Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Moral Story مغرور کا سر نیچا۔۔۔

Joined
Jun 10, 2025
Messages
1,120
Reaction score
54,997
Location
Karachi
Gender
Male
ابھی میں بچپن کی دہلیز پر ہی کھڑی تھی کہ والدین ایک حادثے کی نذر ہو گئے اور میں تنہا رہ گئی۔ میری پرورش کا ذمہ چچا جان نے اٹھا لیا۔ ان دنوں ہم گائوں میں رہا کرتے تھے۔ تایا ابو چاہتے تھے کہ میری منگنی ان کے بیٹے ناصر سے ہو جائے۔ میں نے سنا تھا کہ وہ بہت خوب صورت ہے، مگر مجھے اس کی صورت یاد نہ تھی کیونکہ میں نے اسے بچپن میں دیکھا تھا؛ وہ آٹھویں جماعت کے بعد شہر اپنے ماموں کے گھر چلا گیا تھا اور وہی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ تایا ابو کا گھر دوسرے گائوں میں تھا، اس لیے وہ جب بھی آتا، وہاں سے ہو کر چلا جاتا اور میں اسے دیکھ نہ پاتی تھی۔ جب ہماری منگنی کا اعلان ہوا تو میں بہت خوش ہوئی اور سوچا کہ اب ناصر کے ساتھ شہر میں رہوں گی۔ جلد ہی مجھے پردے میں بٹھا دیا گیا، جس کے بعد اسے مجھے دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ چچی جان ناصر کی تصویر لائی تھیں، وہ واقعی بہت خوب صورت تھا۔ کئی دفعہ خاندان میں شادی بیاہ کے موقع پر سب اکٹھے ہوئے، تب بھی میں اپنے منگیتر کو نہ دیکھ سکی۔ وہ بھی میری ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتا تھا اور اپنی والدہ سے ضد کرتا کہ میری منگیتر کی بس ایک جھلک دکھا دو، لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ہم دونوں ایک دوسرے کے دیدار سے محروم رہے۔

ناصر کی زندگی کا بیشتر حصہ شہر میں گزرا تھا، لہذا اس کی سوچ بدل چکی تھی۔ وہ شادی سے پہلے لڑکی کو دیکھنے کا قائل تھا، جب کہ چچا چچی بضد تھے کہ یہ ہماری روایات کے خلاف ہے۔ وہ اسے تسلی دیتے تھے کہ شادی تو ہر صورت ہونی ہی ہے، پھر پہلے دیکھنے یا نہ دیکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک دن ناصر ہمارے گھر آیا اور چچی سے کہنے لگا کہ میں اپنی منگیتر کے لیے چوڑیاں لایا ہوں اور اسے اپنے ہاتھ سے دوں گا۔ چچی بولیں: “یہ گائوں ہے، یہاں ایسی باتیں نہیں چلتیں؛ یہ تحفہ تم مجھے دے دو، میں اسے پہنچا دوں گی۔” مجھے یاد ہے کہ ناصر نے اس روز بہت ضد کی تھی، مگر کسی نے اس کی ایک نہ مانی، تبھی وہ خفا ہو کر کہنے لگا: “آپ لوگ اپنی مرضی کر لیں، لیکن اب میں اپنی مرضی کروں گا۔ آپ لوگوں نے مجھے اپنی منگیتر کا چہرہ نہیں دیکھنے دیا، اب میں خود اس کا منہ نہیں دیکھوں گا اور کسی تعلیم یافتہ لڑکی سے شادی کروں گا۔” یہ کہہ کر وہ چلا گیا، مگر اس کے اس احتجاج کا کسی نے نوٹس نہ لیا۔

