Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سپاٹر۔۔۔۔۔سنائپر پارٹ دو ۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر 21
ریاض عاقب کوہلر
اس نے دعوت دی۔”اگر کسی کو فائر کا شوق ہو تو پورا کر سکتا ہے۔“
میرا دل آگے بڑھنے کو مچلا ،مگر لورا نے یہ دعوت معززین کو دی تھی ان کے ملازموں کو نہیں ۔
ایک عرب شیخ خوشی سے چہکتے ہوئے آگے بڑھا،نامعلوم حضرت کو لورا کی قربت کاشوق تھا یا سچ میں ہتھیاروں کا شیدائی تھا۔یوں بھی شیخوں کی انگریزی بولنے کی استعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔تبھی اس نے ترجمان ساتھ ہی رکھا تھا۔اور اس کی بڑی وجہ عربی زبان پر فخر کرنا ہے۔ان کے نزدیک عربی زبان کا مقابلہ کوئی زبان نہیں کر سکتی۔اور یہی ہمارا بھی اعتقاد ہے۔باقی یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد اقوام کی پہلی ترجیح ہمیشہ اپنی زبان ہوتی ہے۔جتنی بڑی قومیں ہیں وہ انگریزی بولنے کو سخت معیوب سمجھتے ہوئے اپنی زبان میں گفتگو کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔جن میں چائنہ،فرانس،عرب وغیرہ سرفہرست ہیں ۔اور ہماری طرح (یعنی انڈیا ،پاکستان)غلام اقوام جو آج بھی برطانیہ کی قید سے ذہنی طور پر آزاد نہیں ہو سکیں ۔ہم نہ صرف انگریزی کی برتری تسلیم کرتے ہیں بلکہ جن خواتین و حضرات کو جتنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی آتی ہے وہ سینہ پھلائے اس کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں ۔ ٹی وی اینکر اردو پروگراموں میں ساٹھ فیصد انگریزی بولتے ہیں ۔حد یہ کہ اردو ناول نگاروں کی اکثریت جن میں خواتین ناول نگار پیش پیش ہیں ان کی اولیں ترجیح انگریزی قابلیت کا اظہار ہوتا ہے۔اوران کی تحاریر پڑھ کر ایسی ذہنی کوفت ہوتی کہ چند سطروں سے زیادہ پڑھنا کارِ دار ہو جاتا ہے۔جس طبقہ نے اردو کی خدمت کرتے ہوئے عوام میں اردو کی ترقی و ترویج کا کام کرنا تھا ان کی یہ حالت ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔اردو بے چاری کا تو حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا ہے۔اللہ پاک ہی ہمارے حال پر رحم کرتے ہوئے ہمیں صحیح سمجھ اور اردو سے محبت کا ذوق عطا فرمائے۔
لورا براﺅن نے اس کی حالت (پوزیشن)درست کی ،یقینااس کا وہ التفات کئی اوروں کو فائرنگ کی دعوت دینے والا تھا۔
شیخ نے چار سو میٹر سے ہدف کو نشانہ بنایااورخوشی سے چہکتاواپس لوٹا۔اس کے بعد کافی لوگوں نے ارادہ ظاہر کیامگر شکلا نے وقت کی کمی کا اعلان کر کے واپس چلنے کو کہا۔
تمام ہال میں لوٹ آئے تھے۔تب خریداری کے شوقین حضرات اپنی مانگ بتانے لگے۔ وشال گپتا کو بھی خریداروں کی صف میں دیکھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی تھی۔
دھیرندر شکلا چند لمحے مزید گزار کر چلا گیا تھا۔میں حسرت بھری نظروں سے اپنے شکار کو گھورتا رہ گیا۔جو اتنے قریب آکر لوٹ گیا تھا۔لورا کا بھی سب سے بڑا گاہک وہی تھا،کیوں ہندوستانی فوج کے لیے اسی نے خریداری کرنا تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ لورا براﺅن کے التفات کا بہاﺅ اس کی جانب زیادہ رہا۔ باقی حضرات ذاتی شوق کی خاطر ایک دو رائفلوں سے زیادہ خریدنے میں دلچسپی نہ لیتے۔البتہ ان میں اسلحے کی تجارت والے شاید چند ہتھیار خرید لیتے۔لورا کافی دیر لوگوں میں گھری رہی۔اس کے ہونٹوں پر تسلسل سے دل آویز مسکراہٹ کھلتی رہی۔ اسے کمپنی نے خوب تربیت دے کر بھیجا تھا کہ ایک دکان دار(سیلزوومن)کا گاہکوں سے کیا رویہ ہونا چاہیے۔ یقینا لورا کی موجودی تک بھیڑ چھٹنے والی نہیں تھی۔زیادہ تر لوگ اسے عشائیے(ڈنر) کی دعوت دے رہے تھے۔اور تب انکشاف ہوا کہ اس کا آج کا عشائیہ عرب شیخوں کے ساتھ طے تھا۔
لورا براﺅن جب رخصتی کے ارادے سے اٹھی تو وشال گپتا بھی اس کے ہمراہ ہو لیا تھا۔پارکنگ میں جب وہ اپنی قیمتی کار کے ساتھ رکی،تب وشال گپتا نے مجھے آنکھ کے اشارے سے دروازہ کھولنے کا حکم صادر فرمایا اور میں نے ادب سے دروازہ کھول دیا۔
مجھ پر سرسری نگاہ ڈال کر اس نے حاکمانہ انداز میں سیٹ سنبھال لی تھی۔ظالم نے ہلکے سے تبسم کی سوغات دینا بھی گوارا نہ کیا۔اور دیتی بھی کیسے کہ میں شکل و صورت میں انوکھا تو نہیں تھا۔مجھ سے بہتر کئی امراءاس کے آگے پیچھے دم ہلا رہے تھے تو ایک نچلے درجے کے ملازم کو وہ خاک گھاس ڈالتی۔
وشال گپتا آخری وقت تک اس سے ملاقات طے کرنے کی کوشش میں مصروف رہا مگروہ ہنس کر ٹال گئی تھی۔ بلا شبہ اپنی دعوتوں کا فیصلہ اس نے کاروباری فوائد کو مدنظر رکھ کر ہی کرنا تھا۔
٭٭٭٭٭
وشال گپتا کومایوس لوٹنا پڑا۔البتہ یہ کہہ کر اس نے مجھے خوش کر دیا تھا کہ اس نے ایس آر ون رائفل خریدنے کا ارادہ کر لیا تھا۔گو وہ اسلحے کی اسمگلنگ کرتا تھا،مگر اتنی مہنگی سنائپر رائفل وہ کاروباری نقطہ نظر سے نہیں خرید سکتا تھا۔دہشت گردوں اور حکومت مخالف ٹولوں میں عام ہتھیاروں ،خصوصاََ پستول ،کلاشن کوف وغیرہ کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔سنائپر رائفلیں کم پسند کی جاتی ہیں ۔اس کی وجوہات میں ایک تو مہنگا ہونا ہے۔ دوسرا سنائپر رائفل ہر شخص استعمال بھی نہیں کر سکتا۔تیسر ان کا ایمونشن عام رائفلوں سے بہت زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔چوتھا یہ صرف مخصوص مقاصد کو استعمال ہوتی ہیں ۔گوآج کل صورت حال تبدیل ہو رہی ہے کہ دہشت گرد بھی جسمانی حملوں سے زیادہ دور سے فائرنگ کو زیادہ پسند کرنے لگے ہیں ۔خصوصاََ پاک افغان سرحد پر تو دہشت گردسنائپروں کی بڑی تعداد پاک آرمی کے خلاف مصروف نظر آتی ہے۔یونھی مخصوص اہداف کے لیے ملک دشمن تنظیمیں بھی اس سے بے بہرہ نہیں ہو سکتیں ۔البتہ یورشی ہتھیاروں (اسالٹ رائفلوں )کی مانگ سنائپر رائفل سے زیادہ ہوتی ہے۔
”تم نے کبھی سنائپر رائفل استعمال کی ہے۔“دوران گفتگو اس نے اچانک پوچھا۔
”پہلے آپ سنائپر رائفل کی وضاحت تو کریں ۔“میں نے معصومانہ لہجے میں پوچھا۔
وہ معنی خیز لہجے میں بولا۔”میرا خیال ہے تم بھاشن سننے کے بجائے گوری کے خدو خال میں گم تھے۔“
میں نادم ہوا۔”اس کی باتوں سے تو یہی اندازہ ہوا کہ لمبے فاصلے پر مار کرنے والی رائفل کو سنائپر رائفل کہتے ہیں ۔“
”بالکل ایسا ہی ہے۔راجیو تمھارے پستول کے فائر کی کافی تعریف کر رہا تھا،کوشش کرو شاید رائفل بھی اچھی چلا سکو۔“
”جی باس۔“میں خوش دلی سے اثبات میں سرہلادیا۔اب اسے کیا بتاتا کہ حضور سنائپر رائفلیں مجھے اتنی ہی عزیز ہیں جتنی پلوشے پیاری ہے۔مگر وہ کم بخت نہ تو میرا مزاج آشنا تھا اور نہ پلوشے سے واقف تھا کہ دشمن جاں کیا بلا ہے۔
اس نے فراخ دلی سے ارادہ ظاہرکیا۔”موقع ملا تو تمھیں سکھاﺅں گا۔“
میں نے حقیقی خوشی کا اظہا رکیا تھا۔اور سچ تو یہ ہے کہ انسان کواپنے مشغلے کے بنازندہ رہنا دشوار لگتا ہے۔سنائپر رائفل سے جدائی کو کئی ہفتے گزر گئے تھے۔اورصرف پلوشہ کی موجودی ہی میں سنائپر رائفل سے دوری برداشت کی جا سکتی تھی۔
اگلے دن سہ پہر کوگھر لوٹتے وقت وشال نے شام کی دعوت کا بتادیاتھا۔
”ٹھیک ہے باس۔“میں نے خوش دلی سے سرہلادیا۔ٹھکانے پر پہنچ کر میں نے اسے اندرونی عمارت کے سامنے اتارا اور کار کو گیراج میں کھڑا کرنے لے گیا۔باقی محافظ اپنی جیپ کو براہ راست گیراج میں لے آئے تھے۔ کار کو قفل کر کے میں ان کے پیچھے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اجیت سنگھ اور موہن سنگھ ایک کمرے رہتے تھے،جبکہ مجھے مہمان خانہ چھوڑ کرشنکر داس کے ساتھ منتقل ہونا پڑا تھا۔
چوڑی راہداری میں داخل ہوتے وقت شنکر داس باآواز بلند بولا تھا۔”ویسے کیا لگتا ہے،باس پر کبھی برا وقت آیا تو کوئی چڑی مار اس کی خاطر خواہ حفاظت کر سکے گا۔“
اجیت سنگھ اور موہن سنگھ نے زور دار قہقہ بلند کر کے گو یا مجھے سلگانے کی کوشش کی تھی۔
میں نے کبھی ایسی باتوں پر کان نہیں دھرے تھے،لیکن کچھ لوگ ڈنڈے کے مرید ہوتے ہیں ۔انھیں صرف طاقت کی زبان ہی سمجھ آتی ہے۔میں شروع دن سے تعلقات بہتر کرنے کی کئی کوششیں کر چکا تھالیکن مجھے حقیر جانتے ہوئے وہ توجہ دینے پر راضی نہیں تھے۔اور زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے صرف وہی ایسے تھے جن سے مجھے کھلی معلومات مل سکتی تھی۔مستریوں سے سنا ہے کہ پہلے سے ہوئے پلستر پر نیا پلستر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ پرانے پلستر کو کھرچا جائے۔اور مجھے بھی ان کی بے نیازی وحقارت پر دوستی و تعلق کا اثر جمانا تھا۔ اور یہ تبھی ممکن تھا کہ اپنے بارے ان کی غلط فہمی دور کروں ۔تبھی جوابی وار کرتے ہوئے میں اطمینان بھرے لہجے میں بولا۔
”اگر زرافہ اپنے لمبے قد اور بھاری وجود کو لے کر شیر سے مقابلے کے خواب دیکھنا شروع کر دے تو اس کے انتھ (خاتمے)میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔“
شنکر کے قدم رکے پیچھے مڑتے ہوئے وہ طیش سے بولا۔”باس تک خبر پہنچنے سے پہلے میں تمھارا وہ حشر کر چکا ہوں گا کہ مجھے شنکر کے بجائے پتا جی بولو گے۔“
”پتا جی تو خیر تم اپنے بچوں کے بھی نہیں ہو۔“میرے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
وہ غصے میں بکتا جھکتا میری جانب بڑھا،میں اس کی طبیعت صاف کرنے کو تیارہوگیاتھا۔
سنائپرز کو اسلحے کے استعمال کے ساتھ خالی ہاتھوں سے لڑنا بھی ضرور سکھایا جاتا ہے،کیوں کہ عملی زندگی میں اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔البتہ نشانے بازی کی صلاحیت خالی ہاتھ لڑائی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔جسمانی مشقوں کو میں نے کبھی غیر اہم نہیں سمجھا مگرفطری طور پر میرا جھکاﺅ نشانہ بازی کی مشق کی طرف زیادہ رہتا تھا۔سنائپررائفلوں سے میری محبت جنون کی حد تک تھی۔ مرد اس شوق سے لڑکی کو نہیں تاڑتے ہوں گے جتنی توجہ میں سنائپر رائفل کو دیتا تھا۔اگر نشانہ بازی کا مقابلہ ہوتاتو وہ میرے لیے طفل مکتب سے زیادہ اہمیت نہ رکھتامگر یہ خالی ہاتھ لڑائی کامعاملہ تھا۔مجھے سنبھل کر لڑنا تھاورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے تھے۔
خالی ہاتھ لڑنے کے مختلف طریقے متعارف ہو چکے ہیں ۔جن میں کشتی،کراٹے،جوڈو،ججستو،تائی کمانڈو،باکسنگ،کک باکسنگ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ہر فن کے اپنے قاعدے اور قانون ہیں ۔کسی فن میں صرف لاتیں چلانے کی اجازت ہوتی ہے اور کسی میں فقط مکا مارا جا سکتا ہے۔کسی فن میں صرف چہرہ اور چھاتی ہی ہدف ہوسکتے ہیں اورکسی میں پورا جسم تختہ مشق بنتا ہے۔کسی فن میں پکڑ دھکڑ منع ہوتی ہے تو کسی میں ضرب لگانے کی ممانعت۔مگران فنون پر سارے قوانین اور ضابطے تب لاگو ہوتے ہیں جب مخصوص کھیل کے مقابلے جاری ہوں ۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی فن میں مکمل نہیں جانتا۔ہمیں تو قواعد و ضوابط سے آزاد(فری سٹائل) لڑائی سکھائی جاتی ہے۔ جس میں جوڈو کے داﺅ پیچ ،باکسنگ کی مکا بازی اور کراٹے کی لاتیں ایک ساتھ استعمال کی جاتی ہیں ۔اور عملی و عام زندگی میں یہی طریقہ جنگ کارآمد ہے۔
غصے میں باولا ہوکر وہ اچھلتا ہوا میرے قریب آیا اور بائیں قدم پر گھومتے ہوئے اس کی داہنی ایڑی میری گردن ناپنے کو بڑھی۔میں اچھل کر ہلکا ساپیچھے ہٹا،وہ وار خطا جانے پر لڑکھڑایا نہیں تھا۔دایاں قدم زمین پر لگتے ہی اس نے باہنی ٹانگ گھمائی۔ایک دم نیچے بیٹھتے ہوئے میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی بائیں ٹانگ تھامی اور زمین پر لگی ٹانگ کو زوردارٹھوکررسید کی۔وہ دھڑام سے پیٹھ کے بل گرا۔لیٹے لیٹے ہی اس نے اپنی آزاد ٹانگ پیچھے کھینچی ،مجھے ایک دم اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کاکیا ارادہ ہے۔جونھی اس کی ٹانگ دباﺅ ہٹے سپرنگ کی مانند آگے بڑھی۔میں نے فوراََ اس کی دوسری ٹانگ کو گرفت سے آزاد کر کے لوٹ لگائی۔ٹانگ کے میری گرفت میں ہونے کی وجہ سے اس نے توازن برقرار رکھا تھا۔میرا سہارا چھوٹتے ہی وہ دوبارہ نیچے گرا اور اس سے پہلے کہ اٹھ پاتا میں نے اسے چھاپ لیا تھا،اس کی چھاتی گھٹنوں سے دباتے ہوئے میرے ہاتھ مشینی انداز میں مسلسل چلنے لگے۔پہلے چند مکے اس نے کہنوں پر سہارے تھے لیکن جونھی میں نے دائروی مکے گھمائے اس نے ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑ دیئے تھے۔اسی وقت اجیت سنگھ نے مجھے عقب سے تھام کر پیچھے کھینچنے کی کوشش کی ،میں نے ایک دم کہنی اس کے پیٹ میں گھونپ دی۔
”افف....“کی آواز کے ساتھ وہ رکوع کے بل نیچے جھکا۔اس کی گرفت میرے جسم سے ہٹ گئی تھی۔پیچھے مڑتے ہوئے میں نے مخصوص انداز میں گھٹنا اٹھایا جو اس کی ٹھوڑی پر لگا تھا۔کولہوں کے بل نیچے گرتے ہوئے وہ لمبا پڑ گیا۔
میں تیسرے مخالف موہن سنگھ کی طرف سے غافل نہیں ہوا تھا۔میرے ہاتھوں اپنے ساتھی کی درگت بنتے دیکھ کر وہ مشتعل ہو کربپھرے ہوئے سانڈ کی طرح حرکت میں آچکا تھا۔قریب پہنچتے ہی اس نے بازو گھمایا، نشانہ میری کنپٹی تھی۔
گھٹنوں میں خم دے کر میں نیچے جھکا،اس کا مکا میرے سر کے اوپر سے گزر گیا تھا۔وہ ہلکا سا لڑکھڑایااور اس سے پہلے کہ سنبھلتا،میرا دایاں گھونساٹھیک اس کی پسلیوں کے نیچے بائیں جانب لگا۔باکسنگ کی زبان میں اسے ”انڈر کٹ“کہتے ہیں ۔باکسر کوپچھاڑنے( ناک آﺅٹ) کو یہ تیر بہ ہدف مکا ہے۔چند لمحوں کو انسان کے حواس مختل ہو جاتے ہیں ۔ٹھوڑی کے بالکل نچلے کنارے پر دائروی مکا مارنا اور پسلیوں کے نیچے بائیں جانب اندر و اوپر کی جانب مکا اٹھانے سے مخالف تھوڑی دیر کو حواس کھودیتا ہے۔حالاں کہ باکسنگ گلاﺅز بھی ہاتھوں پر چڑھے ہوتے ہیں جن میں فوم استعمال کر کے مکے کی سختی کو کم کیا جاتا ہے۔اور اس وقت تو میرے ہاتھ ننگے تھے اس لیے اثر بھی زیادہ ہوا تھا۔
منہ سے زور دار ”اوغ....“نکالتے ہوئے وہ گھٹنوں کے بل گرکے دوہراہوگیا۔شور سن کر راجیو اور ایک دوسرا شخص کمرے سے باہر نکلے۔
”یہ سالا کاہے کا جھگڑا شروع ہے۔“پریشانی سے کہتے ہوئے وہ شنکر کے قریب ہوا۔”ابے کوئی کھلاس تو نہیں ہوگیا۔مونے بھاگ کے باس کو بلا لاکوئی بڑی گڑبڑی چل رہی ہے۔“
مونا بھاگ پڑا تھا۔راجیو شنکر کا چہرہ ہلا کر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔ میں اطمینان سے کھڑا رہا۔
شنکر نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں اور راجیو ،اجیت سنگھ کی طرف بڑھ گیا۔موہن بھی گہرے سانس لے کر خود کو سنبھالنے لگا۔وشال گپتا کے آنے تک تینوں بیٹھ گئے تھے۔
”کیا ہورہا ہے۔“وشال گپتا قریباََ بھاگتے ہوئے وہاں پہنچا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔” کچھ نہیں باس،انھی کوئی غلط فہمی ہوئی تھی ، دور کر دی ہے۔“
مجھ پر خفگی بھری نگاہ ڈال کراس نے شنکر سے پوچھا۔”تم بتاﺅ،کیا ہوا۔“
”کک....کیا بتاﺅں باس؟“وہ گڑبڑا گیا تھا۔
”تیری ماں کا سر!“وشال دھاڑا۔
اجیت بولا۔”باس!سندیپ نے ہماری بے خبری میں حملہ کر کے ہمیں چوٹ پہنچائی۔“
وشال نے مجھے گھورا....میں صفائی دینے لگا۔”باس یہ آپ کے التفات کو غلط نام دے رہے تھے۔ ان کے تیئں میں آپ کی حفاظت کے قابل نہیں ہوں اور آپ نے فقط میرا احسان اتارنے کو محافظ کی ذمہ داری سونپی ہے۔تبھی میں نے شنکر کو چنوتی دی ،اس نے حملہ کیا....باقی دو نے بھی بجائے ہمیں چھڑانے کے شنکر کا ساتھ دیااور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔“
موہن بولا۔”باس اس نے بے خبری میں حملہ کیا۔“
وشال کے ہونٹوں پر تبسم ابھرا۔”چلو اب لڑ لو۔“
موہن نے ندامت سے سر جھکا لیا تھا۔میرے ایک دو مکوں نے انھیں باور کرا دیا تھا کہ میرے بارے ان کے اندازے ٹھیک نہیں تھے۔
”سندیپ!آئندہ ایسی بے ہودگی برداشت نہیں کروں گا....اور تم تینوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وشال گپتا کسی کا احسان اتارنے کو اسے اپنی جان نہیں سونپ سکتا۔سندیپ کو لڑتے ہوئے دیکھ چکا ہوں ۔اس میدان میں نیا ہے لیکن لڑنے کا فن جانتا ہے۔مخلص ہے اور احسان فراموش نہیں تبھی اس ذمہ داری کا اہل سمجھا ہے۔کسی کو اعتراض ہے تو مجھ سے بات کرے۔اب دفع ہوجاﺅ اپنے کمروں میں ۔“وہ واپس مڑ گیا۔
راجیو ،موہن سنگھ کو سہارے دے کر اٹھانے لگا۔میں نے قدم بڑھا کرشنکر کی طرف ہاتھ لمبا کیا۔
مجھے کڑے تیوروں سے گھورتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ دور دھکیلا۔
میں معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔”شما کر دویار!بھائیو ں میں ایسی لڑائیاں توچلتی رہتی ہیں ۔آج میرا تکا لگ گیا،کل آپ میری پٹائی کر دیں گے....ایک ساتھ رہتے ہوئے یہ تو چلتا رہے گا۔“
ایک دم اس کا موڈ تبدیل ہو ا۔ہلکی مسکراہٹ ہونٹوں پر لاتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ تھامااور کھڑا ہو گیا۔میں نے فوراََ اسے گلے سے لگایا اورپھر اجیت کی طرف مڑ کر بازو پھیلا دیئے۔
لڑائی کی ابتداءشنکر اور میرے درمیان ہوئی تھی ،ہمیں راضی بہ رضا دیکھ کر ان دونوں نے خفگی ختم کر دی تھی۔سکھ ویسے بھی یار باش قوم ہے۔دماغ سے زیادہ دل کی سنتے ہیں ۔یقینا کسی پر اپنی برتری ثابت کر کے عاجزی و ندامت کا اظہار کرنے پر خاطر خواہ نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔اب ان کے دلوں میں میری دھاک بیٹھ گئی تھی۔پہلے مجھے کمتر سمجھ کر وہ کسی خاطر نہیں لاتے تھے اور اب ایک ساتھ تینوں کے ٹھکائی کر کے میں نے ثابت کر دیا تھاکہ ان کی جسامت اور لمبے قد میرے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔تبھی انھوں نے خوش دلی سے سب کچھ بھلا دیا تھا۔
کمرے میں پہنچ کر میں نے شنکر سے پھر معافی مانگی تھی۔”آپ بڑے بھائی ہیں ۔اور غلطی میری تھی۔ مجھے یوں مشتعل نہیں ہونا چاہیے تھا۔“
”کوئی بات نہیں یار۔“شنکر نے خوش دلی سے میری پیٹھ تھپکی۔”مجھے تو بس باس کی فکر تھی کہ جس کا دیا کھاتے ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو وقت آنے پر خدمت کا حق ادا نہ کر سکیں ۔اب تمھاری لڑنے کی صلاحیت دیکھ کر مجھے فکر نہیں رہی۔“
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”بس تکا ہی لگ گیا تھا۔اگر آپ کا بھاری گھونسا میری کنپٹی پر لگ گیا ہوتاتو شاید کل تک ہوش نہ آتا۔“
شنکر کھل کھلا کر ہنسا۔”لڑائی بھڑائی میں تو بس داﺅ چلنے کی بات ہوتی ہے۔“
”صحیح کہا بھائی۔“میں نے تائید میں سر ہلا دیا تھا۔اب اتنا بچہ تو وہ بھی نہیں تھا کہ اسے معلوم نہ ہوتا کہ تکا کسی ایک شخص کے خلاف تو لگ سکتا ہے ایک ساتھ تین افراد پر اتفاقی داﺅ کیسے چل سکتا ہے۔لیکن ایسا باور کرا کے میں کیے کرائے پر پانی نہیں پھیر سکتا تھا۔
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”آج تو کافی دیر لگا دی۔کوئی خاص پروگرام تھا شاید۔“
”وہ گوری دیکھی تھی نا جسے رخصت کرنے کو باس باہر آیا تھا۔“
”اس کے علاوہ دیکھنے کو تھا ہی کیا۔“شنکر نے اوباشانہ انداز میں قہقہ بلند کیا۔
”لمبے فاصلے تک مار کرنے والی رائفل لائی ہوئی تھی۔اسی کے بارے انگریزی میں گٹ مٹ کرتی رہی۔جو تھوڑا بہت میری سمجھ آیا،وہ نئے قسم کی رائفل بازار میں لانا چاہتی ہے۔“
” دھیرندر شکلا صاحب بھی اسی گوری کو ملنے آئے تھے۔“شنکر کے استفسار نے میرے دل کی دھڑکن تیز کر دی تھی۔انجانے میں وہ میرے دل پسند موضوع پر آگیا تھا۔
”دھیرندر شکلا کون ہیں ؟“میں نے مصنوعی حیرانی ظاہر کی۔
”تم شکلا صاحب کو نہیں جانتے،وہ باس کا بھی باس ہے۔“اس بار شنکر مجھے حقیقت میں حیران کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
”باس کا باس....“میں بوکھلا گیا تھا۔
وہ میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بولا۔”راجپوت دادا،دھیرندرشکلا صاحب کے کاروباری ساتھی (بزنس پارٹنر)ہیں ۔اورراجپوت دادا تو صرف ممبئی کا بڑا دادا ہے ،شکلا صاحب بین الاقوامی دادا ہیں ۔بہت بڑے اور اختیارات والے شخص ہیں ۔ سرکاری طور پر بھی پہنچی ہوئی شخصیت ہیں ۔فوج سے کوئی جنرل، کرنل ریٹائرڈ ہیں ۔“بے چارہ فوجی عہدوں کو نہیں جانتا تھا تبھی جرنیل کو کرنل کے درجے تک لے آیا تھا۔ورنہ کرنل کا عہدہ جنرل سے بہت نیچے ہوتا ہے۔
”یہ وہی موصوف ہوں گے جس کے ہمراہ چار کالے سوٹوں والے محافظ تھے۔باقیوں سے اسلحہ جمع کر لیا گیا تھا لیکن اس کے محافظوں کے پاس گنیں موجود تھیں ۔“
”بالکل وہی۔“شنکر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
میں نے اپنی سادگی ظاہر کی۔”میں نے تو کوئی عام کاروباری شخص سمجھا تھا۔“
شنکر نے میری بے وقوفی پر قہقہ بلند کیا۔”اپنی خوش قسمتی سمجھو کہ اسے قریب سے دیکھنے کا موقع مل گیا۔اور یہ بھی باس کی وجہ سے تھاورنہ ہم جیسے اسے دور سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔“
”صحیح کہہ رہے ہو بھیا۔“اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے میں دھیرندر شکلا کے بارے مزید کریدنے لگا۔شنکر علمیت جھاڑنے کے چکر اور مجھے متاثر کرنے کے شوق میں میری معلومات میں کافی اضافہ کرتا رہا۔بھولے پن اور انجان بننے کا ناٹک کر کے میں نے اس سے کافی کچھ اگلوا لیا تھا۔یوں کہ دھیرندرشکلا کی ذات کے متعلق میرا شوق ظاہر ہونے کے بجائے فطری تجسس لگے۔شنکر اس کی ممبئی میں بنی محل نما کوٹھی کو دیکھ چکا تھا۔اس کی بیویوں اور اولاد وغیرہ کے بارے استفسار پر کوئی خاص سراغ ہاتھ نہیں آیا تھا۔خاص کر پرما انصاری کے بارے تو شنکر بالکل لاعلم تھا۔لیکن اتنی معلومات بھی بہ ہر حال کافی تھیں ۔اپنے اپنے بستر پر لیٹے ہم گپ شپ کرتے رہے۔یہاں تک کہ شنکر کو نیند آنے لگی۔ چوں کہ رات گئے تک جاگنا پڑتا تھا اس لیے ہم سہ پہر کو تھوڑی دیر آرام کر لیتے تھے۔شنکرکی جان بخشی کر کے میں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھیں ۔
اٹھ کرغسل کر کے تازہ دم ہوئے۔اور کھانا کھالیا کہ وشال گپتا کسی بھی وقت بلا سکتا تھا۔کھانے کے بعد ہم گپ شپ کرنے لگے۔موہن سنگھ اور اجیت سنگھ کا رویہ بھی بہت بدلا ہوا تھا۔
پھر شنکر کے مشورے پر ہم تاش کھیلنے لگے۔یہ ایسا کھیل ہے جو مجھے کبھی کھیلنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔لیکن ان کے ساتھ قدم ملانے کو مجھے سیکھنا پڑ گیا تھا۔البتہ معدے کی خرابی کا بتا کر میں نے شراب پینے سے معذرت کر لی تھی۔ورنہ وہ تینوں بے تحاشاپینے والے تھے۔
اندھیرا گہرا ہوتے ہی وشال کا بلاوا آگیا تھا۔ہم باہر نکل آئے۔تھوڑی دیر بعد وہ تینوں جیپ میں اور میں باس کے ہمراہ کار میں بیٹھ کر ٹھکانے سے نکل آئے تھے۔مجھے جانے کی سمت کا بتا کر وشال گپتا نرم لہجے میں نصیحت کرنے لگا۔
”تم اکیلے ہو اور وہ تین ہیں ۔تمھیں جھگڑا مول لینے میں احتیاط برتنا چاہیے تھی۔دشمنی میں لوگ بہت کچھ کر جاتے ہیں ،خاص کر اس وقت جب اتنی قربت ہو۔کوشش کرکے صلح کر لو۔یہ نہ ہو وہ میری لاعلمی میں تمھیں نقصان پہنچادیں ۔“
”جی باس۔“میں نے سعادت مندی ظاہر کی۔” تینوں سے معافی مانگ لی ہے۔اور اب ہمارے تعلقات کافی بہتر ہیں ۔ تھوڑی دیر پہلے میں ان سے تاش بھی سیکھتا رہا ہوں ۔بلکہ دو سو روپے ہارنے پڑے کہ یہ کھیل میرے لیے نیا ہے۔“
وشال نے معنی خیز انداز میں کہا۔”سمجھ دار ہو۔ آگے تک جاﺅ گے۔“
”آپ کی آشر باد چاہیے باس۔بھگوان کی کرپا سے اتنی جلدی مار نہیں کھاﺅں گا۔کم عمری ہی سے ٹھوکریں کھا رہا ہوں ۔زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے۔“
اس نے مطمئن انداز میں سرہلا دیا تھا۔
ہم گھنٹے بھر بعد ایک عالی شان کوٹھی کے دروازے پر پہنچے۔کوٹھی کیا پورا محل تھا۔نجانے کیوں مجھے لگا وہ دھیرندر شکلا کی کوٹھی ہے۔لیکن میں نے وشال گپتا سے پوچھنے کی کوشش نہ کی کہ یہ مناسب نہیں تھا۔اگر واقعی وہ شکلا کی رہایش گاہ تھی تو تھوڑی دیر بعد حقیقت سامنے آجا نا تھی۔
دعوت کا اہتمام کوٹھی کے سبزہ زار میں کیا گیا تھا۔شنکر لوگ پارکنگ ہی میں رک گئے تھے۔میں وشال گپتا کے ہمراہ اندر پہنچ گیا۔سرخ بجری کی روش پر سبزہ زار کے بالکل آغاز میں ”واک تھرو گیٹ“(ایسا دروازہ جس سے گزرتے وقت اگر آدمی کے پاس دھات کی بنی اشیاءہوں تو سیٹی بجنے لگتی ہے)رکھا ہوا تھا۔وہیں ایک جانب بڑی میز رکھی تھی جس پر تمام مہمان اپنا اسلحہ وغیرہ رکھوا رہے تھے۔یہ منظر بھی میرے اندازے کو تقویت دے گیا تھا کہ وہ دھیرندر شکلا ہی کی رہائش تھی۔پستول جمع کرا کے میں نے ٹوکن لیے اور وشال گپتا کے عقب میں چلتا ہوا اندر پہنچ گیا۔یہ ایک مخلوط تقریب تھی۔مہمانوں کی آمد جاری تھی۔میں عادت کے برخلاف لڑکیوں کو تاڑنے لگا۔ممکن تھا کہ پرما انصاری دکھائی دے جاتی۔مگر وہاں اکثریت خواتین کی تھی ایک دو لڑکیاں ہی نظر آئی تھیں ،ان کی عمر بھی میرے اندازے میں پرما انصاری سے زیادہ تھی۔اور شکل بھی انصاری صاحب کے بتائے ہوئے حلئے سے کافی مختلف تھی۔ایک لڑکی کے بال کافی لمبے اور آنکھیں موٹی تھیں ۔دوسری گہرے سانولے رنگ کی تھی۔جبکہ تیسری کا قد ضرورت سے زیادہ لمبا تھا۔
وشال گپتا مختلف لوگوں سے علیک سلیک کرنے لگا۔میں آنکھوں پر کالی عینک چڑھائے اس کے عقب میں چلتا رہا۔اس کا بڑا بھائی راجپوت دادا بھی وہاں آیا ہوا تھا۔
اچانک لوگوں میں ہلچل مچی۔مڑ کر دیکھنے پر لورا براﺅن نظر آئی۔آج تقریب کی مناسبت سے اس نے خوب صورت لباس زیب تن کیا تھا۔اب میں تو اس لباس کا نام ہی نہیں جانتا۔میں صرف شلوار قمیص،ساڑھی اور پتلون کوٹ کا نام جانتا ہوں ۔سفید رنگ کا جسم سے چپکا ہوا ایسا لباس جس کا گلا اتنا کھلا ہو کہ عورت کے اندرونی لباس کی جھلک واضح نظر آئے۔کمر پر صرف دو تسمہ نما لڑیاں جو لباس کو نیچے گرنے سے بچانے کو سہارا دیں ۔اور کمر وہاں تک برہنہ کہ اس سے آگے خطرے کی حدود شروع ہو جاتی ہو۔ایک ٹانگ ران سے تھوڑا اوپر تک عریاں اور دوسری گھٹنے سے نیچے تک ڈھکی ہو۔ بازو کا کپڑا کلائیوں تک آئے مگر ایسا باریک اور چپکا ہوا کہ نہ تو بازو کی ہیئت چھپائے اور نہ رنگت۔بہ ہر حال لباس کا نام نہ جاننے کی وجہ سے مجھے اتنی وضاحت کرنا پڑی۔
کافی لوگ اس کے ہاتھ کی نرمی جاننے کو قریب سمٹ گئے تھے۔متبسم چہرے کے ساتھ ہر ملنے والے سے مصافحہ کرتے ہوئے اس نے ایک صوفے پر نشست سنبھال لی۔اس اکٹھ میں چند ایسے بھی تھے جنھوں نے اسے بالکل اہمیت نہیں دی تھی۔ ان میں ایک راجپوت دادا بھی تھا کہ ایک صوفے پربیٹھا شراب سے شغل کرتا رہا۔ وشال البتہ اس کے سامنے بچھا بچھا جا رہاتھا۔
سب سے آخر میں منحوس شکل شکلا کی آمد ہوئی تھی۔اس کے پہلو میں چلنے والی لڑکی کو دیکھ کر میرا دل زور سے دھڑکا۔یہ دھڑکنا خدانخواستہ محبت یا اس کی شکل سے متاثر ہونے کی وجہ سے نہیں تھا۔بلکہ اپناہدف ملنے کی خوشی تھی۔میانہ قامت،سانچے میں ڈھلامتناسب بدن،کندھوں کو چھوتے سنہرے ریشمی بال،معصوم چہرہ، آنکھوں میں دنیا جہاں کی شوخی ،ہونٹوں پر خوب صورت مسکراہٹ بکھیرے وہ سچ مچ پری لگ رہی تھی۔وہ انتہا کی خوب صورت نہیں تھی، مگر بے پناہ موہنی ضرور تھی۔ایسی لڑکی جسے دیکھ کر بے ساختہ پیار آجائے۔میں فوراََ ہی پرما انصاری کو پہچان گیا تھا۔ اس کا لباس بھی لورا براﺅن سے کم نہیں تھا۔آدھی رانوں تک آتاہوا سکرٹ، کمر کا بالشت بھر کا علاقہ کپڑے سے بے نیاز اور بالائی جسم پر کھلے گلے اور بغیر بازﺅں کی چولی۔گورے بازو بالکل عریاں تھے۔چہرے کی سفیدی میں سرخی نمایاں تھی۔یقینا امارت حسن کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شکلا کے پہلو میں چلتے ہوئے وہ یوں لگ رہی تھی جیسے زرافے کے ساتھ ہرنی ۔
اس نے شکلا کے ساتھ ہی نشست سنبھالی تھی۔لورا براﺅن نے قریب آکر شکلا سے مصافحہ کیا،پرما کو گلے سے لگا کر ماتھے اور گالوں پر پیار دیااور ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
میں دائیں بائیں کا جائزہ لینے لگاکہ شکلا کو وہیں قتل کر کے اگر پرما کو اغواءکرلوں ۔مگر پھر مجھے اپنی سوچ پر ہنسی آئی تھی۔پوری عمارت میں جا بہ بجامسلح کمانڈو یوں چکرا رہے تھے جیسے ایٹمی پلانٹ کی حفاظت پر چاق و چوبند فوجی دستے ہوتے ہیں ۔میں نے کوٹھی سے باہر نگاہ دوڑائی،گو رات کا وقت تھا مگر تیز روشنی کی وجہ سے دور تک عمارات کی نشان دہی ہو رہی تھی۔البتہ رات کی وجہ سے کوئی ایسی مناسب جگہ نظر نہ آئی جہاں دور سے شکلا کو نشانہ بنانا ممکن ہوتا۔شاید دن کو کوئی ایسی عمارت نظر آجاتی۔
ہلکا ہلکا میوزک بج رہا تھا۔حاضرین کے چہروں پر خوشی کی چمک تھی۔اچانک کوئی قریب آکر کھنکارا۔
سر گھمانے پر مجھے مضبوط جسم کا جوان نظر آیا جس کی عقابی نگاہیں مخالف کو بدن چھیدتی محسوس ہوتیں ۔
”تم شاید وشال گپتا کے محافظ ہو۔“اس نے ہاتھ مصافحے کو بڑھایا۔
اس کی گرفت میں ہاتھ تھماتے ہوئے میں نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔
اس نے ہاتھ کی گرفت مضبوط کی۔یقینا اس کا ہاتھ کافی سخت اور طاقت ور تھا۔مگر اس کی بدقسمتی کہ عملی زندگی میں سخت حالات کی چکی میں پسے ہوئے سنائپر پر دھاک بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔میں نے جوابی زور آزمائی کے بجائے بس دفاعی انداز میں ہاتھ کو اتنا سخت کیاتا کہ اسے پتا چل جائے کسی اناڑی کا ہاتھ نہیں دبا رہا۔
اس نے زہریلے لہجے میں سرگوشی کی۔”وہ شکلا صاحب کی نواسی ہے۔جانتے ہو پچھلے ہفتے میڈیکل کے ایک طالب علم کو سڑک کنارے روک کر ایک آنکھ سے محروم کر دیا گیا۔کیوں کہ اس نے راج کماری پرما کی تنبیہ پر انھیں گھورنا نہیں چھوڑا تھا۔اب سنا ہے اس نے وہ کالج ہی چھوڑ دیا ہے۔“
ایک دم میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔شکلا کی حیثیت جنگل کے بادشاہ شیر کے بجائے ڈائنو سار کی سی تھی۔میرے جیسے معمولی حیثیت کے آدمی کاقتل تو اس نزدیک چیونٹی مسلنے سے بھی آسان تھا۔شاید اس کی ایماپر خود وشال گپتا میری چھاتی میں گولی ٹھونکنا سعادت سمجھتا۔
میں نے فوراََ شرمندی ظاہر کی۔”شکریہ دوست!یقینا آپ میری حماقت کو معاف کرنے میں فراخ دلی سے کام لیں گے۔“
میرے مدافعانہ لہجے نے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی تھی۔میرا ہاتھ آزاد کرتے ہوئے وہ نرم لہجے میں بولا۔”شاباش،سمجھ دار ہو۔لمبی زندگی گزارو گے۔“
”اس گوری کو دیکھنے پر تو پابندی نہیں ہے ناں باس۔“میں نے مزاحیہ انداز اپنایا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”جب تک راجکماری پرما کے ساتھ بیٹھی ہے صبر کر لو،اس کے بعد گھورنا تو چھوڑو،کہیں بھگا کے لے جانا۔“
”شکریہ باس۔“کہہ کر میں نے اپنا رخ پرما کی جانب سے موڑ لیا تھا۔مرد حضرات یقینا پہلے سے پرما بی بی سے واقف تھے کہ کوئی اسے گھورنے کی ہمت نہیں جتا رہا تھا۔دھیرندر شکلا ایسی بلا کا نام نہیں تھا کہ کوئی اس سے مخاصمت مول لینے کی جرات کرتا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 22
ریاض عاقب کوہلر
