چائے بنا رہی تھیں۔ آسیہ نے کپ اٹھایا اور جلدی جلدی چائے پینے لگی۔آرام سے، منہ جل جائے گا، امی نے اسے ٹوکا۔امی، آفس سے دیر ہو رہی ہے۔ آٹھ بجنے والے ہیں، آسیہ نے تیزی سے چائے پیتے ہوئے کہا۔میں تو کب سے کہہ رہی ہوں، جاب چھوڑ دو، امی بولیں۔ تمہیں جاب کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن تم سنتی کہاں ہو۔امی، جاب میں اپنے شوق کی خاطر کرتی ہوں، آسیہ نے جواب دیا اور کپ میز پر رکھ کر بیرونی دروازے کی طرف چل دی۔ کپ میں چائے ابھی باقی تھی۔رکشہ اس کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ آسیہ کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے رکشہ آگے بڑھا دیا۔بی بی جی، آج آپ لیٹ نہیں ہو گئیں؟ اس نے پوچھا۔ وہ آدھیڑ عمر آدمی تھا۔ہاں چاچا، آج آنکھ دیر سے کھلی تھی، آسیہ نے کہا۔اس کے بعد آٹو رکشے میں خاموشی چھا گئی۔
☆☆☆
آسیہ آفس پہنچی تو نو بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ وہ ہینڈ بیگ سنبھالے رافع کے کمرے کی طرف بڑھی۔ ابھی وہ دستک دینے ہی والی تھی کہ دروازہ اچانک کھلا اور رافع سامنے آیا۔ آسیہ کے چہرے پر بوکھلاہٹ اور پریشانی دیکھ کر وہ چونک گیا۔آسیہ، خیریت تو ہے؟ آپ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ رات آپ نے فون بھی کیا تھا لیکن میں سو گیا تھا، اس لیے بات نہیں ہو سکی۔ وہ ایک ہینڈسم نوجوان تھا، عمر تقریباً تیس سال کے لگ بھگ۔کیا ہم تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں؟ آسیہ نے پوچھا۔ہاں بالکل، آئیں کینٹین چلتے ہیں۔ چائے بھی پی لیں گے، رافع نے کہا۔وہ دونوں کینٹین میں آ گئے۔ رافع نے ویٹر کو دو چائے لانے کا کہا، پھر آسیہ کی طرف متوجہ ہوا۔جی بولیے، کیا کہنا چاہتی ہیں؟آسیہ نے اپنا سیل فون نکالا، تصویر کھولی اور رافع کے سامنے کر دی۔ تصویر دیکھ کر رافع کے چہرے پر بھی حیرت کے تاثرات پھیل گئے۔یہ تصویر… یہ کس نے بنائی ہے؟ وہ حیرت سے بولا۔معلوم نہیں، آسیہ نے فون میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ رات کو کسی انجان نمبر سے یہ تصویر مجھے بھیجی گئی تھی۔ تصویر بھیجنے والا جانتا ہے کہ ہم دونوں دوست ہیں۔لیکن اس کا مقصد کیا تھا؟ رافع کے لہجے میں اس بار تفکر تھا۔اس پر آسیہ نے اسے پوری واٹس ایپ گفتگو بتا دی۔ رافع بڑی توجہ سے سنتا رہا۔ اس کی کشادہ پیشانی پر سوچ کی لکیریں ابھر آئی تھیں۔یعنی اس نے پہلے کہا کہ وہ آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہے، پھر کہا کہ اس کی کوئی ڈیمانڈ ہے؟ رافع نے کہا۔جی، ایسا ہی ہے، آسیہ نے سر ہلایا۔کون ہو سکتا ہے یہ گھٹیا آدمی، اور کیا چاہتا ہے؟ اگر مجھے معلوم ہو جائے تو میں اس کی جان لے لوں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی لڑکی کو تنگ کرے، رافع دانت سختی سے بھینچتے ہوئے بولا۔میں خود بھی پریشان ہوں، آسیہ نے مدہم آواز میں کہا۔ویسے آپ کو کس پر شک ہے؟ رافع نے پوچھا۔مجھے… میں کیا کہہ سکتی ہوں، آسیہ الجھن میں پڑ گئی۔مجھے لگتا ہے یہ آپ کا کوئی جاننے والا یا رشتے دار ہے، رافع نے سوچتے ہوئے کہا، کیونکہ اس نے آپ سے بات کی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کا کوئی چاہنے والا ہو اور آپ کو میرے ساتھ دیکھ کر برا مان گیا ہو۔آسیہ نے قدرے خفگی سے کہا، میرا کوئی چاہنے والا نہیں ہے، اور نہ ہی میرا کوئی رشتے دار ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ہونے کو اس دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، رافع نے ناصحانہ لہجے میں کہا۔ بہرحال، شام تک انتظار کر لیں، دیکھتے ہیں وہ کیا ڈیمانڈ کرتا ہے۔اسی دوران چائے آ گئی تو وہ خاموش ہو گیا۔ جیسے ہی ویٹر گیا، رافع نے پھر بات شروع کی۔مجھے لگتا ہے وہ گھٹیا آدمی آپ سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرے گا۔میں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے، لیکن میں پیسے کہاں سے لاؤں؟ اگر میرے گھر والوں کو معلوم ہوا تو بہت برا ہوگا۔ میرے بھائی بہت سخت مزاج ہیں، وہ تو میری جان ہی لے لیں گے، آسیہ نے بے چینی سے کہا۔آپ پریشان نہ ہوں، ایسا کچھ نہیں ہوگا، رافع نے تسلی دی۔ پہلے یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ وہ ہے کون۔آسیہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر پریشانی اب بھی اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ رافع نے کہا، چائے پئیں، تو آسیہ نے کپ اٹھا کر لبوں تک لے آئی۔
☆☆☆
آسیہ کا سارا دن کام میں گزر گیا۔ شام کو وہ گھر پہنچی تو بے حد تھکی ہوئی تھی۔ اس نے امی سے چائے بنوائی اور لان میں جا کر بیٹھ گئی۔ وہ چائے پی رہی تھی کہ اس کے موبائل کی میسج ٹون بج اٹھی۔ آسیہ کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے کپ میز پر رکھا اور فون اٹھا کر میسج دیکھا۔ اسی نمبر سے اسے ایک نیا میسج آیا تھا۔آسیہ نے ہونٹ بھینچے اور میسج کھولا۔ لکھا تھا: جی آسیہ میڈم، کیسی ہو؟ آج کا دن کیسا گزرا؟ یقیناً تم نے میرے بارے میں رافع سے بات کی ہوگی۔وہ چند لمحے میسج کو گھورتی رہی، پھر اس نے فوری طور پر واٹس ایپ پر کال کر دی۔ دوسری طرف گھنٹی بجتی رہی۔ ڈی پی پر ایک پھول کی تصویر تھی۔تیسری گھنٹی کے بعد کال کاٹ دی گئی۔ آسیہ نے جھنجھلا کر دوبارہ کال ملائی، لیکن اس بار پہلے ہی بیل میں اجنبی نے کال کاٹ دی۔مجبوراً آسیہ نے میسج لکھنا شروع کیا۔آخر تم کون ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو؟جواب آیا، فون نہ کرو، میں تمہارا فون نہیں سنوں گا۔ پھر لمحے بھر بعد ایک اور میسج آیا: اگر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میری آواز سن کر مجھے پہچاننے کی کوشش کرو گی، تو یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔آسیہ نے غصے میں لکھا، میں پولیس کو رپورٹ کرتی ہوں۔جواب آیا، شوق سے کرو، لیکن اس سے پہلے ہی تمہاری اور رافع کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے گی۔ میری نظریں تم پر ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تم ابھی اپنے گھر میں موجود ہو۔آخر کون ہو تم، کیا چاہتے ہو؟ آسیہ نے غصے والا ایمرجی بھی بھیجا۔ جواب میں اجنبی نے ہنستے ہوئے کا اموجی بھیج دیا۔پھر ایک میسج آیا: بیس لاکھ۔بیس لاکھ؟ آسیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ کیا تمہارا دماغ خراب ہے؟ابھی تو نہیں ہے، لیکن اگر تم نے میری ڈیمانڈ پوری نہ کی تو شاید خراب ہو جائے۔ اور اگر میرا دماغ خراب ہو گیا تو میں تمہاری تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔یا اللہ، میں کیا کروں…؟ وہ بڑبڑائی، پھر لکھا: سوری، میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ تمہاری ڈیمانڈ پوری کر سکوں۔ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں، میرا پیچھا چھوڑ دو۔اجنبی نے جواب دیا: بیس لاکھ دے دو، میں ہمیشہ کے لیے تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا۔میں نے کہا ناں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، آسیہ نے پھر لکھا۔اپنے بھائیوں سے مانگ لو، وہ تو کافی امیر ہیں۔کیا کہہ کر مانگوں؟ کیا تم پاگل ہو؟کچھ بھی کہہ لو، کسی سہیلی کی بیماری کا بہانہ کر لو، لیکن مجھے بیس لاکھ چاہئیں، ورنہ…اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ اسی لمحے امی چائے کے برتن اٹھانے آئیں۔ کپ میں چائے دیکھی تو حیران رہ گئیں۔آسیہ۔آسیہ ایسے اچھلی جیسے اس کے پیروں تلے بارود پھٹ گیا ہو۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر گھاس پر جا گرا، جسے اس نے جلدی سے اٹھا لیا۔ امی حیرت سے اس کا جائزہ لینے لگیں۔کیا بات ہے آسیہ، تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟کک… کچھ نہیں امی، آسیہ نے گھبراہٹ سے کہا۔تم نے چائے بھی نہیں پی…؟ انہوں نے کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میری بچی، اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ، میں کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوں گی۔امی، کوئی مسئلہ نہیں ہے، آسیہ نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ آپ اچانک آ گئیں، تو میں ڈر گئی تھی۔چائے بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے، امی نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا اور کچن میں چلی گئیں۔ آسیہ ان کی پشت کو دیکھتی رہی، پھر اپنے فون کی طرف دیکھا۔ اجنبی کے کئی میسجز آ چکے تھے۔مس آسیہ، جواب نہیں دیا۔ میں تمہارے جواب کا کافی دیر سے انتظار کر رہا ہوں۔چند سیکنڈ بعد ایک اور دھمکی آمیز میسج آئے: یہ میرا آخری میسج ہے۔ میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔
اگر تم نے تین دن میں بیس لاکھ نہ دیے، تو میں تم دونوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ صرف تین دن کی مہلت ہے۔ گڈ بائے۔آسیہ بے حد پریشان ہو گئی۔ وہ سخت مخمصے کا شکار تھی۔ کچھ سوچ کر اس نے اس نمبر پر فون کیا، لیکن حسبِ معمول وہ آف لائن ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنا فون ہی بند کر دیا تھا کیونکہ آسیہ نے بار بار اس کے نمبر پر کال کی تھی۔ کمینہ کہیں کا… آسیہ جھنجلائی، پھر اس نے رافع کو فون کر دیا۔ علیک سلیک کے بعد رافع نے استفسار کیا کہ کیا گھٹیا شخص کا دوبارہ میسج آیا؟ آسیہ نے بتایا کہ ابھی اسی سے بات ہو رہی تھی۔رافع نے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ آسیہ نے کہا کہ اس نے بیس لاکھ مانگے ہیں۔ رافع یہ سن کر حیران رہ گیا۔ آسیہ نے مزید بتایا کہ اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اسے بیس لاکھ نہ دے تو وہ دونوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا۔ اس نے تین دن کی مہلت بھی دی ہے۔ آسیہ خوف بھرے لہجے میں کہنے لگی کہ اسے بہت ڈر لگ رہا ہے۔یہ واقعی پریشانی کی بات تھی۔ اس بار رافع کے لہجے میں بھی پریشانی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ پھر وہ کیا کرے گی۔ آسیہ نے جواب دیا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اور رافع سے مشورہ مانگا کہ وہ کیا کرے۔رافع نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا کہ وہ کیا مشورہ دے سکتا ہے۔ اس کے پاس اتنی رقم ہوتی تو وہ خود وہ رقم دے دیتا۔ آسیہ نے کہا کہ وہ اس کی بات سمجھتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔ اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا اس کے لیے آسان نہیں اور اگر بات گھر والوں تک پہنچی تو اس کے بھائی دونوں کو جان سے مار دیں گے۔رافع نے افسوس سے کہا کہ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے، یہ اس کی غلطی تھی کہ وہ آسیہ کو کھانے کی دعوت دے بیٹھا۔ اس نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے آسیہ کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔آسیہ نے دل گرفتگی سے کہا کہ وہ پریشان ہے۔ وہ جانتی ہے کہ لڑکی کی عزت بہت نازک ہوتی ہے۔ ایک بار بدنامی کا داغ لگ جائے تو ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ پھر اس نے کہا کہ وہ کچھ کرنے کی کوشش کرے گی۔رافع نے اسے تاکید کی کہ وہ جو بھی کرے، اسے ضرور آگاہ کرے، اور یہ بھی کہا کہ وہ اس موقع پر اس کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ساتھ رہے گا۔آسیہ نے شکریہ ادا کیا اور فون بند کر دیا۔ پھر وہ دوبارہ سوچ میں ڈوب گئی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اگلے دن اس کمپنی میں جائے گی جس کی سم وہ اجنبی استعمال کر رہا تھا۔ شاید اس نمبر کی کوئی معلومات مل جائے۔ اسی امید کے ساتھ وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
☆☆☆
کیا بنامس آسیہ؟ جیسے ہی وہ آفس کی راہداری میں داخل ہوئی، وہاں پہلے سے موجود رافع نے علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ کیا اس گھٹیا شخص کا دوبارہ فون آیا ہے۔پلیز، آہستہ بولیں۔اوه، سوری۔ رافع کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر راہداری میں ان دونوں کے سوا کوئی موجود نہ تھا۔نہیں، اس کا دوبارہ فون نہیں آیا۔ آسیہ نے وہیں سے بات جاری رکھی جہاں اس نے رافع کو روکا تھا۔ میں نے اس کے نمبر پر فون بھی کیا تھا۔ میں اس کی آواز سننا چاہتی تھی، لیکن اس کا فون بند تھا۔ یہاں تک کہ وہ واٹس ایپ پر بھی آف لائن ہو چکا ہے۔ بہرحال، وہ کب تک بچے گا؟ میں اس کا پتا لگا کر رہوں گی۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔آپ کیا کریں گی؟ رافع اس کے بدلتے ہوئے چہرے کے تاثرات غور سے دیکھ رہا تھا۔میں آج اس کمپنی کے آفس جاؤں گی جس کی سم وہ گھٹیا شخص استعمال کر رہا ہے۔ آسیہ نے اپنا منصوبہ بتایا۔ اور اس کے خلاف شکایت درج کرواؤں گی۔ مجھے امید ہے کہ کمپنی والے مجھے اس کے متعلق معلومات دے دیں گے۔ جیسے ہی معلومات ملیں، میں فوراً پولیس میں اس کے خلاف درخواست دے دوں گی۔رافع چند لمحے اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتا رہا، پھر بولا کہ کمپنی والے اسے سم کے متعلق معلومات نہیں دیں گے، یہ ان کے اصول کے خلاف ہے۔ وہ نمبر اسے دے دے، اس کمپنی میں اس کا ایک واقف کار موجود ہے، وہ اس شخص کے بارے میں معلوم کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ اب یہ صرف اس کا نہیں، رافع کا بھی مسئلہ تھا۔ اس نے مزید کہا کہ پولیس میں جانے کی ضرورت نہیں، خواہ مخواہ دونوں کی بدنامی ہو گی اور پولیس الگ پریشان کرے گی۔اگر ایسا ہو جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ کم از کم اس اجنبی کے بارے میں معلوم تو ہو جائے گا۔ آسیہ اس کی باتوں سے متفق ہوئی۔ہاں، بالکل۔ اس کے بعد ہم مل کر اس کے خلاف کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔ آپ وہ نمبر دیں۔آسیہ نے اپنے موبائل میں سے اس اجنبی کا نمبر، جسے اس نے گھٹیا شخص کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا، رافع کو دے دیا۔ وہ اپنے دوست کو فون کرنے میں مصروف ہو گیا، تو آسیہ اپنے کمرے میں واپس آ گئی۔ وہ پُرامید تھی کہ رافع ضرور اس شخص کے بارے میں کچھ پتا لگا لے گا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ رافع کا میسج آ گیا۔ اس نے لکھا تھا کہ اس نے اپنے دوست کو وہ نمبر دے دیا ہے، وہ پریشان نہ ہو، بہت جلد اس کے بارے میں معلوم ہو جائے گا۔ آخر میں اس نے لکھا تھا: آئی لو یو۔آخری الفاظ پڑھ کر آسیہ کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ چند لمحوں کے لیے وہ اپنا مسئلہ بھول گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے رافع کا مسکراتا چہرہ ابھر آیا۔ جواب میں اس نے بھی یو ٹو کا میسج بھیج دیا۔
☆☆☆