پھر وہ دن بھی آگیا جب میری شادی ناصر سے ہو رہی تھی۔ دل تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ جانے وہ کس مزاج کا انسان ہوگا؟ پھر بھی میں خوش تھی کہ وہ میرا جیون ساتھی بن رہا تھا، لیکن جب تک انسان بات چیت نہ کرے، تب تک پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیسا ہے۔ گھر میں خوشیاں بکھری تھیں اور مہمانوں کا ہجوم تھا؛ ہر طرف ڈھولک بج رہی تھی اور میں دلہن بنی بیٹھی تھی۔ سکھیاں مجھے چھیڑ رہی تھیں اور میں شرم کے مارے گھونگھٹ میں سمٹی ہوئی تھی۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو سارا کمرہ اس کی آمد سے معطر ہو گیا؛ اس کے گلے میں گلاب اور موتیا کے پھولوں کا ہار تھا۔ اس کے آنے سے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کمرے میں جنت کی ہوا رچ بس گئی ہو۔ وہ میرے قریب آکر بیٹھ گیا اور بولا: “میں اپنے بڑوں کو سزا ضرور دوں گا۔ میں ان کی منتیں کرتا تھا کہ مجھے تمہاری ایک جھلک دیکھنے دیں، لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی بلکہ میرے ارمانوں کا خون کیا؛ آج تم سجی بنی بیٹھی ہو، لیکن میں تمہارا چہرہ نہیں دیکھوں گا۔ تم نہیں جانتیں کہ تمہیں دیکھنے کی چاہ میں میں نے یہ دن کیسے گزارے ہیں؛ تمہیں دیکھنے کی خواہش اب بھی بہت ہے، لیکن میں نے چچی جان کے سامنے قسم کھائی تھی کہ شادی کے بعد میں تم کو نہیں دیکھوں گا، لہذا میں اپنی قسم سے مجبور ہوں۔” میں جو آنکھوں میں ہزاروں خواب سجائے گھونگھٹ اٹھائے جانے کی منتظر تھی، ایسی باتیں سن کر بجھ کر رہ گئی۔ میں نے سوچا، کیا تعلیم یہی سکھاتی ہے؟ ناصر پر اعلیٰ تعلیم نے کوئی مثبت اثر کیوں نہیں کیا، جو وہ آج کی اس سہانی گھڑی کو ایسی باتیں کر کے برباد کر رہا ہے۔ پہلے تو میں سمجھی کہ وہ مذاق کر رہا ہے، لیکن جب اس نے بتی گل کر کے کمرے میں بالکل اندھیرا کر دیا، تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ واقعی میرا چہرہ نہ دیکھنے پر اڑا ہوا ہے۔

ابھی صبح کی اذان میں کچھ ہی دیر باقی تھی کہ ناصر نے سرد لہجے میں کہا: “دیکھو زریں! یہ شادی میری پسند سے نہیں ہوئی، اس لیے تمہارا اور میرا گزارہ نہیں ہو سکے گا۔ میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بیوی چاہتا تھا، لیکن تم میرے والدین کی ضد کا نتیجہ ہو۔ اب تم ان کے کیے کی سزا بھگتو، میں تمہیں اپنے ساتھ شہر لے کر نہیں جائوں گا۔” سہاگ رات کی صبح ہی انہوں نے واپس جانے کا پروگرام بنا رکھا تھا، لہذا وہ یہ کہہ کر چلے گئے کہ اگر تم چاہو تو مجھ سے طلاق لے سکتی ہو۔ وہ تو یہ کہہ کر چلا گیا، مگر میرے لیے پھولوں کی سیج کانٹوں میں تبدیل ہو گئی۔ پھر گھر میں ایک دھماکہ خیز خبر پھیلی کہ دولہا آج ہی واپس جا رہا ہے۔ گھر والوں نے اسے روکنا چاہا تو اس نے عذر پیش کیا: “کیوں میری نوکری کے پیچھے پڑے ہو؟ میری ملازمت کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ میں رک نہیں سکتا، میں بعد میں آجائوں گا۔” گھر والوں کی تمام التجائیں جھٹک کر وہ روانہ ہو گیا اور میں اکیلی روتی رہ گئی۔ جاتے ہوئے اس نے مجھے الوداع تک نہ کہا، کیونکہ وہ دن کے اجالے میں میرا منہ نہ دیکھ کر اپنے بڑوں کو ان کی روایت پسندی کی سزا دینا چاہتا تھا۔

