Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سپاٹر۔۔۔۔۔سنائپر پارٹ دو ۔۔۔ریاض عاقب کوہلر

Man mojiMan moji is verified member.

Staff member
Super Mod
Joined
Dec 24, 2022
Messages
11,317
Reaction score
358,552
Location
pakistan
Gender
Male

قسط نمبر 1
ریاض عاقب کوہلر
(دشمنوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دینے والے نشانہ باز کے ہنگامہ خیز شب و روز)
”ٹخ ٹخ ٹخ ....تڑتڑتڑ........“ایک دم تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔میری آنکھ پہلی گولی ہی سے کھل گئی تھی۔اور بلا شک و شبہ وہ روزمرہ کا تلاشی فائر نہیں تھا۔(تلاشی فائر سے مراد دفاع لی ہوئی فوج کا وہ فائر ہوتاہے جو دشمن کی موجودی کے خطرے کو مدنظر رکھ کر سنتری دشمن کو تاڑے بغیر اندازے سے کرتا ہے ایسا فائرفقط شک دور کرنے کو کیا جاتا ہے )
ساتھ والے بسترپر لیٹا سردارخان بھی اٹھ بیٹھا تھا۔گولیاں رہائشی مورچے کی غربی دیوار سے ٹکرائیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بہت قریب سے گولیاں چلائی گئی ہوں۔کلاشن کوف اٹھاتے ہوئے وہ اطمینان سے بولا۔
”راجے !بہتر ہو گا کہ کلمہ شہادت دہرا لے۔“
میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔”تم جیسے خان ہی پٹھانوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں کہ گولیوں کی آواز پر تمھیں کلمہ شہادت ہی بھول گیاہے۔“
فوجی جوانوں نے جوابی فائرنگ شروع کر دی تھی۔ نمایاں آواز”رانی“ کی تھی۔پاک آرمی کے جوان” ایل ایم جی “کو پیار سے رانی کہتے ہیں۔اور بلاشبہ یہ میدان جنگ کی رانی ہے۔ایک منٹ میں گیارہ سوسے تیرہ سو گولیاں فائر کرنے والی ایسی گن جس کی آواز سن کر ہی دشمن پر لرزہ طاری ہو جائے۔یہ تیز ترین ریٹ آف فائر والی گن ہے اور اسی وجہ سے اس کے ساتھ دو بیرل استعمال کی جاتی ہیں۔جونھی ایک بیرل گرم ہو تی ہے فی الفور دوسری بیرل ڈال دی جاتی ہے۔بیرل تبدیل کرنے کا طریقہ کار نہایت سادہ اور آسان ہے اور اس پر سیکنڈ بھر سے زیادہ وقت بھی خرچ نہیں ہوتا۔
وہ جھکے جھکے دروازے کے قریب ہوا۔”کلمہ شہادت کی تلقین تمھاری آخرت سنوارنے کو کی ہے،ورنہ تمھارے کالے کرتوتوں سے بعید ہے کہ تمھیں کلمہ پڑھنا یاد رہے۔“
وہ وقت لفظوں کی گولہ باری کے بجائے عملی اقدام کا تھامیں خاموشی سے اس کی تقلید کرتے ہوئے دروازے کے قریب ہو گیا تھا۔ ایل ایم جی کے ساتھ کلاشن کوفوں کی تڑتڑاہٹ بھی جاری تھی۔سردار دروازہ کھولنے سے پہلے چھاتی کے بل لیٹ گیا تھا۔ میں نے روشنی بجھا دی۔ رات کے وقت سب سے اچھا ہدف روشنی ہی بنتی ہے۔اور پھر لکڑی کا دروازہ بھی گولی کے خلاف کوئی آڑ مہیا نہیں کرتا۔
عموماََایکشن فلموں میں ہیرو صاحب کسی میز وغیرہ کی آڑ لے کر گولیوں کی بوچھاڑ سے یوں بچ جاتا ہے جیسے بکتر بند میں پناہ لے رکھی ہو۔اور میز کی موٹائی بھی ایک ادھ انچ سے کم ہوتی ہے۔یاد رکھیںنو دس انچ تک موٹی لکڑی بھی فائر کے خلاف آڑ مہیا نہیں کرتی،تو ایک ادھ انچ موٹی لکڑی کیسے گولی کو روک سکتی ہے۔
رہائشی بینکر کے سامنے فائری خندقیں بنی تھی۔میدانی علاقے میں ایسی خندقیں زمین کو کھود کر بنائی جاتی ہیں اور کھدائی سے جو مٹی نکلتی ہے وہ خندق کے سامنے بند کی صورت ڈھیر کر دی جاتی ہے۔لیکن پہاڑی علاقے میں کھدائی نہیں کی جا سکتی اور پتھروں کی دیوار بنا کر فائری خندق بنائی جاتی ہے۔ تاکہ نقل و حرکت کو دشمن کے فائر اورنگرانی سے محفوظ رکھاجا سکے۔
فائری خندق رہایشی بینکر سے ذرا نشیب میں بنی تھی ،ہم وہاں تک کھڑے ہو کر نہیں جا سکتے تھے۔ پہاڑوں پر مورچے اور رہائش بنانے میں سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں جگہ اجازت دیتی ہے وہاں دیوار کھڑی کر دی جاتی ہے۔رہائشی بینکر کی دیواریں بنانے کو تو جگہ مل جاتی ہے لیکن فائری خندقوں کی مسلسل دیوار بنانے کو کافی احتیاطوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔وہ دیوار بھی کمرو ں سے ذرا نشیب میں تھی اور لیٹ ہی کر گولیوں کی بوچھاڑ سے بچا جا سکتاتھا۔
ہم کرالنگ کرتے ہوئے نیچے پہنچے۔کلاشن کوفوں کے دہانے بارش کے قطروں کی طرح گولیاں اگل رہے تھے۔دہشت گردوں کی بڑی تعداد حملہ آور ہوئی تھی،دہشت گردوں کی فائرنگ کا عمومی طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ،آڑ میں رہتے ہوئے کلاشن کوف کی نال(بیرل) کو ہدف کی جانب سیدھا کر کے حفاظتی لیور(سیفٹی) کو خودکار (آٹومیٹک) حالت پر رکھ کر لبلبی (ٹریگر)دبا دیتے ہیں۔اور جب تک میگزین خالی نہیں ہوجاتی لبلبی سے انگلی نہیں اٹھاتے۔پہلے بھی بتایا جاچکا ہے کہ کلاشن کوف کے ساتھ مختلف قسم کی میگزینیں استعمال ہوتی ہیں جن میں تیس، چالیس اور پچھتر گولیوں کی میگزینوں کااستعمال عام ہے۔کلاشن کوفوں کے گرجنے کے ساتھ ایل ایم جی اور جی تھری کا دھاڑنا بھی شروع تھا۔
ہم اس وقت ”کیو جے ٹاپ“ پر موجود تھے۔شوال وادی عبور کرنے کے بعد ایک مسلسل پہاڑی سلسلہ ہے جو شمالاََ جنوباََ پھیلا ہواہے۔اس کے سامنے وسیع اور چوڑا نالہ ہے جس کی چوڑائی تقریباََ ساڑھے چار پانچ کلومیٹر کے بہ قدر ہوگی۔نالے کا زیادہ تر حصہ خشک ہے اوردرمیان میں بہت کم مقدار میں پانی بہہ رہا ہے جس کا بہاﺅ جنوب سے شمال کی جانب ہے۔اسے افغان نالہ کہا جاتا ہے۔یہ صرف کہنے کی حد تک نالہ ہے ورنہ اس کی وسعت کسی بھی طرح چوڑی وادی سے کم نہیں ہے۔نالے میں چھوٹی چھوٹی ٹیکریاں اور پتھر کی چٹانیں بکثرت پھیلی ہیں۔ جتنی کثرت سے چٹانیں اور ٹیکریاں پھیلی ہیں اس سے زیادہ تعداد میں دہشت گردوں کی ٹولیاں اکٹھی ہوئی ہیں۔جوآرمی کے خلاف تو کارروائیاں کرتے ہی ہیں معصوم مقامی لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
نالہ عبور کر کے ایک اور پہاڑی ہے۔جو کیو جے ٹاپ کے متوازی شمال سے جنوب کی طرف پھیلی ہے۔اس کے بلند مقام کا نام بامک ٹاپ ہے۔بامک ٹاپ کی بلندی قریباََگیارہ بارہ ہزار فٹ ہے۔اور شمالاََ جنوباََ اس کی بلندی بتدریج کم ہوتی ہوئی زمین سے مل جاتی ہے۔اس سے ملحق جنوب کی جانب افغانستان کے شہر لمن کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔اور شمال کی جانب ایک بڑا گاﺅں گرش خیل کلے ہے۔گرش خیل کلے میں امریکی فوج کی ایک چھاﺅنی بھی موجود ہے،جبکہ لمن شہر کے شمالی جانب انڈیا کی ایک پوسٹ ہے۔اورحقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردوں کے اصل ماخذ امریکی چھاﺅنی اور انڈین پوسٹ ہی ہیں۔بامک ٹاپ پر بھی دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں۔انڈیا ہماری سرحد کو کسی صورت محفوظ نہیں دیکھ سکتا اور باڑ کو مکمل ہونے سے روکنے کو مسلسل دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا ہے۔بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ عموماََ انڈیا کے سنائپر بھی پاکستان آرمی کے خلاف مصروف کارنظر آتے ہیں۔سنائپنگ کے علاوہ گاہے گاہے جسمانی حملے بھی ہوتے رہتے ہیںجن کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔
پہلے سرداراور میںانگوراڈے سے جنوب کی جانب لکواڑاسیکٹر میں تعینات ہوئے مگر وہاں سنائپر حملے قلیل تعداد میں ہوتے تھے،تبھی ہماری ضرورت کیوجے ٹاپ پر محسوس کی جانے لگی اور ہم یہاں پہنچ گئے تھے۔ دو ہفتے ہونے کو تھے،دن بھر مورچے میں لیٹ کر دشمن کے سنائپروں کو تاڑتے اور شام کو رہائشی بینکر میں گھس کر آرام کرتے۔ہماری آمد کے بعد یہ دہشت گردوں کا پہلا جسمانی حملہ تھا۔
فائری خندق میں اترتے ہی سرداردوڑ کر قریبی مورچے میں پہنچا۔ خندق میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مورچے بنے ہوئے تھے۔ایک مورچے کے موکھے (Loop Holes)پر کلاشن کوف کی نال ٹیک کرسردار جوابی فائر کرنے لگا۔میں نے بھی اس کے دائیں جانب پوزیشن سنبھالی۔حملہ آور کافی قریب پہنچ چکے تھے۔اور ان کے چھپ کر قریب پہنچنے میں سنتریوں کی غفلت کے بجائے علاقائی خدوخال کا ہاتھ تھا۔ورنہ اس علاقے میں پہرے دار سستی یا غفلت کا شکار نہیں ہو سکتے۔درختوں کے جھنڈ،ابھری ہوئی ڈھلانیں اور اوجھل زمین چھپ کر حرکت کرنے کو نہایت معاون و مددگار ہوتی ہیں۔خاص کر اندھیرا تو دشمن کے لیے قریبی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔
سردار کے فائر کے ساتھ ہی گولیوں کی بوچھاڑخندق کی دیوار سے ٹکرائی،سر نیچے کرتے ہوئے وہ میری طرف متوجہ ہوا۔
”تمھاری کلاشن کوف گونگی ہے۔“
”کوئی نظربھی آئے یا گولی ضائع کر دوں۔“میں نے منہ بنایا۔
”نشانہ بازی کا مقابلہ نہیں ہے حضور!ایسے موقع پر اندھا دھند فائر نگ کی جاتی ہے۔“
میں ہنسا۔”اندھا دھند فائر، اندھے کرتے ہیں۔“
وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”اندھوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اندھا بننا پڑتا ہے۔“
”بغیر ہدف دیکھے جب بھی ٹریگر دبانے لگوں تصور صاحب کا تنبیہ بھراوعظ سماعتوں میں گونجنے لگتا ہے۔“
سردار نے موکھے سے بیرل نکال کر ایک چھٹا (برسٹ) گولیوں کا نکالا۔”وہ خود تو صوبیدار میجری کے مزے لوٹ رہے ہیں اور تم ان کے نصائح کی خاطر اپنا نقصان کرانے پر تیار بیٹھے ہو۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”استاد کی نصیحتوں پر عمل کرنے سے کم از کم نقصان نہیں ہوسکتا۔“ایک دم فائرنگ میں تیزی آئی،ہمیں موکھے کے سامنے سے ہٹنا پڑا۔ہمارے دائیں جانب مورچے میں بھی دو جوان موجود تھے۔ان کے پاس ایل ایم جی تھی۔اور وہ درمیانے چھٹے فائر کر رہے تھے۔(ایک تربیت یافتہ فائرر ایل ایم جی استعمال کرتے وقت چار اقسام کا فائر کرتاہے۔آہستہ،درمیانہ،تیز اور لگاتار۔ایک بار ٹریگر دبانے سے گن کے دھانے سے نکلے والی گولیوں کی تعداد کو فائری چھٹا یا برسٹ آف فائرکہتے ہیں۔اور فائری چھٹے میں گولیوں کی تعداد کا انحصار ٹریگر دبانے کی مدت پر منحصر ہے۔ایل ایم جی کا ریٹ آف فائر اتنا تیز ہے کہ ایک منٹ ٹریگر کو دبا کر رکھیں تو 1100سے1300گولیاں فائر کر دیتی ہے اس سے قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چھے سات گولیوں کا چھٹا نکالنے کو ٹریگر کو کتنا دبانا پڑے گا)
وہ دونوں ہم سے چند گز ہی دور تھے۔اچانک تیز کراہ سنائی دی۔سردار فوراََ بولا۔” کام ہو گیا۔“
کراہ میں نے بھی سن لی تھی اور اسی جانب متوجہ تھا۔ایک جوان کندھے کو تھامے نیچے بیٹھ گیا تھا جبکہ دوسرا ٹارچ روشن کر کے زخم کا معائنہ کر رہا تھا۔میں تیزی سے ا ن کی طرف بڑھا، سردار اپنی جگہ ڈٹا رہا۔
زخمی ہونے والے نے گن کی بیرل تبدیل کرنے کو بیرل کیچ کھولا تھا تبھی بھولی بھٹکی گولی نے موکھے سے گزر کر اسے وقتی طور پر ناکارہ کر دیا تھا۔ قسمت اچھی تھی ورنہ تین چار انچ کے فرق کے ساتھ گولی اس کی گردن میں بھی پیوست ہو سکتی تھی۔اور ایسا ہونے پرایک ماں کا بیٹا،بہن کا بھائی،کسی بیوی کا شوہر، ننھے منے بچوں کا ابو، بوڑھے باپ کا سہارامنوں مٹی تلے پہنچ جاتا۔اور ننھے بچوں کے اپنے باپ کے متعلق استفسار کر نے پر جوان بیوہ اور بوڑھی دادی کے آنسوان معصوموں کی سمجھ سے باہر ہوتے۔
اس کا نام دلدار تھااور وہ بچ گیا تھا،لیکن ایسے کئی دلدار میں نے ارض پاک پر قربان ہوتے دیکھے ہیں۔لاش گھرآتی ہے تو کسی کا سر نہیں ہوتا اور کسی کادھڑ نہیں ملتا۔لکڑی کے ایک تابوت میں خاکی وردی کی چند دھجیاں لپیٹ کروالدین کے بہلانے اور ان کی محبت کو مرکز مہیا کرنے کا حیلہ کر دیا جاتا ہے اور وطن کی خاطر جان دینے والے کے گوشت کے لوتھڑے اور وفادار خون اپنی مٹی میں ایسے خلط ہوجاتا ہے کہ سرخ اور خاکی کی پہچان مٹ جاتی ہے۔
میں نے دلدار کا زخمی کندھا تھامتے ہوئے اس کے ساتھی اسلم کو کہا۔”کیو سی بی لے آﺅ۔“(Quick Combat Bandageآرمی میں ہر جوان کو مہیا کی جاتی ہے۔یہ حادثاتی چوٹ اور گولی وغیرہ لگنے سے بہتے خون کو روکنے کو ابتدائی طبی امداد کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔اسے سادہ زبان میں فیلڈ پٹی بھی کہتے ہیں )
”میرے پاس موجود ہے۔“اس نے اپنے بنڈوریل (ہتھیار کی اضافی میگزینیں رکھنے اور چھاتی و پیٹھ کوگولی سے بچانے کو بلٹ پروف پلیٹیں ڈالنے کا جیکٹ نما پہناوا۔اسے عموماََ بلٹ پروف جیکٹ کہتے ہیں)کی جیب سے ”کیو سی بی“ نکال کر میری طرف بڑھا دی۔اس اثناءمیں میں نے دلدار کابنڈوریل اتار دیا تھا۔ حفاظتی پلاسٹک ہٹا کر میں نے نر م پٹی زخم کے منہ پر دبا کر رکھی اور پٹی کو مہارت سے لپیٹ دیا۔
دلدار ہوش میں تھا۔میں نے اسلم کو کہا۔”اسے سہارا دے کر رہائشی بینکر میں لے جاﺅ۔“
اس نے اثبات میں سر ہلا کر اپنی جی تھری کندھے سے لٹکائی اور دلدار کے ساتھ فائری خندق میں آگے بڑھ گیا۔اس حالت میں بھی جوان نے اپنا ہتھیارپیچھے چھوڑنا گوارا نہیں کیا تھا۔
میں نے ایل ایم جی میں بیرل ڈال کر بیرل کیچ بند کیااورفیڈ ٹرے میں گولیوں کا بیلٹ چڑھادیا۔ ایل ایم جی میں گولیوں کا بیلٹ چڑھتا ہے اور ایک بیلٹ میں اڑھائی سوگولیاں آتی ہیں۔
سردارقریب آیا۔”راجے !میں تمھیں ایل ایم جی کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔تم وہ نمونے ہو جو بارہ بور سے بھی ایک ایک چھرہ فائرکرنے کی کوشش کرو گے۔“
”خان صاحب آپ ہی شوق پورا کر لیں۔“میں نے پیچھے ہو کر کلاشن کوف اٹھا لی۔
سردار نے اپنی کلاشن کوف دیوار کے ساتھ کھڑی کی اورایل ایم جی کا بٹ کندھے میں پھنسا لیا۔لبلبی دبا کر اس نے ایک لمبا چھٹا نکالا۔اسی وقت دو تین اور ایل ایم جی بھی گرجیں،سامنے سے آنے والا فائر لمحہ بھر کو رک گیا تھا۔
اسلم دلدار کو پہنچا کر واپس لوٹا۔
میں نے کہا۔”تمھیں دلدار کے ساتھ ہی رہنا چاہیے تھا۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”نرسنگ حوالدار واجد کے حوالے کرآیا ہوں۔“
آرمی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہر پیشے کے صیغے اس میں موجود ہیں۔علاج معالجے کو میڈیکل کے نمائندے،ہتھیاروں کی دیکھ بھال کو آرمورر،گاڑیوں کی مرمت کومکینک،سڑکیں،پل وغیرہ بنانے کو انجینئرز وغیرہ۔
میں نے پوچھا۔” شبِ دید عینک (نائیٹ ویژن سائیٹ) مل جائے گی۔“
اسلم نے اثبات میں سرہلایا۔”اے این،پی وی ایس۔فور الفا (AN/PVS-4A)موجود ہے۔“
خوشی کا اظہار کرتے ہوئے میں سرعت سے بولا۔”لے آﺅ۔“اس کا ہیولہ دوبارہ اندھیرے کا حصہ بن گیا تھا۔اس کی واپسی تک میں سردارکی فائرنگ سے محظوظ ہوتا رہا۔ایک بیلٹ ختم کر کے اس نے دوسرا چڑھا لیا تھا۔اسلم کے آنے تک دوسرا بیلٹ بھی ختم ہونے کے قریب تھا۔اسلم سے شب دید عینک لے کر میں نے بیٹریاں ڈال کر آن کیا۔اور سائیٹ ایل ایم جی پر لگا دی۔”اے این، پی وی ایس فورالفا“ سیکنڈ جنریشن سے تعلق رکھتی ہے۔(شب دید آلات کی اقسام کے متعلق میں سنائپر میں وضاحت کر چکا ہوں کسی کو جاننے کا شوق ہو تو وہاں پڑھ سکتا ہے)
مورچے کا موکھا اتنا چوڑا نہیں تھا کہ شب دید آلہ لگانے کے بعد بھی دکھاﺅ کی سہولت مہیا کرتا۔سردار نے کہا۔”گن کسی اور جگہ لگانا پڑے گی۔“
فائری خندق میں بغیر چھت کے مورچے بنے ہوئے تھے۔یوں کہ خندق کی دیوار میں جگہ جگہ موکھے بنا کر انھی سے مورچوں کا کام لیا جاتا۔البتہ پوسٹ کے چاروں کونوں میں ایک ایک بڑا مورچہ بنا ہوا تھا۔ وزیرستان میں پاک آرمی کو ایک مسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ دشمن کی سمت متعین نہیں ہے۔بہ ظاہر تودشمن مغربی جانب تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہرے داروں کو چاروں اطراف کی نگرانی کرنا پڑتی ہے۔پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے دفاع میں چور رستے موجود ہیں کہ دشمن کو سرحد پار کرنے کو اتنا جوکھم نہیں اٹھانا پڑتا۔پھر آستین کے سانپ بھی موجود ہیں اور انھیں چھپنے کو کئی ٹھکانے میسر ہیں۔
گن اٹھا کرہم نے مزید دائیں جانب حرکت کی اور شمال مغربی مورچے کی چھت پر چڑھ گئے۔اسلم کو ہم نے وہیں چھوڑ دیا تھا۔مورچے کی چھت پر گولی لگنے کا زیادہ خطرہ تھا،مورچے کے اندر نائب صوبیدار اختر صاحب موجود تھا۔اس نے ہمیں روکنے کی کوشش کی مگر ہم با اصرار چھت پر چڑھ گئے تھے۔فوج میں جونئیر سینئر کی تمیز اور نظم و ضبط کا اعلیٰ معیار مقرر ہے۔سینئر کے منع کرنے پر بھی اپنی مرضی پر چلنے کا تصورکسی اور محکمے میں تو ہو سکتا ہے فوج میں نہیں۔لیکن وہاں ہماری الگ حیثیت تھی۔ہم براہ راست میجر نعیم کے زیر کمان تھے۔ (میجرنعیم ،میجر اورنگ زیب کی جگہ تعینات ہوئے تھے،جو اب لیفٹیننٹ کرنل بن چکے تھے )
اختر صاحب ہمیں نصیحت تو کر سکتا تھا حکم دینے کا مجاز نہیں تھا۔پوسٹ کمانڈر کے لیے ہماری حیثیت مہمان کی سی تھی، تبھی اس نے زیادہ اصرار نہیں کیا تھا۔وہ فرنٹیر فورس بیج کی ایک مایہ ناز یونٹ تھی۔میجر نعیم سے ہمیں وائرلیس سیٹ پر احکامات موصول ہوتے تھے۔یا یونٹ کے نمبر پر کال آجاتی تھی۔افغانستان کی موبائل فون سروس جیسے AWCC (افغانستان وائرلیس کیمونی کیشن)ADIAاور روشن وغیرہ کے سگنل وہاں آتے تھے،مگر ہم نے ان کے کنکشن خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی کہ ان کے بغیر بھی کام چل رہا تھا۔
مورچے کی چھت پر حفاظتی نقطہ نظرسے خطرہ تھا لیکن دکھاﺅ کے حالات پہلے سے بہتر ہو گئے تھے۔ دہشت گرد یقینا کوئی خاص مقصد لے کر آئے تھے تبھی تو مقابلے پر ڈٹے تھے۔ورنہ عموماََ ان کا حملہ لمحاتی ہوتا تھا۔پہلے ہلے میں جتنا نقصان کر سکتے تھے ،کرتے اور پھر بھاگ جاتے۔ پہاڑی بناوٹیں کسی بھی آدمی کو فرار ہونے کے بہترین مواقع مہیا کرتی ہیں۔درختوں کے جھنڈ،پتھریلی چٹانیں،گڑھے،نالوں کے کھڑے کنارے اورکٹی پھٹی زمین فائری اور نظری ہر قسم کی آڑ مہیا کرتی ہے۔
سردار نے بڑی مشکل سے مجھے ایل ایم جی کے پیچھے لیٹنے کی اجازت دی تھی۔ربڑ آئی شیڈ پر دائیں آنکھ ٹیکتے ہوئے میں نے جونھی دباﺅ ڈالا،آئی لینز کو ڈھانپنے والا والا کور خود کار طریقے سے دائیں بائیں ہوگیا۔ سائیٹ کا اندرونی نظارہ روشن تھا۔ہر طرف سبز سبز نظر آرہا تھا۔مجھے چودھویں کے چاند کی روشنی سے بھی تھوڑا واضح علاقے کے خدوخال دکھائی دے رہے تھے۔یہاں ایک اور بات کی وضاحت کرتا جاﺅں کہ گن اوررائفل کے فائر میں فرق ہوتا ہے۔گن ہمیشہ علاقہ ہدف کو استعمال ہوتی ہے،مطلب گن کا فائر ہدف پر بکھر کر پڑتا ہے۔اور گن کے اہداف آدمیوں کے جتھے،مورچے اور گاڑیاں ہوتی ہیں،اس کے برعکس رائفل کا فائر نقطہ ہدف پر ہوتا ہے۔خصوصاََسنائپررائفل کا فائر عام رائفلوں سے کئی گنا زیادہ درست اور کارگر ہوتا ہے۔وہاں ہمارے پاس سنائپررائفلیں موجود تھیں لیکن ان کے شبِ دید آلات ہم نہیں منگوا سکے تھے۔اور مجبوراََ ایل جی استعمال کرنا پڑ رہی تھی کہ” اے این،پی وی ایس فور الفا“ ایل ایم جی ہی پر استعمال ہو سکتی ہے۔جی تھری،کلاشن کوف یا سنائپر رائفل پر اسے نہیں لگایا جاسکتا۔(اب توایل ایم جی کی نئی سائیٹ بھی آگئی ہے،جو اے این پی وی ایس سے کارکردگی میں کافی بہتر ہے)گو میرے بہت سے قارئین ایسے ہیں جن کا تعلق پاک آرمی سے ہے اور یقینا انھیں میری وضاحتیں بچکانہ لگتی ہوں گی،لیکن جن کا تعلق فوج سے نہیں ہے اور ان میں بڑی تعداد خواتین کی ہے انھیں سمجھانے کو مجھے بہت سی باتوں کی وضاحت کرنا پڑتی ہے تاکہ وہ بھی کہانی سے لطف اندوز ہو سکیں۔کیوں کہ بعض باتیں پڑھنے والے کو الجھا دیتی ہیں،اگر ان کی اچھے سے وضاحت کر دی جائے توقاری کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔اور ایک مصنف کسی مخصوص طبقے کے لیے نہیں سب کے لیے لکھتا ہے،اس لیے جن حضرات کی بصارتوں پر یہ وضاحتیں گراں گزرتی ہوں وہ پیشگی معذرت قبول فرما لیں۔اور ان سطور کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جایا کریں)
دہشت گرد حملہ کرتے ہوئے کافی قریب آچکے تھے۔ان کی تعداد میری توقع سے بھی زیادہ تھی۔دونوں جانب سے گولیاں موسلادھار بارش کی طرح برس رہی تھیں۔اگر آپ میں سے کسی کوفائر کا تجربہ ہوا ہو توپتا ہوگا کہ رات کو فائر کے وقت مزل سے ہلکا سا شعلہ لپکتا نظر آتاہے اور دن کے وقت مزل کے سامنے سے گرد اٹھتی ہے۔اور یہ ہتھیاروں کی ایک بڑی خامی ہے۔پہاڑی علاقوں میں فائر کی آواز سے ہتھیار کی جگہ کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کیوں کہ فائر کی بازگشت چاروں اطراف میں گونج رہی ہوتی ہے۔لیکن شعلے اور گرد سے ماہر افراد ہتھیار کی جگہ معلوم کر لیتے ہیں۔ایک سنائپر کا تو کام ہی یہی ہوتا ہے۔چھت پر لیٹتے ہی سردار نے دو تین جگہوں کی نشان دہی کر دی تھی۔خود مجھے بھی مختلف چٹانوں کے عقب سے شعلے لپکتے محسوس ہو رہے تھے۔ ایل ایم جی کے بیلٹ میں ہر پانچویں گولی ٹریسر ہوتی ہے۔جو ہدف تک روشنی کی لکیر بناتی ہوئی جاتی ہے اور یوں فائررکو اندھیرے میں بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا فائر ہدف پر لگ رہا ہے یایہاں دائیں بائیں نکل رہا ہے۔
دشمن پوسٹ سے قریباََ ڈیڑھ دوسو گز کے فاصلے پر پہنچ کر پتھریلی چٹانوں کے عقب میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔میرے مشاہدے میں کائنات کی بزدل مخلوق دہشت گرد ہیں۔ دولت وغیرہ کے لالچ میں فتنہ فساد تو برپا کیے رکھتے ہیں لیکن وار ہمیشہ چھپ کر کرتے ہیں۔
پاک آرمی کا جوان مخصوص لباس میں متعین جگہ ہی پر پایا جاتا ہے۔اس کی پہچان واضح ہوتی ہے۔ ایسے ہدف پر چھپ کر دور سے چند گولیاں چلادینا یا رات کے اندھیرے میں راستے پر IEDوغیرہ لگا دینے کو اگر کوئی بہادری سمجھتا ہے تو یقینا اس کے دماغ کو علاج کی ضرورت ہے۔
عوام کی اکثریت مجاہدین اور دہشت گردوں میں فرق بھی نہیں کر سکتے۔حالاںکہ ان بھیڑیوں اور آستین کے سانپوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔انڈیا،اسرائیل،افغانستان،امریکہ وغیرہ کی شہہ پر پاک آرمی اور نہتی عوام کو نشانہ بنانے والے یہ درندے کسی صورت مجاہد نہیں ہوسکتے۔افغانستان کے اندر مجاہدوں کا ایک بڑا گروہ کفر سے برسر پیکار ہے۔انھیں بدنام کرنے کوملک دشمن ایجنسیوں نے انسان نما حیوانوں کا ایک گروہ پیدا کیا ہے جو پیسے کی خاطر ملک کیا اپنے رشتہ داروں کو بھی ذبح کرنے سے پیچھے نہ ہٹیں۔یہ ضمیر فروش بھیڑیے، بھیڑوں کے روپ میں ہدف کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور جونھی موقع ملتا ہے بچھو کی طرح ڈنک مار کر چھپ جاتے ہیں۔لیکن الحمداللہ پاک آرمی کی مسلسل کوششوں اور قربانیوں سے ان کی تعداد پہلے سے کئی گنا کم ہو گئی ہے۔اب یہ اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔جیسے ڈوبنے والا بچنے کو بے بسی سے ہاتھ پاﺅں مارتا ہے یہی حالت ان کی ہو گئی ہے۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پاک آرمی کے مجاہدوں نے لتّر مار مار کر انھیں پاکستان کی حدود سے افغانستان کی طرف دھکیل دیا ہے۔اور جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ ان کی مثال آستین کے سانپ کی سی ہے اور ان میں بڑی تعداد پاکستان کے باسیوں پر بھی مشتمل ہے۔
کافی خواتین وحضرات یہ سمجھتے ہیں کہ وزیرستان کے لوگ دہشت گرد ہیں۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔وزیرستان کے لوگ بہت امن پسند اور سچے پاکستانی ہیں۔سادہ دل،محبت کرنے والے،اسلام کے شیدائی،مہمان نواز ،نماز و روزے کے پابند،شرعی پردے پر کاربنداور اس کے علاوہ بھی بہت سی خصوصیات کے حامل۔ اگر اکادکادہشت گردی میں ملوث ہیں تو ان سے کئی گنا زیادہ دوسری قوموں کے افراد دہشت گرد و تخریب کار ہیں۔اس میں پٹھان، پنجابی،سندھی، بلوچی وغیرہ کی تخصیص نہیں ہے۔یوں بھی ایک دہشت گرد کا نہ تو مذہب ہوتاہے اور نہ قوم۔البتہ دہشت گردوں کے پاس پاکستانی شناخت موجود ہے اور اسی وجہ سے یہ اکثر خود کو چھپانے میں کامیاب رہتے ہیں۔بہ ہرحال میں اندھیری رات کے سخت معرکے کا ذکر کر رہا تھا....
”اے این پی وی ایس فور الفا“کی عام آنکھ کی نسبت دیکھنے کی طاقت ساڑھے تین گنا ہے اور چاند ستاروں کی روشنی میں یہ انسانوں کے خلاف ساڑھے چار سو سے سات سو میٹر تک دکھاﺅ مہیا کرتی ہے۔اوراس وقت دشمن ڈیڑھ دو سو کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔البتہ شبِ دید آلہ لگا کر فائر کرنے اور دن کی روشنی میں فائر کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اور سنائپر کو مخصوص رائفل کے بجائے گن استعمال کرنا پڑے تو فائر کی درستی مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔کیوں کہ ایک سنائپر کو بھی فائر کرتے وقت اچھے ہتھیاراوردکھاﺅ کے بہتر حالات کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہماری پوسٹ سے بھی مسلسل فائر ہو رہا تھا اس وجہ سے دشمن آڑ کے پیچھے ہی چھپا تھا۔اگر دن کی روشنی میں میرے پاس سنائپر رائفل ہوتی تو میں اس فاصلے پر دشمن کے کسی بھی عضو کی جھلک پر اسے کامیابی سے نشانہ بنا سکتا تھا ۔لیکن اس وقت میرے لیے کامیاب فائر کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔سب سے قریب ظاہر ہونے والے فائر کے شعلے پر نشانہ سادھ کر میں نے سانس روکا اور لبلی دبا دی۔وہاں ایک درمیانے حجم کے پتھر کا ہیولہ نظر آرہا تھا۔ایل ایم جی کی گرج دوسرے ہتھیاروں کے شور کا حصہ بن گئی تھی۔ فوراََ ہی وہاں سے فائر آنا رک گیا تھا۔پہلے چھٹے کے بعد میں اسی جانب متوجہ ہو کر لیٹا رہا۔
سردار کی طنزیہ آواز گونجی۔”راجے صاحب!خود کو گولی تو نہیں مار دی کہ دو گولیاں نکال کر دم سادھے لیٹے ہو۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”تمھیں نہیں معلوم سنائپر کو کیا انتظار ہوتا ہے۔“
”تمھارے ہاتھ میں ایل ایم جی ہے بادشاہو!اور پہلے بھی عرض کی تھی کہ ایل ایم جی کی بے حرمتی نہ کرنا۔“
میں اس کی بکواس پر کان دھرے بغیر ہدف کی جانب متوجہ رہا۔جلد ہی پتھر کی اوٹ سے مجھے ایک ہیولہ نظر آیا،شاید وہ ساتھی کی مرہم پٹی کر رہا تھایا اسے گھسیٹ کر پیچھے لے جانے کی کوشش میں تھا۔میں نے اس کی چھاتی پر شست لیتے ہوئے دوبارہ لبلبی دبا دی۔ہیولہ اچھل کر گرا۔ میں اپنے مقصد میں کامیاب رہا تھا۔
ایل ایم جی کے فائر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جتنا لمبا چھٹا (برسٹ)فائر کرو،گولیاں اتنی زیادہ ہدف پر پھیل کر گرتی ہیں۔کیوں کہ لبلبی(ٹریگر) دبانے سے گن مسلسل جھٹکے لیتی ہے جس سے گولیاں بکھر جاتی ہیں۔اس میں کچھ اور وجوہات بھی شامل ہوتی ہیںجن کی تفصیل کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں۔
میں نے شست دوسرے پتھر کی جانب موڑدی،کوشش تھی کہ جہاں شعلے کی ہلکی سی جھلک دکھائی دے وہیں نشانہ سادھوں۔فائرر ہتھیار کو استعمال کرتے وقت اپنا دایاں گال بٹ پر ٹیکتا ہے،بایاں ہاتھ آگے کو پھیلا کر رائفل کا ”فرنٹ ہینڈ گارڈ “پکڑتا ہے،دائیں ہاتھ سے ”پسٹل گِرپ“ کو گرفت میں لے کر شہادت کی انگلی لبلبی پر ہوتی ہے اوربائیں آنکھ بند کر کے وہ شست لیتا ہے(کھبّا،یعنی بائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے کا ہر عمل اس کے برعکس ہوتا ہے)یوں فائرر کا سر ہمیشہ بیرل کی سیدھ میں رہتا ہے۔جبکہ فائر ہوتے وقت مزل سے نکلنے والا شعلہ بیرل کی نشان دہی کرتا ہے۔او ر ایک تجربے کار سنائپر، ہتھیار اور فائرر کی اس خامی کا اچھی طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔البتہ یہ فائر کرنا ہر شخص کے لیے ممکن نہیں۔کوئی منجھا ہوا سنائپر ہی ایسا کر سکتا ہے۔سردار بھی بہت اچھا فائرر تھا۔ اگر سنجید ہ ہو کر فائر کرتا تومقابلہ کرتے ہوئے مجھے بھی دانتوں پسینہ آجاتا،مگر اس میں ایک بڑی خامی تھی۔وہ لا ابالی اور بے صبرا تھا۔اور یہ دونوں عادات اچھے سنائپر کے لیے بہت نقصان دہ ہوتی ہیں۔میرے اور اساتذہ کے گاہے گاہے ٹوکنے پر وہ وقتی طور پر تو سنبھل جاتا، مگر فطرت کے خلاف چلنا اتنا آسان نہیں ہے۔امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران بھی اس کی جلد بازی نے ہمیں ہار کے دھانے پر لا کھڑا کیا تھا۔
تین چار لمحے شست سادھنے کے بعد میں نے تیسری بار لبلبی دبائی۔مگر وہاں سے آنے والا فائر نہیں رکا تھا۔یقینا دشمن شست لیے بغیر اندھا دھند فائر کر رہے تھے۔ تاکہ جوابی فائر پر وہ بہادر گولی لگنے سے بچ جائیں۔ اور خود ان کا مقصد دہشت ہی پھیلانا ہوتا ہے،کوئی بھولی بھٹکی گولی ہدف ڈھونڈ لے تو سونے پر سہاگا نہیں تو گولیوں کی دو تین میگزینیں ختم کر کے یہ سورما بھاگنے میں دیر نہیں لگاتے۔
لمحہ بھر ٹھہر کر میں نے ایک اور چھٹا فائر کیا،مگر نتیجہ پہلے والا ہی نکلا تھا۔
”راجے بہتر ہو گا ایل ایم جی کے حال پر رحم کرو۔“سردار نے سہ بارہ ٹوکا۔
”لو، مرو....“ایک جانب ہو کر میں نے ایل ایم جی سردار کے حوالے کر دی۔ایل ایم جی پر ہمیشہ دو آدمی مل کر فائر کرتے ہیں۔فائر کرنے والے کو ایل ایم جی نمبر ایک اور دو سرے کو ایل ایم جی نمبردو کہتے ہیں۔ نمبردوکا کام گن کی نال تبدیل کرنا اور گن لوڈ کرنا ہوتا ہے۔نمبر دو گن کے دائیں جانب لیٹتا ہے۔سردار کے جگہ سنبھالتے ہی میں رینگ کر دائیں ہاتھ ہو گیا تھا۔سردار نے بھی انھی جگہوں پر فائر کرنا شروع کر دیا جہاں سے مزل کا شعلہ جھلک رہا تھا،البتہ میرے برعکس اس نے لمبے لمبے چھٹے فائر کیے تھے۔اور اصولی طور پر اس وقت سردارکا طریقہ کار مجھ سے بہتر تھا۔
میں نے پیچھے کھسک کر مورچے کی چھت سے نیچے جھانکا اور اختر صاحب کو آواز دی۔”سر!شبِ دید عینک مل جائے گی۔“
”یہ لو....“اس نے ہاتھ اونچا کر کے شب دید عینک ”سیون ڈی“مجھے پکڑا دی۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ کچھ شب دید آلات دوربین کی طرح صرف دکھاﺅ کے کام آتے ہیں اور کچھ ٹیلی اسکوپ سائیٹوں کی طرح ہتھیار پر لگا کر فائر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ موخّر الذکر آلات ہتھیار کے علاوہ خالی دیکھ بھال کو بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
”شکریہ سر!“کہہ کر میں واپس اپنی جگہ پہنچ گیا۔سردار ایک بیلٹ ایمونیشن اڑا چکا تھا۔نیا بیلٹ لگا کر میں اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔
”کم از کم تین لعنتی نشانہ بن چکے ہیں۔“نئے ہدف کی جانب بیرل موڑتے ہوئے سردار نے فخریہ لہجے میں اعلان کیا۔مجھے فوراََ ہی یقین آگیا تھا کیوں کہ ہماری سیدھ میں موجوددشمن کے تینوں مورچے خاموش ہو چکے تھے۔
سامنے اور بائیں جانب ایک آڑ سے گولیوں کی بوچھاڑ کا رخ مورچے کی چھت کی جانب ہو گیا تھا۔یقینا بلندی سے ہونے والا فائر دشمن کو بھی دکھائی دے گیا تھا۔اور اس کی بڑی وجہ ٹریسر گولیاں تھیں۔ ٹریسر گولی نال سے نکل کر جلتے ہوئے انگارے کی طرح ہدف تک جاتی ہے اور دور سے دیکھی جا سکتی ہے۔ایل ایم جی بیلٹ میں ہر پانچویں گولی ٹریسر ہوتی ہے۔ جورات کے وقت فائر ر کو گولیاں ہدف پر لگنے کی تصدیق کرتی ہیں تو مخالف کوبھی ہتھیار کی پوزیشن سے آگاہ کرتی ہیں۔
ہم نیچے دبک گئے تھے۔جونھی دشمن کا فائر، رکا سردار نے فوراََبٹ کو کندھے میں دبایا اور اسی جانب شست سادھ لی،لمحہ بھر بعد دشمن کی جانب سے ایک اور بوچھاڑ فائر ہوئی،مگر خان صاحب جوش میں آچکے تھے اور خان جب جوش میں آجائے تو جان لیتا ہے یا دیتا ہے،تیسری کوئی صورت نہیں ہوتی۔
”سردار نیچے ہو جاﺅ....“میں چیخا،مگرکان دھرے بغیر اس نے لبلبی دبائی اور انگلی تب ہٹائی جب اڑھائی سو گولیاں ہدف کے علاقے میں بکھر چکی تھیں۔دشمن کاوہ مورچہ بھی خاموش ہو گیا تھا۔ میرے پاس گن کی بیرل تبدیل کرنے کا مخصوص دستانہ تو موجود نہیں تھالیکن بیرل کو تبدیل کرنا ضروری تھا کیوں کہ اتنے لمبے چھٹے کے بعد بیرل انگارے کی طرح ہو گئی تھی۔
میں نے قمیص کے دامن سے” بیرل کیچ“ کو دبا کر کھولااور بیرل کو کھینچ کرمورچے کی چھت پر رکھ دیا۔نئی بیرل چونکہ ٹھنڈی تھی اس لیے پکڑتے ہوئے کوئی دشوار ی نہیں ہوئی تھی۔
بیرل تبدیل کر کے میں نے نیا بیلٹ چڑھادیا،اس اثناءمیں فائرنگ ہلکی ہو گئی تھی۔
”اب یہ بھاگیں گے۔“میں نے سردار کو ہوشیار کیا۔
”پٹھان سے پنگا لیا ہے،بھاگنا تو پڑے گا۔“فخریہ لہجے میں کہتے ہوئے وہ ہدف ڈھونڈنے لگا۔میں نے بھی شب دید عینک آنکھوں سے لگا لی تھی۔ایک دو ہیولے بھاگ کر ڈھلان اترتے نظر آئے،مگر ان کی خوش قسمتی میرے پاس صرف دیکھنے کی سہولت موجود تھی،ہتھیار سردار خان کے پاس تھا۔اور اس کی کوشش تھی کہ دشمن اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے میں کامیاب نہ ہوسکیں اس لیے وہ انھی مخصوص اہداف کے اطراف میں گن گھما کر چھوٹے چھوٹے چھٹے فائر کرتا رہا جہاں ہمارے اندازے میں دشمن کی لاشیں پڑی تھیں۔دہشت گرد ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی پہچان پوشیدہ رہے۔
جلد ہی ہماری فائرنگ یک طرفہ رہ گئی،دشمن کی طرف سے مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔نائب صوبیدار اخترنے چند جوانوں کے ساتھ اگلے علاقے کی تلاشی کو جانا چاہا مگر پوسٹ کمانڈرکیپٹن حفیظ اللہ نیازی نے ”روشنی ہونے کا انتظار کرو۔“کہہ کرمنع کر دیا تھا۔صبح صادق نمودار ہو گئی تھی۔جلد ہی ملگجا اجالا ہو جانا تھا۔ فائرنگ رکنے کے بعد سردی محسوس ہونے لگی تھی۔پہلے لڑائی کے جوش میں ہمیں کچھ محسوس نہیں ہورہا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 2
ریاض عاقب کوہلر
سردار کو وہیں رکنے کا کہہ کر میں کمرے سے گرم چادریں اٹھا لایا،باقی جوان بھی مورچوں میں ڈٹے ہوئے تھے۔سرحدوں پر تعینات فوجیوں کی زندگی میں گولیوں کی ”تڑ تڑ“ اور توپوں کی گھن گرج روز مرہ کا معمول ہے۔تربیت یافتہ فوجی اور عام انسان میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ تربیت یافتہ جوان کے اعصاب بہت مضبوط ہوتے ہیں۔مسلسل مخصوص حالات میں رہ کر زندگی گزارنے سے مرنے کا ڈر اور خوف اس کے دل میں اتنا نہیں ہوتا جتنا عام آدمی کے دل میں ہوتا ہے۔اگر عام آدمی بہت زیادہ دلیر،نڈر اور مضبوط اعصاب کا ہو تب بھی ایسے حالات میں حوصلہ چھوڑ دیتا ہے کیوں کہ ایسے ماحول میں زندگی گزارنا کہ راستے پر چلتے ہوئے IEDپھٹنے کا خطرہ ہو،بیت الخلا اور غسل خانے میں جاتے وقت دشمن کے سنائپر کا اندیشہ ہو، کھانا کھاتے ہوئے دشمن کے راکٹوں کی فکر ہواورسوتے ہوئے دشمن کے حملے کا ڈر ہو۔یہ تربیت یافتہ سپاہی ہی برداشت کر سکتا ہے۔
دوران لڑائی سردار کا مزاق کرنا بعض قارئین کو ہضم نہیں ہوتا ہو گا۔ جب جان پر بنی ہو تو ہنسی مذاق کرنا عجیب لگتا ہے،لیکن یقین مانیں اس سے ناگفتہ بہ صورت حال میں بھی میں نے اپنے ساتھیوں کو قہقہے لگاتے اور ایک دوسرے کو چھیڑتے دیکھا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک انسان مختصر عرصے تک تو اپنی فطرت سے لڑ سکتا ہے لیکن جب مسلسل مشکلات کا سامنا ہو تو ایسے ماحول میں زندگی گزارنا اسے معمول کے مطابق ہی لگتا ہے۔اور روز مرہ کی زندگی میں ہنسی مذاق انسان کی فطرت ہے۔
اندھیرا چھٹنے لگا تھا۔پوسٹ کے ایک کونے سے اَذان کی مقدس آواز بلند ہوئی۔ پہرے پر متعین افراد کے علاوہ تمام وضو کرنے بڑھ گئے تھے۔انسان کی ہمت،جرا¿ت،حوصلہ اور طاقت ہمیشہ اللہ پاک کی منشا کی محتاج ہوتی ہے۔ہر حالت میں اللہ پاک کو ساتھ رکھنے والے ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔کوشش کرنا انسان کا فرض ہے اور اس کوشش کو کامیابی وکامرانی سے سرفراز کرنا ذاتِ باری تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ہم نے بھی مقدور بھر وطن دشمن عناصر سے مقابلہ کر لیا تھا،اب اپنے رب کی مدد کو شامل حال کرنے کا وقت تھا اس لیے مسجد کی طرف بڑھ گئے۔نماز کے بعد معلوم ہوا کہ تین جوان زخمی ہوئے تھے۔دو کے زخم تو معمولی نوعیت کے تھے تیسرے کی حالت البتہ تشویش ناک تھی۔اور اسے ہسپتال پہنچانے کو بٹالین ہیڈکواٹر سے کیو آر ایف(Quick Reaction Force)روانہ ہو گئی تھی۔نرسنگ حوالدارواجد نے تینوں زخمیوں کی مرہم پٹی کر کے ابتدائی طبی امداد دے دی تھی۔حوالدار واجد کا تعلق ایبٹ آباد سے تھا،نہایت منجھا ہوا اور قابل نرسنگ تھا۔ہنس مکھ،بذلہ سنج، حاضر جواب اور دلیر۔
پوسٹ پر دو جیپیں موجود تھیں۔تینوں زخمیوں کو جیپوں میں بٹھا کر پیچھے روانہ کر دیاگیا۔ایک مخصوص مقام پر کیو آرایف اور جیپوں کا ملاپ ہوناتھا،زخمیوں کو کیو آر ایف کے جوانوں کے حوالے کر کے جیپوں نے واپس لوٹنا تھا۔
نماز کے بعد کیپٹن صاحب ایک ٹولی کے ساتھ پوسٹ سے آگے بڑھ گیا،ہم دونوں بھی ساتھ ہی تھے۔ سردار ،کیپٹن صاحب کو اپنی کارکردگی بتا چکا تھا۔ہماری نشان دہی پر سب سے پہلے انھی تین پتھروں کے عقب کا جائزہ لیا گیا۔وہاں پانچ لاشیں اور ایک شدید زخمی موجود تھا۔بھاگتے وقت دشمن ان لاشوں کو نہیں اٹھا سکے تھے۔عموماَََ دہشت گرد ساتھیوں کی لاشوں کو نہیں چھوڑتے ،لیکن اب بدقسمتی سے ان کا واسطہ پیشہ ور سنائپروں سے پڑ گیا تھا۔سردار نے تینوں مقامات کو گن کے فائر سے یوں ڈھانپا تھا کہ بغیر جانی نقصان کے دشمن لاشیں نہیں لے جا سکتا تھا۔میرا نشانہ بننے والوں میں ایک کو کھوپڑی میں گولی لگی تھی اور دوسرے کی چھاتی میں روشن دان کھلا ہوا تھا۔باقی چاروں سردار کا شکار بنے تھے تین کے اوپری دھڑ مکمل طور پر چھلنی ہو گئے تھے۔چوتھے کے دائیں کندھے میں گولیاں لگی تھیں۔اس کے زخم جان لیوا نہیں تھے لیکن زیادہ خون بہنے سے اس کی حالت تشویش ناک ہوگئی تھی۔
نرسنگ حوالدار واجد اپنے زخمیوں کے ساتھ گیا ہوا تھا۔دہشت گردوں کی لاشوں کو ہم نے فائری خندق میں پھینکا اور زخمی کو نرسنگ حوالدار کے کمرے میں لے گئے جو آر اے پی (Regiment Aid Post)کا کام بھی دیتا تھا۔
کیپٹن صاحب نے تشویش ظاہر کی۔”امید نہیں کہ یہ واجد کے آنے تک زندہ رہ پائے گا۔“
”میں کوشش کرتا ہوں سر!“اسے تسلی دے کر میں نے سردار کو اشارہ کیا۔وہ دہشت گرد کے زخم سے کپڑا ہٹانے لگا۔گولیاں جسم سے پار نکل گئی تھیں۔میں کیو سی بی(Quick Combat Bandage) کھول کر اس کے زخم پر لپیٹنے لگا۔ایک پٹی اس کے زخموں کو ناکافی تھی۔ خون کا بہاﺅ روکنا سب سے ضروری تھا۔ وہ بری طرح کراہ رہا تھا۔
مجھے گھورتے ہوئے وہ اٹک اٹک کر بولا۔”م....مم....میں مرنا نہیں چاہتا۔“
سردار نے تلخی سے جواب دیا۔”ایسا نہ چاہنے کے باوجود کوشش ہماری بھی یہی ہے۔“
میں نے نرم لہجے میں کہا۔” تمھیں بچانے کی پوری کوشش کررہا ہوں،یہ بتاﺅتم لوگ کس مقصد سے حملہ آور ہوئے تھے۔“
وہ نقاہت سے بولا۔”ہمارے کچھ ساتھیوں نے سرحد عبور کرنا تھی۔ کیو جے ٹاپ کی گشتی ٹولیوں کی توجہ بٹانے کو ہمیں حملہ کرنا پڑا۔“
