Background image: Header

خوش آمدید

لو اسٹوری فورم ، اردو دنیا کا نمبر ون اردو اسٹوری فورم ، ابھی فورم کےممبر بنیں اور اردو کی بہترین کہانیاں پڑھیں ۔

Register Now!
Welcome image
  • PAID PLANS

    ٹاپ پیکیج
    👑

    PREMIUM

    16000
    چھ ماہ کے لیے
    بہترین ڈیل
    💎

    VIP+

    6000
    چھ ماہ کے لیے
    بنیادی ڈیل

    VIP

    3500
    تین ماہ کے لیے

Spy Thriller سپاٹر۔۔۔۔۔سنائپر پارٹ دو ۔۔۔ریاض عاقب کوہلر


قسط نمبر 31
ریاض عاقب کوہلر
”اللہ پاک خود آکر کسی کو سزا نہیں دیتا۔وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو مسلط کرتا ہے،جیسے تم پر شکلا کو مسلط کیا۔“مجھے غصہ آیا اور جو منہ میں آیا اگل دیا۔
”بکواس بند کروریجا!“اس نے تولیہ کھینچ مارا۔
اور میں مسکراتا ہوا غسل خانے میں گھس گیا۔کسی بے دین کو سمجھانامجھ جیسے کم علم کے لیے ممکن نہ تھا۔ اپنے تیئں میں نے پوری کوشش کی تھی کہ اس کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دے سکوں ،مگر اللہ پاک کو نہ ماننے والوں کا مرض اتنا معمولی نہیں ہوتا کہ ہلکے پھلکے وعظ سے دور ہو سکے۔اللہ پاک کو ماننا بھی اس کی بخشی ہوئی توفیق سے ممکن ہوسکتا ہے۔وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہی پر رکھے۔یہ اس کے اپنے فیصلے ہیں اور اس کے فیصلوں میں انبیاءکرام کے قدسی نفوس مخل نہیں ہو سکتے تو مجھ جیسے گناہ گار کی کیا اوقات۔
میں نہاکر صرف تولیہ لپیٹے باہر نکل آیا۔وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی۔
میں نے درخواست کی۔”مرہم تو لگا دو۔“
وہ بدتمیزی سے بولی۔”اپنے اللہ (تعالیٰ) کو بلا لو۔“
میں نے درشتی سے گھورا،اس نے نظریں نہیں چرائی تھیں ۔افسوس بھرے انداز میں سرہلاتے ہوئے میں خود ہی مرہم لگانے لگا۔ایک بار تو جی چاہا کہ بوڑھی مالک مکان کو کہہ دوں مگر پھر اپنے زخمی ہونے کا راز افشا کرنا مناسب نہ لگا۔
وہ چند لمحے مجھے گھورتی رہی اور پھراٹھ کر قریب آگئی۔”سوری ،مجھے غصہ آگیا تھا۔“اس نے میرے ہاتھ سے مرہم لینے کی کوشش کی۔
”شکریہ۔“روکھائی سے کہتے ہوئے میں نے اس کی مدد ٹھکرا دی۔
”ادھر دوناں ۔“اس نے زبردستی مرہم چھیننے کی کوشش کی۔
”کہہ دیا نا ں ضرورت نہیں ۔“اسے دور دھکیلتے ہوئے میں درشت لہجے میں بولا۔
”سوری ناں ۔“اس نے مفاہمتی لہجہ اختیار کیا۔
”مس لورا براﺅن!مذہب تمھارا ذاتی مسئلہ سہی،مگر تمھیں کسی دوسرے کے عقیدے پر طنز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔مجھ سے خفگی ہے تو میری ذات کو طنز و تنقید کا نشانہ بناﺅ،میرے رب کے بارے گندا منہ کھولو گی تومجھے تم جیسی کسی ساتھی کی ضرورت نہیں ہے۔“
میری برہمی کو خاطر میں لائے بغیر وہ معنی خیز لہجے میں بولی۔”اچھا اگر ڈیٹ پر جانے کی ہامی بھروں پھر بھی صلح نہیں کرو گے۔“
”کسی غیر عورت پر میں تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا،اللہ پاک نے مجھے دو حوریں روما و پلوشہ کی شکل میں عطا فرمائی ہیں ۔جن کی صورت ہی نہیں سیرت بھی بہت اچھی ہے۔“
وہ بھناتے ہوئے بولی۔”افغانستان میں منتیں کرتے تھکتے نہیں تھے،یہاں بھی کئی دفعہ منت کر چکے ہو عقیدے کا مسئلہ چھڑا تو پارسا بننے کا ڈراما کر رہے ہوڈھونگی۔بھول گئے کل موٹر سائیکل پر کیسے چپک کر بیٹھے تھے، اس وقت تمھاری پارسائی کہاں گئی تھی۔“
”میں نے ہیوی موٹر سائیکل کبھی نہیں چلایا،ورنہ تمھیں نہ چلانے دیتا،باقی میرے مذاق کو حقیقت سمجھنا تم جیسی کوڑھ مغز کو مشکل نہیں ہے۔“
اس نے دھمکی دی۔”زیادہ ڈراما بازی کی ضرورت نہیں ورنہ چھوڑ کر چلی جاﺅں گی،میں انتقام لینے کوتمھاری محتاج نہیں ہوں ۔شکلا جیسے غلیظ کومیں اکیلے سنبھال لوں گی۔“
میں بپھر کر بولا۔”رکنے کا کس بے غیرت نے کہا ہے۔تم شوق سے تشریف لے جا سکتی ہو۔“
اس نے ڈرایا۔”چلی گئی تو خرانٹ بڑھیاتمھیں ایک منٹ یہاں نہیں چھوڑے گی۔“
میں اطمینان سے بولا۔”یہ تمھارا مسئلہ نہیں ہے۔“
اس نے آخری وار کیا۔”موٹر سائیکل میں نے چھینا تھا۔اس رقم پر تمھارا کوئی حق نہیں ہے۔“
میں نے نوٹوں کی گڈی اس کی طرف پھینکی۔”یہ سنبھالواور دفع ہو جاﺅ۔“
وہ اب تک یہی سمجھ رہی تھی کہ شاید میں مذاق کر رہا ہوں ۔میرا درشتی بھرا لہجہ اور سخت الفاظ سنتے ہی اس نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔روہانسا ہوتے ہوئے بولی۔
”ریجا!تم ایسا نہیں کر سکتے۔بھول گئے وعدہ کیا تھا کہ شکلا کو کیفر کردار تک پہنچانے میں میری مدد کرو گے۔“
میں بیزاری سے بولا۔”مس لورا !براہ مہربانی یہاں سے چلی جاﺅ،نہیں تو مجھے جانا پڑے گا۔“
میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہ لجاجت سے بولی۔”میں وعدہ کرتی ہوں آئندہ تمھار ے مذہب کے بارے مذاق نہیں کروں گی۔پلیز معاف کردو۔“
ہاتھ چھڑا کر میں تپائی کی طرف بڑھا اور جگ اٹھا کرمنہ کو لگا لیا۔پانی نے مجھے جذبات پر قابو پانے میں مدد دی تھی۔بیڈ پر ٹک کر میں ٹھنڈے دماغ سے سوچنے لگا۔کسی خدا ناشناس کے ساتھ اتنی سختی مناسب نہیں تھی۔وہ جیسی بھی تھی ایک مظلوم لڑکی تھی۔وہاں میرے علاوہ اس کا کوئی مددگار نہیں تھا۔مقامی زبان سے ناواقفیت اس کی راہ کی سب سے بڑی دیوار تھی۔اور اللہ پاک جتنا میرا تھا اس کا بھی تھا۔وہ بھی تو اسی کی بندی، اسی کی مخلوق تھی۔ممکن تھا میرے تلخ رویے سے وہ رحیم و کریم رب سے مزید دور ہوجاتی۔
میں مزید تکرار کیے بغیر خاموش ہو گیا۔چند لمحے میرے بولنے کی منتظر رہ کر وہ دھیرے سے میری جانب کھسکی اور ہتھیلی پر مرہم لگا کر میری پیٹھ پر ملنے لگی۔میں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ دھیرے سے ہنسی۔”قسم سے بہت کٹھور اور سنگ دل ہو۔“
میں تحمل سے بولا۔”مذاق کو ذاتیات تک محدود رہنا چاہیے۔جب عقائد پر بات ہو گی تو جھگڑے ہوں گے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”یار! بس بھی کرو،معذرت کر تو چکی ہوں ۔“
میں نے موضوع تبدیل کیا۔”ناشتے کے بارے کیا خیال ہے؟“
”قسم سے سخت بھوک لگی ہے۔“
چونکہ بڑھیا نے واضح کر دیا تھا کہ ہمیں جیسا ناشتا اور کھانادرکا ہوگا ملے گا،البتہ ادائی ہمیں کرنا پڑے گی۔اس لیے میں نے بے تکلفی سے انٹر کام اٹھا کر اسے تگڑا سا ناشتا لانے کا کہہ دیا۔ناشتا اس کی بیٹی لائی تھی۔
ناشتا کر کے میں نے دوائی کھائی اور دوبارہ لیٹ گیا۔لورا نے کرسی سنبھالتے ہوئے پاﺅں بیڈ پر رکھے۔
”اب کیا ارادہ ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”ظاہر ہے سوﺅں گا۔“
اس نے منہ بنایا۔”ریجامذاق کا وقت نہیں ہے۔“
”پہلے تم ڈیوڈ سے رابطہ کرو،تاکہ وہ ہتھیار ادھر نہ بھیجنے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”ضرورت نہیں ۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”مجھے لگتا ہے کچھ چھپا رہی ہو۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”بہت کچھ۔“
میں بیزاری سے بولا۔”جب مجھے اصل بات کی ہوا نہیں لگے گی توکیسے مشورہ دوں گا۔“
وہ افسردگی سے بولی۔”روپے پیسے کا لالچ انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتا۔میری اچھی خاصی تنخواہ تھی، بہترین سہولیات میسر تھیں ،عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی،مگر پھر ایک غلط آدمی مجھ سے آٹکرایا اور بہکاوے میں آکر اپنی ساکھ ہی نہیں زندگی بھی برباد کر ڈالی۔انسان جب کسی مصیبت میں گھرتا ہے تونکلنے کو اندھا دھند ہاتھ پاﺅں مارتا ہے۔ایسے میں مزید غلطیاں ہوتی ہیں ۔اور یہی میری کہانی ہے۔“
میں منہ بناتے ہوئے بولا۔”اب فلسفے کو ایک طرف رکھ کر سیدھے و عام فہم انداز میں اپنی حماقتوں سے پردہ اٹھاﺅ۔“
اس نے لمبا سانس کھینچااور آنکھیں بند کر کے گہری سوچ میں کھو گئی۔میں اس کے بولنے کا منتظر رہا۔ زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔شاید وہ الفاظ کو ترتیب دے رہی تھی۔چند لمحوں بعد گویا ہوئی۔”افغانستان میں نک کے ساتھ میں نے کافی کارنامے سرانجام دیئے تھے۔وطن واپسی پر بڑی آﺅبھگت ہوئی۔دو تین اخبارات میں انٹرویو بھی شائع ہوا۔جس سے وقتی شہرت تو ملی،لیکن اس کے ساتھ ہی میری بد بختی کا بھی آغاز ہوا۔ایک بڑے تاجر تھامس ولکنسن نے اپنے کاروباری حریف کو ٹھکانے لگانے کومیری خدمات حاصل کرنا چاہیں ۔اس کا حریف حفاظتی اقدامات کا بہت خیال رکھتا تھا۔عام اجرتی قاتل کو اس کا قتل کرنا بہت مشکل تھا۔تبھی اس نے میرا انتخاب کیا۔پہلے تو میں نہ مانی مگر پھربھاری معاوضے کو دیکھ کر متذلل ہوگئی۔ تھامسن نے فوراََ معاوضے میں مزید اضافہ کر دیا اورمجھے ہامی بھرنا پڑی۔مجھے پندرہ سو میٹر کے فاصلے سے اسے نشانہ بنانا تھا۔تمھیں سنائپرز کے طریقہ کار سے اچھی طرح واقفیت ہے اس لیے میں قتل کرنے کے طریقے پر روشنی نہیں ڈالتی۔مختصراسے کامیابی سے نشانہ بنایااور معاوضا وصول کر کے خوش ہو گئی۔مگر تھامسن کی بدقسمتی کہ مقتول کا بیٹا خم ٹھونک کر میدان میں آگیا۔پولیس تھامسن کی راہ پر لگ گئی۔تفتیشی آفیسر گیری لارنس ذہن آدمی تھا آخر وہ تھامسن تک پہنچ گیا۔تھامسن ولکنسن گرفتار ہونے کی ذلت برداشت نہ کر سکااور حوالات میں خودکشی کر لی۔ البتہ اپنے پہلے بیان میں اس نے قاتل کے ضمن میں میرا نام لے دیا تھا۔تفتیشی آفیسر گیری لارنس میرے پیچھے پڑ گیا۔لمبی تفتیش ہوئی۔ پہلے ملٹری عدالت میں کیس چلا۔میرے خلاف بڑا ثبوت تھامسن کا بیان،وقوعے کے دن میرا چھٹی پر ہونا اوراچھا سنائپر ہونا تھا۔یہ کوئی اتناواضح ثبوت نہیں تھا کہ میرا قاتل ہونا ثابت ہوسکتا۔ اس کے باوجود ملٹری عدالت نے میرا کورٹ مارشل کر کے کیس سول عدالت کے حوالے کر دیا۔سال بھر تفتیش کا سامنا رہا۔ایک عقل مندی میں نے یہ کی تھی کہ تھامسن ولکنسن سے ملنے والی بھاری رقم سوئٹزرلینڈ کے ایک بینک میں فرضی نام سے جمع کرادی تھی۔اور یہ احتیاط پسندی کام آگئی۔آخر قتل کے الزام سے تو بری ہو گئی مگر ذہنی طور پر اتنی الجھ گئی تھی کہ کسی کام کے قابل نہ رہی۔گو بری ہونے کے بعد میں واپس فوج میں جا سکتی تھی۔اورملٹری عدالت میں پیش ہو کر اپنا عہدہ واپس لے سکتی تھی۔لیکن مجھے فوج میں جانا گوارا نہ ہوا۔مختصر عرصہ گوشہ نشین رہی۔اور مستقبل میں بھی یہی ارادہ تھا مگر پھر ڈیوڈ سے ملاقات ہوئی۔بلکہ وہ خود ڈھونڈتے ہوئے میرے پیچھے پہنچ گیا۔وہ سنائپر رائفل میں جدت لانا چاہتا تھا۔ اور میں تو شروع ہی سے سنائپنگ کی دیوانی تھی۔یہ سنائپنگ ہی تھی جس کی وجہ سے میں آفیسر ہو کر بھی ایک سپاہی (نک)کو اتناپسندکرتی تھی۔بہ ہر حال ڈیوڈ کی باتوں میں آکر اپنا سارا سرمایہ ایس آر ون کو بنانے میں جھونک دیا۔پہلی رائفل بننے کے بعد رائفل کو میں نے خود جانچاتھا۔رائفل میری توقعات سے بڑھ کر بہترین ثابت ہوئی تھی۔خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے ہم نے بڑی تعداد میں رائفلیں تیار کر لیں ۔یہاں تک کہ سرمائے کی کمی کو قرض لے کر پورا کیا۔اس دوران پہلی بننے والی ایس آر ون مسلسل میرے استعمال میں رہی۔اور جب رائفلوں کی ایک بڑی کھیپ تیار ہو گئی تب ایس آر ون کی خامیوں کا انکشاف ہوا۔پچاس گولیوں کے بعد رائفل کی کارکردگی میں فرق آنے لگاتھا۔جو سو گولیوں تک اتنا بڑھ گیا کہ رائفل سو میٹر پر بھی درست فائر کے قابل نہ رہی۔مجھ سے بنیادی غلطی یہ ہوئی تھی کہ میں کبھی کبھار ہی تین چارگولیاں فائرکرتی تھی۔ورنہ رائفل کی خامی بہت پہلے سامنے آجاتی۔اسلحے کے چند ماہرین کو بھاری فیس دے کرمسئلہ حل کرانا چاہا،مگر ایس آر ون کی یہ خامی دور نہ ہو سکی۔اپنی پہلی مصنوعات کے ساتھ ڈبلیو اے ایس کمپنی دھڑام سے زمین پر آگری تھی۔اگر شروع میں معلوم ہو جاتا تو ہم اتنی بڑی تعداد میں رائفلیں نہ بناتے۔رائفل میں چند تکنیکی تبدیلیاں کر کے اس خامی کو دور کیا جا سکتا تھا۔مگر ہتھیارکے تیار ہونے کے بعد تبدیلی ممکن نہ تھی۔ہمیں بس بیرل کا جوڑ ختم کرنا تھا۔ایمونیشن میں بارود کی مقدار گھٹانا تھی،چیمبر کو تھوڑا مضبوط کرنا تھا،گولی کا حجم بڑھانا تھا۔یوں کہ یہ 8.65ایم ایم کے بجائے روایتی قطر12.7ایم ایم کی بن جاتی۔اصل میں رائفل میں خرابی پڑی ہی چیمبر اور بیرل کے جوڑ کی وجہ سے۔کیوں کہ رائفل کا وزن گھٹانے کو چیمبر کی موٹائی کم رکھی گئی تھی۔اور گولی کو دور تک پہنچانے کو کیس میں باردوکے گرین بڑھائے گئے تھے۔تکنیکی طور پر چیمبر اتنے بارود کے دباﺅ کو مسلسل برداشت نہیں کر سکتا تھا،اس لیے پچاس ساٹھ گولیاں چلنے کے بعد چیمبر اور بیرل کا قطر معیاری نہیں رہتا۔ چند اور تکنیکی خامیاں بھی سامنے آئیں ،لیکن وہ اتنی بڑی نہیں تھیں کہ ہماری محنت پر پانی پھرتا۔ خیر اس افتاد سے ہم پر آسمان ٹوٹ پڑا۔ہم محل سے فٹ پاتھ پر آنے والے تھے۔تبھی ایک دوسرے کو خطاوار کہنے لگے۔ڈیوڈ کے تیئں یہ میری وجہ سے ہوا تھا کہ میں نے رائفل استعمال کر کے پاس کی تھی۔اور میں کہہ رہی تھی کہ اس کی وجہ سے میں اس جنجال میں پھنسی۔قصہ مختصرآخرسوچا،جو ہو گیا سوہوگیااب اس مصیبت سے کیسے چھٹکاراہو۔رائفل کی مشہوری ہو چکی تھی او ر شوقین حضرات خریدنے کے بھی خواہاں تھے۔لیکن ہم چند رائفلیں فروخت کر کے اپنا پول نہیں کھول سکتے تھے۔کافی سوچ بچار کے بعد طے ہوا کوئی ایسا گاہک ڈھونڈا جائے جو تمام رائفلوں کو اکٹھا خرید لے۔چند ملک زیر غور آئے اور آخر انڈیا کو منتخب کیا۔اس کی ایک وجہ تو جنرل شکلا کا داغ دار ماضی تھا۔امید تھی ایسے شخص سے سودا بازی آسان رہے گی۔دوسرا انڈیا کے پاس بہت بڑی تعداد میں فوج ہے اس وجہ سے یہاں رائفلوں کی ضرورت بھی زیادہ ہوگی۔پس میں یہاں آگئی۔شکلا نے پہلے دن تو آمادگی ظاہر کی،مگر جب اس کے گھر پارٹی میں جانا ہواتب اس نے آرمی چیف کے انکار کا مسئلہ کھڑا کر دیا۔وہ مصر تھا کہ میں چیف پر گولی چلاﺅں ۔ مجھے ہمت نہ ہوئی کیوں کہ ایک بار ایسے معاملے میں گردن پھنسا چکی تھی۔مگر شکلا نے اس شرط کے علاوہ رائفلیں خریدنے سے معذوری ظاہر کر دی۔تب میں نے اس کے آدمی کو تربیت دینے کی پیش کش کر کے درمیانی راہ نکالی۔اور وہ مان گیا۔مگر اسے سودے میں مخلص سمجھنا میری بھول تھی۔وہ صرف مجھے پھانسنا چاہتا تھا۔کیوں کہ جب پہلے دن مجھ سے بات ہوئی اس کے بعد ذلیل شخص نے لندن میں اپنے آدمیوں کے ذریعے میرے بارے معلومات حاصل کیں ۔اور میری سابقہ شہرت سے فائدہ اٹھانا چاہا۔وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پہلے بھی بڑی مشکل سے میری جا ن چھوٹی ہے۔اور اب برطانیہ عدالت میں میرا حالیہ کارنامہ پہنچا تو پچھلا کیس بھی کھل جائے گا۔اور یہی دھمکی اس نے مجھے قید کے پہلے دن دی تھی۔“
تفصیل سن کر مجھے لورا کی مجبوری آشکارا ہوئی۔بلاشبہ وہ گردن تک دلدل میں دھنس چکی تھی۔ شکلا کے پاس اس کے خلاف ثبوت موجود تھے۔شکلا نے ایک تیر سے کئی شکار کھیلے تھے۔ایک پاکستانی جاسوس کی طرف داری نے لورا کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا۔اس کہانی سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ مجھے سنائپنگ کی تربیت دلاناسراسر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھا۔اوریہ کہ وشال گپتامیری اصلیت سے واقف تھا۔یوں شکلا کامیرے بارے جاننے میں بھی کوئی شبہ نہیں رہا تھا۔البتہ وہ اس سے لاعلم تھا کہ میں اس کی نواسی کو اغواءکرنے وہاں پہنچا تھا۔یقیناشکلا کا آرمی چیف پر حملہ کرانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔وہ ایک سودے کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھانے کے بجائے آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا زیادہ بہتر سمجھتا۔انڈین چیف ، عہدہ سنبھالنے کے بعدقریباََ دوسال کمانڈ کرتاہے۔اور بکرم سنگھ کو عہدہ سنبھالے ڈیڑھ سال سے زیادہ ہو گیا تھا۔چند ماہ میں اس نے یونھی ریٹائرڈ ہو جانا تھا۔
وہ میری سوچوں میں مخل ہوئی۔”پریشان ہو گئے نا۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”پریشانی صرف پلوشہ کی ناراضی پر ہوتی ہے۔“
وہ حیران رہ گئی تھی۔”کیا؟“
”الجبراءکا کلیہ تو نہیں بتایا کہ تمھیں سمجھنے میں دشواری ہو۔“
وہ ہنسی۔”یہ وہی کھان لڑکی ہے نا جس نے میجر جینیفر کی پٹائی کی تھی۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔
”مگر وہ توتمھاری بیوی ہے نا۔“
میں نے منہ بنایا۔”کیا بیویاں ناراض نہیں ہو سکتیں ۔“
وہ شوخی سے بولی۔”اگر بیوی کی ناراضی کا رونا رو کراور اس سے خوش نہیں ہوں کا چارہ ڈال کر مجھ پر ڈورے ڈالنے کا ارادہ ہے تو تمھیں ناکامی ہوگی۔“
میں نے گہرا سانس لے کر سر کو تھامااور کراہتے ہوئے بولا۔”برطانیہ کی چڑیل،آخرمیری کس حماقت سے تمھیں یہ غلط فہمی ہوئی ہے۔پلوشہ کی وجہ سے میں نے میجر جینیفر جیسی مخلص،وفادار اور پرکشش لڑکی کی محبت کو ٹھکرا دیا تھا تو تم کس باغ کی مولی ہو۔“
وہ کھلا کھلا کر ہنسی۔”ڈرامے بازی کی ضرورت نہیں ،کھل کر اظہار کرو۔“
میں مضمحل ہوا۔”مطلب،تم سے مذاق کرنا اتنا بڑا گناہ ہوگیاکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔“
وہ شرارت سے بولی۔”افغانستان میں بار بار ڈیٹ پر جانے کی منتیں کرنا،یہاں بھی وہی واویلاکرنا اگر محبت نہیں تو کیا ہے۔“
میں نے سر پکڑا۔”دھت تیرے کی،کیپٹن صاحب ہمارے ہاں ڈیٹ پر جانا محبت نہیں بے غیرتی کہلاتا ہے۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”تو بے غیرتیوں کے لیے تمھیں میں ہی ملی تھی۔“
میں نے کہا۔” تمھیں چھیڑنے میں مزا آتا تھا۔اور سچ کہوں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔“
”مثلاََ۔“اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”انگریزی زبان کی وہ گالیاں ،کوسنے اور لغویات سنیں جو کسی کتاب میں پڑھنے کا اتفاق ہوا نہ کسی فلم ڈرامے میں دیکھیں ۔یقین مانواس موضوع پر تم مُتَخَصص (اسپیشلسٹ)ہو۔“
وہ تپتے ہوئے بولی۔”اور تم لڑکیوں کو چھیڑنے کے اسپیشلسٹ ہو۔“
میں سنجیدہ ہوا۔۔”اچھا فضول بکواس کو چھوڑواور آگے کالائحہ عمل بتاﺅ۔“
”شکلا سے” ایس آر ون “کا مکمل معاوضہ وصول کر کے اس کی گردن اتارنا چاہتی ہوں ۔“
میں ہنسا۔”ایسا بھی کیا غلط کر دیا بے چارے نے کہ تم گردن اتارنے پر تل گئیں ۔“
”ریجا کہا نا مزیدبکواس نہیں ۔“
میں نے تجویز دی۔”شکلا کے بارے ہمیں وشال گپتا سے کافی کچھ معلوم ہو سکتا ہے۔دوتین دن آرام کر کے اس پر ہاتھ ڈالتے ہیں ۔“
اس نے اپنی الجھن دور کرنا چاہی۔”تم میرا ساتھ کیوں دے رہے ہو۔“
”تمھیں ڈیٹ پر لے جانے کے لالچ میں یہ خطرہ مول لے رہا ہوں ۔“
اس نے آنکھیں نکالیں ۔”تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ریجا۔“
میں متبسم ہوا۔”شکلا کے ہاں دعوت میں اس کی نواسی کو دیکھا تھا۔“
اس نے تصدیق چاہی۔”تمھاری مراد پری سے ہے۔“
میں نے اثبات میں سرہلایا۔”بس مجھے وہ چاہیے۔“
وہ متحیر ہوئی۔”کیوں ؟“
”ایک مسلمان چار شادیاں کر سکتا ہے اور میں نے اب تک دو کی ہیں ۔“
وہ بے بسی سے مسکرائی۔”تم نہیں سدھرو گے۔“
”مجھے نیند آرہی ہے۔“میں نے تکرار ختم کرنے کا اعلان کیا۔یقینا نسخے میں سکون آور دوا شامل تھی کہ لمبی نیند لینے کے بعد بھی مجھے نیند کی حاجت ہو رہی تھی۔
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔”مالک مکان کی بیٹی تعلیم یافتہ ہے۔امید ہے اس کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہو گی۔میں ڈیوڈ کو ای میل کر کے اپنی خیریت کا بتادوں ۔“
میں نے جواب دیئے بغیر آنکھیں بند کر لیں ۔
٭٭٭٭٭
اگلا ہفتہ ہم نے وہیں گزاراتھا۔اس دوران گوشت ،مچھلی ،پھل ،جوس ،دودھ اور قیمتی دواﺅں سے میری جسمانی توانائی بحال ہو گئی تھی۔اس وقفے میں ہم مختلف منصوبوں پر بات کر کے کا لائحہ عمل طے کرتے رہے۔ لورا کو میں نے اپنے مقصد سے آگاہ نہیں کیا تھا۔کیوں کہ اپنے راز میں کسی غیر متعلق شخص کو حصہ دار بنانا گھاٹے کا سودا ہوتا ہے۔اگر ہم دوبارہ پکڑے جاتے تو یقینا اس نے ذرا سے تشدد پرراز اگل دیناتھا۔ اس نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا تھا۔یا شاید اسے میرے جھوٹ پر یقین آگیا تھاکہ ایک جاسوس کی ذمہ داریوں میں دشمن ملک کو نقصان پہنچانا مقدم ہوتا ہے، اس وجہ سے میں اس کا ساتھ دے رہا ہوں ۔
چھے دن کے مکمل آرام کے بعد ہم جانے کو تیار ہوئے۔لورا کی شناخت چھپانے کو میں نے کالے گاﺅن اور نقاب کا بندوبست کیا تھا۔ایک بار تو وہ بگڑ گئی۔مگر میرے سمجھانے پر چپ چاپ نقاب اوڑھ لیا۔خود میں نے کلین شیو کرنا چھوڑ دیا تھا۔اب تو اچھی خاصی داڑھی اور مونچھیں ہو گئی تھیں ۔آنکھوں پر کالا چشمہ اور سرپر سفید ٹوپی اوڑھ کر میری شناخت کافی حد تک بدل گئی تھی۔اب مجھے وہی پہچان سکتے تھے جن سے پالا پڑ چکا ہو۔
قد آدم آئینے میں دیکھتے ہوئے اس نے منہ بسورا۔”کارٹون بنا دیا ہے مجھے۔“
اس کی نقاب سے جھانکتی بھوری آنکھوں کو دیکھتے ہوئے میں شاکی ہوا۔”ایمان سے بتاﺅ،کیا ایسا ہی ہے۔“
وہ متبسم ہوئی۔”تم بتاﺅ کیسی لگ رہی ہوں ۔“
”عورت کی کشش نظر نہ آنے میں ہے۔بلکہ لفظ عورت کا مطلب ہی پوشیدہ چیز کے ہیں ۔“
وہ اوچھے پن سے بولی۔”مسلمان عورت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تبھی ان سے جانوروں کاسا سلوک کرتے ہیں ۔اوراس کی آزادی چھین لیتے ہیں ۔“
میں نے پوچھا”تجوری میں جوتے رکھے جاتے ہیں یا مال وزر۔“
وہ حیرانی سے بولی۔”دولت۔“دو جمع دو چار کی طرح اس کا جواب متعین تھا۔
”پس ہمارے نزدیک عورت کی حیثیت خزانے اور مال دولت جیسی ہے۔اس لیے ہم اپنی دولت کو چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کسی حریص ڈکیت کی نیت میں فتور نہ آجائے۔اور تمھارے ہاں عورت کی حیثیت جوتوں جیسی بلکہ اس سے بھی کم ہے۔“
وہ فخریہ لہجے میں بولی۔”مغرب نے عورت کو آزادی دی ہے۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”اسے آزادی نہیں غلامی کہتے ہیں ۔مغرب نے عورت کوجھوٹی آزادی اور مرد کے شانہ بہ شانہ چلنے کی چوسنی( لولی پاپ) دے کر اس سے عورت ہونے کے سارے فوائد چھین لیے۔اور اس کا صرف ایک مصرف باقی رکھا۔جب تک شباب باقی رہا ہر کسی نے استعمال کیا اور جب بوڑھی ہوئی تو اولڈ ہاﺅس میں پھینک دیا۔کیوں کہ ایک شو پیس جب دل لبھانے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو اسے دوسرے سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں جب تک عورت کی شادی نہیں ہوتی اس کی کفالت باپ یا بھائی کے ذمہ ہوتی ہے،شادی کے بعد شوہر اس کی ضروریات پوری کرتا ہے۔بوڑھی ہوتی ہے تو بیٹے پالتے ہیں ۔پبلک ٹرانسپورٹ میں عورت کبھی کھڑی نظر نہیں آئے گی۔بیٹھنے کا حق پہلے اسے دیا جائے گا،بینک میں ،یوٹیلٹی سٹور پریا کسی بھی جگہ مردوں کی قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا، بغیر نمبر کے سب سے پہلے جا کر اپنا حاجت پوری کرے گی۔بازار وغیرہ میں کوئی مرد یا لڑکا اسے چھیڑنے کی غلطی کر بیٹھے تو ارد گرد موجود سبھی حضرات عورت ہی کی طرف داری کرکے مرد کی دھلائی کر کے رکھ دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ بھی کئی ایسی سہولتیں و آسائشیں ہیں جو مشرق کی عورت کو حاصل ہیں ۔باقی کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اس سے مغرب کی عورت بھی بچی ہوئی نہیں ہے۔زنا بالجبر کے واقعات مشرق سے کئی گنا زیادہ تمھارے ہاں ہوتے ہیں ،جیسے خود کو دیکھ لو....“
وہ بپھر کر بولی۔”ریجا تم غلیظ سؤر کا نام لیے بغیر اپنی بات پوری نہیں کر سکتے۔“
میں ہنسا۔”سچ بتاﺅ گالیاں بکنے کی ڈگری لی ہے یا قدرتی صلاحیت ہے۔“
”مجھے اکسا رہے ہو۔“وہ سچ مچ طیش میں آگئی تھی۔
”چلیں ۔“اسے برہم دیکھ کر میں نے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔نقاب سے اس کی پر کشش بھوری آنکھیں جھلک رہی تھیں ۔کالے گاﺅن نے اس کی کشش میں اضافہ کر دیا تھا۔لمحہ بھر مجھے گھور کر اس نے سر جھٹکااور قدم بڑھا دیے۔
کمرے کی چابی ہم نے پاس رکھی تھی کہ فی الحال وہ ٹھکانہ محفوظ تھا۔ البتہ وہاں کوئی قیمتی چیز نہیں چھوڑی تھی جس کے حصول کو ہمارا لوٹنا ضروری ہوتا۔
تھوڑا پیدل چلنے کے بعد ہمیں ٹیکسی مل گئی تھی۔وشال گپتا کی رہائش گاہ کے قریب ایک مشہور مقام کا بتا کر ہم بیٹھ گئے۔اس کی روز مرہ مجھے ازبر تھی۔اس کی کوٹھی کے قریب بس اسٹاپ تھا جہاں بیٹھ کر کوٹھی کی نگرانی کی جا سکتی تھی۔وہاں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔زنانہ انتظار گاہ میں لورا کو بٹھا کر میں دوسرے حصے میں کھڑا ہو گیا۔
ایک دو بسیں آکر چلی گئیں ۔لوگوں کی آمدورفت جاری رہی۔اسی دوران وشال گپتا کی کار اپنی گلی سے برآمد ہوئی۔اس کے عقب میں محافظوں کی جیپ موجود تھی۔ان کے غائب ہوتے ہی میں نے لورا کو متوجہ کر کے چلنے کا اشارہ کیا۔
سڑک پار کر کے ہم چوڑی گلی میں داخل ہوئے۔”تمھیں یقین ہے ہمارے پکڑے جانے کا خطرہ نہیں ہے۔“اس نے کافی بار کا دہرایا ہوا اندیشہ اگلا۔
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”ڈر لگ رہا ہے تو واپس جا سکتی ہو۔“
”ریجا پکڑے گئے تو بہت براہوگا۔“میری بیزاری کو اس نے خاطر میں نہیں لایا تھا۔
”ایک پیشہ ور سنائپر کو خطروں سے تسلی دینا انوکھاوعجیب لگتا ہے۔اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں تب بھی موت کا خطرہ اتنا ہی ہے جتنا زندگی و موت کی جنگ لڑتے ہوئے درپیش ہوتا ہے۔“
وہ روہانسی ہوئی۔”میں موت سے نہیں ڈرتی۔“
اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے میں نے تسلی آمیز انداز میں سہلایا۔”میں ہوں نا تمھارے ساتھ،تمھیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“
وہ ممنونیت سے بولی۔”تم بہت اچھے ہو۔“
میں دھیرے سے مسکر ا دیا۔مقدر بھی کیا کیا کھیل دکھاتاہے۔یہ وہی لورا براﺅن تھی جو میرے خون کی پیاسی تھی اور میں اسے اور اس کے ساتھی کو قتل کرنے کے درپے تھا۔تب میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن ہم اکٹھے دشمنوں سے بھاگتے پھر رہے ہوں گے اور ہمارے فائدے نقصان ایک ہو جائیں گے۔
وشال گپتا کی کوٹھی کافی وسیع و عریض تھی۔بنیادی طور پر وہ اس کی ذاتی رہایش گاہ سے زیادہ اڈے کی حیثیت رکھتی تھی،کیوں کہ وہاں اس کے گرگے بھی رہتے تھے۔البتہ عمارت کے اندر اس کا ذاتی پورشن باقیوں سے علیحدہ تھا جہاں ہر کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔وسعت کی وجہ سے عمارت کے چاروں جانب گلیاں لگتی تھیں ۔ داخلی دروازے پر ہر وقت چوکیدار موجود رہتا تھا۔اس کے علاوہ پہرے داری کا خاص انتظام نہیں تھا،کیوں کہ راجپوت دادا کے بھائی کے اڈے پر حملہ کرنے کی غلطی کوئی احمق ہی کر سکتا تھا۔البتہ ناگہانی صورت حال کو وہاں ہر وقت بندے موجود رہتے۔عمارت میں جمنازیم اور پسٹل شوٹنگ رینج بھی موجود تھے۔باکسنگ رنگ بھی بنا ہوا تھاجہاں وہ خالی ہاتھ لڑنے کی مشق کرتے تھے۔بنیادی طور پر دیکھا جائے تو ممبئی ایسا شہر ہے جسے حقیقی معنوں میں غنڈوں کی جنت کہا جا سکتا ہے۔پورا ممبئی مختلف گروپوں کے درمیان یوں تقسیم ہے جیسے پرانے بادشاہ اپنے مصاحبوں میں ریاستیں تقسیم کیا کرتے تھے۔پولیس خاموش تماشائی ہے اور صرف خانہ پری کرتی ہے۔وطنِ عزیز کی طرح وہاں بھی غریب کا پرسان حال کوئی نہیں اور پولیس کے لیے تختہ مشق بنا رہتا ہے۔
وشال گپتا کے پاس میں نے کچھ عرصہ گزارا تھااور اس دوران عمارت سے اچھی طرح واقف ہو گیا تھا۔سنائپر تو کسی جگہ کی ایک بار قراولی(ریکی)کر کے کچھ نہیں بھولتا،میں نے تو وہاں کافی دن گزارے تھے۔ میرے لیے وہ عمارت کھلی ہتھیلی کی طرح تھی۔کسی بھی شخص کو سب سے آسان اپنے گھر میں گھسنا ہوتا ہے۔ اور میرے لیے وہ گھر کی حیثیت رکھتی تھی۔
عقبی گلی میں لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ہم مٹر گشت کرنے لگے۔تیسرے چکر میں گلی خالی ملی اور میں اچھل کر دیوار پر چڑھ گیا۔اس دیوار کے ساتھ دونوں جانب چار کوارٹر بنے ہوئے تھے جہاں باورچی، خاکروب اور چوکیداروں کی رہائش تھی۔خاکروب اور باورچی اپنے کنبے کے ساتھ رہتے تھے۔اور مجھے سب سے زیاد ہ ڈر انھی کے بچوں کا تھا جو کبھی کبھار کوارٹر سے باہر کھیل رہے ہوتے تھے۔گو اس بارے وشال گپتا نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ بچے کوارٹر سے باہر نہ نکلا کریں ،مگر بچے تو بچے ہوتے ہیں ۔میں خود کئی بار بچوں کو کواٹروں سے باہر کھیلتا دیکھ چکا تھا۔خیر چھوٹے بچوں کا کوئی خاص مسئلہ نہیں تھاکہ وہ اتنے سمجھ دار نہیں ہوتے۔دس بارہ سال سے بڑے بچے مسئلہ پیدا کرسکتے تھے۔
دو کوارٹر ایک جانب بنے تھے اور دو دوسری جانب بیچ میں قریباََ بیس فٹ جگہ خالی تھی۔وہاں لوہے کا چھوٹا سا دروازہ بھی نصب تھا،مگر دروازہ عموماََ بند ہی ہوتا تھا۔اس دروازے کو کواٹروں کے مکین ہی استعمال کرتے تھے۔ایک لمحہ دیوارپر رک کر میں نے طائرانہ نگاہ دوڑائی اور اندر کود گیا۔لورا باہر کھڑی رہی۔دروازے کو تالا لگا ہوتا تھا،مگر چابی وہیں چھپا کر رکھی جاتی تھی۔چابی کی جگہ مجھے معلوم تھی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 32
ریاض عاقب کوہلر
مخصوص مقام سے چابی برآمد کر کے میں نے دروازہ کھولا،لورا فوراََ اندر آگئی تھی۔پہلی فرصت میں اس نے گاﺅن اور نقاب اتار کر سکھ بھرا سانس لیا تھا۔”مسلم عورتوں کا کمال ہے کہ سارا سارا دن اسے اوڑھے رکھتی ہیں ۔“
دروازہ قفل کر کے میں نے چابی واپس رکھی اورطنزیہ لہجے میں بولا۔”کسی افریقی قبیلے کی عورت کو تمھارا لباس پہنا دیا جائے تو وہ بھی گھنٹا ڈیڑھ بعد کچھایسا ہی کہے گی۔“
نقاب بغل میں دباتے ہوئے وہ اطمینان سے بولی۔”تو ٹھیک ہے نا،بغیر کپڑوں کے رہنے میں اسے سکون ملتا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔“
میں نے قدم اندرونی عمارت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔”جب ہر کسی کو سکون کے حصول کی چھوٹ ہے تو شکلا بے چارے کا کیا قصور جو تم اس کی جان کے درپے ہو۔“
وہ بپھر کربولی۔”ریجا........“
”تکرار کا وقت نہیں ہے۔“میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے اسے ٹوکا۔اوراس نے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔کوارٹروں کے باہر تین چار کم سن بچے کھیلتے نظر آئے،مگر ان کی عمر اتنی نہیں تھی کہ کوئی خطرہ محسوس ہوتا۔انھیں نے ہمیں دیکھ کر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔انھیں نظر انداز کرتے ہوئے ہم اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گئے۔
اندرونی عمارت تین بڑے حصوں پر مشتمل تھی۔تہہ خانہ،وشال گپتا کی رہائش اور مہمان خانہ و محافظوں کی رہائش۔ایک طویل راہداری مہمان خانے اور محافظوں کی رہائش کو وشال گپتا کی رہائش سے علیحدہ کرتی تھی۔وہ طویل راہداری عمارت کے سامنے سے شروع ہو کرعقبی طرف نکلتی تھی۔یوں کہ وہاں عمارت کے عقب میں جانے کو چکر نہیں کاٹنا پڑتا تھا۔
عمارت کے قریب پہنچتے ہی ہم محتاط ہو گئے تھے۔میں نے ایسے وقت کا چناﺅ کیا تھا جب ملازم اپنے کاموں میں مصروف ہوتے تھے،دوسرے لوگ تہہ خانے میں مشق کر رہے ہوتے یا کام پر نکل جاتے۔مجھے اس وقت صرف خاکروب سے خطرہ تھا۔وشال گپتا کے نکلتے ہی وہ اس کی رہائش کی صفائی میں جت جاتا۔گنپت اپنی نگرانی میں سارا کام کرواتا تھا۔اور پھر وشال کی رہائش کو لاک کر دیتا۔راہداری کے قریب پہنچتے ہی تہہ خانے کی سیڑھیوں کی جانب سے دو افراد کی گفتگو کی آواز آئی۔وہ اوپر آرہے تھے۔لورا کا بازو پکڑ کر میں دیوار سے لگ گیا۔
وہ شیکھر اور چندر تھے۔دونوں گپیں ہانکتے ہوئے سیڑھیوں سے اوپر آئے اور راہداری میں آگے بڑھ گئے۔
قدموں کی چاپ معدوم ہوتے ہی میں نے جھانکا،دونوں دوسرے سرے پر پہنچ گئے تھے۔ان کے غائب ہوتے ہی میں لورا کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے راہداری میں داخل ہوا۔دائیں جانب وشال کی رہائش کا راستہ تھا۔بائیں جانب تہہ خانے میں جانے کو سیڑھیاں نیچے اتر رہی تھیں ۔جبکہ راہداری کی ابتداءمیں بائیں جانب مہمان خانے اور محافظوں کے کمرے کا راستہ تھا۔
میں وشال کی رہائش گاہ کی طرف مڑا۔غربی دیوار سے متصل لکڑی کا منقش دروازہ تھا جس کے کھلے پٹ ظاہر کر رہے تھے کہ خاکروب صفائی میں مصروف ہے۔اور یقینا گنپت نے بھی وہیں ہونا تھا کہ وہ اپنی نگرانی میں صفائی کرواتا تھا۔اب سب سے مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ہمیں ان دونوں سے بچ کر اندر چھپنا تھا۔کیوں کہ صفائی کے بعد گنپت رہائش گاہ کو تالا کر دیتا تھا اور وشال کی آمد ہی پر کھولتا تھا۔لورا کویہ تفصیل پہلے سے بتا چکا تھا۔ آنکھوں میں اندیشے بھرے وہ بھی نہایت محتاط انداز میں میرے ساتھ قدم ملائے ہوئے تھی۔
لکڑی کے دروازے میں گھستے ہی چند فٹ کی راہداری تھی اس کے بعد وسیع ڈرائینگ روم، اس سے متصل پرتعیش خواب گاہ اور ایک کوت (ہتھیاروں کا کمرہ)بنا ہوا تھا۔پورے پورشن میں سلیٹی رنگ کادبیز قالین بچھا تھا۔
لورا کو وہیں رکنے کا اشارہ کر کے میں نے محتاط انداز میں ڈرائینگ روم میں جھانکا،ان کی آواز خواب گاہ کے اندر سے آرہی تھی۔گنپت کسی بات پر غصے ہو کر بے چارے خاکروب کو جھاڑ رہا تھا۔شاید اس نے کسی قیمتی چیز کو بے احتیاطی سے صاف کیا تھا۔موقع غنیمت تھا۔لورا کو اشارہ کرکے میں سرعت سے دوسری خواب گاہ کی طرف بڑھا۔دو تین سیکنڈ کے اندر ہم نے وسیع ڈرائینگ روم عبور کیااور خواب گاہ کا دروازہ بے آواز کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔کھڑکیوں کے دبیز پردے گرے ہوئے تھے،اس لیے ملگجا اندھیرا چھایا تھا۔چھپنے کو بہترین مقام بیڈ کا نچلا حصہ تھا۔ہم نیچے کھسک کر خاموش لیٹ گئے۔امید تھی کہ گنپت اس خوب گاہ کی بھی صفائی کروائے گا،اسی وجہ سے ہمیں بیڈ کے نیچے گھسنا پڑا تھا۔مگر وہ اندر نہ آئے۔ڈرائینگ روم اور کوت کی صفائی کر کے ان کی باتوں کی آواز معدوم ہو گئی تھی۔مزید چند منٹ انتظار کر کے میں نے لورا کو باہر نکلنے کا کہا۔اور خود بھی کھسک کر نکل آیا۔لورا نے اپنا برقع بیڈ کے نیچے ہی چھپا دیا تھا۔یقینا ہمیں واپسی پر اس کی ضرورت پڑنا تھی۔برقع اوڑھنے سے بہترین میک اپ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
صفائی ہو جانے کے بعد رہائش گاہ کا داخلی درواہ قفل کر کے گنپت بے فکر ہو جایا کرتا تھا۔یہ دروازہ وشال گپتا کی واپسی ہی پر کھلتا تھا۔ہم نے ڈرائینگ روم کے صوفوں پر نشست سنبھال لی۔
لورا نے مجھے سوالیہ نظروں سے گھورا۔”کب تک لوٹے گا؟“
”مقرر وقت نہیں ہے،عموماََ سہ پہر کو لوٹا کرتا تھا،گاہے شام یا پھر رات بھی ہو جاتی تھی۔مگر ایسا خال ہی ہوتا تھا۔“
اس نے کوفت ظاہر کی۔”اتنالمبا انتظار۔“
میں نے کہا۔”چلو اس کے کوت کا جائزہ لیتے ہیں ،پھر خواب گاہ کی تلاشی لیں گے۔“
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ گئی۔ہم کوت میں گھس گئے۔
”ارے واہ۔“لورا کی آنکھوں میں تحسین ابھری۔اس نے سب سے پہلے بیرٹ 107ایم ایم کو پکڑا تھا۔”میری پسندیدہ رائفل۔“
”ہمیں ہتھیاروں کی ضرورت پڑے گی۔اور یقینا یہاں سے ہمیں اپنی پسند کے ہتھیار مل جائیں گے۔“
”صرف پستول ہی لے جاسکتے ہیں ۔کیوں کہ رائفلوں کو ساتھ پھرانا ممکن نہ ہوگا۔البتہ ایس آر ون لے جائیں گے۔اس کی موجودی میں ہمیں کسی بھی عمدہ سنائپر رائفل کا محتاج نہیں ہونے دے گی۔“
گلیل،ڈریگنو،ودوانسک اور بیرٹ 107کے ساتھ اب ایس آر ون بھی اس کے کوت کی رونق بنی ہوئی تھی۔
میں نے منہ بنایا۔”جب سے ایس آر ون کی خامی کاپتا چلا ہے اس سے دل ہی اٹھ گیا ہے۔“
”پچاس گولیوں تک تو اتنا درست فائر کرتی ہے کہ آپ بیرٹ 107،چٹک ایم 200اورایکوریسی انٹرنیشنل کو بھول جائیں گے۔“اس نے اعلیٰ قسم کی سنائپر رائفلوں کا نام گنوایا۔
میں نے کہا۔”لیکن عمر نہایت کم ہے نا۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”ہم نے کون سا مستقل اپنے پاس رکھنا ہے۔شکلا کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔“
میں معترض ہوا۔”اوراس دوران زیادہ گولیاں استعمال کرنا پڑیں تب کیا ہوگا۔“
”مجھے قتل وغارت کا شوق ہے ناتم اس مقصد سے انڈیا آئے ہو........“اور پھر ایک دم مجھے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے اس نے ذرا سا وقفہ لیا۔”ویسے تم کس مقصد سے انڈیا آئے ہو۔“
میں نے اطمینان سے پرانی کہانی دہرا دی۔”امریکہ میں سنائپر کورس کے دوران ایک ہندو سنائپر راج پال سے دشمنی ہوئی۔اور اس کی وجہ سے میری پلوشہ کو کمر پر اتنی سخت چوٹ لگی کہ اسے علاج کرانے کو امریکہ لے جانا پڑا۔بے چاری معذور ہوتے ہوتے بچی۔اسی سے بدلہ لینے یہاں پہنچا تھا۔لیکن کرن چاولہ کہہ رہا ہے وہ وزیرستان ہی میں ہلاک ہو گیا تھا۔اب نامعلوم جھوٹ بول رہا ہے یا مجھے بھٹکارہا ہے۔“
”تم اتنی دور ایک چھوکری کے زخمی ہونے کا بدلہ لینے آئے ہو۔اور اس کی وجہ سے اپنا یہ حال کرالیا ہے۔“اس کے لہجے میں افسوس تھا۔