کھاناشروع ہوا۔سب لوگ لوازمات سے سجے طویل اور وسیع و عریض دستر خواں کی طرف بڑھ گئے جو کئی میزوں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا۔اتنے قسم کے کھانوں کی بہتات تھی کہ تمام قسموں کو چکھنے والے کا پیٹ بھی بھر جاتا۔ میرے جیسے محافظ بس اپنے آقا کا دم چھلا بنے چاک وچوبند اور چوکس رہنے کی اداکاری کر رہے تھے۔ ایسی محفل میں باس لوگوں کو کیا خطرہ درپیش ہو سکتا تھا۔
دعوت طعام کے بعد محفل موسیقی شروع ہوئی۔گانے کے ساتھ ناچنے والیوں کا بھی بندوبست تھا۔
لورا براﺅن ،دھیرندر شکلا کے پہلو میں بیٹھ کر سر جوڑے مصروفِ گفتگورہی۔یقینا اس کی آمد کا مقصد شرب و طعام سے زیادہ سودے بازی سے تھا۔دھیرندر شکلا کو راضی کر کے وہ ہتھیاروں کی بہت بڑی مانگ حاصل کر سکتی تھی۔کثیر فوج کو بڑے عدد کی گنتی کے ہتھیار درکار ہو سکتے تھے۔فوج کے علاوہ شکلا کے دہشت گردوں سے بھی تعلقات تھے۔اور فی زمانہ سنائپر رائفلیں تو دہشت گرد بھی استعمال کرنے لگے ہیں ۔افغان سرحد پر پاک آرمی کے خلاف دہشت گردوں کے کافی سنائپر سرگرمِ عمل ہیں ۔
پرما انصاری زیادہ دیر نہیں بیٹھی تھی اور شکلا سے اجازت لے کر اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئی تھی۔ چار پانچ چست و چالاک کمانڈوتھوڑا سا فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چل پڑے۔اگر گھر کے اندر اس کی حفاظت کا یہ اہتمام تھا تو گھر سے باہر کیا حالت ہونا تھی۔انصاری صاحب نے صحیح مصیبت میں پھنسا دیا تھا۔
محفل موسیقی رات گئے تک جاری رہی اس دوران شکلا اور لورا بھی سر جوڑے مصروفِ گفتگو نظر آئے۔میں اتنی دور تھا کہ ان کے مابین ہونے والی گفتگو کا اندازہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔اور پھر شاید ان کے درمیان کچھ طے ہو گیا کہ شکلا نے لورا سے الوداعی مصافحہ کیا اور اندرونی عمارت کی طرف چل پڑا۔ محافظوں نے اسے دائیں بائیں ، عقب اور سامنے سے گھیر لیا تھا۔وہ مخصوص فاصلہ رکھے آگے بڑھتے رہے۔فوجی جرنیل یوں بھی اس پذیرائی کے عادی ہوتے ہیں ۔اور وہ تو جرنیل کے ساتھ اور بھی بہت کچھ تھا۔
طاقت واختیار انسان سے بہت سے وہ کام بھی کرا دیتے ہیں جن کے بارے عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ اختیار ہی تو تھا جس نے فرعون و نمرود سے خدائی کا دعویٰ کرایا،شداد کو خدا کے مقابلے میں جنت بنانے پر اکسایا،ابرہہ کو خانہ کعبہ پر حملے کا حوصلہ دیا، ابو جہل کو کفر پر ثابت قدم رکھا،کسریٰ پرویز کو نبی پاک ﷺ کے نامہ مبارک کوچاک کرنے کی ترغیب دی۔یزید بد بخت کو جگر گوشہ رسول ﷺ کا سر قلم کرانے پر جری کیا،تیمور لنگ کومسلمان سالار یلدرم کے خلاف میدان میں اترنے پر مجبور کیا،سلمان بن عبدالملک سے محمد بن قاسم جیسے مجاہد کی پھانسی کا حکم نامہ جاری کروایا۔ابو جعفر منصور سے امام ابو حنیفہ جیسے ولی اللہ کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرکے زہر دینے کا گنا ہ کروایا،یہی تو طاقت و اختیار کی سب سے بڑی خامی ہے کہ انسان سے انسانیت چھین کر خدابننے کی احمقانہ و حماقت بھری سوچ عطا کرتی ہے۔اور جب مالکِ حقیقی ڈھیلی رسی کھینچتا ہے تو انسان کے پاس پچھتانے کی مہلت بھی نہیں ہوتی۔
لورا براﺅن نے بھی دھیرندر کے اٹھتے ہی جانے کو پر تولے۔وشال گپتا بھی شاید اسی کے انتظار میں تھا تیز قدموں سے اس کے پیچھے چل پڑا۔میں بھاگ کر اس کے قریب پہنچ گیا۔
واک تھرو گیٹ پر کھڑے ایک محافظ نے اسے کوئی پیغام دیا۔”میں شکلا سے مل کر آتا ہوں ۔“مجھے وہیں رکنے کا اشارہ کر کے اس نے حسرت بھری نگاہ لورا براﺅن کی شفاف کمر پر ڈالی اور اندورنی عمارت کی طرف بڑھ گیا۔
میرا دل چاہا پستول اٹھا کرا س کے پیچھے چل دوں لیکن شکلا کے محافظوں کی کڑی نظریں مجھ پر گڑی تھیں ۔ یقینا وہ مجھے اندرونی عمارت کی طرف جانے کی اجازت نہ دیتے۔وشال گپتا نے زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ پندرہ بیس منٹ بعد وہ باہر نکل آیا۔تھوڑی دیر بعد ہم کار میں بیٹھ کر ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔
وہ سارے رستے خاموش رہا۔مگر جیسے ہی اسے اتارنے کو کار روکی سنجیدہ لہجے میں بولا۔
”کار پارک کر کے میرے کمرے میں آجاﺅ۔“
”جی باس۔“کہہ کر میں نے کار آگے بڑھادی۔
وہ تینوں جیپ پارک کر کے میرے منتظر کھڑے تھے۔ایک جھڑپ میں ہمارے فاصلے سمٹ گئے تھے۔
کار روک کے میں ان کے پاس پہنچا۔”آپ لوگ چلو مجھے باس نے بلایا ہے۔“
وہ سرہلاتے ہوئے اپنے کمروں کو بڑھ گئے۔میں وشال گپتا کی رہائش گاہ کی طرف بڑھ گیا۔وہ ڈرائینگ روم میں نظر نہ آیا۔اس سے متصل دو خواب گاہیں تھیں ۔ایک وشال کے استعمال میں جبکہ دوسری خالی پڑی رہتی۔یقینا وہ کسی خصوصی مہمان کے لیے بنائی گئی تھی۔وہ اپنی خواب گاہ میں تھا۔دستک کے جواب میں اس کی۔”آجاﺅ۔“سنائی دی تھی۔
”بیٹھو۔“میرے اندر داخل ہوتے ہی اس نے دعوت دی۔
میں نے خاموشی سے نشست سنبھال لی۔وہ کسی گہری سوچ میں کھویاگلاس سے گھونٹ گھونٹ کر کے زہر معدے میں اتارتا رہا۔میں خاموشی سے اس کے بولنے کا منتظر تھا۔
”ایک اہم کام کو مجھے ایسے بندے کی ضرورت ہے جو رازداری برتنا جانتا ہو۔“لمحاتی خاموشی کوتوڑتے ہوئے اس کی گھمبیر آواز ابھری۔
میں محتاط انداز میں بولا۔ ”باس !صرف رازی رکھنے سے توبات نہیں بنے گی مسئلہ تو اہم کام کی تکمیل سے حل ہو گا نا۔“
اس نے ترغیب دی۔”تم دولت بننا چاہتے ہو ناں ....اور خواہشات کی تکمیل قربانی مانگتی ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔” قربانی کا تعین کریں گے توکچھ طے کر سکوں گا۔“
”کسی پر گولی چلانے کا کہوں تو کیا جواب ملے گا۔“
”بے گناہ آدمی کو مارنا اتنا آسان نہیں ہوتا باس۔ایسی دولت بھلا کب سکون دے گی جو کسی کی چتا جلا کر حاصل ہو۔“
اس نے فلسفہ جھاڑا۔”اخلاقیات کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے سندیپ!انھیں اٹھا کر ترقی و بلندی کی منازل طے نہیں کی جا سکتیں ۔اور یاد رکھو ضمیر ایسی رسی ہے جو ہمیشہ تمھیں غربت کے کھونٹے سے باندھ کر رکھے گی۔پن (نیکی)اور پاپ(گناہ)فقط کمزوروں اور نکھٹوﺅں کے حیلے ہوتے ہیں ۔ورنہ انسان کی پہلی ترجیح اپنی ذات ہوناچاہیے۔“
نہ جانے وہ کیا کام لینا چاہتا تھا۔اگر کسی بے گناہ کے قتل کا کہتا تو میں بعد میں انکار بھی کر سکتا تھا۔میں نے کون سا ہمیشہ وہیں رہنا تھا۔البتہ جب تک تھا اس کی ہاں میں ہاں ملانے ہی میں بہتری تھی۔یہ بھی ممکن تھا اس کا ہدف میرا بھی دشمن ہوتا۔میں نے دو تین لمحے سوچنے کی اداکاری کی اور پھر کام کا پوچھنے کے بجائے انعام کے بارے جاننے کی جستجو کی جوپوچھنا میرے کردار سے زیادہ میل کھاتا تھا۔”کتنی دولت ملے گی؟“
”شاباش ،یہ ہوئی نا عقل مندوں والی بات ....“خوشی سے چہکتے ہوئے اس نے دائیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں اٹھا دیں ۔”پانچ لاکھ۔“
”کسے قتل کرنا ہے۔اور کیا گولی چلانے کے بعد میرے بچنے کی امید ہو گی؟“میں نے ایک ساتھ دوسوال پوچھے۔
”ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے سے گولی چلانے والے کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔“اس نے ہدف کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔
میں چونک گیا تھا۔اپنے شک کو حیرانی میں ڈھالتے ہوئے پوچھا۔”اتنے لمبے فاصلے سے میں گولی کیسے چلاﺅں گا؟“
وہ ہنسا۔”بھول گئے کل گوری حسینہ نے کتنی آسانی سے پندرہ سو میٹر کے فاصلے پر چھوٹے سے ہدف کو شانہ بنایا تھا۔“
میں نے مصنوعی بے بسی ظاہر کی۔”باس !وہ پیشہ ور نشانے باز ہے۔اور میں بس پستول چلا لیتا ہوں ۔“
”راجیو تمھاری نشانہ بازی کی تعریف کر رہا تھا۔یقینا تم رائفل بھی آسانی سے چلا لو گے۔“
میں نے دلچسپی سے پوچھا۔”سکھائے گا کون؟“
وہ چہکا۔”سکھانے والے کا نام جان کر شاید تم خوشی سے پھٹ جاﺅ۔“
الجھن آمیز انداز میں سر کھجاتے ہوئے میں اسے گھورتا رہ گیا تھا۔
مجھے خاموش پاکر اس نے تجسس ختم کیا۔” کیپٹن لورا براﺅن کا شاگرد بننے میں کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔“
”وہ گوری....؟“میں حقیقتاََ اچھل پڑا تھا۔
”ہا....ہا....ہا۔“وشال گپتا نے بلند بانگ قہقہ اچھالا۔”گویاتم بھی گھائل ہو چکے ہو۔“
میں نفی میں سرہلاتے ہوئے مطلب کے موضوع پر آیا۔”باس!شکلا صاحب کے پہلو میں بیٹھی ہوئی نوجوان حسینہ کون تھی۔“
”چپ....“اس نے ایک دم ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔”دوبارہ تمھارے منہ سے ایسا کچھ نہ سنوں ۔“
”شش....شما چاہتا ہوں باس۔“میں نے ہکلانے کی اداکاری کی۔
”بے وقوف !وہ دھیرندر شکلا کی نواسی راج کماری پرما شکلا ہے۔اسے گھورنے والے کی آنکھیں پھوڑ دی جاتی ہیں ،اس کے بارے بولنے والے کی زبان کاٹ دی جاتی ہے اور اسے سوچنے والے کا سر سلامت نہیں رہتا۔پہلی اور آخری بار تنبیہ کر رہا ہوں ۔دوبارہ تمھارے منہ سے اس کا نام نہ سنوں ۔“
” معافی چاہتا ہوں باس۔“میں نے ندامت ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔
”تو تیار ہو۔“وہ موضوع کی طرف پلٹا۔
”آپ نے ہدف کا نہیں بتایا۔“
اس نے شرط پیش کی۔”پہلے نشانہ بازی کا امتحان تو پاس کر لو۔“
”بھگوان نے چاہا تو آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔“
اس نے فلسفہ بگھارا۔”ہمارے کام میں بھگوان کا نام لینااچھا شگون نہیں ہوتا۔ہم بس اسے مانتے ہیں ۔اس کی ماننے میں سراسر ہمارا گھاٹا ہے۔اور گھاٹے کا سودا کون کرتا ہے۔“
”میری تربیت کب شروع ہو گی؟“اس کی کفریہ گفتگو پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں تھی۔بھگوان ہو،گاڈ ہو،خدا ہو یا اللہ سب کا اشارہ اسی طاقت ور ذات کی طرف ہے جس کے ارادے اور مشیت کے سامنے نہ تو کوئی تدبیر کام آتی ہے اور نہ اختیارات و طاقت۔یہ اور بات کہ وہ حلیم ہے۔مہلت دیتا ہے،غفور ہے ،معاف کر دیتا ہے۔ صبور ہے ڈھیل دیتاہے ،کریم ہے کرم فرماتاہے،رحیم ہے، موقع دیتا ہے۔جذبات وغیرہ سے مغلوب نہیں ہوتا کہ اشتعال میں آکر بڑی بڑی باتیں کرنے والے کو اسی وقت پکڑ لے۔
اس نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”بڑی جلدی ہے۔“
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔”کیوں کہ مزید غربت برداشت نہیں ہوتی۔“
”فکر نہ کرو بالک!اگر یہ کام کامیابی سے کر دیا تو چھپڑ پھاڑنے میں کامیاب ہو جاﺅگے،اس کے بعد دولت کی بارش میں نہاتے رہو۔“یہ کہتے ہوئے ہوئے اس نے گہرا سانس لیا۔”اب آرام کروکل یا پرسوں سے تمھاری تربیت شروع ہو جا ئے گی۔اور یقینا یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہو گی کہ اس گفتگو تک کسی تیسرے کی سماعتوں کی رسائی نہیں ہونا چاہیے۔“
”جی باس۔“اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میں کمرے سے نکل آیا۔تھوڑی دیر چہل قدمی کر کے میں کمرے میں لوٹ گیا۔وقتاََ فوقتاََ میں عمارت میں گھومتا رہتا تھا۔اب تو عمارت کا چپہ چپہ ازبر ہو گیا تھا۔حالات کا کچھ پتا نہیں تھا کہ کب وہاں سے بھاگنا پڑتا۔اور وشال گپتا کے پاس سنائپر رائفلیں دیکھ کر بھی میرے دل میں چور پیدا ہو گیا تھا۔ضرورت پڑنے پر وہاں سے سنائپر رائفل حاصل کی جا سکتی تھی۔
شنکر میرے انتظار میں جاگ رہا تھا۔”کافی دیر لگا دی یار!کوئی خاص بات تھی کیا؟“اس نے میرے بیٹھنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔
بستر سنبھالتے ہوئے میں نے پہلے سے سوچا ہوا جواب اگلا۔”باس چاہتے ہیں میں مزید تربیت حاصل کروں ۔جسمانی داﺅ پیچ کے ساتھ وہ مجھے ہر قسم کے ہتھیار چلانابھی سکھانا چاہتے ہیں ۔“
وہ سمجھ داری سے بولا۔”لازمی بات ہے اپنے خصوصی محافظ کی تربیت پر اس نے توجہ تو دیناہوگی۔“
”تھک گیا ہوں یار!سوتے ہیں ۔“اس کے مزید سوالوں سے بچنے کو میں نے جمائی لیتے ہوئے کروٹ تبدیل کی۔
اس نے چپ رہ کر میری خاموش تائید کی تھی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دن ناشتا کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی وشال گپتا کا بلاوا آگیا تھا۔میرے پہنچنے پر بغیر تمہید باندھے مجھے کسی خاص جگہ جانے کا مژدہ سنایا۔مزید ہدایات اس نے موبائل فون پر دینے کا عندیہ دے کر تیار ہونے کا حکم دیا۔
اپنا مختصر سامان لپیٹ کر میں نے سفری جھولے (بیگ)میں ڈالا اور جانے کو تیا رہو گیا۔شنکر لوگو ں کو میں نے تربیت والی کہانی دہرا کرمطمئن کر دیا تھا۔تھوڑی دیر بعد میں راجیو کے ساتھ انجان منزل کی جانب گامزن ہو گیا۔راستے میں راجیو عام گفتگو کرتا رہا۔میرے جانے کے مقصد اور کام وغیرہ کے بارے اس نے تجسس ظاہر نہیں کیا تھا۔
گھنٹے ڈیڑھ بعد ہم زیادہ بھیڑ سے نکل کر مضافات جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے۔میں ممبئی شہر کے راستوں سے بالکل ناواقف تھا۔بس جتنا کچھ انصاری صاحب نے نقشوں کی مدد سے سمجھایا تھا وہی ذہن میں تھا۔اور نقشوں کی مدد سے کسی علاقے سے خاطر خواہ واقفیت حاصل نہیں کی جاسکتی۔راجیوسے بھی زیادہ نہیں پوچھ سکتا تھا کہ اس کے تیئں میں ممبئی ہی کا باشندہ تھا۔زیادہ مشکل مجھے بات چیت کے وقت پیش آتی تھی کہ ہندی اور اردو کی اصل ایک سہی بول چال میں کافی فرق ہے۔روزمرہ کے عام الفاظ جو کوئی اور بولے تو ہم بڑی آسانی سے سمجھ جاتے ہیں ،مگر اپنی زبانی میں روانی سے بولنا کافی دشوار تھا۔جاسوس بننا اتنا مشکل ہو گایہ مجھے اب پتا چل رہا تھا۔جنگلوں بیابانوں میں بھی ایک سنائپر ہر لمحہ خطرے کی زد میں رہتا ہے مگر یہاں دگنا خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔راز فاش ہو جانے کے بعد بچنے کی امید صفر فیصد بھی نہیں تھی۔اتفاق سے وشال گپتا کا سہارا مل گیا تھا ورنہ میں اب تک اندھیرے ہی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوتا۔انسان کے منصوبے اور تدابیر ہمیشہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتیں ۔ کبھی مقصد کو درمیان میں چھوڑ نا پڑتا ہے اور کبھی اللہ پاک اپنی قدرت سے ایسی آسانیاں فرما دیتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
مجھے دھیرندر شکلا اور پرما انصاری کی تلاش کے بعد سب سے مشکل کام کسی معیاری سنائپر رائفل کی تلاش کا لگ رہا تھا۔اور اللہ پاک نے ایسی آسانی فرمائی کہ نہ صرف میں شکلا کے ٹھکانے تک پہنچ گیا بلکہ مجھے سنائپر رائفل تک بھی رسائی ہو گئی تھی۔اور سونے پر سہاگا کہ دشمن خود میری تربیت پر کمر بستہ تھا۔میں اب جلد از جلد نشانہ بازی کی تربیت مکمل کر کے وشال گپتا کا مقصد جاننے کا خواہاں تھا۔جہاں تک میرا اندازہ تھا اس کام کا منصوبہ ساز(ماسٹر مائنڈ)دھیرندر شکلا ہی تھا۔البتہ بہت زیادہ سوچنے کے بعد بھی ہدف کے بارے اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا۔
مزید ادھ،پون گھنٹے کے سفر کے بعد ہم ایک ڈیرے( فارم ہاﺅس) کے پاس پہنچ گئے تھے۔کافی وسیع اور کشادہ عمارت تھی۔ارد گرد سرسبز کھیت خوب صورت منظر پیش کر رہے تھے۔ممبئی شہر کی اونچی عمارتوں شہرکی بھیڑ،چیخ و پکاروغیرہ سے دور ایک پر فضا مقام تھا۔ممبئی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔اور اتنی بڑی آبادی میں شہر کی فضا کا کیا حال ہو گا اس کا اندازہ کرنے کو یقینا عقل کل ہونا ضروری نہیں ہے۔
داخلی دروازے پر کار روک کر راجیو نے کہا۔” اُپن سالا یہاں سے واپس جائیں گا۔“
چوکیدار باہر نکل آیا تھا۔راجیو کو دیکھ کر اس نے شناسائی کا اظہار کیا تھا۔کار سے نکل کر راجیو نے معانقہ کرتے ہوئے میرا تعارف کرایا۔
”سندیپ بابو کے بارے تمھیں باس کا حکم مل چکا ہوگا۔“
چوکیدار نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کیا۔اور راجیو سے کھانے پینے کی بابت پوچھنے لگا۔
راجیو نفی میں سر ہلا کر کار میں گھسا اورہاتھ لہراتا ہوا واپس مڑ گیا۔
میں چوکیدارکی معیت میں اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا جو دروازے سے کافی فاصلے پر بنی تھی۔ وہاں تک خوب صورت اینٹوں کی روش بنی تھی جس کے جوانب میں پھولوں کی کیاریاں بنی تھیں ۔ ڈیرے کی چاردیواری چار فٹ سے بلند نہیں تھی۔البتہ اس کے اوپر مزید تین فٹ تک کانٹا دار تار ایسے لگائی گئی تھی کہ تار کاٹے بغیر اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا۔ڈیرے کا احاطہ آٹھ دس ایکٹر کے بہ قدر تو ضرور ہوگا۔ایک کونے میں خوب صورت اور جدید طرز کی رہائش گاہ بنی تھی۔جس کے بغل میں نہانے کا تالاب(سوئمنگ پول )تھا۔ رہائشی عمارت اور بیرونی دیوار کے ساتھ چوڑا گیراج بنا تھا جس میں چھے سات کاریں ایک ساتھ کھڑی کی جا سکتی تھیں ۔ گیراج میں اس وقت دو قیمتی کاریں نظر آرہی تھیں ۔رہائشی عمارت کے قریب ایک اور ملازم نظر آیا،چوکیدار مجھے اس کے حوالے کر کے واپس پلٹ گیا۔
رہائشی عمارت میں داخل ہوتے ہی ایک کھلا سا ہال نظر آیا جس کے ایک کونے میں باورچی خانی بنا تھا۔درمیان میں چار صوفہ سیٹ آنے سامنے رکھ کر ڈرائنگ روم کی شکل دی گئی تھی۔چاروں دیواروں کے ساتھ بڑی سکرین کی ایل ای ڈی نظر آرہی تھیں ،تاکہ کسی صوفہ نشین کودائیں بائیں دیکھنے کی زحمت نہ کرنا پڑے۔ باورچی خانے کی مخالف دیوار کے ساتھ چند کمرے بنے تھے۔اور ان کے ساتھ دوسری منزل کے لیے اوپر سیڑھیاں جا رہی تھیں ۔
ڈرائینگ روم میں لورا براﺅن کو میز پر پاﺅں رکھ کر ٹی وی گھورتے دیکھ کر مجھے حیرانی نہیں ہوئی تھی۔ مجھ پر سرسری نظر ڈال کر وہ ٹی وی سکرین کی طرف متوجہ رہی۔اس کے اندازو اطوار میں حکمران قوم سے ہونے کا فخرو غرورشدت سے ابل رہا تھا۔سونے پر سہاگا کہ وہ صنف نازک بھی تھی۔اور ایسی آزاد خیال عورتوں کا ناز نخرہ نہ کرنا باعث حیرانی و تعجب تو ہو سکتا ہے۔نازو ادا دکھلانا عجیب نہیں ہوتا۔ہر خوب صورت بے حجاب عورت چاہے جانے کی متمنی ہوتی ہے، بلکہ اسے پیدائشی حق سمجھتی ہے۔اور خیر سے مرد حضرات بھی ایسے قدر ناشناس نہیں ہوتے کہ انھیں مایوس کریں ۔یہ علیحدہ بات کہ صنف نازک ہی گھاس ڈالنے پرراضی نہیں ہوتیں ۔
میں نے ازخود تعارف کی کوشش نہ کی کہ مجھے اس کی ضرورت تھی نہ حاجت۔ادھیڑ عمر ملازم سے اپنے کمرے کے بارے رہنمائی لے کر میں سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ دوسری منزل پر ایک خوب صورت خواب گاہ میری منتظر تھی جس کی کھڑکی سے ڈیرے سے باہر کا علاقہ بھی دور دور تک نظر آتا تھا۔جوتے اتار کر میں بستر پر لمبا پڑ گیا۔جب تک وشال گپتا کی طرف سے کوئی ہدایت نہ ملتی مجھے ازخود عقل مند بننے کی ضرورت نہیں تھی۔
میں الجھن آمیز حالات کوسوچنے لگا۔نہ جانے وشال گپتا کس کا قتل کرانا چاہتا تھااور اس کی نظر انتخاب مجھ پر کیوں پڑی تھی۔لورا براﺅن کیسے مجھے تربیت دینے پر آمادہ ہوئی تھی۔ایک دور رس سوچ یہ بھی ذہن میں جاگی کہ شایدایس آر ون سنائپر رائفلوں کی خریداری کو دھیرندر شکلا نے ایسی کوئی شرط لگائی ہو۔بلا شبہ ہندو بنیا موقع سے فائدہ اٹھانے کا ماہر ہے۔اسی وجہ سے لورا براﺅن کے چہرے پربھی مجھے دیکھ کر جوش یا وارفتگی نہیں ابھری تھی۔اگر اس کا اپنا کام ہوتا تو وہ ضرورمجھے خوش آمدید کہتی اور ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرتی۔مزید غور کرنے پر مجھے اپنی سوچ حقیقت کے قریب ہی لگی تھی۔البتہ اپنے چناﺅ کے بارے مجھے کوئی قابل حل سوچ نہیں سوجھی تھی۔کیوں کہ وشال گپتا میری اصلیت سے تو واقف نہیں تھا۔یونھی میرے بہ طور سندیپ چوپڑا ہونے کے میرے ماضی سے بھی واقف نہیں تھا۔کہ میری وفاداری وغیرہ سے متاثر ہو کر اس نے میرا چناﺅ کیا ہو۔صرف پستول کا فائر اچھا ہونے سے کوئی سنائپر نہیں بن جایا کرتا۔بہت زیادہ سر کھپانے کے باوجود میں وشال گپتا کے فیصلے کی توجیہہ نہیں کرسکاتھا۔کبھی کبھی انسان بغیر جانے اور پرکھے کسی پر اندھا اعتماد کرنے لگتا ہے جو میرے خیال میں وشال گپتابھی مجھ پر کرنے لگا تھا۔اس کے علاوہ میرے انتخاب کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی۔ممبئی جیسے شہر میں کرائے کا قاتل ڈھونڈنادریائے کے کنارے بیٹھ کر پانی کی بالٹی بھرنے کی فکر کرنے جیسا تھا۔
پھر مجھے خیال آیا ،صرف قاتل نہیں ڈھونڈنا تھا انھیں ایک سنائپر چاہیے تھا۔اور پھر کرائے کے قاتل قابلِ بھروسا نہیں ہوتے،جبکہ مجھ پر وشال اعتماد کر سکتا تھا۔اور میری تربیت کو لورا براﺅن میسر تھی تو انھوں نے موقع سے فائدہ اٹھانا مناسب سمجھا ،اگر میں اچھا ثابت ہوتا تو آئندہ بھی ان کے کام آسکتا تھا۔فی زمانہ کلیدی قتل (ٹارگٹ کلنگ)کا چلن ہے۔اورمخصوص افراد کو نشانہ بنانے کوسب سے بہترین ذریعہ سنائپنگ ہی ہے۔
شام تک میں انھی خیالوں میں الجھا رہا۔دن کا کھانا میں نے کمرے ہی میں منگوا کرکھالیا تھا۔میرا ارادہ تو شام کو بھی کمرے سے نکلنے کا نہیں تھا۔اورملازم کو کھانا کمرے میں لانے کا کہہ دیا تھا،مگراندھیرا چھانے کے تھوڑی دیر بعد بلاوا آگیا تھا۔وشال گپتا کو وہاں پا کر مجھے حیرت نہیں ہوئی تھی۔البتہ اس کے نہ آنے پر کرید ضرور ہوتی۔لورا براﺅن کے آگے پیچھے پھرنے والے کا وہاں نہ آنا حیران کن ہی ہوتا کہ وشال کی حیثیت میزبان کی تھی۔
” تم نے کیپٹن کو اپنا تعارف نہیں کرایا۔“مجھے دیکھتے ہی وشال متبسم ہوا۔
”آپ کا منتظر تھا۔“اس کے اشارے پر نشست سنبھالتے ہوئے میں نے مودبانہ لہجے میں کہا۔
اس نے خفگی ظاہر کی۔”تمھیں سب کچھ بتا تو دیا تھا۔“
”باس!میں انگریزی سمجھنے کی حد تک ہی جانتا ہوں ،بولنے میں دشواری محسوس کرتا ہوں اور مادام کو ہندی نہیں آتی ہے تو آپ کے بغیر کیسے کام چلتا۔“ہم ہندی ہی میں بات کر رہے تھے۔لورا بے پروا بیٹھی تھی۔ اس نے میری طرف دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی تھی۔ملازم کھانا لگا رہے تھے....لورا کھیرے کی قاش اٹھا کر کھانے لگی۔اس کے انداز میں ہلکی سی بیزاری تھی جو ظاہر کر رہی تھی کہ وہ مجھے تربیت دینے پر مجبوراََ ہی راضی ہوئی تھی۔
وشال گپتا،لورا کی طرف متوجہ ہوا اور میرا تعارف کرانے لگا۔”سندیپ میرا خاص محافظ ہے۔اس کا پستول کا فائر بہت اچھا ہے۔امید ہے سنائپر رائفل کو بہت جلد سمجھ جائے گا۔“
”اسے انگریزی آتی ہے۔“وہ وشال ہی کو مخاطب ہوئی تھی۔
وشال نے اسے تسلی دی۔”بے فکر رہو مادام،پڑھا لکھا جوان ہے۔بھگوان کی کرپا سے ہمارا نوجوان ہندی سے زیادہ انگریزی سمجھتا ہے۔“
وہ بیزاری سے بولی۔”میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت نہیں دے پاﺅں گی۔کام مکمل کرنے کی ذمہ داری تمھارے اپنے آدمی کی ہو گی،اس کی نالائقی کو میرے حساب میں نہ ڈالا جائے۔“
”میرا کام ایک باصلاحیت جوان مہیا کرنا تھا۔باقی آپ کے اور شکلا صاحب کے مابین جو معاہدہ ہوا ہے اس سے میں لاعلم ہوں ۔“
لوار طنزیہ لہجے میں بولی۔”مسٹر شکلا موقع کا فائدہ اٹھانے کا ماہر ہے۔“
وشال پھیکے انداز میں بولا۔”اس بارے کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا،البتہ ڈبلیو اے ایس کمپنی کے بڑے شکلا صاحب کے ہم خیال ہیں ۔“
لورا نے انکشاف کیا۔”میں خود”واز“ کمپنی کے ڈائریکٹر بورڈ کا حصہ ہوں ۔بلکہ پچاس فیصد حصص کی مالک ہوں ۔فون پر شکلا صاحب نے کسی پریشانی کا ذکر نہیں کیا تھا۔یہاں شوٹنگ کلب کی انتظامیہ کے مجبور کرنے پر جب میں نے حماقت کا ارتکاب کرتے ہوئے سنائپنگ کا مظاہرہ کیا تو اسے اپنی راہ کی رکاوٹ دور کرنے کی سوجھی۔مگرایک معاہدے کے حصول کو میں قاتل تو نہیں بن سکتی تھی۔“
وشال مسمسے لہجے میں بولا۔”شکلا صاحب کے کسی فعل کی سزا مجھے تو نہ دیں ۔“
لورا کھل کھلا کر ہنسی۔”تمھیں تو کچھ نہیں کہا۔“
وشال معنی خیز لہجے میں بولا۔”یہی تو دکھ ہے کہ ہمیں آپ نے توجہ کے قابل ہی نہیں سمجھا۔“
لورا بے باکی سے بولی۔”لگتا ہے تم مسٹر شکلا سے بھی بڑا مطالبہ پورا کرانے کی فکر میں ہو۔“
وشال نے لجاجت سے کہا۔”غریب مطالبہ نہیں درخواست کیاکرتے ہیں ۔“
وہ بے باکی سے بولی۔”پہلے سے کافی امراءکے مطالبے اور بیسیوں غریبوں کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں ۔جن میں سر فہرست مسٹر شکلا ہیں ۔باقیوں کی طرح تم بھی معذرت قبول کر لو۔“
”شروع کریں ۔“وشال گپتا نے دعوت کی آڑ میں خفت چھپائی۔
لورا اطمینان سے لوازمات سے بھری میز کی طرف متوجہ ہو گئی۔آزاد خیال اور بے راہ ہرو معاشرے سے تعلق رکھنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ فاحشہ تھی اور جس کی مرضی ہوتی ہاتھ بڑھا کر دبوچ لیتا۔ یورپین عورت جسم دکھانے میں فراخ دل سہی،جسمانی تعلقات کے معاملے میں اپنی پسند کے تابع ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ اس نے دھیرندر شکلا اور وشال گپتا کو خوب صورتی سے ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔کھانے کے بعد اس نے تھکن کا بہانہ کرتے ہوئے وشال گپتا سے معذرت کی اورمجھے صبح چھے بجے تیار ہونے کی ہدایت دے کر مٹکتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
وشال گپتا، خواب گاہ میں گم ہونے تک اس کے جینز میں مستور جسم کو حسرت بھری نظروں سے گھورتا رہا۔دروازے کے بند ہونے کی ”کھٹک“ سن کر وہ میری طرف متوجہ ہوا اور پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔” تمھارے پلے کچھ پڑا۔“
میں معصومیت سے بولا۔”کچھ زیادہ نہیں ،بس اتنا کہ مادام نے شکلا صاحب کو بھی گھاس نہیں ڈالی۔“
مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے اس نے منہ بنایا۔”اور مجھے تو کھیت میں کھلا چرنے کی چھوٹ دے دی ہے نا؟“
”چھوڑیں باس!اس سے کئی گنا خوب صورت لڑکیاں اپنے دیش میں دھکے کھاتی پھر رہی ہیں ۔“
”تمھیں بے وقوف کہنے کے علاوہ کیا تبصرہ کر سکتا ہوں ۔پاگل ،دل آنے کی وجہ خوب صورتی نہیں پسندیدگی ہوتی ہے۔“
میں نے مزاحیہ انداز میں ترغیب دی۔”آسا ن حل یہی ہے باس کہ آپ خود نشانہ بازی سیکھنا شروع کر دیں ۔کم از کم ہفتے بھر کا قرب تو مل جائے گا۔“
”کیا فائدہ رال ٹپکانے کا۔خواہ مخواہ اپنا خون ہی جلاتا رہوں گا۔“مایوسی ظاہر کرتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔”تم پوری کوشش اور محنت سے سیکھو۔یہ فن تمھیں آئندہ بھی کام آئے گا۔ہمیشہ اپنا مقصد مقدم رکھنے والے فائدے میں رہتے ہیں ۔شیر اگر ہرن کی فکر کرنے لگے تو بھوکا مرے گا،بلی چوہوں پر ترس کھا کر اپنے ساتھ ظلم کی مرتکب ہوگی،چھپکلی کیڑے ،پتنگے کھانا چھوڑ دے توجان سے جائے گی۔یاد رکھنا خود غرضی قانون فطرت ہے۔سب سے پہلے انسان کا اپنا وجود ہے اس کے بعد کسی دوسرے کے بارے سوچا جا سکتا ہے۔اخلاقیات کے علم بردار، پُن (نیکی)کمانے والے،دھرم کے ٹھیکے دار،انسانیت کی مالاجپنے والے سبھی باتوں کی حد تک مخلص ہوتے ہیں ۔ کبھی اپنے منہ کا نوالہ بھوکے کے پیٹ میں نہیں ڈالتے۔میری نصیحت پلو سے باندھ لو سپھلتا (کامیابی) کوشش کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔“
اس نے واپس جانا تھا۔میں ساتھ چل پڑا۔کار تک جاتے ہوئے نصیحتیں جاری رہیں ۔اسے رخصت کر کے میں کمرے میں آگیا۔
دن کو آرام کرنے کی وجہ سے رات گئے تک کروٹیں بدلنا پڑیں ۔آگے کی صورت حال واضح نہیں تھی۔جب تک وشال گپتا مجھے ہدف کے بارے مطلع نہ کر دیتا کچھ طے کرنا مشکل تھا۔گویا سوچنے کو کوئی خاص موضوع نہیں تھااور مجھے دل پسند مشغلے کی چھوٹ تھی۔
اپنی پلوشے کو یاد کر کے جہاں میرے ہونٹوں پر تبسم آیا وہیں ،اس کاناراضی بھرا رویہ بھی دل کو اداس کر گیا۔عجیب موڑ پر آکر اسے خفگی کی سوجھی تھی۔بلا شک و شبہ میرا قصور تھا،غلطی تھی،حماقت تھی۔لیکن اس کااتنا شدید ردعمل ظاہر کرنا یقینا جذباتی فیصلہ تھا۔مجھے صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا۔نہ میں غلط ارادے یا نیت سے گلگارے پاس گیا تھااور نہ اس ہی کاکوئی ایسا ارادہ تھا۔انسان جس سے محبت کرتا ہے،اس کے دل میں اپنی اہمیت اور قدر و قیمت دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔گلگارے بے چاری بھی اسی تمنا سے مغلوب ہو کرمجھ پر حق جتانے لگتی۔اس کے رویے کو شرعی لحاظ سے جائز کہا جاسکتا تھانہ اخلاقی لحاظ سے درست سمجھا جاسکتا تھا اور نہ ہماری تہذیب و ثقافت اس کی اجازت دینے پر تیار تھی،یونھی مجھ سے بھی جلد بازی میں صحیح فیصلہ نہیں ہو پایا تھا۔رات گئے ایک نامحرم لڑکی کے ساتھ کمرے میں بند ہونابغیر کسی شک و شبے و تردد کے کھلی بے حیائی وبے شرمی تھی۔ قابلِ مواخذہ فعل تھا۔مگر محبت کرنے والی بیوی کو کم از کم تحقیق کرنا ضروری تھا۔اس کے تیئں اگر اس نے مجھے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا تو میرے گناہ کے ثبوت کو اسی وقت کھوج سکتی تھی۔شوہر کا جسم بیوی کے لیے کھلی کتاب ہوتا ہے۔اور بے حیائی کے اثرات کوموقع واردات پر چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔مگر اس نے مجھے صفائی کا موقع دیا تھا،نہ میری منتوں پر پسیجی تھی۔میری ہر غلطی،مستی اور درشتی کو غیر اہم و بے وقعت جاننے والی کا پانسا ایک دم پلٹ گیا تھا۔ایک پل جدائی نہ سہنے والی پرمیرے خطرناک مشن پر آنے کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔حالاں کہ روما کو بھی میں نے گلگارے والے واقعے کی اطلاع دی تھی۔مگر اس نے ذرا سی بھی اہمیت نہیں دی تھی۔روما بلا شبہ مجھے بہت چاہتی تھی ،مگر پلوشہ کی محبت بھی روما سے کم نہیں لگی تھی۔روما نے میری جدائی کو روگ بنا لیا تھاتو پلوشہ بھی ہر وقت جان قربان کرنے پر تیار رہتی۔البتہ وہ روما سے بڑھ کر لاڈلی اور مجھے پیاری تھی۔کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
کافی دیر یونھی پلوشے کے رویے کو سوچتا رہا۔یہاں تک کہ نیند نے ان سوچوں سے چھٹکارا دلایا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 23
ریاض عاقب کوہلر
دیر تک جاگنے کی وجہ سے صبح جلدی آنکھ نہیں کھلی تھی۔سورج طلوع ہو چکا تھا۔گھڑی کی سوئیوں کو چھے بجے کا اعلان کرتے دیکھ کر میں اچھل پڑا تھا۔لورا براﺅن نے چھے بجے ہی کا وقت دیا تھااور ایک فوجی کوچھے بجے کا مطلب ہوتا ہے۔” پانچ منٹ کم چھے بجے۔“ گو لورا کی نظر میں میں فوجی نہیں تھالیکن وہ جس قوم سے تعلق رکھتی تھی ان میں کم از کم وقت کی پابندی پائی جاتی ہے۔اس معاملے میں پاکستان اور انڈیا کے لوگ ماشاءاللہ اتنے بے پروا ہیں کہ چھے بجے کا مطلب بغیر کسی ہچکچاہٹ یا تردد کے گیارہ بجے ہی لیتے ہیں ۔اگر کسی کو شک ہو تو دعوت نامے پر درج وقت پر شادی ہال میں جا کر دیکھ لے۔
خیر تازہ دم ہو کر میں کمرے سے نکلا۔سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچا۔ ملازم سے استفسار کرنے پر پتا چلا مادام تالاب (سوئمنگ پول)میں تیراکی فرما رہی ہیں ۔میں اسی طرف بڑھ گیا۔وہ اس وقت باہر نکل رہی تھی۔تیراکی کا لباس یوں بھی....
ع کوئی دیکھے یہ کیا ہے تو نظر صاف آئے....
کی عملی تفسیر ہوتا ہے۔اور اس نے تو پہنا بھی ”ٹو پیس“ لباس تھا۔یعنی ایک دھجی بالائی اور دوسری زیریں بدن پرلپٹی تھی۔غالب نے کہا تھا...