میں نے حیرانی ظاہر کی۔”جھوٹ مت بولو،اس مقصد کو چھوٹا سا حملہ ہی کافی تھا۔“یہ کہتے ہوئے میں نے سردار کو دردکش ٹیکہ بنانے کا اشارہ کیا۔
اثبات میں سرہلاتے ہوئے سردار نے ٹیکہ تیار کیا اور اس کے بازو میں لگا دیا۔
میری بات کا جواب اس نے نہیں دیا تھا۔میں نے اسے ڈرانے کی کامیاب کوشش کی۔
”اگر چاہتے ہو کہ تمھاری جان بچائی جائے تو تعاون کرو،ورنہ کسی دشمن پر دوائیاں اور وقت ضائع کرنے کا ہمیں کوئی شوق نہیں ہے۔“
وہ بہ مشکل زبان ہلانے لگا،اس کی گفتگو کا لب لباب یہ تھاکہ ....ملک گل بدین خان،سردار فیروز خان،کمانڈر عدیل جان اور کمانڈر رنگین خان کی گزشتہ ہفتے بامک ٹاپ پر بیٹھک ہوئی۔یوں توان کی آپس میں نہیں بنتی تھی،لیکن انھیں انڈین ایجنسی را کے ایک میجر نے اکٹھا ہونے پر مجبور کیا۔اس نے کیو جے ٹاپ سلسلے کی تین پوسٹوں 7,8,9پر قبضے کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔یہ تینوں پوسٹیں قریب قریب واقع تھیں۔سات اور آٹھ سامنے اور نو ان دونوں کے درمیان اور پیچھے کو ہٹ کر تھی۔(ویسے تو کیو جے نام کی پوری دس پوسٹیں ہیں جو ایک قطار میں موجودہیں۔ان کے ساتھ شمال کی جانب متصل چیتا پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا یعنی چیتا ون،چیتا ٹو وغیرہ)میجر نے انھیں باور کرایا کہ ان پوسٹوں پر قبضہ اسی صورت میں ممکن تھاکہ چاروں کمانڈروں کے لشکر ساتھ مل کر کام کریں۔اس مقصد کو” را“ کے میجر نے بڑی رقم کی پیش کش کی تھی۔اور آج منصوبے پر عمل کرنے کی شروعات ہوگئی تھی۔اس کارروائی کا مقصد واقعی اپنے ساتھیوں کو سرحد عبور کرانا تھا، تاکہ کیو جے ٹاپ کی تین پوسٹوں پر دونوں اطراف سے حملہ کیا جا سکے۔
”سرداریہ کمزوری محسوس کر رہا ہے،ڈرپ بھی تیار کرو۔“میں سردار کو مخاطب ہوا۔جان بچانے کے لالچ میں وہ بڑی اہم معلومات اگل رہا تھا۔کیپٹن حفیظ اللہ نیازی بھی ہمارے ساتھ ہی موجود تھا۔زخمی کی باتوں نے اس کے کان بھی کھڑے کر دیے تھے۔
سردار اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ڈرپ تیار کرنے لگا۔سنائپرکورس کے بعد، عملی میدان میں قدم رکھنے سے پہلے ہمیں چند ہفتوں کا ابتدائی طبی امداد کا کورس لازماََ کرایا جاتا ہے۔اور ایک سنائپر کو ابتدائی طبی امداد کے بارے جاننا کتنا ضروری ہے اس کا اندازہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔
اس کی آنکھیں نقاہت سے بند ہو رہی تھیں۔میں نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر آہستہ سے ہلایا۔”تمھارا نام کیا ہے؟“
وہ اٹک اٹک کر بولا۔”کک....کمانڈر شیر گل،میں کمانڈر عدیل کا دست راست ہوں۔“
میں نے اگلا سوال کیا۔”تینوں پوسٹوں پر ایک ساتھ حملہ کیا جائے گا یا علیحدہ علیحدہ؟“
وہ بہ مشکل بولا۔”اکٹھے....“
میں نے بے صبری سے پوچھا۔”کب؟“اس کی حالت کھلی ہوا میں رکھے چراغ جیسی تھی۔وہ چند ہی لمحوں کا مہمان نظر آرہا تھااور اس کے ہلاک ہونے سے پہلے جتنی معلومات اگلوا لیتا غنیمت تھا۔
کیپٹن صاحب نے دھیرے سے کہا۔”اسے سنبھلنے کا موقع دو۔“
میں نے کیپٹن صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلادیا۔اس کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی مگر وہ خاموش رہا تھا۔
میں با آواز بلند بولا۔”سردارڈرپ میں” اسپیشل سیونگ لیکوئڈ انجکشن “ملاﺅتاکہ اس کی جان یقینی طور پر بچائی جا سکے....“
سردار نے فوراََ کہا۔”آپ کے کہنے سے پہلے ملا دیا ہے،لیکن اسے جگا کر رکھو،اگر بے ہوش ہو گیا تو شاید انجکشن بے کار جائے۔“اس نے سٹینڈ قریب کر کے اس میں ڈرپ لٹکائی اور زخمی کے تندرست ہاتھ میں سوئی لگادی۔
میں نے اسے ہلایا۔”شیر دل ہوش میں رہو،ہم تمھاری جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“
اس نے آنکھیں کھولیں،عجیب ویرانی اور خالی پن نظر آرہا تھا۔اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے میں نے پوچھا۔”تم نے کیا بتایاحملہ کب ہو گا؟“
”م....میں ....ہوں ....“اس کی آنکھیں دوبارہ بند ہو گئی تھیں۔
”شیر دل خان ہوش میں آﺅ۔“میں نے اسے جھنجوڑا۔
”ہوں ....ہاں ....“اس نے کراہتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔اس کے چہرے پر اذیت جیسے ثبت ہو گئی تھی۔
”مجھ سے باتیں کرو تاکہ تمھاری جان بچائی جا سکے۔“
وہ ہکلایا۔”کک....کر رہا ہوں ....“
”بتاﺅ حملہ کب ہو گا....؟“میں نے سوال دہرایا۔
”جج....جمع....جمع....آ....آ....“دو تین ہچکیاں لے کر اس کی گردن ڈھلک گئی تھی۔
کیپٹن حفیظ اللہ نیازی نے منہ بنایا۔”تمھارا ” اسپیشل سیونگ لیکوئڈ انجکشن “تو کسی کام نہ آیا۔“
میں ہنسا۔”سر!ہم اسے تسلی دے کر کچھ اگلوانے کی کوشش میںتھے ورنہ ہم ڈاکٹر ہیں اور نہ ایسا کوئی انجکشن ہے۔“
کیپٹن حفیظ خوشی دلی سے ہنسا۔”مجھے اندازہ ہو گیا تھا۔“
میں نے کہا”سر!ہم نے یہ معلومات میجر نعیم تک پہنچانا ہے،آپ بھی بٹالین کمانڈر کو مطلع کر دیں۔“
وہ سرہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭
سہ پہر ڈھلے بریگیڈ ہیڈکواٹر سے کیوآرایف کی گاڑیاں دہشت گردوں کی لاشیں لینے پہنچ گئی تھیں۔ بٹالین کمانڈر اور سیکنڈ ان کمانڈ بھی ساتھ تھے۔کیو آر ایف کی گاڑیاں تو واپس چلی گئیں البتہ بٹالین کمانڈرعارف عالم اور سیکنڈ ان کمانڈمیجر فیصل وہیں رہ گئے تھے۔چائے وغیرہ پی کر انھوں نے ہمیں بلالیا۔کیپٹن صاحب کے بینکر میں کمانڈنگ آفیسر ان کی چارپائی پر بیٹھے تھے۔ ہم نے پلاسٹک کی کرسیاں سنبھال لی تھیں۔اس علاقے میں رہائشی بینکر ہی کو دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا اور وہیں پر خصوصی نشست (اسپیشل کانفرنس)بھی ہوتی۔
عارف عالم صاحب مجھے مخاطب ہوئے۔”جوان!حفیظ صاحب مجھے تفصیل بتا چکا ہے،کیا تمھارے پاس کچھ اور بتانے کو ہے۔“
میں نے نفی میں سر ہلایا۔”سب کچھ کیپٹن صاحب کے سامنے ہی پیش آیا تھا۔“
انھوں نے اگلا سوال پوچھا۔”کیا خیال ہے مرنے والا دہشت گرد،جمعہ کہنا چاہتا تھا یا جمعرات؟“
سرداربولا۔”سر!یقینی تو کچھ نہیں کہاجا سکتا البتہ دہشت گردوں کی نفسیات کو مدنظر رکھیں تو ان کی زیادہ تر کارروائیاں جمعہ ہی کوہوتی ہیں۔“
وہ تحسین آمیز نظروں سے سردار کو دیکھتے ہوئے بولے۔”صحیح کہا،جوابی کارروائی کے بارے تمھاری کیا رائے ہے۔“(یہاں ایک بات مدنظر رہے کہ لیفٹیننٹ کرنل بہت بڑا عہدہ ہے۔اور اس رینک کا کوئی آفیسرایک سپاہی یا حوالدار سے مشاورت میں وقت ضائع نہیں کرتا،لیکن وہاں ہماری حیثیت مختلف تھی۔ہم کافی عرصہ سے فیلڈ میں تھے،میجر نعیم کی زبانی ان کے کانوں تک ہمارے کارناموں کا تذکرہ پہنچ گیا تھا۔اورنہ چاہتے ہوئے بھی وہ ہمیں اہمیت دینے پر مجبور تھے)
میں انکساری سے بولا۔”یہ سوچنا تو آپ کا کام ہے سر!البتہ ہم ہر تعاون کو تیار ہیں۔“
”بریگیڈ کمانڈر سے میری تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے اس ضمن میں چند تجاویز بھی زیر غور آئی ہیں،طے ہوا ہے کہ بریگیڈ کی دوسری یونٹوں سے کچھ نفری منگوا کرپہلی فرصت میں ان تینوں پوسٹوں کے دفاع کو مضبوط کیا جائے۔“
میں نے کہا۔”سر!دشمن اپنی کچھ نفری سرحد پار لا چکا ہے،یقینا پوسٹوںپر اضافی نفری کی آمد پر وہ چوکنا ہو جائیں گے اور منصوبے پر عمل درآمد روک دیں گے۔“
عارف عالم صاحب مسکرائے۔”میجر فیصل نے بھی یہی مشورہ دیا تھا۔لیکن ہمارا مقصد دشمن کا منصوبہ ناکام کرنا ہے چاہے لڑ کر ہو یا بغیر لڑے۔“
”سر!آپ بہتر سمجھتے ہیں ،لیکن استادوں سے سنا ہے کہ دشمن کے منصوبے کا علم ہو جاناآدھی فتح ہوتی ہے اور میرا نہیں خیال اپنی برتری میں دشمن کو آدھے کا حصہ دار بنانا عقل مندی ہو گی۔“
”بر خوردار !دشمن کا منصوبہ ناکام کرناتمھاری نظرمیں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔“
”سر !دشمن کا منصوبہ ناکام نہیں موخّر ہو گا۔ہم اضافی نفری مستقل پاس نہیں رکھ سکتے۔جونھی امدادی جوان لوٹے دشمن دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کرے گا اور تب ہمیں دشمن کے منصوبے کی کوئی سن گن نہیں ہو گی۔“
عارف عالم صاحب مسکرائے۔”شاباش برخوردار!....اورنگ زیب صاحب تمھاری کافی تعریف کر رہے تھے۔اور تب مجھے یقین نہیں آرہا تھا۔“
میں نے پوچھا۔”تو پھر کیا سوچا ہے سر؟“
وہ اطمینان سے بولے۔”بتا تو دیا ہے۔“
میں نے مایوس لہجے میں پوچھا۔”یعنی پوسٹوں پر اضافی نفری منگوانا ناگزیر ہے۔“
”ہاں۔“انھوں نے اثبات میں سرہلایا۔”جونھی دشمن کو معلوم ہو گا کہ ہم تیار ہیں وہ حملہ موخّر کر دے گا۔ اور یقینا وہ اضافی نفری کی واپسی کا انتظار کرے گا،اس اثناءمیں ہمارے چھاپہ مار دستے افغان نالہ میں ان کا شکار کھیلنے نکلیں گے۔امید ہے ان کے اجتماع کو ہم بھرپور ضرب لگا کر اپنے فائدے میں استعمال کرسکیں گے۔“
ان کا جامع منصوبہ سن کر مجھے اپنے اندیشوں پر شرمندگی ہوئی تھی۔”معذرت خواہ ہوں سر!آپ کی سوچ میرے گمان سے بہت آگے ہے۔“
وہ خوش دلی سے بولے۔”تمھارا اختلاف کرنا اچھا لگا۔حکمت کسی کی میراث نہیں ہوتی، تمھارا بغیر تکرار کے متفق ہونا برا لگتا۔اب میں یقین کر سکتا ہوں کہ اس سے بہترمنصوبہ فی الحال ہم میں سے کسی کے دماغ میں نہیں ہے۔ “
”شکریہ سر!“
انھوں نے پوچھا۔”تمھارا کیا ارادہ ہے؟“
سردار نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا۔”ہمیں آپ شانہ بہ شانہ پائیں گے۔“
عارف عالم صاحب نے مطمئن انداز میں سرہلایا۔” یقین تھا یہی سننے کو ملے گا۔“
میں خفیف لہجے میں بولا۔”لیکن ہمیں نعیم صاحب کی اجازت کی ضرورت پڑے گی سر۔“ہم چونکہ براہ راست میجر نعیم کے ماتحت تھے اور وہاں ہماری موجودی کا مقصد کچھ اور تھا اس لیے مجھے صاف گوئی سے کام لینا پڑا تھا۔
مجھے گھورتے ہوئے عارف عالم صاحب مسکرائے۔”کرنل اورنگ زیب تمھاری بہادری کے قصے سناتے نہیں تھکتے۔“
میں انکساری سے بولا۔”وقت آنے پر ان شاءاللہ آپ کو مایوس نہیں کریں گے سر!البتہ قانونی تقاضوں کو آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں۔“
عارف عالم صاحب نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”اگر میجر نعیم نہ مانا۔“
میں اطمینان سے بولا۔”پھر آپ کو احسان مند کرنے کا موقع ہاتھ آجائے گا۔“
ان کازورر دار قہقہ بلند ہوا۔”اب لگا کہ ایس ایس سے بات کر رہا ہوں۔“
میجر فیصل اور کیپٹن حفیظ بھی مسکرا دیے تھے۔
عارف عالم صاحب خوشگوار لہجے میں بولے۔”بہ ہرحال میجر نعیم کی طرف سے تمھیں باقاعدہ حکم مل جائے گا کیوں کہ میرے ناتواں کندھے اتنے بھاری احسان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔“
میں خفت سے مسکرا دیا۔
عارف عالم صاحب سنجیدہ ہوئے۔”تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ دشمن کے منصوبے کے بارے آئی ایس آئی کی رپورٹ ہمارے پاس ہفتہ بھر پہلے ہی پہنچ گئی تھی۔دن کاتعین کیے بغیر انھوں نے خطرے کی نشان دہی کر دی تھی۔اور اب الحمداللہ بات مزید کھل گئی ہے۔“( پاکستان آئی ایس آئی کی جڑیں دشمنوں کے بہت اندر تک پھیلی ہوئی ہیں۔بہت سے خطرات کی نشان دہی یہ خاموش مجاہد پہلے سے کردیتے ہیں اور انھی معلومات کی بدولت ایسے ہزاروں حادثات سے بروقت نبٹا گیا ہے جو بڑی تباہی کا سبب بن سکتے تھے۔البتہ ان کی خبر عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔اورایسے کئی مجاہد گمنامی کی موت کو گلے لگا کر دھرتی اوڑھ چکے ہیں جن کے بارے ان کے گھر والے بھی نہیں جانتے کہ وطن خاطر وہ کیا قربانی دے چکے ہیں)
میں نے پوچھا۔”سر!کارروائی کی ترتیب کیا ہوگی؟“
”آج سوموار ہے،پرسوں تک اضافی نفری ہمارے پاس پہنچ جائے گی،کل بریگیڈ ہیڈکواٹر میں بریگیڈکی یونٹوں کے کمانڈنگ آفیسر زجمع ہو رہے ہیںتب حتمی منصوبہ بنایا جائے گا۔“یہ کہتے ہوئے انھوں نے نشست چھوڑی،باقی سب بھی کھڑے ہو گئے تھے۔عارف عالم صاحب اور میجر فیصل کو گاڑیوں میں بٹھا کر ہم نے الوداعی سیلوٹ کیااور کمرے میں لوٹ آئے۔
٭٭٭٭٭
جمعرات و جمعہ کی شب ہم نہایت چوکس رہے،لیکن دشمن کو اضافی نفری کی خبر پہنچ چکی تھی،تبھی انھوں نے حملے کا خطرہ مول نہیں لیا تھا۔ہفتے کی شب میں اور سردارآگے جانے کو تیار تھے۔موسم کے تیور سہ پہر ہی سے بدلے بدلے تھے اور ایسا موسم چھپ کر سفر کرنے کو نہایت موزوں ہوتا ہے۔ہم باقی جوانوں سے پہلے روانہ ہو رہے تھے کیوں کہ ہمیں افغان نالے میں کسی مناسب مقام پر کمین گاہ بنا کر چھپنا تھا۔ (سنائپر جگہ کی مناسبت سے مختلف اقسام کی کمین گاہیں بناتے ہیں۔ان میں زمین کھود کر کھوہ بنانے سے مضبوط مورچہ اور درخت کے اوپر مچان بنانا شامل ہیں۔ہر کمین گاہ کی علیحدہ خصوصیات اوربنانے کا طریقہ جدا ہے،اگر ان پر تفصیل سے روشنی ڈالوں تو یہ ناول سے زیادہ درسی کتاب بن جائے گی۔البتہ تھوڑی بہت وضاحت اس لیے کردیتا ہوں کہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی رہے)
اگلے دن چھاپہ مار دستوں نے آنا تھا۔ہمارا کام سنائپنگ ہی تھا۔ہمارے علاوہ بھی سنائپرز کی دو ٹولیوں نے روانہ ہونا تھا۔ایک جوڑی تو الیاس اور شہزاد کی تھی جس نے ”کیو جے فائیو “سے آنا تھا۔ایک جوڑی دوسری یونٹ کے سنائپرز کی تھی ان سے میں ناواقف تھا۔البتہ یہ معلوم تھا کہ وہ ”کیو جے ٹین “پر موجود تھے۔باقی سنائپرز کا ہم سے رابطہ نہیں تھا۔انھیں اپنی پوسٹوں ہی سے احکام ملنا تھے۔
میں نے رینج ماسٹر کو پلاسٹک کے مضبوط بیگ میں ڈال کر کپڑے کے تھیلے میں ڈال لیا تھا۔سردار کے پاس ڈریگنوو سنائپر رائفل اورترکی کا ایجاد کردہ نائین ایم ایم پستول جبکہ میرے پاس سائیلنسر لگا بریٹا ایم نائیٹی ٹو(Beretta M 92) موجود تھا۔اٹلی کا ایجادکردہ نیم خودکار(سیمی آٹومیٹک)خوب صورت پستول۔ اس کی میگزین میں پندرہ گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔کارکردگی میں یہ کسی بھی طرح گلاک سے کم نہیں ہے۔البتہ وزن میں گلاک سے پاﺅ بھر اورلمبائی میں انچ بھر زیادہ ہے۔گولی دونوں میں نائین ایم ایم ہی پڑتی ہے۔ پاکستان آرمی میں عام طور پر گلاک اور بریٹا استعمال نہیں ہوتے۔لیکن میرے پاس گلاک سیون ٹین، گلاک ایٹین اور گلاک نائینٹین کے علاوہ بریٹا ایم نائیٹی ٹو اوربریٹا نائیٹی تھری موجود تھے۔یہ تمام مختلف معرکوں میں میرے ہاتھ لگے تھے۔سنائپر رائفلوں میں بیرٹ ایم 107جو اعلیٰ معیار کی سنائپر رائفل ہے وہ یونٹ کے کوت (وہ کمرہ جہاں یونٹ کے ہتھیار رکھے جاتے ہیں )میں میرے نام سے پڑی تھی۔اور بغیر میری اجازت وہ کوئی استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ وہ میں گھر نہیں لے جا سکتا تھا کہ پاکستان آرمی کا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے۔شاید اس کا لائسنس بنتا ہو لیکن اس بارے مجھے معلومات نہیں اور نہ کبھی پوچھنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ دورانِ آپریشن دہشت گردوں کے جو ہتھیار پاک فوج کے ہتھے چڑھتے ہیں وہ براہ راست فوج کی تحویل میں جاتے ہیں۔ان کا باقاعدہ اندراج ہوتا ہے۔جی ایچ کیو تک اس کی رپورٹ جاتی ہے۔اس کے بعد ہائی کمانڈ ہی ان ہتھیاروں کے بارے فیصلہ کرتی ہے۔لیکن میرامسئلہ جدا تھا۔میں نے یہ ہتھیارآرمی کے کسی عام آپریشن میں حاصل نہیں کیے تھے۔یہ بیرون ملک کے معرکوں میں میرے ہاتھ آئے تھے اور ان کے بارے میں نے زبانی طور پر تو اپنے سینئرز کو آگاہ کیا تھا، باقاعدہ تحریری رپورٹ میں ان کا ذکر نہیں کیا تھا۔اور گلاک نائٹین کے علاوہ تمام ہتھیاریونٹ کے کوت ہی میں رکھے تھے۔گلاک نائینٹین مع عمدہ سائیلنسر البتہ پلوشے نے ضد کر کے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔اور وہ ایسی لاڈلی ہے کہ ضد منوانا جانتی ہے۔
شام سے پہلے ہی اچھا خاصا اندھیرا چھا گیا تھا۔جولائی میں بھی یہاں موسم خاصاخوشگوار ہوتا ہے کہ رات کو کمبل لپیٹنا پڑتاہے۔بارش بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور بارش کی زیادتی کی وجہ ہی سے موسم خوشگوار رہتا ہے۔
عشاءکی نماز پوسٹ پر پڑھ ہم محتاط انداز میں نکلے۔براہ راست غربی جانب اترنے کے بجائے ہم نے فرلانگ بھر شمال کی جانب سفر کیا اور پھر ترچھا نشیب میں اترنے لگے۔ہمارا رخ شمال مغرب کو تھا۔ہوا چل رہی تھی،گاہے گاہے بوندا باندی بھی ہونے لگتی۔ہم سادہ کپڑوں میں تھے،کیوں کہ وردی کی وجہ سے دور ہی سے ہماری شناخت ہوجاتی۔افغان نالہ غیر مدفوعہ علاقہ تھا۔
(غیر مدفوعہ علاقے سے مراد دوملکوں کے درمیان وہ خالی جگہ جس پر کسی ملک کا قبضہ نہ ہواسے انگریزی میں” نومین لینڈ “کہتے ہیں اسی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان آرمی وہاں ہیلی کاپٹر وغیرہ بھی استعمال نہیں کرسکتی تھی کہ پھر افغان حکومت کے ہاتھ احتجاج کرنے کا بہانہ آجاتا )
رینج ماسٹر میرے پاس تھی جبکہ سردار کے جھولے میں سنائپر ٹیم کا دوسرا ضروری سازو سامان تھا۔غالباََ پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ سنائپر ٹیم کے پاس:نقشہ،قطب نما(کمپاس)،دوربین،ٹارچ،رسی،ریڈیو(وائرلیس سیٹ)،ہوا پیما(یعنی ونڈ میٹر،جس سے ہوا کی رفتار ناپی جاتی ہے)اضافی ایمونیشن،لیزر رینج فائینڈر(فاصلہ ناپنے کاآلہ)شبِ دید عینک،جی پی ایس (گلوبل پوزیشننگ سسٹم)ماچس یالائیٹر،چاقو،چھوٹے دستے کی کلھاڑی، سپاٹرا سکوپ(اس سے بھی دوربین کا کام لیا جاتا ہے)،گھڑی،خشک راشن،دستی بم وغیرہ موجود ہوتے ہیں۔ سنائپر ہمیشہ جوڑیوں میں کام کرتے ہیں ، ایک کو سپاٹراور دوسرے کو شوٹر کہتے ہیں۔”سپاٹر “ٹیم لیڈر ہوتا ہے جبکہ ”شوٹر“ فائرر۔
بہ مشکل نصف اترائی تک پہنچے تھے کہ ایک دم بارش کی رفتار میں اضافہ ہو گیا۔مجبوراََ ہمیں پانی پلے(رین کوٹ) پہننا پڑے۔سردار نے ڈریگنوو کی نال کا رخ زمین کی طرف کر دیا تھا تاکہ نال میں پانی نہ چلا جائے۔ ایسا ہونے کی صورت میں فائر کی درستی میں فرق آسکتا تھااور گیلا ہونے سے نال کے زنگ پکڑنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔
( کوئی بھی ہتھیاریا اس کا ایمونیشن گیلا ہونے سے ناکارہ نہیں ہوتا۔ ہر دو کو سُکھا کر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔گیلا ہتھیار بھی فائر کر سکتا ہے بس فائر کی درستی میں فرق پڑتا ہے۔مطلب ایمونیشن اگر گیلاہو تو گولیاں ہدف پراونچی اوربکھری ہوئی لگیں گی۔یادرہے ہتھیار کوئی الیکٹرک مشین نہیں ہے کہ پانی سے ناکارہ ہو جائے )
بارش کی رفتار رفتہ رفتہ تیز ہوتی جا رہی تھی۔ہم نشیب میں اتر رہے تھے،تیز بارش کی وجہ سے پھسلن بڑھ گئی تھی۔آسمانی بجلی بھی مسلسل چمک رہی تھی۔ان علاقوں میں یہ بھی بلائے ناگہانی ہے۔اس سے بچنے کی احتیاطوں میں پانی کے ذخائر سے دور رہنا،درختوں کے نیچے پناہ نہ لیناخاص کر زیادہ بلند درختوں سے بچنا اور دھاتی اشیاءکے اتصال سے بچنا شامل ہے۔
بہتر یہی ہوتا ہے کہ انسان کوئی چھت ڈھونڈے،مگر اس وقت کوئی جائے پناہ نظر نہیں آرہی تھی۔ ہتھیار کو بھی خود سے دور کرنا ممکن نہ تھا۔بس اللہ پاک کے بھروسے پر تھے۔عملی زندگی میں بہت سی احتیاطوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔لکھائی پڑھائی کچھ اورکہتی ہے تجربات دوسری راہ دکھاتے ہیں۔اور حقیقت یہی ہے کہ تجربے اور عمل سے بڑا کوئی علم نہیں ہے۔یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ عملی زندگی میں عموماََکاغذی علم کے الٹ دیکھنے کو ملا ہے۔خاص کر عملی سنائپر کی زندگی تونئے وانوکھے واقعات کی تجربہ گاہ ہے۔ایک سنائپر، جتنے امکان اس کے علم میں ہوں گے ان کا سدباب کر کے دشمن کی راہ میں گھات لگائے بیٹھا ہو گااور دشمن کے قریب پہنچنے پر کسی نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑجائے گا۔ایسی صورت میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ناکامی کہلاتا ہے اور کچھ کرنے کا مطلب موت کو گلے لگانا ہوتاہے۔
سردار نے مشورہ دیا۔”لڑھکنے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فی الحال رک جائیں۔“
مجھے متفق ہوناپڑا۔کیوں کہ عام حالات میں بھی ڈھلان اترتے ہوئے گرنے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے، اس وقت تو بارش ہو رہی تھی۔اور پھر گہری تاریکی سونے پہ سہاگا تھی۔ہم ٹارچ جلانے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتے تھے۔
پانی پلے ایک حد تک بارش سے بچاﺅ مہیا کرتے ہیں، مسلسل تیز بارش کے سامنے پانی پلے بھی عاجز آجاتے ہیں۔
وہاں شاہ بلوط کے درختوں کی بہتات تھی۔اس سدا بہار درخت کے پتے کافی گھنے ہوتے ہیں۔ آسمانی بجلی سے رہنمائی لے کر ہم ایک گھنے درخت کے نیچے ہو گئے۔رینج ماسٹر کا جھولامیں نے درخت کے تنے پر رکھ دیا تھا کہ اتنی وزنی رائفل کو کندھوں پر اٹھا کررکھنا آسان نہیں ہوتا۔رینج ماسٹر، عام رائفل کی نسبت کافی وزنی ہوتی ہے۔ایک کلاشن کا وزن قریباََ چار کلوگرام ہوتا ہے جبکہ رینج ماسٹر کا وزن سترہ کلوگرام ہوتاہے۔غیر فوجی حضرات کو سترہ کلو گرام حقیر وزن لگے گا کہ دس سال کا بچہ بھی اتنا وزن اٹھا سکتا ہے۔لیکن پتاتب چلتا ہے جب اتنا بوجھ کندھوں پر ہو اور مسلسل چلنا پڑے۔ سنائپر ہونے کے ناتے میرے نزدیک رینج ماسٹر کی سب سے بڑی خامی اس کا وزنی ہونا ہے۔گو کارکردگی کے مقابلے یہ وزن کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن، سنائپر کو لمبی مسافت طے کر کے دشمن کے علاقے میں جانا ہوتا ہے،مختلف حالات میں اسے اپنی رفتار کم زیادہ رکھنا پڑتی ہے ایسی صورت میں آدھا من وزن بہت معنی رکھتا ہے۔
بارش رکنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔سردار خان نے بھی جھولا تنے پر رکھا اور درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
”یار!ایسی بارش میں مریم (لی زونا)کی یاد اور زور پکڑ لیتی ہے۔“اس کے لہجے میں اداسی در آئی تھی۔
اس کے ساتھ ہی نِشَس±ت سنبھالتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”مجھے توہر موسم،ہر حالت،ہر وقت یکساں یاد آتی ہے۔“
اس نے منہ بنایا۔”براہ مہربانی یہ جھوٹ صرف میری بہن کے سامنے بولا کرو۔“
میں ڈھٹائی سے بولا۔”پلوشے کے سامنے تو میں نے کبھی اظہار نہیں کیا۔“
”جتنا تم ڈرتے ہوئے بیوی سے شاید ہی کوئی ڈرتا ہوگا۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”ڈرتے تم ہو،میں ڈرتا تو دوسری شادی نہ کرتا۔“
وہ استہزائی انداز میں بولا۔”جیسے مجھے معلوم ہی نہیں کہ تم نے دوسری شادی کن حالات میں کی تھی۔“
”جیسے بھی کی ہو،اگر ڈرتا تو پلوشے کی واپسی پر اسے طلاق دے دیتا،تم میں اگر جرا¿ت ہے تو دوسری شادی کر کے دکھاﺅ۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”میری بھی دوسری ہی شادی ہے جناب۔“
میں نے اکسایا۔”پہلی بیوی کے ہوتے دوسری شادی کرو۔“
وہ معصومیت سے بولاا۔”یار راجے!میری موت کے خواہاں ہو تو خود ہی گولی مار دو،مریم کے ہاتھوں مروا کر کیوں بے عزت کرانا چاہتے ہو۔“
میں نے چھاتی چوڑی کی۔”میں تو تیسری شادی کرنے والا ہوں۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ سپنے نیند میں اچھے لگتے ہیں۔“
میں نے قہقہ لگایا۔
سردار نے ٹوکا۔”ہی ہی نہ کرو....تم بیٹھک میں نہیں بیٹھے۔“
ہنسی ایک دم میرے ہونٹوں سے غائب ہو گئی تھی۔طوفانی بارش میں بھی ہم دشمن کے خطرے سے بے نیاز نہیں ہو سکتے تھے۔فوجیوں کی زندگی بھی عجیب ہوتی ہے،آگ و خون کے دریا میں تیرتے ہوئے پھول و شبنم کا موضوع چھیڑے رکھتے ہیں۔گولیوں و باردوکے دھماکوں میں ساز و باجے کی آواز سنتے ہیں۔موت کے سفر میں زندگی کی باتیں کرتے ہیں،ہجر و جدائی کی ترشی کووصال کے میٹھے سپنوں سے سہارتے ہیں۔ہم نے اپنے پیاروں کا ذکر چھیڑ کر آنے والے جاں گسل لمحات کوعارضی طورپر بھلانے کی کوشش میں تھے۔استاد محترم تصور صاحب فرمایا کرتے:”سنائپر کا ہر مشن آخری مشن ہوتا ہے اور سنائپر کی بقاموت سے منسلک ہے،مارے گا تو بچے گانہ مار سکا تو مرے گا۔“
اور ہمارا حالیہ مشن اس لیے بھی مشکل تھا کہ ہدف کوئی مخصوص شخصیت نہیں انسان،مذہب اور وطن دشمن عناصرکا ٹولہ تھا۔اور افغان نالہ میں ان لوگوں کی ٹولیاں مردار پر اکٹھا ہونے والے گِدھوں کی طرح جمع تھیں۔شاید ہی کوئی اہم ٹیکری ہمیں خالی ملتی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 3
ریاض عاقب کوہلر
اور ہمارا حالیہ مشن اس لیے بھی مشکل تھا کہ ہدف کوئی مخصوص شخصیت نہیں انسان،مذہب اور وطن دشمن عناصرکا ٹولہ تھا۔اور افغان نالہ میں ان لوگوں کی ٹولیاں مردار پر اکٹھا ہونے والے گِدھوں کی طرح جمع تھیں۔شاید ہی کوئی اہم ٹیکری ہمیں خالی ملتی۔
سردار نے اندیشہ ظاہر کیا۔” ممکن ہے کہ دشمن بھی موسم کا فائدہ اٹھا کر حملے کا قصد کرے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔” فکر نہ کرو کمانڈنگ آفیسر نے نصف نفری کو جاگتے رہنے کا حکم دیا ہے۔جوان چوکس ہیںدہشت گردوں نے ایسی جرات کی بھی سہی تو منہ کی کھائیں گے۔“
”بارش رکتی نظر نہیں آتی یہیں بیٹھے رہے تو طلوع آفتاب کے بعد ہی حرکت کر سکیں گے اور ہمیں آج کی رات ہی مناسب ٹھکانہ ڈھونڈنا ہے۔“
میں چڑ کر بولا۔”تم نے خود ہی رکنے کوکہا تھا۔“
”ایک سپاہی کو حوالدار سے زبان لڑانے کی جرات نہیں ہونا چاہیے۔اور یوں بھی تمھاری ناقص عقل میں میرے فیصلے نہیں آسکتے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”قیامت کی نشانیوں میں پٹھانوں کی عقل مندی کا دعویٰ بھی شامل ہے۔“
”تمھیں کیا پتا خان کیا کیا کر سکتے ہیں۔“
میں برجستہ بولا۔”بات کرنے کی نہیں سوچنے کی ہو رہی ہے۔“
وہ بگڑ کر بولا۔”تمھارا خیال ہے پٹھانوں کے پاس دماغ نہیں ہوتا۔“
میں ہنسا۔”ہوتا ہوگا،استعمال دل ہی کو کرتے ہیں۔“
”مذاق کا وقت نہیں ہے۔“وہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔”مسلسل بیٹھے رہے تو سردی سے جم جائیں گے۔“
سردی تو مجھے بھی لگ رہی تھی۔اور میں متفق بھی تھا،پانی پلہ جھاڑ کر کھڑا ہو گیا۔بارش کا پانی پرشورآواز میں نشیب کی طرف بہہ رہا تھا۔ جھولے اٹھا کر ہم نے قدم بڑھا دیے۔ڈھلان اترنے تک ہمیں نہایت احتیاط کرنا تھی۔ہمیں آڑاترچھا (زگ زیگ)چل کر سفر کرنا پڑ رہا تھا۔جنھیں پہاڑوں میں سفر کرنے کا تجربہ ہو چکا ہو وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ بلند ہونے یا نشیب میں اترنے کاآسان اور محتاط طریقہ یہی ہے۔اور اس وقت بارش کی وجہ سے ہمیں زیادہ احتیاط کرنا پڑ رہی تھی۔گہری تاریکی چھائی تھی،ٹارچ بھی نہیں جلا سکتے تھے کہ روشنی بہت دور سے نظر آجاتی ہے۔
تھوڑافاصلہ طے کرتے ہی جھاڑیوں اور کم بلند درختوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔بجلی کی چمک میں جھاڑیاں نشیب تک پھیلی نظر آئیں۔جھاڑیاں ہمیں نیچے اترنے میں سہولت دے سکتی تھیں،بغیرکسی مشورے کے ہم جھاڑیوں کا سہارا لے کر تیزی سے نشیب میں اترنے لگے۔ٹہنیوں کو پکڑکرچلنے سے پھسلنے کا خطرہ بالکل نہیں رہتا۔
نیچے پہنچنے سے چند گز پہلے جھاڑیوں کا سلسلہ ختم ہو گیاتھا۔اس کے بعد ہم رینگنے کی رفتار سے تہہ تک پہنچے۔ پانی کابہاﺅ نالے کے درمیان میں تھا۔تیز بارش کے وقت نالوں میں پانی کی مقدار غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ایسی صورت میں نالوں کو عبور کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔افغان نالے کی شکل دریا جیسی نہیں تھی کہ تمام پہاڑوں کا پانی اکٹھا بہتا۔وہاں کئی چھوٹے چھوٹے نالے تھے جن کے بہاﺅ کا رخ جنوب سے شمال کی جانب تھا۔اور چھوٹے نالوں میں بھی اس وقت اچھا خاصا پانی بہہ رہا تھا۔ہم نے کالے رنگ کے سپورٹس شوز پہنے تھے جو پہاڑی علاقے میں کافی کارآمدہوتے ہیں۔دونوں کے بوٹ اس وقت پانی سے شرابور تھے۔ڈھلوان ختم ہوتے ہی پھسلنے کاخطرہ پہلے کی طرح نہیں رہا تھا۔البتہ چھوٹے بڑے پتھروں سے الجھ کر گرنے یا پاﺅں میں موچ آنے کا خطرہ باقی تھا۔چاندنی رات یا ٹارچ کی روشنی میں حرکت کرنے میں صرف تھکن ہی رکاوٹ ڈالتی ہے اور اندھیرے میں اس کے علاوہ بھی کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔
سردارنے کپکپاتے ہوئے دہائی دی”راجے صاحب!دشمن کا تو پتا نہیں لیکن آج سردی سے نہیں بچنے والے۔“
”اچھا ہے ایک پٹھان تو کم ہوگا پاکستان سے۔“
وہ ہنسا۔”پنجابی بھی بچے گا نہیں،تو حساب برابر ہوا۔“
میں نے ہاتھ رگڑتے ہوئے کہا۔”پھر توکوئی پناہ ڈھونڈنا پڑے گی۔“
ہم نالے میں آگے بڑھنے لگے۔تھوڑا سا چلتے ہی میرے کانوں میں باتوں کی ہلکی سی آواز آئی۔ ایک دم سردار کا ہاتھ پکڑ کرمیں نے ہلکے سے دبادیا۔قدم روک کر ہم نے آواز کی سمت کان لگا لیے۔اسی وقت ٹارچ کی ہلکی سی روشنی بھی دکھائی دی تھی۔وہ ایک ٹیکری کے عقب سے نمودار ہو رہے تھے۔
بجلی تیزچمکی اور ہم نے سرعت سے قریبی جھاڑی کی آڑ پکڑ لی۔لمحہ بھر بعد بادل گرجا۔ ”کڑ.... کڑ....کڑ۔“کی آواز ختم ہوتے ہی نالے کا شور اور بوندوں کی۔”ٹپ ٹپ۔“سنائی دینے لگی۔اسی اثناءمیں دوبارہ آواز ابھری۔جواس بارپہلے سے واضح تھی،لیکن الفاظ کی صحیح سمجھ نہیں آرہی تھی۔چند الفاظ جو میرے کانوں میں پڑے ان سے اندازہ ہواوہ پشتو بول رہے تھے۔ان کا رخ ہماری ہی طرف تھا تبھی آواز رفتہ رفتہ واضح ہو رہی تھی۔دو ٹارچوں کی روشنی سے اندازہ ہوا کہ دوہی آدمی ہیں۔
ان کے مزید قریب آنے پر الفاظ کی سمجھ آنے لگی تھی۔”اتنا تیز نہ چلو،میں تھک گیا ہوں۔“
دوسری آواز نے تسلی دی۔”تھوڑا فاصلہ ہی رہ گیا ہے۔“وہ رفتہ رفتہ ہمارے قریب آ رہے تھے۔
پہلا شخص بولا۔”ملک گل بدین اتنا بڑا کمانڈر ہے اور اس کے پاس اپنے آدمی کے علاج کو ڈاکٹر موجود نہیں ہے۔“
”اس کے زیادہ تر لشکری پار چلے گئے ہیں۔تبھی اسے کمانڈر عدیل کی مدد لینا پڑی۔“
پہلے نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے کہا۔”کمانڈر خود تو گرم بستر میں لیٹا ہے،بد بختی تو ہماری ہے جو اس موسم میں خوار ہوتے پھر رہے ہیں۔“
دوسرا کھل کھلا کر ہنسا۔”تمھارا جانا تو لازمی تھامیں مفت میں خوار ہو رہا ہوں۔“وہ سامنے سے گزر کر پہاڑ کی بنیاد میں چلتے ہوئے شمال کی طرف بڑھنے لگے۔دونوں نے سبز رنگ کے پانی پلے پہنے ہوئے تھے۔
سردار نے دانت پیستے ہوئے سرگوشی کی۔”خنزیرہیں،شروعات کردیناچاہیے۔“وہ دہشت گردوں کو عموماََ اسی لقب سے یاد کرتا تھا۔اور حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اس سے بھی غلیظ اور گھٹیا تخاطب کے حق دار تھے۔
”چلو۔“میں رینج ماسٹر کاجھولا کندھوں سے نکال کر کھڑا ہوگیا۔سردار نے بھی اپنا جھولا وہیں چھوڑ دیا تھا۔وہ ہمارے سامنے سے گزر کر آگے بڑھ گئے تھے اور اب ان کی ہماری جانب پیٹھ تھی۔ٹارچ کی روشنی ہماری بہترین رہنمائی کر رہی تھی۔
سردار نے پوچھا۔”کیا سوچ رہے ہو۔“اس کا صاف مطلب یہی تھا کہ مجھے ہی فائر کرنا پڑے گا۔یوں بھی جب درست،محتاط اورکامیاب فائر کرنے کی ضرورت ہوتی سردار مجھے ہی موقع دیتا تھا۔
میں نے سائیلنسر لگا بریٹا ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔البتہ پستول میں نے پانی پلے کے نیچے رکھا تھا تاکہ گیلا ہو کر پستول کی کارکردگی میں فرق نہ پڑ جائے۔ہم نے ان کے پیچھے قدم بڑھا دیے۔اچانک بجلی زور سے چمکی،اور مختصر لمحات کا فائدہ اٹھا کر میں نے پستول والا ہاتھ سیدھا کیاچمک ختم ہونے تک بریٹا کی نال سے چند گرام سیسہ نکل کر ایک ناپاک وجود سے دھرتی کی جان چھڑا چکا تھا۔سر میں لگنے والی گولی نے اسے چیخنے کا موقع نہیں دیا تھا،نہ بارش اور نالے کے شور نے اس کے ساتھی کے کانوں تک ”ٹھک۔“کی آواز پہنچنے دی تھی۔البتہ اس کے اوندھے منہ گرنے پر ساتھی نے۔”سنبھل کرچلو۔“کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ٹارچ کا رخ اس کی جانب موڑا،مگر وہ نصیحتوں سے بہت دور جا چکا تھا۔جب تک اسے ساتھی کی کھوپڑی میں کھلا روشن دان نظر آتا سردار ٹارچ جلا کر اسے روشنی کے حلقے میں لے چکا تھا۔
”اپنی کھوپڑی بچانے کو تمھیں ہاتھ گردن کے پیچھے باندھنے ہوں گے۔“
”کک....کون ہو تم....“وہ ہکلا گیا تھا۔
”راجے اسے شک ہے۔“
سردار کی بات ختم ہونے تک ایک اور” ٹھک “ہوئی اور وہ چیخ مار کر نیچے گر گیا تھا۔میں نے اس کی داہنی پنڈلی کو نشانہ بنایا تھا۔اس نے کندھے سے کلاشن کوف لٹکائی ہوئی تھی،گرتے ساتھ اس کے ہاتھ کلاشن کوف کی طرف بڑھے،اگر وہ فائر کرنے میں کامیاب ہو جاتا،گولی بے شک ہمیں نہ لگتی مگرتڑتڑاہٹ دشمنوں کو چوکنا کر سکتی تھی۔
سردار نے مختصر فاصلہ زقند بھر کر طے کیا اور کلاشن کوف کاک کر نے تک اس کے سر جا چڑھا۔ پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر سے اس نے کلاشن کوف دور پھینکی اور اگلی ٹھوکر اس کے چہرے پر رسید کردی۔
”اوغ۔“کی آواز سے وہ پیچھے الٹ گیا تھا۔
وہ ہکلاتے ہوئے تعارف کرانے لگا۔” مم....میں کمانڈر عدیل جان کا لشکری ہوں۔“
سردار نے اس کی زخمی پنڈلی پر پاﺅں رکھا۔”کسی نے پوچھا ہے جو تعارف کرا رہے ہو۔“
”آہ ہ ....“زوردار کراہ اس کے منہ سے خارج ہوئی تھی۔”کک....کون ہو تم ....؟“
سردار نے اکڑوں بیٹھااور اس کے لمبے بالوں میں ہاتھ ڈال کر زوردار جھٹکا دیا۔”تفتیش ہم نے کرناہے پتر!“
”تمھارا نام ؟“اس کے ساتھی کی ٹارچ اٹھا کر میں نے پہلا سوال پوچھا۔
”اباسین خان۔“اس نے جواب دینے میں دیر نہیں کی تھی۔
میں نے اگلا سوال کیا۔”کہاں جا رہے تھے؟“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”ایک ساتھی کو گولی لگی ہے اس کا علاج کرنے۔“
میں مزید سوال پوچھنے لگا،وہ کبھی رک کر اور کبھی سرعت جواب دینے لگا۔سردار نے اس کی زخمی پنڈلی پر ہاتھ رکھا ہوا تھا جونھی جواب میں سستی دکھاتاسردار پنڈلی کو دبا دیتااور اس کی مزاحمت دم توڑ جاتی۔ جو کچھ معلوم ہوااس کا لب لباب یہی تھا کہ،ملک گل بدین کے دولشکریوں میں تلخ کلامی ہوئی یہاں تک کہ دونوں نے ہتھیار نکال لیے۔اورانھیں چھڑانے والاگولی کا نشانہ بن گیا۔ملک گل بدین کے زیادہ تر لشکری پاک فوج کی پوسٹوں پر حملہ کرنے کو باڑ سے پار جا چکے تھے۔افغان نالہ میں موجود اس کے آدمیوں میں کوئی ایسا نہیں تھا جو زخمی کے جسم سے گولی نکال سکتا،مجبوراََ انھیں کمانڈر عدیل جان سے مدد مانگنا پڑی تھی۔پہلے بتا چکا ہوں کہ دہشت گردوں کے تمام جتھے پاک آرمی کے خلاف عارضی طور پراکٹھے ہو گئے تھے۔ عدیل جان نے ملک گل بدین کے دست راست قلات خان کی درخواست پر اباسین خان اور صوبہ خان کو ان کی مدد کو بھیجا تھا۔ اباسین خان ابتدائی طبی امداد کے بارے اچھی شد بد رکھتا تھا۔ملک گل بدین خود وہاں حاضر نہیں تھا۔
اچھی طرح نچوڑ کر سردار نے کہا۔”اسے ساتھی کے پاس پہنچا دو۔“
میں نے منہ بنایا۔”گولی ضائع کرنا ضروری ہے۔“
وہ گڑگڑایا۔”خخ....خداکے لیے مجھے چھوڑدو۔“
سردار نے دانت پیسے۔”اسی خدا کے لیے جس کے نام پر تم اتنے اچھے کام کر رہے ہو۔“
اس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا۔”آ....آپ کون لوگ ہو؟“
”بیٹا!ہم وہی ہیں جن کے خلاف تم حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔“مزاحیہ لہجے میں کہتے ہوئے سردار نے خنجر نکالااور اطمینان سے اس کے گلے پر پھیر دیا۔آخری وقت میں اس نے ہڑ بڑا کر مزاحمت کی،مگر یہ ناکام کوشش تھی۔ہنس مکھ پٹھان دشمن کے خلاف کتنا سفاک تھا اس کاا ندازہ مجھے کئی بار پہلے بھی ہو چکا تھا۔
وہ اذیت سے پھڑکنے لگا۔ہمارے دل میں اس کے لیے رتی بھر رحم بھی موجود نہیں تھا۔اس کے ہاتھ نہ جانے کتنے معصوموں کے خون سے رنگے تھے اور وہا ں بھی اس کی موجودی کا مقصد پاک فوج پر حملہ کرنا تھا۔ آستین کے ایسے سانپوں پر رحم کھانامظلوموں کے ساتھ زیادتی ہے۔
سردار نے دونوں کی تلاشی لی۔جیبوں سے انڈین رقم،آئی کام (وائرلیس سیٹ) اور ہتھیاروں کے علاوہ کوئی کام کی چیز برآمد نہ ہوئی۔البتہ اباسین خان کے تھیلے میں ابتدائی طبی امداد کا ضروری سامان،دو تین قسم کے فور سپ ( جسم سے گولی نکالنے کاچمٹی نمامخصوص آلہ )درد کش گولیاں و ٹیکے اور پٹیاں وغیرہ رکھی تھیں۔
لاشوں کو گھسیٹ کر ہم نے جھاڑیوں کے جھنڈ میں پھینکا۔اورکلاشن کوفوں کو پتھروں میں دبا دیا۔ ابتدائی طبی امداد کاتھیلا اور آئی کام سیٹ بھی ہم نے پاس رکھنا ضروری سمجھا تھا۔ہمارے پاس اپنی پوسٹ سے ملاپ کو کینوڈ (وائر لیس سیٹ)موجود تھا۔موبائل فون کی طرح وائریس سیٹ بھی مختلف کمپنیاں بنارہی ہیں،جن میں کینوڈ،آئی کام،مٹرولا،ہیرس وغیرہ شامل ہیں۔ان سیٹوں میں کنکشن کارڈ یا اس قسم کا کوئی بکھیڑا نہیں ہوتا۔ہر کمپنی کے سیٹ مخصوص فریکونسی پر کام کرتے ہیں۔اس لیے دوسری کمپنی کے وائرلیس سیٹ کے ساتھ ملا پ کرناممکن نہیں ہوتا۔پہلے آرمی میں بڑے ریڈیو سیٹوں کا رواج تھا جو کافی وزنی ہوتے تھے،البتہ ان کا ملاپ بھی لمبے فاصلوں تک ہو سکتا تھا۔اب چھوٹے وائرلیس سیٹ آگئے ہیں،جنھیں ساتھ پھرانا نہایت آسان ہے،لیکن ان کا ملاپ محدود فاصلے تک ممکن ہے۔اب تو وزیرستان میں موبائل فون سروس کام کر رہی،اس سے پہلے عام لوگ بھی رشتہ داروں وغیرہ سے رابطے کو وائرلیس سیٹ خرید لیتے تھے۔
ضروری کارروائی کے بعد ہم جانے کو تیار تھے۔ملک گل بدین کے لشکریوں کا ٹھکانہ وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔اباسین خان سے اس متعلق ہمیں کافی کچھ معلوم ہوا تھا۔پہاڑی کی بنیاد میں چلتے ہوئے آگے انٹرینٹ (انٹرینٹ،نقشہ بینی کی اصطلاح میں ایسی جگہ جو پہاڑ کے اندرکی طرف دبی ہوئی ہو،ایسی جگہ پہاڑ کے دو بازوﺅں کے درمیان ہوتی ہے۔جبکہ پہاڑ کے بازو سے مرادوہ ڈھلوان ہے جو بتدریج نیچے ہوتے ہوئے زمین سے مل جائے)آنا تھا۔اور وہیں ان کا ٹھکانہ تھا۔
اب ہم نے ٹارچیں جلا لی تھیں،کیوں کہ دشمن ہمارے متعلق غلط فہمی میں مبتلا تھا۔
ان کے ٹھکانے تک ہمیں ایک ادھ کلومیٹرفاصلہ طے کرنا پڑا تھا۔جلد ہی ہم انٹرینٹ تک پہنچ گئے تھے۔وہاں پہاڑی اندر کی طرف دبی ہوئی تھی۔سو ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر روشنی نظر آرہی تھی۔بجلی چمکنے پر دو خیمے دکھائی دیئے تھے۔
میں نے جھولے کے تسمے کندھے سے نکالتے ہوئے کہا۔”اپنے جھولے یہیں چھوڑنا مناسب رہے گا۔“
سردار نے میری تقلید میں سستی نہیں کی تھی۔ جھولے جھاڑی کے نیچے رکھ کر ہم آگے بڑھ گئے۔بارش اسی تسلسل سے جاری تھی۔ہماری ٹارچیں روشن تھیں،سامنے سے بھی ایک دو بار ٹارچ کا اشارہ دیا گیا۔میں نے بریٹا کے دستے پر گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔” کوشش کروں گا کہ تمھیں فائر نہ کرنا پڑے ،لیکن تیار رہنا۔“
وہ بے جگری سے بولا۔”خان ہر وقت تیار ہوتا ہے۔“
میں نے کارروائی کی ترتیب بتائی۔۔”تم ساتھ والے خیمے کا رخ کرنا۔“
”ٹھیک ہے۔“ سردار نے کلاشن کو ف تیاری حالت میں تھام لی تھی۔