”اللہ پا ک کی قسم اتنی دور ایک چھوکری ہی کے لیے آیاہوں ۔“میں نے حقیقت اس انداز میں اُگلی کہ وہ سچ نہیں جان پائی تھی۔کیوں کہ میں وہاں پرما انصاری کے لیے آیا تھا۔
اس نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں ۔”تمھیں کھان لڑکی اتنی پیاری ہے کہ اس کے لیے اتنا جوکھم ہنسی خوشی اٹھا لیا۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”سچ تو یہ ہے کہ پلوشے مجھے اپنی جان سے بھی عزیز ہے۔“
اس نے منہ بناتے ہوئے تبصرہ کیا۔”ایشیائی لوگوں کی احمقانہ محبت۔“
میں بغیر لگی لپٹے رکھے بولا۔”یہ احمقانہ محبت تمھاری لچر و بے ہودہ محبت سے کئی گنا اچھی ہے۔ کہ محبت کی معراج ہی جسمانی ملاپ کو سمجھ لیا گیا ہے۔“ اس دوران ہم نے اپنے پستول پھینک کر وہاں سے اعلیٰ ساخت کا ایک ایک پستول اٹھا لیا تھا۔اس نے زگانہ نائین ایم ایم پسند کیا،جبکہ مجھے گلا ک نائینٹین مل گیا تھا۔وہاں دو سائیلنسر بھی مل گئے تھے۔
زگانہ کو پیٹھ پیچھے اپنی جینز میں اڑستے ہوئے وہ فلسفیانہ انداز میں بولی۔” انسان آزاد پیدا ہوا ہے اوراپنے جسم کے بارے ہر انسان کو آزادی حاصل ہونا چاہیے۔جیسے بھوک لگنے پر انسان کسی بھی اچھے ہوٹل و ریستوران کھانا کھا سکتا ہے،یونھی غیر شادی شدہ ہونے پراپنی پسند یدہ شخصیت سے جسمانی تعلق بھی بنا سکتا ہے۔“
”یہی کام تو جنگل کے جانوربھی کرتے ہیں ۔کیا انسان کواشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ان سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولی۔”کیا میں نہیں جانتی تمھارے ملک میں یہ کام کتنی کثرت سے ہوتاہے۔“
”میں کسی فرد کی صفائی نہیں دے سکتا۔اپنے دین کا بتا سکتا ہوں کہ یہ فعل بہت بڑا گناہ ہے۔باقی میرے ملک میں اس گندے فعل میں ملوث کافی لوگ ملیں گے توکثیر تعداد ایسوں کی بھی ہے جو اپنی بیوی پر اکتفا کرنے والے ہیں ۔اور کسی غیر محرم کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور جہاں تک گناہ سرزد ہونے کا تعلق ہے توبرطانیہ میں بھی لوگ بہت سارے ایسے کام کرتے ہیں جن کی اجازت برطانیہ کا قانون نہیں دیتا۔“
وہ معنی خیز انداز میں بولی۔”اور تمھارا شمار کن افراد میں ہوتا ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”اتنے دن ہو گئے ہیں اکٹھے رہتے اب تک تعین نہیں کر سکی ہو۔“
”تم عام مردوں کی طرح نہیں ہو۔“محجوب انداز میں اعتراف کرتے ہوئے وہ دروازے کی جانب بڑھ گئی۔میں نے بھی متبسم ہو کر اس کے پیچھے قدم بڑھا دیے۔
کوت سے نکل کر ہم نے خواب گاہ کی اچھی طرح تلاشی لی مگر کوئی مفید شیئے ہاتھ نہ لگی۔گھنٹے ڈیڑھ کی خواری کے بعد ہم خواب گاہ میں رکھے فرج پر ہاتھ صاف کرنے لگے۔ مختلف اقسام کے عمدہ جوسوں کے علاوہ فرج موسمی پھلوں سے بھرا تھا۔ایک الماری میں مختلف شرابیں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔لورا نے ایک بوتل کھول کر آدھا گلاس بھرا۔
”ریجا پیو گے۔“شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے اس نے دعوت دی۔
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”پی تو شاید لوں ،مگر اس کے بعدخود پر قابو نہیں رہے گا او رہوسکتا ہے کوئی ایسی حرکت کر بیٹھوں کہ تم شکلا سے پہلے میرے قتل کے درپے ہو جاﺅ۔“
وہ خجالت سے بولی۔”تم نہیں سدھرو گے۔“میں کھل کھلا کر ہنس دیا تھا۔
ہم کافی دیر گپ شپ کرتے رہے۔یہاں تک کہ گھڑی کی سوئیاں تین کا ہندسہ عبور کر گئی تھیں ۔اب وشال گپتا کسی وقت بھی آ سکتا تھا۔گو اس کے استقبال کو ہم ذہنی طور پر تو پہلے ہی تیار تھے،مگر اب جسمانی طور پر بھی چوکنے ہو گئے تھے۔اپنی موجودی کے سارے نشان ہم نے مٹا دیئے۔جوس کے خالی ڈبے اور بوتلیں وغیرہ کوڑا کرکٹ کی ٹوکری میں ڈالیں اور کان دروازے کی طرف لگا لیے۔زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔اس کی روزمرہ تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ساڑھے تین بجے کے قریب دروازے پر آہٹ ہوئی۔اور ہم اس کی خواب گاہ میں گھس کر دروازے کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے۔
دبیز قالین کی وجہ سے اس کے قدموں کی چاپ نہیں ابھری تھی۔یوں لگا وہ ایک دم دروازے پر نمودار ہوا ہو۔وہ اکیلا تھا،اندر آتے ہی کرسی پر نشست سنبھالی اور جوتوں کے تسمے کھولنے لگا۔
”اگر چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں ۔“مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے میں آگے بڑھا۔
اس کے سر پر گویا پہاڑ آن گرا تھا۔اچھل کر کھڑا ہوا۔ہاتھ کوٹ کی جیب کی طرف بڑھا مگر میرے ہاتھ میں سائیلنسر لگا پستول دیکھتے ہی اس نے ہاتھ پہلو میں گرا لیا تھا۔
”سس....سندیپ تم....کیسے آنا ہوا۔“پہلے جھٹکے سے سنبھلتے ہی اس نے بہ ظاہر نارمل لہجے میں پوچھا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”گپ شپ کو من کر رہا تھااور لورا براﺅن کی بھی ضد تھی کہ وشال صاحب سے ملاقات کی جائے۔“
وہ ہکلایا۔”کک....کیوں نہیں ،آئیں تشریف رکھیں ۔“
میں لورا کی طرف دیکھے بغیر بولا۔”مادام تم رہائش گاہ کا داخلی دروازہ قفل کر دو۔“
وہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔
میں نے ہاتھ وشال کی طرف بڑھایا۔” پستو ل میرے حوالے کرو۔خواہ مخواہ کا وزن اٹھایا ہوا۔“
خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے مرے مرے ہاتھوں سے اپنا پستول نکال کر میری جانب بڑھا دیا۔ڈزرٹ ایگل نائن ایم ایم کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہوئے میں نے پیٹھ پیچھے پتلون میں اڑس لیا۔
”بیٹھو۔“میں نے خود بیڈ پر نشست سنبھال لی تھی۔
”سندیپ یقین جانو میری حیثیت ایک عام سے مہرے سے بڑھ کر نہیں ہے۔“
”تم نہیں جانتے میں کون ہوں ؟“اس کے بار بار سندیپ کہنے پر میں معترض ہوا۔
وہ ہکلایا۔”کک....کوئی خاص نہیں جانتا۔“
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”مذاق نہ کرو یار۔“
”تمھارانام راجا ذیشانی حیدر ہے اور پاکستانی سنائپر ہو۔بس اتنا پتا ہے۔“
لورا اندر آئی۔میں نے پوچھا۔”لورا کے بارے بھی کچھ نہیں جانتے۔“
”اتنا ہی پتا ہے جتنا شوٹنگ کلب میں اس کا تعارف کراتے ہوئے بتایا گیا تھا۔“
لورا نے اعتراض اٹھایا۔”ریجا،یہ انگریزی جانتا ہے۔اور ہندی سن کر مجھے الجھن ہوتی ہے۔“
میں انگریزی میں بولا۔”وشال گپتا صاحب!تمھاری وجہ سے میں جتنی اذیتیں اور تکالیف جھیل چکا ہوں ،اس کی تفصیل تو نہیں بتا سکتا۔البتہ ویسا ہی تمھارے ساتھ کر کے دکھا سکتا ہوں ۔بھولے بننے کا ناٹک چھوڑواور جتنا کچھ معلوم ہے اُگل دو۔یقینا اپنی چمڑی اور جان بچانے میں کامیاب ہو جاﺅ گے۔اور تمھیں معلوم ہونا چاہیے ،گزشتا چند دنوں میں اذیت رسانی کے اتنے طریقے سیکھ چکا ہوں کہ تم چند منٹ نہیں نکال پاﺅ گے۔“
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔”جان بخشی کا وعدہ کرو،میں سب کچھ بتانے کو تیار ہوں ۔“
میں اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے نرمی سے بولا۔”اگر سب کچھ آرام سے اُگل دو توتمھارا قصور معاف کیا جا سکتا ہے۔اور خیال رہے۔کافی باتوں کا پتا ہمیں چل چکا ہے۔ذرا سی غلط بیانی سے ہماری ہمدردیاں کھو دو گے۔اس لیے خوب سوچ سمجھ کر بولنا۔اور فکر نہ کرووقت وافر ہے۔“
خشک لبوں کو تر کرتے ہوئے وہ لجاجت سے بولا۔”تھوڑا پینے کو مل سکتا ہے۔“
”کیا پیو گے۔“لورا الماری کی طرف بڑھ گئی۔
وہ تھوک نگلتے ہوئے بولا۔”وسکی۔“
لورا ایک سنہرے مشروب کی بوتل اور دو گلاس اٹھا کر قریب آگئی۔ایک گلاس میں غلاظت انڈیل کروشال کی طرف کھسکایااوردوسرا اپنے لیے بھرنے لگی۔
وشال نے گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا لیا۔لورا کی نظریں میری جانب اٹھیں ۔اپنا گلاس میز پر رکھ کر وہ فرج کی طرف بڑھ گئی۔واپسی پر ہاتھ میں ٹھنڈا مشروب تھا۔
”شکریہ۔“مشروب پکڑنے کو میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔اسی وقت جیسے بجلی چمکتی ہے،وشال کے پاﺅں کی بھرپور ٹھوکر میرے پستول پر لگی۔پستول میرے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا تھا۔
اگلے ہی لمحے اس نے لورا کو چھاپ لیا،ایک بازو گلے میں ڈال کر اس نے لورا کی پشت اپنی چھاتی سے لگا لی تھی۔یقینا وہ پہلے ڈرنے کاناٹک کر رہا تھا۔اس کا بھائی زیر زمین دنیا کا نامور دادا تھا ،وہ خود اس کا دست راست تھا۔اتنا بودا نہیں ہو سکتا تھا کہ ہاتھ پاﺅں نہ مارتا۔
میں لاشعوری طور پر اس لیے بے فکر تھا کہ میری نظر میں وہ لڑائی بھڑائی کے فن سے نا آشنا تھا۔اور اس کی وجہ ا س کا پہلی ملاقات میں تین آدمیوں سے مار کھاتے ہوئے ملنا تھا۔یقینا تب ڈراما ہی رچایا گیا تھا۔ ممتا دیدی کا گھر چھوڑنے کے بعد وہ مجھے ایسا ٹھکانہ دینا چاہتے تھے جہاں میں ہر وقت ان کی نظر میں رہتا۔اور اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا جو انھوں نے سوچا تھا۔مجھے وشال گپتا پر احسان کرنے کے زعم میں مبتلا کر کے انھوں نے اپنا مطلب حاصل کر لیا تھا۔
سیانے کہتے ہیں ۔”جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجے۔“ اور بلاشبہ جاسوسی بہت مشکل اور دشوار کام ہے۔میں جاسوس نہیں تھا کہ اتنی گہرائی میں سوچ سکتا۔میرا دماغ سنائپنگ کے بارے زیادہ تیز تھا۔ یقینا کوئی تربیت یافتہ جاسوس ہوتا تو مسلسل اتفاقات پر چونک جاتا۔ممتا دیدی کا ملنااور پھر ان کے گھر سے نکلتے ہی وشال گپتا سے ملاقات اور اس کا فوراََ اپنے پاس رہنے کی پیش کش کرنا،میرے ماضی کے بارے سرسری سا پوچھ کر مطمئن ہو جانا،اپنا محافظ بنا لیناوغیرہ۔
لورا نے مچل کر اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کی ،مگر وشال نے اس کاایک بازو سختی سے مروڑ کر اس کی پیٹھ سے لگایااور اپنا دایاں بازو اس کے گلے میں ڈال کر گرفت سخت کر لی۔لورا لڑائی بھڑائی کے فن سے آشنا تھی مگر اس وقت بے بس نظر آرہی تھی۔
اگر قریب آنے کی کوشش کی تو اس کی گردن توڑ دوں گا۔“لورا کو قابو کرتے ہی اس نے سخت لہجے میں دھمکی دی۔
اسے نظر نداز کرتا ہوامیں اطمینان سے پستول کی طرف بڑھا۔گو میرے پاس وشال گپتا کاڈزرٹ ایگل نائین ایم ایم (Desert Eagle 9mm)موجود تھا،مگر اس پر سائیلنسر نہیں لگا تھا۔
گلاک اٹھا کر میں متبسم ہوا۔”گپتا جی،اس تتلی سے جو فائدہ اٹھانا تھا میں نے اٹھالیا۔اب یہ باسی کھانے جتنی اہمیت رکھتی ہے۔اور اس کا مرنا جینا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔تم شوق سے اس کی گردن توڑ سکتے ہو۔“
میرا پر اعتماد لہجہ اور اطمینان بھرا انداز اسے جِزبِز کر گیا تھا۔
” کہہ رہا ہوں پستول پھینک دو ورنہ اس کی جان جائے گی۔“وشال کی پھیکی دھمکی اس کی بوکھلاہٹ آشکارا کر رہی تھی۔
اچانک میں نے اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھرتی دیکھی۔ایک دم میں جان گیا کہ اس نے لورا کی جینز میں اڑسا ہوا پستول محسوس کر لیا ہے۔
لورا کا ہاتھ آزاد کرتے ہوئے اس نے فوراََ پستول تک رسائی پائی۔اور پستول برآمد کرتے ہی نال لورا کی کنپٹی سے لگادی۔مگر یہ دھیان نہیں رکھ سکا تھا کہ پستول کا ک نہیں تھا۔اور ایک ہاتھ سے پستول کو کاک کرنا ممکن بھی نہیں تھا۔کاک کرنے کو اسے ایک ہاتھ سے پستول پر گرفت رکھتے ہوئے ، دوسرے ہاتھ سے پستول کی سلائیڈ کو پیچھے کھینچ کر چھوڑنا تھا۔گو اس میں سیکنڈ بھرہی وقت خرچ ہونا تھامگر ایسے حالات میں سیکنڈ کی اہمیت گھنٹے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔
”میرے تین گننے تک اگر تم نے پستول نہ پھینکا تو یہ کام سے گئی....ایک....“پستول حاصل کرتے ہی اس کے لہجے میں اعتماد بڑھ گیا تھا۔
”مسٹر وشال جانتے ہو،جب ہوا دائیں سے بائیں چل رہی ہو تو سنائپراپنی شست ہدف پر کس جگہ سادھتا ہے،یقینا سب سے پہلے وہ اسے غیر مسلح کرنا چاہے گا۔باقی رہی گنتی ، تو وہ تم اپنے لیے گن رہے ہو۔“میں نے بین السطور لورا تک اپنا ارادہ پہنچا یا کہ میں وشال گپتا پر فائر کرنے والا ہوں ۔اور فائر بھی اس کے پستول پر کروں گا۔اور یہ بھی واضح کیا کہ اس کی گنتی میری گنتی ہے۔تاکہ اس کے تین کہتے ہی لورا اپنی گردن بائیں جھکائے،یوں مجھے زیادہ ہدف مل جاتا۔
اب معلوم نہیں اس کے بھیجے میں میری بات بیٹھی تھی کہ نہیں ۔البتہ میں فائر کو تیار ہو گیا تھا۔ وشال چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔اور اتنے کم فاصلے پر بھی پستول کی گولی سے باریک بینی سے نشانہ سادھنا آسان نہ تھا۔مگر فائر کرتے ہوئے میں نے خطرہ مول لینے کی پروا کبھی نہیں کی تھی۔صرف پلوشہ کے سر پر رکھے گلاس کو نشانہ بنانے کے علاوہ میری انگلی کبھی لبلبی پر نہیں کانپی۔
”اپنی بکواس پاس رکھو۔اور بہتر ہو گا پستول پھینک دو۔میں جانتا ہوں تمھارے دل میں اس بلبل کے لیے کیا جذبات چھپے ہیں ۔اگر اس کی پروا نہ ہوتی تو مکالمہ بازی میں وقت ضائع نہ کرتے۔“
”مسٹر وشال، یہ میری محبوبہ ہے نہ بیوی۔اور گزشتہ ایک ہفتے سے میرے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سو رہی ہے تو اب خود اندازہ کر لواس کی کتنی اہمیت باقی رہ گئی ہوگی۔“
وہ جھلاتے ہوئے بولا۔”جھوٹ بول رہے ہو۔“اسے گنتی کرنا بھول گیا تھا۔
”تمھیں شاید ایک سے آگے گنتی نہیں آتی۔چلو میں گن لیتا ہوں ۔دو....“میں نے اس کی گنتی آگے بڑھائی کہ اس کے بغیرمیں لبلبی دبانے کے لمحے سے لورا کو باخبر نہیں رکھ سکتا تھا۔
”مسلے، دھمکی نہیں دے رہا ،میں سچ مچ اسے ............“
”تین....“قطع کلامی کرتے ہوئے میں نے گنتی مکمل کی۔میرے ”تین کہتے ہی۔“لورا نے ایک دم اپنا سر دائیں جانب جھکایا،وشال کو لگا وہ جان چھڑانے کی کوشش کر رہی ہے۔اس نے دائیں ہاتھ کی گرفت اس کی گردن پر سخت کرنا چاہی۔مگر اس سے پہلے میں لبلبی دبا چکا تھا۔
”ٹھک۔“کی آواز کے ساتھ اس کے منہ سے زوردار کراہ نکلی تھی۔میں نے جان بوجھ کر گولی پستول پر مارنے کے بجائے اس کے ہاتھ کی پشت پر ٹھوکی تھی۔کیوں کہ پستول پر لگنے کی صورت میں گولی اچٹ کر لورا کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔اور میں اپنے ساتھی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔
ایک دم لورا کو گرفت سے آزاد کرتے ہوئے اس نے اپنا زخمی ہاتھ دبا لیا تھا۔
گردن سے بازو ہٹتے ہی لورا مڑی،اگلے ہی لمحے اسکا بھرپور مکاوشال کی ٹھوڑی پر لگا،وہ لہرا کر نیچے گر گیا تھا۔لورا نے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیا۔
”حرامی....غلیظ سور....تیری ماں ........“اس کی زبان پاﺅں سے بھی تیز چل رہی تھی۔
یقینا وشال نے اسے جکڑتے وقت نازیبا حرکات بھی کی تھیں ،تبھی لورا کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔ آزادی نسواں کی علم برداراور میرا جسم میری مرضی کی دعوے دار کے جسم میں شاید کسی مشرقی لڑکی کی روح مقید تھی۔ کیوں کہ اس سے پہلے بھی چھیڑنے والوں پر وہ یونھی تپ جایا کرتی تھی۔
وشال مضروب ہاتھ کو پکڑے ہوئے درد سے کراہتا رہا۔
میں نے پستول اٹھا کر لورا کی طرف بڑھایا۔”یہ لواور اسے میرے لیے چھوڑ دو۔“
پستول لیتے ہوئے وہ مجھ پر چڑھ دوڑی۔”کیا بکواس کر رہے تھے،تمھارے ساتھ سوتی رہی ہوں ۔“
”کیا لگتا ہے یہ وقت تکرار کا ہے۔“میرا لہجہ حد سے زیادہ خشک بلکہ اسے ڈانٹنے والا تھا۔ وہ ٹھٹک کر رکی اورپیچھے ہٹ گئی۔ میں اندازہ نہ لگا سکا کہ خفا تھی، نادم تھی، ڈر گئی تھی یا شایدغصے میں تھی۔
میں نے تیز دھارچاقو سے بستر کی قیمتی چادر سے پٹی پھاڑی اور کس کر وشال کے زخمی ہاتھ پر باندھ دی کہ خون کا اخراج روکنا ضروری تھا۔وہ اذیت بھرنے انداز میں کراہتا رہا۔
سائیلنسر لگے پستول کی نال سے اس کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے میں زہر خند ہوا۔”یقینامیری ہمدردی تمھیں نہیں چاہیے تھی،تبھی اذیتوں کا انتخاب کیا۔“
وہ منمنایا۔”مم....مجھے معاف کردو۔“
میں اردو میں بولا۔”شاید کر بھی دوں ،مگر یہ گوری اپنی توہین معاف کرنے پر تیار نہ ہوگی۔“
وہ ندامت سے بولا۔”قسم سے توہین کے ارادے سے نہیں چھوا،بس خود پر قابو نہیں رہا تھا۔“
”خیر یہ بعد کا مسئلہ ہے پہلے کچھ اور باتیں ہو جائیں ۔“اطمینان بھرے انداز میں کہتے ہوئے میں نے تفتیش کا آغاز کیا۔”تم ایجنسی کے مخبر ہو یا تربیت یافتہ سپاہی ہو۔“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”ہمارا را کے ساتھ معاہدہ ہے،ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کو ہم ان کا ساتھ دیتے ہیں اور وہ ہمارے غیر قانونی دھندوں سے آنکھیں بند رکھتے ہیں ۔“
میں نے اگلا سوال پوچھا۔”شکلا کے ساتھ کیا تعلق ہے۔“
”ہمارے کافی دھندوں کا سرپرست وہی ہے۔اس سے ایجنسیاں بھی بے خبر نہیں ہیں ،مگر شکلا کے تعلقات اعلیٰ حلقوں تک پھیلے ہیں ۔اور اس کے خلاف کچھ ثابت کرنا سمجھو ناممکن ہے۔“
اور پھر میں مسلسل سوال پوچھتا گیا۔اس نے صاف گوئی سے سب کچھ اگل دیا تھا۔کیوں کہ میں نے چند سوال ایسے بھی پوچھے تھے جن کے بارے مجھے پہلے سے معلوم تھااور اس نے درست جواب دیا تھا۔ اس کی گفتگو کا لبِ لباب یہی تھا کہ ڈینو کی شہادت کے وقت ہی میں کرن چاولہ کی نظروں میں آگیا تھا۔ اس نے نہ صرف میری موجودی کا اندازہ لگا لیا تھا بلکہ بیڈ کے قریب پھیلے خو ن کو دیکھ کراسے میرے زخمی ہونے کا بھی پتا چل گیا تھا۔ لیکن میرے مقامی مددگاروں کو گرفتار کرنے کے لالچ میں اس نے مجھے عارضی طور پر جانے دیا۔میرے زخمی ہونے کی وجہ سے انھیں میرا رخ اپنی مرضی کی سمت موڑنے میں آسانی رہی تھی۔داہنی دیوار کے ساتھ گملوں کا ریک انھوں نے خود رکھا تھا تاکہ میں اسی سمت کا رخ کروں ۔یقینا ایک زخمی کو دیوار عبور کرنے کو سہارے کی ضرورت تھی۔گو دیوار کی نسبت دروازے سے نکلنا زیادہ آسان تھا،مگر دروازے کے سامنے انھوں نے پہرے دار متعین کر دیا تھا تاکہ میں دروازے سے نہ نکل سکوں ۔ممتا دیدی کے گھر سے نکلتے وقت ایک تو میری کلائی پر مخصوص گھڑی بندھی تھی جس میں آلہ نشان دہی (انڈیکیٹر) چھپا تھا۔دوسرا انھوں نے وشال گپتا والا ڈراما کر کے ایک بار پھر مجھے اپنی نگرانی میں رکھ لیا۔کیوں کہ میں گھڑی کسی بھی وقت اتار سکتا تھا۔ممتا دیدی سے میری عقیدت ان کی نظر میں کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں ہو سکتی تھی۔یوں بھی جاسوس جذبات و احساسات کو پس پشت رکھ کر صرف اور صرف اپنے ملک کی سلامتی کا سوچتا ہے۔کئی بار اخلاقی ضابطوں اور کردار کو ملکی سلامتی کی خاطر قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنا محافظ بنانے کے بعد وشال گپتا نے مجھے کھلی چھوٹ دینا تھی تاکہ میں اطمینان سے اپنے ساتھوں سے رابطہ کرسکتااور کرن چاولہ ان کے ٹھکانے تک پہنچنے کے بعد مجھے بھی گرفتار کرلیتا،مگر اس منصوبے کی راہ میں شکلا آن ٹپکا۔انھی دنوں لورا براﺅن کی آمد ہوئی تھی۔اور شکلا سنائپر رائفلوں کی خریداری میں سنجیدہ تھا،مگر لورا براﺅن سے پہلی ملاقات کے بعد اس نے لندن میں اپنے کارندوں کے ذریعے لورا کے بارے معلومات لینا چاہی تب اسے لورا کے کیس تک رسائی ہوئی۔اور یہ جانتے ہی اس کے دماغ میں لورا کے حصول کی غلیظ خواہش کے ساتھ ایس آر ون کو ہتھیانے کا شیطانی منصوبہ پیدا ہوا۔سونے پر سہاگہ ایک پاکستانی جاسوس کی دستیابی تھی کہ میری وجہ سے لورا کے جرم کا وزن کئی گنا بڑھ گیا تھا۔اب پچھلے ایک ہفتے سے وہ پاگلوں کی طرح ہماری تلاش میں سر گرداں تھے،لیکن ان کی تلاش باآور ثابت نہیں ہوئی تھی۔لورا کے کہنے پر ڈیوڈ نے بھی اب تک ایس آر ون نہیں بھجوائی تھیں ۔گو شکلا کے پاس لورا کی وڈیوز موجود تھیں ،مگرہم دونوں کے فرار کی وجہ سے ان وڈیوز کی اہمیت ختم ہو گئی تھی۔ کیوں جس جرم کامنصوبہ بنا تھا وہ انجام کو نہیں پہنچا تھا۔اب لورا کی وڈیو کے کئی احتمال ممکن تھے۔اور وڈیو کو اس کے خلاف استعمال کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔
لورا کی سہولت کو میں وشال سے انگریزی میں محو گفتگو رہا تھا۔وہ دوران گفتگو لا تعلق و بے پروا سی بیٹھی رہی۔ یقینا میرے ڈانٹنے کو اس نے شدت سے محسوس کیا تھا۔
”کرن چاولہ کہاں مل سکتا ہے۔“چونکہ میرا ارادہ اسے زندہ چھوڑنے کا تھا اس لیے میں ایسے انداز میں سوال کر رہا تھا کہ انھیں میرے اگلے اقدام کے بارے اندازہ لگانے میں آسانی نہ ہو۔
”وہ بہ ظاہرایک کاروباری شخصیت ہے عموماََاپنی کمپنی کے دفتر میں ملتا ہے۔“
میرے پوچھنے پر اس نے کمپنی کا نام پتا بتا دیا۔
میں نے پوچھا۔”یقینا اپنی حفاظت کا اہتمام تو کرتا ہوگا۔“
وشال کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔”کرن چاولہ ایسی بلا کا نام ہے کہ لوگوں کو اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔البتہ روزمرہ کام کے چند بندے اس کے دائیں بائیں موجود رہتے ہیں ۔“
”شکلا کا اتا پتا....؟“
”اپنے محل کے علاوہ اس کا مخصوص ٹھکانہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔اور نہ اس کے بارے کوئی زیادہ جانتا ہے۔“
”تمھیں پتا ہونا چاہیے کہ اس کے خاص آدمی ہو۔“
”اس کا تعلق راجپوت بھائی سے ہے۔اور مجھے بھی راجپوت بھائی کے واسطے سے کبھی کبھار شرف ملاقات بخش دیتا ہے۔ وہ بھی جب اسے مجھ سے کوئی کام ہو۔“
میں نے فوراََ پوچھا۔”اورراجپوت دادا کہاں ملے گا۔“
اس نے نصیحت کی۔”بہتر ہوگابھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالواور طبعی عمر تک زندگی کے مزے لوٹو۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 33
ریاض عاقب کوہلر
اس نے نصیحت کی۔”بہتر ہوگابھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالواور طبعی عمر تک زندگی کے مزے لوٹو۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”اور یہ غلط فہمی تمھیں کب سے ہے کہ راجپوت دادا پر ہاتھ ڈالنااتنا مشکل ہے۔“
وہ معنی خیز انداز میں بولا۔”شما (معذرت)چاہتا ہوں ۔“
میں اگلے سوال پر آیا۔”ممتا دیدی کہاں ملیں گی؟“
وہ ہنسا۔”اس کا نام سنیتا جیسوال ہے۔بہت چالو پرزہ ہے۔خطرناک،چالاک اور مطلب پرست۔ سوائے کرن چاولہ کے کسی کو پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتی۔“
میرے دماغ کو جھٹکا لگا تھا۔وہ ڈینو سے شردھا سہنا بن کر ٹکرائی تھیں ۔مجھے ممتا وشنول کے نام سے ملیں اور اصل نام سنیتا جیسوال تھا۔یہ بھی ممکن تھا سنیتا بھی ان کا اصل نام نہ ہوتا۔بہ ہر حال وہ کیسی بھی تھیں مجھے وشال کا انداز گفتگو اچھا نہیں لگا تھا۔میں اس پر چڑھ دوڑا۔
”مسٹر گپتا!تمھاری پہلی غلطی جانتے ہوئے چھوڑ رہا ہوں ۔اگر اس کے بعد ممتا دیدی کے بارے بکواس کرنے کا سوچا بھی توزندگی کی ضمانت ضبط کرا بیٹھو گے۔ان کا نام ممتا ہے ،شردھا ہے یا سنیتا،اس سے فرق نہیں پڑتا۔بس یہ یاد رکھنا وہ میری دیدی ہیں ۔“
وہ جلدی سے بولا۔”غلطی ہو گئی معافی چاہتا ہوں ۔“
میں نے سرزنش کی۔”غلطیاں کرنے والوں کی زندگی عموماََمختصر ہوتی ہے۔“
اس نے ندامت ظاہر کی۔”دوبارہ موقع نہیں دوں گا۔“
میں زہر خند ہوا۔”میں بھی۔“
وشال جلدی سے ممتا دیدی کے بارے تفصیل بتانے لگا۔”اس کی رہائش آنند نگر میں ہے۔مگر وہ کبھی کبھار ہی وہاں جاتی ہے۔گاہے گاہے کرن چاولہ کے دفتر میں بھی نظر آجاتی ہے۔را کے ہیڈکواٹر میں بھی اس کی رہائش رہتی ہے۔اور دوران ڈیوٹی کسی ہوٹل ،ریستوراں یا گیسٹ روم وغیرہ میں بھی رات گزار لیتی ہے۔بہ ظاہر آوارہ مزاج ،بے باک اورسہل الحصول لگتی ہے،مگر درپردہ مضبوط کردار کی ہے۔کرن چاولہ کو پسند کرتی ہے اور وہ بھی اس پر جان دیتا ہے۔شاید جلد ہی شادی کر لیں ۔“
”سلطان دادا کیسا شخص ہے؟“میں نے بغیر کسی مطلب کے پوچھا۔
وہ صاف گوئی سے بولا۔”کام سے کام رکھنے والا آدمی ہے۔“
”جنرل دلبیر سنگھ سوہاگ کے بارے کچھ جانتے ہو۔“انھیں بھٹکانے کومیں نے انڈین آرمی کے ایک سینئر جنرل کا نام لیا۔
وشال نے نفی میں سرہلایا۔”دھیرندر شکلا صاحب کے علاوہ آرمی کے کسی ریٹائرڈ یا حاضر سروس آفیسر سے تعلقات نہیں ہیں ۔“
میں نے ایک اور جنرل کا نام پوچھا۔”پھر تو تم جنرل روات صاحب کے بارے بھی کچھ نہیں جانتے ہو گے۔“
”اس کا نام بھی نہیں سنا۔“
”کیا شکلا کو معلوم ہوگا،کشمیر کے محاذ پر اب کس جنرل نے تعینات ہونا ہے۔“
”شما چاہتا ہوں مگر آرمی سے متعلقہ معلومات آپ کو کرن چاولہ یا پھر شکلا صاحب سے معلوم ہوں گی۔آپ کی دیدی بھی اندر کی خبریں رکھنے کی ماہر ہے۔اس سے بھی کارآمد معلومات مل سکتی ہیں ۔“
”تمھارا بھائی کوئی رہنمائی کر سکتا ہے۔“
وشال نے نفی میں سرہلا دیا۔
میں نے چند اور بے مقصد سوال کر کے تفتیش ختم کرنے کااعلان کیا۔”جان بچانے کی کتنی قیمت ادا کر سکتے ہو۔“
”آپ مانگیں ۔“اس نے گیند واپس پھینکی۔
میں نے بغیر سوچے اگلا۔”بیس لاکھ۔“
”منظور ہے۔“اس نے اثبات میں سرہلانے میں دیر نہیں کی تھی۔
”تم نے کچھ پوچھنا ہے۔“میں لورا کو مخاطب ہوا۔
اس نے بے رخی سے چہرہ موڑ لیا تھا۔سخت ناراض و خفا دکھائی دے رہی تھی۔بلا شبہ لڑکیوں کا روٹھنالاڈ اٹھوانے اور اپنی اہمیت جتانے کو ہوتا ہے۔مگر ایسا رویہ اپنے محبوب کے لیے روا رکھتی ہیں ۔ہر ایرے غیرے سے خفا کوئی بے وقوف ہی ہوسکتی ہے۔اورمجھے لورا سے بے وقوفی کی توقع نہیں تھی۔اسے اپنے حال پر چھوڑتے ہوئے میں نے وشال کو اٹھنے کا اشارہ کیا۔
مجھے ساتھ لیے وہ کوت کی سمت بڑھ گیاتھا۔ہتھیاروں کی ایک الماری کو ہلکا سا دھکا دے کر اس نے الٹا گھمایا،گھومتے ہی الماری دائیں بائیں کھسکنے کو تیا رہو گئی تھی۔الماری کو دائیں جانب دھکیلنے پرعقب سے مضبوط فولاد کی تجوری کی جھلک دکھائی دی۔مخصوص نمبر ملا کر اس نے دروازہ کھولا،تجوری میں کافی دولت موجود تھی۔مگر میں منہ مانگا مطالبہ پیش کر چکا تھا۔اب زیادہ دولت کو دیکھ کر زبان سے پھرنا کسی طور مناسب نہیں تھا۔
اس نے گن کر بڑے نوٹوں کی دس گڈیاں میری جانب بڑھا دیں ۔تجوری قفل کی اور الماری سیدھی کرکے اسے چھپا دیا۔
مومی لفافے میں لپیٹ کرمیں نے پلاسٹک کے مضبوط بیگ میں رقم اور ایس آر ون کا تھیلا منتقل کیا اور بیگ کندھوں میں پہن لیا۔خواب گاہ کی طرف بڑھتے ہوئے میں نے ارادہ ظاہر کیا۔”ایک بات یادرکھنا، دوبارہ یہاں آنے کا موقع ملا تو تجوری میں جھاڑو پھیر کر جاﺅں گا۔“
وشال پھیکے لہجے میں سے بولا۔”مجھے لگا تھاآپ ابھی یہ کام کریں گے۔“
میں نے متبسم ہوا۔”مسلمان زبان دے کر نہیں پھرا کرتا۔“
وہ تحسین آمیز لہجے میں بولا۔”صرف سنتا تو کبھی یقین نہ کرتا۔“
میں نے مطالبہ کیا۔”ہمیں کوٹھی سے باہر چھوڑ آﺅ۔“
”یقینا آپ مجھے یر غمال بنا کر کچھ فاصلے تک ساتھ لے جائیں گے،تو کیوں نہ جانے سے پہلے میری مرہم پٹی کر دو۔یہاں طبی امداد کا سامان موجود ہے۔“
میں نے پسندیدگی سے سر ہلادیا۔اگلے دس پندرہ منٹ میں اس کی مرہم پٹی کر کے ہم جانے کو تیار تھے۔
”اس پر نظر رکھو،میں سامان لے آﺅں ۔“لورا کی خفگی کی پروا کیے بغیر میں نے اسے ذمہ داری سونپی اوردوسری خواب گاہ کی طرف بڑھ گیا۔لورا کا برقع بیگ میں ٹھونس کر باہر نکل آیا۔میں نہیں چاہتا تھا کہ وشال گپتا کولورا کے نقاب اوڑھنے کی بابت پتا چلے۔یوں ان پکا دھیان نقاب پوش لڑکیوں پر مرکوز ہوجانا تھا۔ گو ان کے لیے یہ احتمال سوچنا مشکل نہ تھا،مگر یقین اور ظن میں بہت فرق ہوتا ہے۔اور میں ان کے گمان کو یقین میں نہیں بدلنا چاہتا تھا۔
میری واپسی تک لورا کڑے تیوروں سے وشال کو گھورتی رہی۔مگرزخمی وشال کی حیثیت پر کٹے پرندے کی سی تھی جو اڑنا تو جانتا ہو مگر پروں کا کٹنااس کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔
”یقینا غلط حرکت کا انجام تم جانتے ہوگے۔“باہر نکلنے سے پہلے میں نے اسے متنبہ کرنا ضروری سمجھا۔
وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”اب غلطی نہیں ہوگی۔“
میں نے وشال کے زخمی ہاتھ پر اس کا ایک کوٹ یوں ڈال دیا تھاجیسے کوئی گرمی کی وجہ سے کوٹ اتار کر بازو پر ڈال لے۔یوں اس کا زخمی ہاتھ چھپ گیا تھا۔اپنا پستول پتلون میں اڑس کر میں نے لورا کو اس کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا کہا اور خود ایک قدم پیچھے چلنے لگا۔
اس کی رہائش گاہ سے باہر آکر میں بہت زیادہ چوکنا ہو گیا تھا۔
انھیں خاموشی سے چلتے دیکھ کر میں نے ہدایت دی۔”دونوں مسکرا کر دوستانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے چلو۔“
لورا کا موڈ آف تھا۔مگر حالات کی نزاکت اس کی نظر سے اوجھل نہیں تھی۔وشال کے ٹھیک بازو میں بازو ڈال کر لورا اس سے چپک کر چلنے لگی۔وشال اس کا پرانا چاہنے والا تھا،اس عنایت پر کھل اٹھا تھا۔گو اسے بھی لورا کی قربت کی وجہ اچھی طرح معلوم تھی ،مگر چاہنے والے آم کھاتے ہیں پیڑ نہیں گنتے۔
چند ملازموں سے سامنا ہوا،مگر وہ ادب سے نمستے کہہ کر اپنے راستے چلتے رہے۔شام کا ملگجا اندھیرا پھیل گیا تھا۔ہم نے وشال گپتا سے تفتیش میں کافی وقت گزاراتھا۔
پارکنگ میں جا کر لورا نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی،وشال اس کے پہلو میں بیٹھ گیاتھا۔میں نے عقبی نشست پر قبضہ جمایااور ہم چل پڑے۔چوکیدار نے کار کی روشن بتیاں دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا تھا۔
وشال کی کوٹھی سے نکل کر ہم گلی میں مڑے اور پھر سڑک پر پہنچتے ہی میں نے لورا کوکار روکنے کا کہا۔
اس نے بغیر استفسار کے بریک دبا دی۔
”مسٹر وشال!تمھارے ساتھ میری کوئی دشمنی نہیں ہے۔اور امید کرتا ہوں تم میرے معاملے میں ٹانگ نہیں اڑاﺅ گے۔تمھارا ہاتھ اپنی غلطی کی وجہ سے زخمی ہوا ہے،یقینا ہمیں دوش نہیں دو گے۔اور اب اتر جاﺅ۔“
”شکریہ۔“اتنی جلدی جان چھوٹنے پر وہ خوشی سے چہکتا ہوا نیچے اتر گیا۔لورا نے کار آگے بڑھا دی۔ تھوڑی دور آتے ہی میں نے اسے کار روکنے کا کہہ کر برقع اس کی جانب بڑھا دیا۔
وہ بھناتے ہوئے بولی۔”اس کی کیا ضرورت ہے ،رات کو کچھ نظر نہیں آتا۔“
”پہنو۔“میرالہجہ ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔
”تم مجھ پر حکم نہیں جما سکتے۔“وہ بگڑ گئی تھی۔
میں بے مروتی سے بولا۔”ایسا بس تم سوچتی ہو۔“
وہ درشتی سے بولی۔”تم نے وہاں بھی کافی بے ہودہ گفتگو کی،جسے میں برداشت کر گئی۔اگر احسان جتا کر اور مجھ پر حکم چلا کر مدد کرنا چاہتے ہو تو مجھے تمھاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔“
”تم اس کے قابو میں تھیں ،کیا تمھاری پاکیزگی کا قصیدہ پڑھ کر ،تمھیں اپنا جانو بتلا کر اس کا پلہ بھاری کر سکتا تھا۔تم بچی ہو ،معلوم نہیں ہے کہ دشمن کو کیسے غلط فہمی میں مبتلا کیا جاتا ہے۔“
مجھے خفگی بھری نظروں سے گھور تے ہوئے وہ باآواز بلند بڑبڑائی۔”تم بس بکواس کر سکتے ہو۔“ اور باہر نکل کر نقاب اوڑھنے لگی۔
میں بھی باہر آگیا۔اس کے تیار ہوتے ہی ہم پیدل چل پڑے۔ کار کو مزید استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا تھا۔پچاس ساٹھ قدم لیتے ہی خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔ہم رہائش سے تھوڑے فاصلے پر اترے اور اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھ گئے۔وشال سے ملاقات کے بعد اس جگہ پر میرا اعتماد بڑھ گیا تھا۔
مالک مکان کو ہم دن کا کھانانہ بنانے کے بارے مطلع کر گئے تھے۔گو وشال گپتا کے فرج سے کافی کچھ کھانے کو ملا تھا،مگر اس کے باوجود سخت بھوک محسوس ہورہی تھی۔بوڑھی مالکن کو پر تکلف کھانے کا بتا کر ہم کمرے میں چلے آئے۔لورا مجھ سے پہلے تازہ دم ہونے غسل خانے میں گھس گئی۔نہا کر اس نے شلوار قمیص ڈال لی تھی۔بلا شبہ مشرقی لباس عورت کی خوب صورتی میں اضافہ کر دیتا ہے۔مغربی لباس جذبات کو برانگیختہ تو کر سکتا ہے۔ پاکیزگی و تقدس کا احساس اس سے نہیں ہوتا۔میرے تازہ دم ہونے تک مالک مکان کی بیٹی کھانا لے آئی تھی۔شاید انھوں نے پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔یہ بھی ممکن تھا ہوٹل سے منگوایا ہو۔
خیر سخت بھوک لگی تھی اور میں پیڑ گننے میں وقت ضائع نہیں کر سکتا تھا۔لورا براﺅن بھی مشرقی کھانوں کی دلدادہ تھی۔وہ انگریزی پھیکے کھانوں کو خاص پسند نہیں کرتی تھی۔شاید اس کی وجہ افغانستان میں گزارا ہوا وقت تھا کہ پٹھانوں کے کھانے زیادہ لذیز و ذائقے دار ہوتے ہیں ۔
کھانا کھا کر ہم نے برتن واپس کیے اور میں دروازہ کنڈی کر کے نماز پڑھنے لگا۔اس جگہ مجھے کافی وقت ملا تھا۔یقینا ایک مسلمان کے لیے نماز ایسی ہی ہے جیسے مچھلی کے لیے پانی اور بلبل کے لیے باغ ہوتاہے۔ بلاشبہ سارے دنیاوی کا موں کی تکمیل بھی جسم و روح کوپر سکون و بے فکر نہیں سکتی جب تک کہ آخرت کی تیاری نہ کی جائے۔منکر نکیر نے مجھ سے سنائپنگ کا امتحان نہیں لینا تھا۔اور نہ اچھی نشانہ بازی کے گرمیری جان چھڑا سکتے تھے۔ ہمارے استاد اس بارے بہت سخت تھے۔خالی تربیت پر زور نہیں دیتے تھے۔اس کے ساتھ دین پر چلنے کی بھی بھرپور ترغیب دیتے تھے۔
لورا نے پہلی بار مجھے نماز پڑھتے دیکھ کر حیرانی ظاہر کی تھی۔کافی سوالات بھی کیے تھے۔لیکن اب وہ عادی ہو گئی تھی۔میرا نماز پڑھنا اسے حیران نہیں کرتا تھا۔وہاں میں مسافر تھا کیوں کہ میرا ممبئی میں رہنے کا عرصہ متعین نہیں تھا۔اس وجہ سے مختصر نماز پڑھنے کی سہولت موجود تھی۔سفر کے دوران فرائض کا نصف ہونا اور سنتوں کی چھوٹ ملنا بھی مسلمانوں کو اللہ پاک کی طرف سے بہت بڑی نعمت و سہولت ہے۔بلاشبہ اسلام کی تعلیمات پر غور و فکر کرنے سے انسان کو اسلام کی حقانیت پر شرح صدر ہوتا ہے۔اتنی بہترین اور فطرت کے موافق کسی بھی دین کی تعلیمات نہیں ہیں ۔بلکہ باقی ادیان پر غور کرو تو عبادتیں تو کجا ان کے عقائد واضح نہیں ہیں ۔بہ ہرحال یہ موقع اسلام کی حقانیت پر بات کرنے کا نہیں ہے،نہ میں اتنی استطاعت رکھتا ہوں ۔یہ تو علماءکرام کا کام ہے۔جو انبیاءکرام ؑکے وارث ہیں ۔اللہ پاک علمائے حق کی استقامت و حوصلہ بڑھائے کہ انھی کی وجہ سے آج بھی اسلام اپنے اصل پر کھڑا ہے۔سارے ادیان مسخ ہو چکے ہیں ،ان میں حقیقی روح باقی نہیں رہی۔لیکن دین اسلام کے سچے طلب گاروں کی مکمل تشفی و تسلی کو کئی درسگاہیں و مدارس اپنی آغوش وا کیے بھٹکے ہوﺅں کو راستہ دکھانے کو موجود ہیں ۔
نماز پڑھ کر میں بیڈ کی طرف بڑھا،لورا اپنا بیڈ کافی دور کھینچ کرلے گئی تھی۔ میرے لبوں پر مسکراہٹ رینگی۔ پہلے دونوں بیڈ وں میں فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اور جو تھوڑا سا فاصلہ تھا وہ بھی میں نے پیدا کیا تھا۔ اور اب وہ مجھ پر بے اعتباری ظاہر کرتے ہوئے اپنے بیڈ کو خواب گاہ کے دوسرے کونے میں لے گئی تھی۔
میں نے شرارتی لہجے میں پوچھا۔”اتنابے اعتبارکب سے ہو گیا ہوں ۔“
وہ آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔کھولنے کی زحمت کیے بغیر برہمی سے بولی۔”بھول گیا،وشال گپتا کے سامنے کیا بکواس کی تھی۔“
میں نے قہقہ بلند کیا۔”کیا خیال ہے وہ اس وجہ سے بولا تھا کہ ہمارے بیڈ نزدیک نزدیک پڑے تھے۔“
” مذاق اڑانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔“وہ بپھر کر اٹھ بیٹھی تھی۔” تمھاری محبوبہ ہوں نہ بیوی ،ایک ہفتے سے تمھارے ساتھ سو رہی ہوں اورمجھ جیسی لڑکی کا ایک ہی مصرف ہے کہ غلیظ خواہش پوری کر کے ٹھڈا لگادو،یہی بکواس کی تھی ناں ۔“
میں نے اطمینان سے سر ہلایا۔”اور کہا تھا یہ میرے لیے باسی کھانے جتنی اہمیت رکھتی ہے اور اس کا مرنا جینا ایک برابر ہے۔“
وہ برہمی سے بولی۔”سارے مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ،غلیظ،گھٹیا اور مطلب پرست۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”اب ذرا یہ بھی وضاحت کردوتم سے کون سا مطلب پورا کیا ہے ، میری کون سی غلاظت تم پر آشکارا ہوئی ہے۔ اور گھٹیا کیوں ہوں ۔“
میرے تیوروں نے اسے گڑبڑا دیا تھا،مصلحت آمیز لہجے میں بولی۔”کیا ایسا کہنا رواتھا۔“
میں نے کڑے لہجے میں پوچھا۔”کن حالات میں کہا تھا؟“
وہ مجھے غلط ثابت کرنے پر تلی تھی۔”کیاحالات ،گھٹیا گفتگو کی اجازت دیتے ہیں ۔“
میں بگڑ کر بولا۔” تربیت یافتہ سنائپر ہو کرتم ایک غنڈے کی آغوش میں تھیں ،کیا کہتا....اس کی منتیں شروع کر دیتا کہ میری محبوبہ کو چھوڑ دو ورنہ مجھے کچھ ہو جائے گا۔خدا کے لیے اس معصوم ،پاکیزہ و مقدس کو کچھ نہ کہو، بے شک مجھے جان سے ماردو۔“
وہ چلائی۔”تم طنز نہیں کر سکتے۔ شکلا کتے کے زبردستی کرنے کا مطلب یہ نہیں میں جسم فروش ہوں ۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”تمھاری سمجھ میں میرا فلسفہ نہیں آرہاکہ وشال کو غلط فہمی میں مبتلا رکھنے کو میرا ایسا بولنا ضروری تھا۔“
”اپنے فلسفے پاس رکھواور مجھے ماتحت سمجھنے کی غلطی نہ کیا کرو۔“
”محترمہ،یقینا تمھارا ساتھ دینامیری حماقت ہے۔جو گزر گیااس پر معذرت،صبح براہ مہربانی جہاں مرضی ہو تشریف لے جانا۔اور یہاں رہنا چاہو تو مجھے جانا ہوگا۔“
اس نے شاکی نظروں سے مجھے گھورااور خاموشی سے لیٹ گئی۔بے چاری میری محتاج ہو گئی تھی۔اس کا سب سے بڑا مسئلہ زبان تھا۔گو انڈیا میں انگریزی سمجھنے والے کثیر تعداد میں ہیں ،مگر جسے قانون سے چھپنا ہو اس کے لیے مقامی زبان سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔
مجھے اس کی خفگی کی پروا نہیں تھی۔ایک اتنی مشکل سے اس کی جان بچائی تھی اوپر سے اس کے نخرے ختم ہونے میں نہیں آرہے تھے۔گو میرے لیے بھی اس کا سہارا غنیمت تھا۔وہ تربیت یافتہ سنائپر تھی۔لڑائی بھڑائی کے فن سے آشنا،عورت ہونا مزید فائدہ مند تھا کہ بہت سے مقامات پر عورت مرد سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔ ڈینو کی شہادت کے بعد میں بالکل تنہارہ گیا تھا۔کہتے ہیں ایک اکیلا دو گیارہ ہوتے ہیں ۔اور خودکو گیارہ رکھنے کو اس کا ساتھ ضروری تھا۔اسے دھمکانا فقط ڈرانے کو تھا تاکہ اس کی فضول تکرار سے جان چھوٹ جائے۔ورنہ شکلا کے خاتمے تک میرا اس سے علیحدہ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
دن بھر کوئی خاص بھاگ دوڑ نہیں کی تھی ،مگر سو بھی نہیں سکے تھے۔اور اب سونے کو دل کر رہا تھا۔لورا کی جانب پیٹھ موڑ کر میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔سونے سے پہلے اپنی پلوشے کو تصورکی محفل میں بلانا،اس کے گلے شکوے سننا،موہنی صورت کا دیدار کرنا،کبھی اس کے ریشمی زانو پر سر رکھنا کبھی اس کا سر گود میں لے کر بیٹھنا۔ اسے رقص کرتا دیکھنا،اس کی میٹھی آواز میں گیت سننا اور ایسے بہت سے کام جوماضی میں کرچکا تھا یا مستقبل میں کرنے ک ارادہ تھا سبھی کو سوچتے ہوئے سوتا تھا۔اس وقت بھی آنکھیں بند کرتے ہی وہ چھم سے سامنے آگئی۔ بہ قول شاعر....
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
ایک اور شاعر کہتا ہے....
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
لیکن پلوشے سے مکالمے کی حسرت دل ہی میں رہی تھی۔اس نے شکایتوں کا پٹارہ کھولا ہی تھا کہ دروازے پر۔”ٹھک.... ٹھک “ہوئی۔
دستک دینے والے کا اندازہ بے صبری والا تھا،کیوں کہ اس نے دروازے کو ہلکے ہلکے بجانا جاری رکھا تھا۔میری چھٹی حس کسی خطرے کا اعلان کرنے لگی۔تکیے کے نیچے سے پستول برآمد کر کے میں دروازے کے قریب ہوا۔لورا بھی بستر چھوڑ کر چوکنے انداز میں دروازے کے ساتھ پیٹھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی تھی۔پستول اس نے تیاری حالت میں پکڑا ہوا تھا۔
چابی کے سوراخ سے جھانکنے پر مجھے نسوانی لباس کی جھلک دکھائی دی۔اور وہ کپڑے مکان مالکن کی چھوٹی بیٹی نے پہنے تھے،جو ہمیں کھانا دینے آئی تھی۔
پستول نیفے میں اڑس کر میں نے بے آواز کنڈی کھولی۔”کیا بات ہے؟“دروازے میں جھری کر کے میں نے کوفت بھرے انداز میں پوچھا۔
وہ متوحش انداز میں بولی۔”بب....بھیا،گھر میں ڈاکو گھسے ہیں ۔امی جان پولیس کو گھنٹی کر رہی ہیں ۔آپ لوگوں نے اندر ہی رہنا ہے۔“یقینا اسے ماں نے یہ اطلاع دینے بھیجا تھا۔اندرونی عمارت رات کو بند کر دی جاتی تھی۔اور ڈاکوﺅں کے دروازہ توڑنے سے پہلے انھوں نے مکینوں کو باخبر کرنا ضروری سمجھا تھا۔
”ڈاکو....“میں نے حیرانی ظاہر کی۔”تمھیں کیسے پتا؟“
”میں چھت پر کال کرنے گئی۔تب دیکھا،چند کالے لباس والے گھر کی دیوار کود کر اندر آرہے ہیں ۔ ماتا جی کو بتایا تو انھوں نے آپ لوگوں کو مطلع کرنے کا کہا اور خود پولیس کو فون کر رہی ہیں ۔“اس نے سرعت سے تفصیل بتائی۔ ”آپ دروازہ بند کر دیں میں دوسرے کرایہ داروں کو بتادوں ۔“خوش قسمتی سے وہ سب سے پہلے ہمارے پاس آئی تھی۔اور یوں وقت ضائع ہونے سے بچ گیا تھا۔اس کا نام پونم تھا۔عمر سترہ اٹھارہ سال ہو گی اور اس عمر کی لڑکی رات کو چھت پر کس سے بات کر رہی ہو گی اس بارے اندازہ لگانے کو زیادہ عقل مند ہونا ضروری نہیں۔ موبائل فون نے جہاں بہت سی آسانیاں لائی ہیں وہیں جوان لڑکیوں کے والدین کے لیے بہت سی خرابیاں اور آزمائشیں بھی پیدا کی ہیں ۔خیر میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ پونم صاحبہ کو نصیحتیں جھاڑ سکتا۔اس نے بروقت اطلاع دے کر ہمیں خبردار کیا تھا ورنہ وہ کمرہ ہمارے لیے چوہے دان ثابت ہوتا۔میں نے جیب سے چند بڑے نوٹ نکال کر اس کی مٹھی میں پکڑائے۔”بیٹا!کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ۔تم اپنی ماں کے پاس جاﺅ۔وہ ڈاکو نہیں ہمارے دشمن ہیں ۔“
اسے ہکا بکا چھوڑ کر میں بیڈ کی طرف بڑھا۔”لورا تیار ہو جاﺅ چھاپہ پڑا ہے۔“اورچپل اتار کر سپورٹس شوزپاﺅں میں ڈالنے لگا۔
لورا نے بھی سرعت سے بوٹ پہنے۔ہم نے بوٹوں کے تسمے اس انداز میں باندھے ہوئے تھے کہ تسمے ڈھیلے کیے بغیر بوٹ پہن اور اتار سکتے تھے۔ ایسی چھوٹی موٹی باتوں کی وضاحت اس لیے کر تا رہتا ہوں تاکہ قارئین کو ہمارے طریقہ کار اور احتیاطوں کے بارے کچھ نہ کچھ اندازہ ہوتا رہے۔
ایس آرون اور وشال سے حاصل کی ہوئی رقم بیگ ہی میں پڑی تھی۔بیگ کو کندھوں پر لاد کر میں نے سائیلنسر لگا گلاک ہاتھ میں تھاما اور محتاط انداز میں کمرے سے باہر نکل آیا۔لورا ایک قدم پیچھے تھی۔
یقینا پونم نے ہمارے دشمنوں ہی کو دیکھا تھا۔اور ایجنسیوں کا طریقہ کار یہی ہوتا ہے کہ پہلے ہدف کو چاروں طرف سے گھیرتے ہیں پھر ہلہ بولا جاتا ہے۔ہماری خوش قسمتی کہ جونھی انھوں نے گھیراﺅ شروع کیا،پونم نے دیکھ لیا۔اب ان کے وہم گمان میں بھی کہاں تھا کہ کوئی محبت کی ماری چھت پر چڑھی محبوب سے ہم کلام ہوگی۔
راہداری فی الحال خالی تھی ،کسی بھی وقت دوستوں کی آمد متوقع تھی۔دروازے سے باہر نکلناکسی صورت مناسب نہ تھا۔یقینا اتنی دیر میں انھیں نے اندرونی عمارت کو چاروں طرف گھیر لیا ہوگا۔میرے قدم چھت کی طرف بڑھ گئے۔پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں کہ تربیت یافتہ سپاہی کسی بھی جگہ کو ٹھکانہ بناتے وقت پہلے فرار کے راستوں کو کھوجتا ہے۔اور دشمن کے علاقے میں تو اس کی ضرورت بہت بڑھ جاتی ہے۔
اس عمارت کے سامنے اور عقب میں گلی تھی۔دائیں بائیں دوسرے مکانات تھے۔بائیں طرف کے مکان کی چھت اور عمارت کی چھت کے مابین نو دس فٹ کا ہوائی فاصلہ تھا۔عام آدمی کے لیے نو دس فٹ زیادہ فاصلہ ہو سکتا ہے سنائپر کے لیے نہیں ۔
مجھے یقین تھاعقبی گلی اور دائیں بائیں کے مکانات کو بھی دشمنوں نے نظر انداز نہیں کیا ہوگا۔ساتھ والی چھت پر اگر دشمن موجود بھی تھے تو ان کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی تھی۔سامنے کے رخ ہمیں سخت مزاحمت کا سامنا ہونا تھا۔اور جب لڑائی ہتھیاروں کی ہو تو جسمانی اچھل کود ثانوی رہ جاتی ہے۔گولی تربیت یافتہ اور عام آدمی کے جسم میں تمیز نہیں کرتی۔البتہ تربیت یافتہ سپاہی گولی سے بچنے کے کئی گر جانتا ہے اور یہی بات اسے بچنے میں مدد دیتی ہے۔
لورا بغیر استفسارکے میرے پیچھے ہو لی۔بلاشبہ اس نے بھی فرارہونے کوراستے کی قراولی کی تھی۔
پونم بد حواسی میں نیچے اتری تھی اور اسے دروازہ بند کرنا یاد نہیں رہا تھا۔سڑھیاں چڑھتے ہی میری رفتار میں کمی آئی اور نیچے جھکتے ہوئے میں چھت پر پہنچا۔
چھت پر روشنی کاانتظام نہیں تھا،مگراطراف کے اونچے مکانات کی روشنی کی وجہ سے ملگجا اجالا پھیلا تھا۔میں پوری طرح دروازے سے باہر نہیں ہوا تھا کہ ہلکا دھماکا سنائی دیا۔کوئی چھت پر کودا تھا۔یقینا جس راستے سے میں فرار کا منصوبہ سوچے ہوئے تھا دشمن نے اسی راستے سے چھت پر اپنے آدمی اتارے تھے۔نیچے کا گھیراﺅ،یوں بھی مکمل تھا۔ایک چھت باقی تھی اور یہاں دشمنوں کا قبضہ ہونے کے بعد ہمارے پاس صرف گرفتاری کی راہ بچتی تھی۔
اپنا چھت پر دھرا قدم واپس کھینچتے ہوئے میں رک گیا۔لورا نے بھی دھماکا سن لیا تھا،قریب ہوتے ہوکر اس نے منہ میرے کان سے لگایا۔
”زیادہ سے زیادہ دو ہوں گے،ایک ایک گولی ضائع کر دیتے ہیں ۔نیچے ان کی تعداد زیادہ ہوگی۔“
متفق ہوتے ہوئے میں نے اثبات میں سرہلایااور کندھوں سے بیگ نکال کر نیچے رکھ دیا تاکہ حرکت میں آسانی ہو۔
اچانک ایک اونچی سرگوشی میری سماعتوں میں گونجی۔”یہیں انتظارکرتے ہیں ۔“ساتھ ہی کسی نے دروازے کی طرف ٹارچ کی روشنی پھینکی۔اگر احتیاط کی وجہ سے ہم دروازے سے ذرا پیچھے نہ ہوتے تو لازماََ نظر آجاتے۔
”بے وقوف روشنی مت کرو۔“ساتھی نے اسے سختی سے ڈانٹا۔
روشنی بجھی ساتھ ہی اس نے صفائی دی۔”دروازے کو دیکھ رہا تھا،میرا خیال ہے اسے باہر سے بند کردینا بہتر رہے گا۔“
”روشنی کیے بغیر بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ جاﺅ بند کرآﺅ۔“مسلسل دو آوازیں سن کر ان کی تعداد کی تصدیق ہو گئی تھی۔مزید انتظار بے کار تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا گھیراسخت ہو جانا تھا۔میں نے لورا کو چھو کر حرکت میں آنے کا اشارہ کیا۔ساتھ ہی سرگوشی کی۔”قتل نہ کرنا بے ہوش کرنا۔“
اس نے اثبات میں سرہلادیا۔ہم ایک ساتھ باہر نکلے۔”ہاتھ اوپر،حرکت کی تو جان سے جاﺅ گے۔“میں پست مگر دبنگ لہجے میں بولا۔
ان کے ہاتھ میکانکی انداز میں اٹھ گئے تھے۔”الٹا گھومو۔“اگلا حکم صادر کرتے ہی ہم ان کے قریب پہنچ گئے تھے۔ان کا گھومنا اور ہمارے پستولوں کے دستے کا ان کے سر پر پڑنا ایک ساتھ ہوا تھا۔
زوردار کراہ کے ساتھ دونوں ڈھیر ہو گئے تھے۔
میں واپس مڑا اور بیگ اٹھا لیا۔لورا ان کی تلاشی لینے لگی۔میرے دروازہ بند کرنے تک وہ ان کے وائرلیس سیٹ پر قابض ہو چکی تھی۔وائرلیس کی آواز کافی بلند ہوتی ہے اور دور دور تک سنائی دیتی ہے۔اسی وجہ سے عمارتی علاقے میں کارروائی کرنے والی سپاہ وائرلیس سیٹوں میں ”ہینڈ فری “کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے تیز آواز نہیں ابھرتی۔
لورا نے وائرلیس اٹھا کر ”ہینڈ فری“کان میں لگا لی تھی۔
میں نے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔”خیال رکھو،دوسری چھت پر کوئی موجود نہ ہو۔“
وہ تدبر سے بولی۔”عمارت کو چاروں طرف گھیرنے اور چھت پر قبضہ ہونے کے بعد وہ اپنی سپاہ کو پھیلانا پسند نہیں کریں گے۔“وہ برطانیہ فوج کی مایہ ناز کیپٹن تھی۔بلاشبہ جنگی چالوں اور تلاشی گھیراﺅ کی کارروائیوں سے اچھی طرح واقف تھی۔
”چلو پھر۔“میں دوسری چھت کی طرف بڑھ گیا۔اسی وقت عمارت کے اندرونی دروازے کو زور سے دھڑدھڑایا گیا۔ساتھ ہی میگا فون پر کرخت آواز بلند ہوئی۔
”عمارت چاروں طرف سے ہمارے گھیرے میں ہے۔کسی نے بھاگنے یا غلط حرکت کی کوشش کی تو نتیجے کا ذمہ دار خود ہو گا۔“
لورا اور میں بھاگتے ہوئے چھت کے کنارے تک پہنچے اور پھر ہمارے جسم ہوا میں بلند ہوئے۔ دوسری چھت پر قدم لگتے ہی ہم نے جسم سمیٹتے ہوئے لوٹ لگائی تھی۔ٹانگوں کی مشقت کم کرنے اور پاﺅں وغیرہ کو موچ سے بچانے کو یہ بہترین طریقہ ہے۔اونچائی سے چھلانگ لگاتے وقت یا چلتی گاڑی سے اترتے وقت بھی ایسا کرنا مفید رہتا ہے۔
خوش قسمتی سے چھت خالی تھی۔اگلے دو تین مکانات کی چھتوں کا فاصلہ قریب قریب تھا۔جونھی ہم نے تیسرے مکان کی چھت پھلانگی۔لورا نے انکشاف کیا۔
”انھیں ہمارے فرار کا پتا چل گیا ہے۔“
”نیچے اترو۔“میں سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔مگر دروازہ اندر سے قفل تھا۔لکڑی کے دروازے نے مجھے فائر کرنے پر اکسایااور دروازے کے قفل پر سائیلنسر کی نال رکھ کر میں نے لبلبی دبا دی۔
”ٹھک۔“کی آواز سے دروازہ کھل گیا تھا۔دروازہ کھول کر ہم آگے پیچھے اندر گھسے۔اسی وقت تڑتڑاہٹ کی بھیانک آواز بلند ہوئی۔نامعلوم کسی پر نشانہ سادھا گیا تھا یا ہوائی فائر تھا۔بداحواسی میں دشمن سے کوئی بھی احمقانہ حرکت بعید نہیں تھی۔
پہلے میگا فون کے اعلان اور پھر فائرنگ کی آواز نے یقینا علاقہ مکینوں کو کونوں کھدروں میں دبکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
ایک جواں سال عورت نے ہمیں سیڑھیاں اترتے دیکھااور چلاتی ہوئی کمرے میں گھس کر دروازہ بند کر دیا۔اس وقت ایک اور کمرے سے ادھیڑ عمر مردپستول کے ساتھ برآمد ہوا۔
”اندر چلے جاﺅ،ہم تمھارے دشمن نہیں ہیں ۔“میں نے چلا کر اسے واپس جانے کا کہا۔
وہ متذبذب کھڑا رہا۔ہم اسے نظر انداز کرتے ہوئے ڈرائینگ روم کے دروازے پر پہنچے اور قفل کھول کر باہر نکل گئے۔وہاں سے نکلنے کو گاڑی کا حصول ضروری تھا۔اور گیراج میں ایک چھوڑ دو گاڑیاں نظر آرہی تھیں ۔لورا گیراج کی طرف بڑھی جبکہ میرا رخ دروازے کی طرف ہو گیا۔
دروازے پر چوکیدار موجود تھا۔ہمیں اندرونی عمارت سے برآمد ہوتا دیکھ کر وہ شش پنج میں پڑ گیا تھا۔ میں نے سرعت سے اس کے قریب پہنچ کر اسے تردد سے نکال دیا تھا۔
”کک....کون ہو تم ؟“کا جواب اسے کنپٹی پر لگنے والے گھونسے کی صورت ملا تھا۔ہاتھ پاﺅں ڈھیلے چھوڑتے ہوئے وہ لمبا ہو گیا تھا۔اس کے ہاتھ میں ”ریپیٹر “تھا(اسے آٹومیٹک بارہ بور رائفل کہہ سکتے ہو) جو میرے کسی کام کا نہیں تھا۔
اس کے بے ہوش جسم کو گھسیٹ کر ایک طرف ڈالا اور دروازہ کھول دیا۔اتنی دیر میں لورا ،نسبتاََ نئی کار کو گیراج سے باہر لے آئی تھی۔میرے قریب آکر اس نے بریک دبائی میں فوراََ اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔اس نے گلی میں کار نکالی اور آگے بڑھ گئی۔
تڑتڑاہٹ کی تیز آواز نے ہمیں دشمن کی باخبری سے مطلع کیا تھا۔دونوں گلیوں میں دشمن موجود تھے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 34
ریاض عاقب کوہلر
تڑتڑاہٹ کی تیز آواز نے ہمیں دشمن کی باخبری سے مطلع کیا تھا۔دونوں گلیوں میں دشمن موجود تھے۔
پختہ و کشادہ گلی میں کم رفتار سے کار چلانا بے وقوفی تھی۔اور لورا اتنی بھی احمق نہیں تھی۔کالے رنگ کی دو ڈبل کیبن اسے بھی تعاقب کرتی نظر آ گئی تھیں ۔ایک دو جگہ رفتار شکن (سپیڈ بریکر)سے واسطہ پڑا،مگر کار آہستہ کرنے کا وقت نہیں تھا۔دونوں بار کوشش کے باوجود میں اپنا سر چھت سے ٹکرانے سے نہیں روک سکا تھا۔
سامنے سے ایک گاڑی کی روشنیاں چمکیں ۔وہ موڑ مڑ کر سیدھا ہوا تھا۔لورا نے لمبا ہارن دیا،اور عقب سے انساس رائفل کی تڑتڑاہٹ ابھری۔سامنے سے آنے والا گھبرا گیا تھا۔بے چارے نے فوراََ گاڑی روک دی تھی۔حالاں کہ گلی کشادہ تھی اور دو کاروں کا کراس نا ممکن نہیں تھا۔ میرے ذہن میں فوراََ ایک تجویز آئی۔
تیز لہجے میں بولا۔”کار کو آڑا ترچھا کر کے روکو،دوسری کار میں بھاگیں گے۔“
لورا کی سمجھ میں میری تجویز آگئی تھی۔اس نے کار کے قریب پہنچتے ہی اسٹیئرنگ کاٹ کر راستہ بند کیااور ہم باہر نکل کردوسری کار کی طرف بھاگے۔اس میں دو لڑکیاں بیٹھی تھیں ۔ وضاحتوں کا وقت نہیں تھا،ان کے خوف سے چلاتے وجود ہم نے گھسیٹ کر باہر پھینکے ،لورا نے ڈرائیونگ سنبھال لی۔
میں نے پستول کی دو گولیاں پہلی کار کے ٹائروں میں جھونک دیں ۔زور دار دھماکوں سے لڑکیاں بے چاریاں زور زور سے چیخنے اور رونے لگیں تھیں ۔
کار اسٹارٹ تھی،لورا نے ریورس گیئر لگا کر کار گلی کے موڑ تک الٹی چلائی اور موڑ میں اسٹیئرنگ کاٹ کر کار سیدھی کی اور آگے بڑھ گئی۔اس دوران دو بار تیز فائرنگ کی آواز گونجی تھی۔دشمن کی گاڑیاں قریب پہنچ گئی تھیں ، مگر ہم نے اتنی تیزی سے کارروائی کی تھی کہ انھیں کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔گوکار کی رکاوٹ عارضی تھی۔مگر جب تک وہ راستہ بناتے ہمیں دور جانے کا موقع مل جاتا۔
وہ گلی دائیں مڑ کر ایک سڑک پر جا نکلی۔سڑک پر چڑھتے ہی لورا نے رفتار میں اضافہ کر دیا۔نئی سیڈان ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ہم اس کار میں لمبا سفر نہیں کر سکتے تھے۔لڑکیوں سے کار کے متعلق ضروری معلومات لے کر متعلقہ پولیس تھانوں اور ناکوں تک پہنچا نا اتنا مشکل اور بعید از قیاس نہیں تھا۔
تھوڑا سے آگے آتے ہی بازار کی تیز روشنیاں نظر آئیں ۔میں نے لورا کوبازار میں گھسنے کی ہدایت کی۔
وہ معترض ہوئی۔”بھیڑ زیادہ ہے پھنس جائیں گے۔“
میں نے وضاحت کی۔”کار یہیں چھوڑکر ٹیکسی میں جائیں گے۔“
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس نے کاربازار کی جانب موڑ دی۔گھڑی کی سوئیاں گیارہ کا ہندسہ عبور کر چکی تھیں مگر بھیڑ میں کوئی خاص کمی نہیں آئی تھی۔
ایک مناسب جگہ دیکھ کر میں نے اسے کار روکنے کو کہا۔اور ہم نیچے اتر گئے۔ٹیکسی کی تلاش میں زیادہ تگ و دو نہیں کرنا پڑی تھی۔مگر رات گئے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈنا مشکل لگ رہا تھا۔جب بندہ سرکار سے بھاگ رہا ہوتو ممبئی ایسا وسیع شہر بھی چھوٹا سا گاﺅں لگتا ہے۔ٹیکسی میں گھنٹا بھر گھوم کر ہم ایک جگہ اتر گئے۔پرانے ٹھکانے سے محفوظ فاصلے پر پہنچ گئے تھے۔
”برقع اوڑھ لو۔“ٹیکسی کے آگے بڑھتے ہی میں لورا کو مخاطب ہوا۔
”سمجھ میں نہیں آتا تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔“برقع میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے اس نے ناک بھوں چڑھائی۔
میں اطمینان سے بولا۔”میرا سب سے بڑا مسئلہ تم ہو۔مقامی مرد کے ساتھ ایک گوری کا ہونا ہماری پکی پہچان ہے۔اگر برقع نہیں پہننا تو اپنا تھوبڑا تبدیل کرنا پڑے گا۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولی۔”مجھ سے زیادہ تم بھارت سرکار کو مطلوب ہو۔“
”غلط فہمی ہے تمھاری۔شکلا کو تمھاری تلاش ہے۔پاکستانی جاسوس تو ان کے پاس کوئی نہ کوئی موجود ہی ہوگا۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”انڈیا بھر میں اکیلی خوب صورت میں ہی تو ہوں کہ اسے میری تلاش ہوگی۔“
”اسے تم سے نہیں ایس آر ون سے مطلب ہے۔تم دواڑھائی سو کروڑ کا چیک ہو۔اتنی آسانی سے تو پیچھا نہیں چھوڑے گا۔“
”پیچھا تو اس کا میں نہیں چھوڑوں گی۔قبر میں بھی چلا گیا تو بدلہ لینے پہنچ جاﺅں گی۔“اس نے نقاب اوڑھا۔اور ہم نے ایک جانب قدم بڑھا دیے۔نقاب اوڑھنا اسے میں نے سکھایا تھا۔ایک گوری کو نقاب میں دیکھ کر کبھی کبھی دل چاہتا زور زور سے ہنسوں ۔اپنے مفاد کے حصول کو انسان کوکیا کیا کرناپڑتا ہے۔
سڑک پر بہت زیادہ بھیڑ نہیں تھی،کبھی کبھار ہی اکا دکا گاڑی گزرتی۔
میں نے اسے چھیڑا۔”اتنے خلوص اور دلجمعی سے تمھاراساتھ دے رہا ہوں بدلے میں مجھے کیا ملے گا۔“
”مانگو....کیا چاہیے۔“وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی تھی۔
میں کھل کھلا کر ہنسا۔”مذاق کر رہا تھایار۔“
وہ ممنونیت سے بولی۔”ریجا!یہ تو نہیں کہتی کہ آج تک جتنے آدمی مجھے ملے تم سب سے اچھے ہو ،البتہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ تم سے اچھا کوئی نہیں ملا۔“
”شاید میرے کان بج رہے ہیں ۔“میں نے بے یقینی ظاہر کی۔
وہ میرا ہاتھ تھامتے ہوئے وہ خجالت سے بولی۔”سوری،تمھیں برا بھلا کہا،تکلیف دی۔حالاں کہ وشال کے سامنے تمھارا ناٹک کرنا بالکل برحق تھا۔پتا نہیں کیوں غصہ آگیا تھا۔شاید بہت زیادہ اچھا آدمی جب جھوٹ موٹ بھی بداخلاق بنتا ہے تو برداشت نہیں ہوتا۔تم سے کوئی رشتا،واسطہ نہیں، نہ کوئی ایسا تعلق ہے کہ حق جتا سکوں، نہ تم میرے احسان مند ہو۔اس کے باوجود نجانے کیوں تم پر بہت زیادہ اعتبار کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اور تمھاری توجہ جائز حق سمجھتی ہوں ۔“
کچھ زیادہ نہیں ہو گیا۔“
”جتنا تم نے ساتھ دیا اس لحاظ سے توبہت کم اظہار کیا ہے۔“
میں شرماتے ہوئے بولا۔”بس کرو یار! اب رلاﺅ گی کیا۔“
اس نے کھل کھلاتے ہوئے موضوع تبدیل کیا۔ ” سمجھ میں نہیں آرہا انھوں نے ہمیں ڈھونڈا کیسے؟“
میں نے اندازہ ظاہر کیا۔”ہمیں وشال کی کار چھوڑنے میں جلدی کرنا چاہیے تھی۔“
لورا متفق ہوئی۔”شاید کار سے نکلتے وقت کسی کی نظر پڑی اور ہمارے تعاقب میں چل پڑا۔“
”قسمت اچھی تھی جو بروقت اطلاع مل گئی۔“
لورا مستفسر ہوئی۔”اس لڑکی کو کیسے پتا چلا؟“
میں نے وجہ بیان کی،کہنے لگی۔”آپ مشرقی لوگ ناحق محبت کو برا سمجھتے ہو،دیکھ لو اس کی محبت نے ہمیں بچا لیا۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”اوراپنی سرکار کا کتنا نقصان کیا کہ دو مجرموں کو فرار کی راہ مل گئی۔“
وہ ہنس کر خاموش ہو گئی تھی.
ہم دو تین فرلانگ سڑک ہی پر چلتے رہے۔اور پھر ایک مناسب جگہ دیکھ کر سڑک کو چھوڑ دیا۔عجیب سا محلہ تھا،رات گئے بھی اکثر گھروں میں روشنی نظر آرہی تھی۔گلی میں بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کراہت آمیز چہرے نظر آئے۔چند ادھیڑ عمر و جوان خواتین بھی سرخی پاﺅڈر کے ساتھ دکھائی دیں ۔یوں لگ رہا تھا کسی کی منتظر ہوں ۔ایک دو عورت سے۔” آئیے ناں بابو....“سن کر مجھے ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔انھوں نے لورا کی پروا بھی نہیں کی تھی جو میرے ساتھ چل رہی تھی۔
”یہ ساری کال گرلز(طوائفیں ) ہیں ۔“لورا نے بھی پہچان لیا تھا۔
میں نے خیال ظاہر کیا۔”لگتا ہی کسی ایسے ہی محلے میں آن پھنسے ہیں ۔اور شاید یہ جگہ محفوظ بھی ہے۔“
اس نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔”ریجا!تمھاری نیت کیاہے؟“
میں نے اسے مطعون کیا۔”تھوڑی دیر پہلے اتنی تعریفیں کر رہی تھیں ،اتنی جلدی اپنی رائے سے رجوع کر لیا۔“
وہ کھل کھلائی۔”مرد کو بگڑتے دیر تو نہیں لگتی ناں ۔“
”ایسا کچھ نہیں ہے۔اور اکٹھے ہی رہیں گے۔“
وہ اطمینان سے بولی۔”جو مناسب سمجھو۔“
اسی وقت ایک مکروہ صورت مرد دو قدم لے کر قریب ہوا۔”شاید یہ نقاب والی تمھیں خوش نہ کر سکے۔ ہمارے پاس ہر عمر ،ہر رنگ،ہر نسل کا مال دستیاب ہے بابو۔ایک بار موقع دے کر دیکھیں ۔“
میں نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔”بھگوان کا خوف کرو یار،اتنی مشکل سے اپنی محبت پائی ہے۔“
اس نے پیلے دانتوں کی نمائش کی۔”کبھی کبھی منہ کاذائقہ بدلنے کو باہر کا کھانا بھی چکھ لینا چاہیے۔“
”اس کے بہت مواقع ملیں گے۔اور یہ بتاﺅرہائش کا بندوبست ہو جائے گا،جہاں میں سکون سے اپنی محبوبہ کے ساتھ رات گزار سکوں ۔“
وہ مکاری سے بولا۔”نئے نویلے جوڑے کے لائق ایک کمرہ ہے تو سہی۔بالکل محفوظ،جہاں پولیس کیا چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔البتہ کمرے کاکرایہ سن کر لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔“
میں ڈینگ مارنے کے انداز میں بولا۔”تم کرایہ بتاﺅ،اپنی محبوبہ کے لیے اتنی قربانی تو دے سکتا ہوں ۔“
”دو ہزار خرچ کرنا پڑیں گے۔“
میں بدکتے ہوئے بولا۔”اتنی زیادتی تو نہ کریں ،فائیو سٹار ہوٹل تو نہیں ہے کہ ایک رات کا دوہزار لگے۔“
”سو کم دے دینا۔“اس نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری۔
”زیادہ سے زیادہ پندرہ سودے سکتا ہوں ۔“میں نے جان بوجھ کر سودے بازی کی تاکہ ہم اسے مشکوک نہ لگیں ۔
”ٹھیک ہے،نکالو پیسے۔“وہ فوراََ مان گیا تھا۔
میں نے کہا۔”جگہ تو دکھاﺅ۔اگر اچھی لگی تو ہو سکتا ہے ہم شادی کے بعد بھی چند دن وہاں گزارنا پسند کریں ۔“
”چلو۔“وہ خوش دلی سے سرہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔اس کی معیت میں ہم ایک پرانے مکان میں داخل ہوئے۔جس میں کافی کمرے تھے۔کچھ کمروں کے دروازے اندر سے بند تھے،کچھ کے دروازوں کے پٹ کھلے تھے،غالباََوہ مہمانوں کے منتظر تھے۔برآمدے سے گزرتے ہوئے مختلف کمروں کے اندر سے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ اور دبی دبی ہنسی سنائی دیتی رہی۔
وہ ہمیں کونے کے ایک کمرے میں لے گیا۔کمرے کی اندرونی حالت توقع سے زیادہ بہتر تھی۔ پرانا سا ڈبل بیڈ جس پر صاف ستھری چادر بچھی تھی۔دو تکیے جن کے غلاف نئے تو نہیں البتہ دھلے ہوئے ضرور تھے۔دوفوم والی کرسیاں ،ملحقہ بیت الخلاءو غسل خانہ۔کھڑکی پر لٹکے رنگ دار پردے،چھت کا پنکھا،روشنی کا خاطر خواہ انتظام۔مجموعی طور پر وہ رہنے کے قابل تھا۔
”کیسا ہے بابو۔“اس نے داد چاہنے والے انداز میں پوچھا۔
”بہتر ہے۔“میں نے پانسو والے تین نوٹ اس کی جاب بڑھادیے۔
اس نے آنکھ میچی۔”پینے پلانے کا شوق ہے تو بندوبست ہو سکتا ہے۔“
”تمھارا کا نام کیا ہے؟“
”جگنیش۔“
میں رکھائی سے بولا۔”جگنیش صاب،تھوڑی تنہائی درکار ہے۔“
وہ معنی خیز قہقہ بلند کرتا ہوا باہر نکل گیا۔
دلال کے نکلتے ہی لورا نے نقاب اتارتے ہوئے کراہیت آمیز لہجے میں کہا۔”کتنی گندی جگہ پر لے آئے ہو۔“
میں نے پیش کش کی۔”تمھاری نظر میں اس سے بہتر جگہ ہے تو وہاں چلتے ہیں ۔“
وہ معترض ہوئی۔”ایک ہی بستر پر کیسے لیٹیں گے؟“
”کمرے میں چارپائی لگانے کی گنجائش ہے ،میں منگوا لیتاہوں ۔“میں نے پیش کش کی۔
وہ بیڈ پر گرتے ہوئے بولی۔”خیر اتنے بے اعتبار بھی نہیں ہوکہ چارپائی منگوانے پر زور دوں ۔“
میں معنی خیز لہجے میں بولا۔”گویا اسے ڈیٹ کی دعوت سمجھوں ۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”غالباََ تم چارپائی لانے جا رہے تھے۔“
میں نے عذر پیش کیا۔”ویسے وہ سوچے گا تو ضرور کہ دو پریم پنچھی علیحدہ علیحدہ کیوں سو رہے ہیں ۔“
اس نے قہقہ لگایا۔”کہہ دیناا ب تک شادی نہیں ہوئی۔اور مشرقی لڑکیاں تو شادی سے پہلے قریب نہیں آنے دیتی ناں ۔“
میں ہنستا ہوا باہر نکل گیا۔جگنیش کے علاوہ کسی سے واقفیت نہیں تھی۔نامعلوم اس نے کہاں ملنا تھا۔ایک لڑکا سگریٹ کے کش لگاتا ہواسیڑھیوں سے نیچے اترا۔
میں نے آواز دی۔”لڑکے!جگنیش کہاں ملے گا؟“
وہ رکتے ہوئے بولا۔”جگنیش،استادکے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔“
”اور استاد کا کمرہ کہاں ہے۔“
دوسری منزل پر سڑھیوں کے دائیں جانب پہلا کمرہ ہے۔“
”شکریہ دوست۔“کہہ کر میں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔دوسری منزل پر پہنچتے ہی میں دائیں طرف کے پہلے کمرے کی طرف بڑھا۔دستک کو ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ جگنیش کے الفاظ سن کر چونک گیا۔
”ماں قسم،استاد سچ کہہ رہا ہوں ۔سالے کے بیگ میں نقدی نہ بھی ہوئی زیور تو لازمی ملے گا۔لڑکی بھی زبردست ہے۔اتنے سفید ہاتھ ہیں سالی کہ چھونے سے میلے ہو جائیں ۔اور گھریلومال کی تو مانگ بھی بہت زیادہ ہے۔“
ایک بھاری آواز ابھری۔”کسی بڑے خاندان کی ہوئی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔“
جگنیش نے غلیظ لہجے میں استاد کی ہمت بڑھائی۔”آپ ڈرنے کب سے لگے ہیں استاد!اس کے یار کا گلا کاٹ کر پھینک دیں گے اور سالی نے تعاون نہ کیا تو چند بڑے گاہکوں کو پیش کرنے کے بعد یار کے پیچھے بھجوا دیں گے۔اس دوران خود بھی مستفید ہو لیں گے۔ایسا موقع کبھی کبھار ہی ملتا ہے۔“
استاد نے مکروہ انداز میں کہا۔”چلو پھر سہاگ رات اسی کمرے ہی میں منا لیتے ہیں ۔“
بلاشبہ میں تیزی میں درستی بھول گیا تھا۔اگر چارپائی کے لیے اس کے پیچھے نہ آیا ہوتا تو بے خبری میں بھاری نقصان اٹھا نا بھی پڑ سکتا تھا۔اب ان سے وہیں نبٹنا ضروری ہو گیا تھا۔ان کے باہر نکلنے سے پہلے میں دروازے کو دھکیلتا ہوااندر داخل ہوا۔سائیلنسر لگے پستول کی جھلک دیکھتے ہی ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں ۔
”کک....کیا بات ہے بابو۔“گفتگو کی ابتداءجگنیش نے کی تھی۔
”شاید میرے پاس جا رہے تھے،تمھیں زحمت سے بچانے کو میں خودحاضر ہو گیا ہوں ۔“
”نن....نہیں تو....“جگنیش نے صفائی دینا چاہی،مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میری بھرپور لات اس کے پیٹ میں لگی تھی۔وہ اچھل کر لکڑی کی کرسی پر گرااور اسے توڑتا ہوا فرش پر ڈھیر ہو گیا۔
استاد سنبھل کر بولا۔”جوان !ہمارے ساتھ پنگا لینا مہنگا پڑ سکتا ہے۔“
”پنگا نہیں لے رہا استاد، قتل کرنے آیا ہوں ۔تمھارا بوجھ دھرتی کے سینے سے ہٹاناسب سے بڑا پن (نیکی) ہے۔“یہ کہتے ہی میں نے جگنیش کی کھوپڑی میں گولی ٹھوک دی۔
وہ اوندھے منہ گر کر ہاتھ پاﺅں جھٹکنے لگا۔
استاد نے دہشت زدہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا۔”تت....تم....“
”بحث کا وقت نہیں ہے۔“میں نے اگلی گولی اس کے سر میں اتار کر اسے جگنیش کے پاس بھیج دیا۔ ایسے غلیظ کردارمعافی کے قابل نہیں ہوتے۔نجانے حوا کی کتنی بیٹیوں کو نشان عبرت بنا چکے تھے،کتنے بے گناہوں سے جینے کا حق چھین چکے تھے تبھی تو اللہ پاک نے ان کی ڈھیلی رسی کھینچنے کو مجھے وہاں بھیجاتھا۔بلاشبہ قانون ہاتھ میں لینا،یا لوگوں کی زندگی موت کے فیصلے کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں تھا۔نہ مجھے ایسا شوق ہی تھا۔مگر دوران مشن ایسے کسی بھی کردار سے واسطہ پڑنے پر خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتاتھا۔پاکستان ہو یا انڈیا قانون بالکل بے بس اور لاچار ہے۔پولیس کی اکثریت رشوت خور،بھتہ خور اور امراءکے گھر کی باندی ہے۔آٹے میں نمک کے برابر جو ایمان دار ہیں ان بے چاروں کو سسٹم چلنے نہیں دیتا اور وہ خاموش تماشائی بننے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔آئے روز قانون شکنی کی داستانیں ، مظلوموں پر تشدد کے واقعات،صنف نازک سے زیادتی و عصمت دری کے لرزہ خیزحادثے ،قتل و غار ت ،ڈکتیاں اورمعاشرے میں پھیلی ناانصافی سے ہر انسان کا دل و دماغ اتنا متاثر ہوا ہے کہ بس چلنے پر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانانیکی خیال کیا جاتا ہے۔اور یقینا میرا شمار بھی نچلے طبقے سے ہے میں کیسے نیکی سے محروم رہتا۔
پہلے سوچا،ان کی لاشوں کو بیڈ کے نیچے چھپا کر وہیں رات گزاری جائے،مگر پھر خیال آیاایساکرنا نقصان دہ ہو سکتا تھا۔نہ معلوم ان خبیثوں کی رات کی مصروفیات کیا ہوتی ہوں گی۔اگر ان کی ڈھنڈیا پڑ جاتی تومسئلہ کھڑا ہو سکتا تھا۔کم از کم ایک گواہ ایسا موجود تھا جسے میرے وہاں آنے کی بابت پتا تھا۔ان کی لاشیں چھپانے کا وقت نہیں تھا۔کمرے سے نکل کر میں نے دروازہ باہر سے بند کیا اور نیچے اتر گیا۔
لورا آنکھیں بند کیے آرام سے لیٹی تھی۔”جلدی کرو جانا ہے۔“اندر داخل ہوتے ہی میں نے اعلان کیا۔
وہ اچھل کر اٹھ بیٹھی۔”خیر تو ہے۔“
”فی الحال تو خیر ہے ،مگر جونھی لاشیں ملیں ہم مشکل میں پھنس جائیں گے۔“
”کن کی لاشیں ؟“پاﺅں میں جوتے ڈالتے ہوئے اس نے حیرانی ظاہر کی۔
بیگ کندھوں میں ڈالتے ہوئے میں مزاحیہ لہجے میں بولا۔”جو میرے قتل اور تم پر قبضے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔“
وہ شرارتی انداز میں بولی۔”تمھیں غصہ اپنے قتل کے منصوبے پرآیا یا مجھ پر قبضے کی جسارت پر۔“
”اچھا سوال ہے۔“میں نے برقع اس کی طرف پھینکا۔
”مگر یہ بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔“منہ بسورتے ہوئے وہ برقع ڈالنے لگی۔
دو تین منٹوں کے اندر تیار ہو کر ہم باہر آگئے۔عمات کے احاطے میں چند افراد نظر آئے ،مگر ہم سے کسی نے تعرض نہیں کیا تھا۔ عمارت سے نکل کر ہم تیز قدموں سے چلتے ہوئے محلے سے باہر آگئے۔جلد ہی خالی ٹیکسی مل گئی تھی۔محلے سے چند کلومیٹر دور آکر ہم نے ٹیکسی والے کو فارغ کر دیا۔
میرے ساتھ قدم ملاتے ہوئے وہ مستفسر ہوئی۔”اب بتاﺅ کیا ہوا تھا۔“
میں نے تفصیلاََ سب کچھ دہرا دیا۔
وہ طعنہ زن ہوئی۔”میں تو پہلے ہی وہاں جانے سے منع کر رہی تھی۔“
میں نے صفائی دی۔”کیا پتا تھا ،ایسے خبیثوں سے واسطہ پڑے گا۔“
”مجھے نیند آرہی ہے۔“ منہ بسورتے ہوئے اس نے موضوع تبدیل کیا۔
”کوئی ٹھکانہ مل نہیں رہا اوراتنی ہمت مجھ میں نہیں ہے کہ تمھارا سر گود میں رکھ کر سڑک پر بیٹھ جاﺅں ۔“
اس نے شرارتی انداز میں طنز کیا۔”ہر کسی کے سامنے بیوی بنانے پر تُلے رہتے ہواور گود میں نہیں سلا سکتے۔“
میں نے قہقہ لگایا۔”تم بیوی کے حقوق کی بجا آوری والی بنو،گود میں سلانا مشکل نہیں ہے۔“
میری پیٹھ پر گھونسا رسید کرتے ہوئے وہ کھسیاتے ہوئے بولی۔”بکواس کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا۔“
میں نے مشورہ دیا۔”کسی گھر کی چھت پر چڑھ کر سوتے ہیں ،باقی صبح دیکھا جائے گا۔“
کہنے لگی۔”کوئی خالی گھر مل جاتا تو مزہ آجاتا۔“
”خالی گھر تلاش کرنے کا وقت نہیں ہے،بھرے ہوئے گھر ہی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔“
”چلو پھر۔“وہ نزدیکی گلی کی جانب مڑگئی۔گلی کے شروع ہی میں لوہے کے بورڈ پر” ہنومان نگر“ لکھا ہوا نظر آرہا تھا۔اگر میں اکیلا ہوتا تو کسی پارک یا فٹ پاتھ پر بھی سو جاتا،مگر لورا کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا۔
رات دو تہائی گزر چکی تھی۔ہم مسلسل سفر میں تھے۔گو سنائپر جسمانی لحاظ سے مضبوط ہوتے ہیں ۔ تکالیف اور سختیاں جھیلنے میں عام لوگوں سے بہت بہتر ہوتے ہیں ،لیکن ہوتے تو گوشت پوست کے انسان ہی ہیں ۔اور تھکاوٹ،بے آرامی،بھاگ دوڑ، انسان کی صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔تازہ دم ہونے کو بھرپور نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس وقت ہمیں بھی نیند چاہیے تھی۔گلیوں میں لوگوں کی آمدورفت ختم ہو گئی تھی۔البتہ ایک دو گھروں کے باہر چوکیدار بیٹھے نظر آئے۔ایک دو گلیاں مڑنے کے بعد ایک مکان ہمیں مناسب لگا۔گلی میں بھی کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔صرف کتے کا خوف تھا کہ گھر میں کتے کی موجودی ہمارا بھانڈا پھوڑ دیتی۔مگر خطرہ مول لینا ضروری تھا۔ بیگ لورا کے حوالے کر کے میں نے اچھل کر دیوار کا سرا پکڑا اورہاتھوں کے بل پر اٹھ گیا۔لمحہ بھر دیوار کے اوپر گزار کر میں نے صحن میں نگاہ دوڑائی کوئی خطرہ نظر نہ آنے پر احتیاط سے اندر کود گیا۔نیچے اتر کر ایک دو منٹ دیوار کی جڑ میں دبکا رہا۔کوئی ردعمل ظاہر نہ ہونے پر داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔مگر بڑے اور ذیلی دروازے پر لٹکے تالوں نے میرا منہ چڑایا تھا۔مجبوراََ مجھے دوبارہ دیوار پر چڑھنا پڑا۔لورا دروازہ کھلنے کی منتظر تھی۔میں نے ”شش“ کر کے اسے متوجہ کیا۔وہ قریب آگئی۔اس سے بیگ لے کر میں نے دیوار کے راستے اندر آنے کا کہااور دوبارہ اندر کود گیا۔منٹ بھر بعد وہ میرے پاس تھی۔
بیگ کندھوں میں ڈال کر میں کھڑا ہو گیا۔برآمدے پر لگا بلب مختصرصحن میں اجالا کر رہا تھا۔اندرونی عمارت کی بغل کے ساتھ لوہے کی سیڑھی لگی تھی۔ہم محتاط انداز میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچ گئے۔چھت کافی کشادہ تھی۔جدید طرز کے مکان کے سارے کمروں کی ایک ہی چھت تھی۔یہ کچے کوٹھے نہیں تھے کہ چھت پر چلنے والے کے پاﺅں کی آوازاندر سنائی دیتی۔اس کے باوجود ہم محتاط انداز میں چلتے ہوئے چھت کے درمیان میں پہنچے اور ایک دوسرے سے چند فٹ فاصلہ رکھ کرلیٹ گئے۔بیگ میں نے لورا کے حوالے کر دیا تھا تاکہ بہ طور تکیہ سر کے نیچے رکھ سکے۔برقع اتار کر اس نے نیچے بچھا دیا تھا۔بلاشبہ وہ بھی تربیت یافتہ سنائپر تھی ،مگراس کا عورت پن کسی بھی سہولت پر پہلا حق اسے دیتا تھا۔ہم دونوں کا ایک ساتھ سونا بھی مناسب نہیں تھا،اس وجہ سے میں نے آنکھیں بند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔لورا البتہ اطمینان سے سو گئی تھی۔جلد ہی بھاری سانسوں کی آواز اس کے گہری نیند میں ہونے کا پتا دینے لگی۔میری پلکیں بھی بھاری ہونے لگیں ،مجبوراََ مجھے اٹھ کر بیٹھنا پڑا۔نیند بھگانے کو میں باری باری چاروں کونوں پر جا کر دائیں بائیں علاقے کا جائزہ لینے لگا۔مکان کے دائیں اور سامنے سے گلی گزر رہی تھی۔دو جانب دوسرے مکانوں کی دیوار ملی تھی۔بائیں جانب کے مکان کی چھت کا فاصلہ دو تین فٹ کے بہ قدر ہوگا۔گھنٹا بھر کے جائزے کے بعد میں لورا کے پاس لوٹ آیا۔وہ بے سدھ لیٹی تھی۔میں نے آلتی پالتی مار کر آنکھیں بند کیں اور اپنی پلوشے کے پاس پہنچ گیا۔
٭٭٭
ملگجا اجالا ہوتے ہی میں نے پانی کی ٹینکی کے ساتھ جا بیٹھا۔لورا لیٹنے کی وجہ سے دور سے نظر نہیں آسکتی تھی۔
طلوع آفتاب کے ساتھ لورا نے آنکھیں کھول دیں ۔بیٹھ کر توبہ شکن انگڑائی لیتے ہوئے اس نے میری طرف سر گھمایا اور بیگ و برقع اٹھا کر قریب آگئی۔
”تمھیں نیند نہیں آئی۔“میرے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے ٹینکی کی دیوار سے ٹیک لگا لی۔
میں نے نفی میں سر ہلادیا۔
میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے وہ مسکرائی۔”تمھارے خیال میں ایک کا جاگنا ضروری تھاہے نا۔“
میں طنزیہ انداز میں بولا۔”تمھارا خیال کیا کہتا ہے۔“
وہ بگڑ کر بولی۔”طنز کی ضرورت نہیں ،نیند آئی تھی تو جگا دیتے،اتنی کمزور نہیں ہوں ۔“
”شکوہ کس نے کیا ہے۔“
وہ خفگی سے بولی۔”اپنے لہجے پر غور کرو۔“
”میں نے طنز تمھارے سونے پر نہیں ،تمھارے مشورے پر دیا ہے۔کیا تمھیں معلوم نہیں دونوں کا ایک ساتھ سونا کتنا نقصان دہ ہو سکتا تھا۔“
اس نے نرمی سے مشور ہ دیا”اچھا اب سو جاﺅ۔ٹینکی گھنٹا ڈیڑھ تو دھوپ سے بچائے گی نا۔“
اور میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔یہاں تک کہ دھوپ نے تیز ہو کر جاگنے پر مجبور کیا۔گھنٹے ڈیڑھ کی نیند نے چاق و چوبند کر دیا تھا۔ہم پانی کی ٹینکی کے غربی جانب بیٹھے تھے۔مگر دھوپ سر پر آگئی تھی۔گوموسم کافی حد تک تبدیل ہو گیا تھا۔اکتوبر میں دھوپ اتنی سخت نہیں ہوتی،پھر بھی بے آرام کر رہی تھی۔
لورا نے اطلاع دی۔”ساتھ والے مکان کی چھت پر ایک عورت گیلے کپڑے بچھا رہی تھی۔ہم پر نظر پڑی ،کافی غور سے دیکھ رہی تھی،مگر کچھ کہے بغیر نیچے اتر گئی۔“
میں فکر مندی سے بولا۔”کب....میرا مطلب کتنی دیر ہو گئی ہے۔“
اس نے اندازہ لگایا۔”ادھ،پون گھنٹا ہوگیا ہوگا۔“