اجنبی شخص کی طرف سے دی گئی مہلت کے دو دن گزر چکے تھے۔ اب صرف ایک دن رہ گیا تھا، اس کے بعد مہلت ختم ہو جانا تھی۔ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ آسیہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں آئی تو نادیہ اپنے بستر پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ آسیہ نے اس سے کوئی بات نہ کی، شاید اس نے اس کی پڑھائی میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا تھا۔ وہ موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بستر پر دراز ہو گئی۔ دفعتاً اس کے موبائل کی میسج ٹون بج اٹھی۔ آسیہ کا دل یکبارگی دھڑکا۔ نادیہ نے کتاب پر سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔ اسی دوران وہ فون اٹھا چکی تھی۔ وہی گھٹیا شخص تھا جس نے میسج بھیجا تھا۔ آسیہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ میسج کھولا۔لکھا تھا:ہیلو مس! مہلت میں دیے گئے تین دنوں میں سے دو دن گزر چکے ہیں۔ تمہارے پاس کل کا آخری دن ہے۔ اور ہاں، مجھے معلوم ہے کہ تم رافع کے ساتھ مل کر مجھے تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ رافع نے فون کمپنی میں اپنے کسی واقف کار سے بھی رابطہ کیا ہے، لیکن یاد رکھو! رافع کو روک دو، ورنہ تمہیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔اتنا لمبا اور دھمکی آمیز میسج پڑھ کر آسیہ خوف زدہ ہو گئی۔ اس نے جواب دینے کے بجائے میسج کاپی کر کے رافع کو بھیج دیا۔ اتفاق سے وہ جاگ رہا تھا، اس نے فوراً فون کر دیا۔ گھنٹی کی آواز نے خاموش فضا میں ارتعاش ڈال دیا تو نادیہ نے پھر چونک کر اس کی طرف دیکھا۔باجی! اس وقت کس کا فون ہے؟میرے آفس سے ہے… آسیہ کہتی ہوئی اٹھ کر بالکونی میں جا کھڑی ہوئی۔ہیلو آسیہ! جیسے ہی اس نے فون اٹھایا، دوسری طرف سے رافع کی بےتاب آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔میں بھی جانتا ہوں رافع، میں بہت پریشان ہوں۔ وہ گھٹیا آدمی کہہ رہا ہے کہ آپ نے فون کمپنی میں اپنے کسی واقف کار سے رابطہ کیا ہے اور…کول ڈاؤن آسیہ! رافع نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ پریشان نہ ہو، وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میرے دوست نے اس کے متعلق معلومات دی ہیں۔یہ سن کر آسیہ کے چہرے پر تجسس کے آثار پیدا ہو گئے۔ وہ بےتابانہ لہجے میں بولی: اوہ… یہ تو بہت اچھا ہوا ہے۔ کون ہے وہ؟اس کا نام اسلم سلمان ہے، رافع بتانے لگا۔ وہ گلبرگ کا رہنے والا ہے۔ میں وہاں جا کر اس کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش بھی کر چکا ہوں، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس نام کا آدمی گلبرگ میں ایک فلیٹ میں رہتا تھا، مگر کافی عرصہ پہلے وہ فلیٹ فروخت کر کے جا چکا ہے۔ آپ یاد کریں، کیا اسلم سلمان نام کا کوئی شخص آپ کے خاندان میں تو نہیں؟میرے خاندان میں… آسیہ زیرِ لب بڑبڑائی، پھر لمحے بھر بعد بولی: نہیں، اس نام کا کوئی شخص ہمارے خاندان میں نہیں ہے۔آپ اچھی طرح سوچیں، رافع بولا۔ میں بھی اسے تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ اب میں اس کا فون ٹریس کرواؤں گا، اس طرح پولیس کو لے کر اس تک پہنچ جائیں گے۔ اچھا، اب میں فون رکھتا ہوں۔آپ کا بہت شکریہ رافع!کوئی بات نہیں۔ رافع نے رابطہ منقطع کر دیا تو آسیہ بھی بوجھل قدموں سے اپنے بستر پر آ گئی۔ اس دوران نادیہ کتاب رکھ کر سو چکی تھی۔ آسیہ نے موبائل ٹیبل پر رکھا، لائٹ بند کی اور بستر پر دراز ہو کر اس شخص کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ یہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آیا واقعی اس نام کا کوئی فرد اس کے خاندان میں ہے بھی یا نہیں۔
ویسے تو اسے اپنے سارے کزنز کے نام یاد تھے، لیکن یہ نام وہ پہلی بار سن رہی تھی۔کیا بات ہے باجی! کن سوچوں میں گم ہو؟آسیہ لان میں بیٹھی گہری سوچوں میں گم تھی، جب نادیہ وہاں چلی آئی اور اسے یوں دیکھ کر پوچھا۔ آجاتوار تھا اور دونوں بہنیں گھر پر تھیں۔کچھ نہیں…باجی! میں چند دنوں سے محسوس کر رہی ہوں کہ آپ کچھ پریشان ہیں۔ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے، میں کوئی حل نکال سکوں۔آسیہ کو اس پر اعتبار تھا کہ وہ پیٹ کی ہلکی نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ اپنا مسئلہ اس سے شیئر کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے وہ کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائے۔ چنانچہ اس نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔ نادیہ کا حیرت سے برا حال تھا۔ وہ آسیہ کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ آخر میں آسیہ بولی کہ یاد کرو، کیا اسلم سلمان نام کا کوئی کزن یا ہمارے دور پرے کا کوئی رشتہ دار ہے؟نادیہ نے گہری سانس لی اور سوچتے ہوئے بولی کہ نہیں باجی، اس نام کا کوئی بھی فرد ہمارے خاندان میں موجود نہیں ہے لیکن مجھے آپ سے اس بے وقوفی کی توقع نہیں تھی۔آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی رافع کے ساتھ ریسٹورنٹ جانے کی؟بس غلطی ہو گئی، اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ آسیہ نے پژمردہ لہجے میں کہا۔ نادیہ کو بھی اس کی فکر ہو رہی تھی۔اگر بھائی جان کو پتا چل گیا تو قیامت آ جائے گی۔ وہ تو ویسے بھی لڑکیوں کے جاب کرنے کے خلاف ہیں۔جانتی ہوں، یہی سوچ کر ہی تو مجھے بے حد خوف محسوس ہو رہا ہے۔ آسیہ بولی۔ رافع کہتا ہے کہ پولیس کے پاس نہ جاؤں، اس طرح میری بدنامی ہو گی۔رافع کی بات درست ہے باجی، لیکن یہ بھی تو سوچیں، آج مہلت کا آخری دن ہے۔ اگر کل اس نے آپ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی تو؟یہ سن کر آسیہ کا دل دہل گیا۔ اس نے بولتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔ دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی تھی۔ وہ متوحش نظروں سے نادیہ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اسی لمحے اس کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے جلدی سے فون اٹھا کر دیکھا۔ اجنبی شخص کا واٹس ایپ میسج تھا۔میڈم، کیا پیسوں کا بندوبست کر لیا؟ آج مہلت کا آخری دن ہے۔کیا… کس کا میسج ہے؟اسی گھٹیا شخص کا… پیسوں کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ یہ کہتے ہی وہ میسج ٹائپ کرنے لگی۔ لکھا: دیکھو، میں ابھی تک پیسوں کا بندوبست نہیں کر سکی، پلیز مجھ پر رحم کھاؤ۔جیسے ہی اس نے میسج بھیجا، فوراً ہی سین ہو گیا اور جواب ٹائپ ہونے لگا۔میڈم، مجھے تم پر رحم آ گیا ہے۔ تمہاری اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تمہیں مزید تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر تین دن بعد بھی تم نے پیسوں کا بندوبست نہ کیا تو میں تصویر وائرل کر دوں گا۔ گڈ بائے۔
اس کے ساتھ ہی وہ آف لائن ہو گیا اور آسیہ نے طویل سانس لی۔باجی، آپ نے کیا جواب دیا؟ نادیہ نے پوچھا۔آسیہ نے اسے پوری گفتگو بتا دی، پھر بولی کہ میں رافع سے بات کرتی ہوں۔اس نے رافع کو میسج کر کے ساری صورتِ حال بتائی تو اس نے تسلی آمیز جواب دیا کہ یہ آپ نے اچھا کیا۔ میں نے اس شخص کی لوکیشن ٹریس کرنے کے لیے دوست سے بات کر لی ہے۔ یہ تھوڑا لمبا پروسیس ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں، ہم جلد اس تک پہنچ جائیں گے۔ان شاء اللہ، آسیہ زیر لب بڑبڑائی۔ اسے رافع پر بے حد بھروسہ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ضرور اس شخص کا کھوج لگا کر رہے گا۔اگلے دن آسیہ آفس پہنچی تو معلوم ہوا کہ رافع دو دن کی چھٹی پر ہے۔ اس کے ایک عزیز کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ رات کو ہی دوسرے شہر روانہ ہو گیا تھا۔ آسیہ یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ اسے رافع کے عزیز کے انتقال کا افسوس تھا، لیکن اپنی پریشانی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ رافع نے تیسرے دن آنا تھا اور اجنبی شخص نے بھی اسے تین دن کی مہلت دی ہوئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ رافع کا دوست جلد از جلد لوکیشن بتا دے تاکہ وہ اس شخص کو بے نقاب کر کے قانون کے حوالے کر سکے۔اسی شام رافع کا فون آ گیا۔ علیک سلیک کے بعد وہ بولا کہ مس آسیہ، مجھے افسوس ہے، مجھے اپنی غیر موجودگی کا پتا ہے، مگر بدقسمتی سے میرے دوست کے بھی کسی رشتے دار کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ بھی تین دن کی چھٹی پر چلا گیا ہے، اس لیے نمبر کی لوکیشن معلوم کرنے میں چند دن مزید لگ جائیں گے۔یہ سن کر آسیہ کو لگا جیسے جان نکل رہی ہو۔ وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر رافع کی آواز آئی کہ کیا آپ مجھے سن رہی ہیں؟ میں آپ کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں، مگر تقدیر میں کیا لکھا ہوتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔آسیہ نے آہستہ سے کہا کہ میں سمجھ سکتی ہوں۔پرسوں جب میں آفس آؤں گا تو بات کریں گے، اپنا خیال رکھیے گا۔رابطہ منقطع ہوا تو آسیہ سوچوں میں گم ہو گئی۔ وہ خود کو معمول سے کہیں زیادہ بے بس محسوس کر رہی تھی۔