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالب
جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
مگر یہاں تو مکمل لباس ہی ایک گرہ بن رہا تھا۔ اوریہ عاشق کا گریبان نہیں محبوب کاسامان ڈھانپنے کو تھا۔بلا شک و شبہ وہ چیتھڑے اپنی ذمہ داری نبھانے میں اتنے ہی ناکام لگ رہے تھے جتناحکومت مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش میں ناکام ہوچکی ہے،
مجھ پر توجہ دیئے بغیر وہ پیٹھ موڑے کرسیوں کی طرف بڑھی جہاں اس کا لباس اور تولیہ وغیرہ پڑا تھا ۔تجربہ تھاکہ سورج کو براہ راست دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔مجھ پر اس وقت سورج کے علاوہ بھی آنکھیں چندھیا جانے کی وجوہات کا انکشاف ہواتھا۔
خود کو کوستے ہوئے میں نے تالاب کی جانب رخ موڑا اور شفاف پانی کو گھورنے لگا۔تالاب کی لمبائی سو فٹ کے بہ قدر تھی اور چوڑائی تیس فٹ۔تیراکی نہایت عمدہ اور بہترین ورزش ہے اورآرمی میں جوانوں کو تیرنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔
”دیر کیوں ہوئی؟“بولنے میں پہل اس نے کی تھی ، لہجہ کافی برہم لگا تھا۔اب یہ غصہ میرے دیر سے آنے پر ہورہا تھا یا رخ موڑ کرحسن کی خاطر خواہ پذیرائی نہ کرنے پر۔یہ میری سمجھ سے بالاتر تھا۔میں اس کی طرف مڑے بغیر بولا۔
”رات گئے تک جاگتا رہا صبح آنکھ دیر سے کھلی۔“
” مخاطب کی طرف دیکھے بغیر گفتگو کرنا بدتہذیبی اور غیر اخلاقی حرکت ہے۔تم میرے کمان دار نہیں ہو۔بوتھا میری طرف موڑو....“اب کے لہجے میں غصے کا عنصر مزید بڑھ گیا تھا۔
انسان کی نگاہ ایک سو اسی ڈگری کامیدانی نظارہ (فیلڈ آف ویو)رکھتی ہے۔ادھردیکھے بغیر مجھے محسوس ہوا کہ اس نے تولیہ لپیٹ لیا ہے۔میں مڑا۔” آپ کو گھورناغیر اخلاقی اور بد تہذیبانہ حرکت لگ رہی تھی۔“
”گھورنے کاکس نے کہا ہے۔“وہ طنزیہ انداز میں بولی۔
”اگر آئندہ وقت پر نہ پہنچے تو نتیجے کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔“مجھے دھمکا کر اس نے رخ موڑا اور پتلون پہننے لگی۔
”معذرت خواہ ہوں مادام!“میں نے معافی مانگنے میں عافیت سمجھی تھی کہ وہاں میری حیثیت وشال گپتا کے ملازم کی تھی اور کسی ملازم کی گوری مالکن سے بحث و تکرار قابل گرفت ہو سکتی تھی۔
ڈھیلی ڈھالی خاکی پتلون اور نصف بازوﺅں کی بنیان پہن کر اس نے موٹے تلے والے مردانہ جوتے پہنے اور بالوں پر تولیہ رگڑنے لگی۔منٹ بھرکی رگڑائی کے بعد اس نے تولیہ کرسی پر پھینکا اورمیز پر رکھا ایس آر ون کا بیگ اٹھا لیا۔ساتھ ایک دوسرا بیگ بھی رکھا تھاجو اس نے مجھے اٹھانے کا اشارہ کیا۔
آگے پیچھے چلتے ہوئے ہم ڈیرے کی چھت پر پہنچے۔وہاں ہم ارد گرد کا علاقہ بہت اچھی طرح دیکھ سکتے تھے۔اگر میں نے کسی کو تربیت دینا ہوتی تو چھت ہی کا انتخاب کرتا۔بیگ نیچے رکھ کر اس میرے ہاتھ سے دوسرا بیگ لے کر کھولا اورایک خاکی کپڑا نکال کر نیچے بچھا دیا۔اس پر ایس آر و ن کا بیگ کھول کر بوٹ اتارے بغیر ایک پاﺅں بچھا کر اس پر تشریف ٹیک دی۔میں بھی التحیات کی حالت میں کپڑے کے دوسرے کنارے پر ٹک گیا۔
ایس آر ون کے حصے(پارٹس) نکال کرکپڑے پر رکھتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی۔ ”کبھی رائفل سے فائر کیا ہے؟“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”کلاشن کوف چلائی ہے۔“
”سب سے پہلے میں تمھیں رائفل کے حصوں کو جوڑنا سکھاﺅں گی....جہاں سمجھ نہ آئے بلا تکلف پوچھ لینا۔“سنجیدہ انداز میں کہتے ہوئے وہ آسان اور قابل فہم انداز میں ایس آر ون کو جوڑنے کا طریقہ سکھلانے لگی۔ ایک سنائپر کے لیے کسی بھی نئی سنائپر رائفل کا کھولنا جوڑنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے لوگوں کا نئے جوتوں کے تسمے باندھنا۔لیکن خود کو انجان ظاہر کر کے میں دلچسپی سے سیکھنے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ سکھاتے وقت لورا براﺅن کے لہجے میں درشتی ،برہمی کے بجائے ملائمت و نرمی جھلکنے لگی تھی۔انداز میں نخوت وبے نیازی کے بجائے ایک معلم کاتدبر و تفکر در آیا تھا۔مجھے تفصیل بتاتے ہوئے اس نے رائفل کو مکمل بند کر کے کھولا اور مجھے جوڑنے کی دعوت دی۔
رائفل کو جوڑنے میں کوئی الجبراءیا سائنس تو تھی نہیں کہ مجھے اداکاری کی ضرورت پیش آتی۔میں نے آسانی سے رائفل کو جوڑ دیا۔اس کی آنکھوں میں اطمینان جھلکا....”شاباش۔“کہہ کر اس نے مجھے میگزین میں گولیاں بھرنا سکھائیں اورپھر ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے بارے بتانے لگی۔اس پر رینج اسی طرح ہی لگتی تھی جیسے رینج ماسٹر کی سائیٹ لیوپولڈ یا کسی دوسری جدید ٹیلی اسکوپ سائیٹ پرلگتی ہے۔ٹیلی اسکوپ سائیٹوں میں ہر سو میٹر کی رینج کے بعد سنائپر کوایلی ویشن ڈرم گھما کر کلک لگانے پڑتے ہیں ۔کلکوں کی بڑھوتری میں کوئی ترتیب نہیں ہوتی۔جیسے لیوپولڈ سائیٹ پر دوسو میٹر کے لیے چھے کلک لگتے ہیں تین سومیٹر کے لیے بارہ اور چار سومیٹر کے لیے اکیس۔ لورا کو ہر فاصلے کے کلک زبانی یاد تھے۔وہ اطمینان سے میرے سامنے دہراتی گئی۔میں ساتھ ساتھ ذہن نشین کرتا گیاکہ زیادہ تر کلک لیوپولڈ سائیٹ ہی کے مماثل تھے۔ یہ اور بات کہ کلک اگر لیوپولڈ سائیٹ سے بالکل بھی مختلف ہوتے تب بھی میں اس کے ایک بار بتانے پر یاد کر لیتا۔ اور اس میں میری یاداشت سے زیادہ شوق اور تجربے کی وجہ ہوتی۔
”واپسی پر مجھ سے کلکوں کی ترتیب کا جد±وَل(ٹیبل)لے لینا۔دو دن کے اندر تمھیں ساری ترتیب یاد ہونا چاہیے کہ مطلوبہ فاصلے پر کتنے کلک لگائے جائیں گے۔“
”جی مادام۔“میں نے مودّبانہ انداز میں سر ہلا دیا۔
وہ مجھے شست لینے کا طریقہ بتانے لگی۔دھوپ تیز ہوئی تو اس نے تربیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔میں رائفل کو کھول کر بیگ میں منتقل کرنے لگا۔اس نے ایس آر ون مجھے اپنے کمرے میں رکھنے کا کہہ کر خوش کر دیا تھا۔
سہ پہر کو ہم نے پھر مشق کی۔اس نے مجھے ونڈ میٹر سے ہوا کی رفتار ناپنے اور ڈیفلیکشن ناب کا استعمال سکھایا۔
رات کا کھانا ہم نے اکھٹے بیٹھ کر کھایا۔”ڈیپ !“اس نے حسبِ معمول سندیپ نام کی مٹی پلید کرتے ہوئے الجھن ظاہرکی۔ ”مجھے لگتا ہے،ہم پہلے بھی کہیں مل چکے ہیں ۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”جی مادام! شوٹنگ کلب میں آپ کو رخصت کرتے وقت وشال صاحب کی ہدایت پر میں نے کار کا دروازہ کھولا تھا۔“
اس کے چہرے پر تبسم نمودار ہوا۔”احمق ہو یا بننے کی کوشش کر رہے ہو۔“
”کیوں مادام۔“میں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔ورنہ میرے د ل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔وہ سنائپر تھی اور ایک سنائپر کی یاداشت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔گو ہماری بات چیت وائرلیس سیٹ پر ہوتی رہی تھی۔ اور وائرلیس پر آواز اصل لہجے سے تھوڑا مختلف ہوتی ہے۔لیکن یہ تبدیلی اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔کوئی بھی باریک بیں اندازہ لگا سکتا ہے۔جیسے دہشت گردوں کے کمانڈر روشن نے میری آواز وائرلیس سیٹ پر سنی تھی اور آمنے سامنے آتے ہی اسے مجھ پر شک ہو گیا تھا۔لورا کے ساتھ میں کافی گپ شپ کر چکا تھااور بعیدنہیں تھا کہ وہ میری اصلیت تک پہنچ جاتی۔صرف علاقہ اور میری حالیہ شناخت ایسی تھی کہ اس کا دماغ ایس ایس کی طرف نہیں جارہا تھاورنہ افغانستان میں آمنا سامنا ہونے پر اسے دماغ پر زیادہ زورنہ دینا پڑتا۔
”کوئی ایسی چیز جس کے سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہو۔“وضاحت دینے کے بجائے اس نے موضوع تبدیل کرنا ضروری سمجھا تھا۔
میں نے نفی میں سر ہلادیا۔
خطرہ ٹلتے دیکھ کر میں نے سکون کا سانس بھرا۔گو یہ سکون عارضی تھا۔کسی بھی وقت اسے میری آواز و اندازپر ایس ایس کا گمان گزر سکتا تھا۔البتہ ایک بات میرے حق میں جاتی تھی۔اب تک میں نے بہت مختصر بات چیت کی تھی اور زیادہ تراس کی سنتا رہا تھا۔آگے اس گفتگو کو مزید مختصر کر کے میں اس خطرے کا تدارک کر سکتا تھا۔
”صبح دیر نہیں ہونا چاہیے۔“وہ ہدایت دے کر اٹھ گئی۔میں چہل قدمی کو باہر نکل گیا۔
اگلی صبح میں پانچ بجے سے پہلے تیار ہو کرسبزہ زار کی طرف نکل گیا تھا۔تھوڑی بھاگ دوڑ کر کے میں نے اٹھک بیٹھک کی، ڈنڈ پیلے،چند اور مشقیں کیں ،کیوں کہ جسم کو تندرست وتوانااور قابلِ عمل رکھنے کو ورزش نہایت ضروری و اہم ہے۔چھے بجے سے پہلے میں رائفل اور سنائپنگ کے سامان سمیت چھت پر پہنچ گیاتھا۔وہ تیراکی میں مشغول تھی اور اس کا گزشتہ کل کا لباس ایسا نہیں تھا کہ مجھے وہاں جانے کی جرات ہوتی۔
تھوڑی دیر بعد وہ بھی ہلکے گیلے سنہری بال لہراتے ہوئے پہنچ گئی۔مجھے ایس آر ون کے ساتھ مشغول دیکھ کر اس نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ تربیت شروع ہو گئی۔اس دوران میں نے کافی اناڑی پن کا مظاہرہ کیا۔کیوں کہ کل اس نے جس الجھن کا اظہار کیا تھا، مجھے محتاط ہونا پڑا تھا۔
پانچ دنوں تک تربیت کے ساتھ وہ مجھے ڈرائی ریہرسل(بغیر گولی چلائے فائر کی مشق) کرواتی رہی۔میں نے اپنے اساتذہ سے بھی یہی سنا تھا کہ ایک نشانہ باز کے لیے ڈرائی ریہرسل بہت ضروری اور اہم ہوتی ہے۔اور ڈرائی ریہرسل پرانے سنائپر کے لیے بھی اتنی ہی مفید ہوتی ہے جتنے نو آموز سنائپر کے لیے۔وہاں چونکہ فائرنگ رینج نہیں تھی اس لیے چھٹے دن وشال گپتا کو کہہ کرفائر کرنے کو ہم شوٹنگ کلب پہنچ گئے تھے۔ کافی عرصے سے میرے کندھے نے سنائپر رائفل کے جھٹکے کا خوشگوار اور دوستانہ لمس محسوس نہیں کیا تھا۔پہلے ہی دن میں نے تین سو، پانسو اور پھر ہزار میٹر پر فائر کر کے لورا کواطمینان دلا دیا تھا۔مزید دو دن کی مشق کے بعد میں پندرہ سو میٹر پر بھی ہدف کو نشانہ بنانے لگا۔البتہ اس دوران میں جان بوجھ کر ہدف کے درمیان یا خاص چندی پر گولی نہیں مارتا تھا ورنہ لورا کو شک ہو سکتا تھا۔میری اُس نشانہ بازی پر بھی وہ دو تین بار اعتراف کر چکی تھی کہ میرا فائر قدرتی طور پر اچھا تھا۔اور اس کے تیئں ایسا ہونا، ناممکن یا تعجب انگیز نہیں تھا۔بلاشبہ اچھی نشانہ بازی کی صلاحیت کسبی (کوشش سے حاصل کردہ) کے بجائے وہبی (قدرت کی طرف سے عطا کردہ)ہوتی ہے۔
ہفتے بھر کے بعد اس نے وشال گپتا کو” سب اچھا “دے دیا تھا۔اسی شام وہ ہمارے پاس ڈیرے پر پہنچ گیا۔رسمی کلمات کے بعد لورا مطلب کی بات پر آئی۔”میں نے تمھارے آدمی کو سکھا دیا ہے۔بے شک امتحان لے کر جانچ سکتے ہو۔“
”مادام!مسئلہ صرف ہمارے آدمی کی سکھلائی سے حل نہ ہو گا۔اگر یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو بات بنے گی۔“
وہ برہم ہوئی۔”یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔“
وشال معنی خیز لہجے میں بولا۔”سچ میں اتنی سادہ ہویاشکلا صاحب نے پوری بات نہیں بتلائی تھی۔“
اس کے لہجے میں درشتی سوا ہوئی۔”تمھارا مطلب یہ ناکام ہو گیا تو معاہدہ نہیں ہو پائے گا۔“
وشال گپتا نے وضاحت کی۔”یہی عرض تو کی ہے ،کہ راہ کا روڑا ہٹے بغیر معاہدہ کیسے ہو پائے گا۔“
لورا نے انکار میں سرہلایا۔”میں کسی پر گولی نہیں چلا سکتی۔“
وشال چاپلوسی سے بولا۔”آپ بالکل ایسا نہ کریں ،مگر اپنے شاگرد کی حوصلہ افزائی کو ساتھ تو جا سکتی ہیں ۔گولی سندیپ چلائے گابس تھوڑی سی رہنمائی اور نگرانی کی ضرورت پڑے گی۔“
لورا انکار پر ڈٹی رہی۔”ڈیپ،ڈیڑھ کلو میٹر تک آسانی سے کسی بھی شخص کونشانہ بنا سکتا ہے۔“
”شوٹنگ رینج پرہدف کو نشانہ بنانے والا ضروری نہیں عملی میدان میں بھی اتنا ہی کامیاب ثابت ہو۔ آپ کے بہ قول سنائپنگ سائنس ہے اور گولی چلانے سے پہلے کئی ایک تیاریاں کی جاتی ہیں ۔بے شک آپ گولی نہ چلائیں اور نہ آخر تک وہاں موجود رہیں ۔بس سندیپ کوگولی چلانے کی مکمل تیاری کروا کرواپس آجانا۔“
لورا نے الجھن ظاہر کی۔”تیاری کروا تو دی ہے۔“
وشال نے وضاحت کی۔”میرا مطلب ہدف کو نشانہ بنانے کی حتمی تیاری۔ایلیویشن ،ڈیفلیکشن وغیرہ کاجائزہ لے کر آجا نا کہ اس نے سب کچھ صحیح طریقے سے لگایا ہوا ہے۔اس سے تو شاید فاصلہ بھی ٹھیک سے نہ ناپا جائے۔“
لورا ہچکچائی۔”میں اس کام میں اتنا زیادہ ملوث نہیں ہونا چاہتی کہ قانونی طور پر مجرم ٹھہرائی جاﺅں ۔“
”مادام،یہ موقع باربار نہیں ملے گا۔اور یہ بھی جان لیں سندیپ کی ناکامی ہم سب کی ناکامی کہلائے گی۔ہدف صرف زخمی بھی ہوا تو کام بگڑ جائے گا۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”اگر مجھے ہی سب کچھ کرنا تھا تو وقت ضائع کیوں کرایا۔“
لورا کے لہجے میں لچک دیکھتے ہوئے وشال نے تسلی دی۔”آپ کو صرف رہنمائی کرنا ہے۔باقی سب کچھ سندیپ کر لے گا۔“
”کب جانا ہے۔“لورا نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اس کے لہجے میں مجبوری و بے بسی واضح جھلک رہی تھی۔
وشال گپتا کے چہرے پر فاتحانہ تبسم ابھرا۔”پرسوں ۔“
”منصوبہ کیا ہے؟“
”کل شام کو میں حتمی منصوبہ لے آﺅں گا۔“وشال کی گفتگو سے شک ہوا وہ ہدف سے لاعلم تھا۔ یاشایدمنصوبہ لورا تک پہنچانے کو اسے کسی کی اجازت درکار تھی۔
لورا مزید سوال پوچھے بغیر اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھ گئی تھی۔
میں نے تبصرہ کیا۔”مادام خفا لگ رہی ہے۔“
وشال گپتا رکھائی سے بولا۔”اسے خوش کرنے کو ہم خطرہ نہیں مول سکتے۔“
میں شاکی ہوا۔”تو آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”اگر تم اس سے اچھے بھی ہو تو یہ ثابت کرنے کو تمھیں کافی وقت چاہیے۔“
”میں اچھائی کا دعویٰ نہیں کر رہا،لیکن اتنا گیا گزرا بھی نہیں ۔“
میری شکایت کو دوسرا رخ دیتے ہوئے وہ معنی خیز لہجے میں مسکرایا۔”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،تمھیں معاوضا پورا ملے گا۔“
”پھر ٹھیک ہے۔“میں نے اپنا شکوہ واپس لیاکہ خواہ مخواہ کی تکرار کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔نہ مجھے کوئی ایس ایس کی حیثیت سے جانتا تھا اور نہ شکلا کے دشمن کا خاتمہ کرنا ثواب کا کام تھا۔البتہ میں یہ ضرور چاہتاتھا کہ وہاں لورا موجود نہ ہو۔کیوں کہ شکلا کے دشمن کو ختم کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔میں ایس آر ون سمیت فرار کا منصوبہ سوچے ہوئے تھا۔اور لورا میرے منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکا سکتی تھی۔وہ تربیت یافتہ کمانڈو تھی۔اتنا آسان ہدف ثابت نہ ہوتی۔
اسے رخصت کر کے میں کمرے میں لوٹا۔بہ مشکل بیٹھ ہی سکا تھا کہ دروازہ بجا کر لورا اندر داخل ہوئی میں حیران رہ گیاتھا۔
”جی مادام۔“میں نے کھڑے ہو کر تعظیم دی۔“
مجھے بیٹھنے کااشارہ کرکے اس نے نشست سنبھالی۔”جانتے ہو کس پر گولی چلاناہے؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔
اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔”مسٹربکرم سنگھ پر۔“
”بکرم سنگھ؟“میں نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔
”نہیں جانتے؟“طنزیہ ہنسی استعجاب میں ڈھل گئی تھی۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔
اس نے قدرے درشتی سے پوچھا۔”جنرل بکرم سنگھ کو نہیں جانتے؟“
”آ....آرمی چیف........“میں ہکلا گیا تھا۔
”شکر ہے۔“وہ کھل کھلا ئی۔
”مم....مگر وشال جی ایسا کیو ں کریں گے۔کہیں وہ پاکستانی جاسوس تو نہیں ۔“
”جاسوس بے چارے تو مفت میں بدنام ہوتے ہیں ، اصل جنگ تو اندرونِ ملک اپنے مفادات کی لڑی جاتی ہے۔“
”یہ تو غداری ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”میں تمھارے پاس غداری یا دیش بھگتی کا مقدمہ لے کے نہیں آئی۔“
”مجھے اعتماد میں لینے کی وجہ؟“میں مطلب کی بات پر آیا۔
اس نے پھلجڑی چھوڑی۔”تمھاری ہمدردی حاصل کرنا۔“
”یقینا بہت چھوٹا آدمی ہوں ۔“میں نے حقیقت اُگلی۔
”انسان کی اہمیت کا تعین حیثیت و مرتبہ سے نہیں ہوتا۔دروازے پر کھڑا چپڑاسی وچوکیدار بھی بعض اوقات بہت بڑے عہدے و مرتبے والوں سے زیادہ کام کرجاتا ہے۔“
میں معنی خیز لہجے میں بولا۔”اوریہ چپڑاسی آپ کے لیے کیا کرسکتا ہے؟“
”جانتے ہو شکلا،مسٹرسنگھ کو کیوں قتل کرانا چاہتا ہے۔“وہ اس موضوع پر آئی جس بارے جاننے کو میں سخت بے چین تھا۔
اشتیاق دباتے ہوئے میں نے بہ ظاہربے پروائی ظاہر کی۔”مجھے مقتول کا نام ابھی معلوم ہوا ہے تووجہ کیسے جان سکتا ہوں ۔“
اس نے انکشاف کیا۔”مسٹربکرم سنگھ،شکلا کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ ایس آر ون رائفلوں کی خریداری کا معاہدہ مسٹر بکرم سنگھ کی اجازت پرمنحصر ہے۔دوتین اور ہتھیاروں کے معاہدے بھی بکرم سنگھ کی وجہ سے نہیں ہو پائے۔اب یہ کانٹا نکال کر ہی شکلامرضی کا چیف سامنے لا سکتا ہے۔“
ایک دم مجھے حقیقت کا ادراک ہوا،شکلا اب اتنا طاقت ور ہو گیا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف پر ہاتھ ڈالنے پرتُلا تھا۔ لورا براﺅن کی صورت میں اسے یہ تدبیر سوجھی تھی۔اور لورا براﺅن اپنے ہتھیاروں کو بیچنے کی وجہ سے اس حد تک چلی گئی تھی۔انڈین آرمی سے معاہدہ ہونے پر کثیر تعداد میں ایس آر ون رائفلیں کا سودا ہو سکتا تھا۔ البتہ وہ خود کو آمادہ نہیں کر سکی تھی۔صرف ایک آدمی کو سنائپنگ کی تربیت دینے پر بہ مشکل تیار ہوئی تھی۔میں خود بھی اس حد تک نہیں جا سکتا تھا۔انڈین آرمی کے چیف پر حملہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔پاکستان آرمی ایسے کام کی اجازت بالکل نہ دیتی ،کیوں کہ ایسا ہونے پرجوانب کی ایجنسیاں کے لیے صرف یہی کام باقی رہ جاتا کہ ایک دوسرے کے سپہ سالاروں کے قتل کی منصوبہ بندی کرتی رہ جاتیں ۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی نہ صرف بدنامی ہوتی بلکہ جواب دہی مشکل ہو جاتی۔اس طرح کے قتل بعض اوقات اتنی لمبی جنگ چھیڑ دیتے ہیں جس کا اندازہ بھی عام آدمی نہیں کر سکتا۔اس کی چھوٹی سی مثال پہلی جنگ عظیم ہے۔جس کی وجہ آسٹریا ،ہنگری کی دوہری بادشاہت کے شہزادے ولی عہد” آرک ڈیوک فرینز فرڈیننڈ “اور اس کی اہلیہ” صوفیہ “کا قتل ہے جو بلیک ہینڈ نامی دہشت گرد تنظیم کے ایک شخص گیوریلو پرنسپ نے سراجیو کے مقام پر 28جون1914کوکیا۔گو اس جنگ کی درپردہ کئی وجوہات تھیں ۔مگر شروعات کے لیے یہی قتل وجہ بنا۔
البتہ دھیرندر شکلاکی بات اور تھی۔وہ حکومتی عہدے دار نہیں تھا۔آرمی سے ریٹائرڈ ہو چکا تھالیکن دہشت گردانہ کارروائیوں کاروح ورواں تھا۔اس کے ساتھ ایک باپ کی شفقت و محبت کا قاتل تھا۔ پاکستان آرمی یا حکومت کو اس کے قتل میں دلچسپی نہ بھی ہوتی انصاری صاحب اسے معاف کرنے پر تیار نہیں تھا۔اور اس کے مظالم کا جو نقشہ انصاری صاحب نے کھینچا تھااس کے بعد اس کے قتل میں تاخیر کرناخود مجھے بھی گوارا نہیں تھی۔البتہ بکرم سنگھ پر میں کسی صورت گولی نہیں چلا سکتا تھا۔بلکہ میں تو کسی عام بندے پر بھی گولی چلانے پر تیار نہیں تھا اور ذہنی طور پر فرار کے لیے تیار ہو گیا تھا۔اب لورا براﺅن کی مصیبت گلے پڑ رہی تھی جو میری راہ میں روڑے اٹکا سکتی تھی۔
”کیا ہوا؟“مجھے سوچ میں گم پاکراس نے میری آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا۔
میں چونکتے ہوئے بولا۔”آپ نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔“
”تمھیں پریشان کرنے نہیں حوصلہ بڑھانے آئی ہوں ۔اور چاہتی ہوں تم مسٹر گپتا سے سن گن لینے کی کوشش کرو،کہیں شکلا مجھے دھوکے میں رکھ کر صرف اپنا الو سیدھا کرنے کے چکر میں تو نہیں ہے۔“اس نے اپنی آمد کے راز سے پردہ ہٹایا۔
میں نے منہ بنایا۔”مادام!انھوں نے مجھے ہدف سے بے خبر رکھاہے۔ اصل منصوبے کی خاک ہوا لگنے دیں گے۔“
دل آویز تبسم ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے اس نے امید ظاہر کی۔ ”تم کوشش کرو تو مسٹر گپتا سے اگلوا سکتے ہو۔“
میں معنی خیز لہجے میں بولا۔”یہ کوشش آپ خود کریں تو کامیابی کا زیادہ امکان ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”مسٹر گپتابے ہودہ خواہشات کا واضح اشارہ کر چکا ہے۔اور میں ایسی لڑکی نہیں ہوں ۔“
میں نے طنز کیا۔”حالاں کہ آپ کے لباس اور انداز میں ایسی احتیاط نظر نہیں آتی۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”لباس کا اس سے کیا تعلق۔پہناوا انسان کی خواہشات و کردار کو ظاہر نہیں کرتا۔“
اپنی تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے اس کی سوچ صحیح تھی۔ہندو معاشرے میں بھی بدن ڈھانپنے اور عریاں لباس سے احتراز برتنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ایک ہندو کے روپ میں میں اسلامی تعلیمات کاپرچار نہیں کر سکتاتھا۔تائید میں سرہلاتے ہوئے میں نے وضاحت کی۔
” کہنے کا مطلب ہے آپ کے ہاں ایک غیر شادی شدہ عورت کو عارضی تعلقات رکھنے پر روک ٹوک نہیں کی جاتی۔“
اس نے منہ بنایا۔”تو تعلقات پسندیدہ شخص سے رکھے جاتے ہیں ،کسی معاہدے کے حصول کو بدن کا دستر خوان نہیں سجایا جاتا۔میں فاحشہ (کال گرل)نہیں ہوں ۔ایسا ہوتا تو مسٹر شکلا کی دعوت قبول کر لیتی۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”وشال گپتا میرا باس ہے۔ضروری نہیں کہ میرے استفسار پر وہ کچھ اگلنے پر تیار ہوجائے۔البتہ اپنی سی کوشش کروں گا۔“
”کبھی کبھی لگتا ہے تم وہ نہیں ہو جو نظر آتے ہو۔“اس نے بھول پن سے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
”ایسا کیوں ؟“اپنی بدحواسی پر پردہ ڈالتے ہوئے میں نے بہ ظاہر حیرانی ظاہر کی۔
وہ بے باکی سے بولی۔”تمھاری آنکھوں میں مجھے ایسی کوئی خواہش نظر نہیں آتی جو یہاں ہر مرد کی آنکھوں سے جھلک رہی ہے۔“
”کیوں کہ میں چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلاتا ہوں ۔ایک ملازم کی اتنی اوقات نہیں ہوتی کہ اونچے خواب دیکھے۔“ہمیشہ گناہ کرنے پر صفائی دی جاتی ہے۔مگر تب مجھے گناہ نہ کرنے کی وضاحت دینا پڑی۔
اس کا مترنم قہقہ بلند ہوا۔”خواہشات و خواب حیثیت و مرتبے کے تابع نہیں ہوا کرتے۔“
میں نے بات بدلی۔”ضروری نہیں ایک لڑکی ہر مرد کے لیے باعث ترغیب ہو۔پسند و معیار تو سب کا جدا اور مختلف ہوتا ہے۔“
”خوب صوررت عورتوں کے معاملے میں تمام جوان مردوں کی پسندلگی بندھی خواہش کے گرد ہی گھومتی ہے۔“
میں نے معنی خیز انداز میں سرہلایا۔”شکر ہے آپ نے خوب صورت کہا....“
وہ قدرے برہم ہوئی۔”تو میں بدصورت ہوں ۔“
” سب کاوکیل نہیں ہوں کہ اپنی پسند کو بنیاد بنا کرآپ کی خوب صورتی یا بدصورتی کاپروانہ (سرٹیفکیٹ) جاری کروں ۔“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”تو امید رکھوں کہ کوشش کرو گے۔“
”ایک بات پوچھوں ؟“
اس کی استفہامیہ نظریں میری جانب متوجہ ہوئیں ۔میں نے کہا۔”زیادہ تو نہیں جانتا،مگر جہاں تک اندازہ ہے ایس آر ون بہترین رائفل ہے۔اگر شکلا صاحب کو خریداری میں دلچسپی نہیں تھی توآپ کہیں اور گاہک ڈھونڈ لیتیں ۔بلکہ براہ راست بکرم سنگھ سے بھی رابطہ کیا جا سکتا تھا۔“
مجھے ٹالتے ہوئے بولی۔”تمھاری کھوپڑی میں جو چھوٹا سا دماغ ہے،اس پر زور نہ دینامفید رہے گا۔“
”حیرانی ہے کہ میری کم علمی سے آگاہی کے باوجود مجھے اتنی اہم ذمہ داری سونپنے چلی آئیں ۔“
وہ طعنہ زن ہوئی۔”تمھاری استاد ہوں ،میرا کام تمھاری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔“
میں نے منہ بنایا۔”اس سکھلائی کے پس پردہ آپ کا ذاتی مفاد ہے۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے مجھ پر شاکی نگاہ ڈالی اوردروازے کی طرف بڑھ گئی۔
”اپنی سی کوشش کروں گا۔“میں نے باآواز بلند کہا۔مگر وہ رکی نہیں تھی۔
میں رات گئے تک جاگتا رہا۔لورا کی رضامندی میری سمجھ سے باہر تھی۔آخر ایسی کون سی مجبوری تھی کہ وہ اتنا خطرہ مول لینے پر تیار ہوئی تھی۔آرمی چیف کی موت چھوٹا معاملہ نہیں تھا۔بعید نہیں تھا کہ ایجنسیوں کی تحقیقات کا اختتام شکلا کی شخصیت پر جا کر ہوتا۔اس میں لورا براﺅن کی کمپنی کا نام آجاتا توعالمی عدالت کی طرف سے نہ صرف کمپنی کا لائسنس ضبط ہو جاتا بلکہ بھاری ہرجانے کے ساتھ کڑی سزا ملنے کابھی امکان تھا۔
مجھے اپنی فکر بھی لاحق ہوئی۔اب بھاگنے کا وقت قریب آگیا تھا۔بس وشال گپتا کی تصدیق کا انتظار تھا۔گوجونھی وہ ہدف کا انکشاف کرتامیں انکار میں سرہلا سکتا تھا۔اس ضمن میں آسان بہانہ تھا کہ آرمی چیف پر گولی چلانا جرم کے علاوہ دھرتی ماتا سے غداری کرنے کے مترادف تھا۔لیکن اس راز پر مطلع ہونے کے بعد وہ مجھے زندہ جانے کی اجازت نہ دیتے۔اس لیے بہتر یہی ہوتا کہ میں دوران مشن بھاگنے کی کوشش کرتا۔اس طرح میں سنائپر رائفل بھی ساتھ لے جا سکتا تھا۔صرف لورا براﺅن کا مسئلہ تھا۔اور اسے بے خبری میں بے ہوش کرنا اتنا مشکل بھی نہیں تھا۔
اگلے دن لورا سے ملاقات نہ ہوئی۔یقینا وہ خفا تھی۔میں نے بھی اس کے کمرے کا رخ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔صبح سبزہ زار پر بھاگتے وقت میں نے دور سے اسے تیراکی کرتے دیکھاتھا۔وہ صبح کے وقت باقاعدگی سے تیراکی کرتی تھی۔میں دوپہر کو یہ شوق پورا کرتا کہ صبح کے وقت اس کی موجودی میں ایسا کرنا مناسب نہیں لگتا تھا۔دوسرا دوپہر کی گرمی میں تیراکی کا الگ ہی مزا تھااور اس کے بعد بھوک بھی خوب کھل جاتی تھی۔
ہمارا اجتماع رات کے کھانے پر ہوا۔وشال گپتا اپنے منصوبے کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔کھانے کے بعد ہم نے لورا کے کمرے میں بند ہو کر وشال گپتا کا منصوبہ سنا تھا۔ تفصیلات سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔ بکرم سنگھ ،دھیرندر شکلا کے ہاں کسی خاص تقریب میں شرکت کو آرہا تھا۔ وہاں اس نے ایک گھنٹا گزارنا تھا۔گھنٹے کے دوران ایک سنائپر کو اسے نشانہ بنانے کے کئی مواقع مل سکتے تھے۔حفاظت کا سخت انتظام تھا۔شکلا کی محل نما کوٹھی کے ایک کلو میٹر کی حدود میں آنے والی اونچی عمارتوں پرتو سخت پہرہ تھا۔اس سے زیادہ فاصلے کی عمارتوں کو نظر اندازکر دیا گیا تھا۔یوں بھی بکرم سنگھ کی آمد مخصوص افراد کے علاوہ کسی کے علم میں نہیں تھی۔ ”شری پتی آرکیڈ “ عمارت کا فاصلہ شکلا کی کوٹھی سے ڈیڑھ کلو میٹرکے بہ قدر تھا۔اس کی اونچائی پانچ سو فٹ یا ڈیڑھ سو میٹر تھی۔45منزلہ عمارت کی چھت سے دکھاﺅ کے عمدہ آلات کی موجودی میں دھیرندر شکلا کی کوٹھی کاسبزہ زار واضح نظر آسکتا تھا۔منصوبہ بے داغ تھا۔ایک اچھے سنائپر کو وہاں سے نشانہ سادھتے ہوئے ذرا بھی دقت نہ ہوتی۔فائر کرنے بعد فرار ہونا بھی مشکل نہیں تھا۔انڈیا کی پولیس یا ایجنسیاں اتنی تیز رفتار نہیں تھیں کہ آناََ فاناََ عمارت کو گھیر لیتیں ۔
وشال گپتا نے ایک وڈیو کے ذریعے ضروری جگہوں کی وضاحت کی۔لورا بھی سب کچھ دلچسپی سے سنتی رہی۔میں نے ایک دم اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی۔شری پتی آرکیڈ سے فرار ہونا بھی اتنا مشکل نہیں تھا۔
جتنی مشکلات میں سوچے ہوئے تھا۔شکلا کا شکار اس سے کئی گنا آسان ثابت ہورہا تھا۔پورا منصوبہ دشمن نے خود ترتیب دیا تھا،ہتھیار بھی مہیا کر رہا تھااور ہدف سامنے بٹھا کر نشانے بازی کی دعوت بھی دے رہا تھا۔ میں اب بھی ناشکری کرتاتو یقینامجھ سے بڑا بدبخت کوئی نہ ہوتا۔
ہم کافی دیر منصوبے کی نوک پلک سنوارتے رہے۔کئی جزئیات زیر بحث لائیں ۔اور آخر کار کارروائی کی ترتیب پر متفق ہو گئے۔لورا نے مجھے فائر کے لیے تیار کر کے واپس لوٹ آنا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 24
ریاض عاقب کوہلر
مقررہ دن سہ پہر ڈھلے ہم شری پتی آرکیڈمیں پہنچ چکے تھے۔رہائشی فلیٹوں پر مشتمل اونچی عمارت میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ہمارے لیے پینتالیسویں منزل پر ایک فلیٹ مخصوص تھا۔جس کا مکین عاضی طور پرکہیں گیا ہوا تھا۔
لفٹ میں داخل ہو کرہم نے آخری منزل کا بٹن دبایا،لفٹ میں دو تین اور افراد بھی موجود تھے۔ ایک ادھیڑ عمر جوڑا،کسی تکرار میں لگا تھا۔ان کی نوک جھونک نے ہمارے لبوں پر تبسم بکھیر دیا تھا۔ لورا کی سمجھ میں ان کی گفتگو نہیں آئی تھی۔البتہ ہمیں ہنستا دیکھ کر اس کے ہونٹوں میں بھی خوشگوار کھنچاﺅ آگیا تھا۔
تھوڑی دیر بعد ہم مطلوبہ فلیٹ کے سامنے کھڑے تھے۔چابی میرے پاس موجود تھی۔اندر گھس کر ہم نے دروازہ بند کیا۔ایس آر ون اور سنائپنگ کے سامان کے تھیلے بیڈ پر رکھ کرکمرے کا جائز ہ لینے لگے۔ ہمیں چھت سے فائر کرنا تھا۔لیکن کھڑکی سے شکلا کی کوٹھی کا جائزہ لیتے ہوئے لورا نے خیال ظاہر کیا۔”چھت کے بجائے کھڑکی سے یہ کام زیادہ بہتر رہے گا۔“
گو چھت سے فائر کرنا زیادہ آسان تھا۔لیکن بہ ظاہر وہ میری استاد تھی اور میں جگہ کے انتخاب پر تکرار نہیں کر سکتا تھا۔البتہ سیکھنے کے بہانے پوچھنے میں مضائقہ نہیں تھا۔”چھت سے کمرا بہتر ہے؟“
اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”سیکھ رہے ہو یا طنز کر رہے ہو۔“کیوں کہ کوشش کے باوجودمیرے لہجے میں استفسارکے بجائے معاصرانہ (ہم پیشہ ،ہم رتبہ)عجب در آیا تھا۔
میں نے بات سنبھالی۔”کیا اتنا اچھا بن گیا ہوں کہ آپ پر طنز کر سکوں ۔“
”چھت پر فائر بہتر طریقے سے کر سکیں گے،مگر وہاں مداخلت کا دھڑکالگا رہے گا۔اور یقیناہدف کی قریبی چھتوں پرتعینات محافظوں کے پاس شب دید آلات موجود ہوں گے۔“اس نے کشادہ دلی دکھاتے ہوئے وضاحت کی۔یہ پہلو میری نظر سے بھی اوجھل نہیں تھا۔
”کیا اتنی بلندی سے فائر کرتے ہوئے کوئی احتیاط وغیرہ نہیں رکھی جاتی۔“میں نے بلندی و پستی (اپ ہل ،ڈاﺅن ہل )سے فائر کرتے وقت رینج میں ہونے والی امکانی کمی کی طرف اسے متوجہ کیا۔شری پتی آرکیڈ کی بلندی150میٹر تھی۔اور اتنی بلندی سے فائر کرتے ہوئے فارمولے کے مطابق اصل فاصلے سے کم رینج لگنا تھی۔
مجھے گھورتے ہوئے اس کی آنکھوں میں شکوک کی لہریں نمودار ہوئیں ۔”تمھیں کیسے معلوم کہ اونچائی سے فائر کرتے ہوئے ایسی احتیاط برتی جاتی ہے۔“
”ایسا کب کہا۔“میں گڑبڑا گیا تھا۔”آپ نے فائر پر اثر انداز ہونے والے امور کے بارے اتنی جزئیات کا ذکر کیاتھا۔تبھی یہ پوچھ بیٹھا۔“
مجھے چند لمحے گھو رکر اس نے گہرا سانس لیااور بیگ سے زاویہ پیما نکال کر مجھے بلندی و پستی کا زاویہ ناپ کر رینج میں کمی کرنے کے طریقہ کار کے بارے سکھانے لگی۔چند الٹے سیدھے سوا ل کر کے میں نے سمجھ جانے کا عندیہ دے دیا۔
رات کے وقت دکھاﺅ کے حالات سنائپنگ فائر کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہوتے۔لیکن شکلا کی کوٹھی میں اتنی تیز روشنیوں کا بندوبست کیا گیا تھا کہ دن کا سماں تھا۔یونھی ایس آر ون کی ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے اندرونی منظر کوروشن کر نے کو بھی سائیٹ میں خصوصی بندوبست کیا گیا تھا۔اس کی وجہ سے رات کے وقت بھی سنائپر ہدف کو نشانہ بنا سکتا تھا بہ شرط ہدف کسی روشن جگہ موجود ہوتا۔اس کے باوجود وشال گپتا نے مسٹر بکرم سنگھ کی نشست کی اچھی طرح نشان د ہی کردی تھی۔شکلا نے اپنی جگہ بکرم سنگھ سے چند نشستیں دور رکھی تھی۔اس سے اس کی بہادری و دلیری پر روشنی پڑتی تھی۔ویسے بھی شکلا جیسے لوگوں کو میں نے عموماََ بزدل و ڈرپوک ہی پایا ہے۔
یقینا اس کے تیئں بکرم سنگھ سے فاصلہ بڑھانے سے گولی کے اس تک پہنچنے کا امکان نہ رہتا۔ لیکن یہ احتیاط برتتے وقت وہ یہ بھول گیا تھاکہ موت و زندگی کے فیصلے ہماری تدابیر و چالوں کے مرہون منت نہیں ہوتے۔یہ اختیار تو اس بااختیار کے قبضہ قدرت میں ہے جس کے سامنے کوئی رکاوٹ،منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدام کامیاب نہیں ہو سکتا۔وہ جو چاہے وہی ہوتا ہے۔زندگی دینے پر آئے تو موت خود محافظ بن جائے۔اور موت کا ارادہ کرے توحفاظت کا ہر اقدام موت کا پھندہ ثابت ہو۔
شکلا نے بکرم سنگھ کے قتل کا منصوبہ سوچا ہوا تھااور میں شکلا کی زندگی کے درپے تھا۔جبکہ مقدر بنانے والا فیصلہ کر چکا تھا کہ کس کی چال نے کامیاب ہونا تھا۔
”تمھیں مطلوبہ کرسی پر رائفل قائم(فکس) کر دیتی ہوں ۔بس ہوا کا خیال رکھنا ہے کہ تیز ہو جائے تو ڈیفلکشن میں مناسب تبدیلی کر دینا۔یقینا تم مجھے مایوس نہیں کرو گے۔“اس نے امید بھرے لہجے میں تصدیق چاہی۔
”فکر نہ کریں مادام۔“میں نے اعتماد ظاہر کیا۔
مطمئن انداز میں سرہلاتے ہوئے اس نے لکڑی کی میز کھڑکی کے سامنے رکھی۔اورایس آر ون کو جوڑنے لگی۔میں بھی ہاتھ بٹانے کو قریب ہو گیا تھا۔میرے تیزی سے چلتے ہوئے ہاتھ دیکھ کراس کے ہونٹوں پر مدہم تبسم ابھرا۔
”کبھی کبھی لگتا ہے تم بہت پہلے سے یہ جانتے ہو۔“
میں جلدی سے بولا۔”آپ نے سکھایا ہی اتنے عمدہ طریقے سے ہے کہ کوئی اشکال باقی نہیں رہا۔“
وہ کھل کھلاکر ہنسی۔”تمھاری وضاحتیں میرے شکوک کو مزید پختہ کر دیتی ہیں ۔“
میں نے تعجب ظاہر کیا۔”کیسا شک۔“
”یہی کہ تم پہلے سے سنائپر رائفل کا استعمال جانتے ہو۔“
میں نے منہ بنایا۔”اورآپ سے چھپانے کی وجہ۔“
”یہی کرید تو مجھے بھی ہے۔“وہ ہار ماننے پر تیار نہیں تھی۔
میں نے ٹیلی اسکوپ سائیٹ لگا کر گھٹنے قالین پر ٹیکے اور ایس آر ون کا بٹ کندھے میں پھنسا لیا۔ شکلا کی کوٹھی کا منظر دھم سے میری آنکھوں کے سامنے آگیاتھا۔بہت سارے ملازم بندوبستی کارروائیوں میں مصروف تھے۔
لورا نے فاصلہ ناپنے والے آلے (لیزر رینج فائینڈر) سے ہدف کا فاصلہ ناپا۔”1475۔“ فاصلہ بتا کر اس نے زاویہ پیما اٹھا لیا۔رائفل کا بٹ میرے کندھے میں ہونے کی وجہ سے اٹھ گیا تھا۔اورنال (بیرل)کا رخ ہدف کی طرف تھا۔زاویہ پیما سے اس نے پستی کا زاویہ دیکھااور کیلکولیٹر پر انگلیاں مار کر مجھے ایلیویشن بتا دی۔
ایلی ویشن ناب گھما کر میں مطلوبہ رینج لگانے لگا۔کھڑی سے ہاتھ نکال کر وہ باد پیما(ونڈ میٹر)سے ہوا کی رفتار ناپنے لگی۔
”عشاریہ پانچ کلومیٹر۔“اس نے فی گھنٹہ ہوا کی رفتا بتائی۔جو اتنی کم تھی کہ ڈیفلیکشن ریڈنگ پر کوئی اثر نہیں ڈال رہی تھی۔
ایلیویشن کا جائزہ لے کراس نے مجھے پیچھے ہونے کا اشارہ کیااور خود رائفل کے پیچھے بیٹھ کر شست سادھنے لگی۔مطمئن ہو کر اس نے بٹ میز پر ٹکایااور جانے کے ارادے سے کھڑی ہو گئی۔
”مہمانوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔گھنٹے ،ادھ گھنٹے تک مسٹر بکرم سنگھ پہنچ جائے گا۔تیزی دکھانے کی بالکل ضرورت نہیں خوب اطمینان و سکون سے لبلبی دبانا۔
”بے فکر رہیں مادام۔“میں نے اعتماد ظاہر کیا۔
”نجانے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ تم بڑی آسانی سے یہ کر لو گے۔اور اس وضاحت کی ضرورت تو یقینا نہیں ہو گی کہ مسٹر بکرم سنگھ کی موت میرے لیے نہایت ضروری ہے۔“
”استاد کو اپنے شاگرد پر اعتماد ہونا چاہیے۔“
”تمھاری کامیابی میرے لیے بڑے معنی رکھتی ہے۔اور سچ کہوں تومیری انگلی سیکڑوں بار لبلبی دباکر کئیوں کی جان لے چکی ہے۔مگر اس قتل پر میرا ضمیر مطمئن نہیں ہو رہاتبھی جا رہی ہوں ۔ورنہ یہ نہایت آسان ہدف تھا۔“
”کہا ناں یہ مجھ پر چھوڑ دو۔“میں نے تسلی دی۔
”مسٹر گپٹا نے تمھیں کتنا معاوضا دینے کا وعدہ کیا ہے؟“
”پانچ لاکھ۔“
اس نے فراخ دلی سے اعلان کیا۔”کامیاب ہو جاﺅ،اتنی ہی رقم میں بھی دوں گی۔“
اس کی احتیاط کی تاکید اور انعام کی ترغیب پر میرے منہ سے نادانستگی میں نکلا۔”اگر انعام میں ڈیٹ پر جانے کا وعدہ بھی شامل ہو جائے توسو فیصد کامیابی کی ضمانت دیتا ہوں ۔“ایسا میں نے بہ طور مزاح و شرارت کہاتھا ورنہ مجھے اس کے مسائل سے کوئی غرض نہیں تھی۔نہ بکرم سنگھ پر گولی چلا کر میں حماقت کا ثبوت دے سکتا تھا۔ میرا ہدف رندھیر شکلا کا منحوس وجود تھا۔اور اس کی ہلاکت کے بعد میں نے وقتی طور پر غائب ہونا تھا۔جونھی معاملہ ٹھنڈا ہوتا،پرما انصاری کواس کی مرضی سے یا زبردستی پاکستان لے جانا تھا۔
ایک دم اس کے چہرے پر تحیر ابھرا۔آنکھوں میں گہرے شک کی پرچھائیاں نمودار ہوئیں ۔مجھے لگا تیر کمان سے نکل چکا ہے۔افغانستان میں وائرلیس پر بات کرتے ہوئے میں اسے کئی بات ڈیٹ پر جانے کا کہہ چکا تھا۔اور انداز بھی بعینہ یہی ہوا کرتا تھا۔شرارتی و مزاحیہ۔
اس کے ہونٹوں سے سرسراتی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔”کون ہو تم؟“
جواب دینے سے پہلے دروازے پر آہٹ سنائی دی۔میں اس جانب متوجہ ہوا۔دروازے میں چابی گھومنے کی آواز کے ساتھ ایک دم دروازہ کھلا اور چار افراد دندناتے ہوئے اندر آئے۔تمام کے ہاتھوں میں کلاشن کوفیں تھیں ،جن پر” ریڈ ڈاٹ سائیٹ“لگی ہوئی تھی۔(ریڈ ڈاٹ ایسی سائیٹ ہے جو فائرر کو نشانہ سادھنے میں بے حد سہولت دیتی ہے۔اس کا سرخ نقطہ ہدف سے ملا کرلبلبی دبادو گولی ضائع نہیں جاتی)
کرخت لہجے میں کہا گیا۔”ذرا سی حرکت پر بدن میں اتنے سوراخ ہوں گے کہ شمار ممکن نہ ہوگا۔“
گو الفاظ لورا کی سمجھ میں نہیں آئے تھے کہ ہندی میں دھمکایا گیا تھا،لیکن کلاشن کوفوں کے خوفناک دہانے اور ان کا انداز سب کچھ باور کرانے کو کافی تھا۔
”یہ کیا بے ہودگی ہے؟“لورا نے دبنگ انداز اختیار کیا۔
”بے بی! حکم کی تعمیل تمھیں بہت ساری اذیتوں سے بچا سکتی ہے۔“پانچویں شخص نے کمرے میں قدم دھرتے ہوئے انگریزی زبان میں ہدایت جاری کی۔اس کا منحوس لہجہ اور ناپسندیدہ صورت میرے لیے اجنبی نہیں تھی۔ وہ را کا خصوصی ایجنٹ کرن چاولہ تھا۔اسے دیکھتے ہی میرے بدن میں چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں ۔
لورا پھیکے لہجے میں بولی۔”تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔“اس کے چہرے پر فکرمندی و پریشانی پھیل گئی تھی۔
کرن چاولہ استہزائی لہجے میں بولا۔”ہماری غلط فہمی دور کرنے کو تمھیں کافی وقت دیا جائے گا۔“
لورا ہکلائی۔”مم....مجھے پھانسا جا رہا ہے۔“
”نہیں بے بی!تم پھنس چکی ہو....“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ لورا کے قریب ہوا۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کی مخصوص ہتھکڑی تھی۔مجھے لگااس نے غلطی کی ہے۔کیوں کہ وہ اپنے آدمی اورلورا کے درمیان آگیا تھا۔اس موقع سے فائدہ نہ اٹھانا حماقت ہوتی۔لورا جیسی سنائپر جو عملی زندگی میں رگڑا کھا چکی ہو، سے بعید تھاکہ فرار کی کوشش نہ کرتی۔میں بھی حرکت میں آنے کو تیار ہو گیاتھا۔ایک بار میرے ہاتھ کی رسائی اپنے پستول تک ہو جاتی اس کے بعد بازی پلٹنا مشکل نہ رہتا۔
کرن کے قریب ہوتے ہی حسب توقع لورا نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔میں بھی ایک دم چوکس ہو گیا تھا۔لورا کی حرکت کے ساتھ میرے بازو نیچے ہوئے،لیکن اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ ہولسٹر تک پہنچ پاتالورا ہوا میں اڑتے ہوئے مجھ سے آٹکرائی۔کرن نے اسے گھما کر میری طرف پھینکا تھا۔ہم دونوں گر گئے تھے۔
وہ استہزائی انداز میں بولا۔”شاید تمھیں معلوم نہیں کرن چاولہ ان شعبدوں سے متاثر ہونے والوں میں سے نہیں ہے۔“
ہمارے سنبھلنے سے پہلے کلاشن کوفوں کی نالیں (بیرل) ہماری گردن سے لگ چکی تھی۔دو آدمیوں نے ہمیں زد میں لیے رکھاجبکہ دو تلاشی لینے لگے۔
لورا کی تلاشی لینے والے نے ذرا بھی رعایت نہیں برتی تھی،بلکہ کچھ زیادہ ہی باریک بینی کا مظاہرہ کیا تھا۔لورا کے گریبان سے ایک چھوٹا سا پستول برآمد ہوا تھا۔میرا گلاک بھی ان کے قبضے میں آ گیا تھا۔کلائی کی گھڑی کے علاوہ انھوں نے میرے پاس کچھ نہیں چھوڑا تھا۔گھڑی کے بچ جانے پر میں نے سکون کا سانس لیا تھا کہ وہ گھڑی ممتا باجی کی نشانی تھی۔جو انھوں نے بہ طور راکھی میری کلائی پر باندھی تھی۔گو مسلمانوں میں راکھی باندھنے کا رواج نہیں اور نہ میرا اس پر یقین ہے۔لیکن اس رسم کے پیچھے جو پاکیزہ و مقدس محبت کا احساس پنہاں تھا اس کا کوئی بدل نہیں تھا۔ہمارے ہاتھ پشت پر جکڑ دیئے گئے۔
”کیا حال ہے سندیپ چوپڑا۔“اس نے شہادت کی انگلی سے میری ٹھوڑی اٹھائی۔
”سس....سس سرغلطی ہو گئی شما کر دیں ۔“میں نے گڑگڑانے میں تیزی دکھائی کہ موجودہ روپ اسی عاجزی کا متقاضی تھا۔
کرن چاولہ کا قہقہ بلند ہوا۔”تمھاری بڑی تعریف سنی تھی۔کیا بکری کی طرح میں میں شروع کر دی ہے۔“
”مم....میں لالچ میں آگیا تھاسر!“اس کا معنی خیز انداز عجیب لگنے کے باوجود میں اداکاری پر تُلا رہا۔
”کس کو نشانہ بنانے کا ارادہ تھا۔“وہ نپے تلے قدم رکھتا ہواایس آر ون کے قریب پہنچا۔اور ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے آنکھ لگا لی۔ہم چپ رہے۔
جائزہ لے کر وہ دوبارہ میرے سامنے آیا۔”شکلا صاحب کی کوٹھی تک کتنا فاصلہ ہے۔“
میں دھیرے سے بولا۔”پندرہ سومیٹر۔“
اس نے معنی خیز لہجے میں کہا۔”اور تم تو دواڑھائی کلو میٹر تک نشانہ بنا نے کی اہلیت رکھتے ہو۔“
میرے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی۔اس کا طنزیہ و استہزائی لہجہ اور لورا سے زیادہ مجھے اہمیت دینا ششدر کرنے والا تھا۔
اس نے لمحہ بھر توقف کر کے جواب کا انتظار کیااور پھر میرے سر پر بم پھوڑا۔ ”کیامیں غلط کہہ رہا ہوں راجا ذیشان حیدر؟“
”آ....آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔میرا نام سندپ چوپڑا ہے۔“میں نقلی شناخت پر بہ ضد رہا۔
”مجھے غلط فہمی ہوسکتی ہےشری کانت کو نہیں ۔“(یقینا قارئین کو شری کانت یاد ہوگاجو امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران سردار کی گولی سے زخمی ہوا تھا)
میری آنکھوں میں بے چینی ابھری۔کرن چاولہ زہر خند ہوا۔”صحیح سوچ رہے ہو،تم ابتداءہی سے ہماری نظر میں ہو۔مجھے تبھی محسوس ہو گیا تھا کہ بیڈ کے نیچے کوئی نرگ واسی (جہنمی)چھپا ہے۔بس کچھ سوچ کر مہلت دی تھی۔“
وہ لورا کو مخاطب ہوا۔”بے بی!تم کیوں کوکمینے مسلسل گھور ر ہی۔بزدل پاکستانی جاسوس مجھ سے خوب صورت تو نہیں ہے۔“
یقینا اسے لورا کے گھورنے کا اندازہ نہیں تھا۔
”میں نے کوئی جرم نہیں کیا،مجھے جانے دوورنہ جواب دہی تمھارے لیے مشکل ہو گی۔“
کرن متبسم ہوا۔”ملک کے سپہ سالار کے قتل کی منصوبہ بندی کرنا اور سنائپر رائفل کے ساتھ یوں رنگے ہاتھوں گرفتار ہونا کہ رائفل سپہ سالار کی کرسی پر قائم (فکس) کی گئی ہو۔تمھاری نظر میں کوئی جرم نہیں ہے۔“
”یہ ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا۔میں انڈیامیں رائفل کا سودا کرنے آئی ہوں اور بس....“
کرن چاولہ اس کی برہمی پر محظوظ ہوا۔”یہاں کیا کر رہی تھیں ؟“
”مسٹر گپتا نے بلوایا تھا۔“لورا پہلے جھٹکے سے سنبھل گئی تھی۔
”پاکستانی جاسوس کی سہائتا(مدد)کرنا تمھاری مشکلات کتنی بڑھا چکا ہے اس کا اندازہ تمھاری سوچ سے بعیدہے۔“
”میں اسے نہیں جانتی۔“لورا مجھے پہچاننے سے مکر گئی تھی۔
کرن معنی خیز مسکراہٹ سے بولا۔”تو تربیت کیوں دے رہی تھیں ۔“
”کوئی ثبوت۔“وہ انکار پر ڈٹی رہی۔
”بہت سارے ہیں ۔“اطمینان سے کہتے ہوئے وہ اپنے آدمیوں کوہدایت دینے لگا۔”بھاگنے والے کی لاش پا کر بھی تم سے باز پرس نہیں ہو گی،مگر کوئی نکل گیا توذمہ دار کی جان بھی ضرور نکلے گی۔“
”مسٹر کرن!یقینا تم غلطی کر رہے ہو۔“لورا جان چھڑانے کی کوشش میں لگی رہی۔
”غلطی تو تم کر چکی ہو بے بی۔اب خمیازہ بھگتو۔اور یہ غلط فہمی بھی دل سے نکال دو کہ شکلا صاحب تمھاری مدد کر پائیں گے۔“
”پچھتاﺅ گے۔“لورا ہار ماننے پر تیار نہیں تھی۔
”شاید ایسا موقع نہ آئے۔“اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں لے جانے کا کہا۔
”چلو اوئے۔“مجھے کلاشن کوف کی نال سے ٹہوکا دیاگیا۔یہی حرکت لورا کے ساتھ بھی دہرائی گئی تھی۔