”احمق عوت مجھے جگا دیا ہوتا۔“میں فوراََ کھڑا ہو گیا۔
”کک....کیوں ۔“وہ سراسیمہ ہوئی۔
میں نے وضاحت کی۔”بے شک وہ ہمیں نہ پہچان سکے،مگر اتنا اندازہ آسانی سے کر سکتی ہے کہ ہم اس گھر کے نہیں ہیں ۔“
وہ معترض ہوئی۔”دوسری چھتوں پر بھی اکا ددکا افراد نظر آرہے تھے۔“
بیگ کندھوں میں پہنتے ہوئے میں نے اسے سمجھایا۔”باقی کسی کام کو چھت پر چڑھے ہوں گے۔ ہماری طرح ٹینکی سے ٹیک لگائے کوئی نہیں بیٹھا ہوگا۔“
اس نے تکرار کی۔” ایک لڑکی اور لڑکے کو جب کوئی پہلو بہ پہلو بیٹھا دیکھے گاتواس کا دھیان کدھر جائے گا۔“
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”جب کھوپڑی میں بھیجا نہ ہو تو ایسے ہی سوالات جنم لیتے ہیں ۔“
وہ معترض ہوئی۔”یہ میری دلیل کا جواب نہیں ہے۔“
”بے وقوف!اتنے قریبی پڑوسی کیا گھر کے مکینوں سے واقف نہیں ہوں گے۔انجان لڑکی و لڑکے کو دیکھ کر گھروالوں سے پوچھیں گے نہیں تمھاری چھت پر دو پریم پنچھی کیا کر رہے ہیں ۔اور جب مکین پہچاننے سے لاعلمی ظاہر کریں گے تو کیا نتیجہ نکلے گا۔“
وہ نادم ہوئی۔”سوری ،اس طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا۔“
میں نے اندازہ لگایا۔”یقینا ،چند منٹ بعد وہ دوبارہ بھی اوپر آئی ہوگی۔“
لورا نے اثبات میں سرہلایا۔”آئی تو تھی، مگر ہماری طرف دیکھے بغیر کپڑوں کو درست کیا اورلوٹ گئی۔“
سیڑھی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے میں تلملاتے ہوئے بولا۔”تمھاری عقل تب بھی گھاس چرتی رہی۔“
وہ روہانسی ہوئی۔”اچھا اب سوری کہہ دیا ناں ۔اور میرے خیال میں ............“وہ فقرہ مکمل نہ کر پائی پولیس گاڑیوں کے سائرن نے اسے متوحش کر دیا تھا۔”کک....کیا....؟“
”ہاں ۔“میں نے اس کی سوچ اچکی۔”یہ ہماری میزبانی کو آرہے ہیں ۔“اور سیڑھیاں اترنے کے بجائے دوسرے مکان کی طرف بڑھ گیا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 35
ریاض عاقب کوہلر
”ہاں ۔“میں نے اس کی سوچ اچکی۔”یہ ہماری میزبانی کو آرہے ہیں ۔“اور سیڑھیاں اترنے کے بجائے دوسرے مکان کی طرف بڑھ گیا۔اگر پولیس واقعی اسی مکان کی طرف آرہی تھی تو گاڑیوں کو وہاں پہنچنے میں چند منٹ سے زیادہ وقت نہ لگتا۔ہم مکان سے نکل کر زیادہ دور نہیں جا سکتے تھے۔اس کے بجائے چھتوں پر بھاگ کر دور نکلنا زیادہ مناسب رہتا۔
دو تین فٹ کا فاصلہ پھلانگ کر ہم جونھی دوسری چھت پر کودے،اسی لمحے سیڑھیوں سے ایک عورت کا سر ابھرا،ہمیں دیکھتے ہی وہ سرعت سے واپس پلٹی،یقیناہماری مشکلات بڑھانے والی وہی تھی۔ایک بار تو جی کیا کم از کم اسے ڈانٹ ہی دوں ،مگر پھر وقت کی کمی آڑے رہی۔یوں بھی اس کا فعل اصولوں کے خلاف نہیں تھا۔ہم قانون کی نظر میں مجرم تھے اور ایسے انجان لوگوں کے بارے پولیس کو مطلع کرنا اس کا فرض تھا۔
جب تک ہم دوسرے مکان سے تیسرے مکان پر منتقل ہوتے پولیس کی گاڑیاں اس گھر کے سامنے پہنچ گئی تھیں ۔
ایجنسیوں اور پویس کے طریقہ کار میں بنیادی فرق یہی ہے کہ پولیس ساز باجے کے ساتھ مجرموں کی سرکوبی کو روانہ ہوتی ہے۔یوں جیسے اعلان کرتی آرہی ہو کہ بھاگنا ہے تو نکل جاﺅ ورنہ ہم پکڑنے آرہے ہیں ۔ جبکہ ایجنسی والے ہدف کو خاموشی سے گھیرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
مجھے لگ رہا تھاہماری اچھی خاصی ورزش ہونے والی ہے۔ایس آر ون کا وزن تقریباََساڑھے آٹھ کلوگرام تھا۔اس کا ایمونیشن،سنائپنگ کادوسرا سامان،بیس لاکھ کی رقم۔یہ سب مل کر گیارہ بارہ کلوگرام کے بہ قدر بن رہا تھا۔اور یہ وزن تیز رفتاری سے حرکت کرنے میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔تیسرے مکان کی چھت پرپلاسٹک کی دو چھوٹی ٹینکیاں پڑی تھیں ۔سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں نے ایک ٹینکی کا ڈھکن کا اٹھا کر بیگ اندر پھینک دیا۔ایس آر ون کا اپنا بیگ ”پن روک“ (واٹر پروف) تھا۔اور پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ پانی ہتھیار کو نقصان نہیں پہنچاتا۔رقم بھی مومی لفافے میں تھی اور پھر پلاسٹک کا مضبوط بیگ بھی پانی کے خلاف بہترین ڈھال تھا۔اور ہنومان نگر کا وہ مکان تلاش کرنا بالکل آسان تھا۔یہ عوامل میرے فیصلہ کرنے کو آسان بنا گئے تھے۔
فی الحال جان بچانے کی ضرورت تھی سامان بعد میں وصول کیا جاسکتا تھا۔البتہ اتفاق سے گھر والے ٹینکی کو کھول کر دیکھ لیتے تو ان کے وارے نیارے ہو جاتے۔ لورا نے میرے فعل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔البتہ مجھے رکتے دیکھ کر اس کے قدم بھی تھم گئے تھے۔ٹینکی کا ڈھکن برابر کر کے میں بھاگ پڑا۔میرا ساتھ دیتے ہوئے وہ کہنے لگی۔
”کہیں ٹکنے ہی نہیں دے رہے۔“
میں طنز کرنے سے باز نہ آیا۔”تم بے وقوفی نہ کرتیں تو کم از کم آرام سے رخصت ہوتے۔“
وہ چپ ہو گئی۔پولیس کی گاڑیوں کے سائرن آگے بڑھ آئے تھے۔یقینا انھیں ہمارے بھاگنے کی بابت اور سمت کا پتا چل چکا تھا۔
چوتھے مکان کی چھت عبور کرتے ہی آگے گلی کا خلا تھا جو پندرہ سولہ فٹ سے زیادہ تھا۔اور کوئی ”لانگ جمپ“ کا کھلاڑی ہی اسے پھلانگنے کا حوصلہ کر سکتا تھا۔
ہم چھت سے روشندان کے چھجے اور وہاں سے کھڑکی کے چھجے پر منتقل ہوئے۔اس کے بعد زمین پر کودنا مشکل نہ تھا۔وہ گھر ہمارے لیے چوہے دان ثابت ہو سکتا تھا۔
”باہر نکلو۔“لورا کی سوالیہ نظروں کا جواب دیتے ہوئے میں دیوار کی طرف بڑھا۔اسی وقت سفید رنگ کا ایک چھوٹا سا کتاکسی کونے سے برآمد ہوااور بھونکنے لگا۔ایک بار تو اسے چپ کرانے کا سوچا مگر پھر یہ فالتو لگا۔خواہ مخواہ اسے ہلاک کرنا مناسب نہ تھا۔اس کی ذمہ داری اجنبیوں کی نشان دہی کرنا تھا اور بے چارہ وہی تو کر رہا تھا۔
دیوار کی اونچائی سات فٹ کے قریب تھی۔ہمیں پھلانگنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔گلی میں کودتے ہی میری باچھیں کھل گئی تھیں ۔سامنے دکانوں کی قطار تھی۔ایک منخنی سالڑکا موٹر سائیکل کی سیٹ پر بیٹھاآئس کریم سے لطف اندوز ہورہا تھا۔مجھے وہ غائبانہ امداد ہی لگی تھی۔وہ عام موٹر سائیکل تھی۔میں سرعت سے آگے بڑھا۔پولیس گاڑیوں کے سائرن گلی کی نکڑ تک پہنچ گئے تھے۔میں نے جیب سے پستول برآمد کیا۔
”تم تھوڑی دیر پیدل چلنے کا کشٹ(تکلیف) اٹھاﺅ مہاراج۔“پستول کی نال سے میں نے لڑکے کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں ۔فوراََ اٹھ کرپیچھے ہو گیا۔چابی اگنیشن ہی میں تھی۔چابی گھما کر میں نے کک لگائی اور لورا کے بیٹھتے ہی گیئر لگا کر آگے بڑھ گیا۔تبھی پولیس کی جیپ نے موڑ کاٹا۔لوگوں کی چیخ پکار سے اندازہ ہواکہ وہ انھیں ہماری طرف متوجہ کر رہے ہیں ۔
گلی کافی کشادہ تھی اور جیپ تیز رفتاری سے ہمارے قریب پہنچ سکتی تھی۔میں نے ”ریس “گھما کر رفتار بڑھائی۔چوتھے گیئر میں موٹرسائیکل خطرناک انداز میں آگے بڑھ رہی تھی۔گلیوں میں زیادہ رکاوٹوں کی وجہ سے تیز رفتار ی عموماََ نقصان دہ ہوتی ہے۔لیکن وہ وقت سود و زیاں سوچنے کا نہیں تھا۔پولیس جیپ کا سائرن اور ہارن بھی تسلسل سے بجنا شروع ہو گیا تھا۔
لورا نے فکرمندی سے مشورہ دیا۔”ریجا رفتار بڑھاﺅ۔“
میں نے سامنے سے آنے والی موٹرسائیکل کو بچایا،اچانک ماحول تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھا۔لوگ بھاگ کر دکانوں میں گھسنے لگے۔ایک پھیری والا،اپنی ریڑھی گلی کے وسط میں لا کر پیچھے پلٹنے کو موڑ کاٹ رہا تھا۔ فائرنگ سنتے ہی سراسیمہ ہو کرریڑھی کو وہیں چھوڑ ااور ایک دکان میں گھس گیا۔بڑی مشکل سے میں نے موٹر سائیکل کو ریڑھی سے ٹکرانے سے بچایاتھا۔ایک دم بریک لگانے کی وجہ سے موٹرسائیکل گرنے والی ہو گئی تھی۔ ہینڈل موڑ کر میں ریڑھی کے عقب سے نکلا،ایک بار پھر۔”تڑ....تڑ“ہوئی۔لوراکے ہونٹوں سے زور دار کراہ خارج ہوئی تھی۔
”کیا ہوا ؟“رفتار بڑھاتے ہوئے میں متوحش ہو ا۔
وہ بہ مشکل بولی۔”گولی لگی ہے۔“
”سنبھل کر بیٹھنا۔“گھبراتے میں نے رفتار مزید بڑھا دی۔تڑتڑاہٹ پھر گونجی،گولیاں ”شاں ....شاں “ کی آواز سے میرے سر کے اوپر سے گزری تھیں ۔پولیس والوں کی بوکھلاہٹ پر حیرانی ہو رہی تھی، کیوں کہ سرِ بازار گولیاں چلانااحمقانہ فعل اور اختیارسے تجاوز کرنا تھا۔وہاں عام لوگ موجود تھے،فلم کی شوٹنگ نہیں ہو رہی تھی کہ یوں فائر کھولا جاتا۔
لورا نے سر میرے کندھے پر ٹیک دیا تھا۔اس کی آہیں آہستہ آہستہ بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں ۔
”گولی کہاں لگی ہے۔“بغلی گلی میں موٹرسائیکل موڑتے ہوئے میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
”آہ ہ ........کمر پر۔“وہ بہ مشکل بول پائی تھی۔
گولی لگنے کی تکلیف اور پھر موٹرسائیکل کی غیر آرام دہ سواری،وہ دہری مصیبت میں گرفتار ہو گئی تھی۔بغلی گلی میں بازار کی نسبت بہت کم بھیڑ تھی۔رفتار آخری حد تک بڑھاتے ہوئے میں نے ہدایت کی۔
”میری کمر کس کر پکڑے رہو۔“
اس کا بایاں ہاتھ بغل سے نیچے ،میرے پیٹ پر آگیا ،جبکہ دوسرا ہاتھ غالباََ زخم پر دھرا تھا۔
”زخم کو دبا کر رکھنا۔“میں نے بھی ہدایت دینا ضروری سمجھاتھا۔
موٹر سائیکل کی نسبت جیپ کو موڑ کاٹنے میں چند لمحے لگے تھے۔اس دوران میں ایک تنگ گلی کے نزدیک پہنچ گیا تھا۔جہاں جیپ کا داخلہ ممکن نہ تھا۔میں فوراََ اندر گھس گیا۔
دولڑکے پہلو بہ پہلو چلتے ہوئے آرہے تھے،مجھے طوفانی رفتار سے آگے بڑھتا دیکھ کر دیوار سے لگ گئے تھے۔
جونھی تنگ گلی سے ملحق پہلی گلی آئی میں نے موٹر سائیکل اس میں موڑ دی،کیوں کہ تنگ گلی کی نکڑ پر کھڑے ہو کر پولیس والے ہمیں نشانہ بنا سکتے تھے۔اس گلی میں تھوڑا آگے بڑھتے ہی ایک نوجوان لڑکی،لڑکے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مٹکتے ہوئے آتی دکھائی دی۔اس کے گلے میں سرخ رنگ کا دوپٹا مفلر کی طرح جھول رہا تھا۔اور یقینا اس کی گردن سے زیادہ لورا کے زخم کو اس دوپٹے کی احتیاج (ضرورت، حاجت)تھی۔
موٹر سائیکل روکتے ہوئے میں نے سٹینڈ پر لگایا۔میرا سہارا ہٹتے ہی لورا نے سیٹ پر ہاتھ ٹیک دیے تھے۔گولی اس کے دائیں پہلو میں لگی تھی۔اس کادایاں پہلو،کولہے اور دائیں ٹانگ خون سے لال ہو گئے تھے۔ خون مسلسل نیچے ٹپک رہا تھا۔
”معذرت بہن،مگر آپ کا دوپٹا مجھے چاہیے ہوگا۔“میں بغیر کسی تمہید کے لڑکی کو مخاطب ہوا۔وہ ششدر رہ گئی تھی۔لڑکے نے غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہا....
”اوے تم........“
”بحث کا وقت نہیں ہے دوست۔“میں نے نیفے سے پستول برآمد کیا۔
”بب....بھائی یہ لیں ۔“لڑکی نے فوراََفیشنی دوپٹا میرے طرف بڑھا دیاتھا۔
”دوبارہ معذرت چاہتا ہوں ،مگر میری ساتھی زخمی ہے۔“ میں نے صفائی دینا ضروری سمجھا کہ بعد میں بے چارے کڑھ کڑھ کر اپنا آدھا خون جلا لیتے۔
”کک....کوئی بات نہیں دوست۔“لڑکے نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا کہ ہتھیارمخالف کے غصے پر ٹھنڈے پانی سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
میں اس کی بات سننے رکا نہیں تھا۔پستول نیفے میں اڑستے ہوئے میں لورا کے قریب ہوا۔اپنی قمیص کا دامن سامنے سے پھاڑ کر میں نے تہہ کر کے گدی بنائی اور لورا کے زخم پر رکھ کر اوپر سے دوپٹا کس کر باندھ دیا۔خون روکنا نہایت ضروری تھا۔زخم کاری تھا یا نہیں ،زیادہ خون بہہ جانا اسے ناکارہ کر سکتا تھا۔
وہ ہونٹ بھینچے درد بھری سسکیاں لے رہی تھی۔درد کی شدت سے اس کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں ۔
”بھائی ! قریب ہی ایک کلینک ہے۔“نوجوان جوڑا ہمارے قریب رک گیا تھا۔یہ مشورہ لڑکی نے دیا، یقینا اپنے دوپٹے کا صحیح مصرف دیکھ کر اس کے دل پرسے غبار دھل گیا تھا۔
میں نے سیٹ سنبھالتے ہوئے کہا۔”شکریہ بہن۔“ان سے کلینک کا پتا دریافت کرنے کی زحمت نہ کی کہ کلینک میں جانا اپنی گردن پھندے میں دینے کے مترادف تھا۔
لورا نے میرے کندھوں پر سر ٹیک کر میرے پیٹ پر ہاتھ باندھ لیے تھے۔اب اس کی سسکیاں ، کراہوں میں تبدیل ہو گئی تھیں ۔سنائپر ہونے کے باوجود وہ صنف نازک ہی تھی۔خون بہنے سے اس کا جسم نقاہت کا شکار ہو گیا تھا۔اوپر سے درد وتکلیف اور پھر موٹرسائیکل کی بے آرام سواری۔
”ریجا،مجھے چھوڑ کر چلے کیوں نہیں جاتے۔“نجانے مشورہ دے رہی تھی یااس میں مزید موٹر سائیکل پر بیٹھنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔
میں جواب دیئے بغیر آگے بڑھ گیا۔وہ علاقہ میرے لیے بالکل انجان تھا۔گلیاں طلسمی عمارت کی بھول بھلیاں لگ رہی تھیں ۔سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کیا کروں اور کہاں جاﺅں ۔ایک بار خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا بھی سوچا،مگر پھرحوصلہ نہ ہوا۔اب میں جاسوس سے بڑھ کر قاتل تھا۔گو جنھیں قتل کیا تھا وہ اسی قابل تھے، کہ انھوں نے مجھے بڑی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔لیکن انڈیا کا قانون مجھے ایسی اجازت نہیں دیتا تھا۔ لورا کو وہیں چھوڑ دینا بھی مسئلے کا ایک حل تھا،بلاشبہ لورا نہ تو میرے لیے ضروری تھی اور نہ اس سے کوئی جذباتی وابستگی تھی۔مگر میری غیرت یہ گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ زخمی ساتھی کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے بھاگ جاﺅں ۔شاید یوں جان بچ جاتی مگر ضمیر کی عدالت ہمیشہ کے پچھتاوے میرا مقدر کر دیتی۔
گاہے گاہے سماعتوں میں پولیس کی گاڑیوں کے سائرن بھی گونجنے لگتے۔انھوں نے پورے علاقے کوگھیر لیاتھا اوریقینا ہمیں گرفتار یا ختم کیے بغیر ٹلنے والے نہیں تھے۔کسی بھی ملک کے حساس ادارے اور پولیس وغیرہ ،غیر ملکی دشمنوں کے لیے ایسے ہی باﺅلے اور متشدد ہوتے ہیں ۔ہر ایک کی ترجیحات ، فوائد اور نقصان اپنے اپنے ہوتے ہیں ۔یقیناکسی انڈین جاسوس کو پاکستان میں دیکھ کر میری بھی یہی حالت ہوناتھی۔
میری کوشش تھی کہ موٹر سائیکل تنگ گلیوں میں بھگائے رکھوں ،لیکن وہاں اتنی زیادہ تنگ گلیاں نہیں تھیں کہ ایک کے بعد ایک ایسی گلی ملتی رہتی۔لورا کی برداشت بھی اختتام پذیر تھی۔اس میں درد سہنے اور موٹرسائیکل پر مزید جمے رہنے کا حوصلہ مفقود ہو چکا تھا۔وہ لجاجت و درد بھری آواز میں رکنے کی منت کر رہی تھی۔یہ شکر تھا کہ اس نے موٹرسائیکل سے چھلانگ لگانے کی کوشش نہیں کی تھی۔شاید درد کی شدت اسے ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔
میں تنگ گلی سے کشادہ گلی میں نکلا۔تبھی ایک مکان سے سفید کار نکل کر مخالف سمت کو بڑھ گئی۔تھوڑے ہی فاصلے پر گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھری۔نجانے کسے نشانہ بنایا گیا تھا۔
لورا نقاہت وبے چارگی سے بولی۔”ریجا میں گر جاﺅں گی۔مجھے کہیں اتار کر تم بھاگ جاﺅ۔“
مجھ پر اس کی حالت مخفی نہیں تھی۔وہ مزید موٹر سائیکل پر نہیں بیٹھ سکتی تھی۔خطرہ مول لیتے ہوئے میں نے موٹر سائیکل اس مکان کی طرف موڑ دی جہاں سے کار نکلی تھی۔چوکیدار دروازہ بند کر چکا تھا۔
دروازے کے سامنے پہنچ کر میں نے ہلکا سا ہارن دیا۔ذیلی دروازہ کھول کر چوکیدار نے باہر جھانکا۔
”جی کس کو ملنا ہے۔“وہ باہر نکل آیا تھا۔ذیلی دروازہ اتنا چوڑا ضرور تھا کہ موٹر سائیکل اندر چلی جاتی۔جواب دیئے بغیر میں نے موٹر سائیکل آگے بڑھائی۔
”اوئے کیا بدتمیزی ہے۔“موٹرسائیکل کی ٹکر سے بچنے کو وہ ایک جانب ہوا اور میں دروازے سے اندر ہو گیا۔
چوکیدار گالی بکتے ہوئے ہمارے پیچھے اندر آیا،تبھی میں موٹرسائیکل کو سٹینڈ پر کھڑا کر کے نیچے اترآیاتھا۔سائیلنسر لگے گلاک کی بھیانک شکل دیکھتے ہی وہ ٹھٹک کر رکا۔مگر آنکھوں میں خوف کے بجائے حیرانی ابھری تھی۔کافی مضبوط اعصاب کا لگتا تھا ورنہ عموماََ ایسے ملازم ہتھیار دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں ۔
”کیا چاہتے ہو؟“اس کی نظریں سنہری بالوں والی لورا پر گڑ گئیں ۔
”پہلے دروازہ بند کرو۔“اس کے اطمینان بھرے انداز نے مجھے مایوس کیا تھا۔
قدم پیچھے لے کر اس نے ذیلی دروازہ بند کر دیا۔”اب بتاﺅ۔“اس بار لہجے میں اعتماد زیادہ تھا۔
میں نے پوچھا۔”گھر میں کون کون ہے؟“
وہ اطمینان سے بولا۔”تمھیں اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے۔اپنا مسئلہ بتاﺅ۔“اسی وقت گلی میں پولیس کی گاڑی سائرن بجاتے ہوئے گزرگئی تھی۔
”ڈر نہیں لگتا میں تمھیں نقصان پہنچاﺅں گا۔“میں نے حیرانی ظاہر کی۔لورا کراہتے ہوئے موٹر سائیکل سے اتر کر پختہ فرش پر بیٹھ گئی تھی۔اس کی حالت کافی ناگفتہ بہ لگ رہی تھی۔
اس نے نفی میں سرہلایا۔”تم اچکے یا ڈکیت نہیں لگتے،نہ یہ ڈاکے ڈالنے کا وقت ہے۔تمھاری دوست زخمی ہے۔مجرم ہواور یقینا پولیس سے بھاگتے پھر رہے ہو،تبھی وقفے وقفے سے پولیس کی گاڑیوں کے سائرن اور فائرنگ کی آواز بلند ہو رہی ہے۔“
میں پستول جھکاتے ہوئے بولا۔”مجرم ہیں یا نہیں ،مظلوم ضرور ہیں اور ہمیں مدد چاہیے۔“
اس کے لبوں پر تبسم ابھرا۔”مدد لینے کو مجھ پر اعتبار کرنا پڑے گا۔اورتم پستول تان کر دشمنی کاآغاز کر چکے ہو۔“
میں فلسفیانہ انداز میں بولا۔”کبھی کبھی ایسی افتاد پڑتی ہے کہ اجنبیوں پر اعتبار کرنا،ناگزیر ہو جاتا ہے۔اور مدد کے وعدے پر اکتفا کر کے آنکھیں میچنا پڑتی ہیں ۔“
”میرا نام سورج سنگھ ہے اور واہ گروکی قسم دھوکا نہیں دوں گا۔اب بتاﺅتمھارے لیے کیا کر سکتا ہوں ۔“
”ہمیں چھپنے کی جگہ چاہے۔“
وہ لورا پر نظریں جماتا ہوا بولا۔”کیا اتنا کافی ہوگا۔“یقینا لورا کی حالت اس کی نظر سے اوجھل نہیں تھی۔
میں نے دامن امید دراز کیا۔”پہلی ضرورت تو پناہ کی تلاش ہے۔بعد کے مراحل بعد میں دیکھے جائیں گے۔“
اس نے اطمینان سے انکشاف کیا۔”صاحب دفتر چلے گئے ہیں ،بچے کالج جا چکے ہیں ۔بیگم صاحب سوئی ہیں ۔ کام والی کی آمد میں گھنٹہ ڈیڑھ رہتاہے۔اور میرے کوارٹر کی طرف کوئی نہیں آتا۔“
”ہمیں وہیں لے چلو،میری ساتھی کو آرام کی ضرورت ہے۔“
”چلو۔“اس نے موٹرسائیکل پکڑی۔کلچ دبا کر گیئر نکالتے ہوئے بولا۔”تم اپنی ساتھی کو سہارا دو۔“
مگر لوراکی ضرورت سہارے سے بڑھ گئی تھی۔میں نے قریب ہوکر اس کے کندھوں اور ٹانگوں میں ہاتھ ڈال کر اٹھا لیا۔
کراہتے ہوئے اس کی پلکیں وا ہوئیں ،آنکھوں میں حیرت اور موہوم سا احتجاج تھا،مگر زبان خاموش رہی۔
چوکیدار کی معیت میں چلتے ہوئے ہم مکان کے عقب میں پہنچے،جہاں دو کمروں کا چھوٹا سا کوارٹر بنا تھا۔میں نے لورا کو احتیاط سے چارپائی پر لٹایا۔گولی جسم میں ہونے کی وجہ سے لمحہ بہ لمحہ اس کے زخم نے بگڑتے جانا تھا۔اگر گولی ٹانگ یا بازو وغیرہ میں لگی ہوتی تو میں نکالنے کی کوشش کر سکتا تھا۔پہلو جیسے نازک مقام کو چھیڑ کرمیں اس کے خاتمے کو یقینی بنانے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔
سورج سنگھ نے جانے کی اجازت چاہی۔” خون کے دھبے صاف کرنا پڑیں گے۔“
نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس پر اعتبار کرنے پر مجبور تھا۔فقط اثبات میں سرہلاکر رہ گیا۔
وہ باہر نکل گیا۔میں لورا کی طرف متوجہ ہوا۔اس کے چہرے پر زردی چھائی تھی۔ہونٹ بالکل خشک ہو گئے تھے۔آنکھیں بند کیے وہ ہولے ہولے کراہ رہی تھی۔
اس کے کندھوں کے نیچے دو تکیے رکھ کر میں نے پانی کا گلاس اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔
وہ غٹا غٹ پورا گلاس پی گئی۔میں نے ایک اور گلاس بھی اسے پلایا۔اور پھر خود پانی پینے لگا۔
”ریجا،میں نہیں بچوں گی۔“اس کی نحیف اور مایوسی سے بھرپور آواز میری سماعتوں میں پہنچی۔
میں اس کا حوصلہ بڑھانے کو ہنسا۔”زندگی و موت کے فیصلے میرے رب نے کرنے ہیں ۔تم اپنی محدود سوچوں کو زحمت نہ دو۔“
”تم بھاگ کر اپنی جان بچا سکتے ہو۔“
”تمھیں چھوڑ کر چلا گیا تو ڈیٹ کا وعدہ کیسے پورا ہوگا۔“
وہ میرے مذاق پر مسکرا بھی نہیں سکی تھی۔ آنکھیں بند کیے بے تا¿ثر چہرہ لیے لیٹی رہی۔
”اے!پریشان نہیں ہوتے۔“میں نے اس کا ہاتھ تھام کر نرمی سے سہلایا۔”ایسی مشکلات و تکلیفات تو زندگی کا حصہ ہیں ۔تم تو تربیت یافتہ سپاہی بلکہ سنائپر ہو۔عملی زندگی میں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کر چکی ہو، پھر حوصلہ ہارنے کی کیا تُک۔دل بڑا رکھواتنی آسانی سے تمھیں مرنے نہیں دوں گا۔اللہ پاک نے چھپنے کی جگہ عطا فرما دی ہے آگے بھی رحم کا معاملہ فرمائے گا۔“
وہ پھیکے لہجے میں بولی۔”آپ کا اللہ مجرموں کے ساتھ بھی رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔جانتے ہو ناں میں قاتل ہوں ۔اجرت لے کر ایک شخص کو ختم کر چکی ہوں ۔“
میں نے انکشاف کیا۔”اللہ پاک اپنی مخلوق سے سگی ماں سے بھی سترگنا زیادہ محبت کرتا ہے۔“
اس نے مجھے لاجواب کرنا چاہا۔”وہ اکیلا میرا اللہ تو نہیں ہے ناں ،اس کا بھی اللہ ہے جسے میں قتل کر چکی ہوں ۔کیا مجھے معاف کرنے سے دوسرے کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی۔“
میں نے لمبی بحث میں پڑنے کے بجائے عام فہم مثال بیان کی۔”جب ایک شخص کے دو بچوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو،تب جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہووالد اسے کبھی کبھارکوئی قیمتی چیز یا رقم وغیرہ دے کراس پر راضی کر لیتا ہے کہ وہ اپنے زیادتی کرنے والے بھائی کو معاف کر دے۔یوں دونوں خوش ہو جاتے ہیں ۔“
وہ مایوسی سے بولی۔” کبھی ،زیادتی کرنے والے کی پٹائی کر کے بھی دوسرے کو خوش کرتا ہو گا۔“
میں وثوق سے بولا۔’توبہ کرنے والے کے ساتھ کبھی کبھار نہیں ہمیشہ ہی مہربانی کا معاملہ ہوگا۔“
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”توبہ کیا ہوتی ہے؟“
”کیے پر پشیمانی،غلطی کا اعتراف اور آئندہ نہ کرنے کا عہد۔“
”پشیمان بھی ہوں ،آئندہ نہ کرنے کا عہد کئی بار کر چکی ہوں ۔اور یقین مانو اگر عہد نہ کیا ہوتا تو تمھیں سنائپنگ کی تربیت نہ دیتی۔“
میں نے اس کے ہاتھ کی پشت تھپتھپائی۔”تو بس سچے دل سے تائب ہوناکافی ہے۔“ وہ موقع مسلم اور کافر کی بحث چھیڑنے کا نہیں تھا۔وہ پہلے ہی حوصلہ ہاری ہوئی تھی۔اس کی دل جوئی اور ہمت بڑھاناضروری تھا۔
اس نے موضوع تبدیل کیا۔”یہ ہماری مدد کرنے پر کیو ں تیار ہوا ہے۔“میری سورج سنگھ کے ساتھ ملی جلی ہندی و پنجابی میں بات ہوئی تھی تبھی اس کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔
”پتا نہیں ۔“میں نے نفی میں سرہلایا۔”تمھارا مزید موٹر سائیکل پر بیٹھنا ممکن نہ تھا مجبوراََمجھے یہاں گھسنا پڑا۔میری دھمکی کارگر نہ ہوئی،تب مدد کی درخواست کی اور موصوف مان گیا۔“
وہ فکر مند ہوئی۔”کیا اعتبار کے قابل ہے۔“
میں دھیرے سے ہنسا۔”میرے ناں کرنے پر تمھارے پاس کوئی اور انتخاب موجود ہے۔“
”ہاں ۔“اس نے اثبات میں سرہلایا۔” میں تمھیں بھاگ جانے کا مشورہ دوں گی۔تاکہ دونوں نہ پکڑے جائیں ۔یوں قید میں مجھے باہر سے مدد ملنے کی امید موجود رہے گی۔“
”جو تمھیں ابھی چھوڑ کر چلا گیا وہ بعد میں مدد کوکیسے آئے گا۔“
اس نے خفگی سے منہ پھلالیا۔”تو نہ آئے منت کس نے کی ہے۔“
میں شاکی ہوا۔”خفا کیوں ہوتی ہو ،میں تمھیں چھوڑ کر ہی نہیں جا رہا۔“
اس کے ہونٹوں پر خوب صورت تبسم ابھرا۔”ساری لڑکیوں کو یونھی نرمی ،توجہ اور اخلاق سے پھانستے ہو۔“
”الزام لگا رہی ہو۔تم اگر مرد ہوتیں تب بھی چھوڑ کر نہ جاتا۔“
اس نے ہنسنے کی کوشش کی مگرزخم میں درد اٹھااور چہرے پر اذیت پھیل گئی۔
”گفتگو مت کرو بس آرام سے لیٹی رہو۔“یہ الفاظ میرے ہونٹوں پر تھے کہ سورج سنگھ اندر داخل ہوا۔
”چند جگہوں پر خون کے دھبے لگے تھے۔صاف کر دیئے۔اب کسی کو تمھاری یہاں موجودی کا شبہ نہیں ہو سکتا۔“ یہ کہہ کر اس نے دیوار پر نصب ”ایل ای ڈی“آن کی۔اور ڈھونڈ کر خبروں کا چینل لگا دیا۔
ہمارے بارے تفصیل بیان ہو رہی تھی۔لورا کے یورپین ہونے کا ذکر نہیں کیا جا رہاتھا۔صرف پاکستانی جاسوس جوڑے کے بارے بتایا جا رہا تھا۔
بلاشبہ سورج سنگھ کاٹی وی لگانے کا مقصد ہمیں اپنی آگاہی سے باخبرکرنا تھا۔چند منٹ خبرین سننے کے بعد وہ ٹی وی بند کرکے میری طرف متوجہ ہوا۔
”کیا کہتے ہو۔“
”کہنا تم نے ہے دوست۔ہم تو مدد کی درخواست کر چکے ہیں ۔البتہ ٹی وی کے ذریعے ہمیں یہ باور کرانے کی ضرورت نہیں تھی کہ تم ہمارے بارے سب کچھ جانتے ہو۔“
اس نے صفائی دی۔”تمھیں تازہ صورت حال سے باخبر رکھنے کو ٹی وی چلایا تھا۔اور کیا تم نہیں جانتے تمھیں پہچان چکا ہوں ۔“ایک لمحہ توقف کر کے بولا۔”باقی تمھارا مقصد اگر چھپنا ہے تو یقینا وہ پورا ہو چکا ہے۔مگر اپنی ساتھی کے لیے کیا سوچاہے۔یہ زخمی ہے اور یہاں اس کا علاج نہیں ہو سکے گا۔میں تمھیں کھانا کھلا سکتا ہوں ،پانی و چائے پلا سکتا ہوں ، کپڑے دے سکتا ہوں اور بس۔“
”پہلے تو میرے حوالے کپڑے کرو۔“مجھے پھٹی ہوئی قمیص تبدیل کرنے کا خیال آیا۔کیوں کہ لورا کا خون روکنے کو میں نے اپنی قمیص کا دامن پھاڑ کرگدی بنائی تھی۔
اس نے لوہے کی الماری سے جینز کی پینٹ اور پھولدار قمیص میرے جانب بڑھادی۔کمرے کے ملحقہ غسل خانے میں گھس کرمیں نے کپڑے تبدیل کیے اور باہر نکل آیا۔
نشست سنبھالتے ہوئے میں مطلب کی بات پر آیا۔”ہماری مدد کیوں کر رہے ہو،جبکہ جانتے ہوہم بھارت سرکار کو مطلوب ہیں ۔“
”میں ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ایک بار ٹیکسی بڑے ٹرالر میں ٹھوک دی،زخمی ہوا ،مگر واہ گرو کی کرپا(کرم) سے جان بچ گئی۔علاج کے لیے جب جمع پونجی ناکافی ہوئی توبیوی کوٹوٹی پھوٹی ٹیکسی ہی بیچنا پڑی۔ٹھیک ہونے پر یہاں نوکری کر لی۔چوکیدار ،ڈرائیور،مالی،خاکروب تمام ذمہ داریاں سنبھالتا ہوں اور پندرہ ہزار تنخواہ ملتی ہے۔“
اس کے خاموش ہونے پر میں بے ساختہ بولا۔”تو....“
وہ اطمینان سے بولا۔”مجھے ٹیکسی چاہیے۔“
میں نے پوچھا۔”گیراج میں شاید بیگم صاحب کی کار کھڑی ہے۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”جی ہاں ۔“
میں نے پیش کش کی۔”ہمیں ڈگی میں چھپا کر کسی ایسے کلینک پر لے جاﺅجہاں غیر قانونی طور پر میری ساتھی کا علاج ہو سکے۔پانچ لاکھ دوں گا۔“
”منظور ہے،رقم میرے حوالے کرو۔“وہ فوراََ تیار ہو گیا تھا۔
”پاس تو نہیں ہے۔البتہ وعدہ کرتا ہوں ایک دو دن میں لا دوں گا۔“
اس نے مشکوک انداز میں پوچھا۔”کہاں سے لاﺅ گے؟“
”ایک جگہ چھپائی ہوئی ہے۔“
”شاید تم مجھے ٹرخا رہے ہو۔“
میں نے کہا۔” یہ ایک مسلمان کا وعدہ ہے۔بس ایک دو دن انتظارکرنا پڑے گا۔“
وہ سوچتے ہوئے بولا۔”نئی گاڑی کی خریداری پر شاید چھے سات لاکھ لگ جائیں ۔“
”سات لاکھ دوں گا۔“میں نے پیش کش بڑھا دی۔
اس نے بستر سے کمبل اٹھا یا۔”چلو۔“
میں نے پوچھا۔”کمبل کو کیا کرو گے؟“
”ڈگی میں بچھاﺅں گا تاکہ تمھاری ساتھی کو تکلیف نہ ہو اور اس کے خون سے ڈگی بھی خراب نہ ہو۔“
میں پسندیدگی سے سر ہلا کر لورا کی طرف بڑھا۔جونھی اسے اٹھانے کو جھکا وہ بے چینی سے بولی۔ ”مجھے بھی بتاﺅکیا باتیں ہو رہی ہیں ۔“
اسے اٹھا کر میں اطمینان سے بولا۔”سودے بازی ہو رہی تھی۔سورج سنگھ ہمیں ڈاکٹر تک لے جائے گا اور میں اسے سات لاکھ دوں گا۔“
عجیب سی نظروں سے مجھے گھور کر اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔البتہ میرے اٹھانے کی وجہ سے ایک بار پھر اس کی کراہیں نکلنے لگیں تھیں ۔
سورج سنگھ ڈگی کھول کر اس میں کمبل بچھا چکا تھا۔میں نے احتیاط سے لورا کو اندر لٹایااور پھر خود بھی اندر ہو گیا۔ہم دونوں یوں لیٹے تھے کہ من و تو کا فرق مٹ گیا تھا۔اس بے چاری کو زخمی ہونے کی وجہ سے خاصی تکلیف کا سامنا تھا۔البتہ میرے اتنے قریب لیٹنے پر اس کے چہرے پرانقباض یا ناپسندیدگی نہیں ابھری تھی۔ یقینا وہ مجبوری سے ناواقف نہیں تھی۔
”کسی مناسب ڈاکٹر کا پتا معلوم کرنے کوراستے میں تھوڑی دیر ایک دوست کے پاس رکوں گا۔“ مجھے مطلع کر کے اس نے ڈگی بند کردی۔چند لمحوں بعد کار اسٹارٹ ہوگئی۔
داخلی دروازہ اسے خود ہی کھولنا اور بند کرنا تھا اس وجہ سے چند لمحے رکنا پڑا۔اور پھر کار روانہ ہو گئی۔ گاڑیوں کاشور،ہارن ،لوگوں کی چیخ پکار راستے بھر ہماری سماعتوں میں گونجتی رہی۔اس کے ساتھ لورا کی کراہیں بھی تسلسل سے سنائی دیتی رہیں ۔میں نے اسے آرام پہنچانے کی پوری کوشش کی تھی۔نجانے اس کی درد بھری کراہیں تھیں یا میرے دماغ ہی میں کوئی گرہ پڑی تھی کہ اتنی قربت کے باوجود میرے دماغ میں سفلی جذبات یا کوئی بے ہودہ خواہش پیدا نہیں ہوئی تھی۔ورنہ جس حالت میں ہم لیٹے تھے،اتنی قربت صرف زن و شو(بیوی و شوہر) ہی کو روا ہو سکتی ہے۔
راستے میں گاہے گاہے کار رکتی رہی۔آدھے گھنٹے بعدرکنے کا نسبتاََ لمبا وقفہ آیا۔مگر دس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں رکے تھے۔دوبارہ سفر شروع ہونے کے بعد منزل تک پہنچنے میں ادھ پون گھنٹا مزید لگا تھا۔رک کر وہ قریب آیا اور ڈگی کھولے بغیراونچی سرگوشی میں بولا۔
”ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں ۔“
اس کی واپسی چند منٹ بعد ہوئی تھی۔ڈگی کھلنے پر سورج سنگھ کے ہمراہ دو کالے بھجنگ افراد بھی نظر آئے،جنھوں نے اسٹریچر اٹھا رکھا تھا۔دونوں شکل سے گنوار اور عقل سے فارغ دکھائی دے رہے تھے۔یقینا ڈاکٹر صاحب نے ایسے ملازم اسی وجہ سے رکھے تھے کہ وہ جائز ناجائز کی سمجھ بوجھ سے عاری تھے۔
میں نے ڈگی سے نکل کر لورا کو بانھوں میں بھرا اور اسٹریچر پر لٹا دیا۔دونوں ملازموں کے پیچھے چلتے ہوئے ہم تھوڑی دیر بعد چھوٹے سے آپریشن تھیٹر میں پہنچ گئے۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 36
ریاض عاقب کوہلر
میں نے ڈگی سے نکل کر لورا کو بانھوں میں بھرا اور اسٹریچر پر لٹا دیا۔دونوں ملازموں کے پیچھے چلتے ہوئے ہم تھوڑی دیر بعد چھوٹے سے آپریشن تھیٹر میں پہنچ گئے۔
ایک ڈاکٹر ،ادھیڑ عمر کی دونرسوں کے ہمراہ وہاں موجود تھا۔ڈاکٹر کا نام اشوک تھا۔نرسوں نے لورا کو احتیاط سے آپریشن کی میز پر منتقل کیا اورملازم اسٹریچر اٹھا کر خاموشی سے باہر نکل گئے۔
ڈاکٹر اشوک نے لورا کی پٹی کھول کر جائزہ لیا۔”آپریشن پر ایک لاکھ بیس ہزار خرچہ ہوگا۔اگر دو تین دن دیکھ بھال کو یہاں رہنا ہوا تو ڈیڑھ لاکھ لگیں گے۔“میری طرف مڑتے ہوئے اس نے جذبات سے عاری لہجے میں اعلان کیا۔
میں نے بغیر بحث و تکرار کے رقم نکالی اورڈیڑھ لاکھ گن کر اس کی طرف بڑھادیے۔
رقم گن کر وہ بولا۔”آپ باہر چلے جائیں ۔“
میں اور سورج سنگھ باہر آگئے۔وہ مزاحیہ انداز میں شاکی ہوا۔”ڈاکٹر کے حوالے تو فوراََ مطلوبہ رقم کر دی۔ اور مجھے مستقبل پر ٹرخا دیا۔“
میں نے صفائی دی۔”میرے پاس اتنی ہی رقم تھی،تمھیں نہ دی کہ ڈاکٹر کے لیے بچا کر رکھی تھی۔ یقینا ڈاکٹر رقم لیے بغیر علاج پر آمادہ نہ ہوتا۔اور تم پرسوں دن بارہ بجے اپنی مطلوبہ رقم لے جانا۔“
”مذاق کر رہا تھایار۔“وہ مسکراتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔”چلتا ہوں ،شاید بیگم صاحب نے گھر سر پر اٹھایا ہو۔جب تک پیسے نہیں مل جاتے نوکری تو نہیں چھوڑ سکتا تھاناں ۔“وہ مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔
آپریشن گھنٹا بھر جاری رہا تھا۔پھر ڈاکٹر اشوک نے باہر نکل کر مجھے مبارک باد دی۔میں نے درخواست کی۔” ہمیں ایسا کمرہ دیا جائے جہاں پولیس یا ایجنسی کا کوئی فرد نہ پہنچ سکے۔“
وہ دو ٹوک انداز میں بولا۔”میرے پاس دو تہہ خانے ہیں ۔آپ سے عام تہہ خانے کا معاوضا لیا ہے۔اگر مزید احتیاط برتنا چاہتے ہو تو خصوصی تہہ خانے میں منتقل ہو جاﺅ،مگر بیس ہزار مزید خرچ ہوں گے۔“
”اگر مطلوبہ فیس کل صبح آپ کے حوالے کروں کوئی مضائقہ تو نہیں ۔“
”کل صبح تک انتظار کر لوں گا۔“وہ سر ہلاتے ہوئے اپنے رستے ہو لیا۔
میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر یہ احتیاط برتی تھی۔کیوں کہ ایسے ڈاکٹروں کی خبر ایجنسی والوں کو بھی ہوتی ہے۔
تھوڑی دیر بعد لورا کو تہہ خانے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔وہ خفیہ کمرہ تھا جہاں ڈاکٹر کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں آسکتا تھا۔ساتھ والے کمرے میں سیاہ فام شخص بھی ٹانگ پر پلستر چڑھائے لیٹا نظر آیا۔
لورا بے ہوش تھی۔نرسیں اسے ڈرپ لگا گئی تھیں ۔میں نے ایک نرس کو کچھ رقم دے کر وہیں کھانا منگوا لیا تھا۔کھانا کھاکر میں صوفے پر لیٹ گیا۔اٹھنے پر لورا جاگتی نظر آئی۔خوشگوار تبسم میری جانب اچھال کروہ دھیرے سے بولی۔
”شکریہ ریجا۔“
شام ہو رہی تھی،میں نے پوچھا۔”کچھ کھانے کو دل کر رہا ہے۔“
”جوس پیا ہے،پھل بھی کھائے ہیں ۔البتہ پزا کھانے کا من کر رہا ہے۔“
نرس کو بلا کر میں نے پزا لانے کا کہا۔اور خود تازہ دم ہونے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔
٭٭٭٭٭
دیر تک میں لورا سے گپیں ہانکتا رہا۔ رات گہری ہوتے ہی وہاں سے نکل آیا۔ہنومان نگر جانے کو رکشا مل گیا تھا۔گو وہا ں خطرے کا اندیشہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ایک شب پہلے ہی وہاں واردات ہو چکی تھی۔ البتہ خفیہ اہلکار وں کی موجودی کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آرہی تھی۔ہم ہنومان نگر سے نکل کر نہرو نگر کی حدد میں داخل ہو گئے تھے۔(سورج سنگھ کے مالک کا مکان نہرو نگر ہی میں تھا)
مجھے آسانی سے مطلوبہ مکان کی چھت اور پانی کے ٹینک تک رسائی مل گئی تھی۔بیگ نکال کر واپس لانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی تھی۔مگر جونھی واپس کلینک کے قریب پہنچاپارکنگ میں دو کالی گاڑیوں اور ان کے قریب ٹہلنے والے افراد کو دیکھتے ہی چوکنا ہو گیا تھا۔ان کے انداز سے واضح تھا کہ وہ کون لوگ تھے۔ان کا دھیان کلینک کی عمارت کی طرف تھا۔میرا واپس جانا خطرے سے خالی نہ تھا۔اگر وہ اتفاق سے مڑ کر دیکھ لیتے تو میرا پارکنگ میں آکر واپس جانا انھیں چونکا سکتا تھا۔
سرعت سے فیصلہ کرتے ہوئے میں نیچے بیٹھااور ایک کار کی آڑ پکڑ لی۔میرا دل اندیشوں سے بھر گیا تھا۔ اگر وہ کسی مخبری پر وہاں پہنچے تھے تو ڈاکٹراشوک سے اگلوانا ان کے لیے مشکل نہ ہوتا۔
میں بیٹھے بیٹھے کونے کی طرف کھسکنے لگا۔جینز میں اڑسا ہواپستول میرے ہاتھ میں منتقل ہو گیا تھا۔
راستے کے قریب والی دو تین گاڑیا ں چھوڑ کر میں ایک کار کے نیچے گھس گیا۔اب قریباََ میں محفوظ ہو چکا تھا۔گو پارکنگ میں روشنی تھی،مگر جب تک کار کے قریب پہنچ کر بہ غور جائزہ نہ لیا جاتامیرا نظر آنا ممکن نہ تھا۔ وہاں اوندھے منہ لیٹ کر میں دشمنوں کا جائزہ لینے لگا۔
تھوڑی دیر بعد ہسپتال سے جس شخصیت کو برآمد ہوتے دیکھا اس نے مجھے چونکا دیا تھا۔وہ ممتا دیدی تھیں ۔ کالے رنگ کا تھری پیس سوٹ ان پر خوب سجتا تھا۔ وہ دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے تیز قدموں سے چلتے ہوئے قیمتی گاڑی کے پاس پہنچیں ۔ایک شخص نے مو¿دبانہ انداز میں کار کا دروازہ کھول دیا۔ان کے نشست سنبھالتے ہی ڈرائیور نے کار آگے بڑھا دی۔ دوسری گاڑی بھی پیچھے بڑھ گئی تھی۔ان کے ہمراہ لورا کو نہ دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان محسوس ہوا تھا۔یقینا وہ مشکوک جگہوں کا جائزہ لینے نکلی تھیں ۔لورا کے زخمی ہونے کی خبر یقینا ان تک بھی پہنچ گئی تھی۔اور اس کے بعد ہسپتالوں اور خصوصاََ ایسے پرائیویٹ کلینکوں کا جائزہ لینا جن کی شہرت منفی ہو نہایت ضروری تھا۔یہ خطرہ میرے دماغ میں بھی موجود تھا تبھی توزیادہ پیسے دے کر خصوصی سے بھی خصوصی کمرہ حاصل کیا تھا۔
پارکنگ خالی ہوتے ہی میں کار کے نیچے سے نکلا ، کپڑے جھاڑ ے ،پستول کو قمیص کے نیچے اڑسا اور کلینک کی طرف بڑھ گیا۔
چوکیدار کو پہچان کرا کے اندر داخل ہوا۔ڈاکٹر اشوک اپنے دفتر میں موجود تھا۔اس کی اپنی رہائش کلینک سے ملحق ہی تھی۔اور غالباََاسے نیند سے جگا کر وہاں بلایا گیا تھا۔
میں صورت حال جاننے کو اس کے دفتر کی طرف بڑھ گیا۔دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر برہمی نمودار ہوئی۔
”آپ کو باہر نہیں گھومنا چاہیے۔چند منٹ پہلے ہی سرکاری اہلکار پوچھ تاچھ ،بلکہ تلاشی لے کر گئے ہیں ۔“
”میں بقیہ رقم کی ادائی کو حاضر ہوا تھا۔“میں نے مطلوبہ رقم ان کی طرف بڑھا دی۔
پیسے ایسی جادوکی چھڑی ہیں جواپنی جھلک دکھا کر رویوں کو نرم کرنے کی خصوصیت رکھتے ہیں ۔اس کی درشتی ،نرمی میں تبدیل ہوئی۔”احتیاط کیا کرو۔اور کوشش کرو دو دن تک باہر نہ نکلو،آپ کو ہر سہولت وہیں مہیا کر دی جائے گی۔“
”آئندہ احتیاط برتوں گاڈاکٹر صاحب۔“ادب سے کہتے ہوئے میں کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔
میرے بیٹھنے سے اس نے اندازہ لگایا۔”کوئی کام ہے؟“
میں نے پوچھا۔”ہمیں مستقل یہاں رہنے کو کتنا خرچ کرنا پڑے گا۔میرا مطلب جب تک میری ساتھی اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہوجاتی۔“
اس نے حیرانی بھرے لہجے میں مشورہ دیا۔”ہماری مانگ سے کئی گنا کم قیمت خرچ کر کے آپ چھپنے کی عارضی جگہ تلاش کر سکتے ہیں ۔“
میں بے نیازی سے بولا۔”مشورہ نہیں آپ کی مانگ پوچھی ہے۔“
وہ کندھے اچکاتا ہوا بولا۔”روزانہ کے دس ہزار خرچ ہوں گے۔کھانے پینے کی ضروریات آپ کو اپنے پلے سے پورا کرنا پڑیں گی۔“
