Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story غیرت کا قتل۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,100
Reaction score
54,449
Location
Karachi
Gender
Male
حاتم خان ہمارے علاقے کا امیر آدمی تھا۔ اس نے دو شادیاں کیں؛ پہلی بیوی سے دو بیٹے ہاشم اور قاسم، اور دوسری بیوی سے اکلوتی دختر دل گوشہ نے جنم لیا۔ حاتم خان نے اپنی بیویوں کو عیش و آرام سے رکھا ہوا تھا۔ ان کو برابر کے حقوق حاصل تھے، تاہم بڑی بیگم کو بیٹوں کی ماں ہونے کی وجہ سے چھوٹی بیگم پر فوقیت حاصل تھی۔

حاتم خان نیک دل آدمی تھا۔ وہ ضرورت مندوں کے کام آتا تھا، تبھی گاؤں میں اس کی بہت عزت تھی۔ بے شک زندگی اور موت کا اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، انسان کو خبر نہیں ہوتی کہ کب بلاوا آ جائے اور وہ اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلا جائے۔ ایسے ہی ایک دن حاتم خان اپنا سیف مقفل کر رہا تھا کہ اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔ اس نے بڑی بیوی کو آواز دی۔ شاداب خانم، جو قریب ہی موجود تھی، دوڑ کر شوہر کے پاس آ گئی۔ حاتم کی رنگت زرد ہوتی جا رہی تھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ خانم نے بیٹوں کو آواز دی۔ بیٹے ترنت باپ کی طرف لپکے، انہوں نے حاتم کو ہلایا جلایا، منہ میں چمچے سے پانی ڈالا، جو باچھوں سے بہہ کر باہر آ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی روح پرواز کر گئی۔ حویلی میں شور مچ گیا۔ آہ و بکا کی آوازیں اونچی دیواروں سے باہر آنے لگیں۔ قریب ہی دوسری بیوی کا گھر تھا۔ آواز سن کر نشاط خانم بڑے گھر آئی، لیکن یہاں کا منظر دیکھ کر غش کھا کر فرش پر گر گئی۔ اس کی دنیا کا سردار اب دنیا میں نہ رہا تھا۔

حاتم خان کی وفات کے بعد اس کی ہر شے کے مالک اور کرتا دھرتا اس کے بیٹے ہو گئے۔ چھوٹی بیوی کو بھی اب انہی کی ماتحتی قبول کرنا تھی کیونکہ بیٹی کی ماں ہوتے ہوئے وہ کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ اب دل گوشہ کی خاطر اس کو باقی زندگی حاتم خان کے گھر میں ہی بسر کرنا تھی۔ شاداب خانم ایک رحم دل عورت تھی۔ شوہر کی وفات کے بعد اس نے نشاط اور اس کی بچی کا بہت خیال رکھا، اور بیٹوں کو بھی تلقین کی کہ تم نے اپنے باپ کی عزت کا پاس رکھنا ہے۔ اپنی سوتیلی ماں اور بہن کا خیال رکھنا اور ان کو ہر طرح کا تحفظ دینا تمہاری ذمہ داری ہے تاکہ تمہارے مرحوم والد کی روح کو تکلیف نہ ہو۔ بیٹوں نے والدہ کی نصیحت کو دل پر نقش کر لیا اور چھوٹی ماں کی عزت و تکریم میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ وہ بہن کو بھی خود سے بڑھ کر چاہتے تھے، آخر ان کی ایک ہی تو بہن تھی۔

وقت گزرتا گیا اور دل گوشہ جوان ہو گئی۔ بھائیوں کی شادیاں ہو گئیں، تو بڑی ماں کو اس کی شادی کی فکر نے گھیرا۔ اس نے اپنی سوتن سے کہا، “اب اپنی بیٹی کا بیاہ کرنے میں عجلت کرنی چاہیے کیونکہ وہ سرو قد ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اس کے حسن و جمال پر میلی نظر ڈالے، وہ عزت سے اپنے گھر کی ہو جائے تو اچھا ہے۔” چھوٹی بیگم نے جواب دیا، “آپ مالک ہیں بڑی بیگم! جو کرنا ہے، آپ نے ہی کرنا ہے۔ ہم دو نہیں، ایک ہیں کیونکہ ہم دونوں دل گوشہ کی مائیں ہیں۔ میں موقع دیکھ کر اس کے بھائیوں سے اس معاملے پر بات کرتی ہوں۔” شومئی قسمت کہ ایک روز بخار کا بہانہ بنا اور اچھی بھلی شاداب خانم دیکھتے ہی دیکھتے چل بسیں۔ ان کی اچانک وفات نے اس گھر کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی بارعب ذات ہی تو تھی، جس نے سارے کنبے کو ہاتھ کی پانچ انگلیوں کی مانند جوڑا ہوا تھا اور سب سکون سے ایک ہی حویلی میں رہ رہے تھے۔ ان کے مرتے ہی بہوؤں کی بن آئی اور وہ سوتیلی ماں کو نظر انداز کرنے لگیں۔ اب دل گوشہ کا وجود بھی انہیں کھٹکنے لگا۔