کرن چاولہ مجھے بھی انگریزی ہی میں مخاطب کرتا رہا، انداز سے لگا وہ میرے بارے کافی کچھ جانتا تھا۔ اس کا نڈر چہرہ،بے خوف انداز،ذہانت و مکاری سے لبریز آنکھیں ،سڈول جسم، چوکس پن اور بات چیت واضح کر رہی تھی کہ وہ نہایت سخت حریف ثابت ہونے والا تھا۔تحمل و ٹھنڈا لہجہ اضافی خوبیاں تھیں ۔بھڑکیں مارنے کے بجائے وہ سلجھی ہوئی گفتگو کر رہا تھا۔
”تو میرا شک درست تھا۔“کمرے سے نکلتے ہی لورا نے توپوں کا رخ میری جانب موڑا۔
میں ڈھٹائی سے بولا۔”مجھے تمھارے شک کے بارے جاننے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔“
”بوتھا بند رکھو۔“میری پیٹھ میں کلاشن کوف کی نال چبھوئی گئی۔میں نے چپ سادھ لی کہ بعید نہیں تھا وہ مارکٹائی پر اتر آتے۔حدود سے تجاوز کرنا قیدیوں کے لیے باعث نقصان ہوتا ہے۔
”تم نک کے قاتل ہو نا؟“لورا نے تصدیق چاہی۔آوازوانداز کی مماثلت تو اسے پہلے ہی کھٹک رہی تھی۔اب میرا پاکستانی ہونااور دو کلومیٹر تک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اسے یقین دلانے کو کافی تھی۔
میں نے چپ رہنے میں عافیت سمجھی تھی۔اس کا نِک اگر میرے ہاتھوں قتل ہواتھا تومیرے ہاں کھانے کی دعوت پر نہیں آیا تھا کہ مجھے شرمندگی ہوتی۔وہ میری تاڑ میں تھا۔اگر اس کا داﺅ کامیاب ہو جاتا توآج میں آنجہانی ہوتا۔
کرن چاولہ باہر نہیں نکلا تھا۔وہ ہمیں لفٹ کے پاس لائے۔چاروں نہایت چوکس و محتاط تھے۔
لورا چلتے ہوئے بھی کڑی نظروں سے مجھے گھورتی رہی۔گزشتہ دنوں میں مبتدی بن کر سنائپنگ سیکھتا رہا،حالاں کہ وہ اچھی طرح واقف تھی میں اس سے اچھا سنائپر تھا۔بلکہ نِک کو قتل کر کے اس کاعملی ثبوت بھی پیش کر چکا تھا۔
”یقین کروتمھاری گرفتاری میں میرا ذرا بھر قصور نہیں ہے۔“اسے مسلسل گھورتے پاکر کر میں بولے بغیر نہ رہا۔
اس نے دانت پیسے۔”تم نہایت ذلیل و کمینے شخص ہو۔“
میں نے طنزیہ ہنکارا بھرا۔”اس لیے کہ تمھیں زندہ چھوڑ دیا تھا۔“
”تمھاری چونچ بند نہیں ہو سکتی۔“ایک نے مجھے گھُرکا۔اور لفٹ کے بٹنوں سے چھیڑ خانی کر نے لگا۔ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ لفٹ نیچے جانے لگی۔
لورا اسے خاطر میں نہیں لائی تھی۔”میری وجہ سے تم نِک پر نشانہ نہیں سادھ سکتے تھے تبھی مجھے دھوکے سے اٹھا دیاتھانا۔“
مجھے جھڑکنے والے نے اسے ڈانٹا۔”لڑکی تمھاری زبان کی کھجلی کیسے ختم ہو گی۔“
لوراکو الفاظ نہیں تو لہجے و انداز کو سمجھ جانا چاہیے تھا۔لیکن وہ اسے اہمیت دیئے بغیر میری طرف متوجہ رہی۔
”تم نے بہت قیمتی و بہترین سنائپر کو قتل کیا ہے،کم از کم ........“الفاظ اس کے منہ میں تھے کہ تنبیہ کرنے والاطیش میں آکر بڑھااور اسے گریبان سے پکڑ کر لفٹ کی دیوار سے لگا دیا۔
”چھوکری مجھے زبان بند کرنے کے اور بھی طریقے آتے ہیں ۔“
لورا کا چہرہ غصے و توہین سے لال ٹماٹر ہو گیا تھا۔
مجھ سے حماقت سرزد ہوئی اور بے ساختہ بول پڑا۔”آپ کو ایک لڑکی کے ساتھ ایسا برتاﺅ زیب نہیں دیتا۔“
لورا کو چھوڑ کر وہ مجھ پر پل پڑا۔تین زناٹے دار تھپڑ مار کر مجھے گریبان سے پکڑااور جھنجوڑتے ہوئے دھاڑا۔”تم مجھے اخلاقیات سکھاﺅ گے۔“
میں ہونٹ بھینچ کر خاموش ہو گیا تھا۔کم ظرف دشمن سے اچھائی کی توقع عبث تھی۔
لفٹ کی حرکت رکنے پر میری خلاصی ہو پائی تھی۔دروازے کی طرف دھکا دے کر اس نے میری تشریف پرلات رسید کی،میں بہ مشکل گرنے سے بچا تھا۔
اپنی بے عزتی اور میری ٹھکائی کرا کر لورا براﺅن کے منہ پر بھی ڈھکن لگ گیا تھا۔
ہمیں لیے وہ پارکنگ میں پہنچے جہاں کالے شیشوں والی ویگن کھڑی تھی۔ اندر بٹھا کر انھوں نے ہمارے سر وں پر موٹے کپڑے کے نقاب چڑھائے،یوں کہ کچھ بھی نظر آنا ممکن نہیں رہا تھا۔
ہلکے سے جھٹکے سے ویگن آگے بڑھی اور نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئی۔ہم گھنٹا بھر سفر میں رہے،اس دوران ٹریفک کی آواز،ہارن کا شور،انسانوں کی چیخ و پکارتسلسل سے ہماری سماعتوں میں گونجتی رہی۔ ویگن رکی اور لوہے کا بھاری دروازہ کھلنے کی آواز ابھری۔ویگن آگے بڑھی،ہلکی سی چڑھائی کے بعدتھوڑا سا رینگی اور دوبارہ رک گئی۔ کسی نے مجھے بازو سے پکڑ کر بے دردی سے باہر گھسیٹا۔میرا گھٹنا بری طرح سیٹ سے ٹکرایا تھا۔
ایسا ہی کچھ لورا کے ساتھ بھی ہوا تھا کیوں کہ اس کا زوردار انداز میں ۔”وحشی ،جانور۔“کہنا میری سماعتوں تک پہنچ گیا تھا۔بے چاری کو دہری اذیت کا سامنا تھا۔ایک جوان عورت جو خوب صورت بھی ہو،اسے قیدی بننے کے بعد کیا کچھ سہنا پڑ سکتا ہے اس کا اندازہ کرنے کو زیادہ عقل مند ہونا نہیں ، صرف بالغ ہونا کافی ہے۔اور جب قید کرنے والے اخلاقی اقدار اور شرم و حیا کے تقاضوں سے ناواقف ہوں تب تو تبصرے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
”تمھیں بد تمیزی کرنے کا کوئی حق نہیں ۔“لورا نے جھلائے ہوئے لہجے میں احتجاج کیا تھا۔یقینا کسی کم ظرف ،شہدے نے ہاتھوں کی آوارگی سے اپنی غلیظ سوچوں کو اجاگر کیا تھا۔
ہلکے سے قہقہے کے ساتھ مکروہ ارادہ ظاہر ہوا۔جو یقینا لورا کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ ہندی میں کیا گیا تھا۔
”کتی کے بچے،غلیظ سوّر....“لورا کے ہونٹوں سے مغلظات نکلیں ۔جو ظاہر کر رہی تھیں کہ وہ فراخ دلی سے اوباش فطرت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔مجھے لورا براﺅن سے ہمدردی محسوس ہوئی۔دھیرندر شکلا جیسے بڑے شخص کو دھتکارنے والی نچلے درجے کے ملازموں میں پھنس گئی تھی۔گو ان کا حوصلہ دست درازی سے آگے نہ بڑھتا،مگر ایسی گھٹیا حرکتوں کو برداشت کرنا بھی تو کسی عورت کے لیے کارِدار ہوتاہے۔اور ان کے بڑوں کو تو یقینا کوئی روک ٹوک نہیں ہونا تھی۔
دوتین موڑ مڑکر ہمیں سیڑھیاں اترنا پڑیں ۔احتیاط سے قدم لیتے ہوئے میں سیڑھیاں گنتا رہا۔بارہ قدمچوں کے بعد ہموار فرش شروع ہو گیا۔دس پندرہ قدموں کے بعد ہمیں رکنے کی ہدایت ملی،تالے میں چابی گھومی اور دروازہ کھلنے کی آواز ابھری۔ کسی نے میری ہتھکڑی کھول کرسر سے غلاف ہٹا یا،اس کے ساتھ ہی دروازہ بند ہوا۔
میری آنکھوں کے سامنے قریباََچھے فٹ چوڑااور دس فٹ لمبا کمرہ تھا۔جس کے ایک کونے میں تین مربع فٹ کا پانچ فٹ بلندبیت الخلاءبنا تھا۔باقی کمرہ ہر قسم کے سازو سامان سے عاری تھا۔میں پیچھے مڑا۔داخلی دروازہ حوالات کی طرح لوہے کی مضبوط سلاخوں کا بنا تھااور پوری دیوار جتناچوڑاتھا۔میرے محبس(قید خانہ) کے سامنے ہی لورا کا زندان تھا۔ دونوں کوٹھڑیاں ایک ہی حجم،ساخت اور ہیئت کی تھیں ۔درمیان میں تین فٹ کی گلی تھی۔جو اتنی چوڑی تھی کہ ہم سلاخوں سے ہاتھ نکال کر ایک دوسرے کو باآسانی چھو سکتے تھے۔
وہ مجھے گھور رہی تھی۔ بھوری آنکھوں میں فکر مندی اور تشویش اس کی اندرونی حالت کا پتا دے رہی تھی۔ہمیں لانے والے واپس جا چکے تھے۔
وہ چند لمحے ساکت کھڑی رہی اور پھر سلاخوں کے قریب کمرے کی داہنی دیوار سے ٹیک لگاکر پاﺅں پسار تے ہوئے مستفسر ہوئی۔”مجھے پھانسنے کی سازش میں تم بھی شریک تھے۔“
میں ہنسا۔”پھانسا مجھے گیا ہے محترمہ۔“
”تو تم ایس ایس ہو۔“اس کی نظریں کمرے کی چھت سے میرے چہرے پر منتقل ہوئیں ۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”میرا نام راجا ذیشان حیدر ہے۔“
”میجر جینفر ہنڈسلے سے تمھاری بابت کافی معلومات ملی تھیں ۔“
”وہ میری بہت اچھی دوست ہے۔“
وہ معنی خیز انداز میں بولی۔”صرف دوست۔“
”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سرہلایا۔”ایسی مخلص دوست جس پر میں آنکھیں بند کر کے اعتبار کر سکتا ہوں ۔ جس کے میری ذات پر کئی احسان ہیں ۔اور جو مجھے اتنی ہی پیاری ہے جتناکسی کو محبوبہ ہو سکتی ہے۔“
”تم نے مجھے زندہ کیوں چھوڑا تھا،حالاں کہ تمھارے نشانے پر تھی۔“یہ سوال اس نے مجھ سے تب بھی پوچھا تھاجب میں نک کو ٹھکانے لگا چکا تھا۔بلکہ بہ قول جینی میرایہ فعل لوراکے نزدیک کسی خاص احساس کے تابع تھا۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”کیوں کہ تم پر گولی نہ چلانے کا وعدہ کر چکا تھا۔اور ایک مسلمان کو وعدہ خلافی زیب نہیں دیتی۔“
اس نے انکشاف کیا۔”مجھے تم سے نفرت ہے۔“
میں نے صفائی دی۔”کیا لگتا ہے،میں نک کو چھوڑ دیتاتو موقع ملنے پر وہ بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرپاتا۔“
”یہ فلسفہ میرے دل سے تمھاری نفرت کا گراف کم نہیں کرسکتا۔“
”مجھے تمھاری نفرت سے مسئلہ ہے نا محبت سے غرض۔اتفاقاََ ایک کشتی میں سوار ہو نے کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری منزل بھی ایک ہے۔“
اس نے ارادہ ظاہر کیا۔”جب بھی موقع ملا میں نک کی موت کا بدلہ ضرورلوں گی۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 25
ریاض عاقب کوہلر
”کوئی اور بات کرو۔“بے پروائی ظاہر کرتے ہوئے میں نے بھی دیوار سے ٹیک لگا ئی اور پاﺅں پسار لیے۔
وہ برہم ہوئی۔”میری دھمکی تمھیں گیدڑ بھبکی لگ رہی ہے۔“
میں نے اسے موجودہ صورت حال کی طرف متوجہ کیا۔”تمھارے ساتھ آخر کیا مجبوری تھی کہ اس دلدل میں گردن پھنسا لی۔“
وہ طعنہ زن ہوئی۔”تمھیں میری فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔شاید لفٹ میں طبیعت صاف نہیں ہوئی تھی۔“
میں نے اگلا سوال کیا۔”فوج کی نوکری کیوں چھوڑی۔“
اس نے دانت پیسے۔”تاکہ تمھیں ڈھونڈ کر ٹھکانے لگا سکوں ۔“
میں ہنسا۔”ڈھونڈا تو تمھیں میں نے ہے۔بلکہ اپنا استاد بھی بنا لیا ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”تربیت کی شروعات سے جانتی تھی کہ تم سنائپر ہو۔“
میں نے طعنہ کسا۔”جھوٹی۔“
”بکواس بند کرو۔“
”ٹھیک ہے مادام!اب جھگڑا چھوڑواور اس صورت حال سے نکلنے کا حل سوچو۔“
”تمھیں چھوڑوں گی تو نہیں ۔“اس کی سوئی بدلے پر اٹکی تھی۔
میں شرارت سے بولا۔”کون کم بخت چاہے گا تم جیسی لڑکی اسے چھوڑ دے۔“
”موقع ملنے کی دیر ہے پھر اپنا حشر دیکھنا۔“
”سمجھتا تھا تمھیں صرف گالیاں بکنے میں مہارت ہے ،آج پتا چلا دھمکیاں دینے میں بھی ثانی نہیں رکھتیں ۔“
اس نے دانت پیسے”یہ تو وقت بتائے گا۔“
میں بے زاری سے بولا۔”اچھا جتنی دھمکیاں یاد ہیں ایک ساتھ اگل دو تاکہ اس کے بعد کام کی بات کر سکیں ۔“
اس نے آنکھیں بند کر کے خاموشی سادھ لی تھی۔میں بھی سوچ میں کھو گیا۔کرن چاولہ کا کہنا کہ میں شروع دن سے نظروں میں تھامجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا۔اگر ایسا تھا تو وشال گپتا کی شخصیت بھی مشکوک ٹھہرتی تھی۔ البتہ یہ سمجھ سے باہر تھا کہ مجھے پہلے گرفتارکیوں نہ کیا گیا۔اور اب ایسا کرنا کیوں ضروری تھا۔یہ تو بالکل واضح تھا کہ بکرم سنگھ کے قتل کے منصوبے میں میری شمولیت وشال گپتا کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ایک خیال یہ بھی ذہن میں ابھرا کہ کہیں جان بوجھ کر تو مجھے نہیں پھانسا گیا۔ایک پاکستانی جاسوس جب انڈین آرمی چیف کو قتل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا جائے تو عالمی برادری نے تو متوجہ ہونا تھا۔لیکن ساتھ ہی خیال آیا کہ نہ تو ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت تھا کہ مجھ پر یہ جرم ثابت کرتے اور نہ بکرم سنگھ کو قتل کرنے کی کوئی خاص وجہ تھی جس کے سہارے وہ پاکستان پر الزام عائد کرتے۔ہمارا ”شری پتی آرکیڈ “سے مع سنائپر رائفل کے پکڑے جانا کوئی ایسا ثبوت نہیں تھا جو دنیا کو قابل قبول ہوتا۔وہ فقط میرا پاکستانی ہونایا زیادہ سے زیادہ جاسوس ہونا ثابت کر سکتے تھے۔ اور دونوں ممالک میں آئے روز ایسے جاسوسوں کی پکڑ دھکڑ ہوتی رہتی ہے۔اتفاق سے مجھے بکرم سنگھ کے قتل کی اصل وجہ بھی معلوم تھی۔کہ دھیرندر شکلا اسے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔
قدموں کی چاپ نے مجھے خیالوں سے نکالا۔وہ تین مسلح افراد تھے۔لگا لورا براﺅن کا بلاوا آگیا ہے۔مگر انھوں نے میرے قیدخانے کا دروازہ کھولا،دو آدمیوں نے ہتھیار تانے اور تیسرا میرے ہاتھ جکڑنے لگا۔
لورا انھیں کڑی نظروں سے گھورنے لگی۔مگر انھوں نے لورا کو کچھ نہیں کہا تھا۔میرے سر پر سیاہ نقاب ڈال کر بصارتوں پر پردہ ڈالااور قیدخانے سے باہر لے آئے۔میرا خیال تھا سیڑھیاں چڑھنا پڑیں گی، مگر ایک دو موڑ گھوم کر وہ مزید نیچے اترنے لگے۔بارہ ،تیرہ سیڑھیوں کے اختتام پرچند قدم ہموار فرش پر لیے اور مجھے روک دیا۔
”بیٹھ جاﺅ۔“کرخت آواز میری سماعتوں میں گونجی،ساتھ ہی بازوﺅں سے پکڑ کر نیچے کی طرف جھٹکا دیا گیا۔میں دھپ سے نیچے بیٹھا۔لوہے کی کرسی کا لمس محسوس ہوتے ہی میں نے پھریری لی۔یقینا وہ وقت آگیا تھا جس کااندیشہ ہر جاسوس کے دل میں جاگزیں ہوتاہے۔
ہتھکڑی کھول کر میرے ہاتھ کرسی کے دستے اور پاﺅں کرسی کے پایوں سے باندھ دیئے گئے۔ کرسی کے پائے زمین میں گڑے ہوئے تھے۔
کسی نے نقاب کھینچا،میری نظر سب سے پہلے کرن چاولہ کی منحوس شکل پر پڑی تھی۔یقینا بعض اچھی صورتوں کے عقب میں بھیانک چہرے چھپے ہوتے ہیں ۔وہ اچھا خاصا پرکشش و وجیہہ مرد تھا۔جسمانی لحاظ سے بھی مضبوط اور سڈول نظر آتا تھا۔جس اطمینان سے اس نے لورا کاحملہ ناکام کیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ اچھا لڑاکا تھا۔
دوسرے کے بارے دل میں پیدا ہونے والے احساسات شکل و صورت اور خوب صورتی و بدصورتی کی تمیز سے مبّرا ہوتے ہیں ۔کبھی نہایت بدصورت نظر آنے والے شخص کو دیکھ کر انسان کی ساری تھکن دور ہو جاتی ہے اور دل میں خوشی کی لہریں دوڑ پڑتی ہیں ،جبکہ نہایت خوش شکل و خوبرو شخص کو دیکھ کر انسان بیزاری ،کوفت اور تنگی محسوس کرنے لگتا ہے۔اس کے چہرے سے ہٹا کر میں نے نظریں گھمائیں ،دیواروں پر ایذاءرسانی کے مختلف آلات لٹکے ہوئے تھے۔چھت میں لوہے کے مضبوط کڑے لگے تھے جن کے ساتھ زنجیریں لٹک رہی تھیں ،جو قیدی کو لٹکانے کے لیے تھیں ۔چاروں طرف سرسری نظر دوڑا کر میں دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
”کیا حال ہے جوان؟“گفتگو کی ابتداءاس نے یوں کی گویا میرا انٹرویو لے رہا ہو۔
”الحمداللہ۔“میں نے سندیپ چوپڑا کا نقاب اتارنا غنیمت جانا تھا۔
”لمبی چوڑی تفصیلات میں پڑنے کے بجائے بس اتنا اگل دو کہ تمھاری انڈیا آمد کا مقصد کیا ہے؟“
”بتانے کا فائدہ ،جب تم نے یقین ہی نہیں کرنا۔“
وہ دوستانہ انداز میں متبسم ہوا۔”کوشش تو کرو۔“
”ذاتی کام سے یہاں آیا ہوں ۔ جاسوسی کا ارادہ ہے ،نہ دہشت گردی مقصود ہے۔“
وہ مزاحیہ لہجے میں بولا۔”اور ذاتی کام کی نوعیت انڈین آرمی چیف کا قتل ہے۔“
”اگر میں تمھاری نظر میں تھا تویقینا اصل وجہ سے بھی واقف ہوگے۔“
”بدقسمتی سے۔“اس نے اثبات میں سرہلادیا۔”البتہ تمھارے مشن سے لاعلم ہوں ۔“
”مجھے اپنے دشمن کی تلاش یہاں کھینچ لائی ہے۔“
”کون ہے؟“
”راج پال۔“(راج پال امریکہ کورس میں ہمارے ساتھ تھا،بعد میں سردار کے ہاتھوں وزیرستان میں قتل ہوا۔اب میں نے اسی کا نام استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا)
”راج پال؟“اس نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔
میں نے کہانی گھڑی۔”شری کانت کے ساتھ یہ صاحب بھی امریکہ کورس میں ہمارے ساتھ تھا۔ بعد میں افغانستان محاذ پر اس کی وجہ سے میری بیوی معذور ہوئی۔اور اسے معلوم تھا کہ پلوشہ میری بیوی ہے تبھی اس نے گھٹیا حرکت کی۔ یقینابدلہ لینا میرا حق بنتا ہے۔“
مجھے گہری نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے نشست چھوڑی اور عقوبت خانے سے باہر نکل گیا۔ چند منٹ بعد واپس آکراس نے نشست سنبھالی۔
”کہانی اچھی گھڑی ہے۔“
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”کہا تھا ،یقین نہیں کرو گے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اگر تمھاراخیال ہے، راج پال کی موت کی خبر بھارت سرکار تک نہیں پہنچی تو اسے سادگی کے علاوہ کوئی نام نہیں دے سکتا۔“
”راج پال کی موت؟؟؟“میں نے گہرے تعجب کا اظہار کیا تھا۔
اس نے تنبیہ کی۔”جان بچانے کی کوشش میں خود کو مزید پھنسا رہے ہو۔راج پال کا ذکر تمھیں اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔“
میں نے ڈینگ مارتے ہوئے اراد ہ ظاہر کیا۔”اگر مرچکا ہے تواللہ پاک کی قسم میرے ہاتھوں قتل نہیں ہوا۔اور زندہ ہے تومیری زندگی کی صورت میں اس کی موت میرے ہی ہاتھوں لکھی ہے۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”برخوردار!خالی خولی قسموں کو ثبوت نہیں مانا جاتا،بلکہ تمھارے مذہب میں بھی ملزم کو قسم کھانے کے بل بوتے پر بے گناہ تصورر نہیں کیا جاتا۔“
میں نے پوچھا۔”کیسے یقین آئے گا؟“
وہ اطمینان سے بولا۔”سچ سن کر۔“
میں نے اعتماد کی مار دینا چاہی۔”سچ تو بتا دیا ہے،اب کون سا جھوٹ سننا ہے اس بارے رہنمائی کردو،بے چوں وچرا تسلیم کردوں گا۔“
”سلطان دادا سے کیا تعلق ہے؟“
”کوئی نہیں ،صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ چاہیے تھا۔“
”جانتے ہوتم نے کتنے افراد کو قتل کیا تھا۔“
”قتل میرے مرنے والی ساتھی نے کیے تھے،میں بے قصور ہوں ۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسا۔”جس کے ہاتھ میں تم نے پستول پکڑایا تھااس کے گرنے کا اندازبتا رہاتھاکہ گولی چلانے والا وہ نہیں ہے۔ایک نظر ڈال کر ہی میں سمجھ گیا تھاکہ اصل قاتل کوئی اور ہے۔تبھی تمھیں وہاں سے نکلنے کا موقع دیا تاکہ تمھارامشن کھل جائے۔“
”آپ جو سمجھیں ،میرا بیان یہی ہے کہ گولی چلانے والا میں نہیں ہوں ۔“
”عام آدمی یوں درست فائر نہیں کر سکتا،ایسا کوئی پیشہ ور سنائپر ہی کر سکتا ہے۔جو تم ہو۔“
میں نے رد کیا۔”سنائپر ،مخصوص رائفل سے اچھا فائر کر سکتے ہیں ،پستول سے نہیں ۔“
”میں نہیں مانتا عام مجرم اتنے منضبط طریقے سے ایجنسیوں کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتے ہیں ۔ تمھیں یہاں پہلے سے موجود جاسوسوں کی مدد حاصل تھی۔اور بہتر ہوگا تمام جاسوسوں کے ٹھکانے اگل دو۔“
” جب جاسوس پکڑا جاتا ہے تو کیااس کے ساتھی اپنے ٹھکانوں پر ٹکے رہتے ہیں ۔“
معنی خیز مسکراہٹ سے اس نے نفی میں سرہلایا۔”یقینا ایسا نہیں ہوتا۔البتہ اپنے قتل ہونے والے ساتھیوں کی خبر سن کرٹھکانے تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہی محسوس کی جاتی ہے۔“
میں نے سلطان دادا کے اڈے اوراس سے متصل ہوٹل کے بارے صاف گوئی سے اگل دیا۔اس کے ساتھ ہی دماغ میں ممتا باجی کا معصوم چہرہ لہرایا اور میرا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔یقینا میرے وہاں چھپنے سے وہ ناواقف نہیں تھے۔ اور اگر تفتیش کے نام پر وہ باجی کو بھی پکڑ لیتے تویقینا اس سادہ گھریلو عورت کوناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے تھے۔اور اس پر یہ مصیبت میری وجہ سے ٹوٹنا تھی۔
”تمھارے اور گوپال (ڈینو)کے ٹھکانے جانتے ہیں ۔ہمیں دیپک کاٹھکانہ بتاﺅ۔“ڈینو کے ساتھ شہید ہونے والے مجاہد کاشناختی نام دیپک تھا۔یقینا اس کے اصل نام سے کرن بھی ناواقف تھا۔بلکہ اسے تو ڈینو کا نام بھی معلوم نہیں تھا۔البتہ میرا نام اسے شری کانت سے معلوم ہو گیا تھا۔وہ منحوس جانے کہاں سے ٹپکا تھا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”معلوم ہوتا تو بتا دیتا۔“
کرن کا ااستفسار جاری رہا۔”تمھارے پاس ان کے رابطہ نمبر ہوں گے۔“
میں نے بے دھڑک پیش کش کی۔”میرے موبائل فون کو کھنگال سکتے ہو۔“
گردن ٹیڑھی کر کے اس نے ہاتھوں کو آپس میں مسلا،ترچھی نظر سے دیوار پرلٹکے چمڑے کے ہنٹر کو لمحہ بھر گھورااور پھر گہرا سانس لے کر میری طرف متوجہ ہوگیا۔”تو تم نے طے کر لیا ہے۔“
میں نے بے چارگی ظاہر کی۔”طے تو تم نے کرنا ہے۔مجھے تو سہنا ہوگا۔“البتہ دلی طور مجھے اطمینان محسوس ہونے لگا تھا کہ اس نے ممتا دیدی کے ٹھکانے کا ذکر نہیں کیا تھا۔
وہ زہر خند ہوا۔”تم چند منٹوں میں سب کچھ اگل دیتے،مگر میں بے بس ہوں ۔“
اس کی بات نے مجھے چونکا دیا تھا ،لیکن بے نیازی ظاہر کیے بیٹھا رہا۔
”گوتم۔“وہ نشست چھوڑتے ہوئے کھڑا ہوا۔
”جی سر۔“دیوار کے ساتھ کھڑا مضبوط تن وتوش کا کرخت صورت شخص ہوشیار(اٹن شن)ہو گیا تھا۔
”یار !میرے ہاتھ تو بندھے ہیں ،تمھی کسی طریقے سے اگلوا لینا۔ ہدایت یہی ہے کہ پیار محبت سے پوچھنا۔بلکہ یہ میری درخواست سمجھو کہ اسے جسمانی اذیت نہ دینا۔میرا مطلب میں درخواست ہی کر سکتا ہوں کہ تم میرے نہیں سرکار کے ملازم ہو۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا۔”ذیشان صاحب اجازت چاہوں گا۔“ اور لمبے ڈگ رکھتاباہر نکل گیا۔
گوتم کی تیز نظریں مجھ پر گڑی تھیں ۔نپے تلے قدم رکھتا ہوا وہ میرے قریب پہنچا۔”پہلا مجرم دیکھا ہے جس پر کرن صاحب اتنے مہربان نظر آرہے ہیں ۔“میں خاموش رہا کہ ان کے رویے کا سر پیر میری سمجھ سے باہر تھا۔
”خیر یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے۔ان کی مجبوری میرے قدموں کی زنجیر نہیں بن سکتی۔اس لیے ہم کھیل جاری رکھتے ہیں ....تمھارا نام۔“
میں شرافت سے بولا۔”ذیشان حیدر۔“
”عہدہ؟“(رینک)
”سپاہی۔“
”انڈیا آمد کا مقصد؟“اس کے سوال جاری رہے۔
”اپنے دشمن کا خاتمہ۔“
وہ برہم ہوا۔”دوبارہ پوچھ رہا ہوں ۔انڈیا آمد کا مقصد؟“
”جتنی بار پوچھو گے یہی جواب ملے گا کہ اس کے علاوہ بتانے کو کچھ نہیں ہے۔“
”اس کا ہاتھ گھوما۔”چٹاخ۔“کی آواز سے عقوبت خانہ گونج اٹھا تھا۔”اب بتاﺅ انڈیاکیوں آئے ہو۔“
”بتا چکا ہوں ۔“
”حقیقت تیرا باپ بھی اگلے گا پتر۔“اس نے مجھے مسلسل تھپڑوں پر رکھ لیا تھا۔میں نے سختی سے دانت بھینچ لیے تھے ورنہ خدشہ تھا کہ میرے جبڑے اتر جاتے۔ہونٹوں کی اندرونی کھال پھٹ گئی تھی اورمنہ میں نمکین ذائقہ پھیل گیا تھا۔تھپڑوں کی بارش رکتے ہی میں نے خون ایک طرف تھوک دیا۔ہونٹ اندر سے پھٹ گئے تھے۔
”سربن!زنجیر نیچے کرو۔“اس نے اپنے ساتھی کو آواز دی۔
”جی استاد جی۔“کہہ کر وہ ایک چرخی گھمانے لگا جس کے ساتھ زنجیر لپٹی تھی۔
زنجیر نیچے آتے ہی اس نے کرسی کے ہتھوں سے میری کلائیاں آزاد کر کے زنجیر کے حلقوں میں جکڑ دیں ۔چھت میں جڑے کڑے کرسی سے ہٹ کر جڑے تھے۔میرے پاﺅں بھی آزاد کر کے انھیں عین کڑوں کے نیچے کھڑا کیااور سربن چرخی گھمانے لگا۔جلد ہی میرے ہاتھ اوپر اٹھ گئے تھے۔
گوتم نے میری قمیص پھاڑ کر میرا بالائی جسم برہنہ کر دیا تھا۔
”روی تمھاری باری۔“اس نے کالے ڈشکرے کو آواز دی۔
لذت بھرے انداز میں ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے دیوار پر ٹنگا چمڑے کا ہنٹر اتارا اورزور دار انداز میں لہرایا۔”شڑاپ ....شڑاپ۔“کی بھیانک آواز نے مجھے آنے والے پر اذیت لمحات کی آگاہی دی۔لیکن وہ عذاب مقدر میں تھا۔مجھے ذرا بھی یقین ہوتا کہ اصل بات اگل کر میں اپنا چمڑا ادھڑنے سے بچا سکوں گا توبتا دیتا۔مگر یہ خام خیالی تھی۔بلکہ الٹا مجھے جان کے لالے پڑ سکتے تھے۔
روی کے ہنٹر پکڑنے کا انداز واضح کر رہا تھا کہ وہ اس میدان کا کھلاڑی تھا۔
گوتم کا۔”انتظار کس بات کا ہے۔“سنتے ہی اس نے چند قدم دور سے ہاتھ لہرا کرمیری طرف جھٹکا۔
اذیت کی شدید لہر اٹھی ،کوشش کے باوجود میں اپنی کراہ نہیں روک سکا تھا۔ہنٹر کی رسائی پیٹھ کے ساتھ پیٹ کے کچھ حصے تک پہنچی تھی۔عقب کا تو معلوم نہیں البتہ پیٹ پرگہرے سرخ رنگ کی لکیر ثبت ہو گئی تھی۔ لگتا تھا کسی نے خنجر کی نوک سے لکیر کھینچ کر اندر سرخ مرچیں بھر دی ہوں ۔
روی کا ہاتھ تسلسل سے چلنے لگا۔ظالم کے انداز سے محسوس ہو رہا تھا مجھ سے پرانی دشمنی ہے۔ میں نے سختی سے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے،لیکن رہ رہ کر سسکی و کراہیں ہونٹوں سے پھسل جاتی تھیں ۔چند منٹوں میں میرے پیٹ پر بھی چھانٹیں (کوڑے لگنے کے نشان جو سرخ لکیروں کی صوررت ظاہر ہوتے ہیں )پھیل گئی تھیں جن سے ہلکا ہلکا خون رسنے لگا تھا۔پیٹھ کا تو جانے کیا حال تھا۔
اور پھر درد سے بے حال ہو کر میری آنکھیں بند ہو گئیں ۔لیکن مدہوشی کا یہ وقفہ بہت مختصر تھا۔ایک دم لگا پیٹھ پر تیزاب پھینکا گیا ہو۔درد بھری کراہ سے میری آنکھ کھلی۔وہ میری پیٹھ پر نمک پھینک رہے تھے۔زخموں میں پہلے مرچیں بھری تھیں اب نمک نے تکلیف کو زیادہ کر دیا تھا۔
”کچھ یاد آیا۔“گوتم نے سامنے آکر پرسکون انداز میں پوچھا۔
ہونٹ بھینچے ہوئے میں ناک سے گہرے سانس لے رہا تھا۔
”جوان یاد رہے، سب کچھ اگلنا پڑے گا۔اس سے پہلے تمھیں مرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ تو بہتر ہے اذیتیں جھیلنے کے بغیر ہی سب کچھ بک دو۔“
میں کراہتے ہوئے بولا۔”تم صرف اذیت رسانی کا شوق پورا کر رہے ہو۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”تمھیں جھٹلا نہیں سکتا،البتہ سچ بتا دو تو تھوڑے ہی پر اکتفا کر لیں گے۔ضروری تو نہیں ہمیشہ نشہ پورا ہو۔“
میں نے بے بسی ظاہر کی۔”سچ، جھوٹ کی پہچان کیسے ہو گی۔“
”اتنا تجربہ تو رکھتے ہیں بالک۔“
”سچ تو بتا چکا ہوں جو تم مان ہی نہیں رہے۔“
وہ اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوا۔”بھائیو اب تک رسی ہی نہیں جلی تو بل کیا دیکھوں ۔“
سربن زہر خند ہوا۔”رسی جلے نہ جلے بل ضرور نکلیں گے۔“
گوتم نے دعوت دی۔”تو تمھاری باری۔“
وہ الماری کی طرف بڑھا واپسی پرہاتھ میں لوہے کا گولا تھا جس کے ساتھ دو تین فٹ زنجیر جڑی تھی۔ زنجیر کے سرے پر حلقہ بنا تھا۔
”بندش ڈھیلی کرو۔“اس نے روی کو آواز دی۔ اور انتظار کیے بغیر میرے بالوں سے پکڑ کر بے دردی سے نیچے جھکا دیا۔جب تک زنجیر ڈھیلی نہ ہوئی وہ بالوں کو جھٹکے دیتا رہا۔روی نے بس اتنی ہی زنجیر کھولی تھی کہ میں بہ مشکل رکوع کے بل جھک سکا تھا۔میرے ہاتھ اب تک اٹھے ہوئے تھے۔
سربن نے فولادی حلقہ میرے گلے میں ڈال کر قفل کر دیا۔اب میں سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا تھاکہ گردن میں وزنی گولی بندھا تھااور نیچے بھی نہیں بیٹھ سکتا تھا کہ ہاتھ سختی سے چھت کے کڑوں میں جکڑے تھے۔
سربن دوبارہ الماری کی طرف بڑھا اور ایک مضبوط پلاسٹک کا لمبوترا تھیلا لے آیا جس کے پیندے میں چوکور دھات جڑی تھی۔میرے سر پر تھیلے کا کھلا سرا چڑھا یااور تسمے کھینچ کر ہوا کی آمدورفت روک دی۔
سوچا تھیلے میں موجود ہوا جلد ہی ختم ہو جائے گی اور پھر میرا سانس گھٹنے لگے گا۔یہ اذیت بھی کم درجہ نہیں تھی۔مگر وہ ظالم کچھ اور سوچے ہوئے تھا۔اس نے دھاتی پیندے میں بجلی کی تار جوڑی اور پلگ لگا دیا۔
پیندے میں پلاسٹک کے ساتھ جڑی زنجیر کھول کر اس نے تین گولیاں اندر پھینکیں اور زنجیر چڑھا دی۔دو تین لمحوں بعد ہی گولیوں سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھنے لگا۔تب انکشاف ہوا کہ وہ آنسو گیس پیدا کرنے والی گولیاں تھیں ۔مختلف آرمی کورسوں کے دوران ہمیں کیمیائی ماحول کا ادراک کر انے کو گیس چیمبر سے بھی واسطہ پڑتا تھا جہاں یہی گولیاں جلا کر کیمیائی گیس کی تباہ کاری کے بارے سمجھایا جاتاتھا۔مگر وہاں یہ ایک دو منٹ کا کھیل ہوا کرتا تھا۔پہلے تو میں نے سانس روک کر دو تین لمحے اذیت کو ٹالا،مگر کب تک سانس روک پاتا۔گولیاں تیزی سے دھواں اگل رہی تھیں ۔مومی تھیلے میں گنجائش بھی کم تھی اس لیے دھواں گہرا ہوتا جا رہا تھا۔جونھی میں سانس لینے پر مجبور ہوامیرے تنفس کی نالی میں مرچیں بھر گئی تھیں ۔آنکھیں بند کرنے کے باوجودآنسو تسلسل سے بہنے لگے،جبکہ ناک سے پانی بہہ نکلا۔میں بری طرح کھانس رہا تھا۔جھٹکے دے کر تھیلے سے سر نکالنے کی کوشش کی مگر وزنی گولہ مجھے گردن اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔میں زیادہ دیر اس اذیت کو برداشت نہ کر سکااور بے دم ہو کر زنجیر سے جھول گیا۔ناک میں گھسنے والا زہریلا دھواں مدہوش بھی نہیں ہونے دے رہا تھا۔اگر چند لمحے مزید یہ حالت رہتی تو یقینا مر جاتا،مگر وہ یہ سہولت دینے پر بھی تیار نہیں تھے۔میرے تڑپنے کی شدت میں کمی آتے ہی انھوں نے گردن کی بندش ڈھیلی کر کے تھیلے کو اوپر سے پکڑ لیا تاکہ دھواں کمرے کی فضا کو آلودہ نہ کر دے۔
تازہ ہوا ملتے ہی میں گہرے سانس لینے لگا۔ناک سے رینٹ اور منہ سے رال بہہ رہی تھی۔تنفس کی نالی اور پھیپھڑوں میں جیسے مرچیں بھری ہوئی تھیں ۔ایک ظالم نے میری کھال ادھیڑ کرجلد کو اذیت پہنچائی تھی تو دوسرے نے اندرونی نظام کو درہم برہم کر دیا تھا۔
اس نے مجھے زیادہ آرام کا موقع نہیں دیا تھا۔تین چار گہرے سانس ہی لے پایا تھا کہ اس نے پھر میرے سر پر تھیلا چڑھا دیا۔کھانس کھانس اور چھینک چھینک کر میں بے حال ہو گیا تھا۔لگ رہا تھا صدیوں سے اس اذیت میں پھنسا ہوں ۔اور یہ کھیل تب تک شروع رہا جب تک میں زنجیر سے جھول نہیں گیا تھا۔
پانی کا جگ میرے چہرے پر انڈیل کر وہ ہوش میں لائے تھے۔اندرونی اذیت میں مجھے جسمانی تکلیف بھول گئی تھی۔
گوتم ہنسا۔”بتا دے شہزادے۔کیوں اپنی جان کے دشمن بنے ہوئے ہو۔
مگر میں جواب دینے کے قابل نہیں تھا۔گہرے سانس لے کر آنسو گیس کا اثرزائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”دونوں ہی نکمے ہو مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔“
میں ذہنی طور پر نئی اذیت کا سامنا کرنے پر تیار ہو گیا تھا کہ اب یوں بھی یہی میرا مقدر تھا۔ اس نے بہت سادہ طریقہ اپنا یا تھا۔میری کلائیوں سے بجلی کی ننگی تار لپیٹ کر کرنٹ دینا شروع کر دیے۔پہلے جھٹکے کے ساتھ میری حلق سے تیز چیخ نکلی تھی۔اور پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کے ہاتھ دل پسند مشغلہ آگیا تھا۔جس شخص کو ظلم کر کے سکون ملے وہ کب جلد سیر ہوتا ہے۔
بجلی کے جھٹکوں سے میرا بدن رعشے کے مریض کی طرح کانپ رہا تھا۔یہ سلسلہ بھی میری بے ہوشی تک جاری رہا۔
دوبارہ آنکھ زندان میں کھلی تھی۔میں اوندھے منہ لیٹا تھا اور سماعتوں میں لورا براﺅن کی ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھی۔”ریجا....ریجا........“(راجا )
میں نے سیدھا ہونا چاہااور ہونٹوں سے بے ساختہ کراہ خارج ہوئی۔
”آرام سے ....آرام سے....“اس کی آواز میں فکر مندی و ہمدردی گھلی تھی۔
میرا بالائی بدن برہنہ تھا۔اور اب تک زخموں پر نمک لگا تھا۔حد درجے کی کمزوری و نقاہت محسوس ہو رہی تھی۔گھڑی پر نگاہ دوڑائی،رات کے تین بج رہے تھے۔آزمائشی رات کی چند گھڑیاں اب تک باقی تھیں ۔
”نہا لو۔“لورا براﺅن نے میرے زخموں پر لگے نمک کی وجہ سے مشورہ دینے میں تساہل نہیں برتا تھا۔ اچھی خاصی گرمی تھی۔بلب کی پیلی روشنی ماحول کو مزید پراسرار بنا رہی تھی۔
مجھے اس کا مشورہ مناسب لگا تھا۔میں دیوارکے سہارے کھڑا ہوااور آہستہ روی سے بیت الخلاءکی طرف بڑھ گیا۔تین مربع فٹ کے بیت الخلاءکے کونے میں کموڈ لگا تھا۔ساتھ ہی جستی لوٹا رکھا تھا۔پتلون و زیر جامہ اتار کر میں نے دیوار پر رکھا اور پانی کا لوٹا بھر کر جسم پر بہایا۔اذیت کی تازہ لہر جسم میں دوڑ گئی تھی۔میں درد کو خاطر میں لائے بغیر لوٹے بھر بھر کر جسم پر بہاتارہا۔نہانے سے طبیعت کافی سنبھل گئی تھی۔میں پتلو ن پہن کر باہر نکل آیا۔
”مجھے نہیں لگتا یہ انسان ہیں ۔“میرے بیٹھتے ہی لورا نے زبان کھولی۔ نفرت کی دعوے دار میری حالت دیکھتے ہی ہمدردی کرنے لگی تھی۔
میں پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”اچھا ہوا تمھیں تو سکون پہنچا۔“
اس نے صفائی دی۔”اتنی ظالم نہیں ہوں ۔“
”میں تو باری بھگتا چکا ہوں لگتا ہے اگلی باری تمھاری ہے۔“
”لاوارث نہیں ہوں کہ تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔“بہ ظاہر اس نے بے پروائی ظاہر کی تھی مگر اس کا لہجہ اعتماد سے خالی تھا۔
میں نے حقیقت اگلی۔”بے وقوف ان کے پاس ہمارے خلاف ثبوت موجود ہیں ۔“
وہ جلدی سے بولی۔”مجھے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔“
میرے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ ابھری۔مجھے برہمی سے گھورتے ہوئے اس نے جلدی سے تصحیح کی۔ ”میرا مطلب انھیں سب کچھ بتا دوں گی۔“
”تمھارا کیا خیال ہے میں نے سب کچھ نہیں بتایا۔“
وہ گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔ اسے ڈرانے کا ارادہ نہیں تھا،مگر حقیقت یہی تھی کہ اسے مجھ سے زیادہ خطرہ درپیش تھا۔حوا کی بیٹی جب درندوں میں گھر جائے تو اس کی بے بسی سے یہ ظالم کیسے کھیل سکتے ہیں ،وہ انجان نہیں تھی۔شاید اسے اپنی کمپنی ”ڈبلیو اے ایس“ سے تھوڑی بہت امید تھی ورنہ وہ سرکاری دورے پر نہیں آئی تھی کہ برطانیہ حکومت اس معاملے میں دخیل ہوتی۔گو بڑے ممالک اپنے شہری کو آزادکرانے کی خاطر کافی حد تک چلے جاتے ہیں ۔لیکن ایسا تب ہوتا ہے جب خبر میڈیا میں اٹھ جائے۔اس بے چاری کے قیدی ہونے کی خبر جب تک صاحبان اقتدار تک پہنچتی بہت دیر ہو چکی ہوتی۔اورتب بہت سارے حادثوں کی تلافی ممکن نہ رہتی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کی لجاجت بھری آواز ابھری۔”سچ بتاﺅ،کیا تمھیں مسٹر گپتا سے کوئی ایسی سن گن ملی جس سے ظاہر ہو کہ شکلا مجھے پھانسنا چاہتا ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”مگر تمھیں احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا۔مجھے تربیت دینا کافی تھا۔اتنا آگے بڑھنے کی ضرورت نہیں تھی۔“
وہ افسردگی سے بولی۔”ریجا ،تم حقائق سے لاعلم ہواس لیے حکمت بگھار رہے ہو۔“
میں نے اشتیاق ظاہر کیا۔”تو گتھی سلجھا دو۔“
”میں نے استعفیٰ نہیں دیاتھامیرا کورٹ مارشل ہواتھا۔ دوسری نوکری کی تلاش میں سرگرداں ہوئی۔اوراس دوران ڈیوڈسے ملاقات ہوئی جسے سنائپرز رائفلوں میں جدت لانے کا شوق تھا۔ہم دونوں نے واز (ڈبلیو اے ایس) کمپنی کی بنیاد ڈالی۔میں نے اپنی ساری جمع پونجی یہاں تک کہ اپنا اپارٹمنٹ بھی بیچ کر کمپنی میں لگا دیا۔ڈیوڈ نے بھی سارا سرمایہ جھونک دیا۔لمبی تفصیل میں نہیں جاتی مختصراََ یہ کہ ایس آر ون ہماری پہلی مصنوعات (پراڈکٹ) ہے۔کسی بہتر سودے کی تلاش مجھے یہاں کھینچ لائی۔پہلے مسٹر شکلا نے رضامندی ظاہر کی تھی ،مگر بعد میں عذر پیش کیا کہ بکرم سنگھ آڑے آرہا ہے۔کیوں کہ انڈین آرمی کے پاس پہلے سے روس کی بنی ”ڈریگنوو “اور انڈیا کی اپنی ایجاد کردہ” ودوانسک “سنائپر رائفل موجود ہے۔اور اتنی قیمتی سنائپر رائفل کی گنجائش نہیں نکل رہی تھی۔مسئلہ بتا کر مسٹر شکلا نے حل بھی خود پیش کیا کہ اگر میں بکرم سنگھ کو قتل کر سکوں تو وہ سودے کی منظوری دے دے گا۔میں اس حد تک جانے پر تیار نہیں تھی۔تب اس نے ایسا نشانے باز تیار کرنے کی شرط رکھی جو یہ کام کر سکتاہو۔ آگے کی کہانی تمھیں معلوم ہے۔“
میں معترض ہوا۔”ایس آر ون اچھی رائفل ہے۔تمھیں اتنا خطرہ مول لینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔دیر سے سہی مگر آخر اس نے مشہورر ہو ہی جانا تھا۔مختلف ممالک کے کمانڈوز یقینا اس ہلکی اور کارآمد رائفل کو خریدنے میں دلچسپی لیتے۔“
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”کہا نا تم کچھ نہیں جانتے۔“
یقینا وہ کچھ اور بھی چھپا رہی تھی۔میں نے کریدنا مناسب نہ سمجھا۔
”اس بارے ڈیوڈ جانتا ہے۔“
لورا نے اثبات میں سرہلا دیا تھا۔
میں نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”یقینا شکلا اسے صورت حال سے آگاہ کر چکا ہوگا۔اور امید ہے جلد ہی تمھارے بارے مثبت پیش رفت ہو گی۔“
اس کے چہرے پر امید کی رمق ابھری،مگر کوئی تبصرہ کیے بنا وہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔میں نے بھی آنکھیں موند لی تھیں ۔لورا سے گپ کرتے ہوئے میرا دھیان اپنے زخموں سے ہٹ گیا تھا،لیکن خاموش ہوتے ہی زخموں میں ٹیسیں اٹھنے لگیں ۔آنکھیں بند کرنے پر بھی نیند نہ آئی۔بس کبھی کبھار ہلکی سی غنودگی چھا جاتی اور جونھی کروٹ تبدیل کرتا آنکھ کھل جاتی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 26
ریاض عاقب کوہلر
میری غنودگی قدموں کی چاپ سے ٹوٹی۔دو افراد ناشتا لے آئے تھے۔لورا کو بھی اچھی طرح سے نیند نہیں آئی تھی۔وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی۔ناشتے کے ٹرے انھوں نے دروازے کے نیچے سے اندر دھکیلے اور خاموشی سے واپس مڑ گئے۔
کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا۔تشدد یا اذیت انسان کی بھوک کو ختم نہیں کر سکتی۔ سخت بھوک محسوس ہو رہی تھی۔میں نے پہلے بیت الخلاءمیں جا کر ہاتھ منہ دھویا اور پھر ناشتا کرنے لگا۔ناشتے میں دو توس ایک ابلا ہوا انڈا اور چائے کی پیالی تھی۔اتنی سخت بھوک کے سامنے اس ناکافی غذا کی کوئی حیثیت نہ تھی۔میں سب کچھ چٹ کر گیا تھا۔لورا براﺅن نے صرف ایک توس کو ہلکا ساکاٹ کر چھوڑ دیا تھا۔شاید پریشانی نے اس کی بھوک ختم کر دی تھی۔
”کھاﺅ گے؟“میری پلیٹ میں جھاڑو پھرا دیکھ کر وہ مستفسر ہوئی۔
میں نے اثبات میں سرہلا دیا۔اس نے ٹرے میری طرف دھکیل دی تھی۔دروازے کے نیچے سے ہاتھ گزار کر میں نے پلیٹ پکڑی اور اس کا ناشتا بھی چٹ کر گیا۔
بہ مشکل ناشتے سے فارغ ہوا تھا کہ چند افراد کے قدموں کی چاپ ابھری۔لمحہ بھر بعد وہ ہمارے سامنے تھے۔مجھ پر سرسری نظر ڈال کر انھوں نے لورا براﺅن کا دروازہ کھولا۔وہ بدک کر کھڑی ہو گئی تھی۔
”میں تمھارے ساتھ نہیں جاﺅں گی۔“
تین ہتھیاروں کے دہانے اس کی طرف سیدھے ہوئے۔چوتھاجس کے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی، انگریزی میں بولا۔
”مادام جانا تو پڑے گا ،چل کر نہیں جاﺅ گی تو اٹھا کر لے جائیں گے۔“
”میں نہیں جاﺅں گی۔“وہ خوفزدہ تھی۔
”اگر یہ حرکت کرے تو ٹانگ میں گولی مار دینا۔“اپنے ساتھیوں کو کہہ کر اس کے قدم لورا کی طرف بڑھے۔ وہ دیوار کے ساتھ سمٹ گئی تھی۔اس نے زبردستی لورا کو ہتھکڑی پہنادی۔
جونھی دروازے کی طرف دھکیلا وہ مچلتے ہوئے پیچھے ہٹنے لگی۔
سرغنہ نے دو آدمیوں کو اشارہ کیا۔ہتھیار کندھے پر لٹکا کر انھوں نے لورا کو دونوں بازوﺅں سے تھام لیا تھا۔
”تم زبردستی نہیں کر سکتے ....تم پچھتاﺅ گے ....میں برطانیہ کی آزاد شہری ہوں بغیرکسی ثبوت کے تم مجھے زدو کوب نہیں کر سکتے۔“لورا برہمی سے بولتے ہوئے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔مگر دونوں ڈشکروں کے سامنے اس کی ایک نہیں چلی تھی۔
”ریجا!مجھے بچاﺅ....ریجا........“اچانک وہ مجھے مدد کو پکارنے لگی۔اسے یہ بھول گیا تھا کہ راجا بے چارہ خود کو نہیں بچا سکا اسے کیاچھڑائے گا۔لیکن اس کے بار بار پکارنے پر میں سلاخیں پکڑ کر کھڑا ہوا۔
”سر!آپ کو ایک لڑکی کا احترام مدنظر رکھنا چاہیے۔“میں ان کے سرغنہ کو مخاطب ہوا تھا۔
”اپنی فکر کرو بالک....“مجھے جھڑکتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
مچلتی ،بدکتی لورا کو وہ سیڑھیوں سے اوپر لے جانے لگے۔یقیناکسی سے ملوانے جا رہے تھے۔یا کم از کم لے جانے کا مقصد تفتیش نہیں تھا ،کیوں کہ عقوبت خانے میں جانے کو تو مزید نیچے اترنا پڑتا تھا۔
اگلے ایک گھنٹے میں میرا بھی بلاوا آگیا تھا۔مجھے لے جانے والے وہی پرانے جلاد تھے۔تھوڑی دیر بعد میں اسی منحوس کرسی پر بندھا بیٹھا تھا۔
”جوان رات کو تم جیت گئے تھے۔اور میں تمھیں خراج ِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔“زہریلے لہجے میں کہتے ہوئے گوتم تالیاں پیٹنے لگا۔سربن اور روی نے بھی استہزائی ہنسی سے اس کا ساتھ دیا تھا۔
”لیکن کیا ہے کہ مقابلہ ختم نہیں ہوا۔اور اب اگلا مرحلہ آن پہنچا۔“وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا۔”تم لوگ تیار ہو دوستو۔“
”تیار ہیں استاد جی۔“دونوں بیک زبان بولے تھے۔
”گو تمھارا جواب تو معلوم ہے،لیکن مقابلہ شروع کرنے سے پہلے پوچھناہماری ذمہ داری ہے۔کچھ یاد آیا کہ نہیں ۔“
”جواب تو میں شروع سے دے چکا ہوں ۔اس کے علاوہ جو سننا ہے بتا دو ،میں دہرا دوں گا۔“
”جوان ڈٹا ہے بھئی....کرن چاولہ صاحب کہہ رہے تھے کہ موصوف سنائپر ہے اور سنائپر بہت سخت جان ہوتے ہیں ۔یقیناکرن صاحب نے ہماری صلاحیتوں کو للکارا ہے۔“
وہ اپنے ظلم و ستم اور شقی القلبی کو صلاحیتیں گردان رہے تھے۔اور وقت ان کے ہاتھ میں تھااس لیے میں بحث و تکرار نہیں کر سکتاتھا،نہ خاطر خواہ جواب دینے کی حالت میں تھا۔ان بڑھکیں و ڈینگیں ایک بندھے ہوئے قیدی کے لیے تھیں اور یہی ان کی ہار تھی۔
مجھے خاموش پا کر وہ اپنے مشغلے کو جڑ گئے۔ابتداءروبن سے ہوئی تھی۔مجھے الٹا لٹکا کر پانی کے بھرے ٹب میں میرا سر بار بار ڈبویا گیا۔جب سانس اکھڑنے لگتا تب اوپر اٹھا دیتے۔روی نے اپنی باری پر نئی گولیاں استعمال کی تھیں جن کا اثر کل والی گولیوں سے بھی زیادہ تھا۔میں نے صبح کا ناشتا بھی الٹی کر دیا تھا۔وہ باری باری مختلف عذاب آزماتے رہے۔میں کئی بار بے ہوش ہوا۔نہ جانے کتنا وقت بیت گیا تھا۔بے ہوشی ہی کی حالت میں وہ مجھے زندان میں پھینک گئے تھے۔
پھر مجھے پلوشہ دکھائی دی۔میرا سر گود میں رکھ کر موہنی مسکراہٹیں نچھاور کر رہی تھی۔
”اب تک خفا ہو۔“اس وقت بھی میرے دماغ سے اس کی خفگی کا احساس زائل نہیں ہوا تھا۔
”اپنے راجو سے خفا ہو سکتی ہوں ۔“ ماتھے پر مہر محبت ثبت کرتے ہوئے اس نے مجھے خوشی سے ہمکنار کیا۔
میں شاکی ہوا۔”موڈ جو بنایا ہوا تھا۔“
”تنگ کر رہی تھی نا....آپ کی لاڈلی جو ہوں ۔“
”اگر تمھاری خفگی میری جان لے لیتی پھر؟“میں نے اسے ڈرانے کی کامیا ب کوشش کی۔
”ایسا تو نہ بولیں ،سچ میں خفا ہو جاﺅں گی۔“وہ میرے چہرے پر جھک گئی تھی۔
”دوبارہ اذیت دو گی۔“
”کبھی نہیں ۔“اس نے منہ بسورا۔”مگر جلدی آئیں نا،کب سے آپ کی آواز نہیں سنی۔ذرا سا مذاق کرنے پر اتنی بڑی سزا تو نہ دیں ۔“
میں دھیرے سے مسکرایا۔اس نے چاہت سے پوچھا۔”راجو ،پلوشے کا ہے نا؟“
میرے دل سے آواز نکلی۔”اللہ پاک کی قسم ایسا ہی ہے۔“
”میرے راجو....میرے راجو....میرے راجو........“وہ وارفتگی سے پکارنے لگی۔اور میں سرشاری کی کیفیت میں پڑااس کے روشن چہرے کو گھورتا رہا۔اچانک روشنی مدہم ہونے لگی،اس کا پیارا چہرہ دھندلانے لگا تھا۔آواز و انداز بھی تبدیل ہو نے لگا۔”ریجا....ریجا....ریجا........“میرا شعور بیدار ہوا۔ میں اوندھے منہ فرش پر پڑا تھااور سماعتوں میں لورا براﺅن کی تشویش بھری آوازیں آرہی تھی۔ بے وقوف نہیں جانتی تھی اس کی ہمدردی نے مجھ سے راحت و سکون کے کیسے لمحات چھینے تھے۔بہت عرصے بعد جانِ حیات خواب میں آئی تھی۔جسمانی طور پر بدحال ہونے کے باوجود روحانی طور پر میں بہت آسودگی محسوس کر رہا تھا۔جی چاہتا تھا دوبارہ آنکھیں میچ کر اس کی گود میں پہنچ جاﺅں ،لیکن لورا کی ”ریجا....ریجا۔“کی گردان مجھے بے چین کر رہی تھی۔
میں نے آنکھیں کھول کر اٹھنے کی کوشش کی،ہونٹوں سے بے ساختہ کراہ خارج ہوئی تھی۔
لورا ہمدردی سے بولی۔”آرام سے۔“
میں نے زندہ دلی ظاہر کی۔”یہ نصیحت انھیں کرو نا کہ آرام سے درگت بنایا کریں ۔“
اس نے مشورہ دیا۔”جو پوچھ رہے ہیں ،انھیں بتا کیوں نہیں دیتے۔“
میں نے منہ بنایا۔”یہی تو معلوم نہیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں ۔“
”کیا مطلب؟“اس نے حیرانی ظاہر کی۔
میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”تمھاری سمجھ میں نہیں آنا۔اس تشدد کے پسِ پردہ طویل وجوہات ہیں ۔انیس سو سینتالیس کی آزادی،اڑتالیس کی جنگِ کشمیر،پینسٹھ کا معرکہ،اکتہر کی لڑائی، کارگل کا جھگڑا اور بہت ساری سرحدی جھڑپیں ہیں ۔“
”اگر سیدھے انداز میں وضاحت کر دیتے تو تمھارا کیا جاتا۔“
”چھوڑو مادام!....