چونکہ کچھ لوگ کلاشن کو کندھے پر لٹکانے کے بجائے ہاتھ میں اٹھانے کے عادی ہوتے ہیں اس لیے کسی کو سردار کی حرکت پر شک نہیں ہو سکتا تھا۔
دونوں خیموں کے درمیان دو گھوڑے یا خچر بھی بندھے نظر آرہے تھے۔یقینا وہ مویشی باربرداری کو استعمال ہوتے تھے۔عام استعمال کی اشیاءوہ کندھوں پر تو اٹھا کر وہاں تک نہیں لا سکتے تھے۔جبکہ گاڑیوں کی حرکت بھی سڑکوں تک محدود تھی۔
دو آدمی برساتیاں پہنے خیموں کے باہر ہی ہمارے منتظر تھے۔انھوں نے خیمے سے چند قدم آگے آکر ”پہ خیر۔“کہتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہاتھا۔
جونھی اگلے والے نے مصافحے کو ہاتھ بڑھایا،برساتی کی جیب سے ہاتھ نکال کر میں نے بجلی کی سی سرعت سے دو بار لبلبی دبادی۔دونوں بغیر آواز نکالے دھڑام سے نیچے گرے تھے۔ان کے تڑپتے اجسام کو پھلانگتے ہوئے میں خیمے کی طرف بڑھا،جبکہ سردار کا رخ دوسرے خیمے کی طرف تھا۔اس وقت ذرا سی سستی کرنے پر ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔خیمے میں چار آدمی گپیں ہانک رہے تھے، جبکہ پانچواں پرانے سے گدے پر لیٹا کراہ رہا تھا۔مجھے دیکھ کر وہ ششدر رہ گئے تھے، لیکن میراارادہ حیرانی دور کرنے کے بجائے انھیں مزید حیران کرنے کا تھا۔میں رکے بغیر تسلسل سے بریٹا کی لبلبی دباتا گیا۔اس فاصلے پر تو کسی اناڑی کی گولی بھی ضائع نہ جاتی تو مجھ سے کیوں کر کوتاہی ہو سکتی تھی۔چاروں بغیر سوال جواب کے ڈھیر ہو گئے تھے۔البتہ زخمی اپنی تکلیف بھول کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا تھا۔
”تت....تم....تم....“گھبراہٹ کے مارے اس سے فقرہ مکمل نہیں ہو پایا تھا۔
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”صحیح پہچانا،میرا تعلق پاک آرمی سے ہے۔“
اس کے چہرے پر زردی چھا گئی تھی۔لمحہ بھرسوچ کر وہ اٹکتے ہوئے بولا۔”مم.... میں زخمی ہوں۔“
اسی وقت سردار کی چہکتی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
”Congratulation Rajay, I have find your thired bride.“ (مبارک ہو راجے میں نے تمھاری تیسری دلہن ڈھونڈ لی ہے)
اس کے ہمراہ ایک جواں سال لڑکی موجود تھی،وہ سخت ہراساں اوروحشت زدہ لگ رہی تھی۔
”یہ کون ہے؟“میں ششدر رہ گیا تھا۔
”یہ بتائے گا ناں؟“سردار نے کلاشن کو کی نال زخمی کی طرف کرتے ہوئے سیفٹی لیور نیچے کیا۔
وہ گھبراتے ہوئے چیخا۔”مم....مجھے مت مارو،میں سب کچھ بتانے کو تیار ہوں۔“
میں نے پوچھا۔”یہ لڑکی کون ہے؟“
وہ تفصیل بتانے لگا۔”اسے آج سہ پہر کو،کمین خان اور دل مرجان پکڑ کر لائے تھے۔بعد میں اسی کی وجہ سے دونوں کا جھگڑا ہوا،انھیں چھڑانے کے چکر میں میں زخمی ہو گیا۔کمانڈر قلات خان تک یہ بات پہنچی تو اس نے حکم دیا کہ اس کی آمد تک لڑکی کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔تبھی لڑکی کے ہاتھ پاﺅں باندھ کر علیحدہ خیمے میں لٹا دیا گیا۔ کل کمانڈر قلات خان آکر اس کا فیصلہ کرے گا۔“
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”ملک گل بدین کہاں ہے؟“
”وہ شوال وادی میں ہے۔“
” کیوں ؟“
وہ نظریں چراتا ہوا بولا۔” کام کے سلسلے میں گیا تھا جلد لوٹ آئے گا۔“
”تمھارانام ؟“
”اصل دین۔“
”اصل ہو یا نقل تمھیں پتا ہونا چاہیے کہ ہمیں گل بدین کے کام کی نوعیت معلوم ہے۔اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جانتے ہیں۔اگر خود کو اذیتوں سے بچانا ہے تو ہر بات کا صحیح جواب دینا،کیوں کہ ہو سکتا ہے جو پوچھ رہا ہوں وہ مجھے پہلے سے پتا ہواور مقصد تمھیں جانچنا ہو۔“
اس نے خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھا اور تھوک نگلتے ہوئے بولا۔”میں سب کچھ صحیح بتاﺅں گا،مگر وعدہ کرو مجھے زندہ چھوڑ دو گے۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”ہمیں معصوم لوگوں کو قتل کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔“ یقینا وہ معصوم نہیں تھا اورمیں اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا تبھی ذومعنی بات کی تھی۔
اس نے سرعت سے صفائی دی۔”میں نے آج تک پاک آرمی کے کسی جوا ن پر گولی نہیں چلائی۔“
سردار ہنسا۔”تو یہاں عبادت کو حاضری دی تھی۔“
”خاموش رہو گل جان!“میں نے سردار کو جھڑکا۔ہمارے نقلی شناختی کارڈوں کے مطابق اس کا نام گل جان اور میراسبحان شاہ تھا۔
میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔”گل بدین شوال وادی میں کیا کر رہا ہے؟“
اصل دین نے اٹکتے ہوئے وہی تفصیل دہرا دی جو ہمیں پہلے سے پتا تھی۔
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”افغان نالہ میں گل بدین کے کتنے آدمی موجود ہیں؟“
”اندازاََ بیس،پچیس ہوں گے۔“
میں سردار کی طرف متوجہ ہوا۔”دوسرے خیمے میں ان کو ئی آدمی موجود تھا۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”ایک لیٹا تھا،میں نے پکاسلا دیا ہے۔“
”یہاں مجموعی طور پر تم آٹھ آدمی موجود تھے،باقی کہاں ہیں؟“
”باقی کمانڈر قلات خان کے ساتھ ہیں۔“
میں نے سوال دہرایا۔”کہاں؟“
” شمال کی جانب قریباََ اڑھائی تین کلو میٹردورر ہوں گے۔“
”یہ اتنا لمبا فاصلہ نہیں کہ قلات خان کو اپنی آمد کل پر ٹالنا پڑتی۔“
”موسم کی وجہ سے اس نے آنا پسند نہ کیا۔“
سردار نے کہا۔”میں سامان لے آتا ہوں۔“وہ رینج ماسٹر وغیرہ لانے چل پڑااور میں کرید کرید کر اصل دین سے معلومات اگلواتا رہا۔
لب لباب یہی ہے کہ قلات خان اڑھائی تین کلومیٹر دورشمال کی طرف موجود تھا اس کے ہمراہ دس بارہ آدمی تھے۔وہاں اس نے ”بلاکنگ پوزیشن“لگائی تھی۔وہ مقام” کیو جے ایٹ“ سے تھوڑا شمال کی طرف تھا۔ہم دونوں کیو جے ایٹ “ہی سے اترے تھے ”کیو جے سیون“ جنوب کی جانب تھی۔دہشت گردوں کے تمام جتھے مل کر کیو جے ٹاپ کی تین پوسٹوں کو گھیرے میں لے کر حملے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ایسا ہونے کی صورت میں کیو جے ٹاپ کی پڑوسی پوسٹوں نے لازماََ مدد کو آنا تھا اورشمالی کی جانب سے آنے والی مدد کو روکنا قلات خان کی ذمہ داری تھی۔جنوب کی جانب کمانڈر رنگین خان کے جتھے پھیلے تھے۔مشرقی جانب ملک گل بدین کے لشکری اکٹھے ہوئے تھے اور مغرب کی جانب کمانڈر عدیل جان اور سردار فیروز خان کا لشکر تھا۔چند آدمی ملک گل بدین کے بھی تھے۔چونکہ ملک گل بدین کے لشکریوں کی تعداد دوسرے کمانڈروں سے زیادہ تھی اس لیے اس کی ذمہ داری بھی زیادہ تھی۔اصل دین نے یہ بھی بتایاکہ پہلے حملہ جمعہ کے دن ہونا تھا۔پوسٹوں پر اضافی نفری کی آمد پر انھوں نے حملے کا منصوبہ زائد نفری کی واپسی تک ملتوی کر دیا تھا۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اضافی نفری نے زیادہ دن وہاں نہیں ٹکنا تھا۔اس دوران وہ تینوں پوسٹوں کے گرد گھیرا مکمل کر کے آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کر رہے تھے۔باڑ لگنے نے ملک دشمن ایجنسیوں کو حواس باختہ کر دیا ہے اور وہ مل کر پاک آرمی پر کاری ضرب لگانا چاہتے ہیں۔
پاک آرمی کی وزیرستان آمد کے بعد دہشت گردوں نے پورا زور لگایا تھا کہ فوج کو ناکام کر کے واپس جانے پر مجبور کیا جائے۔اس ضمن میں سادہ لوح مقامی افراد کو بھی بہلاپھسلا کر اپنے مذموم مقاصد کو استعمال کیا گیااور خود بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاک آرمی کے خلاف مسلسل جارحانہ کارروائیاں کی گئیں۔ابتداءمیں پاک فوج نے کافی اتلافیاں بھی جھیلیں۔کیوں کہ پاکستان آرمی روایتی جنگ کے لیے تو تربیت یافتہ تھی لیکن غیر روایتی جنگ اس کے لیے بالکل نئی،الگ اور انوکھی تھی۔روایتی جنگ میں تو دشمن کا آمنے سامنے مقابلہ کیا جاتا ہے،دشمن کی سمت و مقاصد معلوم ہوتے ہیں۔جبکہ غیر روایتی جنگ جو پاکستان پر مسلط کر دی گئی ہے بالکل الگ ہے۔دشمن آستین کے سانپ کی طرح چاروں طرف موجودتھے،ان کی سمت کا تعین نہیں تھاکہ پورے وزیرستان میں پھیلے تھے۔علاقائی خدو خال ان کے حق میں تھے،بلند پہاڑ،پوشیدہ غار،جنگل اور ہاتھ کی لکیروں کی طرح پھیلے خشک و تر نالے انھیں پناہ دیئے ہوئے تھے۔ان کی واضح شناخت نہیں تھی اور مقامی افراد میں گھلے ملے تھے۔ بلکہ مقامی افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔یوں بھی پاک آرمی کی آمد سے پہلے وزیرستان کو علاقہ غیر کہتے تھے۔ لوگوں کے پاس بے شمار اسلحہ موجود تھا۔ پستول سے لے کر راکٹ لانچر، مارٹر اور12.7ایم ایم جیسی بھاری گنیں موجود تھیں۔ شرپسند، دشمن ملک اور دہشت گرد عناصرپاک آرمی کی آمدورفت کے راستوں پر آئی ای ڈیز لگادیتے۔دور دور سے سنائپنگ کر کے فوجی جوانوں کو نشانہ بناتے۔ موقع ملنے پر کسی ایسی پوسٹ پر حملہ کر گزرتے جہاں ہنگامی صورت میں سپاہ کی تعدادکم ہوتی۔مقامی افرادکا روپ دھار کر پاک آرمی کے جوانوں کی مہمان نوازی کرنے کے بہانے بے ہوشی کی دوا پلا کر انھیں ذبح کر دینا آئے روز کا معمول تھا۔ابتداءمیں اچھی خاصی ناکامیاں حاصل کرنے اوراتلافیاں برداشت کرنے کے بعد پاک آرمی سنبھل گئی تھی۔تربیتی مراکز میں جوانوں کو نئے سرے سے تیار کیا گیا،غیر روایتی جنگ کی تربیت دی گئی اور پاک آرمی وزیرستان،سوات، پاڑا چنار وغیرہ میں پھیلی غلاظت کی صفائی میں دل و جان سے جت گئی۔آج الحمداللہ یہاں کا ماحول بالکل بدل چکا ہے۔زیادہ تر علاقوں میں تو امن قائم ہو چکا ہے۔
وزیرستان جیسے خوب صورت اور روح پرور علاقے کے باسی بھی اب امن و سکون کی چاپ واضح انداز میں سن رہے ہیں۔گو کبھی کبھار دہشت گرد بچھو کی طرح ڈنک مار دیتے ہیں کہ انڈیا،امریکہ،اسرائیل وغیرہ پاکستان میں امن دیکھنے کے خواہاں نہیں ہیں۔لیکن یہ کارروائیاں پہلے کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔البتہ ان علاقوں کی ترقی کو کافی کام کرنے والے ہیں۔سڑکیں ، کارخانے ،ہسپتال،سیر گاہیں اور انتہائی ضرورت کے دوسرے مراکز کی تعمیر اب تک اس رفتار سے شروع نہیں ہوئی جس کی حاجت ہے۔
حق تو یہ ہے کہ سب سے پہلے اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زور دیا جائے۔یہ سہولیات سے محروم علاقہ ہے۔لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔پاکستان کا شہری ہونے کے ناتے ان کا سہولیات پر اتنا ہی حق ہے جتنالاہور،پشاور،کوئٹہ اور کراچی کے لوگوں کا۔دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر وزیرستان کی غریب و سادہ عوام ہی ہوئی ہے۔ انھیں خصوصی طور پر بسانے کا خاطر خواہ بندوبست نہ کیا گیا،ان کے اجڑے گھر نہ بسائے گئے،ان کے زخموں پر پیار ،محبت و اپنائیت کے پھائے نہ رکھے گئے توملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا کر سادہ لوح اور معصوم عوام کو مشتعل کر کے اپنے مقاصد کو استعمال کریں گے۔سیاست دان آپس کے جھگڑوں میں پڑ کر عوام کے دکھ درد سے بے خبر و بے پروا ہو گئے ہیں اورایسی لا غرضیاں بہت زیادہ نقصان و تباہی لاتی ہیں۔
سردار کی آمد تک میں اصل دین سے کافی کچھ معلوم کر چکا تھا۔اس دوران وہ لڑکی کونے میں سہمی ہوئی کھڑی رہی۔وہ کبھی ٹکر ٹکر مجھے گھورنے لگتی،کبھی اصل دین کو اور کبھی اس کی نظر بیٹری سے جلنے والے بلب پر جا ٹکتیں جو خیمے کو روشن کیے ہوئے تھا۔بیٹری کے قریب ایک سولر پلیٹ بھی پڑی تھی۔یقیناسولر پلیٹ نے پسماندہ علاقوںکے باسیوں کو اندھیروں سے نکالنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے کہ شہری آبادی سے دوردراز علاقوں میں بھی جہاں بجلی نہیں پہنچی، روشنی نظر آجاتی ہے۔
”تمھارا نام۔“میں لڑکی کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ کپکپا گئی تھی۔ہکلاتے ہوئے بولی۔”کک....کشمالہ۔“
اس کا ڈر دور کرنے کو میں متبسم ہوا۔”ان خبیثوں کے ہاتھ کیسے چڑھی ہو؟“
”مم....میں بکریاں چرا رہی تھی یہ زبردستی پکڑ کر لے آئے۔“خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے اس نے باری باری ایک بھاری جثے والے شخص اور ایک چھریرے بدن والے کی لاش کی طرف اشارہ کیا۔ وہ ہرنی کی طرح سہمی ہوئی تھی۔ اچھی خاصی پر کشش وجاذب نظر تھی، تبھی تو خبیث اسے اٹھا لائے تھے۔ گہری نیلی آنکھیں دیکھ کر مجھے گلگارے یاد آگئی تھی۔البتہ باقی چہرہ گل سے مختلف تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 4
ریاض عاقب کوہلر
وہ ہرنی کی طرح سہمی ہوئی تھی۔ اچھی خاصی پر کشش وجاذب نظر تھی، تبھی تو خبیث اسے اٹھا لائے تھے۔ گہری نیلی آنکھیں دیکھ کر مجھے گلگارے یاد آگئی تھی۔البتہ باقی چہرہ گل سے مختلف تھا۔یہاں وضاحت کردوں کہ لڑکی جس پشتو میں بات کر رہی تھی وہ بہ مشکل ہی میرے پلے پڑ رہی تھی۔وزیرستان کی پشتو کافی کرخت ہے، بولنے والوں کا لہجہ بھی عجیب سا ہوتا ہے۔الفاظ کو یوں تروڑ مروڑ دیتے ہیں کہ ٹھیک ٹھاک پشتو جاننے والے مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔میں تو خیر پٹھان نہیں ہوں، سردار خان جیسا خالص پٹھان بھی ان سے گفتگو کرتے ہوئے سر پکڑ لیتا تھا۔ البتہ میری جانِ حیات پلوشے ہر قسم کی پشتو روانی سے بولتی ہے۔اور اسی کی وجہ سے میں بھی اس قابل ہوا کہ وزیرستانی لب ولہجے کو کم از کم سمجھ لیتا ہوں اس انداز کی پشتو بول اب بھی نہیں سکتا۔
”تمھارا گھر کہاں ہے؟“میرے سوال جاری رہے۔اس اثناءمیں سردار اندر آکر خاموشی سے ہماری گفتگو سننے لگا۔
”گرش خیل کے مضافات میں ہے،آج دوپہرکو ............“وہ تفصیل بتانے لگی۔
پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ بامک ٹاپ کے شمال میں ایک بڑا گاﺅں گرش خیل کلے ہے جہاں امریکن فوج کی چھاﺅنی بھی موجود ہے۔گرش خیل کے مضافات میں چند گھرانوں پر مشتمل کافی آبادیاں ہیں اور وہ بے چاری بھی ایسی آبادی ہی سے تعلق رکھتی تھی۔ یہ خبیث لوگ اس طرح کی معصوم لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کر اٹھانے سے بھی نہیں چوکتے ہیں۔بعض اوقات تو ایسی لڑکیاں مہینوں ان کے پاس پوری ٹولی کی اجتماعی بیوی بنی رہتی تھیں۔ کبھی کبھار یہ معصوم لڑکیوں کو ایک ہی بار خراب کر کے ان کا گلا کاٹ کر دفن کر دیتے اور ایسا بھی ہوتا کہ ہفتہ ڈیڑھ پاس رکھ کر آزاد کر دیتے۔اس کا انحصار اغواءکرنے والے کی مرضی اور طبیعت پر تھا۔کشمالہ کو اٹھانے والے دو تھے۔دونوں گرش خیل ضروری سامان کی خریداری کو گئے تھے کہ واپسی پرجنگلی پھول پر نظر پڑ گئی۔انھوں نے فی الفور اسے بے ہوش کیا اور اطمینان سے رنگ رلیاں منانے کی نیت سے ساتھ اٹھا لائے۔لیکن پہلی باری کے حصول میں جھگڑا ہو گیا۔اصل دین نے انھیں چھڑانے کی کوشش کی اور ٹانگ پر گولی کھا بیٹھا۔بات ان کے کمانڈر قلات خان تک جا پہنچی۔جس کی وجہ سے وہ معصوم لڑکی عارضی طور پر ان وحشیوں کی دست برد سے محفوظ رہی تھی۔ البتہ اس کی قسمت عروج پر تھی کہ میں اور سردار بلائے ناگہانی کی طرح وہاں پہنچ گئے تھے۔
سردار شرارتی انداز میں بولا۔”اتنی جلدی کاہے کی ہے شادی کے بعد تفصیل جان لیتے۔“کشمالہ کو بے خبر رکھنے کی غرض سے اس نے اردو میں بات کی تھی۔
میں سنجیدگی سے بولا۔”اسے دوسرے خیمے میں لے جاﺅ،مجھے اصل دین سے کوئی خاص بات کرنا ہے۔“
سردار سمجھ گیا کہ میں اصل دین کو کشمالہ کے سامنے قتل نہیں کرنا چاہتا۔
”چلو۔“سردار نے اسے خیمے سے نکلنے کا اشارہ کیا۔
ہماری گفتگو اس کے پلے نہیں پڑی تھی تبھی سردار کے اشارے پر اس کا رنگ خوف سے زرد پڑ گیا تھا۔ کپکپاتے ہوئے پوچھا۔”کک....کہاں؟“
سردارنے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔”پریشان نہیں ہوتے،تم میری چھوٹی بہن ہو۔“
کشمالہ کے زرد پڑتے چہرے پر خوشگوار حیرانی ابھری اور پھر اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔
وہ گلوگیر ہوئی۔”آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔“
سردار لاشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھل کھلایا۔”جنھیں کہنا تھا،کہہ چکے۔“
وہ سر جھکائے باہر نکل گئی۔
اصل دین نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا۔”مجھے قتل کرنے کو تم نے اسے باہر بھیجا ہے نا۔“
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”سمجھ دار ہو۔“
وہ گڑگڑایا۔”ایک موقع دے دو،میں توبہ کر لوں گا۔“
” میرے مجرم ہوتے تو ضرور معاف کر دیتا،مگر تم معصوم لوگوںکے قاتل ہواور پاکستان آرمی کا قانون تمھیں موت کی سزا سنا چکا ہے،جسے میں کالعدم نہیں کر سکتا۔“نفی میں سرہلاتے ہوئے میں نے اطمینان سے بریٹا کی لبلبی دبا دی۔گولی اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان میں پیوست ہوئی تھی۔
ا سے انجام تک پہنچا کر میں نے خیمے کے دروازے سے جھانک کرزور سے آواز دی۔”گل خان۔“
ایک منٹ بعد وہ میرے سامنے تھا۔کشمالہ بھی ساتھ چلی آئی تھی۔میری خفگی بھری نظریں دیکھتے ہی اس نے صفائی دی۔
”اسے اکیلے میں ڈر لگ رہا تھا۔“
کشمالہ کی نظر اصل دین کی لاش پر پڑی،اس نے خوف زدہ نظروں سے مجھے دیکھا اور سر جھکا لیا۔
میں نے مشورہ دیا۔”لاشوں کو باہر پھینکنے کے بجائے ساتھ والے خیمے میں چلے جاتے ہیں۔“
سردار خفگی سے بولا۔”ہمیں بلانے کے بجائے وہیں آجاتے۔“
”صرف تمھیں بلایا تھا تاکہ اکیلے میں پوسٹ سے بات کرسکیں۔“
”اس غریب کو کون سا اردو کی سمجھ آتی ہے،احتیاط ضروری سمجھو تو انگریزی میں بات کر لینا۔“
میں فخر سے بولا۔”میری پلوشے کو انگریزی بھی آتی ہے۔“
اس نے قہقہ لگایا۔”مگر یہ پلوشے نہیں ہے راجے صاحب!میرے مذاق کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے،تیسری شادی کی کوشش میں پہلی دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔“
میں کھسیاتے ہوئے بولا۔”بکواس کرناکوئی تم سے سیکھے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”اور بے غیرتی کرنا تم سے۔“ہم خیمے سے باہر نکل آئے۔خیمے کی روشنی بجھا کر میں نے دروازے کے تسموں کو بھی باہر سے بند کر دیاتھا۔،بارش کی رفتار پہلے سے ہلکی توہو گئی تھی مگر رکی نہیں تھی۔
دوسر ے خیمے میں گھستے ہی میں نے سردار کو کہا۔”وائرلیس سیٹ دو۔“
اس نے کینوڈ میری جانب بڑھا دیا۔ہم نے چینل تین پر رپورٹ دینا تھی۔ سیٹ آن کر کے میں کنٹرول کو پکارنے لگا۔
”ایس ایس فار کنٹرول اوور۔“گو ہر مشن میں سنائپر کا کوڈ نام تبدیل ہوجاتا ہے،مگر مجھے ایس ایس نام سے اتنی شہرت ملی تھی کہ میجر نعیم نے بااصرار مجھے یہی کوڈ نام استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔خود مجھے اور سردار کو بھی اس نام سے اچھی خاصی انسیت و اپنائیت تھی۔
دو تین بعد پکارنے کے بعد کیپٹن حفیظ اللہ نیازی کی آواز سنائی دی۔”کنٹرول فار ایس ایس سینڈ یور میسج اوور۔“یقینا وہ بے صبری سے ہمارے پیغام کا منتظر تھا تبھی تو کینوڈ اپنے پاس رکھا تھا۔
میں خفیہ زبان میں بولا۔”ہم منڈی میں پہنچ چکے ہیں،پہلے دو بکرے خرید کر اوپر بھجوائے،بعد میں آٹھ دنبوں کا مول بھی چکا دیاہے اوور۔“(مطلب پہلے دو بندوں کو قتل کیا اور اس کے بعد آٹھ اور دہشت گردوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا ہے)
”شاباش ،ایس ایس!خریداری جاری رکھو،ہم نے مکمل ریوڑ خریدنا ہے۔اور یہ بھی بتا دو کہ رقم کتنی خرچ ہوئی ہے تاکہ ہمیں پتا چلے تم اس وقت کس جگہ موجود ہواوور۔“(یعنی،دہشت گردوں کا صفایا جاری رکھو اور اپنی جگہ کا چھے ہندسی حوالہ بتا دو)
میں سردار کو مخاطب ہوا۔”جی پی ایس ( Global Positioning System)آن کر کے چھے ہندسی حوالہ بتاﺅ۔“(چھے ہندسی حوالے کے بارے اگر مکمل تفصیل بیان کرنا چاہوں تو پھر یہ سپاٹر ناول کے بجائے نقشہ بینی کی کتاب بن جائے گی۔مختصر اتنا جان لیں کہ کسی بھی مقام کے چھے ہندسی حوالہ کے ذریعے اس جگہ کو ڈھونڈنا نہایت آسان ہوتا ہے۔چھے ہندسی حوالہ زمین پر ایک سو میٹر کے مربع کو ظاہر کرتا ہے۔ایک تربیت یافتہ فوجی تو مخصوص نقشے کے ذریعے بھی اپنی جگہ معلوم کر سکتا ہے،عام آدمی اگر ذرا بھی دلچسپی لیں توGPSکے ذریعے چھے ہندسی حوالے کے بارے جان سکتے ہیں۔اور آج کل تو موبائل فون کے اندر بھی GPSموجود ہوتا ہے)
سردار نے GPSآن کر کے چھے ہندسی حوالہ بتایاجو میں نے کوڈ ورڈ میں کیپٹن حفیظ کو بتادیا۔
”ہوٹل چھوڑ کر کسی نئی جگہ پہنچو تو ضروربتانا،آﺅٹ۔“کیپٹن صاحب نے بات چیت ختم کرنے کا اعلان کیا۔(ان کے کہنے کا مطلب یہی تھا کہ جہاں بھی جاﺅں انھیں جگہ کا چھے ہندسی حوالہ بتاتا رہوں) اور وہ ہماری مدد تبھی کر سکتے تھے کہ انھیں جگہ کے بارے معلوم ہوتارہتا۔یوں مارٹر(چھوٹی توپ) وغیرہ کا فائر کرواتے وقت بھی وہ ہمیں آسانی سے بچا سکتے تھے۔
بات چیت ختم کر کے میں نے کینوڈ بند کر دیا تھا تاکہ بیٹری کی بچت ہو سکے۔ اضافی بیٹری ہمارے پاس موجود تھی،لیکن نہ معلوم ہمیں کتنا عرصہ باہر رہنا پڑتا۔
سردار نے دہشت گردوں سے چھینا ہوا”آئی کام“ آن کیا۔اس پر چینل 17 لگا ہوا تھا۔کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔سردار نے مختلف چینل تبدیل کر کے دشمن کی سن گن لینے کی کوشش کی مگر خاموشی چھائی تھی۔اس نے دوبارہ چینل 17لگا کر وائرلیس سیٹ بند کر دیا۔
ہم نے برساتیاں اتار کر لٹکا دی تھیں،کشمالہ چادر اوڑھ کر ایک بستر پر بیٹھ گئی تھی۔نہ اس نے بات چیت کی کوشش کی تھی اور نہ ہم اسے مخاطب کر رہے تھے۔
”اب کیا ارادہ ہے؟“خاموشی کو سردار خان نے توڑا تھا۔
”صبح تک تو یہ جگہ محفوظ ہے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”رات کے اندھیرے ہی میں کمین گاہ ڈھونڈ سکیں گے،روشنی پھیلنے پر مشکلات بڑھ جائیں گی۔“
میں نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔”بارش کافی ہلکی ہو گئی ہے،تھوڑا آرام کر کے نکلتے ہیں۔“
”اس کا کیا کریں گے؟“اس کا اشارہ کشمالہ کی طرف تھا۔
میں مزاحیہ انداز میں بولا۔”میری تو دو موجود ہیں۔اور دونوں مجھے بہت عزیز بھی ہیں۔تمھیں ہی ہمت کرنا پڑے گی۔“
”بکواس نہ کرو اسے گھر تک پہنچانے کا رستہ نکالو۔بے چاری سخت پریشان لگ رہی ہے۔“
”ہم نے مغرب کی جانب سفر کرنا ہے،گرش خیل بھی اسی طرف ہے۔آدھے راستے تک ہمارے ساتھ چلی جائے گی،آگے امید ہے اکیلے سفر کرنا مشکل نہ ہوگا۔“
سردار نے منہ بنایا۔”رات کو یہ معصوم اکیلے سفر کر لے گی۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”مجبوری میں جان جوکھم میں ڈالنا پڑتی ہے۔“
”اگر اس کی جگہ رومانہ بہن ہوتی تب بھی تم یہی رائے دیتے۔“اس نے پلوشہ کے بجائے رومانہ کا نام لیا تھا کیوں کہ رومانہ چھوئی موئی اور گھریلو خاتون تھی،جبکہ پلوشہ نڈر و دلیر تھی اس کے لیے اکیلے کہیں جانا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”ایک اجنبی لڑکی اور عزیز ترین قریبی رشتے کو مماثل کرنے کی جرا¿ت ایک خان ہی کر سکتا ہے۔“
وہ اطمینان سے بولا۔”اجنبی سہی،مگر مظلوم ہے۔کسی کی بہن،بیٹی تو ہو گی نا۔کیا تمھیں اچھا لگے گا کہ پھر کسی بھیڑیے کے ہتھے چڑھ جائے۔اللہ پاک نے اسے بچانے کو ہمیں سبب بنایاہے۔گویا اسے محفوظ ٹھکانے تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔“
”پھر آرام کا خیال دماغ سے نکالو اور کوچ کی تیاری کرو۔“مجھے اختلاف کی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔
وہ ہنسا۔”سنائپر کو اتنا نازک بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ایک پہاڑی سے اتر کر لیٹنے کی فکر کرنے لگے۔“
میں نے منہ بناتے ہوئے کہا۔”اگلی مرتبہ تمھارے ساتھ آنے سے میرا جواب ہے۔میجر نعیم سے بات کرتا ہوں،کوئی سپاہی دے سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اکیلا بھلا۔“
سردار متبسم ہو کر کشمالہ کو مخاطب ہوا۔”بہنا!تمھیں گھر کا رستہ معلوم ہے۔“
اس نے اداس نظروں سے سردار کو گھورتے ہوئے کہا۔”گرش خیل کے قریب ہے،اگر وہاں تک چلے جائیں تو آگے پہچان لوں گی۔“
”تمھارے ساتھ ان خبیثوں نے کوئی بد تمیزی تو نہیں کی تھی ناں۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”آپ کا شکریہ بھائی جان!آپ کی وجہ سے میری عزت اور جان بچی۔“
سردار نے ہمدردی سے پوچھا۔”کھانا کھایا ہے؟“
”نہیں،لیکن بھوک بھی محسوس نہیں ہو رہی۔گھر والے پریشان ہوں گے۔جانے میرے بارے کیا سوچ رہے ہوں۔“اس کا لہجہ رو دینے والا ہو گیا تھا۔
”فکر نہ کرو،ہم تمھیں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔اور ان کی غلط فہمی بھی دور کریں گے۔“
”آپ بہت اچھے ہیں۔“وہ خوش ہو گئی تھی۔لمحہ بھر توقّف کے بعد بولی۔”مجھے فوجی اچھے لگتے ہیں۔“
سردار ہنسا۔”ہم فوجی نہیں ہیں۔“
”آپ لوگ جب اس آدمی سے پوچھ تاچھ کر رہے تھے،تب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ لوگ فوجی بھائی ہیں۔“
”میرا خیال ہے مزید وقت ضائع کرنا مناسب نہ ہوگا۔“میں نے روانگی کا عندیہ دیا۔سردار کے کچھ کہنے سے پہلے دومسلح افراد دندناتے ہوئے خیمے میں گھسے۔کلاشن کوفیں ہماری طرف تنی تھی۔آگے والا ادھیڑ عمر کا گرانڈیل شخص تھا۔
”خنزیر کا بچہ !ہاتھ اوپر اٹھاﺅ....تمھاراکیا خیال تھا قانون خان سے بچ جاﺅ گے۔“
کلاشن کوف کے خوف ناک دہانے کو اپنی جانب اٹھا دیکھ کر بہادری کا مظاہرہ سلطان راہی مرحوم یا بدر منیر ہی کر سکتا تھا۔برے پھنس گئے تھے۔ امید ہی نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی ہمیں آلیں گے۔
میری پراگندہ سوچوں میں کشمالہ کی چیخ نے خلل ڈالا تھا۔وہ ”ماماجان!“کہتے ہوئے قانون خان کی طرف بھاگی۔”انھیں کچھ نہ کہو، انھوں نے مجھے خبیثوں سے بچایا ہے اورمجھے بہن بنا لیا ہے۔اب مجھے گھر پہنچانے جا رہے تھے۔یہ بہت اچھے ہیں۔یہ میرے فوجی بھائی ہیں،انھوں نے سارے خبیثوں کو قتل کر دیا ہے........“ ماموں سے لپٹتے ہوئے وہ پر جوش لہجے میں تفصیل بتانے لگی۔
قانون خان کی درشتی،خوشگوار حیرانی میں تبدیل ہوئی،کشمالہ کا ماتھا چوم کر اس نے کلاشن کوف کندھے پر لٹکائی اور ہمارے طرف بڑھتے ہوئے بولا۔”شاباش،تم جیسے اعلیٰ خاندان کے جوان ہی ہمارا فخر ہیں۔“اس نے باری باری سردار اور مجھے گلے لگا کر پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے ہماری پیشانیاں چوم لی تھیں۔ دوسرے جوان نے بھی کلاشن کوف کی نال نیچے کر لی تھی۔وہ کشمالہ کا بڑا بھائی تھا۔
قانون خان اسے مخاطب ہوا۔”ترنگ خان!باقیوں کو بھی اندر بلا لو۔“
تھوڑی دیر بعد پانچ مسلح افراد خیمے کے اندر آگئے تھے۔قانون خان کے کہنے پر تمام ہمیں پر تپاک انداز میں ملے۔تفصیل یہ معلوم ہوئی کہ کشمالہ کو اغواءکرنے والوں کو قانون خان کی بیٹی شمائلہ نے دیکھ لیا تھا۔ انھوں نے کشمالہ کو گھوڑے پر لاد لیا تھا۔وہ ایک ٹیکری پر چڑھ کر دور تک ان کی حرکت کو دیکھتی رہی۔جیسے ہی وہ نظر سے اوجھل ہوئے وہ بھاگتے ہوئے گھر پہنچی اورباپ کو ساری تفصیل بتا دی۔ قانون خان تند مزاج کا بگڑا ہوا شخص تھا۔نڈر دلیر اور کسی سے نہ ڈرنے والا قبایلی۔وہ فوراََ چند احباب کو اکٹھا کر کے بھانجی کو اغواءکرنے والوں کی تلاش میں روانہ ہو گیا۔دہشت گردوں کی کارروائیاں ان کے لیے نئی بات نہیں تھی۔ چونکہ انھیں کشمالہ کو اغواءکرنے والوں کی جگہ کے بارے معلوم نہیں تھا اس لیے وہاں تک پہنچنے میں انھیں کئی گھنٹے لگے تھے۔اتنی دیر میں انھوں نے افغان نالہ میں کئی خیمے کھنگالے تھے۔جن میں کچھ بکروال (بکریاں چرانے والے) کچھ مقامی لوگ اور کچھ دہشت گرد تھے۔شمائلہ نے انھیں کشمالہ کو اغواءکرنے والوں کی جانے کی سمت بتا دی تھی۔اندازے سے چلتے ہوئے آخر وہ صحیح مقام پر پہنچ گئے تھے۔ان کی آمد نے ہمیں تقویت دی تھی۔ کم از کم کشمالہ کا معاملہ بہ احسن خوبی نبٹ گیا تھا۔
مشورے کے بعد انھوں نے دہشت گردوں کی کسی چیز کو نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔کیوں کہ اپنا سامان پہچان کر دہشت گرد ان کے خلاف محاذآرائی پر اتر آتے تو وہ مقابلہ نہ کر پاتے۔البتہ ہم نے ان کا اسلحہ اور ایمونیشن ایک مخصوص جگہ چھپا دیا تھا کہ موقع ملنے پر نکال لیں گے یا کم از کم دہشت گردوں کے ہاتھ واپس تو نہیں لگے گا۔ دو عدد آئی کام بھی ملے تھے،وہ اسے مخابرہ کہتے ہیں۔ عام طور پر دہشت گرد کے پاس میں نے آئی کام سیٹ ہی دیکھے ہیں۔(مخابرہ لفظ وائرلیس سیٹ کا بہترین نعم البدل ہے اور اردو زبان میں اسے وائرلیس کی جگہ ایک مستقل لفظ کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے،ویسے،پہلے اردو میں وائرلیس کے لیے لفظ ”لاسکی“استعمال ہوتا ہے)
عموماََ دہشت گردوں کے پا س آئی ای ڈیز اور بارود وغیرہ مل جاتا ہے،مگر وہاں وہ پوسٹ پر حملے کی غرض سے اکٹھے ہوئے تھے اس لیے بارود وغیرہ پاس نہیں رکھا تھا۔میرا ارادہ ان کے آنے والے ساتھیوں کے لیے بارودی پھندا تیار کرنے کا تھا۔کیوں کہ ان کی آمد سو فیصد متعین تھی۔تھوڑا سوچ کرمیں نے سردار سے دستی بم(ہینڈ گرینیڈ) مانگے،اس کے جھولے میں دوعدد آرجزایم 72موجود تھے۔(دستی بم مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ آرجز ایم 72بھی پلاسٹک کے مضبوط خول والے جدید دستی بم ہیں۔ایک بم میں قریباََ 3500چھرے ہوتے ہیں جوپھٹنے کے بعد پانچ میٹر کے علاقے میں کسی ذی روح کو زندہ نہیں چھوڑتے)سردار نے دونوں بم میرے حوالے کر دیے۔
(یقینا قارئین نے فلموں میں دستی بم پھینکے جانے کے عملی مظاہرے دیکھے ہوں گے کہ کس طرح چھلا (سیفٹی پن)نکال کر بم ہدف کی طرف اچھال دیا جاتا ہے۔اور بم دو تین سیکنڈ کے اندر پھٹ جاتا ہے۔یہاں ایک چھوٹا سا اضافہ کرتا جاﺅں کہ دستی بم کا چھلا نکال کر اگر لیور کو مٹھی میں دبا دیا جائے تو جب تک لیور آزاد نہیں ہوگا دستی بم چال نہیں کرے گا۔اور اگر لیور پر مناسب وزن رکھ کر بم کو یونھی چھوڑ دیا جائے تو جب تک وزن پڑا رہے گا بم فائر نہیں ہوگا)
میں نے ایک بم سے چھلا نکالا اور لیور پرمناسب وزن کا ایک پتھر رکھ دیا۔دروازے کا کپڑا میں نے اس انداز سے پتھر کے گرد لپیٹا کہ دروازہ کھولنے والا جونھی کپڑا ہٹاتا پتھر بم کے لیور سے ہٹ جاتااور اس کے بعد نتیجہ صاف ظاہر تھا۔دوسرے خیمے کے دروازے پر بھی میں نے اسی طرح بم لگا دیا۔
قانون خان وغیرہ میری کارروائی کو حیرت سے دیکھتے رہے مگر انھوں نے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
پھندا لگا کر ہم جانے کو تیار تھے۔کبھی گھوڑے پر بیٹھنے کا اتفاق ہم دونوں کو نہیں ہوا تھا ورنہ وہاں دوگھوڑے موجود تھے۔قانون خان نے بھی گھوڑے لے جانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ ہم بھی نہیں لے جا سکتے تھے۔مجبوراََ گھوڑوں کی لگامیں نکال کر انھیں زبردستی بھگا نا پڑا۔
بارش رک چکی تھی۔اور مطلع صاف ہو گیا تھا کہ ٹمٹماتے ستارے مسافروں کی رہنمائی کو نکل آئے تھے۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ اتنی ترقی کے باوجود راہ دکھانے کے ضمن میں ستاروں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
وہاں سے ہم نے بھی مغرب کی طرف جانا تھا اس لیے انھی کے ساتھ چل پڑے تھے۔قانون خان ہماری ذات میں کافی دلچسپی لے رہا تھا۔اور ہمارے بارے زیادہ سے زیادہ جاننے کا متمنی تھا۔لیکن اس پر شک نہ ہونے کے باوجودہم اسے اپنے بارے تفصیل نہیں بتا سکتے تھے۔اور اس کے سوالوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ہم باز پرس شروع کر دیتے۔اسے محسوس بھی نہ ہوا اور ہم نے اپنے بارے ایک دو جھوٹ بول کر صفائی سے موضوع تبدیل کر کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پوچھنا شروع کر دیا۔چونکہ کشمالہ کو تلاش کرتے ہوئے وہ افغان نالے میں کافی دیر سرگرداں رہے تھے اس لیے ان کے پاس اچھی معلومات ہونی چاہیے تھی۔خوش قسمتی سے اپنی بھانجی کی وجہ سے وہ دہشت گردوں پر بری طرح تپا ہوا تھا لہذا اس نے کافی مفید معلومات ہمارے گوش گزار کی تھی۔
کلو میٹر بھر کا فاصلہ ہم نے ان کی معیت میں طے کیا۔اس دوران ہمیں دو نالے عبور کرنا پڑے تھے۔ بارش کی وجہ سے نالوں میں پانی کی سطح عام دنوں کی نسبت زیادہ تھی،جوتوں کو گیلا ہونے سے بچانے کو ہمیں ننگے پاﺅں نالے سے گزرنا پڑا تھا۔گو بارش کی وجہ سے ہمارے جوتے پہلے سے گیلے تھے،مگر خیمے میں بیٹھ کر ہم جرابیں تبدیل کر چکے تھے اور اب مزید خشک جرابیں ہمارے پاس نہیں تھیں۔ایک فوجی کو سب سے زیادہ بچاﺅ اپنے پاﺅں کا کرنا پڑتا ہے اور سنائپر کے لیے تو اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔کسی بھی مشن کی تکمیل میں سب سے اہم مقصود تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی کارروائی کا مرحلہ آتا ہے۔اور جوسنائپر مقصود تک نہ پہنچ پائے اس سے ہدف کو ٹھکانہ لگانے کی امید کرنا حماقت ہی ہے۔
قانون خان ٹولی نے اپنے چپل اتارنے کی زحمت نہیں کی تھی۔آخر وہ مقام آگیا جہاں سے ہمیں علیحدہ ہونا تھا۔انھوں نے ہمیں پرتپاک انداز میں الوداع کیا،کشمالہ نے بھی قریب ہو کر عقیدت بھرے انداز میں شکریہ کہا تھا۔
انھیں رخصت کر کے میں نے کنٹرول کوخفیہ زبان میں پچھلی جگہ چھوڑنے کی بابت مطلع کر کے یہ بھی بتا دیا کہ وہاں ہم آنے والوں کے لیے انار(دستی بم) چھوڑ آئے ہیں۔کنٹرول کے نئی جگہ کے بارے استفسار پر بتا دیا کہ، ہم فی الحال راستے پر ہیں۔کنٹرول سے یہ بھی پتا چلا کہ دوسرے سنائپرز کی جوڑیاں ہم سے پہلے اپنی جگہ پر پہنچ چکی تھیں۔ہمیں بھی اباسین خان اور اس کا ساتھی نہ ملتے توکسی کمین گاہ میں ہوتے۔
قانون خان سے ہمیں دہشت گردوں کے دو ٹھکانوں کی جگہ معلوم ہوئی تھی،مگر دونوں قریباََ نشیبی علاقے میں تھے،سردار حملہ کرنے پر بہ ضد تھا۔
میں نے انکار میں سر ہلایا۔” تین بج چکے ہیں۔اور ہمارا پہلا ہدف کمین گاہ کی تیاری ہے، روشنی پھیلنے سے پہلے مناسب ٹھکانہ ڈھونڈنا ہوگا۔ہمارے ساتھی کمین گاہ میں پہنچ کر آرام فرما رہے ہیں۔“
اس نے کہا”پھر نقشے کی مدد لیتے ہیں۔“
میرے متفق ہونے پر اس نے جھولے سے نقشہ نکال لیا۔(آرمی کے نقشوں میں علاقائی خدوخال بڑی وضاحت سے بیان کیے ہوتے ہیں۔اورآرمی میں نقشہ بینی کی خصوصی کلاسیں چلتی ہیں،لیکن عام آدمی ان نقشوں کو نہیں سمجھ سکتے )
چادر اوڑھ کر ہم نے ٹارچ جلائی تاکہ دور سے روشنی نظر نہ آسکے۔نقشہ زمین پر بچھا کر ہم نے شمال کی سمت سیدھا کیا۔جی پی ایس کی مدد سے نقشے پر اپنی جگہ معلوم کر کے نزدیک کوئی اونچی جگہ تلاش کرنے لگے۔کلومیٹر بھرکے فاصلے پر ایک ٹیکری نظر آگئی۔وہ بامک ٹاپ کے بیس سے تھوڑا نالے کی طرف تھی۔دونوں نے اتفاق سے اسی جگہ کا چناﺅ کیا۔وہ ہماری جگہ سے دو سو ساٹھ ڈگری بن رہی تھی۔قطب نما کے ذریعے ہم اس سمت کو بڑھ گئے۔ٹارچ ایک بار پھر بجھا دی تھی۔
پہاڑی علاقے میں ہموار زمین مشکل سے ملتی ہے۔بہ ظاہر ہموار نظر آنے والے میدان بھی قریب پہنچنے پر ڈھلوان نمانظر آتے ہیں۔ہمارا رخ قریباََ مغرب کی طرف تھا۔قریباََ اس لیے کہا کہ مغرب کی سمت دو سو ستر ڈگری بنتی ہے اورہمارا رخ دو سو ساٹھ ڈگری کی طرف تھا۔مجھے اچھی خاصی تھکن محسوس ہو رہی تھی اور اس کی وجہ رینج ماسٹرتھی۔اسی لیے دوردراز کے مشن پرسنائپر ہمیشہ ڈریگنوو،سٹائیر،گلیل،ایم 40 اے تھری جیسی نسبتاََ ہلکی سنائپر رائفلیں ساتھ لے جانا پسند کرتے ہیں۔ رینج ماسٹر سے ان کی رینج نصف ہے،مگر وزن چار گنا کم ہے۔تبھی دوردراز کے سفر میں ان کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔
سنائپر کا کام گومخصوص افراد کو نشانہ بناناہوتاہے،لیکن پاک آرمی کے بڑے آپریشن : حملہ،دفاع، پیش قدمی، پس قدمی وغیرہ ہوں ؛چھوٹے آپریشن :چھاپہ، گھات،گشت،نفوذ و خروج وغیرہ ؛ عمارتی لڑائی، دہشت گردوں کے خلاف کوئی مخصوص کارروائی، کلیدی افراد(اہم شخصیات)کو نشانہ بنانا،یہاں تک کہ کسی جاسوسی کے مشن میں بھی سنائپر کو بھیجا جا سکتا ہے۔اور ہر کارروائی میں سنائپر کو مخصوص کام بانٹے جاتے ہیں البتہ وہ مخصوص کام نشانہ بازی سے متعلق ہی ہوتا ہے۔اور سنائپر صرف ہدف کو ختم نہیں کرتا،ہدف کے خاتمے کے بعد اسے جان بچا کر نکلنا بھی ہوتا ہے۔اور بھاگتے وقت وہ جتناہلکا ہوگا اتنی تیزی سے حرکت کر سکے گا۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ سنائپرحتی الوسع اپنا ہتھیار پیچھے نہیں چھوڑتا۔اس وقت سردار کے پاس ڈریگنوو رائفل تھی۔وہ بھی منجھا ہوا سنائپر تھا۔اگرکسی وجہ سے ہمیں علیحدہ علیحدہ ہونا پڑتا تو اسے سنائپر رایفل کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔
ہمارے سامنے ایک اور نالہ آیا۔ہمیں پھر جوتے اتارنا پڑے تھے۔نالے کے ٹھنڈے پانی سے گزر کر ہم دوسری جانب پہنچے۔جرابوں کے بالائی حصے سے پاﺅں خشک کر کے ہم نے جرابیں پہنیں اوربوٹوں کے تسمے مضبوطی سے باندھ کر آگے بڑھ گئے۔جلد ہی ہم درمیانی بلندی کی ٹیکری کی بنیاد تک پہنچ گئے تھے۔شمال کی جانب کچھ فاصلے پر کتوں کی بھونکنے کی آوازتسلسل سے آرہی تھی۔وہ ”بکروالوں“ کے کتے تھے۔یہ اطمینان ہمیں حاصل تھا کہ دہشت گردوں کے پاس کتے نہیں ہوتے کیوں کہ وہ ایک جگہ ٹک کر نہیں رہتے۔شمالی علاقہ جات ہوں،کشمیر ہو یا وزیرستان، جتنے بھی پہاڑی علاقے میں گھوما ہوں یہی مشاہدہ کیا ہے کہ پاک آرمی کی پوسٹوں پر کتوں کا اکٹھ رہتا ہے۔کتوں کو باقاعدگی سے خوراک مل جاتی ہے اورپہرے داروں و ایسے دوست مل جاتے ہیں جو دشمن کو دور سے تاڑکر بروقت چوکس کردیں۔ایک عجیب بات یہ بھی مشاہدہ کی ہے کہ پاک آرمی کی پوسٹوں پر رہنے والے کتے سول کپڑوں والوں کو پوسٹ کے قریب نہیں آنے دیتے البتہ آرمی کی وردی میں کوئی نووارد بھی آجائے تواس سے تَعَرُّض نہیں کرتے۔
”خان صاحب!شبِ دید عینک سے بلندی کا جائزہ لے لو۔“
سردار نے ”سیون ڈی“ آن کر کے آنکھوں سے لگالی۔لمحہ بھر جائزہ لینے کے بعد بولا۔”بلندی پر ایک مکان نظر آرہا ہے۔“
عینک لے کر میں نے بھی جائزہ لیا۔درختوں کے جھنڈ میں ایک عمارت کا ہیولہ نظر آرہا تھا۔
سردار نے خیال ظاہر کیا۔”ہو سکتا ہے کسی سول شخص کا گھرہو۔“
میں نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے پریشانی ظاہر کی۔” اس کے برعکس ہوا تو دہشت گردوں کا مضبوط ٹھکانہ ہوگا۔اور ایسا ہونے کی صورت میں نہ صرف یہاں پہرے دار موجود ہوں گے بلکہ ان دنوں کافی نفری نے ڈیرے ڈالے ہوں گے۔“
سردار متفق ہوا۔”کوئی اور جگہ ڈھونڈیں؟“
میں نے کہا۔”قریب سے جائزہ لیے بغیر فیصلہ کرنا بے وقوفی ہوگی۔“
”چلو پھر....“شیردل پٹھان خطروں کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔میں نے بارہاجانچا تھا کہ سردار خان بے وقوفانہ حد تک دلیر تھا۔خطرات اور اندیشوں کو وہ ہمیشہ ہنسی مذاق میں اڑا دیا کرتا تھا۔مفاہمت اس کی فطرت میں شامل نہیں تھی۔وہ ہمیشہ مجھے اس شعر کے مصداق لگا تھا....