بیویوں کے رویے کو جلد ہی ہاشم اور قاسم نے محسوس کر لیا اور انہیں سمجھایا کہ والدہ کے بعد اب نشاط خانم ان کی والدہ کی جگہ ہیں۔ ان کا وہی رتبہ سمجھو جو بڑی بیگم کا اس خاندان اور گھر میں تھا۔ خود انہوں نے اپنی سوتیلی ماں کو زیادہ عزت اور اہمیت دینی شروع کر دی تاکہ ان کی بیویاں اس خاتون کے سامنے سر نہ اٹھا سکیں۔ ہاشم اور قاسم نے اپنے والد کے باغات سنبھال لیے تھے اور وہ پہلے سے زیادہ ان کو وسعت دے رہے تھے۔ آمدنی سے جو حصہ بہن اور سوتیلی ماں کا بنتا، وہ باقاعدگی سے نشاط خانم کو دے دیا کرتے تھے۔ ان کی بیویوں کو اس بات کی بھی خار تھی کہ ایک تو سوتیلی ساس کو خاوندوں نے ان پر مسلط کر دیا ہے، اور پھر وہ ایک کثیر رقم بھی ان کا حصہ کہہ کر انہیں دیتے ہیں۔ یوں دونوں عورتیں ساس سے حسد اور نند کی طرف سے کینہ رکھنے لگیں۔ حاتم کی بڑی بہو چاہتی تھی کہ حویلی پر اس کا حکم چلے اور سب اسے مالکہ کا رتبہ دیں، مگر گاؤں کی عورتیں اس کے بجائے چھوٹی بیگم کے پاس آ کر اپنے مسئلے مسائل بیان کرتیں اور اسی کو حویلی کی مالکن کہتیں۔

ماں کے ساتھ دل گوشہ اپنی بھابھیوں کے پاس رہتی تھی اور اب اس کی عمر سترہ برس ہو چکی تھی۔ وہ بے مثال حسن کی مالک تھی؛ بلا شبہ اس سے زیادہ حسین لڑکی اس علاقے میں اور کوئی نہ تھی۔ جب اس کے بھائیوں کے گھروں میں بیٹے پیدا ہوئے، تو انہوں نے اس خوشی میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا۔ خاندان کے بزرگوں کو بھی اس دعوتِ خاص میں مدعو کیا گیا۔ ایک بزرگ نے قاسم سے ذکر کیا کہ بہن کی شادی کے بارے میں کب سوچو گے؟ بہتر ہے کہ اس فرض سے جلد ہی سبکدوش ہو جاؤ۔ اس بزرگ نے خاندان کے ایک نوجوان زمان خان کا تذکرہ کیا اور کہا کہ تمہارے والد کا خیال تھا کہ وہ اپنی دختر کی شادی اس کے ساتھ کریں گے، کیونکہ ان کے خاندان کی ایک خاتون تمہارے خاندان میں بیاہ کر آ چکی ہے، لہذا اب تم لوگوں پر ان کا قرض ہے جس کو آپ نے اتارنا ہے۔ قاسم نے کہا، “ٹھیک ہے بزرگوار! اگر ہمارے بابا جان نے کسی کو زبان دی ہوئی ہے، تو اس کے وعدے کا ایفا ہم پر فرض ہے۔ آپ زمان کے بزرگوں سے اس مسئلے پر بات چیت کر کے مجھے ان کے جواب سے آگاہ کر دیں۔”

بزرگِ موصوف نے زمان خان کے والد اور چچا سے بات چیت کی، تو ان کے گھر کی عورتوں کا آنا جانا حاتم کے گھر شروع ہو گیا۔ ایک روز باتوں باتوں میں زمان کی پھوپھی نے ہاشم کی بیوی سے کہا کہ باپ کی وراثت میں جو شرعی حصہ لڑکی کا بنتا ہے، وہ تو اس کو ملنا چاہیے۔ یقیناً اس سے دل گوشہ کو محروم نہیں کیا جائے گا۔ لڑکے کی پھوپھی کی یہ بات ہاشم کی بیوی کو سخت ناگوار گزری۔ جب یہ عورتیں رخصت ہو گئیں، تو اس نے اپنی دیورانی یعنی قاسم کی بیوی سے کہا، “زمان کے گھر والے لڑکی کے حصے کی جائیداد بھی طلب کر رہے ہیں۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری نند ہمارے بچوں کا حق اپنے شوہر کے گھر لے جائے گی۔ بہتر ہے کہ دل گوشہ کا رشتہ زمان سے نہ کیا جائے، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے مردوں کے دل زمان سے بدظن کرنے ہوں گے۔” دونوں نے باہم مشورہ کیا اور پھر ترکیبیں سوچنے لگیں تاکہ اس رشتے میں دراڑ ڈال دی جائے۔