☆☆☆
تیسرے دن آسیہ آفس پہنچی۔ رافع ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔ آج اجنبی شخص کی دی جانے والی مہلت کا آخری دن تھا۔گزشتہ تین دن میں اس شخص نے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا تھا، مگر آج لازماً وہ اپنی ڈیمانڈ پوچھنے والا تھا۔ اسی اضطراب میں وہ رافع کو ڈھونڈنے نکلی مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ آخرکار ایک چپراسی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑا ہے۔وہ وہاں پہنچی تو رافع کی پشت اس کی طرف تھی۔ وہ فون پر بات کر رہا تھا۔بس یار، مچھلی جال میں تو پھنس چکی ہے لیکن قابو میں نہیں آ رہی۔ میں نے اسے آج تک کی پھر مہلت دی ہوئی ہے۔ شام کو اس سے بات کروں گا۔ اگر نہ مانی تو اس کی اور اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ میں نے اس سے شادی تھوڑی کرنی ہے، مجھے تو بس پیسے چاہئیں۔رافع اور کیا کہہ رہا تھا، آسیہ میں مزید سننے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ جیسے اس کے قدموں سے زمین نکل گئی ہو۔ جس شخص کو وہ اپنا مددگار سمجھ رہی تھی، وہی اس کا اصل مجرم تھا۔وہ خاموشی سے وہاں سے واپس پلٹ آئی۔ اس کا دل نفرت اور صدمے سے بھر گیا تھا۔ اسے یقین آ چکا تھا کہ رافع ایک بیمار ذہن، دھوکے باز اور مکروہ انسان ہے۔ اگر وہ اسے قانون کے حوالے نہ کرتی تو وہ اس کی تصویر وائرل کر کے اس کی زندگی برباد کر دیتا۔اسی خیال کے تحت اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دی اور ساری حقیقت بیان کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پولیس آفس پہنچ گئی۔ آفس میں کھلبلی مچ گئی تھی۔انسپکٹر نے آ کر پوچھا کہ مس آسیہ کون ہیں؟آسیہ نے آگے بڑھ کر کہا کہ میں ہوں۔پھر اس نے انسپکٹر کو رافع کے کمرے تک پہنچایا۔ رافع پولیس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔انسپکٹر صاحب، یہی ہے وہ شخص جس نے ایک ہفتے سے میری زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ آسیہ نے نفرت سے کہا۔کک… میں نے کیا کیا ہے؟ رافع ہکلا رہا تھا۔آسیہ نے غصے سے کہا کہ تم ہی وہ دھوکے باز ہو جس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجھے ریسٹورنٹ بلا کر تصویر بنوائی اور پھر بیس لاکھ روپے مانگ کر مجھے بلیک میل کیا۔ میں نے تمہاری سب باتیں سن لی ہیں۔انسپکٹر نے آگے بڑھ کر اسے کالر سے پکڑ لیا اور کہا کہ ایک معصوم لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟رافع مسلسل انکار کرتا رہا، مگر کسی نے اس کی نہ سنی۔ اس کے موبائل ضبط کر لیے گئے جن میں تصویر اور واٹس ایپ کی گفتگو موجود تھی۔آسیہ کے گھر والوں کو خبر ہوئی تو اس کے بھائی فوراً آفس پہنچ گئے۔عادل نے افسردگی سے کہا کہ آسیہ، اگر وہ گھٹیا شخص تمہیں بلیک میل کر رہا تھا تو تم ہمیں بتاتیں۔ ہم اس سے نپٹ لیتے۔بھائی جان، میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ آسیہ کی آواز لرز رہی تھی۔دیکھو، ہم تمہارے بھائی ہیں، تمہارے رکھوالے۔ بہنوں پر کوئی آنچ آئے، بھائی برداشت نہیں کر سکتے۔ آئندہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو ہمیں ضرور بتانا۔ ہر انسان قابلِ بھروسہ نہیں ہوتا۔مجھے معاف کر دیں بھائی جان، میں واقعی بہت ڈر گئی تھی۔ میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیں۔ میں اب جاب بھی نہیں کروں گی۔درحقیقت اس کا بھروسہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ اسے کبھی گمان بھی نہ تھا کہ رافع جیسا شخص، جس پر وہ بھروسہ کرتی تھی، اس قدر دھوکے باز اور مکروہ انسان نکلے گا۔ اس نے صرف پیسوں کی خاطر جال بچھایا اور خود ہی اس میں پھنس گیا۔
☆☆☆
دونوں ایک ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور میز پر کھانا رکھا ہوا تھا۔یہ تصویر کس نے بنا کر بھیجی ہے، آسیہ بڑبڑائی۔وہ چند لمحے کچھ سوچتی رہی، پھر اس نمبر پر لکھا، کون ہو تم اور یہ تصویر بھیجنے کا کیا مقصد ہے۔ لکھ کر ریپلائی کردیا اور بے تابی کے ساتھ جواب کا انتظار کرنے لگی۔ دو منٹ گزر گئے، لیکن انجان شخص نے اس کا میسج نہ دیکھا۔ تبھی اس نے ایک اور میسج بھیجا۔ پلیز بتاؤ، کون ہو تم، جواب دو۔لیکن اس بار بھی وہی صورت حال رہی۔ وہ فون بند کرنے ہی لگی تھی کہ انجان شخص کی طرف سے جوابی میسج موصول ہوا۔ تمہارا دوست۔ یہ پڑھ کر آسیہ کے چہرے پر غصے اور حیرت کے ملے جلے تاثرات ابھر آئے۔ اس نے لکھا، کیا بکواس کر رہے ہو، تم میرے دوست کیسے ہو سکتے ہو۔ میں مردوں سے دوستی رکھنا پسند نہیں کرتی۔ اپنا نام اور یہ تصویر بھیجنے کا مقصد بتاؤ۔تو رافع تمہارا کیا لگتا ہے۔ وہ بھی تو تمہارا دوست ہی ہے ناں۔ میں بھی دوست بننا چاہتا ہوں۔آسیہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ خیال ہی اس کے لیے سوہان روح تھا کہ کسی انجان شخص کو اس کی اور رافع کی دوستی کا علم تھا، حالانکہ اس نے اپنی طرف سے اس دوستی کو انتہائی خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اس کی وجہ اس کے گھر والے اور رشتے دار تھے۔ اس کے خاندان میں کسی بھی فرد کو اگر یہ پتا چل گیا کہ آسیہ کی کسی لڑکے سے دوستی ہے، تو اس کی بہت بدنامی ہوگی۔ رافع نہ صرف اس کا دوست بلکہ کولیگ بھی تھا۔آسیہ کمپیوٹر آپریٹر تھی، جب کہ رافع سپروائزر تھا۔ دونوں کی علیک سلیک آفس میں ہی ہوئی تھی اور بات ہوتے ہوتے دوستی تک پہنچ گئی تھی۔ بعد ازاں وہ رافع کو پسند کرنے لگی۔ اسے لگتا تھا کہ رافع بھی اسے پسند کرتا ہے لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی تاحال ایک دوسرے سے اظہار محبت نہیں کیا تھا۔
آسیہ سمجھتی تھی کہ اسے جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ در حقیقت وہ چاہتی تھی کہ رافع خود اظہار محبت کرے اور بات آگے بڑھے۔ آفس میں کام کرنے والوں کے ساتھ رافع کا رویہ بہت اچھا تھا۔ سب لوگ اس کی تعریف کرتے دکھائی دیتے تھے، یہی وجہ تھی کہ آسیہ کو بھی اس میں کوئی خامی نہیں دکھائی دی تھی۔آج رافع نے اسے ڈنر کی دعوت دی، تو وہ انکار نہ کر سکی اور اس کی دعوت قبول کر لی۔ اس نے گھر والوں کو فون کر کے کہہ دیا تھا کہ آج آفس میں کام زیادہ ہے، اس لیے وہ تھوڑی دیر سے آئے گی۔ اس کا خیال تھا کہ رافع آج اس سے نہ صرف اظہار محبت کرے گا بلکہ ممکن ہے اسے شادی کے لیے بھی پرپوز کرے۔جب وہ ریسٹورنٹ پہنچی، جس کی لوکیشن رافع نے شام میں ہی بھیج دی تھی، رافع ایک ٹیبل پر بیٹھا اس کا منتظر تھا۔ سب کچھ اس کی توقع کے عین مطابق ہوا۔ ڈنر کرنے کے بعد رافع نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ آسیہ یہ سن کر پھولے نہیں سمائی اور شرماتے ہوئے سر جھکا لیا، جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی شادی پر راضی ہے۔ عین اسی لمحے رافع کو ایک ایمرجنسی فون آ گیا، جس کی وجہ سے اسے فوراً وہاں سے جانا پڑا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی خاموشی سے ان کی تصویر بنا لے گا۔کیا سوچ رہی ہیں میڈم، آسیہ سوچوں میں غلطاں تھی کہ انجان شخص کا نیا میسج آ گیا۔ میں سوری مسٹر، میں نے کہا تھا کہ میں مردوں سے دوستی نہیں کرتی۔ رہی رافع کی بات، تو وہ میرا کولیگ ہے اور کچھ نہیں۔ اب مجھے میسج نہ کرنا، میں فون بند کر رہی ہوں، آسیہ نے میسج بھیجا اور موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کے وجود میں سنسناہٹ دوڑ رہی تھی اور دل خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔ چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک بار پھر میسج ٹون بج اٹھی۔ وہ میسج دیکھنا نہیں چاہتی تھی، لیکن دیکھنا پڑا۔اب کی بار انجان آدمی نے لکھا تھا، ٹھیک ہے، تم مجھ سے دوستی بے شک نہ کرو، لیکن تمہیں میری ڈیمانڈ پوری کرنا ہوگی۔ اور اگر تم نے میری ڈیمانڈ پوری نہ کی تو میں یہ تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دوں گا۔ آسیہ کا دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ سوشل میڈیا پر تصویر پوسٹ کرنے کا مطلب اس کی بدنامی تھا۔ اس کا تعلق متوسط، مگر ایک معزز گھرانے سے تھا۔ وہ اُن لڑکیوں میں سے ہرگز نہیں تھی، جنہیں اپنی عزت کی پروا نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں اگر اس کے بھائی عادل نے اس کی تصویر دیکھ لی تو وہ آپے سے باہر ہو جائے گا، یہاں تک کہ وہ رافع اور اسے قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔
وہ چار بہن بھائی تھے۔ سب سے بڑا عادل، اس سے چھوٹا عدیل، پھر آسیہ اور سب سے چھوٹی نادیہ تھی۔ دونوں بھائی شادی شدہ تھے جبکہ وہ اور نادیہ غیر شادی شدہ تھیں۔ وہ جاب کرتی تھی، جب کہ نادیہ ابھی فرسٹ ایئر میں تھی۔ دونوں بہنوں کا کمرہ مشترکہ تھا۔ چونکہ ان دنوں نادیہ ماموں کے گھر گئی ہوئی تھی، اس لیے وہ اپنے کمرے میں اکیلی تھی۔مجھے اس سلسلے میں رافع سے بات کرنی چاہیے، دفعتاً اس کو خیال آیا، تو اس نے رافع کو فون کر دیا۔ دوسری طرف مسلسل گھنٹی بجتی رہی، لیکن رافع نے فون نہ اٹھایا۔ شاید وہ سو چکا تھا۔ آسیہ نے جھنجلا کر موبائل میز پر رکھ دیا اور ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر سوچنے لگی کہ اب کیا کرے۔چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک بار پھر میسج آ گیا۔جی میڈم، تم نے جواب نہیں دیا۔کیا جواب دوں، آسیہ نے غصے میں لکھا۔ عین اسی وقت میسج دیکھ لیا گیا اور چند لمحوں کے بعد ہی جواب بھی آ گیا۔ میں جانتا ہوں کہ تم اس وقت پریشان ہو۔ چلو، کوئی بات نہیں۔ تم اب سو جاؤ، ہم کل بات کریں گے۔ میں تمہیں کل اپنی ڈیمانڈ بتاؤں گا۔ ہاں، یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی کہ میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تم سے دوستی نہیں کرنا چاہتا، بس تم میری ڈیمانڈ پوری کر دو، پھر میں ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی سے دور چلا جاؤں گا۔ڈیمانڈ، آسیہ بڑبڑائی، پھر اس نے میسج ٹائپ کیا، کیسی ڈیمانڈ، کیا چاہتے ہو تم؟ لیکن دوسری طرف سے جواب نہ آیا کیونکہ اجنبی آف لائن ہو گیا تھا۔ آسیہ نے ایک لمبی سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور کافی دیر تک اس صورت حال کے بارے میں سوچتی رہی۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس کی نیند ختم ہو چکی تھی۔ وہ کروٹوں پر کروٹیں بدلتی اور انجان شخص کے بارے میں سوچتی رہی کہ وہ اس سے کیا چاہتا ہے۔
سوچتے سوچتے بالآخر وہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔آسیہ بیدار ہوئی تو صبح کے سوا سات بج رہے تھے۔ وہ چونکہ رات کو دیر سے سوئی تھی، اس لیے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ یکدم انجان نمبر سے بھیجی گئی تصویر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی، تو اس کا دل یکبارگی دھڑک اٹھا۔ وہ اپنے سیل فون کو گھورتی رہی کہ اسی اثناء میں اس کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔آسیہ، کیا آج تم نے آفس نہیں جانا، امی نے پوچھا۔ رکشے والا آچکا ہے۔جانا ہے امی، آسیہ نے جواب دیا۔ اس کے لہجے پر وہ ٹھٹکیں اور قریب بیٹھتے ہوئے بولیں، کیا بات ہے آسیہ، مجھے تم پریشان دکھائی دے رہی ہو، کیا کچھ ہوا ہے؟نہیں امی، کیا ہونا ہے اور میں کیوں پریشان ہوں گی، آسیہ نے گھبراہٹ آمیز لہجے میں جواب دیا۔ وہ پریشان تو تھی، لیکن کمال مہارت سے اپنی پریشانی پر قابو پا لیا تھا۔اچھا ٹھیک ہے، تم تیار ہو کر آ جاؤ، امی نے اٹھتے ہوئے کہا، میں نے تمہارے لیے ناشتا بنا لیا ہے۔مجھے بھوک نہیں ہے، میں ناشتہ نہیں کروں گی، آسیہ بولی۔ یہ سچ تھا کہ اس کی بھوک مر چکی تھی۔تو کیا خالی پیٹ آفس جاؤ گی، امی نے پوچھا۔مجھے بھوک لگی، تو باہر سے کچھ منگوا کر کھا لوں گی، آسیہ نے کہا۔اچھا، چائے تو پیتی جاؤ، امی بولیں۔ جی اچها امی چلی گئیں تو آسیہ اٹھی، الماری سے استری کیا ہوا لباس نکالا اور واش روم میں چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ تیار ہو کر باورچی خانے میں پہنچی تو امی اس کا انتظار کرتی ہوئی چائے بنا رہی تھیں۔ آسیہ نے کپ اٹھایا اور جلدی جلدی چائے پینے لگی۔آرام سے، منہ جل جائے گا، امی نے اسے ٹوکا۔امی، آفس سے دیر ہو رہی ہے۔ آٹھ بجنے والے ہیں، آسیہ نے تیزی سے چائے پیتے ہوئے کہا۔میں تو کب سے کہہ رہی ہوں، جاب چھوڑ دو، امی بولیں۔ تمہیں جاب کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن تم سنتی کہاں ہو۔امی، جاب میں اپنے شوق کی خاطر کرتی ہوں، آسیہ نے جواب دیا اور کپ میز پر رکھ کر بیرونی دروازے کی طرف چل دی۔ کپ میں چائے ابھی باقی تھی۔رکشہ اس کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ آسیہ کے بیٹھتے ہی ڈرائیور نے رکشہ آگے بڑھا دیا۔بی بی جی، آج آپ لیٹ نہیں ہو گئیں؟ اس نے پوچھا۔ وہ آدھیڑ عمر آدمی تھا۔ہاں چاچا، آج آنکھ دیر سے کھلی تھی، آسیہ نے کہا۔اس کے بعد آٹو رکشے میں خاموشی چھا گئی۔
☆☆☆
آسیہ آفس پہنچی تو نو بجنے میں پانچ منٹ باقی تھے۔ وہ ہینڈ بیگ سنبھالے رافع کے کمرے کی طرف بڑھی۔ ابھی وہ دستک دینے ہی والی تھی کہ دروازہ اچانک کھلا اور رافع سامنے آیا۔ آسیہ کے چہرے پر بوکھلاہٹ اور پریشانی دیکھ کر وہ چونک گیا۔آسیہ، خیریت تو ہے؟ آپ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ رات آپ نے فون بھی کیا تھا لیکن میں سو گیا تھا، اس لیے بات نہیں ہو سکی۔ وہ ایک ہینڈسم نوجوان تھا، عمر تقریباً تیس سال کے لگ بھگ۔کیا ہم تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں؟ آسیہ نے پوچھا۔ہاں بالکل، آئیں کینٹین چلتے ہیں۔ چائے بھی پی لیں گے، رافع نے کہا۔وہ دونوں کینٹین میں آ گئے۔ رافع نے ویٹر کو دو چائے لانے کا کہا، پھر آسیہ کی طرف متوجہ ہوا۔جی بولیے، کیا کہنا چاہتی ہیں؟آسیہ نے اپنا سیل فون نکالا، تصویر کھولی اور رافع کے سامنے کر دی۔ تصویر دیکھ کر رافع کے چہرے پر بھی حیرت کے تاثرات پھیل گئے۔یہ تصویر… یہ کس نے بنائی ہے؟ وہ حیرت سے بولا۔معلوم نہیں، آسیہ نے فون میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ رات کو کسی انجان نمبر سے یہ تصویر مجھے بھیجی گئی تھی۔ تصویر بھیجنے والا جانتا ہے کہ ہم دونوں دوست ہیں۔لیکن اس کا مقصد کیا تھا؟ رافع کے لہجے میں اس بار تفکر تھا۔اس پر آسیہ نے اسے پوری واٹس ایپ گفتگو بتا دی۔ رافع بڑی توجہ سے سنتا رہا۔ اس کی کشادہ پیشانی پر سوچ کی لکیریں ابھر آئی تھیں۔یعنی اس نے پہلے کہا کہ وہ آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہے، پھر کہا کہ اس کی کوئی ڈیمانڈ ہے؟ رافع نے کہا۔جی، ایسا ہی ہے، آسیہ نے سر ہلایا۔کون ہو سکتا ہے یہ گھٹیا آدمی، اور کیا چاہتا ہے؟ اگر مجھے معلوم ہو جائے تو میں اس کی جان لے لوں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی لڑکی کو تنگ کرے، رافع دانت سختی سے بھینچتے ہوئے بولا۔میں خود بھی پریشان ہوں، آسیہ نے مدہم آواز میں کہا۔ویسے آپ کو کس پر شک ہے؟ رافع نے پوچھا۔مجھے… میں کیا کہہ سکتی ہوں، آسیہ الجھن میں پڑ گئی۔مجھے لگتا ہے یہ آپ کا کوئی جاننے والا یا رشتے دار ہے، رافع نے سوچتے ہوئے کہا، کیونکہ اس نے آپ سے بات کی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ آپ کا کوئی چاہنے والا ہو اور آپ کو میرے ساتھ دیکھ کر برا مان گیا ہو۔آسیہ نے قدرے خفگی سے کہا، میرا کوئی چاہنے والا نہیں ہے، اور نہ ہی میرا کوئی رشتے دار ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ہونے کو اس دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، رافع نے ناصحانہ لہجے میں کہا۔ بہرحال، شام تک انتظار کر لیں، دیکھتے ہیں وہ کیا ڈیمانڈ کرتا ہے۔اسی دوران چائے آ گئی تو وہ خاموش ہو گیا۔ جیسے ہی ویٹر گیا، رافع نے پھر بات شروع کی۔مجھے لگتا ہے وہ گھٹیا آدمی آپ سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرے گا۔میں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے، لیکن میں پیسے کہاں سے لاؤں؟ اگر میرے گھر والوں کو معلوم ہوا تو بہت برا ہوگا۔ میرے بھائی بہت سخت مزاج ہیں، وہ تو میری جان ہی لے لیں گے، آسیہ نے بے چینی سے کہا۔آپ پریشان نہ ہوں، ایسا کچھ نہیں ہوگا، رافع نے تسلی دی۔ پہلے یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ وہ ہے کون۔آسیہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر پریشانی اب بھی اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ رافع نے کہا، چائے پئیں، تو آسیہ نے کپ اٹھا کر لبوں تک لے آئی۔