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
حالاں کہ خوف کا مادہ انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ہر شخص ڈرتا ہے، دلیر اور بزدل آدمی میں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ دلیر شخص اپنے خوف پر قابو پالیتا ہے۔اپنے اندر کا ڈر وہ دل ہی میں چھپائے رکھتا ہے۔جبکہ بزدل آدمی اپنے اعصاب پر قابو نہیں پا سکتااور خوف کو ظاہر کر دیتا ہے۔میں اپنی بات کروں تو عملی زندگی میں بارہا ایسے مواقع آئے ہیں جب میرا دل خوف سے لرز اٹھا۔موت آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگی اور ایسے حالات میں ”کل نفس ذائقہ الموت“کا اٹل قانون ہی تھا جس نے مجھے بھاگنے سے روکا۔
اس وقت بھی بلندی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے میرے چہرے پر تفکرات کا جال پھیلا تھا۔اور ایسا پہلی بار نہیں ہورہاتھا۔ہر ایسے وقت میں جب موت کچھ زیادہ ہی قریب دکھائی دینے لگے انسان کے احساسات ایسے ہو جاتے ہیں۔میں اسے کتنا ہی احتیاط پسندی کا نام دوں،فہم و فراست گردانوں،ہوشیاری سے تعبیر کروں، دوراندیشی کہوں یاخبرداری سمجھوں حقیقت میں اسے خوف اور ڈر ہی سمجھا جائے گا۔صرف پلوشہ کے غائب ہونے کے عرصے میں جب میں اسے مردہ سمجھے ہوئے تھاتب موت کا ڈر میرے دل سے نکل گیا تھا۔اور اس کی واپسی کے ساتھ زندگی کی ساری دلچسپیاں اور رعنائیاں لوٹ آئی تھیں۔ اس کی محبت کو میں نے ہر رشتے پر مقدم سمجھا تھا۔وہ مجھے اتنی ہی عزیز اور پیاری تھی۔اگر کبھی ایسا موقع آیا کہ مجھے اپنی جان اور اس کی زندگی میں ایک کا چناﺅ کرنا پڑا تو یقینامیری ترجیح اس کی سلامتی ہوگی۔لیکن بات جب وطن عزیز کی خدمت و حفاظت کی آجاتی تو اپنی عزیز از جان ہستی کے واویلے کو بھی میں نے پسِ پشت ڈال دیا تھا۔
اس کی شروع دن سے کوشش تھی کہ میں فوج کی نوکری کو خیر باد کہہ دوں۔اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اپنی پہلی ترجیح جاننے کے باوجود میں نے اس درخواست کو درخوراعتناءنہیں جانا تھا۔بلکہ ایک بار تو اس کے تکرار کرنے پر اچھی خاصی ڈانٹ پلا دی تھی۔دو دن وہ اتنی خفا رہی کہ روما کے کمرے میں ڈیرہ لگا لیا تھا۔عشاءکی نماز پڑھ کر لوٹتا تو روما کا کمرہ بند ملتا۔تیسرے دن روما کے منت سماجت کرنے پر وہ ہٹ دھرم راضی ہوئی تھی۔البتہ یہ اسے اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ نوکری چھوڑ دینے کا مشورہ یا درخواست میں کبھی نہیں مانوں گا۔اور یہ حال صرف میرا نہیں ہر فوجی کا ہوتا ہے۔ہم بھی عام انسان ہوتے ہیں،ہماری بھی خواہشات،ارمان،آرزوئیں اور تمنائیں ہوتی ہیں۔کہتے ہیں وطن کی ہواﺅں کا مقابلہ اور گھر کے ماحول کانعم البدل اللہ پاک کی اصل جنت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔بہ قول شاعر....
کوئی بہشت کا پوچھے تو کہہ سکوں ہنس کر
کہ وہ بھی خوب جگہ ہے ہمارے گھر کی طرح
میرا بھی دل چاہتا ہے کہ دن بھر کام کے بعد شام کو گھر لوٹ کر اپنے بیٹے عبداللہ کی قلقاریاں سنوں، چولھے پر بیٹھی روما کو کن اکھیوں سے خود کو تاڑتا دیکھوں اور جب چوری پکڑ لوں تو اس کی حیاآلود مسکراہٹ سے مستفید ہوں جو اس کے سرخ و سفید چہرے کو گلابی کر دیتی ہے، پلوشہ کی اٹھکیلیوں سے محظوظ ہوں،اماں جان، ابوجان اور پھوپی جان کی شفقتیں سمیٹوں۔جنگلوں،ویرانوں،پہاڑوں اور صحرا ﺅ ں میں دشمن کا تعاقب کرنا،کبھی ان سے چھپنے کو بھاگنا،کبھی گولی چلا کر دشمن کو سر سے محروم کرنا کبھی اپنے بدن پر گولی کھانایہ کھیل پڑھنے والوں کو بے شک دلچسپ لگے۔ پڑھ کر لطف اندوز ہوں،اپنے فارغ اوقات میں ان واقعات سے جی بہلائیں مگر جس پر گزر تی ہے صرف وہی اس تکلیف اور درد کو محسوس کرتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے....
کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پہ گزر گئی
دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات سے
بلندی طے کرتے ہوئے نظریں تسلسل سے دائیں بائیں کا جائز ہ لے رہی تھیں اور دماغ الٹے سیدھے خیالات کی جگالی میں مصروف تھا۔عجیب و غریب خیال تھے جو ساون کی گھٹاکی طرح امڈے چلے آرہے تھے۔
جاری ہے
 

ریاض عاقب کوہلر
بلندی طے کرتے ہوئے نظریں تسلسل سے دائیں بائیں کا جائز ہ لے رہی تھیں اور دماغ الٹے سیدھے خیالات کی جگالی میں مصروف تھا۔عجیب و غریب خیال تھے جو ساون کی گھٹاکی طرح امڈے چلے آرہے تھے۔
سرجھٹک کر میں نے ان خیالات کو دورکرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی تھی۔ہم خاموشی اور احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے۔اندھیرے میں پہاڑی علاقے میں ڈھلان چڑھتے یا اترتے وقت احتیاط کرناایسا ہی ہے جیسے کوئی دوشیزہ پائل پہن کر بغیر چھن چھن کی آواز پیدا کیے حرکت کرے۔بہ قول شاعر....
پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے
تو لاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے
یہ خیال کافی شرمندہ کرنے والا تھااور سردار کو شرمندہ کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دینا کہاں کی عقل مندی تھی۔ایک کنکر اس کی حرکت سے لڑھکتا ہوا نشیب کے سفر پر روانہ ہوا،وہ فوراََ دبک کے بیٹھ گیا تھا۔ پاس بیٹھتے ہوئے میں نے سرگوشی کی....
”خان صاحب!اس وقت تمھاری حالت پازیب پہن کرگھر والوں سے چوری چھپے،محبوب کی ملاقات کو جانے والی دوشیزہ کی سی ہے۔“
وہ بھڑک کر کھڑا ہوا۔”ایسی کی تیسی ان سالوں کی۔“
میں نے فوراََ بازو پکڑ کر اسے کھینچ لیا۔”خان صاحب!میں بھی تمھارے ساتھ ہوں۔“
اس نے منہ بنایا۔”پھر بکواس نہ کرو۔“
آخری تاریخوں کے چاند نے طلوع ہو کر اندھیرے کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا۔مسلسل تاریکی میں رہنے کی وجہ سے ہماری آنکھوں کو چاند کی روشنی سے بہت تقویت ملی تھی۔
”اپنے جھولے ان جھاڑیوں میں چھپا دیتے ہیں۔“چند گزدور جھاڑیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے میں نے موضوع تبدیل کیا۔جھاڑیوں کا سلسلہ نشیب تک چلا گیا تھا۔
”ٹھیک ہے۔“وہ جھکے جھکے ان جھاڑوں کی طرف بڑھ گیا۔میں عمارت کے ہیولے کی طرف متوجہ ہو گیا۔کوشش کے باوجود کوئی حرکت دکھائی نہیں دے رہی تھی۔اگر وہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہوتا تب بھی پہرے دار نے مورچے میں ہونا تھاجو دن کی روشنی میں نظر نہ آتا تو اس اندھیرے میں کیا دکھائی دیتا۔
لمحہ بھر عمارت کا جائزہ لینے کے بعد میں بھی جھاڑی کی طرف بڑھ گیا۔رینج ماسٹر کا جھولا اتار کرمیں نے سائیلنسر لگا پستول ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔وہاں سے آگے مزید احتیاط لازمی ہو گئی تھی۔سردار نے بھی ڈریگنوو تیاری حالت میں پکڑ لی تھی۔البتہ میرے بتائے بغیر وہ جانتا تھا کہ فائر کرنے کا پہلا حق میرا تھا۔اور اس کی وجہ میرا اچھا فائرر ہونے کے بجائے میرے پاس سائیلنسر لگے بریٹا کا ہونا تھا۔پستول اس کے پاس بھی موجود تھا،مگر اس پر سائیلسنر لگا ہوا نہیں تھا۔
سردار سے شبِ دید عینک لے کر میں نے تسموں کی مدد سے آنکھوں پر باندھ لی تھی۔
ہم عمارت سے پچاس قدم دور تھے جب اچانک خاموشی کا پردہ چاک کرتی ہوئے بھیانک آوازیں بلند ہوئیں۔بڑی جسامت کے تین کتوں نے نمودار ہو کر ہمارا رستہ روک لیا تھا۔
سردار نے سرعت سے کہا۔”گولی نہ چلانا۔“
اس کے مشورے کے بغیر بھی میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھاکیوں کہ گولی لگنے پر کتے اگر ایک دم خاموش ہو جاتے یا ”چیاﺅں چیاﺅں “شروع کر دیتے تودشمن کاگمان یقین میں تبدیل ہوجاتا۔اس کے برعکس ہونے کی صورت میں وہ جائزہ لینے پر اکتفا کرتا کیوں کہ کتوں کے بھونکنے میں صرف انسانوں کی آمد وجہ نہیں ہے۔ کتے، دوسرے کتوں یا گیدڑ،لومڑ وغیرہ کی آمد پر بھی آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔
کتے ایک مخصوص فاصلے سے آگے نہیں بڑھے تھے ورنہ مجبوراََ مجھے گولی چلانا پڑتی۔ہم سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک درخت کے نیچے ہو گئے تھے۔اب دشمن کے ردعمل کا انتظار تھا۔کتے برابر بھونک رہے تھے۔اچانک دروازے کی جانب سے سہمی ہوئی نسوانی آواز ابھری۔”کون ہے؟“آواز کی کھنک و ترنم ظاہر کر رہا تھا کہ نوجوان لڑکی ہے۔
ہم خاموش رہے،البتہ یہ اندازہ ضرور ہو گیا تھاکہ وہ دہشت گردوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔مالکن کی آواز سن کر کتوں کے بھونکنے کی رفتارزیادہ ہو گئی تھی۔تین چار منٹ بعد مورچے کے موکھے سے ٹارچ کی روشنی چمکی۔لیکن ہم دونوں درخت کے تنے کے ساتھ دبکے تھے۔ لمحہ بھر بعد دوبارہ آواز آئی وہ کتوں کو ڈانٹ کر خاموش کرارہی تھی۔شاید ہمیں دیکھنے میں ناکام رہی تھی۔
مالکن کے ڈانٹنے اوردو تین بارپتھر مارنے سے کتے دروازے کی طرف سمٹ گئے تھے۔تبھی اس کی آواز ابھری۔
”تم میرے نشانے پر ہو،بہتر ہوگایہاں سے دفع ہو جاﺅورنہ میں گولی چلانے پر مجبور ہو جاﺅں گی۔“
اب مزید چھپنا بے کار تھا،ہم آڑ سے نکل کر سامنے ہوئے،کتے دوبارہ بھونکنے لگے تھے۔ انھیں نظر انداز کر کے میں مورچے کی طرف متوجہ ہوا۔”بہن!ہمارا مقصد آپ لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں،کسی ضروری کام سے آئے ہیں، یہاں دن کا کچھ حصہ گزارکر،چلے جائیں گے۔آپ کو گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔“
اس نے مشکوک لہجے میں پوچھا۔”تمھارا یقین کیو ںکروں؟“
میں اطمینان سے بولا۔ ”کیوں کہ آپ کے گھر میں داخل ہونے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
”تمھاری آمد کا مقصد کیا ہے؟“وہ اتنی جلدی مطمئن نہیں ہو سکتی تھی۔
میں نے کہا۔”یہ جاننا آپ کے کسی کام نہیں آئے گا۔“
وہ دھمکانے لگی۔”مجھے اکیلا سمجھنا تمھاری بھول ہے۔میرے بھائی گھر ہی میںسوئے ہیں۔“
”جاگ جائیں تو ہمارے پاس بھیج دینا، انھیں مطمئن کر دیں گے۔فی الحال آپ آرام کریں اور ہمیں اپنا کام کر نے دیں۔“گفتگو ختم کرنے کا عندیہ دے کر میں سردار کو بولا۔”چلو۔“
ہم مکان کے شرقی جانب دو درمیانی اونچائی کے درختوں کی طرف بڑھ گئے۔دونوں درختوں کے تنوں کے درمیان چار انگل سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔وہاں بہتر مچان بن سکتی تھی۔
سردار نے مشورہ دیا۔”مچان کے بجائے”بیلی ہائڈ پوزیشن“ کیوں نہ بنا دیں۔“(یہ پوزیشن کسی درخت،پتھر یا کسی بھی دستیاب چیز کے نیچے بنائی جا سکتی ہے جو اوور ہیڈ حفاظت مہیا کرتی ہے اور دشمن کے براہ راست یا بالواسطہ فائر سے سنائپر بچا رہتا ہے۔البتہ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے اور کھدائی وغیر ہ کو اوزار کی ضرورت بھی پڑتی ہے)
یقینا اس کا ارادہ گھروالوں سے بیلچے،کدال وغیرہ مانگنے کا تھا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”دکھاﺅ کم ہو جائے گا،اور رینج ماسٹر کا سائیلنسر ہمارے پاس موجود ہے اس لیے فکر نہ کرو مچان پرہمارے دیکھے جانے کے امکان کم ہیں۔“
وہ متفق ہوا۔”سامان لے آﺅں۔“
”اکٹھے چلتے ہیں۔“میں اس کے ساتھ ہو لیا۔مکان ہم سے تیس چالیس گز شمال کی طرف پڑ رہا تھا۔ اوپر چڑھتے ہوئے ہم مکان کے پاس جا کر اس طرف مڑے تھے۔ان درختوں کے پاس پہنچنے کو مکان کے پاس سے گزرنا ضروری تھا۔کتوں نے ہمیں دیکھ کر ایک بار پھر اپنی موجودی کا اظہار کرنا ضروری سمجھا۔البتہ اب ان کے بھونکنے میں پہلے جیسی شدت نہیں تھی۔سامان لانے میں ہمیں ادھ گھنٹا لگ گیا تھا۔
چھوٹے دستے کی تیز پھل والی کلھاڑی میری جانب بڑھاتے ہوئے سرداراطمینان سے بولا۔”راجا صاحب !بسم اللہ پڑھو۔“
”تم بھی تشریف لے آﺅ حضور۔“میں نزدیکی جھاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔گھنٹا ادھ لگا کر میں نے کئی مضبوط شاخیں کاٹ ڈالیں۔سردار اس ان شاخوں کو درخت کے نیچے ڈھیر کرتا رہا۔ مچان بنانے کے کئی طریقے ہیں۔اور اس کا انحصار دستیاب وسائل،درخت کی قسم اور درکار وقت پر ہوتا ہے۔ اگر لکڑی کے پھٹے،رسیاں وغیرہ میسر ہوں تومچان کو آرام دہ بنایا جا سکتا ہے۔مچان کی تیاری میں درخت کے چناﺅ کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ درخت اکیلا اور نمایاں نہ ہو،درختوں کے جھنڈ سے باہر نہ ہو،کانٹادار نہ ہو،اس پر پرندوں کے گھونسلے نہ ہوں، کیڑے مکوڑے نہ ہوں،اس پر چڑھنا اترنا آسان ہو،پتوں سے بھرپور شاخیں ہوں، شاخیں اتنی مضبوط ہوں کہ سنائپر جوڑی کا وزن سہار سکیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن یہ صرف پڑھنے کی حد تک ہے۔عملی زندگی میں بہت ساری باتیں نظر انداز کرنا پڑتی ہیں۔ضروری نہیں کے ہر جگہ ان خصوصیات کے حامل درخت میسر ہوں۔ عموماََ سنائپر کے پاس انتخاب کا چناﺅ نہیں ہوتا۔ایسے حالات میں خطرہ مول لینا مجبوری بن جاتا ہے۔اور ایک سنائپر کی زندگی خطرات کی عملی تفسیر ہی ہوتی ہے۔
اس وقت بھی ہمیں سب سے بہتر وہی دودرخت لگے تھے۔البتہ ہماری خوش قسمتی کہ وہ بالکل اکیلے اور نمایاں نہیں تھے،گھنے بھی تھے۔وزیرستان میں شاہ بلوط کے درختوں کی بہتات ہے اور ہم نے شاہ بلوط ہی کے درختوں کا چناﺅ کیا تھا۔مقامی زبان میں وہ اسے” سیڑائے “کہتے ہیں۔اس کی دو تین اقسام ہیں جن میں زیادہ فرق نہیں ہے۔اس درخت پر کانٹے تو نہیں ہوتے لیکن پتوں کے کنارے نوکیلے ہوتے ہیں جو ننگی جلد پر چبھ سکتے ہیں۔ البتہ لکڑی انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔مقامی لوگ اس کی لکڑی کوئلہ بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ مٹی سے اِگلو (Igloo)نما قد آدم بھٹیاں بنا کر اس میں درخت کی لکڑیاں چھت تک بھر دیتے ہیں۔پھر اسے دھیمی آنچ پر سلگنے کو چھوڑ دیتے ہیں،چند دنوں میں عمدہ کوئلہ تیار ہو جاتا ہے۔وزیرستان میں کافی لوگ اسی کاروبار سے وابسطہ ہیں۔
درخت پر چڑھنے سے پہلے ہم نے فجرکی نماز پڑھی اور پھر کلھاڑی نیفے میں اڑس کر میں درخت پر چڑھ گیا۔
صبح کا ملگجا اجالا ہر طرف پھیل گیا تھا،اب ٹارچ روشن کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ مناسب بلندی پر پہنچ کرمیں نے سردار کو شاخیں پکڑانے کا اشارہ کیا۔وہ شاخیں دیتا گیا اور میں ترتیب سے رکھتا گیا۔پہلے مرحلے میں میں نے مچان کا فرش بنایا تھا۔سردار نے رسی کو ادھیڑ کر اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دیے تھے۔ میں شاخوں کو مہارت سے باندھنے لگا۔طلوع آفتاب تک ہم نے مچان تیار کر لیا تھا۔مزید تھوڑا وقت لگا کر ہم نے مچان کے چھپاﺅ و تلبیس کی ضروریات کو پورا کیااورسارا سامان مچان پر منتقل کر دیا۔فارغ ہوکر میں کنٹرول سے رابطہ کرنے لگا۔ کیپٹن حفیظ کو اپنی جگہ کے بارے بتا کر آگے کا لائحہ عمل پوچھا۔
”ہم صبح تین بجے بازار جائیں گے،تب ملاقات ہو گی۔تم سے بات چیت کو 13دوست آرہے ہیں۔لسننگ پر رہناآﺅٹ۔“(مطلب یہی تھا کہ وہ آنے والی صبح تین بجے نکلیں گے اور میں چینل 13پر مزید احکامات کا منتظر رہوں)
”ہم منتظر ہیں۔“ کہہ کر میں نے رابطہ منقطع کر دیا۔
”یا ر!بھوک لگی ہے۔“سردار نے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔
” بسکٹ ہی پر گزارا کرنا پڑے گا۔“میں نے چنوں سے بنے ہوئے مخصوص بسکٹ جھولے سے نکال کر درمیان میں رکھ لیے۔
سردار منہ بنا کر بسکٹ چبانے لگا۔ان بسکٹوں سے بھوک تو مٹ جاتی ہے،مگر گندم کی روٹی اور سالن کا بدل یہ نہیں ہوسکتے۔اور بدقسمتی سے سنائپر کامقصد کی خاطر اٹھنے والا پہلا قدم اس کے پیٹ پر پڑتا ہے۔
اسے بے دلی سے بسکٹ چباتے دیکھ کر میں نے چوٹ کی۔”یہ خوراک ہے،دوائی نہیں۔“
سردار نے کہا۔” میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”یہ فقرہ ہی غلط ہے،پٹھان سوچا نہیں کرتے۔“
وہ ملتجی ہوا۔”سنو توسہی۔“
میں نے منہ بنایا۔”بن بلایا مہمان بننا مجھے قبول نہیں ہے۔“
وہ مصر ہوا۔”کھانے کے پیسے دے دیں گے۔“
”گھر میں صرف عورتیں ہیں۔جو اتنی آسانی سے ہم پر اعتبار نہیں کر یں گی۔“
”دروازے پر دستک دیں گے،کوئی ردعمل ملا تو بہتر ورنہ چنوں کے بسکٹ توکہیں گئے نہیں۔“
میں نے فلسفہ جھاڑا۔”جو بسکٹ بے عزت ہو کر کھانے ہیں انھیں عزت سے چبالو۔“
اس نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔”بے عزتی،عزت والوں کی ہوتی ہے۔“
میں نے چوٹ کی۔” صحیح کہا،لیکن میں بھی تمھارے ساتھ ہوں۔“
سردار ہنسا۔”تمھاری بات کر رہا تھا،کیوں کہ اس کام کو میں تمھیں بھجوانے لگا ہوں۔“
میں اطمینان سے بولا۔”سنائپر کورس کی کسی بھی کتاب میں کھانامانگنے کی ذمہ داری شوٹر کے ناتواں کندھوں پر نہیں ڈالی گئی۔“
”کچھ باتیں سپاٹر کی صوابدید پر چھوڑدی جاتی ہیں۔“
میں نے طعنہ کسا۔”تم مانگنے کو جاپان تک چلے گئے اور ایک لڑکی کا ہاتھ مانگ لائے،تو یہاں بھی غیرت کرلو۔“
سردار نے طنزیہ قہقہ اچھالا۔”واہ!چھلنی کوزے کو کہہ رہی ہے تم میں دو سوراخ ہیں۔جس کی آوارگیوں کی داستان امریکہ سے افغانستان،کشمیر سے وزیرستا ن اور بھارت سے برطانیہ تک پھیلی ہے،وہ ایک شریف پٹھان پر طعنہ زنی کر رہا ہے۔“
میں ہکا بکا ہوتا ہوا بولا۔”برطانیہ کا نام تو میں نے صرف نصاب کی کتابوں میں پڑھا ہے۔“
”شاید ایسا ہی ہو،مگرلورا براﺅن کا نام کسی نصابی کتاب کا حصہ نہیں ہے۔“
میں نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔”دھت تیرے کی،بے شرم پٹھان اسے میں نے دیکھا تک نہیں۔“
”ہاں،دیکھا ہوتا توآج چوتھی ڈھونڈ رہے ہوتے۔“سردار نے اطمینان بھرے انداز میں کہا۔ ”ویسے کشمالہ بہن بھی برا انتخاب نہیں تھا۔“
میرا رخ گھرکی جانب تھا۔اسی وقت دو بچیاں مکان سے برآمد ہوئیں،ان کا رخ ہماری مچان کی طرف تھا۔ایک کے ہاتھ میں چھابہ اور دوسری نے کیتلی اٹھائی ہوئی تھی۔مکینوں کو روایتی مہمان نوازی نہیں بھولی تھی۔ غربت اور تنگ دستی بھی اس علاقے کے لوگوں کو مہمان نوازی سے باز نہیں رکھتی۔
”ٹھیک ہے خان صاحب!زیادہ دماغ خراب مت کرو،میں ناشتے کا بندوبست کر لیتا ہوں۔“میں درخت سے اترنے لگا۔
سردار نے دبے لہجے میں نعرہ بلند کیا۔”راجا زندہ باد۔میں جانتا تھا میرا دوست اتنا ہڈ حرام اور نکما بھی نہیں ہو سکتا کہ اپنے............“اس کا سر مکان کی طرف گھوما،بچیوں پر نظر پڑتے ہی دانت پیستے ہوئے بولا۔ ”میں بھی کہوں تم جیسا ڈھیٹ اتنی آسانی سے کیسے راضی ہو گیا۔“
استہزائی قہقہ بلند کر کے میں نے آخری تین چار فٹ کا فاصلہ چھلانگ لگا کر پورا کیا۔
بچیوں کی عمر سات آٹھ سال سے زیادہ نہیں تھی۔نیلی آنکھیں اور معصوم چہروں پر ہلکا سا خوف انھیں مزید پیارا بنا رہا تھا۔
”ارے یہ تو بہت پیاری بیٹیاں ہیں۔“میں نے چھابہ اور کیتلی لے کر ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
میرے مشفقانہ رویے سے ان کے چہروں پر چھایا خوف دور ہو گیا تھا۔ایک بچی ہمت کرتے ہوئے مستفسر ہوئی۔”کچھ اور چاہیے۔“
”فی الحال تو کچھ نہیں۔“ان کے گال چوم کر میں نے دونوں کے ہاتھ پر درمیانی مالیت کا ایک ایک نوٹ رکھ دیا۔وہ خوشی سے اچھلتی کودتی گھر کو بھاگ گئی تھیں۔
میں برتن اٹھا کر درخت پر چڑھنے لگا۔تھوڑی دیر بعد ہم پراٹھوں سے انصاف کر رہے تھے۔خوشبوو لذت بتا رہی تھی کہ پراٹھے دیسی گھی کے ہیں۔
”اللہ پاک ہماری بہن کو خوش رکھے۔“چھابے میں جھاڑو پھیر کر سردار نے پکانے والی کو دعا دی۔
”آمین۔“کہہ کر میں اطمینان سے لمبا پڑ گیا۔”ناشتا میں لے آیا تھا،اب پہرے داری کی ذمہ داری تم سنبھالو۔“
سردار نے چوٹ کی۔”تم سے بھلائی کی امید کرنا سانڈ سے دودھ ملنے کے مترادف ہے۔“
میں نے اس کے واویلے پر کان دھرے بغیر آنکھیں بند کر لیں۔کہ ایسی فضول باتیں جواب کی متقاضی نہیں ہوتیں۔سنائپر کے سخت جان ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ تھکتے نہیں یاان کے جسم آرام کے طلب گار نہیں ہوتے۔ان میں بس عام افراد سے برداشت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔اور تھکن کو وہ اپنے اعصاب پر مسلط نہیں کرتے۔
٭٭٭٭٭
میری آنکھ باتوں کی آواز سے کھلی۔دونوں بچیاں دوپہر کا کھانا لائی تھیں۔سردار مچان سے نیچے جا کر ان سے گپ ۱ ۲شپ کر رہا تھا۔صبح کی نسبت بچیاں زیادہ پر اعتماد نظر آرہی تھیں۔اورچہک چہک کر سردار کی باتوں کا جواب دے رہی تھیں۔دونوں چچا زاد تھیں۔ایک کانام تنزیلہ اور دوسری کاطیبہ تھا۔تنزیلہ سال بھر بڑی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ تنزیلہ کی امی بیمار تھیں اور اس کا باپ اور چچا کل سہ پہر کو اسے لمن شہر کی طرف لے گئے تھے۔ گھر میں ان کی چھوٹی پھوپھو،دادی اورطیبہ کی ماں موجود تھیں۔ وہاں بہت سے لوگوں نے ایسی جگہ بھی گھر بنائے ہوئے ہیں جہاں آمدورفت نہایت مشکل ہے۔اور ان لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ کسی مریض کو ڈاکٹر تک لے جانے کا ہوتا ہے۔چھوٹی موٹی بیماریوں کو تو یہ لوگ خاطر ہی میں نہیں لاتے البتہ بڑی بیماری یا حاملہ عورت کا کیس بگڑ جانے کی صورت میں بے چاروں کو بہت پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔
بچیوں کو رخصت کرتے وقت سردار نے چنددرمیانی مالیت کے نوٹ انھیں پکڑا دیے تھے۔گل بدین کے لشکریوں کی جیبوں سے ہمیں کافی رقم ہاتھ آئی تھی۔
سردار کھانے کے برتنوں کے ساتھ اوپر آگیا۔کدو کا سالن جس میں خشک گوشت کے ٹکڑے شامل تھے۔بھرپور ناشتا کرنے کے بعد خاص بھوک تو نہیں لگی تھی پھر بھی ہم دو دو روٹیاں ڈکار گئے تھے۔
کھانے کے دوران سردارنے دستی بموں کے دھماکوں کا بھی بتا دیاتھا۔
میں نے پوچھا۔”دھماکے کس وقت ہوئے۔“
”ساڑھے دس بجے۔“
”تمھیں ”آئی کام“ پر دشمن کی بات چیت سننے کی کوشش کرنا چاہیے تھی۔“
اس نے منہ بنایا۔”سنی تھی حضور !صرف ایک ہم بم ہی پھٹا ہے،دوسرے خیمے میں وہ ایک جانب کا کپڑا پھاڑ کر داخل ہوئے تھے اور دستی بم کودور پھینک کر ناکارہ کر دیا۔ قلات خان بچ گیا ہے،ایک آدمی شدید زخمی اور ایک قتل ہو چکا ہے۔آرجز ہینڈ گرنیڈکی وجہ سے انھیں یقین ہوگیا ہے کہ پس پردہ پاک آرمی ہے۔اپنے تمام لشکریوں کو انھوں نے خبردار کر دیا ہے۔کمانڈر عدیل جان کے لشکری بھی اپنے دونوں آدمیوں کو بار بار پکار رہے تھے۔لیکن ان کی اور گل بدین کے آدمیوں کی گفتگو میں نہیں سن سکا۔“
سردار نے کافی کارآمد معلومات حاصل کی تھیں۔”
کھانا کھا کر سردار آرام کرنے لگا۔رینج ماسٹر کو اب تک ہم نے نہیں کھولا تھا۔ میں دوربین سے علاقے کا جائزہ لینے لگا۔ہمیں کافی مناسب جگہ ملی تھی۔وہاں بامک ٹاپ کی طرف سے خطرہ موجود تھا کہ وہ ہماری پشت پر تھی۔اور فاصلہ بھی زیادہ نہیں تھا۔البتہ سائیلنسر کی وجہ سے ہماری کمین گاہ کو پہچاننا اتنا آسان نہیں تھا۔کوئی مستند سنائپر ہی اندازہ کر سکتا تھا کہ گولی کس طرف سے آرہی ہے۔ہمیں وہاں خطرہ صرف قریبی گھر والوں کی طرف سے تھا کہ ان کے ذریعے ہماری وہاں موجودی کی خبر پھیل سکتی تھی۔میں نے اس بارے پہلی فرصت میں مکینوں کو ہدایت کر دی ہوتی مگرگھر میں کوئی مرد موجود نہیں تھا جس سے میں بات کر سکتا۔میں اس لیے بھی مطمئن تھا کہ نزدیک کوئی دوسرا گھر نظر نہیں آرہا تھا۔اگرٹیکری کے مغربی نالے میں کوئی گھر موجود تھے تو ہماری نظر سے اوجھل تھے۔بچیاں برتن لینے واپس آئیں،میں نے نیچے اتر کر طیبہ کو گود میں اٹھا لیا اور ان سے دوسرے گھروں کی بابت دریافت کرنے لگا۔دونوں جوش و خروش سے عقبی نالے میں چند گھروں کی خبر دینے لگیں۔کبھی کبھار وہ ادھر کھیلنے بھی نکل جاتی تھیں۔مگر آج صبح سے وہ ادھر نہیں جا سکی تھیں۔
میں نے ان کے ساتھ گھر کی طرف بڑھ گیا۔دروازے پر رک کر میں نے تنزیلہ کو کہا۔”بیٹی !دادی کو بلاﺅ،کہنا چچا نے کچھ پوچھنا ہے۔“
وہ بھاگ کر گھر میں گھس گئی،تھوڑی دیر بعد ہی ایک بوڑھی عورت نمودار ہوئی،اس کے ہمراہ ایک جواں سال لڑکی بھی تھی جس نے دوپٹے کا پلو یوں چہرے پر لپیٹا تھا کہ صرف آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔ دونوں نے گہر ی نظر سے مجھے دیکھا تھا۔
”اسلام علیکم ماں جی!“میں نے گفتگو میں پہل کی تھی۔
اس نے نحیف آواز میں دعا دی۔”جیتے رہو بیٹا۔“
”ماں جی !معافی چاہتا ہوں آپ کو تکلیف دی۔ہم دشمنوں سے چھپتے پھر رہے ہیں، کل کا دن یہاں گزار کر کسی اور طرف کا رخ کریں گے۔عرض یہ تھی کہ بچوں کو آج اور کل گھر میں روک کر رکھیں۔کیوں یہ معصوم ہیں ہمارے چھپنے کی بابت کسی کو بھی خبر دے سکتے ہیں۔بلکہ ہمارے جانے کے بعد بھی کوشش کرنا یہ اس بارے کسی سے بات چیت نہ کریں تاکہ ہمارے دشمن آپ کے خلاف نہ ہو جائیں۔“
بوڑھی عورت کے پلے تو میری گفتگو نہیں پڑی تھی،لیکن جواں سال لڑکی اثبات میں سرہلاتے ہوئے اسے سمجھانے لگی۔اس کے منہ کھولنے پر معلوم ہوا کہ وہ بوڑھی خاتون کی بیٹی اور ننھی لڑکیوں کی پھوپھو تھی۔آواز سن کر میں نے فوراََ پہچان لیا تھا کہ رات کو ہمارا استقبال اسی نے کیا تھا۔
بیٹی کے سمجھانے پر اس نے پرجوش لہجے میں کہا۔”آپ ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔“
”اللہ آپ کو اچھی صحت والی لمبی عمر دے ماں جی!ہمیں فقط راز داری کااطمینان دلا دیں،باقی ہم سنبھال لیں گے۔“
بیٹی نے ماں کو میرامطلب واضح کیا۔اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے عورتوں کے ازلی تجسس کا اظہار کیا۔”آپ کے دشمن کون ہیں بیٹا۔“
”ہمارے دشمن،آپ کے بھی دشمن ہیں ماں جی!مگر آپ انھیں پہچانتی نہیں ہیں۔بہ ہرحال ہمیں آپ کی دعاﺅں کی ضرورت ہے۔“
بیٹی کی وضاحت پر وہ ہمیں دعائیں دینے لگی۔میں نے چند بڑے نوٹ نکال کر اس کی بیٹی کی طرف بڑھا دیئے۔گہری سیاہ آنکھیں میری جانب اٹھیں،ان میں گھبراہٹ چھپی تھی۔ نفی میں سرہلا کر وہ گھر میں گھس گئی تھی۔ بوڑھی عورت بھی خفیف انداز میں مجھے پیسے دینے سے منع کرنے لگی۔یقیناوہ پیسے کے لالچی نہیں تھے،مگر انھیں پیسے کی ضرورت تھی۔
میں نے تنزیلہ کو پیسے پکڑاتے ہوئے کہا۔”بیٹی،یہ اپنی پھوپھو کو دے دو۔“
بوڑھی عورت انکار میں سرہلاتی رہی،میں مسکراتا ہوا پلٹ آیا۔سردار اب تک سویا تھا۔میں دوربین سے علاقے کا جائزہ لینے لگا۔رات والی جگہ پر اب خیمے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔یقینا وہ اپنی لاشیں اور خیمے سمیٹ کرلے گئے تھے۔میں آئی کام آن کر کے ان کی سن گن لینے کی کوشش کرنے لگا،چار بجنے کو تھے جب وائرلیس پر مجھے پکارا جانے لگا۔
” ایس ایس اوور۔“
”ایس ایس سینڈ یور میسج اوور۔“میں نے جواب دیتے ہوئے پیغام کا پوچھا۔
اس نے کوڈ ورڈ میں چھے ہندسی حوالہ بتایا....