میں نے مطلع کیا۔”دودنوں کا معاوضا ادا ہو گیا ہے،اگر مزید رکنا ہوا توروزانہ کی بنیاد پر پیشگی رقم ادا کر دیا کروں گا۔“
وہ خوش دلی سے مسکرایا۔”خوش آمدید۔“
”اور امید کرتا ہوں ،کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا کہ انتقام لینے کو مجھے اپنے چھپے ہوئے دوستوں کو سامنے لانا پڑے۔“
اس کی آنکھوں میں ناپسندیدگی ابھری،مگر بولتے وقت لہجے میں درشتی یا ناگواری شامل نہیں تھی۔ ”آپ کا نام نہیں جانتااور نہ جاننے کی خواہش ہے۔البتہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ میں ،دھرم، قومیت، رنگ، نسل، زبان ،کرداراورپیشے وغیرہ کو بالائے طاق رکھ کرمسیحائی کرتا ہوں ۔بلاشبہ میرا معاوضا زیادہ ہے۔لیکن یہ معاوضا خصوصی مریضوں سے لیتا ہوں کیوں کہ انھیں چھپانے کے انتظامات وغیرہ بھی مجھے کرنا پڑتے ہیں ۔اور یہ بھی یادرکھنا،جتنامعاوضا آپ مجھے دے چکے ہیں ۔اس سے دگنی رقم سنیتا جیسوال آپ کو پکڑوانے کے دے دیتی۔“
میں نے تجاہل عارفانہ سے پوچھا۔”کون سنیتا؟“
”ابھی خفیہ ایجنسی کے لوگ سنیتا جیسوال کی سرکردگی میں آپ کی تلاش میں آئے تھے۔انھیں مطمئن کر کے بھیج دیاہے کہ میں راجا ذیشان نامی کسی شخص کو نہیں جانتا۔“
اس کے انداز سے لگا جیسے وہ دیدی کو پہلے سے جانتا ہے تبھی بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔”سنیتا جیسوال آپ کی واقف کار ہیں ؟“
اس نے گہرا سانس لیا۔”کبھی تھی۔“
”اگر وضاحت کر دیتے۔“میں نے اشتیاق ظاہر کیا۔
اس کے خشک چہرے پر تبسم ابھرا۔”شاید آپ اسے دیکھ چکے ہیں اور اس کے نمکین و ملیح چہرے کی کشش سے خود کو بچا نہیں پائے۔“
بہ مشکل اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے میں نے حقیقت اگلی۔”وہ میری دیدی ہیں ۔اور اس میں ذرا بھر شبہ نہیں ۔اس لیے دوبارہ ان کے متعلق کچھ بھی بولتے وقت میرے جذبات آپ کے مدنظر رہنے چاہئیں ۔اسی میں ہم دونوں کی بھلائی ہوگی۔“
ڈاکٹر اشوک ششدر رہ گیا تھا۔”کچھ سمجھا نہیں ۔را کی میجر ایک مسلم کی بہن کیسے ہو سکتی ہے۔“
”لمبی کہانی ہے کبھی فرصت میں سناﺅں گا۔البتہ آپ ان کے متعلق کچھ جانتے ہیں تو سن کر مجھے خوشی ہو گی۔“
”کسی بھائی کے سامنے،اس کی بہن سے عشق و محبت کا اعتراف کرنا یقینا نامناسب بلکہ بے ہودہ ہے۔ تو رہنے ہی دیتے ہیں ۔“خشک لہجے میں کہتے ہوئے اس نے کرسی چھوڑی۔”اور میں آرام کرنا چاہوں گا۔“
”شکریہ ڈاکٹر صاحب۔“میں اس کے دفتر سے نکل آیا۔تہہ خانے میں پہنچا تو لورا خواب آور دوا کے زیر اثر نظر آئی۔میں نے ڈیوٹی نرس کے حوالے ایک بڑانوٹ کر کے چارپائی کا بندوبست کر لیا،کیوں کہ وہاں چند دن رہنے کا سوچ لیاتھا۔ایجنسی والے تفتیش کر کے واپس جا چکے تھے اور وہ کلینک پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر اشوک بھی اصول پرست اور وضع دار شخص لگا تھا۔وہاں لورا کی بھی اچھی دیکھ بھال ہو جاتی اوراس کا زخم ٹھیک ہونے تک ہماری تلاش میں بھی پہلی سی سرگرمی باقی نہ رہتی۔
٭٭٭٭٭
دودن بعد سورج سنگھ معاوضا لینے پہنچ گیا تھا۔میں کلینک سے باہر ہی اس کا منتظر تھا۔
اس نے حیرانی ظاہر کی۔”باہر کیوں کھڑے ہو؟“
”کیوں کہ اپنی ساتھی کا علاج ہونے کے بعد کلینک میں رہنا غیر مناسب لگتا ہے۔“میں نے ذومعنی انداز اپنا کر اسے یہ تا¿ثر دیا گویا ہم کلینک چھوڑ چکے ہیں ۔
اس نے بے یقینی سے پوچھا۔”رقم کا بندوبست ہو گیا؟“
”آﺅ میرے ساتھ۔“میں اسے پارکنگ کے ایک کونے میں لے گیا۔آڑ میں ہوتے ہی میں نے نوٹوں کا بنڈل اس کی جانب بڑھایا۔وصول کر تے وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔مسرت بھرے لہجے میں اس نے حقیقت اگلی۔
”یقین نہیں آرہا،مجھے لگا تھاآپ دھوکا دیں گے۔“
”مسلمان دھوکا نہیں دیتا سردار جی!وعدہ خلافی کرنے والے کو اسلام میں منافق کہا جاتا ہے۔اور ایسا شخص غیر مسلم سے زیادہ ناپسندیدہ ہوتا ہے۔“
”آپ کا شکریہ کس طرح ادا کر سکتا ہوں ۔“اس کے لہجے میں عزت و احترام در آیا تھا۔
میں صاف گوئی سے بولا۔”ہماری ملاقات کو راز رکھ کر۔“
وہ عزم سے بولا۔”سورج سنگھ گردن کٹا دے گا،مگرآپ کا ذکر کسی سے نہیں کرے گا۔“
میں نے اسے جانے کا کہا۔”تم پہلے نکلو،ہمارا اکٹھا جانا مناسب نہ ہوگا۔“
الوداعی معانقہ کر کے اس نے میرے گالوں پر عقیدت بھرا بوسا دیا اور تیز قدموں سے چلتا ہوا رخصت ہو گیا۔اس کے ایک ٹیکسی میں بیٹھ کر غائب ہوتے ہی میں واپس چل پڑا۔لورابے چینی سے میری منتظر تھی۔ یقینا میں نے خواہ مخواہ کی مصیبت ہی اپنے سر مول لے لی تھی۔ نجانے میرے التفات اور توجہ کو وہ کیا سمجھتی تھی، مگر میرے دل و دماغ میں اس کے لیے سوائے ہمدردی کے کچھ بھی نہیں تھا۔البتہ اسے چھوڑ کر جانا اس لیے بہتر نہ سمجھا کہ اس وقت ہماری تلاش عروج پر تھی۔اور میں جانتا تھا کچھ دنوں زیر زمین رہنا بہتر رہے گا۔یوں بھی ڈینو کی موت کے بعد مجھے کسی ساتھی کی ضرورت تھی اور مفت میں ایک پیشہ ور سنائپر کا مل جانانعمت غیر مترقبہ ہی تھا۔اس بے چاری کو معلوم نہیں تھا کہ شکلا اصل میں میرا ہدف تھا۔گو اسے غلط فہمی میں رکھنے کا مقصد کسی فائدے کا حصول یا اس کی نظر میں اچھا بننے کی کوشش نہیں تھی۔میں فقط اپنے مشن کی بھنک اسے نہیں لگنے دینا چاہتا تھا۔ کیوں کہ گرفتار ہونے پر تشدد کا سامنا ہوتے ہی اس نے حقیقت اگل دینا تھی۔ممکن تھا وہ سخت جانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اذیت جھیل جاتی مگر مجھے کیا ضرورت تھی کہ خطرہ مول لیتا۔اپنے مشن سے عارضی تعلق دار کو لاعلم رکھنا ہی احتیاط تھی۔
اگلاہفتہ میں نے تہہ خانے میں بتایا۔اس دوران لورا کا زخم بہتر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اچھی دوائیوں کے استعمال اور بہترین دیکھ بھال کی بدولت امید تھی اس نے جلد ہی بستر چھوڑ دینا تھا۔
فلموں ،ڈراموں میں گولی لگنے کے دس منٹ بعد ہی ہیرو صاحب بالکل ٹھیک ہو کر دشمنوں کی ٹھکائی کرتا نظر آتاہے،جبکہ حقائق اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔کوئی بھی زخم ٹھیک ہونے میں وقت لیتا ہے۔اورایسی حالت میں ہیرو پن صرف فلموں ہی میں دکھانا ممکن ہے۔
ان دنوں کھلی فراغت تھی۔میں اور لورا دیر تک گپیں ہانکتے۔وہ افغانستان کے واقعات کئی بار دہرا چکی تھی۔اس کا ماننا تھا کہ نک سٹیورٹ مجھ سے بے حد متاثر،بلکہ ڈرا ہوا تھا۔لورا بھی مجھ سے سخت نفرت کرتی تھی۔ کیوں کہ میں نے ان کی بادشاہت میں دخیل ہو کرانھیں کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔میرا نامعلوم ہونا انھیں مزید تپا رہا تھا۔ نک اسٹیورٹ مجھے افغانستان یا پاکستان کا باشندہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔وہ سمجھتا تھا میں کسی ترقی یافتہ ملک کا سنائپر تھا اور معاوضا لے کر مجاہدین کا ساتھ دے رہا تھا۔
ایک دن قہقہ لگاتے ہوئے بولی۔”یاد ہے جب تم نے کوبرا گرایا تھا۔قسم سے اس دن تم جن بھوت لگے تھے۔اور پھر ہمارے کئی آدمیوں کو تم نے جس طرح گھیرا تھا،کہ تین چار ہی جان بچا پائے تھے۔“
میں نے کہا۔”تمھیں بھی تو زندہ چھوڑ دیا تھا۔“
وہ خجالت سے بولی۔”میں بھی کتنی بے وقوف تھی ،تم نے کہا کھڑی ہو جاﺅاور کھڑی ہو گئی۔“
میں نے ناک بھوں چڑھائی۔”بے وقوفی کیسی،کیا کھڑا ہونا باعثِ نقصان ہواتھا۔“
وہ اداسی سے بولی۔”سچ تو یہ ہے کہ نک نے کہا تھاکھڑی ہو جاﺅوہ تمھیں گولی نہیں مارے گا....کیا پتا تھا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہے۔“
”تمھیں پسند تھا۔“
اس نے اثبات میں سرہلایا۔”ہاں ،ہم شادی کرنے والے تھے۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”تمھاری خوش قسمتی تھی کہ مجھے اپنی پلوشہ کی تلاش میں جانا تھا۔ورنہ مزید دو تین ماہ وہاں ضرور گزارتا۔اور دوسری بار موقع ملنے پر میری انگلی لبلبی دباتے ہوئے قطعاََ نہ جھجکتی۔“
وہ منہ بناتے ہوئے بولی۔”ریجا! جھوٹ بولنے کی کوئی حد ہوتی ہے۔“
”جھوٹ کیسا۔“میں سچ مچ حیران رہ گیا تھا۔
”میری تیمارداری میں یوں لگے ہو کہ میرا کوئی سگا بھی اتنی دیکھ بھال نہ کرتا۔“
”کہیں پڑھا تھا کہ عورت دل سے سوچتی ہے۔اور بلاشبہ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ۔بے وقوف! میں تمھاری تیمارداری نہیں کر رہا،خود چھپا ہوا ہوں ۔میں انڈیا کا شہری نہیں ہوں کہ آزادی سے گھوم پھر سکوں ۔“
اس نے خفگی بھرے لہجے میں مجھے غلط ثابت کرنا چاہا۔”چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بھاگ جاﺅ،میرے انتقام لینے سے تمھیں کیا مطلب۔“
میں ذو معنی لہجے میں بولا۔”کیا لگتا ہے ،تمھارے انتقام کے لیے وقت ضائع کرتا پھر رہا ہوں ۔“
اس نے تیز لہجے میں پوچھا۔”تو کس لیے کر رہے ہو۔“
میں شرارتی لہجے بولا۔”صرف اس امید پر شاید ڈیٹ پر جانے کو تیار ہو جاﺅ۔“
”بے ہودہ۔“اس نے مجھے تکیہ کھینچ مارا۔اور میں ہنستے ہوئے باہر نکل گیا۔
ساتھ والے کمرے میں ایک سیاہ رو ٹانگ پر پلستر چڑھائے موجود تھا۔اس کا نام دھرمودادا معلوم ہوا تھا۔ گو ایسے غنڈوں کو پولیس والے نہیں چھیڑتے نہ ایجنسیاں ان سے دشمنی پالتی ہیں ۔مگران کی آپس کی دشمنیاں اور جھگڑے کچھ کم تباہ کن نہیں ہوتے۔میں نے ایک دو بار گپ شپ کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کے اظہارناگواری اور ناپسندیدگی کو دیکھ کر مجھے پیچھے ہٹنا پڑا۔بس نرس سے سرسری سا معلوم ہوا تھا کہ وہ ممبئی کا دادا دھرمیش عرف دھرمو تھا۔ اور کسی دوسرے دادا سے جھگڑے کے بعد اس حال کو پہنچا تھا۔عموماََ ایسا بھی ہوتا ہے کہ غنڈوں کے گروہ ایک دوسرے سے یوں برسر پیکار ہوتے ہیں کہ طاقتور گروہ مخالفین کا ایک بندہ بھی باقی نہیں چھوڑتا۔آپس کی لڑائی میں دھرمو دادا کے گروہ کی اکثریت فنا ہو چکی تھی۔اور بچنے والے منہ چھپاتے پھر رہے تھے۔خود دھرمو دادا بھی مرتے مرتے بچا تھا اور اب ڈاکٹر اشوک کے پاس چھپا ہوا تھا۔ڈاکٹر اشوک میں یہ خوبی دیکھی تھی کہ بات کا کھرا اور وعدے کا پکا تھا۔دھوکا دہی اور راز فاش کرنے کے سخت خلاف تھا۔
دھرمو داداکے ساتھ والے کمرے میں ایک لڑکی رچنا کماری ایڈ مٹ تھی۔اس کے پیچھے بھی کوئی بااثر لوگ پڑے تھے۔بے چاری برے حال میں وہاں تک پہنچی تھی۔اسے وہاں پہنچانے اور فیس وغیرہ ادا کرنے والا بھی کوئی سیٹھ ہی تھا۔اصل معاملہ نرس کو بھی معلوم نہ تھا۔چوتھے کمرے میں ادھیڑ عمر کا ایک شخص دودن پہلے ہی پہنچا تھا۔اس کانام توآنند پٹیل معلوم ہوا تھا۔اور اس کی وہاں موجودی کے بارے بھی نرس کو کوئی اندازہ نہ تھا۔بہ ظاہر وہ زخمی نہیں تھا۔مگر مخصوص دوائیاں اسے باقاعدگی سے کھلائی جا رہی تھیں ۔
نرس کا نام رمیتاکور تھا۔وہ سکھ تھی۔کافی باتونی اور خوش مزاج تھی۔البتہ شکل و صورت بالکل گئی گزری تھی۔میں اس سے بھی گاہے گاہے گپ شپ کر لیتا۔رات گئے دو تین دفعہ باہر جا کر کلینک کی مکمل عمار ت کا جائزہ بھی لے آیا تھا۔اور ایسا کیوں کیا تھا،یقینا اس بارے کئی بار وضاحت کر چکا ہوں کہ جاسوس ہر کمین گاہ میں سب سے پہلے فرار کا رستہ ڈھونڈتا ہے۔
رمیتا کے ساتھ تھوڑی دیر گپ شپ کر کے میں واپس لوٹ آیا۔خود کو چاق و چوبند رکھنے کو میں کمرے کے اندر ہی ڈنڈ پیلتا،اٹھک بیٹھک کرتااور ایک دو اور ایسی مشق کرتا جس کے لیے بھاگ دوڑ کی ضرورت نہ پڑتی۔
لورا اب غسل خانے وبیت الخلاءتک خود چلی جاتی۔ابتدائی دو تین دن تک یہ خدمت مجھے ہی سرانجام دینا پڑی تھی۔
کمرے میں ٹی وی لگا ہوا تھااب ہمارے بارے خال ہی کوئی خبر آتی تھی۔دو تین دن ہمارا ذکر زور و شور سے ہوتا رہا تھا،نئے مسائل سامنے آتے ہی ہمارا ذکر کم ہونے لگا۔امید تھی مہینا گزرنے تک ہم عوام کی نظر میں بھولے بسرے ہو جاتے۔البتہ ایجنسیاں اتنی آسانی سے بھولنے پر تیار نہیں ہوتیں ۔
وقت کا اندازہ گھڑی دیکھ کر ہی کرتے تھے۔عشائیہ (ڈنر)میں نمازِ عشاءکے بعد ہی کرتا تھا۔لورا بھی میرا ساتھ دینا پسند کرتی۔کھانے کے بعد میں تہہ خانے ہی میں تھوڑی چہل قدمی کرتا۔گاہے گاہے مفلر سے چہرہ ڈھانپ کر باہر بھی نکل جاتا۔سائیلنسر لگا پستول تو سوتے وقت بھی میرے پاس ہی ہوتا تھا۔
اس دن بھی باہر گھومنے کو دل چاہا اور میں محتاط انداز میں چلتا ہو ا تہہ خانے سے باہر آگیا۔تہہ خانے کا رستہ دوائیوں کی ایک الماری سے ہو کر گزرتا تھا۔ڈاکٹر اشوک کے کلینک میں دو تہہ خانے تھے۔ایک تہہ خانے سے اس کا سارا عملہ واقف تھا جبکہ دوسرے تہہ خانے کے بارے چیدہ چیدہ افراد ہی جانتے تھے۔
میں کلینک کے صحن سے ہو کرعقب میں پہنچااور سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر چڑھ گیا۔کھلی فضا میں بہت مزا آرہا تھا۔ گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے میں چھت پر گھومتا رہا۔میں بالکل درمیان میں ٹہل رہا تھا تاکہ دور سے دیکھا نہ جا سکوں ۔
اچانک پارکنگ کی طرف سے شور ابھرا۔میں متجسس ہو کر کنارے کے قریب ہوا۔کسی مریض کو لانے والے تیز رفتار رکشے نے نئی ٹویوٹا کار کی عقبی بتی توڑ دی تھی۔کار کامالک با آوازبلند رکشے والے کو ڈانٹ رہا تھا۔رکشے والے کالجاجت بھرا لہجہ اور منت اس کی نظر میں کسی اہمیت کی حامل نہ تھی۔بیمار کے لواحقین رکشا ڈرائیور کو آگے بڑھنے کا کہہ رہے تھے۔رکشے والے کو اپنے مسئلے میں الجھا پاکر ایک مرد نے مریض کو بازوﺅں میں بھرا اور کلینک کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔مریض دس بارہ سال کا بچہ تھا۔اور یقینا بے ہوش تھا کیوں کہ اس کے بازو بے جان انداز میں جھول رہے تھے۔
کار اور رکشے والے کاجھگڑا اتنااہم نہیں تھا کہ میں مزید وہاں کھڑا رہتا۔مڑنے ہی لگا تھا کہ نظر پارکنگ میں داخل ہوتی کھلی چھت والی جیپ پر پڑی۔اس میں تین افراد سوار تھے۔ٹویوٹا کار نے کلینک تک جانے کا رستہ بند کیا ہوا تھا۔جیپ ڈرائیور نے تیز ہارن بجایا،کار والا جوشِ تکلم میں جیپ پر دھیان نہیں دے سکا تھا۔ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پربراجمان شخص نیچے اترا اور اس کا تھپڑ”چٹاخ “کی آواز کے ساتھ کار والے کی گدی پر لگاتھا۔
وہ غصے میں بکتا جھکتا پیچھے مڑا، مگر جیپ والوں کا حلیہ دیکھتے ہی اس کے غصے کے غبارے سے ہوا نکل گئی تھی۔
نمستے کے انداز میں ہاتھ باندھتے ہوئے اس نے شاید معذرت کہی تھی۔اور فوراََ ہی کار میں بیٹھ کر جیپ کے لیے رستہ خالی کرنے لگا۔رکشے والے نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھاگنے کی سوچی تھی۔
میری نظریں جیپ والوں پر گڑی تھیں ۔داخلی دروازے سے جیپ اندر کرکے انھوں نے مختصر سے صحن میں روکی اور دندناتے ہوئے بارہ دری میں داخل ہوکر میری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ان کا انداز خطرے کی نشان دہی کر رہا تھا۔میں نے پارکنگ اور باہر کی جانب نگاہ دوڑائی مگر ان کا کوئی ساتھی نظر نہ آیا۔
میں بھاگ کر سیڑھیوں کے قریب پہنچا۔توقع تھی انھوں نے ڈاکٹر اشوک کے دفتر میں جانا تھا۔ سیڑھیاں اتر کرمیں محتاط انداز میں چلتا ہوا ڈاکٹر اشوک کے دفتر کی عقبی کھڑکی کے پاس پہنچا۔وہاں کھیل شروع ہو چکا تھا۔کھڑکی کے پٹ کھلے تھے۔اور اس میں باریک جالی لگی ہوئی تھی۔کمرے میں جاری گفتگو بڑی آسانی سے سنی جا سکتی تھی۔
میرے کانوں میں پہلی آواز ڈاکٹر اشوک کی پڑی تھی۔”آپ جائزہ لے سکتے ہیں جناب۔“
”تمھاری سمجھ میں شاید میری بات نہیں آرہی۔“کرخت لہجے میں دھمکایا گیا۔
ڈاکٹر اشوک عاجزانہ لہجے میں بولا۔”عرض کر چکا ہوں نا،میرے پاس صرف ایک تہہ خانہ ہے۔“
اچانک ”چٹاخ “کی آواز ابھری،ساتھ ہی زہریلے لہجے میں پوچھا گیا۔”کچھ یاد آیا؟“
ڈاکٹر اشوک احتجاجی لہجے میں بولا۔”آپ زیادتی کر رہے ہیں ۔“
ایک اور آواز ابھری۔”باس ،اسے گولی مار کر نرگ میں بھیجو....تہہ خانہ ڈھونڈ لیں گے۔“
”یقینا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔“ڈاکٹر اشوک انکار پر قائم تھا۔تب مجھے اس کی جرا¿ت پر حیرانی ہوئی تھی۔ہتھیاروں کے سامنے انکار پر ڈٹنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔اور دو نمبر کاموں میں ملوث افراد تو ہلکا سے فائدہ پا کر بھی راز اگل دیتے ہیں اور وہ راز رکھنے کوجان دینے پر آمادہ نظر آرہا تھا۔ایسے بندے ضائع ہونے کے لیے نہیں ہوتے۔میں اس کی مدد کو ذہنی طور پرتیار ہو گیا تھا۔ البتہ حملہ آوروں کی پہچان مجھے نہیں ہو ررہی تھی کہ وہ کون تھے اور کسے ڈھونڈ رہے تھے۔آیا ان کا مطمح نظر میں اور لورا تھے یا کوئی اورتھا۔
سرغنہ مکروہ انداز میں بولا۔”درشن !تم ڈاکٹر کے بیٹے اور بیوی کو لے آﺅتاکہ اس کی یاداشت بہتر بنائی جا سکے۔“
”آپ ایسا نہیں کر سکتے میں ........“ڈاکٹر نے احتجاج کرنا چاہا تھا۔اچانک” چٹاخ ....چٹاخ “کی بلند آوازیں ابھریں ۔ساتھ ہی سرغنہ پھنکارا۔
”ہم کیا کر سکتے ہیں یہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ہمارا روز مرہ کا کام قتل و غارت ہے۔اور یقینا باقی سارے جرم قتل سے کم درجہ ہوتے ہیں ۔“
”وعدہ کریں میرے دوسرے مریضوں کوکچھ نہیں کہا جائے گا۔“
سرغنہ اطمینان سے بولا۔
”تمھارے بیوی اور بچے کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔“
ڈاکٹر لجاجت سے بولا۔”میں نے آج تک کسی کا راز فاش نہیں کیا۔میری نظر میں یہاں آنے والے مجرم و بے گناہ ایک برابر ہوتے ہیں ۔پلیز مجھے اپنی نظروں میں گرنے سے بچا لو۔اگر تمھیں یقین ہے تمھارا دشمن یہاں چھپا ہے تو اس کے باہر نکلنے کا انتظار کرویہاں چند دن سے زیادہ کوئی نہیں ٹھہرتا۔“
سرغنہ دھاڑا۔”الو کے پٹھے،کیوں اپنی بیوی کی عزت اور بیٹے کی جان کے دشمن بن رہے ہو۔بھاڑ میں گئے تمھارے اخلاقیات۔چلو ہمیں رستہ دکھاﺅ۔“اس نے شاید ڈاکٹر کو دروازے کی طرف دھکا دیا تھا۔
میں بھاگتے ہوئے سامنے پہنچا۔بارہ دری سے گزر کر راہداری میں گھسا۔لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ڈاکٹر اشوک مضمحل انداز میں تہہ خانے کی طرف جارہا تھا۔تینوں غنڈے اس کے عقب میں چل رہے تھے۔کسی بھی ذی شعور کو اندازہ لگانا مشکل نہ ہوتا کہ ڈاکٹر ان کے تینوں کے نرغے میں تھا۔ البتہ ہسپتال وغیرہ میں پریشان لوگوں ہی کی آمد رہتی ہے۔بے چاروں کو اپنے مریض کے بارے اتنی تشویش ہوتی ہے کہ کسی اور کے مسئلے پر توجہ ہی نہیں دے سکتے۔
میں لابالی انداز میں ان کے پیچھے چل پڑا۔راہداری کمروں کے اختتام پر بائیں جانب مڑ رہی تھی۔ اور مڑنے کے بعد دوکمرے چھوڑ کر سب سے آخر والا کمرہ جس کا دروازہ راہداری کے بالمقابل بنا تھادوائیوں کا اسٹور تھا۔وہیں ایک الماری اس مہارت سے دروازے میں ڈھالی گئی تھی کہ وہ بہ ظاہر صرف دوائیوں کی الماری نظر آتی۔اس میں مختلف دوائیں بھری ہوئی تھیں ،مگر جونھی ایک خفیہ ہینڈل دبا کر الماری کو دھکیلا جاتا،پوری الماری گھوم جاتی اور نیچے جاتی سیڑھیاں نظر آنے لگتیں ۔
ان کے غائب ہوتے ہی میں اسٹور روم میں گھسا۔الماری کو انھوں نے کھلا چھو ڑ کر میرا کام آسان کر دیا تھا،ورنہ دوبارہ الماری کھلنے پر وہ چوکنا ہو جاتے۔اب تو رستہ صاف تھا۔
میں نے محتاط انداز میں اندرجھانکا۔ایک آدمی نے رمیتا کور کے سر میں پستول کا دستہ رسید کیا تھا۔وہ بے چاری ،میز پر ہی اوندھے منہ لمبی پڑ گئی تھی۔دو آدمی ڈاکٹر اشوک کے ہمراہ دھرمو دادا کے کمرے میں گھس گئے تھے، جبکہ ایک باہر رک گیا تھا۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 37
ریاض عاقب کوہلر
میں نے محتاط انداز میں اندرجھانکا۔ایک آدمی نے رمیتا کور کے سر میں پستول کا دستہ رسید کیا تھا۔وہ بے چاری ،میز پر ہی اوندھے منہ لمبی پڑ گئی تھی۔دو آدمی ڈاکٹر اشوک کے ہمراہ دھرمو دادا کے کمرے میں گھس گئے تھے، جبکہ ایک باہر رک گیا تھا۔
اس کی توجہ ہمارے کمرے کے دروازے کی طرف تھی۔پھر میں نے اس کے قدم اس طرف بڑھتے دیکھے،تبھی اندر داخل ہوتے ہوئے میں نے سائیلنسر لگا گلاک سیدھا کیا۔ہلکی سی ”ٹھک“ ابھری۔گولی اس کی کھوپڑی کے عقب میں گھس گئی تھی۔اگر رائفل کی گولی ہوتی تو یقینا ماتھا پھاڑ کر نکل جاتی،مگر پستول کی گولی میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ اتنے فاصلے سے سر میں سوراخ کر کے باہر نکل جائے۔
وہ اوندھے منہ گرا ،پختہ فرش پر اس کے گرنے اور پستول کے فرش سے ٹکرانے کی اچھی خاصی آواز ابھری تھی۔
سرغنہ نے پکارا۔”اوئے فضول قتل نہ کرو۔“مگر جسے پکارا گیا تھا وہ بے چارہ خود مقتول بن چکا تھا تو کیا جواب دیتا۔
میں سرعت سے سیڑھیاں اترا اور دروازے کے قریب ہوگیا۔ان کی باہمی گفتگو سے اصل معاملہ معلوم ہوسکتا تھا۔ساتھی کی خاموشی پر سرغنہ نے جواب کا اصرار نہیں کیا تھا۔ وہ دھرمو داداسے مکالمہ بازی میں مصروف تھا۔
”چچ....چچ....بے چارے دھرمو دادا کی تو کوئی حالت ہی نہیں رہی۔افسوس ہوا لنگڑے دادا کو دیکھ کر۔“
دھرمو بولا۔”گھنشام!ہماری کوئی دشمنی نہیں ہے۔تمھیں صرف معاوضے سے غرض ہونا چاہیے۔اور میں تمھیں منہ مانگی رقم دوں گا۔“
گھنشام کا بلند بانگ قہقہ ابھرا۔”تمھیں جرم کی دنیا کا قانون تو معلوم ہوگا۔کہ کامیاب بے ایمانی کے لیے ایمان داری شرط ہے۔“
دھرمو نے احسان جتایا۔”میں نے ایک بار تمھاری جان بچائی تھی۔“
” بچائی نہیں بخشی تھی۔اور میں بھی تمھیں قتل نہیں کروں گا۔زندہ ہی راجپوت دادا کے حوالے کروں گا۔“یہ کہتے ہوئے گھنشام نے قہقہ لگایا۔”یوں بھی زندہ پکڑنے کا معاوضا تمھیں قتل کرنے سے دگنا ہے۔“
دھرمو نے لالچ دینا جاری رکھا۔”اگر دگنے کو میں مزید دگنا کرنا چاہوں تو....؟“
”بتا تو دیا ہے۔“گھشنام انکار پرڈٹارہا۔
دھرمو نے پوچھا۔”کیا راجپوت کو معلوم ہے تم نے مجھے ڈھونڈ لیا ہے؟“
گھشنام ہنسا۔”یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔“
دھرمو نے پیش کش کی۔”اگر اسے نہیں پتا تو تم منہ مانگامعاوضا لے کر مجھے ایک دن کی مہلت دے سکتے ہو۔اس کے بعد دوبارہ میری تلاش میں لگ جانا۔“
”ہا....ہا....ہا۔“گھشنام کا قہقہ بلند ہوا۔”چند ٹکوں کی خاطر اپنی کارکردگی کو سوالیہ نشان بنا دوں ۔“
دھرمو نے لالچ دیا۔”تمھیں اپنا دست راست بنا دوں گا۔“
گھشنام استہزائی انداز میں بولا۔”تمھارے گروہ کے بچ جانے والے افراد ایسے کونوں کھدروں میں جا چھپے ہیں کہ انھیں اکٹھا کرنے کو سالوں لگ جائیں گے۔“
دھرمومایوسی سے بولا۔”تو تم نے فیصلہ کرلیا ہے۔“
”درشن آجاﺅ۔اسے چلنے کو دو بیساکھیاں چاہئیں ہوں گی۔“گھشنام نے اپنے ہلاک ہونے والے ساتھی کو آواز دی جو جواب دینے سے بہت دور جا چکا تھا۔
”دیکھو کنجر کہاں منہ مار رہا ہے۔“گھشنام نے دوسرے آدمی کو حکم دیا۔میں نے فوراََ اپنی پیٹھ دیوار سے جوڑ دی تھی۔
”درشن....“دروازے سے نکلتے وقت اس کے ساتھی نے آواز دی۔درشن کی لاش ہمارے کمرے کے سامنے پڑی تھی۔قدم باہر رکھتے ہی اسے لاش نظر آگئی تھی۔مگر اسے سنبھلنے یا گھشنام کو آگاہ کرنے مہلت میں نہیں دے سکتا تھا۔لبلبی دبا کر میں نتیجہ دیکھے بغیر بگولے کی طرح کمرے میں گھسا۔ڈاکٹر اشوک دھرمو دادا کے سرہانے سے دو قدم ہٹ کر کھڑا تھا۔گھشنام پائینتی کے قریب کھڑا تھا۔پستول ہاتھ میں تھا جو اس نے بے پرواہی سے پکڑا ہوا تھا۔میری آمد کو اس نے اپنے ساتھیوں کی آمد پر محمول جانا تھا۔مگرفطرتی تجسس نے اسے دروازے کی جانب دیکھنے کی ترغیب دی۔اور مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ حیرانی و درشتی بھرے انداز میں بولا۔
”کون ہو تم ؟“ساتھ ہی اس نے پستول سیدھا کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی میں لبلبی دبا چکا تھا۔”ٹھک“ کی آواز کے ساتھ پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔
گولی نے شاید اس کی انگلی زخمی کی تھی کہ ....”سی....“کرتے ہوئے اس نے ہاتھ بغل میں دبا لیا تھا۔
میں نے احمقانہ انداز میں پوچھا۔”کیا گپ شپ ہو رہی تھی۔“
”کتے کے ............“گھشنام کے ہونٹوں سے مغلظات کا طوفان ابل پڑا تھا۔”تم نہیں جانتے تمھارا انجام کتنا بھیانک ہو گا۔
”اچھا....“کہتے ہوئے میں دوبارہ لبلبی دبائی۔گولی اس کے گھٹنے سے آر پار ہو گئی تھی۔ چیخ مارتے ہوئے وہ کولہوں کے بل گرا۔کرسی سنبھالتے ہوئے میں اطمینان سے بولا”تم کچھ انکشاف کر رہے تھے گھشنام جی۔“ساتھ ہی ڈاکٹر اشوک کو کہا۔”ڈاکٹر صاحب !پلیز آپ تشریف رکھیں ۔“
ڈاکٹر اشوک خشک ہوتے ہونٹون پر زبان پھیرتا ہوا جلدی سے بیٹھ گیا۔
”کک....کون ہو تم اور کیوں کر رہے ہو ایسا۔“دوسری گولی نے اسے میرے ارادوں کی خبر دے دی تھی۔اور موت کو سامنے پا کر اچھے اچھوں کی ہوا نکل جاتی ہے۔اسے بھی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔
”جلدی کاہے کی ہے ،پہلے تم اچھے سے بھونک لو،پھر اپنے کتوں کو آواز دو تاکہ ایک معذور کو گھسیٹتے ہوئے تیرے باپ راجپوت تک لے جائیں ،بعد میں سوال جواب ہو جائیں گے۔“
گھٹنے کو دباکر وہ کراہتے ہوئے بولا۔”میری تم سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔“ڈاکٹر اشوک نے مضطرب ہو کر اٹھنے کی کوشش کی۔یقینا ایک ڈاکٹر مریض دیکھ کر نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور طنزیہ انداز میں گھشنام سے پوچھا۔”دھرمودادا کی تم سے کیا دشمنی تھی؟“
وہ فوراََ صلح صفائی پر آگیا۔”ٹھیک ہے جھگڑا ختم کرتے ہیں ،میں دھرمودادا کو کچھ نہیں کہتا اور ہم خاموشی سے واپس چلے جاتے ہیں ۔“
”جانے کی اجازت ملنے پر بھی تم اکیلے ہی واپس جا سکتے ہو،کیوں کہ تمھارے ساتھی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی حالت میں نہیں رہے۔“ایک چھوٹا سا وقفہ دے کر میں متبسم ہوا۔”خیر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں کون سا جانے کی اجازت دے رہا ہوں جو ساتھیوں کے بچھڑنے پر تمھیں دکھ ہوگا۔“
”تت....تم نے انھیں مار دیا۔“غم و غصے کی شدت سے اسے بولا نہیں گیا تھا۔
میں اطمینان سے بولا۔”اگر جلد ہی مرہم پٹی نہ کی گئی تو تم بھی ان کے پاس پہنچ جاﺅ گے۔“
”سر پلیز مجھے اجازت دیں ۔“ڈاکٹر اشوک ملتجی ہوا۔
میں نے گھشنام کا ماضی قریب کا رویہ یاد دلایا۔”ڈاکٹر صاحب !یہ وہی کمینہ ہے جس نے آپ کے چہرے پر تھپڑ مارے تھے۔“
ڈاکٹر مصر ہوا۔”وہ اس کا ظرف تھا۔“
میں نے کندھے اچکائے۔”آپ کی مرضی۔“
ڈاکٹر اشوک مرہم پٹی کا سامان لانے باہر نکل گیا۔دھرمودادا خاموش لیٹا میری جانب متوجہ تھا۔اس نے دو تین بار میری پیش قدمی کو رکھائی و درشتی سے ٹھکرا دیا تھااور اب اتنے مشکل مرحلہ میں اس کی جان بچانے کا باعث بنا تھا۔اس کا شرمندگی محسوس کرنا بنتا تھا۔
میں گھشنام کو مخاطب ہوا۔”ڈاکٹر اشوک کا سراغ تمھارے ہاتھ کہاں سے لگا؟“
وہ کراہتے ہوئے بولا۔”دھرمودادا کا ایک آدمی ہاتھ چڑھ گیا تھا۔جو اسے کلینک تک لایا تھا۔“
میں نے پوچھا۔”تمھارایہاں آناکسی کے علم میں ہے؟“
وہ گھگھیاتے ہوئے بولا۔”میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے،وعدہ کرتا ہوں کبھی ادھر کا رخ نہیں کروں گا۔“تم ،تمھار کہنا اسے بھول گیا تھا۔
میں مسکرایا۔”دھرمو دادا سے کیا دشمنی تھی۔“اسی وقت ڈاکٹر اشوک مرہم پٹی کے سامان کے ساتھ اندر آیااور فرش پر بیٹھ کر اس کی زخمی ٹانگ کی پتلون کاٹنے لگا۔
”ڈاکٹر پندرہ بیس منٹ میں تمھارے گھٹنے کی مرہم پٹی کرے گااور میں ایک سیکنڈ میں دوسرے گھٹنے میں بھی سوراخ کر دوں گا۔اس لیے جو پوچھا ہے اس کا جواب اگلو۔اورفکر نہ کرو میرے پاس تصدیق کے ذرائع مو جود ہیں ۔ راجپوت دادا کے چھوٹے بھائی وشال گپتا سے میری گہری واقفیت ہے۔“
یہ سن کر دھرمو داداکی آنکھوں میں اضطراب جھلکنے لگا تھا۔میں اسے مخاطب ہوا۔”دھرمو دادا! فکر نہ کرو۔ تمھیں ان کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“
اس نے حقیقت اگلی۔”میں راجپوت دادا کو ”سرپرائز“ دینا چاہتاتھا۔“
میں اشوک کو مخاطب ہوا۔”ڈاکٹر صاحب!بات سنیں ۔“وہ میری طرف متوجہ ہوا۔”پیچھے ہوجائیں ، یہ مرہم پٹی کسی کام نہیں آنے والی۔“
”کیا مطلب؟“وہ حیران ہو گیا تھا۔
میں نے لبلبی دبا کر گھشنام کے سر میں گولی اتاری۔”میرا مطلب ہے،ایک کرائے کے قاتل کو زندہ چھوڑ کر میں آپ کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔“
پاﺅں فرش پرپسارتے ہوئے ڈاکٹر اشوک نے بیڈ سے ٹیک لگا لی تھی۔”یہ بہتر نہیں ہوا۔“
”اگر سوچتے ہو کہ دھرمو کے قتل کے بعد یہ آپ کو زندہ چھوڑ دیتاتو ایسا بس آپ ہی سوچ سکتے ہیں ۔“
وہ بے بسی سے بولا۔”ان لا شوں کا کیا کروں ؟“
میں اطمینان سے بولا۔”ایمبو لینس میں ڈال کر کسی ویران جگہ پر پھینک دیتے ہیں ۔“
اس نے تجویز دی۔”اگر پولیس کو بلا لیں ۔“
میں ہنسا۔”اپنی چھترول کرانے کا شوق ہے تو منع نہیں کروں گا۔“
ڈاکٹر نے تکرارکی۔”کیا وہ نہیں جانتے ہوں گے گھشنام کرائے کا قاتل ہے۔“
میں نے پوچھا۔”ان کے قتل کا ذمہ دار کسے ٹھہراﺅ گے،ان کی آمد کس سلسلے میں ہوئی،کیا بتاﺅ گے۔“
”ایمبولینس کے ڈرائیور کو راز دار بنانا بھی مناسب نہ ہوگا۔“ڈاکٹر اشوک کا دماغ چلنا شروع ہو گیا تھا۔
”میں ایمبولینس کو لے جاﺅں گا۔البتہ تم اس کی پٹی کھول لو،کیوں کہ میں نہیں چاہتا۔ڈاکٹر شک کی زد میں آئیں ۔گو ممبئی میں سیکڑوں ،ہزاروں ڈاکٹر ہوں گے مگر اندازہ کرنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔شاید کسی کو آپ کے پٹی لپیٹنے کے انداز،گانٹھ لگانے کے طریقے،پٹی کی ساخت، زخم پر لگانے کے مرہم وغیرہ سے آپ تک پہنچنے کا سراغ مل جائے۔“
وہ اثبات میں سرہلاتے ہوئے اس کے گھٹنے سے پٹی کھولنے لگا۔
دھرمو مجھے مخاطب ہوا۔”آپ کا نام نہیں جانتا،مگر دھنے وادآپ کی وجہ سے میری جان بچی۔“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکاتے ہوئے پوچھا۔”راجپوت داداکے ساتھ تمھاری کیا دشمنی ہے؟“
وہ نفرت سے بولا۔”وہ دادا نہیں سرکارکا پٹھو ہے۔ایجنسیو ں کے سر پر بدمعاشی کرتا ہے۔را کے بڑے بڑے آفسروں سے دوستی گانٹھ رکھی ہے۔ورنہ حقیقت یہی ہے کہ ایک گھٹیا مخبر سے زیادہ حیثیت نہیں ہے اس کی۔“
میں نے پوچھا۔”سنا ہے تمھارے گروہ کا صفایا کر چکا ہے۔“
وہ دعوے سے بولا۔”ایسا بس وہ سوچتا ہے۔“
”حقیقت کیا ہے؟“
”کرائے کے قاتلوں کے سہارے وہ ڈھونڈ رہا ہے۔اگر اتنا ہی ہمت والا تھا تویوں نہ کرتا۔“
میں نے پہلا سوال دہرایا۔”دشمنی کی وجہ پوچھی تھی۔“
وہ تفصیل بتانے لگا۔”اس کے آدمی میرے علاقے میں ناجائز تصرف کر رہے تھے۔متوجہ کرنے پر وہ دھمکیاں دینے لگا۔ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی تھیں ،کہ چپکے بیٹھے رہتے۔سختی سے متنبہ کر دیا کہ ان کے دوبارہ ایسا کرنے پر ہم بندوبستی کارروائی کریں گے۔اور اس گھٹیا شخص نے اچانک ہی میرے اڈوں پر ہلہ بول دیا۔ پولیس اور ایجنسیوں کی مدد بھی اسے حاصل تھی۔ سنبھلنے سے پہلے میرا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا تھا۔ میری ذاتی رہائش پر اس نے بم بلاسٹ کروایا۔میں براہ راست دھماکے کی زد میں تو نہیں آیا ،البتہ لوہے کا مضبوط دروازہ ٹانگ پر گرنے سے پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ایک ساتھی ہمت کر کے یہاں پہنچا گیا۔دو ماہ ہو گئے ہیں کہ یہاں چھپا ہوں ۔ بھگوان کی کرپا سے ہڈی جڑ گئی ہے۔مگر پلستر اترنے میں ابھی چند دن لگیں گے۔“
ڈاکٹر اشوک اپنا کام کر کے میرا منتظر کھڑاتھا۔
میں نشست چھوڑتا ہوا بولا۔”میں لاشوں کو ٹھکانے لگا دوں پھر گپ شپ کریں گے۔“
دھرمو نے خوش دلی سے سر ہلادیا تھا۔
گھشنام کا پستول میں نے دھرمو کی طرف اچھالا۔”اپنے پاس رکھو کام آئے گا۔“
”دھنے واد۔“پستول پکڑتے ہوئے اس نے شکریہ کہا۔گھشنام کی جیبوں کی تلاشی لے کر میں نے نقدی اپنی جیبوں میں منتقل کی اس کا موبائل فون بھی بند کر کے جیب میں ڈالااور اس کی لاش اٹھا کر چل پڑا۔
چند منٹ لگا کر میں نے تینوں لاشوں کواسٹور روم میں لے گیا۔اور پھرباری باری پہیوں والے اسٹریچر پر لاد کر ایمبولینس میں منتقل کر دیا۔
ڈرائیو ر آرام کر رہا تھا۔ڈاکٹر سے ڈپلی کیٹ چابی لے کر میں ایمبولینس باہر لے آیا۔گھنٹے ڈیڑھ بعد ایک ویران سڑک پر لاشیں پھینک کر میں واپس لوٹ آیا تھا۔اس دوران ڈاکٹر اشوک نے نرس کو ہوش میں لاکر تہہ خانے سے خون وغیرہ کے نشانات صاف کرا دیے تھے۔
ڈاکٹر اشوک کو رازداری کی تاکید کر کے میں نے آرام کرنے کا مشورہ دیااور خود دھرمو دادا سے گپ شپ کرنے لگا۔کہتے ہیں ہاتھی زندہ لاکھ اور مرکر سوا لاکھ کا ہو جاتا ہے۔دھرمو پر بھی یہ مثل صادق آتی تھی۔ اس لحاظ سے کہ انتقام کے جوش میں اب کسی ضابطے کو خاطر میں نہ لاتا۔راجپوت کے ساتھ سرکاری ادارے بھی اس کے دشمن تھے اور دشمنوں کے دشمن دوست ہوا کرتے ہیں ۔
صبح کی اذان تک میں اس سے گپ شپ کرتا رہا۔اور پھر اجازت لے کر اپنے کمرے میں آگیا۔ لورا سکون آور دوا کے زیر اثر سوئی تھی۔اسے معلوم ہی نہ تھا کہ کتنی بڑی واردات گزر چکی تھی۔بعض اوقات بے خبری بھی بہت بڑی نعمت ثابت ہوتی ہے۔
میں نمازِ فجر پڑھ کر سوگیا۔البتہ لورا کے لیے تپائی پر پیغام چھوڑ دیا تھا کہ مجھے نہ جگائے۔ورنہ تو اس نے اٹھ کر سب سے پہلے مجھے آواز دیناہوتی تھی۔اور ہوا بھی یہی....اس کے۔”ریجا ....ریجا۔“پکارنے پر میری آنکھ کھلی۔بہ مشکل گھنٹا ہی سویا تھا کہ کم بخت نے جگا دیا۔
”بندہ اٹھ کر پہلے دائیں بائیں بھی دیکھ لیتا ہے۔“اسے تپائی پر رکھی چِٹ کی طرف متوجہ کرتے ہوئے میں نے ناک بھوں چڑھائی۔
”کیا ہے یہ۔“اوپر کھسک کر اس نے بیڈ کی ٹیک سے پیٹھ جوڑی اور چٹ کے مندرجات پر نگاہیں دوڑانے لگی۔پڑھ کر چٹ کو کچرہ دان میں پھینکا اور اطمینان سے بولی۔
”تو ساری رات جاگنا تمھارا مسئلہ ہے۔مجھے کیوں کوس رہے ہو۔“
میں منہ بگاڑ کر بولا۔”میں نے اٹھ کر تمھیں ”سُو سُو“کراناہوتا ہے یا اپنے ہاتھوں سے ناشتا کراتاہوں جو جاگتے ہی ریجا ....ریجا پکارنا شروع کر دیتی ہو۔“
میرے واویلے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے بے پروائی سے پوچھا۔” سوئے کیوں نہیں ۔“
”فی الحال سونے دو اٹھ کر بتادوں گا۔“سونے کی لالچ میں مجھے تکرار کرنا مناسب نہ لگا۔
اس نے منہ بنایا۔”کیا لگتا ہے،ایک عورت اتناطویل وقت تجسس میں مبتلا رہ کر گزار لے گی۔“
میں جان چھڑاتے ہوئے بولا۔”رات دشمنوں نے حملہ کیا تھا،تین آدمیوں کو ہلاک کر کے ٹھکانے لگایا ہے۔اور فی الحال خطرے کی بات نہیں ۔باقی اٹھنے پر بتاﺅں گا۔“
وہ بے چینی سے بولی۔”ریجا شرافت سے تفصیل بتاﺅ،ورنہ سونے تو نہیں دوں گی۔“
ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے میں اٹھ بیٹھا۔اسے تفصیل بتا کر تکیے پر سر ٹیکتے ہوئے بولا۔ ”اب آواز دی تو ٹینٹوا دبا دوں گا۔“
اس نے شرارتی انداز میں قہقہ لگایا۔”پھر ڈیٹ پر کس کے ساتھ جاﺅ گے۔“
مگر مجھے اتنی سخت نیند آئی تھی کہ ہنسی مذاق زہر لگ رہا تھا۔وہ بھی میری جان بخشی کرتے ہوئے تازہ دم ہونے غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭٭٭
اگلے دو ہفتے سکون سے گزرے تھے۔گھشنام کی موت کی خبر ہم نے ٹی وی پر سنی تھی،مگر دلچسپ بات یہ ہوئی کہ ان کا قتل پولیس کے کھاتے میں ڈالا گیاتھا۔متعلقہ تھانے دار نے سخت مقابلے کے بعد کرائے کے ان قاتلوں کوکیفر کردار تک پہنچا کر انعام کا حق دار ٹھہرا تھا۔میں اس کے بعد کافی چوکس رہا اور رات کا ابتدائی حصہ عموماََ کلینک کی چھت پر گزارتا۔دھرمودادامیرا شکر گزار و احسان مند تھا۔میں اس کے ساتھ بیٹھ کر بھی کافی گپ شپ کرتا رہتا۔لورا کی کہانی میں نے اسے بتا دی تھی،البتہ اپنے مشن کی بھنک نہیں لگنے دی تھی۔میں نے دھیرندر شکلا سے دشمنی کی وجہ لورا براﺅن بتائی تھی۔یوں بھی لورا براﺅن کی صورت ایسی تھی کہ اس کی وجہ سے کسی سے دشمنی رکھنے کی بات پر سننے والے کو تعجب نہیں ہوسکتا تھا۔
دوہفتے بعد دھرمو کا پلستر اتر گیا تھا۔مسلسل اڑھائی تین ماہ اس نے بیڈ پر گزارئے تھے۔وہاں چھپنے کا اس نے بھاری معاوضا ڈاکٹر اشوک کو اداکیا تھا۔مہینے سے زیادہ عرصہ تو ہمیں بھی ہونے والا تھا۔اور روزانہ کے دس ہزار کے حساب سے اچھی خاصی رقم بنتی تھی جو ہم ڈاکٹر اشوک کو ادا کر چکے تھے۔ وشال گپتا سے لیے بیس لاکھ نے ہماری مشکلات آسان کر دی تھیں ۔لورا کا زخم بھر گیا تھا۔بس ذرا سی کمزوری تھی جو بتدریج ختم ہو جاتی۔
پلستر اتر جانے کے بعد بھی دھرمو دادا نے ایک دو دن وہیں گزارے کا فیصلہ کیا تھا۔میں نے بھی اس سے دوستی کر لی تھی،کیوں کہ وہاں ایسے مددگاروں کی سخت ضرورت تھی۔آخر ایک دن ہم جانے کو تیار تھے۔ڈاکٹر اشوک سے الوداعی ملاقات کر کے اس کا شکریہ ادا کیا اور رات کے آخری پہر وہاں سے نکل آئے۔ہمیں لینے کو دھرمو دادا کے بچپن کادوست گاڑی لے آیا تھا۔دھرمو کے تمام آدمی اس کے زخمی ہونے کے بعد بکھر گئے تھے۔ہر ایک نے جان بچانے کو چھپنابہتر سمجھا تھا۔دھرمو دادا نے بھی اسی لیے ڈاکٹر اشوک کا کلینک نہیں چھوڑا تھا کہ وہاں وہ زیادہ محفوظ تھا اور کسی کا اس جگہ گمان نہیں جا سکتا تھا۔رہا گھشنام تو وہ اتفاقاََ دھرمو دادا کے اس کارندے سے جا ٹکرایا تھا جو اسے وہاں چھوڑ گیا تھا۔
امید تھی اب ان کی تلاش میں پہلی سی سرگرمی نہیں ہوناتھی۔گو راجپوت ،دھرمو کی تلاش سے بالکل تو غافل نہیں ہو سکتا تھا،مگر پہلے والی بات نہیں رہی تھی۔البتہ کرائے کے قاتلوں کا خطرہ نظر انداز نہیں کیا سکتا تھا۔