میری بات اتنی ضروری نہیں ہے
تسلی سے تم بات اپنی سنا لو
میں نے ایک دم اردو کا شعر پڑھا۔اور ساتھ وضاحت کی۔”میرے مسائل تمھارے پلے نہیں پڑنا اس لیے اپنی سناﺅ،کیا ہوا تھا؟“
وہ نفرت انگیز لہجے میں بولی۔”مسٹر شکلا سے ملاقات ہوئی ہے،بے غیریت ،گھٹیا انسان بلیک میل کر رہا ہے۔“
”ذرا تفصیل سے مادام۔“
گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے دیوار سے ٹیک لگائی۔”سارے ڈرامے کے پسِ پردہ اس منحوس کے دو مقاصد ہیں ۔ایک تو وہ ایس آر ون کی خریداری کوڑیوں کے مول کرنا چاہتاہے۔ذرا سوچوپانچ ہزار پاﺅنڈ کی رائفل کے پانچ سو پاﺅنڈ لگا رہا ہے۔“
میں مستفسر ہوا۔”دوسرا مطالبہ؟“
”مجھے ایک ماہ اس کا کھلونا بننا ہوگا۔“لوراکے چہرے پر گہری نفرت پھیل گئی تھی۔
گو دوسرا مطالبہ پورا کرناکسی آزاد خیال یورپین لڑکی کو اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔مگر ہر کسی کی عزت نفس،انا اور خودداری ہوتی ہے۔ یورپ فریقین کی رضامندی سے جسمانی تعلقات کی آزادی کا علم بردار سہی،مگر زبردستی کرنے یا کسی عورت کو بلیک میل کرنے کی اجازت ان کا قانون بالکل بھی نہیں دیتا۔
میں نے مشورہ دیا۔”تم ڈیوڈ کو بیچ میں لا کر اس پر مقدمہ کر سکتی ہو۔“
”اس کے پاس کافی وڈیو کلپس موجود ہیں ،جن میں میں تمھیں تربیت دے رہی ہوں ۔چند جگہوں پر یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ تمھاری تربیت کا مقصد مسٹر بکرم سنگھ کا قتل ہے شری پتی آرکیڈ کا فلیٹ جہاں سے ہم نے فائر کرنا تھاوہاں بھی خفیہ کیمرے نصب تھے۔اور ہماری گفتگو بھی بالکل واضح ہے کہ ہم کیا کر رہے تھے۔رائفل پر ہماری انگلیوں کے نشان ثبت ہیں ۔اس قصے میں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ تم پاکستانی جاسوس ہواور انڈیا میں تمھاری آمد غیر قانونی ہے۔باقی اتنا تو تم اچھی طرح جانتے ہوگے کہ وڈیو میں سے ہمارے حق میں جانے والی باتیں کاٹ دی گئی ہیں ۔“
میں نے حیرانی ظاہرکی۔”مگر ہمارا منصوبہ تو چھت سے فائر کرنے کا تھا۔پھر انھوں نے کمرے میں کیوں کیمرے لگائے۔“
انھوں نے چھت اور کمرہ دونوں جگہوں پر کیمرے نصب کیے تھے،کیوں کہ وہ ہماری ہر وقت کی گفتگو ریکارڈ کرنا چاہتے تھے۔تاکہ میرے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت حاصل کر سکیں ۔“
” اب کیا سوچا ہے؟“
وہ برہم ہوئی۔”سوچنے کے قابل غلیظ سو¿ر نے چھوڑا کہاں ہے۔“
میں نے چوٹ کی۔”سچ کہتے ہیں ،لالچ بری بلا ہے۔“
وہ جیسے تڑپ اٹھی تھی۔زخمی لہجے میں بولی۔”ریجا!....تم میرے حالات سے ناواقف ہو۔“
ایسا ہی کچھ ایساوہ پہلے بھی کہہ چکی تھی۔میں نے طعنہ زنی سے گریز کرتے ہوئے پوچھا۔ ”ڈیوڈ سے مشورہ کیا ہے؟“
وہ افسردگی سے بولی۔”اسے شکلا سب کچھ بتلا چکا ہے۔مجھ سے بھی مختصر گفتگو ہوئی۔پھیکے لہجے میں تسلی دینے کے علاوہ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔“
”اب کیا ہوگا؟“میں نے الفاظ بدل کر سوال دہرایا۔
”اس کا مطالبہ تسلیم کرنے کی صورت ہم صرف فٹ پاتھ پر نہیں آئیں گے بلکہ سلاخوں کے پیچھے جانا پڑے گا۔ہمارے پا س پانچ ہزار تیار شدہ رائفلیں موجود ہیں اور شکلا دس ہزار رائفلوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔جو ناممکن ہے۔کیوں کہ پہلی کھپت کی تیاری ہی میں کمپنی گردن گرد ن قرض کی دلدل میں دھنس چکی ہے۔مزیدپانچ ہزار رائفلیں کیسے تیار ہو سکیں گی۔“لورا نے شکلا کے صرف پہلے مطالبے پر روشنی ڈالی تھی۔
میں نے پوچھا۔”ڈیوڈ ،تمھارے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”عملی زندگی میں ماضی کے دعوں کو کم ہی پورا ہوتے دیکھا گیا ہے۔“
”پھر بھی تمھارا ساتھی ہے ،یقینا کچھ سوچ کر ہی تم نے حصے دار(پاٹنر)بننا قبول کیا ہوگا۔“
اس کے ہونٹوں پرمحجوبانہ تبسم ابھرا۔ ”محبت کا دعوے دار ہے۔“
”پھر تو اچھے کی امید رکھنا چاہیے۔“
”شکلا کا مطالبہ اس کے بس سے باہر ہے۔وہ بے چارہ تو میری کامیابی کا منتظر تھا۔اور ہمیں لینے کے دینے پڑ گئے ہیں ۔“
میں نے پوچھا۔” بکرم سنگھ کے بارے اسے اعتماد میں لیا تھا۔“
لوررا نے اثبات میں سرہلا دیا۔
”پھر اس کا گلہ کرنا نہیں ،نقصان میں شامل ہونا بنتا ہے۔“
وہ افسردگی سے بولی۔”وہ انکار نہیں کر رہا،بس پریشان لگ رہا تھا۔ہم پہلے ہی مالی پریشانی کا شکار تھے،شکلا نے نیا بم سر پر پھوڑ دیاہے۔“
میرے منہ سے پھر حقیقت پھسلی۔”سچ کہوں تو یہ بے صبری کا انجام ہے۔“
وہ خفگی سے بولی۔”جب اصل بات معلوم نہ ہو تو بکواس نہیں کرنا چاہیے۔“
”مجھے سخت بھوک لگی ہے۔“میں نے موضوع تبدیل کیا۔
”میں شکلا کے ساتھ زہر کھاکر آئی ہوں ،مگرچند نوالے سے زیادہ نہیں لے پائی کہ بھوک ہی اڑ گئی ہے۔“
میں نے پھل جڑی چھوڑی۔”کہیں دوسرے مطالبے پر عمل درآمد تو شروع نہیں ہوگیا۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”سوائے بکواس کے تمھیں کچھ سوجھتا بھی ہے۔افغانستان محاذ پر بھی تمھارے ہونٹوں سے صرف یہی بکواس نکلتی تھی،اب تواپنی حالت پر رحم کھا لو۔“
میں نے ٹھنڈا سانس بھرا۔”خوب صورت لڑکی کو دیکھ کر اس کے علاوہ کیا سوجھ سکتا ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”مجھے تیراکی کے لباس(سوئمنگ سوٹ) میں دیکھ کر تو رخ موڑلیتے تھے۔“
”انگور رسائی سے دور ہوں تو انھیں کھٹا کہنا پڑتا ہے۔“میں نے قہقہ لگانے کی کوشش کی مگر جسم میں درد کی لہر دوڑ گئی تھی۔کیوں کہ زور سے ہنسنے کی وجہ سے بالائی جسم کی جلد متحرک ہو جاتی ہے۔میری آہ سنتے ہی اس نے مطعون کیا۔
”ہنسنے کی طاقت تو ہے نہیں اور کیا کر لو گے۔“
میرے جواب دینے سے پہلے قدموں کی چاپ ابھری۔ امید لگی کہ شاید رات کا کھانا آگیا ہے۔ دن کا کھانا تو مار کٹائی کی نذر ہو گیا تھا۔اور پھربلب کی پیلی روشنی میں آنے والے کو دیکھتے ہی دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔وہ جلادوں کا ٹولہ تھا۔کھانے سے پہلے ہی اگلی تفتیش کا وقت ہو گیا تھا۔یا شاید وہ مجھے بھوکا رکھنا چاہتے تھے۔اور بھوک بھی تو اذیت و تکلیف کا دوسرا نام ہے۔
بے چوں و چرا کیے میں ان کے ہمراہ چل پڑا۔لورا ترحم آمیز نظروں سے مجھے گھورتی رہ گئی تھی۔
میرے سر پر نقاب چڑھا کر ہتھکڑی پہنائی اور دھکیلتے ہوئے عقوبت خانے کی طرف لے چلے۔
پکا پتا تو نہیں ہے ،بس اندازہ ہے کہ کئی سالوں پر محیط وقت تھا۔شاید پڑھنے والوں کو حیرانی ہو کہ ایک رات کئی سال کیسے طویل ہو سکتی ہے۔لیکن جن پر گزری ہے وہ ضرور اتفاق کریں گے۔واپسی اپنے قدموں پر نہیں ہوئی تھی۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب لورا کے مسلسل ....”ریجا ....ریجا....“پکارنے پر آنکھ کھلی۔جسم میں تکلیف کے ساتھ معدے میں بھی اینٹھن ہو رہی تھی۔ناشتے کے لوازمات تو قے کے ذریعے ہی خارج ہو گئے تھے۔اب آنتیں بھوکی گائے کی طرح ڈکرا رہی تھیں ۔
میں بہ مشکل سیدھا ہوااور دیوار سے پیٹھ ٹیک دی۔
”بھوک لگی ہوگئی؟“لورا نے ہمدردی ظاہر کی۔
میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”جب تمھارے پاس دواہی نہیں ہے تو استفسار کا فائدہ؟“
”یہ لو۔“اس نے سلاخوں سے ہاتھ گزار کر میری طرف بڑھایا۔جس میں روٹیاں تھیں ۔
میرے چہرے پر حیرانی نمودار ہوئی۔وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔”میرے لیے کھانا آیا تھا، بھوک نہیں تھی،تبھی تمھارے لیے چھپا لیا۔“
نجانے وہ کتنی دیر سے روٹیاں و سالن چھپائے بیٹھی تھی۔میرے چہرے پر شکرگزاری ابھری اور سلاخوں سے ہاتھ گزار کر میں نے روٹیاں پکڑ لیں ۔سبزی کا سالن اس نے روٹیوں پر چپیڑ دیا تھا۔ٹھنڈاٹھار و بے مزہ کھانا بھی مجھے بہت لذیز محسوس ہوا تھا۔
”شکریہ مادام۔“کھانا کھا کر میں نے شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھاکہ احسان کرنے والے کا حق ہے اس کی نوازش کو سراہا جائے۔
وہ فکر مندی سے بولی۔”مجھے نہیں لگتا تم زیادہ دن جی پاﺅ گے۔“
”اچھا ہے تمھیں بدلہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔خواہ مخواہ مجھے قتل کرنے کو مارا مارا پھرنا پڑتا۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔“
”مذاق کے علاوہ کیا ہی کیا جا سکتا ہے۔“
لمحہ بھر سوچ کر اس نے مشورہ دیا۔”تم بھاگنے کی کوشش کر سکتے ہو۔“
میں بے بسی سے بولا۔”میری حالت ایسی نہیں ہے کہ ایک ساتھ تین آدمیوں کا مقابلہ کر سکوں ،البتہ کوئی ساتھ دے تو دوسری بات ہے۔“
میرا مطمح نظر جانتے ہوئے اس نے نفی میں سرہلایا۔”فی الحال مجھے تو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔“
”تو تم نے شکلا کی شرائط ماننے کا ارادہ کر لیا ہے۔“
وہ خفگی سے بولی۔”ایسا کب کہا۔“
میں نے حقیقت کھولی۔”کیا خیال ہے وہ تمھاری مرضی کا منتظر رہے گا،پہلے مطالبے کی تکمیل تمھارے ہاتھ میں سہی ،دوسرا مطالبہ وہ بہ زور بازو پورا کر سکتا ہے۔“
وہ جلدی سے بولی۔” برطانیہ کی آزاد شہری ہوں ،جواب دہی اسے مشکل میں ڈال دے گی۔“
”اگر تمھیں آزاد کرنے کا ارادہ ہوا تو تم سچ کہہ رہی ہو۔“
”کہنا کیا چاہتے ہو۔“اس کے چہرے پرتفکر ابھرا۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”جن کے پاس ضمیر نہ ہو ان کا کچھ بھی کرنا غیر متوقع نہیں ہوتا۔“
”ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔“اس نے سختی سے جھٹلا دیا تھا۔
میں خاموش ہوگیا۔وہ بھی گہری سوچ میں کھو گئی تھی۔کھانا کھانے کی وجہ سے مجھ پر خماری چھانے لگی۔میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔پلوشہ دھم سے کود کر نگاہوں کے سامنے آئی اور میرا سر گود میں رکھ لیا۔ساتھ ہی ملائم ہاتھ میرے زخموں پر پھیرنے لگی۔اس عنایت کے بعد نیند کس کم بخت کو نہ آتی۔
٭٭٭٭٭
صبح خلافِ توقع مجھے ناشتا ملا تھا۔شاید چوبیس گھنٹوں میں میرا راشن، دو توس اور ایک ابلا ہوا انڈا ہی مقرر ہوا تھا۔ناشتے کے تھوڑی دیر بعد ہی میرا بلاواآگیا۔شاعر نے کہا تھا....
ع درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
مگر میرا درد شاید حد سے نہیں گزرا تھا ،تبھی آئے روز تکلیف و اذیت کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔بلاناغہ رات دن تفتیش جاری تھی۔انھیں تیزی نہیں تھی کہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے۔جلد ہی وہ مرحلہ آنے والا تھا جب اذیت کی فراوانی سے میرے حواس ساتھ چھوڑ جاتے۔تب اول فول بکتے ہوئے میں اصل مشن کے متعلق بھی کچھ نہ کچھ ضرور پھوٹ دیتا۔بلا شبہ پہلے کرن چاولہ نے مجھے اسی لیے آزاد چھوڑا تھاکہ میرے مشن کا پتا چلے اورمیرے ذریعے دوسرے جاسوسوں تک بھی رسائی پالے۔لیکن بعد میں جانے کیوں مجھے بکرم سنگھ والے معاملے میں الجھا دیاگیاتھا۔اس بارے میرا ذہن کوئی اندازہ نہیں لگاسکا تھا۔
عقوبت خانے سے واپسی بے ہوشی کی حالت ہی میں ہوئی تھی۔آنکھیں ،لورا کے.... ”ریجا .... ریجا....“پکارنے پر کھلی تھیں ۔وہ مجھے کافی خوش نظر آئی ،میں نقاہت سے لیٹا اس کی باتیں سننے لگا۔ وہ زور و شور سے نئے معاہدے کا بتا رہی تھی۔شکلا نے ایس آر ون کواس کی اصل لاگت میں خریدنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ جو فی رائفل دو ہزار پاﺅنڈ بن رہا تھا۔اور رائفلوں کی تعداد بھی پانچ ہزارکر دی تھی۔
”اور دوسرا مطالبہ؟“میں پوچھے بنا نہیں رہ پایا تھا۔
وہ اطمینان سے بولی۔”میں نے سختی سے انکار کر دیاہے۔“
”اور وہ مان گیا؟“مجھے حیرانی ہوئی تھی۔
”جانتے ہو،اسے سودے میں کتنا منافع مل رہا ہے۔پانچ ہزار پاﺅنڈ کی رائفل دو ہزار پاﺅنڈمیں خرید رہا ہے۔اورآرمی سے وہ پانچ ہزارپاﺅنڈ ہی وصول کرے گا۔گویا تین ہزار پاﺅنڈ اسے ایک رائفل میں بچ رہے ہیں ۔ پانچ ہزار رائفلوں میں کتنی بچت ہو گی۔“بلاشبہ ہندوستانی کرنسی میں وہ معاوضا ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زیادہ بنتا تھا۔
میں نے پوچھا۔”ڈیوڈ سے بات ہوئی؟“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اصل لاگت کی وصولی ہی پر مطمئن ہے۔“
دوپہر کا کھانا وہ کھا کر آئی تھی۔میرے نصیب میں تو صرف صبح ہی کا ناشتا لکھا تھا اس لیے پیٹ کے واویلے پر کان دھرے بغیر خاموشی سے لیٹا رہا۔
رات کے کھانے سے پہلے حسب معمول جلاد مجھے لینے پہنچ گئے تھے۔یوں جیسے نالائق طالب علم کو ساتھی طلبہ زبردستی مکتب لے جاتے ہیں ۔ عقوبت خانے تک وہ ان نئی ایذاﺅں کے بارے بحث و تکرار میں لگے رہے جو انھوں نے آج کے لیے سوچی تھیں ۔میرا زخموں سے چور بدن نت نئے مصائب اور تکالیف سے آشنا ہو رہا تھا۔مگر نہ احتجاج کا حوصلہ تھا اور نہ بچنے کی تدبیر۔چیخنے چلانے سے بھی کچھ حاصل ہونے والا نہیں تھا۔البتہ یہ اور بات کہ چیخ چیخ کر میرا گلا بیٹھ جاتا تھا۔اور یہ چیخ و پکار ان کے لیے باعث سکون و اطمینان ہوتی تھی۔
دوران تفتیش میں کئی بار بے ہوش ہوتا۔ان کے غیر انسانی تشددنے اب میری مدافعاتی قوت نچوڑ لی تھی۔ صرف زندہ رہنے کا حوصلہ اور دوبارہ سے اپنی پلوشے کو ملنے کی امید تھی کہ میں ڈٹا ہوا تھا۔اب وہ باقاعدگی سے خوابوں میں آنے لگی تھی۔شایدبچھڑنے کا وقت قریب تھا یا حوصلہ بڑھانے آتی تھی۔اس رات بھی میری واپسی ہوش و خرد سے بیگانہ حالت میں ہوئی تھی۔
پلوشے حسب معمول خوشی سے چہکتے و کھل کھلاتے میرے پاس پہنچی تھی۔میں جسم پر چادر لپیٹے لیٹا تھا۔ تکیے پر کہنی ٹیکے وہ میرے کانوں میں رس انڈیلتی رہی۔جانے کون کون سے پرانے قصے اسے یاد آرہے تھے۔ دوران گپ شپ اچانک میرے جسم سے کپڑا ہٹا،میرے زخم دیکھتے ہی وہ تڑپ اٹھی تھی۔
”ی....یہ ....کیا ہے راجو....“وہ ہکلا گئی تھی۔
”کچھ نہیں چندا،معمولی سے زخم ہیں ۔“میں نے اسے تسلی دینا چاہی۔
”وہ اتنا ظلم کر رہے ہیں میرے راجو پر،میں انھیں چھوڑوں گی تونہیں ۔“دانت پیسے ہوئے وہ سسک پڑی تھی۔اور پھر اس کی سسکیاں بلند ہونے لگیں ۔
”پلوشے ....پلوشے....“اسے پچکارتے ہوئے میں نے ہاتھ بڑھایا،نجانے کس زخم میں کھچاﺅ آیا تھا کہ میرے منہ سے بلند کراہ خارج ہوئی اور آنکھ کھل گئی۔لیکن پلوشہ کی سسکیاں اب تک کانوں میں گونج رہی تھیں ۔آج لورا کا۔”ریجا ....ریجا....“سنے بغیر میری آنکھ کھل گئی تھی۔شاید وہ نیند میں تھی۔
بازوﺅں پر زور دے کر میں اٹھ بیٹھا،تبھی سسکیوں کی آواز زیادہ صاف سنائی دینے لگی۔وہ لورا تھی، گھٹنوں میں سر دیئے سسک رہی تھی۔
”کیا ہوا....رو کیوں رہی ہو؟“سلاخوں کے قریب ہو کر میں نے آواز دی۔
اس نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر مظلومیت سے مجھے گھورا۔میرا دل بری طرح دھڑک اٹھا تھا۔سفید گالوں پر دانتوں کے نشان یوں ثبت تھے جیسے کسی درندے سے پالا پڑا ہو۔یقینا میری غیر حاضری میں اس پر قیامت بیت چکی تھی۔میرا اندیشہ غلط ثابت نہیں ہوا تھا۔شکلا جیسے گھٹیا انسان سے اس کے علاوہ امید بھی کوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔
”یہ کیسے ہوا؟“گو اس کا چہرہ چیخ چیخ کر اعلان کر رہا تھا کہ اس پر کون سی قیامت ٹوٹ چکی ہے،لیکن اس کے علاوہ مجھے کچھ سوجھا ہی نہیں تھا۔
”میں اسے چھوڑوں گی نہیں ۔کسی بھی قیمت ،کسی بھی صورت اسے قتل ضرور کروں گی۔“دانت پیستے ہوئے وہ غضب ناک ہوئی۔
اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اپنے اندازوں کی درستی پر داد طلب کر سکتا۔میں پچکار کر اس کا حوصلہ بڑھانے لگا۔عورت مشرقی ہو یا مغربی،مرد کی درندگی کا سامنا کرتے ہوئے بے چاری ٹوٹ ،بکھر جاتی ہے۔شکلا جیسے مرد ذہنی مریض ہوتے ہیں ۔اور اس کے مرض کی شدت مجھے لورا کے چہرے پر دکھائی دے رہی تھی۔نجانے باقی جسم کے ساتھ درندے نے کیا کچھ سلوک کیا ہوگا۔
میرے مسلسل تسلی دینے اور حوصلہ بڑھانے پر وہ کچھ سنبھلی۔اور جو کہانی سنائی اس کا لبِ لباب یہی تھا کہ میرے جانے کے تھوڑی دیر بعد اس کا بلاوا آگیا تھا۔اس نے معمول کی ملاقات تصور کیا۔مگر اسے لے جا کر ایک بیڈ پر باندھ دیا گیا۔بعد میں نشے میں دھت شکلا آیا اس کے ماضی کا رویہ یاد دلا کر اپنی ہر من مانی پوری کی۔اور ساتھ یہ بھی اعلان کیاکہ اگلے ایک ماہ اسے مسلسل شکلا کی درندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اب لورا کو وہاں سے بھاگنے کی سوجھ رہی تھی۔لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ہمارے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ قیدخانے کے دروازے وہ ایک ساتھ نہیں کھولتے تھے کہ ہم مل کر محافظوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے تھے۔لورا پھر بھی مجھ سے بہتر تھی کہ ہاتھا پائی کر سکتی تھی۔میرے بدن میں تو مقابلے کی سکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ بقیہ رات ہم مختلف منصوبے سوچتے اور رد کرتے رہے۔تالے کھولنے کے ہمیں کئی طریقے سکھائے گئے تھے،لیکن اس کے لیے کم از کم ایک مضبوط تار کا حصول ضروری تھا۔ہمارے پاس تو انھوں نے لوہے کی کوئی چیز ہی نہیں چھوڑی تھی۔کھانا بھی پلاسٹک کے برتنوں میں آتا تھا۔
کافی دیر مغز ماری کے بعد ہم نے وقتی طور پر ہار مانی اور سونے کی کوشش کرنے لگے۔صبح کے چار بج چکے تھے۔بھوک کی شدت،اور جسمانی تکالیف میں سونا تو محال تھا ،بس ہلکی غنودی آجاتی تھی۔جو چند لمحوں کے لیے درد سے افاقے کا باعث بنتی۔سونے جاگنے کی کیفیت میں ناشتا لانے والوں کے قدموں کی چاپ ابھری۔ میں اٹھ کر بیت الخلاءکی طرف بڑھ گیا۔تازہ دم ہو کر آیا اور ناشتے کو جڑ گیا۔لورا نے اپنی ٹرے میری طرف کھسکائی اورصرف چائے کی پیالی اٹھا کر چسکیاں لینے لگی۔بدمزہ چائے پینا بھی اس کی مجبوری بن گئی تھی۔
پیٹ میں کچھ جانے کے بعد مجھ پر خماری چھانے لگی۔لورا نے بھی دیوار سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔
تھوڑی دیر بعد جلادوں نے آجانا تھا۔لیکن نہ سونے سے ان کا آنا ٹل نہیں سکتا تھااس لیے میں نے آنکھیں میچ لی تھیں ۔
قدموں کی چاپ سنتے ہی میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا تھا۔شاید جلاد پہنچ گئے تھے۔لیکن آنکھیں کھلتے ہی میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔میرے اندیشے بے بنیاد ثابت نہیں ہوئے تھے۔
وہ ممتا دیدی تھی۔تین افراد کے گھیرے میں زندان کے قریب آئی۔وہی ہوا جس کاڈر تھا۔وہ درندے معصوم لڑکی تک پہنچ گئے تھے۔یقینا اب میں اپنی ہٹ پر قائم نہیں رہ سکتا تھا۔مظلوم لڑکی کو بچانے کو میرا سچ اگلنا ضروری ہو گیا تھا۔اور سچ کا پتا چلتے ہی دھیرندر شکلا پہلی فرصت میں میرا عدم آباد کا ٹکٹ کٹوادیتا۔ ایک لمحے میں ،دماغ نے مستقبل کا تجزیہ کر لیا تھا۔میں بے قرار ہو کر کھڑا ہو گیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 27
ریاض عاقب کوہلر
وہ سلاخوں کے سامنے آکر رکی۔ نظریں میرے وجود پر گڑی تھیں ۔ وہ کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں تھی جو اس پر خوب جچ رہا تھا۔نجانے درندے ان کا کیا حشر کرنے والے تھے۔ایک پاکستانی جاسوس کو پناہ دینے والی کسی رعایت کی حق دار نہیں ہو سکتی تھی۔ان کی معذوری بھی ظالموں کے لیے کوئی معنی نہ رکھتی۔میں نے دل ہی دل میں ان کی مدد کا فیصلہ کر لیا تھا۔انھیں بچانے کی خاطر میں نے کرن کے سامنے سارا راز کھولنے کا ارادہ کر لیاتھا۔
”دروازہ کھولو۔“مجھے گھورتے ہوئے اس کی پر اعتماد آواز ابھری۔ میرے دماغ کو جھٹکا لگا،کیوں کہ وہ تو اندھی تھی اور اندھے یوں کسی سے نظریں نہیں ملا سکتے۔اس کے عقب میں کھڑے افراد کا انداز بھی مودبانہ تھا۔کسی کے ہاتھ میں نہ توہتھیار تھااور نہ ممتا دیدی ان کی قیدی لگ رہی تھیں ۔
ایک دم جیسے انکشاف ہوا،وہ تو اس ڈرامے کا خصوصی کردار تھیں ۔ورنہ کیسے ممکن تھا کہ اتنا عرصہ ان کے گھر گزارناایجنسی کی نظر سے اوجھل ہوتا۔ انھوں نے مہینا بھر مجھے نظر میں رکھا، حقیقت اگلوانے کی کوشش کی،بہن بن کر اتنابڑا دھوکا دیا۔فوراََ ہی میری نگاہ اپنی گھڑی پر پڑی۔یقیناوہ راکھی نہیں ، نشان دہی کرنے کا آلہ (انڈیکیٹر) تھا۔ جس کی وجہ سے میں ہمیشہ سے ان کی نظروں میں تھا۔یہی وجہ تھی کہ گھڑی مجھ سے نہ لی گئی۔ورنہ قیدی کے پاس گھڑی کون چھوڑتا ہے۔یہ بات کئی بار میرے دماغ میں کھٹکی تھی لیکن دھیان نہیں دے سکا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی وہ بے تابی سے اندر گھسیں ۔”راج۔“وارفتگی سے کہتے ہوئے اس نے میرا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کر ماتھے پر بوسا دیا۔وہ شفقت بھرا انداز میری روح تک کو گھائل کر گیا تھا۔اتنے مقدس رشتے کی آڑ میں اتنا بڑا دھوکا دیا تھا۔میں بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے انھیں گھور تارہا۔
نظریں میرے جسم پر پھیلے چھانٹوں پر پڑیں ،سیاہ آنکھوں میں اضطراب و اذیت ہلکورے لیتی محسوس ہورہی تھی۔
”سدھیر،تفتیش کون کر رہا ہے؟“انھوں نے مڑ کر دیکھا۔
”استاد گوتم،مادام!“
”تفتیش توکسی اور نے کرنا تھی نا؟“ان کے لہجے میں دکھ و اذیت بھری تھی۔
مسﺅل نے سر جھکا لیا تھا۔انھوں نے ایک نمبر ملا کر موبائل فون کان سے لگا لیا۔”تم نے اچھا نہیں کیا۔“ لہجے میں برہمی بھرا دکھ پوشیدہ تھا۔”تم نے وعدہ کیا تھا۔“
نجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا، وہ چلائیں ۔”تم صرف بکواس کر سکتے ہو اور کچھ نہیں ۔“اور الوداعی کلمات کہے بغیررابطہ منقطع کرلیا۔
میری طرف رخ موڑتے ہی ان کی آنکھوں میں پشیمانی بھرا اضطراب نمودار ہوا۔ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے وہ دھیمے لہجے میں بولیں ۔”تمھارے لیے کھانا لائی تھی۔سوچا اپنے ہاتھوں سے راج کو کھلاﺅں گی۔“
”ایسی گھٹیا حرکت کیوں کی۔“مجھے اپنی آواز بے گانی لگی تھی۔
”چھوٹے !میں سب بتادوں گی،پہلے تم کھانا کھا لو۔“ ٹفن اٹھائے شخص کو قریب آنے کا اشارہ کر کے وہ میرے نزدیک ہوئی۔
”دور رہو۔“میں نے کندھے پر ہاتھ رکھ کرانھیں پیچھے دھکیلا۔
”اوئے،مادام سے بدتمیزی کرتا ہے۔“سدھیر جھپٹنا ،مگر اس کے مجھ تک پہنچنے سے پہلے ممتا باجی کی ٹانگ حرکت میں آئی ،بھرپور لات کھا کر وہ دیوار سے جا ٹکرایا تھا۔
وہ دھاڑیں ۔”کسی نے چھونے کی بھی کوشش کی تو میرے ہاتھوں مارا جائے گا۔دفع ہو جاﺅ تینوں ۔“
وہ کان دباتے ہوئے باہر نکل گئے تھے۔
”اپنی دیدی سے بد تمیزی کرو گے۔“شفقت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے وہ دوبارہ قریب ہوئیں ۔
”پلیز مادام آپ چلی جائیں ۔“میں نے رخ موڑ لیا تھا۔
”اپنی دیدی کو رلا کر خوشی ملے گی۔“انھوں نے مجھے بازو سے پکڑ کرزبردستی سیدھا کیا۔
”آپ نے مجھے دھوکا دیا ہے،جذباتی استحصال کیاہے میرا۔کم از کم بہن کر دھوکا نہ دیتیں ۔“
وہ دکھی ہوئیں ۔”دیدی تم نے بنا یا تھا چھوٹے!بھول گئے۔“
”آپ حقیقت بتا سکتی تھیں ۔“کوشش کے باوجود میں انھیں تم نہیں کہہ پا رہا تھا۔مجھے ہزاروں گلے شکوے تھے۔ہم دو ازلی دشمن تھے۔مگر نادانستگی میں غلط رشتہ جوڑ بیٹھے تھے۔اور جس طرح وہ میری حالت دیکھ کر پیچ و تاب کھا رہی تھیں ،صاف ظاہر تھا کہ انھیں چھوٹے بھائی کی تکلیف پر اذیت ہو رہی تھی۔اب میری الجھن بھی دور ہو گئی تھی کہ کرن چاولہ کس سفارش کا ذکر کر رہا تھا۔اس کی مجبوری ممتا دیدی کی صورت میرے سامنے کھڑی تھیں ۔ یقیناان کے درمیان کوئی خاص تعلقات تھے،تبھی تو ممتا باجی نے اسے اتنے سخت الفاظ میں برا بھلا کہا تھا۔
میں نے چپ سادھ لی۔وہ نادم ہوئیں ۔”اپنی دیدی کو مجبور سمجھ کر معاف کردو۔“
میں کراہتے ہوئے بولا۔”آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔“
”مجبور ہو گئی تھی۔تمھیں دیکھنے کو دل کر رہا تھا،کسی اور کی تسلی سے مطمئن نہیں تھی تبھی چلی آئی۔“
”ٹھیک ہے ،دیکھ لیا،اب چلی جائیں ۔“
وہ لجاجت سے بولیں ۔” کھانا کھا لو پھر چلی جاﺅں گی۔“
”بھوک نہیں ہے۔“
”نہیں ۔“انھوں نے منہ بسورا۔
”آپ ایک ناپائیدار رشتے کے قیام پر مصر ہو رہی ہیں ۔“میں نے انھیں آئینہ دکھایا۔
”زبردستی تو نہیں کر رہی ، دل کے ہاتھوں مجبور ہوں ۔جانتے ہو نا میرے راجیو نے تمھارے روپ میں دوسرا جنم لیا ہے۔ “اس نے کئی بار کی کہی بات دہرائی۔میں اس کے چھوٹے بھائی کی تصویر دیکھ چکا تھا۔ہلکی سی مشابہت ضرور تھی،مگر وہ بالکل میرے جیسا نہیں تھا۔بلکہ وہ بارہ تیرہ سال کا تھا کہ ایک حادثے میں گزر گیا تھا۔وہ آج تک اسے نہیں بھلا پائی تھی۔
”آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں پاکستانی ہوں ۔“
وہ تلخی سے بولیں ۔”پاکستانیوں سے محبت کرنا جرم ہے کیا۔“
”دیدی سمجھنے کی کوشش کریں ۔“
ان کے چہرے پر فاتحانہ تبسم ابھرا۔”جتنا کوشش کر لو ،اپنی دیدی کی محبت کودل سے نہیں کھرچ سکتے۔“
میں معترض ہوا۔”آپ میرے انجام سے واقف ہیں ،پھر کیوں ایک نئے غم کو اپنا سینہ کشادہ کرنا چاہتی ہیں ۔“
وہ عزم سے بولیں ۔”تمھیں مرنے تو نہیں دوں گی۔“
میں نے حقیقت اگلی۔”مجھے نہیں لگتا آپ اتنی بااختیار ہیں ۔“
نظریں چراتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی۔”ماﺅں ،بہنوں کی پرارتھنا (دعا)میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔“
دونوں آمنے سامنے کھڑے مصروفِ گفتگو تھے۔ممتا دیدی امید بھری نظروں سے مجھے گھور رہی تھیں ۔ اپنے غلط فعل کی ان کے پاس کوئی توجیہہ نہیں تھی۔لیکن رویہ چیخ چیخ کر ان کی محبت و بے بسی کااعلان کر رہا تھا۔ ان کی شفقت کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے میں دھیرے سے بولا۔
”مجھے سخت بھوک لگی ہے۔“
وہ شفقت سے بولیں ۔”بیٹھو نا؟،دیدی اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلائے گی۔“
میں بیٹھ گیا۔وہ میری پسند کا کھانا بنا لائی تھیں ۔انھوں نے خود بھی میرے ساتھ ہی کھانا کھایااور پھر درد کش گولیوں کی خوراک مجھے کھلادی۔ساتھ ہی بعد میں کھانے کو بھی گولیوں کا ایک پتا دے دیا تھا۔
”شکریہ دیدی۔“میں نے رسم نبھائی۔
”شرمندہ کر رہے ہو۔“متبسم ہو کر انھوں نے میرا کان پکڑ لیا تھا۔ ان کی پختہ عادت تھی۔خفگی و محبت ہر دو صورت وہ میراکان پکڑ لیتیں ۔
میں منمنایا۔”ایسی گستاخی کر سکتا ہوں ۔“
”یہ گھڑی واپس کرو۔“کہتے ہوئے وہ میری گھڑی کھولنے لگیں ۔
میں ہنسا۔”آج ہی اس گھڑی کا راز افشا ہوا ہے۔“
تبصرہ کیے بغیر وہ ایک کالا دھاگا میری کلائی پر باندھنے لگیں ۔شاید ادھوری رسم کو اب پورا کر رہی تھیں ۔
دھاگا باندھ کر انھوں نے خفیف انداز میں پوچھا۔”ایک بات مانو گے۔“
”آپ اچھی طرح جانتیں ہیں کیا منواسکتی ہیں ۔“
وہ مصر ہوئیں ۔”جو نہیں منوا سکتی اب وہ منوانا چاہتی ہوں نا۔“
میں نے تحمل سے کہا۔”بولیں ،سننے کے بعد ہی کچھ طے کر سکوں گا۔“
” سچ بتا کیوں نہیں دیتے۔وعدہ کرتی ہوں تمھیں بچا لوں گی۔“
”یہ وعدہ حکومت کے ایسے عہدہ دار کا ہے جو ذاتی وعدوں کو پورا کروانے کا اختیار نہیں رکھتا۔“
”اپنی دیدی سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔“
میں تلخی سے بولا۔”حقیقت تو یہ ہے کہ میں سچ بتا چکا ہوں ۔اب یہ بتائیں آپ کو کیسے یقین آئے گا میرے پاس بتانے کو کچھ اور نہیں ہے۔“
’ کہا تھا نااپنے دیش لوٹ جاﺅ....اچھی طرح سمجھایا تھا مگر تم نہ مانے۔“لگاوہ گڑے مردے اکھیڑرہی ہیں ۔
”اب پچھتانے سے گیا وقت نہیں لوٹ سکتا دیدی۔“میں نے بہ ظاہر غلطی کا اعتراف کرناضروری سمجھا۔
”چلتی ہوں ....اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا۔اور میں بات کر کے تمھاری جان چھڑانے کی کوشش کرتی ہوں ۔پہلی فرصت میں اپنے آدمیوں سے رابطہ کر کے پاکستان لوٹنے کی کرو۔“وہ بین السطور مجھے کرید رہی تھیں کہ اگر میرے رابطے کسی سے ہیں تو اعتراف کر لوں ۔
”کرن آپ کا کیا لگتا ہے؟“میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
”کچھ نہیں لگتا کمینہ....“ان کے ہونٹوں پر مدہم تبسم ابھرا جو باور کررہا تھا کہ وہ ان کا سب کچھ تھا۔
میں نے تصدیق چاہی۔”روہن گجرال ایک فرضی نام تھا نا؟“
”کرن کا اصل نام روہن ہی ہے۔“محجوب انداز میں کہتے ہوئے انھوں نے قریب ہو کر میرے ماتھے پر بوسا دیااور جونھی مڑیں ،میری نظر ان کے بالوں میں اڑسی لوہے کی باریک تار کی بنی چمٹیوں پر پڑی۔ میں ایک دم بولا۔
”ممتا دیدی!“
وہ رک کر پلٹیں ۔آنکھوں میں استفسار اور چہرے پر خفت تھی ،جو اعلان کر رہی تھی کہ وہ میری ہر قسم کی مدد سے قاصر تھیں ۔
میں نے قریب ہو کر دونوں ہاتھ ان کے سر پر رکھے۔”پلیز،یہاں آکر خود کو تکلیف نہ دیا کریں ۔ جانتا ہوں آپ بے بس ہیں ۔جب تک زندگی ہے، آپ میری دیدی ہی رہیں گی۔ پاکیزہ، مقدس، معصوم اور بہت زیادہ شفقت کرنے والی۔میں چاہوں بھی تو آپ سے ناراض نہیں ہو سکتا۔اور یہ بھی جانتا ہوں میری گرفتاری میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہے۔نہ آپ کے بس میں میری آزادی ہی ہے۔خود کوکبھی قصور واراور دوشی نہ سمجھنا۔کیوں کہ ضروری نہیں جو آپ چاہتی ہیں ، سب ویسا ہی چاہیں ۔اپنا بہت سا خیال رکھنا۔“ان کے بالوں پر بوسادے کر میں پیچھے ہو گیا۔اس دوران میرے دائیں ہاتھ کی انگلیاں اپنا کام کر چکی تھیں ۔
آنکھوں پر الٹا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ ایک دم مڑیں اور باہر نکل گئیں ۔یقینا وہ دہرے احساسات کا شکار تھیں ۔بھارت ماتا سے محبت و وفاداری ان کے خون میں شامل تھی۔اور مجھے نادانستگی میں اس بھائی کا درجہ دے بیٹھی تھیں جس نے کبھی ان کے ہاتھوں میں دم توڑا تھا۔
جدید ساخت کی بالوں کی چمٹی میرے دائیں ہاتھ سے جیب میں منتقل ہو گئی تھی۔چمٹی کی بناوٹ میں مضبوط فولاد کی تار استعمال ہوئی تھی۔امید تھی اس سے قفل کھل جاتا۔
تینوں محافظ انتظار کر رہے تھے۔ان کے نکلتے ہی ایک نے دروازہ قفل کر دیا۔لورا پر انھوں نے سرسری نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کی تھی۔
”کیا معاملہ تھا۔“ان کے جاتے ہی لورا نے بے صبری ظاہر کی۔میں نے مختصر الفاظ میں ممتا دیدی کا تعارف کراد یا۔
وہ مایوسی سے بولیں ۔”موقع تھا،تم اسے یرغمال بنا کر بھاگنے کی کوشش کر سکتے تھے۔“
میں نے منہ بنایا۔”انھیں اعتماد تھا تواپنے آدمیوں باہر بھیجا،ورنہ دشمن ملک کے جاسوس کے ساتھ اکیلا بیٹھنے کا خطرہ کون مول لیتا ہے۔“
لورا وثوق سے بولی۔”وہ بہن بن کر تم سے راز اگلوانے آئی تھی۔تبھی اسے تم تک آنے کی اجازت ملی۔
”یقینا ایسا ہی ہے۔“میں نے اثبات میں سرہلایا کہ لورا کی بات سے رتی بھر اختلاف نہیں تھا۔
”اسے نقصان پہنچائے بغیر ہم اپنا کام کر گزرتے۔“لورا نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
میں نے جیب سے چمٹی نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرائی۔لورا کی آنکھوں میں خوشگوار حیرانی نمودار ہوئی۔”یہ....یہ....کیسے؟“
”انھیں بہن سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی فکر چھوڑ دوں ۔“
وہ مسکرائی۔”بلاشبہ تمھاری خیرخواہ نکلی۔“
”وہ دل سے چاہتی ہیں میں فرار ہو کر پاکستان لوٹ جاﺅں ،مگر مدد کرنے سے قاصر ہیں ۔بلکہ ان کی حب الوطنی سے لگتا ہے میرے فرار کو روکنے کو پہلی گولی انھی کے پستول سے نکلے گی۔“
وہ عزم سے بولی۔”تم فرار ہو کرجو چاہے کرو،مگر میں شکلا کو موت کے گھاٹ اتارے بغیر انڈیا نہیں چھوڑنے والی۔“
میں بہ ظاہر سنجیدگی سے بولا۔”اگر اس کام میں مددگار بنوں تو پرانا وعدہ پورا ہوگا۔“
”کون سا وعدہ۔“اسے حیرانی ہوئی تھی۔
میں شرارتی تبسم سے بولا۔”وہ ڈیٹ والا....“
اس نے دانت پیسے۔”ریجا....انڈین ایجنسیوں نے تمھارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا ہو گا جو میں کروں گی۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔” پہلے یہاں سے نکلنے کا سوچو۔“
”صبح ناشتا لانے والے صرف دو آدمی ہوتے ہیں ،اپنے ہتھیار بھی انھوں نے کندھوں پر لٹکائے ہوتے ہیں ۔“
”گویا آج رات بھی تم شکلا کی میزبانی کو تیار ہو۔“
”نن....نہیں ....تو“وہ گھبرا گئی تھی۔”ہمیں ابھی کوشش کرنا ہوگی۔“
” مجھے لے جانے والے کافی بے پرواہ ہوتے ہیں جب زندان میں داخل ہوں گے ،تب حملہ کر دوں گا۔ مجھ پر قابو پانے کو وہ تم سے غافل ہو جائیں گے۔تب تم ٹوٹ پڑنا۔ایک بار انھیں بے ہوش کر لیاتو باقی کام مشکل نہیں رہے گا۔بیرونی دروازہ بھی کھلا ملے گا۔“