اُدھر، جب سے دل گوشہ نے سنا تھا کہ اس کا رشتہ زمان سے ہو رہا ہے، وہ بہت خوش تھی۔ زمان کے دل میں بھی اشتیاق ابھرا اور وہ دل گوشہ کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہنے لگا۔ اتفاق سے اس کو لڑکیوں کے جھرمٹ میں دل گوشہ کی جھلک میسر آ جاتی، تو وہ لگاوٹ بھری نظروں سے اس کو تلاش کرنے لگتا۔ تب لڑکیاں ہنستی ہوئی دل گوشہ سے محبت کا مذاق کرتیں کہ “دیکھ، تیری ایک جھلک دیکھنے کو وہ دیوانہ بے تاب میلے کے پاس درخت کے نیچے بت بنا بیٹھا ہے۔” لڑکیوں کی ایسی باتیں سن کر وہ شرما کر اپنے آنچل میں منہ چھپا لیا کرتی تھی۔ ہاشم کی بیوی بخت خانم ادھر اس محبت کے پودے کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کر چکی تھی۔ اب جب وہ زمان خان کے گھر جاتی، موقع پا کر اپنی طرف سے اس کو کوئی محبت بھرا فرضی پیغام دے دیتی۔ ابھی یہ بندھن پکا نہ ہوا تھا کہ بھابھیوں نے یہ بات پھیلا دی کہ دل گوشہ اور زمان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ بات سرگوشیوں میں سفر کرتی سارے گاؤں میں پھیل گئی، جبکہ لڑکی اور لڑکا دونوں ہی اس معاملے سے بالکل بے خبر تھے۔

اب جب دل گوشہ سہیلیوں کے ہمراہ چشمے سے پانی بھرنے جاتی، وہ اس کو زمان کا نام لے کر چھیڑتیں اور طرح طرح کے سوالات کرتیں۔ اس طرح دل گوشہ کے دل میں ان ہم جولیوں نے زمان کی محبت کا مہک دار پودا لگا دیا اور وہ دل ہی دل میں اس کو چاہنے لگی۔ یہی زمان کے ساتھ ہوا۔ اس کے دوست اس سے کہتے کہ گاؤں کی سب سے حسین لڑکی نے تم کو دل دے دیا ہے، وہ تمہاری چاہت میں پانی بھرنے کے بہانے گھر سے نکلتی ہے تاکہ تمہارا دیدار کر سکے۔ وہ عشق جو کبھی منظرِ عام پر نہ آیا تھا اور وہ محبت کرنے والے جنہوں نے کبھی ایک دوسرے سے بات تک نہ کی تھی، ان کے فسانے گاؤں کے ہر فرد کی زبان پر تھے۔

ہاشم اور قاسم اس معاملے سے بالکل بے خبر تھے۔ وہ جب باغات کی فصل اٹھوا کر فارغ ہوئے اور گاؤں میں سکون سے بیٹھے، تب ڈیرے پر ان کے کانوں میں بھی سرگوشیاں پڑ گئیں کہ ان کی بہن سے متعلق زبانِ خلق پر کیا ہے۔ ان سرگوشیوں کو سن کر ان کی کنپٹیاں جل اٹھیں۔ وہ ایسے چرچے کب برداشت کر سکتے تھے! دونوں نے اپنی اپنی بیویوں سے پوچھا، “کیا ہماری غیر موجودگی میں ہماری بہن خاندان کی عزت کو داؤ پر لگا رہی ہے؟ کیا وہ اپنے محبوب سے ملنے چوری چھپے گھر سے نکلتی ہے؟” دونوں عورتوں نے بڑی چالاکی سے ایسی ذومعنی باتیں کیں کہ مردوں کے دل بہن کی طرف سے شک و شبہات سے گھِر گئے، پھر بخت خانم نے شوہر سے کہا کہ کچھ دن صبر کریں تاکہ وہ گاؤں میں پھیلی افواہوں کا کھوج لگا سکے۔