”ویٹ۔“اسے انتظار کا کہہ کر میں نے جلدی سے کاغذپر پہلے والا حوالہ درج کیا اور کہا۔
”سینڈ یور میسج اوور۔“
کنٹرول نے مجھے پانچ مقامات کے چھے ہندسہ حوالے لکھوائے۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا۔”یہ رقوم پکے حساب کتاب کے بعد پتا چلی ہیں۔“
”راجر آﺅٹ۔“سمجھ جانے کا عندیہ دے کر میں نے بات چیت ختم کر دی۔بلاشبہ وہ حوالے ان خاموش مجاہدوں کی محنت کا منہ بولتا ثبوت تھے جو کسی گڈریے،بھکاری،دہشت گرد، اسمگلر،شکاری،ڈاکو،تاجر، لکڑہارے یاعام مقامی آدمی کے بھیس میں رہ کر معلوم کر چکے تھے۔یہ پانچ ٹھکانے ہم دونوں نے سنبھالنے تھے، باقی سنائپرز کو دوسرے اہداف ملے تھے جو ہماری حدود سے باہر تھے۔
سردار نے جمائی لیتے ہوئے مجھے مطعون کیا۔”یہ بات چیت مچان سے تھوڑے فاصلے پر جا کر بھی کی جا سکتی تھی۔“
میں اسے لتاڑتے ہوئے بولا۔”تمھارے احمقانہ اعتراض کا جواب،”چونچ بند رکھو“ کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے۔“
”حضرت اقبال ؒ نے فرمایا تھا:”حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی۔“یقیناتم جیسے بے حیاسے پالا پڑ ا ہوگا۔“
”حاجی صا حب !اقبال کا مصرع پڑھ کر بھی تم پٹھان ہی رہو گے،عقل مند نہیں کہلا سکتے۔اس لیے وعظ و نصیحت چھوڑواور میری مدد کرو۔“نقشہ پھیلا کر میں چھے ہندسہ حوالے نقشے پر مارک کرنے لگا۔پندرہ بیس منٹ لگا کرہم نے اپنی جگہ سے پانچوں مقامات کی ڈگریاں اور فاصلے ایک کاغذ پر لکھ لیے تھے۔صرف ایک جگہ ہماری مار سے باہر تھی۔کیوںکہ اس کا فاصلہ اڑھائی کلومیٹر کے بہ قدر تھا۔اور رینج ماسٹر کی کارگر رینج تو آپ لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دو کلومیٹر ہے۔باقی چاروں مقامات کے فاصلے رینج میں تھے۔سورج ڈھلنے سے پہلے ہم نہ صرف ان پانچوں مقامات کو زمین پر ڈھونڈ چکے تھے بلکہ دوربین سے ان کا اچھی طرح جائزہ لے چکے تھے۔یہ کام نہایت آسان ہے کیوں کہ کمپاس کے ذریعے مطلوبہ ڈگری اور لیزر رینج فائینڈر کے ذریعے فاصلہ ناپ کر وہاں بیٹھے بیٹھے مطلوبہ مقام کو پہچاننا چنداں دشوار نہیں ہے۔البتہ جو قارئین نقشہ بینی سے واقفیت نہیں رکھتے انھیں اس طریقہ کار کی سمجھ نہیں آئے گی۔
شام کوبچیاں مرغی کا سالن لائی تھیں۔نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔برتن لینے بچیوں کے بجائے دو عورتیں آئی تھیں۔اندھیرے میں ان کی شکلیں تونظر نہیں آرہی تھیں لیکن آواز سن کر اندازہ ہوا کہ ایک بچیوں کی جواں سال پھوپی اور دوسری طیبہ کی ماں تھی۔وہ دو کمبل بھی لائی تھیں۔اور پانی کا گھڑا بھی۔ ہمارے پاس گرم چادریں موجود تھیں مگر وہ سردی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔بلا شبہ ہمیں ان کمبلوں کی سخت ضرورت تھی۔
ہم نے شکریے کے ساتھ کمبل وصول کر لیے۔زیادہ گفتگو کی کوشش نہ انھوں نے کی تھی نہ ہمیں ہی شوق تھا۔عشاءپڑھ کر میں نے ایک کمبل نیچے بچھایا اور دوسرا اوڑھ لیا،سردار پہرے داری پر بیٹھ گیا تھا۔گو اس جگہ زیادہ خطرہ نہیں تھا،لیکن ہم ذرا سا خطرہ مول لینے کو بھی تیار نہیں تھے۔
سردار مجھے ایک بجے جگا کر خود سو گیا تھا۔میں نے شبِ دید عینک سے اطراف کاجائزہ لیا اور پھر ایک ٹہنی سے ٹیک لگا کر جانِ حیات کے خیالوں میں کھو گیا۔چھٹی سے واپس آئے تین ماہ ہونے کو تھے اور اب کال کرنے پر” اسلام علیکم “کے بجائے اس کی سسکیاں سنائی دینے لگی تھیں۔رومانہ نے البتہ ہمت نہیں ہاری تھی۔وہ اسے بھی تسلیاں دیتی اور مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی حوصلے کا اظہار کرتی تھی۔
ہوا کی رفتاردھیرے دھیرے تیز ہو رہی تھی۔عموماََپچھلی شب کو تیز ہوا شروع ہو جاتی جو طلوع آفتاب کے ساتھ دم توڑ دیتی تھی۔لیکن کبھی کبھی دن بھر سائیں سائیں کی آواز سنائی دیتی رہتی۔خصوصاََ سردیوں میں تو یہ ہوا نوکیلی سوئیوں کی طرح آدمی کا بدن چھیدتی تھی۔جب چاروں طرف سفید برف کی چادر بچھی ہو تب یہ ہوا تکالیف و اذیتوں کے ہر حربے سے لیس ہوتی ہے۔
سوا تین بجے مجھے چھاپہ مار دستوں کی روانگی کا پیغام ملا۔کیو جے سیون اور ایٹ سے ایک ایک ٹولی اتر رہی تھی۔کیو جے فائیو اور کیو جے ٹین سے بھی ایک ایک ٹولی نے حرکت کرنا تھی۔ میرے اور سردار کی ذمہ داری کیو جے سیون اور ایٹ کی ٹولیوں کی مدد کرنا تھا۔کنٹرول نے ان کے کال سائن(جس حوالے سے میں انھیں وائرلیس پر پکار سکتا تھا) بتا دیے تھے۔میں نے شبِ دید عینک میں کیو جے ٹاپ کا جائزہ لیا مگر وہ پہاڑی سلسلہ کافی دور تھااورشبِ دید عینک کی رینج اتنی زیادہ نہیں ہے کہ مجھے رات کے وقت کوئی حرکت نظر آجاتی۔البتہ چھاپہ مار دستوں کے ٹارچ جلانے کی صورت میں ان کا نظر آنا ممکن تھا۔ اور یہ ممکن اس لیے وقوع پذیر نہیں ہو سکتا تھاکہ تربیت یافتہ سپاہ روشنی جلانے کی حماقت نہیں کر سکتی تھی۔ پاک فوج کے مجاہدوں کا اندھیروں میں حرکت کرنا ہی وطنِ عزیز کو روشن رکھے ہوئے ہے۔
صبح کا ملگجا اجالا پھیلتے ہی میں نے سردار کو جگایا اور نماز پڑھنے مچان سے نیچے اتر گیا۔ہماری سہولت کو میزبان پانی کا گھڑا وہاں چھوڑ گئے تھے۔عجیب مشن تھا کہ کھانے پینے کی کوئی تنگی پیش نہیں آئی تھی۔گو بھوک پیاس برداشت کرناسنائپر کی روزمرہ ہے،لیکن زبردستی بھوکا پیاسا رہنا ایک روزہ دار ہی کا خاصا ہے۔
میں بہ مشکل نماز پڑھ سکا تھا کہ ناشتا آگیا۔اتنے سویرے رزق کی آمد پر دل احساسِ شکر گزاری سے بھر گیا تھا۔علماءسے سنا ہے کہ رزق بھی موت کی طرح انسان کے پیچھے پھرتا ہے۔ناشتا دینے بچیوں کی جواں سال پھوپھو ہی آئی تھی۔دوپٹے کا پلواس نے چہرے کے گرد لپیٹاہوا تھا۔
اس نے وضاحت دی۔”بچیاں سوئی تھیں اس لیے مجھے آنا پڑا۔“
”شکریہ بہن۔“میں نے ممنونیت سے کہا۔
”آپ آج چلے جائیں گے۔“اس کا استفسار مجھے عجیب لگا تھا۔
”امید تو ہے۔“میں نے جواب گول مول کیا کہ ہمیں خود بھی واپسی کا واضح نہیں تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 6
ریاض عاقب کوہلر
”امید تو ہے۔“میں نے جواب گول مول کیا کہ ہمیں خود بھی واپسی کا واضح نہیں تھا۔
”کچھ ضرورت ہو تو مانگ لیا کریں ۔“چہرے سے سرکتے پلو کو اضطراری انداز میں ٹھیک کرتے ہوئے اس نے پیش کش کی۔
اسے گفتگو پر آمادہ دیکھ کر میں نے بات بڑھائی۔”تمھارے بھائی اور بھابی کب لوٹیں گے؟“
اس نے تفصیلی جواب دیا۔”بات ہوئی تھی،اللہ نے مجھے بھتیجے سے نوازا ہے۔بھابی بھی ٹھیک ہیں ۔ شاید آج رات یا کل تک واپس لوٹ آئیں ۔“
سردار نے نماز پڑھ لی تھی۔قریب ہو کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔”میری بہن کا نام کیا ہے؟“
وہ دھیرے سے بولی۔”زرمینہ۔“
”شکریہ زرمینہ بہن !آپ لوگوں نے ہمارا اتنا خیال رکھا۔“سردار چوکڑی مار کر نیچے بیٹھا اور پراٹھوں سے کپڑا ہٹانے لگا۔یقینا وہ نیچے ہی ناشتا نبٹانا چاہتا تھا۔
زرمینہ واپس مڑی،لیکن چند قدم لے کر رک گئی،لمحہ بھر رک کر اس کا رخ ہماری جانب ہوا لیکن پھر گھر کو مڑ گئی۔مجھے لگا کچھ کہنا چاہتی ہے،لیکن گومگو کی کیفیت میں تھی۔ اس کا ہچکچانا عجیب لگاتھا۔
”زرمینہ۔“کیتلی سے پیالی بھرتے ہوئے میں نے پکارا۔
اس کا رخ ہماری جانب ہوا مگر آگے نہ آئی۔
میں نے ہاتھ سے قریب آنے کااشارہ کیا۔
وہ جھجکتے ہوئے قریب آگئی۔اضطراری انداز میں ہاتھ مروڑتے ہوئے اسے دوپٹے کا پلو سنبھالنا یاد نہیں رہا تھا۔معصومیت بھرے چہرے پر حیا آلود سرخی پھیلی تھی۔اس کی گہری سیاہ آنکھیں اور جاذب نظر نین نقش کسی کو بھی بہکا سکتے تھے۔
”کچھ کہنا چاہتی ہو۔“میں نے متبسم ہو کر بولنے کی ترغیب دی۔
اس نے ہکلاتے ہوئے حاجت بیان کی۔”بب....بھائی.... مم....مجھے موبائل فون کا بہت شوق ہے،لیکن لالا جان کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے کہ خرید دیں ۔تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کیے تھے،لیکن بھابی کی بیماری پر خرچ ہو گئے۔“
میں خوش دلی سے مسکرایا۔”موبائل فون چاہیے یا رقم....“
”موبائل....“کالی سیاہ آنکھوں میں حسرت ہلکورے لیتی نظر آئی۔میں دل مسوس کر رہ گیا تھا۔کتنی چھوٹی سی معصوم خواہش تھی جو اس کے لیے پہاڑ بنی تھی۔ بلا شبہ انسان کی خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوتیں ۔ ایک تمنا حاصل کرو تو اگلی کو دل مچل اٹھتا ہے، بہ قول شاعر۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے ہیں میرے دل کے ارماں پھر بھی کم نکلے
اگر وہ مہذب دنیا میں ہوتی تو بہ ذات خود کئی دلوں کی تمناﺅں کا مرکز ہوتی۔لیکن ان پہاڑوں میں اسے چاہنے یا سراہنے والا کوئی نہیں تھا۔ اسے اپنی خوب صورتی کا اندازہ تھانہ اپنی اہمیت کا پتا۔کیوں کہ” میرا جسم میری مرضی “جیسی لعنت سے وہ باحیا،باکردارو معصوم لڑکی کوسوں دور تھی۔اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وزیرستان کی عورت شرم وحیا کی پتلی ہوتی ہے۔وزیرستان میں بدکرداری اور فحاشی کا گزر ہی نہیں ہے۔شادی سے پہلے کے یارانے ،عشق معشوقی اور ایسی دوسری خرافات سے وزیرستان کا معاشرہ کوسوں دور ہے۔
زرمینہ کی خواہش پر میں نے اپنے قیمتی موبائل فون سے کنکشن کارڈ نکالا ،فون کو ری سیٹ کر کے اس کی جانب بڑھادیا۔ ”یہ لو اب خوش....“
اس کے چہرے پر بے یقینی ابھری اور اس نے جھجکتے ہوئے موبائل فون پکڑ لیا۔
سردار بولا۔”موبائل دے دیا ہے تو چارجر بھی بے چاری کے حوالے کردو۔“
”ایک منٹ۔“زرمینہ کو رکنے کا اشارہ کر کے میں مچان پر چڑھ گیا اور اپنے جھولے سے چارجر نکال لایا۔ ”یہ بھی رکھ لو۔“میں نے چارجر بھی اس کی طرف بڑھا دیا۔
اس نے متعجب ہو کر چارجر بھی تھاما اور بے یقینی سے مجھے گھورتی رہی۔ اسے یہ سب سپنا لگ رہا تھا۔
میں نے متبسم ہو کر پوچھا۔”استعمال کر لو گی ناں ؟“
”نہیں تو راجا،اپنا مشن پس پشت ڈال کر یہ ذمہ داری سنبھالنے کو تیار ہے۔“سردار نے منہ بناتے ہوئے لقمہ دیا۔
سردار کی اردو تو اس کے سر پر سے گزر گئی تھی،البتہ میری بات کا جواب اس نے پرجوش انداز میں سرہلا کر دیا تھا۔
”تو ٹھیک ہے جاﺅ۔“میں ناشتا کرنے بیٹھ گیا۔
”آ....آپ بہت اچھے ہیں ۔“خوشی سے بھرپور لہجے میں کہہ کر وہ مڑی اورچھوٹے بچوں کی طرح قلانچیں بھرتے ہوئے بھاگ پڑی۔یقینا وہ ناشتا لے کر بھی اسی مقصد سے آئی تھی کہ ہم تک اپنی خواہش پہنچا سکے۔
بڑا سا نوالہ لیتے ہوئے سردار نے موشگافی کی۔”اگر تمھارا خیال ہے کہ چند ہزار کے موبائل پرزرمینہ جیسی حسینہ کا رشتہ مل جائے گا تو یہ خوش فہمی اس کے بھائیوں سے ملتے ہی دورہو جائے گی۔“
میں نے چوٹ کی۔” ساون کے اندھے کو ہرا اور سردار خان کو بُرا ہی سوجھتا ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”دو بیویوں کے ہوتے ہوئے تیسری پھنسانے والے تم ہو اور برا میں ہو گیا جو ایک ہی پر قانع ہے۔“
میں خفگی سے بولا۔” ایک غریب لڑکی کی معصوم سی خواہش کو پورا کرنا اتنا غلط ہو گیا کہ تم نے بکواس شروع کر دی۔“
”ان مکالموں سے اسے متاثر کرو جو تمھارے کرتوتوں سے ناواقف ہو۔“اس کے اطمینان میں فرق نہیں آیا تھا۔
”جلدی سے ناشتا کرو،کہ کارروائی کا وقت قریب ہے۔“میں نے تنگ آکرموضوع تبدیل کیا کہ اس کی بکواس اتنی آسانی سے ختم نہیں ہو سکتی تھی۔
”تم سے وقت ملا رہا ہوں ۔“آخری نوالہ منہ میں ڈال کر اس نے چائے کی پیالی اٹھا لی۔
”اوپر پہنچ کر اپنی پارٹیوں کوتاڑو،میں بس دو نوالے کر کے آتاہوں ۔“
باقی ماندہ چائے حلق میں انڈیل کر وہ سرہلاتے ہوئے مچان کی طرف بڑھ گیا۔اگلے پانچ منٹ میں میں بھی اوپر تھا۔سردار دوربین آنکھوں سے لگائے اطراف کا جائزہ لے رہا تھا۔میں رینج ماسٹر کو جھولے سے نکال کر پرزوں پر لگا تیل کپڑے سے خشک کرنے لگا۔کوئی بھی ہتھیار جب استعمال نہ ہو رہا ہو تو اس کے پرزوں پر تیل لگا کر رکھنا مفید رہتا ہے،اس طرح پرزے زنگ بھی نہیں پکڑتے اور چال والے پرزے بھی بہتر حالت میں رہتے ہیں ۔البتہ فائر کرنے سے پہلے پرزوں سے تیل خشک کرنا نہایت ضروری ہے۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں ہتھیار صحیح فائر نہیں کرے گااور گولیاں نشانے پر نہیں لگیں گی۔فائر کے ضمن میں بہت چھوٹی چھوٹی اور عام سی باتیں ایسی ہیں جن کی احتیاط رکھ کر ایک عام فائرر بھی اپنے نشانے کو بہتر کر سکتا ہے۔سنائپرزتو ہتھیار اور ایمونیشن کے بارے بہت وہمی ہوتے ہیں ۔
نرم کپڑے سے میں نے پرزوں کو اچھی طرح صاف کر کے ”پل ان تھرو“(یہ مضبوط تسمہ ہوتا ہے جس کے ایک جانب انگشت بھر لمبا لوہے کا ٹکڑا لگا ہوتا ہے اور دوسری جانب تسمے کو موڑ کر اس میں کپڑے کی نرم چندی ڈالنے کی جگہ بنی ہوتی ہے۔اس کی مدد سے نال کی صفائی ہوتی ہے) میں چندی ڈالی تاکہ نال(بیرل) کا تیل خشک کر سکوں ۔رینج ماسٹر کی نال کی صفائی کو لوہے کا راڈ اضافی سامان کے ساتھ ملتا ہے۔لیکن مشن پر اتنا لمبا راڈ ساتھ پھرانا ممکن نہیں ہوتا۔یہ کمی پل ان تھرو سے پوری کی جاتی ہے۔
سردار کی مدد سے میں نے بیرل میں چند پل ان تھرو مارے اور پرزوں کو جوڑنے لگا۔دو تین منٹ میں رایفل فائر کو تیار تھی۔رینج ماسٹر پر لیٹ کر ہی فائر کیا جاسکتا ہے۔لیکن مچان پر اتنی جگہ نہیں تھی کہ پانچ فٹ لمبی رایفل اور پونے چھے فٹ کا فائرر لیٹ سکتا۔یہ مسئلہ پہلے سے میری نظر میں تھا،تبھی میں نے رایفل کی دوپائی کے لیے چاروں اطراف میں جگہیں بنائی تھیں جہاں دوپائی ٹیک کر میں بیٹھے بیٹھے بھی فائر کر سکتا تھا۔گو سردار بھی اچھا فائرر تھا۔کم ہی نشانہ خطا کرتا تھا،مگر امریکہ میں سنائپر کورس کے بعد میری موجودی میں وہ ہمیشہ سپاٹر کی ذمہ داریاں نبھاتاتھا۔
تیار ہو کر میں نے پوچھا۔”کوئی حرکت نظر آرہی ہے؟“
”سامنے بڑے پتھر کا دایاں کنارا،دو بجے کی لائن،پہاڑ کی بنیاد میں اپنی پہلی ٹولی پہنچ گئی ہے۔“اس نے پیشہ ورانہ انداز میں سمت دکھائی۔(دو بجے کا مطلب یہی تھا کہ سامنے بڑے پتھر کے دائیں کنارے پر اگر سوئیوں والی گھڑی رکھ دی جائے توگھنٹے والی سوئی دو پر پہنچ کر جس جانب اشارہ کرے وہ سمت)
میں نے لیوپولڈ سائیٹ میں اس جانب دیکھا،پاک آرمی کی وردی میں چند افراد محتاط انداز میں ایک جانب بڑھتے نظر آئے۔
”مدد کا نشان بڑا پتھر،دس بجے کی لائن،دوسری ٹولی بھی نمودار ہو گئی ہے۔“
ادھر شست پھیرنے پر بھی مجھے دس بارہ فوجی نظر آئے۔دونوں ٹولیاں علیحدہ علیحدہ اہداف کی طرف بڑھ گئی تھیں ۔ان کی حرکت سے ہمیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس ہدف پر حملے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔دشمن کے ٹھکانے ہمارے پاس درج تھے۔دشمن کے چار ٹھکانے ہمیں نظر آرہے تھے،اگر ایک ترتیب سے بتانا شروع کروں تو پہلا ٹھکانہ شمال کی جانب تھا۔اسے ہدف اول کہوں تو اس کے ساتھ جنوب کی جانب ہدف دوم اور اسی رخ آگے بڑھتے ہوئے ہدف سوم اورہدف چہارم۔پانچواں ہدف ہماری حد سے باہر تھااورہماری جگہ سے نظر بھی نہیں آرہا تھا۔ہم نے جن دو جتھوں کی مدد اور رہنمائی کرنا تھی ان میں ایک چیتا دَل اور دوسرا طوفان دَل تھا۔پہلے مرحلے میں چیتا دَل ہدف سوم پر حملہ کر رہا تھا اور طوفان دل نے ہدف اول پر ہلہ بولنا تھا۔
”ایس ایس فار چیتا دَل اوور۔“میں پہلی ٹولی سے رابطہ کرنے لگا۔
فوراََ ہی جواب آگیا تھا۔”چیتا دَل سینڈ یور میسج اوور۔“
”چیتا دَل،دشمن کے دو پہرے دار نظر آرہے ہیں ،جیسے ہی آپ گھیرا مکمل کر لیتے ہیں میں انھیں ناکارہ کر دوں گااوور۔“
”ایس ایس،کیا ہم انھیں دور سے نظر آسکتے ہیں اوور۔“
”چیتا دَل،نالہ عبور کرتے ہی تمھیں رینگ کر جانا پڑے گا۔شمالی جانب چند جھاڑیاں نظر آرہی ہیں ۔ راجر سوفار۔“میں نے تصدیق چاہی۔
”یس اوور۔“چیتا دَل نے سمجھ جانے کا عندیہ دے کر مزید پیغام کا تقاضا کیا۔
” تمھاری ٹولی اس جانب آڑ لے کر ہدف کے قریب پہنچ سکتی ہے۔اپنے تمام افراد کو وہاں اکٹھا کرو جونھی تمام پہنچ جائیں مجھے مطلع کرو اوور۔“
چیتا دَل کے ”راجر۔“کہنے پر میری بات جاری رہی۔
”تمھارے اکٹھے ہوتے ہی میں پہرے داروں کو ناکارہ کر دوں گا،میرا اشارہ ملتے ہی تم ہدف پر ہلہ بول سکتے ہو اوور۔“
چیتا دَل نے ”راجر۔“کہا اور میں نے ”آﺅٹ۔“کہہ کر بات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
سردار بات چیت ختم ہونے کا منتظر تھا۔”فاصلہ تیرہ سو پینتالیس میٹر،ہواپندرہ کلو میٹر فی گھنٹا۔“ اس نے فاصلہ اورہوا کی رفتا بتائی۔ (سنائپر کو فائر کرنے سے پہلے ہوا کی رفتار معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیوں کہ ہوا فائر پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔اگر ہوا کی اقسام کی بات کی جائے تو سات کلومیٹر فی گھنٹا چلنے والی ہوا کو ہلکی ہوا کہتے ہیں جو فائر پر خاص اثرا نداز نہیں ہوتی،البتہ سنائپرز اس کا بھی حساب رکھتے ہیں ۔اس کے بعد درمیانی ہوا جس کی رفتار آٹھ سے سولہ کلومیٹر فی گھنٹا، پھر تازہ ہوا سولہ سے چوبیس کلو میٹر فی گھنٹا،تیز ہوا چوبیس سے بتیس کلومیٹر فی گھنٹااور بہت زیادہ تیز ہوا جو بتیس کلومیٹر فی گھٹا سے بھی زیادہ ہوتی ہے)
میں ہوا کا فرق نکالنے کو ڈیفلکشن ناب گھمانے لگا۔اس اثناءمیں سردار نے ہدف کی ڈگری معلوم کی، ڈگری سے مرادبلندی سے نشیب کی ڈگری سے ہے۔چونکہ ہدف ہم سے گہرائی میں تھا اس لیے میں براہ راست رینج نہیں لگا سکتا تھا۔(اس بارے میں سنائپر ناول میں خاطر خواہ بحث کر چکا ہوں جسے شوق ہو وہاں دیکھ لے)ڈگری کا فرق نکال کر اس نے رینج بتادی۔میں نے ایلی ویشن ناب پر مطلوبہ کلک لگائے، رایفل کاک کی اور بٹ کندھے میں پھنسا لیا۔
”چیتا دَل“ کے افراد نالے کے اٹھے کنارے کی آڑ لے کر جھاڑیوں کے شمالی جھنڈ میں اکٹھا ہو رہے تھے۔میں نے وائرلیس سیٹ سردار کی طرف بڑھایا۔
”طوفان دل، کی رہنمائی کرو،انھیں کہو ہدف کا گھیراﺅ کر کے تین سو میٹر کے دائرے تک سمٹیں اور اس کے بعد منتظر رہیں ،جونھی چیتا دَل کارروائی کرے گا فائرنگ کی آواز سن کر دشمن ضرور آڑ سے باہر آئیں گے تب وہ انھیں نشانہ بنا سکتے ہیں ۔“
سردار دوربین کے ذریعے ہدف اول کا جائزہ لے کر ”طوفان دَل “کی رہنمائی کرنے لگا۔وہ ہدف لگ بھگ ساڑھے انیس سو میٹر کی دوری پر تھا۔
اسی اثناءمیں چیتا دَل ہمیں جگہ پر پہنچ جانے کی اطلاع دینے لگا۔
میں سردار کو مخاطب ہوا۔”چیتا دَل کو کہو اگلے تیس سیکنڈ میں پیش قدمی کو تیار رہے۔“
طوفان دَل کو انتظار کرا کر وہ چیتا دَل کو میرا پیغام پہنچانے لگا۔جبکہ میری توجہ پہرے داروں پر تھی۔ اس علاقے میں عام لوگوں کے مکانوں پر بھی مورچے بنے ہوتے ہیں ۔لیکن وہ مکان یقینا زیر تعمیر تھا کہ اس کی چھت پراب تک مورچے نہیں بنے تھے۔البتہ یہ معلوم نہیں کہ وہ کسی دوسرے کا مکان تھا یاوہ خود ہی تعمیر کر رہے تھے۔غالب گمان یہی تھا کہ کسی غریب کے مکان پر وہ زبردستی قابض ہوئے تھے۔
مکان کے دروازے پر ایک پہرے دارکرسی ڈالے بیٹھا تھا۔دوسرا ساتھی اس کی جانب پیٹھ موڑے چند قدم دور کھڑا تھا۔گو کھڑا ہوا فرد آسان ہدف تھا کہ اس کا مکمل جسم نظر آرہا تھا،جبکہ بیٹھے ہوئے آدمی کا صرف سر نظر آرہا تھا باقی جسم کرسی نے چھپا لیا تھا۔بلاشبہ کرسی،رینج ماسٹر کی گولی کے خلاف آڑ نہیں بن سکتی تھی،لیکن کرسی میں لوہے کی چادر لگی ہوتی تو گولی کی رفتار کو کم کر کے ہدف کے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔لڑائی کابنیادی اصول یہی ہے کہ پہلے آسان ہدف کو نشانہ بناﺅ تاکہ یقینی کامیابی حاصل ہو۔لیکن میں آسان ہدف کو پہلے نشانہ بناتا تو کرسی پر بیٹھا ہوا شخص چوکنا ہو جاتاکیوں کہ اس کا رخ اپنے ساتھی کی طرف تھا۔اس کے برعکس، کھڑے ہوئے آدمی کی ساتھی کی جانب پیٹھ تھی۔اس کے چوکنا ہونے تک میں اسے بھی شکار کر سکتا تھا۔
میں نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی تھی کہ سنائپریہ فیصلہ سیکنڈ کے دسویں حصے میں کر چکا ہوتا ہے۔ کرسی پر بیٹھے دشمن کے سر پر نشانہ سادھ کر میں نے سانس روکااورلبلبی دبا دی۔
عمدہ سائیلنسر کی بدولت صرف۔”ٹھک“ کی آواز ابھری ........اورگولی نے اس کے سر کا بالائی حصہ اڑا دیا تھا۔وہ منہ کے بل گرا۔میں نتیجہ دیکھنے کونہیں رکا تھا۔ رایفل کودوبارہ کاک کر کے میں نے کھڑے ہوئے شخص پر شست لی۔ساتھی کے گرنے پر اس نے مڑ کر دیکھا،لمحہ بھر کو وہ سن ہوگیا تھا۔اور اتنا وقت مجھے کافی تھا۔دوسری ”ٹھک “نے اسے بھی لڑھکا دیا تھا۔ہمیشہ پہلی گولی چلاتے ہوئے سنائپر متزلزل رہتا ہے،پہلی گولی کے نشانے پر لگتے ہی باقی گولیاں ہدف پر مارنا زیادہ آسان ہوتاہے۔کیوں کہ یوں اس کاحوصلہ بڑھنے کے ساتھ اپنے حساب کتاب کی درستی کا یقین بھی ہو جاتا ہے۔حساب کتاب سے میری مراد ہوا کی رفتار اور ہدف کا فاصلہ جانچ کر درست رینج لگانے سے ہے۔
طوفان دَل کی رہنمائی کر کے سردار اس جانب متوجہ ہو گیاتھا۔پہرے داروں کے لڑھکتے ہی اس نے چیتا دَل کو اطلاع پہنچا دی تھی۔
تربیت یافتہ سپاہیوں نے پیشہ ورانہ مہارت سے حرکت شروع کر دی۔اچانک ایک شخص چھت پر نمودار ہوا۔اس نے ہاتھ میں موبائل فون پکڑاہوا تھا۔شاید موبائل فون کے سگنل کی تلاش اسے چھت پر لے آئی تھی۔وہ چیتا دَ ل کے افراد کو دیکھ لیتا تو شور مچا کر اپنے ساتھیوں کو چوکنا کر سکتا تھا۔
”خطرہ۔“سردار نے اسے دیکھتے ہی نعرہ بلند کیا،لیکن اس سے پہلے ہی میں رینج ماسٹر کے خوفناک دہانے کو اس جانب موڑ چکا تھا۔اس کی نگاہیں موبائل سکرین پر جمی تھیں ،جونھی وہ چھت کے درمیان میں پہنچا میری انگلی نے لبلبی کو پیچھے کھینچ لیا،اس کا رخ میری جانب تھاتبھی طاقت ور گولی نے اسے پیٹھ کے بل نیچے گرایا تھا۔
چیتا دَل کے ”دو الفا“یعنی چار چار آدمیوں کی دو ٹولیاں داخلی دروازے پر پہنچ گئی تھیں ،جبکہ باقی نے مکان کو باہر سے گھیر لیا تھا۔دروازے پر لمحہ بھر ٹھہر کر وہ مخصوص انداز میں مکان میں گھس کر نگاہوں سے اوجھل ہو گئے،لیکن اس دوران فائرنگ کی آواز ہمیں سنائی دینے لگی۔میرے خیال میں چیتا دَل کے حالات قابومیں تھے۔
”فاصلہ بتاﺅ۔“طوفان دَل کی جانب رخ موڑتے ہوئے میں سردار کو مخاطب ہوا۔
میرے کہنے سے پہلے ہی اس نے لیزر رینج فائینڈر کو آنکھوں سے لگا لیا تھا۔فاصلہ ناپ کر اس نے اونچائی کا فرق نکالا۔”ساڑھے اٹھارہ سومیٹر، ہوا کی رفتار وہی ہے۔“
میں نے ایلی ویشن ناب کو مطلوبہ مقدار میں گھمایااور ڈیفلیکشن ناب کو چھیڑے بغیر ہدف کی جانب متوجہ ہو گیا۔کافی دور سے بھی فائرنگ کی ہلکی ہلکی آواز سنائی دینے لگی تھی۔یقینا باقی ٹولیوں نے بھی کارروائی شروع کر دی تھی۔
طوفان دَل کا ہدف زیادہ مشکل نظر آرہا تھا کیوں کہ مکان کے دو کونوں پر مضبوط مورچے بنے تھے۔ ایک مورچے کا دروازہ ہماری نظر سے اوجھل تھا،اس کا صرف گول موکھا نظر آرہا تھا جہاں سے نگرانی یا فائرنگ کی جا سکتی تھی۔البتہ دوسرے مورچے کا دروازہ ہمارے سامنے تھا۔مورچوں سے باہر ایک آدمی دوربین تھامے فائرنگ کی جانب دیکھنے کی کوشش کر رہا تھااور دوسرا عقب میں کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا۔ وزیرستان میں گھرعموماََیوں بنائے جاتے ہیں کہ مکان کی دیواریں کمروں سے کافی بلند ہوتی ہیں ۔کمروں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی نو دس فٹ ہوتی ہے جبکہ بیرونی دیواریں بیس بیس فٹ اونچی ہوتی ہیں ۔اور ساری تعمیر کچی مٹی سے کی جاتی ہے۔ دیواروں کی موٹائی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ چھوٹے ہتھیار تو کجا،راکٹ لانچر کا گولہ بھی دیوار سے نہیں گزر سکتا۔مگر وہ عمارت اس کے برعکس تھی کیوں کہ چھت پر کھڑے دونوں افراد مکمل نظر آرہے تھے۔اس کا ایک ہی سبب ہو سکتا تھا کہ عمارت میں یا تو دو منزلہ کمرے بنے تھے یا پھر کمروں اور عمارت کی دیواروں کی بلندی یکساں تھی۔
گو اکادکا فائرہونا وہاں کی روز مرہ ہے اور کوئی اس کی سن گن بھی نہیں لیتا،لیکن بارش کی طرح موسلا دھار فائرنگ ہر کسی کو متوجہ کرسکتی تھی۔وہ دونوں بھی تیز فائرنگ کا جائزہ لینے کو چھت پرچڑھے تھے۔ قضا یونھی انسان کو ورغلا کر اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں اس نے روح کی امانت سیدنا عزرائیل ؑ کو واپس کرنا ہوتی ہے۔
میں نے پہلے عقبی شخص پر شست سادھی،لبلبی دباتے ہی وہ پہلو کے بل گر ا،آواز سن کر دوربین والے نے مڑ کر دیکھا۔اور بجلی کی سی سرعت سے اوندھے منہ گر کر صحن کی جانب رینگنے لگا۔اگر میں اونچائی پر نہ ہوتا تو اس کی تدبیر کارگر ہو سکتی تھی،لیکن اس کی بدقسمتی کہ لیٹنے کے بعد بھی وہ میری نظر سے اوجھل نہیں ہوا تھا۔ انگلی کے دباﺅ نے لبلبی کو پیچھے دھکیلااور اس کے آگے بڑھنے کی حرکت کو پھڑکنے میں تبدیل کر دیا۔
سردار نے مجھے مطلع کیا۔”مغربی مورچے میں کوئی موجود ہے اورفائر کر رہا ہے۔“
رینج ماسٹر کی میگزین میں پانچ گولیوں کی گنجائش ہوتی ہے۔ایک میگزین میں خالی کر چکا تھا۔نئی میگزین لگا کرمیں نے موکھے پر شست سادھی،فائرنگ کی آواز تو ارد گرد ہونے والی آواز میں ضم ہو گئی تھی،لیکن مسلسل گولیوں کے چلنے سے کچی دیوار سے ہلکی سی گرد اٹھ رہی تھی جس نے سردار کے مشاہدے کی تصدیق کر دی تھی۔موکھے سے اس کا ہیولہ نظر نہیں آرہا تھالیکن جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں کہ فائر کرتے ہوئے فائرر نے ماتھا بٹ پر ٹیکا ہوتا ہے۔اور رایفل کی نال سے بٹ تک ایسے ہی پہنچاجا سکتا ہے جیسے ہاتھ پکڑنے والا باقی جسم تک رسائی پا لیتا ہے۔
رایفل کی نال بھی میری نگاہ سے اوجھل تھی لیکن عموماََ فائررجب موکھے سے فائر کر رہا ہوتو اس نے بیرل کو دیوار پر ٹیکا ہوتا ہے،گویا موکھے کا نچلا کنارا استعمال میں لا رہا ہوتا ہے۔میں نے موکھے کے نچلے کنارے سے چار انچ اوپر شست لی اور لبلبی دبا دی۔
اسی وقت دو آدمی آگے پیچھے چھت پر چڑھے،دونوں نے ہاتھ میں ہتھیار تھامے تھے۔وہ بھاگ کر مشرقی مورچے کی طرف بڑھے،سردار نے چیخ کر مجھے مطلع کیا،لیکن میں اس سے پہلے ہی آگے والے پر نشانہ سادھ چکا تھا۔ہمیشہ حرکتی ہدف پر فائر کرتے ہوئے لیڈ لینا پڑتی ہے یعنی حرکتی ہدف پر براہ راست نشانہ سادھنے کے بجائے اس کے جانے کی سمت مخصوص فاصلے پر شست لینا پڑتی ہے اور یہ لیڈ بھی باقاعدہ حساب کتاب سے لی جاتی ہے۔لیکن اس کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب ہدف دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں جا رہا ہو،اگر ہدف سامنے سے ہماری طرف آ رہا ہو یا پیچھے جا رہا ہو تو لیڈ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔البتہ بہت زیادہ تیزی سے حرکت کرنے والے ہدف کا فاصلہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔اور ایسا صرف اس وقت ہو گا جب ہدف ہیلی یا ہوائی جہاز ہو۔کوئی انسان اتنا تیز رفتاری سے حرکت نہیں کر سکتاکہ اس کی وجہ سے رینج میں تبدیلی کرنا پڑے۔
میرا ہدف بھی مخالف سمت کوبھاگ رہا تھا،گویا فاصلہ بڑھ رہا تھالیکن لیڈ لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے آگے والے کے سر کے بجائے کندھوں کے درمیان نشانہ سادھا کہ حرکتی ہدف کو نشانہ بناتے وقت احتیاط لازمی تھی۔لبلبی دباتے ہی وہ اوندھے منہ نیچے گرا تھا،اس کا ساتھی ٹھٹک کر رکا اور بدحواسی میں مڑ کر واپس بھاگالیکن دو سے زیادہ قدم اٹھانے کی مہلت اسے رینج ماسٹر کی گولی نے نہیں دی تھی۔
سردار تحسین آمیز انداز میں بولا۔”تمھارا فائر دیکھ کر لگتا ہے ہمیں مزید تربیت کی ضرورت ہے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا،”لی زونا سے فرصت ملے گی تو تربیت پر توجہ دو گے نا؟“
وہ برا مناتے ہوئے بولا۔”اس کا نام مریم ہے۔“
میں اطمینان سے بولا”نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا،مصرف اس کا تمھیں کام سے نکالنا ہے۔“
وہ وائرلیس سیٹ پر طوفان دَل کو چھت کے بارے اطمینان دلانے لگا۔میں نے رائفل کا رخ پہلے ٹھکانے کی جانب موڑا،جہاں چیتا دَل کے ”دو الفا“ہدف کے علاقے میں گھسے تھے۔(عمارتی علاقے کی لڑائی میں چار آدمیوں کی ٹولی کو’ ایک الفا“ پکارتے ہیں ۔ہر کمرے کی صفائی کو ایک الفا مقرر کیا جاتا ہے اور انھیں ون الفا،ٹوالفا،تھری الفا وغیرہ کا نام دیا جاتاہے)لیکن اس سے پہلے ہی میری نظرہدف دوم پر پڑی جو ہدف اول اور ہدف سوم کے قریباََ درمیان میں واقع تھا۔وہاں سے دس بارہ افراد تیزی سے طوفان دَل کی طرف بڑھتے نظر آئے۔یقینا ساتھیوں نے مخابرے پر انھیں چھاپے کی اطلاع دی تھی اور اب وہ اپنے ساتھیوں کی مدد کو جا رہے تھے۔
”سردار ! ہدف اول کی مدد کو جنوب کی طرف سے کچھ افراد روانہ ہیں ،فاصلہ ناپ کر طوفان دَل کو باخبر کرو۔“
وہ وائرلیس پر شروع تھا۔طوفان دَل کو جنوبی جانب سے دہشت گردوں کی مداخلت سے مطلع کر کے اس نے لیزر رینج فائینڈر اٹھا لیا۔فاصلہ ناپ کر اس نے حساب لگایا اور بولا۔
”سترہ سوپینتیس،ہوا کی رفتار تین کلومیٹر فی گھنٹا۔“
ہوا کا رکنا مجھے بھی محسوس ہو گیا تھا۔میں نے ڈیفلیکشن ناب کو صفر پر گھمایااور ایلیویشن کے مطلوبہ کلک لگا دیے۔دہشت گرد ہمارے متوازی چل رہے تھے،اس لیے لیڈ لینا ضرروی تھا۔لیڈ لینے کو ہدف کی رفتار، ہتھیار سے فاصلہ،اور حجم جاننا ضروری ہوتا ہے۔اور یہ فارمولہ گاڑیوں ،ہیلی کاپٹروں یا جہازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔انسانی ہدف کی کوئی مقرر رفتار نہیں ہوتی۔اور لیڈ لینے کو سنائپر کا اندازہ ہی حتمی ہوتا ہے۔میں نے سب سے پیچھے والے شخص پر نشانہ سادھا،اس کابایاں بازو میری جانب تھااگر وہ میری طر ف یا میرے مخالف جا رہا ہوتا توچھاتی وپیٹھ کی وجہ سے مجھے زیادہ ہدف ملتا۔ترچھا ہونے کی وجہ سے ہدف بھی سکڑ گیا تھااور وہ مسلسل حرکت میں بھی تھا۔لیکن یہ صورت حال میرے لیے نئی تھی نہ انوکھی۔اس کے سر پر شست لے کر میں نے رایفل کی نال کو اس کی حرکت کی سمت مخصوص لیڈ دی اور لبلبی دبا دی۔گولی کا درمیانی فاصلہ طے کر کے وہاں پہنچنا اور ہدف کا قدم ڈیڑھ لیناایک ساتھ ہوا تھا۔رینج ماسٹر کی طاقت ور گولی نے اسے مخالف سمت میں اچھال دیا تھا۔اس سے دو قدم آگے دوڑنے والے کو یقینا اس کے گرنے نے متوجہ کیا تھا۔ایک فرد رک کر پیچھے مڑا،اس کی بدقسمتی کہ چوڑا ہدف مہیا کرنے کے ساتھ وہ ایک لحظے کو ساکن بھی ہوا تھا۔میں پہلے سے رایفل کاک کر کے فائر کو تیار تھا۔جب تک اس کی سمجھ میں ساتھی کا گرنا آتا،رینج ماسٹر کی گولی نے اسے ساتھی کے پاس پہنچا دیا تھا۔
دوسری میگزین بھی خالی ہو گئی تھی۔سرعت سے میگزین اتار کر میں نے نئی میگزین چڑھائی جو سردار نے تیاری حالت میں میرے قریب رکھ چھوڑی تھی۔اور اگلے شکار پر نشانہ سادھ لیا۔مسلسل تین بار لبلبی دبا کر میں نے مزید تین کو جہنم کا راستہ دکھایا....پانچویں شخص کے گرتے ہی بھاگنے والوں کو خطرے کا پتا چلا۔ایک شخص نے چیخ کر سب کو مطلع کیا۔اس کاواویلا سننے تمام رک کر اس کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔یہ سنہری موقع تھا،میگزین کی آخری دو گولیاں چلا کر میں نے موقع ضائع نہیں جانے دیا تھا۔نئی میگزین لگانے تک وہ سراسیمہ ہو کرآڑ کی تلاش میں بکھر گئے تھے۔چار افراد خوش قسمت تھے کہ انھیں بڑے پتھروں کی آڑ مل گئی تھی،دو آدمیوں کو مناسب آڑ نہیں ملی تھی۔ ایک ذرا سی ابھری ہوئی زمین کے پیچھے لیٹ گیا اور دوسرا تیز رفتاری سے سو قدم دور پڑی چٹان کی طرف بھاگ پڑا۔میں نے پہلے بھاگنے والے کو تاڑا تھا کہ چٹان کی آڑ لے کر وہ محفوظ ہو جاتا۔اس کی پیٹھ میری جانب تھی تیز رفتاری سے بھاگتے ہوئے چونکہ اس کا فاصلہ مسلسل بڑھ رہا تھا اس لیے میں نے رایفل کی نال کوذرا سا بلند کر دیا تھا۔
وہ زندگی بچانے کی دوڑ تھی تبھی اس کی رفتار کافی تیز تھی۔ لیکن جب سانس پورے ہو جائیں ،موت کا فرشتہ مالکِ ارض و سماءسے روح قبض کرنے کاحکم وصول کر لے تب،ساری تیزی طراری،چستی چالاکی اورکوشش دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔وہ بھی پتھر سے چند قدم دور تھا جب رینج ماسٹر کی گولی اس کی پشت میں گھس کر چھاتی پھاڑتی ہوئی گزر گئی تھی۔وہ اوندھے منہ گرا تھا۔میں نے فوراََ نال کو اس آدمی کی جانب موڑا جسے آڑ نہیں ملی تھی۔اپنے بھاگتے ساتھی کونشانہ بنتے دیکھ کر یقینا وہ دل ہی دل میں خود کو داد دے رہا ہوگا کہ اس نے لیٹ کر عقل مندی کا مظاہرہ کیاہے۔لیکن لیٹ کر اس نے میرا کام اور آسان کر دیا تھا۔ اس کی غلط فہمی تو اگلے لمحے ہوا ہو گئی تھی مگر بے چارے کو پچھتانے کی مہلت نہیں ملی تھی۔نہ وہ مستقبل میں غلطی سدھارنے کے قابل رہا تھا۔
اب پتھروں کے عقب میں چار آدمی چھپے تھے،اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنتے دیکھ کر وہ بالکل ہی دبک گئے تھے،البتہ ان کے ہتھیاروں نے آگ اگلنا شروع کر دی تھی۔ہتھیاروں کا رخ اسی ٹیکری کی طرف تھا جہاں ہم چھپے تھے،مگر ہم کلاشن کوف کی رینج سے باہر تھے۔وہ بس ہمیں ۔”ٹخ ....ٹخ۔“ہی سناسکتے تھے۔ان کی فائرنگ بھونکنے والے کتے کی مثل تھی جو کاٹنا نہ جانتا ہو۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 7
ریاض عاقب کوہلر
اب پتھروں کے عقب میں چار آدمی چھپے تھے،اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنتے دیکھ کر وہ بالکل ہی دبک گئے تھے،البتہ ان کے ہتھیاروں نے آگ اگلنا شروع کر دی تھی۔ہتھیاروں کا رخ اسی ٹیکری کی طرف تھا جہاں ہم چھپے تھے،مگر ہم کلاشن کوف کی رینج سے باہر تھے۔وہ بس ہمیں ۔”ٹخ ....ٹخ۔“ہی سناسکتے تھے۔ان کی فائرنگ بھونکنے والے کتے کی مثل تھی جو کاٹنا نہ جانتا ہو۔
سردار نے مجھے مطلع کیا۔”چیتادَل اورطوفان دَل نے اپنے اہداف پر قبضہ جما لیا ہے۔“اسے چند لمحے پہلے ہی ”سب اچھا “کی رپورٹ مل گئی تھی لیکن مجھے یکسوئی مہیا کرنے کووہ خاموش رہا تھا۔
میں نے کہا۔”طوفان دَل کو ان چار افراد کے بارے بتا دو۔“
وہ طوفان دَل کو باخبر کرنے لگا،میں دہشت گردوں کے چوتھے ٹھکانے یعنی ہدف چہارم کا جائزہ لینے لگا۔وہ بھی نسبتاََہموار جگہ پر ایک قلعہ نما عمارت تھی،دیواریں اتنی بلند تھیں کہ اونچائی سے بھی صحن نظر نہیں آرہا تھا۔عمارت کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی کونے میں مورچے بنے تھے۔مکان کی چھتیں مقامی رواج کے مطابق دیواروں سے اتنی نیچی تھیں کہ چھت پر کھڑا کوئی آدمی نظر نہیں آسکتا تھا۔لیکن چھت پر چڑھ کر وہ محفوظ تھے تو یہ نقصان بھی تھا کہ وہاں سے وہ علاقے کا جائزہ بھی نہیں لے سکتے تھے۔اس مقصد کو وہ مورچے استعمال کر سکتے تھے۔ مورچوں کے موکھے مکان کی دیوار سے فٹ بھر اونچے بنے تھے۔باقی مورچہ دیوار سے نیچے تھا۔ہر مورچہ دو جانب کی نگرانی کو بنایا گیا تھا اس لیے جنوب مشرقی مورچے کی جنوبی اور شرقی دیوار میں دیکھ بھال اور فائرنگ کو موکھا بنا تھا جبکہ شمال مغربی مورچے کی شمالی اور غربی دیوار میں موکھا بنا تھا۔جنوبی مغربی مورچے کا دروازہ نظر نہیں آرہا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ مورچوں میں داخلی رستہ نیچے سے بنا تھا۔چند سو میٹر پر ہونے والی موسلا دھار فائرنگ سننے کے بعد، بعید تھا کہ وہ جائزہ لینے کی کوشش نہ کرتے۔