اس نے تشویش ظاہر کی۔”مجھے نہیں لگتا تم خاطر خواہ مزاحمت کر پاﺅ گے۔“
میں اعتماد سے بولا۔”ایک بندے کو ناکارہ کر لوں گا،دو کا بندوبست تمھیں کرنا ہوگا۔“
”اگر ناکام ہوئے تو........“
”تو کیا؟“میں نے قطع کلامی کی۔”جو ہو چکا،اس سے زیادہ کیاکرلیں گے،زندگی کی امید میں یوں بھی کھو چکا ہوں ۔“
اس نے مطمئن انداز میں سرہلا یا اور ہم منصوبے کی نوک پلک درست کرنے لگے۔
منصوبے کے مطابق لورا کو زندان کا قفل کھولنا تھا۔وہ تجربہ کار سنائپراور تربیت یافتہ کمانڈوتھی۔تار کے ذریعے قفل کھولنے کا شعبدہ اس کے لیے انوکھا یا مشکل نہیں تھا۔میں نے چمٹی اس کی طرف بڑھا دی۔
”قفل کھول دو کیوں کہ وہ کسی بھی وقت ٹپک سکتے ہیں ۔دیدی کے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مجھے آج دن کو آرام کا موقع دینے والے ہیں ۔“
وہ چمٹی کو ادھیڑ کر تار کو سیدھا کر چکی تھی۔اجازت ملتے ہی قفل کے ساتھ مصروف ہو گئی۔ڈیڑھ دو منٹ کی مغز ماری کے بعد اسے کامیابی ملی تھی۔
ایک بار کنڈا کھول کر اس نے دروازہ کھلنے کی تصدیق کی اور پھر کنڈے میں تالا پھنسا کر بیٹھ گئی۔ اب ہمیں ساتھیوں کا انتظار تھا۔گو جلادوں کی ٹولی سے پہلے کوئی لورا کو لے جانے بھی آسکتا تھا۔اور ایسا ہونے کی صورت ہمارا منصوبہ ناکام ہو جاتا کہ قفل کو کھلا ہوا دیکھ کر وہ نہ صرف چونک جاتے بلکہ ہماری نگرانی سخت کر دیتے۔اب تو انھیں ہماری بے بسی کا یقین ہو گیا تھا۔اور اس کے برعکس کرنے کی صورت یہ قباحت تھی کہ جلادوں کی آمد کے بعد لورا قفل کھول کر یورش نہیں کر سکتی تھی۔لیکن ایسے منصوبوں میں اتنا خطرہ تو مول لینا پڑتا ہے۔
ہم سخت بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ذرا سی لغزش ہماری مصیبتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیتی۔کشیدہ اعصاب کے ساتھ ہم لمحوں کے گزرنے کا ادراک کرتے رہے۔انتظار کے لمحات طویل ہو کرگھڑیوں کی صورت اختیا رکر لیتے ہیں ۔مگر کسی بھی شیئے کی طوالت اس کے دوام پر دال نہیں ہے۔وصل کے اوقات جلدی گزرتے ہیں ، ہجر و انتظار طول کھینچتے ہیں ،لیکن گزرنا ہر دو کا مقدر ہے۔
انتظار کا اختتام قدموں کی چاپ پر ہوا تھا۔لورا اضطرابی انداز میں کھڑی ہو گئی تھی۔میں نے فوراََ ہاتھ سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔وہ جس سرعت سے اٹھی اتنی ہی تیزی سے بیٹھ گئی۔
”سنائپر پتر!آج ہمیں آنے میں تھوڑی دیر ہو گئی ہے،لیکن تیرے لیے ایسا علاج سوچا ہے کہ آئندہ کم از کم باپ نہیں بن سکو گے۔“ روی استہزائی انداز میں کہتا ہوا اندر گھسا۔اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی۔عقب میں سربن تھاجس نے کالا نقاب پکڑا ہوا تھا۔گوتم دروازے ہی پر کھڑا ہوگیا۔میں نقاہت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین پر ہاتھ ٹیک کر اٹھنے لگا۔
”استاد سنا ہے چھمک چھلومیجر اسے ملنے آئی تھی۔“یقینا روی نے ممتا دیدی کا ذکر کیا تھا۔
گوتم بولا۔”کرن صاحب نے اسے کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھایا ہوا ہے۔“
”سرپر تو نہیں البتہ ............“روی نے ممتا دیدی کے لیے نہایت لَچّر ،غلیظ اور بے ہودہ الفاظ استعمال کیے تھے۔دوسروں نے قہقہ لگا کر اس کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ان لمحات میں روی، سربن کی جانب متوجہ ہوا۔ان پر حملہ کرنا منصوبے کاحصہ تھا۔لیکن اس کی گھٹیا بات نے میرے دماغ میں چنگاریاں بھر دی تھیں ۔یوں لگا میری سگی بہن کے خلاف بکواس کی گئی ہو۔ پوری قوت استعمال کرتے ہوئے میں نے گھٹنا اس کی ٹانگوں کے بیچ اٹھا دیا۔
”اففف....“وہ کراہتے ہوئے جھکا،اس کے ہاتھ مضروب مقام کی طرف بڑھے تھے۔
میرا گھٹنا دوبارہ اٹھا،اب نشانہ اس کی ٹھوڑی بنی تھی۔زوردار کراہ کے ساتھ وہ لمبا لیٹ گیا تھا۔
”تم کتے........“سربن مغلظات بکتا ہوابڑھا۔جسمانی تکلیف کو خاطر میں لائے بغیر میں قدم آگے بڑھا کر اچھلا،میرا گھٹنادنبے کے سر کی طرح اس کے پیٹ کی طرف بڑھاتھا۔
ایک تو وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا۔دوسرا میں بھی دو قدم لے کر زور سے اچھلا تھا۔”دھپ۔“ کی زور دار آواز ابھری۔گھٹنا اس کی بائیں پسلیوں کے نیچے لگا تھا۔وہ ڈکراتا ہوا نیچے گرا اور اذیت سے تڑپنے لگا۔
گوتم ہکا بکا کھڑا تھا۔اس کے وہم و گمان میں بھی وہ صورت حال نہیں تھی۔اس نے فوراََ جیب میں ہاتھ ڈال کر پستول نکالنا چاہا،لیکن اس کی بدقسمتی کہ تب تک لورا قریب پہنچ چکی تھی۔اسے آخری لمحات میں گڑبڑ کادراک تو ہو گیا تھا،مگر اس کے سنبھلنے سے پہلے لورا نے کھڑ ی ہتھیلی کا وار گردن پر کیا،وہ لہراتا ہوا اوندھے منہ گرگیا تھا۔
تینوں ہماری توقع سے بھی نرم ہدف ثابت ہوئے تھے۔لورا نے فوراََ گوتم کے پستول پر قبضہ جمالیا تھا۔
روی اور سربن کی تلاشی لے کر میں نے دونوں کے پستول نکالے اور بیلٹ کھول کر ان کے ہاتھ پشت پر باندھنے لگا۔
گوتم کی جسمامت مجھ سے ملتی تھی۔اس کے جوتے اتار کر میں نے پاﺅں میں ڈالے اور قمیص اتار کر پہن لی۔ان کی جیبوں سے نکلنے والی تھوڑی بہت نقدی بھی اپنی جیب میں منتقل کی۔اور گوتم کے ہاتھ بھی جکڑ دیئے۔ اتنی دیر میں کسمسا کر تینوں ہوش میں آنے لگے تھے۔
میں لورا کو مخاطب ہوا۔”شاید تم سے دیکھا نہ جائے، بہتر ہو گاداخلی دروازے پر چلی جاﺅ۔“
”ہمیں جلدی کرنا ہوگی۔“اس نے بے صبری ظاہر کی۔
”مقدر نے موقع دے ہی دیا ہے تو سینہ ٹھنڈا کرنے دو۔“اپنا لہجہ مجھے بھی بیگانہ لگا تھا۔ پچھلے چند دنوں سے ان کی درندگی کا نشانہ بن رہا تھا،اب بدلہ لینا تو بنتا تھا۔
”جلدی کرنا۔“سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ باہر نکل گئی۔
”تمھارا انجام بہت برا ہوگا۔“ہوش میں آتے ہی گوتم نے دھمکی دی تھی۔
”اب میری باری۔“گوتم کی جیب سے برآمد ہوئے چاقو کی تیزدھار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں زہر خند ہوا۔
گوتم نے اعتماد کا مظاہرہ کیا۔”تم ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔“
”ایسا بس تم سوچتے ہو۔“میں نے اس کے بالوں کو مٹھی میں بھرتے ہوئے چاقو کی نوک اس کی آنکھ میں گھونپ دی تھی۔اس کے حلق سے لرزا خیز چیخ برآمد ہوئی۔ایسی ہی کئی چیخیں گزشتہ دو تین دنوں سے میرے حلق سے برآمد ہو رہی تھیں ۔چیخنے کے ساتھ اس کے منہ سے مغلظات کا چشمہ ابل پڑا تھا۔توجہ دیئے بغیر میں نے اس کی دوسری آنکھ میں بھی چاقو گھونپ دیا۔تکلیف کی شدت سے وہ ذبح ہوئے جانور کی طرح پھڑک رہا تھا۔پتلون سامنے سے گیلی ہوئی اور پانی نیچے تک پھیل گیا۔
روی اور سربن کی آنکھوں میں ہراس پھیل گیا تھا۔
”بب....بھگوان کے لیے،معاف کر دو....“دونوں گھگیائے۔
”اسی کے پاس بھیجنے لگا ہوں ۔“اطمینان سے کہتے ہوئے میں نے باری باری دونوں کی آنکھیں پھوڑ دی تھیں ۔مگر افسوس کہ میں زیادہ دیر ان کے تڑپنے کا دلکش منظر نہیں دیکھ سکتا تھا۔تینوں مجھے گالیاں بک رہے تھے۔خطرناک انجام کی دھمکیاں دے رے تھے اور ساتھ بری طرح کروٹیں بدل رہے تھے۔
میں اطمینان سے بولا۔”تمھارا تو پتا نہیں لیکن مجھے بہت مزا آرہا ہے۔“
”تم............“تینوں کے حلق سے گٹر کی گندگی کے مانند بدبودار اور گلی سڑی گالیاں برآمد ہورہی تھیں ۔
”میں چاہتا ہوں تم زیادہ سے زیادہ تکلیف کاٹولیکن وقت کی کمی کے باعث یہ دلکش نظارا دیکھ نہیں سکتا۔“افسوس کا اظہار کرتے ہوئے میں تینوں کی کلائیوں کی رگیں کاٹ دیں ۔خون تیزی سے فرش رنگین کرنے لگا تھا۔ان کے لباس پر رگڑ کر میں نے دھار صاف کی اورچاقو جیب میں ڈال لیا۔وہ کبھی گالیاں بکتے،کبھی زندگی کی بھیک مانگنے لگتے۔
میں کبھی اتنا شقی القلب اور بے رحم نہیں رہا کہ کسی کے تڑپنے پر لطف اندوز ہو سکوں ، مگر ان تینوں نے مجھ پر ظلم کے پہاڑڈھائے تھے۔اتنی اذیتیں دی تھیں کہ میں سرتاپا انتقام میں ڈھل گیا تھا۔میں نے تالے کی چابی لورا والے دروازے کے قفل میں گھسیڑ کر چھوڑ دی،تاکہ تفتیش کرنے والے سمجھیں میں نے ان تینوں کو ہلاک کر کے لورا کو آزاد کرایا ہے۔یوں ممتا دیدی پر کسی کو بھی شک نہ گزر تا۔لورا نے ممتا دیدی کی چمٹی وہیں پھینک دی تھی۔ وہ میں نے اٹھا کر جیب میں ڈال لی۔
کہتے ہیں جو عزیز ہوتے ہیں انسان ہر حال میں پہلے ان کے بھلے کا سوچتا ہے۔اس وقت بھی میرے دماغ میں ممتا دیدی کی حفاظت کا خیال جا گزیں تھا۔تبھی احتیاطی تدابیر پر عمل کر گزرا تھا۔ورنہ وہ پھنس جاتیں ۔ان کا میرے ساتھ ہمدردانہ رویہ ان کے بڑوں کی نظر سے اوجھل نہیں تھا۔اور میں نہیں چاہتا تھا کہ انھیں ذرا بھر تکلیف پہنچے۔
لورا بے چینی سے منتظر تھی۔ہم عمارت سے انجان تھے۔نامعلوم وہاں کتنے افراد موجود تھے۔اور ان کے پاس کون کون سے ہتھیار تھے۔کیوں کہ مرنے مارنے کا مرحلہ شروع ہو گیا تھا۔ اور ان کے ہاتھ آنے کا مطلب دردناک موت کو گلے لگاناہوتا۔
وہ برہم ہوئی۔”اتنی دیر لگا دی۔“
اس کے واویلے کو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے پستول کاک کیا۔”کوشش کرنا کسی کی جان ضائع نہ ہو۔“
وہ طعنہ زن ہوئی۔”ان تینوں کے ساتھ کیا رہے تھے۔“
”وہ اسی قابل تھے،باقی کسی کے ساتھ ہماری دشمنی نہیں ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”مجھے صرف شکلا کی گردن اتارنے میں دلچسپی ہے۔“
”مجھے شانہ بہ شانہ پاﺅ گی۔“اس پر احسان دھرتے ہوئے میں نے دروازے کو آہستگی سے اندر کی جانب کھینچا۔وہ کچھ کہنے لگی تھی،مگر مجھے دروازے کھولتے دیکھ کر ہنکارا بھر کر رہ گئی تھی۔
دروازے میں جھری کر کے میں نے باہر جھانکا۔سامنے سامان سے عاری کمرہ نظر آیا۔
”چلو۔“میں سرعت سے باہر نکلا۔لورا نے میری تقلید کی تھی۔وہ تربیت یافتہ کمانڈو اور پیشہ ور سنائپر تھی۔کوئی عام لڑکی نہیں کہ مجھ پر بوجھ ہوتی۔کمرے کے داخلی دروازے کے قریب پہنچ کر میں نے اسے داہنی جانب کا خیال رکھنے کا اشارہ کیا۔اس نے سرہلا دیا تھا۔
ہم نے ایک ساتھ دروازے کے دونوں پٹ کھولے اور سرعت سے باہر نکلے،دونوں جانب طویل راہداری تھی۔
”اس طرف۔“سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں بائیں جانب بڑھ گیا۔لورا میرے پیچھے ہو لی۔ میں مکمل سامنے کی طرف متوجہ تھا،جبکہ لورا الٹے قدموں بھاگتی ہوئی آرہی تھی۔عقب کاخیال رکھنا اس کی ذمہ داری تھی۔ہم نے کسی بھی کمرے میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ہماری اولیں ترجیح وہاں سے بہ خیریت نکلنا تھا۔موڑ کے قریب پہنچتے ہی ہم دیوار سے ٹیک لگا کر رکے اور پھر ایک ساتھ سامنے ہوئے۔
چند قدموں کے فاصلے پر دو مسلح افراد خراماں خراماں تشریف لا رہے تھے۔ دونوں کے ہتھیار کندھے پر لٹکے تھے۔
”ہاتھ اوپر۔“میں نے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہا تھا۔لہجے سے زیادہ میرے پستول نے انھیں ڈرایا تھا۔قدم روکتے ہوئے دونوں نے ہاتھ بلند کر لیے تھے۔
ہم نے بجلی کی سی سرعت سے درمیانی فاصلہ طے کیا۔زندگی و موت کا کھیل جاری تھا،ایسے حالات میں مجھے جسمانی تکلیف بھولی ہوئی تھی۔
”الٹا گھومو۔“قریب جاتے ہی میں نے حکم دیا۔
مجھے کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے وہ مڑ گئے۔لورا کی سوالیہ نظریں میری جانب اٹھیں ۔ میں نے اوپر نیچے سر ہلاتے ہوئے پستول کو نال سے پکڑا۔اور دستہ پوری قوت سے سامنے والے کے سر میں جڑ دیاتھا۔لورابھی پیچھے نہ رہی ،اس نے کافی سخت وار کیاتھا۔ مضروب دھڑام سے پختہ فرش پر گر پڑے۔
دونوں نے گلے میں ”نائین ایم ایم کاربائن ون اے ون “لٹکائی ہوئی تھیں ۔جس کی میگزین میں چونتیس گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔وہ انڈیا کی ایجاد کردہ سب مشین گن تھی۔اورکارکردگی میں پستول سے بہتر ہے۔ ہم نے اپنے پستول پتلون کے عقب میں اڑسے اور کاربائن قبضے میں کیں ۔ان کے فولڈنگ بٹ سیدھے کر کے ہم نے کاک کیااورآگے بڑھ گئے۔
راہداری کا اختتام ایک کھلے ہال میں ہوا ،جس ایک کونے میں آمنے سامنے صوفے رکھ کر ڈرائینگ روم کی شکل دی گئی تھی۔ وہاں دو افرادشیشے کے گلاس تھامے پینے میں مصروف تھے۔ہم پر نظر پڑتے ہی وہ اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 28
ریاض عاقب کوہلر
”ہاتھ اوپر۔“میں نے کاربائن کی نال سے بھی اشارہ کر دیا تھا۔
ایک آدمی اعتماد سے بولا۔”جوان اپنی سختیوں میں اضافہ کر رہے ہو۔اگر سوچ رہے ہوچھپ جاﺅ گے تویہ غلط فہمی دل سے نکال دو۔ ممبئی کا کوئی کونہ تمھیں پناہ نہیں دے گا۔“
میں دبنگ لہجے میں بولا۔”تمھارا مسئلہ اپنی جان بچانا ہے، جو تم ہاتھ اٹھا کر ہی بچا سکتے ہو۔“
انھوں نے ہاتھ اوپر کر لیے تھے۔
”آگے بڑھو۔“ان کی پیٹھ سے کاربائن کی نالیں جوڑ کر ہم نے دروازے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔
دو قدم لیتے ہی لورا کے سامنے والے نے تیزی کا مظاہرہ کیااور ایک دم مڑ کر ہتھیار پر ہاتھ ڈال دیا۔ بیرل پر ہاتھ ڈالتے ہوئے اس نے دھانے کا رخ خود سے ہٹایا،مگر لورا کے جوابی ردعمل کا توڑ نہیں سوچا تھا۔اس نے لورا کو کچھ زیادہ ہی ہلکا لیا تھا،وجہ یقینا اس کا لڑکی ہونا تھا۔
لورا نے کاربائن کھینچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔جونھی مخالف نے بیرل کو پکڑا، قدم بھرتے ہوئے وہ قریب ہوئی اور ایک دم اپنا گھٹنا اٹھا دیا۔
”اوغ۔“ کی بلند آواز سے وہ جھکا،اس کی گرفت کاربائن کی نال پر ڈھیلی ہو گئی تھی۔لورا نے کاربائن کھینچتے ہوئے ،بٹ کومضبوطی سے پکڑ ااورنال پوری قوت سے اس کے سر پر رسید کر دی تھی۔
وہ لہراتے ہوئے زمین بوس ہو گیاتھا۔
اسی وقت دو افراد دندناتے اندر آئے۔جانے کیسے انھیں خطرے کا احساس ہوا تھا کہ دونوں نے ہتھیار فائرنگ حالت میں پکڑے تھے۔
”خبردار ہاتھ اوپر۔“ایک درشت لہجے میں چلایا۔اس کا فقرہ بہ مشکل پورا ہوا تھا کہ میں نے گھٹنا نیچے ٹیک کر دو مرتبہ لبلبی دبا تھی۔
اتنی تیزی سے چلائی ہوئی گولیاں رائفلوں پر لگی تھیں ،ان کے ہاتھوں سے ہتھیار گرگئے تھے۔ ایک کے بازو پر ہتھیار سے اچٹ کر گولی گہری خراش ڈال گئی تھی۔
میں دھاڑا۔”ہاتھ اٹھا کر جان بچا سکتے ہو۔“انھوں نے گھبرا کر ہاتھ اوپر کر لیے تھے۔
گولی چلنے پر اندرونی عمارت سے شور و غل کی آواز بلند ہوئی تھی۔نہ جانے وہاں کتنے افراد موجود تھے۔اگر سب اکٹھے ہوجاتے تو ہمارا بچ نکلنا ناممکن ہو جاتا۔میں لمحے کے بیسویں حصے میں فیصلہ کیااور کاربائن کی نال پوری قوت سے اپنے قیدی کے سر پر رسید کردی۔وہ تیز کراہ کے ساتھ نیچے گرگیاتھا۔
اس دوران لورا گن تانے دونوں محافظوں کے قریب پہنچ گئی تھی۔
”گنیں قبضے میں لو۔“کاربائن سیدھی کرتے ہوئے میں لورا کو مخاطب ہوا۔
میرے چوکس ہونے کا یقین کرتے ہی لورا نے دونوں ہتھیار قبضے میں لے لیے۔ان کے پاس کلاشن کوفیں تھیں ۔
”’گھوم جاﺅ....“قریب ہوتے ہی میں دھاڑا۔ہمیں طیش بھری نظروں سے گھورتے ہوئے انھوں نے رخ تبدیل کیا۔لورا اور میری کاربائن ایک ساتھ حرکت میں آئی تھیں ۔ان کے سر کی سختی کا اندازہ کاربائن کی فولادی نال سے کر کے ہم نے عارضی طور پر چھٹکارا پایا۔لورا نے ایک کلاشن کوف میری جانب بڑھا دی تھی کہ کارکردگی کے لحاظ سے کلاشن کوف کاربائن سے بہتر ہے۔دونوں کلاشن کوفوں کے ساتھ دہری میگزینیں لگی تھیں ۔ (دو میگزینوں کوایک دوسرے کے مخالف رکھ کر درمیان سے شکنجے میں کس دیتے ہیں ۔ اور پھر ایک میگزین کے خالی ہونے پر دوسری میگزین لگالی جاتی ہے)
حفاظتی لیور کو اکیلی گولی (سنگل فائر) پرلگا کرمیں نے کاک کیا۔ گن پہلے سے کاک ہو سکتی تھی اور ایسا ہونے کی صورت چیمبر میں پڑی گولی باہر نکل جاتی۔لیکن ہتھیار کے کاک ہونے کی تصدیق کرنا ہر تربیت یافتہ کا پہلا اصول ہے۔کاکنگ ہینڈل چھوڑتے ہی چیمبر سے گولی باہر نہیں نکلی تھی۔جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ ان سورماﺅں نے اب تک کلاشن کوفوں کو کاک نہیں کیا تھا۔
یہی حرکت لورا بھی دہرا چکی تھی۔گنیں کاک کرتے ہوئے ہمارے قدم بہ ہر حال رکے نہیں تھے۔ہال سے نکلتے ہی ہم طویل برآمدے میں پہنچے۔لورا نے لکڑی کا دروازہ بھیڑ ااورکنڈوں میں ون اے ون کاربائن کی میگزین پھنساکر عارضی رکاوٹ کھڑی کر دی۔میں داخلی دروازے پر کھڑے چوکیدار کی طرف متوجہ تھا،جس نے ہمیں دیکھتے ہی کلاش کوف سیدھی کر لی تھی۔
”نیچے....“زور سے چیختے ہوئے میں نے لورا پر چھلانگ لگائی اور اسے ساتھ لیے ڈھیر ہو گیا۔
”تڑ....تڑ....تڑ....“کی بھیانک آواز سے گولیاں لکڑی کے دروازے سے ٹکرائی تھیں ۔ مجھے ایک لمحے کی دیر ہو جاتی تو لورا چھلنی ہو گئی ہوتی۔کلاشن کوف میرے ہاتھ سے نیچے گر گئی تھی۔پختہ زمین سے اتصال ہوتے ہی میرے منہ سے زور دار کراہ خارج ہوئی تھی۔
”ریجا....“لورا متوحش ہو کر چلائی۔وہ میرے بازوﺅں میں تھی۔اسے لگا مجھے گولی لگی ہے۔
” ٹھیک ہوں ۔“اسے گرفت سے آزادکرتے ہوئے میں لڑھک کر اپنی کلاشن کوف کے نزدیک ہوا۔ اس دوران لورا دو مرتبہ لبلبی دبا چکی تھی۔دونوں گولیاں چوکیدار کی ٹانگوں میں لگی تھیں ۔
وہ چیختا ہوا نیچے گرا۔لیکن اس نے کلاشن کوف کو نہیں چھوڑا تھا۔کہنی کے بل لیٹتے ہوئے اس نے کلاشن کوف کو سیدھا کرنے کی کوشش کی،مگر اس سے پہلے میری گن گولی اگل چکی تھی۔گولی لکڑی کے فرنٹ ہینڈ گارڈسے ٹکرائی اور گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی۔
لورا کے منہ سے بے ساختہ تحسین آمیز انداز میں برآمد ہوا۔”تم واقعی شارپ شوٹر ہو۔“میرے نام ایس ایس کو اس نے خود ساختہ معنی پہنائے۔
”گاڑی لاﺅ،،میں دروازہ کھولتا ہوں ۔“اسے ہدایت دیتا ہوا میں بھاگ پڑا۔چوکیدار زخموں کی پروا کیے بغیر گن کی طرف رینگ رہا تھا۔ڈرائینگ روم کے دروازے پر بھی کھٹ پٹ شروع ہو گئی تھی۔یقینا لورا کا کنڈوں میں میگزین پھنسانا مفید رہا تھا۔
چوکیدار کے کلاشن کوف تک پہنچنے سے پہلے میں اس تک پہنچ گیا تھا۔میرے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر اس کے سر میں لگی،ماتھاپختہ فرش سے ٹکرایا اوراسے عارضی طور پر ساری تکالیف سے چھٹکارا مل گیا۔اسے پاﺅں سے گھسیٹ کر میں نے دروازے کے سامنے سے ہٹایااورکنڈا کھول کر دروازے کے پٹ کھول دیئے۔
اندرونی عمارت کا دروازہ زور زور سے دھڑ دھڑایا جا رہا تھا۔ وہ دروازہ کھولنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ایسا ہونے پر ہماری مشکلات میں اضافہ ہو جاناتھا۔انھیں دروازے سے دور رکھنا نہایت ضروری تھا۔کلاشن کوف سیدھی کر کے میں نے دروازے کے نچلے حصے پرشست سادھی،تاکہ گولی کسی کی موت کا سبب نہ بنے۔ لکڑی کا انچ دو انچ موٹادروازہ گولی کو نہیں روک سکتا تھا۔اس متعلق میں پہلے بھی وضاحت کر چکا ہوں کہ دو تین انچ موٹی لکڑی کلاشن کوف وغیرہ کی گولی کو نہیں روک سکتی۔
تین چار گولیاں ضائع ہوتے ہی دروازے کا دھڑ دھڑانا رک گیاتھا۔
اسی وقت نئے ماڈل کی ڈبل کیبن دروازے کی طرف بڑھتی دکھائی دی۔ڈرائیونگ سیٹ پر لورا بیٹھی تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا لورا صحن میں گاڑی روکے اس لیے فوراََ گلی میں نکل گیا۔کسی بھی جانب سے گولی چل کر ہمیں نقصان پہنچا سکتی تھی۔ہم نہ صرف عمارت کے حدود اربعہ سے انجان تھے،بلکہ وہاں موجود آدمیوں کی تعداد سے بھی ناواقف تھے۔وہ پوش علاقہ تھاگلی کافی کشادہ اور صاف ستھری تھی۔
باہر آتے ہی اس نے ایک لمحے کو بریک دبائی اور میں سرعت سے اگلی نشست پر منتقل ہو گیا۔
لورا نے اگنیشن کی تاریں توڑ کر گاڑی کو سٹارٹ کیا تھا۔
”یہ سمت ٹھیک ہے۔“گاڑی آگے بڑھاتے ہی اس نے تصدیق چاہی۔
”ممبئی میرے لیے بھی اتنا ہی انجان ہے جتنا تمھارے لیے۔“میں نے کھڑی کا شیشہ نیچے کر کے پیچھے جھانکتے ہوئے پوچھا۔”وہاں اور گاڑیاں نہیں تھیں ؟“
”کھڑی تھیں ۔“گلی کا موڑ تیزی سے کاٹ کر اس نے نسبتاََ کھلی گلی میں رفتار بڑھا دی تھی۔
میں برہم ہوا۔”ان کے ٹائروں کو پنکچر نہ کرنے کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔“
وہ نادم ہوئی۔”معذرت ،خیال نہیں رہا۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”بے خیالیاں زیادہ عرصہ راس نہیں آیا کرتیں ۔“
”معذرت کر تو دی ہے۔“میرا طنز کرنا اسے برا لگا تھا۔
”معذرت کرنا،خطا کا اعتراف ہے۔اور ضروری نہیں کہ غلطی کے اقرارپر معافی مل جایا کرے۔“
وہ برہم ہوئی۔”تمھارے زیر کمان(انڈر کمانڈ) نہیں ہوں ۔“
”تمھاری غلطی سے وہ ہمارا تعاقب بھی کر سکتے تھے۔“
وہ عقبی شیشے (بیک مرمر)پر نگاہ دوڑاتے ہوئے پھیکی مسکراہٹ سے بولی۔”کر رہے ہیں ۔“
میں نے فوراََ مڑ کر دیکھا۔دو سفید کاریں نظر آئی رہی تھیں ۔دونوں کشادہ گلی میں مڑ چکی تھیں ۔ڈبل کیبن اور کاروں کے بیچ دو تین کاریں اور چند رکشے بھی تھے۔
میں نے تشویش ظاہر کی۔”ان کی رفتار ہم سے تیز ہے۔“
”دیکھتے جاﺅ۔“ہونٹ بھینچتے ہوئے اس نے ”ایکسی لیٹر“ پر دباﺅ بڑھا دیا،ڈبل کیبن جھٹکا کھاکر تیز ہوئی۔اس کے اسٹیرنگ ویل پر رکھے ہاتھ مسلسل سے گھوم رہے تھے۔دو رکشوں کو مہارت سے” اوور ٹیک“کر کے تیسرے کے عقبی حصے سے کار کا بمپر ٹکرایا،رکشاڈگمگاتے ہوئے ریڑھی میں جا لگا تھا۔نہ جانے کتنی چیخیں ، مغلظات اور درشتی بھری آوازیں ابھری تھیں ۔گلی کے اختتام پر بڑی سڑک تھی۔لورا دائیں مڑی کہ ٹریفک کا بہاﺅ اسی جانب تھا۔وہ مہارت سے گاڑیوں کے درمیانی خلا سے گاڑی آگے بڑھائے گئی۔یقینا اس مہارت سے میں گاڑی نہ چلا سکتا۔
میں لیور سے سیٹ پیچھے جھکا کرعقبی نشست پر منتقل ہو گیا۔عقبی شیشے میں ایک مربع فٹ کی کھڑکی بنی تھی۔ عموماََ ڈبل کیبن گاڑیوں میں ایسی کھڑکی ٹیل بورڈ میں بیٹھے افراد سے رابطے کا کام دیتی ہے۔مگر اس وقت مجھے کلاشن کوف کی نال باہر نکالنے کارستہ مل گیا تھا۔بہ صورت دیگر فائر کرنے کو مجھے عقبی شیشہ توڑنا پڑتا۔ البتہ چلتی گاڑی سے متحرک ہدف کو نشانہ بناناناممکن نہیں تو دشورا ترین ضرور ہے۔گولی اتفاق سے تو ہدف کو ٹکرا سکتی ہے۔ یقینی طور پر ہدف نشانہ نہیں بن سکتا۔جن لوگوں نے کبھی فائر نہ کیاہو اور ہتھیاروں کے بارے زیادہ معلومات نہ رکھتے ہوں ،شاید انھیں سمجھ نہ آئے،ورنہ فوجی حضرات کی سمجھ میں میری بات آگئی ہو گی۔
وجہ یہ ہوتی ہے کہ گاڑی کی حرکت کی وجہ سے ہتھیار کوہدف پر مرکوز نہیں کیا جا سکتا۔اور جب ہدف اور فائرر دونوں متحرک ہوں تو یہ مشکل اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔تعاقب کرنے والی کاریں فاصلہ سمیٹنے کی تگ و دو میں تھیں ،کیوں کہ فاصلہ بڑھنے کی صورت ہم ان کی نظر سے اوجھل ہو سکتے تھے۔ڈبل کیبن دور ہی سے پہچانی جاسکتی ہے۔ گاڑی کا ماڈل بھی ان کے لیے آسانی پیدا کر رہاتھا۔
چند کاروں کو مہارت سے اوور ٹیک کرتے ہوئے لورا نے فاصلہ بڑھایا۔مجھے لگا ہم انھیں جل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اسی وقت لورا کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔”مارے گئے۔“
میں سامنے متوجہ ہوا۔پولیس ناکا لگا تھا۔میں پولیس کی چابک دستی اور تیزی پر حیران رہ گیا تھا۔ اتنی جلدی تو فلموں میں مجرموں کو نہیں گھیرا جاتا جتنی جلدی انھوں نے ہمیں پکڑا تھا۔
رش نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی قطار نہیں بنی تھی۔ ”کیا کریں ؟“لورا مستفسر ہوئی۔
میں نے بہ غور پولیس سپاہیوں کا جائزہ لیا۔ان کا لابالی انداز اور بے پروائی سے گاڑیوں کی تلاشی لینا ظاہر کر رہا تھا کہ میرا اندیشہ و گمان غلط تھا۔ وہ معمول کا، ناکا تھا۔بلا شبہ انڈین پولیس اتنی تیز نہیں تھی کہ اس سرعت سے ہمیں گھیر سکتی۔
”چلتی رہو۔“اسے ہدایت دے کر میں نے مڑ کر دیکھا۔ہمارے پیچھے تین چار گاڑیاں اس کے بعد دشمن تھے۔
لورا نے کار روکی۔آگے والی کار کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کر کے سپاہی نے لورا کو نظر بھر کر دیکھا۔میں نے دونوں کلاشن کوفیں پاﺅں میں لٹا دی تھیں ۔
لورا بے چینی ظاہر کرتے ہوئے انگریزی میں بڑبڑائی۔سپاہی جو دلچسپی سے اس کے چہرے کو گھور رہا تھاگڑبڑا گیا ،فوراََ پیچھے ہوکر بولا۔
”جائیے مادام۔“
لورا نے کار آگے بڑھائی، بیرئر ہٹ چکا تھا۔میری سماعتوں میں کسی کے چیخنے کی آواز پڑی۔مڑ کر دیکھا تو ساتھی پہنچ گئے تھے۔اور کار وں کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے باہر نکل کر دوڑتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ساتھ ہی وہ پولیس والوں کو ہمیں روکنے کی ہدایت کر رہے تھے۔
میں چیخا۔”تیز چلو۔“ لورامیری ہدایت سے پہلے ہی ایکسی لیٹر دبا چکی تھی۔اسی وقت بیرئر نیچے کو جھکا مگر آخری لمحات میں وہ آگے بڑھ گئی تھی۔
میں عقبی جانب متوجہ ہوا۔بیرئر نیچے ہو گیا تھا۔غالباََ وہ پولیس والوں کو اپنی پہچان کرا رہے تھے۔
اس دوران ہم فرلانگ بھر آگے آگئے تھے۔تبھی ناکے سے تین گاڑیاں آتی دکھائی دیں ۔ان میں دو گاڑیاں تو ہمارے دشمنوں کی تھیں اور تیسری پولیس کی جیپ تھی۔
”بغلی سڑک(لنک روڈ) کو نظر میں رکھنا۔“میری ہدایت پر اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا۔
کلومیٹر بھر آتے ہی چوک آیا۔لورا دائیں مڑ گئی۔وہ سڑک مضافات کو جارہی تھی۔تبھی رش نسبتاََ کم تھا۔لورا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے رفتار بڑھا دی تھی۔مگر دشمن بھی تیز رفتاری سے تعاقب کر رہے تھے۔
میں نے عقبی شیشہ کھول کر کلاشن کوف کی نال کھڑکی پر ٹکا دی، لیکن مجھے گولی ضائع کرنے کا شوق نہیں تھا۔اور یہ بھی خطرہ تھا کہ گولی غلطی سے کسی بے گناہ کو بھی لگ سکتی تھی۔
لورا نے مشورہ دیا۔”بے شک نہ لگے مگر گولی چلانا مفید رہے گا۔“ اسے عقبی شیشے (بیک مرمر)میں میری کارروائی نظر آگئی تھی۔
دشمن نے شاید اس کے الفاظ سن لیے تھے تبھی تڑتڑاہٹ کی آواز سے فضا گونج اٹھی تھی۔انھوں نے دو تین لمبے چھٹے فائر کیے مگر ہم محفوظ رہے تھے۔
لوراکا جھلایا ہوا استفسار گونجا۔ ”ریجا! فائر کیوں نہیں کر رہے ؟“
میں اطمینان سے بولا۔”گولی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔“
وہ بیزاری سے بولی۔”گولیوں کے بہ جائے جان بچاﺅ۔“
”گولی چلانے سے جان نہیں بچا کرتی مادام!گولی ہدف پر مارنے سے جان چھوٹتی ہے۔اور ایسی حالت میں ATGM(اینٹی ٹینک گائیڈنگ میزائل)ہی سے کارآمد فائر کیا جا سکتا ہے۔“(یہ بکتر شکن میزائل ہوتا ہے جو فائر ہونے کے بعد بھی فائرر کے قابومیں ہوتا ہے۔اور وہ جدھر چاہے میزائل کو موڑ سکتا ہے)
”نک ،ایسے ہی فائر کیاکرتا تھا کہ لگتاگولی فائر ہونے کے بعد بھی اس کے قابو میں ہے۔“
”تو میں نے کب نک سے اچھا ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔“مجھے مرے ہوئے دشمن کے خلاف بولنا بہتر نہیں لگا تھا۔اور یہ توتعریف کرنے والی بھی جانتی تھی کہ اس کی بات میں کہاں تک سچائی تھی۔
دشمنوں کی جانب سے تسلسل سے فائر کیا جا رہا تھا۔مگردرمیانی فاصلہ ،متحرک ہدف اور چلتی گاڑی سے ہمیں نشانہ بنانا ممکن نہیں تھا۔البتہ کسی بھولی بسری گولی کاہدف تک پہنچ جانا اچنبھے کا باعث نہیں تھا۔
ایک لمبا چھٹا فائر ہوا۔کم بخت نے پوری میگزین ہی فائر کر دی تھی۔دو تین گولیوں نے ڈبل کیبن کی چھت بجائی۔لورا نے رفتار بڑھا دی تھی۔کشادہ سڑک پر گاڑی یوں فراٹے بھری رہی تھی جیسے رن وے پر جہاز دوڑتا ہے۔وہ گاڑیوں کے درمیانی خلا سے مہارت سے ڈبل کیبن آگے نکالے جا رہی تھی۔ہاتھ اسٹیرنگ کی چرخی کودودھ بلونے والی مدھانی کی طرح گھما رہے تھے۔تین چار اشارے اس نے بلا جھجک توڑے تھے۔اگر شہر کی اندرونی سڑک ہوتی تو یقینا اشارہ توڑنا بھی ممکن نہ رہتا،مگر یہ کشادہ سڑک شہرسے باہر جا رہی تھی تبھی سرخ اشارے پر گاڑیوں کا اتنااکٹھ نہیں ہوتا تھا کہ گاڑی آگے نہ نکالی جا سکتی۔البتہ یہ لاقانونیت چند پولیس والوں کو متوجہ کرنے کا باعث بنی تھی۔تبھی دو موٹر سائیکل سوار تیزی سے ہمارے قریب پہنچ رہے تھے۔
ایک موٹر سائیکل سوار نے دائیں طرف سے ہو کر آگے گزرنا چاہا،لورا کی نظر بیک وقت عقبی شیشے اور سامنے تھی۔جونھی موٹرسائیکل کا اگلا پہیہ ڈبل کیبن کے عقبی حصے کے قریب پہنچا،اچانک ہی لورا نے اسٹیرنگ کو مہارت سے موڑتے ہوئے ایک دم بریک کھینچی۔پہیوں کی چرچراہٹ ابھری،موٹرسائیکل کا اگلا پہیہ گاڑی سے ٹکرایا،موٹر سائیکل پھسلی اور سوار سڑک پر جا گرا تھا۔لورا نے فوراََ ہی بریک سے پاﺅں ہٹا کر گاڑی آگے بڑھا دی۔ دوسرا سوار باہنی جانب سے آگے نکلنے کی تگ و دو میں تھا۔میں نے کھڑکی کاشیشہ نیچے کر کے کلاشن کوف کی نال باہر نکالی۔ایک دم موٹر سائیکل سوار نے رفتار کم کرکے جان بچانے کا سوچا تھا۔
اب دشمنوں اور ہمارے بیچ درجن بھر کاریں موجود تھیں تبھی وہ فائر نہیں کر پا رہے تھے۔
مسلسل ادھ پون گھنٹے ہم آگے پیچھے حرکت میں رہے۔مجھے نہیں لگتا تھا کہ وہ پیچھا چھوڑنے پر آمادہ ہوں گے۔سڑک شہر سے باہر جا رہی تھی اور مجھے خطرہ تھا کسی بھی لمحے ہمارا واسطہ پولیس ناکے یا چیک پوسٹ وغیرہ سے پڑ سکتا تھا۔یوں مسلسل ایک سڑک پر سفر کرنا مناسب نہیں تھا۔ان کے پاس ملاپ کے ذرائع موجود تھے۔ اور اگلی چوکیوں کو با خبرنہ کرنا حماقت و بے وقوفی ہوتی۔یقینا دشمن ایسی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔
شاید لورا نے میری سوچ پڑھ لی تھی کہ اچانک رفتار میں کمی ہوئی،میں نے سامنے دیکھا۔ایک بغلی سڑک دائیں جانب نکل رہی تھی۔ایکسی لیٹر پر دباﺅ ہلکا کرتے ہوئے لورا نے ایک دم موڑ کاٹا۔ایک لمحے کو مجھے لگا گاڑی الٹ جائے گی،مگر لورا نے مہارت سے موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی کو سنبھال لیا تھا۔سیدھا ہوتے ہی لورا نے رفتار دوبارہ بڑھا دی۔بغلی سڑک کمان کی طرح خم دار تھی۔اور تسلسل سے دائیں اور ہلکا سا پیچھے گھوم رہی تھی۔موڑ سے دو تین سو قدم دور آتے ہی میں چلایا۔
”بریک لگاﺅ۔“
”کیا ہوا؟“لورا نے گھبراتے ہوئے ایکسی لیٹر سے پاﺅں ہٹا کر بریک دبا دی تھی۔ٹائر زوردار آواز میں چیخے،میں جھٹکے سے اگلی نشست سے ٹکرایا اور پھر سنبھل کرسرعت سے باہر نکل گیا۔
تعاقب کرنے والے موڑ کاٹ چکے تھے اور تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے۔گھٹنا زمین پر ٹیک کر میں نے شست لی۔
متحرک ہدف کو نشانہ بنانے کو ہمیشہ لیڈ لی جاتی ہے۔جو ہدف کی رفتار کو مدنظر رکھ کرلی جاتی ہے۔ کیوں کہ براہ راست ہدف پر شست لی جائے تو جب تک گولی ہدف تک پہنچتی ہے،متحرک ہدف آگے نکل چکا ہوتا ہے۔لیکن کاروں کا رخ ہماری ہی جانب تھا،اس لیے مجھے لیڈ لینے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔شست سادھنے میں مجھے ایک دو سیکنڈ سے زیادہ وقت نہیں لگاتھا۔لبلبی دباتے ہی گولی کی آوازکے بعد ٹائر پھٹنے کا زوردار دھماکا ہوا۔تیز رفتار کار ڈرائیور سے نہیں سنبھلی تھی۔البتہ اس نے کار کو الٹنے سے بچا لیا تھا۔کار سڑک سے اتر کر ایک درخت سے جا ٹکرائی۔
اس دوران میں عقبی کار پر شست سادھ چکا تھا۔جو کافی قریب آچکی تھی۔اگلی گولی نے اس کا ٹائر پھاڑا۔ یہ ڈرائیور زیادہ ماہر نہیں تھا،تبھی کار لڑھکتے ہوئے سڑک سے دور جا گری تھی۔سب سے آخر میں پولیس کی جیپ تھی۔انھوں نے شاید خطرہ بھانپ لیا تھا۔تبھی دور ہی رک گئے تھے۔
میرے پاس آنکھ مچولی کھیلنے کا وقت نہیں تھا۔ان کے رکنے کے باوجود میں نے جیپ کے اگلے دونوں ٹائروں پر ایک ایک گولی جھونک دی تھی۔کان پھاڑ دینے والے دھماکے ہوئے۔میں مڑ کر دوڑ پڑا۔دشمن کی جانب سے ایک چھٹا فائر ہوا۔گولیاں ”شاں ....شاں ۔“کی آواز سے میرے سر کے اوپر سے گزری تھیں ۔دو تین گولیاں ،ڈبل کیبن کی باڈی میں پیوست ہو گئی تھیں ۔
میں نے اگلی سیٹ پر نشست سنبھالی،لورا تیار بیٹھی تھی۔بریک سے پاﺅں ہٹاتے ہوئے اس نے ایکسی لیٹر دبا دیا۔گاڑی تیز جھٹکا کھا کر آگے بڑھی،میں بہ مشکل سر ڈیش بوررڈ سے ٹکرانے سے بچا سکاتھا۔ ڈبل کیبن، کمان سے چھوٹے تیر کی طرح اڑنے لگی۔
مجھے لگا ہم خطرے کی حدود سے نکل آئے ہیں ۔مگر اسی وقت موڑ کی جانب سے پولیس گاڑیوں کے مخصوص ،بلکہ منحوس سائرن کی آواز گونجنے لگی۔
میں نے اندیشہ ظاہر کیا۔”یہ کاریں عام گاڑیوں سے تیز رفتار ہوتی ہیں ۔زیادہ دور نہیں جا سکیں گے۔“