اس کے بعد دن میرے لیے انگارے اور راتیں سولی بن گئیں؛ میں نے کئی راتیں جاگتے ہوئے آنکھوں میں کاٹ دیں۔ تائی جان، جو اب میری ساس بن چکی تھیں، بہت نیک خاتون تھیں۔ انہوں نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا تھا، اس لیے وہ مجھ پر ہوتا ہوا یہ ظلم دیکھ کر کڑھتی رہتیں، اور ستم یہ تھا کہ یہ ظلم ان کا اپنا لخت جگر ڈھا رہا تھا۔ وہ دن رات میری حالت دیکھ کر افسوس کرتیں اور کہتیں کہ اے کاش! میں اسے شادی سے پہلے تمہارا چہرہ دکھا دیتی، واقعی یہ ظلم ہماری طرف سے ہوا ہے۔ ناصر گھر نہیں آتا تھا، پھر بھی ساس کا حکم تھا کہ میں ہر وقت ہار سنگھار میں رہوں تاکہ گھر آنے والا یہی سمجھے کہ میں بہت خوش ہوں۔ میں ان کے ہر حکم کی بلا چون و چرا تعمیل کرتی۔ میں صرف مڈل پاس تھی اور مجھے اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ اگر میں تعلیم یافتہ ہوتی تو شاید ناصر مجھے اس طرح نہ ٹھکراتا، کیونکہ اسے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کی تلاش تھی۔ میں نے کافی دن انتظار کیا، مگر انتظار کی یہ اذیت رائیگاں گئی؛ میں نئی دلہن تھی اور الماری میں رکھے خوب صورت جوڑے میرا منہ چڑاتے تھے۔ آپ ہی سوچیے، اس وقت میرے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ آخر مجھے کس جرم کی سزا دی جا رہی تھی؟ تائی نے ناصر کو کئی خطوط لکھے، لیکن اس نے ایک کا بھی جواب نہ دیا، جس نے میرے ساس سسر کو مزید پریشان اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔

جب انتظار کی اس اذیت نے مجھے نیم مردہ کر دیا اور ناصر نے میری کوئی پروا نہ کی، تو میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ یا تو میں اس شخص کو پا کر رہوں گی یا پھر اسے ایسا سبق دوں گی کہ وہ ساری عمر یاد رکھے گا۔ وہ آخر مجھے کس بات کی سزا دے رہا تھا؟ مجھے اگر کسی کا خیال تھا تو صرف اپنی ساس کا، جنہوں نے میری کسی بات کو کبھی رد نہیں کیا تھا۔ میں جیسا کہتی، وہ ویسا ہی کرتیں؛ میری ہر بات پر ‘جی’ کہتیں اور میری ہر آرزو پوری کرتیں، سوائے ناصر کو واپس لانے کے، جو کہ ان کے بس میں نہ تھا۔ ایک دن میں نے ان سے کہا کہ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں؛ انہوں نے فوراً میری بات مان لی اور تایا سے کہہ کر میرے لیے ٹیوشن کا انتظام کروا دیا۔ میں نے گھر پر ہی میٹرک کی تیاری کر کے دسویں جماعت پاس کر لی، تو دل میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا شوق بیدار ہوا۔ میں نے ساس سسر کی منت سماجت کی کہ مجھے شہر میں رہنے اور وہاں کالج میں پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ چونکہ میری اپنی کافی جائیداد تھی، اس لیے وہ مجھ پر زیادہ پابندی نہیں لگانا چاہتے تھے۔ تایا نے میرا داخلہ شہر کے ایک ایسے نامور کالج میں کروا دیا جہاں ہاسٹل کی سہولت موجود تھی، یوں میں ہاسٹل میں رہنے لگی۔ جب ناصر کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا، جیسے میں اس کی زندگی کا حصہ ہی نہ ہوں۔ مجھے اس بات کا اور زیادہ قلق ہوا۔ وہ کبھی مجھ سے ملنے ہاسٹل نہ آیا، بلکہ وہ گھر بھی تبھی جاتا جب اسے یقین ہوتا کہ میں وہاں موجود نہیں ہوں۔ میں نے تو اس امید پر پڑھائی شروع کی تھی کہ شاید وہ میری بدلی ہوئی حیثیت دیکھ کر لوٹ آئے۔