شمال مغربی مورچے کا شمالی موکھاتو میری نظر سے اوجھل تھا لیکن وہاں دیوار سے آگے بڑھا ہوا ایک شخص کا سر نظر آرہا تھا۔یقینا وہ سر باہر نکال کر اچھی طرح جائزہ لینے کی کوشش میں تھا۔میرے جیسے سنائپر کو ایسا موقع گنوانا گناہ کرنے کے مترادف تھا۔سردار بھی دوربین سے ادھر ہی متوجہ تھا،سر دیکھتے ہی” لیزر رینج فائینڈر“ اٹھایا اور فاصلہ وغیرہ ناپ کراعلان کیا۔” سترہ سو پندرہ،ہوا ساکن۔“
ایلیویشن ڈرم کو سرعت سے گھما کر میں نے مطلوبہ رینج لگائی،اگلے ہی لمحے مورچے سے باہر نکلا ہوا سر غائب ہو گیا،مگر بے چارہ سلامت سر واپس نہیں لے جا سکتا تھا۔رینج ماسٹر کی سنگ دل گولی آدھا سر تو ساتھ لے جاتی ہے۔
سردار نے پوچھا۔”اس ٹھکانے والے اپنے ساتھیوں کی مدد کو نہیں نکلے۔کیا انھیں معلوم ہو گیا ہے کہ ٹھکانہ چھوڑناانھیں ابدی نیند سلا دے گا۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”بھول گئے،مغربی جانب کمانڈر عدیل جان اور سردار فیروز خان کا لشکر موجود ہے۔ پہلے تینوں ٹھکانے کسی ایک کمانڈر کے تھے اور لازماََان کا آپس میں رابطہ ہوگا،اس عمارت میں دوسرے کمانڈر کے لشکری ہیں تبھی انھیں صورت حال معلوم نہیں ہے۔امیدہے پانچواں ٹھکانہ جو ہماری ذمہ داری میں ،لیکن رینج سے باہر ہے وہاں بھی دوسرے کمانڈر کے لشکری ہوں گے۔“
سردار نے تجزیہ کیا۔”میرا خیال ہے،مغرب کی جانب موجود دہشت گردوں میں سب سے شمال میں گل بدین کے لشکری تھے جنھیں ہم پہلے ہی دن کافی نقصان پہنچا چکے ہیں ،درمیان میں کمانڈر عدیل جان کے لشکری ہیں اور ان سے مزید دائیں یعنی جنوب کی سمت کمانڈرفیروز خان کے آدمی ہوں گے۔فیروز خان کا پہلا آدمی بھی راجے کا شکار ہو چکا ہے امید ہے غصے میں آکر وہ مزید مواقع دیں گے۔“
میں معترض ہوا۔”گل بدین کے آدمیوں سے تو ہمارا ٹاکرا ہو چکا ہے،یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ان سے متصل کمانڈر عدیل جان کے بندے ہیں ۔“
وہ تیقن سے بولا۔”کیوں اپنے آدمی کے زخمی ہونے پر گل بدین کے آدمیوں نے کمانڈرعدیل جان ہی سے مدد مانگی تھی اور ایسی حالت میں قریب کے آدمیوں ہی کو آواز دی جاتی ہے۔“
میں نے اورنقطہ اٹھایا۔”ہو سکتا ہے ان سے متصل تو کمانڈر فیروز کے لشکری ہوں لیکن گل بدین کے دست راست قلات خان کے کمانڈر عدیل جان سے اچھے تعلقات ہوں تب اس سے مدد مانگی ہو۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ تومانتے ہو ناں پہلے والے تینوں اہداف کسی ایک کمانڈر کے اورآخری دو دوسرے کمانڈر کے ہیں ۔“
میں نے استہزائی انداز میں کہا۔”خان صاحب!یہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں ۔“
وہ چڑچڑا کر بولا۔”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون سے ٹھکانے کس کمانڈر کے ہیں ۔ہماری نظر میں تمام یکساں طور پروطن دشمن اور واجب القتل ہیں ۔“
”مرحوم مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا کہ:[ بندہ جب ایک بارپروفیسر بن جائے تو ساری زندگی پروفیسر ہی رہتا ہے، چاہے بعد میں ہوش مندی کی باتیں کیوں نہ کرنے لگے]تم بھی خان ہو تو خان ہی رہو،عقل مندی کی باتیں کرتے ہوئے کبھی کبھی تکا لگ جاتا ہے تو تمھارے پٹھان ہونے پر شک ہونے لگتاہے۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”پٹھانوں کی بہادری،دلیری اور جواں مردی کے کارناموں سے تاریخ کے ہزاروں صفحات روشن ہیں ۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”کر دی ناں پٹھانوں والی بات،زیر بحث موضوع سمجھ داری و عقل مندی ہے اورتم دلیل دے رہے ہو بہادری و دلیری کی۔“
سردار نے کہا۔”مورچے کے مغربی موکھے سے فائر ہو رہا ہے،آواز سے لگ رہا ہے چائنہ ایل ایم جی ہے۔“سنائپر کو فائر کی آواز سے ہتھیار کی قسم پہچاننا اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔ہر ہتھیار کے فائر کی آواز مختلف ہوتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے کار، موٹر سائیکل،ٹرک وغیرہ کو دیکھے بغیر ایک ڈرائیور اندازہ کر سکتا ہے کہ کون سی گاڑی کے انجن کی آواز ہے۔
چائنہ ایل جی کی رینج کلاشن کوف سے زیادہ سہی لیکن ہم اس کی کارگر رینج سے باہر تھے۔البتہ مورچے کا چوڑا موکھا اس کے لیے وبال جان ضرور تھا۔اندازے سے فائرر کی جگہ کا تعین کرتے ہوئے میں نے لبلبی دبائی، فوراََ ہی فائرنگ رک گئی تھی۔ایک بات قارئین اچھے سے جان لیں کہ جب میں فائر کے بارے اپنے اندازے کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب ایک سنائپر کا اندازہ ہوتا ہے جسے تُکّایا اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔اور یہ اندازہ مجھے کڑی تربیت اور عملی زندگی میں فائر کے مسلسل تجربے سے حاصل ہوا ہے۔زندگی کے ہر شعبے کے ماہر کا اپنے فن کے بارے اندازہ لگانااس کے تجربات کا نچوڑاور مہارت کا حاصل ہوتا ہے۔اسے عام آدمی کے اندازے کے مماثل کرنا اہل فن کے ساتھ نری زیادتی ہی کہلائی جا سکتی ہے۔
سردار طوفان دَل کی رہنمائی کر رہا تھا۔جن کی آدھی ٹولی تواپنے ہدف کے علاقے میں مصروف تھی اور بقیہ افراد چھپے ہوئے چاردہشت گردوں کی سرکوبی کو آرہے تھے۔ایک سنائپر اتنی آسانی سے اپنے ہدف کا پیچھا نہیں چھوڑتا،مگر ان کی خوش قسمتی کہ مجھے بہت سے اہداف کا سامنا تھااور مسلسل ایک ہدف کی تاک میں بیٹھنا ممکن نہیں تھا۔
دو آدمی ایک ہی مورچے میں بلیدان دے چکے تھے،شاید مزید موقع مجھے نہ دیتے،میں نے چیتا دَل کے ہدف کا سرسری سا جائز ہ لیا،وہاں حالات قابو میں نظر آئے۔ہدف کی صفائی کر کے انھوں نے ہدف چہارم کی طرف ہی بڑھنا تھا۔
”سردار! چیتا دَل کو تیزی کا کہو۔“اسے کہہ کر میں ان چاروں کی غلطی ڈھونڈنے لگا جو اب تک پتھروں کے عقب میں چھپے تھے۔طوفان دَل جتھے کے چھے افراد آدھے چاند کی شکل میں محتاط انداز میں چلتے ہوئے اس جانب بڑھ رہے تھے۔ان کے اور دشمن کے درمیان اٹھی ہوئی زمین تھی جس کی وجہ سے دونوں ٹولیاں ایک دوسرے کی نظر سے اوجھل تھیں ۔چاروں دہشت گرداس لحاظ سے نقصان میں تھے کہ طوفان دَل کی آمد سے بے خبر تھے۔اور ان کے سر پر سناپئر بھی مسلط تھے۔جبکہ پاک آرمی کے جوانوں کو معلوم تھا کہ ان کا سامنا دہشت گردوں سے ہونے والاہے۔
چیتا دَل ہدف چہارم کی سرکوبی کو روانہ ہو گیا تھا۔انھیں احتیاط سے آگے بڑھنے کا کہہ کر سردار نے ایک مخصوص چٹان کی نشان دہی کی جہاں رک کر انھیں ہماری اگلی ہدایت کا انتظار کرنا تھا۔اور پھر طوفان دَل کی ٹولی کو ہدایت دینے لگا۔ابھری ہوئی زمین کے قریب پہنچتے ہی طوفان دَل کے جوان رینگتے ہوئے بلندی پر پہنچے،اب دشمن ان سے سو ڈیڑھ سو قدم کے فاصلے پر تھا۔اپنے اپنے ہدف کا چناﺅ کر کے انھوں نے ایک ساتھ فائر کھولا،لیکن ناہموار زمین کی وجہ سے ان کے فائر سے صرف دو دہشت گردہی نشانہ بنے تھے بقیہ دوجلدی سے پتھروں کے جنوبی جانب کھسک گئے،نامعلوم انھیں میں بھول گیا تھایا سر پر اچانک پڑنے والی افتاد سے حواس باختہ ہوگئے تھے۔ مزید دو گولیاں خرچ کر کے میں نے انھیں تمام فکروں اور اندیشوں سے چھٹکارا دلادیاتھا۔
”ایس ایس فار طوفان دَل!ہدف تباہ،آﺅٹ۔“سردار انھیں دہشت گردوں کی ہلاکت سے مطلع کر کے چیتا دَل کو پکارنے لگا جو مطلوبہ چٹان کے پاس پہنچنے والے تھے۔
”ایس ایس فار چیتا دَل!عمارت کے دروازے پرایل ایم جی مقرر کرو،دہشت گرد وہاں سے باہر آکر تمھارے خلاف کارگر فائر کر سکتے ہیں اوور۔“
”راجر۔“چیتا دَل نے سمجھنے کا عندیہ دیا۔
”مورچوں میں داخلے کا رستہ ہماری نظر سے اوجھل ہے۔اس لیے جنوبی مورچے سے محتاط رہو، اوور۔“ سردار نے اگلی ہدایت دی۔
”راجر۔“لگا بندھا جواب آیا۔
”عمارت کے سامنے والے نالے کی آڑ لے کر ایک ایل ایم جی گروپ کوعمارت کے جنوب میں بھیجو جو آڑمیں رہ کرجنوبی مورچے کے موکھوں پر نظر رکھ سکے،اوور۔“سردار کسی کہنہ مشق کمان دار کی طرح چھاپے کی ترتیب بتا رہا تھا۔
”راجر!“چیتا دَل نے جواب میں دیر نہیں کی تھی۔
”شمال مغربی مورچہ ہمارے قابو میں ہے،”ایک الفا“ محتاط انداز میں شمالی دیوار کے قریب بھیجو، اوور۔“چیتا دَل کا ”راجر!“سن کر اس کی بات جاری رہی۔
”ایک دستی بم شمالی یا مغربی موکھے سے اندر پھینکو،اور چند دستی بم عمارت کے صحن میں اچھال دو تاکہ دشمن کمروں میں گھسنے پر مجبورہو جائے،اوور۔“
چیتا دَل نے ”راجر!“کا وظیفہ دہرایا۔
”ایک الفا،محتاط انداز میں عمارت کے داخلی دروازے پر جا کر جنوب مشرقی مورچے کے موکھے سے دستی بم اندر پھینکنے کی کوشش کرے اور شمالی دیوار کے ساتھ موجود الفا غربی جانب سے دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہو، آﺅٹ۔“
سردار کے ہدایت دینے کے دوران میری نظریں مغربی موکھے پر گڑی رہیں ۔اتنی دور سے کوئی حرکت یا ہیولہ نظر آنا ممکن نہیں تھا۔اگر رات کا وقت ہوتا ہے اور مورچے میں روشنی ہوتی تو تب یہ امید کی جا سکتی تھی۔ اپنی سپاہ کی حفاظت کوایک دو گولیاں ضائع کرنا میری مجبوری بن گئی تھی۔جونھی ”ایک الفا“(چار آدمیوں کی ٹولی) محتاط انداز میں شمالی دیوار کی طرف بڑھا،میں نے غربی موکھے سے ایک گولی مورچے کے اندر داغ دی۔ اگر مورچے میں کوئی موجود ہوتا اور گولی سے بچ بھی جاتا،تب بھی رینج ماسٹر کی تباہ کن گولی دیوار سے ٹکراکر اسے اتنا دہشت زدہ کر دیتی کہ وہ نیچے بیٹھنے پر مجبور ہو جاتا۔
میں نے ایک گولی پر اکتفا نہیں کیا تھا،دو تین لمحے ٹھہر کر ایک اور گولی داغ دی۔
”الحمد اللہ اب میں تصور صاحب کو چغلی کر سکتاہوں کہ راجے نے یکے بعد دیگرے رینج ماسٹر کی دو گولیاں ضائع کی ہیں ۔“
”وہ وجہ نہیں پوچھیں گے۔“
”چغلی فرد کی غیر حاضری میں کی جاتی ہے تو وضاحت مجھے ہی کرنا پڑے گی۔اور چغل خور کی وضاحت سے اللہ پاک امان دے۔“ میرا قہقہ نکل گیا تھا۔
”فی الحال ہنس لو راجے صاحب!جب تصور صاحب کا بے عزتی بھرا وعظ سنو گے تو لگ پتا جائے گا۔“
میں فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”کبھی کبھی ہدف کونہ چھونے والی گولی وہ کام کر جاتی ہے جو ہدف سے ٹکرانے والی گولی کی قسمت میں نہیں لکھا ہوتا۔“
”جب تک تم ان فلسفوں کی وضاحت کر و گے میں یونٹ میں تمھاری بے عزتی کی تشہیر کر چکا ہوں گا۔ مطلب میں تصور صاحب کی گفتگو ریکارڈ کر کے تمام احباب کو تسلی سے سنواﺅں گا۔“اس نے قہقہ لگایا۔ ”اور جانتے ہو ناں تصور صاحب نے کیا کہنا ہے یا میں بتا دوں ۔“لمحہ بھر توقف کے بعد اس نے تصور صاحب کے انداز میں فکرمندی ظاہر کی۔ ”ناک کٹوا دی ہے بے شرم نے،میں زیر تربیت جوانوں کواس کی مثالیں دیتا ہوں اور یہ بے غیرت دو بیوں کی ناز برداریوں میں تربیت سے توجہ ہٹا کر نکما ہو گیا ہے۔رینج ماسٹر کی دو گولیاں کمینے نے عملی زندگی میں ضائع کر دیں ۔ اس سے بہتر تھا تیسری گولی اپنے سر میں مار کر غیرت کی موت مر جاتا۔“
میری مثالیں دینے والی بات سردار نے برحق کہی تھی۔مجھے خود بھی تصور صاحب کی زبانی یہ سننے کا اتفاق ہوا تھا۔جب زیر تربیت سنائپرز کے سامنے انھوں نے کہا تھا۔” گولی چلاتے ہوئے ہمیشہ،برخوردار ذیشان کی طرح سوچ سمجھ کر لبلبی دبایا کرو....“
تصور صاحب کی بات کو من چاہا مطلب دے کر سردار نے احباب کی محفل میں بیٹھ کر یہ موشگافی کی تھی کہ....”ہم راجے کی طرح کیسے سوچ سکتے ہیں ،وہ تیسری کا سوچ رہا ہے اور ہم بہ مشکل پہلی کو بھگتا رہے ہیں ۔“
گپیں ہانکتے ہوئے بھی ہماری نظریں ہدف پر گڑی تھیں ۔چیتا دَل ٹولی سے دو افراد انھوں نے عمارت کے داخلی دوازے سے پچاس ساٹھ قدم دور ایک بڑے پتھر کی آڑ میں بٹھا دیے تھے۔ان کے پاس ایل ایم جی موجود تھی۔دو افراد ایل ایم جی کے ہمراہ نالے میں اتر کر کھڑے کناروں کی آڑ لے کرجنوبی جانب پہنچ گئے تھے۔شمالی دیوار کے ساتھ ایک الفا پہنچ کر دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا تھا۔جبکہ دوسرا الفا پتھر کی چٹان کے پیچھے تیاری حالت میں اپنی باری کا منتظر تھا۔
شمالی دیوار کے ساتھ موجود الفا کے پہلے آدمی نے اپنی کلاشن کی نال مورچے کے موکھے کی طرف کر کے سیکنڈ بھر کے وقفے سے ایک ایک گولی چلانے لگا تاکہ مورچے میں کوئی موجود ہو تو انھیں نشانہ نہ بنا سکے۔جبکہ دوسرا آدمی دستی بم کی پن نکال کر دیوار سے دو تین قدم دور ہوا اور بم کو موکھے میں اچھال دیا۔اگر بم موکھے کے بجائے دیوار سے ٹکرا کر واپس گرتا تو یقینا ان کی زندگی کی ضمانت ضبط ہو جاتی،مگر پاک آرمی کے جوانوں کو عملی زندگی میں ایسے کئی خطرات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
دستی بم کے لیور کو جب چھوڑا جاتا ہے تو اس کے قریباََ چار سیکنڈ بعد بم پھٹتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پھینکتے وقت بم کو اونچااچھالا جاتا ہے تاکہ جس وقت بم نیچے گرے تو لیور چھوڑنے کے بعد چار سیکنڈ گزر جائیں ۔دوسری صورت میں دشمن تیز رفتاری کا مظاہرہ کر کے بم اٹھا کر واپس بھی پھینک سکتا ہے۔
بم کے مورچے میں گرتے ہی دھماکا سنائی دیاتھا۔اور اس کا واضح مطلب یہی تھا کہ بم پھینکنے والے شیر دل جوان نے لیور کو آزاد کر کے بم کو دو تین سیکنڈ ہاتھ ہی میں رکھا تھا۔بم کی چال میں کتنا ہی حساب کتاب کیوں نہ رکھا جائے ایسی بہادری کا مظاہرہ کرنے کو لوہے کا کلیجہ چاہیے ہوتا ہے۔کیوں کہ تاخیری میکانی عمل اگر گڑبڑ کر جائے یا بم تھامنے والا سیکنڈوں کا حساب کتاب رکھنے میں غلطی کر جائے توانجام بھیانک موت ہی ہوتا ہے۔
دھماکا ہوتے ہی چاروں جوانوں نے تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دو بم عمارت کے صحن میں اچھالے،یکے بعد دیگرے کئی دھماکے ہوئے تھے۔چاروں جوان عمارت کی مغربی دیوار کے پاس پہنچے۔دو جوانوں نے پشت پر پہنے چھوٹے جھولوں سے کوئی چیز نکالی،جب انھوں نے ہاتھ گھما کر دیوار کی اونچائی کی طرف لہرائے۔تب اندازہ ہوا کہ وہ کمند تھی۔پلاسٹک کی مضبوط رسی جس کے ایک سرے پر فولاد کا مضبوط آنکڑا جڑا ہوتا ہے،اور رسی میں ہرفٹ بھر کے فاصلے پر گانٹھ لگی ہوتی ہے تاکہ اوپر چڑھنے والے کے ہاتھ رسی پر سے نہ پھسلیں ۔
دیکھتے ہی دیکھتے دو جوان دیوار کے اوپری سرے پر پہنچ گئے۔انھوں نے اپنے ہتھیارسلنگ کے ذریعے کندھوں سے لٹکالیے تھے۔اس اثناءمیں دوسرا الفا عمارت کے سامنے پہنچ کر ہماری نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔اچانک کان پھاڑ دینے والا دھماکا سنائی دیا۔یقیناعمارت کے سامنے پہنچنے والی ٹولی نے راکٹ لانچر سے عمارت کا داخلی دروازہ اڑایا تھا۔
ایک دم تیز فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔دیوار پر چڑھنے والے دونوں جوان ایک لمحہ کودیوار کے اوپر لیٹے اور پھر اندر کود گئے۔
گولیوں کی برستی بارش میں کسی ذاتی دشمنی یا مفاد کے بغیر کودنے والے جوانوں کے مدنظر صرف وطن کی محبت اور امن و اسلام دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کاجذبہ تھا۔تنخواہ کی مد میں ملنے والے چند ٹکے انھیں موت کے منہ میں نہیں دھکیل سکتے تھے۔ایسے وقت انھیں بوڑھی ماﺅں اور محبوب بیویوں کی منتظر آنکھیں بھول گئی تھیں ۔معصوم بچوں کی قلقاریاں اور شرارتیں ذہن سے محو ہو گئی تھیں ،گاﺅں کے پر رونق میلے اور گھر کی حسین فضا یاد نہیں رہی تھی۔ کچھ یاد تھا تووطن کی خاطر جان لینا اور وطن کے لیے گردن کٹانا۔پاک آرمی کے خلاف بھونکنے والوں کو کبھی ایسی صورت حال سے واسطہ پڑے تو یقیناان کی شلواریں گیلی ہو جائیں گی۔ آرام دہ صوفے پر تشریف ٹیک کر کسی البیلی” اینکر پرسن“ کے سامنے چھاتی چوڑی کر کے پاک فوج پر ملک کا سارا بجٹ کھانے کا بہتان لگانا،فوج نے کیا تیر مارا ہے کا نعرہ بلند کرنا،فوج کی کارکردگی پر انگلی اٹھانا،فوج کی قربانیوں کا انکار کرنانہایت آسان اور سہل ہے۔ایسے افراد کی سماعتوں نے صرف آتش بازی کی ”تڑ ....تڑ۔“ اور میرج بم کے دھماکے سنے ہوتے ہیں ۔توپوں کی گھن گرج،دستی بموں کے دھماکے اوراصلی ہتھیاروں کا گرجنا سن لیں تو صرف آواز کی دہشت ہی سے ان سورماﺅں کی حرکت قلب بند ہو جائے۔
سچ تو یہ ہے مجھے کبھی ایسے افراد سے گِلہ نہیں رہا۔کیوں کہ ان کا بھونکنااور واویلا کرنا اخلاص،خیر خواہی اور نیک نیتی کے تحت نہیں ہوتا۔نہ ان کے مدنظر عوام کی بہتری وخوش حالی ہوتی ہے۔ایسے منافق تو وطن دشمن عناصر کے ایجنٹ بن کر،ان سے ڈالروں کی گڈیاں وصول کر کے طے شدہ ایجنڈے پر کام کرتے ہیں ۔اصل دکھ تو ان سادہ لوح عوام پر ہوتا ہے جن کی زبان تو اپنی ہوتی ہے مگر الفاظ یہود و ہنودکے آلہ کاروں کے رٹے ہوتے ہیں ۔جن کے ذہن تو اپنے ہیں ،مگر سوچتے میر جعفروں اور میر صادقوں کی عقل سے ہیں ،جن کی آنکھیں تو اپنی ہیں مگر دیکھتے ٹرمپ اورمودی کی عینک سے ہیں ۔ خدارا کبھی آنکھیں بند کر کے ان سپاہیوں کے حالاتِ زندگی پر بھی غور کر لیا کریں جو خوشی میں پیاروں کے ساتھ قہقہے لگا سکتے ہیں اور نہ غم میں ان کے گلے لگ کر آنسو بہا سکتے ہیں ۔پاک فوج کن حالات اور کیسے علاقوں میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے کبھی اس پر بھی تحقیق کرلیا کریں ۔کیا اعتراض کرنے والے نہیں جانتے کہ عوام سیلاب کی لپیٹ میں آتے ہیں تو کون سا محکمہ مدد کودوڑتا ہے،زلزلے کا عذاب ٹوٹے توکون سی مخلوق دن رات لگا کر زخمیوں و لاشوں کو کندھوں کا سہارا مہیا کرتی ہے،کوئی آفت،کوئی مصیبت،کوئی عذاب آنے پر پہلا سامنا پاک فوج ہی کرتی ہے....
پھر بھی ہم سے یہ گلا ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تم بھی تو دلدار نہیں
سچ تو یہ ہے کہ ہر ایسا موقع جب زندگی، بند مٹھی میں سرکتی ریت کی مانند دھیرے دھیرے رخصتی پر آمادہ نظر آئی تب اپنے پیاروں کی یاد کے ساتھ تکمیلِ مقصد کا خیال بھی دل و دماغ پر حاوی رہا۔ موت کو سامنے پا کر بھی ذہن سے یہ احساس محو نہیں ہوا کہ ہم وطن کی حفاظت کی قسم کھا چکے ہیں ۔بہ ہر حال یہ دکھڑے بہت طویل ہیں لیکن اس سے کہانی کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اس لیے واپس لوٹتے ہیں ....
دوجوانوں کے اندر کودتے ہی نیچے والے دونوں کلاشن کوفیں ” سلنگ اپ “کر کے دیوار پر چڑھنے لگے۔اب عمارت کے اندر لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ہمیں صرف فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی تھی، دکھائی کچھ نہیں دے رہا تھا۔چیتا دَل کی جتنی مدد ہم کر سکتے تھے کر لی تھی۔ہم طوفان دَل کی جانب متوجہ ہو گئے،انھوں نے ہدف دوم یعنی دہشت گردوں کے اس ٹھکانے کا رخ کیا جہاں سے مرنے والے افراد اپنے ساتھیوں کی مدد کو نکلے تھے۔
”بھائی سنیں ،کچھ مسلح لوگ مغربی جانب سے اوپر آرہے ہیں ۔“نسوانی آواز ہمیں چونکا گئی تھی۔ ہم سامنے کے منظر میں اس قدر کھوئے تھے کہ زرمینہ کی آمدپر بھی مطلع نہیں ہو سکے تھے۔
”کیا؟“ہم چونک پڑے تھے۔
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”خان صاحب !دشمنوں کا مخابرہ بھی آن کر لینا چاہیے تھا۔“
”تم بتا دیتے۔“اس نے جھولے سے آئی کام سیٹ نکال کر آن کیا۔دو تین چینل تبدیل کرتے ہی ٹرانسمشن شروع ہو گئی تھی۔ایک بھاری آواز سنائی دی۔
”ایک ہی مکان ہے،یقینا اسی میں چھپے ہوں گے۔“
”مکان کو گھیر لو،یہ وہی خبیث ہے۔کمینے کی ایک گولی بھی خطا نہیں گئی ہے۔بچ کر نہیں جانا چاہیے۔“
”خان صاحب مارے گئے۔“میں سرعت سے رینج ماسٹر کو جھولے میں منتقل کرنے لگا،سردارطوفان دَل اور چیتا دَل کو خطرے سے مطلع کر کے اپنی روانگی کا بتا رہا تھا۔
زرمینہ وہیں کھڑی تھی۔دہشت گردوں کی گفتگو جاری تھی۔وہ محتاط انداز میں اوپر چڑھ رہے تھے اور بات چیت سے معلوم ہو رہا تھا کہ ان کی توجہ زرمینہ لوگوں کے گھر پر ہے۔اس بلندی پر سب سے اہم وہی عمارت تھی۔
”اپنے کمبل اور گھڑا واپس لے جاﺅ،تاکہ پتا نہ چلے تم نے ہماری مدد کی ہے۔گھر کا دروازہ اندر سے بند کر لینااور فقط ہمارے چھپنے کی جگہ کے بارے بتا کر لا علمی کا اظہار کر نا۔“
اس نے پیشکش کی۔”آپ ہمارے گھر میں چھپ جائیں ۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”نہیں ہماری وجہ سے تمھیں نقصان ہو سکتا ہے۔“
اس نے معصومیت سے پوچھا۔”کیاباقی فوجی آپ کی مدد کو نہیں آئیں گے؟“
”ان گپوں کا وقت نہیں ہے زرمینہ!تم پھوٹنے کی کرو۔“دونوں کمبل اٹھا کر میں نے مچان سے نیچے پھینکے۔سردار بقیہ سامان اپنے جھولے میں ڈال رہا تھا۔میں اپنا جھولا اٹھا کر نیچے اترنے لگا۔زرمینہ پانی کا گھڑا خالی کر کے کمبل بغل میں دبائے وہیں کھڑی تھی۔
”سنا نہیں گھر کو بھاگو۔“میں نے نیچے اترتے ہی اسے جھڑکا۔
ڈانٹ کھا کر وہ سہم گئی تھی۔ناراضی بھری نگاہ میرے چہرے پر ڈال کر گھر کو مڑ گئی۔سردار اپنا جھولا پیٹھ پر لادے نیچے پہنچا،ڈریگنوو اس نے ہاتھ میں پکڑ لی تھی۔عام سنائپر رایفلوں کے برعکس ڈریگنوو نیم خودکار(سیمی آٹومیٹک) ہے۔یعنی اسے بار بار کاک نہیں کرنا پڑتا۔اس کی میگزین میں دس گولیوں کی گنجائش ہے۔ بیرٹ ایم 107بھی اس لحاظ سے ڈریگنوو جیسی ہے کہ اس کی میگزین میں بھی دس گولیاں پڑتی ہیں اور وہ نیم خود کار بھی ہے۔البتہ اس کا وزن اور رینج ڈریگنوو سے زیادہ ہے۔
اپنا وائرلیس سیٹ بند کر کے وہ آئی کام پر دشمن کی بات چیت سن رہا تھا۔
میں نے مشورہ دیا۔”فرار کو جنوب مشرقی سمت بہتر رہے گی۔“
”چلو۔“متفق ہوکراس نے قدم بڑھائے۔بہ مشکل سو قدم جا سکے ہوں گے کہ مجبوراََ ہمیں رکنا پڑا۔ دشمن کا کمانڈر اوپر آنے والے افرادکو بتا رہا تھاکہ جنوب اور مشرق کی طرف کمانڈررنگین خان کے آدمیوں نے گھیرا ڈال لیا ہے۔“
”طوفان دَل اور چیتا دَل سے رابطہ کرنا پڑے گا۔“سردار نے کینوڈ آن کر لیا۔نشیب میں تیز فائرنگ کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
”ایس ایس فار چیتا دَل،اوور۔“
فوراََ جواب آیا۔”ایس ایس،دشمن کی بڑی تعدادکاسامنا ہو چکا ہے،تمھاری مدد کی ضرورت ہے، اوور۔“
سردار نے دہائی دی۔”ہم نے مدد مانگنے کو رابطہ کیا تھا،آﺅٹ۔“چیتا دَل سے مایوس ہو کر وہ طوفان دَل سے رابطہ کرنے لگا۔
”ایس ایس فار طوفان دَل اوور۔“
”ایس ایس،ہدف دوم میں بھی دشمن کی کافی تعداد موجودہے۔انھیں چھوڑ کر آپ کی مدد کو نہیں آسکتے، اوور۔“چونکہ طوفان دَل اور چیتا دَل سے ایک ہی چینل پر رابطہ تھا اس لیے بغیرسوال سنے انھوں نے معذرت کر لی تھی۔دشمن کے پندرہ بیس افراد تو رینج ماسٹر کا شکار بن چکے تھے،چیتا دل اور طوفان دل نے بھی کافی تعداد کو جہنم واصل کیا تھا،لیکن پھر بھی ان کی بڑی تعداد موجود تھی۔جنوب مشرق کی جانب پیش قدمی کرنے والے دشمن تو کمانڈر رنگین کے لشکری تھے،مغربی جانب سے چڑھائی کرنے والے جانے کہا ں سے آٹپکے تھے۔مگر اس وقت کسی اور موضوع پر سوچنے کے بجائے جان بچانے کا مرحلہ درپیش تھا۔
اب گیند دشمن کے پاس تھی۔ ہمارے چھاپہ ماردستوں میں طوفان دل اور چیتا دل کے علاوہ سیلاب دَل اور ضارب دَل بھی شامل تھے۔ان دستوں کے پاس پس قدمی کی سہولت موجود تھی۔مشرقی جانب پاک فوج کی پوسٹیں تھیں جن کی وجہ سے ان کا عقب محفوظ تھا۔لیکن ہم دونوں چاروں طرف سے گھر گئے تھے۔
سردار نے کہا۔”شمال کی جانب کافی گھنی جھاڑیاں ہیں وہاں سے کوشش کی جا سکتی ہے۔“
”بھاگو۔“متفق ہوتے ہوئے میں واپس مڑ گیا۔ہم دونوں کے پاس وزن زیادہ تھا جسے اٹھا کر بھاگنابہت مشکل تھا۔البتہ ایک سہولت حاصل تھی کہ ہم نشیب اتر رہے تھے۔آدھی اترائی کے بعد گھنی جھاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
سردار پھولے ہوئے سانسوں سے بولا۔” جھولوں سے پیچھا چھڑانا پڑے گا۔“
میں ہچکچایا۔”اپنا ہتھیار کیسے پھینک سکتے ہیں ۔“
سردار مصر ہوا۔” جھاڑیوں میں چھپا دیتے ہیں ،امید ہے ہمارے بھاگنے پر وہ جھاڑیوں کی تلاش سے باز رہیں گے۔“
میں نے قدم آہستہ کرتے ہوئے کہا۔”کوئی گھنی جھاڑی دیکھو تاکہ سامان دور سے تو نظر نہ آئے۔“
مگر ہماری خوشی قسمتی کہ گھنی جھاڑی سے پہلے ہی ہماری نظر پانی کی تنگ گزر گاہ پر پڑگئی۔بارشی پانی نے اس جگہ کو کافی گہرا کر دیا تھا۔پہاڑی علاقے میں بارش کے بعد پانی نشیب کی طرف تیز رفتاری سے بہتا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے بڑے نالے وجود میں آتے ہیں ۔کوہستان کے باسی اور وہ لوگ جنہیں پہاڑوں پر رہنے کا تجربہ ہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہاڑمختلف اور تہہ در تہہ پرتوں سے وجود میں آتے ہیں ۔کچھ حصے خالص پتھر یلی چٹانوں پر مشتمل ہوتے ہیں ۔کہیں پتھر،ریت اور مٹی کا ملغوبہ ہوتا ہے۔کچھ جگہوں پر چکنی مٹی ہوتی۔کچھ پر بھربھری مٹی ہوتی ہے۔پانی ہر قسم کی زمین پر رستہ بنا لیتا ہے،لیکن جہاں بھربھری مٹی کی پرتیں ہوں وہاں بننے والے نالے نسبتاََ گہرے اور تنگ ہوتے ہیں ۔اور وہ بھی ایک ایسا ہی نالہ تھا۔ہمارے جھولے ”واٹر پروف“ تھے۔پانی ہتھیار یا سازو سامان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔پانی کی گزرگاہ دو فٹ سے زیادہ چوڑی نہیں تھی۔دونوں جھولے اندر رکھ کر ہم نے کناروں کی مٹی پر زور زور سے پاﺅں مار کرجھولوں پر گرا دیا۔پانچ چھے منٹ ضائع کر کے ہم نے دونوں جھولوں کو دفن کر دیا تھا۔اب مستقل طور پر تو نہیں البتہ عارضی طور پر جھولے محفوظ ہو چکے تھے۔کیوں کہ زیادہ بارش جھولوں پر سے مٹی بہا کر لے جاتی۔لیکن ہمارا مقصد عارضی طور جھولوں سے چھٹکارا پانا تھا، طویل عرصے تک سامان کو وہاں چھوڑنے کا ارادہ بالکل نہیں تھا۔
ایک آئی کام سیٹ اورایک کینوڈ ہم نے پاس رکھے تھے تاکہ دشمن کی بات چیت بھی سن سکیں اور اپنوں سے رابطہ بھی بحال رہے۔جھاڑیوں کا سلسلہ نشیب تک چلا گیا تھا،لیکن جھاڑیاں زیادہ پھیلی نہیں تھیں ۔ چوڑائی میں ایک پٹی کی طرح تھیں ۔جھاڑیوں میں بھاگنے کا فائدہ تو یہ تھا کہ ہم دور سے کسی اور نظر نہیں آسکتے تھے۔ اور نقصان یہ تھا کہ ہماری نظریں بھی دور دور تک دیکھ بھال کے قابل نہیں رہی تھیں ۔
سورج آب و تاب سے چمک رہا تھا۔اور مسلسل حرکت میں ہونے کی وجہ سے اچھی خاصی گرمی محسوس ہونے لگی تھی۔ڈھلان اترتے ہوئے زور تو نہیں لگتا لیکن،پھسلنے، پاﺅں اچٹنے اور موچ آنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔پختہ سڑک یا ہموار پگڈنڈی تو تھی نہیں کہ بندہ جسم ڈھیلا چھوڑ کر بھاگتا جائے۔یہا ں تو ہر قدم پر گڑھوں ، پتھروں اورناہموار زمین سے واسطہ تھا۔نیچے دیکھے بغیر آگے بڑھناممکن ہی نہیں تھا۔
ہم خاموشی،احتیاط اور سبک روی سے نشیب کی جانب بڑھ رہے تھے۔ہر وقت بک بک کرنے والے سردار کی زبان پر تالے لگے تھے،کیوں کہ پیشہ ور سنائپر ہونے کے ناتے وہ بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ بولنے سے جہاں چھپاﺅ خطرے میں پڑتا ہے وہیں سماعتوں کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ خاموش ہونے کی صورت میں انسان کانوں سے بھی آنکھوں کا کام لے سکتا ہے۔دور سے ہونے والی بات چیت اور پاﺅں کی آہٹ تک کانوں کی رسائی آنکھوں کے نظارے سے پہلے ہو جاتی ہے۔دشمن کی آہٹ سننے کو ہم نے وائرلیس سیٹ بھی بند کر دیے تھے۔
سائیلنسر لگا بریٹا میں نے تیاری حالت میں پکڑا ہوا تھا۔سردار نے بھی ڈریگنووکاک کی ہوئی تھی۔ سردار دو تین قدم آگے تھا۔اچانک رکتے ہوئے وہ ساکن ہوا اوراپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر مٹھی بند کر لی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ اسے کوئی آہٹ سنائی دے گئی تھی یا اس نے کوئی حرکت دیکھ لی تھی۔میں بھی اپنی جگہ پر تھم گیا تھا۔وہ گھٹنا نیچے ٹیک کر آہستہ سے بیٹھ گیا۔میں آواز پیدا کیے بغیر اس کے قریب پہنچا۔اب مجھے بھی باتوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔ان کی بے احتیاطی دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ہمیں زرمینہ لوگوں کے گھر میں محصور سمجھ رہے تھے۔ ان کی یہ غلط فہمی جب تک برقرار رہتی ہمیں فائدہ تھا۔
سردار کے کندھے پر دباﺅ ڈال کر میں نے لیٹنے کا اشارہ کیااور خود زمین پر بیٹھ کر دھیرے دھیرے آگے سرکنے لگا۔مگر اس حالت میں بھی میں نے یہ دھیان ضرور رکھا تھا کہ میرا جسم سردار کے دکھاﺅ میں رکاوٹ نہ بنے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 8
ریاض عاقب کوہلر
سردار کے کندھے پر دباﺅ ڈال کر میں نے لیٹنے کا اشارہ کیااور خود زمین پر بیٹھ کر دھیرے دھیرے آگے سرکنے لگا۔مگر اس حالت میں بھی میں نے یہ دھیان ضرور رکھا تھا کہ میرا جسم سردار کے دکھاﺅ میں رکاوٹ نہ بنے۔
وہ جلد ہی دکھائی دے گئے تھے۔دو قدم کے فاصلے سے آگے پیچھے روانہ تھے۔ہاتھ سیدھا کرتے ہوئے میں نے مسلسل دو مرتبہ لبلبی دبائی۔”ٹھک ....ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ وہ نزدیکی جھاڑی میں گرے اور اذیت سے اینٹھنے لگے۔ہم بھاگ کر قریب پہنچے،دونوں کے پاس لکڑی کے بٹ والی کلاشن کوفیں تھیں ۔ قلم کی طرح ترشی ہوئی نال ان کے روسی ہونے کی چغلی کھا رہی تھی۔دونوں نے جیکٹ نما بنڈوریل پہنے تھے،جن کے سامنے سے زنجیر لگی ہوئی تھی۔زنجیر کھول کر ہم نے ان کے بنڈوریل اتار کر خود پہن لیے کیوں کہ بنڈوریل کی جیبوں میں کلاشن کوف کے اضافی میگزین ڈالے جا تے ہیں ۔ورنہ قمیص کی جیبیں تو اتنے وزنی میگزین نہیں سنبھال سکتیں ۔
سردار نے ڈریگنوو کی سیفٹی لگا کر کندھے سے لٹکا لی تھی۔اب ہمیں جس لڑائی کا سامنا تھااس میں کلاشن کوف کی اہمیت سنائپر رائفل سے بڑھ جاتی ہے۔
کلاشن کوفوں کے لوڈ ہونے کی یقین دہانی کر کے ہم آگے بڑھ گئے۔چند قدم لینے کے بعد جھاڑیوں کا پھیلاﺅ ختم ہو رہا تھاالبتہ نشیب کی طرف مزید بیس پچیس گزتک جھاڑیاں چلی گئی تھیں ۔آخری جھاڑی کے پاس ہم لیٹ گئے اور رینگتے ہوئے آگے بڑھے،دو دو کی ٹولیوں میں چھے افراد تھوڑے تھوڑے فاصلے پر اوپر روانہ تھے۔
”کیا خیال ہے؟“میں نے سردارکی آنکھوں میں جھانکا۔
وہ دلیری سے بولا۔”جان بچانے کی کوشش کرنا بزدلی کہلائے گا۔ہم اکیلے نہیں ہیں ۔چیتا دَل اور طوفان دَل کے جیالے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں ۔اب تو یوں بھی ان کے گھیرے سے نکل آئے ہیں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”ایک خان سے اس کے علاوہ امید ہی کیا کی جا سکتی ہے۔“
میرے انداز کو اس نے اجازت پر محمول کیا تھا،دور والی ٹولی جس کا فاصلہ دو سو گز کے قریب تھاپر نشانہ سادھ کر اس نے مسلسل دو دفعہ لبلبی دبائی،پیٹھ میں گولی لگنے سے دونوں اوندھے منہ گرے تھے،اور اذیت سے ہاتھ پاﺅں جھٹکنے کی وجہ سے نیچے لڑھکنے لگے۔اس دوران جھاڑیوں کے ساتھ سے اوپر کی جانب حرکت کرنے والوں پر میں شست لے چکا تھا۔کیوں کہ ذرا سی مہلت ملنے پر وہ جھاڑیوں میں گھس کر ہماری لیے مشکل کھڑی کر سکتے تھے۔
”تڑ....تڑ۔“کی آواز پر وہ چونکتے ہوئے رکے،لیکن ان کے سنبھلنے سے پہلے میری شہادت والی انگلی لبلبی کو کھینچ چکی تھی۔ان کا انجام دیکھنے کے بجائے میں درمیان والی جوڑی کی طرف متوجہ ہوا۔قریب کوئی آڑ نہ پا کر دونوں چند قدم دور پڑے پتھر کی طرف بھاگے تھے۔میری اور سردار کی کلاشن کوفیں ایک ساتھ گرجی تھیں ،پتھر تک پہنچنے کی حسرت دل میں لیے وہ تڑپتے ہوئے نشیب میں لڑھکنے لگے۔
دشمن سے بے نیاز ہوتے ہی سردار نے آئی کام سیٹ آن کر دیا تھا۔دشمن کا کمانڈر باربار فائرنگ کے بارے پوچھ رہا تھا۔مگر وجہ جاننے والوں میں کوئی باقی نہیں بچا تھا کہ جواب دے پاتا۔مشرقی جانب سے دو افراد موڑ کاٹ کر سامنے آئے،دونوں نے کلاشن کوفیں تیاری حالت میں تھامی ہوئی تھیں ،ان کے سر پنڈولم کی طرح حرکت میں تھے۔لیکن ان کی احتیاط کا طریقہ کاراچھی تربیت کی نشان دہی نہیں کر رہا تھا۔انھیں بے فکری سے آڑ نہیں چھوڑنا چاہیے تھی۔شایدہماری فائرنگ کو وہ ساتھیوں کی حرکت سمجھے تھے۔ان کی غلط فہمی ہمارے سامنے نمودار ہونے کے اگلے دو تین سیکنڈ میں رفع ہو چکی تھی۔وہ نیچے گر کر اذیت سے تڑپنے لگے۔
اچانک ان سے ذرا بلندی پر کلاشن کوفوں کا گرجنا شروع ہوا۔وہ اندازے ہی سے فائر کر رہے تھے کیوں کہ اب تک ہم جھاڑیوں کی حد سے آگے نہیں نکلے تھے۔البتہ مناسب آڑ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی اچٹتی ہوئی گولی ہمارا مزاج پوچھ سکتی تھی۔ہمارے سر آڑ کی تلاش میں گھومے،پہاڑی علاقے میں پتھروں کی بہتا ت ہوتی ہے۔ہمیں آڑ کی تلاش میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی۔چند گز اوپر ہی ایک بڑا پتھر نظر آگیا تھا جس کے پیچھے لیٹی حالت میں ہم دونوں پناہ گزین ہو سکتے تھے۔پتھر بلندی کی طرف پڑا تھا، وہاں تک رینگ کر پہنچنا دشوار تھا۔ہم دونوں جھکے جھکے اس جانب دوڑ پڑے۔آئی کام سیٹ پر کوئی چیخ چیخ کر اپنے کمانڈر کو شمالی جانب ہماری موجودی سے مطلع کر رہا تھا۔
کمانڈکسی اکبر جان نامی شخص کو پکارنے لگا۔”اکبرجان....اکبرجان۔“
”جی کمانڈر۔“ایک باریک آواز ابھری۔یوں لگا جیسے کوئی ادھیڑ عمر عورت مرد بن کر بول رہی ہو۔
”اکبر جان،عمارت کا گھیراﺅ ختم کرو، وہ خبیث نکل گئے ہیں ۔“
اکبر جان پر اعتماد لہجے میں بولا۔”سن لیا ہے کمانڈر،آپ بے فکر رہیں آج بچ کر نہیں نکل سکتا۔“
اسی وقت ایک اور آواز ابھری۔”اکبر جان یہاں درخت پر مچان بنا ہے،خالی کھوکے بھی کافی تعداد میں پڑے ہیں ۔“اکبر خان نے اسے وہیں ٹھہرنے کا کہا۔
میں سردار کی طرف متوجہ ہوا۔”ہمیں جلد ہی یہ جگہ چھوڑنا پڑے گی ورنہ گھیرے میں آجائیں گے۔“
”ان دو سے نبٹ کر ہی بھاگ سکیں گے۔“سردارنے ڈریگنوو ہاتھ میں لے کر پوچھا۔”فاصلہ کتنا ہوگا؟“
”تین سو میٹر ہی ہوگا اور ڈریگنوو کی گولی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔“میں نے کلاشن کو ف پر مطلوبہ رینج لگا کر شست سادھ لی۔وہ ایک بڑے پتھر کے دائیں بائیں آڑ پکڑے درختوں کے جھنڈ کا جائزہ لے رہے تھے۔شروع میں انھوں نے مسلسل فائر کر کے ایک ایک میگزین خالی کی تھی، لیکن بعد میں ہدف نظر نہ آنے پر ایمونیشن پھونکنا بند کر دیا تھا۔