وہ مستفسر ہوئی۔”بھاگنے کے بارے کیا خیال ہے،تکلیف برداشت کر لو گے؟“
میں نے سنجیدہ لہجے میں شرارت اگلی۔”تکلیف کیا چیز ہے،لوگ جان بچانے کو دشمن کا ساتھ برداشت کر لیتے ہیں ۔“
”طنز کر رہے ہو؟“وہ سچ میں سنجیدہ ہو گئی تھی۔
میں اطمینان سے بولا۔”ہاں ۔“
وہ کھل کھلائی۔”ریجا!تمھیں اس حالت میں بھی مذاق سوجھ رہا ہے۔“
”ڈر انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔نہ تو مناسب سوچنے کا چھوڑتا ہے اور نہ کچھ کرنے کی ہمت دیتا ہے۔سیانے کہتے ہیں ”جو ڈر گیا وہ مرگیا۔“موت کا فیصلہ تو کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ڈرنے سے تو بچا جا سکتا ہے۔“
وہ مسکرائی۔”مرنے سے بچنے کی بھی کوشش کی جاسکتی ہے۔“اورایک دم کار کچے میں اتاردی۔کار ہچکولے کھاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی۔چھوٹے سے میدان کے بعد تعمیراتی علاقہ تھا۔لورا نے گاڑی ایک عمارت کے بغل میں موڑ کر روکی،یوں کہ اب سڑک سے گزرنے والے ہمیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔
چند لمحوں بعد ہی پولیس کی گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے آگے گزر گئی تھیں ۔میں نیچے اتر کر موڑ کے پاس پہنچا اور محتاط انداز میں جائزہ لینے لگا۔تین گاڑیاں تیز رفتاری سے آگے گزر گئی تھیں ۔میں واپس گاڑی میں لوٹا۔لورا نے اسٹیرنگ ویل نہیں چھوڑاتھا۔مجھے گھورتے ہوئے اس نے سوالیہ انداز میں سرہلایا۔
تین گاڑیاں تھیں ،شاید پیچھے مزید گاڑیاں بھی پہنچ جائیں ۔یہاں چھپنا مناسب نہ ہوگا۔کیوں کہ سیدھی سڑک پر ہمیں نہ پا کر اس جگہ پر شک کیا جا سکتا ہے۔“
اس نے ہینڈ بریک ہٹا کر گاڑی ریورس کی،کیوں وہاں سے آگے نہیں بڑھا جاسکتا تھا۔گاڑی جونھی مکان کی آڑ سے نکل کر چھوٹے میدان ہوئی ،سڑک پر پولیس کی دو جیپیں نمودار ہوئیں ۔یہ صورت حال امکان سے بعید تو نہ تھی،کہ ہمیں اچنبھا ہوتا۔لورانے دائیں موڑ کاٹتے ہوئے کار آگے بڑھا دی۔پولیس کی جیپیں آگے نکل گئی تھیں ،مگر ہم دیکھ لیے گئے تھے۔لورا نے گاڑی گلی میں دوڑا دی۔گلی چونکہ فرلانگ بھر لمبی تھی،تبھی پہلے یہاں نہیں گھسے تھے،ورنہ پولس کی کاروں کو جل دینے میں کامیاب نہ ہو پاتے۔
میں نے پیچھے دیکھا،جیپیں سڑک سے میدان کی طرف مڑ گئی تھیں ۔
لورا نے گلی میں گاڑی بھگا دی تھی۔جب تک دشمن میدان سے گلی میں داخل ہوتے ہم گلی عبور کر چکے تھے۔گلی کے اختتام پر نالا تھا جس پر پل موجود نہیں تھا،لورا نے دائیں جانب اسٹیئرنگ کاٹا،رستہ زیادہ کشادہ نہیں تھا مگر ڈبل کیبن آسانی سے آگے بڑھ سکتی تھی۔عقب سے فائرنگ کا درمیانی برسٹ ابھرامگر ہم مڑ چکے تھے۔البتہ اس فائرنگ نے مکینوں کو ضرور ہڑبڑا دیا تھا۔گرمیو ں کے موسم میں عموماََدوپہر ڈھلے تک آرام کیا جاتا ہے۔سورج اب نیچے جھک رہا تھا۔لورا نے تھوڑا آگے جاتے ہی دوبارہ دائیں جانب اسٹیئرنگ کاٹا اور گلی میں گھس گئی،کیوں کہ راستہ پختہ نہیں تھا۔اور ناہموار راستے پر تیزی سے گاڑی نہیں بھگائی جا سکتی تھی۔
میں عقبی نشست پر منتقل ہو گیا تھا۔دشمنوں کی کاریں گلی میں موڑ کاٹتی نظر آئیں ۔اکادکا گھروں کی بالائی منزل سے متوحش سر گلی میں جھانکتے نظر آئے،مگر کسی نے داخلی دروازہ کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”تڑ....تڑ....تڑ....“کی بھیانک آواز ابھری،ایک دو گولیاں گاڑی کی باڈی میں گھسی تھیں ۔تبھی لورانے ایک دم بائیں موڑکاٹا۔میں چیخا....”بریک لگاﺅ۔“
میرا سابقہ اقدام اسے یاد تھا،بغیر سوال کے اس نے بریک دبا دی تھی۔نیچے اترتے ہی میں بھاگ کر موڑ کے قریب پہنچا۔وہ پچاس ساٹھ گز دور تھے اورآندھی و طوفان کی طرح بڑھتے آرہے تھے۔
سیفٹی لیور کو سنگل راﺅنڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے گھٹنا نیچے ٹیکامسلسل دو مرتبہ لبلبی دبا کر میں نے اگلی کار کے سامنے والے ٹائر ناکارہ کر دیئے تھے۔کار بری طرح لہرائی اور ایک گھر کے دروازے سے ٹکرا کرایک جانب آدھی الٹی ہو گئی تھی۔دوسری کار اس سے بیس پچیس گز پیچھے تھی۔اگلی کار کو اٹھائے بغیر اس کا وہاں سے گزرنا ممکن نہیں تھا۔میں بھی گولی چلانے کے بعد سیکنڈ بھر سے زیادہ نہیں رکا تھااور فوراََ بھاگ کر ڈبل کیبن میں بیٹھ گیا۔ لورا تیار تھی۔بریک سے پاﺅں ہٹا کر اس نے ایکسی لیٹر دبادیا۔ پندر بیس آگے دائیں جانب ایک اور گلی نکل رہی تھی۔
”دائیں موڑو۔“گلی نظر آتے ہی میں چیخا۔کیوں کہ مجھے اندیشہ تھا کہ وہ ہمیں عقب سے نشانہ بنا سکتے تھے۔
گلیاں اتنی کشادہ نہیں تھیں کہ زیادہ تیزرفتاری سے موڑ کاٹا جا سکتا،اس کے باوجودلورا کافی مہارت اور تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کے موڑ کاٹنے تک عقب سے تڑتڑاہٹ کی آواز ابھر چکی تھی۔
لورا نے ہونٹ بھینچتے ہوئے ایکسی لیٹر دبایا،ڈبل کیبن غرا کربھاگنے لگی۔ذرا سی بے احتیاطی سے گاڑی کا پہیہ نالی وغیرہ میں پھنس سکتا تھا۔گلی کی چوڑائی اتنی زیادہ نہیں تھی،مگر مصیبت یہ تھی کہ احتیاط برتنے میں بھی بچت نظر نہیں آرہی تھی۔ دشمن موت کے فرشتے کے روپ میں تعاقب میں تھے۔
اگلا موڑ ملنے تک دشمن گلی کے سرے پر نمودار ہوچکے تھے۔وہ تعداد میں تین تھے۔ اور فاصلہ اتنا زیادہ نہیں تھا کہ ہمیں نشانہ نہ بنا پاتے۔میں تیار بیٹھا تھا، جونھی انھوں نے ساکن ہو کر کلاشن کوفیں سیدھی کیں ، ان سے پہلے میں نے مسلسل تین چار بار لبلبی دبا کر انھیں حواس باختہ کر دیا تھا۔میں نے ان کی ٹانگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔اور صرف ایک ہی گولی نشانے کو چھو پائی تھی کہ متحرک گاڑی میں نشانہ سادھنا دشوار ترین ہے۔
ایک کے گرتے ہی باقی دو بوکھلاتے ہوئے آڑ میں ہو گئے تھے۔اس اثناءمیں لورا کو موڑ مل گیا تھا۔ رفتار ہلکی سی کم کر کے اس نے دائیں جانب گاڑی موڑی اور دوبارہ رفتار بڑھا دی۔دشمنوں کی طرف سے ایک دو چھٹے فائر ہوئے،مگر وہ فقط اضطراری فائر تھا۔
گلی کشادہ تھی۔لورا گاڑی کو سیدھا بھگائے گئی۔میں عقب کی طرف متوجہ تھا۔دشمن کسی بھی وقت نمودار ہو سکتے تھے۔اچانک لورا کی متفکر آواز ابھری۔
”ریجا بری خبر ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”بری خبر براہ راست سنایا کرو،اطلاع دے کر دہری اذیت نہ دیا کرو۔“
وہ جھٹ سے بولی۔”فیول گیج کی سوئی منہ چڑھا رہی ہے۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”ایسے منہ کو چڑھانے کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔“
مجھے کڑی نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے دانت پیسے۔”شاید تمھیں انڈین ایجنسیوں کے بجائے میرے ہاتھ سے مرنے کا شوق ہے۔“
میں مسکرایا۔”سامنے دیکھو کہیں مروا نہ دینا۔اور مذاق برداشت کرنے کی عادت ڈالو۔“
اسی وقت ایک مکان سے کار برآمد ہوئی اور ہمارے سامنے چلنے لگی۔چوکیدار کے دروازہ بند کرنے سے پہلے ہم قریب پہنچ چکے تھے۔ایک دم لورا نے گاڑی مکان کے داخلی دروازے کی طرف موڑی ،چوکیدار ایک پٹ بند کر چکا تھا۔پٹ کو ٹکر مار کر ڈبل کیبن اندر گھس گئی۔لورا نے فوراََ بریک دبائی،چوکیدار ہکا بکا کھڑا تھا۔اس کے سنبھلنے سے پہلے میں نیچے چھلانگ لگا چکا تھا۔
”دروازہ بند کرو۔“میں نے کلاشن کوف اس کی جانب سیدھی کی۔اس کی رائفل دیوار کے ساتھ کھڑی تھی۔کن اکھیوں سے اپنی رائفل کو دیکھتے ہوئے اس نے تھوک نگلی۔شاید ہیرو بننے کے چکر میں تھا۔
میں نے اطمینان بھرے انداز میں مشورہ دیا۔”گولی سے زیادہ تیز رفتاری سے حرکت کر سکتے ہو تو رائفل تک پہنچنے کی کوشش کرنامفید ہو سکتا ہے۔“
”کک....کیا چاہتے ہو؟“وہ ہکلایا۔
”بتا تو دیا ہے کہ دروازہ بند کر دو۔“
اس نے مرے مرے انداز میں دروازہ بند کیا،اسی وقت اندرونی عمارت سے ایک جواں سال عورت برآمد ہوئی۔اس نے گود میں بچہ اٹھایا ہوا تھا۔لورا کلاشن کوف تانتے ہوئے بولی۔
”ہینڈز اپ۔“(ہاتھ اوپر)
میں نے چوکیدار کے قریب ہوتے ہوئے لورا کو جھڑکا۔”عقل کے ناخن لو،بے چاری کی گود میں بچہ نظر نہیں آرہا۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 29
ریاض عاقب کوہلر
لورا نے دھمکی تبدیل کی۔”غلط حرکت یا چلانے کی کوشش تمھیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔“
میں نے فوراََ اسے تسلی دی۔”محترمہ!تمھیں ہم سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا البتہ تمھاری آواز پر ہمارا تعاقب کرنے والے یہاں پہنچ گئے تو ان کی گولیوں سے بچنے کی ضمانت میں نہیں دے سکتا۔“
لورا کی سمجھ میں ہندی و اردو نہیں آتی تھی تبھی خاموش رہی۔میں نے چوکیدار کو کلاشن کوف سے ٹہوکا دیتے ہوئے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
عورت ہکلاتے ہوئے مجھے مخاطب ہوئی۔”گگ....گھر میں کچھ ایسا موجود نہیں جسے تم لوٹ سکو۔“
”بی بی! ہم تمھیں لوٹنے نہیں آئے،دشمنوں سے بچنے کو بھاگ رہے ہیں ۔اب بہتر ہو گا تم اندر گھس کر دروازہ کنڈی کر لو۔“
وہ گھبراتے ہوئے پوچھنے لگی۔”تت....تم شمبھو کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔“یقینا چوکیدار کا نام شمبھو تھا۔
”یہ بھی تمھارے ساتھ ہی ہوگا۔اور اب جلدی سے اندر گھسو۔“آخری الفاظ میں نے قدرے غصے سے بولے تھے۔وہ جلدی سے اندر گھس گئی۔چوکیدار کو بھی اس کے پیچھے دھکیل کر میں نے ڈرائینگ روم کا دروازہ باہر سے کنڈی کردیا۔چوکیدار کی رائفل دیوار کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔
”یہاں چھپ تو نہیں سکتے۔“میں نے لورا کا ارادہ جاننا چاہا۔
”عقبی دروازے سے نکلتے ہیں ۔“اس نے متفق ہونے میں دیر نہیں لگائی تھی۔یقینا اس کاوہاں گاڑی لانے کا مقصد چند لمحوں کی مہلت حاصل کرنا تھا۔کیوں کہ گلی میں گاڑی رکنے پر دشمن جلد ہمیں تاڑ سکتے تھے۔
”چلو۔“میں آگے بڑھ گیا۔عقبی دروازہ کھول کر ہم دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے باہر نکلے۔وہ تنگ سی گلی تھی جس میں موٹر سائیکل ،سائیکل کے علاوہ کسی سواری کا گزرنا دشوار تھا۔ گلی میں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ہم بائیں جانب روانہ ہو گئے۔
میں نے مشورہ چاہا۔”کلاشن کوفیں ہمیں مشکوک بنارہی ہیں ۔“
اس نے ارادہ ظاہر کیا۔”دشمن سے ٹاکرا ہو گیا تو پستولوں سے جوابی کارروائی نا ممکن ہوگی۔“
میں بیزاری سے بولا۔”ہم نے مقابلہ نہیں کرنا چھپنا ہے۔دشمن اتنی تعداد میں ہیں کہ مقابلہ کرنا خودکشی ہی ہوگی۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولی۔”کبھی کبھار مقابلہ مسلط کر دیا جاتا ہے دوست،بچنے کی کوشش بھی رایگاں جاتی ہے۔“
میں حتمی لہجے میں بولا۔”کلاشن کوف پھینک دو۔“ اپنی کلاشن کوف کی میگزین گندی نالی میں پھینکی اور گن کھول کر بلٹ ہیڈ نکال نکال کر وہ بھی گندی نالی میں پھینک دی تاکہ کلاشن کوف عارضی طور پر ناکارہ ہو جائے۔کلاشن کوف میں نے ایک گھر کے صحن میں اچھال دی تھی۔
وہ بھی تربیت یافتہ فوجی تھی اور جانتی تھی کہ اگر سپاہی کو اپنا ہتھیار بہ حالت مجبوری پھینکنا پڑے تو اسے ایسی حالت میں چھوڑنا چاہیے کہ دشمن فائدہ نہ اٹھا سکے۔اس ضمن میں ہمارے استاد صوبیدار صبر عباس اپنی یونٹ چھے ایف ایف رجمنٹ نشان حیدر کے ایک لانس نائیک،منشا کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ 1971ءکی جنگ میں دوران حملہ لانس نائیک منشا غلطی سے بارودی سرنگی قطعے(مائن فیلڈز) میں گھس گیا۔اور باردوی سرنگ پھٹنے پر زخمی ہو کر وہیں گر گیا۔اسے جلدی میں وہاں سے نکالنا ناممکن تھا ،کیو ں کہ ایک تو جب تک مائن ڈیٹکٹر اور مخصوص جوتے وغیرہ نہ ہوں باردوی سرنگی قطعے میں گھسنا ممکن نہیں ہوتا اور ایک کو بچانے میں دوسری جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اس لیے کوئی خطرہ مول نہیں لیتا۔دوسراحملے کے دوران زخمیو ں و لاشوں کو اسی جگہ پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور حملے کی کامیابی یا ناکامی کے بعد اتلافیوں کو سنبھالا جاتا ہے۔
خیر جنگ نے طول کھینچا،اسے بروقت نہ نکالا جا سکا۔اورلانس نائیک منشا وہیں شہید ہو گیا۔ ایک دو دن بعد جب انجینئرز کی ایک یونٹ نے اسے مائن فیلڈ سے نکالا تبھی اسے اٹھانے والے متجسس ہوئے کہ منشا کی لاش کے ساتھ ایک مٹی کی ڈھیری بنی ہوئی تھی۔جب ڈھیری کو بکھیرا تو اندر ایک ایل ایم جی دفن تھی۔مرنے سے پہلے پاک آرمی کے جوان نے اپنا ہتھیار دشمن کے قبضے میں جانے سے بچانے کو اسے دفن کر دیا تھا۔اسے کہتے ہیں تربیت اور اسے کہتے ہیں ملک سے وفاداری۔جو سپاہی مرتے وقت بھی ملک کے فائدے کا سوچ رہا تھا اس کی نیت پر شک کرنا ظلم و زیادتی نہیں تو کیاہے۔
لورا براﺅ ن نے بھی اپنی گن ناکارہ کر کے ایک مکان کی چھت پر پھینک دی۔اب ہمارے پاس فقط پستول تھے۔لورا نے قدموں کی رفتار بڑھائی۔مگر میں اس کا ساتھ نہیں دے پارہا تھا۔جسم میں پہلی سی چستی و جان نہیں رہی تھی۔مجھے آرام و علاج کی سخت ضرورت تھی۔ممتا دیدی نے جو درد کش گولیاں کھلائی تھیں ان کا اثر بھی ختم ہو چکا تھا۔میں نے جیب سے گولیوں کا پتا نکال کر دو گولیاں بغیر پانی کے نگل لیں ۔لیکن صرف ان گولیوں کے بل بوتے پر میری کھوئی ہوئی جسمانی طاقت و قوت اور قدرتی صلاحیتیں نہیں لوٹ سکتی تھیں ۔جلادوں نے میرے اِنجرپِنجر ڈھیلے کر دیے تھے۔مجھے سنبھلنے کو چند دن،اچھی خوراک اور دوا کی ضرورت تھی۔
وہ چند قدم آگے نکل گئی تھی۔میرا پیچھے رہنا محسوس کرتے ہی وہ قدموں میں سستی لاتے ہوئے بولی۔ ”تمھیں تکلیف کو پس پشت ڈالنا پڑے گا۔
میں تحمل سے بولا۔”تمھارا ساتھ دینے کی کوشش کر تو رہا ہوں ۔“
وہ مصر ہوئی۔”جلد ہی وہ علاقے کو گھیر لیں گے۔اور اس سے پہلے ہمیں زیادہ سے زیادہ دور جانا ہوگا۔“
میرا دماغ گھوم گیا تھا۔بہ مشکل غصے پر قابو پاتے ہوئے میں تجویز دی۔”ٹھیک ہے تم جاسکتی ہو۔ یقینا علیحدگی ہی میں ہماری بچت کے امکان بڑھیں گے۔“
ایک دم قریب ہوتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ تھاما۔”ریجا خفگی کے بہانے مت ڈھونڈو،تم نے وعدہ کیا تھا شکلا کو مارنے میں میری مدد کرو گے۔“
”تم میری جسمانی حالت سے واقف ہو پھر ایسی بکواس کا مقصد؟“
اس نے سرعت سے صفائی دی۔”جلد بازی میں دھیان نہ رکھ سکی۔“
میرے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا۔”اتنی بے دھیانیاں اچھی نہیں ہوتیں ۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”شروع ہو گئی ریجا کی بکواس۔یقین کرو افغانستان کے محاذ پر تم سے اتنا متاثر ہوئی تھی کہ تمھاری تلاش میں پاکستان جانے پر تل گئی تھی۔وہ تو شکر ہے میجر جینفر ہنڈسلے سے ملاقات ہوئی اور پتا چلا تم کتنے ٹھرکی ہو۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”وہاں کئی بار تم سے گفتگو ہوئی تھی۔اور ہر بار میں نے ڈیٹ کا وعدہ لیا تھا،تب اندازہ نہیں ہوا تھا۔“
اس نے منہ بسورا۔”میں نے سوچا مذاق کر رہے ہو۔“
”اور کب لگا کہ میں سنجیدہ ہوں ۔“میں اسے کریدنے پر تل گیا۔
اس نے صفائی سے موضوع تبدیل کیا۔”کیا یہ وقت ان باتوں کا ہے؟“ہم گلی کے سرے پر پہنچنے والے تھے۔وہ گلی ایک چوڑی گلی میں ضم ہو رہی تھی۔اور چوڑی گلی آگے جا کر اس گلی سے مل رہی تھی جہا ں سے ہم گھر میں گھسے تھے۔دو لڑکے سامنے سے نمودار ہوئے۔لورا کو اشتیاق بھری نظروں سے گھورتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئے تھے۔
لورا دو قدم آگے تھی۔جونھی اس نے چوڑی گلی میں قدم دھرے،فوراَالٹے قدموں پیچھے ہوئی۔میں ٹھٹک کر رک گیاتھا۔
وہ پریشانی سے بولی۔”دو مسلح پولیس والے اسی طرف آرہے ہیں ۔“
”تمھیں دیکھا؟“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”شاید نہیں ۔“
جتنی دیر گزرے گی ،ان گلیوں میں دشمنوں کی نفری میں اضافہ ہوتا جائے گا۔“
وہ متفکر ہوئی۔”کیا کریں ؟“
میں نے مشورہ دیا۔”قریبی مکان میں گھس کر تھوڑا انتظار کرتے ہیں ،ان کے گزرنے کے بعد آگے بڑھیں گے۔“مکان کا دروازہ بہ مشکل پانچ فٹ اونچا تھا،لورا بآسانی اندر گھس کر میرے لیے دروازہ کھول سکتی تھی۔
وہ متفق ہوتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔”جلدی کرنا پڑے گی۔“
مگر اس کی تیزی کام نہ آئی کہ ہم پہلے ہی دیر کر چکے تھے۔پولیس وردی کی جھلک نظر آئی۔وہ ہماری تلاش میں گھوم رہے تھے اور ناممکن تھا کہ ذیلی گلیوں میں نہ جھانکتے۔لورا کی شناخت نہایت آسان تھی اس میں چند قدموں کا فاصلہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتا تھا۔
انھیں دیکھتے ہی میرے نے ہاتھ بجلی کی سی سرعت سے پستول کے دستے پر قبضہ جمایا،انھوں نے بھی لورا کو پہچانتے ہی کلاشن کوفیں سیدھی کرنے کی کوشش کی،لیکن اس دوران میں ہیمر کو پیچھے کھینچ کر سیفٹی ہٹا چکا تھا۔پستول پہلے سے کاک تھا۔دو مرتبہ لگاتار لبلبی دبا کر میں نے دو راﺅنڈ فائر کیے،اتنی سرعت سے فائر ہوئی گولیاں کلاشن کوفوں کے فرنٹ ہینڈ گارڈ سے ٹکرائی تھیں ۔فائر کے جھٹکے سے ان کی کلاشن کوفیں نیچے گر گئی تھیں ۔ ایک گولی اچٹ کر ایک پولیس والے کے بازو سے ٹکرائی تھی۔مگر کلاشن کوف کے فرنٹ ہینڈ گارڈ سے ٹکرانے کی وجہ سے گولی کی طاقت تقریباََ ختم ہو چکی تھی۔وہ خراش ڈالنے سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی تھی۔
ہلکی سی چیخ کے ساتھ مضروب نے اپنا بازو تھام لیا تھا۔
میں دھاڑا۔”ہاتھ اوپر۔
زخمی تو اپنے بازو کو ہاتھ سے دبا کر ترحم آمیز نظروں سے مجھے دیکھنے لگا البتہ دوسرے کے ہاتھ بلند ہو گئے تھے۔
لورا زقند بھرتے ہوئے ان کے قریب پہنچی ،کلاشن کوفیں اٹھا کر اس نے ایک سلنگ اپ(کندھے سے لٹکانا)کی اور دوسری پولیس والوں پر تان لی۔
”چلو۔“اس نے بچ جانے والے کی پیٹھ میں نال چبھوئی۔
دونوں تنگ گلی میں آگئے تھے۔
”اڑا دوں ۔“لورا نے مشورہ چاہا۔پولیس والوں کو اس کے ہونٹوں پر پھیلاشرارتی تبسم نظر نہیں آرہا تھا۔اور اتنی انگریزی تو وہ بھی جانتے تھے کہ ا نھیں قتل ہونے کے مشورے ہو رہے تھے۔
زخمی گڑگڑایا۔”بھگوان کے لیے مت مارو،ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔“
میں پستول کی نال لہراتا ہوا بولا۔”تمھارے بچوں کے بڑے ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے۔“
وہ ملتجی ہوا۔”ہم تمھارے بارے کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔“
لورا نے بے صبری ظاہر کی۔”ریجا وقت ضائع کر رہے ہو۔“
میں نے کہا۔”مکان کا دروازہ کھولو۔“
وہ سرہلاتے ہوئے آگے بڑھی،دروازے پر ہاتھ رکھ کر اچکی اور دروازہ عبور کر گئی۔
اچانک کسی مرد کی کرخت آواز ابھری۔”کون ہو اوے۔“
جواباََلورا نے انگریزی میں گٹ مٹ کی،آوازا تنی مدہم تھی کہ میرے کانوں تک مفہوم نہیں پہنچا تھا۔ للکارنے والا شاید چوکیدار تھا۔اور چوکیدار عموماََ ان پڑھ یا واجبی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔یقینا اس کے پلے لورا کا جواب نہیں پڑا تھاتبھی وہ دوبارہ بولا۔
”تم غیر قانونی طور پر گھر میں گھسی ہو،میں تمھیں پولیس کے حوالے ....افف........“فقرہ مکمل کرنے سے پہلے اس کے منہ سے زوردار کراہ خارج ہوئی۔لمحہ بھر بعد دروازہ کھل گیا۔پولیس والوں کو آگے لگا کر میں اندر گھس گیا۔دروازے کے سامنے مختصر ساصحن اور اس سے ملحق گیراج بنا تھا۔گاڑی موجود نہیں تھی،شاید صاحب خانہ دفتر وغیرہ گیا تھا۔چوکیدار گیراج کے سامنے ہی پلاسٹک کی کرسی کے ساتھ لمبا پڑا تھا۔ایک جدید ساخت کا ”ریپیٹر“دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔بے چارے کو اپنا ہتھیار استعمال کرنے کی مہلت ہی نہیں ملی تھی۔
ہمارے اندر آتے ہی لورا نے دروازہ بند کر دیا تھا۔
”اب کیا کریں ؟“لورا نے اگلے اقدام کے بارے میری رائے لی۔
سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں نے پولیس والوں کوحکم دیا۔”وردیاں اتارو۔“
”کک....کیا....؟“وہ ہکلا گئے تھے۔
میں درشتی سے بولا۔”یقین کرو لاشوں سے وردیاں اتارنا مشکل نہیں مگر خون کے دھبے سے وردیوں کے خراب ہونے کا خدشہ مجھے روکے ہوئے ہے۔“وہ کانپتے ہوئے قمیص کے بٹن کھولنے لگے۔
”جلدی کرو۔“پستول کی نال لہراتے ہوئے میں نے ہدایت دی۔
انھوں نے فوراََ سے وردیاں اتار دی تھیں ۔
”گھوم جاﺅ۔“میں نے انھیں دیورا کی طرف رخ کرنے کا کہا اور ان کے مڑتے ہی لورا کو مخصوص اشارہ کیا۔
لکڑی کے بٹ والی کلاشن کوف کو نال سے پکڑتے ہوئے اس نے باری باری دونوں کے سر بجائے،وہ چوکیدار کے قریب اوندھے منہ نیچے گر گئے تھے۔
انھیں وردیاں اتارتے دیکھ کر لورا میرا منصوبہ جان گئی تھی۔ان کے بے ہوش ہوتے ہی اس نے بے باکی سے اپنا لباس اتاردیا۔ اسے مختصر لباس میں دیکھنا ،نیا یا انوکھا نہیں تھا۔وہ کئی بار تیراکی کے مختصر لباس میں خوشنما بدن کے نشیب و فراز کا تعارف کراچکی تھی۔البتہ کسی عورت کو ایک سے زائد بار مختصر لباس میں دیکھنا ،بدنظری کے جائز ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔بے شک اس کی تہذیب و ثقافت اسے شرم و حیا نہیں سکھا سکی تھی،لیکن میرا مذہب و معاشرت میرے لیے ایک دائرہ کار و حدود مقرر کرتا ہے۔ہوش و خرد سے بیگانہ کرنے والے بدن سے نظریں چرا کر میں پولیس وردی اٹھانے لگا۔اس نے میرے لیے زخمی شخص والی وردی چھوڑی تھی۔اس کے بازو پر خون لگا تھا۔گیراج کی دیوار کی آڑ لے کر میں نے جلدی سے لباس اتار کر وردی پہنی۔پولیس والے کا قدمجھے سے بڑا تھا تبھی پتلون ذرا لمبی تھی۔پائینچے اندر کی طرف موڑ کر میں نے پولیس والے کے جوتے اتار کر پہن لیے تھے۔
لورا بھی تیار ہو گئی تھی۔اس کا قد قریباََمیرے برابر ہی تھا۔ایک ادھ انچ کا فرق محسوس نہیں ہورہا تھا۔ میرا قد پانچ فٹ نو انچ ہے۔اور مردوں میں یہ درمیانی قامت سمجھی جاتی ہے،لیکن عورتوں کے لحاظ سے یہ لمبا قد سمجھا جاتا ہے۔اسے پولیس والے کی وردی فٹ آئی تھی۔جوتے البتہ اس نے اپنے ہی پہنے رکھے کیوں کہ عورتوں کے پاﺅں مردوں سے کافی چھوٹے ہوتے ہیں ۔
پولیس والوں اور چوکیدار کی مشکیں کس کر ہم نے اصل عمارت اور بغلی دیوارکے درمیانی خلا میں لٹادیا۔ان کے منہ باندھنے بھی ہمیں نہیں بھولے تھے۔وہاں وہ آسانی سے نظر نہیں آسکتے تھے۔گھر کے مکین آرام سے سوئے تھے۔بند کمرے اور اے سی کی ٹھنڈک نے انھیں اپنے چوکیدار کی حالت سے بے خبر رکھا تھا۔یوں بھی گیراج میں گاڑی کی غیر موجودی ظاہر کر رہی تھی کہ گھر کا مالک موجود نہیں تھا۔خاتون خانہ اور زیادہ سے زیادہ معصوم بچوں کی موجودی کا احتمال تھا۔وہاں چھپنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔کلاشن کوفیں اٹھا کر ہم محتاط انداز میں گھر سے باہر نکل آئے۔
ساری کارروائی میں چند منٹ ضائع ہو گئے تھے۔ایک عام آدمی اور تربیت یافتہ سپاہی میں یہی بنیادی فرق ہوتا ہے۔ایسے حالات میں عام آدمی حوصلہ چھوڑ کر رونے دھونے بیٹھ جاتا ہے۔کوئی مضبوط اعصاب کا ہوتو فرار کی کوشش تو کرتا ہے ،مگر اسے دشمنوں سے بچنے ،جان بچانے اوراپنی حفاظت کے طریقہ کار سے واقفیت نہیں ہوتی۔وہ بر وقت فیصلہ نہیں کر پاتا۔جبکہ تربیت یافتہ سپاہی ہمت و حوصلے سے کام لیتا ہے۔اسے اپنی حرکات و سکنات پر قابو ہوتا ہے۔گودشمنوں سے بچنے اور نبرد آزما ہونے کے لگے بندھے اصول تو نہیں ہیں کہ ہر کسی کو ایک سے حالات پیش آئیں ۔دوران تربیت ہمیں بھی مختلف حالات سے روشناس کرایا گیا تھا۔بے شک عملی زندگی میں تربیت میں سیکھے ہوئے مسائل سے واسطہ نہ پڑے مگر بنیادی اصولوں کو جاننے کے بعد نت نئے مسائل سے نبٹناناممکن نہیں رہتا۔
غربی جانب تھوڑے فاصلے پرفائرنگ کی تیز آواز ابھری۔شاید کوئی بے چارہ ہماری تلاش میں سرگرداں ٹولی کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔یہ بھی ممکن تھا کوئی اور گروہ آپس میں ٹکرا گئے ہوں ۔یہ موقع بھاگنے کے لیے نہایت غنیمت تھا۔ اس سے پہلے میں نے پستول سے دوگولیاں فائر کی تھیں ،پستول اتنی زیادہ آواز پیدا نہیں کرتا کہ آواز زیادہ دور تک جائے۔یقینا اسی وجہ سے کوئی سن گن لینے وہاں نہیں پہنچا تھا۔مگر اب کلاشن کوفیں گرجی تھیں ۔اور پانچ چھے چھٹے (برسٹ)اکٹھے فائر ہوئے تھے،ناممکن تھا ہماری تلاش میں سرگرداں ٹولیاں اس جانب کا رخ نہ کرتیں ۔لورا نے اپنی زلفوں کو لپیٹ کر ٹوپی کے اندر قید کر دیا تھا،یوں وہ دور سے مرد ہی نظر آنے لگی تھی۔ ہم نے جانے کی سمت میں تبدیلی نہیں کی تھی۔چوڑی گلی میں نکلتے ہی بائیں جانب سے ہیوی بائیک کی مخصوص آواز ابھری۔
وہ جوش سے چلائی۔”ریجا !....اسے روکو۔“اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر سر سے ٹوپی اتار کرسنہری بال لہراتے ہوئے گلی کے درمیان میں ہو گئی۔موٹر سائیکل پر دو لڑکے سوار تھے۔ان کا انداز ظاہر کر رہا تھاکہ اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ویسے بھی اتنی قیمتی موٹرسائیکل خریدناعام لوگوں کے بس سے باہرہوتا ہے۔ ایسے بگڑے رئیس زادے کبھی پولیس کے اشارے پر نہ رکتے،مگر روکنے والی کی صورت ایسی نہیں تھی کہ کسی جوان لڑکے کا بریک پر دھرا پنجہ نیچے کو نہ دبتا۔
موٹر سائیکل چلانے والا ہیلمٹ اتارتا ہواعاشقانہ لہجے میں بولا۔”ہائے ،ایسی کڑک پولیس والی پہلی بار نظر آئی ہے۔“
لورا کی سمجھ میں اس کی بات نہیں آئی تھی۔وہ انھیں روکنے کا سبب بتانے لگی۔”جانتے نہیں اس موٹر سائیکل پر ڈبل سواری منع ہے۔“
موٹرسائیکل چلانے والااوباشانہ انداز میں بولا۔”بے بی تم ہمارے درمیان بیٹھ جاﺅ،تین افراد پر تو پابندی نہیں ہے نا۔اور بے فکر رہو تمھیں ایسی عیش کرائیں گے کہ کبھی نہیں کی ہوگی۔“اس نے انگریزی ہی سہارا لیا تھا۔یوں بھی انگریزی اس طبقے کے لوگوں کی پسندیدہ زبان ہوتی ہے۔
”اچھا مشورہ ہے۔“لورا قریب ہوئی،اس کا دایاں مکا بجلی کی سی سرعت سے موٹر سائیکل چلانے والے کی کنپٹی سے ٹکرایا،اس نے جھولتے ہوئے ہنڈل پر سر ٹیک دیا تھا۔
”تت....تم جانتے نہیں ہم کون ہیں ۔“ساتھی کو انٹا غفیل ہوتے دیکھ کر دوسرے نے گھبرائے ہوئے انداز میں دھمکی دی۔بد حواسی میں اسے انگریزی بولنا بھول گیا تھا۔لورا کا دوسرا مکااس کی گردن پر لگا تھا۔ اپنے ساتھی کو تو اس نے سہارا دیا تھا۔لیکن اسے روک میسر نہ ہوئی۔وہ گلی کے پختہ فرش پر جا گرا تھا۔گود میں رکھا ہیلمٹ بھی نیچے گر کر لڑھکتا ہواگلی کے وسط میں پہنچ گیا۔
دوسرے کو بھی نیچے دھکیل کرلورا نے ڈرائیونگ سنبھال لی۔
میرا ایسی موٹر سائیکل کی سواری کا پہلا موقع تھا۔لیکن لورا کا جوش دیکھ کر ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ نہ صرف اچھی طرح موٹر سائیکل چلا سکتی ہے بلکہ وہ اس کی پسندیدہ سواری بھی ہے۔اس نے ہیلمٹ پہن کر شیشہ اٹھایا۔
”بیٹھو۔“ہینڈل پکڑتے ہی اس نے خالی ریس دی۔انجن کی مخصوص آواز نے اس کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم بکھیر دیا تھا۔
اس کی سیٹ عام موٹرسائیکلوں سے مختلف ہوتی ہے ،یوں کہ عقب میں بیٹھنے والے کوآگے والے سے لپٹنا پڑتا ہے۔مگر حالات ایسے نہیں تھے کہ میں ان باریکیوں میں پڑتا۔مجھے خود کبھی ایسی موٹر سائیکل چلانے کا اتفاق نہیں ہوا تھااس لیے میں ڈرائیونگ کا تقاضا بھی نہیں کر سکتا تھا۔ہیلمٹ پہن کرمجبورا اس کے پیچھے بیٹھنا پڑا۔ ایک دم دماغ ماضی کے سفر پر روانہ ہوا جب مجھے جان حیات پلوشہ کے ساتھ بیٹھنا نصیب ہوا تھا۔البتہ لورا اور اس کی بے باکی میں ایک واضح فرق موجود تھا۔اس کی بے باکی و بے تکلفی صرف اپنے راجو کے لیے تھی جبکہ لورا کے لیے میرا وجود کسی اہمیت کا حامل تھا تو بس اپنے مقصد کے حصول کو تھا۔
ہم نے بلٹ ہیڈ نکال کر گندی نالی میں پھینکے اور کلاشن کوفیں وہیں پھینک دی تھیں ۔میرے نشست سنبھالتے ہی اس نے گیئر لگاتے ہوئے ریس دی۔موٹرسائیکل جھٹکا کھا کر آگے بڑھی۔اس موٹرسائیکل کی درمیانی رفتار بھی ایسی تھی لگاکمان سے تیر چھوٹا ہو۔مجھے مجبوراََ اس سے چمٹنا پڑا تھا۔موڑ موڑتے ہی پولیس کی ایک جیپ اور دو سفید کاریں نظر آئیں جو اسی جانب بڑھ رہی تھیں ۔ان کے کچھ سمجھنے تک لورا دائیں جانب سے موٹرسائیکل نکال کر آگے بڑھ گئی تھی۔
میں نے مڑ کر دیکھا پولیس جیپ رک گئی تھی،یقینا انھیں ہم پر شک ہو گیا تھا،کیوں کہ پولیس والوں کے پاس ایسی موٹرسائیکلیں نہیں ہوتیں ۔ پولیس والوں کی جیپ کے ساتھ نہ رکنا ہمیں مزید مشکوک بنا رہا تھا۔ہیلمٹ کے نیچے سے لورا کے سنہری بال بھی جھلک رہے تھے،شاید کسی کی باریک بین نگاہوں نے انھیں بھی جانچ لیا ہو۔جیپ کے مڑنے تک لورا دوسری گلی میں گھوم چکی تھی۔گوجیپ اور کار والے ہم تک نہیں پہنچ سکتے تھے مگر یقیناان گلیوں میں بڑی تعداد میں دشمن جمع ہو چکے تھے،ان سے بچناکافی دشوارگزار تھا۔
دوسری گلی ہی میں مجھے اپنی سوچ کی تصویر نظر آئی۔سفید رنگ کی کار کو ترچھا کھڑ اکر کے ہمارا رستہ روک دیا گیا تھا۔لورا نے ایک دم بریک دبائی،موٹرساائیکل کے پہیے زمین میں گڑ گئے تھے۔دایاں پاﺅں نیچے ٹیکتے ہوئے اس نے ریس دے کر ایک دم کلچ چھوڑاموٹرسائیکل پیچھے گھوم گئی تھی۔بلاشبہ وہ ماہر سوار تھی۔ ہمیں روکنے والے بے فکر کھڑے تھے،ہمیں مڑتا دیکھ کر انھوں نے ہتھیار سیدھے کیے،مگر تب تک لورا موڑ مڑ چکی تھی۔پچاس ساٹھ قدم جاتے ہی اس نے ایک تنگ گلی میں موٹر سائیکل گھسا دی۔وہ گلی زیادہ لمبی نہیں تھی۔اگلی گلی میں نکلتے ہی دو مسلح افراد نظر آئے،ہمیں دیکھتے ہی انھوں نے ہتھیار سونتنے کی کوشش کی مگر ان کے سنبھلنے تک ہم سر پر پہنچ گئے تھے۔جان بچانے کو وہ دائیں بائیں ہوئے۔انھیں یونھی چھوڑنا مناسب نہیں تھا،عقب سے فائر کر کے وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتے تھے۔لورا بھی بچی نہیں تھی کہ یہ اندازہ نہ کر پاتی۔ان کے قریب پہنچتے ہی لورا نے بریک دبائی،تب تک میں جیب سے پستول برآمد کر چکا تھا۔ دائیں والے کی چھاتی میں لات رسید کر کے میں بائیں والے کی طرف متوجہ ہوااور اس کے دائیں ہاتھ کو نشانہ بنا کر لبلبی دبا دی۔چیخ مارتے ہوئے اس نے دایاں ہاتھ بغل میں دبا لیا تھا۔
میں نے دوسرے کا رخ کیا ،اس کے کانوں میں بھی گولی کے دھماکے اور اپنے ساتھی کی چیخ پہنچ چکی تھی۔اس نے گھبرا کرہاتھ اٹھاتے ہوئے میرا کام آسان کر دیا تھا۔
اس کے بھی دائیں ہاتھ میں سوراخ کرتے ہوئے میں نے لورا کو چلنے کا کہا۔ان کے دائیں ہاتھ کو نشانہ بنانے کی وجہ بھی یہی تھی کہ ہمیں عقب سے نشانہ نہ بنا سکیں ۔
لورا نے ایک جھٹکے سے موٹر سائیکل آگے بڑھا دی۔گلی دائیں جانب مڑی،آگے سفید کار نظر آئی۔ ایک دم ہم آمنے سامنے ہو گئے تھے۔لورا رکے بغیر کار کے بائیں جانب سے لہرا کر آگے بڑھ گئی۔کار روک کر وہ نیچے اترے،مگر ان کے فائر کرنے سے پہلے ہم دور ہو چکے تھے۔سہ پہر ہو گئی تھی اور گلیوں میں لوگوں کا رش بڑھ رہا تھا۔عام لوگوں کو بچانے کو وہ اندھا دھند فائر نہیں کر سکتے تھے۔اور یہ بات ہمارے حق میں جاتی تھی۔ افراد، رکشوں اور ریڑھیوں سے موٹر سائیکل کو بچاتے ہوئے لورا کمال مہارت سے آگے بڑھتی رہی۔اسے سڑک کی تلاش تھی۔اور اس بار ہمیں ناکامی نہیں ہوئی تھی۔گلی کا اختتام سڑک پر ہوا تھا۔
سڑک پر آتے ہی لورا نے رفتارخطرناک حد تک بڑھا دی تھی۔ہمارے عقب میں دو تین کاریں بھی نمودار ہوئیں ،مگر سڑک پر وہ ہیوی موٹر سائیکل کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں ۔لورا موٹر سائیکل کو لہراتے ہوئے گاڑیوں کے درمیانی خلا سے یوں گزر رہی تھی جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔اور مجھے ہر لمحے یہی لگ رہا تھا کہ وہ موٹر سائیکل کسی گاڑی میں ٹھوک دے گی۔عام موٹر سائیکل کے پچھلے سوار کو ڈر لگا رہتا ہے ، وہ تو ہیوی بائیک تھی۔مگر میرے اعصاب مضبوط تھے تبھی برداشت کیے بیٹھا رہا۔بلاشبہ میں اس مہارت سے کبھی موٹر سائیکل نہ چلا پاتا۔بلکہ اس موٹر سائیکل کو تو شاید چلا ہی نہ پاتا۔
وہ چند کلومیٹر سے زیادہ سڑک پر نہیں چلی تھی،کیوں کہ سڑک پر ہمیں گھیرنا زیادہ آسان ہو جاتا۔رفتار کم کرتے ہوئے اس نے ایک گلی میں موٹرسائیکل موڑ دی۔ہر طرف چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔لورا نے رفتار دھیمی کر لی تھی،مگر اب لباس مسئلہ پیدا کر رہا تھا۔پولیس کی وردی لوگوں کو زیادہ متوجہ کرتی ہے۔