اپنی تلاش کے بارے بھی ہمارا اندازہ یہی تھا کہ اب پہلے والی بات نہیں رہی ہو گی۔
دھرمو کے دوست کا نام وشواس سنگھ تھا۔اس کی حویلی ممبئی کے مضافات میں تھی۔طلوع آفتاب ہمیں راستے ہی میں ہو گیا تھا۔
اگلا دن ہم نے سو کر گزارا۔دھرمو جاتے ساتھ اپنے کارندوں سے رابطے میں مصروف ہو گیا تھا۔ اس کا ارادہ راجپوت پر ہلہ بولنے کا تھا۔اس کے کافی کارندے ہلاک ہو چکے تھے۔کچھ حوالات میں تھے۔اور جوکونوں کھدروں میں چھپے تھے انھیں جوں جوں اطلاع ملتی گئی ،ان کی آمد شروع ہو گئی۔دھرمو ممبئی کا مشہور دادا تھا۔ اس گئی گزری حالت میں بھی بیس پچیس آدمی اکٹھے ہو گئے تھے۔وشواس سنگھ کی حویلی کافی وسیع تھی۔دھرمو دادا نے اپنا اڈہ عارضی طور پر وہیں قائم کر دیا تھا۔شام ڈھلے دھرمو دادا نے اپنے آدمیوں کے ہمراہ تھانے پر دھاوا بولنے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔وہاں ہماری حیثیت مہمان کی سی تھی۔ہم سے کسی نے مشورہ بھی نہیں مانگا تھا۔اس کے باوجود میں نے دھرمودادا کو اپنے پاس بلا کر اکیلے میں کہا۔
”گوتم اپنا کام بہت اچھی طرح جانتے ہو۔اگر برا نہ مناﺅ تو ایک مشورہ دینا چاہوں گا۔“
وہ خوش دلی سے بولا۔”تمہید چھوڑ یار!تم براہ راست حکم کیا کرو۔“
میں انکساری سے بولا۔”شکریہ دادا،تمھارا بڑا پن ہے۔بہ ہر حال پوچھنا یہ تھاکہ اپنے ساتھیوں کو آزاد کرانے کے بعد تمھارا کیا ارادہ ہے؟“
اس نے ارادہ ظاہر کیا۔”راجپوت کو انجام تک پہنچانا ہی فی الحال میری زندگی کا مقصد ہے۔“
میں متبسم ہوا۔”جانتا تھا،کچھ ایسا ہی ارادہ ہوگا۔“
”شاید تم کوئی مشورہ دینا چاہتے ہو۔“اس کا انداز استفسار کا عنصر لیے ہوئے تھا۔
میں نے تجویز پیش کی۔”تم آسانی سے اپنے ساتھیوں کو حوالات سے آزاد کرا لو گے،مگر اس کا نقصان یہ ہو گا کہ راجپوت کو چوکس ہونے کا موقع مل جائے گا۔اگر پہلے راجپوت پر ہلہ بول سکو تو بے خبری میں اسے قابو کرنا آسان ہوگا۔“
اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھری۔”بڑا سیانا ہے رے ....“
”میرا کام مشورہ دیناتھا۔“آگے تمھاری مرضی۔“
وہ میری پیٹھ تھپکتے ہوئے بولا۔”اتنا بہترین مشورہ کوئی احمق ہی ٹھکرائے گا۔“
میں نے کہا۔”تو لگے ہاتھوں ایک پیش کش بھی سن لو،راجپوت کو پکڑنے میں ہم تمھاری مدد کر یں گے۔تم بس اس کی روزمرہ معلوم کرو۔خاص کر یہ کہ وہ گھر سے نکلتے اور لوٹتے وقت کون سی سڑک استعمال کرتا ہے۔“
”اب دھرمو دادا ایک چھوکری کی مدد سے راجپوت پر قابو پائے گا۔“شاید چھوکری کے ساتھ اس نے دل میں چھوکرا بھی بولا ہو،مگر بہ ظاہر میرا ذکر اس نے حذف کر دیا تھا۔
میں معترض ہوا۔”وہ چھوکری نہیں برطانوی فوج کی کیپٹن رہ چکی ہے۔“
”عہدے کی بڑائی سے عورت ہونے کی حقارت ختم نہیں ہوتی۔“
میں خفگی سے بولا۔”تو کیا عورت ہونا ساری خوبیوں کو ختم کر دیتا ہے۔“
وہ ہنسا۔”کیا تم یہ نہیں مانتے۔“
ہم برآمدے میں کھڑے تھے۔میں نے حویلی کے داخلی دروازے کی طرف اشارہ کیا۔”ستون کے اوپر لگی بتی نظر آرہی ہے۔“
”اب تک چشمے کے استعمال کی نوبت تو نہیں آئی کہ بتی دکھائی نہ دے۔“اس کے لبوں پر شرارتی استہزاءنمودار ہوا۔”ویسے میرے ہاں یا ناں کرنے میں عورت کاباصلاحیت ہونا تو مضمر نہیں ہے نا۔“
اس کے طنزکو درخور اعتناءنہ جانتے ہوئے میں نے پوچھا۔”اس بتی کو کتنی گولیوں سے نشانہ بنا لو گے۔“
وہ صاف گوئی سے بولا۔”ایک گولی سے ،شاید تین چار بھی چلانا پڑ جائیں ۔دعوے سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
میں دعوے سے بولا۔”وہ ڈیڑھ کلو میڑ کے فاصلے سے اس بتی کو نشانہ بنا لے گی۔شک ہے تو شرط لگا سکتے ہو۔“
وہ غیر یقینی سے بولا۔”کچھ زیادہ ہی مبالغہ آرائی سے کام لے رہے ہو۔“
میں نے اگلا دعویٰ کیا۔”تمھارے آدمیوں میں شاید دو تین ہی ایسے ہوں ، جو خالی ہاتھ لڑائی میں اس پر قابو پا لیں ورنہ اکثریت کو وہ خاک چٹا دے گی۔“
اس نے منہ بنایا۔”تم شاید عورتوں کی بڑائی کے قائل ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”کسی کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے وقت میں جنس کو زیر بحث نہیں لاتا۔ البتہ تمھیں ایک عورت کی مدد لینے میں عار محسوس ہو رہی ہے۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”کیا نہیں ہونا چاہیے؟“
میں برہم ہوا۔”کلینک میں دو تین ماہ تم ایک نرس کے محتاج بنے رہے ،تب تمھاری مردانگی کہاں سوئی تھی۔“
اس نے قہقہ بلند کیا۔”لڑنے پر تیار ہو گئے ہو یار۔“
”میں تمھاری مدد کرنا چاہ رہا تھا۔ راجپوت پر قابو پانے میں تمھارے زیادہ تر کارندے ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔جبکہ ہم،تمھارا جانی نقصان کرائے بغیر اسے پکڑوا سکتے ہیں ۔“
”وہ کیسے؟“اس نے اشتیاق ظاہر کیا۔
”شروع ہی میں بتا دیا تھاکہ اس کی روزمرہ معلوم کرو۔“
اس نے الجھن ظاہر کی۔”اس سے کیا ہوگا؟“
”بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“میں اسے کمرے میں لے گیا اور اپنا منصوبہ بتا دیا۔
وہ متعجب ہوا۔”کیا یہ قابل عمل ہے۔“
میں اطمینان سے بولا۔”آزمالو....ہماری ناکامی پر تمھارا نقصان تو نہیں ہوگا۔“
وہ جوشیلے لہجے میں بولا۔”ہاتھ آگے کرو۔“ میں نے ہتھیلی آگے کی۔زور دار انداز میں میرا ہاتھ بجاتے ہوئے وہ کھڑا ہو گیا۔
لورا خاموشی سے ہماری گفتگو سنتی رہی۔یہ علیحدہ بات کہ اس کے پلے کچھ نہیں پڑا تھا۔دھرمو دادا کے نکلتے ہی مجھے پوری گفتگو دہرانا پڑی۔وہ منصوبہ میں نے اس سے مشورے کے بغیر ہی طے کیا تھا۔تفصیل جان کر اس نے ایک دو قابل قدر مشورے دیے۔وہ ایک اچھی سنائپر تھی اور سنائپنگ کے میدان میں اس کی رائے کو رد کرنا آسان نہ تھا۔ہم منصوبے کی نوک پلک سنوارنے لگے۔
٭٭٭٭٭
ڈیڑھ ہفتے بعد ہم منصوبے پر عمل کرنے کو نہ صرف تیار تھے بلکہ سہ پہر کو نسبتاََ ویران سڑک کے جوانب میں گھات لگائے لیٹے تھے۔میں سڑک سے شمالی جانب چھے سو گز دورسہ منزلہ مکان کی چھت پر لیٹا تھا۔جبکہ لورا براﺅن مخالف جانب سڑک سے پانچ سو گز کے فاصلے پر ایک فارم ہاﺅس کی چھت پر موجود تھی۔میرے ساتھ دھرمو داداخود اور لورا کے ہمرا اس کا ایک اہم کارندہ موجود تھا۔ہم دونوں کے پاس تھنڈربولٹ سٹیل کور۔76 سنائپر رائفل تھی۔انگلینڈ کی کمپنی سٹیل کور کی بنی ہوئی یہ عمدہ سنائپر رائفل ہے جس کی مار1000میٹر ہے۔میں نے دھرمو دادا کو گلیل سنائپر رائفل یا ڈریگنوو لانے کا بتایا تھا۔اپنے مخصوص اسلحہ ڈیلر کے پاس اسے دونوں رائفلیں نہیں ملیں تھیں ان کے بجائے تھنڈر بولٹ مل گئی تھی۔یہ ڈریگنوو اور گلیل سے کارکردگی میں بہتر اور جدید رائفل ہے۔آج کل تو پاکستان آرمی کے پاس بھی موجود ہے۔البتہ اس کا وزن ڈریگنوو اور گلیل سے زیادہ ہے۔ 7.62x51رائفل کا وزن نو کلوگرام ہونا میری نظر میں خامی ہے۔گو یہ اتنی بڑی خامی نہیں کہ اس پر دوسری دونوں رائفلوں کو ترجیح دی جا سکے۔البتہ لمبے فاصلوں تک اسے اٹھا کر چلنااور ضرورت پڑنے پر دوڑناذرا دشوار بن جاتا ہے۔ایس آر ون جان بوجھ کر استعمال نہیں کی تھی کہ میں اسے بچا کر رکھنا چاہ رہا تھا۔لورا بھی مجھ سے متفق تھی۔
تھنڈر بولٹ ہمارے لیے نئی رائفل نہیں تھی کہ استعمال میں کوئی مسئلہ ہوتا۔بلکہ اب تو ہر قسم کی سنائپر رائفل کو سمجھنے کو مجھے چند منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔گزشتہ کل کو ہم اپنی رائفلوں کو صفر کر چکے تھے۔بلا شبہ سنائپر کسی بھی مشن پر جانے سے پہلے اپنے ہتھیار کو صفر کرنا فرض سمجھتا ہے۔
تھنڈر بولٹ ،بولٹ ایکشن ہتھیار ہے۔مطلب ہر بار گولی چلانے کو اسے کاک کرنا پڑتا ہے۔بولٹ ایکشن سنائپر رائفلوں میں درستی ،نیم خود کار سنائپر رائفلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔کیوں کہ نیم خود کار و خودکار(سیمی و فلی آٹو میٹک) ہتھیاروں سے فائر کرتے وقت جھٹکا زیادہ لگتا ہے۔اور اس کی وجہ فائر کے علاوہ چال والے پرزوں کی حرکت ہوتی ہے۔
دھرمو کے موبائل فون پر کال وصول ہوئی۔اس نے اسپیکر آن کر دیا تھا۔ایک مردانہ آواز ابھری۔ ”دادا!ہم تک پہنچ گئے ہیں ۔“
”ان کے آگے بڑھتے ہی سڑک بند کردو۔“کہہ کر دھرمو نے رابطہ منقطع کر دیا۔وہاں دھرمو دادا کے تین چار کارندے پولیس کی وردی میں موجود تھے۔راجپوت کی کاریں گزرتے ہی انھوں نے سڑک کو عارضی طور پر بند کر دینا تھا۔تاکہ ہماری کارروائی میں کوئی مداخلت نہ کر سکے۔گو جہاں فائرنگ شروع ہو اور غنڈوں کے دو گرہ برسر پیکار ہوں وہاں سے عام لوگ تو کیا پولیس والے بھی دور بھاگتے ہیں ،مگر کسی ناگفتہ بہ صورت حال سے نبٹنے کو ہم نے سڑک کو دونوں جانب سے بند کرنا مناسب سمجھا تھا۔وہ اندرونِ شہر کی شاہراہ نہیں تھی کہ دس پندرہ منٹوں میں گاڑیوں کی بھیڑ لگ جاتی۔
میں نے لورا کا نمبر ملایا۔”تیار ہو جاﺅ۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 38
ریاض عاقب کوہلر
میں نے لورا کا نمبر ملایا۔”تیار ہو جاﺅ۔“
وہ اعتماد سے بولی۔” تیارہوں ۔“میں نے رابطہ منقطع نہ کیااور ہینڈ فری کان میں لگالی۔تاکہ لورا ہماری باتیں سنتی رہے۔
دھرمو دادا نے ایک اور نمبر ملا کر کہا۔”شامو!شکار پہنچنے والا ہے سڑک بند کرودو۔“اور جواب سنے بغیر رابطہ منقطع کر دیا۔شامو سڑک کے اس جانب موجود تھا جدھر راجپوت دادا کا رخ تھا۔اوراب سڑک کا دو تین کلومیٹر کاعلاقہ دونوں جانب سے بند کیا جاچکا تھا۔
سڑک کا وہ حصہ بالکل سیدھا تھا اور تقریباََ کلو میٹر بھر علاقہ ایسا تھا کہ سڑک کے دونوں جانب کوئی ایسی رکاوٹ موجود نہیں تھی جہاں آڑ لے کر چھپا جا سکتا۔سنگ میل کے ساتھ ایک بھکاری ٹیک لگائے یوں بیٹھا تھا گویاتھک کر چند لمحے سستانے کو بیٹھا ہو۔پاﺅں پسارے وہ دنیا و مافیا سے بے خبر نظر آرہا تھا۔
کاروں نے میرے بائیں جانب سے نمودار ہونا تھا۔راجپوت کل اسی سڑک سے گزر کر ”ناسک“ شہر گیا تھا۔اسلحے کے بھرے چند ٹر ک تھے جنھیں بہ خیریت پولیس ناکوں و چوکیوں سے گزارنا اس کامقصد تھا۔ان ٹرکوں نے دہلی تک جانا تھا۔مگر راجپوت کی ذمہ داری غالباََ ناسک تک حفاظت کی تھی۔ اسلحے کے ٹرکوں کے بارے خبر ملنے پر مجھے ایک خیال یہ بھی آیا تھا کہ شاید ڈیوڈنے ایس آر ن کی کھیپ بھجوا دی ہے۔مگر لورا نے تردید کر دی، کیوں کہ ڈیوڈ اسے بتائے بغیر ایسانہیں کر سکتاتھا۔اور لورا نے چند ہفتے پہلے ہی ڈیوڈ کو ہتھیار بھیجنے سے منع کر د یا تھا۔
آج راجپوت نے اسی سڑک سے واپس آنا تھا۔دھرمو کے آدمی اس کے تعاقب میں تھے۔جونھی وہ ناسک سے نکلے ہم گھات پوزیشن میں پہنچ گئے تھے۔اور ابھی ہمیں کال آئی تھی کہ وہ دوتین کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکے تھے۔منٹ بھر بعد ہی مجھے کاریں نظر آنے لگیں ۔سب سے آگے سیاہ رنگ کی جیگوار تھی۔اس کے عقب میں کھلی چھت کی دو جیپیں تھیں ۔جگہ کا انتخاب کرتے وقت میں نے کوشش کی تھی کہ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں رفتار شکن(سپیڈ بریکر )موجود ہویا وہاں سڑک ٹوٹی پھوٹی ہو تاکہ کاروں کی رفتار قدرتی کم ہو جائے،مگر جہاں سڑک خراب تھی یا رفتار شکن موجود تھے وہ جگہ کارروائی کے لیے مناسب نہیں تھی ،مجبوراََ موجودہ جگہ کا انتخاب کر کے خطرہ مول لینا پڑا تھا۔البتہ مجھے امید تھی کہ ناکام ہونا نہیں پڑے گا۔
گاڑیاں گھات کی جگہ کے دوسو گز کے دائرے میں داخل ہوئیں ۔میں نے جیگوار کے اگلے پہیے پر شست سادھی۔ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ حرکتی ہدف کو نشانہ بنانے کو لیڈ کی ضرورت پڑتی ہے۔
چونکہ متحرک ہدف کی رفتار مختلف ہو سکتی ہے،اور ہدف کے نظر آنے پر اگر حساب کتاب کیا جائے تو یقینا حساب کے ختم ہونے تک ہدف سامنے سے گزر جائے گا۔اس وجہ سے سنائپر حرکتی ہدف کے خلاف رینج ٹیبل بنا کر رکھتے ہیں ۔ اس میں مختلف رفتارکے مطابق مطلوبہ لیڈ درج کر لی جاتی ہے۔تاکہ ہدف کے نظر آتے ہی کاغذ پر ایک نظر دوڑا کر مطوبہ لیڈ لگا لی جائے۔ ہدف کی سمت،فاصلہ تو ہمیں پہلے سے معلوم تھا۔گاڑیوں کی رفتار میں نے دھرمو کے ان آدمیوں سے معلوم کر لی تھی جو ناسک سے نکلتے وقت راجپوت کے تعاقب میں تھے۔مجھے یقین تھا کہ وہاں پہنچنے پرگاڑیوں کی رفتار میں انیس بیس سے زیادہ فرق نہیں ہونا تھا۔یوں بھی چلتی گاڑی کودیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رفتار کتنی ہے۔اورآج کل تورفتار کو ناپنے والے آلے رفتار پیما بھی دستیاب ہیں ۔میں نے ڈیفلیکشن ناب کو گھما کر مطلوبہ لیڈپہلے سے لگا دی تھی۔اورانیس بیس کا فرق میں اندازے سے بھی دور کر سکتا تھا۔
مخصوص لیڈ لے کر میں نے سانس روکا اور لبلبی دبا دی۔حسب معمول مجھے ناکامی نہیں ہوئی تھی۔اور سچ کہوں تو مسلسل عملی میدان میں سنائپنگ کرنے کے بعد میں خود کو جدید سہولیات کا محتاج نہیں سمجھتا تھا۔کبھی اندازے سے فائر کرنا پڑ جاتاتب بھی کاتب تقدیر کامیابی ہی میرا مقدر لکھتا۔
تھنڈر بولٹ کی مزل پر عمدہ سائیلنسر لگا تھا،فائر کی ہلکی سی ”ٹھک“کی آوازبلند ہوئی تھی۔البتہ ٹائر پھٹنے کا دھماکا خاصا بلند تھا۔ماہر ڈارائیور نے بڑی مشکل سے کار کو الٹنے سے بچایا تھا۔
”شاباش ایس ایس۔“لورا کی تحسین آمیز آواز میرے کانوں میں ابھری۔کہتے ہیں اہل فن ہی اپنے فن کی باریکیوں سے واقف ہوتے ہیں ۔اور اہل فن کی تعریف ہی قابل فخر ہوسکتی ہے۔ورنہ انجان کی شاباشی لائق فخر ہوتی ہے نہ تنقیص(نقص نکالنا) قابلِ توجہ۔
متحرک کار کے پہیے کو پہلی گولی سے نشانہ بنانا اتنا آسان نہیں ہے۔اور لورا سے زیادہ یہ بات کون جان سکتا تھا۔وہ خود پیشہ ور سنائپر تھی اور اچھی طرح جانتی تھی کہ میری کوشش میں کامیابی کا احتمال کتنے فیصد تھا۔
کار سنگ میل سے ٹیک لگائے بھکاری سے دس قدم دور رک گئی تھی۔دونوں جیپیں بھی فوراََ رک گئی تھیں ۔راجپوت کے محافظ چھلانگ لگا کر نیچے اترے اور کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر سڑک کے جوانب میں چوکس کھڑے ہوگئے تھے۔چند لمحوں بعد جیگوار کا دروازہ کھول کر ڈرائیور باہر نکلا۔دوسری جانب سے راجپوت بھی باہر نکل آیا تھا۔گو اتنے فاصلے سے اس کی صورت بالکل واضح نظر نہیں آرہی تھی،البتہ قامت وغیرہ سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ راجپوت ہے۔
محتاط انداز میں دائیں بائیں کا جائزہ لے کر وہ اپنے آدمیوں کوکوئی ہدایت دینے لگا۔ایک محافظ نے بھکاری کے قریب جا کر بھی کچھ پوچھا تھا۔اور پھر اس کی تلاشی لے کر پیچھے ہٹ گیا۔تینوں ڈرائیور کار کا پہیہ تبدیل کرنے لگے۔دو محافظ اس کے دائیں بائیں آکر کھڑے ہو گئے تھے جبکہ باقیوں نے اپنی جگہ سے ہٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔تین ڈرائیوروں اورراجپوت سمیت وہ بارہ افراد تھے۔
میں نے ڈیفلکشن ناب کو دوبارہ گھما کر صفر پر لگا دیا تھا کہ اب مجھے ساکن بلکہ انسانی اہداف پر فائر کرنا تھا۔اور انسان کی حرکت کے خلاف لیڈ سنائپر کے ذاتی تجربے کے مرہون منت ہوتی ہے۔
دھرمو نے نمبر ملا کر موبائل فون میری جانب بڑھا یا۔دوسرے کان میں بھی ہینڈ فری لگا کر میں ٹیلی اسکوپ سائیٹ میں بھکاری کا جائزہ لینے لگا۔وہ دھرمو دادا ہی کا آدمی تھا۔اس نے موبائل فون کان سے لگا کر ”ہیلو “کہا۔
”راجپوت کو فون دو۔“گواسے معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔اس کے باوجود میں نے ہدایت دینا مناسب سمجھا۔
”راجپوت دادا!آپ کی کال ہے۔“بھکاری نے موبائل فون راجپوت کی طرف بڑھایا۔
راجپوت یقینا ششدر ہوگیا تھا۔اس کے ساتھی محافظ بھوکے بھیڑیوں کی طرح بھکاری کی طرف بڑھے۔
”کون ہو تم،دادا کو کیسے جانتے ہو؟“
وہ اطمینان سے بولا۔” تمام سوالوں کا جواب راجپوت دادا کو کال وصول کرنے پر مل جائے گا۔“
راجپوت نے قدم بڑھا کر موبائل فون تھاما۔”ہیلو۔“اس کی محتاط آواز میری سماعتوں میں پہنچی۔
میں نپے تلے لہجے میں بولا۔”راجپوت دادا!میری ہدایات غور سے سننا۔اور جو کہوں بے چوں چرا کیے اس پر عمل کرناکیوں کہ اسی میں تمھاری بھلائی ہے۔“
اس نے گردن گھما کر چاروں جانب نظر دوڑائی،ساتھ ہی میری سماعتوں میں اس کی برہم آواز پہنچی۔ ”یقینا تم راجپوت دادا سے واقف نہیں ہو تبھی اس بھونڈے ڈرامائی انداز میں ڈرانا چاہ رہے ہو۔“
”پہلی بات، تم نے اپنی جگہ سے ہلنا نہیں ہے۔کیوں کہ تم اس وقت ایک نہیں دو سنائپروں کے نشانے پر ہو۔اور ہمیں جانچنے کو اپنے کسی محافظ کی بلی چڑھانا بہتر رہے گا۔“
”کیا چاہتے ہو۔“غیر متوقع طور پر اس نے جگہ چھوڑنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”پہلی بات بتا چکا ہوں کہ ہلنا نہیں ،دوسرا اپنے چیلوں کو کہو تم سے دور ہو جائیں ،اگر میرے تین گننے تک یہ دور نہ ہوئے تونتیجے کے ذمہ دار تم ہو گے....ایک۔“
وہ بہ ظاہر بے خوف لہجے میں بولا۔”میں ان گیدڑ بھبکیوں میں آنے والا نہیں ۔“شاید ہمیں آزمانا چاہ رہا تھا۔
”دو....تین....“میں نے گنتی مکمل کی۔
”ٹھہرو۔“وہ چیخااور اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہوا۔”دور ہٹ جاﺅ۔“
ایک محافظ نے شاید احتجاج کرنا چاہا تھا۔وہ دھاڑا۔”کہہ دیا نادفع ہو جاﺅ۔“
وہ محافظ جلدی سے دور ہو گیا تھا،جبکہ دوسرا کچھ زیادہ ہی وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہوااپنی جگہ پر ڈٹا رہا۔میں خود چاہ رہا تھا کہ راجپوت کو عملی مظاہرے سے یقین دلاﺅں کہ وہ ہماری مرضی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا تھا۔اسے وہیں ڈٹا پا کر میں نے فوراََ اس کی دائیں پنڈلی پر شست سادھی۔اورسانس روک کر لبلبی دباتے ہوئے افسوس بھرے انداز میں بولا۔
”بے چارے کی پنڈلی۔“
وہ فوراََچیخ مار کر نیچے گر گیا تھا۔محافظوں کو پہلے ہی خطرے کا اندازہ ہو چکا تھا۔وہ اندھا دھند فائر کرنے لگے۔ایک محافظ بھاگ کر زخمی ساتھی کے پاس پہنچااور اسے سنبھالنے لگا۔راجپوت چیخ چیخ کر اپنے کارندوں کو فائر بند کرنے کا کہنے لگا۔
ان پر مزید رعب جمانے کو میں لورا کو مخاطب ہوا۔”کیپٹن!کار کے اپنی طرف والے دونوں پہیے ناکارہ کر دو۔“اور خود اپنی جانب والے عقبی پہیے پر شست سادھ کر لبلبی دبا دی۔
دھماکے کی آواز سن کر پہیہ تبدیل کرنے والے ڈرائیور جھجک کر پیچھے ہو گئے تھے۔اسی دوران وقفے وقفے سے دو اور دھماکے ہوئے۔اب کار چاروں پہیوں سے فارغ ہو گئی تھی۔
”راجپوت دادا!یقینا،تمھیں یقین آگیا ہو گا۔اور جان جاﺅمیں یہ گولی تمھارے محافظ کے سر میں بھی مار سکتا تھا،لیکن فی لحال میری کوشش یہی ہے کہ تمھیں جانی نقصان پہنچائے بغیراپنا مقصد حاصل کر لوں ۔“
وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔”کیا چاہتے ہو؟“
میں اطمینان سے بولا۔”تمھارے ساتھ بیٹھ کر تھوڑی گپ شپ کروں گا،کچھ معلومات کا تبادلہ کروں گااور پھر میری طرف سے تم فارغ ہو گے۔“
وہ فوراََ بولا۔”ٹھیک ہے،جگہ بتاﺅ میں پہنچ جاﺅں گا۔“
”اتنا کشٹ(تکلیف)اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔ناک کی سیدھ میں چلتے جاﺅ تمھیں لینے کو گاڑی بھیج دی ہے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”اتنا بے وقوف سمجھتے ہو کہ اپنی گردن خود پھنسا لوں ۔“
میں اعتماد سے بولا۔”تم پھنس چکے ہو راجپوت دادا!اگر شک ہے تو میں دور کر سکتا ہوں ۔اوراگر اگلے دو منٹ کے اندر تمھارے سارے آدمیوں کے سر میں روشن دان نہ کھول سکا تو تمھیں جانے دوں گا۔منظور ہے؟“
اس نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔”جو معلومات لینا ہے تم کال پر پوچھ لو،وعدہ کرتا ہوں حقیقت نہیں چھپاﺅں گا۔“
میں نے کہا۔”تمھیں کار کی سامنے والی بتی نظر آرہی ہے۔“
”جی۔“حیرانی بھرے استفسار سے کہتے ہوئے اس کی گردن جیگوار کی طرف مڑی۔اس اثناءمیں میں لبلبی دبا چکا تھا۔بتی کے شیشے ٹوٹ کر بکھر گئے تھے۔
”جیپ کے ٹائروں کو دیکھو۔“میں نے اگلی جیپ کے اپنی طرف والے دونوں ٹائر ناکارہ کر تے ہوئے پوچھا۔ ”شک دور ہوا کہ مزید ثبوت دوں ۔“
”دیکھودوست!میری بات سمجھنے کی ........“مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے میں عقبی جیپ کے ٹائروں کو نشانہ بنا چکا تھا۔دھماکوں نے اس کی زبان خاموش کر دی تھی۔
”اگلے ثبوت تمھارے آدمیوں کے جسمانی اعضاءہوں گے۔تمھارے پاس میرے تین تک گننے کی مہلت ہے....ایک....“دھمکی دیتے ہی میں نے گنتی شروع کر دی تھی۔
”دو....تین....اپنے سب سے عقبی محافظ کو ....“
”ٹھہرو....“وہ قطع کلامی کرتے ہوئے چلایا۔”کیا ہم سودا بازی نہیں کر سکتے....“
میں نے عقبی محافظ کی ران پر شست سادھ کر لبلبی دبا دی۔وہ چیخ مار کر نیچے گر گیا تھا۔ قریب موجود محافظ اسے سنبھالنے لگ گیا تھا،جبکہ باقیوں نے جیپوں کے دوسری جانب آڑ لے لی تھی۔
میں لورا کو مخاطب ہوا۔”کیپٹن!جیپوں کے ٹائر کیوں سلامت نظر آرہے ہیں ۔“اگلے ہی لمحے جیپ کا ایک ٹائر پھٹا اوروہاں دبکے محافظ فوراََجیپ سے دور ہو گئے تھے۔اس کے بعد باری باری تین دھماکے ہوئے، اب وہاں تینوں گاڑیوں کا کوئی ٹائر سلامت نہیں بچا تھا۔
”اب اپنے ڈرائیور کو دیکھو....“میں نے جیگوار کار کے ساتھ کھڑے حیران و پریشان ڈرائیور پر شست سادھی۔
”کہاں جانا ہے؟“راجپوت نے فوراََہی ہتھیار پھینک دیے تھے۔
” سامنے دیکھو،سو گز دورسڑک پر سفید رنگ کی کار نظر آرہی ہے۔اس کی اگلی نشست پر بیٹھ جاﺅ۔اور اپنے آدمیوں کو بتا دو،اگر کسی نے بھی تمھاراپیچھا کرنے کی کوشش کی توجان سے جائے گا۔“
اس نے اپنے محافظوں کو وہیں رکنے کا کہااور خود آگے بڑھ گیا۔دھرمو دوربین آنکھوں سے لگائے سارا منظر دیکھ رہا تھا۔اس نے فوراََ کا روالے سے رابطہ کر کے اسے پیچھے آنے کو کہا۔کار میں عقبی نشست پر دو مسلح افراد موجود تھے۔راجپوت کے پیچھے بھکاری نے بھی قدم بڑھا دیے تھے۔راجپوت کے صرف ایک محافظ نے ہماری دھمکی کو قابل توجہ نہیں جانا تھا۔ہتھیار سونتے وہ راجپوت دادا کے پیچھے دوڑا لیکن پانچواں قدم لینا اسے نصیب نہیں ہوا تھا۔وہ اوندھے منہ گرا اور زخمی ٹانگ سنبھالنے لگا۔باقی اپنی جگہ پر جمے رہے۔راجپوت دادا نے گردن موڑ کر وفادار محافظ کا جائزہ لیا ،اس دوران کار اس کے قریب پہنچ چکی تھی۔اس کے بیٹھنے سے پہلے،بھکاری بننے والے نے قریب ہوکر مہارت سے اس کی تلاشی لی۔اس کاپستول قبضے میں لے کر وہ عقبی نشست پر منتقل ہو گیا۔راجپوت دادا کے بیٹھتے ہی کار تیزی رفتاری سے آگے بڑھ گئی۔میں لورا سے رابطہ منقطع کر کے سامان سمیٹنے لگا۔راجپوت کو لے جانے والے آدمیوں کو ہم نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ دھرمو دادا سے تعلق کو ظاہر نہ کریں ۔کیوں کہ ایسا ہونے کی صورت میں ہمیں راجپوت سے تفتیش کرتے وقت دشواری پیش آسکتی تھی۔
دھرمو دادا نے میری پیٹھ تھپتھپائی۔”مان گئے استاد،بلاشبہ تم بہترین نشانے باز ہو۔“
تھنڈربولٹ کو تھیلے میں منتقل کرتے ہوئے میں مسکرایا۔”واپسی پر لورا براﺅن کاشکریہ بھی ضرور ادا کرنا۔“
اس نے فراخ دلی دکھائی۔”شما چاہتا ہوں ،بے شک میں نے غلط کہا تھا۔ہر لڑکی کمزور نہیں ہوتی۔“
ہم نیچے اتر ے ،ڈرائیور تیار بیٹھا تھا۔ہمارے نشست سنبھالتے ہی اس نے کار آگے بڑھا دی۔ دھرمو دادا نے موبائل فون پرسڑک بند کرنے والوں کو بندش کے خاتمے کا بتایااور میری طرف متوجہ ہوا۔
”یقین نہیں ہورہا راجپوت اتنی آسانی سے میرے قابو میں آگیا ہے۔“
میں سنجیدگی سے بولا۔”آسانی سے کہاں ہوا ہے دادا!دو سنائپروں کی موجودی تمھاری نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتی۔کیا خیال ہے سنائپر ایک دن میں بن جاتا ہے۔کبھی متحرک گاڑی کے پہیے کو چھے سو میٹر سے نشانہ بنانے کی کوشش کرنا معلوم ہو جائے گا کہ آسان کام ہے یا مشکل۔اتنے ہی فاصلے پر کار کے شیشے کو بھی نشانہ بنانا،آدمی کی پنڈلی میں گولی مارنااور کامیابی کے بعد دعویٰ کرنا کہ آسان کام ہے۔“
”درست کہا۔“اس نے متفق ہونے میں دیر نہیں کی تھی۔
”جب تک ہم راجپوت سے اپنے مطلب کی معلومات اگلوئیں تم تھانے پر دھاوا بول کر اپنے ساتھیوں کو آزاد کراسکتے ہو۔مزید چھپنے کی ضرورت نہیں رہی۔“
”بہت اچھے۔“اس نے پسندیدگی سے سرہلا دیاتھا۔
٭٭٭٭٭
راجپوت کو وشواس سنگھ کی حویلی کے ایک اندرونی کمرے میں بند کر دیا گیا۔دروازے پر دو پہرے دار مقرر کر کے ہم بے فکر ہو گئے تھے۔رات کا کھانا کھاکر دھرمو دادااپنے گروہ کے ساتھ اپنے قید ساتھیوں کو چھڑانے روانہ ہو گیا۔جبکہ میں اور لورا راجپوت سے تفتیش کرنے پہنچ گئے۔
وہ فرشی بستر پر لمبا پڑا تھا۔دھرمو کے آدمیوں نے اس کی مشکیں کس دی تھیں ۔ہمارے بیٹھنے کو پہرے دار دو کرسیاں لے آئے۔ہم نے اطمینان سے نشست سنبھالی،راجپوت کینہ توز نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔
”غصے میں لگ رہے ہوراجپوت دادا۔“میں نے مسکراتے ہوئے گفتگو کی ابتداءکی۔
وہ قہر آلود لہجے میں بولا۔”گو تم نے مقامی سہارے ڈھونڈ لیے ہیں مگر زیادہ عرصہ تک آزاد نہیں گھومو گے۔“
میں نے منہ بنایا۔” جلد ہی جان جاﺅ گے کہ میں مقامی لوگوں کو سہارا دے رہا ہوں یا لے رہا ہوں ۔“
”ایک پیش کش کر رہاہوں ،ٹھنڈے دماغ سے سوچ لو....یہ تتلی ہمارے حوالے کرو،حفاظت سے پاکستان کی سرحد عبور کرو،منہ مانگے دام وصول پاﺅ۔اور جن معلومات کے حصول کو جاسوس بن کر آئے ہو وہ بھی تمھیں مہیا کر دی جائیں گی۔“وہ ایک دم سودے بازی پر اتر آیا۔
میں نے احمقانہ انداز میں پوچھا۔”قہقہ لگانے کی اجازت ہے۔“
اس نے فلسفہ بگھارا۔”ہنس لو،مگر یاد رہے مسکراہٹیں تادیرسلامت نہیں رہتیں ۔“
”اگر چاہتے ہو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہو جومیرے ساتھ تمھارے عقوبت خانے میں ہوا تھا تو میرے سوالوں کا درست جواب دینا شرط ہے۔“
وہ بے خوفی سے بولا۔”راجپوت،اذیتیں جھیلنے کا عادی ہے۔“
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔”آزمانے کی دعوت دے رہے ہو یا صرف مطلع کر رہے ہو۔“
”جو سمجھو۔“اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”اچھا یہ بتاﺅ ،کسی کے پاﺅں کے نیچے موم بتی جلا کر رکھ دی جائے تو کیا ایک موم بتی تلوے میں سوراخ کر پائے گی یا خون گرنے سے بجھ جائے گی۔“
”تم مجھے ڈرا نہیں سکتے۔“
میں متبسم ہوا۔”دھمکا تو سکتا ہوں ناں ،کیا پتا ڈر جاﺅ۔“
وہ عزم سے بولا۔”غلط فہمی ہے تمھاری۔“
”جانتے ہو اس تتلی کے کیا ارادے ہیں ۔“میں نے اسے لورا کی طرف متوجہ کیا جو بے تا¿ثر چہرہ لیے اسے گھو رہی تھی۔
راجپوت نے ہونٹ سکیڑتے ہوئے بے پروائی ظاہر کی،گویا لورا کے ارادے اس کی نظر میں کسی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔میں نے چھوٹا سا وقفہ دے کر انکشاف کیا۔”شکلا نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور ہر وہ شخص جو اس کا ذمہ دار ہے،یہ اسے اس قابل نہیں چھوڑے گی کہ آئندہ کسی غیر لڑکی تو کیا اپنی بیوی کے پاس بھی جا سکے........ویسے آج کل سائنس کافی ترقی کر گئی ہے ،لولے لنگڑوں کی طرح نامردوں کا علاج بھی ممکن ہے یا ........“بات ادھوری چھوڑ کر میں نے کندھے اچکائے۔راجپوت کی آنکھوں کی گہرائی میں اضطراب کی لہریں اٹھیں ،مگر اس نے چہرے پر خوف ظاہر نہ ہونے دیا۔
شاید قارئین کو میری گفتگوفضول یاوہ گوئی لگے،مگر میں مذاق یا گپ شپ کے موڈ میں نہیں تھا۔نہ میرا ارادہ وقت ضائع کرنے کا تھا۔درحقیقت مضبوط اعصاب کے مالک افراد کی قوت ارادی توڑنے کو ایسے نفسیاتی حربوں کی ضرورت پڑتی ہے۔پوچھ گچھ کے لیے کسی کو پیٹنے اور ایک دم تشدد کا نشانہ بنانے کے بجائے اسے ذہنی اذیت پہنچانا عموماََ زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ تکلیف جھیلنا اتنا مشکل نہیں ہوتا جتنا تکلیف جھیلنے کا انتظار ہوتا ہے۔
میری بات جاری رہی۔”اچھا یہ بتاﺅآری سے ٹانگ کٹنے کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے یا کلھاڑی سے۔ نہیں پتا....“میں نے سر کو دائیں بائیں جنبش دیتے ہوئے منہ بنایا۔”اور ہتھوڑے سے پنڈلی کو کچلا جائے تب درد زیادہ ہو گا یاآگ میں جلا نے سے....بلکہ نہیں ،آگ میں جلانے سے تو پوری ٹانگ کٹے گی نا۔کیوں کہ کوئی ایسا طریقہ دریافت نہیں ہوا کہ صرف پنڈلی کو آگ سے جلا کر کاٹا جا سکے....یا ایسا کوئی طریقہ ہے۔کیا کہتے ہو؟“
”راجپوت ایسی باتوں سے خوف نہیں کھاتا۔“بہ ظاہر اس نے بہادری دکھائی مگر اس کے لہجے میں پہلے والا دم خم باقی نہیں تھا۔
”اچھا یہ بتاﺅزبان بند رکھنے کا تمھیں کیا انعام ملے گا۔ سرکاری آدمی تو ہو نہیں کہ کوئی اعزاز ،سند یا تمغاملے۔(اس لفظ کوعوام میں تغما پڑھتے ہیں )البتہ تمھاری کٹی پھٹی لاش پولیس والوں کے کام آئے گی کہ تمھیں پولیس مقابلے میں مردار قرار دے کر انعام و ترقی کے حق دار ٹھہریں گے۔اور تم سے تو تمھارا چھوٹا بھائی وشال گپتا عقل مند ثابت ہوا کہ سب کچھ اگل کر اپنی کھال و جان بچالی۔“
اس کی ہٹ دھرمی میں دراڑ پڑی۔”میں کیسے یقین کروں کہ معلومات لے کر تم مجھے کچھ نہ کہو گے۔“
”تمھارے بھائی وشال پر قابو پانے کے باوجود اسے کچھ نہیں کہا۔نہ تمھیں کچھ کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔حقیقت تو یہ ہے تمھارے ساتھ ہماری کوئی دشمنی ہی نہیں ہے۔پوچھ گچھ کے بعد تمھیں ان مقامی غنڈوں کے حوالے کر کے اپنی راہ لیں گے۔ان سے سودا بازی کر نا،تمھاری اپنی صوابدید ہے۔چند ہزار پر راضی ہوتے ہیں یا زیادہ کے طلب گار ہوتے ہیں ۔“
وہ بے یقینی سے بولا۔”اپنے اللہ کی قسم کھاﺅتم مجھے کچھ نہیں کہو گے۔“
میں خلوص دل سے بولا۔”اللہ پاک کی قسم،میں تمھیں کچھ نہیں کہوں گا،بلکہ لورا کی ذمہ داری بھی میں لیتا ہوں ۔“اور حقیقت بھی یہی تھی،میرا اسے نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔بلکہ میری حتی الوسع کوشش یہی تھی کہ انڈیا میں کسی کے ساتھ خواہ مخواہ پنگا بازی نہ ہو۔میرا دشمن صرف دھیرندر شکلا تھا۔ البتہ دھرمو کی ذمہ داری میں قبول نہیں کر سکتا تھا۔وہ ان کا آپس کا معاملہ تھا۔میں نے اشارتاََ بول بھی دیا تھاکہ اسے غنڈوں کے حوالے کروں گا تاکہ جھوٹ و دھوکے بازی سے بچ سکوں ۔
”کیا پوچھنا ہے۔“اس نے رضامندی ظاہر کی۔
میں اطمینان سے بولا۔”شکلا کے بارے جو کچھ جانتے ہو اگل دو۔“
وہ طنزیہ انداز میں بولا۔”یہ تتلی اتنی پسند آگئی ہے کہ اس کی خاطر شکلا سے دشمنی گانٹھ لی ہے۔“
”محبت بہت کچھ کروا دیتی ہے یار۔“میں نے ایسے انداز میں فلسفہ بگھارا کہ اس کی غلط فہمی دورہو نہ جھوٹ بولاجائے۔
اس نے ڈرانے کی کوشش کی۔”خلو ص دل سے مشورہ دیتا ہوں ،سر شکلا کا خیال دل سے نکال دو۔ اس بلبل کو بھی سمجھا بجھا کر واپس بھیج دویا راضی ہے تو اپنے ساتھ پاکستان لے جاﺅ،فائدے میں رہو گے۔“
میں ہنسا۔”تمھارے متعلق استفسار پروشال گپتا نے انکشاف کیا تھا،’بہتر ہوگابھڑوں کے چھتے میں ہاتھ نہ ڈالواور طبعی عمر تک زندگی کے مزے لوٹو۔‘اور دیکھ لو تم حقیر کیچوے کی طرح میرے سامنے بے بس لیٹے ہو۔“
اس کے چہرے پر غصہ نمودار ہوا۔”بے خبری میں تمھارے ہاتھ آگیا ہوں ،کبھی دوبارہ سامنا ہوا تو دیکھ لو گے۔“
”میں شکلا کو چٹھی لکھ کر اپنے حملے کے بارے پہلے سے مطلع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔اور یقینا تم بھی زبان دو گے کہ یہاں سے جا کر اسے باخبر نہیں کرو گے۔“
اس نے جان چھڑانا چاہی۔”میں شکلا صاحب کا ملازم ہوں اور میرے پاس ان کے متعلق کوئی خاص معلومات نہیں ہیں ۔“
”خاص و عام کا تعین میں خود کروں گا تم تفصیل بتانا شروع کرو۔اور انگریزی جانتے ہو تو میری ساتھی بھی تمھاری زبانی سب کچھ سننا پسند کرے گی۔“
”انگریزی پر اتنا عبور نہیں ہے۔“نفی میں سرہلا کر وہ شکلا کے متعلق تفصیل سے بتانے لگا۔ لب لباب یہی تھا کہ شکلا بہت اونچی شیئے تھی۔انڈیا کے پانچ چھے بڑے شہروں میں اس کی محل نما کوٹھیاں بنی ہوئی تھیں ۔اس کے پاس ذاتی ہیلی کاپٹرموجود تھاتبھی اس کے لیے دنوں کا فاصلہ گھنٹوں اور گھنٹوں کا منٹوں میں طے کرنا دشوار نہ تھا۔مسلسل کام کی وجہ سے وہ شاذونادر ہی کسی جگہ ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گزارر پاتا تھا۔البتہ عموماََ اس کا قیام ممبئی میں ہوتا تھا۔اس کا کاروبار نہایت منضبط بنیادوں پر قائم تھا۔اس کی انتظامیہ میں قابل بھروسااور اعلیٰ صلاحیتوں والے لوگ شامل تھے۔اس کے محافظوں میں بڑی تعداد انڈین آرمی کے ریٹائرڈ کمانڈوزکی تھی۔جنھیں وہ بھاری تنخواہیں دیتا تھا۔بعض تو نوکری کے اختتام سے پہلے ہی مستعفی ہو کر اس سے آن ملے تھے۔کہ اس نے انڈین آرمی سے زیادہ مراعات اور تنخواہ کی پیش کش کی تھی۔اس کا جائز اور ناجائز کاروبار زیادہ تر سمندر کے راستے سے ہوتا تھا۔اس کا ایک بیٹا اور بیٹی تھی۔بیٹی حادثے میں ہلاک ہو چکی تھی(بریگیڈئر انصاری کی بیوی)اور اب فقط بیٹا بچا تھا۔ پرما انصاری اس کی لاڈلی نواسی تھی۔اس کی ماں کسی حادثے میں فوت ہو چکی تھی ،وہ پڑھ رہی تھی اور شکلا اس پر جان دیتا تھا۔اس سے زیادہ معلومات وہ پرما کے متعلق نہیں رکھتا تھا۔البتہ پرما اسے انکل کہتی تھی اور اپنے نانا کے دوست کے حوالے سے جانتی تھی۔شکلا کا بیٹا وگنیش شکلا بہ ظاہر کاروباری شخصیت تھامگر درپردہ باپ کے کالے کرتوتوں میں شامل تھا۔اس کی کمزوری دولت و عورت تھی۔حددرجہ کا عیاش تھا۔کئی عورتوں کی عزت خراب کر چکا تھا۔مگر اس کے گریبان تک عام آدمی کی رسائی نہیں تھی۔اسلحے کی قانونی و غیر قانونی اسمگلنگ کے علاوہ خطرناک نشے کی اسمگلنگ میں بھی پیش پیش تھا۔گو راجپوت اس کا خاص آدمی تھا مگروہ اسے بھی راز دار بنانے پر تیار نہیں تھا۔ راجپوت کو وہ اتنا ہی بتاتا تھا جتنا اس سے کام لینا ہوتا تھا۔کرن چاولہ سے بھی اس کے قریبی تعلقات تھے۔ اور کرن چاولہ اس کے بیٹے وگنیش شکلا کا گہرا دوست تھا۔یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ رندھیر شکلا اپنے لباس کے نیچے بہترین قسم کی بلٹ پروف جیکٹ پہنے رہتا تھا۔خصوصی طور پر تیار شدہ جیکٹ وزن میں بہت ہلکی مگر کارکردگی میں عمدہ ترین تھی۔اس کی کار بلکہ اس کے محافظوں کی کاریں بھی بلٹ پروف تھیں ۔میں کرید کرید کر راجپوت سے شکلا کے متعلق پوچھتا رہا۔کچھ باتیں تو انصاری صاحب سے مجھے معلوم ہو ئی تھیں ان کی تصدیق ہوئی، بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں ۔اس دوران لورا خاموش تماشائی بنی رہی۔راجپوت کو اچھی طرح نچوڑنے کے بعد میں نشست چھوڑتے ہوئے اٹھا۔
”شکریہ راجپوت دادا!ہماری طرف سے آزاد ہو۔اب تم جانو اور ہمارے مقامی مددگار۔ہم تمھیں ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔“
راجپوت کے چہرے پر اطمینان ابھرا۔”تم سے اسی سلوک کی توقع تھی۔
”اور مجھ سے کس سلوک کی توقع ہے۔“دھرمو دادا کی آواز نہیں ایٹم بم کا دھماکا تھاجو راجپوت کو سر سے پاﺅں تک لرزا گیا تھا۔اس کے چہرے کی رونق پھیکی پڑ گئی تھی۔خشک لبوں کو تر کرتے ہوئے وہ شاکی ہوا۔
”تم نے مجھے دھوکا دیا۔“اس کا مخاطب میں تھا۔
میں نے نفی میں سرہلایا۔”اسے دھوکا دینا نہیں کہتے۔نہ مسلمان دھوکا دیا کرتے ہیں ۔زیادہ سے زیادہ غلط فہمی میں مبتلا کرنے کاالزام دھر سکتے ہو۔اور غلط فہمی کا سبب تمھاری اپنی سوچ ہے۔میں نے تو وضاحت کر دی تھی کہ تم جانو اور تمھارے مقامی دوست۔“
”پہلے سے وضاحت کرنا چاہیے تھی کہ تم دھرمو کے آدمی ہو۔“
میں نے صفائی دی۔”ہم بس ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں کہ خوش قسمتی سے ہمارا ہدف ایک ہی تھا۔اور دھرمودادا کاذکر شروع میں نہ کرنے کا مقصد تمھیں تشدد اور خود کو بے جا کوفت سے بچانا تھا۔ورنہ جو کچھ تم آرام سے بتا چکے ہو یہ سب تمھارے حلق میں ہاتھ ڈال کر اگلوانابالکل مشکل نہ ہوتا۔اگرشک ہے توکوئی معلومات چھپانے کا دعویٰ کر کے جانچ سکتے ہو۔“
دھرمو مجھے مخاطب ہوا۔”ساتھی،میرا خیال ہے تمھارا کام ہوگیا ہے۔“
میں نے خوش دلی سے سرہلایا۔”بالکل۔ہماری طرف سے راجپوت دادا فارغ ہے۔“
”اس کی بندشیں کھول دو۔“نشست سنبھالتے ہوئے دھرمو دادا نے اپنے ایک چیلے کو حکم دیا۔
”جی دادا۔“ادب سے کہہ کر اس نے چاقو نکالا اور راجپوت کی بندشیں کاٹ دیں ۔دھرمو دادا کا یہ حکم اس کے خود پر اعتماد کو ظاہر کر رہا تھا۔یقینا وہ لڑائی بھڑائی کا ماہر تھا تبھی تو فوراََ ہی راجپوت کی مشکیں کھولنے کا کہا تھا۔ راجپوت بیٹھ کر کلائیاں اور پنڈلیاں مسلنے لگا۔
میں نے چند لمحوں کو قد م روکے کہ ان گفتگو سنوں ، مگر لورانے بیزاری سے پوچھا۔”تمھاری تفتیش اب تک باقی ہے۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔
”تو چلو....“میرے ہاتھ سے پکڑ کر اس نے دروازے کی طرف کھینچا۔یقینا اسے راجپوت کی بتائی ہوئی تفصیل سننے کی بے صبری تھی۔
میں نے ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کرایا۔”تم چلو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔“
”مگر....“اس نے منہ بسورا۔
”کہا ناں تم چلو۔“اسے پچکارتا ہوامیں مڑا اور دھرمو کے ساتھ نشست سنبھال لی۔لورا پیر پٹختے ہوئے باہر نکل گئی تھی۔
جاری ہے
 