شاید پہلے بھی بتایا تھا کہ دائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے کوآڑ کی دائیں جانب اور بائیں ہاتھ سے فائر کرنے والے کوآڑ کی بائیں طرف استعمال کرنا چاہیے۔اس کے برعکس ہونے کی صورت میں فائررکا زیادہ تر جسم آڑ سے باہر نظر آئے گا اور آڑ کوئی فائدہ نہیں دے گی۔انھوں نے ایک پتھر کے دائیں بائیں آڑ لی ہوئی تھی۔اور دونوں دائیں ہاتھ سے فائر کر رہے تھے۔یوں ایک فائرر تواصولی طور پر صحیح جگہ سنبھالے ہوئے تھااور اس کا زیادہ تر جسم آڑ میں چھپا تھا،جبکہ دوسرے کا بالائی جسم واضح نظر آرہا تھا۔کم نظر آنے والا ہدف سردار کے لیے چھوڑ کر میں نے غلطی کرنے والے کو تاڑا،کیوں کہ سردار کے پاس ڈریگنوو تھی اور وہ آسانی سے دوسرے فائرر کو نشانہ بنا سکتا تھا۔ میرے ہاتھ میں دشمنوں سے چھینی ہوئی کلاشن کوف تھی۔کلاشن کوف نشانہ بازی میں سنائپر رایفل کے عشر عشیر بھی نہیں ہے اور پھرکلاشن کوف کو میں اپنی مرضی کے مطابق صفر بھی نہیں کر سکا تھا۔تبھی میں نے بڑے ہدف کو تاڑا تھا۔میں نے ہدف کی چھاتی پر نشانہ سادھا،تاکہ گولی ضائع نہ جائے۔
ہم نے قریباََایک ساتھ ہی لبلبی دبائی تھی۔دونوں کی گولیاں غلط آڑ پکڑنے والے کو لگی تھیں ۔ دوسرا فائرر صاف بچ گیا تھا،ساتھی کی کھوپڑی میں روشندان کھلتے دیکھ کر وہ پتھر کے پیچھے سرک گیا تھا۔یقینا مرنے والے کے سر میں سردار کی گولی لگی تھی۔
میں نے منہ بنایا۔”دھت تیرے کی،خان صاحب!تمھیں دوسرے کو نشانہ بنانا چاہیے تھا۔“
”تمھارے لیے چھوڑ دیا تھا۔“
”میرے لیے چھوڑ دیا تھا۔“میں نے منہ چڑایا۔”سنائپر رایفل تمھارے ہاتھ میں ۔“
وہ جگہ چھوڑتے بولا۔”یہ بحث بعد میں کریں گے،فی الحال بھاگنے کی کرو۔تمھارے سالے پہنچنے والے ہوں گے۔“
”بکواس نہ کرو۔“میں نے اس کی تقلید کی تھی کیوں کہ جھاڑیوں کی حدود سے نکلتے ہی ہم بچ جانے والے دہشت گرد کے فائرکی رینج سے نکل جاتے۔
”بکواس کیسی،تم نے وزیرستان ہی سے شادی کی ہے نا۔“
”پلوشے دہشت گرد نہیں ،شریف خاندان کی ہے۔اور یہ کس نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق وزیرستان سے ہوتاہے۔“میں سنجیدہ ہو گیا تھا۔
” چونچ بند رکھو،تم بیٹھک میں نہیں بیٹھے۔“لاجواب ہو کر اس نے حالات کا سہارا لیا اور مجھے خاموش ہونا پڑا۔
جھاڑیوں کی حدود سے کھلی جگہ پر آتے ہی ہم مزید محتاط ہو گئے تھے۔دہشت گردوں کی طرف سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ موت کے کنویں کی موٹر سائیکل کی طرح تسلسل سے آنے لگی تھی۔
نشیب میں آنے کے بعد بھی زمین مکمل ہموار نہیں تھی۔ہم مغرب سے آنے والے ایک نالے کے قریب پہنچ گئے تھے۔سردار نالے کے کھڑے کنارے سے اندر کودا،اسی دم سامنے سے گولیوں کی بوچھاڑ آئی، گولیاں چند فٹ کے فاصلے پرپتھروں سے ٹکرائیں ۔میں نے بغیر کسی تاخیر کے نالے میں چھلانگ لگائی اور ایک بڑے پتھر کے پیچھے دبک گیا،سردار نے مجھ سے پہلے ایک پتھر کی آڑ لے لی تھی۔
میں مایوسی سے بولا۔”پھنس گئے ہیں خان صاحب!دشمن سامنے بھی موجود ہے اور عقب سے بھی قریب آنے والا ہے۔“
”نالے میں اوپرکی جانب بڑھتے ہیں ۔“اس نے مغربی سمت اشارہ کیا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”پچاس ساٹھ قدم کے بعد نالہ ایک دم اوپر کو اٹھ رہا ہے،دشمن ہمیں چڑھائی چڑھنے کی مہلت نہیں دیں گے۔“
”تم غربی جانب سنبھالو میں مشرق کی سمت دھیان دیتا ہوں ۔“پر جوش پٹھان اتنی جلد ہمت نہیں ہار سکتا تھا۔
میں نے مشورہ دیا۔”گرفتاری دے کر مہلت حاصل کر سکتے ہیں ۔“
”اپنی سپاہ کی خبر لیتے ہیں ،شاید مدد مل جائے۔“میرے مشورے کو درخور اعتنائ(توجہ کے قابل) نہ جانتے ہوئے وہ کینوڈ آن کر نے لگا۔ فوراََ ہی آواز آنے لگی،کوئی باربار ہمیں پکار اجا رہا تھا۔
”چیتا دل فار ایس ایس اوور....چیتا دَل فارایس ایس اوور....“
”سینڈ یور میسج اوور۔“سردار نے بے صبری سے جواب دیا تھا۔
جھلائی ہوئی آواز میں پوچھا گیا۔”ایس ایس،کافی دیر سے تمھیں طوفان دَل اور میں پکار رہے ہیں جواب کیوں نہیں دے رہے اوور۔“
سردار تلخ ہوا۔”ہمارے حالات جاننے کے بعد یہ سوال بے معنی رہ جاتا ہے اوور۔“
”شمالی جانب سے طوفان دل،مشرقی جانب سے چیتا دَل اور جنوبی جانب سے ضارب دَل کی سپاہ آپ کی کمین گاہ کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں اوور۔“
میرا دل مسرت سے دھڑکنے لگا تھا۔سردار کے۔”راجر۔“کہنے پر اس کی بات جاری رہی۔
”دہشت گردوں کے زیادہ تر افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور باقی اس ٹیکری کی طرف سمٹ آئے ہیں ، اوور۔“
”راجر۔“سردار نے سمجھ جانے کا اعلان کیا۔
” اپنی جگہ کی نشان دہی کریں کیوں کہ کپڑو ں میں ہونے کی وجہ سے آپ دونوں اپنی سپاہ کا شکار بن سکتے ہیں ،اوور۔“
”ہم اپنی کمین گاہ والی ٹیکری کے نالے میں پہنچ چکے ہیں اور لگتا ہے اپنے بندے ہم پر فائر کھول چکے ہیں ،اوور۔“
”ویٹ۔“ہمیں انتظار کا کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔اچانک نالے کے مشرقی کنارے پر ایک باوردی جوان کی جھلک نظر آئی۔یقینا وہ سینئر کی ہدایت پرہمارا جائزہ لے رہا تھا۔بہ ظاہر وہ بے وقوفی کا مرتکب ہوا تھا کہ یوں چھاتی چوڑی کیے دشمن کے سامنے جانا حماقت تھی۔مگر پاک فوج کے جوان ایسی حماقتوں کے عادی ہیں ۔
میں نے فوراََ کھڑے ہو کر ہاتھ لہرائے اور اس نے دائیں ہاتھ کی پانچوں انگلیاں نوالہ لینے کے انداز میں جوڑ کر انگلیوں کے سروں کو اپنے سر سے لگایا۔جس کا مطلب تھا میں اس کے پاس پہنچوں ۔(میدان جنگ میں ساتھیوں تک اپنی بات پہنچانے کے مختلف اشارے مقرر ہیں ،جن کے بارے ہر تربیت یافتہ اچھی طرح جانتا ہے)
سردار بھی کھڑا ہو گیا تھا۔ جائزہ لے کر ہم نے عقب محفوظ ہونے کا یقین کیا اور نالے کے مشرقی کنارے کی طرف دوڑ پڑے۔دہشت گرد آدھی اترائی سے نیچے نہیں آئے تھے۔پاک فوج کی وردیاں دیکھ کر انھیں اپنی فکر پڑ گئی تھی۔سردار نے اسی حالت میں آئی کام کی آواز بلند کی۔کمانڈر،اکبر جان کو اپنے آدمی واپس بلانے کی ہدیات دے رہا تھا۔ان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ مغربی جانب سے انھیں فرار کی راہ میسر تھی۔
نالے کی مشرقی جانب ذرا سی بلند تھی۔اوپر پہنچ کر ہمیں پاک فوج کے تین جوان پر تپاک انداز میں ملے تھے۔وقفے وقفے سے باقی جوان بھی اس ٹیکری کو گھیرے ہوئے تھے۔جنوب کی جانب سے تیز فائرنگ سنائی دے رہی تھی۔پتا چلا کہ اس ٹیکری کے مغربی جانب گزرنے والے نالے کے سرے پر دہشت گردوں کی ٹولی پاک فوج کے جوانوں کا رستہ روکے ہوئے تھی۔
ڈریگنوو مجھے دو۔“ساتھیوں سے معانقہ کر کے میں نے سردار کی طرف ہاتھ پھیلائے۔
”تم سپاٹر کی ذمہ داری سنبھالو۔“ڈریگنوو کندھے سے اتار کر وہ مناسب جگہ پر لیٹ گیا تھا۔ سنائپنگ کا مکمل سامان ہم پیچھے چھوڑ آئے تھے،اب سب کچھ اندازے سے کرنا تھا۔
لکڑی کے مضبوط تنکے کے ساتھ کپڑے کی دھجی باندھ کر میں نے ہوا کی رفتار معلوم کرنے کو زمین میں گاڑا۔ونڈ میٹر کے نہ ہونے پر سنائپر ہوا کی رفتار یونھی معلوم کرتے ہیں ۔(شاید کپڑے کی جھنڈی سے ہوا کی رفتار معلوم کرنا قارئین کو عجیب لگے توتھوڑی سی وضاحت کر دوں کہ،ہوا کی وجہ سے جب جھنڈی لہراتی ہے تو ہم کپڑے اور لکڑی کے درمیان بننے والے زاویے کو جانچتے ہیں ۔ ہوا جتنی تیز ہو گی زاویہ اتنا زیادہ بنے گا اور جتنی کم ہو گی،ڈنڈے اور کپڑے کا زاویہ اتنا کم بنے گا۔پس اس زاویے کو مخصوص فارمولے کے ساتھ ضرب تقسیم کر کے ہمیں ہوا کی رفتار معلوم ہو جاتی ہے)
بلندی کا زاویہ بھی اندازے سے معلوم کر کے میں نے نزدیکی نظر آنے والے دہشت گرد کا فاصلہ سردار کو بتا دیا۔پتھر کے عقب میں سر ابھارے وہ گاہے گاہے فائر کر رہا تھا۔سردار ایلیویشن،ڈیفلیکشن ناب کو مطلوبہ مقدار میں گھما کر فائر کرنے کو تیا رہو گیا۔لبلبی دباتے ہی دشمن الٹ کر پیچھے جا گرا تھا۔سردار نے رینج میں تبدیلی کیے بغیر اس سے چند قدم دائیں بیٹھے دشمن پر شست سادھی۔اگلے کے گرتے ہی باقی بے تحاشاجھاڑیوں کی طرف دوڑ پڑے تھے،جو جھاڑیوں سے دور تھے انھوں نے پتھروں کے عقب میں پناہ لے لی تھی۔
اسی اثناءمیں کیپٹن حفیظ اللہ نیازی وہاں پہنچ گیا تھا۔وہ چیتا دَل کا کمانڈر تھا۔ہماری پیٹھ تھپتھپاکر اس نے پیش قدمی کا عندیہ دیا اور ہمیں وہیں ٹھہرنے کو کہاکیوں کہ ہم سول کپڑوں میں تھے۔اور اپنے ساتھیوں کا شکار ہو سکتے تھے۔
میں نے اسے اطمینان دلایا۔”ہم یہیں سے مدد پہنچائیں گے سر۔“
”بے شک۔“تحسین آمیز انداز میں سرہلاتے ہوئے وہ اپنے جتھے کے ہمراہ نالے میں اتر گیا۔دہشت گرد ٹیکری پر چڑھنے کے بجائے،درمیانی بلندی ہی سے مغرب کا رخ کر رہے تھے۔مغربی نالے میں اتر کر وہ آسانی سے بامک ٹاپ کی جانب سمٹ سکتے تھے۔
اگلے دو تین گھنٹے اسی کشمکش میں گزرے تھے۔سہ پہر تک پاک فوج کے جوانوں نے ہماری کمین گاہ والی ٹیکری اور چند دوسری ٹیکریوں پر قبضہ جما لیا تھا۔میں اورسرداربھی اپنا سامان نکالنے ٹیکری کی جانب بڑھ گئے۔ ایک وردی والا جوان ہم نے ساتھ رکھا تھا تاکہ دورسے دیکھنے والے ہمیں مشکوک نہ سمجھ لیں ۔وہ رات ہم نے وہیں گزاری تھی۔زرمینہ لوگوں کے گھر کا دروازہ بند ہی رہا تھا۔بے چاری اکیلی عورتیں سخت ڈر گئی تھیں ۔پاک فوج کے دس جوان معمولی زخمی تھے۔تین شہید ہوئے تھے اور دو شدید زخمی تھے۔شدید زخمیوں کو فوراََ واپس بھیجا گیا تھا۔
گھر کے دائیں بائیں وردی والوں کو دیکھ کر بچیاں چائے دینے آئی تھیں ۔چونکہ وہ ہم سے مانوس تھیں اس لیے سیدھا ہمارے قریب پہنچی تھیں ۔چھت کے شرقی کونے پر مجھے سرخ لباس کی جھلک دکھائی دی،کوئی وہاں سے ہم پر نظر رکھے ہوئے تھا۔اورکل زرمینہ نے سرخ لباس ہی پہنا تھا۔
بچیاں برتن رکھ کر ہمارے قریب ہی بیٹھ گئی تھیں ۔چائے زیادہ تھی۔ہم نے قریب موجود چند اور سپاہیوں کو بھی بلا لیا تھا۔سردار بچیوں سے گپ شپ کرنے لگا۔خالی برتن اور انعام وصول کر کے وہ خوشی خوشی واپس لوٹ گئی تھیں ۔البتہ مورچے سے جھلکتا سرخ لباس روانگی تک وہیں دکھائی دیتا رہا۔
طلوع آفتاب کے ساتھ پاک فوج کے جوان منظم انداز میں واپس پلٹے۔دہشت گردوں کی لاشیں لے جانے کا بندوبست ہمارے پاس نہیں تھا، ان کے ہتھیار،مخابرے اور دوسرا کام کا سامان اٹھا لیا گیا تھا۔ البتہ لاشوں کوان کے ٹھکانوں میں رکھ دیا تھا تاکہ جنگلی جانورخراب نہ کریں ۔امید یہی تھی کہ ایک دو دن میں ان کے ساتھی واپس پہنچ کر ان کا” کریا کرم“ کر دیتے۔(شاید کچھ قارئین کو یہاں کریا کرم کا لفظ مناسب نہ لگے کہ یہ ہندو مردوں کے لیے مستعمل ہے۔لیکن ان دین،وطن و انسانیت دشمن عناصر کے لیے مجھے اس سے بہتر کوئی لفظ نہیں سوجھتا)
سہ پہر ڈھلے ہم واپس پہنچے،آپریشن نہایت کامیاب رہا تھا۔دہشت گردوں پر کافی کاری ضرب لگی تھی اوراب انھیں سنبھلنے میں کچھ وقت ضرور لگتا۔
٭٭٭٭٭
ایک ہفتے بعد ہماری بدلی پر حوالداربدرالدین اور نائیک عرفان پہنچ گئے تھے۔انھیں پیشہ ورانہ سجھاﺅ(بریف) دے کر ہم چھٹی روانہ ہو گئے۔ڈیرہ اسماعیل خان تک تو ہم فوجی قافلے کے ساتھ آئے تھے۔سہ پہر ہونے کو تھی جب ہم کپڑے ڈال کر بس اڈے پہنچ گئے۔وہاں سے سردار نے پشاور اور میں نے راولپنڈی کی بس پکڑی۔
رات کے نو بجے تلہ گنگ بس اڈے پر اتر کر میں نے ٹیکسی لی اور گھر کو روانہ ہوا۔میرا گاﺅں شہرسے چھے سات کلو میٹر ہی دور تھا۔دن کو تو میں پیدل ہی چلا جایا کرتا تھالیکن رات ہو چکی تھی اور رات سے زیادہ پلوشے کو دیکھنے کی خواہش سے مغلوب تھا۔اسے میں نے آنے کی اطلاع نہیں دی تھی۔گھر کے دروازے پر ٹیکسی کو فارغ کر کے میں نے دروازے کوہاتھ لگایا تو کھلا ملا۔ابوجان عشاءپڑھ کر نہیں لوٹے تھے۔ گھر کے صحن میں ایک قطار میں چارپائیاں رکھی تھیں ۔پہلے ابوجان اور امی کی چارپائیاں تھیں ،ان سے ملحق عدیل اور پھوپھو کی چارپائیاں تھیں اور پھر درمیان میں چند فٹ جگہ چھوڑ کر پلوشے اور روما کی چارپائیاں لگی تھیں ۔صحن میں روشنی ہو رہی تھی،تبھی پھوپھو جان نے مجھے فوراََ پہچان لیا تھا۔
”ارے شانی بیٹا!“وہ وارفتگی سے میری جانب بڑھیں ۔بانہوں میں بھر کر انھوں نے میرا ماتھا چوما، ماں جی بھی مسکراتے ہوئے قریب آگئیں ۔عدیل سویا ہوا تھا۔پھوپھو اور ماں جی سے پیار لے کر میں نے عبداللہ کا پوچھا۔ فوجی بے چارے کی مجبوری ہوتی ہے کہ براہ راست بچوں کی ماں کا نام لینے کے بجائے بچوں کا ذکر چھیڑ کر اس کے بارے سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے۔
پھوپھو مسکرائیں ۔”دونوں کمرے میں گھسی ، جانے کیا کر رہی ہیں ۔“
اسی وقت ابو جان داخل ہوئے۔مجھے دیکھ کر کھل اٹھے تھے۔وارفتگی سے معانقہ کیا،پھوپھوپلوشہ اور روما کو بلانے کمرے کی طرف بڑھیں ۔میں نے آواز دے کر روکا۔”پھوپھوجان رہنے دیں ،دیکھوں تو یہ اکیلے میں کیا کھچڑی پکا رہی ہیں ۔“
پھوپھو شرارت سے مسکرائیں ۔”اس شرط پر کہ انھیں ڈانٹو کے نہیں ۔“
”اتنی بھولی بھالی ہیں نا کہ مجھے ڈانٹنے دیں گی۔“منہ بناتے ہوئے میں روما کی خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا، وہیں روشنی ہو رہی تھی۔برآمدے میں داخل ہوتے ہی ہلکی ہلکی موسیقی نے میرا استقبال کیاتھا۔
ماڑا ہیے تے ماڑا سہی یار جو ہیے(کمزور، خستہ حال ہے توکیا ہوا یار تو ہے)
کجھ وی او ہوئے ساڈا پیار جو ہیے(کچھ بھی ہو آخر میرا پیار توہے )
کیوں ڈھولے دا،گلہ کراں میں تاں لکھ واری بسم اللہ کراں (کیوں محبوب کا گلہ کروں ،میں تو(اس کی آمد پر) لاکھ بار بسم اللہ کروں )
چنگے ہون یار تے ہر کوئی سڑا دا ہیے(جب دوست اچھے ہوں تو ہر کوئی جلتا ہے)
تائیں سارا شہر میڈے نال لڑا دا ہیے(اسی وجہ سے پورا شہرمیرے ساتھ لڑتا ہے)
او ساریاں تو وڈا فنکار جو ہیے۔(وہ تمام سے بڑا فنکار جو ہے)
کجھ وی ہویے ساڈا یار تاں ہیے(کچھ بھی ہو آخر میرا یار تو ہے)
کیوں ڈھولے دا گلہ کراں میں تاں لکھ واری بسم اللہ کراں
دروازے پر دبیز پردہ لٹکا ہوا تھا۔جھری سے جھانکا تو پلوشے کمر سے دوپٹا باندھے رقص کر رہی تھی اور روما عبداللہ کو گود میں اٹھائے اس کے دونوں ہاتھوں کو تالیوں کے انداز میں بجا رہی تھی۔میں نے پردے کی جھری سے سر گزار کر ہونٹوں پر انگلی رکھی۔روما کا سرخ و سفید چہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھل اٹھا تھا۔میرا اشارہ پا کر وہ مسکراتے ہوئے پلوشہ کی جانب متوجہ رہی جس کے قدم سرائیکی گیت پر بھی اسی مہارت سے اٹھ رہے تھے جیسا کہ پشتو گانوں پر تھرکتی تھی۔ریشمی بال اب کندھوں سے نیچے تک جھول رہے تھے۔اس کاخوب صورت رقص مجھے مبہوت کر گیا تھا۔میں دبے قدم اندر داخل ہوالیکن آگے بڑھنے کے بجائے دروازے پڑا کھڑا اسے وارفتگی و شوق سے گھورتارہا،اچانک اس نے دائرے میں چکر کاٹا میرے جانب رخ ہوتے ایک دم اس کا بدن ساکن ہو گیا تھا۔اگلے ہی لمحے....”راجو!“کہتے ہوئے اس نے زقند بھری اور پوری شدت سے میرے سینے سے آٹکرائی۔ میرے ہاتھوں نے اس کے گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے شاداب چہرے پر پھسل رہے تھے۔
وہ سسکی۔”اتنی دیر لگا دی۔“
”گلے شکوﺅں کا بہت وقت پڑا ہے۔“ماتھے پر بوسا دے کر اسے میں نے نرمی سے علیحدہ کیا اور روما کی طرف بڑھا۔
اس نے ہاتھ ملانے پر اکتفا کرتے ہوئے عبداللہ میری طرف بڑھا دیا تھا۔وہ چھے سات ماہ کا ہو گیا تھا۔ ماں کی گود سے نکلتے ہی رونے لگا۔
”رُلا دیا ناں میرے شہزادے کو۔“پلوشہ نے اسے جھپٹ لیاتھا۔
”کیا ہورہا تھا؟“شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے میں روما کو مخاطب ہوا۔
”کچھ نہیں ،یونھی گپ شپ کر رہی تھیں ۔“
پلوشے نے منہ بنایا”اچھی طرح دیکھ لیا ہے پھر پوچھنے کا مطلب۔“
”تم خاموش رہو، روما سے پوچھ رہا ہوں کہ تمھیں میں اسی کے حوالے کر گیا تھا۔“
”تو....“پلوشہ نے آنکھیں نکالیں ۔
میں نے برہمی دکھائی۔”تو یہ کہ تمھیں قابو میں رکھنا چاہیے تھا۔یوں بے شرم عورتوں کی طرح ناچ گانا کون سی شرافت ہے۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”باجی!آپ عبداللہ کو پکڑیں اور پشتو کا گانا لگائیں ۔دیکھتی ہوں یہ کیسے روکتے ہیں ۔“
رومانہ کی طرف رخ کرتے ہوئے میں نے آنکھ میچ کر کہا۔”روما چلاﺅ گانا ،دیکھتا ہوں یہ کیسے ناچتی ہے۔“
رومانہ نے مسکراتے ہوئے موبائل فون پر ایک پشتو گیت چلا دیا۔
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”جی جی میں جانتی ہوں ۔آپ یونھی ترستے رہیں گے۔“اورعبداللہ کو روما سے لے کر باہر بھاگ گئی۔اس کے نکلتے ہی روما وارفتگی سے میرے قریب ہوئی۔”جھوٹے اجنبی،بتایا کیوں نہیں آپ آرہے ہیں ۔“
”سوچا اپنی روما کو اچانک خوش ہوتا دیکھوں ۔“
”کھانا کھا لیا ہے۔“میری چھاتی سے سر اٹھا کر اس نے آنکھوں میں جھانکا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”کب کا تمھارے ہاتھوں کی بنی روٹی کو ترس رہا ہوں ۔“
وہ فوراََ بولی۔”اچھا میں ابھی گرم گرم روٹی بنا تی ہوں ۔“
”چلو۔“اسے ساتھ لیے میں باہر نکل آیا۔کھانا تیا رہونے تک ہم اکٹھے بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔روما نے تازہ روٹیاں بنا کرلے آئی تھی۔اتفاق سے کدو گوشت بنا تھا جو میرا پسندیدہ کھانا ہے۔اورپھر محبت کرنے والی بیوی کے ہاتھ کی بنی ہوئی گرم گرم روٹیاں ، میں ضرورت سے چند نوالے زیادہ ہی کھا گیا تھا۔
کھانا کھا کر میں ابوجان کی ٹانگیں دبانے لگا۔دوتین منٹ بعد وہ شفقت سے بولے۔ ”بیٹا!مجھے نیند آرہی ہے ،تم بھی آرام کرو۔“
”جی ابوجان۔“کہہ کر میں اٹھ گیا۔
روماعبداللہ کو چھاتی سے لگائے بیٹھی تھی۔میں خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔عبداللہ کو سیر کرا کر اس نے پلوشہ کے حوالے کیا اور میرے پیچھے خواب گاہ میں آگئی۔عبداللہ کو پلوشہ نے سنبھالنا تھا۔اس کی عادت تھی کہ وہ پہلی رات زبردستی روما کو میرے پاس بھیجا کرتی تھی۔گو میری پہلی بیوی ہونے کی خصوصیت اسے حاصل تھی ،مگر وہ روما کو مقدم رکھتی تھی۔البتہ روما کی باری ہو یا اس کی، گھر میں آخری رات وہی میرے ساتھ ہوتی تھی۔ویسے بھی روما اس کاچھوٹی بہنوں کی طرح خیال رکھتی تھی۔وہ کشمیری چرواہن بہت با ظرف اور کشادہ دل کی مالک تھی۔ نرم گفتار،خوش اخلاق، خدمتی اور گلے شکوﺅں سے عاری مزاج کی مالک اللہ پاک کی طرف سے میرے لیے بہت بڑا انعام تھی۔ میں بھی اس کا بہت زیادہ خیال رکھتا تھا۔وہ مجھے بہت زیادہ پیاری بھی تھی۔لیکن پلوشے کی بات اور تھی۔اس کے بغیر تو میں زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
روما کافی دیر دکھڑے سناتی رہی ،جدائی کے دنوں کی تلخیاں جو کبھی کال پر نہیں بتا سکی تھی، دوسروں کو تسلی اور دلاسے دے کر خود کو مضبوط و حوصلہ مند ثابت کرنے والی اتنی بھی سخت جان نہیں تھی کہ اکیلے میں نہ روتی۔ بے کیف دنوں اور جاں گسل راتوں کی کہانی سناتے ہوئے وہ سسک پڑی تھی۔ بلا شک و شبہ وہ مجھے بہت زیادہ چاہتی تھی اور یہی وجہ تو تھی کہ ماں ،باپ ،بھائی ،رشتہ داراور گھر بار چھوڑ کرتن تنہا میرے ساتھ چلی آئی تھی۔گزشتہ شب پلوشہ اور روماکے دیدار کی خوشی نے مجھے سونے نہیں دیا تھا تو آج روما کی وارفتگی اور چاہت آنکھیں بند کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔اسے بہت کچھ کہنا،بہت کچھ سننا،بہت کچھ کھوجنا،بہت کچھ ماننااوربہت کچھ منواناتھا۔اسے اپنے جھوٹے اجنبی سے پیار تھا،اس کی ضرورت و حاجت تھی اتنی طویل جدائی کے بعد وہ مجھے سونے کی اجازت کیسے دے سکتی تھی۔صبح کی اَذان کے ساتھ یاقوتی ہونٹوں پردل فریب تبسم اور کالی سیاہ آنکھوں میں آسودگی و خمار کی فراوانی لیے وہ میری پیشانی پر جھکی۔”آپ کے شہزادے کے اٹھنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔“
میں نے منہ بنایا۔”بیٹے کا تو بڑا خیال ہے کہ ساری رات سلائے رکھا،اور شوہر غریب کا کیا جوگزشتہ رات بھی سو نہیں سکااور آج بھی تم نے پلک جھپکنے کی اجازت نہ دی۔“
اس نے قہقہ لگایا۔”آج رات کو سو جانا۔“
میں مظلومانہ انداز میں بولا۔”ہنس لو.... ہنس لو۔“
میرے گال پر چٹکی بھر کر وہ غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 9
ریاض عاقب کوہلر
نماز پڑھ کر میں سوگیا تھا لیکن نیند کی عیاشی میری قسمت میں نہیں تھی۔دو تین گھنٹوں بعد ہی پلوشے نے زبردستی جگا کر تیار ہو نے کو کہا کہ اسے شاپنگ کرنے جانا تھا۔
میں لجاجت سے بولا۔”کل بھی جا سکتے ہیں ۔“
”ایسا بس آپ سوچتے ہیں ۔“میری بغلوں میں ہاتھ دے کر وہ گدگدی کرنے لگی۔
”قسم سے سخت نیند آرہی ہے۔“میں نے جان چھڑانے کی ایک اور کوشش کی۔
”یہ آپ کا مسئلہ ہے۔“وہ پلوشہ ہی کیا جو مان جاتی۔
”سہ پہر کو چلے جائیں گے ناں ۔“میری کوشش جاری رہی تھی۔
”آپ عزت سے بستر چھوڑ رہے ہیں یا....“اس نے دھمکی آمیز لہجے میں آنکھیں نکالیں ۔ ہلکی نیلی موٹی آنکھوں کا رعب ایسا نہیں تھا کہ مزید لیٹا رہ سکتا۔میں تازہ دم ہونے غسل خانے میں گھس گیا۔ تھوڑی دیر بعد کھانا کھا کر ہم پانچوں کار میں بیٹھے راولپنڈی جا رہے تھے۔میں ، پلوشہ، روما،پلوشہ کا چھوٹا بھائی عدیل اور عبداللہ۔ڈرائیونگ سیٹ پر پلوشہ اور اس کے ساتھ روما بیٹھی تھی۔میں اور عدیل عقبی نشست پر تھے۔
ہماری واپسی شام کوہوئی تھی۔عشاءکی نماز پڑھ کر لوٹا توپلوشہ اپنی خواب گاہ میں دلھن کی طرح سجی سنوری میری منتظر تھی۔ایک سنائپر کو مشن پورا کرنے کو کئی کئی گھنٹے مسلسل جاگنا پڑتا ہے۔سخت شاخوں کی مچان، پتھریلی کمین گاہوں ،برفیلے کھوہ اور گرم تپتی ریت پر موت و زندگی کی کش مکش سے نبرد آزما ہوتے ہوئے نیند سے لڑنا اور بات ہے،نرم بستر پرریشمی بانہوں کی آغوش میں لیٹ کر جاگنا علیحدہ مسئلہ ہے۔اور موخّر الذکر مرحلہ زیادہ دشوار ہے،کیوں کہ سکون و آرام کے سارے لوازمات کی موجودی میں نیند کو شکست دیناناممکن ہو جاتا ہے۔ اس ضدی ،ہٹ دھر م اور ہمیشہ اپنی منوانے والی سے زیادہ دیر میری حالت پوشیدہ نہیں رہی تھی۔
”مجھے آپ کی ہوں ہاں سننے کا کوئی شوق نہیں ہے راجو!بہتر ہو گا نیند پوری کر لیں ۔“
”شکریہ۔“اضطراری انداز میں میں نے اسے مزید قریب گھسیٹا حالاں کہ یہ ایک بے فائدہ کوشش تھی۔وہ پہلے ہی میرے بدن کا جز و بنی ہوئی تھی۔
٭٭٭٭٭
وقت نشیب میں بہتے پانی کی طرح گزر رہا تھا۔منٹوں نے سیکنڈوں کی رفتار پکڑی،گھڑیاں لمحوں میں بیتنے لگیں ،گھنٹوں نے ساعتوں کا چولا پہنااور دن پر لگا کر اڑنے لگے۔مہینا، ہفتے ہی میں گزر گیا تھا۔امی ،ابو اور پھوپھو کی شفقتیں سمیٹنا،روما و پلوشے کی چاہتیں وصول کرنا،عبداللہ و عدیل پرمحبتیں نچھاور کرنے کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں تھا۔اویس سے بھی دو تین سرسری ملاقاتیں ہی ہو سکی تھیں ۔استاد عمر دراز سے ملاقات کرنے کی توفیق بھی نہ ہوئی۔بس انھیں گھنٹی کر کے گپ شپ کر لی تھی۔جینی سے بھی بات ہوئی تھی،پال کلفٹن نے بھی چند چٹکلے سنائے تھے۔گلگارے سے ملنے کا وعدہ مسلسل التواءکا شکا ر جارہا تھا۔اس کے اصرار کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہیں تھا تبھی تو اسے گھنٹی بھی نہیں کر سکا تھا۔دو دن چھٹی رہتی تھی جب اس نے خود کال کر لی۔
”چھٹی پر کب آئے؟“رسمی کلمات کی ادائی کے بعد تفتیش شروع ہوئی۔
”فوجی چھٹی تبھی آتا ہے جب چھٹی ملتی ہے۔“مزاحیہ انداز اپناکر میں نے جواب گول مول کرنا چاہا۔
”یقینا اس چھٹی پر وعدہ ضرر نبھاﺅ گے۔“ تکرار کیے بغیر وہ مطلب کی بات پر آئی۔
”گل........“میں نے بہانہ کرنے کو زبان ہلانا چاہی۔
اس نے قطع کلامی کی۔”بہانے سے پہلے یہ جان لو کہ اگلے ہفتے آپ کی گڑیا بہن رنڑا کی شادی ہے۔“
”کیا....؟“خوشگوار حیرت کے ساتھ مجھے اپنی چھٹی ختم ہونے کا دکھ بھی ہوا تھا۔
وہ کھل کھلائی۔”اب کیسے انکار کرو گے۔“
”گل!ایک بات کہوں ۔“انکار کرنے کو میں نے تمہیدی الفاظ کی تلاش میں دماغ کے گھوڑے دوڑائے۔
اس کی مترنم ہنسی نے مجھے دوبارہ محظوظ کیا۔”مجھے کچھ کہنے کو آپ کو اجازت لینے کی ضرورت کب سے پیش آنے لگی۔“
”پرسوں میری واپسی ہے۔“ساری تمہیدیں بھلا کر میں نے سچ اگلا۔
”کتنی چھٹی آئے تھے۔“اس کا عام سا لہجہ مجھے ڈرا گیا تھا۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”ایک ماہ۔“
”آپ نے گزشتہ چھٹی پر آنے کا وعدہ کیا تھااور دوسری چھٹی بھی گزار دی۔اسی وجہ سے مجھے گھنٹی بھی نہ کی تاکہ میرے اصرار کا سامنا نہ کرنا پڑے۔“اس کا دکھ بھرا لہجہ مجھے پشیمان کر گیا تھا۔
”گل،یہ بات نہیں ہے........“میرے پاس سوائے ندامت کے کوئی جواب موجود نہیں تھالیکن میری معذرت سنے بغیر اس نے قطع کلامی کی۔
”سوری،آیندہ آپ کو بہانے بازی یا انکارکی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔خدا حافظ۔“میرا جواب سنے بغیر اس نے رابطہ منقطع کر دیاتھا۔
میں ملتجی ہوا۔”گل بات سنو........“مگر وہ جا چکی تھی۔میں نے جوابی کال کی مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔
پلوشہ چائے کی پیالی اٹھائے اندر آئی۔وہ شاید نماز پڑھ کر آرہی تھی کہ سیاہ دوپٹے میں موہنا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔”کیا ہوا؟“میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ پریشان ہو گئی تھی۔
میرے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”گلگارے کی کال تھی،رنڑا کی شادی میں شرکت کی دعوت دے رہی تھی۔میرے انکار پر سخت خفا ہو کر رابطہ منقطع کر دیا۔“
پلوشہ ہنسی۔”آپ نے پچھلی چھٹی میں اس کے پاس جانے کا وعدہ کیا تھااور دوسری چھٹی بھی گزار دی۔“
چائے کی پیالی لیتے ہوئے میں رومانوی لہجے میں بولا۔”اپنی پلوشے سے فراغت نصیب ہو تو کچھ یاد آئے۔“
”ایک بات مانیں گے۔“وہ میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی تھی۔
”ٹالی کب ہے۔“بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر میں نے اسے مزید قریب کیا۔
وہ لجاجت سے بولی۔”چھوٹی بہن کی شادی کا کہہ کر چند دن چھٹی مانگ لیں ،اس بہانے اپنا وعدہ بھی ایفا ءکر لیں گے۔“
اتنا تو میں بھی جانتا تھا کہ اس کے لیے میرے وعدے کا پورا ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا،وہ بس چند دن مزید میرے قریب رہنا چاہتی تھی۔عموماََ فوجیوں کی بیویاں ایسی ہی خواہش رکھتی ہیں اور یونھی شوہر کو چھٹی لینے پر اکساتی رہتی ہیں ۔کیوں کہ بے چاریاں فوج کے ماحول سے ناواقف ہوتی ہیں ۔
میں دکھی دل سے بولا۔”میری واپسی پر ہی کسی دوسرے کی گھر آمد ہو پائے گی۔کوئی ایسا جس کی پلوشے اس کی جدائی کا ایک ایک دن کانٹوں پر لیٹ کر بتا رہی ہو گی۔جس کی نم آنکھیں اپنے راجو کی انگلیوں کی منتظر ہوں گی،جس کی سماعتیں اپنے محبوب کی سرگوشیاں سننے کو بے چین ہوں گی،جس کے بدن کا ہر عضو محبوب کے لمس کو بے کل ہو گا۔“
”مگر کسی کی حالت بھی ایسی نہیں ہو گی جو آپ کی پلوشے کی ہے۔“مجھے بانہو ں کے گھیرے میں لیتے ہوئے وہ روپڑی تھی۔
اس کی آنکھوں کا نمکین پانی چکھتے ہوئے میں نے سمجھایا۔” لوٹوں کا تو اگلی چھٹی ملے گی ناں ۔“
”ایک آپ کے نوکری چھوڑ نے سے فوج کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔آپ کی جگہ فوج کو کئی جوان مل جائیں گے۔“وہ پرانا راگ الاپنے لگی۔
میں ہنسا۔”اگر ہر ایک نے یہی سوچنا شروع کر دیاتو۔“
وہ چلائی۔” فلسفوں سے نہ بہلائیں ۔“
”اچھی طرح جانتی ہو میں نہیں مانوں گا پھر توانائیاں کیوں ضائع کرتی ہو۔“چائے کی خالی پیالی میز پر رکھ کر میں اس کے ریشمی بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”میں کچھ نہیں جانتی آپ ابھی گھنٹی کر کے ایک ہفتے کی چھٹی مانگیں ۔“
”پلوشے!پاگل نہیں بنتے....“
وہ مصر ہوئی۔”ہاں یا ناں ....“
”تمھیں ........“
”ہاں یا ناں ....“وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔
”بہت بری اور گندی ہو۔“درشتی سے کہہ کر میں تصور صاحب کا نمبر ملانے لگا۔اس لاڈلی کااتنی سخت بات ہضم کر ناآسان نہیں تھا،لیکن مجھے کال کرتے دیکھ کر احتجاج کیے بغیر مجھے چمٹی رہی۔
”شکر ہے اللہ پاک نے تمھیں بھی توفیق دے دی۔“سلام کا جواب دیتے ہی تصور صاحب نے پھبتی کسی۔
خفیف ہنسی کے ساتھ میں نے فلسفہ بگھارا۔”بڑوں کی یاد مسئلے یا مصائب کے بعد ہی آتی ہے۔“
وہ بولے۔”کمانڈنگ آفیسر کافی بے چینی سے تمھارے منتظر ہیں ۔“
میرے دل میں بدگمانی کی لہر اٹھی کہ شاید میرے مسئلے کا سن کر وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں ، لیکن فوراََ ہی سر جھٹک کر لچر خیال کو دور پھینکا کہ راﺅ تصور صاحب ایسے کمزور کردار کے بالکل بھی نہیں تھے۔
میں مطلب پر آیا۔”ان کے انتظار میں ہفتے بھر کا اضافہ کرنے کے بارے کیا خیال ہے۔“
وہ حیرانی سے مستفسر ہوئے۔”کیا ہوا؟“
میں صاف گوئی سے بولا۔”منہ بولی بہن کی شادی ہے۔شامل نہ ہوا تو رشتے میں دراڑیں پڑنے کا اندیشہ ہے۔“
” جوابی کال کرتا ہوں ۔“انھوں نے انتظار کا کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔
”کیا ہوا؟“کال ختم ہوتے ہی وہ بے تابی سے مستفسر ہوئی۔
”اپنے سینئر کو بتا دیا ہے وہ کمانڈنگ آفیسر سے معلوم کر کے تھوڑی دیر تک بتا دیں گے۔“
”میں صلوة الحاجت پڑھ لوں ۔“وہ سرعت سے مصلے کی طرف بڑھ گئی۔بلا شک و شبہ حاجت روا اور مشکل کشا وہ اکیلا مالک ہے۔اور پلوشہ اسی کی بارگاہ میں مانگنے بھاگی تھی۔میری چند دن کی چھٹی کی خاطر جھولی پھیلانے والی نہ جانے میری سلامتی کے لیے کتنی مناجات کرتی ہو گی۔
بہت سے ایسے مواقع جب میری سماعتیں موت کے قدموں کی چاپ واضح انداز میں سن رہی تھیں تب اس صورت حال سے میں اتنے عجیب انداز میں بچا جو کسی چاہنے والے کی مناجاتوں ہی کے مرہون منت ہو سکتاتھا۔یقینا ،امی جان،ابوجان،پھوپھوجان بھی میرے لیے دعاگورہتے تھے،لیکن اس ضمن میں میری شریک حیات بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں ۔
٭٭٭٭٭
عصر پڑھ کر میں عبداللہ کو گود میں بٹھائے ابوجان سے گپ شپ کر رہا تھا۔روما کھلے باورچی خانے میں ہانڈی بنا رہی تھی۔دیگچی میں چمچ گھماتے ہوئے نظریں گاہے گاہے میرے چہرے کا طواف کرنے لگتیں اور میرے دیکھنے پر دل فریب تبسم اس کے ہونٹوں پر مچلنے لگتا۔ پلوشہ ،عدیل کے ساتھ بیڈ منٹن کھیلتے ہوئے شور مچا رہی تھی۔بہن بھائی نے مجھے بھی دعوت دی تھی،لیکن میرے ساتھ کھیلتے ہوئے پلوشہ کی دغابازی عروج پر ہوتی تھی۔اور احتجاج کرنے پر ناراضی و خفگی کی دھمکیوں سے میری جان سولی پر لٹکائے رکھتی۔اس کا بہتر حل مجھے یہی سوجھاتھا کہ کھیلنے ہی سے احتراز برتوں ۔
موبائل فون کی گھنٹی بجنے پر میری نظریں سکرین پر پڑیں ،راﺅ تصور صاحب کا نام دیکھ کر میں نے دھڑکتے دل سے کال وصول کی۔
”بر خوردار!دس دن کافی ہیں ۔“تصور صاحب کی چہکتی آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔
میں ممنونیت سے بولا۔”بہت بہت شکریہ سر۔“
تصور صاحب ہنسے۔”کمانڈنگ آفیسر کسی ضروری کام سے بے صبری سے تمھارے منتظر ہیں ،بڑی مشکل سے آمادہ ہوئے ہیں ۔“
میں نے دہائی دی”میری قسمت میں تو راوی نے کافی عرصے سے وزیرستان گردی لکھی ہوئی ہے۔“
انھوں نے پھبتی کسی۔”بے شرم اپنے سسرال جانے پر خفا ہو۔“
میں مَسمُسے لہجے میں بولا۔”اس سوال کا جواب اثبات میں دینے کی اگر بھنک بھی پلوشے کو پڑ گئی تواضافی دس دن تو اسے مناتے ہی گزریں گے۔اس لیے یہ کہنا ہی پڑے گا کہ میں وہاں بہت خوش ہوں ۔ٹھنڈ کا کیا ہے کہ وہ تودسمبر جنوری میں تلہ گنگ میں بھی پڑتی ہے،پہاڑوں کا کیا ہے کہ کشمیر جنت نظیر میں یہاں سے بھی زیادہ ہیں ۔باقی رہادہشت گردوں کامسئلہ تو وہ ہر جگہ موجود ہیں ۔ “
انھوں نے قہقہ لگایا۔”یار اب تک بیوی سے ڈرتے ہو۔“
”سر جی! اب منہ نہ کھلوائیں ،جیسے کہ میں جانتا ہی نہیں زندگی کے بہترین تیس سال آپ نے فوج میں کیوں گزار دیے۔“
وہ شاکی ہوئے۔”دھت تیرے کی بے شرم،کیا تیس سالوں سے میں بیوی کے ڈر سے فوج کی نوکری کر رہا ہوں ۔“
میں بے تکلفی سے بولا۔”میرے نہ کہنے سے حقیقت نہیں بدلے گی سر! ورنہ آپ کے لیے جھوٹ بولنے کا گناہ سر لے لیتا۔“
وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولے۔”اگر چھٹی کرا سکتا ہوں تو ایک دن پہلے بلوانے کا اختیار بھی رکھتا ہوں ۔“
میں گھبرا کر بولا۔”مذاق کر رہا تھا سر!“
”پتّر!اگر میں نے مذاق کیا توپلوشہ بی بی یہ چھٹی تو کیا آنے والی کئی چھٹیوں تک تمھارا تھوبڑا نہیں دیکھنا چاہے گی۔“
میں دعوے سے بولا۔”پلوشہ مجھ سے خفا نہیں ہو سکتی۔“
انھوں نے معنی خیز لہجے میں پوچھا۔” زرمینہ کے ساتھ جو رنگ رلیاں مناتے رہے ہواس پر موبائل فون اور نقد رقم لٹاتے رہے ہواس کی بابت معلوم ہونے پر بھی ....“
میں نے دانت پیسے۔”سردار خان کی گِچی(گردن)تو میں ضرور مروڑوں گا۔“
تصور صاحب کا قہقہ بلند ہوا۔”برخوردار!اب تک تو میں نے کشمالہ کا ذکر نہیں کیا،ایک کے ذکر ہی پر تمھاری چیں بول گئی ہے۔“
میں شاکی ہوا۔”آپ نے سردار خان جیسے میرے مخالف کی بات پر یقین کر لیا۔“
وہ سنجیدہ ہوئے۔”سردار خان نے جو کچھ بتایا ہے اس بارے تو تمھاری کلاس ملنے پر لوں گا.... غضب خدا کا رینج ماسٹر کی دو گولیوں کی اہمیت جانتے ہو۔“
میں نے دہائی دی۔”جو پچیس ہدف پر ماری ہیں اس کا ذکر سردار خان نے نہیں کیا۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولے۔”بہت کمال کیا ہے ناں ۔“
”سر !دونوں گولیاں میں نے جان بوجھ کر فائر کی تھیں ،حالات ہی ایسے تھے کہ مجھے مجبوراََ بغیر ہدف تاڑے نشانہ سادھنا پڑا۔“
وہ تکرار ختم کرتے ہوئے بولے۔”ملنے پر بات ہو گی جناب ،فی الحال چھٹی کے مزے لو۔“
”اسلام علیکم سر!“میں نے الوداعی سلام کہااور انھوں نے رابطہ منقطع کر دیا۔
بے حیا پٹھان نے جیسا کہا تھا ویسا ہی کر دکھایا تھا۔مجھے تصور صاحب سے بے عزت کرانے کو وہ اتنا بے صبر تھا کہ چھٹی ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر انھیں کال کر ڈالی تھی۔
”کیا رہا؟“باتوں کے شغل میں مجھے پلوشہ کی آمد کا پتا بھی نہیں چلا تھا جو میرے کانوں سے کان جوڑے بات چیت سننے کی کوشش کر رہی تھی۔یقینا گھنٹی آتے ہی وہ اس امید پر قریب آئی تھی کہ یونٹ سے کال ہوگی۔
میں ڈرا کہ کہیں اس نے زرمینہ اور کشمالہ کا نام نہ سن لیا ہوتبھی حفظِ ماتقدم کے طور پر بولا۔ ”سردار خان نے استاد محترم کو میری جھوٹی شکایتیں لگائی ہیں اسی کے متعلق بات کر رہا تھا۔“
”چھٹی کا کیا ہوا؟“اسے جھوٹی، سچی شکایتوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔
”دس دن بڑھ گئی ہے۔“
”سچ۔“خوشی سے کھلتے ہوئے وہ مجھے لپٹ رہی تھی کہ ابوجان پر نظر پڑی۔مجھے لپٹنے والی بانہیں ایک دم عبداللہ کو گرفت لینے کو بڑھ گئیں ۔حیاکی لالی نے اس کے چہرے کو سرخ گلاب کر دیا تھا۔
٭٭٭٭٭