میرا تعلیمی سفر جاری رہا اور میں نے ایم اے پاس کرنے کے بعد ایک اچھے محکمے میں سرکاری ملازمت حاصل کر لی۔ چونکہ دفتر میں میری پوزیشن بہت اچھی تھی، اس لیے سب میر ا احترام کرتے تھے۔ اسی دوران ناصر کا تبادلہ بھی اسی شہر میں ہو گیا اور اتفاق سے اس کا دفتر بھی وہی تھا جہاں میں کام کرتی تھی؛ وہ اسی محکمے میں ایک کلرک (کولیگ) کی حیثیت سے آیا تھا۔ میں چونکہ افسر تھی، اس لیے ایک دن کسی دفتری کام کے سلسلے میں وہ خود فائل ہاتھ میں لیے میرے پاس آیا۔ اس نے جیسے ہی میری طرف دیکھا، تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ جب میں نے پوچھا: “جی، کیا بات ہے؟” تو وہ جھینپ کر بولا: “دراصل میری کزن کا نام بھی زریں ہے، اسی وجہ سے میں آپ کو دیکھ رہا تھا، کہیں آپ۔۔۔؟” میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا: “میں آپ کی کزن نہیں ہوں، نام ملتے جلتے ہو سکتے ہیں؛ آپ اپنا کام کیجیے اور یہاں سے جائیے۔” اسے امید نہ تھی کہ میں اتنے روکھے لہجے میں بات کروں گی، چنانچہ وہ سر جھکا کر چلا گیا۔ اس کے بعد وہ ایک دن پھر آیا؛ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا، چائے منگوائی اور اخلاق سے بات کی، تو اس کا حوصلہ بڑھ گیا اور اب وہ ہر ہفتے دس دن بعد کسی نہ کسی بہانے میرے پاس آنے لگا۔ جوں جوں اس کی دلچسپی میری ذات میں بڑھتی جا رہی تھی، میں دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی؛ یہ خدا کی قدرت تھی کہ اب وہ شخص ایک کولیگ کی حیثیت سے میرے سامنے تھا جسے میں کبھی شوہر کے روپ میں پانا چاہتی تھی۔ ایک دن ناصر کی جگہ اس کے ایک ساتھی نے کام کیا، اور اسی نے باتوں باتوں میں مجھے بتایا کہ ناصر نے یہاں شہر میں ایک شادی کر رکھی ہے، لیکن اب وہ کچھ پریشان رہتا ہے۔ وہ آپ کو پسند کرنے لگا ہے اور آپ سے شادی کا خواہش مند ہے، اسی وجہ سے وہ اپنی اس بیوی کو چھوڑنا چاہتا ہے۔

جب میں نے یہ سنا، تو زیر لب مسکرائی اور سوچا کہ اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے! اس کے بعد میں نے بھی اس کی طرف توجہ بڑھا دی اور جب ناصر کو یقین ہو گیا کہ میں برا نہیں مانوں گی، تو اس نے مجھے شادی کی پیشکش (پروپوز) کر دی اور میرے والدین کا نام اور پتہ پوچھا تاکہ وہ اپنے بڑوں کو لا سکے۔ میں نے طنزاً کہا: “میں نے تو سنا ہے کہ آپ پہلے سے شادی شدہ ہیں؟” وہ بولا: “ہاں، ایک نہیں بلکہ دو شادیاں ہیں، لیکن میں ان دونوں کو طلاق دے دوں گا، بشرطیکہ آپ مجھ سے شادی کی ہامی بھر لیں۔” میں نے شرط رکھی: “تو پھر پہلے انہیں طلاق دیں، کیونکہ میں اسی صورت میں آپ کا پروپوزل مانوں گی؛ میں اپنے ساتھ دو سوکنیں کسی طور برداشت نہیں کر سکتی۔” اس پر وہ اپنی صفائی دیتے ہوئے کہنے لگا: “ایک شادی میں نے اپنی پسند سے کی تھی، وہ میرے ساتھ پڑھتی تھی اور میرے گھر والوں کو اس کا علم نہیں ہے، لیکن اب میں ثریا سے تنگ آ چکا ہوں کیونکہ وہ شہری لڑکی ہے اور بہت آزاد خیال ہے۔ میں اس کے والدین کے ڈر سے یہ بات ظاہر نہیں کر پا رہا تھا۔ دوسری میری کزن ہے جو آپ ہی کی ہم نام ہے، مگر وہ میرے والدین کی پسند تھی؛ آپ یقین کریں کہ میں نے ابھی تک اپنی اس بیوی کی صورت تک نہیں دیکھی اور نہ ہی اس سے ملا ہوں، میں نے اسے تب دیکھا تھا جب وہ صرف چار برس کی تھی۔” میں نے کہا: “ٹھیک ہے، میں آپ کو اچھا سمجھتی ہوں اور اپنے والدین سے بھی ملوا دوں گی، لیکن پہلے آپ کو ان دونوں بیویوں کو طلاق دینی ہوگی۔” میں مرد کی فطرت پر کیا کہوں کہ ناصر نے سوچنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا اور فوراً طلاق دینے کی ہامی بھر لی۔