میں نے کہا۔”ہمیں کپڑے تبدیل کرنا ہوں گے۔“
اس نے تیار شدہ (ریڈی میڈ)کپڑوں کی دکان کے سامنے بریک دباتے ہوئے کہا۔”چلو۔“
موٹر سائیکل کھڑی کر کے ہم اندر گھس گئے۔آج میڈیا بہت تیز ہو گیا ہے۔اور مجھے ڈر تھا کہ شاید ہمارے بارے خبر چل رہی ہو۔دکان میں ٹی وی کو نہ پا کر مجھے اطمینان ہوا تھا۔ہم نے دیر کیے بغیراپنے لیے ایک ایک لباس کا انتخاب کیااور”ٹرائی روم“ میں گھس گئے۔دونوں نے جینز کی پتلون اورنصف بازو کی بنیان منتخب کی تھی۔ وردیاں ہم نے ٹرائی روم ہی میں چھوڑ دی تھیں ۔میرے پاس گوتم لوگوں کی جیب سے نکالی ہوئی نقدی موجود تھی۔اس لیے میں نے دکان دار کا نقصان نہ ہونے دیا۔
”اب کہاں جائیں گے ؟“دکان سے نکلتے ہوئے لورا مستفسر ہوئی۔
میں صاف گوئی سے بولا۔” میری جسمانی حالت علاج و آرام کی متقاضی ہے۔“
وہ شوخی سے ہنسی۔”میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں کہ کچھ کر سکوں ۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”جو تمھارے بس میں ہے اسی کا اقرار کر لو کافی ہے۔“
”بکواس کرنا کوئی ریجا سے سیکھے۔“منہ بناتے ہوئے اس نے چابی میری طرف بڑھائی۔ ”ڈرائیونگ کرو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ موٹر سائیکل کبھی نہیں چلائی۔“
مجھے تیکھی نظروں سے گھورتے ہوئے وہ شکی لہجے میں بولی۔”جھوٹ نہ بولو۔“
میں نے پوچھا۔”کیسے یقین آئے گا۔“
”رہنے دو۔“وہ تلملاتے ہوئے موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔میں نے بھی اپنی جگہ سنبھالی۔ اگنیشن میں چابی گھما کر اس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور آگے بڑھ گئی۔
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعداس نے پوچھا۔”بتایا نہیں کدھر جانا ہے۔“
”ممبئی،ہمارے لیے ایک جیساانجان ہے۔“
”کوئی مشورہ تو دے سکتے ہونا۔“
”ہوٹل وغیرہ میں رہنا تو خطرے سے خالی نہ ہو گا،کوئی مکان ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔“
اس نے مسئلہ ظاہر کیا۔”پیسوں کا مسئلہ بھی تو بنے گا۔“
میں نے حل پیش کیا۔”موٹر سائیکل بیچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔“
وہ خفگی سے بولی۔ ”موٹر سائیکل چوری کی ہے۔“
میں ہنسا۔”یہاں چوری کا مال خریدنے والوں کی کمی نہیں ہے۔“
وہ متفق ہوئی۔”تو رہنمائی کرو،یوں بھی موٹر سائیکل کومزید ساتھ رکھنامناسب نہ ہوگا۔“
میں نے اسے ایک رکشے والے کے قریب رکنے کو کہا،جو رکشا گلی کی ایک جانب روکے سواری کا منتظر تھا۔بلکہ ایک قطار میں چند رکشے کھڑے تھے۔
ہمارے رکنے پر وہ متوجہ ہوا۔میں نے ہیلمٹ کا شیشہ اٹھا کر کہا۔”مہاراج !کسی اچھی موٹر سائیکل ورکشاپ تک رہنمائی کر دیں ۔“
وہ لورا پر گہری نگاہ ڈال کر میری طرف متوجہ ہوا۔”وجے نگر جانا پڑے گا۔“
اس کے انداز سے لگاوجے نگر تھوڑی دور ہے۔میں نے پوچھا۔”نزدیک میں کوئی ورکشاپ نہیں ہے؟“
وہ منہ بناتے ہوئے بولا۔”تم نے اچھی ورکشاپ کا پوچھا ہے۔ورنہ سو قدم آگے بھولے استاد کی ورکشاپ ہے،البتہ اس کی ایمان داری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔“
”کیا مطلب؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
اس نے منکشف کیا۔”تمھیں پتا بھی نہیں چلے گااور نئی موٹر سائیکل سے اصل پرزہ نکال کر دوسرا جوڑدے گا۔“
ہمیں بھی ایسے ہی استاد کی تلاش تھی۔اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے لور اکو چلنے کاکہا۔اس نے سر سے ہیلمٹ اتارنے کی غلطی نہیں کی تھی،کیوں کہ اپنی رنگت و شباہت کی وجہ سے وہ آسانی سے پہچان لی جاتی۔ البتہ ہیلمٹ اس کے صنف نازک ہونے کو نہیں چھپا سکتا تھا۔ نصف بازوﺅں کی چست بنیان فراخ دلی سے دعوت نظارا دے رہی تھی۔تبھی رکشے والا مخاطب مجھے اور متوجہ اس کی جانب رہا۔البتہ انڈیا میں عورتوں کا موٹر سائیکل چلانا اتنا انوکھا یا حیران کن نہیں کہ خصوصی توجہ کا حامل بن سکے۔ آج کل تو پاکستان میں بھی خواتین موٹر سائیکل کی سواری کرتی نظر آجاتی ہیں ۔اگر ستر پوشی و پردے کا اہتمام کیا جائے تو اس پر اعتراض کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔کیوں کہ ماضی بعید میں مسلمان خواتین بڑے شوق سے گھڑ سواری کیا کرتی تھیں ۔موٹر سائیکل اور گھڑ سواری میں خاصی مشابہت ہے۔البتہ کھلا لباس اور بے پردگی کی چھوٹ شریعت نہیں دیتی۔اور نقاب میں موٹرسائیکل چلانا چنداں دشوار نہیں ہے،کہ نقاب ڈرائیونگ پر ذرا بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔بلکہ ہیلمٹ بہ ذات خود بہترین نقاب ہے۔
جاری ہے۔
 

قسط نمبر 30
ریاض عاقب کوہلر
ورکشاپ ایک بغلی گلی میں تھی جو بھولے استاد کی دکان پر جا کر ختم ہو جاتی تھی۔وہاں سے آگے جانے کا رستہ نہیں تھا۔
ایک پرانی موٹر سائیکل سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے لڑکے سے رہنمائی لے کر ہم بھولے استاد کی جانب بڑھ گئے۔تیل سے چپڑی شلوارقمیص میں ملبوس وہ ادھیڑ عمر کا صحت مند شخص تھا۔آنکھوں میں سفاکی و مکاری کی چمک اس کے کرتوتوں کی مظہر تھی۔
اس نے بھی لورا پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔”کیسے آنا ہواباﺅ؟“
میں سیدھا مدعے پر آیا۔”موٹر سائیکل بیچنا ہے۔“
وہ رکھائی سے بولا۔”یہ ورکشاپ ہے بارگین نہیں ہے۔“
میں بغیر لگی لپٹی بولا۔”موٹر سائیکل چوری کی ہے،کسی نے آپ کا پتا بتایا تو یہاں آگئے۔نہیں خریدو گے تو چلے جائیں گے۔“
وہ متحیر ہوا۔”ہوش میں ہو۔“
میں اعتماد سے بولا۔”بھولے استاد!اتنے بھولے نہ بنو۔آپ اچھی طرح جانتے میں کیا کہہ رہا ہوں ۔“
وہ نظریں چراتے ہوئے مشکوک لہجے میں بولا۔”تمھیں شاید کسی نے غلط پتا بتا دیا ہے۔“
میں نے اسے تسلی دی۔”ڈرو مت،ہماراتعلق خفیہ پولیس وغیرہ سے نہیں ہے۔بلکہ ہم خود پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں ۔“
اس نے چھاتی پھلائی۔ ”بھولے استاد کو ڈرانے والااب تک پیدا نہیں ہوا۔“
اسی وقت لورا نے اپنا ہیلمٹ اتارتے ہوئے لوچ دار آواز میں کہا۔”باؤلااسٹاڈ،وٹس پرابلم۔“ (بھولے استاد کیا مسئلہ ہے)یقینا ہماری تکرار کی اسے سمجھ نہیں آئی تھی،البتہ اتنا اندازہ اسے ضرور ہو گیا تھاکہ بھولااڑی کر رہا تھا۔
لورا براﺅن کی صوررت اور بدیسی لہجے میں بھولا استاد کہنااسے لٹو کر گیا تھا۔وہ ریشہ خطمی ہوتے ہوئے بولا۔
”حکم کرو میڈم۔“
وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔”کیا بک رہا ہے؟“
”تمھاری ترجمانی کرنے کاوقت میرے پاس نہیں ہے۔مجھے سوداکرنے دو۔“ اسے خاموش ہونے کا کہتے ہوئے میں بھولے کی طرف متوجہ ہوا۔”مادام کہہ رہی ہے مجھے کس ڈرپوک کے پاس لے آئے ہو۔“
وہ کڑے لہجے میں بولا۔”جوان ،بھولے کو دھوکا دینے والا دوسرا سانس لینے کا حق دار نہیں ہوتا۔“
”بھولے استاد ،عقل کو ہاتھ مارو،میں صاف گوئی سے بتا چکا ہوں کہ موٹر سائیکل چوری کی ہے۔اس کے علاوہ کون سی دھوکا دہی دھونڈ رہے ہو۔“
اس نے اندیشہ واضح کیا۔”اگر تمھارا تعلق کسی ایجنسی یاخفیہ پولیس سے ہوا توبھولا تمھیں نرگ میں بھیج کرہی گرفتاری دے گا۔“
میں نے اس کی ہمت بندھائی۔”بے فکر رہو ،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“
اس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کر کے ریس گھمائی،انجن وغیرہ کا جائزہ لیا،چند اور پرزوں کو چھیڑ کربولی لگائی۔”پچاس ہزار سے زیادہ نہیں دے سکتا۔“
مجھے موٹر سائیکل کی قیمت کا سرسری اندازہ تھاتبھی برہمی ظاہر کی۔”سولہ ،سترہ لاکھ کی موٹر سائیکل کو پچاس ہزار میں بیچنے کے بجائے آگ لگانا زیادہ بہتر رہے گا۔“
”باﺅ یہ چوری کی ہے۔“
”تو چوری کا مال نصف یا تہائی میں خریدواستاد۔اس کے پچاس ہزار تو تول کر خریدنے والاکباڑی بھی دے دے گا۔“
”زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ۔“اس نے بہ ظاہر آخری دام بتائے۔
لورا مستفسرہوئی۔”کتنے دے رہا ہے؟“
میں نے کہا۔”ایک لاکھ۔“
”اسٹاڈباﺅلاڈبل ....ڈن۔“لورا نے بھولے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے دولاکھ میں سودا مکمل کردیا۔(یعنی بھولے کی بتائی ہوئی قیمت کے دگنے میں سودا طے ہو گیا)
بھولے کوئی اعتراض تھا بھی سہی تو لورا سے ہاتھ ملانے کی سعادت نے باقی نہ رہنے دیا تھا۔
لورا کا نازک ہاتھ، بھدے ہاتھ میں تھامتے ہوئے اس نے دانت نکوسے۔”ٹھیک ہے مادام۔“
لورا کی سوالیہ نظریں میری طرف اٹھیں ،میں شوخی سے بولا۔”غلام قوم کا باشندہ،حکمراں قوم سے تکرار تو نہیں کر سکتا۔“
”چھوٹے بھاگ کرٹھنڈی بوتل پکڑ لا۔“بھولا شاگرد کوحکم دے کرہماری طرف متوجہ ہوا۔”آئیں ، بیٹھیں ۔“
”استاد بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ ہماری رقم لائیں اور اپنی چیز سنبھالیں ۔“
سرہلاتے ہوئے اس نے لورا کو میٹھی نظروں سے گھورااور ورکشاپ کے اندر گھس گیا۔اس کی واپسی دوہزار والے نوٹوں کی گڈی کے ساتھ ہوئی تھی۔(انڈیا میں ،دس،بیس،پچاس،سو،دوسو،پانچ سو اور دوہزار کے نوٹ مستعمل ہیں )
پیسے لے کر میں نے گنے بغیر جیب میں ڈالے اورہم بھولے استاد سے الوداعی مصافحہ کر کے چل پڑے۔
لورا نے خجالت ظاہر کی۔”شاید ہمیں ان بے چاروں کی موٹر سائیکل نہیں بیچناچاہیے تھی۔“
میں نے ڈھارس بندھائی۔”ان بے چاروں نے تمھارے بارے جو تبصرہ کیا تھا وہ بھول گیاہے۔ ایسے اوباشوں کو سبق سکھاناضروری ہوتا ہے۔باقی ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی،موٹر سائیکل کولاوارث چھوڑ دیتے تو کسی اچکے کے ہاتھ لگ جاتی۔اور وہ لڑکے کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے،یہ ان کے لیے بڑا نقصان نہیں ہوگا۔“
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”اب شب بسری کا سوچو۔“
شام کا ملگجا اندھیر ا پھیلنے لگا تھا۔”پہلے پیٹ بھرتے ہیں ،بھاگ دوڑو اچھل کود میں سب کھایا پیا ہضم ہو چکا ہے۔“یہ کہتے ہوئے میں نے ایک خالی رکشے کواشارہ کیا۔اندر گھستے ہی میں نے کسی درمیانہ درجے کے معیاری ہوٹل پر جانے کا کہا۔
آدھے گھنٹے بعد اس نے ایک درمیانہ درجے کے ہوٹل کے سامنے اتار دیا۔ہم نسبتاََ تاریک گوشے کی طرف بڑھ گئے۔میری نظریں ٹی وی اسکرین پر مرکوز تھیں ۔اندازہ تھا کہ ہماراذکر خبروں میں ضرور ہوگا۔
بیراقریب آیا۔لورا سے ان کی پسند پوچھ کر میں نے مچھلی کے بنے دوپکوان بتائے اور ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔میرا نصف اندازہ درست ثابت ہوا تھا۔میرا تعارف بہ طور دہشت گرد کرایا گیا تھا۔تصویر بھی دکھائی جا رہی تھی۔البتہ لورا براﺅن کا ذکر تھا نہ میراپاکستانی ہونا ظاہر کیا گیا تھا۔
میں نے کہا۔”خبروں میں تمھارا کوئی ذکر نہیں ہے۔“
وہ بھناتے ہوئے بولی۔”میرا ذکر کرنے پربرطانوی حکومت متوجہ ہو جائے گی اور انھیں جواب دہی مشکل ہو گی۔“
میں نے مشورہ دیا”تمھیں برطانوی سفارت خانے جانا چاہیے۔“
”میرے خلاف ان کے پاس مضبوط ثبوت موجود ہیں ۔ایسی صوررت میں سفارت خانہ زیادہ سے زیادہ مجھے برطانیہ واپس بھجوا سکتا ہے۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”کسی ایک نقطہ نظر پر توقائم رہو۔“
وہ متبسم ہوئی۔”تمھاری سمجھ ہی میں کچھ نہیں آرہا۔“
میں معترض ہوا۔”متضاد باتیں کرو گی تو کیسے سمجھ پاﺅں گا۔“
وہ وضاحت کرتے ہوئے بولی۔”مسٹر ایس ایس،اگر میڈیا میرا ذکر اچھالے گا تو برطانوی حکومت اپنے شہری کے لیے میدان میں اتر آئے گی،کیوں کہ تب مسئلہ اپنی ناک کٹنے سے بچانے کا ہوگا۔دوسری صورت میں حکومت تحفظ فراہم کرنے سے زیادہ میری مدد نہیں کر سکتی۔کیوں کہ بہ ظاہر میں مجرم ہوں ۔اور سچ کہوں تو میں اپنی جان بچانے سے زیادہ شکلا کی ہلاکت کی تمنائی ہوں ۔“
”گویا تم حکومت کو بیچ میں نہیں لانا چاہتیں ۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”اس میں اور وجوہات بھی شامل ہیں ۔“
”مثلاََ“میں نے جاننے میں دلچسپی لی۔
”بعد میں بتاﺅں گی۔“وہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی جو بیرا ہمارے سامنے چن رہا تھا۔
میں نے کہا۔”تم ڈیوڈ کو کال کیوں نہیں کر لیتیں ۔“
”اس کا موبائل فون نمبر مجھے یاد ہے۔فارغ ہو کر بات کرتی ہوں ۔“
میں تلی ہوئی مچھلی کے پارچوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔کھانے کے دوران میں ٹی وی اسکرین کوبھی دیکھتا رہا۔مجھ سے کافی خوفناک باتیں منسوب کر کے مشتہر کیا جا رہا تھا۔انڈین میڈیا یوں بھی رائی کوپہاڑ دکھانے کا ماہر ہے۔میری تازہ تصویر ہی دکھائی جا رہی تھی۔مگر میرا حلیہ بالکل عام سا ہے۔قدوقامت ،رنگ، شکل و صورت میں کوئی نمایاں نشانی نہیں کہ جلد پہچانا جا سکوں ۔دوسرا لورا براﺅن کا ساتھ بھی کافی فائدہ مند رہا کہ اکثریت کی نظریں کرخت صورت مرد کے بجائے خوش نماوملائمت بھرے چہرے کی دلدادہ ہوتی ہیں ۔اور اس کی موجودی میں مجھ غریب پر سرسری اور اچٹتی ہوئی نظر ہی پڑتی تھی۔
کھانے کے بعد ہم نے چائے پی اور باہر نکل آئے۔فی الحال توخطرے کی حدود سے باہر تھے،البتہ آگے کا کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔
اب کسی ٹھکانے کی ضرورت تھی۔ایک رکشے میں بیٹھ کرمیں نے یہ مسئلہ اس کے سامنے رکھ دیا۔
”دوست !تمھاری نظر میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں شب بسری کاٹھکانہ مل جائے۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”ایسے کئی مکان ہیں باﺅ،اچھے بھی ،درمیانہ اور سستے بھی۔“
”تو بس باری باری دکھانا شروع کر دو۔“
اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے رکشا آگے بڑھا دیا۔اگلے گھنٹے ڈیڑھ میں ہم نے چند مکانوں اور کھولیوں کا جائزہ لیااور بہ ظاہر تمام کو مسترد کر کے اسے کسی اچھے ہوٹل چلنے کا کہا۔
اندھا کیا چاہے دوآنکھیں اور رکشا والا چاہے سواری۔ناک بھوں چڑھائے بغیر وہ ہمیں ایک اچھے سے ہوٹل میں لے آیا۔اسے منہ مانگا کرایہ ادا کر کے رخصت کیا اور ہوٹل کے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔داخلی دروازے تک پہنچنے تک رکشا دور جا چکا تھا۔میں لورا کا بازو تھام کر واپس مڑ گیا۔
”کیا ہوا؟“وہ حیران ہوئی۔
”احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضرروی ہوتا ہے۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں نے ایک خالی ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کیااورنشست سنبھالتے ہی ہدایت دی....
”کسی اچھے میڈیکل سپیشلسٹ کے پاس لے جاﺅ۔“اپنی ناگفتہ بہ حالت کسی ڈاکٹر کو دکھانا ضروری تھا۔
ڈرائیور نے سرہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھادی۔لورا کی سمجھ میں میڈیکل اسپیشلسٹ کا لفظ پڑگیا تھا تبھی متبسم ہو کر پوچھا۔
”بڑی دیر بعد علاج کا خیال آیا ہے۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔دیر آید درست آید۔“
کلینک پر کافی مریض موجود تھے۔اگر نمبر کا انتظار کرتے تو دو تین گھنٹے ضائع ہوجانا تھے۔استقبالین کو ڈاکٹر کا واقف کار ہونے کا جھانسا دے کر ہم اندر گھس گئے۔اس ضمن میں جھوٹ سے زیادہ لورا براﺅن کا غیر ملکی ہونا کام آیا تھا۔ڈاکٹر چند منٹ پہلے ہی آیا تھااور اب تک اس نے مریضوں کو دیکھنا شروع نہیں کیاتھا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے دروازہ کنڈی کر دیا تھا۔
ڈاکٹر نے حیرت و برہمی سے ہمیں گھورا۔”تم بغیر اجازت اندر کیسے آئے؟“
میں نے پستول برآمد کرتے ہوئے میز پر رکھا۔”ڈاکٹر صاحب !سوال و جواب کا وقت نہیں ہے۔بہتر ہو گا اپنی توانائی و درشتی ضائع نہ کرو۔“
وہ ہکلایا۔”تت....تم....کیا چاہتے ہو؟“پستول کی شکل نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”صرف اپنا بھلا،تمھارا ذرا سا بھی نقصان نہیں ہوگا۔“اور قمیص اتارنے لگا۔
میرے زخموں کو دیکھ کر ڈاکٹر ششدر رہ گیا تھا۔” تشدد کا شکار ہوئے ہو۔“اس کے خوف پر مسیحائی غالب آئی اور میرے زخموں کا جائزہ لینے لگا۔
”ہاں ڈاکٹر صاحب!چند درندوں سے واسطہ پڑ گیا تھا۔نرگ واسی (جہنمی)تین چار دن مسلسل زدو کوب کرتے رہے ہیں ۔“
اس نے اچھی طرح معائنہ کر کے لمبا سا نسخہ لکھ کر میری طرف بڑھا دیا۔”لگانے کے مرہم اور کھانے کی دوائیاں لکھ دی ہیں ۔میڈیکل اسٹور والا کھانے کا طریقہ کار سمجھا دے گا۔باقی دو تین دن چارپائی سنبھالوان شاءاللہ ٹھیک ہو جاﺅ گے۔“اس کے ان شاءاللہ سے پتا چلا اپنا مسلمان بھائی ہے۔
”شکریہ ڈاکٹر صاحب!“نسخہ پکڑ کر میں نے قمیص ڈالی اور دو ہزار کا نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔”اپنے رویے پر معذرت خواہ ہوں ،یہ آپ کی فیس ہے۔“
اس کے لبوں پر پیشہ ورانہ تبسم ابھرا۔”کوئی بات نہیں ۔اور فیس استقبالیہ پر جمع کرا دیں ۔“
ایک بار پھر اس کا شکریہ ادا کر کے ہم باہر نکل آئے۔استقبالیہ پر فیس کے پانچ سو جمع کرا کے ہم نے میڈیکل اسٹور سے دوائیں لیں اور کلینک سے نکل آئے۔دروازے کے قریب ہی چند ٹیکسیاں کھڑی تھیں ۔ہم ایک میں بیٹھ گئے۔
ڈرائیور نے پوچھا۔”کہاں جانا ہے باﺅ۔“
رکشا ڈرائیور کے ساتھ جن مکانات کا جائزہ لیا تھاان میں ایک عمارت مجھے اچھی لگی تھی۔میں نے اس کے قریب واقع ایک مشہور مقام کا نام بتا دیا۔
بیس منٹ بعد ٹیکسی ڈرائیورنے ہمیں مطلوبہ جگہ اتار دیاتھا۔ڈرائیور کو فارغ کر کے ہم آگے بڑھ گئے۔بازار کھلا تھا۔ایک دکان سے چند ضرورت کی چیزیں اور دو تین فالتو لباس خرید لیے۔لورا کے لیے میں نے مشرقی لباس بھی خریدا تھا تاکہ کہیں جاتے ہوئے اس کی شناخت چھپا سکوں ۔بازار سے نکل کر ہم مطلوبہ مکان کی طرف بڑھ گئے۔
رکشا ڈرائیور کے ساتھ میں نے اسی لیے مختلف مکانو ں کا جائزہ لیا تھا تاکہ اپنی پسند کی جگہ تلاش کر سکوں ۔ اوربہ طورِاحتیاط رکشا ڈرائیور کے سامنے ان مکانوں کو مسترد بھی کر دیاتاکہ پولیس یا کسی ایجنسی کے بندے کی ہم تک رہنمائی نہ کر سکے۔
دشمن ملک میں ایک جاسوس کو شناخت چھپانے اورپوشیدہ ہونے کو کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ درجنوں احتیاطیں برتنا پڑتی ہیں ۔آنکھیں چار نہیں ،آٹھ رکھنا پڑتی ہیں ۔کسی اجنبی پر بھروسا نہیں کیا جاتا،کسی انجان کو اعتبار کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔جیسے زخمی شیر کا تعاقب کرنے والا شکاری پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے،یونھی ایک جاسوس کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے ہزاروں امکانات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔بہ قول میرے ....”عاشق و جاسوس میں ایک قدر مشترک ہے کہ دونوں کو کم ہی بچتے دیکھا گیا ہے۔“
گو میں پختہ جاسوس نہیں ہوں اور نہ میری تربیت اس نہج پر ہوئی تھی۔ایک سنائپر اور جاسوس کے مقاصد اور ذمہ داریوں میں نمایاں فرق ہوتا ہے، مگر ایک سنائپر کی تربیت میں جاسوسی کے طریقہ کار کو زیر بحث ضرور لایا جاتا ہے۔گو جاسوسوں کو سنائپر بننے کی نہ ضرورت پڑتی ہے اور نہ اس متعلق کچھ سکھایا جاتا ہے مگر سنائپر کا ہر فن مولا ہونا ضروری ہوتا ہے۔وہ نہ صرف اچھا نشانہ باز ہوتا ہے بلکہ،جاسوس،جنگجو،کمانڈواوراچھا لڑاکا بھی ہوتا ہے۔اسے صرف جنگلوں ،پہاڑوں اور صحراﺅں کی خاک چھاننا نہیں ہوتی بلکہ شہروں اور حساس مقامات سے بھی واسطہ پڑ سکتا ہے۔آبادی میں زندگی بچانے کے اصول دشت و بن سے بالکل مختلف ہوتے ہیں ۔مجھے پہلے بھی چند بار جاسوس بننے کا موقع مل چکا تھا۔اس لیے تربیت سے زیادہ میرا عملی تجربہ ہو چکا تھا۔
وہ عمارت کافی کشادہ تھی۔دروازے پر چوکیدار موجود نہیں تھا۔گھنٹی کے جواب میں ایک خرانٹ بڑھیانے دروازہ کھولا۔ہمارا مطمحِ نظر جان کر داخل ہونے کی اجازت ملی۔وہ بیوہ تھی اور دو بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھی۔بیٹیوں ہی کی وجہ سے وہاں کسی چھڑے کو رہنے کی اجازت نہ تھی۔وہ لورا کو میری بیوی سمجھی تھی۔میں نے بھی اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہ کی۔ہدایتوں ،نصیحتوں اور مختلف احکامات سے بھرا بھاشن دے کر اس نے ایک ماہ کاپیشگی کرایہ وصول کیا اورہمیں ایک کمرہ مل گیا،جس میں ملحقہ بیت الخلاء(اٹیچ باتھ)کی سہولت موجود تھی۔کھانے پینے کے اخراجات علیحدہ تھے۔ہمارے علاوہ وہاں تین اور کرایہ دار بلکہ کنبے بھی موجود تھے۔
رات گہری ہو گئی تھی،جسم تھکن سے چور تھا۔ناگفتہ بہ حالت کے ساتھ دن بھر کی بھاگ دوڑ اور بے آرامی نے نڈھال کر دیا تھا۔ایک سنائپر کی سخت جانی اور برداشت ہی تھی جو میں اب بھی قدموں پر چل رہا تھا۔ اگر جسمانی لحاظ سے تندرست ہوتا تویہ بھاگ دوڑ مذاق سے بڑھ کر نہ لگتی۔
جلادوں نے سامنے سے زیادہ میری پشت کو تشدد کا نشانہ بنایا تھاتبھی مرہم لگوانے کو مجھے لورا کی خدمات حاصل کرنا پڑیں ۔وہ خوش دلی سے تیار ہو گئی۔میری پیٹھ پر مرہم ملتے ہوئے و ہ پوچھنے لگی۔
”خرانٹ بڑھیانے کافی لمبی تفتیش کی ہے۔“
میں مسکراتے ہوئے اسے بڑھیا کے اندیشے بتانے لگا۔ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ ہمیں میاں بیوی سمجھ رہی ہے۔
”ریجا،سدھر جاﺅ۔“وہ میری پیٹھ پر مکا رسید کرتے ہوئے برہم ہوئی۔
”افف....“میری کراہ نکل گئی تھی۔”عقل کی دشمن،میں نے بڑھیا کی سمجھ بتائی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”تمھاری نیت کواچھی طرح جانتی ہوں ۔“
میں خاموش ہو رہا کہ فضول موضوع پر بحث کرنے کی ہمت نہیں تھی۔اور نہ کسی آزاد خیال مغربی عورت کو سمجھانا ممکن تھا۔
مرہم سے کافی فرق پڑا تھا۔رہی سہی کسر درد کش گولیوں اور طاقت کے شربت نے پوری کر دی تھی۔ میزبان خاتون سے دودھ کا کلو بھی مل گیا تھا۔وہاں دو سنگل بیڈ ملا کر انھیں ڈبل بیڈ کی شکل دی گئی تھی۔میں نے ایک جانب لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں ۔لورا بے تکلفی سے دوسرے بیڈ پر لیٹ گئی۔اس نے اپنا بیڈ دورکھینچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔گولیوں میں شایدسکون آور دوا بھی شامل تھی تبھی، نیند کی آمد میں دیر نہیں ہوئی تھی۔
منظر ایک باغ کا تھا جہاں میں پلوشہ کے زانو پر سر ٹیکے موہنے چہرے کو تک رہا تھا۔اس کا ریشمی لمس مجھے ہوش و خرد سے بے گانہ کر رہا تھا۔ہلکی نیلی آنکھوں میں چاہت کے دیپ جلائے وہ بھی میری طرف متوجہ تھی۔آسمان پر گہرے بادل چھائے تھے۔ہلکی ہوا سکون آور مشروب کی طرح حواس چھیننے پر تلی تھی۔
اس نے ہاتھوں کے پیالے میں میرا چہرہ تھاما۔”راجو مجھے کتنا چاہتے ہو؟“
میں چاہت سے بولا۔”بہت زیادہ۔“
وہ مصر ہوئی۔”پھر بھی کتنا ،کوئی حد شمار تو ہو گا ناں ۔ ہر شیئے کی پیمائش کی کوئی نہ کوئی اکائی مقررہوتی ہے۔تو آپ کی چاہت کی بھی ہونا چاہیے۔“
”محبت وزن نہیں کہ تولی جائے،فاصلہ نہیں کہ ناپی جائے ،گنتی نہیں کہ شمارکی جائے۔یہ تو ایک جذبہ ہے جو احساسات کے مرہون منت ہوتا اور احساس و جذبات کوناپنے کا کوئی آلہ نہیں بنا۔“
وہ شوخی سے بولی۔”یہ تو کہہ سکتے ہیں ناں جتنے آسمان پر تارے ہیں ،سمندر میں قطرے ہیں ،صحرا میں ریت کے ذرے ہیں ،دنیابھر کے درختوں کے پتے ہیں ،جتنا آسمان سے زمین تک فاصلہ ہے اتنی محبت کرتے ہیں ۔“
”آسمان کے تارے ،سمندر کے قطرے ،صحراکے ذرے ،درختوں کے پتے جتنی تعداد میں بھی ہوں انھیں لامحدود نہیں کہہ سکتے۔جبکہ میری محبت کا شمار یا پیمائش ممکن نہیں ہے۔“
وہ لاڈ سے بولی۔”نہیں ناں مجھے حد جاننا ہے۔“
میں ہنسا۔”جتنا مجھے تم چاہتی ہو،اس سے تھوڑی زیادہ کرتا ہوں ۔“
”کھائیے قسم۔“اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا۔
میں خلوصِ دل سے بولا۔”مجھے جہانوں کے پروردگار کی قسم ایسا ہی ہے۔“
خوشی و مسرت سے اس کا چہرہ جگمگا اٹھا تھا۔آنکھوں میں امڈتی بے پناہ چاہت اس سے چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔”اب آپ کو کہیں بھی نہیں جانے دوں گی۔“
”کہیں جانے کو کس بے وقوف کا دل چاہتا ہے۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”میرے راجو کا۔“
میں نے آنکھیں نکالیں ۔”پلوشے بدتمیزی کی تو مار کھاﺅ گی۔“
اس نے مجھے چڑاتے ہوئے للکارا۔”دھمکیاں دیتے رہیے،کبھی ہاتھ اٹھانے کی زحمت نہ کرنا۔“
”تمھاری پٹائی کو پھول کی پتیوں سے بنی چھڑی ڈھونڈ رہا ہوں ،جس دن مل گئی خوب تواضع کروں گا۔“
محبوبیت کا گہرا احساس لیے اس نے وارفتگی بھرے لہجے میں پوچھا۔”اتنا نازک سمجھ رکھا ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”اس سے بھی زیادہ۔“
وہ اشتیاق سے پوچھنے لگی۔”اچھا کتنا۔“
ایک شاعر اپنی محبوبہ کو کہتا ہے ناں ....
اس کو باہر چھوڑ کے آﺅ شہزادی
جگنو سے نہ ہاتھ جلاﺅ شہزادی
تتلی کے میں کان یقینا کھینچوں گا
پہلے پوری بات بتاﺅ شہزادی
بارش کی بوندوں میں پھرنا ٹھیک نہیں
لگ جائے نہ کوئی گھاﺅ شہزدی
پلوشہ کے موہنے رخ پرحیا آلود تبسم نمودار ہوا۔اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے موضوع تبدیل کیا۔ ”راجو!بارش ہونے کو ہے۔“ایک دم ہلکی پھوار شروع ہو گئی تھی۔
منظر معدوم ہوا ،میں میری سماعتوں میں لورا کی آواز گونجی۔”ریجا اب اٹھ بھی جاﺅ۔“زلفیں جھٹک کر اس نے میرے چہرے پر پانی کی پھوار پھینکی تھی۔وہ نہا کر ایک دم تازہ و کھلی کھلی لگ رہی تھی۔ شکلا کی درندگی کے نشانات اس کے چہرے پرسے معدوم ہو گئے تھے۔
میں انگڑائی لیتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔پلوشہ کی موہنی صورت کے خوش کن نظارے نے لورا کی اہمیت صفر کر دی تھی۔
”اب طبیعت کیسی ہے؟“وہ بالوں پر تولیہ رگڑتے ہوئے مستفسر ہوئی۔
”الحمداللہ بہتر ہے۔“
وہ الحمداللہ کی وضاحت چاہنے لگی۔” آدھی بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔“
میں نے کہا۔”مسلمان ہر کام کا ہونا اللہ پاک کی منشا کے تابع سمجھتے ہیں ۔“
اس نے طنزیہ لہجے میں چوٹ کی۔”تو گزشتہ چند دن تمھیں جو پھینٹی لگی،اس میں تمھارے اللہ (پاک) کی مرضی شامل تھی۔“
میں فخریہ لہجے میں بولا۔”بے شک،کوئی کام اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”تو اللہ (پاک )اپنے بے گناہ بندے کو پھینٹی لگوانے پر کیوں خوش ہے۔اور جو بندہ اس کے وجود کو تسلیم نہیں کرتااس کی مدد کیوں کر رہا ہے۔ایک عورت کبھی اپنی تذلیل پر راضی نہیں ہوتی، توکیوں کسی درندے کوعورت پر دسترس پانے کی ہمت دیتا ہے۔“
”تصویر کا ایک رخ دیکھو گی تو ایسے احمقانہ سوال تمھارے ذہن میں پیدا ہوں گے۔اور یاد رکھناایک چھوٹا سا سوال بہت بڑے اور تفصیلی جواب کا متقاضی ہوتا ہے۔زندگی گزارنے کا ڈھنگ کسی ایک فقرے میں ذہن نشین نہیں ہو سکتا۔مختصراََ یہ سمجھ لو کہ دنیا دارالعمل ہے، دار الجزا نہیں ہے۔اچھائی برائی کا بدلہ ضروری نہیں کہ انسان کو زندگی ہی میں مل جائے۔البتہ ایسا ہونا ناممکن نہیں ہے۔اللہ پاک نے انسان کو دوراستے بتا دیے ہیں ۔نیکی و بدی کی تمیز سمجھا دی ہے۔ جو غلط کرے گا وہ ناکام و نامراد ہوگا اور جواللہ پاک کے بتائے طریقے پر زندگی گزارے گا وہ کامیاب و کامران ہو گا۔بے شک بہ ظاہر وہ ناکام ،مفلس،نادار اور ستم رسیدہ نظر آئے۔ہماری کامیابی کے معیار اور ہیں ۔فتح کا حصول کامیابی کو ظاہر نہیں کرتا۔جیسے سیدنا عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکانے والے ظاہری طور پر کامیاب نظر آرہے ہیں تو کیا انھیں حق پر سمجھا جا سکتا ہے۔یونھی بہت ساری سزائیں انسان کو اپنے اعمال و گناہوں کی وجہ سے بھی ملتی ہیں ۔بلاشبہ اللہ پاک حکیم و خبیر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ “
”جب تمھارااللہ(پاک)ہر چیز پر قادر ہے تو وہ ظالم کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتا۔اس سے توفیق کیوں نہیں سلب کرتا۔اور تمھارے قاعدے کے مطابق تو ہم دونوں کو اپنے کیے کی سزا ملی۔شاید تم نے گناہ کیے ہوں ، لیکن مجھے اپنی زندگی میں ایسا کام نظر نہیں آتا جسے میں گناہ سمجھ سکوں ۔“
”دنیا کی زندگی بہ طور آزمائش ملی ہے۔اللہ پاک نے اپنی مخلوق کا امتحان لینا ہے۔اگر ظالم کو اسی وقت بدلہ مل جائے ،مظلوم کی داد رسی ہو جائے توامتحان کیسا؟....یوں تو ہر شخص ولی بن جائے گا۔کوئی برا دنیا میں باقی نہیں رہے گا۔جبکہ اللہ پاک کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے زندگی و موت کو اس لیے پیدا کیا کہ تمھارے اعمال و افعال جانچ سکوں کہ کون اچھائی کرتا ہے اور کون برا رستہ اختیار کرتا ہے۔اور پھر اسی بل بوتے پر آخرت میں حساب کتاب ہوگا۔باقی ضروری نہیں کہ ہر کسی کو گناہ کی وجہ ہی سے دنیا میں آزمائش کا سامنا ہو۔اللہ پاک کے نیک بندوں پر زیادہ مصیبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں ۔اور سچ کہوں تو تم جانتی ہی نہیں ہو گناہ کیا ہے تو ایسا دعویٰ کیسے کر سکتی ہو۔“
وہ للکارتے ہوئے بولی۔”چلو ،تمھی بتادومیں نے کیا غلط کیاہے؟“
”تم ننگے سر،نصف بازوﺅں کی بنیان میں ایک غیر مرد کے سامنے کھڑی ہو ،اسلامی نقطہ نظر سے یہ گناہ ہے۔شاید ماضی میں اپنی مرضی سے تم نے کئی مردوں سے جسمانی تعلقات قائم کیے ہوں وہ بھی بہت بڑا گناہ ہے۔شراب پینا،خنزیر کا گوشت کھانا،جوا کھیلنا،یہ تمام وہ گناہ ہیں جو یقینا تم کرتی رہی ہو۔“
وہ کھل کھلا کر ہنسی۔”اپنی مرضی سے میں صرف نک کے ساتھ سوئی تھی۔مگر وہ گناہ کیسے ہوا۔میرا اپنا جسم ہے جسے چاہے سونپ دوں ۔تمھاری بھی دو بیویاں ہیں کیا وہ تمھارے قریب نہیں آتیں ۔شراب پینا مجھے اچھا لگتا ہے تو غلط کیسے ہوا،تم بھی تو پیپسی،سیون اپ،مرنڈا اور جانے کون کون سے مشروب پیتے ہو۔گائے بکری کا گوشت تم بھی کھاتے ہو تو خنزیر کا گوشت کیوں گناہ ہوا۔اور جواءکھیلنے والا فائدہ حاصل کرنے کو کھیلتا ہے،تو فائدے کے حصول میں ممانعت کیسی۔باقی نقصان تو کاروبار میں بھی ہوجاتا ہے تو کیا تجارت بھی گناہ ہے۔“
”تم برطانوی فوج کی آفیسر رہ چکی ہو کبھی پاکستان آرمی کی وردی پہننے کا اتفاق ہوا؟“
وہ استہزائی اندز میں بولی۔”موضوع سے نہ بھاگو۔“
”بھاگ نہیں رہا۔جواب ادھار ہے،پہلے تم میرے سوال کا جواب دو۔“
”پاکستان آرمی کی وردی میں کیوں پہنوں گی۔وہ برطانوی فوج کی وردی سے بہتر تو نہیں ہے۔باقی قانوناََ بھی میں ایسا نہیں کر سکتی تھی۔“
”اللہ تمھارا بھلا کرے میں بھی یہی سمجھانا چاہتا تھا۔جیسے برطانوی فوج کا سپاہی ہونے کی وجہ سے تم پر کچھ ایسے قوانین لاگو تھے جو عام آدمی پر نہیں ہوتے۔اور ان قوانین کی مخالفت کرنے پرسزا بھی ملتی ہے۔بلکہ تمھیں تو کورٹ مارشل کی صورت مل بھی چکی ہے۔اور یقینا اس کی وجہ قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔بعینہ ایک مسلمان کلمہ پڑھنے کے بعد اللہ پاک کے احکامات کے تابع ہو جاتا ہے۔اس کے لیے اللہ پاک کے ممانعات سے بچنا ضروری ہوجاتا ہے۔گناہ وثواب کے فلسفے کی بڑی حکمت اللہ پاک کی مرضی ہے۔اللہ پاک نے اجازت دی کہ نکاح پڑھانے کے بعد ایک عورت تمھارے لیے حلال ہو گئی تواب اس عورت کی قربت گناہ کے بجائے ثواب ہوگی۔اسی طرح ہر وہ مشروب جو نشہ دے وہ حرام ہے،یونھی کچھ جانوروں کا گوشت کھانا منع ہے کچھ کی اجازت ہے۔ایسا کیوں ہے اس کا جواب تفصیل طلب ہے۔ایک مسلمان کے لیے اتنا جاننا کافی ہے کہ اللہ پاک نے فلاں کی اجازت دی ہے اور فلاں سے منع فرمایاہے۔جیسے فوج کا قانون حکم بتاتا ہے اس کی حکمت واضح نہیں کرتا۔چند ٹکوں کے حصول کی خاطر فوج کے قانون پر اعتراض نہیں کرتی ہو اور جس نے پیدا کیا،اتنی نعمتوں سے نوازا اس کا منع کرنا تمھارے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا۔“
وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔”میں اللہ (پاک)کو نہیں مانتی۔اگر وہ واقعی موجود ہے تو مجھے سزا کیوں نہیں دیتا۔“
”اللہ پاک خود آکر کسی کو سزا نہیں دیتا۔وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو مسلط کرتا ہے،جیسے تم پر شکلا کو مسلط کیا۔“مجھے غصہ آیا اور جو منہ میں آیا اگل دیا۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top