رنڑا کی شادی میں شرکت کا موقع مجھے آسانی سے مل گیا تھا۔رات کو میں نے چند بار گل کا نمبر ملایا مگر اس نے شایدموبائل فون کو پکا ہی بند کر دیا تھا۔سخت ناراض لگ رہی تھی۔لیکن یقین تھا میری آمد پر اس کی ناراضی ختم ہونے میں دیر نہ لگتی۔دوسرے دن میں نے روما اور پلوشے کے ساتھ جا کر شمریزچچا اور اس کے بچوں کے لیے تحائف خریدے۔اسی رات کو ہم جانے کو تیار تھے۔ میں نے روما کوآنے کی دعوت دی مگر عبداللہ کی وجہ سے اس نے انکار میں سر ہلا دیا تھا۔امی جان بھی اپنے بھائی اور اس کے بچوں کو ملنا چاہتی تھیں ۔اور ماں کی وجہ سے عدیل بھی مچل اٹھاتھا۔پلوشہ کے اصرار پر ہم اپنی کارہی میں روانہ ہوئے تھے۔ڈرائیونگ سیٹ بھی اسی نے سنبھالی تھی۔ماں جی اور عدیل تو جلد ہی سو گئے مگر موصوفہ نے مجھے ایک منٹ بھی سونے کی اجازت نہ دی۔
صبح کا ناشتا ہم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جا کر کیا۔آگے ڈرائیونگ سیٹ مجھے سنبھالنا پڑی ،وہ سیٹ سے ٹیک لگا کراطمینان سے سو گئی تھی۔
گرداوی چیک پوسٹ تک سڑک ہموار ہے ،اس کے بعدپہاڑیاں شروع ہوجاتی ہیں ۔وانہ پہنچ کر ہم انگوراڈے کی سڑک پر مڑ گئے۔ دن کے گیارہ بجے ہم انگور اڈے پہنچ گئے تھے۔عدیل اور امی جان کوماموں کے گھر چھوڑ کر ہم کمانڈر نصراللہ خوجل خیل کو ملنے چل دیے۔کافی دیر گپ شپ کی ،پرانے دوستوں اور واقف کاروں کا ذکر ہوا۔میری کلاشن کوف اب تک ان کے پاس محفوظ پڑی تھی۔حفظ ماتقدم کے طور پر میں نے لے لی کہ آگے اس کی ضرورت پڑ سکتی تھی۔
وہ رات ہم نے پلوشہ کے ماموں کے ہاں گزاری تھی۔اگلے دن صبح سویرے روانہ ہوئے۔ انگور اڈے چیک پوسٹ پر اپنا سروس کارڈ دکھا کر ہمیں آسانی سے آگے جانے کی اجازت مل گئی تھی۔راستہ مجھے معلوم تھا۔خواگااوبو تک سڑک یا گاڑی کا رستہ موجود نہیں تھا مجبوراََ ہمیں کار پلوشہ کے ماموں کے گھر چھوڑنا پڑی تھی۔
پلوشہ گلاک نائنٹین لانا نہیں بھولی تھی۔چیک پوسٹ سے تھوڑا سا آگے آتے ہی اس نے برقع اتار دیا تھا۔
”یہ مجھے دے دو۔“اس نے بیگ لینے کو ہاتھ بڑھائے۔
میں ہنسا۔”کیا یہ ممکن ہے۔“
وہ چاہت سے بولی۔”راجو!مجھے اتنا نازک بھی نہ بنائیں ۔“
”میرے لیے توپھول سے نازک،کلی سے کومل اورکونپل سے ملائم ہے میری پلوشے۔“
وہ لاڈ سے بولی۔”پٹائی کرتے ہوئے تو یہ بھول جاتا ہے۔“
میں وارفتگی سے بولا۔”ہاتھ نہ ٹوٹ جائیں جو تمھاری پٹائی کروں ۔“
”بھول گیاہے ،کتنی پٹائی کی تھی۔“اس نے منہ بسورتے ہوئے مطعون کیا۔اور یہ طعنہ وہ پہلی بار نہیں دے رہی تھی۔ہر ایسے موقع پر یاد دہانی کرانا وہ فرض خیال کرتی تھی۔
میں مسمسے لہجے میں بولا۔”شادی کے بعد تو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔“
وہ ناز سے بولی۔”کوشش تو کرتے۔“
”اتنی جرا¿ت کہاں ۔“
”رنڑا لوگوں کو اپنی آمد سے آگاہ کر دیا ہے۔“اس نے موضوع تبدیل کیا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”فون بند جا رہا ہے۔“
وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”کافی لاڈلی لگتی ہے۔“
میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”اس کا گلہ بجا ہے۔میں وعدہ کر کے بھی نہ جا سکا۔ سچ میں چھٹی آﺅں تو تمھارے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔“
اس نے مسکراتے ہوئے میرے پیٹ میں انگلی چبھوئی۔”جھوٹے،میں نے تو آپ کے ساتھ ہی آنا تھا۔“
میں نے بات بنائی۔”جب تمھارے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے تو وعدہ کیسے یاد رہتا۔“
میرا بازو کھینچتے ہوئے وہ سامنے آئی،سر میری چھاتی پر ٹیکتے ہوئے گلو گیر ہوئی۔”راجو !باربار اقرار کرنے کی ضرورت نہیں ہے،میں جانتی ہوں آپ کے لیے کیاہوں ۔“
میں نے چھیڑا۔”بِھی±تری!خود ہی تو پوچھتی رہتی ہو ،بتاﺅ کتنی پیاری ہوں ،کیسی لگتی ہوں ،کتنا یاد آتی ہوں ۔اور اب اقرار کی ضرورت نہیں ۔“
ہونٹوں پر خفیف ہنسی لیے اس نے علیحدہ ہوکر آگے قدم بڑھائے۔”رنڑا کی شادی کہاں ہو رہی ہے؟“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”پتا نہیں ۔“
وہ کرید کرید کر چچا شمریز کے کنبے کے متعلق تفصیل پوچھتی رہی۔گلگارے کے بارے میں اسے پہلے بھی تفصیل بتا چکا تھا،اب دوبارہ سب کچھ دہرانے لگا۔دوپہر کو ایک چشمے کے کنارے رک کر کھانا کھایااور پھر چل پڑے۔رات ہم نے ایک غار میں گزاری۔تلہ گنگ کی گرمی سے جھلسے اجسام کو وزیرستان کی سردی کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی تھی۔لحاف، کمبل وغیرہ تو تھا نہیں سردی سے بچنے کو آگ جلانا پڑی۔پلوشے تو آرام سے میری گود میں سر رکھ کر برقع اوڑھ کر لیٹ گئی تھی۔میں غار کی دیوار سے ٹیک لگائے اونگھتا رہا۔اگلے روز طلوع آفتاب سے پہلے ہی ہم روانہ ہوئے،یہ وہی راستہ جس پر کبھی برف باری اور سرد ہواﺅ ں سے لڑتا ہوا میں گلگارے کے دروازے پر جا گرا تھا۔آج موسم صاف تھا۔سہ پہر ڈھلے ہم آخری ڈھلان پر چڑھ رہے تھے۔ڈھلان کے خاتمے پر چچا شمریز کے گھر کا دروازہ تھا۔
قریب جا کر میں نے دستک دی۔دروازہ ثمر خان نے کھولا تھا۔
”لالاجان!“مجھے دیکھتے ہی وہ چیخ کر لپٹ گیا تھا۔
”پلوشہ باجی کیا حال ہے۔“مجھ سے علیحدہ ہو کر اس نے پلوشہ کے سامنے سر جھکایا۔
”ارے ،تم مجھے جانتے ہو۔“وہ حیران رہ گئی تھی۔
وہ فخریہ لہجے میں بولا۔”اگر آپ لالاجان کے ساتھ نہ آئی ہوتیں تب بھی پہچان لیتا۔“
ہم اندر داخل ہوئے،رنڑا باورچی خانے کے دروازے پر کھڑی تھی،شاید ثمر کے چلانے کی آواز نے اسے باہر جھانکنے پر مجبور کیا تھا۔مجھے دیکھتے ہی وہ” لالاجان!“کہتے ہوئے بھاگی،لیکن قریب آتے ہی جھجک کر رکی اورمیرا ہاتھ تھامتے ہوئے سرجھکا دیا۔پہلے و ہ لپٹ جایا کرتی تھی۔لیکن تب اس کا بچپنا تھا۔اور اب وہ بھرپور جوان نظر آرہی تھی۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے میں نے شفقت سے پوچھا۔”کیسی ہے میری بہادر بہن۔“
”بالکل ٹھیک۔“ میرا ہاتھ چھوڑ کروہ پلوشے سے لپٹ کر بولی۔”شکر ہے لالا نے آپ کی زیارت کروا دی۔ ورنہ اب تو ہمیں لگنے لگا تھا کہ پلوشہ باجی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔“
پلوشہ دھیرے سے مسکرا دی تھی۔بہن بھائی کی وارفتگی اسے حیران کن لگی تھی۔پہلی بار ہی وہ اس چاہت سے مل رہے تھے جیسے پلوشہ ان کی برسوں کی شناسا ہو۔
میں نے پوچھا۔”چچا کہاں ہیں ؟“
رنڑا بولی۔”باجی کو چھوڑنے گئے ہیں ،آتے ہی ہوں گے۔“
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”میری گڑیا اتنی بڑی تو نہیں ہوئی کہ چچا شمریز کو شادی کی جلدی پڑ گئی۔“
سر جھکاتے ہوئے وہ حیاآلود لہجے میں بولی۔”باجی تو کہہ رہی تھیں آپ نہیں آئیں گے۔“
”ایسا بھلا ہو سکتا ہے۔“
”آنے کی اطلاع کیوں نہیں دی۔“ہمیں اندر چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے گلہ کیا۔
چارپائی پر نشست سنبھالتے ہوئے میں نے کہا۔”دوسرا دن ہے گل کا فون بند جا رہا ہے۔“
رنڑا ہنسی۔”آپ کا انکار سن کر انھیں غصہ آگیا تھا۔ویسے آپ باباجان کے نمبر پر کال کر لیتے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”میرے پاس چچا جان کا نمبر نہیں تھا۔“
چچا شمیریز اندر داخل ہوئے۔ہمیں دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے تھے۔مجھ سے بھرپور معانقہ کر کے انھوں نے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔”یقینا مجھے پلوشہ بیٹی کو دیکھنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔“
ان کا خلوص دیکھتے ہوئے پلوشہ محجوب ہو گئی تھی۔بغیر جان پہچان کے اتنی پذیرائی ملے تو آدمی کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔
چچا شمریز نے میرے ساتھ نشست سنبھالتے ہوئے بیٹے کو کہا۔”ثمر خان!اپنی باجی کو بلا لاﺅ۔“
”صبح آجائے گی نا۔“میں نے ہلکا سا احتجاج کیا۔
چچا شمریز ہنسے۔”دوسرا دن ہے اس کی آنکھیں ماتھے پر ٹنگی ہیں ،بروقت اطلاع نہ دی تو قطع تعلق کرنے پر تل جائے گی۔“
”وجہ؟“میں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔
وہ ہنسے۔”آپ نے غالباََ آنے سے انکار کر دیا تھا۔یہی برداشت نہیں ہو رہا محترمہ سے۔“
ثمر، باپ کا حکم سن کر کمرے سے نکل گیا تھا۔ہم گپ شپ کرنے لگے۔رنڑا کی شادی گلگارے کے چھوٹے دیور شمس السلام سے طے پائی تھی۔
گپ شپ کے دوران ہی شام کا ملگجا اندھیرا چھا گیا تھا۔ہم نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ نماز سے بہ مشکل فارغ ہوئے تھے کہ ثمر خان لوٹ آیا۔گل اس کے ساتھ نہیں آئی تھی۔
وہ باپ کو بتانے لگا۔”باجی کل آئیں گی۔“شاید اب تک خفا تھی۔
رنڑا کھانا لے آئی۔کھانے کے بعد قہوہ پیاگیا اور پھر عشاءتک وہیں بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ رنڑا نے پلوشہ سے جانے کتنے سوال پوچھے تھے۔پلوشہ مدھر تبسم ہونٹوں پر بکھیرے جواب دیتی رہی۔رنڑا اس سے کافی متاثرنظر آرہی تھی۔
میں عشاءکی نماز پڑھ کر دعا مانگ رہا تھا جب داخلی دروازے پر دستک ہوئی۔ ثمر خان دروازہ کھولنے چل پڑا۔اس کی واپسی روشن چہرے اور نیلی آنکھوں والی گلگارے کے ہمراہ ہوئی تھی۔اسے شوہر پہنچا گیا تھا۔ اپنی بیٹی رنڑا کے حوالے کر کے وہ بے تابی سے پلوشہ کو لپٹ گئی تھی۔
میں بھی دعا مانگ کر ان کے قریب پہنچا۔”اب کیوں آئے ہیں ؟“ نیلی آنکھوں میں گہری خفگی وبرہمی نظر آرہی تھی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 10
ریاض عاقب کوہلر
میں بھی دعا مانگ کر ان کے قریب پہنچا۔”اب کیوں آئے ہیں ؟“ نیلی آنکھوں میں گہری خفگی وبرہمی نظر آرہی تھی۔
میں نے اسے چڑایا۔”تمھارے لیے نہیں آیا،میری گڑیا بہن کی شادی ہے۔“
”آپ نے تو کہا تھا چھٹی ختم ہو گئی ہے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”رنڑا کی شادی کو اورچھٹی مانگی ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”اور میرے اصرار کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔“
میری نظر پلوشے کی جانب اٹھی وہ مجھے گھور رہی تھی۔یقیناگلگارے کے گلے شکوے اسے پسند نہیں آئے تھے۔گلا کھنکارتے ہوئے میں نے موضوع تبدیل کیا۔”ننھی پلوشہ کدھر ہے؟“گلگارے نے بیٹی کا نام پلوشہ رکھا تھا۔
”یہ لیں لالاجان!“رنڑا نے بچی میرے جانب بڑھائی۔
میں اس کے گال چومتا ہوا بولا۔”ارے واہ،یہ تو میری پلوشہ سے بھی زیادہ پیاری اور خوب صوت ہے۔“
گلگارے طنزیہ لہجے میں بولی۔”یہ کیا،آپ کی پلوشہ سے اس کی ماں بھی خوب صورت نہیں ہے۔“
میں گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔”آپ گپ شپ کرو،میں شمریز چچا سے چند ضروری باتیں کر لوں ۔“ پلوشے کی تیز نظریں مجھے ہراساں کر رہی تھیں ۔
گلگارے برہمی سے بولی۔”تھوڑی دیر میرے پاس بھی بیٹھ جائیں اتنی رات کو جھک مارنے نہیں آئی۔“
” صبح سے کونین کی گولیاں چبارہی ہو۔آتو گیا ہوں ،پھر ناراض ہونے کا مطلب۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”اپنی بہن کی شادی پر آئے ہیں میرے لیے نہیں ۔“
میں چڑ کر بولا۔”اچھا اگلی چھٹی پر تمھارے لیے آجاﺅں گا،اب خوش۔“
”احسان نہیں کریں گے۔“وہ منہ بناتے ہوئے پلوشہ کی طرف متوجہ ہوئی۔”اور میری پیاری بہن کو لانا نہ بھولنا۔“
پلوشہ کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں کھلے مگر یہ ایک ناکام کوشش تھی۔
گل شاید توجہ نہیں دے پائی تھی یا تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی تھی۔وہ پلوشے کا ہاتھ تھام کر سہلانے لگی۔” مجھے آپ کو ملنے کا بڑا اشتیاق تھا۔اور راجو اتنے کٹھور ہیں کہ ذرا بھی پروا نہیں ہے۔“
پلوشہ ناگواری چھپاتے ہوئے بولی۔”آ تو گئی ہوں ۔“
وہ شوخی سے بولی۔”آپ نہیں جانتیں کتنے عرصے سے راجو ترسارہے ہیں ۔پہلی ملاقات میں درخواست کی تھی۔نجانے ڈرتے تھے کہ ان کی پلوشہ کو چھین لوں گی۔“
”گل! میں چچا شمریز سے تھوڑی گپ شپ کر لوں ۔“لجاجت سے کہتے ہوئے میں نے ایک بار پھر بھاگنے کی کوشش کی۔
وہ بادل نخواستہ بولی۔”ٹھیک ہے جائیں ۔“
میں نے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔اس نے آوازدی۔”اورہاں ،میں نے بہت سارا شہد جمع کر رکھاہے،وعدہ یاد ہے ناں ۔“آخری ملاقات میں میں نے کہا تھا:”اگر پلوشہ کی فکر نہ ہوتی توکم از کم شہد ختم ہونے تک میں ضرور ٹھہرتا۔“یقینا اس نے کچھ نہیں بھلایاتھا۔
”جو بچ گیا ساتھ لے جائیں گے۔“اطمینان بھرے لہجے میں کہتے ہوئے میں دوسرے کمرے میں گھس گیا۔
گلگارے جانے ان جانے میں اتنی بے تکلفی سے پیش آرہی تھی جو میری بیوی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں ہو سکتاتھا۔مجھے ذرا بھی شبہ ہوتا کہ وہ اتنی اپنائیت کا اظہار کرے گی تو شاید پلوشہ کو ساتھ ہی نہ لاتا۔چچا شمریز نماز پڑھ کر لیٹ گئے تھے۔میں ان سے گپ شپ کرنے لگا۔دوران گفتگو پوچھا۔”گل کے بعد رنڑا بھی اپنے گھر کی ہو گئی تو باورچی خانہ کون سنبھالے گا؟“
وہ معنی خیز لہجے میں مسکرائے۔”رنڑا کی رخصتی کے بعد شایدہمت کر لوں ۔“
میں خوش دلی سے بولا۔”ہمت سے مراد اگردوسری شادی ہے تو یہ قدم آپ کو بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔“
وہ صاف گوئی سے بولے۔”بیٹیوں کی وجہ سے حوصلہ نہ کر سکا۔“
”بیوی کی موجودی میں شریعت دوسری شادی کی اجازت دیتی ہے،لیکن بیوی نہ ہونے کی صورت یہ اجازت ضرورت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔“
وہ مسکرائے۔”دیر آید درست آید۔“
میں بھی ہنس پڑا تھا۔
رنڑا نے آکر بتایا۔”لالاجان، پلوشہ باجی اور آپ کے لیے علیحدہ کمرہ تیار کر دیاہے۔“ثمر خان بھی اندر آکر اپنی چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔رنڑا مجھے اطلاع دے کر پلوشہ اور گلگارے کی طرف چل دی۔
چچا شمریز نے مشورہ دیا۔” تھکے ہوں گے،آپ کوآرام کرنا چاہیے۔“
”صبح گپ شپ کریں گے۔“میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ گیاکہ گزشتہ شب بھی آرام نہیں کر پایا تھا۔ اور اس وقت اچھی خاصی تھکن محسوس ہو رہی تھی۔
ثمر خان مجھے کمرہ دکھانے آیا اورواپس لوٹ گیا۔پلوشہ اب تک نہیں آئی تھی۔میں چوڑی مسہری پر لیٹ کر پلوشہ کا انتظار کرنے لگا کہ اس نے آتے ساتھ مجھے جگا دینا تھا۔
زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔جلد ہی دروازے پر قدموں کی چاپ ابھری۔کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے تیوریاں چڑھا لی تھیں ۔”آپ کب سدھریں گے۔“قریب آتے ہی وہ پھٹ پڑی۔
”کک....کیا ہوا۔“میں ہکلا گیا تھا۔
وہ بگڑ کر بولی۔”معصوم نہ بنیں ۔“
میں تجاہل عارفانہ سے بولا۔”کچھ پتہ تو چلے یار،خواہ مخواہ کیوں ڈرا رہی ہو۔“
” مجبور نہ کریں کہ آپ کو قتل کر کے خودکشی کرنا پڑے۔“
میں ہنسا۔”پھوپھو جان کو منع بھی کرتا ہوں کہ سالن میں زیادہ گرم مسالہ نہ ڈالا کریں ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”گلگارے بی بی کیوں اتنی بے تکلف ہو رہی تھی۔“
” یار ،سب کچھ بتا تو دیا تھا۔“میں نے دہائی دی۔
”مگر یہ ذکر نہیں کیاتھا کہ وہ آپ کوان نظروں سے دیکھتی ہے، جس کی اجازت میں کسی کو نہیں دے سکتی۔“
میں نے دلیل دی۔”روما بھی تو دیکھتی ہے۔“
”وہ الگ معاملہ ہے، ان کے خلوص کی وجہ سے مجھے چپ سادھنا پڑی۔باقی کسی ایک کو حصہ دار بنانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے اپنے راجو کو چوک میں رکھ دیا ہے اور جس کی مرضی آئے حق جتانا شروع کردے۔“
”گلگارے کو بھی تم سے پیار ہے ،یہاں تک کہ بیٹی کانام تمھارے نام پر رکھا ہے۔“
وہ ترشی سے بولی۔”تو جو مجھے چاہے گی اسے راجو سے محبت کرنے کی اجازت دے دوں گی۔“
میں مدافعانہ انداز میں بولا۔”اس نے میری جان بچائی ہے۔“
وہ بے پروائی سے بولی۔”احسان مند ہوں اور ساری زندگی رہوں گی۔موقع آیا تو جان دے کر بدلہ چکانے کی کوشش کروں گی، مگر راجو میں شرکت گوارا نہیں ہے۔“
میں نے صفائی دی۔”وہ شادی شدہ ہے یار!“
”تو شوہر کی وفادار رہے۔“
”پلوشے !یاد رکھنا وہ اعلیٰ کردار کی مالک ہے۔“
وہ ترکی بہ ترکی بولی۔” اس کے کردار پر شک نہیں ، انداز سے چڑ ہے۔“
میں بے بسی سے بولا۔”تم ناقابلِ علاج ہو۔“
”تو ....“ اس نے طنزیہ نظروں سے گھورا۔”گولی مار دیں نشانہ آپ کایوں بھی خطا نہیں جاتا۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”پلوشے پٹو گی۔“
”ہاتھ تولگا ﺅ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی جاﺅں گی۔“
”یار! مجھے نیند آرہی ہے۔“میں نے تنگ آکر آنکھیں بند کر لی تھیں ۔
”پہلے کبھی خفا ہو کر سونے کی اجازت دی ہے۔“اس کے ہونٹوں پر دل آویز تبسم ابھرا اور وہ میرے چہرے پر جھک گئی۔
اس کی پیش قدمی کا جواب دیتے ہوئے میں نے وارفتگی سے پوچھا۔”کیاکوئی تمھاری جگہ لے سکتا ہے؟“
اس نے منہ بنایا۔”خوف جگہ چھننے کا نہیں ہے، آپ کی بے راہ روی سے تنگ ہوں ۔“
میں بے بسی سے مسکرا دیا تھا۔مجھے سیدھے اور کرارے جواب دینا اسے اچھی طرح آتا تھا۔بیوی بن کر بھی وہ محبوبہ کے درجے پر فائز تھی۔اور ایسی بیوی کو جو محبوبہ بھی ہو، شوہر کو تگنی کا ناچ نچانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔
” بس یہ افسوس ہے کہ تم مجھے اتنی پیاری کیوں ہو۔“
”یہ فقط جھوٹا دعوا ہے۔“وہ کروٹ لے کر نزدیک سمٹی۔ مجھے گردن پر حلاوت آمیز اور گرم لمس محسوس ہوا جو اعلان کر رہا تھا کہ اسے میری بات پر سو فیصد یقین تھا۔بس غصے میں ہونے کی وجہ سے اقرار نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
”جانتی ہو تمھارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟“
وہ ناز سے بولی۔”یہی کہ میرے بن رہنا مشکل لگتا ہے۔“
”نہیں بلکہ تم چوہوں سے بھی نہیں ڈرتی ہو۔“
اس نے وارفتگی سے اعتراف کیا۔”آپ کی جدائی سے ڈرتی ہوں ۔“
میں بے ساختہ بولا۔”میں بھی۔“
٭٭٭٭٭
اگلے دن شادی کے ہنگامے شروع ہو گئے تھے۔شادی ہو اور ہلاگلا نہ ہوایسا وزیرستان میں نہیں ہوسکتا۔گو وہ علاقہ افغانستان کی حدود میں داخل تھا،لیکن وہاں رواج وزیرستان والے ہی تھے۔پلوشے شور و غل اور ہلہلے کی ویسے ہی متوالی تھی۔دن بھر رقص و سرودمیں مشغول رہتی۔گھر میں چونکہ غیر عورتوں کا بھی اکٹھ ہوتااس لیے ناشتے کے بعد میں بیٹھک میں گھس جاتا۔آخری دن عصر کے وقت دلھن لے جانے والوں کے لیے لکڑی کا چند انچ لمبا کھونٹا قریباََ تین ساڑھے تین سو میٹرکے فاصلے پر گاڑا گیا۔رواج کے مطابق جب تک دولھے والے کھونٹے کو گرانہ دیتے دلھن کو نہیں لے جا سکتے تھے۔چاہے اس کے لیے وہ پوری رات ہی کوشش کرتے رہتے۔
دولھا اور اس کے ساتھیوں کوفائر کی دعوت دی گئی۔چونکہ یہ تقریب چچا شمریز کی حویلی سے متصل میدان ہی میں برپا تھی اس وجہ سے عورتیں چھت پر چڑھ کرتماشا دیکھ رہی تھیں ۔میرے اندازے میں ہدف کا فاصلہ کلاشن کوف کی کارگر رینج سے تھوڑا زیادہ تھا۔دولھا اور اس کے دوست باری باری نشانہ آزما رہے تھے۔مگر کامیابی کسی کے نصیب میں نہیں تھی۔عموماََ تو دلھن والے کھونٹے کو معمولی سا زمین میں دبا تے ہیں کہ ذرا سا گولی قریب کیا لگی اور کھونٹا گر گیا،اسی طرح وہ زیادہ سے زیاہ سو ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر کھونٹا گاڑتے ہیں تاکہ جلدی ہی جان چھوٹ جائے۔مگر وہ کھونٹا کچھ زیادہ ہی گہرائی میں دبایا گیا تھا کہ جب تک گولیاں مار کر اسے توڑا نہ جاتا زمین سے نہیں نکل سکتا تھا۔فاصلہ بھی زیادہ تھا۔مجھے یہ کسی کی شرارت لگ رہی تھی۔یا تو اس کے پیچھے پلوشہ کا ہاتھ تھا یا گل نے ایسا کیا تھا۔
دولھے کے زیادہ تر دوست قسمت آزمائی کر چکے تھے۔لیکن کھونٹا ان کا منہ چڑاتا ہوا قائم دائم تھا۔کئی میگزینیں خالی کر کے بھی انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔اب تودولھے کے دوست نشانہ سادھنے سے کترانے لگے تھے۔
میں چچا شمریز کے پہلو میں بیٹھا دلچسپی سے ان کی کوششو ں کو دیکھ رہا تھا۔وہاں موجود لوگوں میں فقط چچا شمریز ہی مجھے جانتا تھا،باقی لوگوں کے لیے میں اجنبی تھا۔ اورمیرا تعارف کرانے یا اپنی نشانہ بازی سے انھیں متاثرکرنے کا کوئی شوق یاارادہ نہیں تھا۔اسی وقت ثمرخان قریب آکر میرے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
”لالاجان !گل باجی کہہ رہی ہیں کہ کھونٹا کافی گہرائی تک ٹھونکا گیا ہے۔اس لیے ٹوٹ سکتا ہے گر نہیں سکتا۔ “
میں مسکرایا۔”تو؟“
ثمر خان بولا۔”کہہ رہی ہیں آپ کو فائر کرنا ہوگا۔“
میں نے مسکرا کر پوچھا۔”کہاں ہے وہ؟“
ثمر خان نے حویلی کی چھت کی طرف اشارہ کیا۔”وہاں کھڑی ہیں ،پلوشہ باجی بھی ان کے ہمراہ ہیں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”پہلے سے شک تھا یہ کچھ ایسا ہی کریں گی۔“
ثمر خان نے مزید انکشاف کیا۔”گل باجی کہہ رہی ہیں تین گولیوں ہی میں کھونٹا گرانا ہوگا۔“
چچا شمریز نے بھی ہماری باتوں پر کان دھرے تھے۔ میری طرف جھک کر دبے لہجے میں بولے۔
”بیٹا وقت ضائع ہو رہا ہے۔مجھے پتا ہوتا پلوشہ بیٹی اور گل یہ شرارت کریں گی توانھیں کبھی کھونٹا لگانے نہ بھیجتا۔“
شمریز چچا کے درخواست نما حکم پر مجھے اٹھنا پڑا۔
تین ساڑھے تین سو میٹر کے فاصلہ پر نشانہ لگانا میرے لیے مذاق ہی تھا لیکن اس صورت میں جب میرے پاس سنائپر رائفل ہوتی۔ کلاشن کوف، یورشی رائفل(اسالٹ رائفل ) ہے اور صفر ہونے کے باوجوداس سے اتنی باریکی میں نشانہ نہیں سادھا جا سکتا۔قائین کی معلومات کو عرض کرتا چلوں کہ ہر ہتھیار کی گولی میں بارود کی مخصوص مقدار ہوتی ہے ،لیکن پھر بھی بارود جانچنے والے پیمانے کو وزن کی ایک بریکٹ بتائی جاتی ہے جیسے جی تھری کی ہر گولی میں 382گرین (گرین وزن کا پیمانہ ہے)سے لے کر 394گرین تک کا بارود معیاری تصور کیا جاتا ہے۔اور ایسایورشی رائفلوں میں ہوتا ہے۔ بارود کی مقدار کا ذرا سا فرق گولی کو ہدف سے اوپر نیچے کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس سنائپر رائفلوں میں ہر گولی کے اندر مقرر مقدار ہی میں بارود پڑتا ہے۔اس میں کمی بیشی کا احتمال نہیں ہوتا۔البتہ ایک ہی ہتھیار کے ایمونیشن کو جب مختلف کمپنیاں بناتی ہیں تو ہر کمپنی ایمونیشن میں اپنے حساب سے بارود ڈالتی ہے۔اور فائرر کی آسانی کو ہر کمپنی اپنے تیار کردہ ایمونیشن کے ساتھ فائرنگ ٹیبل بھی جاری کرتی ہے تاکہ فائرر ایمونیشن جانچنے کے جھنجٹ سے بچ جائے۔
میں یہ معلومات حاضرین کو نہیں سمجھا سکتا تھا۔اور نہ یہ ان کے مطلب کی بات تھی۔ان کے لیے فقط ایک ہی دلیل تھی کہ ”یہ گز اور یہ میدان۔“کھونٹاگر گیاتو واہ....واہ۔نشانہ خطا ہو گیا تواستہزائی نعرے۔
البتہ ایک بات میرے حق میں جاتی تھی کہ وہاں مجھے جاننے والا کوئی نہیں تھا کہ نام کو بٹّالگتا۔چچا شمریز کے کنبے یا پلوشے کو سمجھانا میرے لیے مشکل نہیں تھا۔البتہ گل نے دوسری خواتین کے سامنے کوئی لاف زنی (ڈینگیں مارنا)کی تھی تو یقینا اس کی سبکی ہوتی۔بہ ہرحال سر پر پڑی مصیبت کو گلے لگانا مجبوری بن جاتی ہے۔
فائر کرنے کی مخصوص جگہ پر جاکر میں ترچھا بیٹھ گیا۔حاضرین کا دبا دبا قہقہ ابھراکیوں کہ ہدف کی جانب میرا بایاں بازو آرہا تھا۔اگر فائرنگ پوزیشن کی بات کی جائے توایک فائرر بارہ مختلف حالتوں سے فائر کر سکتا ہے۔تفصیل بتانا تو باعث طوالت ہو گا البتہ یہ عرض کرتا جاﺅ ں کہ فائر کرنے کو سب سے بہترین لیٹی حالت ہوتی ہے۔اور سنائپر عموماََ اسی حالت میں فائر کرنا پسند کرتے ہیں ۔اس کے بعد آرام دہ اور پرسکون بیٹھی پوزیشن ہوتی ہے۔عام فائرر تو بیٹھی پوزیشن میں اپنا رخ ہدف کی جانب ہی رکھتے ہیں مگر سنائپرز کا انداز تھوڑا جدا ہوتا ہے۔
میں نے آرام دہ حالت میں بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کیے اور دونوں کہنیاں گھٹنوں پرٹیک دیں ، کلاشن کوف کا فرنٹ ہینڈ گارڈ بائیں کہنی پر رکھ کر میں نے بایاں ہاتھ ریئر سائیٹ کے پیچھے لاکر رائفل کو مضبوطی سے جکڑ لیا تھا۔دایاں ہاتھ پسٹل گرپ کے گرد لپیٹتے ہوئے میں نے شہادت والی انگلی ٹریگر پر رکھی،دایاں گال بائیں ہاتھ کے ساتھ رسیور کور پر ٹیک کر بائیں آنکھ بند کر دی۔دائیں آنکھ سے ریئر سائیٹ کے کٹاﺅ میں سے دیکھتے ہوئے میں نے فرنٹ سائیٹ کی ٹپ کا اوپری کنارہ کھونٹے کے پیندے سے ملایااور سانس روک کر لبلبی دبا دی۔کلاشن کوف کی گولی کھونٹے کاایک حصہ اڑا کر لے گئی تھی۔ حاضرین کا تحسین آمیز نعرہ بلند ہوا تھا۔میں نے شست تبدیل کیے بغیر دوبارہ نشانہ سادھا،اب ہدف کا حجم پہلے سے کم رہ گیا تھا۔ چند سیکنڈز کے وقفے سے میں نے دوبارہ لبلبی دبا دی۔کھونٹے کا زمین سے اوپر نظر آنے والا حصہ غائب ہو گیا تھا۔خشک لکڑی کے تین چار انچ چوڑے ٹکڑے کی کلاشن کوف کی گولی کے سامنے کوئی حیثیت نہیں تھی۔مجھ سے پہلے فائر کرنے والے اگر براہ راست کھونٹے کو نشانہ بنا لیتے توکامیاب ہو گئے ہوتے۔
گہرا سانس لیتے ہوئے میں نے میگزین اتاری،رائفل کاک کی، چیمبر سے گولی نکال کر میگزین میں بھری اور میگزین چڑھا کر سیفٹی لگا دی۔
سب سے پہلے دولھے صاحب نے مجھے چھاتی سے لگاتے ہوئے پیٹھ تھپتھپائی تھی۔اس کے بعد دولھے کے دوستوں نے باری باری معانقہ کر کے تعریفی جملے کہے تھے۔ملنے ملانے سے فارغ ہو کر میں چچا شمریز کے پہلو میں جا بیٹھا۔میری جانب جھکتے ہوئے وہ تحسین آمیز انداز میں بولے۔
”ان بے چاروں کو کیا پتا کہ جس نشانے بازی کو یہ کارنامہ گردان رہے ہیں وہ ایس ایس کے لیے معمولی بات ہے۔“
میں نے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔اس کے بعدڈھول و شہنائی کے ساتھ مردوں کا رقص شروع ہو گیا تھا۔مغرب کی اَذان سے تھوڑا پہلے عارضی طور پرہنگامہ سرد ہوا تھا۔اسی رات انھوں نے دلھن کو لے جانا تھا۔
نماز کے بعد کھانا کھایا گیا۔اس کا سارا خرچ اور بندوبست دولھے کے گھر والوں کی ذمہ داری تھی۔
کھانا میں نے ثمر خان اور چچا شمریز کے ساتھ بیٹھ کر کھایا تھا۔کھانے سے فارغ ہو کر ثمر خان نے انکشاف کیا۔”آج گل باجی اور پلوشہ باجی نے رقص کا مقابلہ کیااور گل باجی ہار گئیں ۔“
میں ہنسا۔” گل بے چاری کا کیا قصور،پلوشے سے پیشہ و رقاصہ بھی ہار جائے گی۔“
عشاءکے بعد پھر ہنگامہ شروع ہو گیا تھا۔کلاشن کوفوں کے دہانے کھل گئے تھے۔مسلسل ہوائی فائرنگ کر کے نہ جانے وہ کسی جذبے کا اظہار کر رہے تھے۔شادیوں میں سیکڑوں ،ہزاروں گولیاں ہوا میں اڑانا پٹھانوں ہی کا خاصہ ہے۔
گو میرا ہتھیار اور فائر سے رشتہ بہت پرانا ہے۔دوران تربیت جانے میں کتنی گولیاں پھونک چکا ہوں ،لیکن وہ فائر اس طرح بے ہنگم اور فضول نہیں ہوتا۔گولیوں کا یہ ضیاع راﺅ تصور صاحب دیکھ لیتے تویقینا انھیں دل کا دورہ پڑجاتا۔میرا تو سر درد کرنے لگا تھا۔میں بیٹھک میں آگیا۔اندر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔اسی وقت ثمر خان بھاگتا ہوا آیا۔
”لالاجان!پلوشہ باجی پھر ناچ رہی ہیں ۔“
میرے ہونٹوں پر تبسم نمودار ہوا، دل اپنی البیلی محبوبہ کی شوخیاں دیکھنے کا متقاضی ہوا۔اور میں ثمر خان کے ساتھ بیٹھک کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔میں شاید دروازے پر کھڑا رہتا مگر ثمر خان میرا ہاتھ پکڑ کھینچتے ہوئے بولا۔
”لالا!یہاں سے خاک نظر آئے گا،میرے ساتھ آئیں ۔“وہ مجھے بیٹھک سے ملحق کمرے میں لے گیا وہاں سے کمروں کے اندر ہی اندر سفر کرتے ہوئے ہم سیڑھی والے کمرے میں پہنچے اور چھت پر چڑھ گئے۔ اب پلوشہ کا تھرکتا ہوا وجود میری پیاسی نظروں کے سامنے تھا۔گھر میں میں نے اس کی کئی بار منت کی تھی مگر وہ میرے سامنے رقص کرتے ہوئے شرماتی تھی۔ا س مرتبہ چھٹی پر آکر اس کا ذرا سا مٹکنا دیکھنے کو ملا مگر مجھے دیکھ کر اسے رقص بھول گیا تھا۔اور بعد میں اس نے یہ کہتے ہوئے کھلا انکار کر دیا تھاکہ۔”بھول گئے خود ہی ناچنے سے منع کیا تھا۔“
چچا شمریز نے گھر کے صحن میں سورج کی روشنی سے براہ راست چارج ہونے والی دو بڑی بتاں لگائی تھیں جن کی وجہ سے اچھی خاصی روشنی پھیلی تھی۔اتنی کہ مجھے پلوشے کے سانچے میں ڈھلے بدن کے نشیب و فرازواضح نظر آرہے تھے۔اس کے گرد لڑکیوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا اور وہ تالیاں بجاتے ہوئے شور مچا رہی تھیں ۔ہمیں بیٹھے ہوئے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ گہری نیلی آنکھوں والی گل والہانہ انداز میں لہراتے ہوئے پلوشہ کا ساتھ دینے لگی۔مجھے پرائی لڑکی کو اس کی بے خبری میں دیکھنا اچھا نہیں لگا تھا۔
”چلتے ہیں ۔“میں نے ثمر خان کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
ثمر خان نے نفی میں سرہلاتے ہوئے انکشاف کیا۔”گل باجی جانتی ہیں آپ انھیں دیکھ رہے ہیں ۔“
”کیا؟“میں متعجب ہوا۔
وہ اطمینان سے بولا۔”انھوں نے ہی آپ کو یہاں لانے کا کہا تھا،کہ ان کے اور پلوشہ باجی کے درمیان ہار جیت کا فیصلہ آپ کریں گے۔“
”میری نظریں خوش بدن دوشیزہ کی جانب اٹھیں جس کا جسم خوب صورت انداز میں بل کھاتے ہوئے لہرا رہا تھا۔ثمر خان کے انکشاف نے مجھے حیران کے ساتھ پریشان بھی کر دیا تھا۔لیکن اس کے باوجود کہ گل خود مجھے اپنا رقص دکھانے کی خواہاں تھی میں اس نظارے سے لطف اندوز نہیں ہو پایا تھا۔
”چلو ثمر خان!اگر کسی نے ہمیں یہاں دیکھ لیا تو بات کا بتنگر بن جائے گا۔“ثمر خان کو زبردستی کھینچتے ہوئے میں سیڑھی سے نیچے اتر گیا۔تھوڑی دیر بعد ہم بیٹھک میں پہنچ گئے تھے۔
رات کے دس بجنے کو تھے جب چچا شمریز میرے پاس آیا۔رنڑا کو رخصت کرنے وقت ہو گیا تھا۔
انھوں نے آبدیدہ ہو کر کہا۔”ذیشان بیٹا!ثمر خان کے ساتھ جا کر اپنی بہن کو رخصت کر دو۔“
میں نے اعتراض کرنا چاہا۔”چچا جان!....“
انھوں نے قطع کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔”اسے بہن نہیں سمجھتے یاکوئی اور مسئلہ ہے۔“
”چلو ثمر خان۔“میں کھڑا ہو گیا۔شمریز چچا نے اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔
ثمر خان اور میں اندر پہنچے،عورتوں نے رنڑا کو گھیرا ہوا تھا۔انھوں نے ادھر اُدھرہو کر ہمیں راستہ دیا۔پلوشہ اور گل ،رنڑا کے دائیں بائیں بیٹھی تھیں ۔
”کتنی پیاری لگ رہی ہے میری گڑیا بہن۔“رنڑا کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر میں نے اس کا سر بلند کیا۔
تیز سسکی بھرتے ہوئے اس نے میری چھاتی پر سر رکھ دیا تھا۔شفقت وعقیدت بھری پاکیزہ محبت کے احساس نے مجھے لپیٹ میں لے لیا تھا۔میں بہن کے رشتے سے تہی دامن ہوں ۔رنڑا ایسی لڑکی تھی کہ پہلے دن سے مجھے لالاجان بنا لیا تھا۔اسے اپنے لالا پربھروسہ ، اعتمادو فخر تھا،وہ اپنے لالا کو دنیا کا سب سے بہادر فرد گردانتی تھی، وہ چھوئی موئی اور ڈرپوک سی لڑکی مجھے سگی بہنوں کی طرح عزیز تھی۔اس کے رونے نے مجھے بھی جذباتی کر دیا تھا۔منہ بولی بہن کو رخصت کرتے وقت میری یہ حالت تھی تو سگی بہنوں کو رخصت کرنے والوں پر کیا گزرتی ہوگی۔یقینا ماں کے بعد بہن بہت ہی پیارا ،خوب صورت اور دلکش رشتہ ہے۔اپنے بھائیوں کے لیے ہمیشہ قربانیاں دینے والیاں ،بھائی کے لیے اپنے حق سے دست بردار ہونے والیاں ،بہ ظاہر نرم و نازک مگر درحقیقت چٹانی ارادوں کی مالک بہنیں اللہ پاک کا بہترین تحفہ ہیں ۔
میں اس کے لیے تین قیمتی سوٹ،خوب صورت جوتے،اور ایک موبائل فون لے کر آیا تھا۔یہ تحائف میں نے آتے ساتھ اس کے حوالے کیے تھے۔اس وقت وہ میرے ہی لائے ہوئے کپڑوں میں ملبوس میں تھی۔
میرے بعد وہ ثمر خان کو بھی چمٹ گئی تھی۔وہ اس سے چھوٹا تھا،لیکن بھائی چھوٹا ہو یا بڑا بہنوں کا محافظ و رکھوالا ہوتا ہے۔
”بہادر بہنیں تو نہیں روتیں ۔“اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے بہ ظاہر مزاحیہ انداز اپنایا ،مگر میرے حلق سے رندھی ہوئی آواز برآمد ہوئی تھی۔
”چلو ثمر خان۔“رنڑا کا دایاں بازو تھامتے ہوئے میں نے ثمر خان کو اشارہ کیا۔اور ہم دونوں اسے گھر سے باہر لے آئے۔وہاں باربرداری کو زیادہ تر گھوڑے ،خچر،اونٹ اور گدھے استعمال ہوتے ہیں ۔وہ ایک اونٹ پر ڈولی باندھ کر لائے تھے۔ویسے تووزیرستان میں دلھن لے جانے کو گاڑیوں کا رواج ہے لیکن جن علاقوں میں گاڑیوں کی آمدو رفت نہیں ہو سکتی وہاں آج بھی اونٹ اور گھوڑے وغیرہ استعمال ہوتے ہیں ۔
رنڑا کے سر پر بوسہ دے کر اسے میں نے بازوﺅں میں بھر کر سجی ہوئی ڈولی میں بٹھادیا۔گل بھی اس کے ہمراہ بیٹھ گئی تھی۔ اونٹ کو اٹھایا گیا۔پانی کے دو قطرے میرے گالوں پر لڑھکے اور زبان سے بے ساختہ نکلا۔
”اللہ پاک تمھارا نصیب اچھا کرے میری گڑیا بہن۔“
اپنے بازو پر ہلکی سی گرفت کا احساس ہوا۔میں چونکتے ہوئے متوجہ ہوا۔وہ پلوشے تھی۔
”چلیں ۔“اس کے لہجے میں بھی اداسی گھلی تھی۔میں اس کے ساتھ گھر کی طرف بڑھ گیا۔ثمر خان اور شمریز چچا اپنی خواب گاہ میں گھس گئے تھے۔قریبی رشتہ داروں کی چہل پہل جاری تھی لیکن ایک رنڑا کے جانے سے گھر ویران لگنے لگا تھا۔”رنڑا“ پشتو میں روشنی کو کہتے ہیں ۔اور اس وقت لگ رہا تھا اس گھر کی روشنی حقیقت میں رخصت ہو گئی ہو۔
”راجو!پریشان نہیں ہوتے۔“پلوشہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تسلی دینے لگی۔وہ نٹ کھٹ اور چلبلی لڑکی میرے متعلق نہایت حساس تھی۔
میں دل گرفتہ ہوا۔”پلوشے مجھے آج محسوس ہورہا ہے کہ سپوگمائے کی جدائی پر تمھیں کتنا دکھ ہوا ہو گا۔“
”اچھا سچ بتائیں ،میرا رقص اچھا لگا یاگلگارے کا۔“اس نے ایک دم موضوع تبدیل کر دیا تھا۔
میں متحیر ہوا۔”تمھیں کیسے پتا میں دیکھ رہا تھا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”گلگارے نے بتایا تھا۔“
مجھے گلگارے کے فعل پر کوفت ہوئی تھی۔جانے وہ کیا ثابت کرنا چاہتی تھی۔لیکن ایک بات یقینی تھی کہ وہ مضبوط کردار کی مالک تھی۔گو مجھ سے گفتگو کرتے وقت وہ کچھ زیادہ ہی حق جتانے لگتی تھی،مگر کبھی اکیلے میں بھی اس نے اخلاق سے گری ہوئی بات یا حرکت نہیں کی تھی۔میں خود بھی اس کے ساتھ کسی رشتے کا تعین نہیں کر پا رہا تھا۔شروع دن سے میرے بہن کہنے کو اس نے ناپسندیدہ گردانا تھا۔وہ خطوط اور موبائل فون کے پیغامات میں بھی خود کو”آپ کی گڑیا بہن رنڑا کی باجی لکھا کرتی۔“براہ راست اس نے کبھی مجھے بھائی تسلیم نہیں کیا تھا۔اپنی شادی سے پہلے تک تو اس کا یہ فعل قابل اعتراض نہیں تھا۔مگر اب وہ میرے بارے دل میں کوئی لطیف جذبات رکھتی بھی تھی تواسے دل کی بات چھپانا چاہیے تھی۔
”کیا سوچ رہے ہیں ۔“پلوشے نے میری ٹھوڑی سے پکڑ کر ہلایا۔
میرے لبوں پر پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی ، اسے حقیقت بتائے بغیر دھیرے سے بولا۔ ”میں صرف اپنی پلوشے کا رقص دیکھنے آیا تھا۔جب گل شروع ہوئی تو میں چلا گیا تھا۔“
”اچھا۔“طمانیت سے کہتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لی تھیں ۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top