اگلے دن اس نے چھٹی کی درخواست بھجوادی۔ اس کے ایک دوست اعظم نے مجھے بتایا کہ ناصر کچہری گیا ہے تاکہ طلاق کے کاغذات بنوا سکے۔ اعظم نے مجھ سے کہا: “باجی! آپ نے یہ کیا غضب کر دیا؟ کسی کا ہستا بستتا گھر تباہ نہ کریں، یہ بڑے ظلم کی بات ہے۔” میں نے جواب دیا: “تم خاموش رہو، تمہیں کیا خبر کہ یہاں کون ظالم ہے اور کون مظلوم؟” حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ہفتے بعد ناصر طلاق نامے لے کر میرے پاس آیا اور فخر سے دکھا کر کہنے لگا: “دیکھیے! میں نے آپ کی خواہش کا احترام کیا ہے، اب آپ کو میری آرزو کا احترام کرنا ہوگا۔” میں نے جواب دیا: “یقیناً میں احترام کروں گی، لیکن تم زریں کا طلاق نامہ مجھے دے دو؛ میں نے تسلی کے لیے یہ کاغذات وکیل کو دکھانے ہیں، کہیں تم مجھے دھوکا تو نہیں دے رہے؟” جب میں نے ایسا کہا، تو اس نے دونوں بیویوں کے طلاق کے کاغذات میرے حوالے کر دیے اور بولا: “اگر ایسی بات ہے تو بے شک آپ تسلی کر سکتی ہیں، میں نے کوئی جعلی کاغذات تیار نہیں کرائے ہیں۔” میں وہ کاغذات لے کر قاسم صاحب (محکمے کے ایک سینیئر افسر) کے پاس آگئی اور ان کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مجھے مخلصانہ مشورہ دیا: “زریں صاحبہ! تم کب تک ایسے شخص کے پیچھے بھاگو گی جسے شادی کے بندھن کی مضبوطی اور اس کے تقدس کا احساس تک نہیں ہے؟ اس شخص نے تمہاری شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا اور تم ہو کہ اب تک اس سے محبت کی آس لگائے بیٹھی ہو؛ ایسی محبت خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔” میں ان کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی، کیونکہ میں نے انہیں ناصر سے کئی درجے بہتر انسان پایا تھا۔ انہوں نے آگے کہا: “اگر تم چاہو تو مجھے اپنا ہم سفر بنا سکتی ہو، کیونکہ میری بیوی مجھ سے روٹھ کر امریکہ چلی گئی ہے؛ وہ ایک بہت امیر باپ کی بیٹی تھی جس کے گھمنڈ میں اس نے مجھے رد کر دیا اور اب اس کے واپس لوٹنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔” میری ملازمت کو ابھی صرف دو ماہ ہوئے تھے کہ قاسم صاحب نے مجھے منتخب کر لیا تھا، اور میں نے بھی انہیں اپنا جیون ساتھی بنانے کا فیصلہ کر لیا، کیونکہ اب یہ میرا حق تھا۔ جب ناصر نے ایک بار پھر مجھ سے کہا کہ میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں اور تمہاری خاطر اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دی ہے، تم ہی میری پہلی اور آخری محبت ہو، تو مت پوچھیے کہ میری کیا حالت ہوئی؛ مجھے نہ تو کوئی خوشی تھی اور نہ ہی رونا آ رہا تھا، بس اس کی کم ظرفی پر حیرت تھی۔