قسط نمبر 39
ریاض عاقب کوہلر
”کہا ناں تم چلو۔“اسے پچکارتا ہوامیں مڑا اور دھرمو کے ساتھ نشست سنبھال لی۔لورا پیر پٹختے ہوئے باہر نکل گئی تھی۔
دھرمو نے میری موجودی کو قابل اعتناءنہیں جانا تھا،وہ راجپوت سے حساب کتا ب مانگ رہا تھا۔ راجپوت کا جرم دھرمو کے علاقے پر قبضہ نہیں بلکہ دھرمو کو مروانے کی کوشش تھا۔آپس کی لڑائی میں چیلوں چمچوں کی ہلاکت قابلِ معافی تھی مگر کسی دادا پر حملہ کرنے کا رواج نہ تھا۔اور راجپوت کی یہی غلطی تھی جس پر دھرمو دادا سرخ انگارہ بنا ہوا تھا۔راجپوت کا جرم بالکل واضح اور ثابت تھا۔اوربہ ظاہر اس کے پاس سوائے معذرت کرنے کے کوئی جواب نہ تھا۔مگر وہ مختلف حجتیں اور دلائل اپنی صفائی میں پیش کرتا رہا۔دھرمو دادا نے اس کے تمام اعتراضات کا ردّ دلائل سے کیا تھا۔ان کی طویل گفتگو میں قارئین کے مطلب کی کوئی بات نہیں تبھی لکھنے سے احتراز برتا ہے۔گفتگو کا اختتام راجپوت کی شکست کی صورت ظاہر ہوا تھا۔
دھرمو دادا نے تصدیق چاہی۔”یقینا اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے تمھیں سزا کاٹنے پر اعتراض نہ ہوگا۔“
گہرا سانس لے کر راجپوت نے آنکھیں بند کیں ،لمحہ بھر توقف کیا اور پھر اطمینان سے بولا۔”قتل کرو گے؟“
”ہاں ۔“دھرمو دادا نے دو ٹوک فیصلہ سنایا۔
”کوئی اور صورت۔“راجپوت نے دامن امید دراز کیا۔
دھرمو دادا نے نفی میں سرہلایا۔
راجپوت برہم ہوا۔”توپوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے،تمھارا قیدی ہوں مارنا کون سا مشکل ہے کہ عدالت قائم کیے بیٹھے ہو۔“
دھرمونے کہا۔”تمھاری موت کو فلماﺅں گااور ممبئی کے ہر گروہ کے دادا تک وہ وڈیو پہنچے گی۔تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے دھرمو نے زیادتی کی۔“
راجپوت طنزیہ انداز میں بولا۔” تمھاراخیال ہے میں کیمرے کے سامنے اقرارجرم کر لوں گا۔“
دھرمونے انکشاف کیا”تم کر چکے ہو۔یہ ساری گفتگو ریکارڈ ہو چکی ہے۔فیصلہ بھی ہو چکا ہے،بس عمل کرنا باقی ہے۔“
راجپوت دادا نے فیصلہ قبول کرنے کا عندیہ دیا۔”مرنے سے پہلے اپنی بیوی سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔اس کے بعد سزا پر عمل کر سکتے ہو۔“
دھرمو نے اپنا موبائل فون اس کی جانب پھینکا۔راجپوت نے بیوی کا نمبر ملاکر موبائل فون کان سے لگا لیا۔
”میں بول رہا ہوں ۔“اس نے تعارف کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔
چند لمحے بیوی کی گفتگو سن کر وہ حوصلے سے بولا۔”سمرن! بات سنو،میرے پاس زیادہ مہلت نہیں ہے۔یاد ہے نا ،کہا تھاتم دھرتی کی ہر شیے،ہر فرد اور ہر رشتے سے مجھے زیادہ پیاری ہو۔یقینا اس قول کو سچا ثابت کرنے کا وقت آگیا ہے۔شاید چند لمحوں بعد میں باقی نہ رہوں ۔میں نے دھرمو دادا کو مروانے کی سازش کی ،اس کے لیے کرائے کے قاتل مقرر کیے مگر ناکام رہا اور اب بھگوان نے مجھے اس کے قدموں میں لا پھینکا ہے۔اس کی مہربانی کہ اس نے میری آخری خواہش کو پوراکیا۔مجھے یاد رکھناسمرن اپنے راجپوت کو بھول نہ جانا۔بھگوان تمھاری رکھشا کرے........“
دو تین لمحے خاموش رہ کر اس نے بیوی کی بات سنی اور پھر بولا۔”یہ ممکن نہیں ہے سمرن،مجھے اپنا جرم قبول ہے۔اصولوں سے انحراف میں نے کیا تھا۔اب سزا کا حق دار بھی میں ہوں ۔میرے لیے پرارتھنا کرنا۔ “ جواب سنے بغیر اس نے رابطہ منقطع کیااور موبائل فون دھرمو کی جانب پھینک دیا۔
”میں تیار ہوں ۔“اس کے لہجے کی لرزش واضح تھی۔ چہرے پر پسینہ نمودار ہو گیا تھااورچہرہ زرد پڑ گیا تھا۔ اپنی موت کو قبولنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ موت کے لمحے کا نگاہوں سے اوجھل ہونا بھی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے ورنہ دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجاتا۔راجپوت کی ہمت تھی کہ وہ گڑگڑایا نہیں تھا۔
دھرمو دادا نے پستول نکالا،اس کی میگزین اتار کر خالی کی اور صرف ایک گولی اندر رہنے دی۔
میگزین دوبارہ چڑھا کر اس نے پستول کاک کیا۔اس کی آنکھوں میں سرد مہری و سفاکی چھلک رہی تھی۔ اس کے پستول سیدھا کرتے ہی راجپوت نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔
”ایک منٹ دھرمو دادا۔“میں نے اسے مخاطب کیا۔
وہ بے گانگی سے میری طرف متوجہ ہوا۔
میں اطمینان سے بولا۔”تم غلط کر رہے ہو۔“
وہ درشتی سے بولا۔”میں تمھارے معاملے میں مخل نہیں ہوا تھا۔“
”وہاں تمھاری دخل اندازی کو تھاہی کیا؟....ایک آدمی سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تم نے کیا مداخلت کرنا تھی۔“
”راجپوت کی موت کا فیصلہ ہو چکا ہے،اس کے علاوہ کچھ کہنا ہے تو بولو....“
”راجپوت داداکی موت کا فیصلہ تم کیسے کر سکتے ہو؟....مانا اس نے غلط کیااور وہی غلطی تم بھی دہرا رہے ہو۔جب کسی بھی دادا کا قتل تمھاری پرمپرا(ریت ،روایت) میں جرم ہے۔تو راجپوت دادا کا قتل بھی جرم ہو گا۔اور اس کی موت کے بعد کسی دوسرے کو تمھیں قتل کرنا جائز ہو جائے گا۔البتہ تم ممبئی کے تمام دادوں کی بیٹھک بلا کر راجپوت دادا کو عام غنڈاتسلیم کراﺅ،اس کے بعد قتل کر دو۔“
”ایسی بیٹھک کا رواج ہمارے ہاں نہیں ہے۔کسی دادا کو اس کی موت میں دلچسپی نہیں ہوگی۔“
”شاید ایسا ہی ہو،مگرتمھارے ایک دوسرے کے قتل سے انحراف کی روایت ٹوٹ جائے گی۔ راجپوت نے غلطی کی ، اسے کامیابی نہ ملی۔ تمھاری کامیابی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔لیکن یاد رکھنا راجپوت دادا کے قتل کے بعد یہ سلسلہ رکے گا نہیں ۔کوئی بھی راجپوت دادا کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کرے گا۔ ایک روایت کے خلاف جب کوئی عمل ہوتا ہے تو وہ ہر اس شخص کو ترغیب دیتا ہے جس کے دل میں اس روایت کے خلاف کچھ کرنے کا داعیہ موجود ہوتا ہے۔پھرہر منحرف کی دلیل روایت توڑنے والا بنتاہے۔یقین مانو راجپوت دادا کا قتل ایک نئی جنگ کو جنم دے گا،ایک ایسی آگ کو بھڑکا دے گا جس کے شعلے تمھارے دامن تک بھی پہنچیں گے۔“
وہ طنزیہ لہجے میں بولا۔”تم اس کی وکالت کر رہے ہو کہ اسے زبان دے چکے ہو۔“
میں نے نفی میں سرہلایا۔”ایسا کچھ نہیں ہے ، راجپوت سے وعدہ کیا تھا کہ میں یا لورا براﺅن اسے قتل نہیں کریں گے۔اور تمھارااسے قتل کرنامیرے وعدے کو نہیں توڑتا۔باقی میرا مقصدفقط سمجھانا ہے،کیوں کہ میں تمھارابھلا چاہتا ہوں ۔اور اگر میرے دلائل تمھارے نزدیک غلط ہیں تو ، کون سا تمھیں بہ زورِ بازو روک رہا ہوں ۔“
اس نے منہ بنایا۔”تم نے میری جان بچائی تھی ،راجپوت بھی تمھاری وجہ سے میرے ہاتھ آیا ہے۔پھر میں اپنے محسن کی خواہش کو کیسے ٹھکرا سکتا ہوں ۔“
”اللہ پاک کی قسم، راجپوت دادا کے قتل پر میں ناخن برابر بھی تم سے خفا نہیں ہوں گا۔ میں اب بھی تمھارا فائدہ چاہتا ہوں ۔یہاں میرا قیام نہایت مختصر ہے۔اورتم نے ساری زندگی یہیں رہنا ہے۔“
وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔چند لمحوں بعد اس نے میگزین اتار کر بقیہ گولیاں بھریں ،میگزین چڑھائی اور پستول ہولسٹر میں رکھ لیا۔یہ اعلان تھا کہ اس نے راجپوت دادا کے قتل کا ارادہ تبدیل کر دیا تھا۔
وہ طنزیہ انداز میں مستفسر ہوا۔”اب اس کا کیا کروں ؟“
میں نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔” تمھارا ذاتی معاملہ ہے۔“
”بکواس بند کرواور مناسب مشورہ دو۔“اس کے لہجے میں بے تکلفی و اپنائیت بھری تھی۔
میں متبسم ہوا۔”تمھارا جتنا نقصان ہوا ہے،وصول کر کے چھوڑدو۔“
اس نے منہ بنایا۔”یہ جرمانہ تو نہ ہوا۔“
”میں دگنا دوں گا۔“موت کو ٹلتا دیکھ کر راجپوت کے چہرے پر رونق لوٹ آئی تھی۔
”میں چلتا ہوں باقی تفصیلات تم خود طے کر لینا۔“میں دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
”ذیشان صاحب!“راجپوت نے بے ساختہ آواز دی۔میں رک کر مڑا۔
وہ ممنونیت بھرے لہجے میں بولا۔”معلوم نہیں تمھیں میری وکالت کی ضرورت کیوں کر پیش آئی۔ بہ ہرحال بہت بہت شکریہ۔“
میں نے متبسم ہو کر اوپر نیچے سرہلایا اور باہر نکل آیا۔لورا میرے کمرے میں بے چینی سے منتظر تھی۔ وشواس سنگھ کی کوٹھی میں ہم علیحدہ علیحدہ کمرے میں رہ رہے تھے۔کیوں کہ ایک کمرے میں رہنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔مجبوری کی حالت میں ہم ایک چارپائی پر بھی لیٹے رہے تھے اور اب ایسی مجبوری نہیں تھی تو ہمارا علیحدہ لیٹنا ہی مناسب تھا۔اس معاملے میں لورا بھی میری ہم خیال تھی۔بلاشبہ پہناوے اور گفتگو کے لحاظ سے اس میں یورپین لڑکیوں والی بے باکی پائی جاتی تھی،مگر عورت و مردکی ممنوعہ حدود کو پھلانگنے والی بے حیائی اس میں بالکل موجود نہیں تھی۔اس معاملے میں اس کے خیالات مشرقی لڑکیوں جیسے تھے۔اپنے ماضی میں بھی وہ صرف نک اسٹیورٹ کی قربت کا برملا اعتراف کرتی تھی،اس کے علاوہ بہ قول اس کے اس کا ماضی صاف تھا۔
”اتنی دیر لگادی۔“مجھے دیکھتے ہی وہ بے تابانہ انداز میں کھڑی ہوئی۔
میں رکھائی سے بولا۔”تمھیں انتظار کرنے کو کس نے کہا تھا۔اتنی رات گزر گئی ہے سو جاتیں ۔“
”سو جاتیں ........“اس نے منہ بگاڑ کر میری نقل اتاری۔
میں جھلاتے ہوئے بولا۔”کہیں بھاگا تو نہیں جا رہا، صبح بھی بات ہو سکتی تھی۔“
وہ چڑچڑاتے ہوئے بولی۔”منہ بند اور تفصیل شروع۔“
میں ہنسا۔”بند منہ سے تفصیل بتانے کا طریقہ مجھے نہیں معلوم۔“
وہ روہانسا ہوئی۔”ریجا تنگ نہ کرو۔“
”اچھا بیٹھ جاﺅ۔“مسہری پر نشست سنبھال کر میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
وہ کرسی سنبھال کر پراشتیاق نظروں سے مجھے گھورنے لگی۔میں نے راجپوت سے سنی ہوئی تمام تفصیل دہرا دی تھی۔
بیچ بیچ میں وہ ضروری باتوں کی وضاحت مانگتی رہی۔آخر میں اس نے راجپوت اور دھرمو کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی تفصیل جانی اور پھر کرسی چھوڑکر اٹھتے ہوئے بولی۔”اب آرام کر سکتے ہو۔“
”شکریہ۔“طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے میں لیٹ گیا۔وہ مسکراتے ہوئے باہر نکل گئی۔
مگر سونا میری قسمت میں نہیں تھا۔ایک آدمی دھرمو داداکا بلاوا لیے آپہنچا۔معلوم ہوا وہ راجپوت کو رہا کر رہا تھا اور جانے سے پہلے راجپوت نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔میں کوفت بھرنے انداز میں ادھر بڑھ گیا۔مجھے یقین تھا راجپوت نے ایک بات پھر میراشکریہ ادا کرنے کوملنے کی تمنا کی تھی۔
دونوں دادا خوش گوار موڈ میں شراب نوشی میں مصروف تھے۔راجپوت اٹھ کر مجھ سے بغلگیر ہوا۔
”راجا ذیشان!ایک بار پھر دھنے واد۔اور رندھیر شکلا کو بلیک میل کرنے کا اہم مواد تمھیں کرن چاولہ سے ملے گا، اس نے شکلا کے بارے ایسی ایسی دستاویزات اکٹھی کر رکھی ہیں جنھیں شکلا صاحب کبھی منظر عام پر نہیں آنے دے گا۔تمام معلومات اس کے دفتر کی تجوری میں محفوظ ہیں ۔یہ اطلاع چند دن پہلے مجھے کرن چاولہ کے خاص الخاص آدمی سے ملی ہیں ۔ارادہ تھا شکلا صاحب کو مطلع کرو ں گا مگر موقع نہ مل سکا۔ اور ان سے ملاقات سے پہلے یہ حادثہ ہو گیا۔“
میں نے امید ظاہر کی۔”کیا اب بھی یہ خبر اپنے تک محدود رکھو گے۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔“
میں طعنہ زن ہوا۔”گویا شکلا کے سچے خیر خواہ ہو۔“
”اسے نہ بتانے میں تمھارا کیا فائدہ؟....یا تم کرن چاولہ پر ہاتھ ڈالنے کا سوچے ہوئے ہو۔“
”وہ میرا درد سر ہے۔“
اس نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔”ڈر رہے ہو کہیں کرن کو آگاہ نہ کر دوں ۔“
میں متبسم ہوا۔”اگر ایساہوتا تو تمھیں بچانے کودھرموداداسے تکرار نہ کرتا۔تمھارے بھائی وشال گپتا کی گردن اتار دیتااورتمھارے محافظوں میں ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑتا۔یاد رکھنا میں اصولوں پر سودا بازی نہیں کیا کرتا۔کسی بے گناہ کی جان لینامیرے نزدیک سب سے بڑا گناہ ہے۔اور احسان کر کے بدلہ چاہنے والاتاجر ہے جو اپنی نیکی کابھاﺅ چاہتا ہے۔“
”یاد رہے،کرن چاولہ کے دفتر کی تجوری کھولناعام آدمی کے لیے بالکل ناممکن ہے۔ کوئی ماہر قفل شکن ڈھونڈ کے ہی ادھر کا رخ کرنا ورنہ پکڑے جاﺅ گے۔“اس نے میری پیٹھ تھپکی۔”بھگوان تمھاری رکھشا کرے۔“ اور دھرمو کی طرف متوجہ ہوکر کہا۔”چلنا چاہیے۔“
دھرمو دادا نے اپنے دو ساتھیوں کو راجپوت کے ساتھ جانے کی ہدایت کی۔باہر نکلنے سے پہلے انھوں نے راجپوت کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔اسے چھوڑنے کا مقصد اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا ہرگز نہیں تھا۔ البتہ امید یہی تھی کہ اب ان کے درمیان پہلے والی دشمنی نہ رہتی۔
میں اپنے کمرے میں آکر لیٹ گیا۔پورا دن اور آدھی سے زیادہ رات بے آرامی میں گزر گئی تھی۔ اب جسم آرام کا طلب گار تھا۔مخصوص حالات میں میں اڑتالیس ،اڑتالیس گھنٹے مسلسل جاگ کراور حرکت میں رہ کر گزار چکا تھا۔ضبط وبرداشت کرنا ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ موقع ملنے پر آرام نہ کرنا؛ کسی قاعدہ قانون میں آتا ہے نہ اس کی سکھلائی یا ترغیب دی جاتی ہے۔
بستر پر لیٹتے ہوئے حسب معمول پلوشے اپنے ناز و اداکے جلوﺅں کے ساتھ آنکھوں کے سامنے آدھمکی۔کبھی کبھار دل میں شدت سے خواہش اٹھتی کہ اسے گھنٹی کروں ،اس کی آواز سنوں آیا اب بھی خفا ہے یا تین چار مہینوں کی دوری نے سرد مہری کو حرارت میں تبدیل کر دیا ہے۔مگر پھر انصاری صاحب کاحکم یاد آجاتا، انھوں نے سختی سے اور بار بار تاکید کر کے گھر گھنٹی کرنے سے منع کیا تھا۔
”تم دونوں نے کسی بھی صورت،کسی بھی حالت،کسی بھی وجہ سے پاکستان کال نہیں کرنا۔صرف ایک صورت میں گھنٹی کر سکتے ہو کہ اپنی موت کا سو فیصد یقین ہو جائے تب مضائقہ نہیں ۔اگر عشاریہ ایک فیصد بھی بچنے کا امکان ہو تو یہ غلطی نہ کرنا۔“
اب دونوں میں سے ایک ہی بچا تھا۔دوسرا خالق حقیقی کے پاس پہنچ گیا تھا۔رابطے کا ذریعہ ہونے کے باوجودبات نہ کرنا بھی بہت بڑی آزمائش تھی۔اپنی مثال مجھے صاحب حیثیت روزہ دار کی سی لگتی کہ جس کے پاس شرب و طعام (کھانے پینے)کی ہر نعمت موجود ہونے کے باوجود وہ اذانِ مغرب کا منتظر ہوتاہے۔نجانے میری افطاری کب ہونا تھی کہ سماعتیں اپنی پلوشے کی مدھر ،رس بھری اور موہنی آواز سننے کی سعادت حاصل کرتیں ۔ وہ دل کی گہرائیوں سے مجھے چاہتی تھی۔اور یقینا انڈیا آنے کو اس نے میراجھوٹ اور اسے ورغلانے کی جذباتی دھونس سمجھا تھا۔ورنہ ممکن ہی نہ تھا کہ اس کا دل نہ پسیجتا۔
اسے یاد کرتے ہوئے آہستہ آہستہ میرا دماغ غنودگی میں ڈوب گیااور میں ایسی دنیا میں پہنچ گیا جہاں وہ اب تک میرے ہمراہ تھی۔نجانے محبوب کا پھولوں سے کون سا قریبی تعلق و نسبت ہے کہ وہ اکثر سبزہ زار اور پھولوں کے درمیان ہی متحرک نظر آتی۔اس کے خوب صوت رقص اور نازوادا سے میں زیادہ دیر محظوظ نہیں ہو سکا تھا۔دروازے پر زوردار دستک ہوئی ،ایک سنائپر کی نیند اتنی گہری نہیں ہو تی کہ پہلی دستک پر نہ جاگے۔میری چھٹی حس نے کسی نامعلوم خطرے کی نشان دہی کی،وہ خیر کی دستک نہیں لگ رہی تھی۔
میرے مسہری سے اترنے سے پہلے دروازہ دوبارہ بجنے لگا،ساتھ ہی دھرمو دادا کے آدمی وناش مہتا کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔”ذیشان صاحب....ذیشان صاحب۔“
میں نے زقند بھر کر دروازہ کھولااور بے تابی سے پوچھا۔”کیا ہوا؟“
وہ تیز لہجے میں بولا۔”فی الفور یہ ٹھکانہ چھوڑنا ہوگا۔دھرمو دادا صحن میں آپ لوگوں کا منتظر ہے۔“
میں سوال جواب میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لورا کے کمرے کی طرف بھاگا،اسے مطلع کر کے میں نے تیار ہونے میں تین چار منٹ سے زیادہ دیر نہ لگائی۔یوں بھی ہمارے پاس ایس آر ون کے بیگ اور دو تین جوڑے کپڑوں کے علاوہ سمیٹنے کو کچھ نہ تھا۔
میں اور لورا قریباََ ایک ساتھ اپنے کمروں سے برآمد ہوئے۔حویلی کے صحن میں کھلی چھت کی دوجیپیں اور ایک کار اسٹارٹ حالت میں تیار کھڑی تھیں ۔ہم کار میں بیٹھ گئے۔میں درمیان میں تھا ،دھرمو دادا اور لورا میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے۔گاڑیاں تیز رفتاری سے حویلی سے نکل آئیں ۔
”کیا ہوا؟“حویلی سے نکلتے ہی میں دھرمو دادا کی طرف متوجہ ہوا۔
دھرمو بولا۔”راجپوت دادا نے اطلاع دی ہے کہ یہاں ایجنسی کا چھاپہ پڑنے والا ہے۔“
میں متعجب ہوا۔”مگر کیسے؟....راجپوت دادا کی تو آنکھیں بند کر کے یہاں سے لے گئے تھے۔“
دھرمو دادا نے منہ بنایا۔”میں نے کب کہا ہے راجپوت دادا نے مخبری کی ہے۔“
”پھر ایجنسی والوں کویہاں کا پتا کیسے چلا؟“میری حیرانی برقرار رہی۔
دھرمو تفصیل بتانے لگا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ ....راجپوت دادا کی بیوی نے اپنے دیور وشال گپتا کو شوہر سے ہونے والی آخری گفتگو سے مطلع کیا، وشال گپتا نے شکلا اور کرن چاولہ سے بات کی۔تبھی دھرمو کے موبائل فون نمبر کا تذکرہ ہوااور انھوں نے موبائل فون نمبر کے ذریعے ہمیں تلاش کر لیا۔دھرمو کو اندازہ نہیں تھا کہ دشمن ہماری تلاش میں اس حد تک جا سکتے تھے۔چونکہ عام غنڈوں کی آپس کی لڑائیوں میں موبائل فون نمبر کے ذریعے دشمن کوڈھونڈنے کا نہ تو رواج ہے اور نہ غنڈوں کے پاس ایسی سہولیات موجود ہیں ۔مگر وہاں روایتی غنڈوں کی جگہ ”را“ نے لے لی تھی۔اور ان کے پاس انڈیا کی حد تک لامحدود وسائل تھے۔شکلا کا براہ راست ”را“ سے تعلق نہیں تھا،مگر اس کے روابط بہت اونچی سطح تک تھے۔اوربلاشبہ شکلا اور کرن چاولہ اتنی تگ و دو،میرے اور لورا کے لیے کر رہے تھے۔بلکہ اصل ہدف لورا براﺅن تھی۔شکلا جیسے جنسی بھیڑیے کے لیے لورانہ صرف عیش و عشرت کا سامان تھی بلکہ دولت کے پجاری کو ایس آر ون رائفلیں بھی چاہیے تھیں ۔ایک پاکستانی جس پر جاسوس ہونے کا الزام تھااس کی اہمیت بھی گو کم نہ تھی مگر پہلا نمبر تو دولت کا ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے جاسوس تو دونوں ممالک آئے روز پکڑتے رہتے ہیں ۔
ہمارا رخ ممبئی کے بجائے کسی اور جانب تھا۔کیوں کہ ممبئی کا رخ کرنے پر راستے میں دشمن سے ٹکراﺅ ممکن تھا۔ سفر گھنٹا بھر جاری رہا۔علاقہ ان دیکھا تھا،اس لیے کوئی اندازہ نہ تھا کہ رخ کدھر کو ہے۔سفر کا اختتام ایک آبادی پر ہوا۔خیر ممبئی کا مضافاتی علاقہ دور دور تک مختلف قانونی و غیر قانونی آبادیوں سے اٹا پڑا ہے۔خالی جگہ کم ہی نظر پڑتی ہے۔غیر ترقی یافتہ گاﺅں کے بیچوں بیچ ایک درمیانہ سا مکان تھا جس میں تین ہی کمرے تھے۔وہ دھرمو دادا کے ایک کارندے منیش کامکان تھاجہاں اس کی بیوی اپنے دو بچوں کے ساتھ موجود تھی۔اس کی بیوی ، بچوں اور لورا کو ایک کمرے میں کر دیا اور باقی دو کمروں میں ہم برابر تقسیم ہو کر ٹھہر گئے۔اتنی چارپائیاں موجود نہیں تھیں کہ تمام کو کافی ہوتیں ،فرش پر چٹائیاں بچھا کر سبھی نیچے ہی لیٹ گئے تھے۔ہم طلوع آفتاب سے چند لمحے پہلے ہی وہاں پہنچے تھے۔دوپہر تک بے خبر سوئے رہے۔اٹھ کر باری باری تازہ دم ہوئے،اتنی دیر میں کھانا تیار ہو گیا تھا۔
کھانے کے بعد وہ کسی مستقل رہائش کا بندوبست کرنے کا سوچنے لگے۔کیوں کہ دھرمو دادا کے سبھی اڈے تو ایجنسیوں کی نظر میں تھے۔اور اس چھوٹے سے مکان میں بھی مستقل قیام ممکن نہ تھا۔
میں ان کی گفتگو میں مخل ہوا۔
”دھرمو دادا!بہتر ہو گا”را “سے ٹکر نہ لو۔انڈیا میں رہ کر را کے مفادات سے ٹکرانا ایسا ہے گویاپانی میں مگر مچھوں کے جھنڈ سے مقابلہ کرنا۔پولیس،فوج،ایجنسیاں ،نیم سرکاری ،سول ادارے یہاں تک کہ راجپوت جیسے دادا بھی تمھارے خلاف صف آراءہو جائیں گے۔“
وہ مستفسر ہوا۔”کہنا کیا چاہتے ہو؟“
میں نے وضاحت کی۔”ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔“
اس نے نفی میں سرہلایا۔”تم نے دھرمو کے ظرف کا غلط اندازہ لگایا ہے۔“
میں متبسم ہوا۔”میں اپنی حفاظت کو تم سے علیحدہ ہو رہا ہوں جناب!تمھارا ساتھ محفوظ نہیں رہا۔کیوں کہ تمھارے ایک کارندے کا پکڑا جاناہماری شامت لاسکتا ہے۔“
مجھے سوچتی ہوئی نظروں سے گھورتے ہوئے وہ مصر ہوا۔” یقین مانو صرف مسلم ہی مخلص نہیں ہوتے، ہندوﺅں میں بھی قربانی دینے والوں کی کمی نہیں ہے۔“
”اگر تمھارے جان دینے سے ہم بچ جاتے تو میں علیحدہ ہونے کا فیصلہ کبھی نہ کرتا۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ”را “تمھاری راہ پر لگ گئی ہے۔اور صرف تمھارا مخلص ہونا کافی نہیں ہے۔اپنے ہر آدمی کے خلوص کی یقین دہانی تم نہیں کرا سکتے۔اور بالفرض تمھارے سارے ساتھیوں کو مخلص مان بھی لیا جائے تو صرف ہمارے لیے یہ تمام کیوں پولیس و ایجنسیوں سے چھپتے پھریں ۔“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولا۔”جرم کی دنیا اپنانے والے کو سب سے پہلے روپوشی کی تربیت لینا پڑتی ہے۔“
”عام جرم اوردیش دروہی (وطن سے غداری)میں فرق ہے۔عام مجرم تھانے میں بیٹھ کر پولیس والوں سے گپ شپ کرتے ہیں اور پولیس کو مطلوب بھی ہوتے ہیں ۔“
وہ شاکی ہوا۔”تو کیا تم جاسوس ہو۔“
میں نے کہا۔”تمھاری سرکار یہی سمجھتی ہے۔اور بھارتی ناگر (بھارتی شہری)ہونے کے ناتے تمھارا بھی یہی فرض بنتا ہے کہ جو تمھاری سرکار سمجھتی ہے،تم بھی وہی مانو۔“
اس نے متنبہ کیا۔”کیوں اپنی مشکلات بڑھانا چاہتے ہو۔“
”یقین مانوتم سے علیحدہ ہو کر ہماری مشکلات میں کمی آئے گی۔ہمیں چھپنا بھی آتا ہے اور اپنی حفاظت بھی کر سکتے ہیں ۔باقی کبھی تمھاری مدد کی ضرورت پڑی تو تکلف نہیں کریں گے۔“
چند لمحے گہری سوچ میں کھوئے رہنے کے بعد اس نے اثبات میں سرہلایا۔”جیسا تم چاہو۔“
میں نے بے تکلفی سے مطالبہ کیا۔”ہمیں ایک برقع،کوئی ایسی کار جو تمھارے کسی مشہور بندے کے نام پر نہ ہواور تھنڈر بولٹ چاہیے۔“
اس نے تصدیق چاہی۔”تھنڈر بولٹ،وہی دور مار رائفل ہے نا۔“
میں نے اثبات میں سرہلادیا۔
اس نے مشورہ دیا۔”اگر اپنی ساتھی کو چھپانے کی غرض سے برقع درکار ہے، تو بہترہوگااس کا حلیہ تبدیل کردو۔“
میں نے خوشگوار حیرانی سے پوچھا۔”کیا یہ ممکن ہے؟“
وہ خوش دلی سے بولا۔”تمھارے گمان سے بھی بڑھ کر۔بھگوان کی کرپا سے روپ بدلنے کا ماہر (میک اپ والا)یہیں پر موجود ہے۔“
میں مسرت سے بولا۔”پھر نئی شکلوں کے مطابق ہمیں شناختی کاغذات بھی چاہیے ہوں گے۔“
”بے فکر رہیں ۔“اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
٭٭٭٭٭
شام تک ہمارا حلیہ تبدیل ہوچکا تھا لیکن شناختی کارڈ وغیرہ بننے کو ایک دن چاہیے تھا۔پاکستان کی طرح انڈیامیں بھی جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ بنانا نہایت آسان ہے بہ شرط جیب میں رقم اور تھوڑا بہت اثر رسوخ ہو۔بلکہ رقم اثر رسوخ سے بھی کئی گنا بڑھ کر ہے۔
لورا اب کالے بالوں والی، سانولے رنگ کی دوشیزہ کا روپ دھار چکی تھی۔اس کی ستواں ناک میں مخصوص سپرنگ ڈال کر نسبتاََ موٹا کر دیا تھا۔بھوری آنکھیں لینز سے سیاہ ہوگئی تھیں۔ بالوں میں سرسوں کا تیل چپیڑ کر چوٹی باندھی گئی۔ کھلی شلوار قمیص اور سرپر دوپٹا اوڑھ کر جب اس نے آئینے میں اپنی ہیئت کذائی دیکھی تو خوب قہقہے لگائے تھے۔اگراس کے آئینہ دیکھنے سے پہلے تصویر نکال کر اسے دکھائی جاتی تو وہ خود کونہ پہچانتی۔میرے حلیے میں بھی مناسب تبدیلی ہو گئی تھی۔
بہروپ کے ماہر سے ہم نے جلد کا رنگ تبدیل کرنے والے دو تین اقسام کے لوشن ،مختلف رنگ کے آنکھوں کے عدسے، دو تین وگیں ،نقلی داڑھی مونچھ ، ناک میں ڈالنے کے مخصوص اسپرنگ ،مصنوعی جبڑے اور چند دوسری چیزیں لے لیں جو ہم خود استعمال کر کے اپنا حلیہ تبدیل کر سکتے تھے۔اس ماہر نے گھنٹے ڈیڑھ میں ہمیں اس قابل کر دیا تھا کہ اپنے چہرے میں مناسب تبدیلیاں لا کر اصلیت چھپا لیتے۔ ان لوازمات کے نام وغیرہ بھی میں نے ذہن نشین کر لیے کہ یہ چیزیں جاسوس کی زندگی کے لیے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتی ہیں ۔نہ جانے انصاری صاحب نے اس متعلق کیوں دھیان نہیں دیا تھا۔شاید ان کے نزدیک ہم اس کام سے پہلے سے واقف تھے۔
دھرمو نے میری تمام ضروریات پوری کردی تھیں اور آئندہ رابطے کو چند نمبر بھی بتلائے جو میں نے ذہن نشین کر لیے تھے۔شناختی کاغذات کے مطابق میرا نام انوپ مشرا اور لورابراﺅن کا کویتا پٹیل تھا۔
جانے سے پہلے میں نے تاکید کی۔
”اب چھپنا چھوڑو اور کسی اڈے پر چلے جانا۔ہماری شناخت سے لا علمی کا اظہار کرنا بہتر رہے گا۔کہنا ہم خود تمھارے پاس آئے تھے اور راجپوت دادا کو پکڑنے کی شرط پر تم سے معاہدہ ہواتھا۔ مقابلے کی کوشش کرنا بے وقوفی ہو گی۔تمھارے ساتھی ہماری اصلیت سے یوں بھی ناواقف ہیں ۔امید ہے چند دن کی تفتیش کے بعد تمھیں چھوڑدیں گے۔خواہ مخواہ کا درد سر مول لینا یقینا انھیں گوارا نہ ہوگا۔“
وہ مسکرایا۔”پِتاجی(ابوجان )بننے کی کوشش نہ کرو۔میں ان ایجنسیوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوں ۔تم سے جان چھوٹنے پر انھیں سنبھالنا مشکل نہ ہوگا۔“
میں جوابی قہقہے کے ساتھ بغلگیرا ہوا۔ طلوع آفتاب کے ساتھ ہم نکل آئے۔دھرمو دادا نے ایک پرانی ٹیکسی ہمارے حوالے کی تھی۔جو اسی گاﺅں میں کسی سے خریدی تھی۔ ڈگی میں اپنا سامان بھر کر ہم چل پڑے۔میں نے لورا کو خاموش رہنے کی تاکید کی تھی کہ اب اس کی پہچان زبان کھولنے سے ہونا تھی ورنہ اس کی شکل بالکل ہی تبدیل ہو گئی تھی۔
ممبئی زیادہ دور نہیں تھا،لیکن اس شہر کی آبادی اتنی گنجان ہے اور شہر نے اتناپھیلاﺅ اختیار کر لیا ہے کہ اندرون شہر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جانے پرگھنٹوں لگ جاتے ہیں ۔وقت کی کمی نہیں تھی کہ تیزی کرتے۔ حلیہ ہمارا ایسا تھا کہ نگاہوں کا مرکز نہیں بن سکتے تھے۔دو تین جگہوں پر پولیس والوں نے روکا مگر بابا قائد اعظم کی طرح ان کے عینک والے بابا، مہاتما گاندھی کی تصویر میں بھی بڑی طاقت چھپی ہے۔سو روپے کے نوٹ نے پولیس والے کی درشتی خوشگوار مسکراہٹ میں تبدیل کر دی تھی۔ٹیکسی کے کاغذات جانچنا تو درکنار انھوں نے ہمارا نام پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔
اس بار رہائش کو میں نے ایک ساحلی بستی میں چھوٹی سے کھولی ڈھونڈی تھی۔ایک کمرہ،بیت الخلائ، مختصر سا صحن اسی میں رسوئی (باورچی خانہ)بنی تھی۔وہ ایساعلاقہ تھاجہاں ننگ دھڑنگ بچے بچیوں کی بہتات تھی۔جگہ جگہ گندا پانی کھڑاتھا،غلاظت پھیلی تھی۔لورا نے ناک بھوں چڑھائی۔ مجھے اس کی طبیعت صاف کرنا پڑی۔
”اگر زیادہ ہی عیش و آرام اور سہولتوں کا شوق ہے تو شکلا کی خواب گاہ بہتر رہے گی۔“
وہ برہم ہوئی۔”ریجا کے منہ سے بکواس نہ نکلے،ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔“
میں نے جھڑکا۔”انڈیا میں اپنی موجودی کی وجہ پر غور کرنے کے بعد ہی منہ کھولا کرو۔“
اس نے منہ بنایا۔”اس غلیظ جگہ کے علاوہ بھی چھپنے کو کئی مقام ہوں گے۔“
میں نے کھولی میں نظریں دوڑاتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔”تو ڈھونڈ لو۔“
وہ دھمکانے والے انداز میں بولی۔”تمھارے بار بار کے طعنوں سے تنگ آکر میں کسی دن سچ مچ علیحدہ ہو جاﺅں گی۔“
میرا قہقہ بلند ہوا۔”کیا لگتا ہے مجھے کوئی فرق پڑے گا۔“
زبان نکال کرمیرا منہ چڑاتے ہوئے اس نے بدبودار و میلے کچیلے بستر کو لپیٹ کر نیچے پھینکا۔ ”اس غلاظت پر سونے سے بہتر ہے میں گرفتاری دے دوں ۔“
”روکا کس نے ہے۔“
وہ شاکی ہوئی۔”تم نئے بستر بھی نہیں خرید سکتے؟“
میں اطمینان سے بولا۔”سارا پیسا تمھارے علاج پر خرچ ہو گیا ہے۔“
وہ طعنہ زن ہوئی۔”شاید احسان جتانے کے علاوہ تمھیں کچھ نہیں آتا۔“
میں ترکی بہ ترکی بولا۔”اور تمھاری زبان شکوے شکایت کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتی۔“
وہ تلملاتے ہوئے بولی۔”نئے بستر لانے ہیں کہ نہیں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”بستر تو لے دوں گا،البتہ یہ ناز نخرے ہونے والے شوہر کو دکھانا۔“
وہ مجھے برہمی سے گھور کر رہ گئی تھی۔میں مسکراتے ہوئے باہر نکل آیا۔ایس آر ون اور تھنڈر بولٹ میں نے ٹیکسی کی ڈگی میں قفل کر دی تھیں ،تاکہ حادثاتی طور پر بھاگنے کی صورت میں انھیں نہ سنبھالنا پڑے۔ٹیکسی کی ظاہری حالت اتنی گئی گزری تھی کہ کوئی اسے چرانے کی حماقت نہیں کر سکتا تھا۔
بازار قریب ہی تھاآدھے گھنٹے میں میں نئے کمبل،بسترکی چادریں اورتکیے اور ٹی وی وغیرہ خرید لایا تھا۔دو چارپائیوں پر نئے بستر بچھا کر ہم دروازہ اندر سے کنڈی کر کے لیٹ گئے۔اب اگلا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ میں شکلا کو ڈھونڈ کر قتل کرنے پر مصر تھا اور لورا پہلے اس سے رقم بٹورنے کی متمنی تھی۔
”ریجا ،مجھے پیسوں کی ضرورت ہے۔اس سو¿ر کی سزا صرف موت نہیں بنتی۔اسے میری بربادی کا بھی حساب دینا ہوگا۔“
”تمھاری بربادی کی سزا تو اس کی موت ہو گئی اور رقم کس خوشی میں وصول کرو گی۔“
”کیوں کہ مجھے اس نے سودے کو بلایا تھااور مکر گیا۔“
میں طنزیہ لہجے میں بولا۔”تم کون سا ایمان داری سے سودا کرنے آئی تھیں ۔“
وہ بپھرتے ہوئے بولی۔”تم میرے ساتھ ہو یا شکلا کے۔“
”میں عدل کے ساتھ ہوں ۔“
وہ استہزائی انداز میں بولی۔”ایک ملک کی سرحد غیر قانونی طور پر عبور کر کے اس کے رازوں کو چرانا عدل و انصاف کی کون سی قسم ہے۔“
”گو میں راز چرانے نہیں آیا،اگر آیا ہوتا تب بھی عدل کے منافی نہ تھاکہ ایسا اپنے ملک کی خاطر کیا جاتا ہے۔ورنہ سرکاری رازوں کا کسی عام بندے نے اچار تھوڑی ڈالنا ہوتا ہے۔“
وہ خفگی سے بولی۔”روزانہ کی چوں ....چوں سے بہتر ہے مجھے اکیلاہی چھوڑ دو۔“
میں شرارتی لہجے میں بولا۔”چھوڑ دیتا،بس ڈیٹ کا لالچ روکے ہوئے ہے۔“
وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔”ریجاایک بات یقینی ہے،تم نے مرنا میرے ہی ہاتھوں ہے۔“
”شکلا کے بعد ہی نمبر لگانا ورنہ اکیلی رہ جاﺅ گی۔“
وہ برجستہ بولی۔”تمھارے رویے سے تو ایسا نہیں لگتا کہ شکلا کی باری پہلے آئے گی۔“
جاری ہے
 