اگلے ہی دن بخت خانم کی طرف سے زمان خان کو ایک خاص پیغام ملا کہ دل گوشہ شام سے ذرا پہلے سامنے والے ٹیلے کے پاس اس سے ملنا چاہتی ہے؛ بات بہت اہم اور ضروری ہے، اس لیے اس کو آنا ہی ہو گا۔ ادھر اس نے نند سے کہا، “گوشہ! تمہارے رشتے سے تمہارے بھائی انکاری ہو رہے ہیں کیونکہ زمان کے گھر والے جائیداد سے تمہارا حصہ طلب کر رہے ہیں۔ تم فلاں وقت ٹیلے کے پیچھے جا کر زمان سے ملو اور اس کو سمجھاؤ کہ اس کے لوگ ایسی شرط نہ لگائیں، ورنہ یہ رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ زمان آج وہاں تمہارا انتظار کرے گا۔ جب تم پانی لینے جاؤ گی، تو ہم جولیوں سے پیچھے رہ جانا اور اس سے بات کر کے ہی آنا۔” دل گوشہ بھابھی سے پیار کرتی تھی اور اس پر اعتبار بھی کرتی تھی، بس اس نے اس کی بات مان لی اور دوسرے روز واپسی پر سہیلیوں سے کچھ پیچھے رہ گئی۔

ادھر بخت خانم نے اپنے شوہر اور دیور کو آگاہ کر دیا کہ آج عصر کے وقت جب لڑکیاں چشمے پر پانی لینے جائیں گی، زمان ٹیلے کی اوٹ میں دل گوشہ سے ملنے کا منتظر ہو گا۔ دونوں بھائی بندوقیں لے کر اس جگہ ایک ٹیلے کی اوٹ میں چھپ گئے اور اپنے شکار کا انتظار کرنے لگے۔ دل گوشہ مشکیزہ پکڑے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی سہیلیوں سے علیحدہ ہو کر ٹیلے کی طرف مڑ گئی، حالانکہ ایسا کرتے ہوئے اس کا دل دھڑک رہا تھا، مگر وہ بڑی بھابھی کا احترام کرتی تھی۔ لڑکیاں باتیں کرتی آگے نکل گئیں۔ زمان اور دل گوشہ زندگی میں پہلی بار یہاں ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ زمان نے پوچھا، “گوشہ! تم نے مجھے یہاں کیا خاص بات کہنے کے لیے بلوایا ہے؟” ابھی وہ کوئی جواب دینے بھی نہ پائی تھی کہ اس کے بھائی سامنے آ گئے اور انہوں نے زمان پر فائر کر دیا۔ دل گوشہ بھائیوں کو سامنے دیکھ کر مشکیزہ پھینک کر بھاگ کھڑی ہوئی اور بھاگتے ہوئے سہیلیوں سے بھی آگے نکل گئی۔ زمان کا قصہ تمام کر کے بھائیوں نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ انہوں نے آتے ہی سوتیلی ماں سے بہن کے بارے میں سوال کیا۔ دل گوشہ ڈر کی وجہ سے بھیڑوں کے باڑے میں چھپ گئی تھی۔

اب بھابھیاں دوڑ کر شوہروں کے آگے آ گئیں اور منت سماجت کرنے لگیں، لیکن انہوں نے بیویوں کو جھڑک دیا۔ وہ چڑھتے دریا کی طرح بے قابو ہو رہے تھے۔ بالآخر باڑے سے گھسیٹتے ہوئے وہ اپنی بہن کو باہر لے آئے اور صحن کی زمین پر ایک بے بس بکری کی طرح ڈال دیا۔ وہ دہائی دینے لگی، ہاتھ جوڑنے اور منتیں کرنے لگی۔ ماں نے یہ خوفناک منظر دیکھ کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے کیونکہ جوان بیٹوں کے ہاتھوں سے کلہاڑیاں چھین لینے کا اس میں یارا نہ تھا۔ اس نے ہاتھ جوڑے کہ “بیٹو! کچھ تو بتاؤ کیا ہوا ہے؟” مگر ان غصے سے بھرے ہوئے جوانوں نے دل گوشہ کی جاں بخشی نہ کی اور اس کے جسم کو کلہاڑی کے وار سے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ غیرت کے ان رکھوالوں نے اس معصوم سے یہ تک نہ پوچھا کہ تم کیوں زمان سے ملنے گئیں؟ خود گئی تھیں یا کسی نے بہکا کر بھیجا تھا؟ جذبات کے طوفان نے اس وقت ان کے دماغ کے دیے بجھا دیے تھے۔ یوں ایک معصوم اور بے گناہ لڑکی اپنی مکار بھابھیوں کی سازش کا شکار ہو گئی۔ برسوں گزر گئے، مگر اس کے بھائیوں کو کبھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کی بہن بالکل بے گناہ تھی اور وہ محض جائیداد کی خاطر ماری گئی تھی۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top