میں گھر پہنچی تو وہاں میری ساس کا خط آیا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا: “بیٹی زریں! تم نے تعلیم کا جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو چکا، تم نے ملازمت کا تو نہیں کہا تھا؛ اب یہ ملازمت چھوڑو اور فوراً گھر پہنچو کیونکہ ناصر برابر خط لکھ رہا ہے کہ میں زریں کو طلاق دے رہا ہوں اور کسی اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، ایسا نہ ہو کہ وہ طلاق کے کاغذات گھر بھجوا دے۔” میں نے خط پڑھ کر ایک طرف ڈالا اور جواب میں لکھ دیا کہ کوئی بات نہیں، اگر وہ طلاق کو ایک کھیل سمجھتے ہیں تو مجھے یہ منظور ہے؛ جب وہ کاغذات بھیج دیں تو مجھے مطلع کر دیجیے گا، شاید یہی میرا مقدر تھا۔ اگلے دن ناصر دفتر آیا اور مجھ سے طلاق کے کاغذات مانگے۔ میں نے کہا: “ثریا کے کاغذات تم واپس لے جا سکتے ہو، لیکن زریں نے اپنے کاغذات خود وصول کر لیے ہیں۔” یہ سن کر وہ ٹھٹھک گیا اور حیرت سے بولا: “کہیں وہ زریں تم تو نہیں؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ یہاں کسی فلیٹ میں اپنی نانی کے ہمراہ رہتی ہے اور ابا جان نے اسے یہاں گھر لے کر دیا ہے۔” میں نے مسکرا کر کہا: “ہاں، میں ہی وہی تمہاری جاہل اور ان پڑھ بیوی ہوں؛ تو کیا اب تم یہ کاغذ مجھے واپس کر دو گے؟” وہ شرمندگی اور پچھتاوے کے مارے بار بار کاغذات کی واپسی کا مطالبہ کر رہا تھا، مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی، کیونکہ جب کوئی انسان آپ کے دل سے اتر جائے تو پھر اس کے ساتھ جیون بھر کا بندھن نبھانا ناممکن ہو جاتا ہے، اور ناصر میرے دل سے مکمل طور پر اتر چکا تھا۔

اگلے روز ناصر، میرے ساس سسر اور چچا چچی سب مجھے سمجھانے کے لیے آ پہنچے۔ ناصر تو بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ میرا کوئی قصور نہیں، لیکن میرے دل کو اس کی کوئی بات نہ لگی؛ کیونکہ جو شخص کسی دوسری لڑکی کی خاطر اتنی جلدی اپنی دو بیویوں کو طلاق دے سکتا ہے، اس کے کردار اور وفاداری پر کیا بھروسہ کیا جائے؟ آخر بیوی بھی ایک انسان ہوتی ہے، وہ کسی خاندان کی عزت اور ذمہ داری ہوتی ہے، کوئی مٹی کا مادھو تو نہیں ہوتی۔ میرے بزرگ میری اس بات پر مانے کہ میں اپنی آدھی جائیداد ناصر کے نام لکھ دوں؛ دل تو نہیں چاہتا تھا، لیکن چچا چچی کو والدین کا درجہ دے کر میں نے ان کا یہ مطالبہ پورا کر دیا۔ یوں حق مہر ناصر نے نہیں بلکہ (جائیداد کی صورت میں) میں نے ادا کیا، جب کہ طلاق اس کی طرف سے ہوئی۔ اس کے بعد مجھے قاسم سے شادی کرنے کی باقاعدہ اجازت مل گئی، اور چچا چچی میری اس شادی میں خوشی خوشی شامل ہوئے۔ آج میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک مثالی اور پرسکون زندگی گزار رہی ہوں؛ مجھے ناصر کی بالکل یاد نہیں آتی اور میں نے اسے اپنے دل و دماغ سے ہمیشہ کے لیے بھلا دیا ہے۔
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top