☆☆☆
آسیہ کا سارا دن کام میں گزر گیا۔ شام کو وہ گھر پہنچی تو بے حد تھکی ہوئی تھی۔ اس نے امی سے چائے بنوائی اور لان میں جا کر بیٹھ گئی۔ وہ چائے پی رہی تھی کہ اس کے موبائل کی میسج ٹون بج اٹھی۔ آسیہ کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے کپ میز پر رکھا اور فون اٹھا کر میسج دیکھا۔ اسی نمبر سے اسے ایک نیا میسج آیا تھا۔آسیہ نے ہونٹ بھینچے اور میسج کھولا۔ لکھا تھا: جی آسیہ میڈم، کیسی ہو؟ آج کا دن کیسا گزرا؟ یقیناً تم نے میرے بارے میں رافع سے بات کی ہوگی۔وہ چند لمحے میسج کو گھورتی رہی، پھر اس نے فوری طور پر واٹس ایپ پر کال کر دی۔ دوسری طرف گھنٹی بجتی رہی۔ ڈی پی پر ایک پھول کی تصویر تھی۔تیسری گھنٹی کے بعد کال کاٹ دی گئی۔ آسیہ نے جھنجھلا کر دوبارہ کال ملائی، لیکن اس بار پہلے ہی بیل میں اجنبی نے کال کاٹ دی۔مجبوراً آسیہ نے میسج لکھنا شروع کیا۔آخر تم کون ہو اور مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو؟جواب آیا، فون نہ کرو، میں تمہارا فون نہیں سنوں گا۔ پھر لمحے بھر بعد ایک اور میسج آیا: اگر تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میری آواز سن کر مجھے پہچاننے کی کوشش کرو گی، تو یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔آسیہ نے غصے میں لکھا، میں پولیس کو رپورٹ کرتی ہوں۔جواب آیا، شوق سے کرو، لیکن اس سے پہلے ہی تمہاری اور رافع کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے گی۔ میری نظریں تم پر ہیں اور میں جانتا ہوں کہ تم ابھی اپنے گھر میں موجود ہو۔آخر کون ہو تم، کیا چاہتے ہو؟ آسیہ نے غصے والا ایمرجی بھی بھیجا۔ جواب میں اجنبی نے ہنستے ہوئے کا اموجی بھیج دیا۔پھر ایک میسج آیا: بیس لاکھ۔بیس لاکھ؟ آسیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ کیا تمہارا دماغ خراب ہے؟ابھی تو نہیں ہے، لیکن اگر تم نے میری ڈیمانڈ پوری نہ کی تو شاید خراب ہو جائے۔ اور اگر میرا دماغ خراب ہو گیا تو میں تمہاری تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔یا اللہ، میں کیا کروں…؟ وہ بڑبڑائی، پھر لکھا: سوری، میرے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ تمہاری ڈیمانڈ پوری کر سکوں۔ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں، میرا پیچھا چھوڑ دو۔اجنبی نے جواب دیا: بیس لاکھ دے دو، میں ہمیشہ کے لیے تمہارا پیچھا چھوڑ دوں گا۔میں نے کہا ناں، میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں، آسیہ نے پھر لکھا۔اپنے بھائیوں سے مانگ لو، وہ تو کافی امیر ہیں۔کیا کہہ کر مانگوں؟ کیا تم پاگل ہو؟کچھ بھی کہہ لو، کسی سہیلی کی بیماری کا بہانہ کر لو، لیکن مجھے بیس لاکھ چاہئیں، ورنہ…اس نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ اسی لمحے امی چائے کے برتن اٹھانے آئیں۔ کپ میں چائے دیکھی تو حیران رہ گئیں۔آسیہ۔آسیہ ایسے اچھلی جیسے اس کے پیروں تلے بارود پھٹ گیا ہو۔ موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر گھاس پر جا گرا، جسے اس نے جلدی سے اٹھا لیا۔ امی حیرت سے اس کا جائزہ لینے لگیں۔کیا بات ہے آسیہ، تمہارے چہرے کا رنگ کیوں اڑا ہوا ہے؟کک… کچھ نہیں امی، آسیہ نے گھبراہٹ سے کہا۔تم نے چائے بھی نہیں پی…؟ انہوں نے کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ میری بچی، اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتاؤ، میں کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوں گی۔امی، کوئی مسئلہ نہیں ہے، آسیہ نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ آپ اچانک آ گئیں، تو میں ڈر گئی تھی۔چائے بھی ٹھنڈی ہو گئی ہے، امی نے کپ اٹھاتے ہوئے کہا اور کچن میں چلی گئیں۔ آسیہ ان کی پشت کو دیکھتی رہی، پھر اپنے فون کی طرف دیکھا۔ اجنبی کے کئی میسجز آ چکے تھے۔مس آسیہ، جواب نہیں دیا۔ میں تمہارے جواب کا کافی دیر سے انتظار کر رہا ہوں۔چند سیکنڈ بعد ایک اور دھمکی آمیز میسج آئے: یہ میرا آخری میسج ہے۔ میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔
اگر تم نے تین دن میں بیس لاکھ نہ دیے، تو میں تم دونوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ صرف تین دن کی مہلت ہے۔ گڈ بائے۔آسیہ بے حد پریشان ہو گئی۔ وہ سخت مخمصے کا شکار تھی۔ کچھ سوچ کر اس نے اس نمبر پر فون کیا، لیکن حسبِ معمول وہ آف لائن ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنا فون ہی بند کر دیا تھا کیونکہ آسیہ نے بار بار اس کے نمبر پر کال کی تھی۔ کمینہ کہیں کا… آسیہ جھنجلائی، پھر اس نے رافع کو فون کر دیا۔ علیک سلیک کے بعد رافع نے استفسار کیا کہ کیا گھٹیا شخص کا دوبارہ میسج آیا؟ آسیہ نے بتایا کہ ابھی اسی سے بات ہو رہی تھی۔رافع نے پوچھا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔ آسیہ نے کہا کہ اس نے بیس لاکھ مانگے ہیں۔ رافع یہ سن کر حیران رہ گیا۔ آسیہ نے مزید بتایا کہ اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اسے بیس لاکھ نہ دے تو وہ دونوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دے گا۔ اس نے تین دن کی مہلت بھی دی ہے۔ آسیہ خوف بھرے لہجے میں کہنے لگی کہ اسے بہت ڈر لگ رہا ہے۔یہ واقعی پریشانی کی بات تھی۔ اس بار رافع کے لہجے میں بھی پریشانی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ پھر وہ کیا کرے گی۔ آسیہ نے جواب دیا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا اور رافع سے مشورہ مانگا کہ وہ کیا کرے۔رافع نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا کہ وہ کیا مشورہ دے سکتا ہے۔ اس کے پاس اتنی رقم ہوتی تو وہ خود وہ رقم دے دیتا۔ آسیہ نے کہا کہ وہ اس کی بات سمجھتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔ اتنی بڑی رقم کا بندوبست کرنا اس کے لیے آسان نہیں اور اگر بات گھر والوں تک پہنچی تو اس کے بھائی دونوں کو جان سے مار دیں گے۔رافع نے افسوس سے کہا کہ یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے، یہ اس کی غلطی تھی کہ وہ آسیہ کو کھانے کی دعوت دے بیٹھا۔ اس نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے آسیہ کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔آسیہ نے دل گرفتگی سے کہا کہ وہ پریشان ہے۔ وہ جانتی ہے کہ لڑکی کی عزت بہت نازک ہوتی ہے۔ ایک بار بدنامی کا داغ لگ جائے تو ساری زندگی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ پھر اس نے کہا کہ وہ کچھ کرنے کی کوشش کرے گی۔رافع نے اسے تاکید کی کہ وہ جو بھی کرے، اسے ضرور آگاہ کرے، اور یہ بھی کہا کہ وہ اس موقع پر اس کے ساتھ ہے اور ہمیشہ ساتھ رہے گا۔آسیہ نے شکریہ ادا کیا اور فون بند کر دیا۔ پھر وہ دوبارہ سوچ میں ڈوب گئی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اگلے دن اس کمپنی میں جائے گی جس کی سم وہ اجنبی استعمال کر رہا تھا۔ شاید اس نمبر کی کوئی معلومات مل جائے۔ اسی امید کے ساتھ وہ اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