قسط نمبر 40
ریاض عاقب کوہلر
اگلے تین چار دن ہم نے اسی کھولی میں گزارے۔حالات حاضرہ سے با خبر رہنے کومیں نے ٹی وی سیٹ کر کے لگا دیا تھا۔تین چار دن بعد ہم نے کرن چاولہ کے دفتر کی نگرانی شروع کر دی۔ٹیکسی کی ڈگی میں سنائپر رائفلیں لے کر پھرنا خطرے سے خالی نہ تھا،مگر ہمارا حلیہ ایسا تھا کہ کسی کو شک نہیں ہو سکتا تھا۔یوں بھی ہماری کوشش یہی ہوتی تھی کہ ٹیکسی کسی پارکنگ میں کھڑی کر کے نگرانی کریں ۔ ہم لمبے مباحثے کے بعد لائحہ عمل طے کر چکے تھے۔کرن شکلا مشکل ہدف تھا۔اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہ تھا۔تبھی ہم کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
کرن چاولہ بہ ظاہردرآمدات،برآمدات(امپورٹ ایکسپورٹ) کے کاروبار سے منسلک تھا۔ کمپنی دفتر میں اس کی آمد بھی گاہے گاہے ہوتی اور وہ زیادہ دیر بیٹھتا بھی نہیں تھا۔صبح نو بجے اس کی آمد ہوتی۔گھنٹا ادھ وہاں بیٹھ کر غائب ہو جاتا۔میں نے اس کا تعاقب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی کیوں کہ بعید نہ تھا وہ تعاقب سے باخبر ہو جاتا،یوں ہمیں لینے کے دینے پڑ جاتے۔ممتا دیدی بھی دو تین بار نظر آئی تھیں ۔
منصوبہ سوچنے کے بعد ہم عمل کو تیار تھے۔پہلے مرحلے میں کرن چاولہ کے دفتر کے سامنے کوئی بلند مقام ڈھونڈنے کی ضرورت تھی۔اور اس کے لیے ہمیں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی کیوں کہ اس کے جوانب میں چند سو میٹر کے دائرے میں کئی اونچی عمارات موجود تھیں ۔ہم نے کئی عمارتوں کی قراولی (فوجی مقاصد میں کارروائی سے پہلے ہدف کی دیکھ بھال اور جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ منصوبے میں موجود کمیوں ،کجیوں اور خامیوں کو درست کیا جاسکے)کے بعد دو جگہوں کا چناﺅ کیا تھا۔ایک چھے منزلہ رہائشی عمارت تھی اس کی چھت سے ہم کامیاب کارروائی کر سکتے تھے۔دوسرا ہوٹل تھااس کی چوتھی،پانچویں ،چھٹی منزل اور چھت سے ہدف صحیح نظر آتا تھا۔اس کے علاوہ بھی کچھ عمارات کی چھتیں قابل استعمال تھیں مگر ہوٹل سب سے مناسب تھاکہ وہاں کسی مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔اور ایک سنائپر کو سب سے زیادہ یکسوئی کی ضرورت رہتی ہے۔تبھی باہم مشورے سے ہم نے ہوٹل کوچنا۔خالی کمرہ ہمیں چھٹی منزل پر مل سکا تھا۔اگلے دن ہم کارروائی کو تیار اورایس آر ون کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں موجود تھے۔رائفل جوڑ کر میں نے کھڑکی پر لگائی اور شیشہ کھول کر بیٹھ گیا۔میں نے زمین پر لیٹنے کے بجائے کرسی پر بیٹھنے کو ترجیح دی تھی۔کیوں کہ کھڑکی فرش سے بلند تھی۔کرن چاولہ کو ہم نے پارکنگ میں گھیرنے کا منصوبہ بنایا تھا کیوں کہ دفتر میں جانے کے بعد میں اس کی بے خبری میں اسے نشانہ بنا سکتا تھالیکن اس پر دھونس نہیں جما سکتا تھا۔البتہ پارکنگ کم از کم اتنی وسیع ضرور تھی کہ وہ بھاگ نہیں سکتا تھا۔پارکنگ کا ہوائی فاصلہ ساڑھے سات سو میٹر تھا۔اور اتنے فاصلے پر ایس آر ون کے ساتھ میں کسی بھی شخص کی کھوپڑی تو کجاآنکھ کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
مکمل تیاری کے بعد لورا براﺅن دوربین سے کرن چاولہ کے دفتر کا جائزہ لینے لگی۔میں نے سپاٹر اسکوپ اٹھا لی۔(سپاٹر اسکوپ کو بھی ایک طرح کی دوربین سمجھ لو)
لورا بڑبڑانے کے انداز میں بولی۔”آدھا گھنٹاباقی ہے۔“
میں نے کہا۔”وقت کا بڑاپابند ہے کم بخت۔“
وہ فلسفیانہ انداز میں بولی۔”یہ پابندی کبھی کبھار نقصان دہ بھی ثابت ہوتی ہے۔کیوں کہ دشمنوں کومنصوبہ بنانے میں آسانی ہوتی ہے۔“
میں ہنسا۔”وقت کی پابندی نہ کرنے والا بھی دشمنوں سے بچ نہیں سکتا۔منصوبہ بنانے والے سب سے پہلے ہدف کی عادات و روزمرہ جانچتے ہیں اور اسی کے مطابق منصوبہ ترتیب دیتے ہیں ۔“
اس نے کہا۔”تمھیں خواہ مخواہ نشانہ بازی کا شوق چڑھا ہے ورنہ رات کو اس کے دفتر کی تلاشی لی جا سکتی تھی۔“
میں صاف گوئی سے بولا۔”پہرے داروں سے نبٹ لیتے مگرتجوری کھولنا اتنا آسان نہیں ہے،تبھی مجھے یہ منصوبہ سوچنا پڑا۔“
لورا نے شرارت سے کہا۔”خطرے کا سامنا تو مجھے ہی کرنا پڑے گا نا۔“
میں نے پیش کش کی۔”یہ ذمہ داری سنبھالو،تمھاری جگہ میں چلا جاﺅں گا۔“
”شاید خود کو مجھ سے بہتر سنائپر سمجھ رہے ہو اور میں تمھاری غلط فہمی دور کر سکتی ہوں ۔“
میں نے منہ بنایا۔”میرا خیال ہے ذمہ داریاں ہم نے مل کر بانٹی تھیں ۔“
تکرار سمیٹتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھی۔”پندرہ منٹ رہ گئے ہیں اور میرا خیال ہے جانے کا وقت ہو گیا ہے۔“
اس کے باہر نکلتے ہی میں نے دروازہ اندر سے قفل کیااور اپنی جگہ سنبھال لی۔سنائپر وں میں ایک یکساں عادت یہ ہوتی ہے کہ شکار کی آمد سے بہت پہلے مورچہ سنبھال لیتے ہیں ۔کسی مجبوری کی وجہ سے گھات میں بیٹھنے میں دیر ہو جائے تو علیحدہ بات ہے ورنہ کئی کئی گھنٹے ہدف کے انتظار میں لیٹے گزار دیتے ہیں ۔ کیوں کہ ہدف کی ذرا سی بے قاعدگی سے سارا منصوبہ چوپٹ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یوں بھی سنائپر کا ہدف ہمیشہ خصوصی شخصیت ہوتی ہے۔اور ایسے اہم افراد کے خلاف کارروائی کا موقع بار بار نہیں ملتا۔
جلد ہی لورا پارکنگ کے قریب پہنچتی نظر آئی۔اس وقت اس نے عارضی طور پر بہروپ ختم کر دیاتھا کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کرن چاولہ کو اس کے بدلے ہوئے حلیے سے واقفیت ہو۔البتہ چہرے پر اس نے ماسک ضرورپہن لیاتھا۔لیکن ماسک کی وجہ سے بہ مشکل آدھا چہرہ ہی چھپ رہا تھااور بعید نہ تھا کہ کرن چاولہ جیسا شاطر اسے پہلی نظر میں نہ پہچان پاتا۔مگر اسے چھپنے کی ضرورت ہوتی تو وہ اصل حلیے میں نہ آتی۔
میں شرارت سے بولا۔”دور سے کافی پرکشش دکھتی ہو۔“
”کیا یہ وقت ایسی باتوں کا ہے۔“اس کی خفگی بھری آوازمیرے کانوں میں پہنچی۔ہمارا رابطہ وائرلیس سیٹ کے ذریعے قائم تھا۔وائرلیس کی بلند آواز کو چھپانے کو ہم نے”ایئر فون “لگائے ہوئے تھے۔متبادل ذریعہ ہمارے موبائل فون تھے۔
میں ہنسا۔”چلو تمھی بتادو ایسی باتوں کا وقت کون سا ہوتا ہے۔“
وہ تپتے ہوئے بولی۔”ابھی تمھارے قریب موجود تھی تب بکواس کرتے ناں ،تاکہ اچھی طرح طبیعت صاف کرتی۔“
”کہا تو ہے دور سے اچھی لگ رہی ہو،قریب سے تو بھوتنی لگتی ہو۔“
وہ برہم ہوئی۔”تمھیں ایسے موقعوں پر اتنی بکواس کیسے سوجھ جاتی ہے۔“
میں سپاٹر سائیٹ سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔وہ پارکنگ کے دروازے پر پہنچ چکی تھی۔وہ کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں تھی۔اس کے چلنے کا انداز اور رکھ رکھاﺅ ایسا نہیں تھا کہ چوکیدار تعرض کرتا۔اور پھر اس کا یورپین ہونا تو سونے پر سہاگا تھا۔
دروازے میں داخل ہوتے وقت اس نے گھڑی دیکھی،غیر ارادی طور پر میری نظریں بھی اپنی کلائی کی طرف اٹھ گئی تھیں ۔کرن چاولہ کی آمد میں ایک دو منٹ ہی باقی تھے۔وہ ٹھیک نو بجے یا ایک دو منٹ کے فرق سے وہاں پہنچ جاتا تھا۔
لورا دھیمے قدموں سے چلتے ہوئے پارکنگ سے دفترکی عمارت کو جانے والے رستے پر چلتے ہوئے سیڑھیوں تک پہنچی اور پھر واپس مڑ گئی۔اسی دم کرن چاولہ کی کالے رنگ کی کار پارکنگ میں داخل ہوئی۔
سپاٹر اسکوپ نیچے رکھ کر میں ایس آر ون کے پیچھے بیٹھ گیاتھا۔رائفل کا بٹ دائیں کندھے میں دبا کر میں ٹیلی اسکوپ سائیٹ کے عدسوں سے غلاف(کور)ہٹائے ،ایک نظر ایلیویشن اور ڈیفلیکشن ناب کا جائزہ لے کر رینج کی درستی کی تصدیق کی اور پھربائیں آنکھ بند کر کے دائیں گال کو بٹ پر ٹیک دیا۔اب میں فائر کرنے کو تیار تھا۔لورا کی کال میرے موبائل فون پر موصول ہوئی۔کال وصول کرکے میں نے ”ہینڈ فری“ کان میں لگالیا۔وائرلیس سیٹ پر بات کرنے والے کو بٹن دبانے کی زحمت کرنا پڑتی ہے تبھی اس نے موبائل فون پر کال کی تھی۔
کار پارک کر کے وہ باہر نکلا۔مخصوص”کی چین“کا بٹن دبا کر اس نے کار قفل کی۔اور دفتر کی طرف بڑھا۔لورا اس کے انتظار میں تھوڑادور رک گئی تھی۔چند قدم لیتے ہی اس کی نظریں لورا کی طرف اٹھیں ،وہ ٹھٹک کر رکااور ایک دم ہولسٹر سے پستول اس کے ہاتھوں میں منتقل ہوگیاتھا۔اس کی حرکات و سکنات میں چیتے کی سی پھرتی اور عقاب کی سی تیزی تھی۔بلاشبہ وہ سخت حریف تھا۔
اس کا استہزائی قہقہ بلند ہوا۔”واہ!جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں ، زمینوں میں ....وہ تو خود چل کر میرے پاس پہنچ گئی۔“یہ اس نے باآواز بلند کہا تھا۔بالکل ہلکی سی آواز میرے کانوں تک پہنچی تھی۔
میں کسی ایسے ہی لمحے کا منتظر تھا۔بغیر وقت ضائع کیے اس کے پستول پر شست سادھی اور لبلبی دبا دی۔ گولی نے ہدف کو چھونے میں ایک لمحہ نہیں لگایا تھا۔زوردار جھٹکے سے پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گرا تھا۔
لورا ہنسی۔”مسٹر!تم اس وقت ایس ایس کے نشانے پر ہو۔ایک قدم بھی آگے ،پیچھے کیا تووہ زندگی کی آخری حرکت ہو سکتی ہے۔“
کرن کا سر گھومااور نظریں ہوٹل کی عمارت کی طرف اٹھیں ۔اس نے اطمینان بھرے انداز میں کچھ پوچھا،مگر آواز میرے کانوں تک نہیں پہنچی تھی۔
”یہ جان کاری تمھارے کس کام کی۔“لورا کی آواز مجھے واضح سنائی دی تھی۔
اسی وقت ایک کار پارکنگ میں داخل ہوئی۔مگرمیرا پورا دھیان کرن پر تھا۔وہ شاطر کوئی چال بھی چل سکتا تھا۔میں نے لورا براﺅن کو اس سے فاصلہ رکھنے کی تاکید کی تھی کیوں کہ وہ اسے یرغمال بنانے کی کوشش کر سکتا تھا۔
کرن نے پھر کچھ پوچھا۔مگرمجھے آواز سنائی نہیں دی تھی۔لورا نے موبائل فون اس کی جانب اچھالا۔
”یہ لو خود بات کر لو۔“
موبائل ہوا میں پکڑتے ہوئے اس نے کان سے لگایااور بغیر کسی تمہید کے بولا۔”تمھیں اپنی دیدی کے مشورے پر عمل کر لینا چاہیے تھا۔“
”کرن چاولہ!تم چند لمحوں کے مہمان ہو،کوئی آخری خواہش۔“میں نے اسے ڈرانے کی کوشش کی۔ مگر وہ شاطر اتنی جلدی سے میرے جال میں نہیں آسکتا تھااطمینان سے بولا۔
”یہی بتانے کو اپنی محبوبہ کو خطرے میں جھونکا ہے۔“
”ہاں ، کیوں کہ مارنے سے پہلے باور بھی کرانا تھا کہ تم کس کے ہاتھوں انجام کو پہنچ رہے ہو۔“
وہ بے خوفی سے بولا۔”تمھاری دیدی تمھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔“
میں نے صفائی سے جھوٹ بولا۔”کون سی دیدی اور کہاں کی بہن۔ایک مطلب پرست ،خود غرض لڑکی میری بہن نہیں ہو سکتی۔“
”احسان فراموش اس کی وجہ سے تمھیں فرار کا موقع ملا ہے۔“
”اس کی وجہ سے کیسے؟“میں نے حیرانی ظاہر کی۔
” مُورکھ(نادان) تمھاری محبت میں اتنی اندھی تھی کہ اسے پتا ہی نہ چلا تم نے کب اس کے بالوں سے چمٹی نکا لی۔اس کی خوش قسمتی کہ اس بات سے صرف میں واقف ہوں ورنہ اب تک اپنے کیرئر کو تباہ کر چکی ہوتی۔“ کرن چاولہ یقینا ہمارے فرار کی وجہ تک پہنچ گیا تھا۔
میں ہنسا۔”گویا تم تسلیم کرتے ہو کہ ایسا اس کی لاعلمی میں ہوا۔پھر احسان کاہے کا؟“
”ریجا کام خراب ہو گیا ہے۔“وائرلیس سیٹ سے لورا کی گھبرائی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔
”کیا ہوا۔“میں نے فون کا رابطہ کاٹے بغیر پوچھا،کیوں کہ کرن چاولہ تک لورا کی آواز نہیں پہنچ سکتی تھی۔لیکن لورا کے جواب دینے سے پہلے میرے کانوں میں ایک اور آواز پڑی۔
”راہی!یہاں کیوں رکے ہو۔“اچانک ہی میرے سر پر بم پھوٹا تھا۔وہ ممتا دیدی کی آواز تھی۔ کرن چاولہ کا اصل نام روہن تھا۔عام لوگوں کے لیے وہ کرن چاولہ اور ممتا دیدی کے لیے روہن گجرال تھا۔
کرن چاولہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”تمھارے راج کے نشانے پر ہوں ۔“
” سمجھی نہیں ۔“انھوں نے حیرانی سے کہا۔وہ بالکل کرن کے قریب کھڑی تھیں تبھی ان کی آوازمیری سماعتوں تک بھی پہنچ رہی تھی۔اسی دوران ان کی نظر چند قدموں کے فاصلے پر موجود لورا پر پڑی۔
”اوہ تو یہ بھگوڑی بھی یہاں موجود ہے۔“
”سنی!تمھارا راج ہوٹل میں بیٹھ کر مجھ پر نشانہ سادھے ہوئے ہے۔“یقیناکرن نے اس کے نام سنیتا کا اختصار کیا تھا۔
”کیا؟“کرن کی نگاہوں کے تعاقب میں اس نے گردن ہوٹل کی کھڑکی کی جانب موڑی اور فوراََ اسے اپنی آڑ میں لے لیا۔ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے فون جھپٹ کر کان سے لگایا۔”راج سچ میں تم ہو؟“
میں نے پھیکے لہجے میں دھمکی دی۔”دیدی ،بہتر ہو گا یہاں سے چلی جائیں ۔یہ نہ ہو مجھے غلط فیصلہ کرنا پڑ ئے۔“ممتا دیدی کی آمد ہمارے منصوبے پر پانی پھیرنے والی تھی۔
ان کی برہم آواز میرے کانوں میں پہنچی۔”گولی چلاﺅچھوٹے،دھمکیاں کسے دے رہے ہو۔“
میں نے سخت لہجے میں کہا۔”دیدی ! آخری بار تنبیہ کر رہا ہوں ،میرے دشمن کے سامنے سے ہٹ جاﺅ، ورنہ پچھتانے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔“
”اوے!بے حیا،بے شرم ،کمینے اپنی دیدی کو دھمکیاں دیتا ہے۔سامنے ہوتے تو چماٹیں مار مار تمھارا تھوبڑا لال کر دیتی۔وڈا سنائپر....چلاﺅ گولی،میں بھی دیکھوں کتنے نشانہ باز ہو۔“
”سنی،مجھے بات کرنے دو۔“کرن چاولہ نے اس سے موبائل لینے کی کوشش کی۔
”چھوڑوبات چیت کو،اسے گولی چلانے دو۔“ممتا دیدی بپھر گئی تھیں ۔یہ ان کا غصہ نہیں مجھ پر اندھا اعتماد بول رہا تھاکہ میں ان پر گولی چلانے کاحوصلہ نہیں کر سکتا تھا۔
میں نے رابطہ منقطع کرتے ہوئے لورا کو کہا۔”وہاں سے نکلنے کی کرو۔“
”کیا ہوا؟“وہ حیران رہ گئی تھی۔اسی دم موبائل فون پر کال آنے لگی۔ممتا دیدی، لورا کے موبائل فون سے کال کر رہی تھیں ۔میں نے ٹیلی اسکوپ سائیٹ سے اس کے چہرے پر نظریں دوڑاتے ہوئے کال وصول کی۔
”راج،فوراََ میرے پاس پہنچو۔تمھیں حکم دے رہی ہوں گرفتاری دے دو۔میں تمھیں بہ حفاظت پاکستان پہنچاﺅں گی۔اس گوری چڑیل کاساتھ دینا چھوڑدو........“
”دیدی!آپ کب تک کرن چاولہ کوبچائیں گی۔اور یاد رہے اگلی بار میں آپ پر بھی گولی چلانے سے نہیں رکوں گا۔“
”فضول کی بکواس بندکرواور جو کہہ رہی ہوں اس پر عمل کرو۔“اس کے نزدیک میری دھمکی کسی قابل نہیں تھی۔
میں نے کرن چاولہ کو موبائل فون کان سے لگاتے دیکھا۔یقینا یہ خطرے کی علامت تھی۔لورا براﺅن پارکنگ سے باہر آگئی تھی۔کرن چاولہ اسے روکنے کو ممتا دیدی کی آڑ سے نہیں نکل سکتا تھا۔نہ ممتا دیدی اسے چھوڑ کر لورا کو پکڑنے کی کوشش کر سکتی تھیں ۔میں رابطہ منقطع کیے بغیر سرعت سے رائفل کو سمیٹنے لگا۔وہاں رکنا خطرناک تھا۔گو ممتا دیدی کی موجودی کے باوجود میں کوشش کرتا تو کرن چاولہ کے کسی نہ کسی عضو کو نشانہ بنا لیتا،مگر ایسا کرنے کی صورت میں ممتا دیدی کو گولی لگنے کا خطرہ بہ ہرحال موجود تھا۔ منہ بولی سہی، بہن تو تھی۔اور بہنوں پر گولی چلانے والے انسان نہیں ہوا کرتے۔یوں بھی ہمارا مقصد کرن چاولہ کی ہلاکت نہیں تھی۔وہ را کا مخلص ایجنٹ تھا۔ اور ہم دہشت گرد نہیں تھے کہ شہر میں جا کر قتل و غارت کرتے پھرتے۔ہم تو گن پوائنٹ پر اس سے شکلا کے خلاف دستاویزات لینا چاہتے تھے۔اور ممتا دیدی نہ آتیں تو تقریباََ کامیاب ہو ہی گئے تھے۔
”دیدی !آپ ہمارے بیچ سے ہٹ کیوں نہیں جاتیں ۔“
وہ شفقت بھرے لہجے میں بولیں ۔”اچھا تم کمرہ نمبر بتاﺅ،میں وہیں آرہی ہوں ۔اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھائیں گے اور مل کر کوئی لائحہ عمل طے کرتے ہیں ۔اپنے راج کو میں اپنے ہاتھوں سے کھاناکھلاﺅں گی۔“
”ٹھیک ہے آجائیں ۔میں کمرہ نمبر 195میں ہوں ۔“اس وقت میں سامان سمیٹ کر کمرے سے نکل رہا تھا۔دیدی کو ایسے انداز میں کہا گویا اسے کرن کے سامنے سے ہٹنے کی ترغیب دے رہا ہوں ۔“
”کھاﺅ میرے سر کی قسم کہ میرے سامنے سے ہٹنے پر گولی نہیں چلاﺅ گے۔“
”دیدی!یہ بحث و تکرار کا وقت نہیں ہے۔ادھر آنا ہے تو جلدی کریں ۔“میں نے لفٹ میں داخل ہوکر فرشی منزل کا بٹن دبادیا۔
”مجھے ٹیکسی مل گئی ہے۔“لورا کی آوازمیرے کانوں میں پہنچی۔یقینا وہ جلدی میں وہاں سے نکلنا چاہتی تھی تبھی میرے پاس آنے کی زحمت نہیں کر رہی تھی۔
”ٹھیک ہے۔“انگریزی کے دو حرف(OK) میں نے اس انداز میں بولے کہ ممتا دیدی کو معلوم ہی نہ ہوا میں کسی اور کو مخاطب ہوں ۔انھیں لگا میں ان سے تصدیق چاہ رہا ہوں ۔
”راج،مجھے دکھ دے کر تمھیں خوشی ملے گی۔کیا بہنوں کے سہاگ، بھائیوں کے ہاتھوں اجڑا کرتے ہیں ۔“
میں نے فضول تکرار کی۔”وہ آپ کا شوہر نہیں ہے۔اس سے کئی گنا اچھے رشتے آپ کو مل جائیں گے۔میری دیدی لاکھوں کروڑوں میں ایک ہے۔ایسے ٹٹ پونجیے کی حیثیت ہی کیا ہے۔“
وہ روہانسا ہوئیں ۔”رام قسم،بہت پٹو گے راج۔“
لفٹ سے نکل کر میں نے سرعت سے ہوٹل کا ہال عبور کیااور پارکنگ میں پہنچ کر اپنی کار میں بیٹھ گیا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ کرن چاولہ کے بندوں نے کب تک وہاں پہنچنا تھا۔اگنیشن میں چابی گھماتے ہوئے میں دھیرے سے ہنسا۔
”دیدی ،اپنا بہت سا خیال رکھنااور کرن کو بتا دوخواہ مخواہ وقت ضائع نہ کرے،آپ کی آمد کے ساتھ ہی میں ہوٹل کے کمرے سے نکل آیا تھا۔کیوں کہ جانتا تھاآپ ایسا ہی کچھ کریں گی۔“
”راج !بات سنو........“وہ رابطہ قائم رکھنے پر مصر ہوئیں مگر میں نے موبائل فون کار سے باہر پھینک کر رفتار بڑھا دی۔وہاں سے جلد از جلد دور نکلنے کی ضرورت تھی۔
”ہیلو۔“میں نے لورا براﺅں کو آواز دی،مگر اس کی جوابی آواز سنائی نہیں دی تھی۔
”لورا۔“میں نے بٹن صحیح طریقے سے دباکر اسے دوبارہ پکارا۔مگر جواب ندارد۔یقینا وہ وائرلیس کے ملاپ کی حد سے باہر تھی۔اچانک ایک اور انکشاف ہواکہ مجھے یہ معلوم نہیں تھا لورا کی ٹیکسی کا رخ کس جانب تھا۔اب اپنے ٹھکانے پر جا کر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔کیوں کہ اس کا موبائل فون ممتادیدی کے پاس رہ گیا تھا اور اپنا موبائل فون میں نے خطرے سے بچنے کوپھینک دیاتھا۔
دو تین کلو میٹر تک تو میں چوکنے انداز میں اپنے تعاقب اوراطراف پر نظر رکھے رہا،مگر کوئی مشکوک گاڑی یا موٹرسائیکل وغیرہ نظر نہ آنے پر مطمئن ہو گیا تھا۔
ہدف کی ہر طرح سے نگرانی کر کے ہم نے کامیاب منصوبہ ترتیب دیا تھا،مگر ممتا دیدی کی مداخلت کا خطرہ منصوبے میں شامل نہیں کر سکے تھے۔امید ہی نہ تھی کہ وہ یوں اچانک ٹپک پڑیں گی۔کرن چاولہ کے لیے اس کی آمد نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی تھی۔
گھنٹا ڈیڑھ بعد میں جگہ پر پہنچ گیا تھا۔کار کو مخصوص مقام پر کھڑا کر کے میں کھولی میں داخل ہوا،لورا اب تک نہیں پہنچی تھی۔میں بستر پر لیٹ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔معلوم ہی نہ ہوا کب آنکھ لگی۔
جاگنے پر گھڑی دیکھی،سہ پہر کے چار بج رہے تھے۔اتنی دیر لورا کا غائب رہنا حیرانی کے ساتھ خطرے کا بھی باعث تھا۔ایک سنائپر کواپنا ٹھکانہ ڈھونڈنے میں مسئلہ نہیں ہو سکتا۔یقینا وہ ایجنسی کے ہتھے چڑھ گئی تھی یا کسی مشکل میں پھنسی تھی۔
اب کھولی میں پڑے رہنا خطرے سے خالی نہ تھا،کیوں کہ اس کے پکڑے جانے کی صورت میں یہاں کا پتا اگلوانا مشکل نہ ہوتا۔یہ بھی ممکن تھا اب تک میں گھیرے میں آچکا ہوتا۔تربیت یافتہ ہونے کے باوجود ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی تھی کہ ہم نے ملاپ کا متبادل ذریعہ پاس نہیں رکھا تھا۔ایسی صورت حال ہمارے گمان میں بھی نہ تھی۔سارا کام ممتا دیدی کی وجہ سے خراب ہوا تھا کہ لورا اپنا موبائل فون ہیی واپس نہیں لے سکی تھی۔اور اسی وجہ سے مجھے بھی اپنا موبائل فون پھینکنا پڑ گیا تھا کہ میرا نمبر پتا چل جانے کے بعد ان کے لیے میر ی تلاش مشکل نہ رہتی۔
اپنا بیگ لے کر میں محتاط انداز میں کھولی سے نکلا۔میری نظری کسی مشکوک شخص کی کھوج میں سرگرداں تھیں ۔مگر پوری کوشش کے باوجود مجھے کامیابی نہیں ہوئی تھی۔اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ لورا اب تک آزاد تھی۔اور بالفرض پکڑی جا چکی تھی تووہ اس سے کچھ بھی اگلوانے میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔
میں چوکنے انداز میں چلتا ہوااپنی کار کے پاس پہنچا،مگر کوئی خطرے کی بات نظر نہیں آئی تھی۔کار میں بیٹھ کر میں پارکنگ سے نکلا اور ایسی جگہ کار پارک کر دی جہاں خطرے کی صورت میں فرار ہو نا آسان تھا۔وہاں سے کھولی پر بھی نظر رکھی جا سکتی تھی۔
میں ذہنی طور پر سخت الجھا ہوا تھا۔احتیاط کا تقاضا تھا کہ فوراََ سے پہلے وہاں سے دور نکل جاتا،لیکن لورا کی آمد کا لالچ مجھے وہیں رکنے پر مجبور کررہا تھا۔وہ بہترین ساتھی تھی۔بلاشبہ اس کی وجہ سے مجھے کافی سہولت میسر تھی۔سنائپر یوں بھی جوڑیوں میں کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں ،لیکن میری قسمت ایسی ہے کہ زیادہ تر مجھے اکیلا ہی کام کرنا پڑجاتا ہے۔ڈینو کے بعد لورا براﺅن کا ملنا غیبی امداد کے مترادف تھا۔ عام لڑاکے سے سنائپر کا ساتھ کئی گنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔کیوں کہ سنائپر عام لڑاکے کی جگہ سنبھالنے کے ساتھ سنائپنگ کی اضافی خوبی بھی رکھتا ہے۔
وہاں میں نے چند گھنٹے گزارے آخر لورا کی آمد سے مایوس ہو کر جگہ چھوڑنا پڑی۔لیکن اس سے پہلے کھولی میں جا کر دو کمبل اٹھا لایا تھا کہ میرا ارادہ کار ہی میں رات گزارنے کا تھا۔
ایک دم لورا کے غائب ہونے میں کئی احتمال متوقع تھے۔وہ کسی حادثے کا شکار بھی ہو سکتی تھی،ممکن تھا اسے رستہ بھول گیا ہو کیوں کہ پہلے وہ بالکل مجھ پر تکیہ کیے ہوتی تھی۔گو ایک سنائپرکے بارے رستہ بھول جانے کاگمان کرنا کچھ جچتا نہیں مگر امکان کے زمرے میں تو ہر احتمال آیا کرتا ہے۔ایک خیال یہ بھی آیا کہ شاید شکلا کے خلاف کارروائی کا ارادہ اس نے ختم کر دیا ہواور میراسامنا ندامت کی وجہ سے نہ کرنا چاہتی ہو۔اس کے پکڑے جانے کا اندیشہ بھی قرین قیاس تھا۔کیوں کہ شکلا کو مجھ سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔وہ ایس آر ون کی خامی سے واقف نہیں تھے اور ایسی بہترین رائفل کوڑیوں کے مول خریدنے میں پرجوش تھے۔اور اسی وجہ سے شاید کرن چاولہ نے میرے تعاقب کے بجائے اس کا تعاقب کرنا ضروری جانا ہو۔ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ وہ اچکوں کے ہاتھ چڑھ گئی ہو۔اس کی پرکشش صورت اور جاذب نظر جسمانی خال و خد کسی کو بھی ورغلا سکتے تھے۔جس ٹیکسی میں آرہی تھی اس کے ایکسیڈنٹ ہونے کاخطرہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب مجھے نیا ٹھکانہ ڈھونڈنے کی ضرورت تھی۔لورا کو تلاش کرنے کا وقت نہیں تھا کیوں کہ ایسی صورت میں مجھے اپنے مقصد سے ہٹنا پڑتا۔نہ تو میری اس سے جذباتی وابستگی تھی،نہ اس کی حفاظت کا ذمہ دار تھا۔بس کچھ عرصہ اکٹھا گزارنے کی وجہ سے ہمدردی تھی۔شکلا کے خلاف ہمارا اکٹھا ہونا ،لازم نہیں کرتا تھا کہ میں اصل مشن کو چھوڑاس کی تلاش میں لگ جاتا۔البتہ اس کے بارے معلومات حاصل ہو جاتیں تو یقینااسے آزاد کرانے کی کوشش کی جا سکتی تھی،لیکن اس کی کھوج کو مقصد بنانا ممکن نہ تھا۔کچھ عرصہ اکٹھا گزارنے کی وجہ سے اس سے اندازہ یہی تھا کہ اب مجھے اکیلا ہی کام کرنا پڑتا۔
اصولی طور پر تو اب اس کار کا استعمال بھی خطرناک تھا۔اگر لورا براﺅن گرفتارہو چکی تھی تو اگلوانے والے مکمل معلومات نچوڑ کر ہی اس کی جان بخشی کرتے۔اور صنف نازک کا انکار پر ڈٹے رہنا اتنا آسان نہ تھا۔ گھٹیا کردار مردوں کامردانگی دکھانے کا شوق کسی بے بس حوا زادی کو کس نہج تک لے جاسکتا ہے اس بارے اندازہ کرنے کو زیادہ عقل مند ہونا ضروری نہیں ۔وہ بے چاری ایک شکلا کی درندگی سے ٹوٹ گئی تھی،پورے گروہ کا سامنا کیسے کرتی۔مجھے اس پر شدت سے ترس آیا،اگرسچ میں پکڑی گئی تھی توبے چاری بدلہ لینے کی خواہش میں اپنا سب کچھ گنوا چکی تھی۔اس سے بہت زیادہ ہمدردی کے باوجود میں اس کی مدد سے قاصر تھا۔کار غیر معروف پارکنگ میں کار روک کر میں نے دروازے اندر سے قفل کیے اور سیٹ سے ٹیک لگا کرسونے کی کوشش کرنے لگا۔ارادہ یہی تھا کہ صبح کار بیچ کر اسی حالت کی کوئی دوسری کار خرید لوں گا۔اور اس کے لیے بھولے استادکے پاس بھی جایا جا سکتا تھا۔اس سے اتنی شناسائی بہ ہرحال تھی۔کیوں کہ اس پر ایک بار موٹر سائیکل بیچ چکے تھے۔لیکن کم بخت کوچوری کا سامان خریدنے کا چسکا لگا تھااور یہ کار بہ ہرحال چوری کی نہیں تھی۔
خیر اس بارے میں نے زیادہ سر کھپانا مناسب نہ سمجھا او رکمبل میں ہو گیا کہ اب موسم تبدیل ہو گیا تھا۔ نیند آنے تک میں شکلا کو ڈھونڈنے کا منصوبہ سوچتا رہا۔اسے ٹھکانے لگانے کے بعد ہی پرما انصاری کو لے جانے کا مرحلہ آتا۔
رات کو وقفے وقفے سے آنکھ کھلتی رہی مگر کسی مداخلت کا سامنا نہ کرنا پڑا۔صبح کی اَذان سن کر آنکھ کھلی۔ کسی قریبی مسجد سے بلند ہونے والی اَذان کار کے شیشے بند ہونے کے باوجود واضح انداز میں سنائی دے رہی تھی۔ الحمداللہ میں اس حالت میں تھا کہ نماز پڑھ سکتا۔انڈیا میں مسلمانوں کی کثیر تعداد موجود ہے اور میرے نماز پڑھنے پر کسی کا مشکوک ہونا نہیں بنتا تھا۔کمبل سے سر نکال کر میں نے انگڑائی لی اور جونھی ونڈ اسکرین پر نگاہ پڑی حیران رہ گیا،کیوں کہ ملگجے اجالے میں اس پر کاغذ چپکا نظر آرہا تھا۔کیبن کی بتی جلا کر دیکھااور اچھل پڑا،کیوں کہ وہ میرے لیے پیغام تھا۔
”سنگم نگر،تیسری گلی مکان نمبرسات میں تمھاری ساتھی قید ہے۔“
ایسا پیغام بھیجنے والا یقینا کوئی دوست ہی تھا۔اور انڈیا میں میرے دوست صرف پاکستانی جاسوس ہی ہو سکتے تھے۔باہر نکل کر میں نے ونڈ اسکرین سے کاغذ کھینچا۔ساتھ ایک چھوٹا سا رقعہ اور بھی نظر آیا۔ جس پر مزید تفصیل موجود تھی۔مکان میں اس وقت تین سے چار افراد موجود تھے۔دروازے پر چوکیدار بھی متعین تھا۔ چوکیدار کے پاس رائفل اور اندر موجود افراد کے پاس پستول موجود تھے۔ایسی چند ضروری باتیں تحریر کر کے سب سے نیچے آپ کا خیر خواہ لکھا تھا۔
ایک لمحے کو لگا یہ دشمن کی طرف سے مجھے جال میں پھانسنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے،مگر فوراََ ہی یہ خیال رد کرنا پڑ ا کہ انھیں اتنا لمباکھٹ راگ پھیلانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔جب انھوں نے مجھے پہچان لیا تھا تو گھیر کر پکڑ لیتے۔ یقینا یہ میرے خیر خواہوں ہی کا کام تھا۔اور اس میں بھی شک نہیں کہ میں ان کی نظر میں بہت پہلے سے تھا لیکن میرے قریب آنے پر انھیں پکڑے جانے کا اندیشہ تھا۔
کوئی یہ گمان بھی کر سکتا ہے کہ وہ مجھے بتانے کے بجائے لورا کو خود بھی چھڑا سکتے تھے۔ لیکن ایک حقیقت جان لیں کہ جاسوس لڑائی بھڑائی کے معاملے میں عموماََ گئے گزرے ہوتے ہیں۔ بس اسلحے کا واجبی سا استعمال اور تھوڑی بہت ہاتھا پائی کر نے کی اہلیت ہوتی ہے۔شاذ ہی کوئی جاسوس اچھا لڑاکا اور اسلحے کا بہترین شناور ہوتا ہے۔ورنہ ان کا کام لڑنا بھڑنا نہیں دشمن ملک کے خلاف خبریں حاصل کرنا ہوتا ہے۔البتہ دہشت گردانہ کارروائیوں اور کسی کو ٹھکانے لگانے یا چھاپہ گھات لگانے کو جو افرادسرحد پار کرتے ہیں وہ اچھے کمانڈو ہوتے ہیں ۔ لوگ عموماََ کمانڈو اور جاسوس ہی میں فرق نہیں کر پاتے۔بلکہ بعض تو ایسے ہیں جو ہر فوجی کو کمانڈو،جاسوس، اورسنائپر سمجھتے ہیں ۔زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا بس اتنا سمجھ لیں یہ تمام علیحدہ علیحدہ شعبے ہیں اور ان تمام میں سنائپر ہر فن مولا ہوتا ہے۔کیوں کہ اسے جاسوسی بھی کرنا پڑ جاتی ہے،کمانڈو کی طرح لڑائی بھڑائی بھی سکھلائی جاتی ہے اور نشانے بازی تو یوں بھی اس کا اصل کام ہوتا ہے۔
پانی کی بوتل سے وضو کر کے میں نے وہیں پارکنگ میں کپڑا بچھا کر نماز فجر ادا کی ،اللہ پاک سے کامیابی کی دعا کر کے سنگم نگر کی طرف روانہ ہو گیا۔اب ممبئی کو گہرائی میں نہیں تو تھوڑا بہت تو جان گیا تھا۔مزید معلومات ایک رکشا ڈرائیورر سے لے لی تھیں ۔
وہاں پہنچتے تک آفتاب طلوع ہو چکا تھا۔اور ممبئی جاگ گیا تھا۔اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں جانے والے طلبہ و طالبات،دفاتر جانے والے ملازم پیشہ خواتین و حضرات اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا جم غفیر گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر رواں دواں تھا۔ایک ایسی دوڑ شروع ہو گئی تھی جو ہر شہر کی روزمرہ ہوتی ہے۔
میں مکان کے سامنے سے گزرا اور سرسری نظر ڈال کر آگے بڑھ گیا۔تھوڑے ہی فاصلے پر کار پارک کرنے کی مناسب جگہ نظر آئی اور میں کار قفل کر کے نیچے اتر آیا۔سائیلنسر لگا گلاک کوٹ کی جیب میں تھا۔رات ہونے کے انتظار کرنا مناسب نہیں تھا،کیوں مجھے لورا کی حالت معلوم نہیں تھی۔اس بارے میرے خیر خواہ نے بھی تفصیل نہیں بتائی تھی۔اس نے صرف افراد کی تعداد اور دفاعی لحاظ سے چند باتیں بتائی تھیں ۔ سادے الفاظ میں کہیں تو اندر گھسنے کو مجھے چوکیدارپر قابو پانا ضروری تھا۔درمیانے حجم کے اس مکان کے دائیں اور سامنے کی جانب گلی لگتی تھی۔بائیں اور عقبی جانب اور مکان موجود تھے۔گلی میں لوگوں کی آمدورفت اجازت نہیں دیتی تھی کہ میں دیوار عبور کرتا۔بالفرض لوگوں کی آمدورفت نہ ہوتی تب بھی سب سے بڑا خطرہ تو دروازے پر موجود چوکیدار کا تھا۔ اور مجھے دیوار پر نمودار ہوتے دیکھ کر گولی چلانے کے ساتھ اس کے پاس شور مچانے کا انتخاب بھی موجود تھا۔ اور اس کے بعد میرے پاس صرف بھاگنے کا چناﺅ ہی بچتا۔
چند لمحے سوچ کر میں نے سامنے سے داخل ہونا مناسب سمجھا۔خطرہ مول لینا مجبوری تھی۔لورا براﺅن کے متعلق معلومات نہ ہونے پر تو میرے پاس بہانہ موجودہوتا،لیکن جب اس کے بارے اتنا کچھ پتا چل گیا تھا تو مدد نہ کرنا زیادتی ہوتا۔عارضی ہی سہی وہ میری ساتھی تو تھی۔اور شکلا کی ہلاکت تک ہمارا فائدہ نقصان سانجھاتھا۔
لوگوں کی آمدورفت جاری تھی،لیکن یہ آنا جانا تو پورے دن لگا رہتا۔ مناسب لمحے کا انتخاب کر کے میں نے ہولے سے دروازہ بجایا۔
”کون؟“کہتے ہوئے چوکیدار نے ذیلی کھڑکی کھول دی تھی۔
بجلی کی سی سرعت سے میں نے پستول اس کی چھاتی پر رکھا۔”ذرا سی غلط حرکت تمھارے سینے میں چھید بنا دے گی۔“
”کک....کون ہو تم....؟“وہ خوف سے ہکلایا۔
اس کی چھاتی پر پستول کا دباﺅ بڑھا کر میں نے پیچھے دھکیلا۔اور اندر گھس گیا۔ذیلی کھڑکی کو پاﺅں سے بند کرتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”ہاتھ اٹھا کر الٹے گھوم جاﺅ۔“
”تم جانتے نہیں کہاں گھسنے کی غلطی کر بیٹھے ہو۔“وہ ابتدائی جھٹکے سے سنبھل گیاتھا۔
جاری ہے
 

Create an account or login to read stories

You must be a member in order to leave a comment

Create account

Create an account on our community. It's easy!

Log in

Already have an account? Log in here.

New posts
Background image: Footer
Back
Top