☆☆☆
کیا بنامس آسیہ؟ جیسے ہی وہ آفس کی راہداری میں داخل ہوئی، وہاں پہلے سے موجود رافع نے علیک سلیک کے بعد پوچھا کہ کیا اس گھٹیا شخص کا دوبارہ فون آیا ہے۔پلیز، آہستہ بولیں۔اوه، سوری۔ رافع کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے ادھر اُدھر دیکھا مگر راہداری میں ان دونوں کے سوا کوئی موجود نہ تھا۔نہیں، اس کا دوبارہ فون نہیں آیا۔ آسیہ نے وہیں سے بات جاری رکھی جہاں اس نے رافع کو روکا تھا۔ میں نے اس کے نمبر پر فون بھی کیا تھا۔ میں اس کی آواز سننا چاہتی تھی، لیکن اس کا فون بند تھا۔ یہاں تک کہ وہ واٹس ایپ پر بھی آف لائن ہو چکا ہے۔ بہرحال، وہ کب تک بچے گا؟ میں اس کا پتا لگا کر رہوں گی۔ میں نے سوچ لیا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے۔آپ کیا کریں گی؟ رافع اس کے بدلتے ہوئے چہرے کے تاثرات غور سے دیکھ رہا تھا۔میں آج اس کمپنی کے آفس جاؤں گی جس کی سم وہ گھٹیا شخص استعمال کر رہا ہے۔ آسیہ نے اپنا منصوبہ بتایا۔ اور اس کے خلاف شکایت درج کرواؤں گی۔ مجھے امید ہے کہ کمپنی والے مجھے اس کے متعلق معلومات دے دیں گے۔ جیسے ہی معلومات ملیں، میں فوراً پولیس میں اس کے خلاف درخواست دے دوں گی۔رافع چند لمحے اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتا رہا، پھر بولا کہ کمپنی والے اسے سم کے متعلق معلومات نہیں دیں گے، یہ ان کے اصول کے خلاف ہے۔ وہ نمبر اسے دے دے، اس کمپنی میں اس کا ایک واقف کار موجود ہے، وہ اس شخص کے بارے میں معلوم کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ اب یہ صرف اس کا نہیں، رافع کا بھی مسئلہ تھا۔ اس نے مزید کہا کہ پولیس میں جانے کی ضرورت نہیں، خواہ مخواہ دونوں کی بدنامی ہو گی اور پولیس الگ پریشان کرے گی۔اگر ایسا ہو جائے تو بہت اچھا ہوگا۔ کم از کم اس اجنبی کے بارے میں معلوم تو ہو جائے گا۔ آسیہ اس کی باتوں سے متفق ہوئی۔ہاں، بالکل۔ اس کے بعد ہم مل کر اس کے خلاف کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔ آپ وہ نمبر دیں۔آسیہ نے اپنے موبائل میں سے اس اجنبی کا نمبر، جسے اس نے گھٹیا شخص کے نام سے محفوظ کر رکھا تھا، رافع کو دے دیا۔ وہ اپنے دوست کو فون کرنے میں مصروف ہو گیا، تو آسیہ اپنے کمرے میں واپس آ گئی۔ وہ پُرامید تھی کہ رافع ضرور اس شخص کے بارے میں کچھ پتا لگا لے گا۔تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ رافع کا میسج آ گیا۔ اس نے لکھا تھا کہ اس نے اپنے دوست کو وہ نمبر دے دیا ہے، وہ پریشان نہ ہو، بہت جلد اس کے بارے میں معلوم ہو جائے گا۔ آخر میں اس نے لکھا تھا: آئی لو یو۔آخری الفاظ پڑھ کر آسیہ کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ چند لمحوں کے لیے وہ اپنا مسئلہ بھول گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے رافع کا مسکراتا چہرہ ابھر آیا۔ جواب میں اس نے بھی یو ٹو کا میسج بھیج دیا۔
☆☆☆
اجنبی شخص کی طرف سے دی گئی مہلت کے دو دن گزر چکے تھے۔ اب صرف ایک دن رہ گیا تھا، اس کے بعد مہلت ختم ہو جانا تھی۔ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ آسیہ سونے کے لیے اپنے کمرے میں آئی تو نادیہ اپنے بستر پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔ آسیہ نے اس سے کوئی بات نہ کی، شاید اس نے اس کی پڑھائی میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا تھا۔ وہ موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بستر پر دراز ہو گئی۔ دفعتاً اس کے موبائل کی میسج ٹون بج اٹھی۔ آسیہ کا دل یکبارگی دھڑکا۔ نادیہ نے کتاب پر سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔ اسی دوران وہ فون اٹھا چکی تھی۔ وہی گھٹیا شخص تھا جس نے میسج بھیجا تھا۔ آسیہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ میسج کھولا۔لکھا تھا:ہیلو مس! مہلت میں دیے گئے تین دنوں میں سے دو دن گزر چکے ہیں۔ تمہارے پاس کل کا آخری دن ہے۔ اور ہاں، مجھے معلوم ہے کہ تم رافع کے ساتھ مل کر مجھے تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ رافع نے فون کمپنی میں اپنے کسی واقف کار سے بھی رابطہ کیا ہے، لیکن یاد رکھو! رافع کو روک دو، ورنہ تمہیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔اتنا لمبا اور دھمکی آمیز میسج پڑھ کر آسیہ خوف زدہ ہو گئی۔ اس نے جواب دینے کے بجائے میسج کاپی کر کے رافع کو بھیج دیا۔ اتفاق سے وہ جاگ رہا تھا، اس نے فوراً فون کر دیا۔ گھنٹی کی آواز نے خاموش فضا میں ارتعاش ڈال دیا تو نادیہ نے پھر چونک کر اس کی طرف دیکھا۔باجی! اس وقت کس کا فون ہے؟میرے آفس سے ہے… آسیہ کہتی ہوئی اٹھ کر بالکونی میں جا کھڑی ہوئی۔ہیلو آسیہ! جیسے ہی اس نے فون اٹھایا، دوسری طرف سے رافع کی بےتاب آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔میں بھی جانتا ہوں رافع، میں بہت پریشان ہوں۔ وہ گھٹیا آدمی کہہ رہا ہے کہ آپ نے فون کمپنی میں اپنے کسی واقف کار سے رابطہ کیا ہے اور…کول ڈاؤن آسیہ! رافع نے اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ پریشان نہ ہو، وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ میرے دوست نے اس کے متعلق معلومات دی ہیں۔یہ سن کر آسیہ کے چہرے پر تجسس کے آثار پیدا ہو گئے۔ وہ بےتابانہ لہجے میں بولی: اوہ… یہ تو بہت اچھا ہوا ہے۔ کون ہے وہ؟اس کا نام اسلم سلمان ہے، رافع بتانے لگا۔ وہ گلبرگ کا رہنے والا ہے۔ میں وہاں جا کر اس کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش بھی کر چکا ہوں، لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس نام کا آدمی گلبرگ میں ایک فلیٹ میں رہتا تھا، مگر کافی عرصہ پہلے وہ فلیٹ فروخت کر کے جا چکا ہے۔ آپ یاد کریں، کیا اسلم سلمان نام کا کوئی شخص آپ کے خاندان میں تو نہیں؟میرے خاندان میں… آسیہ زیرِ لب بڑبڑائی، پھر لمحے بھر بعد بولی: نہیں، اس نام کا کوئی شخص ہمارے خاندان میں نہیں ہے۔آپ اچھی طرح سوچیں، رافع بولا۔ میں بھی اسے تلاش کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ اب میں اس کا فون ٹریس کرواؤں گا، اس طرح پولیس کو لے کر اس تک پہنچ جائیں گے۔ اچھا، اب میں فون رکھتا ہوں۔آپ کا بہت شکریہ رافع!کوئی بات نہیں۔ رافع نے رابطہ منقطع کر دیا تو آسیہ بھی بوجھل قدموں سے اپنے بستر پر آ گئی۔ اس دوران نادیہ کتاب رکھ کر سو چکی تھی۔ آسیہ نے موبائل ٹیبل پر رکھا، لائٹ بند کی اور بستر پر دراز ہو کر اس شخص کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ یہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آیا واقعی اس نام کا کوئی فرد اس کے خاندان میں ہے بھی یا نہیں۔
ویسے تو اسے اپنے سارے کزنز کے نام یاد تھے، لیکن یہ نام وہ پہلی بار سن رہی تھی۔کیا بات ہے باجی! کن سوچوں میں گم ہو؟آسیہ لان میں بیٹھی گہری سوچوں میں گم تھی، جب نادیہ وہاں چلی آئی اور اسے یوں دیکھ کر پوچھا۔ آجاتوار تھا اور دونوں بہنیں گھر پر تھیں۔کچھ نہیں…باجی! میں چند دنوں سے محسوس کر رہی ہوں کہ آپ کچھ پریشان ہیں۔ آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے، میں کوئی حل نکال سکوں۔آسیہ کو اس پر اعتبار تھا کہ وہ پیٹ کی ہلکی نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ اپنا مسئلہ اس سے شیئر کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے وہ کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائے۔ چنانچہ اس نے ساری بات اس کے گوش گزار کر دی۔ نادیہ کا حیرت سے برا حال تھا۔ وہ آسیہ کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ آخر میں آسیہ بولی کہ یاد کرو، کیا اسلم سلمان نام کا کوئی کزن یا ہمارے دور پرے کا کوئی رشتہ دار ہے؟نادیہ نے گہری سانس لی اور سوچتے ہوئے بولی کہ نہیں باجی، اس نام کا کوئی بھی فرد ہمارے خاندان میں موجود نہیں ہے لیکن مجھے آپ سے اس بے وقوفی کی توقع نہیں تھی۔آپ کو کیا ضرورت پڑی تھی رافع کے ساتھ ریسٹورنٹ جانے کی؟بس غلطی ہو گئی، اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ آسیہ نے پژمردہ لہجے میں کہا۔ نادیہ کو بھی اس کی فکر ہو رہی تھی۔اگر بھائی جان کو پتا چل گیا تو قیامت آ جائے گی۔ وہ تو ویسے بھی لڑکیوں کے جاب کرنے کے خلاف ہیں۔جانتی ہوں، یہی سوچ کر ہی تو مجھے بے حد خوف محسوس ہو رہا ہے۔ آسیہ بولی۔ رافع کہتا ہے کہ پولیس کے پاس نہ جاؤں، اس طرح میری بدنامی ہو گی۔رافع کی بات درست ہے باجی، لیکن یہ بھی تو سوچیں، آج مہلت کا آخری دن ہے۔ اگر کل اس نے آپ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی تو؟یہ سن کر آسیہ کا دل دہل گیا۔ اس نے بولتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔ دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو گئی تھی۔ وہ متوحش نظروں سے نادیہ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اسی لمحے اس کے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس نے جلدی سے فون اٹھا کر دیکھا۔ اجنبی شخص کا واٹس ایپ میسج تھا۔میڈم، کیا پیسوں کا بندوبست کر لیا؟ آج مہلت کا آخری دن ہے۔کیا… کس کا میسج ہے؟اسی گھٹیا شخص کا… پیسوں کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ یہ کہتے ہی وہ میسج ٹائپ کرنے لگی۔ لکھا: دیکھو، میں ابھی تک پیسوں کا بندوبست نہیں کر سکی، پلیز مجھ پر رحم کھاؤ۔جیسے ہی اس نے میسج بھیجا، فوراً ہی سین ہو گیا اور جواب ٹائپ ہونے لگا۔میڈم، مجھے تم پر رحم آ گیا ہے۔ تمہاری اپیل کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تمہیں مزید تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر تین دن بعد بھی تم نے پیسوں کا بندوبست نہ کیا تو میں تصویر وائرل کر دوں گا۔ گڈ بائے۔
اس کے ساتھ ہی وہ آف لائن ہو گیا اور آسیہ نے طویل سانس لی۔باجی، آپ نے کیا جواب دیا؟ نادیہ نے پوچھا۔آسیہ نے اسے پوری گفتگو بتا دی، پھر بولی کہ میں رافع سے بات کرتی ہوں۔اس نے رافع کو میسج کر کے ساری صورتِ حال بتائی تو اس نے تسلی آمیز جواب دیا کہ یہ آپ نے اچھا کیا۔ میں نے اس شخص کی لوکیشن ٹریس کرنے کے لیے دوست سے بات کر لی ہے۔ یہ تھوڑا لمبا پروسیس ہے، لیکن آپ فکر نہ کریں، ہم جلد اس تک پہنچ جائیں گے۔ان شاء اللہ، آسیہ زیر لب بڑبڑائی۔ اسے رافع پر بے حد بھروسہ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ضرور اس شخص کا کھوج لگا کر رہے گا۔اگلے دن آسیہ آفس پہنچی تو معلوم ہوا کہ رافع دو دن کی چھٹی پر ہے۔ اس کے ایک عزیز کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ رات کو ہی دوسرے شہر روانہ ہو گیا تھا۔ آسیہ یہ سن کر پریشان ہو گئی۔ اسے رافع کے عزیز کے انتقال کا افسوس تھا، لیکن اپنی پریشانی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ رافع نے تیسرے دن آنا تھا اور اجنبی شخص نے بھی اسے تین دن کی مہلت دی ہوئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ رافع کا دوست جلد از جلد لوکیشن بتا دے تاکہ وہ اس شخص کو بے نقاب کر کے قانون کے حوالے کر سکے۔اسی شام رافع کا فون آ گیا۔ علیک سلیک کے بعد وہ بولا کہ مس آسیہ، مجھے افسوس ہے، مجھے اپنی غیر موجودگی کا پتا ہے، مگر بدقسمتی سے میرے دوست کے بھی کسی رشتے دار کا انتقال ہو گیا ہے اور وہ بھی تین دن کی چھٹی پر چلا گیا ہے، اس لیے نمبر کی لوکیشن معلوم کرنے میں چند دن مزید لگ جائیں گے۔یہ سن کر آسیہ کو لگا جیسے جان نکل رہی ہو۔ وہ چند لمحے خاموش رہی۔ پھر رافع کی آواز آئی کہ کیا آپ مجھے سن رہی ہیں؟ میں آپ کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں، مگر تقدیر میں کیا لکھا ہوتا ہے، یہ کوئی نہیں جانتا۔آسیہ نے آہستہ سے کہا کہ میں سمجھ سکتی ہوں۔پرسوں جب میں آفس آؤں گا تو بات کریں گے، اپنا خیال رکھیے گا۔رابطہ منقطع ہوا تو آسیہ سوچوں میں گم ہو گئی۔ وہ خود کو معمول سے کہیں زیادہ بے بس محسوس کر رہی تھی۔
☆☆☆
تیسرے دن آسیہ آفس پہنچی۔ رافع ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔ آج اجنبی شخص کی دی جانے والی مہلت کا آخری دن تھا۔گزشتہ تین دن میں اس شخص نے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا تھا، مگر آج لازماً وہ اپنی ڈیمانڈ پوچھنے والا تھا۔ اسی اضطراب میں وہ رافع کو ڈھونڈنے نکلی مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ آخرکار ایک چپراسی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سیڑھیوں کے پاس کھڑا ہے۔وہ وہاں پہنچی تو رافع کی پشت اس کی طرف تھی۔ وہ فون پر بات کر رہا تھا۔بس یار، مچھلی جال میں تو پھنس چکی ہے لیکن قابو میں نہیں آ رہی۔ میں نے اسے آج تک کی پھر مہلت دی ہوئی ہے۔ شام کو اس سے بات کروں گا۔ اگر نہ مانی تو اس کی اور اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کر دوں گا۔ میں نے اس سے شادی تھوڑی کرنی ہے، مجھے تو بس پیسے چاہئیں۔رافع اور کیا کہہ رہا تھا، آسیہ میں مزید سننے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ جیسے اس کے قدموں سے زمین نکل گئی ہو۔ جس شخص کو وہ اپنا مددگار سمجھ رہی تھی، وہی اس کا اصل مجرم تھا۔وہ خاموشی سے وہاں سے واپس پلٹ آئی۔ اس کا دل نفرت اور صدمے سے بھر گیا تھا۔ اسے یقین آ چکا تھا کہ رافع ایک بیمار ذہن، دھوکے باز اور مکروہ انسان ہے۔ اگر وہ اسے قانون کے حوالے نہ کرتی تو وہ اس کی تصویر وائرل کر کے اس کی زندگی برباد کر دیتا۔اسی خیال کے تحت اس نے فوراً پولیس کو اطلاع دی اور ساری حقیقت بیان کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد پولیس آفس پہنچ گئی۔ آفس میں کھلبلی مچ گئی تھی۔انسپکٹر نے آ کر پوچھا کہ مس آسیہ کون ہیں؟آسیہ نے آگے بڑھ کر کہا کہ میں ہوں۔پھر اس نے انسپکٹر کو رافع کے کمرے تک پہنچایا۔ رافع پولیس کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔انسپکٹر صاحب، یہی ہے وہ شخص جس نے ایک ہفتے سے میری زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ آسیہ نے نفرت سے کہا۔کک… میں نے کیا کیا ہے؟ رافع ہکلا رہا تھا۔آسیہ نے غصے سے کہا کہ تم ہی وہ دھوکے باز ہو جس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجھے ریسٹورنٹ بلا کر تصویر بنوائی اور پھر بیس لاکھ روپے مانگ کر مجھے بلیک میل کیا۔ میں نے تمہاری سب باتیں سن لی ہیں۔انسپکٹر نے آگے بڑھ کر اسے کالر سے پکڑ لیا اور کہا کہ ایک معصوم لڑکی کو بلیک میل کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟رافع مسلسل انکار کرتا رہا، مگر کسی نے اس کی نہ سنی۔ اس کے موبائل ضبط کر لیے گئے جن میں تصویر اور واٹس ایپ کی گفتگو موجود تھی۔آسیہ کے گھر والوں کو خبر ہوئی تو اس کے بھائی فوراً آفس پہنچ گئے۔عادل نے افسردگی سے کہا کہ آسیہ، اگر وہ گھٹیا شخص تمہیں بلیک میل کر رہا تھا تو تم ہمیں بتاتیں۔ ہم اس سے نپٹ لیتے۔بھائی جان، میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ آسیہ کی آواز لرز رہی تھی۔دیکھو، ہم تمہارے بھائی ہیں، تمہارے رکھوالے۔ بہنوں پر کوئی آنچ آئے، بھائی برداشت نہیں کر سکتے۔ آئندہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو ہمیں ضرور بتانا۔ ہر انسان قابلِ بھروسہ نہیں ہوتا۔مجھے معاف کر دیں بھائی جان، میں واقعی بہت ڈر گئی تھی۔ میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیں۔ میں اب جاب بھی نہیں کروں گی۔درحقیقت اس کا بھروسہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ اسے کبھی گمان بھی نہ تھا کہ رافع جیسا شخص، جس پر وہ بھروسہ کرتی تھی، اس قدر دھوکے باز اور مکروہ انسان نکلے گا۔ اس نے صرف پیسوں کی خاطر جال بچھایا اور خود ہی اس میں پھنس گیا۔
☆☆☆